اموال غنیمت کی تقسیم اوراس میں چوری (خیانت) کا بیان
The Distribution of War Booty and the Sin of Embezzlement Therein
واعلموا انما غنمتم من شيء فان لله خمسه الله برك وبرتكا رشاده وللرسول ولذي القربي واليتامي والمساكين وابن السبيل ان كنتم امنتم بالله وما انزلنا علي عبدنا يوم الفرقان يوم التقي الجمعان والله علي كل شيء
قدیر
اور جان لوکہ جو پھے مال غنیمت تم نے پاپا ہوتا اس کا پاپوال حضرت اللہ کے لئے اور رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کے) قرابت دارول کے لئے (تے) اور مہیمل اور
مهاجول اور مسافرون کے لئے ہے۔ اگر تم اللہ پراوراس (وہی) پرامیان لاے ہو جوتم نے اپنے
(برگزیدہ) بندہ پر (حق و باطل کے درمیان) فصل کے دون نازل فرمائی وہ دون (جب میران میں
مومنون اور کافرون کے ) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (سورۃ
الانفال،آیت نمبر:41)
اور اللہ تعالی کا رشاد ہے: "یا یُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِنَ عَلَى الْقِتَالِ" (اے نبی آپ
مُؤْمِنِنَ کو جنگ پر اجباریے)1 (سورۃ الانفال،آیت نمبر:65)
اور اللہ تعالی کا رشاد ہے: "وَمَن يَغْلُلْ يَأتِ بِمَاغَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ
مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ".
قولہ: یا یُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِنَ عَلَى الْقِتَالِ۔ (اے نبی آپ مُؤْمِنِنَ کو جنگ پر اجباریے)
تفسیرات احمدی میں ہے اس آیت میں مومنین کو جنگ کے لئے اجبار نے کا ذکر ہے مراد اس سے ان کو ترغیب دین میں
مبالغہ کیے اور صاحب بدایی کے اس قول میں اس کی طرف اشارہ ہے: ان التنفیل من جملة التحريص المندوب
الیہ (جاہدین کے لئے کسی زاہدانعام کا مقرر کرنا اسی تحریض کے قبل سے ہے جو مستحب ہے۔
اور جو آدی چوری (خیانت) کرے گا تو جوپھاس لے چوری کی بے قیامت کے دن لاے گا پھر بھر نفس کو جوپکے
ظالمین کیاجائے گا۔ اور ان پر میں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران، آیت نمبر: 161)
And know that the spoils of war which you have obtained are for Allah and His Messenger (SAW), and for the relatives of the Messenger (SAW), and for the poor, and for the wayfarers. If you bring forth what is within yourselves, which you have bestowed upon your chosen servant, making a distinction between right and wrong, when the two armies of believers and disbelievers confronted each other, and Allah is capable over all things - (Surah Al-Anfal, Verse 41). And the guidance of Allah Almighty is: 'O Prophet, urge the believers to fight' (O Prophet, incite the believers to battle) (Surah Al-Anfal, Verse 65). And the guidance of Allah Almighty is: 'And whoever cheats will come with his cheating on the Day of Resurrection, then every soul will be paid in full what it has earned, and they will not be wronged.'
And whoever commits theft, he shall bring forth his theft on the Day of Resurrection, then it will be placed upon his neck, and he will become one of the wrongdoers. And what will be done to them? (Surah Al-Imran, Verse number: 161)
ابوا مامر ضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بے شک اللہ نے مجھے انبیاء پر فضیلت دی یا فر میا کہ میری امت کو دوسری امتون پر فضیلت دی اور
ہمارے لے اموال غنیمت کو حلال کیا۔ (ترمزی)
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Allah has favored me over the prophets” – or he said: “favored my nation over other nations – and made spoils lawful for me.” [Narrated by Tirmidhi]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اموال غنیمت تمام تے پیل کسی کے لے حلال نہیں تھے۔ یا سے لے کہ اللہ تعالی نے ہماری نا تو انی اور
کنز وری کو ویحا تو اس کو ہمارے لے حلال کر دیا۔ (متفق علیہ)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Spoils were not lawful for anyone before us. That is because Allah saw our weakness and inability, so He made them lawful for us.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
ابنی سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں سے
ایک نبی نے جہاد کیا تو قوم سے فرمایا: میرے ساتھ ایسا کوئی شخص نہ آئے جس نے کسی خاتون سے
نکاح کیا ہے اور اس کے ساتھ خلوت کرنا چاہتا ہے۔ مگر ابھی اس کے ساتھ خلوت نہیں ہوتی ہے اور نہ
ایسا کوئی شخص جس نے گھر بنا ہے جس اور ابھی ان کے چچت نہیں ڈالے اور نہ ایسا کوئی شخص جس نے
کبریائے خریدی ہے یا حاملہ او نہیان خریدی ہے اور وہ ان کے نے دین کا انتظار کر رہا ہے۔ پس
انہوں نے جگ کی اور آبادی سے قریب پڑھ کے عصر کا یا سے قریب وقت تھا۔ انہوں نے
سورج سے فرمایا: بے شک تو کچھ مامور ہے اور میں کچھ مامور ہول۔ اے اللہ تو اس کو تم پر رک دے
پس وہ رک دیا گیا پہلان تک کر اللہ تعالی نے ان کو کامیابی عطا فرما لی۔ پھر انہوں نے مال غنیمت کو
جمع کیا تو آئی لعنی آئے اس کو لحا نے کے لے آئی تو وہ اس کو لحا نی نہیں تو (اس نبی نے) فرمايتم
میں کوئی خیانت ہے پس پر قبیلہ میں ایک آدمی میرے باٹھ پر بیعت کرے۔ پس آپ کے باٹھ ہے
ایک آدمی کا باٹھ پچھط گیا تو آپ پے فرما تم میں خیانت ہے پس اس قبیلہ کے لوگ گا کے کے سر
کے بر ابرسونا لے کر آئے اور اس کو رہ دیا تو آئے آئی اور اس نے اس کو لحالیا۔ 2
ایک روایت میں پیزاہ ﷺ اموال غنیمت تم سے پھل کسی کے لے کچھ حلال نہیں کیا گیا
تحا پچر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لے اموال غنیمت کو حلال کردیا اس نے ہماری نا تو انی اور کمزوری کو
