پیاب نماز میں قرأت قرآن کے بیان میں
وقول الله عز وجل فاذا قرات القران فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم الل تعالي كا ارشاد سور نحل ع ايت نمبر مي جب ا قران ن ك لي تو شيطان مردود ك وسوسون س الل تعالي كي نا ما ليا كيجي وقوله واذا قري القران فاستمعوا له وانصتوا لعلكم ترحمون الل تعالي كا ارشاد سور اعراف ع ايت نمبر مي جب قران نماز مي اواز س اجاي اور تم مقتدي و تو اس كو كان ل ا كر سنواور جب ا مستمع اجاي تو خاموش ر وتا ك تم ر رحمت نازل و
"فاستمعوا له وأنصتوا" کا زول مقتدی سے متعلق ہے
پہلی حدیث
The First Hadith
عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا کہ پروہ شخص جس کو قرآن پڑھنے کی آواز سنائی دے کیا س پرقرآن کان لگا کر سننا اور چپ رہنا واجب ہے؟ تو اس کے جواب میں عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت "فاستمعوا له وأنصتوا" تو امام کی قرأت کے بارے میں نازل ہوئی ہے (کہ امام جب نماز میں آواز سے قرأت کرے تو مقتدی اس کو کان لگا کر سن اور اگر امام آپستہ قرأت کرے تو مقتدی چپ رہے۔ (اس کی روایت ابن ابی حاتم، البلاذخ اور ابن مردویہ نے کی ہے، اور تہذیب نے بھی اس کی
روایت کتاب القرآة میں کی ہے۔)
ف: واضح رہ کر اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت "وَاذا قُرِئَ الْقُرآن فاستمعوا لہ
وَ انصِتُوا ..... الخ" کاشان نزول پیہ کہ جب امام نماز میں قرأت جہر سے کرے تو مقتدی اس کو
کان لگا کر سن اور جب امام قرآن آہستہ پڑھے تو وہ چپ رہے، چنانچہ دارک نے اس آیت کی تفسیر
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی ہے: "وجمهور الصحابة رضى الله عنهم على انه
فی استماع المؤتم"-
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کاس بات پر اتفاق سے کر اس آیت میں جو کم ذکور سے وہ مقتدی سے
متعلق ہے کروہ نماز میں امام کے پیچھے قرأت ذکرے-
"فاستمعوا لله وانصتوا" کان زول مقتدی سے متعلق ہونے پر دوسری حدیث
It is narrated from Abdullah ibn Mughaffal that he was asked: "Is it obligatory for everyone who hears the Qur’an to listen and remain silent?" He said: "This verse was revealed regarding the recitation of the Imam: 'So listen to it and pay attention.' (Quran 7:204)." [Narrated by Ibn Abi Hatim, Abu al-Sheikh, Ibn Mardawayh, and Al-Bayhaqi in his book Al-Qira’ah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نماز پڑھائی تو اس وقت جولگ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے انہول نے کہی قرآن
پڑھا اور ان کی قرأت سے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت میں خلط ملت ہونے لگا، اس پر یہ آیت'
فاستمعوا للہ وانصتوا" نازل ہوئی -(جس سے قرأت خلف الاام کی مما نعت ثابت ہوگی-
(اس کی روايت ابن مردویا وریہی نے کی ہے-)
"فاستمعوا للہ وانصتوا" کان زول مقتدی سے متعلق ہونے پر تیسری حدیث
It is narrated from Abu al-Aliyah: "When the Prophet (peace be upon him) led his companions in prayer and recited, his companions would also recite. Then this verse was revealed." [Narrated by Abd ibn Humaid, Abu al-Sheikh, and Al-Bayhaqi]
محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نماز میں قرآن پڑھا کرتے تو جولگ آپ کی اقتداء کرتے وہ جی اس کو دہراتے جاتے تھے، جب
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم "بسم الله الرحمٰن الرحيم" پڑھے تو مقتدی کہی "بسم الله الرحمٰن
الرحيم" پڑھے اور جب آپ سورۃ فاتحہ کی ایک آیت پڑھے تو مقتدی کہی اسی آیت کو دہراتے
جا تے اور آپ سمجھ سورہ میں جو آیت پڑھے تو مقتدی کہی اسی آیت کو دہراتے رہے، اس پر یہ آیت'
اس کی روایت سعید بن منصور، ابن الی حاتم اور بہقی نے کہے۔
“ فاستمعوا لہ و انصتوا ” کانزول مقتدی سے متعلق ہونے پر چوٹی حدیث
It is narrated from Muhammad ibn Ka’b al-Qarzi: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) recited in prayer, those behind him would respond. When he said, 'Bismillah al-Rahman al-Rahim,' they would say the same until he finished Surah Al-Fatihah and the Surah. Then this verse was revealed." [Narrated by Sa’id ibn Mansur, Ibn Abi Hatim, and Al-Bayhaqi]
مجابر ضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار میں سے ایک شخص نے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں قرآن پڑھی تو اس آیت “ فاستمعوا لہ و انصتوا ” نازل ہوئی
( جس سے قرآن تخلف الامام کی ممانعت کی گئی۔ )
( اس کی روایت عبد بن حمید، ابن الی حاتم اور بہقی نے کہے۔ )
“ فاستمعوا لہ و انصتوا ” کانزول مقتدی سے متعلق ہونے پر پاپچوی حدیث
It is narrated from Mujahid: "A man from the Ansar recited behind the Prophet (peace be upon him), and then this verse was revealed." [Narrated by Abd ibn Humaid, Ibn Abi Hatim, and Al-Bayhaqi]
ابن مسعود ضی اللہ علیہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابوں
نماز پڑھنا لے تو لوگوں سے سن کروہ مقتدی ہوں نے کہ باوجود قرآن پڑھ رہے ہیں ( نماز کے بعد )
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تمہارے لیے اچھی تک اس کا وقت نہیں آیا ( کہ امام جب
قرآن پڑھتا تو تم خاموشی سے سن کراس کے معنی کو ) سوچیں؟ کیا تمہارے لیے اچھی تک اس کا وقت
نہیں آیا ( کہ جب امام قرآن پڑھے تو خاموشی سے سن کراس کے معنی کو ) بجھیں اس لیے تم آئے
” و اذا قرئ القرآن فاستمعوا لہ “ پر پورا پورا عمل کرو ( لیتن جب امام قرآن پڑھے تو اس کو
خاموشی سے کان لگا کرسو )۔
( اس کی روایت عبد بن حمید، ابن جبر، ابن الی حاتم، ابو الشيخ اور بہقی نے کہے۔ )
“ فاستمعوا لہ و انصتوا ” کانزول مقتدی سے متعلق ہونے پر چھٹی حدیث
It is narrated from Ibn Mas’ud that he led his companions in prayer and heard some people reciting behind him. He said: "Is it not time for you to understand? Is it not time for you to comprehend? 'And when the Qur’an is recited, listen to it and pay attention.'" [Narrated by Abd ibn Humaid, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Abu al-Sheikh, and Al-Bayhaqi]
ابو ہریرہ ضی اللہ علیہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ ضی اللہ علیہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پیپے (مقتدی ہونے کے باوجود جہرے قرآن کرتے تو) چوطر فس آوازی بلند ہوجائی یعنی (اس کی معنے میں ) " فاستمعوا لہ و انصتوا " کی آیت نازل ہوئی (جس سے قرآن خلف الامام کی معنے کی گئی )۔
( اس کی روایت ابن جبری، ابن البی حاتم، ابواشخ، ابن مردویہ، بہقی اور ابن عساکر نے کی ہے ) " فاستمعوا لہ و انصتوا " کا نزول مقتدی سے متعلق ہونے پرساتوی حدیث 7/1280 - زہری رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ ایک النصاری نو جوان مقتدی ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوپڑه قرآن ( سورۃ فاتحہ ہو یا ضم سورہ ) کی قرآن فرماتے تو وہ جیسے کودہراتے جاتے اس پر ( فاستمعوا لہ و انصتوا " کی ) آیت نازل ہوئی - ( جس سے قرآن خلف الامام کی معنے کی گئی ) - ( اس کی روايت ابن جبریاور بہقی نے کی ہے - ) " فاستمعوا لہ و انصتوا " کا نزول مقتدی سے متعلق ہونے پرآطہوی حدیث 8/1281 - ابوالعلیہ رضی اللہ عنه سے روايت سے کہ نبی صلی اللہ عليه وسلم صحابہ کونماز پڑھاتے اور نماز میں قرآن فرماتے تو صحابہ کی اس کودہراتے جاتے اس پر ( فاستمعوا لہ و انصتوا کی ) آیت نازل ہوئی ( جس سے قرآن خلف الامام کی معنے کی گئی - ) ( اس کی روايت عبد بن حمیر، ابواشخ اور بہقی نے کی ہے - ) " فاستمعوا لہ و انصتوا " کا نزول مقتدی سے متعلق ہونے پرنوی حدیث 9/1282 - ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) قرآن فرماتے تو ایک اور صحابہ کی ( مقتدی ہونے کے باوجود ) اس کودہراتے اس پر ( فاستمعوا لہ و انصتوا کی ) آیت نازل ہوئی جس سے قرآن خلف الامام کی معنے کی گئی - ( اس کی روایت ابن البی شیبہ نے کی ہے - )
It is narrated from Abu al-Aliyah: "When the Prophet (peace be upon him) led his companions in prayer and recited, his companions would also recite. Then this verse was revealed." [Narrated by Abd ibn Humaid, Abu al-Sheikh, and Al-Bayhaqi]
وَاذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمْعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا
اور بھی کچھ کی ایک روایت میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے سب کا اس بات پر جماعت کی آئت (فاستمعوا لہ و انصتوا ) نماز میں قرآن تخلف الامام کی معانت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ف: واضح رہے کہ ذکورہ بالا حدیثیں قرآن تخلف الامام کی معانت پر، واللہ تعالٰی ہی امام ابن اہم اور دگر فقہاء رحمۃ اللہ علیہ کہاہے کہ نماز میں مقتدی کو قرآن کے متعلق دوحکم دیئے گئے ہیں (1) ایک استماع لیئے کان لگا کرسنا اور (2) دورسرے انصات لیئے چپ رہنا، پھلا حکم استماع لیئے امام کی قرآن تکوان لگا کرسنا جہری نمازول سے متعلق ہے، اوردورسرے حکم لیئے انصات لیئے چپ رہناسری نمازول سے متعلق ہے۔ ابآیت کے معنی سنے:
قرآن پڑھاجائے تو اس کو کان لگا کرسنو جبکہ جہرے پڑھا جارہا ہو ) اسکتو وا ان اسر به " اور چپ رہاو رخا موشی اختیار کرو اگر قرآن آہستہ پڑھا جارہا ہو ( امام ابن همام کی عبارت یہاں ختم ہوئی - ) ابن عبد البر رحمۃ اللہ نے " استذکار " او" تمهید " میں کہاہے کہ آیت " فاستمعوا له و انصتوا " پر عمل کرتے ہوئے ہمارے امام ابوحنیفرحمۃ اللہاورآپ کے شاگردول نے قرآن تخلف الامام کے بارے میں جوندہب اختیار کیاہے وہی کہ مقتدی جہری نمازول میں قرآن تکوان لگا کر سے اورسری نمازول میں چپ رہا اور خود پچھنے پڑھے چنانچہ جابر بن عبد اللہ زیربن ثابت اورحضرت علي ابن ابي طالب رضي الله عنهما، كا بھی بھی قول ہے، اورحضرت عمر بن خطاب اورعبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہما سے جو، ارنج روايت آئی ہے وہ بھی بھی سے نیز سفیان ثؤری اورسفیان بن عيينا اورابن ابی لیلى اورحسن بن صاحب بن حی اورابراهیم نخی اورابن مسعود رضي اللہ عنہما کے جملے شاگردون سب کے سوا جن میں مشہور صحابہ اورتا بیین بھی وہ سب قرآن تخلف الامام کی معانت کے قائل ہیں کہ مقتدی جہری نمازول میںصرف قرآن تکساورسری نمازول میں چپ رہے - ( یہاں ابن عبد البر کا مضمون ختم ہوا - ) علامہ عینی رحمۃ اللہ نے کہاہے کہ قرآن تخلف الامام کی معانت اسی (80) جبل القرصابہ مرودی ہے جن میں حضرت علي رضي الله عنه، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس رضي
اللہ تعالیٰ کے اور ان (80) صحابیوں کے اسامی میں مذکورین کے پاس محفوظ جس اور منقول سے قرآن خلف الامام
کی ممانعت کے متعلق اس زمانے میں فتوئی دینے والوں کی تعداد (80) سے زائد تو اور ان سب حضرات
کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر اتفاق کر لینا جماعت کی طرح سے اور شاخ امام عبد اللہ بن يعقوب حارتی
السبد مومنی نے "كتاب كشف الاسرار" میں عبد اللہ بن زید بن اسلم رضي الله عنه نقل کیا ہے وہ اپنے
والد زید بن روايت کرتے ہیں کہ زید بن اسلم رضي الله عنه نے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کے
صحابہ میں دس صحابہ قرأت خلف الامام کی سخت ممانعت فرماتے تھے وہ دس صحابہ یہیں : (1) حضرت
ابوبکر صدیق، (2) حضرت عمر ابن خطاب، (3) حضرت عثمان بن عفان، (4) حضرت علي ابن ابي
طالب، (5) عبد الرحمن بن عوف، (6) سعد بن ابي وقاص، (7) عبد الله بن مسعود، (8) زيد ابن ثابت
اور (9) عبد الله بن عمر، (10) عبد الله بن عباس رضي الله عنهم - (یہاں علماء عین کی عبارت ختم ہوتی)
توضیحات ذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کے لئے قرأت خلف الامام کی ممانعت سے
جبیا کرتے "وَاذا قریء القرآن فاستمعوا له وأنصتوا" سے واضح ہوتا ہے کہ امام جب آواز
قرأت کرتے تو مقتدی اس کو سناؤ راما مجبآہستہ قرأت کرتے تو مقتدی خاموش رہے-
یہاں ایک شہری پیادہ ہوتا ہے کہ اس آیت کے حكم کصرف جہری نمازول سے متعلق کیا جاسکتا
ہے نہ کہ سری نمازول میں مقتدی کو امام کی قرأت سن کا موقع ہی نہیں ہے اس لئے کہ آیت
میں "أنصتوا" کا کلمہ "استمعوا له" کی تاکید کے لئے ہے کہ دونوں کلموں سے ایک ہی حکم نقل
رہاہے جس کا حصل یہ ہے کہ مقتدی امام کی قرأت کو خاموش رہ کرنے-
ہمارے فقهاء رحمهم اللہ اس شہر کا جواب دیا ہے کہ آیت (وَاذا قریء القرآن فاستمعوا
له وأنصتوا ) کصرف جہری نمازول کے ساتھ ہی مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لئے کہ آیت
فاستمعوا له اور "أنصتوا" مستقل کلہیں-
دوسرے کلمہ پیلے کلم کی تاکید کے لئے نہیں ہے جبیا کہ شہر میں کہاگیا ہے بلکہ دوسرا کلمہ لیجن
"أنصتوا" تخصيص (اصل قرآن) کے لئے ہے کہ پیلے کلمے سے عیبر حکم نقل کیے اور دوسرے کلمے سے
عیبر حکم اور اصولیین کے قاعدے کے مطابق تخصيص تاکید سے افضل ہے، اس لحاظ سے آیت
فاستمعوا له وأنصتوا" مستقل حکم دیے گئے ہیں ایک استماع لیجن کان اگا کرسنا اور
دوسرائناصات بھی چپ رہنا، پہلا حکم استماع لینے امام کی قرآن کو کہا کرسنا جہری نماز ول سے متعلق
ہوگا اور دوسرا حکم انصات لینے چپ رہناسری نمازول سے متعلق رہگااور یہی حقی ذہب ہے-
ذہب حقی کی تا سیر پڑ زیل کی یحدشیئ دلالت کرتی ہیں:-
(1) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مر فعاً روایت سے کہانے حضرت اللہ علی وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ امام کی قرأت تمہارے لے کافی ہے، خواہ امام (سری نماز میں ) آہستہ قرأت کرے یا (جہری
نماز میں ) آواز سے قرأت کرے -
(2) علقمر رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پچپچ قرأت کریں
کرتے تھے خواہ امام جہرے قرأت کر رہا ہو، یا آہستہ، نتوہی دور کعتون میں قرأت کرتے تھے اور نہ
آخری دور کعتون میں -
(3) ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
مقتدی امام کے پچپچ قرأت نذر کے، خواہ نماز جہری ہو یا سری -
بنایی میں نذور سے کر مقتدی امام کے پچپچ قرأت نذر کے خواہ امام جہرے قرأت کرے یا
آہستہ، چنانچہ ابن امسیب، عروة بن زبیر، سعید بن جبیر، زبیری، شعیبی، ثوری، نخعی، اسو، ابن ابی لیلی رضی
اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں، نیز ابن وهب اشبہب، ابن عبد الحکم ابن حبیب رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مقتدی
سری نماز ول اور جہری نماز ول دونوں میں قرأت نذر کے -
(پیغمبر سعایی سے ماخوذ ہے-)
نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہو نے کا ثبوت
It is narrated from Abdullah ibn Mughaffal that he was asked: "Is it obligatory for everyone who hears the Qur’an to listen and remain silent?" He said: "This verse was revealed regarding the recitation of the Imam: 'So listen to it and pay attention.' (Quran 7:204)." [Narrated by Ibn Abi Hatim, Abu al-Sheikh, Ibn Mardawayh, and Al-Bayhaqi in his book Al-Qira’ah]
It should be clear that the aforementioned hadiths are related to the meaning of following the imam in recitation of the Quran. Allah Almighty, Imam Ibn Humam, and other jurists (RA) have stated that two commands have been given to the follower in prayer: (1) to listen by paying attention with the ear, and (2) to remain silent for the purpose of listening. The first command to listen by paying attention is related to the imam's recitation in the silent prayers, and the second command to remain silent is related to the loud prayers. The meaning of the verse is as follows: 'When the Quran is recited, listen to it with attention, especially when it is recited quietly, and remain silent, maintaining silence if the Quran is recited quietly.' This is the end of Imam Ibn Humam's statement. Ibn Abd al-Barr (RA) has said in 'Al-Istikhbar' and 'At-Tamhid' that our imam Abu Hanifah (RA) and his students adopted the position regarding the recitation behind the imam that the follower should listen attentively during the silent prayers and remain silent during the loud prayers, reading silently to himself. This is also the view of Jabir ibn Abdullah, Zayd ibn Thabit, and Ali ibn Abi Talib (RA). This tradition is also narrated from Umar ibn al-Khattab and Abdullah ibn Masud (RA), as well as from Sufyan al-Thawri, Sufyan ibn Uyaynah, Ibn Abi Layla, Hasan ibn Salih ibn Hay, Ibrahim al-Nakha'i, and the students of Ibn Masud (RA), all of whom, including the famous Companions and Tabi'in, agree that the follower should listen attentively during the silent prayers and remain silent during the loud prayers. (This is the end of Ibn Abd al-Barr's statement.) Al-'Ayni (RA) has said that the meaning of reciting behind the imam is based on the principle of 'Jabir al-Qurshabah,' which is preserved among those who oppose the recitation behind the imam, such as Ali (RA), Abdullah ibn Masud, Abdullah ibn Umar, and Abdullah ibn Abbas (RA), and the names of eighty Companions. The number of scholars who have issued fatwas opposing the recitation behind the imam in this era exceeds eighty, and their consensus on opposing the recitation behind the imam is like a collective agreement. In the branch of Imam Abdullah ibn Ya'qub al-Harithi al-Sabdi al-Mu'mini, it is narrated in 'Kitab Kashf al-Asrar' from Abdullah ibn Zayd ibn Aslam (RA) that his father Zayd ibn Aslam (RA) said that ten Companions of the Messenger of Allah (SAW) strongly opposed the recitation behind the imam. These ten Companions are: (1) Abu Bakr al-Siddiq, (2) Umar ibn al-Khattab, (3) Uthman ibn Affan, (4) Ali ibn Abi Talib, (5) Abd al-Rahman ibn Awf, (6) Sa'd ibn Abi Waqqas, (7) Abdullah ibn Masud, (8) Zayd ibn Thabit, (9) Abdullah ibn Umar, and (10) Abdullah ibn Abbas (RA). (This is the end of Al-'Ayni's statement.) From the above explanations, it is evident that the prohibition of reciting behind the imam for the follower is derived from the verse 'And when the Quran is recited, then listen to it and pay attention.' This indicates that when the imam recites aloud, the follower should listen, and when the imam recites quietly, the follower should remain silent. A question arises here whether the command of the verse can be limited to the silent prayers, as there is no opportunity for the follower to listen to the imam's recitation in the loud prayers. Therefore, the word 'ansutu' (remain silent) emphasizes 'istima' (listen) so that both words convey the same command, which means the follower should remain silent while listening to the imam's recitation. Our jurists (RA) have answered this question by stating that there is no reason to limit the verse 'And when the Quran is recited, then listen to it and pay attention' to only the silent prayers, as the words 'istima' (listen) and 'ansutu' (remain silent) are independent. The second word 'ansutu' is not merely an emphasis on the first word, as suggested in the question, but rather it specifies the original command. According to the principles of jurisprudence, specification is better than emphasis. Thus, the verse 'And when the Quran is recited, then listen to it and pay attention' conveys two independent commands: one to listen by paying attention and the other to remain silent. The first command to listen by paying attention is related to the imam's recitation in the silent prayers, and the second command to remain silent is related to the loud prayers. This is the correct view. The following evidences support the correct view: (1) From Ibn Abbas (RA), it is narrated that the Messenger of Allah (SAW) said that the imam's recitation suffices for you, whether the imam recites quietly or loudly. (2) From Alqamah (RA), it is narrated that Abdullah ibn Masud (RA) used to recite quietly, whether the imam was reciting quietly or slowly, but he did not recite in the first two rak'ahs or the last two rak'ahs. (3) Ibn Abi Shaybah narrates in his Musannaf from Jabir (RA) that the follower should recite quietly after the imam, whether the prayer is silent or loud. In the case of vows, the follower should recite quietly after the imam, whether the imam recites quietly or slowly. Ibn Abi Shaybah, Urwah ibn al-Zubayr, Sa'id ibn Jubayr, Zabiri, Shu'ibi, Thawri, Nakha'i, Asw, and Ibn Abi Layli (RA) hold this view, as do Ibn Wahb, Ashbah, and Ibn Abd al-Hakam (RA), who state that the follower should recite quietly in both the loud and silent prayers. (This is derived from the Prophet's guidance.) The evidence for the obligation of reciting the Quran in prayer is established.
"عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ علی وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ قرآن کے بخیر نماز چیں ہوتی -(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں مطلق قرأت فرض ہے، سورہ فاتحہ قرأت فرض
ہیں ہے بلکہ قرآن میں سے جو چاہے (سورہ یا آیت) ہو سکے پڑ ہیں سے قرأت کی فرضیت ادا ہوجاتی
ہے اور یہی ذہب حقی ہے اس کی تا سیر قرآن کی اس آیت سے حقی ہوتی ہے-
"فَاْقُرْءُوَا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآن "(سورۃ عزل،پ:29،ع:2،آيت نمبر:20)(تم لوق نماز میں)قرآن سے جو پڑھو تو سکے پڑھ لیا کرو۔(عمدۃ الرعاية فی القدیر)12 نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہونے کے ثبوت پر دوسرا حدیث 1285/12- ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنه، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ طیبر میں جا کر بیاعلان کردوگے لاصلواۃ الا بقران ولو بفاتحة الكتاب فمازاد" لیکن بغیر قرآن پاک کی قرأت کے نماز نہیں ہوتی اگر چیسو رہ فاتحہ کی قرأت نہ کیوں نہ ہو،اور چاہے پھر سورہ فاتحہ پر قرآن کی کس آیت یا سورہ کو زیادہ کیا جائے۔(بہرحال نماز میں قرآن کی قرأت ضروری ہے،اس لیے مطلق قرآن کی قرأت نماز میں فرض ہے)- (اس کی روايت ابوداوڈ نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداود کا سکوت حديث کے صحیح ہونے کی ویل ہے اور اس حديث کے تمام راوي ثقة اور مشہور ہیں،جبیا کہ حاكم نے مستدرک میں ان کا ثقہ ہونا بيان کیا ہے اور ابن حبان اور ابن شاہین نے اپنی اپنی ثقات میں ان کا ذکر کیا ہے-) ف: یہ حديث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں ہے کیونکہ حديث میں لفظ "و لو" (اگر چہ) جو نذکور ہے اس سے نماز میں خصوصیت کے ساتھ سورہ فاتحہ کا پڑھنا معلوم نہیں ہوتا کہ جس سے نماز میں قرأت فاتحہ کی فرضیت ثابت کی جاسکے بلکہ لفظ "و لو" سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قرأت فرض ہے مگر قرآن کے کسی خاص حصہ کی قرأت فرض نہیں ہے اس لئے قرآن میں سے جس چیزو پڑھ لیا جائے اس سے قرأت کی فرضیت ادا ہوجائے گہے خواہ وہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورہ اس لئے امام ابوحنیفہ رحم اللہ کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے البته سورہ فاتحہ کی قرأت نماز میں وگیرا تمہیں کے پاس فرض ہے اور یہ حضرات سورہ فاتحہ کی فرضیت پر جن حوالے استدلال کرتے ہیں،ان میں ایک حديث ہے:
اس حديث سے یہ ظہر آتے کرتے جس کے سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوسکتی حالاگے مراد اس سے فضیلت کی نہیں ہے لیکن سورہ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے، یہ مراد نہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں، اگر نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھی جائے تو وہ نماز نقص او غیر افضل ہوگی، کیونکہ نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا اجب سے اس کی نظیر لا صلاة لجار المسجد الا في المسجد والي حديث کے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی، حالاگہ سب انہی کا اس بات پر اتفاق کے مسجدا کے پڑوسی کی نماز گھر میں ادا کروائیں ہے البنت نقص او غیر افضل ہوتی ہے تو پھر لا صلوة الا بفاتحة الكتاب سے کس طرح استدلال کیا جا سکتا ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھی جائے تو نماز صحیح نہیں ہوتی جبکہ دونوں حدیثوں کا ایک دورہ کی نظیر ہے، اس طرح لا صلوة الا بفاتحة الكتاب۔۔۔ نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنا کوفرض قرآن دینادرست نہیں ہے۔۔۔ دوسرا حديث جس سے دیگر انہی کے نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنا کوفرض قرآن دیا ہے زیادہ بن ایوب رضی اللہ عنه اس طرح مروی ہے لا تجزئی صلوة لا يقرأ الرجل فيها بفاتحة الكتاب۔۔۔ اس حديث کے ان حضرات نے استدلال کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، حالاگہ زیادہ بن ایوب کی یہ حديث شاذ ہے۔ صاحب تقیینے کہ حاہے کہ اس حديث میں لا تجزئ کے جواالفاظ زائد ہیں وہ زیادہ بن ایوب رضی اللہ عنه کا انفراد ہے کہ الفاظصرف انہی سے مروی ہیں اس کی وجہ یہ کہ زیادہ بن ایوب کی سنہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنه اس حديث کروايت کیا ہے جس کے الفاظ متفرق طور پرصرف ہیں لا صلوة لمن لم یقرء۔۔۔ لیکن بغیر قرآن کے نماز صحیح نہیں، کویا اس حديث کے نماز میں مطلق قرآن کے فرض ہونے کا ثبوت ملتا ہے جس سے نہہب حقی کی تائید ہوتی ہے۔۔۔ اس کے برخلاف زیادہ بن ایوب کی حديث بالمعنی ہے کہ عبادہ ابن صامت کے واسطے ان کو جو حديث میں اس کوانہوں نے اپنے الفاظ میں بيان کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حديث کے الفاظ قال: لا صلوة إلا بفاتحة الكتاب۔
ان الفاظ سے جدا پی جن کی روايت ایک جماعت نے متفق طور پر کی ہے۔ اس لے زیادہ بن الیوب کی
حدیث ایک جماعت کی حدیث کے مقابلہ میں ان کی منفرد اور تناہوں کی وجہ سے "قابل استناد" نہیں
اور اس بناء پر زیادہ بن الیوب کی روایت شاہ سے نماز میں سورہ فاتحہ قرآن کوفرض قر اور پناور ست نہیں ہے-
(پیغمبر کے شرح نقایا ورا تعليم المغنى شرح سنن اور دار قطنب سے ماخوذ ہے-)
نماز میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کا ثبوت
The prayer between the two Adhans is the best prayer.
From this hadith, it is evident that recitation in prayer is obligatory, and the recitation of Surah Al-Fatiha is indeed obligatory. However, the obligation of recitation is fulfilled by reciting any part of the Quran, whether it be a surah or an ayah. The true meaning of this is derived from the following verse of the Quran: 'So recite what is easy of the Quran' (Surah Al-Muzzammil, 73:20). This means that whatever portion of the Quran you can recite in your prayer, you should recite it. (Imam al-Qurtubi, Al-Jami' li Ahkam al-Qur'an)
Another hadith that proves the obligation of reciting the Quran in prayer is narrated by Abu Uthman al-Nahdi (RA) from Abu Hurairah (RA), who said: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) instructed me to go to Tabuk and announce: 'Do not pray except with the Quran, even if it is just the Fatiha of the Book, and whatever is added to it.' This indicates that prayer is not valid without reciting the Quran, whether it is the Fatiha or any other part of the Quran. (Abu Dawud has narrated this hadith and has approved of it. His silence is a sign of its authenticity, and all the narrators of this hadith are trustworthy and well-known. Al-Hakim has mentioned their reliability in his Mustadrak, and Ibn Hibban and Ibn Shahin have included them in their lists of trustworthy narrators.)
This hadith clearly indicates that reciting Surah Al-Fatiha in prayer is not obligatory because the phrase 'even if it is' (wa law) does not specify the Fatiha as a requirement for the validity of prayer. Instead, it emphasizes that reciting any part of the Quran fulfills the obligation of recitation. Therefore, Imam Abu Hanifa (may Allah have mercy on him) holds that reciting Surah Al-Fatiha in prayer is not obligatory but is necessary (wajib). However, according to some scholars, reciting Surah Al-Fatiha in prayer is obligatory.
Those who argue for the obligation of reciting Surah Al-Fatiha in prayer often cite the hadith: 'There is no prayer without the Fatiha of the Book.' This hadith suggests that prayer is not valid without the Fatiha, but it does not mean that the Fatiha is the only required part. Rather, it indicates that reciting the Fatiha is preferable. The intention is not to say that prayer is invalid without the Fatiha, but that prayer without the Fatiha is deficient and less meritorious. For example, the hadith 'There is no prayer for the neighbor of the mosque except in the mosque' indicates that the prayer of the neighbor of the mosque is not valid unless it is performed in the mosque, although it is agreed that the neighbor's prayer at home is valid but deficient and less meritorious. Similarly, the hadith 'There is no prayer without the Fatiha of the Book' does not imply that prayer is invalid without the Fatiha, but rather that it is deficient and less meritorious.
Another hadith that some use to argue for the obligation of reciting Surah Al-Fatiha in prayer is narrated by Zayd ibn Arqam (RA): 'There is no valid prayer in which a person does not recite the Fatiha of the Book.' However, this hadith is considered weak (shadh) because it is narrated only by Zayd ibn Arqam (RA). The additional words 'there is no valid prayer' are unique to his narration. In contrast, the hadith narrated by Ubada ibn Samit (RA) states: 'There is no prayer for one who does not recite...' (la salata liman lam yaqra'), which indicates that prayer is not valid without reciting the Quran. This supports the view that reciting any part of the Quran is obligatory in prayer.
Therefore, the narration of Zayd ibn Arqam (RA) is not reliable when compared to the narration of Ubada ibn Samit (RA), which is widely accepted. Hence, the argument that reciting Surah Al-Fatiha is obligatory in prayer based on Zayd ibn Arqam's narration is not valid. (This explanation is derived from the commentary of the hadith in Sharh al-Niqaya and Al-Mughni, and from Dar Qutni.)
البہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جو شخص کسی نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے
وہ نماز ناقص ہے-
(اس کی روایت صحاح ستہ نے کی ہے اور امام ماک، امام احمد، دار قطنب اور ترمذی نے بھی اس کی
روایت کی ہے-)
نماز میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کا ثبوت پر دوسری حدیث
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever performs a prayer without reciting Umm al-Qur’an (Al-Fatihah), it is deficient, deficient, deficient." [Narrated by the six compilers, Malik, Ahmad, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ ہروہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے ناقص ہے-
(اس کی روایت ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے-)
ف(1) واضح ہو کہ نماز میں بعض چیزیں فرض ہیں اور بعض واجب ہیں، فرض اور واجب کے
درمیان فرق یہ ہے کہ جو چیزیں فرض ہیں اگر وہ عمل آترک ہو جائیں تو یا سہو اور نوں صورتوں میں نماز باطل
ہو جائی گے اور کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، تاو فتح کے اس کا اعادہ نہ کیا جائے اس لے کر فرض ادا کے
بغیر نماز جائز نہیں ہوتی-
اس کے بر خلاف نماز میں واجبات ترک ہو جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے بلکہ ناقص ہوتی
ہے، واجب اگر سہو آترک ہوا ہے تو سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جائی گے اور اگر واجب عمل آترک ہوا ہو
تو نماز کا وظا ضروری ہے-
فرض اور واجب کے اس فرق کو پیش نظر رکھ کر نذکورہ بالا دو حدیثوں پر غور کیے۔
نذکورہ بالا دو حدیثیں اور ای طرح دوسری حدیثیں جو آگے آرہی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ
نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہیں بہ اس لیے کہ حدیث شریف میں خداج کالفظ آیہ جس کے
معنی نقص کے پینا اگر سورۃ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جس میں
سورۃ فاتحہ پڑھی گئی ہو فہیے باطلہ” (و نماز باطل ہے) فرماتے: “فہیے خداج” (و نماز نقص
ہے) نفرماتے، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں “فہیے خداج” فرمایہ اس لیے نماز نقص
ہوگی باطل نہیں ہوگی اس طرح حدیث شریف کے لفظ “خداج” سے ثابت ہوگیا کہ نماز میں سورۃ
فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے فرض نہیں ہے۔
(پیغمبر سعید را اخترار اور امتیاز کے بین السطور میں مخفی ہے)
ف (2): نذکورہ حدیثوں کے پیش نظر احناف کے پاس نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں
بلکہ واجب ہے اس سے بعض حضرات کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگی کہ کراحناف کے پاس سورۃ فاتحہ پڑھنے بغیر
بھی نماز جائز ہو جائے گی جلالکہ پیچھے نہیں ہے، اس لیے کراحناف نے بھی بھی پیچھے کہا کہ سورۃ فاتحہ
کے بغیر بھی نماز جائز ہو جائے گی۔
خفیوں کی فراست کا کیا کہنا کہ انہوں نے تو وہ کہا ہے جو حدیث شریف کا منشاء ہے، حدیث
شریف میں “خداج” کا جولفظ آیہ اس کے معنی نقص کے پینا اس لیے جس نماز میں سورۃ فاتحہ
پڑھی جائے تو وہ نقص ہے اور نماز کے اس نقص کو دور کرنے کے لیے سہواً سورۃ فاتحہ زکر ہو جائے تو
سیدہ سہو کیا جائے گا اور عمدہ سورۃ فاتحہ زکر کی گئی ہے تو نماز کا اعادہ ضروری ہو گا اور نہیں حتمی نہ ہو گی۔
البتہ جو حضرات حدیث کے لفظ “خداج” سے نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی صورت میں
نماز کے باطل ہونے کا حکم لگاتے ہیں وہ حدیث کے منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اس لیے کہ نقص چیز کو
معدوم نہیں کہا جاسکتا کیون کہ نقص اور معدوم میں بڑا فرق ہے معدوم تو باطل کو کہتے ہیں جس کا وجود نہیں
ہے ہے اور نقص ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو نقص کے ساتھ موجود ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ
نمازی کے سورۃ فاتحہ پڑھنے سے نماز نقص ہو جائے گی لیکن نماز ادا تو ہو جائے گی جغر نقص رہتی ہے اور اس نقص
کا سیدہ سہو سے یا اعادہ سے دور کیا جانا ضروری ہے، اس کے باوجود بھی خفیوں پر یا عترت افض کہی سورۃ فاتحہ کے بغیر
نماز کے درست ہونے کے قابل نہیں کیے جا سکتا ہے۔ (پیغمبر اور زہر المساک کے ماخوذ ہے)
It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every prayer in which Umm al-Kitab (Al-Fatihah) is not recited is deficient." [Narrated by Ibn Majah and Ibn Abi Shaybah]
In Al-Sa’ayah: These two narrations and similar ones indicate that Al-Fatihah is not a pillar (rukn). The term "khidaj" (with the kha’ voweled) means "deficient." If it were a pillar, the Prophet would have said, "It is invalid," because omitting a pillar invalidates the prayer. Deficiency, however, pertains to obligations (wajibat). Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory. (2)
(2) The statement: "Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory": In Awjaz al-Masalik, it is noted that many misunderstand the Hanafis as permitting prayer without Al-Fatihah, which greatly surprised Al-Hafiz in Al-Fath. In reality, the Hanafis never permitted prayer without Al-Fatihah. The Hanafis only stated, in line with the Hadith, that such a prayer is deficient and must be repeated. Those who claim the Hadith invalidates the prayer are mistaken, as deficiency does not equate to non-existence.
It is clear that in prayer, some things are obligatory (fard) and some are necessary (wajib). The difference between obligatory and necessary is that if the obligatory elements are omitted, the prayer becomes invalid in both cases of forgetfulness and intention, and it cannot be considered correct without their performance; hence, prayer is not valid without the obligatory elements. Conversely, if the necessary elements are omitted, the prayer does not become invalid but remains deficient. If a necessary element is omitted due to forgetfulness, the prayer is completed by performing the prostration of forgetfulness (sujud as-sahw). If a necessary element is intentionally omitted, the prayer must be repeated.
Considering this distinction between obligatory and necessary elements, reflect upon the two hadiths mentioned above. These two hadiths, along with others that follow, provide evidence that reciting Surah Al-Fatiha in prayer is necessary (wajib) because in the noble hadith, the phrase 'khalaj' (deficient) is used, which implies that if Surah Al-Fatiha were obligatory in prayer, the Prophet (peace be upon him) would have said, 'Fahya batilah' (the prayer is invalid) for a prayer where Surah Al-Fatiha was recited. Instead, he said, 'Fahya khalaj' (the prayer is deficient), indicating that the prayer is deficient but not invalid. Thus, it is established from the word 'khalaj' in the noble hadith that reciting Surah Al-Fatiha in prayer is necessary (wajib) and not obligatory (fard).
(There is a subtle distinction hidden in the words of the noble Prophet (peace be upon him))
Regarding the aforementioned hadiths, according to the Hanafi school, reciting Surah Al-Fatiha in prayer is not obligatory but necessary (wajib). This has led some to mistakenly believe that the Hanafis consider prayer valid even without reciting Surah Al-Fatiha, which is incorrect. Therefore, the Hanafis also state that prayer is not valid without reciting Surah Al-Fatiha.
What can be said about the insight of the learned is that they have stated what is implied by the noble hadith. In the noble hadith, the phrase 'khalaj' (deficient) is used, which means that a prayer where Surah Al-Fatiha is recited is deficient. To rectify this deficiency, if Surah Al-Fatiha is recited unintentionally, the prostration of forgetfulness (sujud as-sahw) is performed, and if it is recited intentionally, the prayer must be repeated and will not be considered complete. However, those who infer from the word 'khalaj' in the hadith that the prayer is invalid without reciting Surah Al-Fatiha are contradicting the implication of the hadith, because a deficient thing cannot be called non-existent, as there is a significant difference between deficiency and non-existence. Non-existence refers to something that does not exist, while deficiency refers to something that exists but with a flaw. It is also clear from the hadith that the prayer becomes deficient if Surah Al-Fatiha is not recited, but the prayer is still performed, albeit with a deficiency, and this deficiency must be rectified through the prostration of forgetfulness or repetition. Despite this, it cannot be claimed that a prayer without Surah Al-Fatiha is valid.
البسویعیر ضی اللہ علیہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ اور قرآن سے جوہو سکے (خواہ آیت ہو یا سورہ) پڑھنا حکم ہواہے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور اس حدیث کی اسانہ ہے۔)
It is narrated from Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) who said: "We were commanded to recite Al-Fatihah and whatever is easy (of the Qur’an)." [Narrated by Abu Dawud with a Sahih chain]
In a narration by Al-Tirmidhi and Ibn Majah: "There is no prayer for one who does not recite Al-Hamd (Al-Fatihah) and a Surah." In Ibn ‘Adiyy’s narration from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) said: "The obligatory prayer is not valid except with Al-Fatihah and three or more verses."
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
اور ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ نہ پڑھی تو اس کی نماز کامل نہیں ہوتی بلکہ ناقص ہوتی۔
It is narrated from Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) who said: "We were commanded to recite Al-Fatihah and whatever is easy (of the Qur’an)." [Narrated by Abu Dawud with a Sahih chain]
In a narration by Al-Tirmidhi and Ibn Majah: "There is no prayer for one who does not recite Al-Hamd (Al-Fatihah) and a Surah." In Ibn ‘Adiyy’s narration from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) said: "The obligatory prayer is not valid except with Al-Fatihah and three or more verses."
