Nūr al-Maṣābīḥ
باب الستر

Covering (As-Satr)
Volume 2 · Prayer

(پیاپ ستراورت (ستر و حاگنگ کے بیان میں)

وقول اللہ عزّ و جلّ: "خُذُوا زِینَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ" _اللہ تعالی کا رشاد ہے

(سورۃ اعراف، پ:8،ع:3،آیت نمبر:31،میں) (ا لے بن آدم) بر نماز کے وقت تم (لباس

و غیرہ سے) خود کو آراستہ کر لیا کرو_

وقولہ: "وَ لا يُبْدِينَ زِینَتَهُنَّ إِلاَّ ما ظَهرَ مِنْها" _اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ نور،

پ:18،ع:4،آیت نمبر:31،میں) اور (عورتوں کو چاہے کر) وہا پنی زینت کے مقامات کو (کسی

پر) ظاہر نہ ہونے دین گر جواس میں سے (چارو ناچار) کھلا رہتا ہے_

وقولہ: یَا أَيُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَیْهِنَّ

مِنْ جَلَابِیبهِنَّ . ذلِکَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ احزاب، پ:22،ع:8،آیت نمبر:59،میں) اے نبی

(صلی اللہ علیہ وسلم)! اپنی بیبیوں سے اورا پنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ

وتبہ کر وہا پنی چادر ول سے گھومنے کو (اپنی چہرے پرتے لے کر ٹھوڑی تک) والیا کریا س

س جلدی پی پچان ہو جا یا کرے گی (کہ پنیک بخت یہ اور) کوئی چھیڑے کا نہیں_

نماز میں تہ بند کے سوابدن کے بالائی حصہ کو ظحاگنگ کی تحقیق

In the explanation of adornment and covering:

And Allah, the Exalted and Glorious, says: "Take your adornment at every mosque" [Surah Al-A'raf, Chapter 7, Verse 31], this is the guidance of Allah Almighty: O children of Adam, when it is time for prayer, adorn yourselves with clothing and other means.

And He says: "And let them not expose their adornment except that which is apparent" [Surah An-Nur, Chapter 24, Verse 31], this is the guidance of Allah Almighty: Women should not reveal their places of adornment except what is necessarily visible.

And He says: "O Prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be harmed" [Surah Al-Ahzab, Chapter 33, Verse 59], this is the guidance of Allah Almighty: O Prophet (Peace be upon him)! Tell your wives, your daughters, and the women of the believers to wrap their outer garments around themselves, so that they may be recognized and not be harmed.

The reality of covering the upper part of the body during prayer is as follows:

1133

- ابوببریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایک کپڑے (یعنی صرف تہ بند میں اس طرح) نماز نہ

پڑھے کہ اس کے جسم کا بالائی حصہ یعنی پیٹ اور پیٹ کا اور دونوں کندہ اس کپڑے (یعنی تہ بند کے باقی)

حضرت اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

(اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کوئی شخص صرف تنہائی میں نماز پڑھ کر اس

کے جسم کا بالائی حصہ اس کے تنہائی بندا کے حصہ اس کی اور کپڑے سے ذہکاہوائے ہو

واضح رہے کر جو شخص تمہند کے علاوہ اپنے جسم کے بالائی حصے کو جاودر یا کسی اور کپڑے سے

ؤحا کنے پر قادر نہ ہوتا یہ شخص کی نماز صرف تنہائی میں بغیر کسی کراہت کے جائزہو جائے گی البتہ

ایسا شخص جو جاودر کے اوڑھنے پر قدرت کے باوجود جسم کے بالائی حصہ پر پچھواونٹے بغیر صرف تنہائی کے

ساطے نماز پڑھ لے تو وہ کروہتنزہی ہے نذکتر یہی، امام ماکے، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور جمہور علماء اللہ

کا بھی مسلک ہے۔ (مرقّات)-

نماز میں تنہائی بندا کے سوابدلن کے بالائی حصے کو ظہا کرنے کے بیان پردوسری حدیث

It is narrated from Abu Bakr (RA) that he said, the Messenger of Allah ﷺ instructed that none of you should pray while wearing only one piece of clothing (i.e., only a waist wrapper) such that his upper body, including his stomach and chest, and both of his shoulders, remain uncovered by that piece of clothing (i.e., the waist wrapper).

This hadith indicates that if someone prays alone with their upper body, including the part covered by the waist wrapper, exposed, it is clear that if a person is unable to cover their upper body with a loincloth or any other garment besides the waist wrapper, then their prayer alone is valid without any sin. However, if a person, despite being able to cover their upper body with a loincloth or another garment, prays with their upper body exposed, then this is sinful. This is the view of Imam Malik, Imam Abu Hanifah, Imam Shafi'i, and the majority of scholars. (Mirqat)

1134

صلوا مع النبي صلى الله عليه وسلم عاقدى أزرهم على عواتقهم

عمر بن ابي سلمة رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں اشتمال کرتے ہوئے نماز پڑھتے

دیکھا کہ جس کے دونوں کنارے دونوں کنڈول پراس طرح تھے (کہ باپائل کنارہ سیدے ہوئے موٹے ہو

پرادوسیدے کنارے باقی موٹے پرتھا)-

(اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)-

ف: اشتمال سے مراد یہ ہے کہ تنہائی بندا کا باپائل کنارہ باقی ہاتھ کے پیچے سے نکال کر سیدے

موٹے پر ڈالے اور تنہائی بندا کا سیدے کنارہ سیدے ہاتھ کے پیچے سے نکال کر باقی موٹے پر ڈالے،

اگر کنارے چھوٹے ہوئے تو دونوں کناروں کو گردان پر باندھے یا کناروں کو سینہ پر باندھے، اور اگر

کنارے دراز ہوئے تو ان کو پیچے لگتا ہوا چھوز دے تو یہی اس کو کہتے ہیں، جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ

علیہ کی اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے: "وقال أبو حازم عن سهيل بن سعيد رضي الله عنه"

ابو حازم نے کہا کہ سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں نے جس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کر ان کے تہ بند کے (دونول کنارے) ان کے گردان پربندہ ہوئے تھے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، نیلاوطار) 12 نماز میں تہ بند کے سوابدن کے بالائی حصے کو ظہاگنے کے بیان پرتیری حدیث

It is narrated from Umar ibn Abi Salamah (may Allah be pleased with him) that he said: "I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) praying in a single garment wrapped around him in the house of Umm Salamah, with its ends placed on his shoulders." [Agreed upon]

1135

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روايت، انہوں نے کہا کہ میں نے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حصیر پر نماز پڑھ رہے تھے۔ اور ایک شخص کر رہے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں توقین اشتمال کے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے لکھی ہے۔)

نماز میں تہ بند کے سوابدن کے بالائی حصے کو ظہاگنے کے بیان پر چوتھی حدیث

It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that he said: "I entered upon the Prophet (peace be upon him) and saw him praying on a mat, prostrating on it. He was praying in a single garment wrapped around him." [Narrated by Muslim]

1136

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنایا کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کپڑے کے دونول کناروں میں اشتمال کرے۔ (اس کی روایت نخاری نے لکھی ہے۔)

سعید بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک رات میں اپنے کسی کام کیلئے خدمت اقدام میں حاضر ہوا تو میں آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کونماز پڑھتے ہوئے پایا اور اس وقت مجھے پراکیسی کپڑے تھا میں اس کو اپنے بدان پراشتمال اسماء کے طور پر لپیٹ لیا تھا۔ اشتمال صفائے کی تعریف ذیل کے فائدہ میں درج ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نماز پڑھتارہا، جب رسول اللہ صلی

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Whoever prays in a single garment should cross its ends.'" [Narrated by Al-Bukhari]

اشتمال صفائے کی ممانعت
1137

حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) اس وقت رات

میں آئے تو کیا سب سے تو میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی حاجت ظاہر کی، جب میں حضور صلی

اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی حاجت کے اظہار کے فراغت پائا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر

(رضی اللہ عنہ) پیغی کوئی اشتمال ہے جس میں تم کو کیہر باہون، میں نے عرض کیا ایے کچرا

ہو نے میں نے اس طرح اشتمال کیا ہے، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کچرا بھلا ہوتا تو

اشتمال کرنا چاہئے لیکن کچرا کبابا کنارہ با میں باہو کے نیچے سے نکال کر سیدے موٹے پراور

سیدہا کنارہ سیدے باہو کے نیچے سے نکال کر با میں موٹے پڑوال دی اوراگر کچرا چھوٹا ہوتا تو

بندا ندہ لیجا یے _ (اس کی روایت بخاری نہیں ہے )-

It is narrated from Jabir (RA) that

when I came at night, I expressed my need to the Messenger of Allah ﷺ. When I had the opportunity to express my need before the Messenger of Allah ﷺ, he said, 'Jabir (RA), do you have any gathering where you can benefit from it?' I replied, 'No, I have gathered some refuse.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'If it were good refuse, you should have used it. But since it is refuse, take it out from under your right arm and place it on the right side. Take out the thick part from under your right arm and place it on the right side. If the refuse is small, take it out with your hand.' (This narration is not found in Bukhari.)

1138

اورمسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اگر کچرا کشاہہ ہوتا اس کے دونوں کنارول

میں اشتمال کرو اوراگر کچرا چھوٹا ہے تو تہ بنڈی طرح اس کوابا میں کمر پرابندہ لو_

ف : اشتمال صماعے مراد پیہ کہ نماز پڑھنے والا ایک کپڑے کوابا پینے پورے جسم پراس طرح

پیٹ لے کہ کپڑا کسی طرف سے نہ انہو سکے اوردونوں باہو پیراس کپڑے میں بے شکاف چھوس پچھری

طرح کے ہوئے جیساورباہو کواس کپڑے کے نچلے حصے سے ای باہر کیا جاسکتا ہو،اورجب باہو کو

کسی ضرورت سے باہر نکالا جاے تو پس تری کا اندیشہ رہتا ہو، اس وجہے آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے

اشتمال کے اس طریقے سے منع فرمایا ہے -

(عمدة القاري،جمع الجار-)12

جا برز اشتمال کا بیان

It is narrated from Sa'id ibn Al-Harith that he said: "We asked Jabir ibn Abdullah about praying in a single garment. He said: 'I went out with the Prophet (peace be upon him) on one of his journeys, and one night I went to attend to some matter. I found him praying, and I was wearing a single garment, so I wrapped myself in it and prayed beside him. When he finished, he said: 'What is this wrapping, O Jabir?' I told him about my need. When I finished, he said: 'If the garment is wide, then wrap yourself in it, and if it is narrow, then tie it around your waist.'" [Narrated by Al-Bukhari] In another narration by Muslim: "If it is wide, then cross its ends, and if it is narrow, then tie it tightly around your waist."

