یہ باب اس شے کے بیان میں بے جو تکبیر تحریم کے بعد پڑھی جائے ہے
وقول الله عز و جل وسبح بحمد ربك حين تقوم الل تعالي
کا ارشاد ہے (سورۃ طور، پ: 27، ع: 2، آیت نمبر: 48، میں) جب قیام کرو تو اپنے رب کی حمد کے
سا تھے پا کی بیان کرو۔
نماز میں تکبیر تحریم کے بعد ثناء پڑھنے کا ثبوت
The guidance is (in Surah Al-Tur, Vol. 27, Part 2, Verse number: 48) that when you stand up, recite the praise of your Lord. This is evidence for reciting the glorification after the Takbir-e-Tehrim in prayer.
ابو وا ئل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
جب نماز شروع کرتے تو پہلے پڑھتے تھے (اور تعلیم کے لیے) اتم کوسنا تے:
"سُبْحَانَکَ اللہُمَّ وَبَحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلا الہ
غَیْرُکَ"۔ (اے اللہ! تم آپ کی تعریف کرتے ہو تو تمام عیب وں سے آپ کی پاکی بیان کرتے
ہیں، آپ کا نام بڑا برکت والا ہے آپ بہت عالیشان ہیں آپ کے سوا کوئی معبد لا ق عبادت
نہیں)۔
(اس کی روایت دار طی نے کی ہے۔)
Abu Wa'il reported: When Uthman would begin the prayer, (1) he would say,
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
(Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You). He would say this loudly so that we could hear him. [Narrated by Al-Daraqutni while Muslim also narrated something similar from Umar]
(1) The three Imams (Abu Hanifah, Malik, and Ahmad) agreed that the opening supplication (dua al-istiftah) in prayer is Sunnah. However, Malik said it is not Sunnah; rather, one should begin with the Takbir and start reciting (Quran). The wording preferred by Abu Hanifah and Ahmad is: "Subhanaka Allahumma wa bihamdika..." The wording preferred by Ash-Shafi'i is: "Wajjahtu wajhiya lilladhi fataras-samawati wal-ard..." (I have turned my face toward He who created the heavens and the earth...). Abu Yusuf said it is preferable to combine both, as mentioned in Rahmat al-Ummah and Sharh an-Nuqayah.
اور مسلم نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے۔
نماز میں تکبیر تحریم کے بعد ثناء پڑھنے کے ثبوت پر دوسری حدیث
After the takbir tahrima in the prayer, there is evidence for reciting the praise [of Allah].
ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے چند لوگ حضرت عمر بن
الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حضرات آپ کی خدمت میں صرف ایک
حاضر ہوئے تو کہ تکبیر تحریم کے بعد شروع نماز میں ثناء کے متعلق دریافت کریں (کہ کن الفاظ میں
پر حضی جاے ) ابراہیم نے رضی اللہ عنہ نے فرمایا (یعنی کر ) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہرے ہوئے
اور نماز ثرو ع فرمایا اور یہ سب لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر کے آپ کے پیچھے کطرے
ہوگے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (تعلیم کے لیے) جهرت "سُبْحَانَكَ اللّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ
وتبارک اسمک وتعالی جدک ولا اله غیرک " پڑھ کر (بتلا کر ثناء میں یرالفاظ سنت
پین)-
(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے اور دار قطنی نے بھی اس طرح روایت کی ہے اور
امام محمد نے کہا ہے کہ نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے ابی ذکور الفاظ کے پڑھنے کو (اختیار کے
پین) لیکن امام اور مقتدی دونوں کو چاہیے کہ وہ ثناء کے ان الفاظ کو جهرت سے نہ پڑھیں، اب رباحضرت
عمر رضی اللہ عنہ کا اس وقت ثناء کے ان الفاظ کو جهرت سے پڑھنا محض سوال کرنے والوں کی تعلیم کی غرض
ستھا، امام ابن الحمام نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم
کے عمل سے پیثابت ہوگیا کہ یہ سب حضرات تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کو ثناء کے ابی الفاظ سے ثرو ع
کرتے تھا اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام کا لوگوں کی تعلیم کے لیے "سُبْحَانَكَ اللّهُمَّ" تا آخزو
جہر کے ساتھ پڑھنا کہ لوگ اس ثناء کو اختیار کریں اور اس سے منوس ہول، اس بات کی دلیل ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ثناء کے ابی ذکور الفاظ کو پڑھنا تھا-
نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنے کے ثبوت پر تیسری حدیث
Ibrahim reported: Some people from Basra came to Umar ibn Al-Khattab to ask him about how to begin the prayer. Umar stood up, began the prayer, and they stood behind him. He then recited loudly:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
(Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You).
