Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ السُّترَة

یہ باب سترہ کے بیان میں ہے

The Sutrah (Prayer Screen)
Volume 2 · Prayer

سترہ کی تعریف اوراس کے احكام

ف: ستره اس چیز کو کہتے ہیں جس کو نمازی بوقت نماز اپنے آگے کھڑا کر لیتا ہے تاکہ نمازی کے

ساٹنے گزرنے والے کو نمازی کے سجدہ کی جگہ کا امتیاز ہوجائے اور گذرنے والا کہنگا رہنہو، سترہ

طول میں ایک باٹھا اور موٹائی میں انگل کے برابر ہوتا کافی ہے، سترہ کے لئے کچری، دیوارا ورستون یا ان

کے علاوہ رومال یا پٹھی کی کچری کو نمازی اپنے سامنے اس طرح دوال دے کر ایک سرا قبل کی جانب ہو تو

دوسرانمازی کے سجدہ کی جگہ ہو، نیز نمازی کے سامنے کوئی آدمی قبلا رخ اس طرح بنیٹ کر اس کی پیٹ

نمازی کی طرف ہو تو یہی سترہ کے حکم میں داخل ہو گا، نمازی کو چاہئے کہ وہ سترہ سے قریب کھڑا رہا اور

اس کے او ر سترے کے درمیان تین باٹھ سے زیادہ فاصلہ نہو، سترہ کے لئے کوئی چیز نہیں سکتو نمازی

اپنے سامنے پھیری امٹی کا ذہیہ بنالے، یا طول میں ایک کیلر سجدے کی جگہ کے پاس سے ثرو ع کر کے قبل

کی جانب چیچ لے، سترہ جو پہیچی ہو نمازی کے بالکل سامنے نہو بلکہ نمازی کی سیدھی یا بیم آگل کے

مقابل رہے۔ (مرقات۔)

سترہ کھڑا کر نے کا بیان

Definition and Rules of the Sutrah

F: The Sutrah is that which a worshipper places in front of himself at the time of prayer so that it distinguishes the place of prostration from those who pass by, and the passerby will stop. The Sutrah should be as long as a span and as thick as a finger, which is sufficient. For the Sutrah, one can use a stick, wall, or pillar, or alternatively, a piece of cloth or a mat placed in front of the worshipper such that one end faces the Qiblah, thereby marking the place of prostration for the worshipper. If a person stands in front of the worshipper with his back towards the worshipper, this also fulfills the requirement of the Sutrah. It is recommended for the worshipper to stand close to the Sutrah and not to have more than three spans between him and the Sutrah. One cannot use anything as a Sutrah if the worshipper places a pebble in front of himself or extends a thread as long as a span from the place of prostration towards the Qiblah. The Sutrah should not be directly in front of the worshipper but rather in front of him or slightly to the right. (Mirqat.)

The Chapter on the Establishment of the Prayer

1164

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے

وقت (نماز عید کے لئے) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے برچھی

لے ہوئے چلتے اور برچھی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے عیدگاہ میں نصب کردیتے تھے تو حضور صلی

اللہ علیہ وسلم اس کی جانب ہو کر نمازا دا فرما تے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

سترہ کھڑا کر نے کے بیان پر دوسری حدیث

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said: The Prophet ﷺ, when he went to the prayer place for the Eid prayer, the Companions (RA) would walk ahead of him carrying branches and set them up in front of the Prophet ﷺ at the prayer place, and the Prophet ﷺ would perform the prayer facing them.
1165

ابو جحيفه رضي الله عنه روايت ہے، انهول نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہ معظم کی وادی نے میں چھڑے کے سرخ ذریعے میں دیکھا اور بال رضی اللہ علیہ و دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا مستعمل پانی لے ہوئے پین اور لگون کودیکھا کر اس مستعمل پانی کو تبرک لینے کے لئے جارہے ہیں لیس جس کسی کواس میں سے پکڑ پانی لگیا تو اس کو وہ برکت کے لئے اپنے چہرہ پر لرپابہاورد جس کو بھی ملا تو وہ اپنے ساتھ دوالے کے باتمکی تزیکو لے رپابہے چہر میں نے بال رضی اللہ علیہ کودیکھا کہ انہول نے برچھی لی اوراس کوز میں میں سترہ بنانے کے لئے نصب کردیا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دامن اٹھانے ہوئے سرخ دہاریدارجوڑہ زیبتن فرما ہے ہوئے ذریعے سے نکل اور برچھی کی جانب ہوکر، تم سب کودورکعت نماز (قصر) پڑھائی (اس لئے کرآپ سفر کی حالت میں تھے) اور میں نے لوگون کو اورجانورون کودیکھا کہ برچھی کے پرے سے گذر رہے تھے۔

