وقول الله عز وجل فسبح باسم ربك العظيم اور الل تعالي كا ارشاد سور واعر ع مي تم ا ن عظمت وال رورد ار ك نام كي تسبيح اور تقديس كرنا ر و وقول سبح اسم ربك الاعلي اور الل تعالي كا ارشاد سور الاعلي ع مي ا ن رورد ار عالي شان كي تسبيح اور تقديس كيا كرو وقول يا اي ا الذين امنوا اركعوا واسجدوا اور الل تعالي كا ارشاد سور حج ع مي ا ايمان والو خدا كي جنا مي ركوع كرواور سجد كيا كرو
رکوع اور سجدہ اطمینان سے کرنے کا بیان
The Description of Performing Ruku and Sujud with Certainty
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم رکوع اور سجدہ پورا پورا تھہیر تھہیر کر اطمینان سے ) کیا کرو، خدا کی فتنہ (رکوع اور سجدہ
کرتے ہوئے) جس طرح میں تم کوسا منے دیکھتا ہو لاسی طرح اپنے پیچے سے بھی دیکھتا ہو ل۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متقدم طور پرکی ہے۔)
رکوع اور سجدہ اطمینان سے کرنے کے بیان پر دوسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “Establish the bowing and prostration properly, for by Allah, I see you after me.” [Agreed upon]
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رکوع اور سجدے میں جلدی کرے اور ان کو اطمینان سے ادا نہ
کرے تو اس کی نماز کامل نہیں ہوتی ناقص ہوتی۔ (اس لئے کہ اس میں تعلیل ارکان نہیں کیا ہے
حال انہ کے تعلیل ارکان واجب ہے۔) اس کی روایت ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے کی
ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ف: اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم "حتی یقیم ظہرۃ" کے لفظی معنی پیش
سیدی کرنے کے پین، کو کب دری اور بزل انجہو دو غیرہ مانے اس سے تعلیل ارکان مراد لے پین اسی
لے تم نے اس حدیث کے ترجمہ کو عام فیم کرنے کے لے رکوع اور سجدہ میں جلدی نہ کرنے اور ان کو
اطمینان سے ادا کرنے کے معن اختیار کے پین اوراس سے بھی تعلیل ارکان کی مراد ہے۔
رکوع، سجدہ، جلسہ اور قوم اطمینان سے کرنے کا بیان
Abu Mas’ud Al-Ansari (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “A man's prayer is not sufficient until he straightens his back in bowing and prostration.” [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah, and Al-Darimi]
Al-Tirmidhi said: This is a Hasan Sahih Hadith.
براءہ ضی اللہ علیہ روایت ہے، وہ کہتے پین کہ پی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اور
قعدہ دونوں زیادہ طویل ہوتے تھے اس لے کر قیام میں قرآن تہوتی تھی، اور قعدہ میں التحیات پڑتی
جاتی تھی۔ اس کے سوا باقی رکوع اور سجدہ اور دونوں سجدول کے درمیان کا جلسہ اور رکوع کے بعد
سیدی کرنے ہوتے کا وقت لیجن تو مہیچارول تقرباً برابر ہوتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ
جو خصوصی پرواں سے قوم اور جلسہ پچھا دا کیا نہیں ادا کیا، اطمینان سے رکوع کے بعد سیدہا کہرانے
ہوا اور دونوں سجدول کے درمیان میں اطمینان سے نہیں بیجا تو اس کی نماز نقص ہوتی۔ جوقابل اعادہ
ہے، اس لے کر قوم اور جلسہ میں رکوع اور سجدہ کی طرح تعلیل ارکان واجب ہے قوم اور جلسہ میں
تعلیل ارکان کے وجہب کورواختا رشرح وقایا ور سعايت نے بیان کیا ہے۔) اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
قوم اور جلسہ کونہايت اطمینان سے ادا کرنے کا بیان
Al-Bara’ (may Allah be pleased with him) said: “The bowing, prostration, sitting between the two prostrations, and standing after bowing of the Prophet (peace and blessings be upon him) were nearly equal in duration.” [Agreed upon]
انس ضی اللہ علیہ روایت ہے، وہ کہتے پین کہ پی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع
کے بعد "سَمعَ اللہُ لِمنْ حَمدَهُ" (جو اللہ تعالی کی تعریف کرتا ہے اللہ تعالی اس کی تعریف کو سنتا
اوقبول فرما لیے ہیں) فرما کر قوم میں کٹرے ہوئے تو بہت دیر کٹرے رہتے، یہاں تک کہ تم بھی
گئے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو رکعت ہوچکی ہے اس کو تک فرما کر ازسرنو قیام ثرو عفرما لے ہیں، پھر