[Narrated by Muhammad in Al-Athar while Al-Daraqutni also narrated something similar]
Muhammad said: We follow this in beginning the prayer, but we do not consider it necessary for the Imam or those behind him to recite it loudly. Umar only did so to teach them what they had asked about. Shaykh Ibn Al-Humam said: Since it is established that the Companions, such as Umar and others, began the prayer with "Subhanaka Allahumma" and recited it loudly to teach people so they could follow and learn, this indicates that this was the final practice.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
جب نماز ثرو ع کرتے تو اللہ اکبر فماتے، پھر دونوں ہاتھوں کواس قدر بلند کرتے کر دونوں انگوٹھے
دونوں کانوں کے مقابلہ وجاتے تھے اس کے بعد (باتہ باندھ کر) ثناء پڑھتے "سُبْحَانَكَ
اللّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ وتبارک اسمک وتعالی جدک ولا اله غیرک".
(اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں)-
نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنے کے ثبوت پر چوٹی حدیث
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو پڑھائے پرتے "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ وَتَبارَکَ اسْمُكَ وَتَعالی جَدُّكَ وَلا إله غَیرُكَ۔"
(اس کی روایت تنہی اور ابوداود نے کی ہے) اور ابوداود کی سنہ حسن ہے اور اس کے راوی ثقة ہیں -
Aisha reported: When the Messenger of Allah (ﷺ) began the prayer, he would say:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
(Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You). [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud]
The chain of Abu Dawud is Hasan, and its narrators are reliable. Ibn Majah also narrated it from Abu Sa'id. Al-Tirmidhi said: This hadith is only known through Harithah, and there has been criticism regarding his memory. At-Tawrishti said: This hadith is Hasan and well-known. It was followed by caliphs like Umar. The hadith is recorded in Muslim's collection from Umar. It was also followed by Abdullah ibn Mas'ud and other scholars among the Companions, as well as many scholars among the Tabi'in. Abu Hanifah and others also preferred it. How can this hadith be considered weak when it has been accepted by leading scholars of hadith, such as Sufyan Ath-Thawri, Ahmad ibn Hanbal, and Ishaq ibn Rahwayh? Al-Tirmidhi's criticism was only regarding the specific chain he mentioned, not the hadith in general. This hadith has been narrated by prominent scholars of hadith and is found in Abu Dawud's collection with a Hasan chain, and its narrators are reliable. Thus, it is clear that Al-Tirmidhi's criticism was limited to the specific chain he mentioned, as mentioned in Al-Mirqah.
اور ابن ماجہ نے جبی ابوعیید رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے اس ثناء کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ علماء حدیث میں سفیان ثوری احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے جبی اختیار کیا ہے۔
احادیث میں ثناء کی جگہ جواو رالفاظ آئے ہیں ان پر عمل ابتداء اسلام میں تھا بعده میں نہ رہا
In the hadith, various phrases have been used in place of praise, and acting upon them was prevalent at the beginning of Islam, but it did not continue afterwards.