ابو جحيفه رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہ معظم کی وادی نے میں چھڑے کے سرخ ذریعے میں دیکھا اور بال رضی اللہ علیہ و دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا مستعمل پانی لے ہوئے پین اور لگون کودیکھا کر اس مستعمل پانی کو تبرک لینے کے لئے جارہے ہیں لیس جس کسی کواس میں سے پکڑ پانی لگیا تو اس کو وہ برکت کے لئے اپنے چہرہ پر لرپابہاورد جس کو بھی ملا تو وہ اپنے ساتھ دوالے کے باتمکی تزیکو لے رپابہے چہر میں نے بال رضی اللہ علیہ کودیکھا کہ انہول نے برچھی لی اوراس کوز میں میں سترہ بنانے کے لئے نصب کردیا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دامن اٹھانے ہوئے سرخ دہاریدارجوڑہ زیبتن فرما ہے ہوئے ذریعے سے نکل اور برچھی کی جانب ہوکر، تم سب کودورکعت نماز (قصر) پڑھائی (اس لئے کرآپ سفر کی حالت میں تھے) اور میں نے لوگون کو اورجانورون کودیکھا کہ برچھی کے پرے سے گذر رہے تھے۔

(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفق طور پرکی ہے۔)

لوگون کی گذرگاہ نہ ہو تو بغیر سترہ کے کچھی نماز پڑھنا جائزہے فضل بنعباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم (عرب کے

Narrated by Abu Hujayfah, may Allah be pleased with him: I saw the Messenger of Allah, peace be upon him, in Makkah at Al-Abtah in a red leather tent. I saw Bilal take the water left from the ablution of the Messenger of Allah, peace be upon him, and the people rushed to it. Whoever got some of it would rub it on themselves, and whoever did not get any would take the moisture from the hands of their companions. Then I saw Bilal take a short spear and plant it. The Messenger of Allah, peace be upon him, came out wearing a red cloak, with his clothes rolled up, and led the people in two units of prayer facing the spear. I saw the people and animals passing in front of the spear. [Agreed upon]

(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفق طور پرکی ہے۔)

لوگون کی گذرگاہ نہ ہو تو بغیر سترہ کے کچھی نماز پڑھنا جائزہے فضل بنعباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم (عرب کے

1166

فضل بنعباس رضی اللہ عنهما سے روايت ہے، انهول نے کہا کہ تم (عرب کے وسطور کے مطا بق تقترح کی غرض سے) اپنے جنگل میں تھیرے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر اہعباس رضی اللہ عنه کہ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگل میں ایک حالت میں نماز ادافرمائي کرآپ کے ساتھ سترہ نے تھا اورہمارے کے اورگدہ آپ کے ساتھ کودے چہرہ تھے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پکھ خیال نفرمایا۔ (اس کی روايت ابوداود نے کی ہے اورنسائی نے کچھ ای طرح کی روايت کی ہے۔)

فضل بنعباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم (عرب کے وسطور کے مطا بق تقترح کی غرض سے) اپنے جنگل میں تھیرے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر اہعباس رضی اللہ عنہ کہ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگل میں ایک حالت میں نماز ادافرمائي کرآپ کے ساتھ سترہ نے تھا اورہمارے کے اورگدہ آپ کے ساتھ کودے چہرہ تھے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پکھ خیال نفرمایا۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اورنسائی نے کچھ ای طرح کی روایت کی ہے۔)

ف: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ نمازی کے لئے وقت نماز سترہ قائم کرنا واجب نہیں ہے۔

اگر عوام کی گذر رگاه ہوتی سترہ کا قائم کرنا مستحب ہے اور عوام کی گذر رگاه نہ ہونے کی صورت میں بھی سترہ

کا قائم کرنا اولی ہے۔ (عمدة الرعاية، اشعة اللمعات)