سجدہ فرما لے اوراس پہلے بدے کے بعد (جلسہ) میں بہت دریک بیٹھ رہے، یہاں تک کہ تم بھی
گئے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر طی ہوتی رکعت کو تک فرما کر نماز ختم فرمارہے یا اب دور راجہ نہیں
کریں گے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
رکوع اور سجدہ اطمینان سے نہ کرنے پروا عید
Anas (may Allah be pleased with him) said: “When the Prophet (peace and blessings be upon him) said, ‘Sami’ Allahu liman hamidah’ (Allah hears the one who praises Him), he stood for so long that we would say, ‘He has forgotten.’ Then he would prostrate, and he would sit between the two prostrations for so long that we would say, ‘He has forgotten.’” [Narrated by Muslim]
ابوقاوه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ چورول میں بدترین چورو ہے جو اپنی نماز چرا تا ہوسحا بر ضی اللہ عنہم نے عرض کیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی نماز کس طرح چرا تا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
نماز چرا ناپیہ کر (تعدیل ارکان نہ کرے ) رکوع اور سجدہ کو پورا پورا طہیر طہیر کر اطمینان سے ادا کر
کرے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ف : اس حدیث شریف میں نماز کے چور کوال کے چورے اس کے بدتر قرار دیا گیا ہے کر
مال کا چرا نے والا بسا وقت چوری سے دنیاوی فانکہ حاصل کر لیتا ہے پھر صاحب مال سے یاد رکنر
کروالیتا ہے یا اگر سزا میں اس کا اتحاکث دیا جاے تو وہ عذاب اخر وی سے نجات پالیتا ہے، اس کے
برخلاف نماز کا چور نماز کی وجہ سے جس ثواب کا مستحق ہوسکتا تھا اس سے محروم ہوجا تا ہے بلکہ ثواب کے
جاگے عذاب کا مستحق قرار پا تا ہے اس طرح آخرت میں سواے نقصان اور عذاب کے کچھ نہیں اس کے
باتہ نیم آتا ہے (مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)
رکوع اور سجدہ اطمینان سے نہ کرنے کی وعید پر دوسری حدیث
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “The worst thief is the one who steals from his prayer.” They asked: “O Messenger of Allah, how does one steal from his prayer?” He said: “By not completing his bowing and prostration properly.” [Narrated by Ahmad]
نعمان مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ
کرام سے دیافت فرمایا کہ شرابی، زانی اور چور کے متغلق تہمارا کیا خیال ہے اور پیاس وقت کی بات
ہے جب کر حدود کی آپتری اہلی ناز ل نہیں ہوئی تھیں، صحابہ نے عرض کیا کر اللہاوراس کے رسول صلی
اللہعلیہ وسلم خوب جانتے تھے، حضور صلی اللہعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیگناہ کی با تین ہیں اور ان میں
برہی برہی سزا ہیں ہیں، اور بدترین چوروہے جوا پنی نماز چرا تا ہے، صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہصلی
اللہعلیہ وسلم نماز چرا نا کیا بات ہے؟ حضور صلی اللہعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز چرا نا یہ کرتے دلیل
ارکان نکر کے نماز میں رکوع اور سجدہ کو پورا پورا طہیر طہیر کر اطمینان سے ادا کرے -
( اس کی روایت امام ماک اور امام احمد نے کی ہے اور داری نے کہی اس طرح روایت کی ہے )
رکوع اور سجدہ اطمینان سے نکر نے کی وعید پرتیری حدیث
Nu’man bin Murrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “What do you say about the drinker, the fornicator, and the thief? This was before the rulings regarding them were revealed. They said: ‘Allah and His Messenger know best.’ He said: ‘They are immoral acts, and they carry punishments, but the worst theft is that of the one who steals from his prayer.’” They asked: “How does one steal from his prayer, O Messenger of Allah?” He said: “By not completing his bowing and prostration properly.” [Narrated by Malik and Ahmad; Al-Darimi narrated a similar report]
شقيق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے
ویحا کر ایک شخص تعدیل ارکان کے بغیر رکوع اور سجدے کو پورے پورے طور پر طہیر طہیر کر اطمینان