انس رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ کسی شخص جماعت میں اس حالت میں شریک ہوا کراس کی سانس پھولی ہوتی تھی اس نے ایسی حالت میں اللہ اکبر کہہ کر (باتہ باندھا اور پیچھا پڑھی -) "الْحَمدُ لِلَّهِ حَمْداً كَثِيراً طَيّباً مُبارَكًا فِیهِ" سب تعریف اللہ کے لے ہے ایسی تعریف جوثرت سے کی جاتے جوریا اور دکھاونے سے پاک ہواور جس تعریف میں برکت ہو۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر دی تو ارشاد فرمایا کہ ان الفاظ کا کہنے والا کون تھا؟ سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ الفاظ کس نے کہے تھے؟ (اس پر جیسے) سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے پرالفاظ کہے ہیں تو اس نے کوئی بدی بات نہیں کی ہے (اس پر) ایک شخص نے (جوثری کی جماعت ہوا تھا) کہا میں اس حالت میں شریک ہوا کہ میری سانس پھولی ہوتی تھی اور میں پکلمات کہہ گزراؤ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتہ ان کلمات کو اوپر لجا نے کیے ایک دوم سے پرسبقت
کر رہے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) بحر افق میں لمحات کے ثناء میں "سُبْحَانَكَ
اللّٰهُمَّ" تا آخری جائے "الْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْداً كَثِيراً طَيِّباً مُبارَكاً فِیهِ" پراوراس قشم کے
دوسرے الفاظ کا فراض میں پڑھنا ابتداء اسلام میں تھا اوراس کی ویل جسیا کر او پرگزد رچکابے،حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کا عمل سے کہ جب آپ نے نماز پڑھی تو ثناء میں تعليماً "سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ" تا آخر کو
جہرتے پڑھتا تا کہ لوگ ثناء کے بارے میں آپ کی اتباع کریں اوراس کو سیکھ لیں، پس حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کا عمل اس باٹ کی ویل سے کر فراض میں ثناء کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل
بھی تھا، اس لے نماز میں پڑثناء "سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ" تا آخر پڑھی جائے۔
احادیث میں ثناء کے جاے جااورالفاظآئے جین ان پرمل ابتداء اسلام میں تھا
بعد میں نذر باس پر دورسری حدیث
Anas reported: A man entered the prayer row while out of breath and said:
اللَّهُ أَكْبَرُ، الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ
(Allah is the Greatest. Praise be to Allah, abundant, pure, and blessed praise). When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the prayer, he asked, "Who said these words?" The people remained silent. He asked again, "Who said these words? There is no harm in them." A man said, "I came while out of breath and said them." The Prophet (ﷺ) said, "I saw twelve angels rushing to see who would take them up." [Narrated by Muslim]
In Al-Bahr Ar-Ra'iq, it is mentioned that this occurred in the early days of Islam. It is also indicated by the fact that Umar recited the opening supplication loudly to teach people, showing that this was the final practice in obligatory prayers.
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنتہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجبیر تجریم کے بعد قرآن تشرود عفرمانے سے پائل پچھڑ پرخا موش رباکرتے تھے، میں نے عرض کیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مال بابآپ پر قربان ہول، حضرت تجبیر اورقرآن کے درمیان
خاموش رہنے کے وقت کیا پڑھتے ہیں، فرمایا یادعا پڑہتا ہول:
"اللّٰهُمَّ بَاعْدُ بَینِى وَبَینَ خَطاياىَ کَما بَاْعَدْتَ بَینَ الْمَشرقِ وَالْمَغربِ۔ اللّٰهُمَّ
نَقِّنِى مِنَ الخَطايا کَما يُنقَى الثَّوبُ الأَبْيضُ مِنَ الدَّنسِ۔ اللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطاياىَ بِالمَآءِ
والثَّلجِ وَالْبرَدِ"۔
اہی! میرے اور میرے گناہول کے درمیان اتنی دوری کردے جتنی مشرق اورمغرب کے
درمیان تو نے دوری کروی ہے، اہی! مجھے گناہول سے ایسا پاک وصاف کردے جس طرح سفید کپڑا
میل چیل سے پاک وصاف کروا جاتا ہے۔ اہی! میرے گناہول کو پاکی، برفاوراو لے سے دھو
ذال۔(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پرکی ہے۔)
ف: واضح ہے کہ ثناء میں "سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ" تا آخر کی جائے۔ پر اور اس فتنہ کی جودعا کیس
منقول ہیں وہ ابتدا ے اسلام میں تکبیر تحریم کے بعد پڑھی جاتی تھیں اس کو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ
مرقات میں شرح منیہ کے حوالے سے لکھا ہے-
نقل نماز ول میں پڑھی جانے والی دعا کیس
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (ﷺ) would pause briefly between the Takbir and the recitation. I asked, "O Messenger of Allah, what do you say during that pause?" He said, "I say: 'Allahumma ba'id bayni wa bayna khatayaya kama ba'adta bayna al-mashriqi wa al-maghrib. Allahumma naqqini min al-khataya kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas. Allahumma ighsil khatayaya bi al-ma'i wa ath-thalji wa al-barad'" (O Allah, distance me from my sins as You have distanced the east from the west. O Allah, purify me from my sins as a white garment is purified from filth. O Allah, wash away my sins with water, snow, and hail). This is agreed upon (Bukhari and Muslim]
"اللّهُمَّ لَكَ رَغْبَتُ ، وَ بَكَ اَمْتُ ، وَ لَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِى وَ بَصَرِى وَ مُخِى وَ عَظْمِى وَ عَصَبِى .
ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کے راضی ہوں کے لئے رکوع کیا ہوں اور آپ سے پرایمان لا یا ہوں میں آپ سے کا فرمابرادار ہوں اور اپنے سب کام آپ سے کوسونپتا ہوں میری سماعت، میری بصارت، میری بلدی کا گلد، میری بدیال اور میرے پٹھ پیسا آپ کے سامنے عاجزی کی جگہ ہوں یہ۔"
"اللّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ، وَ مِلْءَ مَا شِئتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ".
"اللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُ ، وَبِکَ آمَنتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِی لِلذِی خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ".
"اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَٰہَ إِلَّا أَنْتَ".
-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
جب نماز شروع فرما تے تو تکبیر تحریم کے بعد (قیام میں) یادعا پڑھتے:
ترجمہ:- میں نے ایک بیٹا ہوکرا پنارخ آس ذات پاک کی طرف کر لیا جس نے آسانول اور
زمین کو بنایا اور مشترکون میں سے نہیں ہول-
ترجمہ: میری نماز اور میری تمام عبادات، میراجینا اور میرا مرناسب اللہ کے لئے جوسارتے
جہال کا پروردگار ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھ کو اسیا ئی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے
فرمانبردار ول میں سے ہول-
اللہُمَّ أَنتَ الْمَلِكُ، لا إله إلا أنت، أنتَ رَبِّي وَأَنا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِى
وَاعْتَرَفْتُ بِذَنبِى، فاغْفِرْ لِى ذُنوْبِى جَمِيعًا؛ إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنتَ . وَاهْدِنِى
لِأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِى لأَحْسَنِهَا إِلا أَنتَ، وَاصْرِفْ عَنِّى سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّى
سَيِّئَهَا إِلا أَنتَ . لَبِّكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِى يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ،
أَنا بَكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
(و الشر لیس الیک کے بعد امام شافع رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اور الفاظ کچھ مرتبہ جوآگے ملاحظ کیا جاسکتا ہے۔)
اللہ! آپ مجھے شہنشاہ بن، بجز آپ کے کوئی معبد برحق نہیں ہے، آپ ہی میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں میں نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر لم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے تمام گناہوں کو معاف کردیجئے، یقیناً آپ کے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں ہے اور مجھے اتنے اخلاق کی بدایت تجبہ آپ کے سوا اتنے اخلاق کی کوئی بدایت کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق سے مجھے پچادے رکہ آپ کے سوابرے اخلاق سے مجھے کوئی پچانے والا نہیں ہے، خدا ای! آپ کی خدمت میں آپ کا حکم جلالائے کے لئے حاضر ہوں! ساری جہاںیال آپ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور براہموں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جاسکتی میرا جودآپ سے ہےاور آپ کی طرف مجھے والپس بونہ آپ برطی برکت وا لے ہیں اور آپ عالمیشان ہیں میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور آپ کے سامنے تمام گناہوں سے توپہ کرتا ہوں۔)
اور جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فراماتے توپیدعا پڑتے:
ترجمہ: (اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! آپ،ی کے لے حمدہ اس قدر رحم جوسارے آسان بھرکر تواورز مین بحرکر تواورز مین وآسامان کے درمیان جوپچھے وہ بحرکر تو، اوران کے سوا آپ جوپچھے پیدا کرنے چاہئیں وہ سب بحرکر تو)- اورجب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فرماتے توپیردعاے پڑتے:
ترجمہ: اے اللہ! میں آپ،ی کے لے آپ،ی کے آگے اپنی زلت او رعاجزی کے طاہرکرنے کے لے سجدہ کیا ہول اورآپ،ی پر میں ایمان لا یہول، میں آپ،ی کا فرمآل بردار ہول اوراپنے سبق کام آپ،ی کوسونپ رباہول میں اپناسرز مین پراس ذات مبارک کے سامت رکھر باہول۔ جس نے اس کوپیدا کیا اوراس کوپچھی صورت دی اوراس کے لے کان سنوا لے دیتاورآ انکہ دیکھنے والے دیتے، اے اللہ! آپ برطی برکت وا لے میں جوسب طاہری بنانے والولے سے بہتر حقیقی طور پر بنانے والے میں - پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آخر میں التحیات اورسلام کے درمیان یادعاے پڑتے تھے:
