(پیاب نماز کی صفت کیسے کیفیت کے بیان میں ہے)
(یعنی نماز کیون کر پڑے ہو راس کے ارکان اور اجزاء فراڈض اور واجبات، سنن اور مستحبات کیا
کیا ہیں)
(The description of the prayer is as follows: This means how the prayer should be performed, including its essential components and parts, the fard (obligatory) and wajib (necessary) elements, the sunnah (recommended) and mustahabb (desirable) actions.)
وقول الله عز و جل وما امروا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ بینہ، پ:30، ع:1، آیت نمبر:5، میں) اور ان لوگوں کو (کتب
سابقہ میں) یہی حکم ہوا تھا کہ خالص اللہ کی بنگی کی نیت سے کیسوہو کراس کی عبادت کریں -
ف: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت بالکلی خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنے
کو کہتا ہیں اور خلوص کا ادارودار نیت پر ہے چوکہ نماز کی عبادت میں اس وجہ سے اس کو خلوص نیت سے
ادا کرنا چاہیے - یہی وجہ نماز کے لئے نیت شرط ہے (تعلیق اعلاء اسنن -)
(2) وَقَوْلُہُ : "وَرَبَّکَ فَكَبِّرْ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ مدثر، پ:29،
ع:1، آیت نمبر:3، میں) اور اپنے رب کی برائیال بیان کرو -
(3) وَقَوْلُہُ : "وَذَکِّرْ اسْمَ رَبِّکَ فَصَلِّ" اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ علی،
پ:30، ع:1، آیت نمبر:15، میں) اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھتار با -
ف: ان هردو آیتوں سے تکبیر تر بیم کی فرضیت ثابت ہوتی ہے -
(5) وَقَوْلُہُ : "فَاقْرَءُ وَا مَا تَیَّسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ
مزمل، پ:29، ع:2، آیت نمبر:20، میں) جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو -
ف: اس آیت سے مطلق قرآن کی فرضیت ثابت ہوتی ہے -
(6) وَقَوْلُہُ : "بِلْسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ . وَانَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے (سورۃ شعراء، پ:19،ع:11،آیت نمبر:196/195 میں) یعنی قرآن صاف سلیس عربی
زبان میں ہے جس کا ذکر پہلی (امتون کی) آسانی کتابوں میں بھی ہے۔
ف: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے نہ کہ اس کا ترجمہ پڑھنا
جاۓ تو اس کا قرآن پڑھنے کا اور نماز ادا کرنے کا –12
(7) وَقَوْلُہُ : "وَارْكَعُوا" رکوع کرو (سورۃ نج،پ:17،ع:10،آیت
نمبر:77–سورۃ بقرہ،پ:1،ع:5،آیت نمبر:43)۔
ف: اس آیت سے رکوع کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
(8) وَقَوْلُہُ : "کُفُّوا أَیْدِیَکُمْ وَأَقِیمُوا الصَّلْوَةَ" اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ
نساء،پ:5،ع:11،آیت نمبر:77،میں) اور اپنے باہوں کو روکے رہو اور نماز کی پابندی رکھو۔
ف: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں رخیہ کرنا منسوخ ہے۔
(9) وَقَوْلُہُ : "وَاسْجُدُوا" اور سجدہ کرو (سورۃ نج،پ:17،ع:10،آیت نمبر:77)۔
ف: اس آیت سے سجدہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
نماز میں تعداد ارکان کا حکم
And the guidance of Allah Almighty is (in Surah Bani Israel, Vol.30, Part 1, Verse number:5) that these people were also commanded in the previous scriptures to worship Kiswa-e-Kaaba with the intention of serving Allah alone -
It is evident from this verse that worship should be performed for Allah with complete sincerity, and sincerity is based on intention, as in the act of prayer, it should be performed with sincere intention - this is the reason why intention is a prerequisite for prayer (Taleeq Aala Sunnan -)
(2) And His statement: 'And exalt your Lord' is the guidance of Allah Almighty (in Surah Al-Muddaththir, Vol.29, Part 1, Verse number:3) to proclaim the greatness of your Lord -
(3) And His statement: 'And remember the name of your Lord and pray' is the guidance of the Creator Almighty (in Surah Al-Muzzammil, Vol.30, Part 1, Verse number:15) to recite the name of your Lord and pray -
From both these verses, the obligation of Takbir-e-Tehrima is established -
(5) And His statement: 'So recite what is easy of the Quran' is the guidance of Allah Almighty (in Surah Al-Muzzammil, Vol.29, Part 2, Verse number:20) to recite as much of the Quran as can be easily read -
From this verse, the obligation of reciting the Quran is established -
(6) And His statement: 'In a clear Arabic language. And indeed, it is in the scriptures of the ancients' (Surah Ash-Shu'ara, Part 19, Juz 11, Verse number: 196/195) means that the Quran is in a clear and eloquent Arabic language, and its mention is also found in the books of the earlier nations.
It is evident from this verse that the Quran is in the Arabic language, and reading its translation does not count as reciting the Quran or performing prayers
(7) And His statement: 'And bow down' (Surah An-Najm, Part 17, Juz 10, Verse number: 77; Surah Al-Baqarah, Part 1, Juz 5, Verse number: 43).
It is evident from this verse that the obligation of bowing (ruku) is established.
(8) And His statement: 'Restrain your hands and establish prayer' (Surah An-Nisa, Part 5, Juz 11, Verse number: 77).
It is evident from this verse that the act of raising the arms during prayer has been abrogated.
(9) And His statement: 'And prostrate' (Surah An-Najm, Part 17, Juz 10, Verse number: 77).
It is evident from this verse that the obligation of prostration (sujud) is established.
The command regarding the number of components in prayer
ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں آکر نماز پڑھی اس
وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے (وہ شخص نماز سے فارغ ہوکر)
خدمت اقدس میں حاضر ہوااور سلام عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس جاؤ، نماز پڑھو
کہ تم نے طہیب نماز نہیں پڑھی (حسب الحکم) اس شخص نے واپس جا کر (پہلی طرح) نماز پڑھی اور
خدمت گرا میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) وعلیکم فرما کر
ارشاد فرما یا پھر واپس جاؤاور نماز پڑھو (کیونکہ) تم نے طہیب نماز نہیں پڑھی اس شخص نے تیری مرتبہ
عرض کیا کہ حضور، یہ مجھے بتا دین! (میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
وضوع کرو،
پھر قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاو اور اللہ کے بھکھواور جتنا قرآن تم کو یاد ہواس میں سے بہہولت جو پڑھ سکتے
ہو پڑھ لو، اس کے بعد رکوع کرو، جب رکوع نہایت اطمینان کے ساتھ کر چکتو سراٹھاو، جب اطمینان
سے بالکل سیدے ہو کر لے ہو جاو تو سیدہ میں جاو، یہاں تک کہ اطمینان سے سیدہ کو جگھی ادا کر چکتو سر
اٹھاو اور اطمینان سے سیدے ہیٹھ جاو، بعدازال دوسرا سیدہ کرواوراس سیدہ کو جی اطمینان سے ادا کرو،
پھر (دوسرے) سجدہ سے اٹھو یہاں تک کہ سیدے ہو کر لے ہو جاو اور اس طرح پوری نماز میں کیا کرو
– (اس کی روایت بخاری نے کی ہے) اور ترمذی، نسائی اور ابوداود نے پیاضافہ کیاہے کہ پس جب تم
نیکر لیا تو تہجارتی نماز پوری ہوگئی اور اگر تم نے اس میں کسی چیز کی کی توا یہ نماز نقص کر لی –
ف(1): ترمذی کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدلی ارکان واجب ہے اور تعلیل
ارکان پیہ کر نماز کے جملہ ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کیا جاتے اور ان کے ادا کرنے میں جلدی نہ
کی جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع کو پورے اطمینان کے ساتھ ادا کریں، رکوع سے اٹھنے کے بعد
قوم میں بھی اطمینان سے کھڑے رہیں، اس طرح سیدہ کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور دونون
سجدوں کے درمیان جلسے میں بھی جلدی نہ کریں بلکہ اطمینان سے بیٹھیں الغرض اس طرح پوری نماز کو
طہیر طہیر کر اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور اگر اس طرح تعدلی ارکان کے بغیر نماز ادا کی جائے تو نماز
ناقص ہو جائے ہے اور اس کا اعادہ لازم آ جاتا ہے –
اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کی نذمت ہے جسیا کرآ نج کل بعض نمازی کیا کرتے
ہیں، گویا جلدی جلدی طویل مار کرسرے ایک بوجھا تارے ہیں – (شرح وقایع نجمہ ترمذی –)
ف(2): بخاری کی نذکو الصرحدیث میں پالفاظ ہیں: "اقرأ بِمَا تَيَّسَرَ مَعَکَ مِنَ
الْقُرْآن" (جتنا قرآن تم کو یاد ہواس میں سے جو بہہولت پڑھ سکتے ہو پڑھ لو) حدیث کے ان الفاظ
سے نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے –
بخاری کی اس نذکو الصرحدیث میں پالفاظ ہیں: "ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا
، ثمّ ارفع حتی تستوی قائماً (دوسرائے ہرو، یہاں تک کہ جدہ کی حالت میں مطمئن ہوجاو پھر
دوسرے تحدے سے انہو یہاں تک کہ سیدے کہرے ہوجاو) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا سجدہ اور
قیام کے درمیان جلسہ استراحہت نہیں ہے، اگر یہاں جلسہ استراحہت ہوتا تو اس کا ذکر فرمایا جاتا اور یہی
نہہب حقیقت ہے۔ (مرقّات، اشعۃ المعات)
Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: A man entered the mosque and prayed while the Messenger of Allah, peace be upon him, was in a corner of the mosque. The man came and greeted him, but the Prophet said, "Go back and pray, for you have not prayed." The man returned and prayed, then came back and greeted him again. The Prophet said, "And upon you be peace. Go back and pray, for you have not prayed." On the third occasion, the man said, "Teach me." (1) The Prophet said, "When you stand for prayer, perform ablution properly, then face the Qiblah, say Takbir, and recite what is easy for you from the Quran. Then bow until you are at ease in your bowing, then rise until you are standing straight. Then prostrate until you are at ease in your prostration, then sit up until you are at ease in your sitting, then prostrate again until you are at ease in your prostration. Then rise and do the same in your entire prayer." [Narrated by Al-Bukhari, Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, and Abu Dawud added: "If you do this, your prayer will be complete. If you omit anything, you will have diminished your prayer."]
(2) The statement: "Teach me" – In the original text of the author: "Inform me."
This hadith emphasizes the propriety of reciting the prayer without haste, as some people perform their prayers hastily, as if they are trying to finish a long race with a single breath - (Sharh Wazaif Najm Tirmidhi -). In Bukhari's Nuzhat al-Sarh, the words of the hadith are: 'Recite what you can of the Quran' (recite whatever portion of the Quran you remember and can recite easily). From these words, it is established that the recitation of the Quran in prayer is obligatory. In this hadith from Bukhari's Nuzhat al-Sarh, the words are: 'Then prostrate until you are at ease in prostration, then rise until you are standing straight' (in other words, first be at ease in your prostration, then rise until you are standing straight). This establishes that there is no sitting rest between the second prostration and standing, for if there were a sitting rest, it would have been mentioned, and this is indeed the truth. (Mirqat, Asha'at al-Ma'arif)
- رفاۃ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے مسجد
میں آکر نماز پڑھنے کے لیے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی نماز کو برالو، کیونکہ تم نے (طہیب) نماز نہیں پڑھی، اس شخص نے عرض کیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھا دیجئے کہ کس طرح نماز پڑھوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جب تم (نماز کے لیے) کہرے رہو تو قبل کی طرف متوجہ ہوکر اللہ اکبر کہو، پھر سورۃ فاتحہ کے
ساتویں ضم سورہ کے لیے قرآن میں سے جو چاہو پڑھو اور جب تم رکوع کرو تو اپنی دونوں ہتھیلوں کو پے
دونوں گھٹنول پر رکھو اور اپنی پیٹ کو ہموار رکھ کر اپنے رکوع کو اطمینان کے ساتھ اچھی طرح کرو۔ کہ سر
اور سرین برابر رہیں) اور قوم کے لیے جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ تو اطمینان کے ساتھ اس طرح
سیدے کہرے ہوجاو کہ تمام جسم کی بڑیاں اپنی اپنی جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب تم سجدہ کرو تو
اطمینان کے ساتھ اچھی طرح سجدہ کیا کرو اور جب تم سجدہ سے سر اٹھاؤ تو اپنی باہیں ران پر اطمینان
کے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح پھر کعت کے رکوع، سجدہ، قوم اور جلسہ و اطمینان کے ساتھ ادا کرتے
رہو۔ (یہ مصانع کے الفاظ ہیں اور ابوداود نے اس کی روایت کسی قدر تغیر کے ساتھ کی ہے اور ترنڈی
اور نسائی نے اس کی روایت بالمعنی کی ہے۔)
Narrated by Rifa'ah ibn Rafi', may Allah be pleased with him: A man came and prayed in the mosque, then greeted the Prophet, peace be upon him. The Prophet said, "Repeat your prayer, for you have not prayed." The man said, "Teach me, O Messenger of Allah, how to pray." The Prophet said, "When you face the Qiblah, say Takbir, then recite Umm al-Quran (Surah Al-Fatihah) and whatever Allah wills you to recite. When you bow, place your palms on your knees and make your bowing firm, straighten your back. When you rise, straighten your spine and raise your head until your bones return to their joints. When you prostrate, make your prostration firm. When you rise, sit on your left thigh. Do this in every Rak'ah and prostration until you are at ease." This is the wording in Al-Masabih.