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
لا صَلَاۃَ إِلَّا بِقِرَاءَۃٍ۔
اور ابن عدی کی ایک روایت میں ابن عمر ضی اللہ علیہما سے مروی ہے، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ سورۃ فاتحہ اور کوئی تین آیتیں یا تین آیتون زیادہ کا پڑھنا نماز میں جوقرآت فرض ہے اس کے لے کافی ہے، (اس لے کر نماز میں مطلق قرآن کا پڑھنا فرض ہے، سورۃ فاتحہ اور کسی سورہ کا پڑھنا واجب ہے چوںکہ سورۃ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کی قرآت ہوچکی ہے، اس لے ان دونوں کی قرآت کے ضمن میں فرض قرآت ہی ادا ہوگی ہے۔)
ف: واضح ہو کہ نماز میں مطلق قرآت قرآن، سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتیں یا تین آیتون زیادہ کا پڑھنا ان میں مطلق قرآت قرآن کی فرضیت کے متعلق نص قرآنی اور روسری چیزوں کے وجوب کے متعلق جو حدثیں وارد ہوئی ہیں احتاف نے ان سب میں حسب ذیل طریقہ پر اس طرح تقسیم دی ہے کہ جس نے نص قرآنی اور ساری حدثیں پر عمل ہوجاتا ہے وہ یہ کہ نماز میں مطلق قرآت قرآن فرض ہے اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتون کا پڑھنا بھی واجب ہے۔ احتاف کے پاس نماز میں مطلق قرآت قرآن فرض ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ" (تم لوگ نماز میں قرآن سے جو پڑھو سکے پڑھیا کرو۔) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تم نماز میں قرآن سے جوہو سکے پڑھیا کریں اور یہ حکم مطلق ہے جو قرآن کے کسی خاص حصے مخصوص اور مقید نہیں ہے کہ جس کو نماز میں پڑھنا لازم کیا جائے، اس کی
تا سیر مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
قرأت قرآن کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔)
اس حدیث سے ہی نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔
جو حضرات نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دیتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ جب کسی
مسلماں دو حکم وارد ہوں جن میں (1) ایک مطلق ہواور (2) دوسرا مقید، تو اصولیین کے قاعدے کے
مطابق مطلق حکم سے مقید حکم مراد لیا جاتا ہے اور مطلق نہیں رکھا جاتا جیسے نماز میں قرأت کا مسلماں، اس
میں دو حکم وارد ہیں، ایک مطلق ہے جوآیت "فَاْقُرْءُ وَا مَا تَیَّسَرَ مِنَ الْقُرْآنِ" سے ثابت ہوتا ہے
کہ نماز میں مطلق قرآن کا پڑھنا فرض ہے اور دوسرا حکم حدیث "لا صَلَاۃَ إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ"
سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قرأت کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس لیے وہ حضرات جن کے پاس
نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے وہ اس اصولی قاعدے کے تحت اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ
آیت "فَاْقُرْءُ وَا مَا تَیَّسَرَ مِنَ الْقُرْآنِ" میں جو مطلق قرأت کا حکم ہے اس سے مراد حدیث شریف
کا مقید حکم ہی ہے جو "لا صَلَاۃَ إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ" سے معلوم ہورہاہے، اس طرح یہاں دو حکم
علیہ دہیہ نہیں بلکہ ایک ہی حکم ہے جو میں مطلق بیان کیا گیا اور کہیں مقیداًوراہی بناء پران حضرات
کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا آیت اور حدیث دونوں سے فرض قرار پاتا ہے۔
حتی حضرات اس کا جواب بردیتے ہیں کہ مطلق حکم اور مقید حکم سے ایک ہی چیز ای وقت مراد
ہوسکتی ہے جبکہ دونوں حکم کے ماخذ قوت میں برابر ہوں، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ مطلق قرأت تو
قرآن سے ثابت ہورہی ہے اور سورہ فاتحہ کی قرأت خبر واحدتے آگا آیت اور حدیث دونوں سے ایک
ہی حکم مراد لیا جاتے تو قرآن کے مطلق حکم پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی لازم آجاتی ہے حالا نکہ کتاب اللہ
پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی جائز نہیں ہے، اس لیے یہاں مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد نہیں
لے کے ہیں پھر وہ جس کہتم نے مطلق کو مطلق رکھ کر جگہ حکم کتاب اللہ نماز میں مطلق قرأت کو فرض قرار
دیا اور مقید حکم یعنی سورہ فاتحہ کی قرآت کو خبر و احد سے ثابت ہونے کی وجہ سے واجب قرآر دیا، اس طرح
ہم نے قرآن اور حدیث دونوں پر عمل کیا۔
اس کے قطع نظر مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد لے کر نماز میں سورہ فاتحہ کو فرض قرار
دیا تو وہ حضرات جن کے پاس سورہ فاتحہ کی قرآت فرض سے ان پر لازم آجے گا کہ سورہ کی قرآت کو
جبی فرض قرآر دی، اس لے کہ جن حدیثوں میں سورہ فاتحہ کا ذکر ہے ان میں ضم سورہ کا بھی ذکر موجود
ہے، حالاکہ یہ حضرات ضم سورہ کی قرآت کو سنت قرآر دیتے ہیں، اس کے برخلاف تم مطلق اور مقید کو
علیحدہ علیحدہ دو حکم قرآر دے کر آیت سے مطلق قرآت کی فرضیت ثابت کرتے ہیں اور حدیث سے جس
طرح سورہ فاتحہ کی قرآت کو واجب کیتے ہیں، ایسا کہ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زائد آئتوں کو
جبی واجب قرآر دیتے ہیں۔
نذورہ بالا توضیحات سے ثابت ہوگیا کہ حدیث "لا صلوۃ إلا بفاتحة الكتاب" چوکہ خبر
واحد سے لے یہ حدیث قوت میں آیت: "فاقرء وا ما تيسر من القرآن" کے برابر نہیں ہوسکتی
جس کی وجہ سے آیت کے مطلق حکم کو مقید کر کے جا سکتا۔
اگر کوئی کہے کہ حدیث "لا صلوۃ إلا بفاتحة الكتاب" خبر و احد کے بلکہ خبر مشہور کے
اس لے اس حدیث سے آیت "فاقرء وا ما تيسر من القرآن" کے مطلق حکم کو مقید کر جا سکتا۔
تو اس کے دو جواب ہیں:
(1) ایک جواب تو یہ کہ "لا صلوۃ إلا بفاتحة الكتاب" کواس لے خبر مشہور نہیں کہا
جا سکتا کہ کتا لعبیں کے درمیان اس حدیث کے مشہور ہونے میں اختلاف ہے اور سب تا لعبیں نے اس
حدیث کو قبول نہیں کیا ہے اور خبر مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو سب تا لعبیں قبول کر لیے اگر "لا صلوۃ
إلا بفاتحة الكتاب" کاخبر مشہور ہونا تو ہوتا تو اس حدیث سے آیت "لا صلوۃ إلا بفاتحة
الكتاب" کے حکم مطلق کو مقید کر کے نماز میں سورہ فاتحہ کی فرضیت کی جا سکتی ہیں جب "لا صلوۃ إلا بفاتحة
الكتاب" کاخبر مشہور ہونا ثابت نہیں ہوا تو خبر و احد کو لی اور طاہر ہے کہ خبر و احد کتاب اللہ کے حکم مطلق کو مقید
نہیں کیا جا سکتا، اس لے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرآت کا فرض ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
(2) دومرا جواب یہ کہ بالفرض اگر حدیث "لا صلوۃ إلا بفاتحة الكتاب" کو خبر مشہور
سلیم کر لیا جاے تو اس کے باوجود کچھ آیت " فاقرء واما تیسر میں القرآن " کے حکم مطلق کواس
حدیث سے مقید نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ کہ خبر مشہور سے کسی آیت کے حکم مطلق کواس وقت مقید
کر سکتے ہیں جبکہ وہ خبر مشہور محکم ہوئی۔ اس سے ایک بھی معنی مراد لے جاتے ہوں، اوراس میں دوسروں
معنی کا اختیار نہ ہو، یہ حال ایسا نہیں ہے کہ کوئی کہدے ہیں " لا صلوۃ الا بفاتحة الکتاب " میں دو
معنول کا اختیار موجود ہے ایک معنی تویہ کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور دوسرا معنی یہ ہے
کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں بلکہ نقص ہوتی ہے اوراس دوسروں معنی کی نظیر حدیث " لا صلوۃ
لجار المسجد الا فی المسجد " سے کہمسجدا کے پڑوس کی نماز مسجد کے بغیر نہیں ہوتی حالاگہ
اس حدیث سے معنی یہ نہیں مراد نہیں ہے بلکہ سب کا سبات پر انفاق ہے کہ مسجد کے پڑوسی
کی نماز گھر میں ادا تو ہوجائے گی مگر نقص اور غیر افضل رہتی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ حدیث " لا
صلوۃ الا بفاتحة الکتاب " میں ذکورہ دونوں معنول کا اختیار ہے اور ایک مشہور حدیث جس میں دو
معنول کا اختیار پایا جاتا ہے وہ کسی آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کرسکتی -
اس طرح ثابت ہوا کہ حدیث " لا صلوۃ الا بفاتحة الکتاب " کے ذریعہ آیت " فاقرء
واما تیسر میں القرآن " کے مطلق حکم کو مقید کر کے نماز میں سورۃ فاتحہ کی قرأت کوفرض قرار دیا ہے ست
نہیں بلکہ آیت ذکورہ کے لحاظ سے نماز میں مطلق قرآن قرأت فرض ہے اور حدیث کے لحاظ سے نماز
میں سورۃ فاتحہ کے ضم سورہ میں تین یا تین سے زیادہ آیتوں کا پڑھنا واجب ہے اور کیا نہہے حقی
ہے -(عمدۃ القاری، مرقات -)
نماز میں سورۃ فاتحہ اور ضم سورہ واجب ہونے کے ثبوت پر دوسری حدیث
It is narrated from Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) who said: "We were commanded to recite Al-Fatihah and whatever is easy (of the Qur’an)." [Narrated by Abu Dawud with a Sahih chain]
In a narration by Al-Tirmidhi and Ibn Majah: "There is no prayer for one who does not recite Al-Hamd (Al-Fatihah) and a Surah." In Ibn ‘Adiyy’s narration from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) said: "The obligatory prayer is not valid except with Al-Fatihah and three or more verses."
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
It is for this reason that reading the entire Quran in prayer is obligatory, and reciting Surah Al-Fatiha along with another surah is necessary, because both Surah Al-Fatiha and the additional surah have been recited, thereby fulfilling the obligation of recitation. It is clear that in prayer, the absolute recitation of the Quran, Surah Al-Fatiha, and either an additional surah or three or more verses of an additional surah are obligatory. The Quranic verse and the prophetic traditions that have been narrated regarding the necessity of these obligations have been divided by the scholars as follows: Whoever acts upon the Quranic verse and all the traditions, it means that the absolute recitation of the Quran in prayer is obligatory, and reciting Surah Al-Fatiha is necessary, and reciting an additional surah or three or more verses of an additional surah along with Surah Al-Fatiha is also necessary. The evidence for the obligation of the absolute recitation of the Quran in prayer is Allah's command: 'So recite what is easy of the Quran' (Quran 73:20). In this verse, Allah commands to recite whatever can be recited from the Quran in prayer, and this command is absolute, not limited to any specific part of the Quran that must be recited in prayer. This is further clarified by the following tradition: Abu Hurairah (RA) narrates that the Messenger of Allah (SAW) said: 'There is no prayer without the recitation of the Quran.' From this tradition, it is established that the absolute recitation in prayer is obligatory. Those who consider the recitation of Surah Al-Fatiha in prayer as obligatory base their argument on the principle that when two commands are given to a Muslim, one being absolute and the other being limited, according to the principles of jurisprudence, the limited command is intended by the absolute command, not the absolute itself. For example, in prayer, there are two commands: one absolute, which is established by the verse 'So recite what is easy of the Quran,' indicating that the absolute recitation of the Quran in prayer is obligatory; and the second, which is limited, as indicated by the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book,' meaning that there is no prayer without the recitation of Surah Al-Fatiha. Therefore, those who consider the recitation of Surah Al-Fatiha in prayer as obligatory argue that the absolute command in the verse 'So recite what is easy of the Quran' refers to the limited command established by the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book.' Thus, there is no contradiction between the two commands but rather a single command that is expressed absolutely and then specified. Consequently, the recitation of Surah Al-Fatiha in prayer is considered obligatory based on both the verse and the tradition. However, some scholars respond that the absolute and limited commands can refer to the same thing only if both sources of the commands are equally strong. Here, that is not the case because the absolute recitation is established by the Quran, while the recitation of Surah Al-Fatiha is established by a single tradition. If both commands were taken to mean the same thing, it would imply an addition to the absolute command of the Quran through a single tradition, which is not permissible. Therefore, they do not take the absolute and limited commands to mean the same thing. Instead, those who maintain the absolute command as absolute and place the command of the Quran to recite the Quran absolutely in prayer, and the limited command, i.e., the recitation of Surah Al-Fatiha, as necessary based on the single tradition, thereby acting upon both the Quran and the tradition. Regardless, if the absolute and limited commands are taken to mean the same thing, making the recitation of Surah Al-Fatiha obligatory in prayer, then those who consider the recitation of Surah Al-Fatiha as obligatory will find it necessary to also consider the recitation of an additional surah as obligatory, since the traditions mentioning Surah Al-Fatiha also mention an additional surah. Although they consider the recitation of an additional surah as a sunnah, those who treat the absolute and limited commands as separate commands establish the obligation of absolute recitation from the verse and make the recitation of Surah Al-Fatiha necessary from the tradition, and similarly, the recitation of an additional surah or three or more verses of an additional surah as necessary. From the above explanations, it is evident that the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book,' although a single tradition, cannot be equal in strength to the verse 'So recite what is easy of the Quran,' and thus cannot limit the absolute command of the verse. If someone argues that the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book' is a well-known tradition and can therefore limit the absolute command of the verse 'So recite what is easy of the Quran,' there are two responses: (1) One response is that 'There is no prayer except with the opening of the Book' cannot be considered a well-known tradition because there is disagreement among the scholars about its widespread acceptance, and not all scholars have accepted it. If it were a well-known tradition, it could limit the absolute command of the verse 'There is no prayer except with the opening of the Book,' making the recitation of Surah Al-Fatiha obligatory in prayer. Since it is not established as a well-known tradition, it remains a single tradition, and it is clear that a single tradition cannot limit the absolute command of the Quran, and thus the recitation of Surah Al-Fatiha in prayer is not established as obligatory by this tradition. (2) Another response is that even if the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book' were considered a well-known tradition, it still cannot limit the absolute command of the verse 'So recite what is easy of the Quran.' This is because a well-known tradition can limit the absolute command of a verse only if it is definitive and leaves no room for alternative interpretations. However, the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book' allows for two interpretations: one, that there is no prayer without Surah Al-Fatiha, and two, that the prayer is incomplete without Surah Al-Fatiha. An example of a similar tradition is 'There is no prayer in the neighborhood of the mosque except in the mosque,' which does not mean that prayer cannot be performed at home but rather that it is deficient and less preferable. Thus, the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book' allows for multiple interpretations and cannot limit the absolute command of the verse. Therefore, it is established that the tradition 'There is no prayer except with the opening of the Book' does not limit the absolute command of the verse 'So recite what is easy of the Quran,' making the absolute recitation of the Quran in prayer obligatory according to the verse, and the recitation of Surah Al-Fatiha along with an additional surah or three or more verses of an additional surah necessary according to the tradition. And this is the correct view. (Umdatul Qari, Mirqat)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے
ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے (نماز میں) سورۃ فاتحہ اور اس پر قرآن
کا پڑھ حصر زیادہ کر کے نہ پڑھاتا سکی نماز کامل نہیں ہوتی نقص ہوتی -
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے -)
ف : اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا پڑھنا واجب ہے -
فرض نماز ول میں سورۃ فاتحا ور ضم سورہ کرنے کا بیان
It is narrated from ‘Ubadah ibn al-Samit (may Allah be pleased with him) attributing it to the Prophet (peace be upon him): "There is no prayer for one who does not recite Al-Fatihah or more."
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (چار رکعت والی فرض نماز کی ) پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ ضم کر لیا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے، جابر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہمارے زمانے میں یہ بات مشہور تھی کہ نماز میں سورۃ فاتحاوراس کے ساتھ ضم سورہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہوتی - (اس کی روایت تہقیق نہیں ہے-)
ف(1): اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نے فرمايہ کہ اس زمانے میں یہ بات مشہور تھی کہ سورۃ فاتحاور ضم سورہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہوتی اس سے ثابت ہے کہ سورۃ فاتحاور ضم سورہ کاہر نماز میں پڑھنا اجب ہے خواہ وہ نماز وتر ہو یا صبح یا ظہر ان تمام نماز ول کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحاور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہوگا، البتہ جابر رضی اللہ عنہ کی نذورہ بالا حدیث سے پی ثابت ہوتا ہے کہ فرض کی چار رکعت والی نماز یا تین رکعت والی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحاور ضم سورہ دونوں کا پڑھنا ضروری ہوگا اور آخری دو ایک رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھ لینا کافی ہے۔ اس حدیث سے پی ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحاور ضم سورہ پڑھنے کے لے فرض کی پہلی دو رکعتوں کو میں کر لینا اجب ہے اگر کی نے سورۃ فاتحاور ضم سورہ یا ن میں سے کی ایک کو فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا بجول گیا اور ان کی آخری دو رکعتوں میں پڑھ لیا تو چونکہ اس نے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحاور ضم سورہ پڑھنا جو واجب تھا سہو اترک کر دیا ہے اس وجہ سے اس کو سہو کرنا ضروری ہوگا (عمدۃ القاری، ردالختار)۔ نذور الصدر حدیث جو جابر رضی اللہ عنہ سے مردی ہے اس کو عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحاوراس
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) would recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." He added: "We used to discuss that no prayer is valid except with Surah Al-Fatihah and something additional to it." [Narrated by Al-Bayhaqi] (2)
It is also narrated by Ubaydullah ibn Miqsam from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that he said: "The Sunnah of recitation in prayer is to recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." Sufyan added: "This is for one who prays alone." [Narrated by Abu Dawud]
Al-Tirmidhi said: "As for Ahmad ibn Hanbal, he said that the meaning of the Prophet’s (peace be upon him) statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' applies when praying alone." He argued with the Hadith of Jabir ibn Abdullah, where he said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." Ahmad said: "This is a companion of the Prophet (peace be upon him) interpreting the Prophet’s statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' as applying to one who prays alone."
(2) The statement: "Narrated by Al-Bayhaqi": All its narrators are trustworthy except Abu Ghanim Azhar ibn Ahmad ibn Hamdun, the teacher of Al-Hakim. Al-Bayhaqi mentioned him in a context of reliance, so he is acceptable according to him. This is an explicit text indicating the impermissibility of prayer without adding something to Surah Al-Fatihah. Jabir explained this addition as a Surah. It also indicates that Surah Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as Jabir equated it with the Sunnah of reciting a Surah, treating them equally. [Summarized from I’la al-Sunan]
کے ساتھ کسی سورہ کو ضم کرنا اور آخری دور کے تول میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھنا سنن ہے (یعنی فرض نہیں
ہے۔)
ف(2): عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک تو یہ
ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ارکین فرض نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے ذکورہ
حدیث میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو ضم سورہ کی طرح سنن قرار دیا ہے۔ فرض نہیں کہا ہے اور طاہر ہے کہ
کسی صحابی کا کسی چیز کو سننے قرار دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ چیز فرض نہیں ہوسکتی، بہال بیات
واضح رہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کو جو سننے قرار دیا گیا ہے اس سے پیلا زمین آتا کر ان کا پڑھنا
واجب نہیں ہے اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں عام طور پر دو اصطلاحیں تھیں، ایک فرض
دوسری سنن، اور سنن میں فرض کے سوا ہر چیز داخل تھی، خواہ وہ واجب ہو یا سنن مؤكد یا غیر مؤكد ہو
یا نفل، فرض ان تمام چیزوں پرسنت کا اطلاق ہوتا تھا چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ کا اس حدیث میں سورہ فاتحہ
اور ضم سورہ کو سننے کہنا ایک معنی میں یہاں کے فرض نہیں ہیں، یعنی واجب نہیں۔
علاوہ از یہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے واجب ہونے کے متعلق حدیثیں ابھی اوپر گذر چکی ہیں۔
عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دوسرا چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح نماز
میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اس طرح ضم سورہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ
نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا ذکر ایک جی مثبت سے کیا ہے۔
(پیغمبر ﷺ اعلاء اسفن سے ماخوذ ہے۔)
عبادہ بن صامت اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی ذکورہ حدیث سے واضح ہوگیا کہ نماز میں
سورۃ فاتحہ اور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہے اور ان دونوں کے بغیر نماز جائز نہیں اس کی توثیق میں حضرت
سفیان ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ان ذکورہ حدیث کا حکم اس شخص کے لیے ہے جو تہا نماز پڑھنے
رہا ہو۔ (مقتری کے لیے) یعنی اس لیے کہ مقتری کو خاموش رہنا چاہئے۔)
حضرت سفیان کے اس قول کی روایت ابوداود نے اپنی سنن میں کی ہے۔
واضح ہوگیا کہ ذکورہ بالا حدیث کی توثیق میں جس طرح ابوداود نے اپنی سنن میں حضرت سفیان
بن عیینہ کا قول لقل کیا ہے اس طرح ترنزی نے بھی اپنی سنن میں حدیث لاصل وادہ لمن لم یقرء
بفاتحة الكتاب، کے متعلق امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا قول لقل کیا ہے کہ یہ حدیث تہا نماز
پڑھنے والے سے متعلقہ مقتدی سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے۔
نیز ترنڈی نے بیچی کہ حاہے کرامام احمد بن حنبل نے اس خصوص میں جابر ابن عبد اللہ رضی اللہ
عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے و حدیث یہ ہے: "مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَءْ فِيهَا بَأْمِ
الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يُكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ"۔
(جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، مگر اگر کس شخص کے لئے جو
(تنہا ہو) اور امام کے پیچے (مقتدی کی حالت میں) نہ ہو-
امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس ارشاد کا صلوۃ الالفاتحة الكتاب کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث تبھا نماز پڑھنے
والے سے متعلق ہے-
واضح ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملتکول نہیں ہیں
سکتا اور جب جابر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکور ارشاد کی تفسیر کی ہے
کہ یہ حدیث تبھا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے تو یہ کہ مقتدی سے متعلق نہ ہوگا- (یہ مضمون ترنڈی
سے ماخوذ ہے-)
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) would recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." He added: "We used to discuss that no prayer is valid except with Surah Al-Fatihah and something additional to it." [Narrated by Al-Bayhaqi] (2)
It is also narrated by Ubaydullah ibn Miqsam from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that he said: "The Sunnah of recitation in prayer is to recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." Sufyan added: "This is for one who prays alone." [Narrated by Abu Dawud]
Al-Tirmidhi said: "As for Ahmad ibn Hanbal, he said that the meaning of the Prophet’s (peace be upon him) statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' applies when praying alone." He argued with the Hadith of Jabir ibn Abdullah, where he said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." Ahmad said: "This is a companion of the Prophet (peace be upon him) interpreting the Prophet’s statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' as applying to one who prays alone."
(2) The statement: "Narrated by Al-Bayhaqi": All its narrators are trustworthy except Abu Ghanim Azhar ibn Ahmad ibn Hamdun, the teacher of Al-Hakim. Al-Bayhaqi mentioned him in a context of reliance, so he is acceptable according to him. This is an explicit text indicating the impermissibility of prayer without adding something to Surah Al-Fatihah. Jabir explained this addition as a Surah. It also indicates that Surah Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as Jabir equated it with the Sunnah of reciting a Surah, treating them equally. [Summarized from I’la al-Sunan]
From this hadith narrated by 'Ubayd Allah ibn Maqsim (RA), two things are established. One is that reciting Surah Al-Fatiha in prayer is not an essential pillar of the obligatory prayer. The reason for this is that Jabir (RA) has classified the recitation of Surah Al-Fatiha and additional surahs as Sunnah in the mentioned hadith, without categorizing them as Fard (obligatory). It is clear that if a Companion classifies something as Sunnah, it strongly indicates that it cannot be Fard. It should be noted that the recitation of Surah Al-Fatiha and additional surahs, which are classified as Sunnah, does not make their recitation Wajib (necessary). This is because during the time of the noble Companions (RA), there were generally two terminologies used: Fard and Sunnah. Sunnah included everything other than Fard, whether it was Wajib, Sunnah Mu'akkadah (emphasized), non-emphasized, or Nafl (voluntary). Therefore, when Jabir (RA) states in this hadith that Surah Al-Fatiha and additional surahs are Sunnah, it means they are not Fard, i.e., not necessary.
Moreover, hadiths regarding the necessity of Surah Al-Fatiha and additional surahs have already been discussed above.
The second thing established from this hadith of 'Ubayd Allah ibn Maqsim (RA) is that just as the recitation of Surah Al-Fatiha in prayer is necessary, the recitation of an additional surah is also necessary, because Jabir (RA) mentioned both Surah Al-Fatiha and additional surahs together.
From the hadiths of 'Ubada ibn Samit and Jabir ibn Abdullah (RA), it is clear that the recitation of Surah Al-Fatiha and an additional surah in prayer is essential, and prayer without them is not valid. In support of this, Sufyan ibn 'Uyaynah (RA) stated that these hadiths apply to a person who is leading the prayer (imam). (For the follower) meaning that the follower must remain silent.
Abu Dawud has reported this statement of Sufyan ibn 'Uyaynah (RA) in his Sunan.
It is evident that just as Abu Dawud has cited the statement of Sufyan ibn 'Uyaynah (RA) in support of the aforementioned hadith, Tirmidhi has also cited the statement of Imam Ahmad ibn Hanbal (RA) in his Sunan regarding the hadith: 'Whoever performs a rak'ah without reciting the Umm al-Kitab (Surah Al-Fatiha) has not performed the prayer,' stating that this hadith applies to a person leading the prayer and not to the follower, because the follower must remain silent.
Furthermore, Tirmidhi mentions that Imam Ahmad ibn Hanbal (RA) has used the hadith of Jabir ibn Abdullah (RA) as evidence in this context. The hadith is: 'Whoever performs a rak'ah without reciting the Umm al-Kitab (Surah Al-Fatiha) has not performed the prayer, except if he is behind the imam.'
Imam Ahmad ibn Hanbal (RA) states that Jabir ibn Abdullah (RA) has interpreted the guidance of the Prophet (peace be upon him) in the explanation of the recitation of Surah Al-Fatiha, saying that this hadith applies to a person leading the prayer.
It is clear that the guidance of the Prophet (peace be upon him) cannot be contradicted by the Companions (RA). Since Jabir (RA) has interpreted the guidance of the Prophet (peace be upon him) to mean that this hadith applies to a person leading the prayer, it cannot apply to the follower, (this point is taken from Tirmidhi).