جب چیز کو چپے ہوا سکوسترہ بناسکتے ہیں

نافع رضی اللہ عنه، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ

علیہ وسلم اپنی سواری کے اوپر کوائے پن اور اپنے قبیلے کے درمیان عرضاً (آترا) بٹھاتے تھا اور (اس کو

سترہ بناتے) اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔) اور نخاری نے یہ عبارت زیادہ کی ہے،

نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ علیہ کا اگراونٹ (چلنے والی پین) چل جاتے تو بتلا یہ

کر حضور کیا کرتے تھے؟ تو ابن عمر رضی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جباوے کو لیتے اور اس کو سات رکوع کر کے

آ خری حصر کی چھلی کری کو (سترہ بناتے) اور اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرما تے تھے۔

نمازی کے ساتھ سترہ نہ ہونے کی صورت میں کتنے فاصلے سے گزر سکتے ہیں

طلہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے جباوے کے پچھلے حصے کی کلی کے برابر

کسی چیز کو (سترہ بناتے) کھڑا کر لے تو اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھے تو جو کچھ اس کے پرے

سے گذرے تو اس کی کوئی پروا نہ کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔)

اور ابوداوود کی ایک روایت میں ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے

سا تھ (اس کی سجدہ کی جگہ تھے) تین باٹھ پرے سے گذریں تو بیسرہ کا قائم مقام ہوگا۔ (یحکم مسجد

اور صحراء دونوں کوشامل ہے۔)

ف: واضح ہو کہ ابوداود کی اس حدیث میں "قذف حجر" کے الفاظ پر اور علماء نے قذف حجر کے مراد "رمی جمار" لیا ہے۔ جن کے موقع پر منی میں جو کنگریال ماری جائی ہیں اس کو "رمی جمار" کہا جاتا ہے، اور یہ کنگریال تین باتوں کے فاصلے ماری جائی ہیں اس لے حدیث کے الفاظ "قذف حجر" کا تزجم تین باتوں پر سے گذرنا کیا گیا ہے۔ (مرقّات، اشعۃ اللمعات)

سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے ساتھ سے گزرنے کی وعید

This hadith is evidence that it is not obligatory for the one praying to stand with the chest covered. If there is a public thoroughfare, it is recommended to stand with the chest covered, and even if there is no public thoroughfare, standing with the chest covered is preferable.

1167

نافع رضی اللہ عنه، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ

علیہ وسلم اپنی سواری کے اوپر کوائے پن اور اپنے قبیلے کے درمیان عرضاً (آترا) بٹھاتے تھا اور (اس کو

سترہ بناتے) اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔) اور نخاری نے یہ عبارت زیادہ کی ہے،

نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ علیہ کا اگراونٹ (چلنے والی پین) چل جاتے تو بتلا یہ

کر حضور کیا کرتے تھے؟ تو ابن عمر رضی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جباوے کو لیتے اور اس کو سات رکوع کر کے

آ خری حصر کی چھلی کری کو (سترہ بناتے) اور اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرما تے تھے۔

نمازی کے ساتھ سترہ نہ ہونے کی صورت میں کتنے فاصلے سے گزر سکتے ہیں

Narrated by Nafi', from Ibn Umar, may Allah be pleased with him: The Prophet, peace be upon him, would place his riding animal in front of him and pray facing it. [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]

Al-Bukhari added: I asked, "What if the riding animals became restless?" He replied, "He would take this saddle and adjust it, then pray facing its rear."

1168

طلہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے جباوے کے پچھلے حصے کی کلی کے برابر

کسی چیز کو (سترہ بناتے) کھڑا کر لے تو اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھے تو جو کچھ اس کے پرے

سے گذرے تو اس کی کوئی پروا نہ کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔)

Narrated by Talha ibn Ubaidullah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you places something like the back of a saddle in front of him, let him pray and not worry about whoever passes behind it." [Narrated by Muslim]

In a narration by Abu Dawud: "It suffices for him if they pass in front of him at a distance of a stone's throw." (1)

(1) The statement: "At a distance of a stone's throw" – In An-Nihayah: The correct view is that if one prays with full humility, keeping their gaze fixed on the place of prostration during the standing position and not looking at those passing by, it is not disliked. This is the preferred opinion of Fakhr al-Islam. Ibn al-Humam favored what is mentioned in An-Nihayah without distinguishing between the mosque and an open space, as stated in Al-Mirqat.

