Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ السُّجُوْدِ وَفَضْلِهِ

Prostration and Its Virtues
Volume 2 · Prayer

(پیراپ سجدہ کی کیفیت اوراس کی فضیلت کے بیان میں ہے)

This section discusses the manner of performing prostration (sujud) and its virtues.

وقول الله عزوجل يخرون للاذقان سجدا الدعايي كا رشاد سور بني اسراييل ع ايت نمبر مي و محمد ون ك بل سجد س مي ر ت ي وقوله واسجد واقترب اور الدعايي كا رشاد سور علق ع مي

آپ نماز میں سجدہ کیے اور الدَّعَائِی کا قرب حاصل کرتے رہے - سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب

Perform the prostration in prayer and continue to seek nearness through supplication - the quality of prostration and its etiquette

1421

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں نماز میں ان سات بندیوں کوز میں پر طیک کر سجدہ کیا کروں،(1) پیشانی،(3/2) دونوں ہاتھوں کے پچ،(5/4) دونوں گٹھن اور (7/6) دونوں پیروں کی انگلیاں - (اگر دونوں پیرز میں سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر ایک پیراٹھ جائے تو نماز کمروہ ہوگی -( اشعۃ اللمعات ) یمر دول کاسبدہ ہے -)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اور یہی حکم ملا ہے کہ تم مرداور عورتیس دونوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے پیرول کو ادھرتے اوڑرنے تو سمطیس اور نہ سنچائیس۔

(اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کھنبوں تک چٹھا ہے تو یہول پادام کے سمیط ہوے نماز پڑھی جائے تو نماز کروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چٹھا ہے پادام کے سمیط لے تو نماز ثوت جائے گی اس لے کر عمل کئی رہے۔ (رواہتار۔)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہی حکم ملا ہے کہ تم مردوں کے سر کے بال دراز ہون نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالول کونہ سمیط اور نہ سنچائیس۔ (اگر مردوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالول کا جوزا باندھے ہوئے نماز پڑھیس تو نماز کروہ ہوگی اس لے مردوں جوزا کھول کر نماز پڑھیس اور اگر نماز کی حالت میں جوزا باندھا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا کی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوزا باندھیس تو عورت کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالول کا جوزا باندھے ہوئے نماز شروع کرنے تو عورت کی نماز کروہ نہ ہوگی جسیا کہ مردوں کی نماز جوزا باندھ کر پڑھنے سے کروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، جوال نیل الاوطار۔) اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)

It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: the forehead, the nose, the two hands, the two knees, and the two feet. And we are not to gather our hair or clothes." [Narrated by Al-Nasa’i]

Al-Ayni said in Al-Binayah: "In some chains of the Hadith of Ibn Abbas, it is mentioned: 'The Prophet (peace be upon him) commanded to prostrate on seven bones: the forehead or the nose.' This clarifies that the forehead and the nose are intended to be counted as one, to avoid making them eight."

اور تول کا حکم

اور تول کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پیل زمین پر گٹن رکھیں پھر کانوں کے برابر پاٹھر کیسی اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاول کھڑے نہ کریں بلکہ پاول کو دھنی طرف نکال دیں اور پاول کی انگلیاں قبل رو کیسی اور خوب سمط کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ دونوں رانوں سے اور باہیں لیٹی دونوں ہاتھوں کے نوں تک زمین پر چھا کر پھلوں ملا دیں -( درمتار )

سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب پر دوسرا حدیث

1422

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ نماز میں ان سات بدیول کوز میں پر طیب کر سجدہ کیا کرول، پیشانی فراماتے ہوئے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھوں کے پچھے اور دونوں کتنے اور دونوں چیروں کی انگلیاں، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یہی حکم ملا ہے کہ تم نماز میں اپنے پیرول اور بالول کونہ سمیط اور نہ سنچائیس۔ (اس کی روایت امام بخاری نے باب السجود علی الأنف میں کی ہے۔)

ف: واضح ہو کر باب اسجو دی پہلی حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مردی ہے اس

میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر نمازی سات بڑیوں پر سجدہ کیا کرے، ان سات بڑیوں کے مجمل

