یہ باب مسجدولاورنماز کی جگہوں کے بیان میں ہے
وقول الله عزوجل ان طهرا بيت للطايفين والعاكفين والركع السجود
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، پ:1، ع:15، آیت نمبر:125، میں) ہمارے اس گھر (یعنی کعبہ) کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں (یعنی نمازیوں) کیلئے خوب پاک و صاف رکھا کرو۔
Allah, the Exalted, commands (in Surah Al-Baqarah, Vol. 1, Pg. 15, Verse number: 125): Keep this House (i.e., the Ka‘bah) pure and clean for those who circumambulate it, and for those who seclude themselves in it, and for those who bow and prostrate (i.e., the worshippers).
وقوله وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره اور قول باري تعالي سور بقر ع ايت نمبر مي مسلمانو تم ج ا ك ي وا كروا نا ا نماز مي مسجد حرام كي طرف رك ا كرو
وقوله ان اول بيت وضع للناس للذي ببكه مباركا وهدي للعالمين اور قول باري تعالي سور ال عمران ع ايت نمبر مي لو و كي عبادت كيلي جو لا ر تعمير ايا يا و كيا جوش ر ك مي واقع جو بركت والا اور دينيا ب ر ك لو و كيلي موجب بدايت
وقوله في بيوت اذن الله ان ترفع و يذكر فيها اسمه اور قول باري تعالي سور نور ع ايت نمبر مي ايس رو مي جا كر عبادت كرت جس كي نسبت الل تعالي ن حكم ديا ك ان كا ادب كيا جاي اور ان مي الل تعالي كا نام ليا جاي مراد ان رو س مسجدي ي اور ان كا ادب ي ك ان مي جس كي اور حا نظر داخل ن و
وقوله انما يعمر مسجد الله من امن بالله واليوم الاخر اور قول باري تعالي
(سورۃ توبہ، پ:10، ع:3، آیت نمبر:18، میں) ایسے اللہ کی مسجد میں کوئی باہر نا نکلے گا کہ جس میں
جو اللہ کی عبادت کے دونوں پر ایمان لائے۔ -
کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان
He brought faith upon both in the worship of Allah.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بیت اللہ میں داخل ہو کر پھر باہر تشریف فرما ہوئے، بلال رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے
تھے، ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر
نماز ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، جب دوم راہن ہوا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر بیت اللہ
کے اندر داخل ہوئے، میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر نماز
پڑھی ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بال دو رکعت نماز پڑھی ہیں۔ -
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Prophet (peace be upon him) entered the Ka'bah, then came out with Bilal behind him. I asked Bilal, "Did he pray?" He said, "No." The next day, he entered again, and I asked Bilal, "Did he pray?" He said, "Yes, he prayed two Rak'ahs." [Narrated by Al-Daraqutni]
عبد الرحمن بن زجاج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں شیخہ
بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر پوچھا کہ اے ابا عثمان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ابن
عباس رضی اللہ عنہما کہ ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہو کر کعبہ کے اندر نماز نہیں
پڑھی، شیخہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم قوسا من کے دو ستونوں کے
پاس دو رکعت نماز ادا فرما ہیں اور نماز کے بعد دونوں ستونوں سے اپنی پشت مبارک چمٹا کے رہے۔ -
اور ابویعلی اور ابن عساکر نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
کعبے کے اندر نماز پڑھنے کے بیان میں تیسری حدیث
It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn Az-Zajjaj that he said: I came to Shaybah ibn 'Uthman and said, "O Abu 'Uthman, Ibn 'Abbas says that the Messenger of Allah (peace be upon him) entered the Ka'bah but did not pray." He said, "Yes, he did. He prayed two Rak'ahs near the two front pillars, then leaned his back against them." [Narrated by At-Tahawi. Abu Ya'la and Ibn 'Asakir narrated something similar]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کعبے کے اندر داخل ہوئے اور حضرت فضل اور اسامہ بن زید اور عثمان ابن طلہ رضی اللہ عنہم بھی (آپ
کے ساتھ) داخل ہوئے) (بخاری اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ فضل رضی اللہ عنہ کے جبلاً
بلال رضی اللہ عنہ ساتھ تھے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس سے ملا وہ بلال رضی
اللہ عنہ تھا، میں نے ان سے پوچھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر کہاں نماز پڑھتے
تھے؟ بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا کر ان دو ستونوں کے درمیان نماز ادا فرما تے تھے -
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور طحاوی، بخاری اور مسلم نے بھی اس طرح کی
روایت کی ہے -)
استقبال قبلہ کی لیے سمت کعبے کی نیت کرنا کافی ہے مگر کہ وا لے اور مدینہ والوں کی لیے
عین کعبے کی نیت ضروری ہے
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) entered the Ka'bah with Al-Fadl, Usamah ibn Zayd, and 'Uthman ibn Talhah. The first person I met was Bilal, so I asked him, "Where did the Prophet (peace be upon him) pray?" He said, "Between these two pillars." [Narrated by Ibn Abi Shaybah while At-Tahawi, Al-Bukhari, and Muslim narrated something similar]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے -
(اس کی روایت ترنذی نے کی ہے -)
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے رہن والوں کا قبلہ جانب جنوب، مشرق اور
مغرب کے درمیان ہے، اس لیے کہ مدینہ منورہ مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہے -
واضح ہو کہ استقبال قبلہ میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ عین کعبے کی جانب رخ کرنا فرض ہے
اگر عین کعبے کی جانب رخ کرنا کعبہ اللہ کے نزدیک ہے تو نہیں کی وجہ سے دشوار ہے تو عین کعبے کی
جانب رخ کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے -
دور را قو ل پیہ کر جو لوگ کہ کر مہ میں رہتے ہوئے ان کیلے ضروری سے کروہ عین کعب کی جانب رخ کریں اور اس طرح مدینہ منورہ میں رہتے والوں کیلے بھی ضروری سے کروہ بھی عین کعب کی نیت کریں کیول کہ مدینہ منورہ کا قبلہ بذرائع وہی متعمین ہوائے البنت وہ لوگ جو کہ کر مہ اور مدینہ منورہ کے سوا دوسروں مقامات پر رہتے ہوئے، ان کیلے عین کعب کی جانب رخ کرنے کی نیت ضروری نہیں بلکہ ان کے لئے مست کعب کی جانب رخ کرنے کی نیت کرنا کافی ہے اور اس پرفتوی ہے اور اس حدیث سے اس قول کی تائید ہوتی ہے، کیول کہ اس حدیث میں وارد ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے اور اس سے سمیت قبلہ کی نیت کے کافی ہونے کی دلیل حاصل ہوتی ہے - (نہایہ، بدایہ، درختار، مرقات - )12
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "What lies between the east and the west is the Qiblah." (1) [Narrated by Al-Tirmidhi]
(1) Explanation of the statement: "What lies between the east and the west is the Qiblah": The apparent meaning is that this refers to the Qiblah of the people of Madinah, as it lies between the east and the west. This hadith supports the opinion that the Qiblah is determined by direction. For the people of Makkah, it is the exact direction of the Ka'bah, while for others, it is the general direction. This is mentioned in Al-Mirqat and Ad-Durr Al-Mukhtar.
البوز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے روے زمین پر کوئی مسجد بنائی گئی؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کہ مسجد الحرام لیعن کعب (سب سے پہلے روے زمین پر عبادت گاہ بنایا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کوئی مسجد بنائی گئی؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کہ مسجد قصی لیعن بیت المقدس، میں نے پوچھا کہ ان دونوں مسجودوں کی تعمیر کے درمیان میں کتنے برس کا فاصلہ ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ چالیس سال، پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کہ تمام روے زمین نماز کے لئے مسجد کے جہاں کہیں تم کونہاز کا وقت آجا یہ و بال نماز پڑھ لو۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔)
اس حدیث میں اشارہ ان دونوں مسجِد وں کے ابتدائی تعمیر کی طرف سے کیون کہ جس طرح کعبے کے بانی اول ابراہیم علیہ السلام میں جیسے اس طرح بیت المقدس کے بانی اول سلیمان علیہ السلام میں جیسے اس بارے میں منقول ہے کہ کعبہ اللہ کو سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا اور جب ان کی اولاد روے زمین پر پھیل تو ان کی اولاد میں کسی نے اولاً بیت المقدس کی بناء کی اور ان دونوں مسجِدون کی اس ابتدائی تعمیر میں چالیس برس کافرق ہے۔ پھراس کے بعد دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ اللہ بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس تعمیر کیا۔12
It is narrated from Abu Dharr (may Allah be pleased with him) that he said: I asked, "O Messenger of Allah, which mosque was first established on earth?" He said, "The Masjid al-Haram." I asked, "Then which?" He said, "Then the Masjid al-Aqsa." I asked, "How much time was between them?" He said, "Forty years. Then the entire earth is a mosque for you, so wherever prayer time overtakes you, pray." [Agreed upon]
ف : لمعات میں کہا ہے کہ اس حدیث میں اشكال ہے وہ یہ کہ کعبۃ اللہ کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اور بیت المقدس کے بانی سلیمان علیہ السلام میں اور ان دونوں کی تعمیر میں ایک ہزار برس کے زیادہ مدت کا فرق ہے، اس اشكال کا عمدہ جواب ابن جوازی رحمۃ اللہ نے نقش کیا ہے کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اس مسجد میں ایک نماز کا ادا کرنا دوسروں مساجد کے مقابلے میں مسجِد حرام کے سوا ایک نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers in any other mosque except the Masjid al-Haram." [Agreed upon]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی نماز جس کو وہ اپنے گھر میں ادا کرتا ہے اس سے اس کو ایک نماز کا ثواب ملتا ہے اور وہ نماز جس کو وہ اپنے محل کی مسجد میں ادا کرتا ہے اس کی ایک نماز ثواب میں پچاس نماز وں کے برابر ہوتی ہے اور اس کی ایک نماز جس کو وہ جامع مسجد میں ادا کرتا ہے اس کا ثواب اس کو (500) پانچ سو نماز وں کے برابر ملتا ہے اور اس کی وہ نماز جس کو وہ مسجد قصیٰ میں ادا کرتا ہے اس کا ثواب اس کو پچاس ہزار نماز وں کے برابر ملتا ہے اور وہ نماز جس کو وہ مسجد حرام میں ادا کرتا ہے اس کا ثواب اس کو پچاس لاکھ نماز وں کے برابر ملتا ہے۔(اس کی روایت ابن ماجہ نے لی ہے۔)
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ مسجد نبوی کی ایک نماز ثواب میں پچاس بڑا رنمازول کے برابر
ہے، اوراس سے پہلے کی حدیث میں مروی ہے کہ مسجد نبوی کی ایک نماز ثواب میں ایک بڑا رنمازول کے
برابر ہے ان دو حدیثوں میں جو تفاوت پانی جاتا ہے اس کے بارے میں مرقات میں کہا ہے کہ یہ
تفاوت، تفاوت احوال کی بناء پر ہوسکتا ہے کیون کہ کب کی توا ایک ہوتی ہے مگر حالات کے لحاظ سے کچھ اس
کا ثواب دس گنا اور کبھی ستر گنا اور کبھی سات سو گنا ہوتا ہے تو تفاوت حالات کی وجہ سے مدینہ منورہ کی
مسجد میں ایک نماز کا ثواب کسی کو ایک بڑا راور کسی کو پچاس بڑا رل سکتا ہے۔12
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man's prayer in his house is equal to one prayer, his prayer in the mosque of his tribe is equal to twenty-five prayers, his prayer in the mosque where Friday prayer is held is equal to five hundred prayers, his prayer in the Masjid al-Aqsa is equal to fifty thousand prayers, his prayer in my mosque is equal to fifty thousand prayers, and his prayer in the Masjid al-Haram is equal to one hundred thousand prayers." [Narrated by Ibn Majah]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کوارشا دفرماتے ہوئے سناتے کہ شخص میری اس مسجد میں صرف کسی نیک کام (مثلًا نماز،
اعتكاف، زیارت، تلاوت اور ذکر کے ) سکینہ اسکھاتے کیلے (یا ان پر عمل کرنے کیلے آیا ہو ) تو وہ
شخص جاپدنے میں اللہ کی طرح ہے اور جو شخص ان چیزوں کے سوا کسی اور چیز کیلے آتا ہوتا وہ شخص اس
آدی کی طرح ہے جودوسروں کے سامان کصرف دیکھتا ہے (اوراس سے پچھلی نفع نہیں اٹھاتا )۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور تہذیب نے کہی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے )
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ شخص مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سی نیک کام کیے نیب آتا
اس کی مثل اس شخص کی طرح ہے جودوسروں کے سامان کو کیتا ہو، اس کا مطلب یہ کہ جب شخص
آخرت میں ان لوگوں کے اجر و ثواب کو دیکھے گا جنہوں نے مسجد نبوی میں نیب کے کام کے شوق اس نے
اس مسجد میں کار نہیں کرے حصول اجر کا جوموقع ضائع کر دیاس پر حسرت کرے گا اور نجیہے ہوگا کر میں
کیوں ایک دولت سے محروم رہا۔ (اشعہ اللمعات)12۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever comes to this mosque of mine, only coming for good, to learn or teach, he is like a Mujahid in the cause of Allah. Whoever comes for any other reason is like a man looking at the property of others." [Narrated by Ibn Majah and Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں سور با
تحا کے کسی نے مجھے کنگر مار کر جگا یا میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پا پ نے
مجھے فرمایا کہ جاو اور ان دونوں شخصوں کو میرے پاس بلا او ( کر مسجد میں پکار کر با تین کر دے۔
پیس ) میں نے ان دونوں کو آپ کے سامنے پیش کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرما کر تم
کس قبیلہ کے ہو یا کہاں سے ہو؟ دونوں نے جواب دیا کہ تم طائف کے رہنے والے ہیں حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نے فرما کر آگر تم میں والول میں سے ہو تو تو ضرور میں تم کو زادیا تم دونوں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز بلند کرتے ہو ( اس کی روایت بخاری نے کی ہے )
لا تشد الرحال سے جو غلطی ہوری ہے اس کا الزم
It is narrated from As-Sa'ib ibn Yazid (may Allah be pleased with him) that he said: I was sleeping in the mosque when a man threw pebbles at me. I looked and saw that it was 'Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him). He said, "Go and bring those two men." I brought them, and he asked, "Who are you, or where are you from?" They said, "We are from the people of Ta'if." He said, "If you were from the people of Madinah, I would have punished you severely. You raise your voices in the mosque of the Messenger of Allah (peace be upon him)." [Narrated by Al-Bukhari]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ تین میں مساجد کی جانب فضیلت مسجد حاصل کرنے کی غرض سے سفر کیا
جا سکتا ہے، مسجد الحرام ( لیعن کعبہ اللہ ) اور مسجد قصی ( لیعن بیت المقدس ) اور میری مسجد ( لیعن مسجد
نبوی صلی اللہ علیہ ) _ ( اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے )
ف : واضح ہو کہ مسجد الحرام کی ایک نماز فضیلت میں ایک لاکھ نماز وں کے برابر ہے اور مسجد قصی
میں ایک نماز پچاس بڑار نماز وں کے برابر ہے اور ایک طرح مسجد نبوی میں کچھ ایک نماز پچاس بڑار
نماز وں کے برابر ہے، اس لے چو خص فضیلت اور ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ ان تینوں مسجود کی
طرف سفر کر سکتا ہے اب رہی دوسری مسجد یعنی تو ان تینوں مسجود کے سوا دنیا میں کی تمام مسجود کی
فضیلت میں ایک دوسرے کے برابر ہیں، اس لے ان تینوں مسجود کے سوا کسی اور مسجد کی طرف
فضیلت حاصل کرنے کی نیت سے سفر کرنا ایک لغو ہو گا، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرما یہ کہ کسی مسجد کی طرف سفر کر واورصرف ایکی تین مسجود کی طرف سفر کرو
بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ " لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد " سے
استدلال کیا ہے کہ انبیاء کی مساجد اور اولیا کے کرام کے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کرنا نا جائز و
ممنوع ہے، حالا نک اس حدیث کے ان الفاظ سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلئے سفر کی ممانعت کسی طرح