Abu Dawud reported it with slight variation, and Al-Tirmidhi and Al-Nasa’i reported its meaning.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ظہر کی نماز بر طہائی اور آخری صف میں ایک شخص تھاجو (تعلیل ارکان کے ساتھ) نماز ادا کرنا کہا، جب وہ شخص سلام پچھرا تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی، اے فلان شخص! کیا تم خدا سے نہیں ذریتے ہو؟ کیا تم کو پچھڑے جسے کہ تم کیسے نماز پڑھ رہے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو تم جو پچھڑے تے وہ مجھے پچپار بتاتے، خدا کی قسم میں اپنے پیچھے تے مجھی اسی طرح دیکھتا ہوں جسے سامنے دیکھا کرتا ہوں - (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
نماز کی صفت لیجن نماز کے اداؤ کرنے کی پوری کیفیت
Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, led us in the Dhuhr prayer. A man at the back of the rows performed the prayer incorrectly. When the Prophet finished, he called him and said, "O so-and-so, do you not fear Allah? Do you not see how you pray? You think that what you do is hidden from me, but by Allah, I see what is behind me just as I see what is in front of me." [Narrated by Ahmad]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا تک بیتہ تک یہ سے او رقرأت کی ابتداء "الحمد للہ رب العالمین" سے فرماتے تھے اور جب رکوع کر تے تو سرمبارک کوندا او پچاکرتے نہ پچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی حالت میں اس طرح رکعت کے گردان او پچیہ بر ابرہمتی او رجب رکوع سے سراطحتے توپوری طرح اطمینان کے ساتھ سیدے کرے ہوئے لگیر سیدہ میں نہیں جاتے تھے اور اس طرح جب سجدہ سے سراطحتے تو اچھی طرح بیٹھے لگیر دوسرا سیدہ نہیں فرماتے اور ہر دو رکعت کے بعد (قعدہ فرماتے) اور اس میں التیات پڑھتے اور قعدے میں باقی پیر کے پچھکوز میں پر پچا تے او رسیدے پیر کے پچ کو کطرارکتے اور عقبہ شیطان سے منع فرماتے تھے (عمدۃ الرعاية میں لکھا ہے کہ عقبہ شیطان یہ کہ پیرول کے پچول کواس طرح کہرا کیا جاتے ہیں جسے سجدہ میں کطرارکتے ہیں اور پچردونوں سرین کو ایریول پر ناکر ان پر بیٹھ جاتے، نماز میں اس طرح بیٹھنا کروہے۔ یعنی مطیبی اور کرتی کا قول ہے جس کوابہن الہمام نے فتح القدیر میں ذکر کیا ہے اور اشعۃ اللمعات نے کہی اس کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ لفظ عقبہ کواسی میں
رسول اللہ علیہ وسلم اس بات سے کچھ منع فرما تے تھے کہ مردگی میں اپنی دونوں باہیں (پھڑا اور کھینچی ہوئی) درندول کی طرح زمین پر پھچائے۔ (یہ کم مردوں کے لیے ہے، عورتوں کو جائے کہ سجدہ میں اپنی باہیں پچھا کریں) اور رسول اللہ علیہ وسلم نماز کو سلام پچھر کر ختم فرما تے تھے۔ (اس کی روایت مسلم میں ہے۔)
نماز کی صفت لیتن نماز کے ادا کرنے کی کیفیت پر دوسری حدیث
Narrated by Aisha, may Allah be pleased with her: "The Messenger of Allah, peace be upon him, would begin the prayer with the Takbir and recite Alhamdulillahi Rabbil-'Alamin (Surah Al-Fatihah). When he bowed, he would neither raise his head too high nor lower it too much, but kept it balanced. When he raised his head from bowing, he would not prostrate until he stood straight. When he raised his head from prostration, he would not prostrate again until he sat upright. He would say the Tashahhud after every two Rak'ahs. He would lay his left foot flat and raise his right foot. He forbade sitting like the devil and spreading one's arms like a beast. He would conclude the prayer with the Taslim." [Narrated by Muslim]
علیہ وسلم نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اللہ أكبر کہ کر نماز شروع فرما تے، پھر رکوع کوجاتے تو اللہ أكبر فرما تے، پھر جب رکوع سے کٹرے ہوتے تو سمع اللہ لمن حمدہ فرما تے اور جب بالکل سیدہ کٹرے ہوتے تو ربنا لک الحمد فرما تے پھر جب سے کٹے جاتے ہوتے اللہ أكبر فرما تے اور جب سر کو جہہ سے اٹھاتے تو اللہ أكبر فرما تے، پھر دوسرا جہہ کرتے وقت اللہ أكبر فرما تے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ أكبر فرما تے، اس طرح نماز میں کہا کرتے تھے اور جب دو رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کٹرے ہوتے تو اس وقت بھی اللہ أكبر فرما تے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفقہ طور پر ہے۔)
نماز میں تکبیرات ادا کرنے کی کیفیت
The manner of reciting the takbirs in prayer.
رضی اللہ عنه حدیث بیان کی ہے، عطاء کہتے ہیں کہ سالم میرے پاس مجھے زیادہ ثقل ہیں سالم نے کہا ہے کہ ابومسعود بدري رضی اللہ عنه فرما کر میں آپ لوگوں کی تعلیم کے لیے رسول اللہ علیہ
سے زیادہ مناسبت ہے، اس وجہ سے کہ عقبہ ایری کو کہتے ہیں، اور نہایت میں کچھ بھی نذور ہے) اور
اللہ تعالیٰ و سلم جس طرح نماز پڑھتے تھے وہ بتلاے یویتاہول، پھر آپ نے تم کو چار رکعت نماز پڑھائی
جس میں ہر رکن میں جائے کے لئے جگہت وقت اور کن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے (بجز کو ع
سے اٹھتے وقت کراس میں "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَة " کہتے تھے )اور فرمایا کرا سی طرح میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے - (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "شرح معاني الآثار" میں "باب الخفض في الصلاوة
هل فيه تكبیر " کے تحت ابن عبد الرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کر کے لکھا ہے کہ
ایک جماعت کا ایک عمل رپاہے کروہ نماز میں خفض لعنی رکوع اور سجدہ میں جائے کے لئے جگہت وقت اللہ
اکبر میں کہتے ہیں، اور بنوآ مری کا بھی بہی عمل تقا لیکن متعدد متو اتر احادیث جن کو امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ
نے اسی باب میں بیان فرمایا ہے، ان سے ثابت ہوتا ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کسی رکن
میں جائے کے لئے جگہت وقت ایے اللہ اکبر کہتے جیسے اس رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر فرمایا کرتے
تھے، حضرت ابو بر، حضرت عمر اور حضرت علي رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا اور انہے مذہب امام ابوحنیفہ،
امام ابو يوسف اور امام محمد رحمہ اللہ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے-
واضح رہے کہ امام طحاوی کی نذکورہ بالا حدیث اور زیل کی بخاری کی دونوں حدیثیں اس کا بیین
ثبوت ہیں -
نماز میں تکبیرات ادا کرنے کی کیفیت پر دوسری حدیث
Imam Tahawi (RA) has narrated in 'Sharh Ma'ani al-Athar' under the chapter 'Bab al-Khafd fi al-Salat Hal Fihi Takbir' that Ibn Abd al-Rahman ibn Abi Zayd (RA) reported: 'In the prayer, when one lowers for ruku' and prostration, they say 'Allahu Akbar' at the time of standing up from these positions. The practice of Banu Umayyah was also to say 'Allahu Akbar' when standing up from ruku' and prostration, but there are multiple narrations which Imam Tahawi (RA) has mentioned in this chapter, indicating that the Prophet ﷺ used to say 'Allahu Akbar' at the time of standing up from any position in the prayer, such as when rising from ruku'. The practice of Abu Bakr, Umar, and Ali (RA) was also the same, and this is the madhhab of Imam Abu Hanifah, Imam Abu Yusuf, and Imam Muhammad (RA). It should be noted that the above-mentioned hadith of Imam Tahawi and the hadith of Bukhari both serve as clear evidence for this.'
سعید بن الحارث بن المعلي رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
تماری تعلیم کے لئے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھیس نماز پڑھائی تو انہوں نے پہلے سجدے سے سر
اٹھاتے وقت اور (دوسرے) سجدے میں جائے وقت بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے اور پھلی دور کعتون
کے بعد قعدہ اولی سے اٹھتے وقت بھی بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور (نماز سے فارغ ہوئے نے کے بعد
فرمایا کہ میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح عمل فرماتے دیکھا ہے-
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے-)
ف: اس حدیث میں صرف پہلے سجدہ سے اٹھتے وقت اور دومسرے سجدہ میں جائے وقت اور قعدہ اولی سے اٹھتے وقت تکبیر دون کے بلند آواز سے کہنا کرنا اور دگر ارکان میں جائے وقت تکبیر کینا ذکر نہیں ہے اس لئے کراس وقت میں تین نذورہ موقوع میں تکبیر کینہ پر بھی ثہور میں ہے، انہذااس سے ہے لازم نہیں آتا کہ دگر تکبیرات نہ کی گئی ہوں، چنانچہ اسامعیل کی روایت میں باقی اور تکبیرات کا ذکر موجود ہے۔ (اشعۃ اللمعات)
Narrated by Sa'id ibn al-Harith ibn al-Mu'alla: Abu Sa'id al-Khudri led us in prayer and pronounced the Takbir aloud when raising his head from prostration, when prostrating, and when rising after two Rak'ahs. He said, "This is how I saw the Prophet, peace be upon him, pray." [Narrated by Al-Bukhari]
عکرم رضی اللہ عنہ روایت سے، انہوں نے کہا کہ میں کہ معظم میں ایک بورے ہی آدمی (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کے پیچھے نماز پڑھتی تو انہوں نے پوری نماز میں جہر کے ساتھ باکمس دفع اللہ اکبر کہا (اس میں تکبیر تحریمہ اور قعدہ اولی سے اٹھتے وقت کی تکبیر کچھ شامل ہے) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کہ یصا حب اتحق معلوم ہوتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا عکرم تم سے تجبہ ہے (تم کو معلوم نہیں کہ) یتو حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنہ ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
I used to pray behind a bad man (Abu Hurairah (RA)) and he would say 'Allahu Akbar' seven times with a low voice throughout the prayer (this includes the Takbirat al-Tahrima and the Takbir when rising from the first Tashahhud). I said to Ibn 'Abbas (RA), 'These are known to be the practices of Abu al-Qasim ﷺ.' Ibn 'Abbas (RA) replied, 'O 'Ikrimah, this is from his Sunnah (but you do not know it).' (This narration is reported by Bukhari.)
عبدالجبار بن واکل رضی اللہ عنہ روایت سے، اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرما تے تو اپنے دونوں باہوں کو پیہال تک اٹھاتے کر باطوں کے اگلوٹھ دونوں کا نون کی لو کیون کے مقابلہوجاتے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابو داود کی روایت کچھ ایسی طرح ہے)-
Narrated by Abd al-Jabbar ibn Wa'il, from his father: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands upon starting the prayer until his thumbs were parallel to his earlobes." [Narrated by Al-Nasa’i]
A similar narration is narrated by Abu Dawud. Al-Hakim in Al-Mustadrak, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi in his Sunan reported a similar narration from Anas, may Allah be pleased with him. Al-Hakim said, "Its chain is authentic according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, and I know of no flaw in it."
In a narration by Abu Dawud, Al-Nasa’i, At-Tabarani, Al-Daraqutni, and Muslim from Wa'il ibn Hujr: "I saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his ears when starting the prayer."
اور حاکم نے مستدرک میں اور دار قطنی نے اور تہمیق نے سنن میں انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کے اساناد بخاری اور مسلم کی شرط
کے موافق یہ اس لے نے جو پیش اور حاکم نے پیچھی کہا بھ کہ میں نے اس میں کوئی علم نہیں پانی -
رضی اللہ عنہ سے مرودی میں کر انہوں نے کہا کر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز شروع فرماتے وقت اپنے ہاتھوں کو دونوں کانوں کے مقابلے اٹھاتے دیکھا ہے۔
تگبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک باٹھا اٹھانے کے ثبوت پر دوسرا حدیث
Narrated by Abd al-Jabbar ibn Wa'il, from his father: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands upon starting the prayer until his thumbs were parallel to his earlobes." [Narrated by Al-Nasa’i]
A similar narration is narrated by Abu Dawud. Al-Hakim in Al-Mustadrak, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi in his Sunan reported a similar narration from Anas, may Allah be pleased with him. Al-Hakim said, "Its chain is authentic according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, and I know of no flaw in it."
In a narration by Abu Dawud, Al-Nasa’i, At-Tabarani, Al-Daraqutni, and Muslim from Wa'il ibn Hujr: "I saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his ears when starting the prayer."
بشر بن نحیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں (تگبیر تحریمہ کے وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتا تو آپ کے دونوں ہاتھوں کو کیا سکتا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تگبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)
پہلے کانوں تک باٹھا اٹھا کر پچھے تگبیر تحریمہ کیتے کا بیان
Narrated by Wa'il ibn Hujr: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his shoulders when starting the prayer, with his thumbs parallel to his ears, and then say Takbir." [Narrated by Abu Dawud]
In another narration by Abu Dawud: "He raised his thumbs to his earlobes."
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھول کے سامنے اٹھا کر دونوں اگلوٹھون کو دونوں کانوں کے مقابلے کیا اور اس کے بعد آپ نے اللہ أکبر فرما یا۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
Narrated by Wa'il ibn Hujr: "He saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands to the level of his shoulders when starting the prayer, with his thumbs parallel to his ears, and then say Takbir." [Narrated by Abu Dawud]
In another narration by Abu Dawud: "He raised his thumbs to his earlobes."
اور ابوداود کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تگبیر تحریمہ کینے کے قبل) اپنے دونوں اگلوٹھون کو دونوں کانوں کی لوکیوں تک اٹھاتے تھے۔
پہلے کا نوں تک باطحا کر پھر تگبیر تکر بیمہ کہنے کے بیان پر دوسری حدیث
would raise both his forelocks up to the lobes of his ears.
ف : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز شروع کرتے وقت تگبیر تحریمہ کینے کے قبل اپنے ہاتھوں کے اگلوٹھون کو کانوں کی لوکیوں کے مقابلے رکھا جانے چھراس کے بعد اللہاکبر کہ او رحتی نہ ہی ہے۔ (اشعۃ اللمعات -)
البجمید ساعدی رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کہرے ہوئے تو روپہ قبلہ پوکرا پنچ دونول باتحول کوکا نوں تک اطحاے پھر اللہ اکبر فرماتے - (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے -)
When the Messenger of Allah ﷺ stood up to pray, he would place his right hand on his left hand over his chest and say 'Allah is the Greatest'.
ف : تکبیر تحر بیمہ کے وقت کا نوں تک باطحا اطحا نے کا حکم مر دول سے متعلق ہے اس کے بر خلاف عورتین نماز کی نیت کرکے اللہ اکبر کہتے وقت اپنے دونول باتح کندے ہے تک اطحاویں، لیکن باتح دو پچے سے باہرن نکلیں - (طحاوی -)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے کہا کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کہرے ہوئے تو اپنے دونول باتحول کواس قدر بلند فرماتے کر دونول انگوٹھے دونول کا نوں کے مقابلہوجاتے تھے - (اس کی روايت امام احمد اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے اور دارتی نے اپنی سنن میں اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے اور دارتی کی روایت میں پیاضافہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( تکبیر تحر بیمہ کے سوا پوری نماز میں ) پھر دوبارہ باتحویں اطحا تے تھے - (اور طحاوی، بخاری اور مسلم نے بھی اس طرح روایت کی ہے -)
Narrated by Al-Bara' ibn Azib, may Allah be pleased with him: "The Prophet, peace be upon him, would raise his hands during prayer until his thumbs were parallel to his ears." [Narrated by Ahmad, Ishaq ibn Rahwayh, Al-Daraqutni in his Sunan, and Ibn Abi Shaybah]
Al-Daraqutni added: "He did not repeat it." At-Tahawi, Al-Bukhari, and Muslim reported similar narrations.