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جو شخص نماز میں
سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، مگر اگر کس شخص کے لئے جو (تنہا ہو) اور امام کے پیچے
مقتدی کی حالت میں نہ ہو-
(اس کی روایت ترنڈی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، نیز امام محمد، امام مالک
اور ابن الی شیبہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرے نے کے ثبوت پر دوسرا حدیث
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This Hadith is Hasan Sahih." While Muhammad (Al-Shaybani), Malik, and Ibn Abi Shaybah narrated something similar]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے سورۃ فاتحہ کی پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی گی کہ اس شخص کے لیے جو (تھا ہوا رام میں چپے (مقتدی کی حالت میں نہیں )اس لے کر مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے )-
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
ف:قرأت خلف الامام کے بارے میں جتنی حدیثیں آئی ہیں وہ امام اور منفرد کی قرأت سے متعلق ہیں، اس لے ان احادیث سے مقتدی کے لیے کچھ قرأت کا وجوب ثابت کرنا درست نہیں، ابتداً اسلام میں مقتدی کے لیے کچھ سورۃ فاتحہ اور ضم سورہ کی قرأت جائز تھی پھر ضم سورہ کی قرأت منسوخ ہوگی اور مقتدی کے لیے جوسورہ فاتحہ کی قرأت باقی تھی وہ کچھ بعد از لا منسوخ ہوگی - اب مقتدی کون تو سورہ فاتحہ پڑھنا چاہے اور نہ ضم سورہ-
(پراوجز المسالک میں ذکور ہے-)
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر قیسری حدیث
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This Hadith is Hasan Sahih." While Muhammad (Al-Shaybani), Malik, and Ibn Abi Shaybah narrated something similar]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا کہ جو شخص بغیر سورہ فاتحہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز ناقص ہے لیکن یہ کہ اس مقتدی کے لیے نہیں ہے جو امام کے پیچے نماز پڑھ رہا ہے -(اس کو تو خاموش رہنا ضروری ہے-)(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر چوگی حدیث
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This Hadith is Hasan Sahih." While Muhammad (Al-Shaybani), Malik, and Ibn Abi Shaybah narrated something similar]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز پڑھے تو نماز (تنک واجب کی وجہ ہے )اس کو کافی نہ ہوگی گر یہ کہ اس مقتدی کے لیے نہیں ہے جو امام کے پیچے ہو (اس لے کر مقتدی کو سورۃ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں-)(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ایک چھوٹی حدیث
It is also narrated from Jabir (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace be upon him), who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." [Narrated by Al-Tahawi]
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایس شخص کے متعلق دریافت کیا جو امام کے پیچے پڑتا ہوا ( نے سورہ فاتحہ کو اور سورہ ) کیاس کے لیکافی ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکافی ہے۔
( اس کی روایت تیہتی نے کی ہے۔ )
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے ثبوت پر چھوٹی حدیث
On the authority of Abu Sa’id, he said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about a man praying behind the imam without reciting anything. Would that suffice him? He said: "Yes." [Narrated by Al-Bayhaqi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہروہ نماز جس میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے وہ نماز ( ترک واجب کی وجہ سے ) کامل نہیں ہوتی، بگر بیحم مقتدی کے لیے نہیں ہے جو امام کے پیچے ہو۔ ( اس لے کہ مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ ) ( اس کی روایت تیہتی نے کی ہے۔ )
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پرساتوی حدیث
On his authority: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever performs a prayer in which he does not recite the Mother of the Book, it is incomplete, except behind the imam." (1) [Narrated by Al-Bayhaqi]
(1) His saying: "Except behind the imam": Sheikh Al-Janjuhawi said that the narrations regarding recitation behind the imam cannot be used as evidence to obligate the follower's recitation. Initially, the follower was permitted to recite in prayer, then this was abrogated while allowing the recitation of Al-Fatihah, and then it was completely abrogated. This is mentioned in Aujaz Al-Masalik.
کثیر بن مرة حضری رضی اللہ عنہ ابود رداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہول نے ابود رداء رضی اللہ عنہ کو پر کیہے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا گیا کہ کیا ہر نماز میں قرآن ت ضروری ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بال ( اس پر ) انصار میں تے ایک شخص نے عرض کیا کہ اب قرآن تہر نماز میں فرض ہوتی ( پین کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اس وقت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب تر تھا، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا و رکھو! امام جب لوگوں کی امامت کرے تو اس کی قرآن تمقدیوں کی قرآن تکے کے باکل کافی ہے۔ ( مقتدیوں کو پھر قرآن تکرنے کی ضرورت نہیں۔ ) ( اس کی روایت نسائی، طحاوی اور تہتی نے کی ہے۔ ) اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث تشریف سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کی قرآن تمقدی
کے لئے کافی ہے۔ (اس کو خود قرآن کے نے کے ثبوت پر آہوی حدیث
مقتدی کے قرآن کے خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر آہوی حدیث
On the authority of Kathir bin Murrah Al-Hadrami, from Abu Darda, who heard him say: The Messenger of Allah ﷺ was asked: "Is there recitation in every prayer?" He said: "Yes." A man from the Ansar asked: "Is this obligatory?" He turned to me, as I was the closest among the people to him, and said: "I do not see that the imam, when he leads the people in prayer, has not sufficed them." [Narrated by Al-Nasa’i, At-Tahawi, and Al-Bayhaqi]
Al-Nasa’i said: "It indicates that the follower is sufficed with the recitation of the imam."
ابوبهریہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایس نماز
سے جس میں قرآن جہر کی جائے ہے فارغ ہو کر فرماتے کیا تم میں سے ایک کوئی میرے ساتھ
قرآن پڑھ رہا تھا؟ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ بلال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پڑھ رہا تھا
(پیس کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس لئے تو میں مجھی (دل میں) کہہ رہا تھا کہ نماز
میں میرے ساتھ قرآن کی کشاکش کیونہ ہوری ہے۔ (یعنی قرآن کے ذریعہ میں لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ کرتا ہوں اور لوگ قرآن پڑھ کر مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں) جب اس حکم کو لوگوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تو حضور کے پیچھے مقتدی ہو کر جہری نماز میں قرآن (خواہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی
اور سورہ) کا پڑھنا ترک کر دیا۔ (اس کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد، امام احمد، امام ماک اور امام محمد
نے کی ہے اور ابن ماجہ نے مجھی اس طرح روایت کی ہے اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس
بات کا ثبوت ہے کہ جس نماز میں قرآن کے باجہر کی جائے اس میں مقتدی (امام کے پیچھے) قرآن کے
کے۔
مقتدی کے قرآن کے خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر نوی حدیث
The Messenger of Allah ﷺ would complete a prayer in which the Qur'an was recited silently and then say, 'Was any one of you reciting the Qur'an with me?' A man then said, 'O Messenger of Allah ﷺ, I was reciting with you.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'I was saying to myself, why does he engage in recitation of the Qur'an with me in prayer? (meaning, I am trying to draw people's attention through the Qur'an, and they are trying to draw me towards them by reciting the Qur'an.)' When the people heard this command from the Messenger of Allah ﷺ, they stopped reciting the Qur'an (whether it be Surah Al-Fatihah or any other surah) in silent prayers when following behind him. (This narration is reported by Nasa'i, Tirmidhi, Abu Dawud, Imam Ahmad, Imam Maqal, and Imam Muhammad, and Ibn Majah has narrated it in this manner. Nasa'i has stated that this hadith provides evidence that in the prayer where the Qur'an is recited silently, the follower (behind the imam) should not recite the Qur'an along with the imam.)
ابوبهریہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ لہذا اجب وہ اللہ اکبر کہ توتعم
مجھی اللہ اکبر کہو، اور جب امام قرآن کے توتعم خاموش رہو۔ (اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن
مجہ نے کی ہے۔) اور یہ حدیث مجھے اور طحاوی نے مجھی اس طرح روایت کی ہے۔
On his authority, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir; and when he recites, listen attentively." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
This is an authentic hadith, and At-Tahawi narrated a similar report.
In a narration of Muslim from Abu Huraira and Qatadah: "And when he recites, listen attentively."
In another narration of his: "And when he says,
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
, say Ameen."
Ali Al-Qari said: "This implies the necessity of silence and listening."
It was said: "This indicates that the follower does not recite Al-Fatihah; otherwise, it would have been more appropriate to say: 'When one of you says
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِيْنَ
, then say Ameen.'"
اور مسلم کی ایک روایت میں ابوبهریہ اور قتادہ رضی اللہ عنہما سے روی ہے کہ امام
جب قرآت کر لے تو تم خاموش رہو۔
when he recites, you should remain silent.
عَلَیْهِمْ وَلا الضَّالِّینَ ، کہ تو تم آمین کہو۔
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مقتدی کے لئے سکوت اختیار کرنا اور امام کی قرآت کو خاموشی سے سن کی طرف اشارہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ مقتدی سورہ فاتحہ پڑھنے لئے کہا گیا ہے کہ امام جب سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے "وَلا الضَّالِّینَ" پڑھے تو مقتدی آمین کہ اگر بیانات نہ ہوئی تو اس کے جواب پول کہا جاتا کہ تم میں کہا ہرا کی (مقتدی ہو یا امام)، "وَلا الضَّالِّینَ" تک پڑھ تو آمین کہ اپنے کہر جب پڑھا گیا کر امام "غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلا الضَّالِّینَ" کہ تو تم آمین کہوا سے ثابت ہوا کہ مقتدی کوسورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خاموشی سے امام کی قرآت سنے رہیں۔
مقتدی کے قرآت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پروسوی حدیث
On his authority, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir; and when he recites, listen attentively." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
This is an authentic hadith, and At-Tahawi narrated a similar report.
In a narration of Muslim from Abu Huraira and Qatadah: "And when he recites, listen attentively."
In another narration of his: "And when he says,
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
, say Ameen."
Ali Al-Qari said: "This implies the necessity of silence and listening."
It was said: "This indicates that the follower does not recite Al-Fatihah; otherwise, it would have been more appropriate to say: 'When one of you says
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِيْنَ
, then say Ameen.'"
انس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہوئے نے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ جب امام قرآت کر رہا ہوتا کیا تم جی اس وقت قرآت کیا کرتے ہو؟ سب نے سکوت اختیار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے اس طرح تین دفعہ دریافت فرمایا سب نے عرض کیا جی بلال! ہم جی امام کے ساتھ قرآت کیا کرتے ہیں (اس پر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ (جب تم مقتدی ہوئے) تو امام کے پیچھے قرآت نہ کیا کرو۔ (اس کی روایت امام طاوی نے کی ہے۔)
مقتدی کے قرآت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت برگیارہویں حدیث
On the authority of Anas, he said: The Messenger of Allah ﷺ prayed, then turned towards the people and said: "Do you recite while the imam is reciting?" They remained silent. He asked them three times, and they replied: "Indeed, we do." He said: "Then do not do so." [Narrated by At-Tahawi]
ابن عمر و بیاضی رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازی اپنے پروردگار سے (نماز میں) راز و نیاز کرتارہتا ہے، پس وہ غور کر لے کر اپنے پروردگار سے کیا راز و نیاز کرتارہتا ہے، پس وہ غور کر لے کر اپنے پروردگار سے کیا راز و نیاز کردیاہے؟اس لے تم (سب مقتدی) ایک دوم سے پر باواز بلند قرآن کر کے (نماز کے راز و نیاز میں خلل مت دوالو بلکہ) سب خاموش رہاکرو۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ف: واضح رہے کہ قرآن اور حدیث سے پی ثابت ہو چکا ہے کہ مقتدی جہری اورسری ہردو نمازول میں امام کے پیچے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور نکوئی اورسورت، پیش لیلیین تحسین جن کو آپ سے پڑھ اباس پر عقلی دلیل امام طحاوی رضی اللہ عنہ سے سنے۔
وہ فرماتے پین کر ایک ایسا شخص جس نے امام کو کوئی میں پایا اور قیام کی حالت میں تکبیر تحریم کے لے "اللہ اکبر" کہ کر بغیر قرآن کے رکوع میں امام سے جاملا تو جمهور اتم کابل اختلاف اس بات پر اتفاق ہے کر اس کو بلاشبہ وہ رکعت میں گئی، اگر چکر اس نے اس رکعت کے قیام میں پڑھ قرآن نہیں کی ہے۔(یعمدة القاری،جلد:2،صفحہ:559،میں ذکور ہے۔)
جمہور اتم کے اس قول کی توجیہ دو طرح سے کی گئی ہے، ایک پیکر مقتدی امام کے پیچے قرآن فرض نہیں ہے اس لے اس کو وہ رکعت قرآن کے ترک ہو نے کے باوجود لگئی اور نہیں نہہب حتمی ہے۔
دوسری توجیہ یہ کر اس شخص پر قرآن کے فرض تو حتمی مگر رکعت فوت ہو نے کے اندیشہ سے ضرورۃ ساقط ہوگئی اور پی دگر اتم کا مسلک ہے، اس دوسری توجیہ کے سلسلہ میں فرض کی ماهیت پر غور کرنا ضروری ہے کیا کسی فرض کو ضرورۃ نزک کر دیا جا سکتا ہے؟
فرض کی ماهیت کو تحقیق کے لے ایک مثل پر غور کیجئے:
ایک ایسا شخص جس نے امام کو کوئی میں پایا اور رکعت فوت ہو نے کے اندیشہ سے ضرورۃ قیام کے لے بغیر تکبیر تحریم کے ہو نے امام سے رکوع میں جاملا تو جمهور اتم کا سبات پر شفق پین کا لے شخص کو وہ رکعت نہیں ہی، حالا نکہ اس نے ضرورۃ قیام ترک کیا ہے، اس مثل سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوگیا کہ قیام فرض ہے اور فرض ایسا عمل ہے جس کو ضرورۃ جسی ساقط نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کی ادائی
ضرورت اور غیر ضرورت ہر دو مو قعوں پر لازمی ہے۔
فرض کی ماهیت کو اس مثال سے بیان کے بعد قرأت خلف الامام کی نو عیت پر غور کر نے سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام پر فرض کی ماهیت صادق نہیں آتی، اس لے کہ مقتدی کے لئے
قرأت خلف الامام جس طرح وگر اتمہ کے پاس ضرورت ساقط ہوجاتی ہے اس طرح ہمارے پاس متعدد
احادیث سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ساقط ہے اس کے بر خلاف اگر قرأت خلف الامام فرض ہوتی تو
وہ ضرورت ساقط ہوتی ہے اور نہ بلا ضرورت اس لے کر فرض کی وجہ سے ساقط نہیں ہوسکتی۔
اس طرح ثابت ہوگیا کہ مقتدی پر قرأت خلف الامام فرض نہیں ہے جسیا کہ متعدد احادیث اس
کے مقتدی پر فرض نہ ہونے پروارو پین۔(پی پورا مضمو ن طحاوی شریف سے مخوذہ۔)
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر بارہویں حدیث
On the authority of Ibn Amr Al-Bayadhi, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "A person in prayer is conversing with his Lord, so let him consider what he is saying to Him, and do not raise your voices over one another with the Qur'an." (1) [Narrated by Ahmad]
(1) His saying: "Do not raise your voices over one another with the Qur'an": At-Tahawi said: Since these narrations differed, we sought to understand their ruling through reasoning. We found that they all agree that if a person joins the imam while he is bowing, he should say the takbir and bow with him, and that this counts as a valid rak'ah even if he did not recite anything. This could mean that it is allowed due to necessity, or that recitation behind the imam is not obligatory. When we examined the matter, we found that scholars agree that if a person bows before entering the prayer properly, it is not valid. This proves that certain pillars of prayer are essential, while recitation behind the imam is not necessarily one of them.
It is clear from the Qur'an and Hadith that it has been established that in both the Juhri and Sirri prayers, the follower should not recite Surah Al-Fatiha or any other Surah after it, as reported by Imam Tahawi (RA). He states that if a person finds the Imam in a state where he has already said the Takbir-e-Tahrima (Allahu Akbar) and enters the prayer without reciting the Qur'an, and then joins the Imam in ruku' (bowing), the majority of scholars agree that this person has certainly completed that rak'ah, provided that he did not recite the Qur'an during the standing part of that rak'ah. (This is mentioned in Imdad al-Qari, Vol. 2, p. 559.)
The justification for the majority of scholars' view is presented in two ways: First, the recitation of the Qur'an is not obligatory for the follower behind the Imam; therefore, even though the follower did not recite the Qur'an, that rak'ah is still valid and does not need to be repeated.
The second justification is that although the recitation of the Qur'an is obligatory, the fear of missing the rak'ah nullifies the obligation, which is the view of some scholars. In this context, it is necessary to consider the nature of an obligation: can an obligation be nullified by necessity?
To understand the nature of an obligation, consider this example: If a person finds the Imam in a state where he fears missing a rak'ah and joins the Imam in ruku' without saying the Takbir-e-Tahrima, the majority of scholars agree that this person has not completed that rak'ah, despite having missed the standing position. This example clearly shows that standing is obligatory, and an obligation cannot be nullified by necessity; rather, its performance is necessary in both necessary and non-necessary situations.
After understanding the nature of an obligation through this example, it becomes clear that the recitation behind the Imam (Qira'at Khalf al-Imam) does not fall under the category of an obligation. For the follower, the recitation behind the Imam, like other obligations, can be nullified by necessity. However, since multiple Hadiths do not establish it as an obligation, it is nullified. Conversely, if the recitation behind the Imam were an obligation, it would be nullified by necessity and could not be nullified without necessity. Thus, it is established that the recitation behind the Imam is not an obligation for the follower, as indicated by multiple Hadiths. (This complete discussion is derived from Imam Tahawi's Sharif.)
The twelfth Hadith provides evidence for the follower not reciting behind the Imam.
حضرت عمران بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھانی تو حضور علی السلا م کے پیچے (نماز میں) ایک شخص نے (سورۃ)
"وَسَبّح اسْمَ رَبّکَ الْاعْلَی "پڑھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ
نے دریافت فرمایا کہ نماز میں کون "وَسَبّح اسْمَ رَبّکَ الْاعْلَی "پڑھ رہا تھا؟ ایک شخص نے عرض
کیا کہ حضور میں پڑھ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب میں تو) میں محسوس کر رہا تھا کہ تم
میں سے کوئی شخص (قرآن پڑھ کر) مجھے ایک حقیقت کا ذکر کرتا ہے۔
(اس کی روایت نسائی نے لی ہے۔) اور نسائی نے کہا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ
مقتدی امام کے پیچے سے نماز میں کہی قرأت نہ کرے۔
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پرتیرہویں حدیث
On the authority of Imran bin Husayn, he said: The Prophet ﷺ prayed Dhuhr, and a man behind him recited سبح اسم ربك الأعلي. When he finished the prayer, he said: "Who recited سبح اسم ربك الأعلي?" A man said: "I did." He said: "I knew that some of you were competing with me in recitation." [Narrated by Al-Nasa’i]
Al-Nasa’i said: "This indicates refraining from recitation behind the imam in prayers where he does not recite aloud."
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھانی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے ایک شخص نے
آہستہ قرآن کی نماز کے بعد حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے (نماز میں) میرے ساتھ قرآن کی بھ؟ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کو تین دفعہ فرمایا تو وہ شخص جس نے قرآن کی تحقی عرض کیا کہ اپنے پاس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نے "سَبّح اسم رَبّکَ الأَعْلَی" کی قرآن کی ہے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہا زمین میں میرے ساتھ قرآن کر کے کیون میں ذوالجناہے؟ کیا آپ لوگوں میں سے ہر (مقتدی) کو اس کے امام کی قرآن کافی نہیں ہے؟ امام تو اس کے بنیاد کی اتباع کی جائے اس کے جب امام قرآن کر لے تو تم خاموش رہا کرو۔
(اس کی روایت جمعی نہیں ہے۔)
مقتدی کے قرآن کے خلف الامام ذکر نے کے ثبوت پر چودھویں حدیث
On the authority of Umar bin Al-Khattab, he said: The Messenger of Allah ﷺ once led the Dhuhr prayer, and a man from among the people recited to himself. The Prophet ﷺ said: "Did anyone among you recite with me?" He repeated this three times, and the man replied: "Yes, O Messenger of Allah, I was reciting سبح اسم ربك الأعلي." The Prophet ﷺ said: "Why do I find myself contending with the Qur'an? Is it not sufficient for one of you to rely on the recitation of his imam? Indeed, the imam is appointed to be followed, so when he recites, listen attentively." [Narrated by Al-Bayhaqi]
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت جمعیہ کے امام کی قرآن کے کافی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوتا امام کی قرآن کے کافی ہے۔ (اس کے مقتدی کو قرآن کی ضرورت نہیں ہے۔)
(اس کی روایت ابن ماجہ نے ہے۔)
On the authority of Ibn Abbas, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The recitation of the imam is sufficient for you, whether he recites silently or aloud." ]Narrated by Al-Daraqutni[
اور اسی حدیث کی روایت ابن حبان نے اس رضی اللہ عنہ نے قطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔)
ف (1): پر اور اس فتنہ کے دیگر احادیث میں مقتدی کے لے امام کے پیچھے مطلق قرآن کرنا حکم واروہواہے اس لے مقتدی امام کے پیچھے نسورہ فاتح پڑھنے کوئی اور سورہ۔ اس کے برخلاف جن حضرات نے ان احادیث سے جن میں مقتدی کو قرآن کرنا کا عام حکم موجودہ اس عام حکم میں سورہ فاتحہ کو شامل نہ کر کے صرف ضم سورہ نہ پڑھنے سے خاص کیا ہے، یہ تخصیص بلا خصوص ہے، حدیث کے عام حکم کو بغایر کسی سبب کے خاص کرنا کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
جب اور احادیث میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے جو انجی او پرنساگی، ترنڈی بیہقی اور طحاوی وغیرہ تم کے حوالے سے گذرچکے ہیں -
(مضرمون فتح المہم سے ماخوذہے-)
ف(2): امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کوان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے "من كان لہ امام فقرأ ائتہ لہ قراءة" (جوامم کے پیچھے نماز پڑھنے والوں امام کی قرأت اس کی قرأت ہے) فتمبلی کی کتاب الروض الرلع میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ولا قراءة على مأموم" (مقتدی پر کسی قوت میں قرأت نہیں ہے-) (اس لے نسورہ فاتحہ پڑھنے اور نظم سورہ کرے-) اس کا معنی یہ ہے کہ امام سورہ فاتحہ کو پینے اور مقتدی کی طرف سے ادا کر لیتا ہے اس لے مقتدی کوسورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے- (مضرمون او جزا المساکے سے ماخوذہے-)
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر پندرہویں حدیث
On the authority of Jabir bin Abdullah, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever has an imam, the recitation of the imam is his recitation." (1) [Narrated by Ibn Majah while narrated by Ibn Hibban from Anas, and by Al-Daraqutni from Abu Huraira]
In Fath Al-Mulhim, it is mentioned: Al-Bayhaqi interpreted this hadith and similar ones as referring to abandoning loud recitation behind the imam and reciting the surah without Al-Fatihah. However, this is a specific interpretation without clear evidence and is far from the intended meaning of the hadith. The incident took place during Dhuhr and Asr prayers, as confirmed by the narration of the imam, so what sense would it make for someone to recite aloud during these prayers when the imam and other followers were not doing so?
The saying: "Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation."
And in Al-Rawd Al-Murbi‘ from Hanbali jurisprudence: "There is no recitation upon the follower," meaning the Imam bears the recitation of Al-Fatihah on his behalf due to this Hadith, as mentioned in Aujaz Al-Masalik.
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت کرتے ہیں کہ حضور علی السلام نے فرما کر جس نے امام کے پیچھے نماز پڑھی تو یقیناً امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ اس حدیث کی روایت امام محمد دار قطنی اور بہقی نے ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے اور اس حدیث کی سنہ سب سے احسن ہے اور اس کے متعلق امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں، اس لے یہ حدیث صحیح ہے۔ اور علامہ عینی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابوحنیفہ اور ابوعنیفہ کی یہ ان کا کیا کہنا، اور موسی بن عاشکو نی نصرف ثقة اور معتبر ہیں بلکہ بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہیں، اور عبد اللہ بن شداد شام کے برے محدث اور ثقة ہیں اس طرح اس سنہ کی نذور الصدر صحیح سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے- (علامہ عینی کی تحقیق یہاں ختم ہونی-)
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پرسوابویں حدیث
On his authority, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever prays behind the imam, the recitation of the imam suffices for him." [Narrated by Muhammad, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi from our Imam Abu Hanifa, and this is the best of its chains]
Ibn Al-Humam declared it authentic according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim.