ثابت نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ان تین مسجدول کے سوا سفر کے فضیلت اور برکت حاصل کرنے کے قابل کوئی اور مسجد نہیں علاوہ ازیں " لا تُشْدُّ الْوَرَاحُ اَلا اِلَى ثَلاَثَةِ مَساَجِدَ " میں جو حصر موجود ہے وہ مساجد سے متعلق ہے نہ کہ مقابر سے - چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح عین العلم میں اس حدیث کا ذکر کر کے صراحت فرمایا ہے: " لَا يُمْنَعُ هذا زِيَارَة قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ لَانَ النَّهْیَ فِی حَقِّ الْمَسَاجِدِ دُوْنَ سَائِرِ الْمَشَاهِدِ " ( اس حدیث سے انپیاء علیہم السلام اور اولیا کرام کے قبور کی زیارت سے منع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حصر مسجدول سے متعلق ہے نہ کہ زیارت کا ہول سے ) تو اس حدیث میں جو حصر مساجد سے متعلق ہے اس حصر کو عام کر کے شد رحال سے متعلق سفر مادلیا جانے تو پھر نہ صرف مقبر اور مشاہد بلکہ تجارت اور سوداگری اور اس طرح هر قسم کے سفر کی ممانعت ثابت کرنا پڑے گی اور اسی صورت میں حدیث ناقابل عمل قرار پائے گی - تو شد رحال سے جب عام سفر کی ممانعت ثابت نہیں کی جاسکتی تو پھر کس بناء پراس حدیث سے مقابر انپیاء اور اولیاء کی زیارت کیلئے سفر کونا جانے قر اردیا جاسکتا ہے؟ بالخصوص جب کر دوسری حدیث میں نذکور ہے " كُنتُ نَهَیْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ اَلا فَزُورُوْها " ( میں نے تم کو قبر ول کی زیارت سے روک رکھا تھا اب تم قبر ول کی زیارت کیا کرو ) حدیث کے الفاظ " اَلا فَزُورُوْها " عام ہیں جس سے نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز کے مقابر کی زیارت کا حکم حاصل ہوتا ہے پھر ثابت ہوا کہ زیارت قبور کیلئے سفر مامور بہے اور نہیں عنزیں کہ، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ قبر سیدنا موسیٰ الكاظم رضی اللہ عنہ تریاق مجرب الاجابة الدعاء ( امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی قبر شریف اجاپت و عمار کیلئے تریاق مجرب ہے - ) اور امام غزّالی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ " مَنْ يُسْتَمَدُّ فِی حَیَاتِهِ يُسْتَمَدُّ بَعْدَ مَمَاتِهِ " ( جس سے زندگی میں مد طلب کی جاتی تھی اس کی وفات کے بعد بھی اس سے مد طلب کی جاسکتی ہے - ) اس کے علاوہ اس حدیث میں ان تین مسجدول کے سوا کسی اور مسجد کی زیارت کیلئے سفر سے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ ان مساجد ثلا ث کے سوا جتنی مسجدیں ہیں وہ ثواب اور فضیلت میں ایک دوسرے کے مساوی ہیں تو ان تین مسجدول کے سوا جس کسی مسجد کی طرف سفر ہوگا وہ فعل عبادت ہوگا اس کے بر خلاف مقابر اور مشاہد فضیلت اور برکت میں مساوی نہیں ہوتے بلکہ متفاوت ہوتے ہیں - ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مناسک میں کہا ہے کہ کہ معظم میں کی مشاہد ہیں جن
کی زیارت علماء نے مستحب قرار دی ہے کر مولد سیدتنا فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جسے امام المومنین خدا بیگ
الکبری رضی اللہ عنہا کے مسکن مبارک کے متعلق سب کا اتفاق ہے جس کو طبرانی نے نقل کیا ہے: "ہے وَ
افضل موادع بمگة بعد المسجد،" جسے مولد فاطمہ رضی اللہ عنہا مسجد حرام کے بعد کے معظّم کے
تمام مقامات مطبر کے میں افضل ترین مقام ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے میں تشریف فرما
رہے اور کہیں سے آپ نے تہجرت فرمائی تو جب ثابت ہوا کہ مقابر اور مشاہد برکت میں متفاوت ہیں تو
جس علت سے مساجد ملا شکے سوا کی اور مسجد کی طرف سفر کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ علت مقابر اور
مشاہد میں نہیں پانی جاتی تو ان مساجد کا حکم بھی ان مقابر اور مشاہد سے متعلق نہیں ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مشاہد اور مقابر فیض رسائی میں مساوی نہیں ہوتے ہیں اس لے ایک کی
زیارت کی وجہ سے دوسروں کی زیارت سے استغناء حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف مسجد یں کر پی
ثواب میں کیسا لہوتے ہیں کہ جو ثواب ایک مسجد میں ہے وہی دوسری مسجد میں پایا جاتا ہے اس لے
اس حدیث میں ان مساجد ملا شکے سوا کی اور مسجد کی طرف سفر کو منوع قرار دیا گیا ہے، اس طرح ثابت
ہوگیا کہ "لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد" سے مقابر اور مشاہد کی زیارت کیلے سفر کو منوع
قرار دیا گلط ہے اور پیچا ستدال لہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، فصل الخطاب۔)12
مسجد قباء کی فضیلت
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not undertake journeys except to three mosques: the Masjid al-Haram, the Masjid al-Aqsa, and this mosque of mine." [Agreed upon]
It is clear that one prayer in the Masjid al-Haram is equivalent to a hundred thousand prayers, and one prayer in the Masjid al-Quba is equivalent to twenty-five thousand prayers, and similarly, one prayer in the Masjid al-Nabawi is equivalent to twenty-five thousand prayers. Therefore, if someone wishes to obtain special virtue and reward, they can travel to these three mosques. As for other mosques, i.e., all other mosques in the world besides these three, their virtues are equal to one another. Hence, traveling to any other mosque with the intention of obtaining virtue would be futile. This is why the Prophet (peace be upon him) said: 'Do not travel to any mosque except for these three mosques.' Some scholars have argued from the words of this hadith, 'Do not travel to any mosque except for these three mosques,' that it is impermissible and forbidden to travel for the purpose of visiting the mosques of the Prophets and the graves and shrines of the saints. However, this prohibition cannot be conclusively derived from these words of the hadith because the intended meaning of the hadith is that there is no other mosque besides these three that can confer virtue and blessings through travel. Moreover, the restriction mentioned in 'Do not travel to any mosque except for these three mosques' pertains specifically to mosques, not to graves. Thus, Mulla Ali Qari (may Allah have mercy on him) stated in his commentary, 'This does not prevent the visitation of the graves of the Prophets and the saints, as the prohibition applies to mosques and not to other shrines.' If the restriction were to be generalized to all forms of travel, then not only graves and shrines but also trade, commerce, and all types of travel would be prohibited, rendering the hadith inoperative. Since the general prohibition of travel cannot be derived from the hadith, how can it be concluded that travel for the purpose of visiting the graves of the Prophets and saints is impermissible? Especially when another hadith states, 'I had prohibited you from visiting graves, but now visit them.' The phrase 'but now visit them' is general and implies not only local graves but also distant ones, thus establishing that travel for the purpose of visiting graves is permissible. Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) has said that the grave of Sayyiduna Musa al-Kadhim (may Allah be pleased with him) is a tried and tested remedy for supplication. Imam Ghazali (may Allah have mercy on him) has said, 'Whomsoever was sought for help in life can be sought for help after death.' Additionally, the hadith prohibits travel to any mosque other than these three because all other mosques are equal in virtue and reward. Therefore, travel to any other mosque would be a supererogatory act. In contrast, graves and shrines are not equal in virtue and blessings; they vary. Mulla Ali Qari (may Allah have mercy on him) has stated in his book Manasik that there are many shrines whose visitation has been deemed desirable by scholars, such as the birthplace of Sayyida Fatima al-Zahra (may Allah be pleased with her), which is located near the blessed abode of Imam al-Mu'minin Khadija al-Kubra (may Allah be pleased with her). Tabarani has narrated, 'It is the best place to visit after the Masjid al-Haram,' indicating that it is the most virtuous place to visit after the Masjid al-Haram, as the Prophet (peace be upon him) visited it and performed seclusion there. Since it is established that graves and shrines vary in blessings, the reason for prohibiting travel to any mosque other than these three does not apply to graves and shrines. Therefore, the ruling for mosques does not apply to graves and shrines. This is because all shrines and graves do not confer equal blessings, and visiting one does not negate the need to visit others. On the contrary, mosques are equal in reward, so the reward obtained in one mosque can be obtained in another. Hence, the hadith prohibits travel to any mosque other than these three, thereby proving that it is incorrect and baseless to conclude from 'Do not travel to any mosque except for these three mosques' that travel for the purpose of visiting graves and shrines is prohibited. (Mirqat, Ash'at al-Lama'at, Fasl al-Khitab.)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے _ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم بہ رہفتہ کے دن پیدل اور سوار ہو کر مسجد قباء تشریف لے جا یا کرتے تھا اور مسجد قباء میں دو رکعت
نماز ادا فرما کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)
منبر تشریف اور روضہ مبارک کے درمیانی زمین کی اور منبر تشریف کی فضیلت
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: The Prophet (peace be upon him) used to come to the mosque of Quba every Saturday, walking or riding, and he would pray two Rak'ahs there. [Agreed upon]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے _ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرما کہ میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ میں جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری
ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے )
ف: اس حدیث میں ذکور ہے "مَا بَینَ بَیْتی وَ مِنبَری رَوْضَةٌ مِن رِّياضِ الْجَنَّةِ وَ
مِنبَرِي عَلى حَوضِي" (میرے گھراور میرے منبر کا درمیانی حصہ زمین جنت کی کیاریوں میں سے
ایک کیاری ہےاور میرا منبر میرے حوض پر ہے) اس بارے میں محققین کے دو قول ہیں - ایک قول یہ
کہ ریاض الجنت لیعنی مسجد نبوی کا وہ حصہ جو منبر شریف اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجرہ مبارک کے
درمیان ہے یہ حصہ اور منبر شریف ہر دواس عالم کے نہیں بلکہ جنت کے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کیلئے جنت سے اس عالم میں منتقل کے گئے ہیں جس طرح کہ تجرہ اسود حضرت آدم علیہ السلام کیلئے جنت
سے اس عالم میں منتقل کیا گیا -
دوسرا قول یہ کہ ریاض الجنت لیعنی مسجد نبوی میں منبر شریف اور تجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا
درمیانی حصہ زمین اور منبر شریف دونول اسی عالم کے ہیں جو بر وز قیامت ہر دوبعیدہ جنت میں منتقل کے
جا کیسے گے اور پیدونول زمین کے دیگر حصوں کی طرح فنا نہیں ہوں گے کہ ریاض الجنت لیعنی منبر شریف
اور تجرہ نبوی کا درمیانی حصہ تو جنت کی ایک کیاری بنایا جائے گا اور منبر شریف حوض کوثر پر ہوگا - جس پر
حضرۃ انور صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرامیں گے -(مرقات، اشعۃ اللمعات -)
انبیاء اور صلحا ء کے قبور کے قرب و جوار میں مسجد بنانے کا ثبوت اور عین قبر کوسجده گاہ
بنانے کی ممانعت پر ایک حدیث
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The area between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise, and my pulpit is over my pond." [Agreed upon]
"روى أبو داود من حديث جابر بن عبد الله، قال : رأى ناس نارا في المقبرة فأتوها، فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبر واذا هو يقول "ناولوني صاحبكما فاذا هو الرجل الذي كان يرفع صوته بالذكر" . ورواه الحاكم وصححه، وقال النوري وسنده على شرط الشيخين".
(13/) کے فائدے میں نظر چلی ہے - و بالملاحظہ کی جائے
جلانے والے ہیں -
اور ہو کہ حدیث میں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والوں کی وعید میں جو الفاظ ذکور ہیں وہ ہیں
جس "المتخذین عليها السرُج" جن کے حقیقی معنی میں قبروں کے اوپر چراغ جلانے والے مستحق
لعنت ہیں، نہیں کہ قبروں کے پاس چراغ جلانے والے حرف "علی" کو جس کے معنی (اوپر) کے ہیں
" عنہ" لیعن (نزدیک) کے معنوں میں استعمال کرنا مجاز سے اورسی لفظ کے معنی مجازی اس وقت مراد
لے جاسکے ہیں جب اس لفظ کے حقیقی معنی نہیں سکتے ہوں، چونکہ یہ حال حقیقی معنی بن سکتے ہیں اس لے
" المتخذین عليها السرُج " کی وعید میں یہود و نصاری اور مشرکین داخل ہوں گے جو قبروں کے
اوپر چراغ جلا کرتے ہیں اور چوکہ مسلمانوں کوانگراہوں کی مشابہت اوراس عمل سے بازرکہنامقصود
تحاس لے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان اعمال سے بازر ہیں
اور ان کی مشابہت نہ کریں -
" المتخذین عليها السرُج" کے جومع اختیار کے گے ہیں ان کی تا تیر علیہ سید عبد الغنی
نا بلسی رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف انیف حدیقدندیہ، ثرٰح طریقہ محمدیے بهوتی بے کیون کے علامہ موصوف
اس حدیث کے اس طرح کی شرح میں فرماتے ہیں "والسرج" ای اللذین يوقدون السرج
عَلَى القبور عبادًا من غير فائدة" لیعن قبروں پر چراغ جلانے کی وعید ان لوگوں پر صدق آئے گی
– (جو قبروں کے اوپر بلا ضرورت بل فائدہ چراغ روشن کرتے ہوں –)
جب بیبات ثابت ہوچکی کہ حدیث ثریف کے الفاظ "المتخذین علیہا السراج" کے
حقیقتی معنی بن سکتا ہیں تو وعید میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو قبروں کے اوپر چراغ روشن کرتے
ہوں اور وہ حضرات جو قبروں کے پاس چراغ روشن کرتے ہوں اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے۔
واضح ہو کہ قبروں کے پاس چراغ لگانے کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں: (1) ایک ضرورتاً اور
(2) دوسرا بلا ضرورت – قبروں کے پاس بلا ضرورت چراغ روشن کرنا اسراف ہے اور اسراف کے
شک ممنوع ہے، نیز چراغ کے روشن کرنے سے قبر کی تعظیم یا قبر کی زیانت مقصد ہے تو ان صورتوں میں
جو قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا ممنوع ہوگا کیون کہ یہ تین شرعًا ممنوع ہیں، البته صاحب قبراو راولیاء
کرام کی تعظیم مقصود ہوتا اس نیت سے قبروں کے پاس چراغ روشن کرنا اسراف نہ ہوگا بلکہ شرعًا محبوب
اور مطلوب ہے –
ان قبروں کے پاس ضرورتاً چراغ روشن کرنے کے جواز میں آیت "ولقد زينا السماء
الدنيا" کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر روح البيان اس طرح باطق ہے:
"و کذا یقاد القنادیل والشموع عند قبور الاولياء والصلحاء من باب التعظيم
والاجلال ايضاً لاولياء، فالمقصد منها مقصد حسن . و نذر الزيت والشموع لاولياء
یوقد عند قبورهم تعظیماً لهم، و محبتهم جائز ايضاً، لا ينبغي النهى عنه".
تفسیر روح البيان میں ہے کہ (اولیاء اور صلحاء کے مزارات کے پاس قنادیل اور فانوس روشن
کے جاسکے ہیں، کیونکہ یہ ان کی تعظیم اور برزگی کا سبب ہے، اس لے پیعدہ مقصد ہے، اس طرح روغن
زیتون اور موم کی مزارات کے قریب جلانا اس سے نہیں اولیاء اللہ کی تعظیم اور مجحت ظاہر ہوتی ہے اس لے
ان چیزوں سے مزج کرنا مناسب نہیں –)
علاء نے تصرح فرماتے ہے کہ فعل مبارح پہی حسن نیت سے ثواب ملتا ہے – چنانچہ روح الباری
شرح تحجاري"میں ذکور ہے:"ان المباح قد يرتفع بالنية الى درجة مايثاب عليه"کسی امر مبارح کو اچھی نیت سے انجام دیاجائے تواس پر بھی ثواب ملتا ہے)- اس طرح ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم کی غرض سے ان کی قبروں کے پاس چراغون کو روش کرنا حصول ثواب کا زریمہ-
علامہ نا بلسی رحمۃ اللہ علیہ "حدیقتندی"میں ارشاد فرماتے ہیں:"اخراج الشموع الی القبور بدعة و اتلف المال، کذا فی البزازية، هذا کله اذا خلا عن فائدة. وأما اذا كان موضع القبور مسجدا على الطريق، او کان هناك احد جالسا، او کان قبر ولی من الاولياء، او عالم من المحققين تعظيماً لروحه المشرقة على تراب جسده کاشراق الشمس على الارض اعلاما للناس انه ولى ليتبرکوا به، ويدعوا الله عنده فيستجاب لهم، فهو امر جائز لا منع فيه. وانما الاعمال بالنيات"12.
برزایی میں ذکور ہے کہ قبروں کی طرف مووم بتیون کا لے جانا بدعت ہے اور مال کا ضائع کرنا سے جگہ چراغون کا روش کرنا کسی فائدے سے خالی ہواور اگروبال قبرستان میں مسجد ہو یا قبرستان سرراہ واقع ہواور قبر کے پاس کوئی شخص بیٹھا ہوا، کسی ولی یا حقیقین علماء میں سے کسی عالم کا مزار ہے تو ان صورتوں میں چراغون کا روش کرنا جائز ہوگا کیونکہ یہ ان کی روح مبارک کی تعظیم کا سبب ہے جواپنہ بدن کی خاک پراس طرح تجلی ظاہری سے جس آفتاب زمین پراوروبال چراغ کے روش کرنے سے لوگ واقف ہوسکیں گے کہ یہی ولی کا مزار ہے جن سے وہ برکت حاصل کریں گے اوروال اللہ تعالی سے دعا ماگمیں گے کہ ان کی دعا قبول ہوجائے تو ایا امر جائز ہے جس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اس لئے کہ اعمال کا دار نیت و پربہ-
جمع الجماریں"والمتخذین عليها السرج"کی شرح کرتے ہوئے بیکھاہے جس کا ذکر نسلی کے حاشیہ پر بھی ہے:"وان کان ثم مسجدا وغيره ينتفع فيه للتلاوة والذكر فلا باس بالسراج فيه"(اگر قبر کے پاس مسجد ہواور کوئی ایسی جگہ ہو جہاں قرآن کی تلاوت اور ذکر کیا جاتا ہے تو اس جگہ چراغ جلانے میں کوئی حرجم نہیں ہے-
حضرت شاہ عبد الحی مدثر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ "شرح سفر السعادة"میں ارشاد فرمایہے
"انداختن غلاف بر قبر شريف و افروختن چراغ ها و غيرها تكلفات
که بر مزارهائے اولياء الله جمله از مستحسنات اند" (قبر شریف پر غلاف
والا اور اولياء اللہ کے مزارات کے پاس چراغوں کا روشن کرنا اور اسے تی تكلفات کا استعمال مستحسن
ہے۔)
حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لا تجتمع أمتي على الضالة" (میری امت
گمراہ پڑھ نہیں ہوگی)
ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے: "من سن في الإسلام سنة فعمل بها بعدة كتب له
مثل أجر من عمل بها، ولا ينقص من أجورهم شيء".