دیکھا تو اس کو ہمارے لے حلال کردیا۔ (مشق علیہ)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A prophet among the prophets went to battle and said to his people: ‘Let no man follow me who has married a woman and intends to consummate but has not yet done so, or who has built houses but not raised their roofs, or who has bought sheep or pregnant animals and awaits their offspring.’ He went to battle and approached the town at the time of Asr prayer or close to it. He said to the sun: ‘You are under command, and I am under command. O Allah, hold it back for us.’ It was held back until Allah granted him victory. He gathered the spoils, and the fire came to consume them but did not. He said: ‘There is misappropriation among you. Let one man from each tribe pledge to me.’ A man’s hand stuck to his, and he said: ‘The misappropriation is among you.’ They brought a head-sized piece of gold, placed it down, and (1) the fire came and consumed it.” In another narration: “Spoils were not lawful for anyone before us. Then Allah made them lawful for us, seeing our weakness and inability.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
2قولہ: ف جائے ت النار فا كلتها الخ (آگ آئی اور اس نے اس کو لحالیا) اگر تم یہو کہ ان کے اموال غنیمت
کو آگ کے لحا نے میں اور ان کا ہمارے لے حلال ہو نے میں کیا حکمت ہے، میں کہتا ہو ل ان کے حق میں یہ حکم اس لے
مقرر کیا گیا تاکہ ان کی جنگ اخلاص کی کی وجہ سے مال غنیمت کے خاطر نہ ہو۔ اور لیکن ان اموال غنیمت کا اس امت کے حق
میں حلال کیا جانا ان میں اخلاص کے غالب ہو نے کی وجہ سے ہے پس کسی اور سب کی ضرورت نہیں۔ (عمدۃ القاری)
خولہ النصاری رضی اللہ تعالیٰ علیہا سے روایت ﷺ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتے کہ پچھلوگ اللہ کے مال میں ناحق قبض کرتے ہیں۔ ان کے لے
قیامت کے دن آگے ہے۔ (بخاری)
Khawlah al-Ansariyyah (may Allah be pleased with her) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Some men misuse Allah’s wealth unlawfully, and for them is the Fire on the Day of Resurrection.” [Narrated by Bukhari]
خولہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ علیہا سے روایت ﷺ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتے کہ پیمال سرسپر اور میٹھاہے جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ حاصل
کرتے گا تو اس کے لے اس میں برکت وی جائے گی اور پچھلوگ لوگ جو قبض کرتے وا لے پیں اللہ
اور اس کے رسول کے مال میں جس ان کا نفس چاہتاہے اس کے لے قیامت کے دن سواے آگ
کے پچھنیں۔ (ترمذی)
Khawlah bint Qays (may Allah be pleased with her) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This wealth is green and sweet. Whoever takes it rightfully is blessed in it. But many who indulge in it as their soul desires from the wealth of Allah and His Messenger will have nothing but the Fire on the Day of Resurrection.” [Narrated by Tirmidhi]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ﷺ کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نہم میں کٹے ہوئے تو مال غنیمت میں چوری کا ذکر فرمایا۔ اور اس کو پڑا گناہ بتایا گیا اس کا حکم
جس برا (سخت) بتلا پچرآ پے علیہ صلی اللہ نے فرمایا: میں تم سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاونے کروہ قیامت
کے دن اپنی گردون پراکی اونٹ لے کر آ رہاہے جو بلبلاربا ہو۔ اور وہ پیکہ کہ یار رسول اللہ میری مدد
فرماہے اور میں کہون کہ میں تیرے لے پچھا کام نہیں آولگا کیونکہ میں نے تو تھوکو (دین) پچھا دیا۔
میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاونے کروہ میں کا کوئی قیامت کے دن اپنی گردون پر گھوڑا لے
کر آ لے اور وہ گھوڑا پنہنہنا ربا ہو۔ وہ کہ گا کہ یار رسول اللہ میری مدد فرمائے تو میں کہون گا کہ میں
تیرے کا میں آولگا کیونکہ میں نے تھے (دین) پچھا دیا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ
پاونے کروہ قیامت کے دن اپنی گردون پر بگری لا دا ہوا تو اور وہ ممیار، یہوا وروہ کہ یار رسول اللہ میری
مدد تھے تو میں کہون گا کہ میں تمحارے لے پچھا کام نہیں آولگا کیونکہ میں نے تو تم کودین پچھا دیا
تحا میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاونے قیامت کے دن اپنی گردون پر پڑ لے اٹھا لے
پھر کہا میں آپ کا کیونکہ میں نے تجہ پہنچادیا تھا میں تم میں کو قیامت کے دون ایک حالت
میں نہ پاؤن کے اس کی گردان پرسونا چاندی تو اور وہ کہ کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد
فرمایے تو میں کہون گا کہ میں تیرے پچھا کام نہیں آون گا میں نے تو تم کو پہنچادیا تھا۔
(شفق علیہ) اور بی مسلم کے الفاظ میں اور زیادہ کمل ہیں۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among us one day and mentioned (2) misappropriation, emphasizing its gravity and severity. He said: “Let me not find one of you coming on the Day of Resurrection with a camel bleating on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’ Let me not find one of you coming with a horse neighing on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’ Let me not find one of you coming with a sheep bleating on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’ Let me not find one of you coming with a soul crying on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’ Let me not find one of you coming with fluttering rags on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’ Let me not find one of you coming with silent gold or silver on his neck, saying: ‘O Messenger of Allah, help me,’ and I say: ‘I have no power for you; I conveyed the message.’” [Narrated by Bukhari and Muslim, with Muslim’s wording being more complete]
قولہ : فذکر الغلول الخ (پس آ پے صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کا ذکر کیا) امام نووی نے خیانت کا گناہ
کبیرہ میں سے ہوئے پراجما عقل کیا۔ (عمدۃ القاری)
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ کہ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
فرمایا کرتے تھے کہ دعا کر اور سوتی جی ادا کرو اور تم خیانت سے پچو کیونکہ یاس کے کرنے والے
کے لئے قیامت کے دون عیب (شرمندگی) ہے۔ (داری)
Pray and sleep, and you will be saved from treachery, for there is disgrace in the Hereafter for those who despair.