اے اللہ! معاف کردتے میرے اگلے پچھے گناہول کو اور ان گناہول کو جن کو میں نے پچھپ کر کے اوران گناہول کو جی جن کو میں نے علانیہ کے اوران گناہول کو جی جن کو میں نے حد اعتدال سے گذر کر کیا ہے اور میرے ان گناہول کو جی معاف کیے جن کو آپ مجھے زیادہ جانتے ہیں آپ بغضول کوعزت دے کر آگے برداعتے ہیں اور بغضول کوزلت دے کر پچھے ذالت ہیں آپ کے سوا
کوئی معبد برحق نہیں ہے۔ (اس کی روایت مسلم بن کی ہے)
اس حدیث میں قیام کی حالت میں جھڑ وعاول کے پڑنے کا ذکر ہے ان میں والشر لیس
الیک کے بعد جو الفاظ میں ان کے بجاے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں يالفاظ مردوی ہیں:
Ali reported: When the Prophet (ﷺ) stood for prayer, in another narration: when he began the prayer, he would say the Takbir and then say:
وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ. ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ. وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ.
(I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, as a pure monotheist, and I am not of the polytheists. Indeed, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, Lord of the worlds, who has no partner. With this, I have been commanded, and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is no god but You. You are my Lord, and I am Your servant. I have wronged myself and acknowledged my sin, so forgive me all my sins, for none forgives sins but You. Guide me to the best of character, for none guides to the best of it but You. Turn away from me the evil of it, for none turns away the evil of it but You. Here I am, at Your service, and all good is in Your hands, and evil is not attributed to You. I exist by You and for You. Blessed and exalted are You. I seek Your forgiveness and repent to You).
When he bowed, he would say:
اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُنِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي
(O Allah, to You I bow, in You I believe, and to You I submit. My hearing, sight, bones, and nerves are humbled before You).
When he raised his head, he would say:
اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
(O Allah, our Lord, to You is all praise, filling the heavens, the earth, and what is between them, and filling whatever else You will).
When he prostrated, he would say:
اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
(O Allah, to You I prostrate, in You I believe, and to You I submit. My face has prostrated before He who created it, shaped it, and gave it hearing and sight. Blessed is Allah, the Best of Creators).
At the end, between the Tashahhud and the Taslim, he would say:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
(O Allah, forgive me for what I have done in the past and what I will do in the future, what I have concealed and what I have declared, and what I have exceeded in. You are the One who brings forward and delays. There is no god but You). [Narrated by Muslim]
In a narration by Ash-Shafi'i, he added:
وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَاً مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ
(And evil is not attributed to You. The guided one is whom You guide. I exist by You and for You. There is no escape from You except to You. Blessed are You).
In this hadith, there is mention of swaying and shaking during the standing position, but without any evil. After 'والشر لیس الیک', the words in place of these are 'مردوی' in the narration of Imam Shafi'i (RA).
"والشر ليس اليك، والمهدي من هديت، أنا بك واليك
، لا منجا منك ولا ملجأ الا اليك، تباركت".
(پروائی دعاء سے جس کا اشارہ مندرج بالاسیدنا علی کی حدیث میں دیا گیا ہے-)اور برائیول
کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جاسکتی اوروہی بدایت پاپا ہواہے جس کو آپ نے بدایت کی ہو، میرا
وجود آپ کی سے ہے اورآپ کی طرف مجھے واپس ہوناہے، آپ کے عذاب سے آپ کے سوا کوئی
جانے والا نہیں، اورآپ کے سوا کوئی پناہ دینے والا کی نہیں، آپ برطی برکت والے ہیں-
ثناء کے بعد نماز ون میں پڑھی جانے والی وعا میں
And evil does not come to You, and the one who is guided by You is the guided one. I am with You and to You. There is no refuge from You and no place of safety except with You. Blessed are You.