1139

محمد بن الحمد رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ

نہ تم کصرف ایک تہ بنڈی نماز پڑھائی جس کے دونوں کنارول کوانہبول نے اپنی گردی پرباندھا تھا

اوران کے کپڑے تپالی پر رکے ہوئے تھے، جابر رضی اللہ عنہ کے کسی نے (بطوراعتراض) کہا کہ آپ

صرف ایک تو بنڈ میں نماز پڑھارہے ہیں ( حالاگر آپ کے کپڑے تہائی پرموجود ہیں ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کر میں نے اس لے اس طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھائی تاکر تم جسیا احمق مجھے دیکر ( یہ مجھ سے کر اس طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھانا کچھ جائزہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، تم میں کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ جس کے دو کپڑے ہول - ( اس کی روایت بخاری کی ہے - )

اغر دو کپڑے موجود ہول تو دو کپڑے میں نماز پڑھنا فضل ہے

It is narrated from Muhammad ibn Al-Munkadir that he said: "Jabir prayed in a loincloth that he had tied from the back, and his clothes were placed on a hanger. Someone said to him: 'You are praying in a single loincloth?' He replied: 'I only did that so that someone like you, who is foolish, would see me. Who among us had two garments during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him)?'" [Narrated by Al-Bukhari]

1140

أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے اور اس کو پڑھنا سنتا ہے، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے اوراس کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا پیرس کرا بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کر بی بات ای وقت تھی کہ جب کپڑے دول کی قلت تھی لیکن جب کر اللہ تعالیٰ نے وسعت دے رکھی ہے تو دو کپڑے میں نماز پڑھنا فضل ہے، ( اس لے کر ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے ستر ہتل جانے کا اندریثم رہتا ہے - ) ( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے - )

بغیرہ بنڈ کے لا نبا کرتے میں نماز پڑہنے کی تحقیق

It is narrated from Ubay ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) that he said: "Praying in a single garment is a Sunnah. We used to do it with the Messenger of Allah (peace be upon him), and it was not considered a fault. Then Ibn Mas'ud said: 'That was when clothes were scarce, but when Allah provides abundance, praying in two garments is more virtuous.'" [Narrated by Ahmad]

1141

سلعم بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شکار کرتا رہتا ہول ( اور شکار کے پیچھے دور نے میں سہولت کی غرض سے صرف کرتا پینتا ہول تو بنڈ میں باندھتا ) تو کیا میں ایسی ایک کرتے میں نماز پڑہ سکتا ہول؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر بالکرتے کی گندی لگاو، اگر چہ کا نے، یا کی ہو ( تاکر تم کوستر نظر نے آئے ) - ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے ) - ف : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کر ایک کرتے میں بلا تو بنڈ نماز پڑہنا جائزہے بشرطکہ

گرپبان میں گندی لگادی جائے۔

واضح ہو کہ وقت نمازی پرستر عورت فرض ہے،ستر عورت کی وضاحتیں یہیں:(1) ایک ستر کو

دوسرول کی نظر سے پچانا(2) دوسروں ستروں پر نظر سے پچانا-

ستر کو دوسرول کی نظر سے پچانے کی بھی وضاحتیں یہیں:(1) ایک ستر کو اطراف سے پچانا،

(2) دوسروں ستروں پچے سے پچانا-

(1) ستر کو اطراف سے پچانے کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت پر نماز میں اپنے حیسم کے جس

قدر حصے کو پرے سے چھپانا فرض ہے اس پورے حصے کو پرے سے اس طرح چھپانا واجب ہے کہ

چاروں طرف سے ستر کا کوئی حصہ دکھائی نہ دیتا ہو-

(2) ستر پچے سے چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرد تہ بند باندھے یا عورت ساری پینٹوں

بند یا ساری کا نچلا حصہ زمین کی طرف والاحصر کھلا رہتا ہے اور تہ بند یا ساری کے اس نچلے حصے کے کہل

رہنے سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا-

اطراف ستر کو دوسرول کی نظر سے پچانے کی بھی وضاحتیں یہیں(1) ایک حقیقی،(2) دوسروں

حکمی ستر حقیقی یہ ہے کہ پرے سے ستر پوش کی جائے اور ستر حکمی یہ ہے کہ بخیر کسی پرے کے اندر ہیروں

میں ایک خالی جگہ یا صحراء میں جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑتی ہو نماز ادا کی جائے تو ستر حکمی کی ان دونوں صورتوں

میں اگر چہ کہ نمازی کا ستر دوسرول کی نگاہ سے محفوظ ہے مگر پی ستر حقیقی سے اس لے پی ستر حکمی مفسد نماز ہے

جب تک ستر کو پرے سے نہ چھپا یا جائے ستر حقیقی نہیں ہوتا،اس لے نمازی پر فرض ہے کہ اپنے ستر کو

اندر ہیروں میں ہو یا خالی مکان میں ہو پرے سے چھپا لے-

اب رپ نماز میں ستروں پر نظر سے پچا تو یا اس رہ کر نماز کی حالت میں اگر خود نمازی کی نگاہ

ا پی ستر پر پڑ جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ کروہ ہوجائے گی - چنانچہ منہی میں امام ابوحذیفہ اور

امام ابویوسف رحمہ اللہ تے میں روایت ہے-

اس حدیث میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلم بن الاکوع رضی اللہ عنہ کو ان کی نظر سے ستر کو

پچانے کی خاطر جو حکم دیا ہے کہ رتے کے گرپبان میں گندی لگادی جائے تو اس سے مقصد اسی کراہت

سے پچانے کے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز نمازی کی نگاہ اس کے ستر پر پڑ جائے تو اس سے

نماز میں سدل کرنا اور ظہاۃا با ندھنا کروہے

نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ کروہ ہوجاتی ہے۔ ( درختار، رواختار، تشرحمذیہ )

It is narrated from Salama bin Al-Akwa' (RA) that he said:

I asked, 'O Messenger of Allah ﷺ, I keep hunting and I drink water from the skin [used for carrying water] for convenience while on the hunt, so can I pray in such a state?' The Prophet ﷺ replied, 'There is no harm in it, unless you see something unclean on it, whether it is this or that [until it comes to your notice].'