اس حدیث میں صرف پیشانی کا ذکر ہے ناک کا ذکر نہیں ہے اور پیدوسری حدیث جو حضرت ابن عباس

رضی اللہ عنہما سے مردی ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی فرما کر ناک کی طرف اشارہ

فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناک اور پیشانی دونوں ایک عضو کے حکم میں ہیں اور چونکہ ناک

پیشانی کا جزء ہے، اس لئے صرف ناک پر سجدہ کرنا گویا پیشانی پر سجدہ کرنا ہے۔

چنانچہ علامہ عینی رحم اللہ نے بنایی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت نقل فرمائی

ہے جس میں اجبہہ والانف (پیشانی اور ناک) کا ذکر ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ پیشانی اور

ناک دونوں ایک ہی عضو ہیں، اس وجہ سے چاہے پیشانی پر سجدہ کریں یا ناک پر کریں دونوں صورتوں

میں سجدہ ادا ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سات بڑیوں کا ذکر فرمایا ہے جس پر سجدہ کیا

جاتا ہے اگر پیشانی اور ناک دو الگ عضو قرار دیے جائیں تو بقیہ ایسات کی بجاے آٹھ ہوجائیں گی

جبکہ ہمہ کر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جسے صرف پیشانی پر سجدہ کرنا جائز ہے ایسے

صرف ناک پر بھی بغیر عذر کے سجدہ کرنا جائز ہے (شرح وقایع) اور صحابی کے پاس بغیر عذر کے

صرف ناک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور بھی امام صاحب کا دوسرا قول ہے کہ صرف ناک پر بغیر عذر

کے سجدہ کرنا جائز نہیں اور امام صاحب نے بعد میں اس دوسرے قول سے رجوع فرمایا ہے اس لئے فتوی

اس پر ہے کہ صرف ناک پر سجدہ بغیر عذر کے جائز نہیں بلکہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ ہونا چاہئے اور

جبکہ فضل ہے جس پر آئے والی حدیثیں شاہد ہیں۔ (رد الاختار، اشعۃ اللمعات مرقات، ملتقی، جامع

الآثار)

سجدہ کرنے کی کیفیت اور اس کے آداب پرتیری حدیث

It is also narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: the forehead, and he pointed to his nose, the two hands, the two knees, and the toes of the two feet. And we are not to gather our clothes or hair." [Narrated by Al-Bukhari in the chapter on prostrating on the nose]

Ali Al-Qari said: "The apparent meaning of the Hadith is that the forehead and the nose are considered as one part, because the Prophet (peace be upon him) said 'seven.' If they were considered two separate parts, it would make eight. Therefore, Abu Hanifah ruled that it is permissible to prostrate only on the nose, as the term 'prostration' applies to it." In Jam’ al-Athar: "It is understood from the indication that prostration on the nose is like prostration on the forehead."

It is clear from the first hadith in this chapter, which is narrated by Ibn Abbas (RA), that the Prophet (SAW) instructed to perform prostration on seven bodily parts. In this hadith, only the forehead is mentioned, and there is no mention of the nose. However, in the second hadith, also narrated by Ibn Abbas (RA), the Prophet (SAW) indicated the nose while mentioning the forehead. This indicates that the nose and the forehead are considered as one part, since the nose is a part of the forehead. Therefore, prostrating only on the nose is equivalent to prostrating on the forehead.

Furthermore, Imam Aini (RA) has cited another narration of Ibn Abbas (RA) in his work 'Bada'i' where both the forehead and the nose are mentioned, clearly indicating that the forehead and the nose are considered as one part. Hence, whether one prostrates on the forehead or the nose, the prostration is valid.