1169

اور ابوداوود کی ایک روایت میں ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے

سا تھ (اس کی سجدہ کی جگہ تھے) تین باٹھ پرے سے گذریں تو بیسرہ کا قائم مقام ہوگا۔ (یحکم مسجد

اور صحراء دونوں کوشامل ہے۔)

ف: واضح ہو کہ ابوداود کی اس حدیث میں "قذف حجر" کے الفاظ پر اور علماء نے قذف حجر کے مراد "رمی جمار" لیا ہے۔ جن کے موقع پر منی میں جو کنگریال ماری جائی ہیں اس کو "رمی جمار" کہا جاتا ہے، اور یہ کنگریال تین باتوں کے فاصلے ماری جائی ہیں اس لے حدیث کے الفاظ "قذف حجر" کا تزجم تین باتوں پر سے گذرنا کیا گیا ہے۔ (مرقّات، اشعۃ اللمعات)

سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے ساتھ سے گزرنے کی وعید

Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said"When one of you prays, let him place something in front of him. If he cannot find anything, let him set up a stick. If he does not have a stick, let him draw a line. Then, whatever passes in front of him will not harm him." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

Ibn Abidin said in Radd al-Muhtar: "Either placing something or drawing a line is sufficient, meaning the Sunnah is achieved through it. Placing something is recommended, as Al-Quduri narrated from Abu Yusuf. It is also said that it should be placed lengthwise, not widthwise, to resemble planting. Drawing a line is also recommended, as per the second narration from Muhammad, based on the hadith of Abu Dawud: 'If he does not have a stick, let him draw a line.' Although this hadith is weak, it is permissible to act upon it in matters of virtue. This is why Ibn al-Humam said: 'The Sunnah is more worthy of being followed, as it generally serves the purpose of focusing the mind by tying the imagination to it, so it does not wander.' This is mentioned in Al-Bahr and Sharh al-Munyah."

It is said in Al-Hilyah: "The weakening of this hadith may be countered by the fact that Ahmad, Ibn Hibban, and others authenticated it."

1170

ابوہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر اگر نمازی کے ساتھ سے گزرنے والا جائتا کر اس کو (سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے ساتھ سے گزرنے میں) کس قدر گناہ ہوتا ہے تو وہ (جا کے ساتھ سے گزرنے کے چالیس دن یاماہ یا سال تک (راوی کو تین مدت میں شک ہے) رکا ہوا کہڑے رہنا پسند کرتا) (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر ہے۔)

سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے ساتھ سے گزرنے کی وعید پر دوسری حدیث

Narrated by Abu Juhaifah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "If the one who passes in front of a praying person knew what sin he incurs, it would be better for him to stand still for forty (units of time) than to pass in front of him." Abu an-Nadr said, "I do not know whether he said forty days, months, or years." [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]

1171

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر اگر تم میں سے کوئی شخص جائتا کر اپنے بھائی کے ساتھ سے جب کہ وہ نمازی حالت میں ہو عرضاً (آترا) گزرنے میں اس کو کتنا گناہ ہوتا ہے تو اس کو سوال کے کطرار ہنا (نمازی کے ساتھ) چلنے سے بہتر معلوم ہوتا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ میں ہے)

سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے ساتھ سے گزرنے کی وعید پر تیسری حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If any one of you goes to his brother while he is in prayer, and if he were to ask him to wait until he finishes his prayer, it would be better than to walk past him while he is in prayer.' This is reported by Ibn Majah. In the case where there is no necessity, the warning against passing in front of someone who is praying is mentioned in the third hadith.