نسائی، عبید اللہ بن عمر و بن شعیب عبین ابیعن جدہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
سامان پر ایک شخص مقرر رخا تھا جس کو کر کرہ کہما جاتا تھا جب وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وہ آگے میں پیش لوگ دیکھ کے کے گے تو ایک چادر میں جس کی اس نے خیانت کی تھی۔ (بخاری)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated: A man named Kirkirah was in charge of the Prophet’s (ﷺ) baggage and died. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “He is in the Fire.” They went to check and found a cloak he had misappropriated. [Narrated by Bukhari]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سے: مجھے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
حدیث بیان کی کہ جب جنگ خبر کا دن آیا تو بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھے صحابہ آئے اور انہوں
نے کہا کہ فلان شہید ہے اور فلان سے پہلے تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے تو کہا فلال
شہید ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے اس کو آگے میں دیکھا ہے اس
ایک چاودی اعباء کی بناء پر جس کو اس نے چوری کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اب
خطاب! تم جاو اور لوگوں میں تین مرتبا اعلان کرو کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا سوا کے ایمان
والوں کے پس میں نکلا اور میں نے تین مرتبا اعلان کیا: سنو جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا سوا کے
اللہ ایمان کے۔ (مسلم)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: Umar said: On the day of Khaybar, a group of the Prophet’s Companions came, saying: “So-and-so is a martyr, so-and-so is a martyr,” until they passed a man and said: “So-and-so is a martyr.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No, I saw him in the Fire for a cloak or mantle he misappropriated.” Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Ibn al-Khattab, go and announce among the people three times: ‘Only the believers enter Paradise.’” (1) I went out and announced three times: “Indeed, only the believers enter Paradise.” [Narrated by Muslim]
4قولہ: لا یدخل الجنة الا المؤمنون الخ (جنت میں سوا کے الہ ایمان کے کوئی داخل نہیں ہوگا) ابن ملک
کہا کہ مومن سے مراد عرف میں ہو شخص ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پراورآ پے عیسی جو کچھ لا یہ اس پر
ایمان لائے اور جو آدمی خیانت کرتا ہے تو کویا وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنی تصدیق کے حکم پر نہیں چلااور بی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس طرح کے عمل سے روکنے کے لئے اس کو مسلمانوں میں شاہ نہیں فرماتے ہیں۔ (مرقات)
زیاد بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک صاحب کا خبری کے دونوں انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے ساتھی پر تم نماز (نماز جنازہ) برہو اس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں کے رنگ اٹھ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے۔ پس تم نے اس کے سامان کو تلاش کیا تو اس میں یہود کے منگول میں سے چند منگ لے جودود رتم کے مساوی کچھ نہیں تھا۔ (مالك، ابوداود، نسائی)
امام طحاوی نے کہا۔ 5 اگر حیقینی سامان کوجلا دوا لکی حدیث تجہ تو اس کوممول کیا جائے گا لیے زمانہ پرجب کرمال کے ذریعہ مرزا کیسی دی جا تین تحسین جیسے زکوۃ دین والون سے آدھا مال لینا اور کمشدہ اونٹ کا مستداور کچور چوری کرنے والے کی سزا سے متعلق حکم اوریسب منسوخ ہیں۔
Yazid ibn Khalid (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the Prophet’s Companions died on the day of Khaybar. They mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ), who said: “Pray over your companion.” The people’s faces changed at this, so he said: “Your companion misappropriated in the path of Allah.” They searched his belongings and found beads from Jewish beads not worth two dirhams. [Narrated by Malik, Abu Dawud, and An-Nasa’i]
Imam At-Tahawi said: (1) If the Hadith about burning were authentic, it would be interpreted as applying to financial punishments, like taking half the wealth of one who withholds zakat, straying camels, or a date thief, all of which are abrogated.
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام پہری پیش کیا جس کو معلم کہا جاتا تھا۔ اس وقت جب کہ معلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کجاوہ کو تار رباختا تو اس کو ایک نامعلوم تیرا آکر لگا اور اس کی جان لے لی۔ لوگوں نے کہا اس کے لیے جنت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ چادر، جس کو اس نے خبری کے دونوں مال غنیمت میں سے جس کی
اِس میں تقسیم نہیں ہوتی ہے، لیلی اِس کو جب اس بات کو سن تو
ایک آدمی ایک تسمہ یاد و تہ نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا 6 تو آپ ﷺ علیہ السلام نے
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: A man gifted a slave named Mid‘am to the Messenger of Allah (ﷺ). While Mid‘am was saddling for the Messenger of Allah (ﷺ), a stray arrow struck and killed him. The people said: “Congratulations, he gets Paradise.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No, by the One in Whose Hand is my soul, the shawl he took from the spoils of Khaybar before distribution is burning on him.” When the people heard this, a man brought one or two sandal straps (1) to the Prophet (ﷺ), who said: “A strap of fire or two straps of fire.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
Abu Dawud narrated from Abdullah ibn Amr: When the Messenger of Allah (ﷺ) acquired spoils, he ordered Bilal to call the people, who brought their spoils. He took the fifth and distributed them. A man later brought a hair rein, saying: “O Messenger of Allah, this was among the spoils we took.” He said: “Did you hear Bilal call three times?” He said: “Yes.” He said: “What stopped you from bringing it?” The man apologized, and he said: “You will bring it on the Day of Resurrection; I will not accept it from you.” (2)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مال غنیمت کے پاس پڑھے تو حضرت سیدنا بلال کو حکم فرما تے پس وہ لوگوں میں اعلان کرتے لوگ اموال غنیمت لے کر آتے تو آپ علیہ السلام میں پانچوال حصر اللہ کرتے اور تقسیم فرما تے تھے۔ پس ایک شخص اس کے ایک دن بعد بالول کی ایک لگام لا یا اور عرض کیا یا رسول اللہ علیہ وسلم مال میں سے ہے جس کو تم نے مال غنیمت میں سے پایا تھا تو آپ علیہ السلام فرما یا: کیا تم نے بلال کو تمن مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا تو اس کہا بال تو آپ علیہ السلام فرما یہ اس کولا نے کس چیز نے روا کا تھا پس اس نے عذر پیش کیا راوی نے کہا: آپ علیہ السلام فرما یا: اس طرح رہ، تو اس کو قیامت کے دن لے کر آئے گا میں اس کو تیری طرف سے برگز قبول نہیں کرو نگا۔
when the spoils of war were brought to the Messenger of Allah ﷺ, he would command our master Bilaal to announce, and when people would bring the spoils of war, he ﷺ would take one-fifth for Allah and then distribute them. Then, one day after this, a man came with a bridle and said, 'O Messenger of Allah ﷺ, this is from the wealth which you found among the spoils of war.' The Prophet ﷺ asked him, 'Did you hear Bilaal announcing it ten times?' He replied, 'No.' The Prophet ﷺ then said, 'What made you bring this?' The man then offered an excuse. The narrator said: The Prophet ﷺ said, 'Leave it as it is; you will bring it on the Day of Resurrection, and I will not accept it from you at all.'
سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا کرتے تھے کہ جو کسی خیانت کرنے والے چور کو پھڑا کے گا تو وہ مجھی اس کے جسیا ہے۔
that whoever whips a thief who has committed treachery, he is like me in his stead.
جنادہ بن الی امیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا تم مقام دابق میں اترے۔ ابو عبیدہ بن جراح ہمارے امیر تھے تو حبیب بن مسلہ کو پیغبر پیغی کر قبرس کا حاکم آؤر بیچان کے راستے کا ارادہ کرتے ہوئے نکلا ہے اور اس کے ساتھ زمرد، یاقوت اور موتی وغیرہ میں۔ تو وہ اس کی طرف گئے اور اس کو قتل کر دیا اور اس کے ساتھ جو پڑھی ہی تھا اس کو لے کر آئے۔ ابو عبیدہ نے اس میں سے خمس نکالے کا ارادہ کیا تو حبیب بن مسلہ نے کہا: اللہ نے مجھے جو پڑھ عطا کیا ہے آپ مجھ کو اس سے محروم مت کیہ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب (مقتول کا مال) قتل کرنے والے کے لیے قرار دیا ہے تو معاذ نے کہا اے حبیب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا ہے کہ اس کے سوانحیں کہ آدمی کے لیے وہ ہے
جس کواس کے امیر کا نفس اچھا بھیتا ہے -8
قولہ: انما للمرء ما طابت به نفس امامه الخ (اس کے سوانحین کرآدمی کے لے وہ بہ جس کواس
کے امیر کا نفس اچھا بھیتا ہے ) سیر کیوں میں جوپڑہ بہ اس کا خلاصہ پیہ کہ لفظ "انفال"، فقہاء کی عبارتوں میں اس مال کو
کہا جاتا ہے۔ جس کو امیر مال غنیمت پانے والوں میں سے کسی کے لے خاص کرتا ہے اور اس عمل کو تفضل کہا جاتا ہے۔ اور
اس مال کو فل کہتے ہیں۔ تفضل کیسی جگہ پرابجا رت کے لے مال غنیمت کے حاصل ہونے سے پہلے اگر کسی کے لے
زائد مال مقرر کیا جاتا ہے تو اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ امیر، جگہ کے لے ابجا رت پر مامور ہے اللہ
تعالیٰ کے ارشاد کی بناء پر "یَاۤیُّہَا الَّذِیۡنَ حَرَّضَ الْمُؤْمِنِیۡنَ عَلَی الْقِتَالِ "(8-سورۃ الانفال، آیت نمبر:65)(اے
نہی مومینین کو جگہ پرابجا رتے ) یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لے ہے۔ اور ہراس شخص کے لے جوآ پے عیسے
کا قائم مقام (خلیفہ) ہے کیونکہ فجوں کے لے جب حاصل ہوئے والی اشیاء میں کوئی چیز خاص کر دیتا ہے تو وہ اس چیز کی وجہ
آپ کو بہت کم خطرات میں ذا لے ہیں اور جب امام ان کے لے اس میں کوئی چیز خاص کر دیتا ہے تو وہ اس چیز کی وجہ
سے اپنی جانوں کے ذریعہ خطرات سے کھیلے ہیں اور شمس کے بنگا مون میں اپنے آپ کووال دیتے ہیں۔ اور نفل کا جب
تک امام اعلان نہ کرے قاتل مقتول کے مال (سلب) کا حق وارثین بنیادی ہمارے (احناف) کے پاس ہے۔ اور امام
شفیع رحم اللہ کے قول کے مطابق جوآدمی کسی مشرك کو مقابلہ کرتیہو ے قتل کرے جب کروہ رودر رو ہو، پیٹ پلا یا ہوا نہ
ہوتا ہے سلب کا حق دار ہوجاتا ہے اگر چیکہ حاکم کی طرف سے تفضل کا اعلان نہ ہوا ہو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد "جوکوئی کسی آدمی کو قتل کر دے تو اس کو سلب مل گا"، شرعی حکم مقرر کرنے کے لے ہے اور اس طرح کا کلام صاحب
شریعت کی زبان مبارک سے اس کا سبب پیال کرنے کے لے ہوتا ہے جسیا کرآ پے عیسے کا ارشاد ہے "من بدیل دینہ
فاقتلہ "(جوکوئی اپنا دین بد ل دے اس کو قتل کردو)۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ
میں صحابہ علیہم الرضوان کے درمیان فرماتے، (تو حکم شرعی بنگا) مگر ایسا منقول نہیں ہے، بلکہ آپ پے عیسے کے تحریض کی
ضرورت کی وجہ سے جگہ میں ایا فرمائیہ کیونکہ امام ما کہ بن اس رحم اللہ کہا کہ مکہ کو بی بات نہیں پچھی کہ نہیں آکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جگہ میں قتل قتیلا فلہ سلبہ "(جوکوئی کسی آدمی کو قتل کر دے تو اس کو سلب مل گا)
فرما یا ہوسوا لے جگہ جنین کے مقام پر اس کی صورت پیہوئی کہ مسلمانوں میں پچھ کمزوری آگئی ہے اور ان کو ابجا رت کی
ضرورت کی تاکہ وہ پلیٹ کر دو بارہ حمل کریں جسیا کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ثُمَّ وَلَیۡتُمُ مُّدۡبِرِیۡنَ "تم میں پچھیر لے تھے
پیٹ پلا کر"(9-سورۃ توبہ، آیت نمبر:25)اور محمد بن ابراہیم کی نے کہا الیا جگہ بدر میں اور جنین میں کچھ ہوا ہے۔
اور جگہ بدر کے موقع پر جگہ کے لے تحریض کی ضرورت معلوم ہے۔ تو ہم پیچھے ہیں کہ آپ پے عیسے کے طور
پر جو پچھ فرمائیہ وہ تحریض کے لے ہے، شریعت کے حکم کے طور پر نہیں ہے۔ اور تم نے جو پچھ کہا ہے اس کی تائید اس حدیث
سے ہے حسن کاعبد اللہ بن شقیح نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قری کا محاصرہ کے ہوئے تھے تو
آپ پے عیسے کی خدمت میں ایک شخص آپ اور اس نے کہا۔ آپ پے عیسے اموال غنیمت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو آپ پے عیسے نے
فرما یا۔ اللہ تعالیٰ کے لے ایک حصرہ اور چار حیئن لوگوں کے لے پیں اس نے کہا۔ مال غنیمت تو آدمی حاصل کرتا ہے۔
آپ پے عیسے نے فرما یا۔ اگر تو اپنے بازو میں کوئی تیر چلا لے تو اپنے مسلم بحالی (مجاہد) سے زیادہ حق دار نہیں ہوجاتا۔......