Al-Ayni said: "It is an authentic hadith. As for Abu Hanifa, he is Abu Hanifa. Musa bin A’isha Al-Kufi is among the trustworthy and reliable narrators, included in the books of Al-Bukhari and Muslim. Abdullah bin Shaddad is one of the senior and reliable scholars of Sham. This is a sound hadith."
الوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوتا امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ (اب مقتدی کون سورہ فاتحہ کی قرأت کی ضرورت ہے نہیں اور سورت کی۔) (اس کی روایت ابن عدی کے کامل میں اور طبرانی کے الاوسط میں کی ہے۔)
On the authority of Jabir bin Abdullah, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever has an imam, the recitation of the imam is his recitation." (1) [Narrated by Ibn Majah while narrated by Ibn Hibban from Anas, and by Al-Daraqutni from Abu Huraira]
In Fath Al-Mulhim, it is mentioned: Al-Bayhaqi interpreted this hadith and similar ones as referring to abandoning loud recitation behind the imam and reciting the surah without Al-Fatihah. However, this is a specific interpretation without clear evidence and is far from the intended meaning of the hadith. The incident took place during Dhuhr and Asr prayers, as confirmed by the narration of the imam, so what sense would it make for someone to recite aloud during these prayers when the imam and other followers were not doing so?
The saying: "Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation."
And in Al-Rawd Al-Murbi‘ from Hanbali jurisprudence: "There is no recitation upon the follower," meaning the Imam bears the recitation of Al-Fatihah on his behalf due to this Hadith, as mentioned in Aujaz Al-Masalik.
قطعنی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
اور طحاوی اور امام احمد نے کہی جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کی ہے۔
اور امام ابن حمّام نے کہا کہ امام احمد بن منج کی اس حدیث کی سنّہ مسلک کی شرط کے موافق ہے اس لئے یہ حدیث مسلک کی حدیثوں کی طرح گئی ہے۔
مقتدی کے قرأت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر سترہویں حدیث
And Imam Ibn Hammam said that this hadith meets the conditions of Imam Ahmad ibn Manj's Sunan, therefore this hadith is considered like the hadiths of his Musnad. This is the seventeenth hadith as evidence for not performing qira'at behind the imam.
عبداللہ بن شداد بن الهاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی عبد اللہ بن شداد کیتے دونوں ایک شخص نے (باوجود مقتدی ہونے کے) حضور علی الصلاۃ والسلام کے پیچھے قرأت کی تو اس شخص کے بازووالے نے اس کو انگلی سے ٹوچا دیا، جب نماز پڑھنے کی تواس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے نماز میں کیونکہ چاویا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے امام ہوتے میں نے برا تم جھا کر آپ (مقتدی ہوگر) حضور علی الصلاۃ والسلام کے پیچھے نماز میں قرأت کریں، اس غلطگو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیا اور فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوتا امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ (اس کی روایت امام محمد اور دار قطعنی نے کی ہے اور حاکم نے مستدرک میں اور تہذیب نے کہی اس طرح کی روایت کی ہے۔)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے تہذیب بخاری میں اس حدیث تشریح کے بیان میں کہا کہ اس کی
روایت صحاب الكرام کی ایک جماعت نے کی ہے جن کے نام یہیں، جابر بن عبد اللہ ابن عمر، البوسیری
خدري، البوہریہ، ابن عباس اور انس بن ماکر ضی اللہ عنہم -
علاوہ ازیں امام حارث رحمۃ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کتاب کشف الاسرار
میں پیر وايت کہیں بے کہ صحاب کرام رضی اللہ عنہم میں دس جلیل القدر صحاب مقتنی کے لے برہی شدت
سے قرآت خلف الامام کی ممانعت فرماتے تھان کے نام یہیں:
حضرت ابوکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن الی
طالب، عبد الرحمن بن عوف، سعید بن الی وقاص، عبد اللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ
بن عباس رضی اللہ عنہم -
اس بارے میں علامہ عبد سندي مد نی رحمہ اللہ نے شرح مسناد امام اعظم رضی اللہ عنہ میں کہا ہے
کہ قرآت خلف الامام کی ممانعت نذورہ دس صحاب رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوچکی ہے جن کا رکس صحابی
نہیں کیا، حالا کہ اس وقت صحاب کرام کی ایک کثرت عدہ موجود تھی اور اس کثرت کے باوجود کسی صحابی کا
ان دس صحابہ پر رون کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ کا قرآت خلف الامام کی ممانعت پرسکوت
حقیقت میں تمام صحاب کرام کا اجماع سلوتی ہے جوثر علاً ق جرت ہے -
مقتنی کے قرآت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر اظہار ہویی حدیث
On the authority of Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, he said: The Messenger of Allah ﷺ led the Asr prayer, and a man behind him recited, so the person next to him nudged him. When they finished the prayer, the man asked: "Why did you nudge me?" He replied: "The Messenger of Allah ﷺ was in front of you, and I disliked that you recite behind him." The Prophet ﷺ heard this and said: "Whoever has an imam, his recitation is his recitation." ]Narrated by Muhammad and Al-Daraqutni[
Al-Hakim also narrated it in his Mustadrak, and Al-Bayhaqi narrated something similar.
Al-Ayni said in his commentary on Al-Bukhari regarding this hadith: "A group of companions narrated it, including Jabir bin Abdullah, Ibn Umar, Abu Sa’id Al-Khudri, Abu Huraira, Ibn Abbas, and Anas bin Malik."
Sheikh Al-Abid As-Sindi mentioned in his explanation of Imam Abu Hanifa’s Musnad: "When the ten companions mentioned established this ruling and no one among them objected, despite the presence of many companions, it amounted to a silent consensus."
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جخض امام کے پچپ نماز پڑھر باہوتو امام کی قرآت اس کی قرآت ہے-
(اس کی روایت دار نی نے کی ہے-)
ف (1): حدیث نذورہ سے پثابت ہوگیا کہ مقتنی امام کے پچپ قرآت نہ کرے، اس سے یہ
نہیں جحا جاتے کہ مقتنی قرآت نہیں کر رہا ہے بلکہ مقتنی کہی قرآت کر رہا ہے اس لے کر امام کی قرآت
مقتنی کی قرآت ہے، جسیا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا اس طرح جب مقتنی کا قرآت کرنا شرعاً
ثابت ہوگیا تو پچر مقتنی امام کی قرآت کے علاوہ خود کی قرآت کرے تو اس سے ایک نماز میں دو قرآن
ثابت ہوجا میں گی جوثر عاًنا جاتزہ _ اس کوامام ابن اہمام رحم اللہ نے بیان کیا ہے۔
ف (2): نکورہ حدیث میں جو ذکر ہے کہ امام کی قرآت مقتدی کی قرآت سے اس کے متعلق
ہمارے علماء نے کہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کی قرآت مقتدی کی قرآت کا بدل اور قائم مقام
ہے، اگر مقتدی امام کے پیچھے خود بھی قرآت کرے تو مقتدی کی قرآت جواصل ہے وہ اور امام کی قرآت
جو مقتدی کی قرآت کے قائم مقام ہے دونوں کا جمع کرنالازم آے گا جو جائز نہیں ہے، جسیا کر وضوے اور
تیمہ دونوں کا ایک ساتھ جمع کرنانا جائز ہے اس لئے کر وضوے اصل ہے اور تیمہ اس کا قائم مقام - (ابن
الہمام -)
مقتدی کے قرآت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر نیسوی حدیث
On the authority of Abdullah bin Umar, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever has an imam, his recitation is his recitation." ]Narrated by Al-Daraqutni[
In At-Taleeq Al-Mumjid, it is mentioned: "This is the summary of the discussion on the chains of this hadith. It is concluded that some of its chains are authentic or good, without any significant flaws. Some chains are sound but mursal (with a missing link), though accepted. Others are weak but become strengthened when combined, raising them to the level of Hasan. This shows that the statement of Ibn Hajar in his Takhrij Ahadith Al-Rafi’i, that all its chains are defective, is not entirely accurate. Similarly, Al-Bukhari’s statement in Risalat Al-Qira’ah Khalf Al-Imam that this hadith is not established among the scholars of Hijaz and Iraq due to its mursal and interrupted chains also contains some weaknesses."
Our scholars said: "This hadith indicates that the follower’s recitation is fulfilled by the imam’s recitation. If the follower were to recite as well, it would mean having two recitations in one prayer, which is not legislated." Ibn Al-Humam added: "The hadith shows that the imam’s recitation substitutes for the follower’s recitation, so if the follower recited too, it would mean combining the original and the substitute, which is impermissible, like combining wudu and tayammum."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے قرآت خلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو حضرت علیا السلام نے ارشاد فرمایا کہ امام تو قرآت
کرتا ہے (پھر مقتدی کو قرآت کی کیا ضرورت ہے )- (اس کی روایت تہقیق نے کی ہے-)
مقتدی کے قرآت خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر نیسوی حدیث
On the authority of Ibn Umar, he said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about recitation behind the imam, and he replied: "The imam recites." ]Narrated by Al-Bayhaqi[
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے قرآت خلف الامام کے ممانعت فرما لی ہے - (اس کی روایت تہقیق نے کی ہے-
On his authority: The Messenger of Allah ﷺ forbade reciting behind the imam. ]Narrated by Al-Bayhaqi, and by Abdul-Razzaq from Zaid bin Aslam[
In a narration from our Imam Abu Hanifa, Jabir said: A man recited behind the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ forbade him.
In Abdul-Razzaq’s narration: "The Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr, and Uthman used to forbid recitation behind the imam."
اور عبد الرزاق نے یہی اس کی روایت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے کی ہے-
اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحم اللہ نے ایک روایت اس طرح آئی ہے کہ جابر
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے (نماز میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرآت کی تو ان
کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت خلف الامام سے منع فرمایا-
On his authority: The Messenger of Allah ﷺ forbade reciting behind the imam. ]Narrated by Al-Bayhaqi, and by Abdul-Razzaq from Zaid bin Aslam[
In a narration from our Imam Abu Hanifa, Jabir said: A man recited behind the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ forbade him.
In Abdul-Razzaq’s narration: "The Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr, and Uthman used to forbid recitation behind the imam."
اور عبد الرزاق کی روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما (مقتدی کو) قرآن تخلف الامام سے منع فرمایا کرتے تھے۔
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر اکیسوی حدیث
On his authority: The Messenger of Allah ﷺ forbade reciting behind the imam. ]Narrated by Al-Bayhaqi, and by Abdul-Razzaq from Zaid bin Aslam[
In a narration from our Imam Abu Hanifa, Jabir said: A man recited behind the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ forbade him.
In Abdul-Razzaq’s narration: "The Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr, and Uthman used to forbid recitation behind the imam."
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر ایک شخص نے بی
صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں (نماز میں) امام کے چیچے قرآن تکیا کروں یا خاموش رہا
کروں؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ نہیں (قرآن مت کیا کرو) بلکہ خاموش رہا کرو،
جبی تم کو کافی ہے۔ (اس کی روایت تیسری نے کی ہے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۲۳ وی حدیث
A man asked the Messenger of Allah ﷺ: 'Should I place my hand on the Quran during prayer or remain silent?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'No, do not place your hand on the Quran, but remain silent; that is sufficient for you.' (This narration is reported by Tirmidhi.)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر امام کی قرآن تتمہارے لے کافی ہے (جبکہ تم اس کی اقتداء کر رہے ہو)
خواہ امام آہستہ قرآن تکر رہا ہو یا جھرے۔ (اس کی روایت دار قطی نے کی ہے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۳۳ وی حدیث
On the authority of Ibn Abbas, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The recitation of the imam is sufficient for you, whether he recites silently or aloud." ]Narrated by Al-Daraqutni[
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر انہوں نے حضرت زید رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ مقتدی امام کے ساتھ قرآن تکرے یا نہ کرے؟ تو زید رضی اللہ عنہ نے جواب
دیا مقتدی کو کسی نماز میں (خواہ وہ سری ہو یا جہری) امام کے ساتھ قرآن تذکر نہیں چاہے۔ (خواہ سورہ
فاتحہ ہو یا ضم سورہ۔) (اس کی روایت مسلم نے باب تجوید التلاوت میں کی ہے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۳۳ وی حدیث
From ‘Ata bin Yasar: He asked Zayd about reciting behind the Imam, and he replied: "There is no recitation behind the Imam in anything." ]Narrated by Muslim in the chapter of Sujud al-Tilawah[
عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر انہوں نے عبد اللہ بن عمر، زید
بن ثابت اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے قرآن تخلف الامام کے متعلق دریافت کیا تو ان تینوں
صحابہ نے فرما کر کسی نماز میں (خواہ وہ سری ہو یا جہری) قرآن تخلف الامام مت کیا کرو۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۵۲وی حدیث
From ‘Ubaydullah bin Maqsim: He asked ‘Abdullah bin ‘Umar, Zayd bin Thabit, and Jabir bin ‘Abdullah, and they said: "Do not recite behind the Imam in any of the prayers." ]Narrated by Al-Tahawi[
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (مقتدی) امام کے پیچے
قرأت نکیا کرے۔ (شہری نماز میں نسری نماز میں۔)
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں لکھے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۲۶وی حدیث
From Jabir, he said: "One should not recite behind the Imam, neither in an audible prayer nor in a silent one." ]Narrated by Ibn Abi Shaybah in his Musannaf[
عبد اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر
بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ (مقتدی جہری نماز وں میں تو امام کے پیچے قرأت نہیں کرتا
ہے تو کیا وہ) ظہر اور عصر کی (سری نماز وں میں بھی قرأت نہ کرے تو جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
کہ بالمقتدی ان سری نماز وں میں بھی امام کے پیچے قرأت نہ کرے۔)
(اس کی روایت عبد الرزاق نے لکھے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۲۷وی حدیث
From ‘Abdullah bin Maqsim, he said: "I asked Jabir bin ‘Abdullah: ‘Should one recite behind the Imam in Dhuhr and ‘Asr?’ He replied: ‘No.’" ]Narrated by ‘Abd Al-Razzaq[
مختار بن عبد اللہ بن ابی سیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مقتدی امام کے پیچے قرأت کرے تو اس نے اقتداء کا حق ادا کیا۔ (اس کی روایت طحاوي، ابن ابی شیبہ، عبد الرزاق اور دار قطنی نے لکھے۔)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ۲۸وی حدیث
Allah's Messenger (ﷺ) said: 'If the follower recites behind the imam, he has fulfilled the right of following.' (This is reported by Tirmidhi, Ibn Abi Shaybah, Abdur Razzaq, and Dar Qutni.) This hadith serves as evidence that the follower should not recite the Quran out of turn with the imam.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مقتدی امام
کے پیچے قرأت کرے تو اس نے اقتداء کے اصل مقصد کو حصول پا۔
(اس کی روايت عبدرالرزاق، ابن ابي شيبة، وارتي اوريهي نكي ه)
مقتدی کے قرآن خلف الاام من کرنے کے ثبوت پر ٣٩ وی حدیث
If the follower recites behind the imam, he has achieved the true purpose of following.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ جب میں نماز میں امام کے پیچھے رہون تو کیا میں مجھی (امام کے ساتھ)
قرأت کیا کروں؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نہیں - (جب تم نماز میں امام کے پیچھے ہوتا
قرأت مت کیا کرو-) (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)
From Abu Hamzah, he said: "I asked Ibn ‘Abbas: ‘Should I recite while the Imam is in front of me?’ He replied: ‘No.’" ]Narrated by Al-Tahawi[
And in another narration by Ibn Abi Shaybah from a man who said: "‘Umar bin Al-Khattab instructed us not to recite behind the Imam."
اور ابن ابي شيبة کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا کہ عمر بن
الخطاب رضی اللہ عنہ نے تم سے (نماز میں) امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا عہد لیا-
مقتدی کے قرآن خلف الاام من کرنے کے ثبوت پر ٣٠ وی حدیث
From Abu Hamzah, he said: "I asked Ibn ‘Abbas: ‘Should I recite while the Imam is in front of me?’ He replied: ‘No.’" ]Narrated by Al-Tahawi[
And in another narration by Ibn Abi Shaybah from a man who said: "‘Umar bin Al-Khattab instructed us not to recite behind the Imam."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مجھی ان سے دریافت کیا جاتا کہ
مقتدی امام کے پیچھے قرأت کیا کرے تو آپ جواب دیا کرتے کہ تم میں سے جو کوئی امام کے پیچھے نماز
پڑھتا کرے تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی ہے- (اس کو قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے)، اور
خود ابن عمر کا مجھی بھی عمل رآ مدقا کردوہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کیا کرتے تھے- (اس کی روایت امام
محمد نے کی ہے۔ اس حدیث کی سنگیرہ اوراس کے متعلق کسی فتنہ کا اعتراض نہیں ہے اور امام طحاوی
نے مجھی اس حدیث کی ای طرح روایت کی ہے اور امام ماک نے مجھی اس کی روایت کی ہے، اور امام
ماک نے اس حدیث کی جور وايت کی ہے اس میں پياضافہ ہے "وَاذا صَلّى وَحدَه فَليْقْرء"، لیکن
مقتدی کو امام کی قرأت کافی ہے بالاگروہ مسبوق ہوتا تو نماز میں قرأت کیا کرے-
علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قرأت خلف الاام میں کرتے تھے اور آپ
کی شان پرہ کراپ لوگون میں سب سے زیادہ سنہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا کرتے تھااور
اپنے زمانے میں اسی وجہ سے اتباع سنہ میں سب سے زیادہ مشہور تھاس لے آپ کا قرآن تخلف
الامام نہ کرنا عین سنہ ہے۔
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر۳وی حدیث
From Ibn ‘Umar: When he was asked, "Should anyone recite behind the Imam?" He replied: "When one prays with the Imam, the Imam’s recitation is sufficient for him." And Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam. ]Narrated by Muhammad[
This is a good chain of narration, with no room for criticism at all.
Al-Tahawi narrated something similar, and Malik also narrated it, adding: "And if one prays alone, let him recite."
Al-‘Ayni said: "Ibn ‘Umar would not recite behind the Imam, and he was among the greatest followers of the Prophet ﷺ."
نافع رضی اللہ عنہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کرا بن عمر رضی اللہ
عنہما نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوتا امام کی قرآن تاس کے لئے کافی ہے۔(اس کو
خود قرآن ت کرنے کی ضرورت نہیں ہے)-
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کی سندا میں جیرہ کہ جس میں کسی کو کلام
اور اعتراض نہیں ہے)
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر۳وی حدیث
From Nafi‘, from Ibn ‘Umar, he said: "Whoever prays behind the Imam, the Imam’s recitation suffices him." ]Narrated by Muhammad[
This is a good chain with no weakness in it.
انس بن سیرین رضی اللہ عنہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کرا بن
عمر رضی اللہ عنہما سے قرآن تخلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کو امام کی قرآن ت
کافی ہے۔(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔
قطنی نے بھی امام احمد بن حنبل سے اس طرح روایت کی ہے اور اس کی
From Anas bin Sirin, from Ibn ‘Umar: He was asked about reciting behind the Imam, and he replied: "The Imam’s recitation is sufficient for you." ]Narrated by Muhammad[
Al-Daraqutni also narrated from Ahmad bin Hanbal something similar, and there is nothing weak in this chain either.
اور دارتی سند کے متعلق کوئی اعتراض نہیں ہے)-
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر۳وی حدیث
And there is no objection regarding the authenticity of the chain.- This is the third hadith proving the prohibition of following the imam in recitation (takbir).
ابو واصل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سے قرآن تخلف الامام کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا چپ رہو (کیا فضول سوال
کرتے ہو) نماز میں (اللہ تعالیٰ کے راز و نیاز کی وجہ سے مقتدی کو ایک خاص) مشغولیت رہتی ہے(تم
اس کو باقی رکھو، رحمۃ قرآن تو امام کی قرآن تتمہاری لے کافی ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس کی سنڌ جیدے جس کے متعلق کوئی کلام نہیں ہے اور امام طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔ مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر۳ وی حدیث 66/1339 - ابراہیم نجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتا ہے کہ پہلا شخص جس نے (خلاف روانج) قرآن تخلف الامام کی ابتدا کی تھی وہ (نئے ایجاد کرنے سے) متنہوا تھا (اس کے کر صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم کے دور میں امام کے پیچھے قرآن تنا کرنے کا روانج ہو چکا تھا۔)(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقة ہیں۔)
From Abu Wa'il: He said that Abdullah bin Mas'ud was asked about reciting behind the Imam. He said: "Remain silent, for there is engagement in prayer, and the Imam will suffice you." ]Narrated by Muhammad[
This is a Hasan chain, with no criticism in it. Al-Tahawi narrated something similar.
علقہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے منزل انگارا (جبین آگ کاؤلم) رکھ لینا قرآن تخلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)
ف: امام جصاص رازی رحمۃ اللہ کی احکام القرآن میں قرآن تخلف الامام کرنے والے کے متعلق تحدیداً منقول ہے ’’اچھا ہے کہ اس کے دانت توڑ دیتے جائیں‘‘اور امام نجعی رحمۃ اللہ نے بھی قرآن تخلف الامام کرنے والے کے متعلق تحدیداً کہا یکہ ’’مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے منڈ کوٹی سے بہتر دیاجائے‘‘۔
مقتدی کے قرآن تخلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر۳ وی حدیث 68/1341 - سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند آئی ہے کہ جو قرآن تخلف الامام کرنے اس کے منڈ میں انگارا ہو۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے، اس حدیث کی سنڌ جیدے کوئی کلام نہیں ہے۔)
مقتدی کے قرآن خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ٣ وی حدیث
From Alqamah bin Qais: He said, "I would rather bite a burning coal than recite behind the Imam." [Narrated by Muhammad]
Al-Razi mentioned in Ahkam al-Qur'an: "It is said that it is recommended that his teeth be broken." Al-Balkhi said, "I prefer that his mouth be filled with dust."
- محمد بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ قرآن خلف الامام کرنے والے کے منہ میں چھڑ پڑ جائے - (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور اس حدیث کی سنگیہ بہ جس کے متتعلق کوئی کلام نہیں اور ابن الی شیبرہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے -)
مقتدی کے قرآن خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ٣٨ وی حدیث
From Muhammad bin Ajlan: That Umar bin Al-Khattab said, "I wish that a stone be placed in the mouth of the one who recites behind the Imam." [Narrated by Muhammad]
This is a good chain, with no criticism in it. Ibn Abi Shaybah narrated something similar.
- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا کہ قرآن خلف الامام کرنے والے کا منہ مٹی سے بھر دیاجاتا - (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے -)
مقتدی کے قرآن خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ٣٩ وی حدیث
From Ibn Mas'ud: He said, "I wish that the one who recites behind the Imam has his mouth filled with dust." [Narrated by Al-Tahawi]
- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جو شخص قرآن خلف الامام کرے اس کے منہ میں چھڑ ہو - (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے -)
مقتدی کے قرآن خلف الامام نہ کرنے کے ثبوت پر ٤٠ وی حدیث
From Sa'd bin Abi Waqqas: He said, "I wish that the one who recites behind the Imam has a stone in his mouth." [Narrated by Abdur Razzaq]
In Al-Ta'liq al-Mumajjad: "There is no harm in such statements for the purpose of warning and sternness. However, torturing someone with Allah's punishment is prohibited, though warning with it is not."