From this hadith, it is understood that it is permissible to perform the obligatory prayer while wearing a single garment, provided that the garment is tied with a belt. It is clear that during the time of prayer, it is obligatory for a woman to cover herself. The explanations of covering oneself are as follows: (1) covering oneself from the sight of others, (2) covering oneself from the sight of others by means of a veil. The explanations of covering oneself from the sight of others are: (1) covering oneself from all sides, (2) covering oneself with a veil. (1) Covering oneself from all sides means that it is obligatory for both men and women to cover those parts of their body that must be concealed during prayer in such a way that no part of the covering is visible from any side. (2) Covering oneself with a veil means that if a man ties a waistcloth or a woman wears a sari with the lower part touching the ground, and if the lower part of the waistcloth or sari remains open, it does not invalidate the prayer as long as it does not cause any inconvenience. The explanations of covering oneself from the sight of others are: (1) actual covering, (2) legal covering. Actual covering means being covered by a veil, while legal covering means performing prayer in a place where no one can see, such as an empty room or a desert. In both cases of legal covering, although the person's covering is protected from the sight of others, it is still considered defective compared to actual covering. Until the covering is properly veiled, it is not considered actual covering. Therefore, it is obligatory for the person praying to ensure that their covering is veiled, whether they are in an enclosed room or an empty place. If, during the prayer, the person's gaze falls on their own covering, the prayer is not invalidated, but it is disliked. This is narrated in the school of Imam Abu Hudhayfah and Imam Abu Yusuf (RA). In this hadith, the Prophet (SAW) instructed Salm bin al-Akwa' (RA) to tie his garment with a belt to cover himself from the sight of others. This indicates that if, during prayer, the person's gaze falls on their own covering, it is disliked to adjust or expose oneself, but the prayer is not invalidated. (Dakhil, Rawakhil, Tashrih al-Madhhab)

1142

البہریره رضي الله عنه روايت به کر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے اور نمازی کو اپنے دونوں لینی منہ پر مراورگردان سمیت ظحاۓ کی طرح کپڑا لپیٹنے سے بچی منع فرمایا ہے ( اس لے کر اس سے قرأت اور سجدہ اچھی طرح ادا نہیں ہوتا )

( اس کی روایت ابوداووداورترمزی نے لکھے )

ف : سدل کے معنی یہ ہیں کہ نمازی چادر یا رومال کو اپنے کندھوں پراس طرح ذوالے کردونون کنارول کولکتا ہوا چھوڑ دے اور وہ سے ہٹ کے نہ ہوں، یا قبا اور عبا کواس طرح اوڑھے لے کر اس کے آستینول میں باٹھ دے ذوالاجا کے یا ایک چادر یا کسی کپڑے میں سارے بدنا کواس طرح لپیٹ لے کر دونول باٹھا کی چادریا کپڑے میں داخل کر لے ہوں جسیا کہ یہودی کا ستورنہا، ان چیزوں سے نماز کروہ ہوتی ہے۔ ( مرقات اشعہ اللمعات )

اور عدۃ الرعاية میں لکھا ہے : " فان ارسل جانب اوضمہ جانبہ الآخر والقاه على منکبه فليس بسدل "۔

اگر چادر کے ایک کنارہ کولکتا ہوا چھوڑ دے اور دوسرا کنارے کو سمت کر دوسرا کنڈے پر ذوال دیا جاے تو پیسدنہیں کہلا یے گا اور اس سے نماز کروہ نہیں ہوتی۔ پا جامعیاہ بنذخنول سے نیچے لکا ہے ہوئے نماز پڑھنے کی وعید

Saddl means that the worshiper places a sheet or handkerchief on their shoulders in such a way that both ends hang down and do not slip off, or wears a cloak or robe in such a way that its sleeves are tucked in at the sides, or wraps the entire body in one sheet or piece of clothing in such a way that both ends are tucked into the sheet or clothing, similar to the Jewish prayer shawl. Prayer is performed in these conditions. (Marqat Asha Al-Lamaat) And it is written in Ad-Durr Al-Ra'iyah: 'If one end is placed on one side and the other end is placed on the other shoulder, it is not considered saddl.' If one end of the sheet is left hanging and the other end is placed on the other shoulder, it will not be considered saddl, and prayer will not be valid in this condition. It is mentioned in Jamia Al-Bazkhunol that if the sheet is tied below the armpits, the promise of prayer is fulfilled.

1143

البہریرہ رضي الله عنه روايت به، انهول نے کہا کر ایک شخص اپنے بنڈکو تخت سے نیچے لکا ہے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اس شخص کو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ( نماز ختم کر نے کے بعد ) حکم فرمایا کہ جاوا اور وضو کر لو ( پیس کر ) وہ گیا اور وضو کر کے واپس آیا، ایک اور شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول الله صلى الله عليه وسلم آپ نے اس شخص کو کس لے وضو کا حکم فرمایا ہے؟ ( حالانکہ وہ باوضوء تھا ) حضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اس لے کہ وہ اپنے تہیند کو تخت کے نیچے لکا ہے

جوئے نماز پڑھر باتعا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماے جواب پر تہبند کو چنول سے پچ

لٹکا گے جوئے نماز پڑھتا ہے۔ (اس کی روایت ابو داود نے کی ہے۔)

ف (1): ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ حالت نماز میں ہونی یا نماز کے باہر ہونی ہر دو

صورتوں میں امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس تہ بند پاپا جام کو چنول سے پچ لٹکا کر دو ہے

اور رواجتار میں ہے کہ مرد ول کیلے ایسے پاجامول کا پہنا کرو ہے جن کے کنارے چنول پر گرتے

ہوں۔-

ف (2): اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ان اللہ لا یقبل صلوۃ

رجلٍ مسبلٍ إزاره".