عبدالعزیز بن حیم رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے
ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کر وہ نماز کے ثروت ع میں پہلی تکبیر کے وقت (جس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں)
اب پہ دو نوں ہاتھوں کو دو نوں کا نوں کے مقابل اطحايا کرتے اور تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں پھر
باٹھول کو میں اطحا تے تھے۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)
الدعر وجل کا ارشاد ہے: "کُفُوَا أَیْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلوۃَ" (سورۃ نساء، پ:5،
ع: 11، آیت نمبر: 77) جس تم اپنے ہاتھوں کو روكو اور نماز کے پابند ہوجاوے صاحب
"الكنز المدفون والفلک المشحون" نے کہاہے کراس قول باری تعالیٰ میں اس بات کی ویلہ
کرثرو ع نماز کی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں تکبیرات انتقالات کے وقت رفع یدین (جس کا نوں
تم باٹھا طحا نے کو) ترک کیا جاتے۔ (تاکہ "کُفُوَا أَیْدِیَکُمْ" کے حکم کی تکمیل ہو۔)12
تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پرتیری حدیث
عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (نماز پڑھ کر) تم
Narrated by Abdul Aziz ibn Hakim: "I saw Ibn Umar raise his hands to the level of his ears only during the first Takbir of the prayer, and he did not raise them at any other time." [Narrated by Muhammad]
Allah Almighty says: "Restrain your hands and establish prayer." (Quran 4:77) The author of Al-Kanz al-Madfun and Al-Fulk al-Mashhun said: "This indicates that raising the hands is not done during transitions in prayer."
لوگوں کو بتلا گے دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھنا کیسا تھا یا کہ کر آپ (نماز کے
لئے) کہرے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کوصرف ایک ہی دفعہ (تکبیر تحریمہ کے لئے) اطحايا پھر
آپ نے (پوری نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں فرمایا۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not inform you about the prayer of the Messenger of Allah, peace be upon him?" He then stood and raised his hands only once at the beginning and did not raise them again. In another narration: "He did not raise them afterward." [Narrated by Al-Nasa’i]
The scholar Al-Hashim al-Madani said in Kashf ar-Rayn regarding the issue of raising hands: "The chain of Al-Nasa’i meets the conditions of Al-Bukhari and Muslim."
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے (تکبیر تحریمہ کے سوا) رفع یدین
نہیں کیا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
اور علامہ باشتم مدینہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "كشف الربین عن مسئلۃ رفع الیدین"
میں کہا ہے کہ نسائی کی نذورہ حدیث کی سنہ بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اس لئے نسائی کی یہ
حدیث بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح ہے۔
تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر چوٹی حدیث
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not inform you about the prayer of the Messenger of Allah, peace be upon him?" He then stood and raised his hands only once at the beginning and did not raise them again. In another narration: "He did not raise them afterward." [Narrated by Al-Nasa’i]
The scholar Al-Hashim al-Madani said in Kashf ar-Rayn regarding the issue of raising hands: "The chain of Al-Nasa’i meets the conditions of Al-Bukhari and Muslim."
علیمرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کرا بن مسعود رضی اللہ عنہ نے
ہم سے فرمایا کر کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کی جسیسی نماز پڑھادوں؟ (علیمرضی اللہ عنہ کا بیان ہے) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تمامیں پیکہ کر نماز پڑھائی تو ایک ہی دفعہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت باٹھا اٹھاے۔ (پھر پوری نماز میں انہول نے رفع یدین نہیں کیا) (اس کی روایت ترتیزی، ابوداووداورنسائی نے کی ہے۔)
تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر پاچوٹی حدیث
Narrated by Alqamah: "Abdullah ibn Mas'ud said to us, 'Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?' He then prayed and did not raise his hands except once, during the opening Takbir." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
علیمرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کرا بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ لوگوں سے) فرمایا (آئے) میں تم لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھوں (یعنی تحسین عملی طور پردکھادوں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کے بارے میں کیا کرتے تھے) پھر آپ نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ (صرف تکبیر تحریمہ کے وقت) باٹھا اٹھایا، اس کے بعد (پوری نماز میں پھر رفع یدین نہیں کیا) (اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے۔) اور ترتیزی نے کہا ہے کرا سباب میں برائے بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور ترتیزی نے پیکہ کہا ہے کرا بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن ہے، کی صحابراورتا لعبین رضی اللہ عنہم اجمعین رفع یدین نہ کرنے کے قائل ہیں، نیز سفیان ثوری اور ابل کوفہ کا بھی قول ہے (اوریہی حقیقت ہے۔)
تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر چھوٹی حدیث
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "Shall I not pray for you as the Messenger of Allah, peace be upon him, prayed?" He then prayed and did not raise his hands except during the first Takbir. [Narrated by Al-Tirmidhi]
Al-Tirmidhi said: "The hadith of Ibn Mas'ud is a Hasan hadith, and this is the opinion of many scholars among the companions of the Prophet, peace be upon him, and the Tabi'in. It is also the view of Sufyan and the scholars of Kufa."
علیمرضی اللہ عنه، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (ثرورع مسعود رضی اللہ عنہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (ثرورع نماز میں) تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا کرتے تھے پھر باقی نماز میں رفع یدین کا اعادہ
نہیں فرما تے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
کہ بیٹھ کر بیٹھ کے سوپوری نماز میں رفع پیدا کرنے کے ثبوت پرساتوی حدیث
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, from the Prophet, peace be upon him: "He would raise his hands during the first Takbir and would not raise them again." [Narrated by At-Tahawi]
جابر بن سمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم (ایک بار) ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا وجبہ کہ میں تم لوگوں کو کیہ ربا
ہول کر (درمیان نماز میں) رفع پیدا کر کے اپنے ہاتھوں کو تھر پیگوڑوں کی طرح (بار بار) پلا تے
رہتے ہو، (ایسامت کرو) اور نماز میں سکون اور اطمینان سے رباکرو۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف (1): جابر بن سمہ رضی اللہ عنہ کی یحدیث جس کی روایت مسلم نے کی ہے اس کے آخر میں
حضرت علی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "اسکنوا فی الصلاة" (نماز میں سکون اور اطمینان سے ربا
کرو)۔
اس ارشاد گرامی سے مقصد ہے کہ درمیان نماز میں ایا عمل نکیا جاتے جس سے نماز کے
سکون اطمینان میں خلل ہوتا ہوا س لے ہروہ عمل جس سے نماز کے سکون میں خلل ہوتا ہو منوع ہوگا اور
ظاہر ہے کہ درمیان نماز میں بار بار رفع پیدا کرنے سے نماز کے سکون اور اطمینان میں خلل واقع ہوتا ہے، اس
وجہ سے اس حدیث میں درمیان نماز میں رفع پیدا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ف (2): ای نذکور الصد رحدیث میں ارشاد ہوا ہے: "مَا لِی أَرَاکُمْ رَافِعِی أَیْدِیکُمْ گَنَّا
اذناب خیل شمس، اسكنا فی الصلاة"۔
(کیا وجبہ کہ میں تم لوگوں کو کیہ رباہول کر (درمیان نماز میں رفع پیدا کرنے) اپنے
باطحون کو تھر پیگوڑوں کی طرح بار بار پلا تے رہتے ہو، (ایسامت کرو) اور نماز میں سکون و
اطمینان سے رباکرو)۔
حدیث کے ان الفاظ سے درمیان نماز میں رفع پیدا کی معنے ثابت ہوتی ہے۔ اس کے
بر عكس وہ حضرات جن کے پاس درمیان نماز میں رفع پیدا کرنے کا نہیں "مَا لِی أَرَاکُمْ
رَافِعِی أَیْدِیکُمْ .... اغ" سے قعدہ میں سلام پیہرے وقت ہاتھوں پلا کر اشارہ کرنا مراد لیا ہے جس پر
بعض لوگوں کا عمل تھا، حالانکہ جس حدیث میں سلام پیشہ وقت ہاتھوں بلاکراشارہ کرنے سے منع کیا گیا
وہ دوسری حدیث سے جس کے الفاظ میں:
"مَا لَهُوْ لَا ئِ يُؤْمُوْنَ بَآيِدِيْهِمْ كَانَهَا أَذَنَابُ خَیْلِ شُمْسٍ، اِنَّما يُكْفِی آحَدُکُمْ انْ
یَضَعْ یَدَهُ عَلَی فَخِذِهِ ثُمَّ یَسْلِمُ عَلَی آخِرِهِ مَنْ عَنْ یَمِیْنِهِ وَ مَنْ عَنْ شِمَالِهِ"۔
( ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کوثری گھوڑوں کی دموں کی طرح بلا بلاکراشارہ
کرتے ہیں، ان کو چاہے کہ ہاتھوں کو اپنے رانوں پر کسی چھرسیدے ہاور باکسی جانب اپنے بجاۓ کوسلام
کریں )۔ یہی وہ حدیث سے جس سے قعدہ میں بوقت سلام ہاتھوں کو بلاکراشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ان دونوں حدیتوں کے تقابل سے حسب ذیل باٹین واضح ہوتی ہیں:
صدر کی پہلی حدیث کے الفاظ میں "مَا لی آراؤکم رافعی آیدیکم کانہا اذناب خیلِ
شُمس، اسکنووا فی الصلاۃ۔" سے پرواہ ہوتا ہے کہ درمیان نماز میں رفع یدین نکیا جائے
کیونکہ درمیان نماز میں باربار رفع یدین سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔
اس حدیث کے انہردوجملوں سے یبات کہی نہویلی واٹخ ہوتی ہے کہ رفع یدین کی معنے کا
علق درمیان نماز سے نہ کا آخر نماز سے اگر "اسکنووا فی الصلاۃ" کے حکم نماز کے آخری
حضرت سلام کے وقت سے متعلق کیا جائے جسیا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو "اسکنووا" کا حکم بحل
ہوجائے گا کیونکہ سلام سے تو نماز کی ختم ہوجائے گی اور نماز ختم ہوجائے گی بعد سکون والطمنان سے
رشتہ کا کیا موقع ہے اس لے پیدروی ہے کہ صدر کی حدیث جس میں "اسکنووا فی الصلاۃ" نذکور
ہے اس حدیث کو درمیان نماز میں رفع یدین کی معنے کی سے متعلق کیا جائے، اس کے برخلاف
دوسری حدیث میں "رافعی آیدیکم" کے جبائے "یؤموْنَ بَآیِدِیْهِمْ" کے الفاظ میں جس کے معنی
باٹھوں سے اشارہ کرنے کے جیں اور اس طرح اس دوسری حدیث کے آخر میں "اسکنووا فی الصلاۃ"
"کی جبائے "انَّما يُکْفِی آحَدُکُمْ انْ یَضَعْ یَدَهُ عَلَی فَخِذِهِ .... اغ" کے الفاظ میں جس کے
معنی ہیں ہاتھوں کو اپنے رانوں پر کر سلام کیا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حدیثیں اپنے
اپنے الفاظ اور معانی کے لحاظ سے بالکل جدا ہیں۔ صدر کی پہلی حدیث کا تعلق بالکلی درمیان نماز میں
رفع یدین کی معنے کے سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق بو وقت سلام قعدہ میں ہاتھوں کو بلاکراشارہ
کر نے کی ممانعت سے۔
دونوں حدیثوں کے اس تقابل سے یواضح ہوگیا کہ بردود حديثین اپنے موقع کے لحاظ
سے علیحدہ پیں اور دونوں کا جدا جدا حکم ہے اور اس طرح ایک حدیث کے حکم کو دومسرے حدیث کے حکم
سے متعلق کرنے قیاس مع الفاروق سے جوکسی حثیت سے درست نہیں - (مرقات - )12
تبہیر تحریم کے سوال پری نماز میں رفع پیدا بن کرنے کے ثبوت پرآظہوی حدیث
Narrated by Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him: "The Messenger of Allah, peace be upon him, came out to us and said, 'Why do I see you raising your hands like the tails of restless horses? Be calm in prayer.'" [Narrated by Muslim]
In the Musnad of our Imam Abu Hanifah, it is narrated from Sufyan ibn Uyaynah: "Abu Hanifah and Al-Awza'i met in the house of Al-Khannatin in Makkah. Al-Awza'i said to Abu Hanifah, 'Why do you not raise your hands during prayer when bowing and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Because nothing authentic has been established from the Messenger of Allah, peace be upon him, regarding it.'
Al-Awza'i said, 'How can it not be authentic when Az-Zuhri narrated to me from Salim, from his father, that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to raise his hands when starting the prayer, when bowing, and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Hammad narrated to us from Ibrahim, from Alqamah and Al-Aswad, from Ibn Mas'ud, that the Messenger of Allah, peace be upon him, did not raise his hands except at the beginning of the prayer and did not repeat it.'
Al-Awza'i said, 'I narrate to you from Az-Zuhri, from Salim, from his father, and you say Hammad narrated to you from Ibrahim?' Abu Hanifah replied, 'Hammad was more knowledgeable than Az-Zuhri, Ibrahim was more knowledgeable than Salim, and Alqamah was not inferior to Ibn Umar in knowledge, even though Ibn Umar had the privilege of companionship. Al-Aswad also had great merit, and Abdullah (Ibn Mas'ud) is Abdullah.' Al-Awza'i remained silent."
f (1): In the hadith narrated by Jaber bin Samah (RA), which Muslim has reported, at the end, there is the guidance of Ali (RA) and the Prophet (SAW): 'Iskunoo fi as-salah' (Perform the prayer with tranquility and composure). The purpose of this noble guidance is that any action during the prayer that disrupts its tranquility and composure should be avoided. It is evident that repeatedly raising the hands during the prayer disrupts the tranquility and composure of the prayer, hence, this hadith prohibits raising the hands during the prayer.
f (2): In the aforementioned hadith, it is stated: 'Ma li ara kum rafii aydeekum ganna adhanab khayl shams, iskunoo fi as-salah.' (Why do I see you raising your hands like the tails of camels in the sun? Perform the prayer with tranquility and composure.) From these words of the hadith, it is clear that raising the hands during the prayer is meant. Conversely, those who do not raise their hands during the prayer interpret 'Ma li ara kum rafii aydeekum ...' to mean making gestures with the hands while sitting in the final tashahhud, which was a practice of some people. However, the hadith that prohibits making gestures with the hands while sitting in the final tashahhud is another hadith, which states:
'Ma lahu la yuminun bi aydeehim kanaha adhanab khayl shums, innama yuffi akhukum an yadhaqa yadihi ala fakhidhihi thumma yaslimu ala akhirati man amynihi wa man ashmalihi.' (What is wrong with them that they wave their hands like the tails of camels in the sun? It is sufficient for one of you to place his hand on his thigh and then give salam to those on his right and left.) This hadith clearly prohibits making gestures with the hands while sitting in the final tashahhud.