- عمرو بن محمد بن زید رضی اللہ عنه، موسی ابن سعد بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن سعد نے اپنے دادا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن خلف الامام کی ہوتا اس کی نماز نہیں ہوتی - (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے -)
From Amr bin Muhammad bin Zayd, from Musa bin Sa'd bin Zayd bin Thabit, who narrated from his grandfather: He said, "Whoever recites behind the Imam, his prayer is invalid." [Narrated by Muhammad]
Abdur Razzaq also narrated it from Ali. Al-Bukhari said in his Risalah al-Qira'ah: "It is not known that this chain has proper hearing from one narrator to another, and such a narration is not authentic."
The response to this is, firstly, that contemporaneity and the possibility of meeting are sufficient for the majority of scholars in establishing connectivity and removing discontinuity. The requirement of proven direct meeting, as is Bukhari's strictness, is not obligatory according to the majority, as established in the principles of Hadith. Here, contemporaneity and the possibility of meeting are established between Dawood and Umar, between Umar and Musa, and between Musa and Zayd, which suffices to confirm the connection of the chain.
Secondly, apparent discontinuity does not harm according to us if the narrator is trustworthy and narrates from trustworthy individuals, especially in the generations testified to for their goodness.
Al-Tahawi said: "These are a group from the companions of the Messenger of Allah ﷺ who unanimously agreed on leaving recitation behind the Imam. They were supported by what has been narrated from the Messenger of Allah ﷺ, which we have mentioned earlier, and their stance is further reinforced by logical reasoning, as we have explained."
بسم الله الرحمن الرحيم کے سورۃ فاتحہ کا جزء نہوں کا ثبوت
- اور عبد الرزاق نے بھی اس کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کی ہے - ف: واضح رہے کہ نذورہ بالا حد ثول میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرآن خلف الامام
کرنا والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں ذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن خلف الإمام
کرنا والے کے منہ میں پھڑ ہو، دوسرا حدیث میں یول ذکور ہے کہ ایس شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا
جاۓ، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگار کہ لینا قرآن خلف الإمام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرآن خلف الإمام کرنے والے پر جو
تحذیریں ذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن خلف
الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہوچکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدر کی وہ تمام
حدیثیں موید ہیں جن میں قرآن خلف الإمام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرودی ہے۔
علاوہ ازیں اس بارے میں نقی و لیوان کے سوالامام طحاوی رحمہ اللہ عقلی و لیل یہی کذرچیکی ہے
جس میں قیاس کے ذریعہ قرآن خلف الإمام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔
پہلی حدیث
From Alqamah bin Qais: He said, "I would rather bite a burning coal than recite behind the Imam." [Narrated by Muhammad]
Al-Razi mentioned in Ahkam al-Qur'an: "It is said that it is recommended that his teeth be broken." Al-Balkhi said, "I prefer that his mouth be filled with dust."
بسم الله الرحمن الرحيم کے سورۃ فاتحہ کا جزء نہوں کا ثبوت پر
نس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر صدیق اور عمر
فاروق رضی اللہ عنہما الحمد للہ رب العالمین سے نماز شروع فرمائی کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
From Anas: That the Prophet ﷺ, Abu Bakr, and Umar would begin the prayer with الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. [Narrated by Muslim]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب پہلی رکعت کے آخر سجدہ ہے) دوسری رکعت کے لیے کہرے ہوتے تو الحمد للہ رب
العالمین سے دوسری رکعت شروع فرماتے اور سکوت نہیں فرماتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے سورۃ فاتحہ کا جزء عہو نے کے ثبوت پر
تیسری حدیث
From Abu Hurairah: He said, "When the Messenger of Allah ﷺ would rise for the second unit of prayer, he would begin with الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ and would not remain silent." [Narrated by Al-Tahawi]
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے، انہوں نے کہا کہ میں نے خود سنایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے اوراپنے بندہ کے
درمیان سورۃ فاتحہ کے دوحصر کردیے ہیں اور جوپچھے میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، پس
جب بندہ (1) اللہمدد للہ رب العالمین ٥ (ہرطرح کی تعریف خدا، کی کوسز اوارہ جوتمام
جہانول کاپروردگار ہے ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میرے بندہ نے میری حمد کی اور جب بنده
(2) "الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ " (جو نہایت رحم والا مہربان ہے ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ
میرے بندہ نے میری ثناء کی اور جب بندہ (3) مالک یوم الدین ٥ (جوروز جزا کا حاکم ہے )
کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میرے بندہ نے میری بزرگی بیان کی اور جب بنده (4) "ایاکَ
نَعْبُدُ وَایَاکَ نَسْتَعِیْنُ " (اے اللہ تمہیں ہی میں عبادت کرتا ہوں اور تمہیں ہی سے مدد مانگتا ہوں )
کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان میں ( کروہ میری عبادت
کرتے ہوئے مجھے مدد ماںگ رہا ہے ) اور جوپچھے میرا بندہ سوال کرے وہ اس کو دیا جائے گا، اور جب
بنده (5) "اہدِنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، صِرَاطَ الَّذِیْنَ انْعَمْتَ عَلَیْہِمْ (6) غَیْرَ
الْمُغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ (7) وَلاَ الضَّآلِّیْنَ - (تم کو یہ کہا سی ہاراستہ دکھا، ان لوگول کاراستہ جن پر تو
نے اپنا فضل کیا، نہان کا جن پر تیرا غضب نازل ہوااور نہ گمراہ ہول کا ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں
کہ میرے بنده کی دعا ہے جس کو دیا پنے لے کر رہا ہے اور میں اپنے بنده کو جووہا گے دول گا-
(اس کی روايت مسلم نے کی ہے-)
ف : علامہ جی رحمه اللہ نے کہاہے کہ اس حدیث میں ذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے دو
حص کہ میں پہلا حصر جو "الحمد للہ رب العالمین و الرحمٰن الرحیم" مالک یوم الدین و کی تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے لمحض کر کھاہے اور دوسرا حصہ جو اهدنا الصراط المستقیم و صراط الذین انعمت علیہم و غیر المغضوب علیہم و لا الضآلین و کے تین آیتوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بنده سے مخصوص فرمايااور "ایاک نعبد و ایاک نستعین" کوان دونوں حصون کی درمیانی آیت قر اوریا اوراس کوالله تعالیٰ نے اپنے اوراپنے بنده کے درمیان مشترک رکھا۔ اس طرح سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں ہوتیں۔ علامہ جی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے اوران کی دلیل یہہے کہ سورۃ فاتحہ کا پہلا حصر جو تین آیتوں پر مشتمل ہے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ رب العالمین سے ثرو عفرما "بسم اللہ الرحمٰن الرحمن الرحیم" سے ثرو عتمین فرما اس سے ثابت ہوا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" ورہ فاتحہ کا جزء نہیں ہے اگر "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا جزء ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ والحمد للہ رب العالمین سے ثرو عفرما نے کی جاے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سے ثرو عفرما تے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا تین کیا تو صراحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے۔ تفصیل نذکورہ سے جب پیثابت ہوگیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے تو لازمی طور پر یہی ثابت ہوگیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" دوسری سورۃ کا جزء نہیں، اس کی وجہ یہہے کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ اور دوسری سورۃ کا جزء نہ ہو نے کے بارے میں صرف دو ہی نذہب ہیں۔ ایک نذہب یہہے کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ اور دیگر تمام سورۃ کا جزء ہے اور دوسرا نذہب یہہے کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے اور اس طرح اختیار نہیں کیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" ان دونوں تبول کے سوا تیسراندہب کسی نے اس طرح اختیار نہیں کیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا تو جزء ہواور دوسری سورۃ کا جزء ہو۔
صدر کی حدیث اور دالل ذکورہ سے جن کو علامہ حبی رحم اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ جب پیغامبرﷺ نے اس کی حدیث کے بعد کہا "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"، سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں تو لازم آیہ ہے کہ ثابت ہوگیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کسی اور سورت کا بھی جزء نہیں اور کیا ذہب حقیقی ہے۔ علامہ ابن عبد البر رحمه اللہ نے کہا کہ کسی حدیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں اور پیغمبرﷺ نے اس کی حدیث "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہونے پر اسی واقع ویلہ کے جس میں کسی وقت کی تاویل نہیں ہوسکتی، علامہ ابن عبد البر رحمه اللہ نے یہی کہا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کے سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہونے پر اس حدیث سے زیادہ محترم اور واقع ویلہ میں نہیں ملتی۔
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جس نماز پڑھی ہے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پیچھے جس نماز میں ادا کی ہے۔ لیکن میں نے نہیں سنا کہ ان حضرات میں سے کسی نے (نماز میں) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (جهرتے) پڑھی ہو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say"Allah the Exalted said: I have divided the prayer between Me and My servant into two halves, and My servant shall have what he asks for. When he says: ' الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ' Allah the Exalted says: 'My servant has praised Me.' When he says: ' الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ' Allah the Exalted says: 'My servant has extolled Me.' When he says: 'مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ' Allah says: 'My servant has glorified Me.' When he says: ' إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ' Allah says: 'This is between Me and My servant, and My servant shall have what he asks for.' When he says: ' اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ' Allah says: 'This is for My servant, and My servant shall have what he asks for.'" [Narrated by Muslim]
Al-Halabi said: "There is no doubt that the prayer referred to here means Surah Al-Fatihah. The beginning with الْحَمْدُ لِلَّهِ ' is proof that the Bismillah is not part of Al-Fatihah (1) and that it consists of seven verses without it, as the middle verse, 'إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ' is placed between Allah and His servant. The three preceding verses belong to Allah exclusively, and the three following verses belong to His servant. If it were not a verse from Al-Fatihah, it would not be a verse from any other surah either, as there is no one who holds such an opinion. End quote."
Ibn Abdul Barr said: "This hadith removes any ambiguity regarding the omission of ' بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ' from Al-Fatihah, and it is an explicit statement that does not allow for interpretation. I do not know of any hadith more explicit than this concerning the omission of the Basmalah." End quote.
(1) His statement: "That the Bismillah is not part of Al-Fatihah", this will be further elaborated in the Book of Virtues of the Quran in the second chapter.
The scholar (RA) said that in this hadith, it is mentioned that Allah Almighty has divided Surah Al-Fatiha into two parts: the first part, which consists of the verses 'Alhamdu lillahi rabbi al-'alamin, ar-Rahman ar-Raheem, Maliki yawm ad-deen,' Allah Almighty has reserved for Himself; and the second part, which consists of the verses 'Ihdina as-sirata al-mustaqeema, sirata alladhina an'amta 'alayhim, ghayril maghdoobi 'alayhim wa la ad-dalleen,' Allah Almighty has specified for His servant. The verse 'Iyyaka na'budu wa iyyaka nasta'een' is the connecting verse between these two parts, and Allah Almighty has kept it shared between Himself and His servant. Thus, Surah Al-Fatiha consists of seven verses. The scholar (RA) has established from this hadith that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha, and his evidence is that the first part of Surah Al-Fatiha, which consists of three verses, begins with 'Alhamdu lillahi rabbi al-'alamin' and not with 'Bismillahir Rahmanir Raheem.' This proves that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha. If 'Bismillahir Rahmanir Raheem' were a part of Surah Al-Fatiha, the Prophet (SAW) would have started reciting Surah Al-Fatiha from 'Bismillahir Rahmanir Raheem' instead of 'Alhamdu lillahi rabbi al-'alamin.' When the Prophet (SAW) clearly stated this, it was conclusively proven that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha. Once it is established from the details mentioned that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha, it necessarily follows that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of any other surah, because there are only two possible views regarding whether 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is a part of Surah Al-Fatiha or other surahs. One view is that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is a part of Surah Al-Fatiha and all other surahs, and the other view is that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha and, by extension, not a part of any other surah. No one has adopted a third view that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is a part of Surah Al-Fatiha but not of other surahs.
The hadith and the evidence mentioned, as stated by the scholar Habib (RA), prove that when the Prophet (SAW) said after the hadith that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha, it necessarily follows that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of any other surah, and this is the true view. Imam Ibn Abd al-Barr (RA) said that it is definitively proven from a hadith that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha, and the Prophet (SAW) stated this in a context where no interpretation can be made. Imam Ibn Abd al-Barr (RA) further said that the hadith proving that 'Bismillahir Rahmanir Raheem' is not a part of Surah Al-Fatiha is more respected and authentic than any other.
It is narrated from him (RA) that he said, 'I have prayed behind the Prophet (SAW) and behind Abu Bakr (RA), Umar (RA), and Uthman (RA), but I have not heard any of them recite 'Bismillahir Rahmanir Raheem' aloud in prayer.' (This narration is reported by Muslim.)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پانچویں حدیث
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو نماز پڑھائی تو حضور علیہ السلام کو (سورۃ فاتحہ کے پڑھنے نماز میں جهرتے) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے نہیں سنا اور تم کو حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے جس نماز پڑھائی تم نے ان دونوں حضرات سے کچھ (نماز میں جهرتے) "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
He (Anas) also said: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, but he did not make us hear the recitation of 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem.' Then Abu Bakr and Umar also led us in prayer, and we did not hear it from them either. [Narrated by Al-Nasa’i]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سورة فاتحہ کا جزء نماز میں
بسم اللہ کو آہستہ پڑھا جاتا ہے
In the name of Allah, it is recited slowly.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صحابہ اور سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں
کہ میرے والد عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ" و
بلند آواز سے پڑھتے ہوئے سناتے کہا میں اپنے بدعت ہے، اور بدعت سے پھر، پھر کہا کہ میں نے اصحاب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو بدعت سے عداوت و نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا انہوں نے یہ
جبہی فرمایا کہ میں نے حضرت رسول مآب صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھتے مگر کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم (بلند آواز
سے) کہتے ہوئے نہیں سناس لیے تم کہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم آواز سے نہیں چاہے
جب تم نماز پڑھو تو "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" کہو۔
(اس کی روایت ترنڈی نہیں ہے۔)
اور نسائی اور ابن ماجہ نے کچھ اس کی روایت کی ہے اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کچھ اس
طرح روایت کی ہے اور ترنڈی نہ کہا ہے کہ عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حدیث حسن
ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اکثر اعلی علم کا اس پر عمل ہے، حضرت ابو بکر،
حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ اور ان کے بعد اکثر
تابعین کا بھی یہ عمل رہا ہے اور امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک، امام احمد اور امام اشتق رحمہ اللہ کی
اس کے قائل ہیں، ان سب کا کچھ یہی قول ہے کہ "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ" جہر سے پڑھی
جاۓ بلند آواز سے پڑھنے چاہیے۔
(ترنڈی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم سورۃ فاتحہ کا جزء نہوں کی وجہ سے نماز میں بسم اللہ کے آہستہ پڑھنے جانے پر دوسری حدیث
Abdullah ibn Mughaffal (may Allah be pleased with him) narrated: My father heard me saying 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem' in prayer, so he said to me, "O my son, avoid innovation, for I did not see any of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who disliked anything in Islam more than innovation." He continued: "I have prayed with the Prophet (ﷺ), with Abu Bakr, with Umar, and with Uthman, and I did not hear any of them say it. So do not say it when you pray. Rather, say: 'All praise is due to Allah, the Lord of the worlds.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah]
Imam Abu Hanifa also reported something similar.
Al-Tirmidhi said: "The hadith of Abdullah ibn Mughaffal is a sound hadith, and most of the scholars from among the companions of the Prophet (ﷺ), including Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, and others, as well as the generation after them from the Tabi'un, acted upon it. Sufyan Ath-Thawri, Ibn al-Mubarak, Ahmad, and Ishaq also held this view. They did not consider it appropriate to recite 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem' aloud, but said that it should be recited silently." End quote.
بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں) بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم بلندآواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔)
بسم اللہ کے آہستہ پڑھنے جانے پر تیسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar did not recite 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem' aloud. [Narrated by Imam Abu Hanifa]
بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے میں نے نہیں سنا کہ ان حضرات میں سے کسی نے بھی (نماز میں) بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم آواز سے پڑھی ہو۔ (اس کی روایت امام احمداور نسائی نے اپنی سنن کی کہ جوہی کی شرط کے موافق ہے۔)
بسم اللہ کے آہستہ پڑھنے جانے پر چوتھی حدیث
On his authority: I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, Umar, and Uthman, and I did not hear any of them reciting “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” aloud. [Narrated by Ahmad and Al-Nasa'i with a chain on the condition of authenticity]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، یہ سب حضرات (نماز میں سورۃ فاتحہ کے پیلے) بسم اللہ الرحمن الرحمٰیم آہستہ پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ فاتحہ کا جزء نہوں نے کی وجہ سے نماز میں بسم اللہ کا آہستہ پڑھنے جانے پر پاپوی حدیث
On his authority: I prayed behind the Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar, and all of them used to recite “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” silently. [Narrated by Ibn Majah]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آہستہ پڑھا کرتے تھے اور حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے) آہستہ پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)
ف: ان احادیث میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آہستہ پڑھتے تھاسے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آہستہ پڑھنا چاہئے اور دوسرا یہ کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے، اگر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ فاتحہ کا جزء ہوتا تو اس کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ کی طرح جھرے پڑھتے، سورۃ فاتحہ کو جھرے پڑھنااور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو آہستہ پڑھنا یہ دو اس بات کی بین و بین لیلے ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے۔
نماز میں قرأت سے پہلے آعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا ثبوت
On his authority: The Messenger of Allah (ﷺ), as well as Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali, used to recite “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” silently. [Narrated by Al-Tabarani, and all its narrators are trustworthy]
It is evident that the narrations regarding reciting "Bismillah" silently indicate that doing so is a Sunnah. They also suggest that it is not a part of Surah Al-Fatiha or any other surah; otherwise, there would be no reason to conceal it while the rest of the verses are recited aloud. The verses of a surah are equal in the ruling of recitation, whether aloud or silent, as is well known.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (آہستہ) کہا کرتے تھے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
نماز میں آعوذ، بسم اللہ اورآمین آہستہ کہنے کا ثبوت
In prayer, the evidence for saying 'I seek refuge in Allah,' 'In the name of Allah,' and 'Amen' softly.
نماز میں آعوذ، بسم اللہ اور ربنا لک الحمد آہستہ کہتا تھا
ابو واکل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما (نماز میں) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جھرے نہیں پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح
اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم۔ بھی جہر سے نہیں پڑھتے اور نہ تو آمین بلندآواز سے کہتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
On the authority of Abu Wa'il: Umar and Ali did not recite "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" aloud, nor the Ta'awwudh (seeking refuge) nor the Tasmiyah (saying Ameen). [Narrated by Al-Tahawi]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (نماز میں) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آہستہ پڑھتے تھے۔ اور اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم اور ربنا لک الحمد بھی آہستہ پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
نماز میں ثناء، اعوذ باللہ، بسم اللہاورآمین کے آہستہ کہنا کثبوت
On the authority of Ibn Mas'ud: He used to recite "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" silently, along with seeking refuge and saying "ربنا لك الحمد" [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
دوسرے "آعوذ باللہ من الشیطان الرجیم"
تیسرے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ (نماز میں) چار چیزیں امام کو آہستہ کہنی چاہئے ایک "سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدُک ولاالہ غیرک"
اور چوتھے "آمین"۔ اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔
Ibrahim reported: Some people from Basra came to Umar ibn Al-Khattab to ask him about how to begin the prayer. Umar stood up, began the prayer, and they stood behind him. He then recited loudly:
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
(Glory be to You, O Allah, and praise be to You. Blessed is Your name, and exalted is Your majesty. There is no god but You).
[Narrated by Muhammad in Al-Athar while Al-Daraqutni also narrated something similar]
Muhammad said: We follow this in beginning the prayer, but we do not consider it necessary for the Imam or those behind him to recite it loudly. Umar only did so to teach them what they had asked about. Shaykh Ibn Al-Humam said: Since it is established that the Companions, such as Umar and others, began the prayer with "Subhanaka Allahumma" and recited it loudly to teach people so they could follow and learn, this indicates that this was the final practice.
اور عبد الرزاق اور ابو عمر نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے۔
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تے کہ ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" آہستہ پڑھتا کرتے تھے۔ جہر سے نہیں پڑھتے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" تو سورہ فاتحہ کا اور نہ قرآن کے کسی سورہ کا ابتدائی جزء ہو۔ اگر "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سورہ فاتحہ یا قرآن کے کسی سورت کا ابتدائی جزء ہوتا تو اس کو بھی قرآن کی اورآیت کی طرح ضرور جہر سے پڑھا کرتے۔
سورۃ فاتحہ میں جو "بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ذکر ہے اس کو اس وجہ سے جزء سمجھا جاتا ہے کہ وہ دگر آیتوں کی طرح اس سورہ میں قرآن کا جزء ہے، علاوہ ازیں نماز میں سورۃ فاتحہ کے پہلے ثناء اور تعوذ کو ایسی وجہ سے آہستہ پڑھا جاتا ہے کہ پردونے قرآن کے جزء میں ہیں، اس طرح جب "بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" کا آہستہ پڑھا جانا حدیثوں سے ثابت ہوا تو معلوم ہوگیا کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" بھی ثناء اور تعوذ کی طرح قرآن کا جزء میں ہے۔
On the authority of Ibrahim: There are four things the Imam should recite silently: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ", seeking refuge from Satan, "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" and "Ameen." [Narrated by Muhammad in Al-Athar]
Abd Al-Razzaq and Abu Ma'mar also reported from Umar bin Al-Khattab a similar narration.
Al-Tahawi said: Since it is established from the Messenger of Allah (ﷺ) and from those who followed him that they did not recite "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" aloud, it confirms that it is not part of the Quran. If it were, it would have been recited aloud like the rest of the Quran. Do you not see that “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” in Surah An-Naml is recited aloud like the rest of the Quran because it is part of the Quran?
Since it is confirmed that "بسم الله" before Surah Al-Fatiha is recited silently while the Quran is recited aloud, it proves that it is not part of the Quran. Thus, it should be recited silently, just as the Ta'awwudh and the opening supplication are recited silently.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام آمین کہنا کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو (امام کے آمین کہنا کا ارادہ کیا ہے؟ کہنے سے ظاہر ہوتا ہے) کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ ہوگی تو اس کے گذشت گناہ معاف کے جا میں گے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر لی ہے)
On the authority of Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." [Agreed upon]
In another narration: "When the Imam says: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'; (1) for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." This is the wording of Al-Bukhari, and Muslim reported something similar.
In another narration by Al-Bukhari: "When the reciter says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for the angels also say 'Ameen,' and whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven."
(1) His statement: "When the Imam says غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'" clearly indicates that the followers should say 'Ameen' after the Imam finishes reciting these words. From this, it is understood that the Imam recites 'Ameen' silently; for if it were prescribed to say it aloud, the Prophet (ﷺ) would have said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen'" instead of linking it to "Ghayr al-maghdubi 'alayhim wa la al-dallin."
If one argues that a previous hadith states, "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,'" implying that the followers should hear him say it, the response is given in "Al-Ta'liq Al-Hasan." The majority of scholars interpreted "When the Imam says 'Ameen'" metaphorically to reconcile both narrations. They explained that it means "when the Imam intends to say 'Ameen,'" similar to how Allah says: "When you rise for prayer" (Al-Ma'idah: 6), meaning "when you intend to pray."