پر اعل عراق و جاز سب متفق ہیں۔
اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نے کہا مال غنیمت جمع کرنے کے بعد مجھے تنفیل نہیں ہے۔ اور اعل عراق اور اعل جاز کا بیا
نہیں ہے۔ اور اعل شام مال غنیمت جمع ہو جانے کے بعد مجھے تنفیل کو جائز قرار دیتا ہے اور مجھے قول امام اوزاعی رحمۃ
اللہ کا ہے۔ اور تمہیں جوابات کہ دیں ہیں اس میں ان کے قول کے درست نہ ہونے کی ویل موجود ہے۔ وہ یہ کہ تنفیل جنگ
مر اجباری کے لئے ہے اور پی مال غنیمت حاصل ہو نے سے پہلے ہوتی ہے نہ کہ مال غنیمت حاصل ہو نے کے بعد کیونکہ
تنفیل غنیمت کا حق ثابت ہو نے کے بعد باطل کرنے کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ لئے ابتدا، میں مال مختص کرنے
کے لئے ہے اور مال غنیمت جمع ہو نے کے بعد تنفیل میں دوم سے کے حق کا ابطال ہے۔ پھر حسن رضی اللہ تعالیٰ علیہ حدیث
سے جولگام (رضی) سے متعلق وارد ہے استدلال کیا گیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال غنیمت میں
سے بالول کی ایک رضی کے لئے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر افسوس مجھ پر تو نے آگے کی رضی ماگی (الحدیث)۔
اور مجہد کی حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والروسل کی خدمت میں مال
غنیمت میں سے بالول کا ایک بنڈل لا یا اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس میں سے جو تیرا
حسہ ہو تچہ دے سکتا ہو نا اور ابوالاشعث صنعائی سے مرود حدیث میں سے کہ ایک آدمی نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت آیا اور اس کے ساتھ بالول کی ایک زکام تھی۔ (الحدیث) پھر انہوں نے کہا اگر مال غنیمت حاصل ہو جانے کے
بعد مجھے تنفیل جائز ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو باجو جود یا کر وہ سجا حاجت مند تجا محرم نہیں کرتے۔ پھر انہوں
نے کہا کہ مجھے جومروی ہے کہ نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کے جمع ہو نے کے بعد مجھے تنفیل دی۔ تو اس کواس
امر پر محول کیا جاتے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کے جمع ہو نے کے بعد جوفل دیا ہے تو وہ خمس میں سے دے ہو نے گے کیونکہ
وہ مساکین میں سے تھے یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوس کے اپنے حصہ میں سے دیا ہو یا اس مال میں سے دیا ہو جو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اللہ کے دیہ ہو نے مال فی میں سے دیا ہو جو گوڑے اور او نت وغیرہ
دور کے بخیر ملا ہوا اور اس کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے میں جسیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "قُلِ الْأَنفَالُ لِلّهِ
وَ الرَّسُولِ " آپ فرمادتے کہ انفال اللہ اور رسول کے لئے ہے (8-سورۃ انفال، آیت نمبر:1) اور خالد بن الولید رضی
اللہ عنہ اور عوف بن مالک رضی اللہ عنه سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ دونوں حضرات سلب کے مال میں خمس نہیں زکا لے
تھے۔ حضرت حبیب بن مسلمہ اور محول سے مرود ہے کہ سلب مال غنیمت سے اور اس میں خمس سے اور حضرت ابن عباس
رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی اس طرح کی روایت آتی ہے اور پب شک ہم نے ان برگول کے اقوال کولیا ہے کیونکہ ری اللہ
تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہے: وَاْعْلَمُوَا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَیْءٍ " (8-سورۃ انفال، آیت نمبر:41) (اور جانو کہ تم
جو پکھا مال غنیمت جمع کرتے جاؤ) اور سلب مال غنیمت سے ہے۔ اور خالد اور عوف سے جوروایت آتی ہے اس کی تاویل
پیہے کہ وہ ایس وقت میں ہو اٹے کہ پہلے تنفیل کا حاکم کی جانب سے اعلان ہو چکا تھا کہ میں قتل قتیلا فله سلبہ (جو
شخص آدمی کو قتل کرے تو اس کے لئے اس کا سلب (مقتول کا چھوڑا ہو وال) ہے) اور ہمارے پاس ایسے مواقع میں
سلب سے خمس مجھ نہیں نکالا جاتے گا اور بخیر تنفیل کے ہو تو اس میں خمس نکالا جاتے گا۔ (طخ)
امام طبرانی نے اس کو اپنے مجمع البحیر اور مرجم الوسط میں روایت کیاہے۔ یہ حديث متعدد سنن و لگی مجوے درجہ حسن کی ہے۔ 9 اس کی تاہیداس روایت سے مجھی ہوتی ہے جس کی امام بخاری و مسلم نے تخریج کی ہے۔
Junadah ibn Abi Umayyah (may Allah be pleased with him) narrated: We camped at Dabiq under Abu Ubaidah ibn al-Jarrah. It reached Habib ibn Maslamah that the ruler of Cyprus was heading toward Azerbaijan’s route with emeralds, rubies, pearls, and more. Habib went out, killed him, and brought what he had. Abu Ubaidah wanted to take a fifth, but Habib ibn Maslamah said: “Do not deprive me of sustenance Allah granted me, for the Messenger of Allah (ﷺ) gave the spoils to the killer.” Mu‘adh said: “O Habib, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A man gets only what his leader willingly gives.’” (1) [Narrated by At-Tabarani in Al-Mu‘jam al-Kabir and Al-Awsat]
This Hadith is hasan due to multiple narrations (2) and is supported by Bukhari and Muslim’s narration from Abdur-Rahman ibn Awf, who said: “I was standing in the ranks on the day of Badr and looked to my right and left, finding two young Ansari boys. I wished I were between stronger men. One nudged me and said: ‘Uncle, do you know Abu Jahl?’ I said: ‘Yes, what do you want with him, nephew?’ He said: ‘I heard he insults the Messenger of Allah (ﷺ). By the One in Whose Hand is my soul, if I see him, my shadow won’t leave his until one of us dies.’ I was amazed. The other nudged me, saying the same. Soon, I saw Abu Jahl moving among the people. I said: ‘Don’t you see? That’s the man you asked about.’ They rushed him with their swords, struck, and killed him, then went to the Messenger of Allah (ﷺ) and informed him. He said: ‘Which of you killed him?’ Each said: ‘I killed him.’ He said: ‘Have you wiped your swords?’ They said: ‘No.’ He looked at their swords and said: ‘Both of you killed him.’ (3) He awarded the spoils to Mu‘adh ibn Amr ibn al-Jumuh.” The two were Mu‘adh ibn Amr ibn al-Jumuh and Mu‘adh ibn Afra’.