By comparing these two hadiths, the following points become clear:
In the first hadith, the phrase 'Ma li ara kum rafii aydeekum kanaha adhanab khayl shums, iskunoo fi as-salah' indicates that raising the hands during the prayer is prohibited because repeated raising of the hands during the prayer disrupts its tranquility and composure.
From the second part of this hadith, it is clear that the meaning of raising the hands is related to actions during the prayer, not at the end of the prayer. If 'iskunoo fi as-salah' were to be interpreted as referring to the final salam, as some people think, then the command 'iskunoo' would be redundant because the prayer ends with the salam, and there would be no context for tranquility and composure after the prayer. Therefore, the first hadith, which mentions 'iskunoo fi as-salah,' must be related to actions during the prayer, whereas the second hadith, which uses 'yuminun bi aydeehim' instead of 'rafii aydeekum,' refers to making gestures with the hands while sitting in the final tashahhud.
Thus, it is clear that the two hadiths are distinct in their wording and meaning. The first hadith is entirely about raising the hands during the prayer, while the second hadith is about prohibiting gestures with the hands during the final tashahhud. This comparison shows that each hadith applies to its own specific context and has its own distinct ruling, and it is incorrect to equate the ruling of one hadith with the other, (Mirqat).
سفیان بن عمیڑ رضی اللہ عنہ سے روایت سے،سفیان کہتا پیں کہ کہ معظم کی
گیہوں کی منڈی میں امام ابوحنیفراورامام او زاعی رحمہما اللہا کہتوں ہوئے، اس وقت امام او زاعی نے
امام ابوحنیفہ کہا کہ آپ لوگ نماز میں رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کس وجہ سے رفع
پیدا نہیں کرتے؟ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہعلیہ نے فرمایا کہ تم اس وجہ سے رفع پیدا نہیں کرتے کیسا
سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کولی تجروايت ثابت نہیں ہوتی ہے، امام او زاعی نے فرمایا
کہ یہوسکتا ہے، حالاکہ زہری نے مجھ سے حدیث بیان کی اور زہری، سالم سے روایت کرتے پیں
اور سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے پیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت کرتے پیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو ( تکبیر تحریم کے لے )
دونوں باطحوں کو اٹھایا کرتے تھا اور رکوع کجا تے وقت رفع پیدا کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت
جبہی رفع پیدا کرتے تھے ( امام او زاعی کے جواب میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہعلیہ نے فرمایا کہ حدیث بیان
کی سے تم سے حماد نے اور حماد بیان کرتے ہے ابراہیم سے اور ابراہیم روایت کرتے پیں علقہ اور
اسود سے اور پیرونوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے پیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
شروع نماز میں تو ( تکبیر تحریم کے لے ) باٹھاٹھائے تھے ( پھرباقی نماز میں ) رفع پیدا کا اعادہ نہیں
فرماتے تھے، امام او زاعی نے کہا کہ میں آپ کو حدیث سنارباہول زہری سے اور زہری روایت کرتے
پیں سالم سے اور سالم روایت کرتے پیں اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور آپ کہتا پیں کہ
حدیث بیان کی مجھے حماد نے اوروہ روایت کرے میں ابراہیم سے امام البونیفہ نے فرمایا کہ جماد زہری سے زیادہ فقیر میں اور ابراہیم سالم سے زیادہ فقیر میں اور علیمر فقیر میں عمرت کم نہ تھے۔ اگرچہ کامبن عمر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثرف صحبت حاصل ہے اور ان کے لئے صحابی بنون کی فضیلت ہے، اب رہ اسود تو ان کے کچھ بہت سے فضاکل میں اور عبد اللہ بن مسعود تو عبد اللہ بن مسعود میں ان کا کیا کہنا پین کراما او زائی نے سکوت اختیار فرمایا۔
(اس کی روایت سفیان بن عمیز نے ہمارے امام البونیفرحمہ اللہ کی سنبلی کی ہے۔)
مجبرتر بمہ کے سواپوری نماز میں رفع پیدین ذکر نے کے ثبوت پرنوی حدیث
Narrated by Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him: "The Messenger of Allah, peace be upon him, came out to us and said, 'Why do I see you raising your hands like the tails of restless horses? Be calm in prayer.'" [Narrated by Muslim]
In the Musnad of our Imam Abu Hanifah, it is narrated from Sufyan ibn Uyaynah: "Abu Hanifah and Al-Awza'i met in the house of Al-Khannatin in Makkah. Al-Awza'i said to Abu Hanifah, 'Why do you not raise your hands during prayer when bowing and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Because nothing authentic has been established from the Messenger of Allah, peace be upon him, regarding it.'
Al-Awza'i said, 'How can it not be authentic when Az-Zuhri narrated to me from Salim, from his father, that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to raise his hands when starting the prayer, when bowing, and when rising from it?' Abu Hanifah replied, 'Hammad narrated to us from Ibrahim, from Alqamah and Al-Aswad, from Ibn Mas'ud, that the Messenger of Allah, peace be upon him, did not raise his hands except at the beginning of the prayer and did not repeat it.'
Al-Awza'i said, 'I narrate to you from Az-Zuhri, from Salim, from his father, and you say Hammad narrated to you from Ibrahim?' Abu Hanifah replied, 'Hammad was more knowledgeable than Az-Zuhri, Ibrahim was more knowledgeable than Salim, and Alqamah was not inferior to Ibn Umar in knowledge, even though Ibn Umar had the privilege of companionship. Al-Aswad also had great merit, and Abdullah (Ibn Mas'ud) is Abdullah.' Al-Awza'i remained silent."
جاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پچھے نماز پڑھی ہے، ابن عمر مجبر اولی لجنب مجبر تحریم کے سواپوری نماز میں کچھ بھی رفع پیدین نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔ اور طحاوی نے کہاہے کہ مجی ابن عمر رضی اللہ عنہما پید کرانہول نے مجی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع پیدین کرتے ہوئے دیکھا پھر خود انہوں نے رفع پیدین کو مجی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کردیا۔ پس ابن عمر کا رفع پیدین کوٹک کرناس وجہ ہے کہ جس رفع پیدین کوانہول نے مجی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا اس کا منسوخ ہونا نے کے پاس ثابت ہے اور رفع پیدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ان کے پاس قائم ہوچکی ہے، ورنہ وہ رفع پیدین کو درمیان نماز میں کچھ ترک نہ کرتے۔)
اور علماء میں نے کہاہے کہ جس رفع پیدین کے متعلق رفع پیدین کے قائلین دلیل لا تے میں وہ اس بات پر محول ہے کہ رفع پیدین پر عمل ابتدائی اسلام میں ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا اور رفع پیدین منسوخ ہونے کی دلیل پیہ کہ
Narrated by Mujahid: "I prayed behind Ibn Umar, and he did not raise his hands except during the first Takbir of the prayer." [Narrated by At-Tahawi]
At-Tahawi said: "Ibn Umar saw the Prophet, peace be upon him, raise his hands, but he later stopped doing so. This indicates that he must have known that the practice had been abrogated, and the evidence for that became clear to him."
The scholar Al-Ayni said: "The evidence used by the opponents regarding raising the hands is interpreted as being from the early days of Islam, which was later abrogated. The proof for this is that Abdullah ibn Az-Zubayr saw a man raising his hands during prayer when bowing and rising, and he said to him, 'Do not do this, for the Messenger of Allah, peace be upon him, did it and then abandoned it.'"
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کروہ رکوع میں جائے وقت
رفع یدین کرنا اور رکوع سے مرافعاً وقت بھی رفع یدین کرنا تو اس سے عبد اللہ بن زبیر نے کہا کرکو ع کوجاتے وقت اور رکوع سے مرافعاً وقت رفع یدین مست کیا کر، یا لی جزءہ جس کورسول اللہ علیہ وسلم پیل کیا کرتے تھے اور پھراس کونزک فرمادیے ہیں۔
تجبیر تحریم کے سواپوری نماز میں رفع یدین ذکرنے کے ثبوت پردسوی حدیث کرتے ہیں، اسود نے کہا کہ میں نعمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کو بیجا کر آپ تجبیر تحریم کے وقت اپنے باہوں کو اٹھاتے تھے اور پھر (پوری نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں کرتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی اور نہجی نے کی ہے اور طحاوی نے کہا ہے کہ حدیث تھی۔)
تجبیر تحریم کے سواپوری نماز میں رفع یدین ذکرنے کے ثبوت میں گیارہویں حدیث
Except for the raising of hands at the beginning of the prayer, there is no evidence for raising the hands in any other part of the prayer except in two hadiths. Aswad said: 'I saw Umar bin al-Khattab (RA) who would raise his arms at the beginning of the prayer, and then he would not repeat the raising of hands throughout the rest of the prayer.' (This narration has been reported by Tirmidhi and Nisa'i, and Tirmidhi said: 'The hadith is authentic.') It is the eleventh hadith providing evidence for the raising of hands in the prayer, except for the raising of hands at the beginning of the prayer.
ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن الابی طالب کرم اللہ وجہہ، صرف پیلی تجبیر میں جس نے نماز شروعت کی جائے ہے اپنے دونوں باہوں کو اٹھاتے تھے پھراس کے بعد باقی نماز کے کسی حصے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(اس کی روايت امام محمد اور طحاوي اور ابن الابی شیبہ نے کی ہے اور علماء عینی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سننت میں اور مسلم کی شرط کے موافق ہے)-
اور علماء عینی نے بیشی کہا ہے کہ تجبیر تحریم کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین کا منسوخ ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت ہوچکا تھاجب، یتوآپ نے رسول اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ کے باوجود پھر بھی تجبیر تحریم کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین ترک فرمایا۔
اگر رفع یدین کا منسوخ ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت نہ ہوتا تو آپ خود اپنی طرف سے
Narrated by Asim ibn Kulaib al-Jarmi, from his father, who was among the companions of Ali, may Allah be pleased with him: "Ali ibn Abi Talib, may Allah honor his face, used to raise his hands during the first Takbir with which he began the prayer, and he did not raise them again during the rest of the prayer." [Narrated by Muhammad, At-Tahawi, and Ibn Abi Shaybah]
The scholar Al-Ayni said: "Its chain is authentic according to the conditions of Muslim. It is not permissible for Ali to have seen the Prophet, peace be upon him, do something and then abandon it unless the raising of hands outside the opening Takbir had been abrogated."
رفع یدین بھگزتر کرنا کرتے۔
تبیرتہر بمہ کے سواپوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پربارہوی حدیث
Narrated by Ibrahim: "Abdullah (Ibn Mas'ud) did not raise his hands during any part of the prayer except at the beginning." [Narrated by At-Tahawi]
علقمر ضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابن
مسعود رضی اللہ عنہ نے کہاہے کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ او پہر حضرت ابوبکر و
حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ پیٹون حضرات رفع یدین شروع نماز میںصرف
تبیرتہر بمہ کے وقت،یکیا کرتے تھااور باقی پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے)-
(اس کی روایت دارت قطعنی اور ابن عدی نے لکی ہے-)
تبیرتہر بمہ کے سواپوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پرتیرہوی حدیث
Narrated by Alqamah, from Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: "I prayed with the Messenger of Allah, peace be upon him, Abu Bakr, and Umar, and they did not raise their hands except at the beginning of the prayer." [Narrated by Al-Daraqutni and Ibn Adi]
ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبد اللہ ابن مسعود
رضی اللہ عنہ شروع نماز میں صرف تبیرتہر بمہ کے وقت،یباتحا اتحا تے تے پھراس کے بعد نماز کے کسی
حصے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے-(اس کی روایت طحاوی نے لکی ہے-)
تبیرتہر بمہ کے سواپوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر جودوی حدیث
Except for the time of bowing and standing up after prostration, he would not raise his hands during the entire prayer.
ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ تبیرتہر بمہ کے بعد
نماز کے کسی حصے میں رفع یدین مت کیا کرو-(اس کی روایت امام محمد نے موطا اور آثار میں لکی ہے-)
تبیرتہر بمہ کے سواپوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر پندرہوی حدیث
Do not raise your hands after the tashahhud in any part of the prayer, except after the tashahhud in the last prayer. This is based on fifteen hadiths that provide evidence for not raising the hands after the tashahhud in the last prayer.
حسین بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اور عمرو
بن مرہ رضی اللہ عنہ (ایک دفعہ) ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ،عمرو نے بیان کیا کہ مجھے
علقمہ بن واصل حضری رضی اللہ عنہما نے اپنے والد کے واسطے حدیث بیان کی تھے کران کے والد
والل حضری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
ویحا کر آپ نے تجبیر تحر بیدر کے وقت رفع پیدین فرمایااوراسی طرح رکوع کرتے وقت اور کونے سے اٹھتے وقت بھی رفع پیدین فرمایا(یعنی کر) ابراہیم علیہ نے جواب دیا کر (والل حضرتی جو کہ درہ ہیں ) میں اس کو نہیں جانتا، معلوم ہوتا ہے کہ والل حضرتی نے صرف اسی ایک دون کی نماز ون میں (جگڑوہ خدمت اقدس میں وفد بن کر حضرموت سے حاضر ہوئے تو )حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (درمیان نماز میں ) رفع پیدین کرتے ہوئے دیکھااوراسی کوانہول نے یاد کرکے لیا لیکن ابن مسعوداور دگر صحابہرضی اللہ عنہم (جو بمیش رسو الصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر رہے) شریع نماز ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع پیدین کرنا بمیش کا واقعہ ہوئے کی وجہ سے اس (ایک دون کی نماز ون کے رفع پیدین ) کو یاد کرکا (ابراہیم علی کہتے ہیں ) اس لے میں نے ان حضرات میں سے کسی ایک سے کچھ نہیں سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (درمیان نماز میں ) رفع پیدین کرتے تو اور کچھ مجہب کران سب حضرات کا یطریقہ رہاہے کروہثردو ع نماز میں صرف تجبیر تحر بیدر کے وقت رفع پیدین کرتے تو (اس کے سوا باقی نماز میں رفع پیدین کرتے تو )۔(اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے ) تجبیر تحر بیدر کے سوا پوری نماز میں رفع پیدین نہ کرنے کے ثبوت پرسولہوی حدیث
Narrated by Husayn ibn Abdur-Rahman: "Amr ibn Murrah and I entered upon Ibrahim an-Nakha'i. Amr said: 'Alqamah ibn Wa'il al-Hadrami narrated to me from his father that he prayed with the Messenger of Allah, peace be upon him, and saw him raise his hands when saying Takbir, when bowing, and when rising from bowing.'