(جو کوئی اسلام میں کسی اٹھطریقے کو جاری کرنے کے بعد اس طریقے پر عمل کرے تو اس شخص کو بعد کے عمل کرنے والوں کے ثواب کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اور اگر کوئی لوگوں کے ثواب میں کسی فتنہ کی کی نہیں ہوگی) ان دونوں حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ علماء صلاح کا فضل ویل ہے
اور ہر بدعت گمراہ نہیں۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراوتہ باجماعت کو قائم فرمایا۔
"نعْمَتُ البُدْعَةُ هذه" (تراوتہ باجماعت کیا اچھی بدعت ہے) اس لئے ہر بدعت کو گمراہی نہیں
نادرانی کی بات ہے۔
امام اجل علامہ سید ابو الحسن علی نورالدین بن عبد اللہ الدینی قدس سره اپنی کتاب، خلاصة الوفاء
لمصطفى، میں فرماتے ہیں روضۃ النورصلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کا سامان سونے اور چاندی اور
اس کے مثل اور کچھ چیزوں کی قند میں جو روشنی مطبوع ہے کے گرد آویزاں کی جاتی ہیں مجھے معلوم نہیں کہ اس
کی ابتدا کب سے ہے۔ بالامام حافظ الحدیث محمد بن محمد نجار رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "الدرۃ
الشمینة فی اخبار المدينة" میں فرمایا ہے کہ سقف مسجد کریم کے انتہائی حصہ میں جو دیوار قبلہ سے جگرہ
مقدس سے تک ہے چاپیس سے زیادہ قند میں آویزان ہیں ایک سونے کی اوردوبلوکی اور چھوٹی بلی نقرودی
قدر میں منقش اور سادہ ہیں جن کو سلطان اور امراء اپنی حکومت کی طرف سے حاضر کیا کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روشنی خاص روڈہ النورعلی صاحب الصلاۃ والسلام کیلے ہوتی تھی اورصدہ
سال سے اس کا روایج تھا۔ میں یہ بات کہی واشہ وجہ یہ کہ حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جگرہ
مقدّس میں حضرت صدیق اکبر، اور حضرت فاروق عظیم رضی اللہ عنہما کو آرام فرما ئیں اور روضہ کے گرد صد باسال سے روشنی جائی بے، جس سے تلاوت قرآن اور زکرو غیرہ میں فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اور صحابہ کرام کے زمانے سے آج تک یہاں چراغون کے روشن کرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ امام اجل تقی الملة والدین ابوحسن علی بن عبد الکافی (سبک) رحمہ اللہ (متوفی:756ھ) نے اس باب میں ایک کتاب تالیف فرمائی بے، جس کا نام "تنزیل السکينة علی قناديل المدينة" ہے اوراس میں ثابت کیا ہے کہ مزار مبارک کے آس پاس روشنی کرنی جائزہے اوراس پرحتم البی کا سکینہ اترتا ہے۔ بعض حضرات قبور کے پاس چراغ روشن کرنے کواس لے ناجائز قرار دیتے ہیں کہ قبروں کے پاس آگ کا لے جانا آثار وحشمنے سے حالاکہ اغرات کے وقت تذکیر عمل میں آری ہے تو قبر کے پاس چراغ لے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ علماء علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ثریح بخاری میں ضرورتا قبر کے پاس چراغ لے جانے کے جواز میں کئی روایتوں نقل فرمائی ہیں بلکہ نمونہ ایک حدیث یہاں نقل کی جائے ہے:
(ابوداود نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ چند لوگوں کو قبرستان میں آگ نظرآتی تو وہال پنچ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے دوست کو نہ دیو ( کہ میں اس کو قبر میں اتاردول )اور وہ وی صحابی تھے جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتے تھے۔ ( اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور اس کو نج قرار دیا ہے اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی سنہ بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔ ) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبرستان میں ضرورتاً چراغ لے جاسکتے ہیں، اس لے وہ حضرات جو قبروں کے پاس مطلقاً چراغ لے جانے کوآثار وحشمنے بتا کر نا جائز قرار دیتے ہیں ان کا استدلال یچاہے۔
علاؤہ از یاگر آگ کوآثار جتنم کی وجدت مردو اور قبر کے پاس لے جانا حرام قرار دیا جاتا تو
میت کو گرم پانی سے غسل کا حکم نہیں دیا جاتا کیون کہ رم پانی بھی آثار جتنم سے ہے۔
قال اللہ تعالی " يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ"۔(سورۃ
نج،پ:17،ع:2،آیت نمبر:19)(روزخیول کے سرون پرتے گرم پانی بھی اجاۓ گا)
حال انکہ مردو کو گرم پانی سے غسل دیناشرعاً مطلوب ہے، چنانچہ درختار میں ذکور ہے:
"يُصَبُّ عَلَيْهِمَا مَاءٌ مُغْلَى بِسَدْرٍ إِنَّ ثَيَّسَرَ وَإِلَّا فَمَاءٌ خَالِصٌ"(غسل میت کیلئے
اگریہی کے پتوں کا گرم شدہ پانی مل جائے تو بہتر ہے ورنہ خاص گرم پانی کافی ہے)-
پس ثابت ہوا کہ گرم پانی کے آثار جتنم ہو نے کے باوجود مردو کیلئے اس کے استعمال میں کوئی
مضاضہ نہیں ہے بلکہ یہ ما مور بنے اس طرح قبروں کے پاس چراگ جلانا بھی جائز ہوگا اور آثار جتنم کی
توجیہ کر کے قبروں کے پاس چراگ جلانے کی مما نعت کو نہ بت کرنا غیر صحیح ہوگا-
الغرض ان سارے دلالت سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کے پاس چراگوں کو روش کرنا حسب
ذیل اغراض کی بناء پر جائز ہے:
(1) و بالمسجد ہو کہ نمازیوں کو جی آرام ہوگااور مسجدمیں بھی روح نہوگی-
(2) مقابرسرائے کے روشنی کرنے سے راہرو کی نفع پائے گااور اموات کو جی کر مسلمان مقابر
مسلمین کو دکیہ کر سلام کریں گے قرآن پڑھیں گے، دعا کریں گے اور ثواب پہنچا میں گے، گذر نے
والوں کی قوت زاں دے تو اموات کو نفع پائے گا اور اموات کی قوت زاں دے تو گذر نے والے فیض حاصل
کریں گے-
(3) مزارات اولیاء کرام کے پاس روشنی تو ان کی ارواح طیبی تنظیم کا سبب ہے جوموجب نہیں ہے
برکت سے
مسجد کی خدمت کا ثواب اور قرآن کے جو لنے کا گناہ
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves, (1) those who build mosques over graves, and those who place lamps on them. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i]
In a narration by Muslim, it is mentioned: "The Prophet (peace be upon him) said, 'I had forbidden you from visiting graves, but now visit them.'"
(1) Explanation of the statement: "The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves": In Sharh As-Sunnah, it is explained that this was before the permission was granted. When the permission was given, it included both men and women. The meaning of the permission is his statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now visit them, for they remind you of the Hereafter." This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is stated: "There is no harm in visiting graves, even for women, as mentioned in the hadith: 'I had forbidden you...' Rather, it is recommended, as stated in Al-Bahr from Al-Mujtaba, due to the command in the mentioned hadith. However, one should not abandon visiting graves because of the innovations and corrupt practices that occur at the graves of saints, such as mixing between men and women. Acts of worship should not be abandoned for such reasons. Rather, one should perform them and reject innovations, and even remove them if possible."
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے نوبسن لوکہ جولوگ تہہارے پہلے کی امت کے چوہ
اپنے انبیاء اور اپنے نیک لوگوں کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا کرتے تھے۔ نوب یادرہے کہ قبروں کو سجدہ گاہ
مت بنایا کرو میں تم کواس سے منع کر رہاہوں۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
انبیاء اور صلحا ء کے عین قبور کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت پرتیسری حدیث
It is narrated from Jundub (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Prophet (peace be upon him) say: "Indeed, those before you used to take the graves of their prophets and righteous people as places of worship. Do not take graves as places of worship, for I forbid you from that." [Narrated by Muslim]
عطاء بن لیسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ میری قبر کو بت نہ بنایا کر اس کی پوجا کی جائے۔ اس قوم پر اللہ کا غضب
غضب ہے کہ جس نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا ہے۔
(اس کی روایت امام ما لک نے مرسلا کی ہے۔)
It is narrated from 'Ata' ibn Yasar that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Allah, do not make my grave an idol that is worshipped. Allah's wrath became severe against a people who took the graves of their prophets as places of worship." [Narrated by Malik as a Mursal narration]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام جگہوں میں سب سے محبوپ ترین جگہ اللہ تعالی کے پاس مساجد ہیں اور سب جگہوں میں سب سے مبغوض ترین جگہ اللہ تعالی کے پاس بازار ہیں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The most beloved places to Allah are its mosques, and the most hated places to Allah are its markets." [Narrated by Muslim]
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کہ، انہول نے کہا کہ ایک یہودی عالم نے بی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب جگہوں میں سب سے محترم کونی جگہ ہے؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ جبریل علی السلام آنے تک میں خاموش رہوں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھرل تک کہ جبریل علی السلام تشریف لاے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تو جبریل علی السلام نے جواب دیا کہ اس بارے میں جس سے سوال کیا جارہہ وہ سوال کرنے والے سے زیادہ باخبر نہیں ہے لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالی سے پوچھون گا، پھر جبریل علی السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالی سے اس قدر قریب ہوا تھا کہ ایسی قربت میں کسی نصیب نہیں ہوتی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے جبریل (علی السلام) یہ قربت کیسی تھی؟ جبریل علی السلام نے فرمایا کہ میرے اور اللہ تعالی کے درمیان ستر ہزار نور کے پردے تھے، اللہ تعالی نے فرمایا کہ تمام جگہوں میں بدترین جگہ بازار ہیں اور تمام جگہوں میں محترم ترین جگہ مساجد ہیں۔
(اس کی روایت ابن حبان نے اپنے میں کی ہے اور امام احمد، ابویعلی، حاکم، طبرانی اور بزار نے بھی اس طرح روایت کی ہے اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that he said: A Jewish scholar asked the Prophet (peace be upon him), "Which land is the best?" The Prophet remained silent and said, "I will remain silent until Jibril comes." He remained silent, and Jibril came and asked. Jibril said, "The one being asked is not more knowledgeable than the one asking, but I will ask my Lord, the Blessed and Exalted." Then Jibril said, "O Muhammad, I drew closer to Allah than I have ever been before." The Prophet asked, "How was it, O Jibril?" Jibril replied, "There were seventy thousand veils of light between me and Him. He said, 'The worst places are its markets, and the best places are its mosques.'" [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih while Ahmad, Abu Ya'la, Al-Hakim, At-Tabarani, and Al-Bazzar also narrated something similar, and Al-Hakim authenticated it]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں میں سے گذر رتو میو کے کھاو، عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے باغات کیا ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیبی ہیں، سوال کیا گیا کہ میو کے کھانا کیا ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا إلهَ إَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ" پڑھنا (جب میو کھانا ہے۔ اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ مسیب میں "سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا إلهَ إَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ" پڑھنا چاہئے، واضح ہوکہ ان کلمات کے پڑھنا کی جوڑ غیب وارد ہے اس سے مقصود نہیں کہ صرف ای کلمات کا پڑھنا مختص ہے بلکہ ان کلمات کا ذکر تمشیلاً ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے۔ (مرقات)12۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you pass by the gardens of Paradise, graze in them." It was asked, "O Messenger of Allah, what are the gardens of Paradise?" He said, "The mosques." It was asked, "And what is grazing, O Messenger of Allah?" He said, "Saying: Subhan Allah, Alhamdulillah, La ilaha illa Allah, and Allahu Akbar." [Narrated by Al-Tirmidhi]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو (شہرت) کی نیت ذکر کے مخصوص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے واسطے مسجد بنانے تو اللہ تعالیٰ اس کیے جنت میں گھربانے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
It is narrated from 'Uthman (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever builds a mosque for Allah, Allah will build for him a house in Paradise." [Agreed upon]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجد بنانے جاتیں اور مسجد ول کو پاک و صاف رکھاجائے۔
اور ان کو خوشبودار کہا جائے - (اس کی روایت ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے-)
ہر مقام پر مسجد بنانے کا حکم
It is narrated from 'Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: The Messenger of Allah (peace be upon him) ordered that mosques be built in residential areas, that they be cleaned, and that they be perfumed. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah]
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے نمازندوں کے طور پر حاضر ہوئے، تم آخیرت صلی اللہ علیہ
وسلم سے بیعت کر کے مسلمان ہوئے تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تم نے حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ ہماری سرز میں میں ہمارا ایک گرجاہ اور تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے
حضور کے استعمال شدہ پانی کو طلب کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا: آپ نے وضو فرمايا
اور تم کی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ہمارے ایک برتن میں دال دیا اور تم کو حکم دیا کہ جاؤ
اور جب تم اپنی سرز میں میں پہنچ جاؤ تو اپنے گرجا کو توڑ دو اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دو، اور وال
مسجد بنالو تم نے عرض کیا کہ ہمارا وطن دور سے اور اس وقت سخت گرمی ہے اور پی پانی تو خشک ہوجائے
گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوسرا پانی اس میں ملا کر اس کو برہالو، اس میں پانی ملا
نا پایا کی اور برکت میں کو بڑھا لے گا-
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
مسجد ول کو بلند بنانے اور ان کو آراستہ رکھنے کا ثبوت
It is narrated from Talq ibn 'Ali that he said: We went as a delegation to the Messenger of Allah (peace be upon him), pledged allegiance to him, and prayed with him. We informed him that we had a church in our land, so we asked him for some of the leftover water from his ablution. He called for water, performed ablution, rinsed his mouth, and then poured it into a container for us. He instructed us, saying, "Go, and when you reach your land, demolish your church and sprinkle this water in its place, then make it a mosque." We said, "The land is far, the journey is difficult, and the water will dry up." He said, "Mix it with water, for it will only increase in purity." [Narrated by Al-Nasa’i]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسجد ول کو بلند کرنے اور ان کو آراستہ کرنے
اور اس میں نقش و نگار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے - اب عباس رضی اللہ عنہما نے (انسانول کے حالات
کے پیش نظر پیش کوئی فرمايی) کہ تم یقیناً مسجد ول کو اس طرح آراستہ کرو گے کہ جس طرح یہودو
نصاری نے ان کو سونے کے نقوش سے آراستہ کر رکھا تھا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے "مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ" (اللّٰتعا لی کی جانب سے
مجھے مسجدول کو بلند کرنے، ان کو آراستہ کرنے، اور ان میں نقش و نگار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ) اس
حدیث کے پیش نظر اب بطال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مسجدول کی تعمیر کے وقت ان کی بلندی، آراستگی
اور نقش و نگار میں اعتدال کا خا ظر کرنا اور غلو سے پرہیز کرنا مستون ہے؛ کیونکہ ان چیزوں میں غلو کرنے
سے فتنہ اورخر و مبائت میں متلاہوجا نے کا اندیشہ ہے۔
واضح ہوگا ا بن بطال رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول سے مسجدول کی بلندی آراستگی اور سونے کے نقش
و نگار میں غلو سے ممانعت ظاہر ہو رہی ہے نہ کہ نفس فعل سے، اس لے مسجدول کی بلندی، آراستگی اور
سونے کے نقش و نگار سے زینت کی نفس مبارح ہے جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی قسم کی
زیادتی نہیں فرمائی، البته حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باوجود کثرت مال کے طول و عرض میں کسی قدر اضافہ
فرما لیکن مسجد کی تج دیدان، اشیاء سے فرمائی جن اشیاء سے مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) حضورا کرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تیار کی گئی تھی، یعنی مسجد کی دیواریں پختا اینٹ سے ستون کھجور کے
تنول سے اور چھت کھجور کی شاخوں سے اور بلندی ویسی جو حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی۔
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کافی
اضافہ فرما اور دیواروں کو اینٹ کے بجا ئے منقوش پتھرول اور چھت سے او رستونوں کو کھجور کے تنول کی
بجا ئے منقش پتھر کے، اور چھت کو کھجور کی شاخوں کی بجا ئے ساگوانی کلری سے تعمیر فرما یے۔
الغرض ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی، زینت اور نقش و
نگار کا خا ظر کیا کہ نہیں کیا کہ نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور ان
دونوں حضرات رضی اللہ عنہما کو بعد کے آنے والے مسلمانوں کیلئے اس و نیا میں اعتدال، زہداور کفایت
شعاری کی تعلیم دینی مقصود تھی۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ و لید بن عبد الملک بن مروان پہلا شخص ہے جس نے
مسجدول کوسونے نقش و نگار سے آراستہ کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا آخری زمانہ تا اوراس زمانے کے علماء نے فن کے اندیشے و لپید کے مسجدول کو نقش و نگار میں غلو کرنے پر تنبیہ فرمائی۔ ابن نمیر رحم اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے جب اپنے گھروں کی تعمیر میں بلندی، آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت کا رواج شروع کیا تو مسجدول کی تعمیر میں بھی ان چیزوں کا لاحظ مبارح قرار دیا گیا تا کہ عوام کی نظر میں مسجدی حقرت نہ معلوم ہو نے لگیں۔ امام اللہ حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے کہ مساجد کی تعمیم کے پیش نظر مسجدول کی تعمیر میں ان کی بلندی، پختگی، آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت دی جاسکتی ہے بشرط کہ بیت المال اور اموال وقف پر صرف عائد کیا جائے۔ علامہ شی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "الكافی شرح الوافی" میں فرماتے ہیں "وزينة مسجد شئ عظیم و فی ذالک ترغیب الناس فی الجماعة و تعظیم بیت اللہ" (مسجد کی زینت برے عظمت کی چیز ہے کہ اس سے نصرف لوگوں میں جماعت کی ترغیب ہوتی ہے کہ بلکہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیم کا سبب ہے)۔ مسجد کی زینت کے جواز میں حضرات امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی تفسیر کی جوہے ہوتی ہے، اولاً خود اس حدیث کے الفاظ "ما امرت" سے مسجد کی زینت کی تائید ہوتی ہے اگر مسجدول کی بلندی، پختگی، آراستگی وغیرہ کی صریحاً ممانعت مقصود ہوتی تو حدیث میں "ما امرت" (مجھے حکم نہیں دیا گیا) کی جگہ "نهیت" (مجھے منع کیا گیا ہے) ارشاد ہوتا کیون کہ عدم حکم سے عدم جواز ثابت نہیں ہوتا اور اس طرح خود حدیث سے مجھ مسجد کی بلندی اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ ثانیاً مسجد کی پختگی، آراستگی، نقش و نگار پر سب سے قوی دلیل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل ہے جس کی تفصیل ابھی اوپر گزر چکی ہے، کیون کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "علیکم بسننتی و سنۃ الخلفاء الراشدين" ار (تم میری اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم کر لوجو ہدایت یافتے ہیں...... ار) ثالثاً یہ کہ مسجد کی بلندی پختگی، آراستگی اور نقش و نگار پر عمل قرون اولی سے جاری ہے جو دراصل پوری امت کا تعالی ہے جس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے: "مارآہ المسلمین حسناً فهو"
عند اللہ حسن” ( جو عمل مسلما نوال کم جوب سے وہ اللہ تعالیٰ کو بھی محبوب ہے ) تو اس حدیث “ ما رآه
المسلمون ” ان کے پیش نظر اجماع امت سے مسجدول کی بلندی، پختگی، آراستگی او نقش و نگار کا جواز
حاصل ہوتا ہے بشرط کہ نمو و نماش سے دور رہ کر خالص رضاء اللہ کے حصول کی غرض سے پکام کے
جا ئے
( پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں “ عمدۃ القاری ” سے لیا گیا ہے - )
مسجد کی زینت و زیبنت کی نیت سے جائز نہیں ہے
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I was not commanded to elevate mosques." Ibn 'Abbas said, "You will decorate them just as the Jews and Christians decorated theirs." [Narrated by Abu Dawud]
In this hadith, it is stated: 'I have not been commanded to elevate the mosques' (meaning that Allah has not commanded me to raise the mosques, adorn them, or decorate them with paintings). In light of this hadith, Ibn Batthal (may Allah have mercy on him) said that during the construction of mosques, moderation should be observed in their elevation, decoration, and painting, and extravagance should be avoided, because there is concern that extravagance in these matters may lead to fitnah and discord.