Additionally, the hadith mentions the seven bodily parts on which prostration is performed. If the forehead and the nose were considered as two separate parts, then instead of seven, there would be eight parts. However, Imam Abu Hanifah (RA) stated that if it is permissible to prostrate only on the forehead, then it is also permissible to prostrate only on the nose without any excuse (Sharh Wajayih). According to the companions, prostrating only on the nose without any excuse is not permissible. Imam Abu Hanifah (RA) also had another opinion that prostrating only on the nose without any excuse is not permissible, but he later retracted this opinion. Therefore, the fatwa is that prostrating only on the nose without any excuse is not permissible; rather, prostration should be performed on both the forehead and the nose, as the hadiths that have come down support this view. (Radd al-Muhtar, Ash'at al-Lama'at, Mirqat, Multaqi, Jami' al-Athar)

This hadith also discusses the manner and etiquette of performing prostration.

1423

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد

فرمایا، مجھے حکم ملا ہے کہ میں نماز میں ان سات بڑیوں کو زمین پر ٹک کر سجدہ کیا کروں اور نماز میں

(مثی گئے کے خوف سے) بالول اور پر پر ول کون تو سمیٹول اور نہ سنچالول (سات بڑیال ہیں)

پیشانی اورناک، دونوں باہوں کے پنچھاوردودول گھٹنے اوردودول پاؤں کی انگلیاں -

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)

سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب پر چھٹی حدیث

It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I have been commanded to prostrate on seven bones: the forehead, the nose, the two hands, the two knees, and the two feet. And we are not to gather our hair or clothes." [Narrated by Al-Nasa’i]

Al-Ayni said in Al-Binayah: "In some chains of the Hadith of Ibn Abbas, it is mentioned: 'The Prophet (peace be upon him) commanded to prostrate on seven bones: the forehead or the nose.' This clarifies that the forehead and the nose are intended to be counted as one, to avoid making them eight."

1424

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم کو پون فرما تے ہوئے سناہے کہ جب بندہ سجدہ کرتاہے تو اس کے ساتھ اس کے بد ن کے

سات اعضاء کچھ سجدہ کرتے ہیں (وہ سات) اعضاء بد ن پی ہیں) چہرہ (جو پیشانی اورناک پر شامل

ہے) دونوں ہاتھ لیال، دونوں گھٹنے اوردودول پاؤں کی انگلیاں -

(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہاہے کہ یہ حدیث حسن ہے-)

سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب پر پانچویں حدیث

It is narrated from Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "When a servant prostrates, seven parts prostrate with him: his face, his two palms, his two knees, and his two feet." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This Hadith is Hasan Sahih."]

Al-Ayni said in Sharh al-Hidayah: "Al-Tabari mentioned in Tahdhib al-Athar that the ruling for the forehead and the nose is the same."

1425

ابوحیدر رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ

وسلم کے نماز پڑھنے کا تفصیلی بیان ہے اس میں سجدہ کی کیفیت اس طرح ذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ

وسلم نے سجدہ فرما تو اپنی ناک اور پیشانی کوز مین پر رکھ دیااور اپنے دونوں باہوں کو پہلووالے

علیحدہ رکھا - (اس کی روایت ابوداووداورنسائی نے کی ہے-)

سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب پر چھٹی حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Prophet ﷺ performed the prayer, and when he prostrated, he placed his nose and forehead on the ground and kept his arms apart to the sides. - (This narration is reported by Abu Dawud and Nasa'i.)

1426

وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سجدہ میں ناک کو پیشانی کے ساتھ زمین پر رکھا کرتے تھے-

(اس کی روایت طبرانی اورابوبیلی نے کی ہے-)

سجدہ کرنے کی کیفیت اوراس کے آداب پرساتوی حدیث

It is narrated from Wa’il (may Allah be pleased with him) who said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would place his nose along with his forehead on the ground during prostration." [Narrated by Al-Tabarani and Abu Ya’la]

1427

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اورناک پرمٹی کا نشان دیکھا گیا، جبکہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھانی تھی - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے-)

مردول کو جدے میں باپ پچا نے کی ممانعت اور سجدہ اعتدال سے کر نے کا حکم

It is narrated from Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) had marks of mud on his forehead and the tip of his nose from a prayer he led with the people. [Narrated by Abu Dawud]

1428

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سجدہ اطمینان اور اعتدال سے کیا کرو اور تم میں سے کوئی مرد کے کی طرح زمین پر اپنی باپ پچی پاتھ کہینیوں لیکر پچا کرے-