Ibrahim said: 'I do not know; perhaps he only saw the Prophet, peace be upon him, pray on that day and remembered this, while Ibn Mas'ud and his companions did not. I have not heard this from any of them. They only raised their hands at the beginning of the prayer when saying Takbir.'" [Narrated by Muhammad]
عمروبن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں حضرموت کی مسجد میں داخل ہوا کیا و کیتا ہوئے کر علقوہ بن والل رضی اللہ عنہما پن والد والل رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حدیث بیان کردہ ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے قبل رفع پیدین کیا کرتے تو اور رکوع کے بعد بھی رفع پیدین کیا کرتے تو میں نے اس واقعہ کا تذکرہ ابراہیم علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا تو انبہول نے غصہ میں آکر فرمایا کیا والل رضی اللہ عنہ نے میں رفع پیدین کرتے دیکھاہے اور اس کو ابن مسعوداوران کے ساتھی دگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہیں دیکھا (کیا یقرین قیاس ہے؟)۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)
Narrated by Amr ibn Murrah: "I entered the mosque of Hadramawt, and Alqamah ibn Wa'il was narrating from his father that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to raise his hands before and after bowing. I mentioned this to Ibrahim, and he became angry, saying, 'He saw it, but Ibn Mas'ud and his companions did not.'" [Narrated by At-Tahawi]
مجھے تحریر میں کے سوا پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے ثبوت پر مستند ہوئی حدیث
عنہ وہ کہ رضی اللہ عنہ کہ حدیث بیان کی کروائے رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کونہا زشروے
کرتے وقت اور کوع کوجاتے اور کوع سرا تجا تے وقت رفع یدین فراماتے ہوئے دیکھاتے (پیس کر) ابراہیم نخی نے فرمایا کر اگروائے رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وفعر (قبل رکوع اور بعد رکوع) رفع یدین کرتے ہوئے دیکھاتے تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاسول مرتبہ دیکھاتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (قبل رکوع اور بعد رکوع) رفع یدین کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)
ف: واضح ہوکہ یہ حال رفع یدین سے متعلق دو طرح کی حدیثی آئی ہیں، ایک وائل حضری رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے جس میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع اور بعد رکوع رفع یدین فراماتے تھا اور دوسری حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے جس میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فراماتے تھے۔ اس طرح رفع یدین سے متعلق احادیث میں تعارض پایا جاتا ہے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رفع یدین کے بارے میں ان احادیث کو ترجیح حصل ہے جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرودی ہیں جس میں قبل رکوع اور بعد رکوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین نہابت نہیں ہے۔ وائل حضری رضی اللہ عنہ وفد بن کر حضرموت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقرس میں حاضر ہوئے تھا اور آپ کو صرف چند دن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ملا، اس کے برخلاف عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میش صحبت بارکت میں اس طرح حاضر رہے تھے کہ اجنبی حضرات آپ کی اس حاضر باشی کی وجہ
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی بیت میں شمار کرنے لگے تھے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنه، صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے وہ کل حضرتی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قدیم تھے، اس لے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے احادیث کو وہ کل رضی اللہ عنہ کے حدیث کو پرتیج حاصل ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثیں اس لے کہی قابل ترین ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار جسیا کر کہی ذکر کیا جاتا ہے ان جیل القدرمهاجرین صحابی میں بے جوسفر وحضر میں بیشتر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فیض درجت میں حاضر رہے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس تقرب کے سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ، جس کو خود صاحب مشکوۃ نے اپنے رسالہ "الا کمال فی اسماء الرجال" میں ذکر کیا "رضیت لا متنی مارضی بها ابن ام عبد" (میری امت کے لے ابن ام عبد بیتی ابن مسعود رضی اللہ عنہ جن باٹول کو پسند کریں مجھے مجھی وہ با تم پسند ہیں) میں وہ اقتیاز میں حس کی بناء پرام مطاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وہ کل حضرتی رضی اللہ عنہ کے مقابلوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو زیادہ تجھندا لے پیا ای وجبے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حدیث کو وہ کل حضرتی رضی اللہ عنہ کے حدیث کو پرتیج حاصل ہے۔ (شرح معالم الآثار)۔ نماز میں تکبیرتہر بیمہ کے بعد باٹہ باندھنے کی کیفیت
It is clear that there are two types of hadiths related to raising the hands: one narrated by Wa'il ibn Hajar (RA) which states that the Prophet (peace be upon him) raised his hands before and after bowing, and the other narrated by Abdullah ibn Mas'ud (RA) which states that the Prophet (peace be upon him) did not raise his hands before or after bowing. Thus, there is a contradiction found in the hadiths regarding raising the hands. Imam Tahawi (may Allah have mercy on him) has stated that preference should be given to the hadiths narrated by Abdullah ibn Mas'ud (RA), which indicate that the Prophet (peace be upon him) did not raise his hands before or after bowing. Wa'il ibn Hajar (RA) came from Hadhramaut to serve the Prophet (peace be upon him) and was only able to spend a few days in his company. In contrast, Abdullah ibn Mas'ud (RA) remained in the blessed company of the Prophet (peace be upon him) to such an extent that he was considered among the closest Companions. This shows that Ibn Mas'ud (RA) was more senior in terms of companionship with the Prophet (peace be upon him) compared to Wa'il ibn Hajar (RA), and thus the hadiths of Ibn Mas'ud (RA) are given precedence over those of Wa'il ibn Hajar (RA). The hadiths of Ibn Mas'ud (RA) are more reliable because he is often mentioned as one of the most prominent Muhajirin Companions who spent a significant amount of time in the company of the Prophet (peace be upon him). Due to his close relationship, the Prophet (peace be upon him) said about him, as recorded by the author of Mishkat in his treatise 'Al-Kamal fi Asma' al-Rijal': 'Rida la matni marid biha ibn um Abd' (I am pleased with whoever is pleased with Ibn Umm Abd, i.e., Ibn Mas'ud (RA)). Based on this favor, Imam Tahawi (may Allah have mercy on him) stated that Ibn Mas'ud (RA) was more observant of the actions of the Prophet (peace be upon him) than any other Companion, and therefore the hadiths of Ibn Mas'ud (RA) are given precedence over those of other Companions. (Sharh Ma'lam al-Athar). The manner of tying the turban after the third takbir in prayer.
علقہ بن وائل بن جبر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں کے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لے کڑے ہوئے تو سید میں باٹہ سے باطی باٹہ کو پکڑ لیتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔) نماز میں تکبیرتہر بیمہ کے بعد باٹہ باندھنے کی کیفیت پر دوسرا حدیث
I saw the Messenger of Allah ﷺ holding a stick while leading the prayer here. After the second takbir, he would hold the stick with his left hand.
قبیسہ بن بلب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد بلب رضی اللہ عنہ سے روایت کی سے کہ بلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو اپنے باطی باٹہ کو سید میں باٹہ سے پکڑ لیتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں باندھنے کی کیفیت پر تیسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in prayer and would hold his staff by the middle with his hand.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم چیمبرول کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ تم افطار جلد کریں اور سحر کرنا میں تاخیر کریں اور نماز میں اپنے سید ہے ہاتھوں کو اپنے باعین ہاتھوں پر ہیں۔
(اس کی روایت طبرانی نے سننے سے کی ہے اور طیالی نے مجھے اس کی روایت کی ہے۔)
And from Ibn Abbas, who said: The Messenger of Allah ﷺ said, “We, the community of prophets, have been commanded to hasten our Iftar, delay our Suhoor, and place our right hands over our left hands in prayer.” [Narrated by At-Tabarani with a authentic chain and At-Tayalisi]
In a narration by Muslim, from Wa’il ibn Hujr: He saw the Prophet ﷺ place his right hand over his left hand.
اور مسلم کی ایک روایت میں والی بن حجر رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہا کر آپ اپنے سید ہے ہاتھوں کو باعین ہاتھوں پر رکے تھے۔
نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں باندھنے کی کیفیت پر چوتھی حدیث
he saw the Prophet ﷺ making a gesture with his hands after the takbir tahrimah in prayer, placing them on his chest.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے اور میں نماز میں باعین ہاتھوں کو سید ہے ہاتھوں پر رکھا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سید ہے ہاتھوں کی طرح کر باعین ہاتھوں پر رکھ دیا۔
(اس کی روایت ابن ماجرا ورنسائی نے کی ہے۔)
نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں باندھنے کی کیفیت پر پانچویں حدیث
The Prophet ﷺ passed by me while I was praying, and I had placed my hands on my knees. The Prophet ﷺ then placed his hands on his knees in the same manner.
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) لوگوں کو حکم ڈھاکر وہ نماز میں اپنے سید ہے ہاتھوں کو باعین ہاتھوں پر رکھا کریں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
In the time of the Messenger of Allah ﷺ, people were commanded to place their hands on their knees during prayer.
اور نسائی کی ایک روایت میں والی بن حجر رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) یہ بتھان لی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھون گا کہ آپ کس طرح نماز ادا فرما تے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کر آپ پا کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر فرمایا
پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر اٹھائے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سیدہ ہاتھوں (کی سنجیلی کو) باقی ہاتھوں کی سنجیلی کی پشت پر رک کر سیدہ ہاتھوں کے انگوٹے اور چھنگلیاں سے (حلقه بناکر) باقی ہاتھوں کے پنچ کو (اس طرح) پکڑ لیا کر (سیدہ ہاتھوں کی باقی تین انگلیاں باقی ہاتھوں کے ) پہوچے کے بالائی حصہ میں کالی پر چسین۔
ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں اٹھانے کے متعلق حقی مذہب میں تین قول ہیں، (1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ أکبر کہ پھر کانوں تک ہاتھوں اٹھانے جس کی روایت نسائی نے کی ہے، (2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اور فتح یعنی ساتھ ساتھ کے جا میں، جس کا واقعہ رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے۔ جس کی روایت امام احمد، البوداوداو رنیہی نے کی ہے، اس قول کو خانی، خلاصہ، تقیہ، بدائع، مجیط، قدوری اور قاضی خالد نے اختیار کیا ہے اور بقیہ نے اس دوسرے قول کو مجیج احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور حیثیت اس کو مفتی بقر اردیا ہے، (3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے پھر اللہ أکبر کہ اور فتحا بوحمید ساعد رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی ہے، نیز ابن ماجہ، البوداود، ترمذی اور نسائی نے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجع نے اس قول کو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہا کے احناف نے اختیار کیا ہے اور غایہ البيان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور صاحب بدایہ کے پاس بھی تیسرا قول مفتی ہے۔ (رد المختار، عمدۃ الرعايہ)
ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں باندھنے کے بارے میں جو حدیثی آئی ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھوں باندھنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھوں ہاتھوں پر کہنا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھوں پہوچے کے بالائی حصہ میں کالی پر کہنا ذکر ہے۔
و اظہر ہے کہ جب کچھ کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آئی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض
معلوم ہوتا ہے تو اصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایک کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف
احادیث پرگل ہو سکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹی نہ پائے۔
اس قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تجہیر تحریم کے بعد ہاتھوں باندھنے کے بارے میں جو
مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پراس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث کچھ چھوٹی نہ ہو
پائی، اس لے انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدہ ہاتھوں کی یہی کوبا کی ہاتھوں
سے ہٹنے کی پشت پردہ اور سیدہ ہاتھوں کے اگلو تھا اور چھنگلی سے حلق بنانے با کی ہاتھوں کے پہو چے کو
اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں با کی پہو چے کے بالائی حصہ میں کلا کی پردہ ہیں۔
اس سے یصادرق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدہ ہاتھوں کو با کی ہاتھوں پر کھانے اور اپنے
سیدہ ہاتھوں کو کسی کلا کی پنجھی رکھنے اور اپنے با کی ہاتھوں کو سیدہ ہاتھوں سے پکڑ لیا، اس طرح
نمازی نے ہاتھوں باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلی، رواختار)۔
I had resolved in my heart to see how the Messenger of Allah ﷺ performed his prayer. So, I saw him stand and say 'Allahu Akbar.' Then he raised both hands to the level of his ears. After that, the Messenger of Allah ﷺ placed the middle finger of his right hand on the back of his left hand, forming a ring with the fingers of his right hand and grasping the wrist of his left hand, such that the remaining three fingers of his right hand were on the upper part of his left wrist.
It is clear that regarding the raising of the hands during the Takbir Tahrima, there are three opinions in the true religion: (1) One opinion is that one should say 'Allahu Akbar' and then raise the hands up to the ears, as narrated by Nasa'i. (2) The second opinion is that the Takbir Tahrima and the Fatiha should be recited together, which is established by another hadith of Anas (RA), as narrated by Imam Ahmad, Al-Bayhaqi, and Al-Nisa'i. This opinion has been adopted by Khan, Khulasah, Tuhfat, Badai', Majid, Qaduri, and Qadi Khalid, while others have attributed this second opinion to the majority of the Hanafis, and it has been deemed acceptable by Muftee Bakhari. (3) The third opinion is that one should first raise both hands up to the ears, then say 'Allahu Akbar' and recite the Fatiha, as established by the hadith of Sa'id ibn Zayd (RA), narrated by Imam Bukhari, Ibn Majah, Al-Bayhaqi, Tirmidhi, and Nasa'i. Mujid has attributed this opinion to Imam Abu Hanifah and Imam Muhammad (RA), and it is written in Mabsut that the majority of the Hanafi jurists have adopted this third opinion. Ghaya al-Bayan has also attributed this opinion to the majority of the Hanafi scholars, and the author of Badai' considers the third opinion to be the correct one. (Radd al-Muhtar, Umdah al-Raghaayah)
Regarding the tying of the hands after the Takbir Tahrima in prayer, there are three types of hadiths: one mentions tying the hands, another mentions placing the right hand over the left, and a third mentions placing the right hand over the upper part of the left arm. It is evident that when different hadiths are reported about an issue, which appear to contradict each other, the principle of the scholars of principles (usul) is to try to reconcile these different hadiths as much as possible without disregarding any of them. In light of this principle, our jurists have acted upon all the different hadiths regarding the tying of the hands after the Takbir Tahrima in such a way that none of the hadiths are overlooked. Therefore, they have stated that the Sunnah in this regard is to place the right hand over the left, with the back of the right hand covering the wrist of the left, and to clasp the fingers of the right hand over the upper part of the left arm in such a way that the remaining three fingers cover the upper part of the left arm. This indicates that the worshipper should place his right hand over the left, hold the left hand with the thumb, and clasp the fingers over the upper part of the left arm, thus acting upon all the different hadiths regarding the tying of the hands in prayer. (Hali, Rawatib).