Ibn Hajar mentioned in "Fath Al-Bari" that scholars have interpreted "when the Imam says 'Ameen'" metaphorically. Thus, it does not necessarily indicate that the Imam says 'Ameen' aloud. This is summarized from "I'laa Al-Sunan."
کہ جب امام غَیْرَ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّینَ کہ اور (آمین کہنا کا ارادہ کرے) تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنا کے ساتھ ہو تو اس کے گذشت گناہ معاف کے جا میں گے۔
یہ امام بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں اور مسلم کی روایت کے الفاظ میں قریب قریب ایسے ہیں۔
These are the words of Imam Bukhari's narration, and the words of Muslim's narration are nearly the same.
اور بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ جب قاری (وَلَا الضَّالِّینَ کہہ کر) آمین کہنا کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اس لئے جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنا کے ساتھ ہو تو اس کے گذشت گناہ معاف ہو جا میں گے۔
ف: اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ امام کے "وَلا الضَّالِیْنَ" کہنے کے بعد مقتدی آمین کہے چونکہ امام کے آمین کہنے کا وقت کچھ بھی نہیں ہے، اس لئے امام اور مقتدی کی آمین ساتھ ساتھ ہوگی۔ اس حدیث میں امام کے "وَلا الضَّالِیْنَ" کہنے کے بعد مقتدی کو آمین کہنے کا جو حکم ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کچھ آہستہ آمین کہے رہا ہے اگر امام کا جھڑے آمین کہنا مشروط ہوتا تو نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے آمین کہنے کو امام کے "وَلا الضَّالِیْنَ" کہنے سے متعلق ذکر کے امام کے آمین کہنے سے متعلق فرماتے۔ اس حدیث کی پہلی روایت کے الفاظ "اذا آمن الامام فآمنوا" سے ظاہر ہی معلوم ہوتا ہے کہ مقتدی امام کے آمین کہنے پر آمین کہے مگر حقیقت میں اس کے پیش نہیں ہیں اگر، "اذا آمن الامام فآمنوا" کے معنے لے جائیں تو اس حدیث کی پہلی روایت اور دومی روایت جس کے الفاظ میں: "اذا قال الامام "غیر المغضوب علیہم وَلا الضَّالِیْنَ" فقولوا: "آمین"۔ (جب امام وَلا الضَّالِیْنَ" کہے تو تم آمین کہو) میں تضاد واقع ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی روایت میں یہ کہ مقتدی اس وقت آمین کہے جب امام آمین کہے اور دومی روایت میں پول ہے کہ مقتدی اس وقت آمین کہے جب امام "وَلا الضَّالِیْنَ" کہے لے۔ ان دونوں روايتوں کے تضاد کو دور کرنے کے لئے جمہور نے پول یہ دیا ہے کہ "غیر المغضوب علیهم وَلا الضَّالِیْنَ" والی حدیث کے معنی حقیقت پر محول کیا ہے اور "اذا آمن الامام " والی حدیث کے معنی کو مجاز پر، اس طرح کہ پہلی روایت "اذا آمن الامام فآمنوا" کے معنی مجازی اس طور پر یہ لے گیا کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین کہو، اس کی مثال اس طرح ہے جیسے آیت "اذا قُمْتُمْ اَلی الصَّلوۃ" کے مجازی معنی (جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوئے کا ارادہ کرو) لے گیا۔ اور دومی حدیث: "اذا قال الامام "غیر المغضوب علیہم وَلا الضَّالِیْنَ" فقولوا: "آمین" کے معنی حقیقی پی لے گیا کہ امام جب "وَلا الضَّالِیْنَ" کہے کر آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم "آمین" کہو اب تضاد باقی نہ رہا اور دونوں روايتوں کے ایک سے متناسق ہوئے اسی بناء پر تم نے صدر میں "اذا آمن الامام فآمنوا" والی حدیث کا ترجمہ کیا ہے کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم
آمین کہو تا کر دوسرا روايت سے اس کا تطابق ہو جائے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے رخ الباری میں "اذا آمَنَ" والی حدیث کے بھی معنی مجازی لے ہیں۔
(پی پورا مضمون "تعلیق اعلاء السنن" سے ماخوذ ہے۔)
مقتدی کا ہر عمل امام کے عمل کے بعد ہونے کا ثبوت
This hadith clearly indicates that after the imam says 'wa-lad-dalina,' the follower should say 'Amen,' as there is no specific time for the imam to say 'Amen.' Therefore, the 'Amen' of the imam and the follower will be simultaneous. The command for the follower to say 'Amen' after the imam says 'wa-lad-dalina' in this hadith proves that the imam recites 'Amen' slowly. If the imam were to recite 'Amen' quickly, the Prophet ﷺ would not have mentioned the follower's 'Amen' in relation to the imam saying 'wa-lad-dalina.' The words of the first narration of this hadith, 'If the imam says Amen, then you should say Amen,' clearly indicate that the follower says 'Amen' when the imam says 'Amen,' but in reality, it is not before that. If we take the meaning of 'If the imam says Amen, then you should say Amen,' a contradiction would arise between the first narration and the second narration, which states: 'When the imam says, "ghayr al-maghdubi alayhim wa-lad-dalina," then you should say, "Amen."' (When the imam says 'wa-lad-dalina,' you should say 'Amen.') This is because the first narration suggests that the follower says 'Amen' when the imam says 'Amen,' while the second narration suggests that the follower says 'Amen' when the imam says 'wa-lad-dalina.' To resolve this contradiction, the majority have opined that the meaning of the hadith with 'ghayr al-maghdubi alayhim wa-lad-dalina' is taken literally, and the meaning of the hadith with 'If the imam says Amen' is taken figuratively. Thus, the first narration, 'If the imam says Amen, then you should say Amen,' is interpreted figuratively to mean that when the imam intends to say 'Amen,' you should say 'Amen.' This is similar to how the verse 'When you stand for prayer' is interpreted figuratively to mean 'When you intend to stand for prayer.' The second hadith, 'When the imam says, "ghayr al-maghdubi alayhim wa-lad-dalina," then you should say, "Amen,"' is taken literally to mean that when the imam says 'wa-lad-dalina' and intends to say 'Amen,' you should say 'Amen.' This resolves the contradiction and makes both narrations consistent. On this basis, you have translated the first narration, 'If the imam says Amen, then you should say Amen,' to mean 'When the imam intends to say Amen, you should say Amen,' to align it with the second narration. Ibn Hajar (RA) also takes the figurative meaning of the hadith with 'If the imam says Amen' in his Fath al-Bari. (The entire discussion is taken from 'Tahliq al-Sunan.') The proof that every action of the follower follows the action of the imam.
البموسى اشعری رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارا ارادہ نماز کا ہوتا تم اول اتنی صرف سیدی کر لو، پھر تم میں کوئی امام بن جائے، جب امام اللہ اکبر کہ تو تم بھی اللہ اکبر کرو، اور جب امام غیر المغضوب علیہم و لا الضالین " کہ (اورآ میں کہنا کا ارادہ کرے) تو تم بھی آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا کو قبول فرما گا جب امام اللہ اكبر کہ کر کو ع میں جائے تو تم بھی اللہ اكبر کہ کر کو ع میں جاو گر امام تم سے پہلے کو ع میں جائے اور تم سے پہلے کو ع سے سراٹ حا سے اس طرح تمہارے اور امام کے کو ع کی مقدار بر ابر ہو جائے گی اور یہی فرمایا کہ امام جب "سَمعَ اللہُ لمن حَمدَہ " کہ تو تم "اللہُمَّ رَبَّنا لَکَ الحَمد" کہواللہ تعالیٰ تمہاری حمد سنگا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
نماز میں آمین آہستہ کہنا کا ثبوت
Abu Musa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "When you pray, straighten your rows, then let one of you lead the prayer. When he says the Takbir, say the Takbir. When he says: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ, say Ameen, and Allah will respond to you. When he says the Takbir and bows, then say the Takbir and bow, for indeed the Imam bows before you and rises before you." The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) then said: "So, this compensates for that." He further said: "When he says: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ, say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ, and Allah will listen to you." [Narrated by Muslim]
شعبہ رضی اللہ عنہ روایت میں وائل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "غیر المغضوب علیہم و لا الضالین " کے بعد آمین آہستہ فرمایا۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث سے اور اس کے بعد کی حدیث ول سے ثابت ہوا کہ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آمین آہستہ کی جائے۔ پیغی دلال پیں، عقلی و لاکل سے بھی آمین کا آہستہ کہنا اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ آمین کچھ نماز میں پڑھی جائے و ای دعاوں اور ازاکار میں سے جس طرح نماز کی دوسری دعاوں اور از کاروآہستہ پڑھتے ہیں اس طرح آمین کو بھی آہستہ پڑھنا چاہیے۔
آمین کو آہستہ پڑھنے کی ایک اور عقلی دلیل یہی ہے کہ تجویز کی طرح آمین بھی قرآن کا جزء ہیں
ہے۔ اگر آمین قرآن کا جزء ہوتا تو اس کو قرآن میں لکھاجاتا چونکہ تجویز اور آمین دونوں قرآن میں نہیں کہ
جا تے ہیں اس لئے ثابت ہوا کہ پیدونوں قرآن کے جزء نہیں ہیں اور جو قرآن کا جزء ہواس کو آہستہ
پڑھاجاتا ہے، اس لئے تجویز کی طرح آمین کو بھی آہستہ پڑھنا چاہیے۔
(پیغمبر کے مرقہات، بنیاوارا تعلیق احسن سے ماخوذ ہے)
نماز میں آمین آہستہ کہنے کے ثبوت پر دوسری حدیث
‘Alqamah ibn Wa’il narrated from his father that he prayed with the Prophet (peace and blessings be upon him). When he reached: ghayri al-maghdubi ‘alayhim wala ad-dallin, he said: "Ameen," and lowered his voice. [Narrated by al-Hakim, who said: "It has a Sahih chain of narration but was not recorded by al-Bukhari and Muslim."]
علقہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے نماز پڑھتے ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم وغیر المغضوب علیہم و لا الضالین، پر پیچے آپ نے آہستہ آمین کی۔
(اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور بیہاہ کہ میحدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق تھی ہے۔)
نماز میں آمین آہستہ کہنے کے ثبوت پر تیسری حدیث
‘Alqamah ibn Wa’il narrated from his father that he prayed with the Prophet (peace and blessings be upon him). When he reached: ghayri al-maghdubi ‘alayhim wala ad-dallin, he said: "Ameen," and lowered his voice. [Narrated by al-Hakim, who said: "It has a Sahih chain of narration but was not recorded by al-Bukhari and Muslim."]
علقہ رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے
والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے نماز پڑھتے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وغیر
المغضوب علیہم و لا الضالین، پر پیچے حضرت علی الصلاۃ والسلام نے آہستہ آمین کی۔
(اس کی روايت امام احمد، ابوداود، طیالی، ابویعلی، طبرانی اور دار قطنی نے کی ہے۔)
نماز میں آمین آہستہ کہنے کے ثبوت پر چوتھی حدیث
‘Alqamah ibn Wa’il narrated from his father that he prayed with the Prophet (peace and blessings be upon him). When he reached: ghayri al-maghdubi ‘alayhim wala ad-dallin, he said: "Ameen," and concealed his voice. [Narrated by Ahmad, Abu Dawud at-Tayalisi, Abu Ya‘la, at-Tabarani, and Al-Daraqutni]
ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر حضرت علی
رضی اللہ عنہما (نماز میں سورہ فاتحہ سے پیلے بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے نہیں پڑھتے تھے اور سورہ فاتحہ
کے بعد) آمین بھی جہر سے نہیں کہتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے تہذیب الآثار میں کی ہے۔)
Abu Wa’il (may Allah be pleased with him) narrated: "Neither ‘Umar nor ‘Ali used to recite Bismillah ir-Rahman ir-Raheem or Ameen aloud." [Narrated by at-Tabarani in "Tahdhib al-Athar."]
ابوزہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ درات کو چل کر ایسے شخص کے پاس پائے جونہاپت عاجزی سے دعا مگر باخا (نی صلی اللہ علیہ وسلم کہرے ہوئے اس کی دعا سنترہے) پھر آپ نے ارشاد فرمایا اگراس نے اپنی دعا پر مہربانی ہوتا اس نے اپنی دعا قبول کروا لی، لوگوں میں سے ایک شخص نے دریافت کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا پرس طرح مہربانی چاہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ آمین کہے کرے (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
فرض میں دوسری رکعت میں کی بہسےت چھوٹی ہوئے کا بیان
We found ourselves walking with the Messenger of Allah ﷺ towards a man who was begging due to his extreme poverty (and the Messenger of Allah ﷺ would listen to his supplications). Then the Messenger of Allah ﷺ said, 'If he were to show mercy in his supplication, it would be accepted.' A man asked, 'O Messenger of Allah ﷺ, what kind of mercy does one show in supplication?' The Messenger of Allah ﷺ replied, 'Say, Amen.' (This is narrated by Abu Dawud.) In the second rak'ah, it became shorter.
ابوقادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورہ پڑھا کرتے، اور اخری کی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھا اور کچھ تہم کو (تعلیم امت کے لیے) کوئی آیت بلند آواز سے پڑھ کر سنادیا کرتے، اور پہلی رکعت میں طویل قرآن کرتے تھا اور دوسری رکعت مختصر اور ایسی طرح عصر اور مجعر کی فرض نماز ول میں پہلی رکعت میں طویل قرآن کے ساتھ اور دوسری رکعت مختصر قرآن کے ساتھ ادا فرما تے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
فرض نماز ول کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فضل ہے۔
واجب نہیں ہے
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace and blessings be upon him) used to recite in the first two Rak‘ahs of Dhuhr with Surah al-Fatihah and another Surah, and in the last two Rak‘ahs with only Surah al-Fatihah. Sometimes, he would make us hear a verse, and he would prolong the first Rak‘ah more than the second. He did the same in ‘Asr and Fajr." [Agreed upon]
علقہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب
مقتدی ہوتے تو نہ جھڑی نماز میں قرآن تخلف الامام کیا کرتے اور نہ تو سری نماز میں، نہ تو پہلی دو رکعتوں میں قرآن تکرتے اور نہ تو آخری دو رکعتوں میں اور جب تبھا فرض نماز پڑھتے تو پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک میں سورہ فاتحہ پڑھتے اور ضم سورہ کرتے اور آخری دو رکعتوں میں سے کسی رکعت میں پڑھنے نہیں پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)
فرض نماز ون کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فضل ہے
واجب نہیں اس پر دوسری حدیث
Alqamah bin Qais reported that Abdullah bin Mas’ud would not recite behind the Imam in prayers where the recitation was audible or silent, neither in the first two units nor in the last two. However, when he prayed alone, he would recite Al-Fatihah and a surah in the first two units but would not recite anything in the last two. [Narrated by Muhammad]
حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ فرض نماز ون کی پہلی دو رکعتوں میں قرآن ت کیا کرو، جب کہ (امام ہو) ایتہا نماز پڑھنے ہو) اور آخری دو رکعتوں میں سجان اللہ کہا کرو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
ف: احادیث ذکور سے پبات وا ضحوتی ہے کہ امام اور تہا نماز پڑھنے والے کے لئے چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور تین رکعت والی فرض کی نماز میں تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کی قرآن ت واجب نہیں ہے، ان رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بجاے سجان اللہ پڑھنے یا پڑھنے بغیر خاموش رہتوبی کافی ہے گرا فضل یہ کہ ان میں سورۃ فاتحہ پڑھنے اور بیکافی ہونا اورا فضل ہونا نہ ہب حقی ہے، امام ثوری، امام اوزاعی اور حضرت ابراہیم نخی اور عراق کے علا ایسف کا جس بیی قول ہے۔ (یہ تعلیق احمد اور عمرہ الرعاية سے ماخوذ ہے۔)
نمازی فجر میں طوال مفصل پڑھنے کا بیان
Ali and Ibn Mas’ud both said: "Recite in the first two units and glorify (say SubhanAllah) in the last two." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In "Al-Taleeq Al-Mumajjad": "Our companions have adopted this view and said that recitation in the last two units of obligatory prayers is not obligatory. If one glorifies (SubhanAllah) in them or remains silent, it suffices. This was also the opinion of Al-Thawri, Al-Awza’i, Ibrahim Al-Nakha’i, and the early scholars of Iraq."
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لحا کہ فجر کی نماز میں طوال مفصل پڑھا کرو۔
(اس کی روایت ترمذی اور عبد الرزاق نے کی ہے اور تہی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
ف : سورہ تجرات سے سورہ بروج تک کی تمام سورتیں طوال مفصل کہلاتی ہیں، ان میں سورۃ
بروج شامل نہیں ہے۔ (شرح وقایدی)
Umar wrote to Abu Musa, saying: "Recite in the Fajr prayer from the long surahs of Al-Mufassal." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abdur Razzaq, and Al-Bayhaqi reported something similar]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم فجر کی فرض نماز میں سورۃ ق والقرآن المجید "یاس کے برابر قرآن کا کوئی حصہ پڑھا کرتے
تھے اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم باقی چار نمازوں کونماز فجر کی طرح طویل قرآن سے نہیں پڑھتے تھے بلکہ
نماز فجر کی قرآن کی نسبت مختصر قرآن کیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف : واضح ہوگا نماز ظہر کے فرض کی قرآن میں ہمارے فقہاء احناف کے دو قول ہیں، ایک قول
پیہ کہ ظہر کی قرآن عصر کی قرآن کی طرح اوسط مفصل سے ہو، منہی الصلا نے اس قول کو اختیار کیا
ہے اور اس قول کی تائید صدر کی اس حدیث سے ہوتی ہے، جس کے راوی جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ
ہیں۔
دوسرا قول یہ کہ ظہر کے فرض کی قرآن فجر کے فرض کی طرح طوال مفصل سے ہو، فقہ کے
اکثر متون اور در مختار اور رد المختار نے بھی اس کو اختیار کیا ہے اور فتوی بھی اس قول پر ہے، علامہ عینی اور
امام ابن الہمام رحمہما اللہ بھی اس کے قائل ہیں، اس قول کی تائید آگے آنے والی حدیث سے ہوتی ہے
جس کو مسلم اور ترمذی نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
(پرد مختار سے ماخوذ ہے۔)
Jabir bin Samurah reported: "The Prophet (ﷺ) used to recite in Fajr with Surah Qaf and similar surahs, and his prayer afterward was light." [Narrated by Muslim]
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے خور
سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی فرض نماز میں "وَالَیْلِ اِذا عَسْعَسَ" پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
جمعہ کے دن نماز فجر میں جوسو رتیس پڑھنا مسنون ہے ان کا بیان
I have heard that the Messenger of Allah ﷺ used to recite 'Wa al-layli idha 'as'as' in the Fajr obligatory prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے
دون نماز فجر کے فرض کی پہلی رکعت میں اکثر اللم تنزیل (سورۃ سجدہ) اور دوسری رکعت میں 'هل
آتی علی الانسان' پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے۔)
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ
"اللہ سجده" اور سورہ الدہر پڑھا کرتے تھے، علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس بارے میں "محيط" کے
حوالے سے کہا ہے کہ امام جمعہ کے دن فجر کی نماز میں ان دوسو رتوں کے سوا بعض اوقات دوسری سورتیں
بھی پڑھا کرتے، تاکہ ناواقف ان سورتوں کو بیش پڑھنے سے پیگمان نہ کرے کہ جمعہ کے دن نماز فجر
میں ان دوسو رتوں کے سوا اور سورتوں کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔
نماز ظہر میں طوال مفصل پڑھنے کا بیان
Abu Hurairah said: "The Prophet (ﷺ) would recite in the Fajr prayer on Fridays ‘Alif Lam Mim Tanzeel’ (Surah As-Sajdah) in the first unit, and in the second unit: ‘Has there come upon man a period of time...’ (Surah Al-Insan: 1)." [Agreed upon]
Al-‘Ayni said in "Al-Muhit": "On the condition that he sometimes recites other surahs so that an ignorant person does not assume that nothing else is permissible."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز
ظہر کے فرض کی پہلی دور کے تول میں سے ہر رکعت میں تین آیات کے برابر پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Sa’id Al-Khudri reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the first two units of Dhuhr about thirty verses in each unit." [Narrated by Muslim]
In another narration by Al-Tirmidhi from the Prophet (ﷺ): "He recited in Dhuhr about the length of Surah As-Sajdah." Al-‘Ayni and Ibn Al-Humam said: "This indicates that he used to recite in the two units of Dhuhr similar to what he recited in Fajr."
اورترمزی کی ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ پ نماز
ظہر میں "اللہ تنزیل" (سجدہ) کے برابر قرآن تفرما ہے۔
نماز عصر میں اوساط مفصل پڑھنے کا بیان
that in the Dhuhr prayer, reciting the Qur'an is equivalent to prostration (sujud). In the 'Asr prayer, it is recommended to recite medium-length surahs.
جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز
عصر میں "والسماء ذات البروج" اور "والسماء والطارق" اوران جسی دوسری سورتیں جو
طولت میں ان دونوں کے برابر ہوتی ہیں پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔)
ف: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے دونوں اوساط مفصل پڑھا کرتے تھے جس کے عمدة الرعاية اور عناية میں ذکور ہے اوساط مفصل سے مراد "سورۃ بروج " سے "سورۃ لم يكن" تک کی تمام سورتیں ہیں اور ان میں "لم يكن " شامل نہیں ہے۔ (ملتقی، تشریح و قایدہ)
Jabir bin Samurah reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Asr ‘By the sky containing great stars’ (Surah Al-Buruj) and ‘By the sky and the night comer’ (Surah Al-Tariq) or similar surahs." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawood]
This indicates that the Prophet (ﷺ) used to recite in the two units of Asr from the middle-length surahs of Al-Mufassal, as mentioned in "Umdat Al-Ri’ayah" and "Al-‘Inayah."
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، انہوں نے ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو کہا کہ نماز مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترنمی اور عبد الرزاق نے لی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے) ف: "سورۃ لم يكن " سے "سورۃ ناس " تک تمام سورتیں قصار مفصل کہلاتی ہیں اور ان میں "سورۃ ناس " بھی داخل ہے۔ (تشریح و قایدہ، ملتقي)
Umar wrote to Abu Musa, saying: "Recite in Maghrib from the short surahs of Al-Mufassal." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abdur Razzaq, and Ibn Abi Shaybah reported something similar]
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آپ نماز مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترنمی نے لی ہے) جمع کی شب نماز مغرب میں جوسرتیں پڑھنا مسنون ہے ان کا بیان
Abu Bakr recited in Maghrib from the short surahs of Al-Mufassal. [Narrated by Al-Tirmidhi]
جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب جمع نماز مغرب میں اکثر "قُلْ یَا یَیَا الْکَفِرُوْنَ" اور "قُلْ هُوَ اللہُ اَحَد" پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام بخاری نے تشریح السنن میں لی ہے)
Jabir bin Samurah said: "The Prophet (ﷺ) used to recite in Maghrib on Friday night: ‘Say, O disbelievers’ (Surah Al-Kafirun) and ‘Say, He is Allah, [who is] One’ (Surah Al-Ikhlas)." [Narrated by Al-Baghawi in "Sharh Al-Sunnah" While Ibn Majah also reported it from Ibn Umar, except that he did not mention "Friday night."]