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے-)

مردول کو جدے میں باپ پچا نے کی ممانعت اور اعتدال سے سجدہ کرنے کا حکم پر

دوسری حدیث

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Be balanced in your prostration, and do not spread your arms like a dog." [Agreed upon]

1429

عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی طوگ کی طرح جدے کرنے سے منع فرمایے (یعنی جیسے کو ادا کا اٹھانے کے لیے زمین پر جلدی جلدی ٹھونگ مارتے ہے۔ اس طرح نمازی جدے کرتے ہر جلدی جلدی نہ اٹھائے بلکہ اعتدال واطمینان سے جدے کیا کرے) اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردول کے لیے سجدے میں درندے کی طرح اپنے پاتھ کہینیوں لیکر زمین پر پچا نے سے بھی منع فرمایے اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو سیر میں اپنے لیے (دوسرول کوروک کر) کسی جگہ کو خصوص کر لینے سے بھی منع فرمایا

ہے جیسے کراونٹ اپنے بچے کے لیے ایک خاص جگہ مقرر کر لیتا ہے-

(اس کی روایت ابوداود، نسائی اور داری نے کی ہے-)

It is narrated from Abd al-Rahman ibn Shibl (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade pecking like a crow, spreading like a beast, and reserving a place in the mosque like a camel. [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Al-Darimi]

سجدہ کرنے کی کیفیت
1430

براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی دونوں تقلیال زمین پر رکھاو ر کھنو ل کوزمین تے اٹھاے رکھو (یا کمر دول کے لے ہے۔) (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

It is narrated from Bura' b. Azib (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When you prostrate, place both your foreheads on the ground and raise your nose off the ground (or keep your waist straight).' This is narrated by Muslim.

سجدہ کرنے کی کیفیت پر دوسرا حدیث
1431

میوند رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرماتی پین کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرما تے تو اپنے دونوں بازو و ل کو پہلو ول سے اور پیٹ کور انول سے اس طرح دور رکھتے کر اگر بڑی کا پچر بازو و ل کے درمیان سے گذرنا چاہتا تو گزر رسلتا تھا (یا مام اور منفرد کی حالت میں اور اگر جماعت میں ہوتا اس طرح نہ کرے بلکہ ہاتھوں کو پہلو ول سے قریب رکے تاکہ بازو والے کو ایزاء نہ ہو۔ (ہداپی۔) (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

It is narrated from Maymunah (may Allah be pleased with her) who said: "When the Prophet (peace be upon him) prostrated, he would keep his arms away from his sides, so much so that if a lamb wanted to pass under his arms, it could." [Narrated by Abu Dawud]

A similar narration is in Muslim: "When the Prophet (peace be upon him) prostrated, if a lamb wanted to pass between his arms, it could.")

1432

اور مسلم کی ایک روایت اس طرح ہے کہ سیدنا میوند رضی اللہ عنہ فرماتی پین کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کی حالت اس طرح ہوتی تھی کہ اگر کوئی بڑی کا پچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کے پیچے سے گذرنا چاہتا تو گزر رسلتا تھا۔

It is narrated from Sidi Mua'widh (RA) that he said:

The state of the Prophet's ﷺ prostration was such that if a camel wanted to pass behind his feet, it could do so.

سجدہ کرنے کی کیفیت پر تیسری حدیث
1433

عبد اللہ بن ما کہ بن خبیرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، وہ کہتے پین کہ نماز پڑھتے میں جلالت سجدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازو و ل کو نوب کہول دیتے تھے یہاں تک کہ آپ کی بغلون کی سفیدی ظاہر ہوتی تھی۔

قومہ سے سجدہ میں جائے اور سجدہ سے اٹھنے کی کیفیت

It is narrated from Abdullah ibn Malik ibn Buhaynah (may Allah be pleased with him) who said: "When the Prophet (peace be upon him) prostrated, he would spread his arms so much that the whiteness of his armpits could be seen." [Agreed upon]

اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے
1434

وگل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے میں جائے وقت ہاتھوں سے پہلے گٹن ز مین پر کہتے تھے اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے دونوں گوشون سے پہلے ہاتھوں اٹھاتے۔ (اس کی روایت ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور ابن حبان نے بھی اس حدیث کو قرار دیا ہے۔

سجدہ کرنے کی اور سجدہ سے اٹھنے کی کیفیت

It is narrated from Wa’il ibn Hujr (may Allah be pleased with him) who said: "I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) place his knees on the ground before his hands when prostrating, and when he rose, he would raise his hands before his knees." [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah, and Al-Darimi]

Al-Tirmidhi said: "This Hadith is Hasan Gharib." Al-Hakim said: "It is Sahih according to the conditions of Muslim." Ibn Hibban also authenticated it.

(1) The statement: "When he prostrated, he placed his knees before his hands": This is the opinion of Abu Hanifah and Al-Shafi’i, as mentioned in Al-Mirqat.

(2) The statement: "When he rose, he raised his hands before his knees": This is the opinion of Abu Hanifah. Al-Shafi’i disagreed, as his view is that it is Sunnah to rely on the palms and fingers spread on the ground when rising, as mentioned in Al-Mirqat.

1435

ناح رضی اللہ عنه، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر فرمایا کرتے تھے جو خص نماز میں جس جگرا پی پیشانی کوز میں پر کہتا ہے تو وہ ا پی دونوں تختی لیون کوچی اس جگہ پر کے اس طرح کر دونوں ہاتھوں کے نچ میں پیشانی رہے (اور نہ بحقی کچی نہی ہے۔) اور جب نماز میں سجدے سے اٹھتے پہلے پیشانی کوز میں سے اٹھاتے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کواس لے کر اس کے دونوں ہاتھوں کچی اس طرح سجدہ کرتے ہیں جس طرح اس کا چہرہ سجدہ کرتا ہے (پس چائے کے ہاتھوں کو کچی سجدے کے وقت اپنائی زمین پر کے جسیا کہ پیشانی کوز میں پر کہتا ہے اور ہاتھوں کوز میں سے اپنائی اٹھاتے جسیا کہ پیشانی کوز میں سے اٹھاتا ہے۔) (اس کی روایت امام ماک نے کی ہے)

دونوں سجدول کے درمیان اقعائے کی ممانعت

It is narrated on the authority of Nāḥ (RA), from Ibn ʿUmar (RA) that Ibn ʿUmar used to say:

When one prostrates in the special prayer, one should place the forehead between the two knees in such a way that the forehead remains between the two feet. (And it is not a true prostration otherwise.) And when one rises from prostration in the prayer, one should first lift the forehead from the ground, then bring the two knees up so that one prostrates with the knees in the same manner as one prostrates with the face. (Thus, at the time of prostration, the heels should be on the ground as the forehead is on the ground, and when lifting from prostration, the heels should be lifted from the ground as the forehead is lifted from the ground.) This narration is reported by Imam Mālik.

1436

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کر اے علی میں تمہارے لئے ہراس چیزو پسند کرتا ہول جس کو میں اپنے لئے پسند کرتا ہول، اور جس چیزو میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس کو تمہارے لئے

جب پسند نہیں کرتا، تم دونوں سجدول کے درمیان اقعاء کی بیٹھک سے مت بیٹھا کرو۔

(اس کی روایت ترکی نے کی ہے۔)

ف: اقعاء کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ سرین دونوں ایٹیول پر رکے جا سکیں اور گٹنے زمین پر

ٹیکے ہول، اور دوسرا صورت یہ ہے کہ سرین اور ہاتھوں زمین پر ہول اور پڑ لیاں کر کی رکی جا سکیں جس

طرح کر کے بیٹھے ہیں۔ (شرح و قاپاو رعدة الرعاية۔)

It is narrated from Ali (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Ali, I love for you what I love for myself, and I dislike for you what I dislike for myself. Do not sit like a dog between the two prostrations." [Narrated by Al-Tirmidhi]

سجدہ کی فضیلت
1437

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اگلے ہو جاتا ہے

اور کہتا ہے کہ باے میری بختی! آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے تو سجدہ کر لیا اور اس کے لیے جنت