It is clear from Ibn Batthal's (may Allah have mercy on him) statement that he opposes extravagance in the elevation, decoration, and gilding of mosques, not the acts themselves. Therefore, the elevation, decoration, and gilding of mosques are not inherently prohibited; the details of this will follow.
Abu Bakr (RA) did not indulge in any excesses during his caliphate in the construction of the Prophet’s Mosque (peace be upon him). However, Umar (RA), despite having abundant wealth, made some extensions in length and width but did not change the appearance of the mosque or use materials different from those used during the blessed era of the Prophet (peace be upon him), which were walls made of baked bricks, pillars made of date palm trunks, and a roof made of date palm branches, with the height as established by the Prophet (peace be upon him).
When Uthman (RA) became caliph, he made significant additions to the Prophet’s Mosque (peace be upon him). He replaced the brick walls with engraved stones, the date palm trunks with engraved stone pillars, and the date palm branches with teak wood for the roof.
The purpose of both these noble companions (RA) was not to elevate, decorate, or paint the mosque, but rather to show that the Prophet (peace be upon him) had not been commanded to do so, and to teach future Muslims moderation, asceticism, and sufficiency in this regard.
Al-Aini (may Allah have mercy on him) states that Walid bin Abdul Malik was the first person to adorn mosques with gold and paintings. The last of the Companions (RA) and the scholars of that time warned against extravagance in the decoration of mosques with art and sculpture. Ibn Nama (may Allah have mercy on him) says that when people began to build their houses with height, decoration, and gilded paintings, similar attention was given to the construction of mosques to ensure that they retained their dignity in the eyes of the public. Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) also opined that in the context of the expansion of mosques, their construction can include height, solidity, decoration, and gilded paintings, provided that the funds come from the public treasury and endowments. Al-Shirazi (may Allah have mercy on him) in his book 'Al-Kafi Sharh Al-Wafi' states: 'The decoration of the mosque is a great matter, and in this, there is encouragement for people to gather and to honor the House of Allah.'
The permissibility of decorating mosques is based on the interpretation of the statement of Imam Azam (may Allah have mercy on him). First, the words 'ma amirtu' (I have not been commanded) in the hadith indicate that the decoration of mosques is permissible, for if explicit prohibition of the elevation, solidity, decoration, etc., of mosques were intended, the hadith would have used 'nahi' (I have been forbidden) instead of 'ma amirtu' (I have not been commanded), as the absence of a command does not imply prohibition. Thus, the hadith itself indicates the permissibility of the elevation and decoration of mosques. Second, the strongest evidence for the permissibility of the solidity, decoration, and painting of mosques is the action of Uthman (RA), as detailed above, because the Prophet (peace be upon him) said: 'Adhere to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided caliphs.' Third, the practice of elevating, solidifying, decorating, and painting mosques has been ongoing since the early centuries, which is essentially the consensus of the entire ummah, as indicated by the hadith: 'What the Muslims find good is good in the sight of Allah.' Thus, from the hadith 'ma ra'ah al-Muslimun,' the permissibility of the elevation, solidity, decoration, and painting of mosques is derived from the consensus of the ummah, provided that it is done without ostentation and with the pure intention of pleasing Allah.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ ( مسجدول کو نقش و نگار سے آراستہ
کریں گے اور مسجدول میں ذکر اور تلاوت قرآن کی جگہ ) مسجدول کو جوآراست کیا ہے اس پرابھتم
فخر کیے گے -
( اس کی روایت ابوداوود، نساوی، دارقی اور ابن ماجہ نے کی ہے )-
( قوسین کی عبارت عمدۃ القاری سے لیا گیا ہے -12)
ف : علامہ نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الكافی شرح الوافي میں اس حدیث کے حوالے سے
کہتا ہے کہ “ مسجدول کی بلندی ” آراستگی اور سونے کے نقش و نگار سے زینت، ان کامول کو اگر تعظیم
مسجد کیلئے انجام دیا جائے تو محض ان چیزوں کے قیامت کی نشانی ہونے کی وجہ سے ان کی قبولت
ثابت نہیں کی جاسکتی، کیونکہ یہ چیز کے قیامت کی نشانی ہونے کی وجہ سے اس کو برائی کے قرار دیا جاسکتا
اگر ان چیزوں کو علامات قیامت ہونے کی وجہ سے برائی کی جانب تو کیا حضرت علی علیہ السلام کے زوال
کو بھی برائی کی جانب تو کیا حضرت کے زوال کو بھی علامات قیامت میں لیا گیا ہے
اور توان کیے زیارت قبور کے جائز ہونے کا ثبوت عین قبرول کو بدہ گاہ بنانے یا عین
قبرول پر چراغ روشن کرنے کی ممانعت
Among the signs of the Hour is that people will adorn mosques with paintings and decorations, and they will take pride in the embellishment of mosques, instead of the remembrance and recitation of the Quran in them.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کر نے والی عورتوں پر قبول کو جہدگاہ بنانے والوں پراورقبرول کے اوپر
چراغ لگانے والوں پر لعن فتحی ہے۔
(اس کی روایت ابوداوود نے اورنسائی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves, (1) those who build mosques over graves, and those who place lamps on them. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i]
In a narration by Muslim, it is mentioned: "The Prophet (peace be upon him) said, 'I had forbidden you from visiting graves, but now visit them.'"
(1) Explanation of the statement: "The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves": In Sharh As-Sunnah, it is explained that this was before the permission was granted. When the permission was given, it included both men and women. The meaning of the permission is his statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now visit them, for they remind you of the Hereafter." This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is stated: "There is no harm in visiting graves, even for women, as mentioned in the hadith: 'I had forbidden you...' Rather, it is recommended, as stated in Al-Bahr from Al-Mujtaba, due to the command in the mentioned hadith. However, one should not abandon visiting graves because of the innovations and corrupt practices that occur at the graves of saints, such as mixing between men and women. Acts of worship should not be abandoned for such reasons. Rather, one should perform them and reject innovations, and even remove them if possible."
اورمسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا کہ میں
نے تم کو (خواہ مردوہو یا عورتین)زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب میں تم کو اجازت دیتاہوں کے قبرول کی
زیارت کیا کرو، (کیون کہ قبرول کی زیارت سے آخرت کی یادتاژہوتی ہے۔)
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کو مستثنی لعن قرار دیا ہے
(1) قبرول کی زیارت کرنے والی عورتین (2) قبرول کو جہدگاہ بنانے والے (3) قبرول کے اوپر چراغ
لگانوالے-
(1) واحہوکر اس حدیث میں عورتوں کیلئے زیارت قبور سے جوممانعت ثابت ہو رہی ہے وہ
مسلم کی اس حدیث سے منسوخ ہے: کُنتُ نَهیْتُکُمْ عنْ زِیَارَةِ القُبُورِ فَرَوْؤُوها؛ لَا نَها تُذَکّرُ
الآخِرَۃَ، میں نے تم کو (خواہ مردوہو یا عورتین) قبرول کی زیارت سے منع کیا تھا ب میں تم کو (مرد
ہوں کہ عورتین) اجازت دیتاہوں کہ قبرول کی زیارت کیا کرو اس لے کہ قبرول کی زیارت سے
آخرت کی یادتاژہوتی ہے۔-
امامترمزی رحمۃ اللہ علیہ عورتوں کیلئے زیارت کے جواز میں حدیث: "لَعنَ اللہُ زَائرَاتِ
القُبُورِ" کی روایت کے بعد فرما تے ہیں:"قد رأى بعض اهل العلم ان هذا كان قبل ان
یرخص النبی صلی الله علیہ وسلم فی زیارة القبور، فلما رخص دخل فی رخصته
الرجال والنساء".
(امامترمزی فرماتے ہیں کہ بعض ابل علم کی خفیق یہ کہ قبور کی زیارت کرنے والی عورتوں پر
لعنہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے مردو عورت ہردومنع
فرما دیا تھا، اورجب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی اجازت دے دی تو پیا جازت مردوں کے
ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حاصل ہوگی ہے) کیون کہ شریعت کا پیعام قاعدہ ہے کہ اامر و نواہی بالعموم
مرد ول کو دی جائے ہیں اور چونکہ عورتین مردول کے تانع ہوئی ہیں اس حثیت سے سارے احکام
عورتوں سے بھی متعلق ہوجائے ہیں۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ ثر ح بخاری میں لکھتے ہیں: واحتج من أباح زيارة القبور للنساء
بحديث عائشة رضى الله عنها رواه في التمهيد من رواية بسطام بن مسلم عن أبي
التّياح عن عبد اللہ بن أبی ملیکة أن عائشة رضی اللہ عنہا أقبلت ذات يوم من
المقابر فقالت لها: يا أم المؤمنين! ممن أين أقبلت؟ قالت: من قبر أخي عبد الرحمن
بن أبي بكر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، فقالت لها: أليس كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ينهى عن زيارة القبور؟ قالت: نعم؛ كان ينهى عن زيارتها ثم أمر بزيارتها".
(حن حضرات نے عورتوں کیلئے زیارت قبور کے جواز کے بابت کیاہے وہ ام المومنین عائشہ رضی
الله عنها کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو تمہیں میں مروی ہے - بسطام بن مسلم رضی اللہ عنه
ابوالتجار رضی اللہ عنه کے واسطے عبد اللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنه سے روایت کرتے ہیں کرام
المومنین عائشہ رضی اللہ عنها ایک دن قبرستان سے تشریف لا رہی تھیں، ابنا ابی ملیکہ رضی اللہ عنه کہتے
ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ام المومنین رضی اللہ عنها آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ ام المومنین
رضی اللہ عنها ارشاد فرماتیں ہیں کہ میں اپنے بجاٹی عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنهما کی قبر کی زیارت
کرنے آرہی ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت قبور سے منع نہیں فرماتے
تھے؟ ام المومنین رضی اللہ عنها جواب دیں، بل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتداء اسلام میں) قبروں کی
زیارت سے منع فرماتے چھڑ بعد میں آپ نے (مرداور عورتوں) دونوں کو اجازت دے دی-
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور کی ممانعت کے اسباب بتاتے ہوئے
فرماتے ہیں: "النهی عن زيارة القبور انما كان في اول الاسلام عند قربهم بعبادة
الوثان واتخاذ القبور مساجد، فلما استحكم الاسلام، وقوى في قلوب الناس،
وأمنت عبادة القبور والصلاة اليها نسخ النهي عن زيارتها؛ لانها تذكر الآخرة
وتزهد في الدنيا".
( علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں زیارت قبور سے ممانعت محض اس لے
جب وین کا استحکام ہوگیا اور لوگون کے دولن میں اسلام کی عظمت قوي ہوئي اور قبروں کی پستش اور قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا کا اندیشہ دور ہوگیا تو قبروں کی زیارت سے ممانعت منسوخ کردی گئی اس لے کر زیارت قبور آخرت کی یاداوردنیا سے بے غرض کا سبب ہے۔ حضرت شاہ عبد الحق رحمۃ اللہ علیہ لمعدات میں فرماتے ہیں کہ زیارت قبور مستحب ہے کیون کہ اس سے قلب میں رقت پیدا ہوتی ہے، موت کی یادتاژ ہوتی ہے اور فقائدونیا کاخاکے سامنے آ جاتے ہیں، میت کمیلے وعاء اور استغفار کا موقع حاصل ہوتا ہے جمع مشاع صوفی کرام اور بعض فقهاء فرماتے ہیں کہ ابل کشف اور کاملیں کے نزدیک پراکی حقیقت باطنتے ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بشارحضرات کو ارواح مقدسہ فیض حاصل ہواتے۔ امام نسا ئی رحمۃ اللہ علیہ "باب الامر بالاستغفار للمؤمنين" میں امام المومنین سیدنا علیؓ رضی اللہ عنهہ اسرودی اکی طول حدیث کا آخر میں روايت کرتے ہیں کہ : "فَاَمرْنی ان اتی البَقیع فَاستَغْفرَ لَهُمْ، قُلتُ کَیفَ اقُولُ یارسُولَ اللہ ! قالَ : قُولی "السّلامُ عَلی أهل الدِّيارِ مِنَ المؤمنینَ والمُسلِمينَ، فَیرحُم اللهُ المستقدِمينَ والمستأخِرینَ، وَانا ان شَآءَ اللہُ بکُم لاحقُونَ"۔ (امام المومنین علیؓ رضی اللہ عنهہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں بقیع (جسے مدینہ منورہ کے قبرستان کو )جاوں اور ابل بقیع کیے دعا کروں میں دریافت کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )میں کس طرح دعا کروں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عالمثر(رضی اللہ عنهہ) تم یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اے مسلمانوں کے قبوروالوں اور نزلول رحمت ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پیش رول پراورتمارے پیش ما ندول پراور بلاشبہ تم کہی تم سے ملنے والے ہیں-) امام نسا ئی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کروہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امام المومنین علیؓ رضی اللہ عنهہ کو ابل بقیع کی زیارت کا حکم دیا تاجمس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں دعا اور استغفار کیلے قبروں کی زیارت کرسکتی ہیں۔ درختارا ورداختارہ ردو کتابوں میں یہ ذکور ہے کہ حدیث "کُنتُ نَهيُکُم" کے پیش نظر
عورتوں کیلئے قبروں کی زیارت کرنے میں کوئی مضرۃ نہیں ہے۔ اہ بلکہ عورتوں کیلئے مستحب ہے کر وہ قبروں کی زیارت کریں اس کو بھی محتاطی کے حوالے سے کہتے کے بعد وا ضح کیا ہے کہ یہ حدیث "گنت نہیں تکم" ان کے حکم صرت کی بناء پر ہے۔ علاوہ از یہ امر میں کچھ بھی ذکور ہے، علم شامی، رداختار میں مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ بعض اوقات اولیاء کرام کی قبروں کے پاس بعض غیر مشروع امور ہوا کرتے ہیں، مثلًا مرد اور عورتوں کا جمع کی وجہ سے خلط ملط ہوجانا اور غیرہ تو ایسے نامشروعا مورکی وجہ سے زیارت قبور تک نہیں کرنا چاہئے کیون کہ زیارت قبور جیسے نیک کام کو بعض غیر مشروعا مورکی وجہ سے چھوڑ دینا مناسب ہے بلکہ انسان کو چاہئے کہ قبروں کی زیارت کرے اور بد عادات پر تمہی کرے اور اگر قدرت ہوتی اں غیر مشروعا مورکو آگل کر دے۔
(2) دومسرے اس حدیث میں جتن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق لعن قرار دیا ہے، وہ قبروں کو جہر گاہ بنانے والے ہیں۔ - واقع یہ کہ اس حدیث میں جو عیاد ذکور ہے وہ اس صورت میں صادق آتا ہے جب کہ یہود و نصاری کی طرح قبر کوبت بنانے سجدہ کیا جائے یا قبروں کو حصول رضاۓ اللہ کا ذریعہ بنایا کر نماز میں قبروں کی طرف رخ کیا جائے، اس کے برخلاف کسی ولی کے مزار کے قریب مسجد بنانے جانے اور اس میں بغرض تمبر ک نماز پڑھی جائے تو عمل اس عیاد میں داخل نہ ہوگا۔ چنانچہ علماء عینی رحمہ اللہ علیہ شرح جخاری میں قاضی بیداوی رحمہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ "لما کانت اليهود والنصاری يسجدون لقبور الانبياء تعظيماً لشأنهم ويجعلونها قبلة يتوجهون في الصلوة نحوها، واتخذوها او ثانا، لعنهم النبي صلى الله عليه وسلم ومنع المسلمين عن مثل ذلك فاما من اتخذ مسجدا في جوار صالح وقصد التبرك بالقرب منه لا للتعظيم له ولا للتوجه اليه فلا يدخل في الوعيد المذكور".