سے ادا کیا کر رہا ہے، جب اس شخص نے نماز ختم کی تو حضرت حذیفہ نے اس کو بلا یا اور اس سے فرمایا
کہ تمہاری نماز میں ہوتی شقيق کہتے ہیں میرا مان سے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے
یہی فرمایا کہ اگر تم بغیر تعدیل ارکان کے ہوئے اس طرح نماز پڑھتے رہو گے ( اور بغیر توبہ کے ) اس
حالت پر مر جا گے تو اس دین پر نہ مر گے گے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہعلیہ وسلم کو پیا
فرمایا ہے - ( اس کی روایت بخاری نے کی ہے - )
رکوع اور سجدہ اطمینان سے نکر نے کی وعید پر چوٹی حدیث
Shaqiq said: “Hudhaifah saw a man not completing his bowing and prostration. When the man finished his prayer, Hudhaifah called him and said: ‘You have not prayed.’ And I believe he said: ‘If you were to die in this state, you would die on a way other than that upon which Allah created Muhammad (peace and blessings be upon him).’” [Narrated by Al-Bukhari]
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کی نماز کو قبول نہیں فرما تے جو تعدیل ارکان نہ کر کے نماز کر کو ع
اور سجدہ میں جلدی کرے اور ان کو اطمینان سے ادا نہ کرے - ( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے - )
رکوع اور سجدہ کے تسبیحات کا بیان اوران میں قرآن پڑھنے کی ممانعت
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah, the Exalted, does not accept the prayer of the servant who does not perform the prayer with composure and who hastens in prostration and does not recite the Qur'an in bowing and prostration.' - (This narration is reported by Imam Ahmad.)
سُبْحَانَ رَبِّى الْعَظِيمِ اور سُبْحَانَ رَبِّى الْاعْلیٰ کے بعد پڑھی جائے والی تسبیحات کا بیان
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوب سے لوکہ رکوع یا سجدہ کی حالت میں مجھے قرآن پڑھنے کی ممانعت ہوگی تو پس رکوع میں سجان رہی اظہار کرخدا کی پاکی اوراس کی عظمت بیان کیا کر و اورسجده میں سجان رہی الاعلی کہہ کرخوب عاجزی سے دعاے حمد و ثناء کیا کرواس لے کر سجدہ میں جودا عجم و ثناء کی جائے۔
جوہضرورقبول کر لی جائے۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: "وَامَا السُّجُوْدُ فَاجْتَهِدُوا فِی الدُّعَاءِ "سجدہ میں خوب دعا کیا کرو، میہال لفظ "الدعاے" کے معنی دعا حمد و ثناء کے کے گے پین اس لے کر دعا کی دو تصمیم پین ایک دعا حمد و ثناء اور دوسرا دعا طلب سوال، دعا حمد و ثناء پیہ کے اللہ تعالی کی پاکی اور شان عالی بیان کی جائے مثلًا "سُبْحَانَ رَبِّى الْاعْلیٰ " کہنا اور دعا طلب سوال پیہ کر خارج نماز اپنے مقاصد اور ضرورتیں اللہ تعالی سے ماگل جائیں - (یہ مضمون اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: “Verily, I have been prohibited from reciting the Qur’an while bowing or prostrating. As for bowing, glorify your Lord therein. And as for prostration, strive in supplication, for it is most likely to be answered.” [Narrated by Muslim]
"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبَحْمُدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى" اے اللہ آپ پاک ہیں، اے
سُبْحَانَ رَبِّ الْعَظِيمِ اور سُبْحَانَ رَبِّ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ قرآنی "فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ" ( ثم اپنے پروردگار کی حمد و ثناء کے ساتھ اس کی تمجید و تقریس میں مشغول ہوجاؤ اوراس سے گناہوں کی معافی چاہو ) کی تتمیل کرتے ہوئے رکوع اورسجدے میں بہت زیادہ مرتہبیر دعاے پڑھا کرتے تھے۔
ہمارے پروردگار کو آپ کی تعریف کرتے ہیں، اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرمادتے ہیں۔ (اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)