مقصد ہوگی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا اور میرے لیے دوزخ مقصد ہوگی۔

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the son of Adam recites a verse of prostration and prostrates, Satan withdraws, weeping and saying: 'Woe to me! The son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated, so Paradise is his. I was commanded to prostrate, but I refused, so Hell is mine.'" [Narrated by Muslim]

سجدہ کی فضیلت پر دوسری حدیث
1438

ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رات کو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور حضور علیہ السلام کے لیے وضو کا پانی اور دیگر

ضروریات مہیا کرتا تھا ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا پچھا مانگو میں نے عرض کیا کہ

جنت میں حضور کی رفاقت چاہتا ہوں، حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا (یتو بری بات ہے) اس کے

سوا پچھا اور مانگو میں نے عرض کیا جی بس یہی میرا مقصود و معاہ (حضرت نے جب یہ کہ لیا کہ یہ

طالب صادق ہے تو ارشاد فرمایا کہ میں تو تم کو ساتھ رکھوں گا گر) تم مجھی بخترتنمازی پڑھ کر کرت

سے سب سے کر کے اپنے کو اس درجہ کے قابل بنالو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے چند فائدے معلوم ہوتے ہیں، (1) ایک یہ کہ برزگول کی

خدمت اور ان کو راضی رکھنا دارین کی سعادت کا باعث ہوتا ہے، (2) دوسرا فائدہ یہ کہ حضور صلی اللہ

علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو چاہے ما گو وہ دیا جائے گا اس سے ثابت ہوا

کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نیا اور آخرت کی بڑی پر اغتیار دیا گیا تھا کہ آپ جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ

تعالیٰ کے حکم سے عطا فرمادیں، چنانچہ مرقات میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت بلطو رجا گیر عطا

فرمایا ہے کہ آپ جس کو چاہیں دیں، اللہ تعالیٰ اس دینے سے راضی ہیں، (3) تیسرافائدہ یہ کہ ربیعہ

بن کعب رضی اللہ عنہ صدھزار شخصین کے قابل ہیں کہ آپ نے دیا کونہ مانگا، آخرت میں کو مانگا، پردیا کی

چیزول میں سے جو کچھ مانگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عطا فرمادیں گے آپ کادیا کو چھوڑ کرآخرت

میں کو مانگنا اس میں طالب صادق کے لئے سبق ہے کہ وہ بھی شدیا پر آخرت میں ترنے چاہیں کرے،

(4) چوتھا فائدہ یہ کہ امید وہو س لگا کہ رکھنا اور خود پچھا کرنا طالب صادق کا کام نہیں بلکہ خود کچھ

رياضت کر کے حصول مقصد کی امید باندھنا چاہیے، میں مجہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت

ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تمہیں کثرت نمازیں پڑھ کر اور کثرت سے سجدے کر کے جنت

میں میری رفاقت کے قابل بنو۔ (مرقات، اشعہ المعمات -)

It is narrated from Rabi’ah ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) who said: "I used to spend the night with the Messenger of Allah (peace be upon him) to bring him his water for ablution and whatever he needed. He said to me: 'Ask.' I said: 'I ask for your companionship in Paradise.' He said: 'Or something else?' I said: 'That is it.' He said: 'Then help me with yourself by prostrating often.'" [Narrated by Muslim]

سجدہ کی فضیلت پرتیری حدیث
1439

معدان بن طلہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت

ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور دریافت کیا کہ مجھ کو کیا عمل بتادتے اگر میں اس کا پابند ہو جاؤں تو

اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میں جنت میں داخل کر دیں۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے کرخا موش رہے، میں

نے دوبارہ دریافت کیا (تو میری رغبت اور شوق بڑھا نے کے لئے) پھر مجھے خا موش، میں رہے جب

میں نے تیری وفع پوچھا تو کہا گے کہ میں نے مجھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھی سوال کیا تھا تو

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ (تم کثرت سے نمازیں پڑھ کر) زیادہ سجدے کیا کرو،