قصد کریں، بشرطیہ نفس قبر کی تخطیم مقصود نہ ہو اور قبر کی طرف نماز مین رخ نہ کیا جائے تو ایس حضرات اس
وعید میں داخل نہیں ہون گے۔
مرقات اور مجع التجار میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی ذکورہ بالاشرح کے بعد مرید پر اضافہ
ہے: "الا ترى ان مرقد اسماعيل عليه السلام فی المسجد الحرام عند الحطيم، ثم
ان ذالک المسجد افضل مكان يتحرى المصلى لصلاته".
( کیا تم نہیں دیکھتا ہو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مزار اقدس مسجد حرام میں حطیم کے اندر
واقع ہے اور اس جگہ کو مسجد حرام کے ان سارے مقامات میں فضیلت حاصل ہے جہاں نمازی کونماز
پڑھنا چاہئے - )
حدیث پہلے ( انپیاء اور علماء کے قبور کے قرب و جوار میں مسجِد بنانے کے جواز پر تفصیلی بحث 11 گیارہ
اولیاء اللہ کے مزارات کے قرب و جوار میں مسجِد بنانے کے جواز پر جگہ
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves, (1) those who build mosques over graves, and those who place lamps on them. [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Al-Nasa’i]
In a narration by Muslim, it is mentioned: "The Prophet (peace be upon him) said, 'I had forbidden you from visiting graves, but now visit them.'"
(1) Explanation of the statement: "The Messenger of Allah (peace be upon him) cursed women who frequently visit graves": In Sharh As-Sunnah, it is explained that this was before the permission was granted. When the permission was given, it included both men and women. The meaning of the permission is his statement: "I had forbidden you from visiting graves, but now visit them, for they remind you of the Hereafter." This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is stated: "There is no harm in visiting graves, even for women, as mentioned in the hadith: 'I had forbidden you...' Rather, it is recommended, as stated in Al-Bahr from Al-Mujtaba, due to the command in the mentioned hadith. However, one should not abandon visiting graves because of the innovations and corrupt practices that occur at the graves of saints, such as mixing between men and women. Acts of worship should not be abandoned for such reasons. Rather, one should perform them and reject innovations, and even remove them if possible."
In this hadith, the Prophet (peace be upon him) has declared three things as deserving of cursing: (1) women who visit graves, (2) those who make graves places of worship, and (3) those who light lamps over graves.
(1) This hadith indicates that women are prohibited from visiting graves, which is abrogated by the following hadith in Muslim: 'I used to forbid you from visiting graves, but now I permit you to visit them, for they remind you of the Hereafter.' The Prophet (peace be upon him) had initially forbidden both men and women from visiting graves, but later permitted it because visiting graves reminds one of the Hereafter.
Imam Tirmidhi (may Allah have mercy on him) states after narrating the hadith: 'Allah has cursed women who visit graves,' that some scholars opine that this curse applies to the time when the Prophet (peace be upon him) had forbidden visiting graves. When he later permitted it, both men and women were included in this permission, as the general commands and prohibitions are usually directed towards men, and since women are included in the category of men, all rulings apply to them as well.
Al-Imam Aini (may Allah have mercy on him) writes in his commentary on Bukhari: 'Those who permit women to visit graves argue based on the hadith of Aisha (may Allah be pleased with her), narrated in Al-Tamhid through Bistam bin Muslim from Abu Tiyaha from Abdullah bin Abi Mulayka, that Aisha (may Allah be pleased with her) once returned from the graveyard, and someone asked her, 'O Mother of the Believers, where do you come from?' She replied, 'From the grave of my brother Abdur Rahman bin Abu Bakr (may Allah be pleased with both of them).' They asked, 'Did the Messenger of Allah (peace be upon him) not forbid visiting graves?' She replied, 'Yes, he forbade it, but then he permitted it.'
Al-Imam Aini (may Allah have mercy on him) explains the reasons for the initial prohibition of visiting graves at the beginning of Islam: 'The prohibition of visiting graves was only at the beginning of Islam when people were close to worshipping idols and making graves places of worship. When Islam became firmly established and strong in people's hearts, and the fear of worshipping graves or praying towards them was removed, the prohibition was abrogated, as visiting graves reminds one of the Hereafter and makes one indifferent to worldly affairs.'
Shah Abdul Haq (may Allah have mercy on him) mentions in his commentary that visiting graves is recommended because it softens the heart, reminds one of death, and makes one indifferent to the world. It also provides an opportunity for invoking blessings and forgiveness for the deceased. Some Sufis and jurists state that, according to those who have spiritual insight and perfection, it is a reality that cannot be denied that the blessed souls of the saints receive divine grace. Imam Nasa'i (may Allah have mercy on him) narrates in 'Bab Al-Amr Bil-Istighfar Lil-Mu'minin' that Imam Ali (may Allah be pleased with him) said: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded me to go to Al-Baqi and seek forgiveness for them. I asked, 'How should I pray, O Messenger of Allah?' He said, 'Say: Peace be upon the inhabitants of these dwellings, O believers and Muslims. May Allah have mercy on those who have gone before and those who will follow. By the will of Allah, we will join you.'
This narration shows that the Prophet (peace be upon him) commanded Imam Ali (may Allah be pleased with him) to visit Al-Baqi and seek forgiveness for the deceased, indicating that women can also visit graves to seek forgiveness and invoke blessings. In Radd Al-Mukhtar and other books, it is mentioned that in light of the hadith 'Kuntu Nahaytukum,' there is no harm in women visiting graves; rather, it is recommended for them to visit graves to remember death and seek forgiveness. This is explained as being based on the command and not the prohibition. Furthermore, it is mentioned in Radd Al-Mukhtar that sometimes improper actions occur near the graves of saints, such as mixing of men and women, which can lead to impropriety. In such cases, visiting graves should be avoided to prevent these improper actions, as it is better to avoid good deeds if they lead to improper actions. Instead, one should visit graves and avoid bad habits, and if possible, remove the improper actions.
(2) The second group that the Prophet (peace be upon him) has declared deserving of cursing are those who make graves places of worship. This refers to the practice of building shrines like those of Jews and Christians, where prostration is made or graves are used as a means to seek Allah's pleasure, or prayers are directed towards graves. However, building a mosque near the grave of a saint and praying there for blessings, without venerating the grave or directing prayers towards it, does not fall under this prohibition. As Imam Aini (may Allah have mercy on him) writes in his commentary on Jami' Al-Tirmidhi, quoting Qadi Baydawi (may Allah have mercy on him): 'When the Jews and Christians prostrated to the graves of prophets out of reverence and made them qiblas for prayer, and turned them into places of worship, the Prophet (peace be upon him) cursed them and forbade Muslims from doing the same. If someone builds a mosque near a righteous person and intends to seek blessings from being near it, without venerating it or directing prayers towards it, they do not fall under this curse.'
In Mirqat and Majma' Al-Tijar, it is added after Imam Aini's (may Allah have mercy on him) explanation: 'Do you not see that the resting place of Ishmael (peace be upon him) is in the Sacred Mosque near the Hajar Aswad, and that this place is the most virtuous place to choose for prayer in the Sacred Mosque?'
The first hadith (regarding the permissibility of building mosques near the graves of prophets and scholars) and the detailed discussion on the permissibility of building mosques near the graves of the righteous will be discussed in detail in the next section.
(علمی عینی فرماتے ہیں کہ جب یہود و نصاری انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے خیال سے انپیا کرام کی قبروں کو جہر کرنے کے اور قبروں کو قبلہ بنانے نماز میں قبروں کی طرف رخ کرنے کے اور قبروں کو بت بنانے کر پوجنا شروع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعن فرمائی اور مسلما نوں کوہی ان افعال سے منع فرما ئے کہ جو صحاب کسی ولی صاحب کے قرب و جوار میں مسجد بنائیں اور ان صحاب قبر سے تقرب کا
انس رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ن ارشاد فرما یا کر (شب معرائیں ) مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کے گے - یہاں تک کہ مجھ
اس پر ان کا لئے کا ثواب جس پر کیا گیا اور میری امت کے گناہ مجھ پر مثبت کیے گے اور میں نے آدی کے گناہ سے برآگناہ نہیں دیکھا جس کو قرآن کا ایک سورہ یاد کیا ایک آیت یاد کی اور وہ اس کواس طرح بجول گیا (کر دیکر جس نہیں پڑھ سکتا تھے )۔(اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے )
It is narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The rewards of my Ummah were shown to me, even the reward for removing a speck of dust from the mosque. The sins of my Ummah were also shown to me, and I did not see a sin greater than a Surah or a verse of the Qur'an that a man was given and then forgot." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص کو کیسے کروہ مسجد کی خبرگیری کیا کرتا ہے ( جس نے مرمت کرتا ہے، جحا ئر و دیتا ہے، اس میں نماز پڑھتا ہے مسجد میں چراغ روشن کرتا ہے اور ذکر و عبادات اور علوم دین کے درس میں مشغول رہتا ہے ) تو تم اس کے لئے مومین ہونے کی شہادت دے دواس لئے کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : " اَنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ اَمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ "۔ (سورۃ توبہ،پ:10،ع:3،آیت نمبر:18) ( حقیقت میں اللہ کی مسجد ول کو وہ آبا در کہتے ہیں کہ جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لا یے ہیں - (اس کی روایت ترمذی، ابن ماجرا ورداری نے کی ہے )
It is narrated from Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you see a man frequenting the mosque, testify to his faith, for Allah says: 'The mosques of Allah are only maintained by those who believe in Allah and the Last Day.' (Qur'an, At-Tawbah 9:18)." [Narrated by Al-Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Darimi]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کی نماز باجماعت اس کے گھر کی اور بازار ( جس نے دو کان ) کی نماز پچپس نماز ول کی فضلیت رکتی ہے، اس لئے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح جمل احکام کی پابندی کے ساتھ پورا وضو کرتا ہے، پھر مسجد کو نماز کی خاطر جاتا ہے تو اس کے بہترقدم پراس کا ایک ایک درجہ بلند ہوتا جاتا ہے اور ایک ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرض اس کیلئے وعاً مغفرت کرتے ہیں اور فرض اس وقت تک وعاً مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر پہتا ہے اور فرشتنوں کی وعاً الفاظ ہوتی ہے : "اللہم صلِّ علیہ اللہم"
جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو گویا وہ نمازی میں ہے۔
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man's prayer in congregation is twenty-five times greater than his prayer at home or in the market. This is because when he performs ablution and perfects it, then goes to the mosque, with no purpose other than prayer, he does not take a single step except that he is raised a degree and a sin is removed from him. When he prays, the angels continue to pray for him as long as he remains in his place of prayer: 'O Allah, bless him, O Allah, have mercy on him.' And one of you remains in prayer as long as he is waiting for the prayer." In another narration, it adds: "When one of you enters the mosque, the prayer holds him... and the angels' supplication includes: 'O Allah, forgive him, O Allah, accept his repentance,' as long as he does not harm anyone or commit any sin." [Agreed upon]
اللہ تعالیٰ نے ذم لیا ہے
اور دومسری روایت میں ہے کہ جب وہ مسجد میں آجاتا ہے اور نماز میں اس کو روک رکھتے ہیں، (تو گویا وہ نمازی میں ہے) اور ملا کر کی دعا میں بھی اضافہ ہے "اللہم اغفر لہ، اللہم توب علیہ" (اے اللہ اس شخص کو بخش دے اے اللہ اس شخص کی توپ قبول فرما)۔ اور عائش وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ مسجد میں کوئی کوآ زیت نہ پہنچا یے اور جب تک اس کا وضو نہ ٹوت جائے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)
ان تینول شخصوں کا ذکر جن کو نیا اور آخرت کے ضرر سے محفوظ رکھنا
In another narration, it is mentioned that when he enters the mosque and is prevented from praying, (it is as if he is in prayer) and there is an addition in the collective supplication: 'O Allah, forgive him, O Allah, grant him repentance' (O Allah, forgive this person, O Allah, accept his repentance). And Aishah (RA) continues this until someone brings him water for ablution or until his wudu breaks. (This narration is reported by Bukhari and Muslim with agreement.) These are the three persons who are protected from the harm of this world and the Hereafter.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدی ایسے میں جن کیے اللہ تعالیٰ نے (دنیا اور آخرت کے ضرر سے محفوظ رکھنا) ذم لیا ہے، (1) ایک وہ شخص جو جہاد میں جبل اللہ کیے نکلا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کا اگراس کوموت آجا یے تو اسے جنت میں داخل کر دے یا سکو اجری مال غنیمت دے کرگر واپس کرے، (2) دوسرا وہ شخص ہے جو مسجد کو جا یے تو پیجی اللہ کے ذمہ کے اس کے اجر و ثواب کو ضائع نہ کرے۔ (3) تیسرا وہ شخص جو گر میں داخل ہو کر (گھر والوکو) سلام کرتا ہے تو پیجی اللہ کے ذمہ کر (اس کوفتنول سے بچا یے اور خیر و برکت عطا فرما یے)
(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے)
It is narrated from Abu Umamah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three people are guaranteed by Allah: A man who goes out to fight in the cause of Allah is guaranteed by Allah until He takes his soul and admits him to Paradise or returns him with reward or spoils; a man who goes to the mosque is guaranteed by Allah; and a man who enters his home peacefully is guaranteed by Allah." [Narrated by Abu Dawud]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ مسجد میں نماز پڑھنے کی فضلیت اور اس عمل کا ذکر جو علیہ میں کہا جاتا ہے
و سلم نے ارشاد فرمايا: جو شخص اپنے گھر سے باوضوء فرض نماز کیلئے مسجد کو جائے تو اس کا ثواب اس حالت کے ثواب کی طرح ہے۔ جواہرام باندھنے ہوئے ہواور جو شخص گھر سے چاشت کی نماز کیلئے نکل اوراس کے سوالس کی کونی اور غرض نہیں ہے تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہوتا اور ایک نماز کے بعد دوسرا نماز اس طرح ادا کرنا کر دینے کے درمیان و نیا کی با تمیس اور نہیودہ کلام نہ ہو، (تو پر ایسا عمل کرے) جو میں لیکن عالمی مرتبہ لوگوں کے درمیان کچھ حاجات کرے۔
(اس کی روايت امام احمد اور ابوداوود نے کی ہے۔)
It is narrated from him (Abu Umamah) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever leaves his home in a state of purity for an obligatory prayer, his reward is like that of a pilgrim in Ihram. Whoever goes out for the Duha prayer, with no purpose other than that, his reward is like that of a person performing 'Umrah. And a prayer followed by another prayer, with no idle talk in between, is recorded in 'Illiyyin (the highest heaven)." [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صحح کی نماز کیلئے مسجد کو جائے یا زوال کے بعد کی نماز ول کیلئے مسجد کو جائے تو وہ جسے جسے صحح شام مسجد کو جانا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں مہمانی کے سامان تیار فرماتے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کیلئے دورت آنے والے کی فضیلت
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever goes to the mosque in the morning or evening, Allah prepares a place for him in Paradise every time he goes." [Agreed upon]
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ نماز کا اجر پانے والا شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ دور سے مسجد کو آتے ہیں۔ پھراسے برہہ کر اجر پانے والا وہ شخص ہے جواس سے زیادہ دور سے آتے ہیں اور جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا انتظار کرتارہتا ہے پہلا تک کر امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو یہ شخص اس شخص سے زیادہ اجر پانے والا ہے جو (تنها) نماز پڑھ کر سو جا یا کرتا ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کیلئے دورت آنے والے کی فضیلت پر دوسری حدیث
It is narrated from Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The person who receives the greatest reward for prayer is the one who walks the farthest to it, and the one who waits for the prayer until he prays it with the Imam receives a greater reward than the one who prays and then sleeps." [Agreed upon]
وسلم) کے اطراف کے گھر خالی ہو گئے تو بنو سلمہ کے قبیلے کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں، اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے متعلق مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو کر آجانا چاہتے ہیں، بنو سلمہ والوں نے کہا کہ بلال یار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ہم نے ایسا کیا ارادہ کر لیا ہے تو حضرور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بنی سلمہ کے قبیلے والو! تم اپنے اپنے گھروں میں رہتو،تمہارے ہرہرقدم پر ثواب کےحا جاتا ہے۔(مسجدا کے نزدیک آ کر اپنے ثواب کوم نہ کرو)-
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
قیامت کے دن عرش کے ساپین رونوالے سات شخصوں کا ذکر
It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that he said: The areas around the mosque became empty, so Banu Salimah wanted to move closer to the mosque. When the Prophet (peace be upon him) heard about this, he said to them: "I have heard that you want to move closer to the mosque." They said, "Yes, O Messenger of Allah, we intended to do that." He said, "O Banu Salimah, your homes are recorded with your footsteps, your homes are recorded with your footsteps." [Narrated by Muslim]
ابوبہریہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سات شخص ہیں جن کواللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے ) ساپین رکھ کا کر جس دون اللہ تعالیٰ کے ساپین کے سوا کوئی اور ساپینہ نہوگا -(1) ایک حاکم عادل، (2) دوسرا جوان صالح جو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے نشومنما پایا ہو، (3) تیسرے وہ شخص جس کا دول (مسیکی محبت کی وجہ سے ) مسجد سے نکلتے وقت دوبارہ مسجد لوٹ کے مسجد میں میں لگا رہتا ہے، (4) چوتھے وہ شخص جو اللہ کے واسطہ ایک دوسرا سے محبت رکھتے ہیں اور (کسی غرض کے بغیر) اللہ کی محبت سے ایک دوسرا سے ملتے ہیں اور اللہ کی محبت سے جدا ہوتے ہیں (5) پانچویں وہ شخص جو تہللی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے گے تو اس کے آخرسوہنے لگے ہیں، (6) چھٹے وہ شخص جو جس کو ایک شریف الخندان اور خوبصورت عورت (زن کے واسطہ) اپنی جانب بلائے اوروہ خدا کا خوف کر کے (زناتے بازرہ) اور (7) ساتویں وہ شخص جو جس نے (نفس) نہرات کی اور اس کو اس طرح چھپایا کر اس کے باعین باتعلکوخبر نہ ہو کہ اس کے سیدے باتعین کیا خرچ کیا-(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے مستقمر پر کی ہے)
ف: واضح ہو کر اس حدیث میں چھپا کر خیرات دین کا جوڑ کر بہ نفل نمازات سے متعلق ہے
اور فرض زکوۃ جسی چھپا کر دی جاسکتی ہے گمرا فضل پیہ کر زکوۃ علانیہ دی جائے۔ (دارک،خازن)-
جماعت کیلئے انہیروں میں مسجد کو آنے والے کی فضیلت
There are seven persons whom Allah will shade with His shade on the Day when there will be no shade except His shade: (1) a just ruler, (2) a young man who grew up worshipping Allah, (3) a person whose heart is attached to the mosques, (4) two men who love each other for Allah's sake, meet for His sake, and part for His sake, (5) a man whose heart is occupied with the remembrance of Allah while he is in the marketplace, (6) a man who is called by a woman of noble birth and beauty, but he says: 'I fear Allah,' and (7) a man who gives in charity and conceals it so much that his left hand does not know what his right hand has given. This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim.