نفل نمازول کے رکوع اور سجدول میں سُبْحَانَ رَبِّ الْعَظِيمِ اور سُبْحَانَ رَبِّ الْأَعْلَیٰ کے بعد پڑھی جانے والی تسبيحات کے بیان پر دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) said: “The Prophet (peace and blessings be upon him) used to frequently say in his bowing and prostration: ‘سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي (Glory be to You, O Allah, our Lord, and praise be to You. O Allah, forgive me).’” [Agreed upon]
سجده میں پیشہ پڑھا کرتے تھے، سُبْحَ قُدُوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ (آپ کی ذات مبارک پاک ہے اور آپ کے صفات عالیہ محض پاک ہیں، آپ فرشتوں کے رب ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے محض رب ہیں۔) (اس کی روايت مسلم نے کی ہے۔)
نماز کسوف کے رکوع اوراس میں مقررہ تسبيح کے بعد پڑھی جانے والی تسبيح کا بیان
The tasbih to be recited after the ruku' and the prescribed tasbih in the eclipse prayer.
رکوع فرمايتو آپ نے رکوع میں: "سُبْحَانَ ذی الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَکُوتِ وَالْکِبْرِیَاءِ وَالْعَظَمَةِ" (پاک ہیں وہ جو زبردست اور سب پر غالب ہیں اور جو قادر مطلق اور سارے عالم کا نظام کرنے والے ہیں اور آسمان و زمین میں برانی اور عظمت ان کی ہے۔) کی تکرار کرتے ہوئے اتنی درجہیں رہ جس میں سورۃ بقرہ اول سے لے کر آخر تک پڑھا جاسکتا ہو۔ (اس کی روايت نسائی نے کی ہے۔)
ہرنماز کے رکوع اور سجدے میں جو تسبيحات معتین کے گے ہیں، ان کا بیان
The tasbihat recited in the ruku' and sujud of every prayer are as follows:
آیت "فَسَبِحْ بَاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ" (اپنی عظمت والے پروردگار کے نام کی تسبيح وتقدیس
بیان کرے رہو) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس کو اپنے رکوع میں تشبیح
مقرر کرو، اور جب آیت "سَبّح اسْمَ رَبّکَ الْاعْلَى" (اپنے پروردگار عالیشان کی تشبیح وتقدیس
کیا کرتے رہو) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس کو اپنے سجدے کو تشبیح
مقرر کرو (یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ (میرا عظمت والا پروردگار پاک ہے) اور سجدے
میں سُبْحَانَ رَبِّی الْاعْلَیٰ (میرا عالی شان پروردگار پاک ہے) پڑھا کرو۔ (اس کی روايت ترندي،
ابوداود، ابن ماجہ، طحاوی اور دارمی نے کی ہے۔)
ف : عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے واضاحت کے ساتھ ثابت ہوا کہ جب یا میتن
"فَسَبّح بِاسْمِ رَبّکَ الْعَظِیْمِ اور سَبّح اسْمَ رَبّکَ الْاعْلَیٰ نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمايا کہ سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ کو رکوع میں اور سُبْحَانَ رَبِّی الْاعْلَیٰ کو سجدہ میں مقرر کرو۔
اور اس حدیث سے پیل والی حدیثوں میں جو نذورہ کے حضور صلی اللہ علیه وسلم رکوع اور سجدہ
میں "سُبُوح قُدُوس رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوح اور سُبْحَانَکَ اللُّہُمَّ رَبَّنا وَبَحْمُدْکَ
اللُّہُمَّ اغْفِرْلِی، پڑھا کرتے تختواس قتم کی دعاوں کے بارے میں درخواست میں کہاہے کہ یہ
نمازول سے متعلق ہیں کران کو نفل نمازول کے رکوع اور سجدول میں پڑھا جاسکتا ہے جسیا کہ لی کا قول
ہے کہ نفل نمازول میں اس وقت کی وسعت ہے کران کے رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ " کے بعد
اور سجدہ میں "سُبْحَانَ رَبِّی الْاعْلَیٰ " کے بعد ان نذورہ دعاوں کو پڑھا جاسکتا ہے البترفرض نمازول
کے رکوعول میں سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ اور سجدول میں سُبْحَانَ رَبِّی الْاعْلَیٰ کے علاوہ کوئی اور
دعا کیسے یاتسہیات نہ پڑھی جاسکے۔
نفل نمازول کے قوم میں پڑھی جانے والی دعاوں کا بیان
Uqbah bin Amir (may Allah be pleased with him) said: “When the verse ‘فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ’ (Al-Waqi’ah: 74) was revealed, the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: ‘Put it in your bowing.’ And when ‘سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى’ (Al-A’la: 1) was revealed, he said: ‘Put it in your prostration.’” [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah, At-Tahawi, and Al-Darimi]
