سیراب التشهٌد لعمي التحیات کے بیان میں
التحیات کے لے بیٹھنا اور کلمہ شہادت کے وقت انگلی اطلا نے کا طریقہ
The method of sitting for greetings and raising the finger during the recitation of the Kalimah Shahadah
علی بن عبد الرحمن معاوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کن کر پونے کہیتا کہ ما تو انہول نے نماز فارغ ہوکر مجھے منع کیا اور فرمایا جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہی تم مجھی وہی کیا کرو، میں نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا عمل فرمایا کرتے تھے؟ تو انہول نے فرمایا جب آپ نماز میں تشهد کے لے بیٹھتے تو اپنا ایال بات کردا تھی ران پر کہ لیتے تھے اور شہادت کے وقت تمام انگلیاں بند کر کے اپنے انگوٹھے کے قریب کی انگلی (جس کو شہادت کی انگلی کہتے ہیں) اس سے اشارہ فرماتے تھے اور اپنا ایال بات کر باکی ران پرد کیتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداوداور مسلم نے کی ہے۔)
ف: واضح ہوکہ اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک پیکر قعدہ میں بجاے گھٹنول کے سیدہ بات کو سیدی ران پراور باکی بات کو باکی ران پر کے، دوسروے پیکر التحیات پڑتے ہوئے جب کلمہ شہادت پر پڑتے تو سیدہ بات کو تمام انگلیوں کو بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔ (فتح القدیر)
التحیات کے لے بیٹھنا اور کلمہ شہادت کے وقت انگلی اطلا نے کے طریقہ پر دوسروی حدیث
It is narrated from Ali ibn Abd al-Rahman al-Mu’awi who said: "Abdullah ibn Umar saw me playing with pebbles during prayer. When he finished, he forbade me and said: 'Do as the Messenger of Allah (peace be upon him) used to do.' I asked: 'How did the Messenger of Allah (peace be upon him) do it?' He said: 'When he sat in prayer, he placed his right hand on his right thigh, clenched all his fingers, pointed with the finger next to the thumb, and placed his left hand on his left thigh.'" [Narrated by Abu Dawud and Muslim]
Imam Ibn al-Humam said: "There is no doubt that placing the palm while clenching the fingers is not possible. The intended meaning, and Allah knows best, is to place the palm first, then clench the fingers afterward when pointing."
والد بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں یہ بات تھان لی تھی کہ دیکھون کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ تو کیا دیکھتا
جوہول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، واقبل رضی اللہ عنہ نے جہاں سے حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی پوری نماز پڑھتے کا ذکر کیا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں بیٹھنے کی کیفیت کواس
طرحوپیان کیا کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا باپ لپیر پچا کے اوراس پر بیٹھے گئے اوراپنا باپ ل
بات کے باقی ران پر کے اورداوال باتدادا کی ران پراس طرح رکے کہ دا تم کہتی ران سے پکڑا کی
جوہونی تھی، پھر سید کے باتد کی دونوں انگلیوں جن کو خضر اور بنصر کہتے ہیں بند کر کے وسطی لینے تھے کی انگلی
اور انگلوں کے سے حلقوں بنالیا،حضرت وال کہتے جی کہ و رأيتہ يقول آى يشير، (بزل انجور)
میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسبابہے اشارہ فرماتے دیکھا حضرت وال نے پیچھے کہا "ہے گذا"
اس طرح (جیسی پیکر حضرت وال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کر کے بتلا یا اس حدیث کے
راویوں میں حضرت ثبرہیں، اس حدیث کوسنا تے ہوئے انہوں نے کہی اپنے شاگرد کو عمل اس
طرح کر کے دکھایا کر انگلوں کے او رشیخ کی انگلی سے حلقوں بنایا کرسبابہے لیجنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے
بتایا۔(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے۔)
کلمہ شہادت کے وقت انگلی اطہانے کی فضیلت اوراس کوباربار کرتے ہوئے کا ثبوت
It is narrated from Wa’il ibn Hujr (may Allah be pleased with him) who said: "I said to myself: 'I will observe how the Messenger of Allah (peace be upon him) prays.' He stood for prayer... (the Hadith continues) ...then he sat and spread his left leg, placed his left hand on his left thigh, rested his right elbow on his right thigh, clenched two fingers, made a circle, and pointed with his index finger." [Narrated by Abu Dawud]
عبد اللہ بن الزبير رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم قعدہ میں التحیات پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت پر پھیل تو سبابہے لیجنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا
کرتے مگراس کو بلا نہیں کرتے تھے۔(اس کی روایت ابوداووداورنسائی نے کی ہے۔) اورابوداوود کی
روایت میں پر اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ مقام اشارہ سے منتہی نہیں تھی، لیجنی اشارہ کرتے
وقت مقام اشارہ کی کو کیہتے رہتے تھے۔
It is narrated from Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) used to point with his finger when supplicating and did not move it." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i) Abu Dawud added: "And his gaze did not go beyond his pointing." In a narration by Ahmad: "The Prophet (peace be upon him) said: 'It is more severe against Satan than iron.'"