(اللہ تعالیٰ) اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماے جواب پر تہ بند کو چنول سے پچ لٹکا گے جوئے

نماز پڑھتا ہے۔

واضح ہو کہ یہاں چنول کے پچھے بنے لٹکا نے پر نماز کے قبول نہ ہونے کا ارشاد ہوا ہے اور

نماز کے تنج نہ ہونے کا ارشاد نہیں ہوا۔ جس سے ثابت ہے کہ نماز میں چنول سے پچھے بنے پاپا جام کو

رکھنے سے نماز کرو ہ ہوتی ہے اور فاسد نہیں ہوتی۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تہبند یا

پا جام کو چنول سے پچھے رکھ کر نماز ادا کرنے پر نماز کی کراہت کا حکم کیا یہ نماز کے فساد کا حکم نہیں لگایا۔

اس حدیث میں اس شخص کو جو چنول سے پچھے بنے لٹکا نے ہوئے نماز ادا کرنے پر حضور صلی اللہ

علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا: "اذہب فتوضأ"، (جاو اور وضو کرو) یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم

نے اس شخص کو اس کے باوضو ہونے کے باوجود دوبارہ وضو کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اس کی ایک

غرض یہی کہ اس شخص کے تہ بند کو چنول سے پچھے رکھ ہوئے جو نماز ادا کی ہے اس کا گناہ معاف

ہو جائے اس لیے کر وضو سے صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، علاوہ ازیں اس شخص کو دوبارہ وضو کر

کر نے کا حکم دیا گیا ہے اس کی دوسری غرض یہی کہ اس شخص کے اپنے تہ بند کو چنول سے پچھے رکھ کر

اپنے باطن میں کبر و غور کی جوگندگی پیدا کر لی تھی وہ اس دوبارہ وضو سے زائل ہو جائے اور اس طرح

اس طہارت ظاہری سے اس کو طہارت باطنی حاصل ہو جائے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے۔

(میں مضمون مرقات اور اشعة اللمعات سے ماخوذ ہے۔)12

نماز میں ایسی چیز سے پیچھے جس سے دل بٹ جاتا ہو

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: "While a man was praying with his garment hanging down, the Messenger of Allah (peace be upon him) said to him: 'Go and perform ablution.' So he went and performed ablution, then returned. Someone asked: 'O Messenger of Allah, why did you order him to perform ablution?' He replied: 'He was praying with his garment hanging down, and Allah does not accept the prayer of a man who lets his garment hang down.'" [Narrated by Abu Dawud]

Ali Al-Qari said: "Letting the hem of the garment hang down is disliked according to Abu Hanifah and Ash-Shafi'i, whether in prayer or otherwise." In "Rad Al-Muhtar": "It is disliked for men to wear trousers that reach the back of the feet."

1144

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک منقش حاشیہ دار چادر اور چھ کر نماز پڑھتے تھے، پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے نقش و نگار کو (نماز کے اندر) ملاحظہ فرمايا اور نماز ختم کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ میری اس چادر کو اٹھتے ہیں رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاو اور میرے لئے اٹھتے ہیں کے ساودہ کمل لے آو، کیونکہ اس چادر کے نقش و نگار میں میری توجہ نماز سے پھڑادی - (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے)-

In another narration by Al-Bukhari: "He said: 'I was looking at its markings while I was in prayer, and I feared that it would distract me.'"

1145

اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز میں اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھ رہا تھا پس مجھے اندیشہ ہوا کہ میں پنجھے میں نظر آ دے (اور میرے حضور قلب میں فرق نہ پڑے-)

ف: اس حدیث سے امت کو یہ تعالیم دی جارہی ہے کہ نماز کے موقع پر ایسے لباس کے پہننے بازر ہیں جس سے دل بٹ جاتا ہو - (مرقات، اشعۃ اللمعات-)

In another narration by Al-Bukhari: "He said: 'I was looking at its markings while I was in prayer, and I feared that it would distract me.'"

مرد کیلئے ریشم کی ممانعت
1146

عقیل بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا قبا تکفّہ دیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہن اور اس میں نماز ادا فرمائی اور نماز سے فارغ ہوئے تو اس قبا کو جس کسی مبارک سے بہت جلد علیہ فرما دیا اور اس وقت چھڑہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، پھر فرماياریشم متقیوں کے لئے سزاوار نہیں ہے - (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے-)

ف: واضح ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ قبا پہن کر ناگواری کا ظہار فرمانا اس زمانے کا واقعہ

ہے جب کمر دول کیلئے ریشم پینے کی حرمت کا حکم ابھی نہیں آیا لیکن جب حکم آگیا تو مر دول کیلئے ریشم

کا پہنا حرام ہوگیا خواہ متقی ہو لیا غیر متقی - (مرقات، اشعۃ اللمعات)-

تصویر کے لیے ممانعت

It is narrated from Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) that he said: "A silk cloak was gifted to the Messenger of Allah (peace be upon him), and he wore it and prayed in it. Then he took it off forcefully, as if he disliked it, and said: 'This is not suitable for the pious.'" [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]

1147

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کرام المؤمنین عائشہ رضی اللہ

عنہا کے پاس ایک بار کی رین با تصویر پر دھقا جس کو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے مبارک

کی دیوار کی زینت کیلئے باندھ کر لگا تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

تم اس پردہ کو ہمارے سامنے نکال دواس لے کراس کی تصویریں نہیں نماز میں دکھائی دینے

میری مشغولیت ان کی طرف ہوجائی ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک (1) یک نماز ادا کرتے وقت نمازی کے

لباس پر ایمانازی کے سامنے تصویریں نہیں ہونی چاہیے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں کو

نکال دینے کا حکم فرمایا ہے، (2) دوم سے یک نمازی کے سامنے ایلاباس پر تصویریں ہونے سے نماز کروہ

ہوتی ہے، فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نمازی حالت میں تصویریں نہیں تو

آپ نے ان کونکا لئے حکم دیا گر نماز کا اعادہ نہیں فرما یا، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا اعادہ نہیں

فرما یا، اسی وجہ سے نماز کے فاسد ہوجانے کا حکم نہیں فرما یا جائے گا بلکہ نماز کے کروہ ہونے کا حکم فرما

جائے گا، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری)

It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that he said: "Aisha had a decorated curtain with which she screened a side of her house. The Prophet (peace be upon him) said to her: 'Remove this curtain from us, for its images keep appearing to me during my prayer.'" [Narrated by Al-Bukhari]

مردو کے ستر کا بیان
1148

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت

کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ (نماز میں) مردو کیلئے جوستر شرط ہے وہ ناف

کے نیچے سے لے کر گھٹنے کے پیچ تک ہے۔

(اس کی روایت دارتنی نہ کیے، یراکی طویل حدیث کا ایک حصہ اور اس کی سنہ میں

سوار بن واود پین جن کو عقیل نے ضعیف قرار دیا ہے؛ لیکن امام ابن معبین ان کو ثقہ قرار دیتے ہیں)-

(ابن معبین فن رجال کے امام ہیں اس لے ان کا قول مستبرہ ہے-)

مرد کے ستر کے بیان پر دوسرا حدیث

Amr bin Shu'ayb (RA) narrates from his father on the authority of his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said:

The condition for men in prayer is to cover from the navel to the knees.