بریدہ رضی اللہ عنہ ت روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کر (نماز باجماعت کے لئے) انہیروی رات میں مسجد ون کی طرف جانے والون کو
قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری سنادو۔(اس کی روایت تنزہی اور ابوداوڈ نے لی ہے-)
It is narrated from Buraidah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Give glad tidings to those who walk to the mosques in the dark of the night that they will have a shining light on the Day of Resurrection." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud while Ibn Majah also narrated it from Sahl ibn Sa'd and Anas (may Allah be pleased with them)]
اوراس کی روایت ابن ماجہ نے سہیل بن سعد اور انس رضی اللہ عنہما سے لی ہے)
مسجد کو ثواب کی نیت سے آنے والوں کی فضیلت
the virtue of those who come to the mosque with the intention of earning reward
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ت روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر جو شخص جس غرض کیلئے مسجد کو آنے اس کو، یہ چیز ملگی۔ (اگروہ آخرت
کی غرض سے مسجد کو آیے تو آخرت میں اس کو ثواب ملگا اور اگر دنیوی غرض سے مسجد کو آنے تو
آخرت میں اس کیلئے کچھ ثواب نہ ملگا۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے لی ہے-)
خصیہوں، سیاحت کرنے اور راہب بننے متعلق اورول کے خلاف
اسلام کی خاص تعلیمات
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever comes to the mosque for something, that is his share." [Narrated by Abu Dawud]
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ت روایت ہے، انہوں نے کہا کر یارسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم، تم کو خصی بن جانے کی اجازت دتے؟ (تاکر عورتوں کی خواہش دولے نقل جائے
کیونکہ اسی خواہش کی وجہ سے انسان نکلے سے دور ہو کر دنیا میں پھنس جاتا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے جو (کسی کو) خصی بنانے اور وہ شخص جو
خود خصی بنے، میری امت کا خصی ہوناروزہ رکھنا ہے (اس لئے روزہ رکھنے سے شہوت انسان کو بقا بو
نہیں کرتی ہے۔ بخلاف خصوصی جو نکے کراس سے شہوت، نیکتمہوجاتی ہے ) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا کر حضور تم کو سیاحت کی اجازت دی (تاکہ تمام عالم میں پھرنے سے مبرت حاصل کرسکین ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی سیاحت جہاونی میں لاشدہ (کہ جس میں سیر عالم کے ساتھ ساتھ اشاعت اسلام کی ہوتی ہے ) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کو راهپبن جانے کی اجازت دتی (جس سے تمام کوششیں ہوکر دنیا سے دور ہوجائیں ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی ربمانیت نماز کے انتظار میں مسجدول میں پیٹنا ہے (اس لے کر پرایسی ربمانیت ہے جس میں تعالیم وتعلیم جاری رہے کے علاوہ دنیا میں رہنے کے باوجود نیا سے دور رہے ہیں ~)
(اس کی روایت بلغوی نے ثرواح السنة میں کی ہے~)
گناہوں کے مثل ن وا لے اور درب برہا نے وا لے امور کا بیان
It is narrated from 'Uthman ibn Maz'un (may Allah be pleased with him) that he said: "O Messenger of Allah, permit us to castrate ourselves." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever castrates himself or is castrated is not from us. The castration of my Ummah is fasting." He said: "Permit us to wander in devotion." He said: "The wandering of my Ummah is Jihad in the cause of Allah." He said: "Permit us to live in monasticism." He said: "The monasticism of my Ummah is sitting in the mosques waiting for the prayer." [Narrated by Al-Baghawi in Sharh As-Sunnah]
عبد الرحمن بن عاشع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار کو بہت حسنین صورت میں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دریافت فرمایا کہ وہ اعمال کیا ہیں جن کی فضلیت میں ملاءعلی کے فرشتے آپس میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اے اللہ آپ، یہ اس کو خوب جانتے ہیں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا پاتہ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکودیا میں نے اس کی طرف دک اپنے سینہ میں پانی، پس میں نے آسمانوں اور زمینوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو جان لیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ایت تلاوت فرمائی "وَكَذَلِکَ نُرِی إِبْرَهِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَعَلَّهُ مِنَ الْمُوقِنِينَ" (اور تم نے ایسے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے حالات میں تاکہ وہ کامل یقین کرے و اول میں سے ہو جائے ) - (سورۃ انعام، پ:7، ع:9، آیت نمبر:75)-
(اس کی روایت داری نے مرسل کی ہے اور ترمذی نے جس کی اس طرح عبد الرحمن بن عاشہ سے
روایت کی ہے۔)
It is narrated from 'Abdur-Rahman ibn 'A'ish (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I saw my Lord, the Almighty, in the most beautiful form. He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'You know best.' He placed His hand between my shoulders, and I felt its coolness between my chest. Then I knew everything in the heavens and the earth." He then recited: "And thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth, so that he would be among those who are certain." (Qur'an, Al-An'am 6:75). [Narrated by Al-Darimi as a Mursal narration, while Al-Tirmidhi narrated something similar from him]
وَالرَّسُلُ خُوْنَ فِی الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ امَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا (سورۃ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پنچھ کار اور فنیم) میں (وہ متشابہات کے بارے میں) اتنا ہی کہ کرہ جاتے ہیں کہ اس پر همارا ایمان ہے، پیسہ پکڑہمارے پرودگار کی طرف سے ہے۔
اور ترمذی نے دوسری روایت جس کو ابن عباس اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما
سے کی ہے، اس میں پر اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کر لے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا تم
جانتے ہو کہ ملاے علی کے فرشتنے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ
پال جانتا ہوں (ملاے علی کے فرشتے) کفارات لیجن ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گنا ہوں کے
مثالے و اے پی وہ تین عمل ہیں (1) پہلا نماز ون کے بعد (ذكر، دعا اور دوسري نماز کے انظار میں
مخلوق سے دوری اور مشغول کتنے رہنے کیلئے) مسجد ون میں کھڑے رہنا، (2) دوسرا جماعت کے ساتھ
نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد ون کو پیل جانا، (3) تیسراناگوار حالات (جسے پیاری اور موتم سرما)
میں اعضاء و ضوع کامل طور پر دصونا جس سے ان چیزوں پر عمل کیا تو وہ اچھی طرح (لیجن اطاعت الہی کی
لزت، عبادت کی توفیق، رزق حلال، قناعت اور قسمت پر اضی رہتے ہوئے) زندگی بسر کریگا اور اس
کی موت بھی اچھی طرح (لیجن اعمال کی قبولیت، توبہ، حسن خاتمه اور موت کے وقت فرشتوں کی خوش
خبری پر) ہوگی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح وہ اپنے مال سے پیاہوں
کے دن پاک ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کر لے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم نماز پڑھو تو یاد عاکیا کرو:
"اللہم انى اسئلک فعل الخیرات، وترك المنکرات، وحب المساکین.
فازا اردت بعبادک فتنة فاقبضنی الیک غیر مفتون".
(اے اللہ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے اور برے امور کے چھوڑنے اور مسكینوں
سے محبت رکھنا سوال کرتا ہوں جب تو اپنے بندوں کو فتنوں (لیجن دنیوی عذاب میں) بتلا کر نے کا
اردہ فرما لے تو مجھے اپنی جانب فتنے سے بتلا کے بخیر بلا لے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھی
فرمایا کر ملا علی کے فرشتے ان اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندرول کے درجات بلند ہوئے۔ جس اور وہ درجات برہاں وا لے اعمال ہی ہیں (1) پہلا (اپنے اور بیگانے کو) کثرت سے سلام کرنا (2) دوم راہا نا کھانا اور (3) تیرارات میں نماز پڑھنا جب کلوگ سوے ہوئے ہوں۔
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "رَأْیْتُ رَبِّى فِی أَحُسْنِ صُوْرَةٍ" میں اللہعزوجل کونہایت حسن صورت میں دیکھا۔
واضح ہو کر یا اور اس قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں ذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اعلی سنن و اجماعات کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان رکھا جاتا اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جاتے، چنانچہ قرآن حکیم کے سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
الغرض متشابہات کے درپے ہونادینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات)
گناہوں کو مٹانے والے اور درسے برہاں وا لے امور کے بیان پر دوسری حديث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول
It is narrated from Ibn 'Abbas and Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with them) with an addition: "He said: 'O Muhammad, do you know what the highest assembly is disputing about?' I said: 'Yes, it is about the expiations.' The expiations are staying in the mosques after the prayer, walking on foot to congregational prayers, and perfecting ablution in difficult conditions. Whoever does this will live a good life and die a good death, and he will be free from sin as on the day his mother gave birth to him." He said: "O Muhammad, when you pray, say: 'O Allah, I ask You for the ability to do good deeds, to avoid evil deeds, and to love the poor. If You intend to test Your servants, take me to You without being tested.'" He said: "The levels are spreading peace, feeding others, and praying at night while people are asleep."
In this hadith, the Prophet ﷺ has stated: 'I saw my Lord in the most beautiful form.' This means that he saw Allah, the Exalted, in a form of utmost beauty. It is clear that this and similar topics mentioned in this hadith and the subsequent hadith fall under the category of allegorical verses (muthashabihat). The approach of the noble Sunnah and consensus regarding the muthashabihat is that faith is to be placed in them, and their interpretation is left to Allah, the Exalted. As such, in the Noble Quran, in Surah Al-Imran, where the distinction between clear verses (muhkamat) and allegorical verses (muthashabihat) is mentioned, it is stated: The purpose of the allegorical verses is that being preoccupied with them is against piety and a sign of misguidance. (Mirqaat) Another hadith narrated by Muadh bin Jabal (RA) pertains to matters that expiate sins and elevate one’s rank. He said that one day the Messenger ﷺ...
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اس قدر تاخیر فرمائی قریب تھا کہ تم آفتاب کو کیہ لیتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تجرة مبارک سے) عجلت کے ساتھ نکل اور نماز کیلئے اقامت کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور (خلاف عادت) اختیار کے ساتھ ادا فرمائی اور جب سلام پچیر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے تم کو پکارا کہ اپنی اپنی صفون میں جائے ہوویے، یہ بیٹھ رہو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماری طرف متوجه ہوئے پھر آپ نے فرمایا وا ضح ہو میں تم کوخبر دولگا کرآج
صح کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روک رکها تھا وہ یہ کہ میں رات کو (تہجد کیلئے) اٹھا
میں وضو کیا اور میرے لیے جتنی نماز تہجد مقدر تھی ادا کیا پس مجھے نماز میں غنودگی آگئی یہاں تک
کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا، پس میں اپنے پائوں پر دردگا رتابک و تعالی کونہا یت حسین صورت میں
و کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے رب!
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملا علی کے فرشتن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب
دیا کہ میں نہیں جانتا، یہ سوال و جواب تین مرتبہ ہوتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے
d کیا اللہ تعالیٰ نے اپنا باٹھ میرے دونوں کنہوں کے درمیان رکھ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے
انگیون کی ٹھنڈک میں نے اپنے سین میں پانی اور مجھ پر ہر چیز منكشف ہوگئی اور میں نے سب کو
پچان لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے
رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملا علی کے فرشتن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے
جواب دیا کہ (ملا علی کے فرشتے) کفارات سے ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کو مٹانے
والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل یہیں ہیں، (1) پہلا
نماز دو کو جمعت کے ساتھ ادا کرنے کیلئے مسجد ول کو پیل جانا، (2) دوسرا نماز دو کے بعد (زکر)
وعا ء اور دوسرا نماز کیلئے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے مسجد ول میں طہرے
رہنا، (3) تیسرانا گوار حالات (جسے پیاری اور موسم سرما) میں اعضاء و ضوع کامل طور پر دھونا، اللہ تعالیٰ
نے فرمایا کہ ملا علی کے فرشتے اور کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا
کہ ملا علی کے فرشتے و رجات لعن ان کے اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندرول
کے درب بلند ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل
جتنے بندرول کے درب بلند ہوئے ہیں وہ جس تین میں ہیں - (۱) پہلا کہ انا کھلا نا، (۲) دوم رازی ہے
کلام کرنا (جتنے لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا) (۳) تیرارات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے
ہوتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جودعا ئے چاہو ما گئے وحضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمايیں نے پیدعا کی اللہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ،
وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی۔ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِی قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ
مَفْتُونٍ۔ وَأَسْأَلُكَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِی إِلَى حُبِّکَ۔
(اے اللہ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے، برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں
سے محبت کرنے اور پچی مغفرت کرنے اور مجھے پر رحمت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب آپ
کسی قوم کو فتنہ میں (جتنے عذاب دینوی میں) بھٹلا کرنے کا ارادہ کریں تو فتنے میں بٹلا کے بغیر مجھے
وفات دتے اور میں آپ سے آپ کی محبت مانگتا ہوں اور ان کی محبت جسی مانگتا ہوں جوآ پ سے محبت
رکھے ہیں، اور ان اعمال کی محبت جسی مانگتا ہوں جو آپ کی محبت سے قریب کرویں-) اس کے
بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ خواب سپاہے اس لے اس کو یاد رکھو اور اسے
دوسرول کو سکھلاو۔
(اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن تے ہے اور میں نے اس حدیث کے متعلق محمد بن
اساعیل لیعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث تے ہے۔)
مسیح میں آنے کی اور مسیح کے باہر نکلنے کی دعا
What prevented me from coming to you was that I got up at night to perform Tahajjud prayer, made Wudu, and performed as much Tahajjud prayer as was decreed for me. Then drowsiness overcame me to the point that sleep overpowered me. So, I saw myself in a state of humility and exaltation, in the form of 'Yat Husain,' and Allah, the Exalted, said to me: 'O Muhammad ﷺ!' I replied, 'Here I am, O my Lord!' Allah, the Exalted, said, 'Are the angels of Ali discussing the virtues of deeds?' I answered, 'I do not know.' This question and answer were repeated three times. Then Allah, the Exalted, placed His hand between my two shoulders, and I felt the coolness of His fingers on my chest, and everything became clear to me, and I recognized everything. Allah, the Exalted, said, 'O Muhammad ﷺ!' I replied, 'Here I am, O my Lord!' Allah, the Exalted, said, 'Are the angels of Ali discussing the virtues of deeds?' I answered, 'The angels of Ali are discussing the virtues of those deeds which expiate sins.' Allah, the Exalted, said, 'What are those deeds?' I answered, 'Those deeds are: (1) being the first to reach the mosque to pray Dhuhr with the congregation, (2) staying in the mosque after Dhuhr to remember Allah and wait for the next prayer, and (3) washing the limbs completely in cold water during pleasant or cold weather.' Allah, the Exalted, said, 'What other virtues of deeds are the angels of Ali discussing?' I answered, 'The angels of Ali are discussing the virtues of those deeds which elevate the status of the believers.' Allah, the Exalted, said, 'What are those deeds?' I answered, 'Those deeds are: (1) speaking the truth, (2) maintaining good character in speech, and (3) praying at night while others are asleep.' Allah, the Exalted, said, 'O Prophet ﷺ, ask what you wish.' The Prophet ﷺ said, 'O Allah, I ask You for the performance of good deeds, the abandonment of evil deeds, love for the poor, forgiveness for me, and mercy upon me. If You intend to test a people, then cause me to die before I am tested. And I ask You for Your love, the love of those who love You, and the love of actions that bring me closer to Your love.' (O Allah! I ask You for the performance of good deeds, the abandonment of evil deeds, love for the poor, forgiveness for me, and mercy upon me. And if You intend to test a people, then cause me to die before I am tested. And I ask You for Your love, the love of those who love You, and the love of actions that bring me closer to Your love.) After this, the Messenger of Allah ﷺ said, 'This dream is true, so remember it and teach it to others.' (This is narrated by Imam Ahmad and Tirmidhi.)