1172

کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نمازی کے ساتھ سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر نمازی کے ساتھ سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو گزرنے والے کو اپنا زمین و حساویا جانا اس گزرنے سے بہتر معلوم ہوتا

Narrated by Ka'b al-Ahbar: "If the one who passes in front of a praying person knew what sin he incurs, it would be better for him to be swallowed by the earth than to pass in front of him." In another narration: "It would be easier for him." [Narrated by Malik]

1173

آسان ہوتا۔ (امام ماکے)

ف: ثرچ منیہ میں ذکر ہے کہ جب نمازی کے ساتھ سے گزر نے والانمازی کے سبھ کی جگہ

یا نمازی اوراس کے ستر ہ کے درمیان سے گزر ناچاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا " سُبْحَانَ

اللّٰه " کہ کر دو کے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ ردو کے کیون کہ یہ عمل کثیرہ اور قاضی عیاض

نے نقل کیاہے کہ اتم کا اس پر اتفاق ہے کہ گذر نے والے کو روک کے لے نمازی عمل کثیرہ کا مرتب نہ ہو

(پیرقات میں ذکور ہے۔)

نمازی اپنے ساتھ سے گزر نے والے کو بغیر عمل کثیرہ کے روکے

Narrated by Abu Sa'id, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Nothing invalidates the prayer. Repel (distractions) as much as you can, (1) for it is only Satan." [Narrated by Abu Dawud, and a similar narration is [Narrated by At-Tabarani]

(1) The statement: "Repel as much as you can" – In Sharh al-Munyah: "One should repel the passerby if they intend to pass in front of the place of prostration or between the worshipper and the Sutrah by gesturing or saying 'Subhanallah,' but not both together." Al-Qadi 'Iyad has conveyed the consensus that it is not permissible to engage in excessive actions to repel them, as mentioned in Al-Mirqat.

1174

ابوسعید خدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ (نماز کے ساتھ سے گزر نے والی) کوئی چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی جہاں تک تم سے

ہو سکے گزر نے والے کو روکو کیونکہ وہ شیطان ہے (کہ تمہارے ساتھ سے گزر کر تمہارے خشوع میں

خلل ذات ہے۔)

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

ف: ثرچ منیہ میں ذکور ہے کہ جب نمازی کے ساتھ سے گزر نے والانمازی کے سبہ کی جگہ

یا نماز اوراس کے ستر ہ کے درمیان سے گزر ناچاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا سجان اللہ کہہ

کر دو کے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ ردو کے کیونکہ یہ عمل کثیرہ، اور قاضی عیاض نے نقل کیا

ہے کہ اتم کا اس پر اتفاق ہے کہ گزر نے والے کو روک کے لے نمازی عمل کثیرہ کا مرتب نہ ہو

(پیرقات میں ذکور ہے۔)

نمازی کے ساتھ سے کوئی گزر نے تو اس سے نمازی کی نماز میں کوئی خلل نہیں آتا

Narrated by Abu Sa'id, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Nothing invalidates the prayer. Repel (distractions) as much as you can, (1) for it is only Satan." [Narrated by Abu Dawud, and a similar narration is [Narrated by At-Tabarani]

(1) The statement: "Repel as much as you can" – In Sharh al-Munyah: "One should repel the passerby if they intend to pass in front of the place of prostration or between the worshipper and the Sutrah by gesturing or saying 'Subhanallah,' but not both together." Al-Qadi 'Iyad has conveyed the consensus that it is not permissible to engage in excessive actions to repel them, as mentioned in Al-Mirqat.

1175

سعید بن الحسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عثمان

رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ (نمازی کے ساتھ سے گزر نے والی کوئی چیز مسلمان کی نماز کو فاسد نہیں کرتی اور

جہاں تک تم سے ہو سکے (گزر نے والے کو) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی اور ترمذی نے کی ہے۔)

ف : امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطاء میں کہا ہے کہ نمازی کے سامنے گذرنے والے کے لئے کر وہ حریم ہے۔ اگر کوئی نمازی کے سامنے گذرنا چاہے تو نمازی جہاں تک ہو سکے اس کورو کے لئیں اس آدی سے نہ کرے۔

اگر نمازی گذرنے والے سے لڑ پڑے تو نمازی کا لڑنا گناہ میں گذرنے والے کے گناہ سے زیادہ سخت ہوگا اس لئے کہ نمازی کے سامنے گزرنا گذرنے والے کے لئے کروہے فاسد نمازی میں، اس کے برخلاف نمازی کا اس آدی سے لڑنا عمل کچھ ہو نہ کی وجہ سے خود اس کی نماز کے لئے مفسد ہوگا، اب رہابی کے حدیث ثریف میں نمازی کے سامنے گذرنے والے نمازی کو "فلیقاتلہ"، فرما کر (لڑنے کا حکم ہواہے اس سے مراد یہ کہ روکنے میں مبالغ کیا جائے نہ کہ ایسی حقیقت کرائی اختیاری جائے کہ سے اس کی نماز فاسد ہو جائے عامہ العلماء کہیں قول ہے (التعلیق الممجد).)