1149

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہوئے سناتے کہ مردوں کے لے نماز میں ہونا یا غیر نماز میں ہونا

ناف کے پیچے سے لے کر گھنسمیت چھپنا ضروری ہے- (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں لکھی ہے)-

It is narrated from Abdullah ibn Ja'far (may Allah be pleased with him) that he said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'What is between the navel and the knee is part of the private area (awrah).'" [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak]

In another narration by Al-Daraqutni from the Prophet (peace be upon him): "And what is below the navel is part of the private area (awrah)."

1150

اور دارتی کی دوسرا روایت میں بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرودی ہے کہ

(مردوں کے لے) ستر عورت کی ابتدا ناف کے پیچے سے ہوتی ہے جتنی ناف ستر میں داخل نہیں ہے-

مرد کے ستر کے بیان پر تیسری حدیث

It is narrated from Abdullah ibn Ja'far (may Allah be pleased with him) that he said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'What is between the navel and the knee is part of the private area (awrah).'" [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak]

In another narration by Al-Daraqutni from the Prophet (peace be upon him): "And what is below the navel is part of the private area (awrah)."

1151

عقبہ بن علقمہ رضی اللہ عنه، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی

رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھتنا (مرد کیلیے) ستر میں داخل

ہے- (اس کی روایت دارتنی نہ کیے-)

باندیول کا ستر

It is narrated from 'Uqbah ibn 'Alqamah (RA) that he reported from Ali (RA) that Ali (RA) said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Wearing a girdle (for men) is part of modesty.' (This narration was not confirmed.)

1152

عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے وسط میں اپنے دادا سے روایت کرتے

ہیں کہ ان کے دادا نے بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح اپنی باندی سے کر دے تو وہ برگزا پنی باندی کے ستر (لیجنی باندی کے

جسم کے اس حصے کو) نہ دیکھے (جس کا اجنبيول سے چھپنا فرض ہے اس لے کہ غیرے نکاح ہو نے کے

بعد ما کچھ مش اجنبی کے ہوجاتا ہے)- (اس کی روایت البوداود نے لکی ہے)-

It is narrated from Amr ibn Shu'ayb, from his father, from his grandfather, that the Prophet (peace be upon him) said: "If one of you marries his slave girl to his male slave, he should not look at her private area." [Narrated by Abu Dawud]

In another narration by Al-Daraqutni: "The Prophet (peace be upon him) said: 'If one of you marries his slave girl to his male slave or his hired worker, he should not look at what is below the navel and above the knee, for what is between the navel and the knee is part of the private area (awrah).'" It is also narrated by Abdur-Razzaq from Anas (may Allah be pleased with him) that Umar (may Allah be pleased with him) struck a slave girl belonging to the family of Anas because he saw her covering her head. He said: "Uncover your head; do not imitate free women."

1153

قطنی کی ایک روایت میں عمر و بن شعیب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی باندی کا نکاح اپنے غلام یا پنے

نوکر سے کرے تو اس باندی کے ناف کے پیچاور کچھ کودیکے اس لے کر باندی کے ناف کے

پیچے سے لے کر کچھ سمیت حسم کا حصہ (بشمول چھاتول کے) پوراسترہے۔

It is narrated from Amr ibn Shu'ayb, from his father, from his grandfather, that the Prophet (peace be upon him) said: "If one of you marries his slave girl to his male slave, he should not look at her private area." [Narrated by Abu Dawud]

In another narration by Al-Daraqutni: "The Prophet (peace be upon him) said: 'If one of you marries his slave girl to his male slave or his hired worker, he should not look at what is below the navel and above the knee, for what is between the navel and the knee is part of the private area (awrah).'" It is also narrated by Abdur-Razzaq from Anas (may Allah be pleased with him) that Umar (may Allah be pleased with him) struck a slave girl belonging to the family of Anas because he saw her covering her head. He said: "Uncover your head; do not imitate free women."

1154

اور عبد الرزاق نے اس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنه، اس

رضی اللہ عنہ کے گھراں کی ایک باندی کو مارے جس کوانہول نے منہ چھپا کے ہو کے دیکھا اور فرمایا

کہ تو اپنے سر کو کٹا رکھاوروہ عورتیں جواباندی نہیں دین ان سے مشابہت مت اختیار کرے

حضرت ہیں آزاد عورت کاسترہ

It is narrated by 'Abd al-Razzaq from this one (RA) that 'Umar (RA), this one (RA), struck a slave woman of his household who had covered her face with her hand when she saw him, and he said,

Cut off your head! Do not adopt the manner of free women, for you are a slave woman.