At-Tahawi said: “It is possible that what was reported from the Prophet (peace and blessings be upon him) in earlier reports was before these two verses were revealed, so they abrogated what came before them.” (Excerpted)
In Ad-Durr Al-Mukhtar: “One should not say anything in his bowing and prostration other than glorification according to the preferred opinion. Whatever has been reported otherwise is understood to be in voluntary prayer.” Al-Khalbi said: “The matter is broad in scope.” (End quote)
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو عسے اکھتہ ہوئے بفرماتے تھے، "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنا
لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَ مِلْءَ مَاشِطَتْ مِنْ شَیْ بَعْدُ"، جو اللہ تعالی
کی تعریف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تعریف کو سنے اور قبول فرما تے ہیں، اے اللہ اے ہمارے
پروردگار آپ جی کے لئے تعریف ہے آسانول بھجر کراورز میں بھجر کراوران دونوں کے سوا جو چیزیں ہیں
اور جو چیزیں آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ سب بھجر کر۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
نفل نمازون کے قوم میں پڑھی جانے والی دعاوں کے بیان پر دوسری حدیث
Abdullah bin Abi Awfa (may Allah be pleased with him) said: “When the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) raised his back from bowing, he said:
سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
(Allah hears the one who praises Him. O Allah, our Lord, to You is all praise, filling the heavens and the earth and filling whatever You will beyond that).’” [Narrated by Muslim]
البوعید خدری رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جب رکوعے سر مبارک کو انحاءتے تو یردعاے پڑھتے ہیں اللہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمدُ
، مِلُءَ السَّمَوَاتِ وَمِلُءَ الأَرْضِ وَ مِلُءَ مَاشِعْتَ مِنْ شَیْ بَعْدَ أَهْلَ الشَّاءِ وَالْمَجُدِ أَحَقُّ
مَاقَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدُ اللہُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلا یُنْفَعُ
ذَالْجَدِ مِنْکَ الْجَدُّ، اے اللہ اے ہمارے پروردگار آپ جی کے لئے تعریف ہے آسانول بھجر کر
اور زمین بھجر کراوران دونوں کے سوا جو چیزیں ہیں اور جو چیزیں آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ سب بھجر
کر، اے وہ مبارک ذات جو تعریف اور عظمت کے لائق ہے آپ جی اس تعریف سے برہکر تعریف
کے مستحق ہیں، جس کو ایک بندہ کر سکتا ہے اور، تم سب آپ جی کے بندہ ہیں، اے اللہ جس چیز کو
آپ دینا چاہیں اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو آپ رکنا چاہیں اس کا کوئی دینے والا
نہیں، اگر آپ کسی کو عذاب دینا چاہیں تو اس کا مال اور دولت اور سب اس کو آپ کے عذاب سے نہیں
جا سکتا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف : اس حدیث میں رکوعے سے سر انحاءتے وقت "اللہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمدُ" کے سوا جن
دعاوں کا ذکر ہے یا ور اس میں کی دعاوں کے بارے میں درختار میں کچا ہے کہ ایسے وعا میں نفل نمازون
میں پڑھی جا سکتی ہیں، اس لئے کہ نوافل میں اس طرح کی نجات ہے۔
قوم میں امام اور مقتدی کے لئے جودعا کی مقرری گئی ہے، ان کی فضیلت
Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) said: “When the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) raised his head from bowing, he said:
اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ - وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدُ : اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
[Narrated by Muslim]
In "Ad-Durr Al-Mukhtar": There is no supplication after rising from the bowing position (Ruku’), and whatever has been reported in this regard is applied to voluntary prayers, as previously mentioned.
البہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام جب سمع اللہ لمن حمدہ کے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو، کیون کہ جس کا یقول فرشتوں کے قول کے موافق ہوجائے تو اس کے صغیرہ وکبیرہ گناہ معاف ہوجائے گی - (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "When the Imam says: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ (Allah hears those who praise Him), then say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (O Allah, our Lord, to You is all praise), for whoever's statement coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." [Agreed upon]
In the narration of Ibn Majah and Al-Nasa’i: "When the Imam says: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ then say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "
Our scholars have said: This is a division, for it is the division of Tasmi’ (saying "Sami' Allahu liman hamidah") and Tahmid (praising Allah), so the Tasmi’ was assigned to the Imam, and the Tahmid to the follower, and this contradicts participation. Therefore, the follower does not say Tasmi’, and the Imam does not say Tahmid. This is mentioned in "Al-Hidayah" and "Al-Binayah."
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں اور نسائی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کے تو تم اللہم ربناو لک الحمد کہو۔ ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے لئے سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی کے لئے اللہم ربنا لک الحمد کا کہنا مقرر فرمادیا ہے اور چونکہ اس حدیث میں سمع اللہ لمن حمدہ اور اللہم ربنا لک الحمد کی تقسیم امام اور مقتدی کے درمیان کردی گئی ہے اس لئے مقتدی سمع اللہ لمن حمدہ نہ کہ اور اس طرح امام اللہم ربنا لک الحمد نہ کہ - (یہ دایا ور بنایی میں ذکور ہے -) تتهانماز پڑھنے والے کو قرآن میں تمجید کے جمع کرنے کا بیان
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "When the Imam says: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ (Allah hears those who praise Him), then say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (O Allah, our Lord, to You is all praise), for whoever's statement coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." [Agreed upon]
In the narration of Ibn Majah and Al-Nasa’i: "When the Imam says: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ then say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "
Our scholars have said: This is a division, for it is the division of Tasmi’ (saying "Sami' Allahu liman hamidah") and Tahmid (praising Allah), so the Tasmi’ was assigned to the Imam, and the Tahmid to the follower, and this contradicts participation. Therefore, the follower does not say Tasmi’, and the Imam does not say Tahmid. This is mentioned in "Al-Hidayah" and "Al-Binayah."
البہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب تتها نماز پڑھے) تو سمع اللہ لمن حمدہ کہے ہوئے (روے سے مر اٹھاتے ہیں) اور قوم میں ربناو لک الحمد فرما تے - (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے -)
اور بخاری کی ایک روایت میں اور اس طرح مسلم کی ایک روایت میں البہریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب تتها نماز پڑھے تو) روے سے مر اٹھاتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ اور قوم میں ربنا و لک الحمد فرما تے
بھی وجرہ کر ہدایہ اور بنایی میں کہا ہے کہ تہا نماز پڑھنے والاسمع اللہ لمن حمدہ اور رَّبَّنَا لکَ الْحَمْدُ ونول کو جمع کرے۔ رکوع اور سجدہ میں کم سے کم تسپیحات پڑھنے کا بیان
When the Messenger of Allah ﷺ would rise from prostration, he would say, 'Sami‘a Allahu liman hamidah,' and when he would stand up among the people, he would say, 'Rabbana wa laka al-hamd.' It is also narrated in a version by Bukhari and another by Muslim that when one reads the taha (prostration), they should say, 'Sami‘a Allahu liman hamidah' and 'Rabbana wa laka al-hamd,' and gather these in the ruku‘ (bowing) and sujud (prostration). It is mentioned that one should recite at least the tasbih (glorification) in the ruku‘ and sujud.
روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی نے رکوع کیا اوراس میں سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیمِ تین مرتبہ کہا تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور ایاس کا ادنی درجہ اور جب کسی نے سجدہ کیا اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلیٰ تین بار کہا تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا، اور ایاس کا ادنی درجہ۔ (اس کی روایت تزندی، البودا و داورا بن ماجہ نے کی ہے۔)
رکوع اور سجدے میں تسپیحات کی مستحب تعداد کا بیان
‘Awn ibn ‘Abdullah reported from Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "When one of you bows and says in his Ruku’: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ (Glory be to my Lord, the Most Great) three times, then his Ruku’ is complete, and that is the minimum. And when he prostrates and says in his prostration: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى (Glory be to my Lord, the Most High) three times, then his prostration is complete, and that is the minimum." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں سوا کے اس نو جوان لیعن عمر بن عبد العزیر رضی اللہ عنہ کے کسی اور کے چیچے ایسی نماز نہیں پڑھی جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، راوی کہتے ہیں کہ ان کے رکوع کے تسپیحات کا اندازہ کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وی سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیمِ دس بار پڑھ رہے ہیں، اور ای طرح ہم نے ان کے سجدہ کی تسپیحات کا اندازہ کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وی سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلیٰ کی دس بار پڑھ رہے ہیں۔ (اس کی روایت البودا و داور نسائی نے کی ہے۔)
طاق عد کو پسند فرما تے ) سے اس کی تائیر ہوتی ہے، جہاں وہ جبے کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ
میں تسپیحات کو طاق عد پر ختم فرما تے تھے
واضح رہے کہ ابن حجیر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جودس دس مرتبہ تسپیحات کا ذکر ہے اس
سے پینے کے جواب میں عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے حقیقت رکوع اور سجدہ میں دس بار تسپیحات پڑھنا
کرتے تھے یعنی صرف راوی کا اپنا انداز ہے اللہ زا ثابت ہوا کہ تسپیحات رکوع اور سجدہ کو تین سے بڑھانا اور
طاق عد میں ختم کرنا مستحب ہے – ( پیرہ داری اور سعايت مانوزہ – )
Ibn Jubayr said: I heard Anas ibn Malik say: "I have not prayed behind anyone after the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) whose prayer resembled the prayer of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) more than this young man," meaning ‘Umar ibn ‘Abd al-‘Aziz. He said: "So we estimated his Ruku’ to be ten Tasbihat, and his prostration to be ten Tasbihat." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i]
Our scholars have deduced from this narration and from the Hadith: "Indeed, Allah is Witr (One), and He loves Witr," that it is recommended to increase beyond three in Ruku’ and Sujood while ensuring that the last one is in an odd number, as the Prophet (peace and blessings be upon him) used to conclude with an odd number. End of quote.
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسپیحات کو تین بار سے زیادہ پڑھنا مستحب ہے تین بار سے زیادہ جو تسپیحات پڑھی جا سکتی ہیں ان کو طاق عربی (5) یا (7) یا (9) یا (11) مرتہہ پر تخم کرنا ضروری ہے جسیا کہ حدیث، اِنَّ اللہَ و تُرُ يُحِبُّ الْوِتْرَ (اللہ تعالیٰ تہیبے اور