اورامام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ شہادت کی انگلی کا اشارہ شیطان پر تحیا رکے حملے سے زیادہ سخت ہے۔
کلمۂ شہادت کے وقت دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگیون سے
اشارہ کرنا کی ممانعت
It is narrated from Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) used to point with his finger when supplicating and did not move it." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i) Abu Dawud added: "And his gaze did not go beyond his pointing." In a narration by Ahmad: "The Prophet (peace be upon him) said: 'It is more severe against Satan than iron.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک صحابی کلمۂ شہادت
پڑھتے وقت دونوں ہاتھوں کے شہادت کی انگیون سے اشارہ کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ "ایسے" "ایسے" لیعن صرف سیدہ ہاتھوں کی شہادت کی انگی سے اشارہ کیا کرو۔
(اس کی روایت تنزہی اورنسائی نے کی ہے اور جہیق نے بھی الدعوات الكبیر میں اس کی روایت
کی ہے)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) who said: "A man was supplicating with two fingers, so the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'One, one.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, and Al-Bayhaqi in Al-Da’awat al-Kabir]
عاصم بن کلبیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ (ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلوسلم کی خدمت میں
حاضر ہوا (اس وقت) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کے قعدہ) میں تھا میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم اپنا باپل ہاتھوں باکین ران پر (کھلا ہوا) رکے ہوئے ہیں اور دایاں ہاتھوں کی ران پراس طرح
رکے ہوئے ہیں کہ انگیال بندا ہیں اور شہادت کی انگی ران پر غلطی رکھی ہوتی ہے، اور آپ پیداعاء پڑتا
رہے ہیں -
"یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک" اے دول کے محضر نے والے میرے ول
کو اپنے دین پر ثابت قدم رکے۔ (یہاں اس دعا کے نقل کرنے سے راوی کی غرض یہ تلا نا ہے کہ
قعدہ اختبار ہے اور باختا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ ہاتھوں کی انگیال اورشہادت کی انگی اب تک
برستور ویسی ہی ہیں جیسے اشارہ کے بعد کی ہوتی تھیں)
(اس کی روایت تنزہی نے اپنی جامع کے کتاب الدعوات میں کی ہے)
ف(1): سعائی میں نذور سے کریحدیث اس بات پرداللت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں اشارہ کرنے کے بعد جو انگلیان بندر کے ہوئے اور شہادت کی انگلی کوران پڑھنا رکے ہوئے تحققدہ کے ختم ہونے تک ان سب کو برستوراسی حالت میں بندر کے ہوئے تک کو لے نہ تک ف(2): واضح ہو کہ نذور الصدراحادیث مآخذ ایس تفصیل کے جس کو ملاعلی قاری رحم اللہ نے اپنے رسولؐ تزئین العبارہ " میں اس طرح بیان فرمایاہے کہ تا اور محترہمارے جمهوراحناف کے پاس پیہ کر قعدہ میں التحیات شروع کرتے وقت پائل دونوں تتحميليون کودونوں رانول پراس طرح رکھیں کر انگلیان کحلی ہوتی قبل درخ رہیں،اور التحیات پڑھتے ہوئے جب کلم تو حیرعنی آشہدُ أن لاّ اللہ إلا اللہ پر پیہ تو خضراور بنصردونوں چحوٹی انگلیون کوبند کر لے اوردومیانی انگلی او راگلو طے حلقو بناءے اور شہادات کی انگلی سے اشارہ اس طرح کرتے کر لاّ إله کہتے وقت شہادات کی انگلی کواٹھاے اور إلا اللہ کہتے وقت کلمہ کی انگلی کحلی ہوتی ران پر کھڈے اوردوسری انگلیون کودھو لے، اگر قعدہ اولی ہوتی تیسری رکعت کے لے اٹھنتےک اوراگر قعدہ اخرہوتی سلام پچیرے نے کی انگلیون کو برستوراسی حالت پڑے کے
It is narrated from Asim ibn Kulayb, from his father, from his grandfather who said: "I entered upon the Prophet (peace be upon him) while he was praying. He had placed his left hand on his left thigh and his right hand on his right thigh, clenched his fingers, extended his index finger, and was saying: 'O Turner of the hearts, make my heart firm upon Your religion.'" [Narrated by Al-Tirmidhi in his book Al-Da’awat from his Jami’]
In Al-Sa’ayah: "This Hadith indicates that the Prophet (peace be upon him) continued this practice after forming the gesture and did not revert to his previous posture."