جعفر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت سے کرا نہول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسالم کونماز پڑھتے دیکھا کرآپ نے (تکبیر تحریمہ) کے بعد فرمایا:
"الله أكبر كبيرا "اللہ بہت بڑا ہے ساری برطا یال ای کے لے ہیں
"الله أكبر كبيرا "اللہ بہت بڑا ہے ساری برطا یال ای کے لے ہیں
"الله أكبر كبيرا "اللہ بہت بڑا ہے ساری برطا یال ای کے لے ہیں
"والحمد لله كثيرا "سب تعریف اللہ کے لے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جانے
"والحمد لله كثيرا "سب تعریف اللہ کے لے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جانے
"والحمد لله كثيرا "سب تعریف اللہ کے لے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جانے
"وسبحان الله بكرة واصيلا " میں نج وشام اللہ تعالی کی پاکی بیان کرتا ہوں
"وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيًا"، میں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی پانی بیان کرتا ہوں
"وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُکْرَۃً وَأَصِیًا"، میں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی پانی بیان کرتا ہوں
"أَعُوذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ"۔
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردو د کے نفخ سے (لعنہ خدا و رحمت خود پسندی
سے جن کو شیطان انسانوں کے دلون میں ذاتیہ) اور نفث (لعنہ سے جس کو شیطان انسان
سے کرواتا ہے) اور همزت (لعنہ وسوسوں سے جن کو شیطان انسان کے دلون میں پیرا کرتا رہتا ہے)
(اس کی روایت ابوداؤداورابن ماجہ نے کی ہے) اور ابن مجہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
ان الفاظ کی تفسیر بیان کی ہے کہ نفخ سے مراد کبر ہے جس کو شیطان انسان کے دل میں پیرا کرتا ہے
اور نفث سے مراد غش اور برے اشعار ہیں جن کو شیطان انسان کے کھلو اتا ہے اور همزت سے مراد ایک قسم کا جنون
ہے جو شیطان کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے جس سے انسان مرگی میں مبتلا ہو کر بے هوش ہوجاتا ہے۔
ثناء کے بعد نمازوں میں پڑھی جانے والی دعاوں پر دوسرا حدیث
Jubayr ibn Mut'im reported: He saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying and saying three times:
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(Allah is the Greatest, exceedingly great. Praise be to Allah, abundantly. Glory be to Allah, morning and evening). He would then say:
أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ
(I seek refuge in Allah from Satan, the accursed, from his arrogance, his misleading words, and his harms).
[Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah, except that they did not mention "وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا]
At the end, they mentioned: "مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ" (from Satan, the accursed). Umar said: " نَفْخه is pride, نَفْثه is falsehood, and هَمْزه is death."
إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُکِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِللهِ رَبِّ العَالَمِينَ لاَشْرِيكَ لَهُ
وَبَذَا لَكَ أُمِرْتُ وَأَناَ أَوَّلُ المُسلِمِينَ .
اللهم اهدینی لاحسن الاعمال واحسن الاخلاق ، لا یهدی لاحسنها الا
انت ، وقنى سیئۃ الاعمال وسیئۃ الاخلاق ، لا یقی سیئہا الا انت "۔
جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز
شروع کرتے تو اللہ کبر فرماتے پھر دعاے پڑتے:
(میری نماز، اور میری تمام عبادات، میرا جیواور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جوسارے
جہانوں کا پروردگار ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے
فرما بردارول میں پہلا فرمانبردار ہوں۔
ای اللہ! آپ مجھے اتنے اعمال اور اتنے اخلاق کی بادیت کیوں کرتے اعمال اور اتنے
اخلاق کی بادیت کرنے والا آپ کے سوا کونی نہیں ہے (ای اللہ) آپ مجھے برے اعمال اور برے
اخلاق سے پچانے رکھے، برے اعمال اور برے اخلاق سے پچانے والا آپ کے سوا کونی نہیں ہے۔)
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث میں "وَانَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ" کے جواب فاظ نذور بن وہ نہیں صلی اللہ علیہ وسلم
کے لئے خاص ہیں اس لئے اگر انتی پیدا ہوں پڑھنا چاہتا تو "انَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ" کی جگہ "انَا
مِنَ الْمُسْلِمِینَ" پڑھے، البتہ قرآن کی تلاوت کر پاہو تو "انَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ" وہی پڑھنا
چاہیے۔ (مرقّات، اشعۃ اللمعات)
شائے کے بعد نماز ول میں پڑھی جانے والی دعا کے پرتیری حدیث