کیوں کہ تمہارے ہر جدّے پر خداے تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاویتا ہے

میدان کیہیں کہ پھراسی طرح میں (ایک رفع) حضرت ابوذر داء رضی اللہ عنہ سے کچھ ملاوران

سے کچھ وی بات پوچھی جو حضرت ثوبان سے پوچھی تھی تو انہوں نے کچھ وی بات کی جو ثوبان نے کی

تھی - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

سجدہ کی فضیلت پر چوتھی حدیث

It is narrated from Ma’dan ibn Talhah who said: "I met Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (peace be upon him), and said: 'Tell me of a deed I can do that will admit me to Paradise.' He remained silent. I asked him again, and he remained silent. I asked him a third time, and he said: 'I asked the Messenger of Allah (peace be upon him) about that, and he said: "Prostrate often to Allah, for you will not prostrate once to Allah except that He will raise you a degree and remove a sin from you."' Ma’dan said: 'Then I met Abu al-Darda’ and asked him, and he said the same as Thawban had said.'" [Narrated by Muslim]

1440

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سجدہ کی حالت میں بندہ کو اپنے پروردگار سے انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے لہذا

سجدہ میں تم بہت زیادہ دعا کیا کرو (یعنی جب تم فرض نماز کا سجدہ کرو تو دعا کہ وثناء اور اگر نفل نماز کا

سجدہ کرو تو دعا کہ و ثناء کے ساتھ ماثورہ دعا ئے طلب و سوال کچھ کیا کرو-) (اس کی روایت مسلم

نے کی ہے-)

ف: دعا کے حمد و ثناء اور دعا کے طلب و سوال کی تفصیل حدیث نمبر (5،7) کے فائدہ میں

ملاحظہ کی جائے۔

نفل نماز ول کے سجدے میں مقررہ تشیح کے بعد پڑھی جانے والی دعا

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The closest a servant is to his Lord is when he is prostrating, so increase your supplications [in prostration]." [Narrated by Muslim]

1441

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم (نفل نماز ول کے) سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اللہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی كُلَّهُ دِقَّةً

وَ جَلَّةً وَ أَوَّلَهُ وَ آخِرَةً وَ عَلَانِيَتَهُ وَ سِرَّه"، اے اللہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، صغیرہ ہوئے یا

کبیرہ، اے اللہ ہوئے پاپچلے، ظاہر ہوئے پاپشیدے - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

نفل نماز ول کے سجدے میں مقررہ تشیح کے بعد پڑھی جانے والی دعا پر دوسری حدیث

It is narrated from Abu Buraydah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ used to recite this supplication in the prostration of the voluntary prayer:

O Allah, forgive me all my sins, minor and major, first and last, public and private. O Allah, forgive me all my sins, whether small or great, whether past or future, whether public or private. This narration is reported by Muslim.

1442

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نماز پڑھنے جاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم

مسجد کے اندر موجود تھے ہاتھ سے طو لا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں تلوان پرمیرا اٹھے پڑگئے،

دونوں تلوان کٹرے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدے میں پڑے یہ دعا عفر مارتے تھے: "اللہمّ

ایّا عُوذُبکَ برضاکَ من سخطکَ وبمعافاتکَ من عقوبتکَ وَأعُوذُبکَ

منکَ لا أُحِصی ثناءً علیکَ أنتَ كما أثْنیتَ علی نفِسكَ"، ایسے میں آپ کے غضب

سے آپ کی رضا مندی اورآپ کے عذاب سے آپ کی معافی کی پناہ میں آتا ہوں (چون کہ آپ کے

سوکوتی ) ما کو اور قارئین سے، اس لے آپ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں آپ کی پناہ میں

تعریف نہیں کرسکتا، آپ ایسے ہیں جسے خود آپ نے اپنی تعریف فرمائی ہے-

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

دو بیدول کے درمیان جلسہ میں پڑھی جانے والی دعاے

It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) who said: "One night, I noticed the Messenger of Allah (peace be upon him) was missing from the bed. I searched for him, and my hand fell on the soles of his feet while he was in the mosque, and they were raised. He was saying: 'O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your anger, in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself.'" [Narrated by Muslim]