In another narration by them: Anas (may Allah be pleased with him) said: On the day of Badr, the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Who will check what Abu Jahl did?” Ibn Mas‘ud went and found that Afra’s two sons had struck him until he was lifeless. He took his beard and said: “Are you Abu Jahl?” He replied: “Is there anyone greater than the man you killed?” In another narration: “If only it wasn’t a farmer who killed me.” Ad-Darimi narrated from him: On that day, meaning Hunayn, the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever kills a disbeliever gets his spoils.” Abu Talhah killed twenty men (4) that day and took their spoils.
He said: 'Indeed, what a person has is only what his soul finds good in leading.' (This means that a person gets only that which his leader's soul finds good.) In Sair, it is stated that the word 'anfal' in the language of jurists refers to the wealth that the commander designates for someone from the spoils of war, and this act is called tafsil. The wealth designated is called fil. There is no disagreement about tafsil when it is done before the spoils of war are obtained, as the commander is appointed by Allah, exalted be He, to mobilize the believers for battle, as mentioned in Surah Al-Anfal, verse 65: 'O you who have believed, respond to Allah and to the Messenger when he calls you to that which gives you life.' This address is directed to the Messenger of Allah (peace be upon him), and to the person who stands in his place (the caliph), because when he designates something from the spoils of war, he does so at great risk to himself, and when the imam designates something for someone, he does so at the risk of his own life, exposing himself to danger. According to the Hanafi school, until the imam announces nafila (a voluntary contribution), the right to the property of the slain (salb) belongs to the heirs. According to Imam Shafi (may Allah have mercy on him), if a person kills an idolater in combat, whether the victim is on horseback, on foot, or on a camel, the right to salb is established even if the ruler has not announced tafsil, because the Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'Whoever kills a person will take his salb,' which is a legal ruling. Such statements from the Prophet (peace be upon him) are made to encourage people, as in the case of his statement, 'Whoever changes his religion, kill him.' However, we say that when the Prophet (peace be upon him) made such statements in Madinah among the Companions (may Allah be pleased with them), they were meant as encouragement, not as legal commands. This is not reported; rather, he made such statements out of necessity to mobilize people, as Imam Maqbool bin As (may Allah have mercy on him) said, 'There is no report from Makkah that the Prophet (peace be upon him) ever said, 'Whoever kills a person will take his salb.' It seems that he made such statements in places where there was a need to mobilize people, such as when the Muslims became weak and needed to be strengthened to fight again, as Allah, exalted be He, says, 'Then you turned back in flight' (Surah At-Tawbah, verse 25). Muhammad bin Ibrahim said, 'There is nothing in Badr or Uhud.' The need for mobilization in these places is clear. Therefore, we maintain that whatever the Prophet (peace be upon him) said in such contexts was for encouragement, not as a legal command. Your statement is supported by the hadith narrated by Hassan, the servant of Abdullah bin Shuqayh, who said, 'When the Prophet (peace be upon him) was besieging the valley of Qura, a man came to him and asked, 'What do you say about the spoils of war?' The Prophet (peace be upon him) replied, 'One-fifth for Allah and four parts for the people.' The man said, 'The spoils of war are taken by people.' The Prophet (peace be upon him) said, 'If you shoot an arrow from your bow, you do not have more right to it than your Muslim brother (mujahid).'... On this, all the scholars of Iraq and Jordan agree. Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) said, 'After the spoils of war are gathered, I do not see tafsil as permissible, and there is no disagreement between the scholars of Iraq and Jordan. The scholars of Sham consider tafsil permissible after the spoils of war are gathered, and I follow the opinion of Imam Awza'i (may Allah have mercy on him). There are valid objections to their opinions, as tafsil is for compulsory mobilization and occurs before the spoils of war are obtained, not after, because it is not permissible to invalidate the rights of the spoils of war after they have been established. Rather, tafsil is for the initial designation of wealth, and after the spoils of war are gathered, tafsil would invalidate the rights of others. Then, the hadith of Hassan (may Allah be pleased with him) from Julgam (may Allah be pleased with him) is used as evidence, where a man asked the Prophet (peace be upon him) about giving a portion of the spoils of war to a certain person, and the Prophet (peace be upon him) said, 'I am sorry, but you have asked for a portion in advance.' Similarly, the hadith of Mujahid is used as evidence, where a man brought a bundle of arrows from the spoils of war to the Prophet (peace be upon him) and said, 'Can I give part of this to my brother?' The Prophet (peace be upon him) said, 'Give what is yours.' And from Abu al-Ashath Sanai, it is reported that a man came to the Prophet (peace be upon him) with a bundle of arrows and said, 'If tafsil were permissible after the spoils of war are gathered, the Prophet (peace be upon him) would have given to those in need or those who were not part of the expedition.' Then, he said, 'I am convinced that the Prophet (peace be upon him) did not give tafsil after the spoils of war were gathered. If he had, he would have given from the fifth part, as he was among the poor, or from his own share, or from the wealth designated for him, or from the wealth of Allah, which includes gold and silver and other valuables, as Allah, exalted be He, says: 'Say, [O Muhammad], “The spoils of war belong to Allah and the Messenger”' (Surah Al-Anfal, verse 1). It is also reported from Khalid bin al-Walid (may Allah be pleased with him) and Auf bin Malik (may Allah be pleased with him) that they did not take a fifth from the salb. From Habib bin Muslim and Muhal, it is reported that the salb is from the spoils of war and does not include a fifth. Similar reports are found from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him and his father). We accept these reports because they align with the verse, 'And know that whatever you obtain of war booty' (Surah Al-Anfal, verse 41), which includes the salb. From Khalid and Auf, it is reported that they did not take a fifth from the salb, which can be interpreted to mean that they did not take a fifth when tafsil had already been announced, 'Whoever kills a person will take his salb,' and in such cases, a fifth is not taken from the salb. Imam Tabarani has narrated this in his Mujam al-Kabir and Mujam al-Awsat, and this hadith is considered hasan (good) due to its multiple chains. Its meaning is derived from the hadith narrated by Bukhari and Muslim.