Jabir reported: When the Prophet (ﷺ) began the prayer, he would say the Takbir and then say:
إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا (الأنعام: ١٦٢-١٦٣) إِلَّا أَنْتَ، وَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ
(Indeed, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, Lord of the worlds, who has no partner. With this, I have been commanded, and I am the first of the Muslims. O Allah, guide me to the best of deeds and the best of character, for none guides to the best of them but You. Protect me from evil deeds and evil character, for none protects from them but You). [Narrated by Al-Nasa’i]
محمد بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہ کر پیدا ہوئے، "انے وَجَهْتُ
وَجُهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ"۔
میں نے تو ایسی ہی کہا ہو کر اپنارخ ای ذات پاک کی طرف کر لیا ہے جس نے آسانوں اور
زبین کوبنا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
محمد بن مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد دعا کے وہی فاظ نقل کے جواب رضی اللہ عنہ کی
نذور حدیث میں بیان کے لئے پیکن جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جہال "انے اَوَّلُ
الْمُسْلِمِینَ" کے فاظ پیکن کی جاے محمد بن مسلم رضی اللہ عنہ نے "وَانَا مِنَ
الْمُسْلِمِینَ" کے فاظ بیان کے لئے (پہر محمد بن مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے (جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے دعائی فاظ کے بعد) پیدا ہوئے:
"اللہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَ بَحَمْدِكَ"۔
اے اللہ! آپ بھی شہنشاہ ہیں، بھرآپ کے کوئی معیود برحق نہیں، تم آپ کی تعریف کرتے
ہوئے تمام عیسیوں سے آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اعوذ اوربسم
اللہ کے بعد) قرأت فرما تے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ف: واضح ہو کہ نذورہ بالا حدیثوں سے نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد جن وعاوی کے پڑھنے کا
ذکر ہے۔ یعنی ابتدا اسلام میں "سبحانک اللہم" تا آخری جا پڑھی جاتی تھیں، لیکن
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جسیا کراو پرگذر چکا ہے، معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
آخری عمل تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء میںصرف "سبحانک اللہم" تا آخر کا پڑھنا، ای تھا اس طرح
ثابت ہوا کہ فرض نماز ون میں ثناء صرف "سبحانک اللہم" تا آخر پڑھی جاتے اور ثناء کے
ساٹھ کوئی اور دعا ئشامل نہیں جاتے۔
اب رہا نوافل اور تحد میں ان نذورہ وعاوی کا پڑھنا، اس بارے میں خفی نہہب پیہ کہ"
سبحانک اللہم" تا آخر کے بعد ان وعاوی کو جی پڑھا جاسکتا ہے، اس لے کر نفل نماز ون میں اس
قت میں کے اضافے کی کجھا کشہ جسیا کرا بوداو کی اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے وحدیث پیہ:
عن أبی سعید الخدری قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قام
من الليل كبر ثم يقول "سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى
جلالك ولا إله غيرك"، ثم يقول : "لا إله إلا الله" - ثلاثا - ثم يقول : "الله
أكبر كبيرا"، ثلاثا - أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه
ونفخه ونفثه . ثم يقرأ.
اس حدیث کا خلاصہ یہ کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تجد اور نوافل میں تکبیر تحریمہ کے بعد"
سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک ولاالہ غیرک
پڑھتے، پھر اس حدیث کے دعا میں الفاظ پڑھنے کے بعد قرآن تشریع فرما تے۔
اور یہی کی ایک حدیث میں جسی پیہ نذورہ کے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم "سبحانک
اللہم"، تا آخر کے بعد "وجہت و یہی باخ" پڑھا کرتے تھے۔
حاصل یہ کہ فرض نماز ون میں تصرف "سبحانک اللہم" تا آخر کی ثناء پر اکتفا
کیا جائے اور نوافل و تہجد میں "سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ" تا آخر کے ساتھ ذکورہ احادیث کی وعاوی اور اس قسم کی دوسری دعا کی جواز حدیثوں میں ذکورہیں ان کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ (ردالمختار، مرقات)
Muhammad ibn Maslamah reported: When the Messenger of Allah (ﷺ) stood for voluntary prayer, he would say:
اللهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Allah is the Greatest. I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, as a pure monotheist, and I am not of the polytheists).
He would then mention the rest of the supplication similar to the hadith of Jabir, except he would say: "وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ" (and I am of the Muslims).