ف(3): نماز میں ہاتھوں باندھنے کا طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتوں دانے ہاتھوں کی
ہٹنے کو با کی ہاتھوں کی یہی کی پشت پردہ ہے۔ (طحاوی)
نماز میں تجہیر تحریم کے بعد ہاتھوں کمال رکھ جائیں
علی بن وائل بن حجر رضی اللہ عنه اپنے والد وائل رضی اللہ عنه سے روایت
کرتے ہیں کہ والد رضی اللہ عنه نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز
میں سیدہ ہاتھوں کا سی ہاتھوں پر ناف کے پیچ رکے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی
ہے،) اور عمدہ الرعاية میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سندر جیسے اور اس کے تمام راوی ثقة ہیں، حافظ
قاسم بن قطلو بخا اور شیخ عبد سندری نے کچھ اس طرح کہا ہے اور علامہ ابو الطیب المدنی نے کہا ہے کہ یہ
حدیث سندر کے اعتبار سے قوی ہے۔
علی بن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ والد رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز
میں سیدہ ہاتھوں کا سی ہاتھوں پر ناف کے پیچ رکے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی
ہے،) اور عمدہ الرعاية میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سندر جیسے اور اس کے تمام راوی ثقة ہیں، حافظ
قاسم بن قطلو بخا اور شیخ عبد سندری نے کچھ اس طرح کہا ہے اور علامہ ابو الطیب المدنی نے کہا ہے کہ یہ
حدیث سندر کے اعتبار سے قوی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر نماز میں نافے کے
پیچاک باٹھوسرے باٹھ پر کہنا سنث ہے-
(اس کی روایت ابوداود، امام احمداور ابن الی شیبہ، دار قطی اورہیق نے کی ہے-)
نماز میں تکبیرتخریمہ کے بعد باٹھ کمال رکے جا تمیں، اس پرتیری حدیث
In prayer, after the final tashahhud, the sitting should be complete and firm. This is based on his hadith.
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کروہ نماز میں ناف کے پیچاپے
سیدہ باٹھ کوباکی باٹھ پر کہا کرتے تھے-(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے-)
in the prayer, they would say 'kuru-hu nama' when turning the nose from side to side.
ف: نماز میں تکبیرتخریمہ کے بعد ناف کے پیچا باٹھ کہنا حکم مردوں سے متعلق ہے، اس کے
برخلاف عورتوں تکبیرتخریمہ کے بعد اپنے دونوں باٹھ سینہ پر باندھ لیں -(سعائی)-
جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے- انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جس نماز میں قیام دراز ہووہ نماز زیادہ فضلیت رکشت ہے-
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کر نماز میں قیام کو طویل کرنا زیادہ رکعتوں کے پڑھنے
فضل ہے، جس ایک شخص رکعتین کم پڑھتا ہے مگر زیادہ قرآن پڑھ کر قیام کو طویل کر رہا ہوا یے شخص کی
نماز اس شخص کی نماز سے فضل ہے جو قیام میں قرآن کم پڑھتا ہے لیکن زیادہ رکعتیں ادا کرتا ہو، اس لئے
قیام میں قرآن پڑھنا جاتا ہے لیکن زیادہ رکعتوں کے رکوع اور سجود میں زیادہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں اور
ظاہر ہے کر قرآن کو تسبیحات پرفضلیت حاصل ہے-
طویل قیام کو رکعتوں کی کثرت پراس لے بھی فضیلت حاصل ہے کہ حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نماز تحد میں آئہ کرےات ادا فرماتے لیکن ان رکعتوں میں قرآن کی طویل ترین سورتیں ملاوت فرماکر
قیام کو طویل فرما کرتے تھے جس کی نہب میں طویل قیام کی فضیلت، یہ پرفتوی ہے-
واضح رہے کہ زیادہ رکعتوں کے پڑھنے پر طویل قیام کو جو فضیلت حاصل ہے، اس کا تعلق نوافل
ستہائے کے برخلاف فرض نمازوں کے قیام، رکوع اور سجدوں کے موافق ادا کرنے کی افضل ہے-
(ملتقی، کنز، مرقات-)
The prayer in which standing is prolonged is more virtuous.
عباس بن سهل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ یہ چار
صحابہ یعنی) ابومحید، ابو سید، سهل بن سعد اور محمد بن مسلما رضی اللہ عنہم ایک جگہ جمع ہوئے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا آپس میں تذکرہ کیا، ابومحید رضی اللہ عنہ نے فرما کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی نماز کا طریقہ میں تم میں سب سے بہتر جانتا ہوں (یہ کہ کر آپ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
رووع کرنے کو اس طرح بیان کیا کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں
باٹھوں اپنے دونوں گھٹنوں پراس طرح رکودیے گویا ان سے گھٹنوں کو پکڑ لے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو
کسی بھی کمان کی طاقت کی طرح بنا کر ان کو پہلو ول سے جدار کھا-
(اس کی روایت تزدی نے کی ہے-)
نماز میں رکوع کرنے کے مسنون طریقہ پر دوسرا حدیث
And from Abbas ibn Sahl, who said: Abu Humayd, Abu Usayd, Sahl ibn Sa’d, and Muhammad ibn Maslamah gathered and discussed the prayer of the Messenger of Allah ﷺ. Abu Humayd said: I will teach you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ bowed and placed his hands on his knees as if he was grasping them, and he stretched his hands, pulling them away from his sides. [Narrated by Al-Tirmidhi]
ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے فرما کہ (نماز میں رکوع کے وقت) سنت یہ ہے کہ گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیا
جائے-(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
And from Abu Abdur-Rahman As-Sulami, who said: Umar said, “The Sunnah is to grasp the knees.” [Narrated by Al-Nasa’i]
In a narration by At-Tabarani from Anas: The Prophet ﷺ said, “O my son, when you bow, place your palms on your knees, spread your fingers, and raise your hands away from your sides.”
اور طبرانی کی ایک روایت میں اس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بیٹا! جب تم رکوع کرو تو دونوں تھوڑیوں کو پینے گھٹونوں پر کھکر ہاتھوں
کی انگلیوں کو پچھلا دواوراپینے دونوں ہاتھوں کو پہلووں سے جدار کھو-
مورتوں کا حکم
ف: رکوع کرنے کا طریقہ مردون سے متعلق ہے اس کے برخلاف عورتیں رکوع میں دونوں
باٹھول کی انگلیاں ملا کر گھٹونوں پر کھکدیں اور دونوں بازو پہلووں سے خوب ملا لیں رحمین اور دونوں پیر کے
نیچے باکل ملادیں -(رواہتار،خطاوی-)
نماز میں رکوع کرنے کے مسنون طریقت پرتیری حدیث
And from Abu Abdur-Rahman As-Sulami, who said: Umar said, “The Sunnah is to grasp the knees.” [Narrated by Al-Nasa’i]
In a narration by At-Tabarani from Anas: The Prophet ﷺ said, “O my son, when you bow, place your palms on your knees, spread your fingers, and raise your hands away from your sides.”
وابصة بن معبدؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ جب آپ رکوع فرماتے تو اپنی پشت مبارک کواس قدر
سیدھی رکھتے کہ اگراس پر پانی والی دیاجاتا تو ٹھہر جاتا-
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے-)
نماز میں رکوع کرنے کے مسنون طریقت پر چوتھی حدیث
And from Wabisa ibn Ma’bad, who said: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying. When he bowed, he straightened his back so much that if water were poured on it, it would have stayed in place. [Narrated by Ibn Majah]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو سر مبارک کونہ اوپر اٹھاتے اور نہ پیچے جھکاتے بلکہ درمیانی
حالت میں (پیچ کے برابر رکھتے-)
(اس کی روایت ابن ماجہ،ترمذی،مسلم اور ابن حبان نے کی ہے-)
نماز میں قومہ، سجدہ اور جلسہ کا مسنون طریقت
And from Aisha, who said: When the Messenger of Allah ﷺ bowed, he neither raised his head too high nor lowered it too much, but kept it in between. [Narrated by Ibn Majah, Al-Tirmidhi, Muslim, and Ibn Hibban]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سراطیا کرتے تو فوراً سجدہ نمیں کرتے جب تک کراطمینان کے ساتھ
سیدؓ کے کرے نہیں ہوجاتے تو اور جب تیرہ کرتے اور تبدہ سے مر اٹھاتے تو فوراً دور راسیدہ نہیں
کرتے تیرہ جب تک کر (دونوں سجدول کے درمیان اطمینان سے) نہیں پیچھے جاتے -
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے -)
Narrated by Aisha, may Allah be pleased with her: "The Messenger of Allah, peace be upon him, would begin the prayer with the Takbir and recite Alhamdulillahi Rabbil-'Alamin (Surah Al-Fatihah). When he bowed, he would neither raise his head too high nor lower it too much, but kept it balanced. When he raised his head from bowing, he would not prostrate until he stood straight. When he raised his head from prostration, he would not prostrate again until he sat upright. He would say the Tashahhud after every two Rak'ahs. He would lay his left foot flat and raise his right foot. He forbade sitting like the devil and spreading one's arms like a beast. He would conclude the prayer with the Taslim." [Narrated by Muslim]
اور ابو داود نے ابو حمید رضی اللہ عنہ سے جو تویل حدیث مروی ہے (اس حدیث
میں قوم کے بعد تبدہ کرنے کا اس طرح ذکر ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قوم کے بعد) فوراً
زمین پر تیرہ میں گرجاتے اور (تبدہ کی حالت میں) اپنے دونوں بازوں کو دونوں پیلووں سے
علیکہ رکھتے اور اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو اس طرح موڑتے کہ انگلیوں کا رخ قبل کی طرف رہتا پھر
تبدہ سے مر اٹھاتے اور باقی پیر کو پچھا کراس پر پیچھے جاتے پھر آپ اطمینان کے ساتھ پیچھے جاتے
پہال تک کہ پر پڑتے اچھی طرح اپنی جگہ قرار پاجاتے پھر دوسرے تبدہ فرماتے -
would immediately sit on the ground in a crouching position, placing his arms on his knees and twisting his feet so that the toes faced forward, then he would rise from the tashahhud and place the remaining foot behind, then he would move backward with composure until he was well seated in his place, then he would perform another tashahhud.
اور ابو داود کی ایک دوسری روایت (جو ابو حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،
اس میں تبدہ کی کیفیت میں یہ بھی اضافہ ہے) کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم (تبدہ میں) تبدہ سے
فارغ ہونے تک اپنی رانوں کو کشادہ رکھتے اور شکم مبارک کے کسی حصے کو انول سے لگنے دیتے -
ف : تبدہ کا طریقت مردول سے متعلق ہے لیکن عورتیں جب تبدہ میں جائیں تو زمین پر پیلے گئیں
رکھیں پیروں کے برابر بات کر کہیں اور انگلیاں خوب ملاویں، پھر دونوں بازوں کے نچ میں پیشانی رکھیں
اور تبدہ کے وقت پیشانی اور ناک دونوں زمین پر گھڑی اور بات کر اور پاول کی انگلیاں قبل کی طرف رکھیں
گمر پاول کرتنے نہ کریں بلکہ وہی طرف کو پاول نکال دیں اور خوب سمط کر اور دب کر تبدہ کریں کہ پیٹ
دونوں رانوں سے اور باقی دونوں پیلووں سے ملاویں اور دونوں باقی زمین پر گھڑی ہیں -(درمتار)-
تبدہ میں پیچھے رکھنے کا مسنون طریقہ
in the manner of tashahhud, the Prophet ﷺ would keep his knees bent until he completed the tashahhud, and he would allow some part of his blessed abdomen to touch the ground with his big toes - this is the Sunnah way of placing them during tashahhud.
ف : تبدہ کا طریقت مردول سے متعلق ہے لیکن عورتیں جب تبدہ میں جائیں تو زمین پر پیلے گئیں
رکھیں پیروں کے برابر بات کر کہیں اور انگلیاں خوب ملاویں، پھر دونوں بازوں کے نچ میں پیشانی رکھیں
اور تبدہ کے وقت پیشانی اور ناک دونوں زمین پر گھڑی اور بات کر اور پاول کی انگلیاں قبل کی طرف رکھیں
گمر پاول کرتنے نہ کریں بلکہ وہی طرف کو پاول نکال دیں اور خوب سمط کر اور دب کر تبدہ کریں کہ پیٹ
دونوں رانوں سے اور باقی دونوں پیلووں سے ملاویں اور دونوں باقی زمین پر گھڑی ہیں -(درمتار)-
ابو سعاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں براع بن
عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں چھڑہ مبارک کہان
رکھے تھے؟ تو فرمایا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم (چھڑہ کو سجدہ کی حالت میں) اپنے دونوں ہتھیلوں کے
درمیان رکھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ترنزی اورطحاوي نے کی ہے اورمسلم، البوداووداورابن البقیشیہ نے جس طرح
روایت کی ہے۔)
سجدہ میں باٹھدر کہنا مسنون طریقہ
I asked Bara bin 'Azib (RA), 'Where did the Messenger of Allah ﷺ place the blessed staff during prostration?' He replied, 'The Messenger of Allah ﷺ would place it between his two hands during prostration.'
وائل بن بجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سجدہ فرما تے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں باٹھد ونوں کانول کے مقابل رکھتے تھے۔
(اس کی روايت طحاوي، عبد الرزاق اوراسحاق بن راهویہ نے کی ہے۔)
And from Wa’il ibn Hujr, who said: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, his hands were in line with his ears. [Narrated by At-Tahawi, Abdur-Razzaq, and Ishaq ibn Rahwayh]
In a narration by Al-Nasa’i: Then he said the Takbir and prostrated, and his hands were in line with his ears in the direction he was facing for prayer.