1443

وَارْزُقْنِي: اے اللہ! مجھ کو ایسی روزی عطا فرما ئے جس کی وجہ سے میں کسی کا اختیاج نہ ہول -

وَاجْبُرْنِي: اے اللہ! میری شکست حال تو دورست فرما ئے -

وَارْفَعْنِي: اے اللہ! مجھ کو نیا مین بھی مرتب عالی عطا فرما ئے اور آخرت میں بھی

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم

دو بیدول کے درمیان جلسہ کی حالت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے-

اللہُمَّ اغْفِرْ لی : اے اللہ میرے گناہوں کو خش دتے اورآپ کی اطاعت میں جو کوئی عمل

ہوئی ہیں ان کو معاف فرمادتے-

وارحَمْنی : اے اللہ! آپ میرے اعمال کو نہ کیسے اپنے فضل سے مجھ پر رحمت نازل

فرمائیے-

واهْدِنی : اے اللہ! مجھ کو ان عقائد کی طرف رہبری فرمائی جس سے آپ راضی ہیں اور مجھے

سے وہ اعمال کروا ئی جو آپ کو پسند ہیں-

وَعَافِنی : اے اللہ! دنیا میں مجھی مجھ کو عافیت سے رکھ اورآخرت میں مجھی عافیت سے رکھ-

(و اجبرنی اوروارفعنی کا اضافا بن مجبت کیا گیا ہے-) (اس کی روایت ابوداود،ترمذی

اور ابن ماجہ نے کی ہے-)

ف: واقع ہو کر اس حدیث میں اور ای طرح دوسری حدیثوں میں دو حرفوں کے درمیان جلسہ

میں جن و عاون کا پڑھنا مروی ہے، ان کے متغلق صاحب رداختار نے کہا ہے کہ ان دعاوں کو ایسی

نمازون کے جلسے میں پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجر، وتر، سنت اور نفل ای طرح

کوئی شخص فرض نماز کو تہما پڑھ رہا ہے تو وہ جس اس کے جلسے میں ان دعاوں کو پڑھ سکتا ہے البتہ یہ نمازیں

جب جماعت سے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے جلسوں میں ان دعاوں کو نہیں پڑھنا چاہئے تاکہ مقصد یول پر

بارہ ہو، لیکن نماز کسوف کے جلسے میں جماعت سے پڑھی جانے کے باوجود دعاوں کو پڑھا جا سکتا ہے

کیونکہ یہ نماز طوالت سے پڑھی جانے کے لیے ہی ضروری ہے، ایسا کی اگر امام کسی ایسی جماعت کو

نماز پڑھا رہا ہے جو سب تعم خیال ہو ل اور کسی پر نماز کی طوالت بارہیں تو اس کے جلسے میں بھی امام اور

مقتدی دونوں ان دعاوں کو پڑھ سکتے ہیں-

فرض اور نفل نمازوں کے جلسے میں پڑھی جانے والی دعاوں

It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) used to say between the two prostrations: "O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, grant me well-being, and provide for me." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi)

1444

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسجدوں کے

درمیان "رَبّ اغْفِرْ لی"، فرما کرتے تھے- (اس کی روایت نسائی اور دار قنی نے کی ہے-)

ف: صاحب رداختار نے لکھا ہے کہ اس دعا کو جماعت والی نماز ہو یا تہما نماز دونوں کے جلسے

میں پڑھنا مستحب ہے-

It is narrated from Hudhaifah (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) used to say between the two prostrations: "O Lord, forgive me." [Narrated by Al-Nasa’i and Al-Darimi)

It is said: "There is no prescribed remembrance between the two prostrations, and similarly, nothing other than glorification (tasbih) is recommended during prostration according to the school of thought. What has been narrated is understood to be for voluntary prayers, as the matter is flexible in them." This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Al-Kabiri. However, Ibn Abidin said in Radd al-Muhtar: "It is recommended to supplicate for forgiveness between the two prostrations to avoid differing with Imam Ahmad. I have not seen anyone explicitly state this in our school, but they have emphasized the recommendation of considering differing opinions."