1155

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس ماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باریک کپڑے پہنی ہوئی داخل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے ان سے منہ چھپر لیا، اور فرمایا کہ اے اسما؟ (جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کو چھپے کے

پہلو چھوٹے دولوں باٹھاور چھیرے کے سواتمام بدنا کو چھپائے۔)

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

حضرت ہیں آزاد عورت کے ستر پر دوسری حدیث

It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that Asma bint Abi Bakr entered upon the Messenger of Allah (peace be upon him) wearing thin clothes. The Messenger of Allah (peace be upon him) turned away from her and said: "O Asma, when a woman reaches puberty, it is not appropriate for anything to be seen of her except this and this," and he pointed to his face and hands. [Narrated by Abu Dawud]

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ باریک ترزیب یاجالی وغیرہ کا بہت باریک دوپٹا ورہ

کرنماز پڑھنا درست نہیں، یا س وقت ہے جب کہ اس کپڑے میں سے بدندکھائی دیتا ہے اور اگر

جتنے بدنا کا ظہار کنا ضروری ہے اس کو دوسروں کے کپڑے سے ذہک لیاگیا اور اس کے اوپر سے باریک

دوپٹہ چھی اور ہی لیا جائے تو نماز ہو جائے گی۔ (منہیہ اور درختار۔)

1156

قادرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

کہ جب لڑکی حاضرہ ہیں بالغ ہو جائے تو اس کے چھرے اور پہنچون تک اٹھون کے سوابدن کے کسی

حضرت کا کہنا تھا وینا جا تنزہیس -

(اس کی روایت ابوداوود نے مراسیل میں کی ہے -)

جوہیئی آزاد عورت کے ستر پرتیری حدیث

It is narrated from Qadira (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

When a girl reaches maturity, she should cover her body up to her ankles and her feet. This is based on the statement of one of the Companions: 'A free woman must maintain her modesty.'

1157

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنها سے روايت ہے ، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ بالغ عورت (جو باندی نہ ہو ) اس کی نماز اور صحت کے بغیر (یعنی کہسر ) صحیح نہیں ہوتی - (اس کی روايت ابوداووداورترمزدی نے کی ہے -)

ف : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت جو باندی نہ ہو، اگر وہ نماز پڑھے وقت سرنہ ذہا کے تو اس کی نماز ادا نہیں ہوگی اس لیے کہ عورت کا سراوراس کے بال ستر میں داخل ہیں، اس بناء پر سراور بالون کا چھپانا فرض ہے، عورت کی نماز ایسے باریک کپڑوں میں بھی نہیں جس میں اس کے بالون کا رگ یابدن کساتی دیتا ہوئی کچھی بے ستری میں داخل ہے - (اللمعات -)

عورت کی نماز بغیر تہ بند کے ایسے لا بنہ کرتے میں جاتزہ جس تے قدم چھپ جاتے ہول

From this hadith, it is established that if a woman who is not a slave performs prayer at the time of the prostration, her prayer will not be valid because the hair on a woman's head is part of her awrah (parts that must be covered). Therefore, covering the hair is obligatory. A woman's prayer is also invalid in fine clothing through which her hair can be seen or touched, leading to some part of her awrah being exposed. - (Al-Lum'at) A woman's prayer without tying her hair in such a way that her feet are covered is invalid.

1158

ام سلمہ رضی اللہ عنها سے روايت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرما تھیں کہ کیا عورت بغیر تہ بند کے کرتے اوراوزہی میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ تو حضرت صلی اللہ علیه وسلم نے فرما کہ بال (عورت بغیر تہ بند کے کچھی نماز پڑھ سکتی ہے -) جبکہ اس کا کرتاس قد ر دراز ہو کر اس کے پشت قدم کرتے میں چھپ جاتے ہول -

(اس کی روايت ابوداوود نے کی ہے -)

ف : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کیے پشت قدم کو چھپانا فرض ہے (پشت قدم تلوے ) اس لیے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرما کہ عورت کے قدم کچھی ستر میں داخل ہیں، اور اس حديث کی وجہ سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس کے قائل ہیں - (پیثرح العقاید میں ذکور ہے -)

عورت کا قد مستری میں داخل ہوئے کی وجہ سے خانی میں کہہ بے کر نماز کے وقت عورت کے قد م کا

چوٹائی حصر دکھائی دینے سے نماز میں ہوگی جسیا کہ جسم کے دیگر اعضاء کا چوٹائی حصر نظر آنے سے نماز

جا زمیں ہوتی ہے۔ البتہ نماز میں قد م یا کسی اور عضو کا چوٹائی حصر سے کم حصر دکھائی دے تو نماز ادا

ہوجائے گی۔ (مرقات، عمدۃ الرعاية)

It is narrated from Umm Salamah (may Allah be pleased with her) that she asked the Messenger of Allah (peace be upon him): "Can a woman pray in a dress and headscarf without wearing an undergarment (izar)?" He said: "Yes, if the dress is long enough to cover the tops of her feet." (1) [Narrated by Abu Dawud]

(1) The statement: "It covers the tops of her feet." According to Abu Hanifah, the feet are part of the private area (awrah), and this is also the opinion of Ash-Shafi'i, based on this hadith. It is mentioned in Sharh An-Nuqayah. In Al-Khaniyyah, it is stated: "The correct view is that exposing a quarter of the foot invalidates the prayer, just like exposing other parts of the body that are considered private."

جوڑے پہن کر نماز پڑھنے کی تحقیق
1159

شراو بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم (جوڑے اور موزے پینے ہوئے نماز پڑھنا کر) یہودی خلافت کرو، اس

لئے کہ یہود (جوڑے اور موزے پینے ہوئے نماز میں پڑھتے)

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جوڑے اور موزے پینے کر نماز پڑھنا دوسری طول کے ساتھ

مباح ہے، پھر شرط پیہ کہ جوڑے اور موزے پاک ہون اور دوسری شرط پیہ کہ جوڑے ایا موزے پاچل

اس قت م کے ہون کر جچہ کی حالت میں پیردن کی تمام انگیان ز مین پر تک جاتی ہون۔

وا ض ہو کر ان شرط ول کے باو جود کی جوڑے ایا پچل اتا کر نماز پڑہ نا مستحب ہے، اس لئے کر حضور

صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل جوڑے اتا کر نماز پڑہ نا تھا۔