اورنسائی کی ایک روایت میں ہے کہ (قوم کے بعد) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے اللہ کبر فرما کر سجدہ کیا تو سجدہ میں آپ کے دونوں باٹھد ونوں کانول کے ایسے مقابل رکھ جسیا
کہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت آپ کے دونوں باٹھد ونوں کانول کے مقابل رکھتے تھے۔
سجدہ کے بعد قیام کے لئے جلسہ استراحت کے بغیر اٹھنا کا ثبوت
performed the Tashahhud and then prostrated, placing both his forearms on the ground in such a way that they were parallel to the ground, just as he would place them parallel to the ground at the beginning of the prayer when saying the Takbir Tahrima. After the prostration, he stood up for the next standing without resting.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز
میں (دوسرے سجدے کے بعد جب دوسری یاچوہی رکعت کے لئے اٹھتے تو زمین پر یا گھٹنول (جسیا
کہ شرح سفر السعادہ میں ذکور ہے12) پر باٹھدیلی بغیر اورجلسہ استراحت کے بغیر) اپنے چیرے کے
پچون کے بل اٹھتے تھے۔ (اس کی روایت ترنزی نے کی ہے اورکہا ہے کہ اس پر ابل علم کامل ہے۔)
(جلسہ استراحت پیہ کہ میلی رکعت کے دوسروے سجدے یا تیسری رکعت کے دوسروے سجدے
فارغ ہوئے کے بعد جب قیام کے لئے اٹھتے تو پھر دیری نہ کراؤنیس اورپیجلسہ استراحت حتی نہ ہے۔)
میں ثابت نہیں ہے - (عمدة الرعاية - )
ف: اس حدیث میں پیر کے پنول کے بل اٹھنا جوڑ کر ہو دوسروں سے بڑے کے بعد وسری
یا چوٹی رکعت کے قیام کے لے اٹھنے متعلق ہے اوراس میں اٹھت وقت ہاتھوں کوز میں یاز انو پر طکین
کی اورجلسہ استراحت کرنے کی ممانعت ہے اورہی نذہب حنفی ہے لیکن ضعیف العمری یا کسی اور عذر
کی وجہ ہاتھوں کوز میں یاز انو پر طکین کے بغیر اٹھنا ممکن نہ ہوتا جلسہ استراحت کے بغیر ہاتھوں کوز میں یا
ز انو پر طکی کر اٹھ سکتے ہیں - (رواہ کرار، تشرح سفر السعادت، عینی، فتح القدیر)
سجدہ کے بعد قیام کے لے جلسہ استراحت کے بغیر اٹھنے کے ثبوت پر دوسری حدیث
The Prophet ﷺ, when rising for the second or third rak'ah after the second prostration, would rise without placing his hands on the ground or resting to take a brief pause. (This is reported by Tirmidhi, who said that there is complete knowledge about this.) (The brief pause is not to be taken after the second prostration of the second or third rak'ah when rising to stand again.) It is not established - (Umdah al-Riayah - )
In this hadith, it is mentioned that rising from the second prostration of the second or third rak'ah involves rising without placing the hands on the ground or resting to take a brief pause. This is the view of the Hanafi school, but if one is weak or has some other excuse, they may rise with support from the ground or knees without taking a brief pause - (Rawa al-Karar, Tafsir Safar al-Sa'adat, Aini, Fath al-Qadir)
Another hadith provides evidence for rising without a brief pause after the prostration to stand.
عیاش بن سهل ساعدی رضی اللہ عنہ روایت ہے کروہ ایک ایسی مجلس میں
تھی جس میں ان کے والد جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی میں سے ہیں موجود تھے اوراس مجلس
میں ابو هریرہ، ابوا سیدا ورا بوحمید الساعدی اور دیگر انصار رضی اللہ عنہم کی موجود تھے اور یہ سب آپس میں
( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نماز کا تذکرہ کردہ ہے تھا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقت تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ میں نے بہت جنتوں کے ساتھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بخور دیکھا ہے، پیس کر صحابی نے کہا اچھا تمیں بتلا دیں تو! ابوحمید انہوں
کر نماز پڑھنے لگے اور سب دیکھنے لگے (ابوحمید نے) اس طرح نماز شروع کی کہ پہلے اللہ اکبر
" کہا اور فقط اس تکبیر اول کے وقت ہاتھوں اٹھائے پھر عیاش نے ہی طویل حدیث بیان کرتے ہوئے
( دوسروں سے بڑے کے قیام کے لے کہرے ہوئے کا ذکر اس طرح کیا کر ) ابوحمید رضی اللہ عنہ پہلی
رکعت کے دوسروں سے بڑے کے جب سراٹھائے تو جلسہ استراحت کے بغیر سپید ہی کہرے ہوئے
( اس کی روایت طحاوی نے کی ہے - )
سجدہ کے بعد قیام کے لے جلسہ استراحت کے بغیر اٹھنے کے ثبوت پر تیسری حدیث
And from Ayyash ibn Sahl As-Sa’idi, who was in a gathering with his father, a companion of the Messenger of Allah ﷺ, and in the gathering were Abu Huraira, Abu Usayd, Abu Humayd As-Sa’idi, and other Ansar. They discussed the prayer, and Abu Humayd said, “I will show you how the Messenger of Allah ﷺ prayed, as I followed him closely.” They said, “Show us.” So he stood to pray while they watched. He said the Takbir and raised his hands at the beginning of the Takbir, then mentioned a long hadith in which he described that when he raised his head from the second prostration of the first Rak’ah, he stood without sitting. [Narrated by At-Tahawi]
روایت کی گئی ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں ( دوسروں سے بڑے
کے بعد جب قیام کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنے پچول کے بل کھڑے ہوئے تو اور جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روايت ابن ابي شيبة اور ترمذي نے کی ہے۔)
in prayer, after standing up to resume standing (after bowing), they would stand straight without sitting for rest.
اور ابن ابي شيبة اور ترمذي کی دوسری روایت میں ابن عمر اور ابن زبير رضی اللہ عنہم تے اس طرح مرودی ہے۔ (کروہی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
سجدہ کے بعد قیام کے لیے جلسہ استراحت کے بغیر اٹھنے کے ثبوت پر چوتي حدیث شعبي رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر، حضرت علي، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دگر اصحاب رضی اللہ عنہم نماز میں (دوسری سجدے کے بعد قیام کے لیے اٹھتے) تو اپنے پچول کے بل اٹھتے تھے (اور جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
(اس کی روايت ابن ابي شيبة نے کی ہے۔)
Nu'man ibn Abi 'Ayyash reported: I met several companions of the Messenger of Allah (ﷺ), and when one of them raised his head from the second prostration in the first or third rak'ah, he would stand up as he was and would not sit. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Abdurrazzaq also narrated something similar from Ibn Mas'ud, Ibn Abbas, and Ibn Umar.
سجدہ کے بعد قیام کے لیے استراحت کے بغیر اٹھنے کے ثبوت پر اپنی حديث نعمان بن ابي عياش رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ (کازمانہ) پاپیہ اور (دیکھاتے کہ) ان میں سے ہر ایک جب پہلی رکعت اور تیسری رکعت کے بعد دو ثانیہ تے اپنے سر کو اٹھا کرتے تو جلسہ استراحت کے بغیر کھڑے ہو جا کرتے تھے۔
(اس کی روايت ابن ابي شيبة نے کی ہے۔)
Nu'man ibn Abi 'Ayyash reported: I met several companions of the Messenger of Allah (ﷺ), and when one of them raised his head from the second prostration in the first or third rak'ah, he would stand up as he was and would not sit. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Abdurrazzaq also narrated something similar from Ibn Mas'ud, Ibn Abbas, and Ibn Umar.
اور عبد الرزاق نے ابن مسعود، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا اس طرح روایت کی ہے، (کہ) اس بحضرات کہی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
سجدہ اور قعدہ اولی تے قیام کے لیے اٹھنے کا مسنون طریقہ
Nu'man ibn Abi 'Ayyash reported: I met several companions of the Messenger of Allah (ﷺ), and when one of them raised his head from the second prostration in the first or third rak'ah, he would stand up as he was and would not sit. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Abdurrazzaq also narrated something similar from Ibn Mas'ud, Ibn Abbas, and Ibn Umar.
ابن عمر رضی اللہ عنہما تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
The Messenger of Allah ﷺ
و سلم نے نمازی کو (دوسرے سبھے سے دوسری یا چوتھی رکعت کے لے یا قعدہ اولی سے تیسری رکعت کے لے اٹھت وقت) اپنے باہون سے (زیادہ نہ یا زانو پر) چکادینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابو داود نے کی ہے۔)
قعدہ میں یاد و نہ سجدول کے درمیانی جلسہ میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ
He disapproved of lifting the praying person by the arms (not more than or on the knees) when they rise from the second prostration to the third rak'ah, or from the first sitting to the third rak'ah. (This is reported by Abu Dawud.) The Sunnah way is to sit between the remembrance and the prostration in the sitting.
وَكَلَّمَ بْنُ حَجَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَوَايَتَهُ ، أَنْهُوَلَى كَمَا كَرَجَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمَازِ مِنْ بَيْنَ تَوَبَّتَ بَيْنَ پِرْکَوْ پِچَکَرَاسْ پَرْ بَیْتَ تَهَا وَرَسِيدَ هَ پِرْکَوْ کَطَرَاکَرَتَ
(اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور ترنذی نے کچھ اس طرح روایت کی ہے، اور ترنذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن تھی ہے اور اکثر ابل علم کا اس پر عمل ہے، سفیان ثوری اور امام ابن المبارک اور کوفہ والوں کا بھی یہی قول ہے، ترنذی کی عبارت یہاں ختم ہوتی ہے)
Our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) has narrated this, and Tarnadi has narrated it in a similar manner, saying that this hadith is hasan, and most of the people of knowledge act upon it. This is also the view of Sufyan Thawri, Imam Ibn al-Mubarak, and the people of Kufa. Tarnadi's statement ends here.
ف : قعدہ میں بیٹھنے کا طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتوں قعدہ میں یاد و نہ سجدول کے درمیان جلسہ میں با کم چوتھی رکعت پر بیٹھنے اور پچھوں دونوں پاول اور دہنی طرف نکال دیوی اور دونوں ہاتھوں ا پچی را نوں پر کہیں اور انگلیان خوب ملا کر رکھیں - (رد المختار - ) قعدہ میں یاد و نہ سجدول کے درمیانی جلسہ میں بیٹھنے کے مسنون طریقہ پر دوسری حدیث
عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَوَايَتَهُ ، جَوْعَبَ اللَّهِ بْنُ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَفَرْزَنْدَ بْنُ وَهَابَ وَالدَابِنُ عَمْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَوَايَتَ كَرْتَ هَيْنَ كَانَ كَوَالدَعْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَ كَہَا کَرَ نَمَازِ کِ سَنْوَلَ مِنْ تَ اَکَیْ سَنْتَ پَیْهَ کَمْ (جَبَ نَمَازِ مِنْ بَیْتَ) تَوْسِیْدَ حَاقْدَمْ کَطَرَا کَیَا جَا نَ اَوْرَاسْ کَ اَنْگِلِیَانْ قَبْلَ رَخَرَ هَیْنَ ، اَوْرَبا مِنْ پِرْ پَرْ بَیْتَ
(اس کی روایت نہائی نے کی ہے)
قدہ میں یاد و نول سجدول کے درمیانی جلسہ میں بیٹھنے کے مسنون طریقہ پر
Sitting in the middle between the recitation and the prostration of forgetfulness is done in the customary manner.
رفاع بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے فرما کہ جب تم (نماز میں) سجود تو (باپ پیر پچھا کر) اس پر بیٹھا کرو۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابوداود نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔) ف: زیل میں جو حدیثی آری، جس ان کے مطالعے پر پہلے ضروری ہے کہ چند امور کی وضاحت پیش نظر رہتا کر ان احادیث کا مفہوم بھی میں آ سکے۔
نماز کے قدہ اخیر میں تشهد کے بعد درود پڑھنے کے متعلق نہہب حتمی یہ کہ مطلقاً درود کا پڑھنا سنت موکد ہے، چنانچہ سعا میں کہنا ہے کہ "ان السنة المؤکدة هو مطلق الصلوۃ بعد التشهد لا خصوص بعض الفاظها والیہ يشير کلام عامۃ فقهائنا"۔
(التحیات کے بعد نماز میں درود تشریف پڑھنے کے بارے میں جو مختلف الفاظ آئے ہیں ان میں سے بلا قید الفاظ مطلقاً کسی ایک درود کا پڑھنا سنت موکد ہے اور عامۃ فقہاء کا قول یہی ہے۔)
شمس الامامہ مرغی رحمۃ اللہ نے مبسوط میں درود کے متعلق تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ثابت فراض نماز سے نہیں ہے، درود کے فرض نہ ہونے پر فقہاء حنفیہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پرسلام کیا، تم نے سیہ لیا بارشا فرمایے کہ نماز میں تم آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے ارشاد فرما یا س طرح پڑھو!