اور اس طرح کی روایت ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ہے، جس میں "لیلة الجمعۃ" "شب جمعہ" کا ذکر نہیں ہے۔
نماز عشاء میں اوساط مفصل پڑھنے کا بیان
Uthman bin Affan used to recite in Isha from the middle-length surahs of Al-Mufassal. [Narrated by Al-Tirmidhi]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کر انہول نے ابومسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لحا کہ نماز عشاء میں اوساط مفصل پڑھا کرو۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے)- نماز عشاء میں اوساط مفصل پڑھنے کے بیان پردوسری حدیث
Umar wrote to Abu Musa Al-Ash’ari, saying: "Recite in Isha from the middle-length surahs of Al-Mufassal." [Narrated by Abdur Razzaq]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کر آپ نماز عشاء میں اوساط مفصل کی چند سورتین مخصوص فرمائے تھے اور انہی میں سے بیشتر پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
نماز عشاء میں اوساط مفصل پڑھنے کے بیان پر تیری حدیث
Uthman bin Affan used to recite in Isha from the middle-length surahs of Al-Mufassal. [Narrated by Al-Tirmidhi]
براء رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں والتين والزيتون پڑھتے ہوئے سناتھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ کی کو خوش آواز میں پایا- (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے-) پا چون نماز ول میں جوسورتین پڑھنا مسنون ہے ان کا بیان
Al-Bara’ said: "I heard the Prophet (ﷺ) recite in Isha ‘By the fig and the olive’ (Surah At-Tin)." [Agreed upon]
سلیمان بن بیار رضی اللہ عنه، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے فلال صاحب (جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے سوا کسی اور کے پچپی ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، سلیمان کہتے ہیں کہ (پیشکر) میں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں پہلے اور آپ کے پچپے
نماز ی پڑھین، میں ویجا کر (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نماز ظہر کی پہلی دور کعتیس طویل قرأت
(طوای مفصل تے) ادفرما تے تو اورآخری دور کعتیس مختصر قرأت (یعنی سورۃ فاتحہ) ادفرما تے
اور عصر کی نماز ظہر کی نسبت مختصر قرأت (یعنی اوساط مفصل تے) ادفرما تے تو، اور مغرب کی نماز
میں قصار مفصل کی سورتین پڑھتے تو اور عشاء کی نماز میں اوساط مفصل کی سورتین پڑھتے اور صبح کی
نماز میں طوال مفصل کی سورتین پڑھا کرتے تو-
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
فرض نماز ول میں تینون طوالول کے ہرسورت کا پڑھنا مسنون ہے
Sulaiman bin Yasar reported from Abu Hurairah: "I did not pray behind anyone whose prayer was more similar to that of the Messenger of Allah (ﷺ) than so-and-so." Sulaiman said: "I prayed behind him, and he would lengthen the first two units of Dhuhr and shorten the last two. He would lighten Asr, recite in Maghrib from the short surahs of Al-Mufassal, recite in Isha from the middle-length surahs of Al-Mufassal, and recite in Fajr from the long surahs of Al-Mufassal." [Narrated by Al-Nasa’i]
عمر و بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طوالی مفصل، اوساط مفصل
اور قصار مفصل کے پڑھچھوٹے اور بڑے سورہ سے فرض نماز ول میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے
پایا-(اس کی روایت امام ماک نے کی ہے-)
نماز جمعہ میں جوسورتین پڑھنا مسنون ہے ان کا بیان
From Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, who said: There is no small or large Surah from the Mufassal except that I have heard the Messenger of Allah ﷺ leading people with it in the obligatory prayer. [Narrated by Malik]
عبید اللہ بن الی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مروان،
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا منورہ میں اپنا جا شیشین بنا کر کہ معظّم روانہ ہوا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تم
کونماز جمعہ پڑھائی آپ نے پہلی رکعت میں سورہ جمعاؤردوسری رکعت میں سورہ ادا جآئے کے
المنفقون، پڑھی، نماز کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کہ میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
پڑونول سورتین نماز جمعہ میں پڑھتے ہوئے سنا ہے-
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
عید کے اور جمعہ میں جوسورتیس پڑھنا مسنون ہے، ان کا بیان
From Ubaydullah bin Abi Rafi’ who said: Marwan appointed Abu Huraira as a deputy over Madinah and went to Makkah. So, Abu Huraira led us in the Friday prayer and recited Surah Al-Jumu'ah in the first rak'ah and Surah Al-Munafiqun in the second rak'ah. Then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting both of them on the day of Jumu’ah. [Narrated by Muslim]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے اور جمعہ میں وسبح اسم ربک الأعلی اور هل انتک حدیث الغاشیة روا کرتے تھے۔ نعمان کہتے ہیں اگر عید کے اور جمعہ کے دونوں میں دونوں تجعہوجاتے تب جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نماز کے دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عید کے میں جوسورتیس پڑھنا مسنون ہے، ان کا بیان
From Nu’man bin Bashir who said: The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the two Eid prayers and in Jumu'ah: Surah A’la and Surah al-Ghashia. He said: When Eid and Jumu’ah would fall on the same day, he would recite them in both prayers. [Narrated by Muslim]
عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ابوواقد لیث رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو ابوواقد لیث رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دونوں قرآن المجید اور اقتربت الساعة پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
فجر کی سنتوں میں جوسورتیس پڑھنا مسنون ہے، ان کا بیان
From Ubaydullah: Umar bin Al-Khattab asked Abu Waqid Al-Laythi: What would the Messenger of Allah ﷺ recite in Eid Al-Adha and Eid Al-Fitr? He said: He used to recite قَ وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ and اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ. [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنے فجر کی پہلی رکعت میں قل يا أيها الكافرون اور دوسری رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑھی ہے۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
فجر کی سنتوں میں جوآیتن پڑھنا مسنون ہے، ان کا بیان
From Abu Huraira who said: Indeed, the Messenger of Allah ﷺ recited in the two rak’ahs of Fajr: قُلْ يَتَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ and قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [Narrated by Muslim]
اَمَّا بَاللّٰهِ وَمَاۤ اُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَاۤ اُنزِلَ إِلَىٰ اِبْرَاهِيۡمَ وَاِسْمَعِيۡلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوۡبَ
وَالْاَصْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَاۤ اُوْتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ
ۚ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنے فجر کی پہلی رکعت میں سورہ بقرہ پر 16 کی آیت پڑھتے تھے، فرمایا قرآن
(مسلمانو! تم یہود و نصاری کو پی) جواب دو کہ تم اللہ پر ایمان لاے ہیں اور (قرآن پر) جوتم
پر اترا (اس پر) اور (صحیف) جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت
یعقوب علیہم السلام اور حضرت یعقوب کی اولاد پر اترے (ان پر) اور حضرت موسی اور حضرت عیسی
علیہم السلام کو جو (کتاب) طی اس پراورجو (دوسرے) سگمبرول کوان کے پروردگار سے ملا (اس پر)
ہم ان (سگمبرول) میں سے کسی ایک میں بھی (کسی طرح کی) جدائی نہیں کچھ اور تم اس (ایک خدا)
کے فرمائشدار ہیں اور ستہ فجر کی دوسری رکعت میں (سورہ آل عمران پ347) کی یا آیت
پڑھتے تو، قُلْ يَاۤ هُلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا اِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاۤءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الَّا نَعْبُدَ اَللّٰهَ
وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَّ لاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا
اَشْهَدُوْا بَانَا مُسْلِمُوْنَ” (اے سگمبرلی اللہ علیہ وسلم) ان سے کہو کہ اے اہلِ کتاب آوائی بات
کی طرف (رجوع کرو) جوہمارے اور تمہارے درمیان کیسال (مانی جاتی) ہے کہ خدا کے سوا کسی کی
عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ظہرائیں اور اللہ کے سوا کہم میں سے کوئی کسی کو (اپنا)
ما کر نہ کیے، پھر اگر (اپنے سیدی اور یہ بات کے مانے سے نہی) منہ موڑی تو (مسلمانو! ان لوگوں سے)
کہہ دو کہ تم اس بات کے گواہ رہو کہ تم تو اپنے خدا کو ماں ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
فجر اور مغرب کی سنتوں میں جوسرتی پڑھنا مسنون ہے، ان کا بیان
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا رنماز مغرب کے بعد کی دو سنتوں اور نماز فجر کے پہلے کی دو سنتوں میں
From Ibn Abbas who said: The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the two rak’ahs of Fajr: قُوْلُوا ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا (Al-Baqarah: 136) and قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (Aal-e-Imran: 64). [Narrated by Muslim]
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھتے سناتے اور اتنی بار کر شمار نہیں کر سکتا (اس کی روايت ترمذی نے کی ہے _ )
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھتے سناتے اور اتنی بار کر شمار نہیں کر سکتا (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے _ )
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever believes in Allah and the Last Day should honor his guest, (1) should not harm his neighbor, and should speak good or remain silent.” (2) In another narration, instead of “neighbor”: “should maintain ties of kinship.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
آیت "فَبَأَيْ الَاٰء رَبِكُمَا تُكَذِّبَانِ" کا مسنون جواب
اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اس میں فجر کی سنۃ کا ذکر مغرب کی سنۃ کا ذکر نہیں ہے _ )
ف : ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث کے تحقیق کے لئے سری جہری قرأت کی تعریف سنے : _
صاحب رواختار نے امام کے نماز میں جہری قرأت کے متعلق کہا ہے : وادنی الجہر اسماع غیرہ ممن لیس بقربه کاهل الصف الاول واعلاہ لاحد لہ (ترجمہ: امام کے لئے جہری نماز میں جہری قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ پہلی صف والے اس کی قرأت کو سن سکیں، اگر امام اپنے اور اپنے قریب کے، ہی ایک یاد و خصوص کو قرأت سنا نے تو یہ جہری نہیں ہے بلکہ جا گا اور جہری اعلی حد مقرر نہیں ہے _ امام جہان تک چاہے اپنی آواز کو نا سکتا ہے _ اور سری قرأت کے متعلق صاحب رواختار نے یہ کہا ہے : _
"ادنی المخافتة اسماع نفسه او من بقربه من رجل او رجلین مثلًا (ترجمہ: سری نماز میں امام یا منفرد کے لئے قرأت کی کم سے کم حد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنا سکیں اگر قریب کے ایک یاد و ادنی کچھ اس کی سری قرأت کو سن لیس تو اس کا شمار کچھ سری قرأت ہی میں ہو گا _ صاحب رواختار نے خانیا اور خلاصہ کے حوالے سے کہا ہے کہ جامع صغیر میں کچھ جہری اور سری قرأت کی تعریف ایس طرح ذکور ہے _
قرأت کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر صدر کی اس حدیث پر غور کیجیے : _
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں ذکور ہے کہ آپ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد اور فجر کے پہلے کی وسنۃ میں قُلْ یَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کثرت سے پڑھتے ہوئے سناتے اس سے پیشہ بہوتاہے کر سنتوں میں تو جہری قرأت نہیں ہے، چہرا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سری قرأت کو س طرح سن لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سری قرأت میں نماز میں قرأت
کو قریب کے ایک دوآدی س لیس تو اس پر جھڑی قرأت کا حکم صادق نہیں آے گا بلکہ پیسری قرأت ہی کہلاے گی ای وجبے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انسری نمازول کی قرأت کوسناہے۔
In this narration, there is mention of the Fajr Sunnah prayer but not of the Maghrib Sunnah prayer. It is reported that Ibn Masud (RA) heard the definition of the Imam's recitation in the silent prayer: 'The minimum limit of the Imam's recitation in the silent prayer is that it is heard by those in the first row. If the Imam only makes his recitation audible to himself or those very close to him, such as one or two individuals, then this does not qualify as silent recitation; rather, it will be considered loud recitation. There is no upper limit set for the Imam's silent recitation, and he may lower his voice to the extent that even he cannot hear it. Regarding the loud recitation, it is said: 'The minimum limit of the Imam's or a solitary person's recitation in the loud prayer is that he hears it himself. If one or two nearby individuals also hear his loud recitation, it will still be considered loud recitation.' According to the definitions provided in Khania and Khulasah, in the Jami' Saghir, some definitions of silent and loud recitation are mentioned as follows: Considering these definitions, reflect on the following hadith: In the narration of Ibn Masud (RA), it is mentioned that he heard the Prophet ﷺ reciting 'Qul ya Ayyuhal Kafirun' and 'Qul Huwa Allahu Ahad' frequently in the Sunnah prayers after Maghrib and before Fajr. Since the recitation was not silent, how did Ibn Masud (RA) hear it? The answer is that if the recitation in the loud prayer is heard by one or two nearby individuals, it will not be considered silent recitation but rather loud recitation. Therefore, Ibn Masud (RA) heard the recitation of the Prophet ﷺ in his loud prayer.
جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپر وز) اپنے اصحاب کے پاس تشریف فرما ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پرسورہ رحم ن کی تلاوت شروع سے آخر تک فرمائی، صحابہ قرأت کو خاموشی سے سنے رہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے لیلہ اجگن میں جس رات جنون سے ملاقات ہوئی اوروہ ایمان سے مشرف ہوئے) ایسوروہ رحم ن کو جنون کے ساتھ پڑھا تو وہ جواب دینے میں تم سے اٹھے رہ، جب کہ میں اللہ تعالی کے اس قول پر آیا "فَبَأَيْ الَاٰء رَبِكُمَا تُکَذِّبَانِ" (اے جن و انس! تم اپنے پروردگار کی کوئی نعمتوں سے کرے تے جاوگے؟) توجنا ت نے کہا "لا بَشَیْء مِنْ نِعْمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمدُ" (اے پروردگار! ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت سے کرے تے نہیں بلکہ پکی سب نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہیں۔
(اس کی روایت ترتیبی نہیں ہے۔)
ف (1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ رحم ن کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ جب کہی "فَبَأَيْ الَاٰء رَبِكُمَا تُکَذِّبَانِ" پر پچھا جواب میں لا بَشَیْء مِنْ نِعْمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمد فوراً پڑھتا جائے۔
ف (2): اس حدیث میں ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات نے جب سورہ رحم ن سنا تو آیت "فَبَأَيْ الَاٰء رَبِكُمَا تُکَذِّبَانِ" سنے کے بعد جواب میں انہوں نے لا بَشَیْء مِنْ نِعْمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمد پڑھااور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایااوراس کے بعدوالی حدیث میں مرودی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آیت "سَبِح اسْمَ رَبِّکَ الْاعْلَی" تلاوت فرمائی تو جواب میں سُبْحَانَ رَبِّی الْاعْلَی پڑھے، اس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو
حدیث آگے آرہی ہے اس میں بعض مرودی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض آیتوں کی تلاوت کے بعد ان
کا جواب دینے ارشاد فرماتے ہیں۔
ہمارے علماء احناف نے اس قسم کی تمام حدیثوں کا حکم خارج نماز تلاوت قرآن کرنے والے
اور تہاجی نماز پڑھنے والے سے متعلق کیاہے کہ دونوں جب ایسی آیتوں پڑھنے لگوہ ان آیتوں کے
پڑھنے کے بعد حادیث میں جوابات ذکور ہیں ان کو پڑھنا کریں اس کے برخلاف فرض نماز ون میں
امام ہو یا مقتدی دونوں کے لئے امام کے ان آیتوں کی قرأت کے وقت ذکورہ جوابات دینا جائز نہیں
ہے، اور تہاجی فرض نماز پڑھنے والے کا بھی حکم ہے کہ وہ جبی ذکورہ جوابات نہ دے اور ایسی تراوت
اور دوسروں نوافل جو جماعت سے پڑھے جاتے ہیں، ان کا بھی حکم ہے کہ ان میں جبی ذکورہ
جوابات کا دینا جائز نہیں۔
اس طرح مقتدی اور امام اس قسم کی چیزوں میں بالکل برابر ہیں دونوں کا حکم ایک ہی ہے کرامام
یا مقتدی دونوں کے لئے ترغیب کی آیتوں کے پڑھنے وقت جنت کا سوال کرنا اور ترہیب (ذرا نے
والی) آیتوں کے پڑھنے وقت دوزخ سے پناہ ماگنا اور شیطان کی آیتوں (جن میں اللہ کا کیا بیان کرے
کا حکم ہے) کے جواب میں سجان اللہ کہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سنگ پر درود پڑھنا یسب
چیزیں نماز میں جائز نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ کہ مقتدی کے لئے امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کے
بارے میں جواب آیت اور حدیثیں آئی ہیں سب مطلق ہیں اس لئے اگر مقتدی ان آیات کو سننے کے بعد
ذکورہ جوابات دے تو امام کی قرأت کو خاموشی سے سن کا حکم ہے اس کے خلاف ہوگا اور اس طرح امام
کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ نماز میں قرأت کے سوا غیر قرآن پڑھے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سے جماعت والی فرض اور تہاجی نماز ون میں ایسے جوابات کا دینا ثابت نہیں ہے، جبی مجہے کہ ہمارے
علماء احناف نے اس کو اختیار نہیں کیا۔
ان دلائل کے قطع نظر نماز میں امام کا قرآن کے سوا غیر قرآن پڑھنا مقتدیوں پر دشواری کا
باعث ہوگا حالاکہ امام کو مقتدیوں کے لحاظ سے بلکی نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
(پیپورا مضمون رح القدیر، رد المختار، عمدة الرعاية اور سعایی سے ماخوذ ہے)
From Jabir who said: The Messenger of Allah ﷺ went out to his companions and recited Surah Ar-Rahman to them from beginning to end, but they remained silent. So he said: I recited it to the Jinn on the night of the Jinn, and they responded better than you. Every time I reached فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ, they said: “None of Your blessings, our Lord, do we deny, so for You is all praise.” [Narrated by Tirmidhi, and he said: This is a Gharib hadith]
f (1): This hadith establishes that one who recites Surah Rahman should, when he reaches the verse 'Faba-ayi al-aaya Rabbukuma tukazziban,' immediately respond with 'La bashay min ni'mik Rabbi nukazzibu falaika al-hamd.'
f (2): In this hadith, it is mentioned that when the angels heard Surah Rahman from the Prophet (peace be upon him), after hearing the verse 'Faba-ayi al-aaya Rabbukuma tukazziban,' they responded with 'La bashay min ni'mik Rabbi nukazzibu falaika al-hamd,' and the Prophet (peace be upon him) approved of this. Subsequently, in another hadith, it is mentioned that when the Prophet (peace be upon him) recited the verse 'Sabbih isma Rabbika al-a'la,' the response was 'Subhana Rabbi al-a'la.' Similarly, in the hadith narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) instructed the responses to certain verses.
Our Hanafi scholars have ruled that for all such hadiths, both those who recite the Quran outside of prayer and those who perform tahajjud prayers should, when they begin reciting such verses, recite the responses mentioned in the hadiths after these verses. However, in obligatory prayers, whether the imam or the follower, it is not permissible to give these responses during the imam's recitation of these verses. The same rule applies to those performing tahajjud prayers, as well as other voluntary prayers performed in congregation, where giving these responses is also not permissible.
Thus, in these matters, the imam and the follower are equal; both have the same ruling. During the recitation of verses that encourage good deeds, the question of Paradise should not be asked, nor should the response of seeking refuge from Hell be given during the recitation of verses that warn of punishment, nor should 'Subhan Allah' be said in response to verses about the devil, nor should blessings be sent upon the blessed name of the Prophet (peace be upon him) when his name is mentioned. All these actions are not permissible during prayer, because there are clear verses and hadiths that instruct the follower to listen silently to the imam's recitation. Therefore, if the follower gives the mentioned responses after hearing these verses, it would contradict the command to listen silently to the imam's recitation. Similarly, it is not permissible for the imam to read anything other than the Quran during prayer, as there is no established practice from the Prophet (peace be upon him) of giving such responses in congregational obligatory or tahajjud prayers, which is why our Hanafi scholars have not adopted this practice.
Regardless of these arguments, reading anything other than the Quran during prayer by the imam would cause difficulty for the followers, although it is the duty of the imam to consider the followers when leading the prayer.
(This topic is derived from Radd al-Muhtar, Imdad al-Fatawa, and Sa'ayi.)
- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبح اسم ربک الا علی " کی تلاوت فرما تے تو اس آیت کے ختم پر سب حان ربی الا علی فرما تے تھے۔
(اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔)
جن آئیوں کو ن کر جواب دینا مسنون ہے ان کا بیان
From Ibn Abbas: When the Prophet ﷺ recited سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى, he would say: “سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى” [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سورہ "و التین" و الزیتون " کی تلاوت کرتے ہو تو "الیس اللہ باحکم الحکمین " (کیا اللہ سب سے بر احاکم نہیں ہے) پڑھ تو ایکہنا چاہے،بلی وآنا علی ذلک من الشاہدین ( کیونکہ نہیں! اللہ تعالیٰ سب سے بر احاکم ہے اور میں اس بات پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔)
اور حضور علیہ السلام نے فرما کہ تم میں سے جو شخص سورہ " لا أقسم بیوم القیمۃ " کی تلاوت کرتا ہوا " الیس ذلک بقدر علی ان یحي گ الموتی " (کیا وہ خدا جس نے سب کچھ کیا قیامت میں مر دول کو جلا اٹھانے پر قادر نہیں ہے؟) پڑھ تو اس کے جواب میں "بلی "
( کیونکہ جلا اٹھانے پر قادر ہے) کہنا چاہیے اور جو شخص سورہ والمز سلت کی تلاوت کرتا ہوا "فبای حديث م بعده يوم منون " (اس قدر روعظ و نصیحت کے بعد ایسی اور کوئی بات نہ جس سے لوگ ایمان لائیں گے) پڑھ تو اس کو " آمنا بالله " (ہم اللہ پر ایمان لائے) کہنا چاہیے (اس کی روايت ابوداود نے کی ہے) اور ترنذی نے سورہ والتین میں " الیس اللہ باحکم الحکمین " کے جواب میں قول نبوی " بلی وآنا علی ذلک من الشاہدین " کی روايت کی ہے اور ترمذی نے سورہ " قیامه" اور " المرسلت " کے جوابات کا ذکر نہیں ہے۔
From Abu Huraira who said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever among you recites وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ and reaches أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَكِمِينَ, let him say: “بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ.” And whoever recites لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ and reaches إِلَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْتِيَ الْمَوْتَى, let him say: “بَلَى” And whoever recites وَالْمُرْسَلَاتِ and reaches فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُوْنَ, let him say: “آمَنَّا بِاللهِ.” [Narrated by Abu Dawood and Tirmidhi up to his saying: “وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ.”]
Our scholars have said: Both the Imam and the follower in such cases are equal, so the follower should not ask for Paradise upon hearing verses of encouragement, nor seek refuge from Hell upon hearing verses of warning, nor glorify upon hearing verses of glorification, nor send blessings upon the Prophet ﷺ upon hearing his name. Rather, he should listen and remain silent, due to the general command of the verses and hadiths indicating listening and silence. His duty is to listen and remain silent, so he should not engage in anything that disrupts that.
Similarly, the Imam should not engage in anything other than the recitation of the Quran because the Prophet ﷺ did not do so in the prayer, nor did the Imams after him until this day. Thus, it is considered an innovation, and it is also burdensome for the congregation, so it is disliked. What has been reported is applied to voluntary prayer when praying alone and also outside of prayer.
This is a summary of what is mentioned in Radd al-Muhtar and Umdat al-Ri'ayah.