Ali al-Qari said in Tazhib al-Ibara: "The correct and preferred opinion among the majority of our scholars is to place the palms on the thighs, then, upon reaching the declaration of Tawhid (لا إله إلا الله), to fold the ring and little fingers, make a circle with the middle finger and thumb, and point with the index finger, raising it during negation (لا إله) and lowering it during affirmation (إلا الله), then continuing in this manner."
عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور تم پچھیس جانتے تحسین پکھا تم کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا (مجلہ الان کے پیجی سکھایا) کہ جب تم نماز کے قعدہ میں ہوتوب پڑھاکرو والتحيات لله و الصلاوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا اله الا الله واشهد أن محمداً عبدة ورسوله" زبان،جسم وجان اورمال کی تمام عبادتين اللہ کے لے پیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پرسالم ہو اوراللہ کی رحمتين اوراس کی برکتين نازل ہول سلام ہوتهم پراوراللہ کے نیک بندول پر، میں گوانی ویتا ہول کر اللہ کے سوا کوئی معبوثنیں اور پیجی گوانی دیتا ہول کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے
بندے اور رسول ﷺ -
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقولہ احادیث کے بیان پر ایک اور حدیث
It is narrated from Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) who said: "We were with the Messenger of Allah (peace be upon him) and did not know anything. He said to us: 'Say in every sitting: "All compliments, prayers, and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no deity except Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger."" [Narrated by Al-Nasa’i]
ابو معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ کو پڑھ ما تے ہوئے سناتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تشهد کی اس طرح تعلیم دی تھی
جس طرح قرآن کی سورتوں کی تعلیم دیا کرتے تھے (ابومعر کہتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے
فرمایا مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت جبکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تشهد کی تعلیم دی تھی وہ مجھے کہیا
ترجمہ نخاری کے باب المصافحہ کی روایت وگفی بین کفیہ کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔) میرا انکہ
(مصافحہ کی طرح) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست باز مبارک میں تھا (وہ تشهد پی ہے)
"الْتَحِيَاتُ للّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ الْسَلاۡمُ عَلَيْكَ اِيْهَا النَّبِىُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ
بَرَكَاتُهُ الْسَلاۡمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِباۡدِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ
مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ "
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور نخاری، مسلم، البوداوود، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اس
طرح روایت کی ہے۔)
ف: امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہاہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ
سے کئی طریقوں سے مردوی ہے اور تشهد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی حدثیں آئی ہیں
ان سب میں سب سے زیادہ توپہی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے اکثر
علماء صحابہ کامل اس حدیث پر بات اور صحابہ کے بعد اکثر علماء تا بعین بھی اس عمل کیا کرتے تھے اور
حضرت سفيان ثوري و حضرت ابن المبارك امام احمد اور امام اسحق کا بھی تشهد کے بارے میں پہی قول
ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہال ختم ہوتی ہے) اور حضرت برادر نے کہاہے کہ تشهد کے بارے میں میرے
پاس سب سے زیادہ صحی حدیث میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو میں سے زیادہ
سنہول سے مرودی سے اور انہوں نے بھی فرماپیہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشهد کے بارے
میں جتنی حدثین مرودی میں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے برہکروی
اور سنہ کے لحاظ سے اس حدیث سے بڑا کرتے کوئی حدیث نہیں میں اور راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث
سب سے زیادہ مشہور راویوں سے مرودی سے اور سنہ کے لحاظ سے بھی ایک دورسر کی تائید کرنے والی
اس حدیث کی سنہ سے بڑا کرسی حدیث کی سنہ میں ہے۔(برزارکی عبارت یہاں ختم ہوتی)
تعلیق محمد بن امام مسلم کا قول اس طرح ذکور سے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشهد کی
صحت پر اکثر فقہاء اور محشین نے اس وجہ سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام
شاگرد ون نے آپ سے تشهد کے جمن الفاظ کی روایت کی ہے وہ سب ایک ہی جیان کے الفاظ میں کوئی
اختلاف نہیں ہے۔
اس کے برخلاف دوسروں راویوں نے جس تشهد کی روایت کی ہے اس کوان کے شاگردون