Then he would say:
اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ
(O Allah, You are the King, there is no god but You. Glory be to You and praise be to You).
Then he would begin reciting. [Narrated by Al-Nasa’i]
Al-Halbi said: All of this is related to voluntary and night prayers, as the matter is more flexible in them. This is supported by what is recorded in Sahih Abu 'Uwanah and Sunan Al-Nasa’i, where it is mentioned that when he stood for voluntary prayer, he would say: "اللهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ الخ" This explains what is mentioned in other narrations. As for "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ" what we have mentioned clarifies that it is the established practice in obligatory prayers. This is mentioned in Rad al-Muhtar and Al-Mirqah. In Al-Bayhaqi, it is mentioned: When he began the prayer, he would say:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَهْتُ وَجْهِيَ إلخ
(Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You. I have turned my face toward...).
It is clear from the aforementioned hadiths that after the Takbir-e-Tahrimah in prayer, the recitation of Tasbih and Dua is mentioned. That is, in the early days of Islam, 'Subhanaka Allahumma' was recited until the end, but from the practice of Umar (RA), it has been established that the final practice of the Messenger of Allah (peace be upon him) after the Takbir-e-Tahrimah was to recite 'Subhanaka Allahumma' until the end. Thus, it is established that in obligatory prayers, the Tasbih is limited to 'Subhanaka Allahumma' until the end, and no other Dua is included with the Tasbih.
Now, regarding the recitation of these Tasbih and Dua in voluntary prayers and Tahajjud, it is permissible to recite them after 'Subhanaka Allahumma' until the end. Therefore, the addition of these in voluntary prayers is justified by this hadith, which states:
On the authority of Abu Sa'id Al-Khudri, who said: 'When the Messenger of Allah (peace be upon him) would stand up at night, he would perform the Takbir and say, "Subhanaka Allahumma wa bihamdika, tabarak asmuka wa ta'ala jalaluka wa la ilaha ghayrak," then he would say, "La ilaha illa Allah" three times, then he would say, "Allahu Akbar Kabiran" three times, and seek refuge in Allah, the All-Hearing and All-Knowing, from the accursed Satan, his whisperings, and his puffs. Then he would recite the Quran.'
The summary of this hadith is that the Messenger of Allah (peace be upon him) would recite 'Subhanaka Allahumma wa bihamdika, tabarak asmuka wa ta'ala jalaluka wa la ilaha ghayrak' after the Takbir-e-Tahrimah in both obligatory and voluntary prayers, and then he would proceed to recite the Quran. In another hadith, it is mentioned that the Messenger of Allah (peace be upon him) would recite 'Subhanaka Allahumma' until the end, followed by 'wa jihat wa jahib akh.'
In conclusion, in obligatory prayers, one should suffice with the Tasbih 'Subhanaka Allahumma' until the end, while in voluntary prayers and Tahajjud, it is permissible to include the Tasbih and Dua mentioned in the hadiths along with 'Subhanaka Allahumma' until the end. (Radd Al-Mukhtar, Maraqi)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے (تو تکبیر تحریمہ کے بعد) کسی قدر سکوت اختیار فرما تے ('یاشعة اللمعات میں ذکور ہے، 'یہاں سکوت سے مراد عدم جہر ہے، مطلق سکوت نہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سکوت میں آہستہ ثناء پڑھتے تھے-) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
ثناء تکبیر تحریمہ کے بعد، یا پڑھی جاتی ہے اور باقی رکعتوں کے شروع میں
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (ﷺ) would pause briefly when he began the prayer. [Narrated by Al-Nasa’i[
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے ختم پر (تقدة اولی کے بعد تیسری رکعت کے لئے) کہرے ہوتے تو سکوت نہیں فرما تے تھے (اس لئے کہ تیسری رکعت کے شروع میں ثناء نہیں پڑھی جاتی) اور اللہمدد للہ رب العالمین " سے قرأت شروع فرما تے تھے- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
ف: واضح رہ کہ جس طرح تیسری رکعت کے شروع میں ثناء نہیں پڑھی جاتی ہے اس طرح دوسری اور چوتھی رکعت کے شروع میں بھی ثناء نہیں پڑھی جاتی- (اشعۃ اللمعات-)
From Abu Hurairah: He said, "When the Messenger of Allah ﷺ would rise for the second unit of prayer, he would begin with الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ and would not remain silent." [Narrated by Al-Tahawi]