نمازی کے سامنے گذرنا، کتاپ اعورت گذرے تو اس سے نمازی کی نماز میں کوئی خلل نہ آئے گا

Narrated by Sa'id ibn al-Musayyab: Ali and Uthman, may Allah be pleased with them, said, "Nothing invalidates a Muslim's prayer. Repel (distractions) from it as much as you can." (2) [Narrated by At-Tahawi and Al-Bayhaqi]

(2) The statement: "Repel from it as much as you can" – Muhammad (Imam Malik) said in Al-Muwatta: "It is disliked for a person to pass in front of a praying person. If someone intends to pass in front of them, they should repel them as much as possible without fighting. If they fight, the disturbance caused by fighting during the prayer is worse than the passerby crossing in front of them. We do not know of anyone who reported fighting except what was narrated from Abu Sa'id al-Khudri, and this is not the general practice. Rather, it is as I have described to you." End quote.

1176

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی نماز کو (اس کے سامنے گذرنے والی) کوئی چیز خواہ وہ کتاہو یا گداہو یاعورت ہو، فاسد نہیں کرتی اور ان کے سواد وسر جانور جس نمازی کے سامنے گذر جائے تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور جہاں تک تم سے ہو سکے (سامنے گذرنے والے کو لیل قلیل سے) روکو (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)

ف : ہمارے علماء نے کہا ہے کہ یہ ذکورہ بالاحديثین اور آئندہ آئے والی حدثین اس حدیث کی نازخ ہیں جس میں یہ ذکورہ کہ نمازی کے سامنے گوترت، کتاپ گداو غیرہ گذر جائے تو نماز فاسد ہوجائے ہے۔ اس کو ابن الملک نے ذکر کیا ہے، اور حلیہ کی تحقیق بھی بھی ہے کہ ان کی ذکورہ حدیثوں سے وہ تمام حدثین منسوخ ہیں جس میں گوترت، کتا، گداو غیرہ گذر نے سے نماز فاسد ہونے کا ذکر ہے۔ اور امام مرسی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ وہ حدیث جسی منسوخ ہے جس میں "فلیقاتلہ"، فرما کر نمازی کو اس کے سامنے گذرنے والے سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیز امام موصوف نے پیغمبر کہا سے کہ "فلیقاتلہ"، والی حدیث میں نمازی کے سامنے گذرنے والے سے لڑنے کا حکم ذکورہ ہے

وہ اسلام کے ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے جب کہ حالے نماز میں عمل کثرت کی ممانعت نہیں

نمازی کے ساتھ عورت کے درپین سے اس کی نماز میں کوئی خلل نہیں آے تو گا

Narrated by Ali, may Allah be pleased with him: "A dog, a donkey, a woman, or any other animal does not invalidate a Muslim's prayer. Repel (distractions) as much as you can." [Narrated by At-Tahawi]

Our scholars said: The hadith about prayer being invalidated by the passing of a woman or others is abrogated by these hadiths and the upcoming narrations. Ibn al-Malik mentioned this, as clarified in Al-Hilyah. Imam As-Sarakhsi said: "The command to fight in the hadith, 'Let him fight, for it is Satan,' is abrogated. It is also interpreted as referring to the early period when actions during prayer were permissible."

1177

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنها سے روايت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ بی صلی اللہ

علیہ وسلم رات کو نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح عرض میں سوتی

تھی۔ (اس کی روايت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ بی صلی اللہ

علیہ وسلم رات کو نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح عرض میں سوتی

تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے ساتھ عورت ہونے سے نماز فاسد نہیں

ہوتی۔ (اشعۃ اللمعات)

نمازی کے ساتھ عورت کے درپین سے اس کی نماز میں خلل نہ آئے پر دوسرا حدیث

This hadith indicates that a woman being with the one praying does not invalidate the prayer. (Ash'at al-Lama'at) If a woman appears in front of the one praying, it should not cause any disruption to his prayer, but there is another hadith...