نے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے اور ان کے الفاظ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشهد کی طرح ایک
نبیین میں اور محمد بن بیہی ظلی نے کہا ہے کہ تشهد کے بارے میں جتنی حدثین مرودی میں ان سب میں
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ صحی حدیث سے اور طبرانی نے البہیر میں بریدہ بن
الخصيب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشهد
سے بہتر کوئی تشهد نہیں سنا اور حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کہا ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقولہ التحیات کی روایت پر راوی کا بیان
It is narrated from Abu Ma’mar who said: "I heard Abdullah (ibn Mas’ud) say: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) taught us the Tashahhud as he taught us a Surah from the Quran: "All compliments, prayers, and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no deity except Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger."" [Narrated by Al-Nasa’I and similar narrations are found in Al-Bukhari, Muslim, Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah]
Al-Tirmidhi said: "The Hadith of Ibn Mas’ud has been narrated through multiple chains, and it is the most authentic Hadith from the Prophet (peace be upon him) regarding the Tashahhud. It is the practice followed by most scholars among the companions of the Prophet (peace be upon him) and the successors, including Sufyan al-Thawri, Ibn al-Mubarak, Ahmad, and Ishaq." Al-Bazzar said: "The most authentic Hadith regarding the Tashahhud, in my view, is the Hadith of Ibn Mas’ud, narrated through more than twenty chains. No Hadith from the Prophet (peace be upon him) is more established, with a stronger chain, more renowned narrators, or more corroborated by multiple chains."
Muslim said: "The people have unanimously agreed upon the Tashahhud of Ibn Mas’ud because his companions did not differ among themselves, unlike others whose companions differed." Muhammad ibn Yahya al-Dhuhali said: "The Hadith of Ibn Mas’ud is the most authentic narration regarding the Tashahhud."
Al-Tabarani narrated in Al-Kabir from Buraydah ibn al-Khusayb (may Allah be pleased with him) who said: "I have not heard anything better than the Tashahhud of Ibn Mas’ud." This was mentioned by Al-Hafiz Ibn Hajar.
Imam Tirmidhi (RA) said that this hadith of Ibn Mas'ud (RA) is narrated through several chains and among all the hadiths regarding the tashahhud that have been transmitted from the Prophet (SAW), this one is the most authentic. Most of the learned Companions of the Messenger of Allah (SAW) agreed on this hadith, and many scholars after the Companions also acted upon it. The opinion of Sufyan Thawri (RA), Ibn al-Mubarak (RA), Imam Ahmad (RA), and Imam Ishaq (RA) regarding the tashahhud is based on this hadith. (This is the end of Tirmidhi's statement.) And Bara' (RA) said: 'The most authentic hadith I have regarding the tashahhud is the one narrated by Ibn Mas'ud (RA), which is more widely transmitted and more reliable. They also narrated from the Prophet (SAW) about the tashahhud, and among all these hadiths, the one from Ibn Mas'ud (RA) is the most reliable and the most widely accepted. There is no hadith more reliable than this one in terms of its chain of transmission, and it is the most famous among the narrators. This hadith is also supported by a long chain of narrators and is more reliable in terms of its age. (This is the end of Bara's statement.) Muhammad bin Imam Muslim stated that the correctness of the tashahhud according to Ibn Mas'ud (RA) was agreed upon by most jurists and scholars because all his students narrated the words of the tashahhud from him without any discrepancy. In contrast, other narrators who reported the tashahhud did so with different words, and their narrations do not match the uniformity found in the narration of Ibn Mas'ud (RA). Muhammad bin Bishr al-Zuhri said that among all the hadiths regarding the tashahhud, the one from Ibn Mas'ud (RA) is the most authentic. Tabarani narrated from Buraydah bin al-Khasib (RA) that he said, 'I have not heard a better tashahhud than that of Ibn Mas'ud (RA).' Hafiz Ibn Hajar (RA) also said this. The narrations of the transmitted salutations of Ibn Mas'ud (RA) are based on the reliability of the narrators.