And Imam Tirmidhi has said that this hadith is hasan. I asked Muhammad ibn Ismail, that is, Imam Bukhari (RA), about this hadith, and he said that it is sahih. This hadith pertains to the supplication for the coming of the Messiah and for his departure.
وعا پر ہے: اللہم انی اس تک من فضلک
ابوبسیر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسیح میں داخل ہوتا ہے تو اپنے عاقہ پر ہے: اللہُمَّ افْتَحْ لیُ
ابو اب رحمتك":
(اے اللہ آپ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیں) اور جب مسجد سے نکلتی ہے
(اے اللہ میں آپ سے آپ کا فضل (یعنی روزی) طلب کرتا ہوں -) (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے-)
مسجد میں آنے کی اور مسجد سے باہر نکلنے کی ایک اور دعا ہے
It is narrated from Abu Usaid (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you enters the mosque, let him say: 'O Allah, open for me the doors of Your mercy.' And when he leaves, let him say: 'O Allah, I ask You for Your bounty.'" [Narrated by Muslim]
فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ زہرا کبری رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل
ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر دورو اور سلام پڑھتے اور پڑھتے پڑھتے: "ربّ
اغفر لی ذنو بی وافتح لی أبواب رحمتك" - (اے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور
میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے نکلتے تو پیلے کی طرح محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر دورو اور سلام پڑھتے اور پڑھتے عفرما تے "ربّ اغفر لی ذنو بی وافتح
لی أبواب فضلك" (اے میرے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور اپنے فضل (یعنی روزی
کے) دروازے کو مجھے پر کھول دے-) (اس کی روایت ترمذی، امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے)-
It is narrated from Fatimah bint Al-Husayn, from her grandmother Fatimah Al-Kubra (may Allah be pleased with her), that she said: "When the Prophet (peace be upon him) entered the mosque, he would send blessings upon Muhammad and say: 'O Lord, forgive my sins and open for me the doors of Your mercy.' And when he left, he would send blessings upon Muhammad and say: 'O Lord, forgive my sins and open for me the doors of Your bounty.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Ahmad, and Ibn Majah]
In their narration, it is mentioned: "When he entered the mosque... and when he left, he would say: 'In the name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah,' instead of sending blessings upon Muhammad."
اور امام احمد اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ سیدتا فاطمہ زہرا رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت اور اسی طرح مسجد سے
نکلتے وقت صلی علی محمد وسلم (دروو سلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر) کے بعد: "بسم اللہ والسلام
علی رسول اللہ" فرماتے ہیں (یعنی اللہ کے نام کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور مسجد سے
نکلتا ہوں اور سلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرماتے ہیں-
مسجد میں داخل ہونے کی ایک اور دعاء
When the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and when he exited the mosque, after saying 'Peace and blessings be upon Muhammad ﷺ,' he would say: 'In the name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah.' This means: I enter the mosque with the name of Allah and exit the mosque, and I send peace upon the Messenger of Allah ﷺ, this is another supplication for entering the mosque.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا کرتے: "أعوذ بالله العلى العظيم و بوجهه الكريم و سلطانه القديم من الشيطان الرجيم"۔
(خدا کے بزرگ و برتر کی اوراس کریم ذات کی اوراس کے دریین غلب کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے) آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ جب کوئی شخص یا دعا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ شخص میرے (ثرت) تمام دن محفوظ ہے۔ (اس کی روایت البوداوی نے لکھی ہے)
سفرت واپسی کے آداب
It is narrated from 'Abdullah ibn 'Amr ibn Al-'As (may Allah be pleased with him) that he said: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) entered the mosque, he would say: 'I seek refuge in Allah, the Almighty, and in His Noble Face and His eternal authority from the accursed Satan.'" He said: "When he said this, Satan would say: 'He is protected from me for the rest of the day.'" [Narrated by Abu Dawud]
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفرت واپس ہوتے تو بوقت چاشت دن کو تشریف لا کے اور گھر جانے سے قبل مسجد جا کر مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرما تے اس کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لکھی ہے)
تحیۃ المسجد پڑھنے کی کیفیت
It is narrated from Ka'b ibn Malik (may Allah be pleased with him) that he said: "The Prophet (peace be upon him) would not return from a journey except during the day, in the forenoon. When he arrived, he would first go to the mosque and pray two Rak'ahs, then sit in it." [Agreed upon]
ابو قاعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ جب تم میں کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھ لیا کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لکھی ہے)
ف: اس حدیث میں نظر سے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لیا کرے، واضح ہو کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد کی نیت سے جو دو رکعتیں ادا کی جائیں یا وہ دراصل تحیۃ رب المسجد ہیں جن کو اختصار کی غرض سے تحیۃ المسجد کہا جاتا ہے کیونکہ ان دو
رکعتوں سے مقصود تھی۔ المسجد نبی ﷺ بلکہ مقصد رب مسی کا تجہیہ بہ جو الہ تعالیٰ ہے۔
در مختار اور رواختار میں کہا ہے کہ تجہیہ المسجد کا ادا کرنا سنت ہے اور تجہیہ المسجد کی دو رکعتیں ہیں،
مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی فرض نماز یا فرض نماز کے سوا کسی اور نماز کا ادا کرنا تجہیہ المسجد کے ادا
کرنے کا قائم مقام ہوجاتا ہے، اگر چہ کہ تجہیہ المسجد کی نیت نہیں جاتی، اور تجہیہ المسجد کا دن میں ایک
دفعہ ادا کرنا پورے اس دن کیلئے کافی ہے، خواہ کتنے بھی مرتبہ مسجد میں آتا جاتا رہا ہو خفیول کے پاس
تجہیہ المسجد میں داخل ہو کر بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتی اس لیے اگر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کر لی
جا تو ادا کی جاسکتی ہے۔
فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم وقت اگر فیصلہ کرے کی خاطر مسجد میں داخل ہو تو خواہ وہ مسجد میں داخل
ہو تو تجہیہ المسجد ادا کر لے پاچاہ تو مسجد سے نکل وقت تجہیہ المسجد پڑھ لے، اس سے بھی مقصد
حاصل ہوجاتا ہے کیوں کہ مقصد تو تجہیہ المسجد کا ادا کرنا ہے۔ پیغامیتے ماخوذہ، لیکن بخاری اور مسلم
کی نذکور الصدر حدیث کے پیش نظر مذہب حنفی پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں داخل ہو کر
بیٹھنے سے پہلے تجہیہ المسجد ادا کرنے کا حکم ہے اور تجہیہ نہیں کے بعد بھی تجہیہ المسجد ادا کی جاسکتی
ہے جو ظاہر بخاری اور مسلم کی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
اس شہر کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی اس نذکور الصدر حدیث میں جو ذکر ہے کہ مسجد میں
داخل ہو کر بیٹھنے سے پہلے تجہیہ المسجد ادا کر لیا جائے اس سے مراد یہ کہ تجہیہ المسجد بیٹھنے سے پہلے ادا کرنا
اولی ہے ضروری نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کے بعد بھی تجہیہ المسجد ادا کر سکتے ہیں اس پرابن
حجان کی حدیث جواس حدیث کے بعد آرہی ہے دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ مسجد
میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھا تشریف فرماتے، ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت مبارک
میں بیٹھے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا ابوذر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں آنے والے کیلئے
تجہیہ المسجد (مستحب ہے) اور تجہیہ المسجد یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوئے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی
جاۓ، پس ابوذر راورد و رکعت تجہیہ المسجد پڑھ لو۔
ابن حبان کی اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر داخل مسجد کے بعد بیٹھ جانے سے تجہیہ
مسجد ساقط ہوجائے ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹھ جانے کے بعد ان کو تجہیہ المسجد
پڑھنے کا حکم نہ دیتا، اس سے ثابت ہوگیا کہ تحریک المسجد میں داخل ہونے کے بعد بھی ادا کی جاسکتی
سے رواج کا ریت کہا ہے کہ تفصیل حیثیت ملا حظ ہو۔12
It is narrated from Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you enters the mosque, let him pray two Rak'ahs before sitting." (1) [Agreed upon]
(1) Explanation of the statement: "Let him pray two Rak'ahs before sitting": In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is said: "It is recommended to greet the Lord of the mosque, which is two Rak'ahs. Performing an obligatory prayer or another prayer suffices for it without specific intention, and it suffices once per day. It is not invalidated by sitting, according to our view. They said in Al-Hakim: 'If a judge enters the mosque, he may pray the greeting upon entering or leaving, as the purpose is achieved,' as mentioned in Al-Ghayah. As for the hadith in the Sahihayn: 'When one of you enters the mosque, he should not sit until he prays two Rak'ahs,' it explains the first recommendation. This is supported by the hadith of Ibn Hibban in his Sahih: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' The full explanation is in Al-Hilyah."
In this hadith, it is stated that one should pray two rak'ahs as a greeting to the mosque upon entering. This makes it clear that after entering the mosque, the two rak'ahs prayed with the intention of greeting the mosque, or which are essentially the salutations to the Lord of the mosque, referred to as the greeting of the mosque for brevity, were intended. The purpose of these two rak'ahs was to offer salutations to the Lord of the mosque, which is Allah, the Exalted.
In Muhkhtar and Rawaikht, it is mentioned that offering the salutation of the mosque is a Sunnah, and the salutation of the mosque consists of two rak'ahs. After entering the mosque, if one performs any obligatory prayer or any other prayer besides an obligatory prayer, it suffices as the salutation of the mosque, even though the specific intention for the salutation of the mosque is not made. Performing the salutation of the mosque once a day suffices for the entire day, regardless of how many times one enters and exits the mosque. According to Khafif, sitting down after entering the mosque does not invalidate the salutation of the mosque; therefore, if one sits down and then prays, it is still valid.
The jurists have said that if a person enters the mosque with the intention of making a decision, whether they enter the mosque or leave it without praying the salutation of the mosque, the purpose is still achieved because the purpose is to perform the salutation of the mosque. This is derived from the prophetic traditions. However, according to the hadith narrated by Bukhari and Muslim, there is a doubt in the Hanafi school of thought that the command to perform the salutation of the mosque is before sitting down after entering the mosque, and it can be performed even after sitting down, which appears to contradict the hadith of Bukhari and Muslim.
The answer to this doubt is that in the hadith mentioned by Bukhari and Muslim, where it is stated that one should perform the salutation of the mosque before sitting down after entering the mosque, the intention is that performing the salutation of the mosque before sitting down is preferable, but it is not necessary. One can also perform it after sitting down. This is supported by the hadith of Ibn 'Ujjan, which follows this hadith. In summary, Abu Dharr (RA) entered the mosque and saw that the Prophet (SAW) was present. Abu Dharr (RA) sat down, and the Prophet (SAW) instructed him, 'O Abu Dharr (RA), the salutation of the mosque is recommended for those who enter the mosque, and the salutation of the mosque is to pray two rak'ahs after entering the mosque.' Then Abu Dharr (RA) prayed the two rak'ahs of the salutation of the mosque.
From this hadith of Ibn Hibban, it is clear that if sitting down after entering the mosque invalidates the salutation of the mosque, the Prophet (SAW) would not have instructed Abu Dharr (RA) to pray the salutation of the mosque after he had already sat down. This confirms that the salutation of the mosque can be performed even after sitting down. Therefore, it is a prevalent practice that the details depend on the context.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو
کیا دیکھا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہما تشریف فرما ئین تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں جا بیٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یسیر میں (آئے والے کیلئے) تحریک المسجد (مستحب) ہے
اور تحریک المسجد ورکعت میں اٹھوا بوذر (رضی اللہ عنہ) اور دور کرتا ادا کر لو ابوز رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں اٹھا اور دور کرتا تحریک المسجد ادا کیا۔ (اس کی روایت ان حبان نے کہی ہے اور کہا ہے کہ پیغمبرﷺ کے ہے۔)
آداب مسجد میں سے یہی ایک ادب ہے
I entered the mosque and saw that the Messenger of Allah ﷺ was not there, so I went and sat in his service. Then the Messenger of Allah ﷺ came and said, 'It is recommended to move around a little in the mosque when you enter it.' He then said, 'Stand up, O Abu Dharr (RA), and perform the movement in the mosque.' So, Abu Dharr (RA) said, 'I stood up and performed the movement in the mosque.' This narration is reported by An Habban, and it is said that it is from the Prophet ﷺ. This is one of the etiquettes of the mosque.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جو شخص کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر دھووندھ کہے ہوئے سنے تو وہ اس
سے کہدے ہے کہ خدا کے تعالیٰ کے یہ تیری گم شدہ چیز واپس نہ کر لے کیوں کہ مسجد میں آواز بلند کرنے کیلئے
شہر بنائی گئی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
مسجد کے آداب
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever hears a man seeking his lost item in the mosque, let him say: 'May Allah not return it to you,' for mosques were not built for this." [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جب تم کسی شخص کو کچھ کر وہ مسجد میں کوئی چیز پیچاہے یا خریدتا ہے تو کہو کہ اللہ
تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم کسی کو کچھ کر مسجد میں کسی گم شدہ چیز کو پکار کر دھووندھ ربا
ہے تو کہو کہ خدا کے تعالیٰ تیری چیز پیچہ واپس نہ کرے۔
(اس کی روایت ترمذی اور دار قط نے کی ہے۔)
مسجد کے آداب پر دوسری حدیث
It is narrated from him (Abu Hurairah) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If you see someone selling or buying in the mosque, say: 'May Allah not grant profit to your trade.' And if you see someone seeking a lost item in it, say: 'May Allah not return it to you.'" [Narrated by Al-Tirmidhi and Al-Darimi]
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے سے منع فرمایے (اوراس سے بھی منع فرمایے کہ مسجد میں اشعار پڑھے جائیں اورحد جاری کی جائے۔ (اس کی روایت ابوداود نے اپنی سنن میں کی ہے)۔
It is narrated from Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) forbade seeking revenge in the mosque, reciting poetry in it, and carrying out punishments in it. [Narrated by Abu Dawud in his Sunan and by the author of Jam'i Al-Usul from Hakim while In Al-Masabih, it is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him)]
اور صاحب جامع الاصول میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے)۔
قَالَ : مَرَّ عُمَرُ رَضِیَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ وَ حَسَّانٌ يُنشِدُ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنْتُ أُنشِدُ فِيهِ ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرُ مِنكَ ، ثُمَّ التَّفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ، أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ
عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيْدُهُ بِرُوحِ الْقُدْسِ . قَالَ : نَعَمْ".
اور مصانع میں کچھ جابر رضی اللہ عنہ سے (اس طرح روایت ہے)۔ ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسجد میں اشعار پڑھے جائیں، واضح ہو کہ یہ مانعت ایسے اشعار سے متعلق ہے جن میں فحش اور بہودہ کلام، فسق و فجر اور لہو و لعب کی باتمیں بیان کی گئی ہوں، اس کے بر عكس ایسے اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت، پر مضامین اور وعظ و نصیحت ذکور ہوں مسجد میں پڑھے جاسکتے ہیں کیونکہ شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حم سے اس قدم کے اشعار سنا کرتے تھے۔ چنانچہ تزہدی اور بخاری کی روايتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے امام مؤمنین حضرت علی ظہر صدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ، گا ر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ینصب لحسان رضی اللہ عنہ منبرا فی المسجد فیقوم علیہ ویهجو الكفار۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کیلے مسجد نبوی میں منبر رکھے جس پروہ کہے ہوتے اور مشرکین کی جواباً تجوفر ما کرتے۔)
اس کے علاوہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے:
(سعید بن المسب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں سے گذرے اور حسان
رضی اللہ عنہ اس وقت اشعار پڑھ رہے تھے عمر رضی اللہ عنه، حسان رضی اللہ عنہ کو گھور کر دیکھے گئے تو حسان
رضی اللہ عنہ نے کہا کر میں اشعار پڑھا کرتا تھا جب کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مسبر میں سنا کرتے تھے جو
آپ سے مہتر تھے (یعنی کر) حضرت حسان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا
میں آپ کواللہ کی شتم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کر میں مسبر نبوی میں اشعار
سنا کرتا تھا پیارشاد فرماتے ہوئے نہیں سناتے کہ اے حسان (رضی اللہ عنہ) تم میری طرف سے
(مشکین کا) جواب دو (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیکی فرماتے تھے) اے اللہ آپ روح القدس لیئے
جریل علی السلام کے ذریعہ حسان (رضی اللہ عنہ) کی مدفرما یے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اپنے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا کی فرمایا ہے۔) ترمذی اور بخاری کی ان دونوں حدیثوں سے
واضح ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ سے مسبر میں اشعار سنا کرتے اور حسان رضی
اللہ عنہ اشعار پڑھا کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسبر میں نعتیہ اشعار پڑھنا جائز ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسبر میں شعر پڑھنے کے جواز پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان
(باب الشعر في المسجد) ہے اور اس عنوان کے تحت ایک ہی حدیث بیان فرمائی ہے جوسید بن المسب رضی
اللہ عنہ نے اپنی اور قل کی گئی ہے، اس حدیث کے فائدہ میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: "ان الشعر الحق
لا يحرم في المسجد، والذى يحرم فيه ما فيه الخناء والزور، والكلام الساقط".