اب رہا یہود کی خالفت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہودا پن نماز جوڑے اور

پچل نکال کر پڑھتے اور جوڑے اور پچل پہن کر نماز پڑہ نا کو جازمیں نہیں تھے اس لئے حدیث میں

ارشاد ہوا کہ یہود کی خالفت میں جوڑے اور پچل پہن کر نماز پڑھو، لیکن اس زمانے میں یہود و نصاری اپنے اپنے

نماز جوڑے اور موزے پینے ہوئے پڑھتے ہیں، اس لئے اس زمانے میں ان کی خالفت پیہ کر نماز جوڑے

اور پچل کے بغیر پڑھی جاتے۔ (مرقات، عمدۃ القاری)

جوڑے پینے ہوئے نماز پڑہ نا پر دوسری حدیث

Narrated by Shaddad ibn Aws, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Differ from the Jews, for they do not pray in their shoes or sandals." [Narrated by Abu Dawud]

1160

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ و سلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھانے کے لیے جس طرح کر رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین اٹار کر باہر جائے جانے رکودیتے اور صحابہ نے جب پیدیکھا تو وہ بھی اپنے اپنے نعلین اٹاردیتے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نماز ختم کی تو فرمایا کہ تم نے اپنے نعلین کیون اٹاری، صحابہ نے عرض کیا کہ جب ہم نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک اٹاردیتے ہیں تو اس لئے ہم بھی اپنے نعلین اٹاردیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آے اور خبر دی کہ نعلین میں نجاست ہے (اس لئے میں ان کو اٹاردیا) جب تم میں سے کوئی مسجد کو آے تو دکیہ لے اگر اپنے نعلین میں نجاست پائے تو اس کو پوچھ دیتا لے پھر اتنی میں نماز پڑھے - (اس کی روایت ابوداؤداوردارمی نے کی ہے-)

ف: نماز شروع کرنے سے پہلے کئی چیزیں واجب ہیں، ان میں سے نخفین اور نعلین کا بھی نجاستوں سے پاک ہونا شرط ہے، اس لئے ان میں سے کسی پر کوئی نجاست گلی ہوتواس کو پاک کروآ جائے اگر نجاست پاک نہ کیئے تو نماز جائز نہیں ہوگی - اس لحاظ سے اس حدیث شریف میں جو واقعہ ذکورہے اس پر ظاہری شبہ ہوتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھا اور جبریل علیہ السلام کے اطلاع دینے پر آپ نے نعلین اٹاردیے جس کو قذریمن نجاست گلی ہوتی ہی اور نماز کا اعادہ نہیں فرمایا حالانکہ ذکورہ بالا شرط کے لحاظ سے نماز کا اعادہ ضروری تھا۔ اس شبہ کے دو جواب ہیں: پہلا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں فقرہ لفظ واقع ہواہے جس کے معنی نجاست کے نہیں بلکہ ایک چیز کے دین جس سے طبعیت کوناگواری ہوتی ہے جس کے رینگو غیرہ، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک کو نہس چیز میں گلی ہوتی ہی تقوہ مقدار درتم سے کم ہی جس دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر نعلین مبارک کو نہس چیز میں گلی ہوتی ہی تقوہ مقدار درتم سے کم ہی جس سے نماز ادا ہوجاتی ہے اور اعادہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور جبریل علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کونماز میں اطلاع دینا آپ کی لاطفت طبع کی وجہ سے ہاتا کہ آپ پر نعلین مبارک اٹاردیں اور نماز کمل طریقت سے ادا ہوجائے - (مرقات: اشعة اللمعات-)

نماز پڑھتے وقت جوٹے کہاں رکھے جائیں؟

Narrated by Abu Sa'id al-Khudri, may Allah be pleased with him: While the Messenger of Allah, peace be upon him, was leading his companions in prayer, he took off his shoes and placed them to his left. When the people saw this, they also threw off their shoes. After completing the prayer, the Messenger of Allah, peace be upon him, asked, "What made you throw off your shoes?" They replied, "We saw you remove your shoes, so we removed ours." The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Gabriel came to me and informed me that there was dirt on them. When one of you comes to the mosque, let him check. If he sees dirt on his shoes, let him wipe it off and pray in them." [Narrated by Abu Dawud and Al-Daraqutni]

1161

اپوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں کوئی نماز پڑھنے آتا ہے تو اسے نعلیں کو اپنی سیدھی جانب رکھ کر اور اس طرح اپنے باقی جانب بھی نہ رکھے اس لئے کہ اپنے باقی جانب رکھنے سے نعلیں دوسروں سے سیدھے جانب رکھنا لازم آتا ہے (جو دوسروں کی ناگواری کا سبب بنتا ہے) البتہ ایک کو اپنے دونوں چیروں کے درمیان رکھ لے۔

Narrated by Abu Huraira, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you prays, he should not place his shoes to his right or to his left, where they would be to the right of someone else, unless there is no one to his left. Let him place them between his feet." In another narration: "Or let him pray in them." [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah also reported a similar meaning]

1162

اور دومری روایت میں اس طرح ہے یا اپنے پہنے کر نماز پڑھ لے (جبہے دونوں پاک ہول۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور ابن ماجہ نے اس حدیث کی معنی روایت کی ہے۔)

جوٹے پینے بغیر نماز پڑھنے کا ثبوت

And in another narration it is stated: 'Or pray in your worn clothes (if both sides are clean).' This narration is reported by Abu Dawud, and Ibn Majah has reported this hadith with similar meaning. It provides evidence for praying without changing clothes.

1163

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، ان کے دادا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح پیراونے کی نعلیں پینے ہوئے دونوں حالتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

Amr bin Shu'ayb (RA) narrates from his grandfather through his father, who said:

I saw the Messenger of Allah ﷺ praying while wearing leather socks in both conditions [of purity and impurity].