قاسم بن مہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کے، انہوں نے کہا کہ علقمر رضی اللہ عنہ
نے میرا ابا تو پیکر کر مجھے تے یہ حدیث بیان کی کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمر
کا با تو پیکر کر کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا با تو پیکر کر نماز کے قدرہ
میں التحیات پر سنا سکھلا یے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
I learned the prayer's excellence from the Prophet ﷺ in the tashahhud.
اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی روایت کی ہے وہ
فرما تے پھر کرماد بن سلمان رحمۃ اللہ علیہ نے میرا باتو پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا اور حضرت ابراہیم نے کر
حضرت ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ نے میرا باتو پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا ور حضرت ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ
فرما تے پین کر حضرت علقمر رضی اللہ عنہ نے میرا باتو پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا ور حضرت علقمر فرما تے پین
کر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا باتو پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا ور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
فرما تے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا باتو پکڑ کر مجھے اس طرح تشہد سکھا نے جس طرح حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے مکو قرآن کی سورتین سکھا کر تے تھے۔پیشہ دوائی سے جو حدیث (دوحدیث پہلے
حضرت ابن مسعود کی منقول التحیات کے عنوان سے زگریہ۔ میں ذکورہےامام ابن الہمام
اس کوبیان کیاہے۔)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقول التحیات کی اہمیت پر
خود ان کا بیان
It is narrated from al-Qasim ibn Mukhaymirah who said: "Alqamah took my hand and told me that Abdullah ibn Mas’ud took his hand, and the Messenger of Allah (peace be upon him) took Abdullah’s hand and taught him the Tashahhud in prayer." [Narrated by Abu Dawud]
Our Imam Abu Hanifah narrated: "Hammad ibn Sulayman took my hand and taught me the Tashahhud. Hammad said: 'Ibrahim took my hand and taught me the Tashahhud.' Ibrahim said: 'Alqamah took my hand and taught me the Tashahhud.' Alqamah said: 'Abdullah ibn Mas’ud took my hand and taught me the Tashahhud.' Abdullah said: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) took my hand and taught me the Tashahhud as he taught me a Surah from the Quran.'" This was mentioned by Ibn al-Humam.
- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و، هفرما تے پین کر میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تشہد سکھا نے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تشہد
ایک ایک کلمہ کر کے اس طرح سکھا نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک کلمہ فرما تے جاتے تھا اور
میں ایک ایک کلمہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرا تا جاتا تھا۔(اس کی روایت امام طحاوی
نے کی ہے۔)اور امام محمد رحمۃ اللہ نے فرما یہ کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی روایت
کے ہونے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بجھی بردا نے اور گہا نے کو پسنہ نہیں فرما تے تھے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقول التحیات کی اہمیت پر حضرت ابن عمر کا بیان
It is narrated from Abdullah (ibn Mas’ud) who said: "I took the Tashahhud directly from the mouth of the Messenger of Allah (peace be upon him), and he taught it to me word by word." [Narrated by Al-Tahawi) Muhammad (al-Shaybani) said: "Abdullah ibn Mas’ud disliked adding or removing even a single letter from it."
- ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو
پرسرمنہر تشهد سکھا یا کرتے تھے جس طرح تم اپنے بچوں کو قرآن سکھاتے ہو پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشهد کی طرح تشدد پڑھ کر سنایا دینون میں کوئی فرق نہ تھا-
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے-)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقولہ التحیات کی تائید پر حضرت ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) who said: "Abu Bakr used to teach us the Tashahhud on the pulpit as you teach children the Quran." Then he mentioned the Tashahhud of Ibn Mas’ud exactly. [Narrated by Al-Tahawi]
اللّٰهُمَّ كَاشْهِدْ يَتْحَا ؕالْتَحِيَاتُ لِلّٰهِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَّيِّبَاتُ اَلسَّلا مُ عَلَيْكَ أَيُّها
النَّبِىُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكاتُهُ اَلسَّلامُ عَلَيْنا وَ عَلى عِبا دِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ أَشْهَدُ
أَنْ لاَّ إِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ ۚ اور حضرت ابن مسعود رضي الله عنه
کا تشهد یہی ہے -
(اس کی روايت تبہقی نے کی ہے-)
اور امام نووی رحمۃ اللہ نے خلاصہ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہ جید ہے اور سعا ی میں ذکور
ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تشهد پڑھا کرتے تھے وہی تشهد ہے
جس کو انہم پڑھا کرتے ہیں -
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقولہ التحیات کی تائید حضرت خصيف کے خواب تے
It is narrated from Khufayf who said: "I saw the Prophet (peace be upon him) in a dream and said: 'O Messenger of Allah, the people have differed regarding the Tashahhud.' He said: 'Stick to the Tashahhud of Ibn Mas’ud.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]
This was mentioned by Al-Zayla’i, Ibn al-Humam, Ibn Hajar, and Al-Ayni.
خصيف رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہول نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب
میں دیکھا تو عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشهد کے متعلق لوگ اختلاف میں پڑگئے ہیں،
حضور صلی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشهد کو اختیار کرو اور اس کو پڑھا کرو -
(اس کی روایت ترجمہ نے کی ہے جس کا ذکر زیلی ابن اہما م ابن حجر اور عینی رحمہم اللہ نے کیا ہے)
التحیات کو آہستہ پڑھنے کا ثبوت
It is narrated from Khufayf who said: "I saw the Prophet (peace be upon him) in a dream and said: 'O Messenger of Allah, the people have differed regarding the Tashahhud.' He said: 'Stick to the Tashahhud of Ibn Mas’ud.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]
This was mentioned by Al-Zayla’i, Ibn al-Humam, Ibn Hajar, and Al-Ayni.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ التحیات کا خفی
لیجن آہستہ پڑھنا سنے ہے-
(اس کی روایت ابوداوداورترجمہ نے کی ہے)
قعدہ اولی میں التحیات کے بعد درود و دعا پڑھنے کا ثبوت
Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) said: "It is from the Sunnah to recite the Tashahhud quietly." [Narrated by Abu Dawood and Al-Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Gharib Hadith."]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم پہلی دور کعتون کے بعد قعدہ اولی میں التحیات پڑھنے کے لئے اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا آپ
گرم پھر پر بیٹھے ہیں -(اور التحیات ختم کرتے تھے، یا درود و دعا پڑھے بغیر تیری رکعت کے لئے)
کھڑے ہوجاتے تھے-(اس کی روایت ترجمہ، ابوداوداورنسائی نے کی ہے-
He (Ibn Mas‘ud) also said: "The Prophet ﷺ, in the first two Rak‘ahs, would be as if he were sitting on hot stones until he stood up." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawood, and Al-Nasa’i]
(1) His saying: "As if he were sitting on hot stones until he stood up" means that he would not remain in the first Tashahhud for long; rather, he would keep it brief and stand up quickly, as if he were sitting on a hot stone. According to our school of thought, he would suffice with the Tashahhud without the prayer (upon the Prophet ﷺ) and supplication, or according to the Shafi‘i school, he would suffice with Tashahhud and prayer upon the Prophet ﷺ without supplication. This is mentioned in "Al-Mirqat."
And in another narration by Ahmad from the Prophet ﷺ: "Then if he was in the middle of the prayer, he would rise as soon as he finished his Tashahhud."
اورامام احمد رحمہ اللہ سے جو روایت آئی ہے اس میں اس طرح مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ اولی میں التحیات پڑھتے ہوئے "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد
أن محمداً عبدُه ورسولُه" سے فارغ ہوتے، یا فوراً (بغیر دروداور دعا کے تیری رکعت کے
لئے) اٹھ جاتے تھے-
The Messenger of Allah ﷺ would recite the tashahhud in the first sitting, saying 'I bear witness that there is no deity except Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger,' and then immediately stand up for the third rak'ah without sending blessings or making supplication.