(علامہ عینی فرماتے ہیں کہ پچھ مضا مین وا لے اشعار کا مسبر میں پڑھنا حرام نہیں ہے البتہ مسبر
میں ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے جن میں فحش، جھوٹ اور بھیوہ با تمیز بیان کی گئی ہوئے۔)
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو فرما کے آگے چل کرتے میں دو چیزیں اور فقہیہ کا قول نقش کیا
ہے جن میں حضرت سعید بن المسب، امام شعیب، امام ابن سیرین، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابوحنیفہ،
امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہ اللہ ہیں، ان سب حضرات کا مسبر میں
پچھ مضا مین وا لے اشعار کے پڑھنے کے جواز پر یقین ہے۔" ولا بأس بانشاد الشعر الذی لیس
مسیٰء میں ایسے اشعار کے پڑھنے میں کوئی مضرۃ نہیں ہے جتن میں مسلمانوں کی بجو، آبرودیزی اورش با تمیزیان نکی گئی ہول) - (پیپورامضمون عمدۃ القاری سے ماخوذہ )12 فیہ هجاء و لانکب عرض احد من المسلمين ولا فحش”۔
In this hadith, the Messenger of Allah ﷺ advises that poetry should be recited in the mosque. It is clear that this prohibition pertains to such poems that contain obscenity and indecent language, immorality and sin, and matters of jest and play. Conversely, poems that praise Allah Almighty, eulogize the Messenger of Allah ﷺ, and contain profound meanings and moral teachings can be recited in the mosque, as the poet of Islam, Hazrat Hassan bin Thabit Ansari (RA), used to recite such poems in the Prophet's Mosque in the presence of the Messenger of Allah ﷺ. This is confirmed by the narrations of Tazhidi and Bukhari. Imam Tirmidhi (RA) has narrated from Imam al-Muminin Hazrat Ali (RA) that, 'The Messenger of Allah ﷺ set up a pulpit for Hassan (RA) in the mosque, and he would stand on it and satirize the disbelievers.' (The Messenger of Allah ﷺ placed a pulpit for Hassan (RA) in the Prophet's Mosque, where he would speak and refute the polytheists.)
Furthermore, Imam Bukhari (RA) has narrated from Said bin Musayyib (RA):
(Said bin Musayyib (RA) said that Umar (RA) passed through the Prophet's Mosque while Hassan (RA) was reciting poetry. When Umar (RA) saw Hassan (RA), Hassan (RA) said, 'I used to recite poetry in the presence of the Messenger of Allah ﷺ when I was in a pulpit higher than this (i.e., in a more honorable position). Then, turning to Abu Barira (RA), he said, 'Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ, when I used to recite poetry in the Prophet's Mosque, say, “O Hassan (RA), respond on my behalf”? And the Messenger of Allah ﷺ would say, “O Allah, support Hassan (RA) with the Holy Spirit, Jibril (peace be upon him).”' Abu Barira (RA) replied, 'The Messenger of Allah ﷺ did indeed say that to you.') From these two hadiths of Tirmidhi and Bukhari, it is clear that the Messenger of Allah ﷺ listened to Hassan (RA) reciting poetry from the pulpit, which establishes that reciting eulogistic poetry in the mosque is permissible.
Imam Bukhari (RA) has established a chapter on the permissibility of reciting poetry in the mosque, titled 'Bab ash-Shi'r fi al-Masjid,' under which he narrates a single hadith reported by Said bin Musayyib (RA). In the benefit of this hadith, Imam Aini (RA) states: 'Poetry that is true is not forbidden in the mosque; what is forbidden in the mosque is that which contains slander, lies, and baseless talk.'
Imam Aini (RA) further mentions two additional points and the opinions of jurists, including Said bin Musayyib, Imam Sha'bi, Imam Ibn Sirin, Imam Thawri, Imam Awza'i, Imam Abu Hanifa, Imam Malik, Imam Shafi'i, Imam Ahmad, Imam Abu Yusuf, and Imam Muhammad (may Allah have mercy on them all), who all agree on the permissibility of reciting eulogistic poetry in the mosque. 'There is no harm in reciting poetry that does not cause any harm or immorality among Muslims, and which promotes their dignity, respect, and good character.' - (Extracted from the paper 'Emdat al-Qari')
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے کہ مسجد میں (لبہو لعب) کے اشعار پڑھنے جائیں (اوراس سے بھی منع فرمایا ہے) کہ مسجد میں خرید و فروخت کی جائے اور لوگوں کو جمع کردن نماز جمعہ کے پہلے مسجد میں حلقوں بنانے کی بھی منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت تزکیہ اور ابوداود نے کی ہے۔)
It is narrated from 'Amr ibn Shu'ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) forbade the recitation of poetry in the mosque, buying and selling in it, and people forming circles in the mosque before the Friday prayer. [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi]
حسن بصری رضی اللہ عنہ نے مرسلاً روایت کی ہے کہ جب کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اپنے دینوی کاروبار کی باتیں اپنی مسجدوں میں کیا کریں گے تو تم ان کے ساتھ مت بھیجا کرو، اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (اس کی روایت تزکیہ نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
It is narrated from Al-Hasan (may Allah be pleased with him) as a Mursal narration that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A time will come upon people when their conversations in their mosques will be about their worldly affairs. Do not sit with them, for Allah has no need of them." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد کے ایک کنارے میں بچچوں کا ایک کشادہ میران تیار کرکے تھا جس کو بطيحا کہتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دے رکھا تھا کہ جو شخص غلط پڑانا چاہے یا باؤز بلند شعر پڑھنا چاہے یا آواز بلند کرنا چاہے وہ مسجد سے نکل کر اس بطيحے میں آجائے۔ (اس کی روایت امام مالک نے موطاً میں کی ہے۔)
مسجد کے آداب پر چھٹی حدیث
It is narrated from 'Umar (may Allah be pleased with him) that he built a courtyard on the side of the mosque called Al-Butayha and said: "Whoever wants to engage in idle talk, recite poetry, or raise his voice, let him go to this courtyard." [Narrated by Malik in Al-Muwatta']
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس بد بودار درخت (یعنی پیاز اور لہسن کو جو پکائے ہوئے نہ ہون)
کھائے ہو برگزہماری مسجد میں نہ آئے (یعنی خواہ مذہبی منورہ کی مسجد ہو یا کوئی اور مسجد ہو) کیونکہ
فرشتون کو جسی ان چیزوں کی بدبو سے تکلیف پہنچتی ہے جن سے انسان کو تکلیف پہنچتی ہو (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)
مسجد کے آداب پرساتویں حدیث
It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever eats from this foul-smelling plant (garlic) should not come near our mosque, for the angels are harmed by what harms humans." [Agreed upon]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوة خیبر
میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس درخت کی لہسن کو (جس کو پپایانے گیا ہو) کھائے تو وہ برگزہ مسجدول میں
نہ آئے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
مسجد کے آداب پرآٹھویں حدیث
It is narrated from Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said during the expedition of Khaybar: "Whoever eats from this plant (garlic) should not come near the mosques." [Narrated by Muslim]
معاون بن قرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں درختوں کی پیاز اور لہسن (کے کھانے) سے منع فرمایا
ہے (جو پکائے نہ گئے ہوں) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو پیاز اور لہسن کو (جو
پکائے نہ گئے ہوں) کھائے تو وہ ماری مسجد کو برگز نہ آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغی فرمایا کہ اگر تم
پیاز اور لہسن کو کھانا تو چاہتے ہو تو ان کو پکا کر ان کی بدبو کو مار دو (اس کی روایت البوداودی نے کی ہے)
مسجد کے آداب پرنویں حدیث
It is narrated from Mu'awiyah ibn Qurrah, from his father, that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade these two plants, onions and garlic, and said: "Whoever eats them should not come near our mosque." He also said: "If you must eat them, then cook them thoroughly." [Narrated by Abu Dawud]
ابوز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ن ارشاد فرمايا کہ مجھ پر میری امت کے اتنے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے ویسے کر راستے سے تکفیر دے چیز کو دور کرنا بھی امت کے نیک اعمال میں شامل کر اور میں نے ویسے کر امت کے برے اعمال میں ریٹ اور بلغم جیسے جو مسخ میں ہو، اور اس کو دفن نکیا گیا ہو۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
مسجد کے آداب پرسوی حدیث
It is narrated from Abu Dharr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The deeds of my Ummah, both good and bad, were shown to me. Among their good deeds, I found removing harm from the road, and among their bad deeds, I found sputum in the mosque that is not buried." [Narrated by Muslim]
اس رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں تحوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ کہ اس کوز میں چھپادیا جائے۔ -(یا سکو پاک کر دیا جائے)- (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)-
مسجد کے آداب پر گیارہویں حدیث
It is narrated from Anas (May Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Spitting in the mosque is a sin, and its expiation is burying it." [Agreed upon]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کیلے کہراہوتوا پن سامن قبل کی طرف نے تحوکے اس لے کر جب تک وہ اپنے مصلی پر ہتاہے اللہ تعالیٰ سے رازونیاز کرتا رہتاہے اور سیدے جانب یہی نے تحوکے کیونکہ نمازی کے سیدے جانب ایک فرشتر باکرتاہے (جونمازی کی تائید اور اس کی دعاے پرآ مین کہ کیلے متعمین رہتاہے) اور نمازی کو چاپے کاپن با مین جانب یاپن پیر کے نیچے تحوکے، اور تحوک کوز میں میں چھپادے۔
He said: The Messenger of Allah ﷺ instructed that when any one of you stands to pray, he should face the qiblah and remain in his place of prayer, invoking Allah until he finishes his prayer. He should not turn to his right or left, for there is an angel on the right side of the worshipper who confirms the prayer and says 'Amen' to his supplication, remaining steadfast. And he should not turn to his left or under his feet, and he should not hide in the folds of his garment.
اور البوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اپنے با مین پیر کے نیچے تحوکے-(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)- ف: اس حدیث میں ارشاد ہے، نمازی جب نماز کیلے کہراہوتوا تقظیم قبل کی خاطراپن سامن نے تحوکے اور اپنے سیدے جانب یہی نے تحوکے کیونکہ کسی جانب ایک فرشتر ہتاہے البتہ اپن با مین جانب یاپیر کے نیچے تحوکے۔
و اظہر ہو کہ سامنے اور سیدؐ کے جانب تحویل کی ممانعت عام ہے خواہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہا ہو
یا مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھ رہا ہو بھردو حال توں میں نماز کے موقع پرسامنے اور سیدؐ کے جانب تحویل کنا
ممنوع ہے۔
نمازی اگر مسجد میں ہو تو خواہ وہ با کسی جانب تحویل کے یقدم کے پیچھے تحویل کے دونوں حال توں میں
تحویل کو اپنے کر لے میں لے لے، اور اگر مسجد کے سوا کسی اور جگہ ہو تو اپنی با کسی جانب یا پیچھے کے پیچھے
زیادہ پر تحویل سکتا ہے۔ (مرقّات)
in his narration, it is mentioned that one should place the hands on the knees during prayer, (this narration is agreed upon by Bukhari and Muslim), for in this hadith, it is indicated that when a person prays, they should place their hands on their knees in front of them and on their right side, because there might be an angel on one side, but certainly on the left side or under the foot. It is evident that placing the hands in front and on the right side (of the Prophet ﷺ) is generally prohibited, whether one is praying in the mosque or outside the mosque. In both cases, placing the hands in front and on the right side during prayer is forbidden. If the person is in the mosque, whether they place their hands on one side or behind, in both situations, they should take the placement of their hands into their own control. If they are outside the mosque, they can place their hands more freely on one side or behind.
انس رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے مسجد کی دیوار پر جوقبل کی طرف تختی رینہ دی کہ اور پیچھے شاق غذری، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے چہرے مبارک پر ناراضی کے آثار دکھائی دیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں کو خودوست
مبارک سے اس کو کہرچ دیا اور شاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو وہ اپنے پروردگار
سے راز و نیاز کر رہا ہے (اس لئے کہا گیا ہے کہ نماز مسلمان کی معران ہے) اور اس کا پروردگار اس کے
اور قبل کے درمیان ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص پہرگز قبل کی طرف نہ تحویل کے بلکہ اپنی با کسی جانب
یا اپنے قدام کے پیچھے تحویل کے (جب کہ وہ مسجد میں نہ ہو) اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی
چادر کے ایک کنارے کو لے کر اس میں تحویل کر اس کے ایک حصہ کو دورسرے حصے سے رگڑ دیا اور فرمایا
اس طرح کیا کرے (جب کہ وہ مسجد میں ہو)۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
It is narrated from Anas (May Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) saw phlegm in the direction of the Qiblah, and it distressed him so much that it became visible on his face. He stood up and scraped it off with his hand, then said: "When one of you stands in prayer, he is indeed conversing with his Lord, and his Lord is between him and the Qiblah, so let none of you spit in the direction of the Qiblah, but rather to his left or under his foot." Then he took the edge of his garment, spat in it, folded it over, and said: "Or do like this." [Narrated by Bukhari]
سابہ بن خلا رضی اللہ عنہ روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے صحابہ میں سے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے لوگوں کی امامت کی اس لئے قبل کی جانب تحویل کا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیہ رہے تھے، اس کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے ارشاد فرما یا کروہ شخص آئندہ سے نماز نہ پڑھائے، پھراس کے بعد جب اس نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اس کو مطلع کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ارشاد فرما یا کہ بال میں نہ منح کیا، ساتھ بن خلا درضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے پیغمبر کی ارشاد فرما یا کہ بقینا تم نے اللہ اور اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
گھرول میں بھی پڑھنے پر نمازی پڑھا کرو
It is narrated from Saʾib ibn Khallad (May Allah be pleased with him), who was one of the Companions of the Prophet (peace be upon him), that a man led his people in prayer and spat towards the Qiblah while the Messenger of Allah (peace be upon him) was watching. When he finished, the Prophet (peace be upon him) said to his people: "He shall not lead you in prayer." Later, when he wished to lead them again, they prevented him and informed him of the Messenger of Allah’s words. The man then mentioned it to the Messenger of Allah (peace be upon him), and he said: "Yes," and I think he also said: "Indeed, you have offended Allah and His Messenger." [Narrated by Abu Dawud]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ تم اپنی پڑھنے پڑھو (نفل) نمازی گھرول میں بھی پڑھا کروا ور گھرول کو (نماز نہ پڑھ کر) مشق برول کے نہ بناؤ) کیون کہ قبرول میں مرد نمازی پڑھا کرتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)
حیطان میں نماز پڑھنے کا ذکر اور حیطان کی تحقیق
It is narrated from Ibn ʿUmar (May Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Make some of your prayers in your homes and do not make them like graves." [Agreed upon]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیطان میں نماز پڑھنا پسند فرما تے تھے۔ اس حدیث کے بعض راویوں نے کہا کہ حیطان سے مراد باگ ہے (اس لے باگوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے۔ واشہوکہ "حیطان" "حائط" کی جمع ہے اور حائط کے معنی دیوار کے ہیں، چونکہ باگ کا احاطہ دیواروں سے محصور ہوا کرتا ہے اسی وجہ سے باگ کو حیطان کہی کیتے ہیں، پر حیطان کے ایک معنی ہیں)۔ (اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)
( حیطان کے ایک اور جھی منحنی بیل او روهی بیل کر حیطان لخت میں دیوار کو کیتے بیل، تو اس لغوی معنی کے لحاظ سے حدیث کے پیمانے ہوئے " فی حیطان ای فی جنت الجدران " ( دیوارول کے قریب میں ) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیوارول کے قریب نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے تا کہ کوئی شخص نمازی کے سامنے سے گذر نہ پائے اور کوئی چیز نمازی کی توجہ کو پچھیر نہ سکے حیطان کے اس دورسرے معنی کی صراحت مرقات میں ذکور ہے - ) کہوال نماز پڑھنا کروہے
It is narrated from Muʿadh ibn Jabal (May Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) preferred praying in gardens." One of its narrators said: "That is, orchards." [Narrated by Ahmad and al-Tirmidhi]
ʿAli al-Qari said: "That is, near the walls so that no one passes in front of him or anything distracts him."
الوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر قبرستان اور حمام کے سوا پوری روے زمین مسجد کے جہاز جاپہ نماز پڑھنے سکتے ہیں -(اس کی روایت البوداور تنزہی اوردارتی نے کی ہے-) کہوال نماز پڑھنا کروہے اس پردوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Except for graveyards and bathhouses, one can pray on any part of the earth as it is all a place of prostration.' - This has been narrated by Al-Bukhari, Muslim, and Dar Qutni - Praying in graveyards is forbidden, and there is another hadith regarding this.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہ نماز پڑھنے سے منع فرما یہ (1) چھڑاؤا لکی جگہ (2) جانور ذنے کرنے کی جگہ (3) قبرستان (4) سرکول پر (5) حمام (6) اونٹول کے باندھنے کی جگہ (7) بیت اللہ شریف کے چھت پر -(اس کی روایت تنزہی اورا بن ماجہ نے کی ہے-) کہوال نماز پڑھنا کروہے اس پرتیسری حدیث
It is narrated from Ibn ʿUmar (May Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade praying in seven places: the garbage dump, the slaughterhouse, the graveyard, the middle of the road, the bathhouse, the resting places of camels, and the roof of the Kaʿbah. [Narrated by al-Tirmidhi and Ibn Majah]
الوبہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما : ( اتفاقاً نماز پڑھنے کی ضرورت پیش آجاتے تو ) بگرپول کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے لیکن اونٹول کے باندھنے کی جگہ نماز نہ پڑھواس لیکر اونٹول کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے اطمینان قلب باقی نہیں رہتا ) -(اس کی روایت تنزہی نے کی ہے )-
The Messenger of Allah ﷺ said: 'If the need to pray the prayer arises suddenly, pray at the place where you tie your camel, but do not pray at the place where you tie your donkey, for there is no peace of mind in praying at the place where you tie your donkey.' - This is narrated by Tirmidhi.