1178

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنها سے روايت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوتی ہوتی اور میرے دونوں پاؤں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے

درمیان ہوتے۔ آخضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ کرنا چاہتے تو میرے پیر کو پین باتی ہے د باکر اشارہ

فرماتے تو میں اپنے دونوں پاؤں کو لٹی اور جب آپ کہرے ہوتے تو پھر میں پاؤں دراز

کر لیتی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنها فرماتی ہیں اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے۔

(اس کی روايت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوتی ہوتی اور میرے دونوں پاؤں آخضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے

درمیان ہوتے۔ آخضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ کرنا چاہتے تو میرے پیر کو پین باتی ہے د باکر اشارہ

فرماتے تو میں اپنے دونوں پاؤں کو لٹی اور جب آپ کہرے ہوتے تو پھر میں پاؤں دراز

کر لیتی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)

نمازی کے ساتھ سے گلدہا گذرے تو اس کی نماز میں خلل نہیں آتا

Narrated by Al-Fadl ibn Abbas, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, came to us while we were in a desert area, and Abbas was with him. He prayed in an open space without a Sutrah in front of him, and our donkey and a dog were playing in front of him, but he did not pay attention to it. [Narrated by Abu Dawud, and a similar narration is found in Al-Nasa’i]

1179

ابن عباس رضی اللہ عنهما سے روايت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بالغ ہو نے کے

قرب تھا اس زمانے کا ذکر ہے کہ ایک روز میں گلدہ پرسوار ہوکر آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم بغير دپوارا ورستہ کے منتی میں نماز پڑھارتے تھے پس میں صف کے پچھے حصن کے ساتھ سے گذر

کرسواری سے اترگیا اور گلدہ کو (گھانس) چڑنے چھوڑ کر نماز میں شریک ہوگیا اور میں شخص سے نہیں

میرے اس فعل کو برانے بھجا_ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متقدم طور پرکی ہے_)

ف: اس حدیث کے پیش نظر ابن الملک نے کہا ہے کہ نمازی کے سامنے گردہاگزر نے

سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے،

مقتدی کو علیحدہ سترہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے

صف کے سامنے گذرنے پر کی نے اعتراض نہیں کیا_ (مرقات_)

نمازی کے سامنے لڑکی گزر جانے تو اس کی نماز میں کوئی خلل نہیں آتا ہے گا

Narrated by Ibn Abbas, may Allah be pleased with him: "I came riding a donkey, and I had just reached the age of puberty. The Messenger of Allah, peace be upon him, was leading the people in prayer at Mina without a wall in front of him. I passed in front of part of the row, dismounted, let the donkey graze, and joined the row. No one objected to this." (1) [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]

(1) The statement: "No one objected to this" – Ibn al-Malik said: "The purpose is to show that the passing of a donkey in front of someone praying does not invalidate the prayer," as mentioned in Al-Mirqat.

1180

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

میرے ہجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عبد اللہ بن ابی سلمہ

گزر رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما کر (گزرنے سے روکا)، تو وہ رکے گئے پھر

نینب بنت ام سلمہ گزر رہی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرما کر (ان کو جی

روکا)، لیکن وہ نہ رکی، اور آپ کے سامنے چل گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ

ہوئے تو فرمایا کہ عورتیں (مردوں پر) غالب ہو کر رہتی ہیں_ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے_)

سترہ اور سترہ کے قائم مقام چیزوں کا بیان

Narrated by Umm Salamah, may Allah be pleased with her: "The Prophet, peace be upon him, was praying in Umm Salamah's room when Abdullah or Umar ibn Abi Salamah passed in front of him. He gestured with his hand, and the child turned back. Then Zaynab bint Umm Salamah passed, and he gestured similarly, but she continued. After finishing the prayer, the Messenger of Allah, peace be upon him, said, 'Women are more determined.'" [Narrated by Ibn Majah]

1181

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرما کر جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنا چاہے تو وہ (دیوار، درخت یا کہی کسی چیز

کے آگے میں) نماز پڑھے اور اگر کوئی ایسی چیز (آئے کے لیے) نہ ملتی تو اپنی باٹھی کو ٹی نصب کرے