"اللہم صلّ علی محمد وَ علی آلِ مُحمَّد"۔ (اے اللہ درود نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر)) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو درود کے وقت سکھا یا جگہ آپ سے درود کے متعلق پوچھا گیا، اگر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہوتا تو آپ پوچھنے
سے پہلے ہی سکھا دیتے، نماز میں درود کے فرض نہ ہونے پر ایک دلیل پیچھے کر ایک اعرابی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فراٹ نماز سکھانے تو اس میں درود کا ذکر نہیں فرمایا ( یہاں مبسوط کی عبارت ختم ہوگی - )
علاء مرین رحمۃ اللہ علیہ نعمۃ القاری میں لکھا ہے کہ نماز میں تشهد اور درود کے بعد "السلام علیکم و رحمۃ اللہ" کہنا کر نماز ختم کرنے کے بارے میں دو (2) روايتیں آئی ہیں، ایک روایت پیچھے کے لفظ سلام سے نماز ختم کرنا واجب ہے اور دوسرا روایت پیچھے کر سنت ہے، علامہ عینی نے عطاء بن ابی رباح، سعید بن المسیب، ابراہیم نخی، قتادہ، امام ابو حنیفہ، امام البیوضف، امام محمد، ابن جریر طبری ان سب حضرات رحمۃ اللہ درضوان کا یمنتفق قول نقل کیا ہے کہ آخر نماز میں "السلام علیکم و رحمۃ اللہ" کہنا فرض نہیں ہے ایسے جبے آخر نمازی نماز کے آخر میں سلام کوڑ کر دے تو نماز باطل نہیں ہوگی - علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد اختار میں فتح کے حوالے سے سلام کے سنت ہونے پر دوسرا قول بھی نقل کیا ہے - ایک روایت پیچھے کے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے اور پیقول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے، نیز سعید بن المسیب، ابراہیم نخی، سفیان ثوری، امام اوزاعی رحمہ اللہ اسی کے تقل پیچھے کے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے، اس وجہ سے سلام کے بخیر نماز کو ختم کر دیا جاے تو بھی نماز درست ہوجائے گی، امام ابن قاسم رحمہ اللہ مرودی ہے کہ جب امام آخر نماز میں سلام سے پہلے قصد اور ضوع توڑ دے تو بھی اس کی نماز درست ہوگی - لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے کہ نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشهد سکھانے تو ارشاد فرمایا کہ جب تم ( قعدہ اخری میں ) تشهد پڑھو تو تمہاری نماز پوری ہوگی، اس کے بعد اگر تم چاہو تو انگ جاویا چاہو تو بیٹھ کر ہو سلام سے پہلے اس حدیث میں نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قعدہ اخری میں تشهد پڑھنے کے بعد بیٹھ کر پڑھنے یا تکہ جانے میں اختیار دے دینے سے بیبات بصراحت معلوم ہوتی سے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا نہ تو فرض ہے نہ واجب، البتر فقہا ء حفیظ رحمہ اللہ نے بالعموم آخر میں لفظ سلام کہنے کو جواب قر ار دیا ہے وہ اختیاط کی بناء پر ہے کیوں کہ نہی صلی اللہ علیہ وسلم بیشتر لفظ سلام سے
نماز ختم فرما کر تے تھے ورنے حقیقت میں لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر حدیث اعرابی سے
استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کو نماز سکھانی تو لفظ سلام کا ذکر نہیں فرما اگر لفظ
"سلام" واجب یا فرض ہوتا کراس کے بغیر نماز کا ختم کرنا درست نہ ہوتا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لفظ
سلام کا ذکر فرماتے۔
السعاية میں مولا ناعبدالقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازی قعدہ اخیر میں تشهد اور درود کے بعد
السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہ کر نماز ختم کرے اور بیعت ہے۔ (یہ مضمون عینی شرح بدایہ، العلاہی، فتح القدیر
اور منہج الصالحین سے ماخوذ ہے۔)
(3) عمد آپنے کسی فعل سے نماز ختم کرنے کی بجث
(یعنی اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا) فراض نماز میں ایک فرض یہ ہے کہ نمازی عمدآگسی
ایسے فعل سے جو منافی نماز ہو، اپنی نماز کو ختم کرے۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے "رواحطار" میں "بحر" کے حوالے سے کہا ہے کہ نمازی کے لے یہ
فرض ہے کہ جب نماز پوری ہوجائے تو وہ نماز سے باہر ہونے کے لے اپنے اختیار سے ایسی حرکت
کرے جو نماز کے منافی ہو، تا تارخانی یعنے اس کی صراحہ اس طرح کی ہے کہ نماز پوری ہونے پر قطعہ
مار کر فس دے یا قصد او ضو ء توڑ دے، یا بات کرے، یا انہ کر چلا جائے یا سلام کرے، نمازی عمدآپنے
کسی فعل سے نماز کے منافی حرکت کرتے تو اس سے نماز تو پوری ہوجائے ہے لیکن اگر سلام کے ذرائع نماز
ختم کر لے تو بیک وقت فرض اور سنت دونوں ادا ہوجاتے ہیں۔
نماز میں تشهد واجب ہونے کا ثبوت
When you prostrate in prayer, sit on your heels.
Before delving into the following hadith, it is essential to clarify certain points so that the meaning of these hadiths can be properly understood.
Regarding the recitation of Darood after Tashahhud in the last rakah of prayer, the final and conclusive position is that reciting Darood is a confirmed Sunnah without any specific words being required. It is stated in Sa'ah: 'The confirmed Sunnah is to recite Darood after Tashahhud in its entirety, not just some specific words, and this is the view of our jurists.'
Shams al-Imamah Marghinani (RA) elaborates in Mabsut that there is no established obligation to recite Darood in prayer. The Hanafi jurists have used the hadith of Ka'b ibn Ujrah (RA) as evidence. Ka'b ibn Ujrah (RA) asked the Messenger of Allah (SAW): 'How should we send blessings upon you in prayer?' The Prophet (SAW) replied: 'Recite it like this: “O Allah, send blessings upon Muhammad and the family of Muhammad.”' This indicates that the Prophet (SAW) taught the Companions (RA) how to recite Darood or answered their questions about it. If reciting Darood in prayer were obligatory, he would have taught it before they asked.
Ala Marini (RA) writes in Nemat al-Qari that regarding the completion of prayer after Tashahhud and Darood, two narrations exist: one states that it is obligatory to conclude the prayer with the phrase 'As-salamu alaykum wa rahmatullah,' while the other states that it is a Sunnah. Imam Aini has reported the unanimous view of Ata ibn Abi Rabah, Sa'id ibn Musayyib, Ibrahim Nakhai, Qatadah, Imam Abu Hanifah, Imam al-Bayhaqi, Imam Muhammad, and Ibn Jarir al-Tabari (RA) that saying 'As-salamu alaykum wa rahmatullah' at the end of the prayer is not obligatory. Therefore, if someone concludes the prayer without saying this phrase, the prayer remains valid. Imam Shami (RA) also mentions in Radd al-Muhtar, referring to Fath, that the second view is that concluding the prayer with the phrase 'As-salamu alaykum wa rahmatullah' is a Sunnah, based on the narration from Ali (RA), Sa'id ibn Musayyib, Ibrahim Nakhai, Sufyan Thawri, and Imam Awza'i (RA). According to this view, if someone concludes the prayer without saying this phrase, the prayer remains valid. Imam Ibn Qasim (RA) narrates that if the imam breaks his intention and posture before saying the final salam, his prayer is still valid.
From the narration of Ibn Mas'ud (RA), it is clear that when the Prophet (SAW) taught him how to recite Tashahhud, he said, 'When you recite Tashahhud, your prayer is complete. After that, you may stand or sit before saying the final salam.' This indicates that concluding the prayer with the phrase 'As-salamu alaykum wa rahmatullah' is neither obligatory nor wajib. Generally, the jurists have considered it a precautionary measure because the Prophet (SAW) usually concluded his prayers with this phrase, but in reality, it is a Sunnah.
Imam Abu Hanifah (RA) uses the hadith of the Arab as evidence for the Sunnah of concluding the prayer with the phrase 'As-salamu alaykum wa rahmatullah.' When the Prophet (SAW) taught the Arab how to pray, he did not mention the phrase 'salam.' If saying 'salam' were obligatory or wajib, the Prophet (SAW) would have certainly mentioned it.
In Al-Sa'ah, Mulla Abdul Qadir (RA) states that the person in prayer should conclude the prayer by saying 'As-salamu alaykum wa rahmatullah' after reciting Tashahhud and Darood in the last rakah, and this is a binding practice. (This topic is derived from Ein al-Sharh Badai, Al-Lahiy, Fath al-Qadir, and Minhaj al-Salihin.)
(3) Intentionally ending the prayer through one's own action:
This means that if a person intentionally performs an act that invalidates the prayer, the prayer is considered completed. Imam Shami (RA) states in Radd al-Muhtar, referring to Bahr, that it is obligatory for the person in prayer to perform an act that invalidates the prayer once the prayer is complete. This means that after the prayer is complete, the person should intentionally perform an act that invalidates the prayer, such as breaking the posture, changing the intention, speaking, moving away, or saying the salam. If the person intentionally performs an act that invalidates the prayer, the prayer is considered complete, but if they conclude the prayer with the salam, both the obligation and the Sunnah are fulfilled simultaneously.
Evidence for the obligation of Tashahhud in prayer:
قاسم بن مہیر ةرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر علیمرضی اللہ عنہ
ن میراہتمہ پکڑ کر مجھے سے یہ حدیث بیان کی کر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کا (یعنی علیمرضی اللہ
عنہ کا) باٹھ پکڑ کر وہ التیات سکھانی جونماز میں پڑھی جائے ہے (راوی نے کہا کر ) ابن مسعود رضی اللہ
عند نامش کی روایت کی ہوئی حدیث میں جو التحیات ہے اس کو بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم بالتحیات پر ہے جویا (راوی کوشک ہے) یفرما یا کہ بالتحیات ختم کرچکو تو تم نے اپنی نماز پوری کر لی اس لے کر (فرائض اور واجبات) سب ادا ہو چکے ہیں، اب تخمیں اختیار ہے چاہو تو انجھ جاو (کیون کہ درود وسلام جو باقی رہ گیا وہ سنہ ہیں) اور چاہو تو بھیج رہو (اور درود پڑھنے کے بعد سلام کہ کر نماز ختم کر لو)۔ (اس کی روایت ابوداود اور طحاوی نے کی ہے اور امام احمد اور دار قطنی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
قدہ آخری میں اپنے فعل سے نمازے نفلنا فرض ہو نے کا ثبوت
Al-Qasim ibn Mukhaymirah reported: Alqamah took my hand and narrated to me that Abdullah ibn Mas'ud took his hand, and the Messenger of Allah (ﷺ) took Abdullah's hand and taught him the Tashahhud in prayer. He mentioned something similar to the supplication in the hadith of Al-A'mash: "When you say this or complete this, you have completed your prayer. If you wish to stand, then stand, and if you wish to sit, then sit." [Narrated by Abu Dawud and At-Tahawi and Ahmad and Al-Daraqutni also narrated something similar]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نمازی آخر نماز میں (سجدہ سے مر اٹھا لے اور قدہ آخری میں) الصلوات پڑھنے کے بعد (عمرا) حدث کر دے تو اس کی نماز پوری ہو گئی (کیون کہ اس نے عمرا حدث کر کے اپنے فعل سے نماز ختم کر نے کے فرض کو ادا کر دیا ہے اس لے کہ اب وہ) اپنی نماز کا عادہ نہ کرے (اس وجہ سے کہ اس کے ذمہ اب کوئی فرض یا واجب باقی نہیں رہا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
When a person completes his prayer by saying the tasliam (peace greetings) at the end, his prayer is completed (because he has fulfilled the obligation of ending the prayer through his action). Therefore, he should not repeat the tasliam (since there is no remaining obligation or requirement). This narration is reported by Tirmidhi.
اور ابوداود، ترمذی، دار قطنی اور نہجقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔
اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بطور مر فوع اور مو قوف روايت کی ہے) اور ابوداود نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداود کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کر تے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا ضعیف ہوتی ہے، اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ تی حدیث میں نے جامع تے لیعنی ترمذی میں بیان کی پی سرف چار حدیثوں کے سواباقی سب حدیثیں جدت اور دلیل میں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں ہے۔ (یہ سعادت میں ذکور ہے۔)
ف: البوداود، تنزہی، طحاوی وغیرہ میں کی اس حدیث سے واضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ
نمازی قعدہ اخیر میں تشهد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمدہ حدیث کر کے نماز کو ختم کر دے تو نماز پوری
ہوجائے۔ جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے -
بعض لوگوں نے اس مسئلے کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر بیانات آمیز
اعتراض کیا ہے کہ ان کے نہیب میں نماز عمدہ حدیث کر نے سے کچھ پوری ہوجائے ہے -
واقعیت ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی ان مستندین
احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں البوداود،
تنزہی، تہقیق، دار قطنی اور طحاوی وغیرہ میں مردوی جیل اس صورت میں امام اعظم رحمۃ اللہ پر ایسا اعتراض
کرنا در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے - (یہ مضمون ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے
رسالہ سے ماخوذ ہے جس کو عرب الرعاية نے نقل کیا ہے -)
نماز میں تشهد واجب ہونے کا ثبوت
Abdullah ibn Umar reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When a person praying raises his head at the end of his prayer and completes the Tashahhud, then if he breaks his ablution, his prayer is complete, and he should not repeat it." [Narrated by At-Tahawi while Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi also narrated something similar from Ibn Umar and Ali, both Marfu' and Mawquf]
Abu Dawud remained silent about this hadith, and when he remained silent about a hadith, it was considered Hasan or Sahih according to him. Al-Tirmidhi said, "Everything I have mentioned in my book is evidence except for four hadiths," and this hadith is not among them, as mentioned in As-Sa'ayah.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تشهد پر نماز ختم
ہوتی ہے (اس لے کر اب فرايض اور واجبات باقی نہیں رہے۔ اب رہاپے فعل سے باہر آنا تو پر ایسا
فرض ہے جو نماز کا جزء (یعنی کے جین السطور میں ذکور ہے۔ 12) نہیں ہے) اور سلام پچیرنا (ایسی
سنہ ہے جس سے) نماز کے ختم ہونے کی اطلاع ہوتی ہے -
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے -)
نماز کے ختم پر سلام پچیرنے کا بیان
Abdullah reported: The Tashahhud is the conclusion of the prayer, and the Taslim is the permission for its conclusion. [Narrated by At-Tahawi]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سیدی جانب السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہے کر سلام اس طرح پچیرتے کہ حضور علیہ السلام کے سیدی
رخصار مبارک کی سفیدی نظرآ جانی تھی اور باقی جانب کچھ السلام علیکم و رحمۃ اللہ فراما کراس طرح سلام
پچیرتے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے باقی رخصار مبارک کی سفیدی نظرآ جانی تھی -
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداوداورترمزی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
نماز کم سے کم دور کے تہو نے کا ثبوت اور خشوع و خضوع کے ساتح نماز پڑھنے کا بیان
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی
Abdullah reported: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Taslim to his right, "As-salamu alaykum wa rahmatullah," until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left, "As-salamu alaykum wa rahmatullah," until the whiteness of his left cheek could be seen. [Narrated by Al-Nasa’i while Abu Dawud and Al-Tirmidhi also narrated something similar]
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز (کم سے کم) دور کے تہ (اس سے کم ایک رکعت ہوتی وہ نماز نہیں رائے
کہ لائی ہے جونا جائز ہے) ہر دور کے ت کے اخر میں تشهد پڑھنا چاہیے (اور تمام نماز میں اپنے ظاہر
تے) نہایت عاجزی کا ظہار کرے اور نہایت زلت و ندامت سے آگہی میں پچی کے رہ اور عاجزانہ
صورت بنائے (اور باطن میں بھی) نہایت سکون واطمینان سے رہ اور اپنی ذات کا ظہار کرے
رہ پچر (نماز کے بعد) دونوں باطحول کو اپنے پروردگار کے سامنے (اس طرح) انہا کے تحفیظیال
اپنے منہ کی طرف ہون اور نہایت عاجزی کے ساتھ یارب یارب کہتے ہوئے اپنی حاجت عرض
کرے اگر نماز میں کوئی ایمان کرے جسیا کر اور پر کہا گیا ہے۔
(اس کی روایت ترمزی نے کی ہے۔)
Al-Fadl ibn Abbas reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said"Prayer is performed in sets of two rak'ahs. You perform the Tashahhud in every two rak'ahs, showing humility, supplication, and submission. Then you raise your hands, meaning you lift them towards your Lord, with their palms facing your face, and say, 'O Lord, O Lord.' Whoever does not do this, his prayer is such and such." In another narration, it says"His prayer is deficient." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Ali Al-Qari said: The apparent meaning of the hadith is that the minimum of prayer is two rak'ahs, and it indicates the prohibition of Al-Butayra', as is our school's opinion.
ترمزی کی ایک اور روایت میں ہے: اس کی نماز توہوجاتی ہے گرنقص رہ جاتی ہے
In another narration from Tirmidhi, it is stated: 'His prayer is rendered invalid if there is a deficiency.'