قولہ: فلن اقبله عنک (میں اس کو تیری طرف سے برگز قبول نہیں کرو نگا) اس کی وجہ یہ ہے کہ قول پر چوری کا یقین نہیں ہوا امام محمد رحمہ اللہ نے سیر کبیر میں مہی مہبتالی ہے۔
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں جنگ بدر کے دنوں صف میں خطہ راہوا تقہ میں نے اپنے سیدی اور باعی جانب ویجا تو انصار کے دونوں عمار کے تقہ میں نے تمنا کی کاش میں ان دونوں سے زیادہ طاقتور کے درمیان رہتا پس ان میں سے ایک نے مجھے انگلی چھا کر کہا پچا کیا آپ ابوجہیل کو جانے ہیں تو میں نے کہا بالکہ راپ کچھجا اس سے تمہاری کیا حاجت ہے؟ تو انہول نے کہا "مجھے پیغبر ملی کر رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کو وہ برا کہتا ہے اور تمہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان سے اگر میں اس کود کہ لوگ تو میرا جسم اس کے جسم سے اگر نہیں ہوگا یہاں تک کہ میں میں نے جس کو مجھی جلد موت آئی ہے وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا"، مجھے اس پر تجبب ہوا پچھر دور سے لڑ کے نے مجھے انگلی چھا کی اوراس نے مجھے اس طرح کہا پس میرا پچھر وقت نہیں گزر اتجا کہ میں نے ابوجہیل کو دیکھا وہ لوگوں میں گشت لگار پاہے تو میں نے (ان لوگوں سے) کہا کیا تم دیکھتے نہیں مجھی تمہارا وہ آدمی ہے جس کے بارے میں تم مجھے پوچھ رہے ہے پس وہ دونوں اپنے لوارول کے ساتھ اس پرچھی اوراس پر ضرب لگانی یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا پچھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی اور انہول نے آپ علیہ کو اس کی اطلاع دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اس کو قتل کیا تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے کہا میں نے اس کو قتل کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں نے اپنے لوارول کو پوچھ لیا؟ تو ان دونوں نے کہا "دونویں" رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو کیا کر فرمایا تم دونوں نے اس کو قتل کیا۔ اور اس کے سلب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن عمر و بن جموح کے حق میں فیصلہ فرما 10 اور وہ دوآ دی معاذ بن عمر و بن جموح اور معاذ بن عفراء ہیں۔ (متفق علیہ)
During the days of the Battle of Badr, I was standing in the ranks when I saw my two neighbors, both from the Ansar, and one of them said, 'I wish I were between the two most powerful men.' Then one of them poked me with his finger and said, 'Do you know Abu Jahl?' I replied, 'Of course, what do you need him for?' He said, 'The Messenger has told me that he speaks ill of Allah's Messenger ﷺ, and if I were to strike him, my body would not be safe from his body, even if death were to come to me before I could reach him.' I was amazed by this. Later, from a distance, I saw him poking me again and saying, 'Do you see that man about whom you were asking?' Shortly after, I saw Abu Jahl walking among the people. I said to them, 'Do you not see that man about whom you were asking?' Then they both rushed at him with their spears and struck him until they killed him. Later, they came to the service of Allah's Messenger ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ asked, 'Which of you killed him?' Both of them said, 'I killed him.' The Prophet ﷺ then asked, 'Did you ask your companions?' They replied, 'Both of us.' The Prophet ﷺ said, 'Both of you have killed him.' And the spoils of his property were awarded to Mu'adh ibn 'Amr and Mu'adh ibn Jamuh, and the Prophet ﷺ gave them as a reward to Mu'adh ibn 'Amr and Mu'adh ibn 'Afra'. (Agreed upon)
وقوله: هذا الحديث حسن لتعدد طرقه (یہ حدیث متعدد طرق کی بناء پر درج حسن کی ہے) صحابہ القدیرین بیان کیاہے۔ یہ حدیث ضعیف سے اوراس کے ضعیف ہونے سے ہمارے لئے کوئی ضرر نہیں ہے کیونکہ ہم سلب کی حدیث کے دو اختلافات میں سے ایک کے لئے اس کو قابل قبول قرار دیتے ہیں لیکن حضور علی الصلاۃ والسلام کا ارشاد سے جو کسی کو قتل کرے گا اس کے سلب کا وہ حق دار ہو جائے گا اس کو تخفیل (حاکم کے مقررہ حق سے زیادہ دینے) پر محول کرتے ہیں اور ہر ضعیف حدیث باطل نہیں ہے۔ اور بکثرت احادیث ضعیف ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے سلب کی حدیث عام جاری قاعدہ کے طور پر نہیں ہے اور ضعیف حديث متعدد سنن و لگی مروی ہوتی ہے رجحان میں ترقی کر جاتی ہے اور غالب گمان ہے قائم ہو جاتا ہے کہ یہ طور تخفیل سے اوراس کی کامل ثبوت ہی ہے۔ (رد المختار)
اور ان دونوں کی ایک روایت اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدرب کے دون فرمایا ہمارے لئے کون دکیا کر آئے گا کہ ابوجہلم نے کیا کیا؟ عباد اللہ بن مسعود کے تو اس کواس حالت میں پائے کر عفراء کے دونوں پیٹون نے اس پر ضرب لگایا ہے اور وہ مڑتا ہور باہے تو ابین مسعود نے اس کی وارہی پکڑ کر کہا تو ابوجہلم ہے تو اس نے کہا کیا تم نے اس آدمی سے بڑا کرآ دیا قتل کیا ہے؟
The Messenger of Allah ﷺ said during the Battle of Badr: 'Who will bring me news about Abu Jahl?' It was found that 'Abdullah ibn Mas'ud was in that state, and both of his feet had been struck by a whip, and he was turning away. Then Ibn Mas'ud caught hold of him and said, 'This is Abu Jahl.' He replied, 'Have you made this man greater? He has been killed.'