اور اگر کوئی کہی اس کے پاس نہ ہوتی پھر ایک کیپری کسی چیز لے (یہ سترہ کا کام دیتی ہے) اس کے

بعد اس کے سامنے گزرنے والا (اس کی نماز میں) خلل نہ ڈالے گا اور گذرنے والے کو بھی گناہ

نہ ہوگا_ (اس کی روایت ابوداووداورابن ماجہ نے کی ہے_)

ف: ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ نے روایت میں کہا ہے کہ سترہ کے لیے کچری یا سترہ کے قائم

مقام کسی چیز کے نہوں نے کی صورت میں نمازی اپنے سامنے سترہ کے مقدار کی کوئی چیز میں پر رکھ لے

اور پیچھے نہ ہو تو زمین پر خط کش لے تو پستر لے کے قائم مقام میں اوراس سے سنت پر عمل ہوجاتا

ہے، چنانچہ قدوری نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ زمین پر کسی چیز کو ستر لے کے

رکھنا سنت ہے واقع ہو کہ جس چیز کو بطور سترہ زمین پر کہا جائے اس کو طول میں رکے عرض میں آڑانہ

رکے تاکہ اس کا طول میں رکھنا نصب کرنے کے اس طرح قائم مقام ہوجائے جس طرح کہرے

ہوئے سترہ کا سایہ طول میں گرتا ہے اگر سترہ کٹرا کر نے کے لے کہری یا کوئی اور چیز نہ ہو کہ جس کو سترہ

کی جائے رکھا جائے تو ابوداودی نذور الصدر حدیث کی وجہ سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے دوسری روایت

یا لی ہے کہ نمازی کا پی سامنے طول میں خط کش لینا جس میں سنون ہے۔ (مرقات، عمدۃ الرعايت)

Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said"When one of you prays, let him place something in front of him. If he cannot find anything, let him set up a stick. If he does not have a stick, let him draw a line. Then, whatever passes in front of him will not harm him." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

Ibn Abidin said in Radd al-Muhtar: "Either placing something or drawing a line is sufficient, meaning the Sunnah is achieved through it. Placing something is recommended, as Al-Quduri narrated from Abu Yusuf. It is also said that it should be placed lengthwise, not widthwise, to resemble planting. Drawing a line is also recommended, as per the second narration from Muhammad, based on the hadith of Abu Dawud: 'If he does not have a stick, let him draw a line.' Although this hadith is weak, it is permissible to act upon it in matters of virtue. This is why Ibn al-Humam said: 'The Sunnah is more worthy of being followed, as it generally serves the purpose of focusing the mind by tying the imagination to it, so it does not wander.' This is mentioned in Al-Bahr and Sharh al-Munyah."

It is said in Al-Hilyah: "The weakening of this hadith may be countered by the fact that Ahmad, Ibn Hibban, and others authenticated it."

نمازی کو سترہ کے قریب رکھ کی تا کیہ
1182

سهل بن الی حمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جب تم میں کوئی شخص (کسی چیز کو سترہ بنانے) نماز پڑھتا ہے تو اس

کو چاہے کہ وہ سترہ سے اتنا قریب ہو کہ (سترہ کے نزدیک سے دھکرے سے) تاکہ شیطان (سترہ سے دور

رہنے کی صورت میں کسی کے گذر نے کے وسوسہ کی وجہ سے خشوع میں خلل ظاہر کرے) اس کی نماز خراب

نہ کر سکے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

Narrated by Sahl ibn Abi Hathmah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you prays facing a Sutrah (screen), let him stand close to it, so that Satan does not interrupt his prayer." [Narrated by Abu Dawud]

سترہ کہاں رکھنا چاہیے
1183

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں کر آپ پجب کہیں کسی کلری یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے تو اس

کو اپنے دامیاں کیسے ابرو کے مقابلے رکھ کر پڑھتے اوراس کو اپنی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ کے

مقابل نہیں رکھتے تھے (تاکہ بت پستی سے مشابہت نہ ہو)۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

It is narrated from Miqdad bin Aswad (RA) that he said:

I saw the Messenger of Allah ﷺ praying here, and he would place his forehead on a clod of earth or a pillar or a tree, but he would not place it between his two eyes (so as not to resemble prostration to idols). (This is narrated by Abu Dawud.)