اور ایک روایت میں ہے اس نے کہا کاش کسان کے سوا کوئی اور مجھے قتل کرتا۔ (متفق علیہ)
And in another narration, he said, 'I wish someone other than the farmer had killed me.' (Agreed upon)
اورداری نے ان سے روایت لائی ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن بیس (20) کو قتل کیا اور ان کے سلب کے لئے 11 (داری) دن لیمن جنگ حنین میں فرما یا جو کوئی کسی کا فر کو قتل کرے گا تو اس کواس کا سلب لے گا پیس ابوظہر نے
قولہ: فقال کلا کما قتله، ثم قضی بسلبه لمعاذ بن عمر و بن الجموح (تم دونوں نے اس کو قتل کیا)۔ اور اس کے سلب کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن عمر و بن جموح کے حق میں فیصلہ فرما)۔ ویل کی صورت پیچ کر سلب قاتل کے لئے ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے لئے اس کا فیصلہ فرما تے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں میں سے ایک کو یا اس بات کی ویل ہے کہ میں معاملہ امیر کے حوالے ہے۔ (نصب الرایۃ)
قولہ: فقتل ابو طلحة الخ (پیش ابوظہر نے اس دن بیس (20) کو قتل کیا اور ان کے سلب حاصل کر لئے) مرقات میں ہے کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ حدیث ابوظہرده سے امام شافعی رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کر سلب قاتل کے لئے ہوتا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرما یا امام جب تک قاتل کو بطور نفس سلب نہ دے تو وہ قاتل کا نہیں ہوتا اور یہ حدیث تخفیل پر مول ہے (یعنی ابوظہر کے لئے نفل کا اعلان کیا گیا تھا) تاکہ اس حدیث میں اور دوسری حدیث "لیس لک من سلب فتیلك الا ما طابت به نفس امامک" (تم کو تہارے قتل کے سلب کا حق نہیں گری کر تہمارے امام عطا کریں) ان دونوں حد ثبوت میں یقین ہو۔ اور امام طیبی نے شرح مشکوہ میں فرما یا دوسری فصل میں عوف بن ما کی جو حدیث ہے وہ امام شافعی کی تائید کرتی ہے کیوںکہ وہ مطلق ہے اور عدم تقیید ہی اصل اور قاعدہ ہے۔ میں کہتا ہوں کر اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کے بعد اس کو فرما یا ہے کیں اس میں اس بات کا جو اختیال ہے کرآ پے صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار شاد سا بدقول۔
He killed twenty (20) and took eleven (11) days to distribute the spoils. Whoever kills someone will take that person's spoils. Abu Dharr (RA) said: 'He said, 'Whoever kills someone will take that person's spoils.' Then he ruled that the spoils would go to Muadh bin Umar and Ibn al-Jumuh (both of you killed him). If the spoils were to be divided among the killers, the Messenger of Allah ﷺ would have ruled in favor of both of them. The Messenger of Allah ﷺ ruled that one of them or the other would receive the spoils, or that the matter was referred to the commander. (Nasb ar-Raya) Abu Dharr (RA) said: 'Abu Talha (RA) killed twenty (20) and took their spoils.' In the Merqat, it is mentioned that Ibn al-Malik said that Imam Shafi'i (RA) used this hadith to argue that the spoils belong to the killer. Imam Abu Hanifah (RA) said: 'Until the killer is given the spoils as a personal right, they do not belong to him,' and this hadith is based on the principle of nafila (voluntary action) for Abu Dharr (RA), meaning that the spoils were declared as voluntary for him so that there would be consistency between this hadith and another hadith: 'You have no right to the spoils of your kill unless the imam grants it to you.' Imam Taqi al-Subki (RA) said in Sharh al-Mishkat: 'The hadith of Uf bin Ma' is in support of Imam Shafi'i (RA) because it is absolute and the absence of restriction is the rule and principle. I say that there is no doubt that the Messenger of Allah ﷺ said this after the distribution, and whatever is established in this regard is a clear statement of the Messenger of Allah ﷺ.'
مجمح بن جاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہ حدیث پر خبر کی تقسیم عمل
میں آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو (۱۸) حصوں میں تقسیم فرمایا اور فونج ایک بڑا پائچ
سو (۱۵۰۰) ہی اس میں تین سو گھوڑا سوار تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا سوار کو دو حصے اور
پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا -۱۲ (ابوداود)
اور حافظ شمس الدین ذہبی ۱۳ لے اپنی کتاب تلخیص میں اس حدیث شریف کی تخریج کرے
...... کی تکرار ہو اور اب رہی حضرت عوف کی حدیث کرآ پے علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کے لے سلب کا فیصلہ دیا ہے تو رقابل تقیید ہے
(اس کو مقید کیا جائے گا)۔ اور یہ رأس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جومشکوہ کی دوسرا فصل میں ہے جس کو امام داری نے روایت
کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دونوں جنگ حنین کے موقع پر فرمایا جو کوئی کسی کا فرق قتل کرے گا تو اس کو اس کا سلب
لے کا تو ابطاح نے اس دونوں آدمی کو قتل کیا اور ان کے اسلاب (ان کے اموال) لے لے تو اس حدیث میں صراحت ہے کہ
ان کا قتل کرنا حضور علیہ والاصلاۃ والسلام کے اس ارشاد کے بعد ہوا ہے تو مطلق کو اس کے ذریعہ مقید کیا جائے گا۔
قولہ : فاعطی الفارس سهمین والراجل سهما الح (توآ پے علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا سوار کو دو حصے اور پیادہ
کو ایک حصہ عطا فرمایا) لزمنے والے اصحاب کتنی مقدار کے مستحق ہیں اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے اور
لزمنے والے پیادہ کی ہوسکتے ہیں اور گھوڑا سوار کی ہوسکتے ہیں اگروہ پیادہ ہے تو سب کا اتفاق ہے وہ ایک حصہ کے مستحق
ہیں اور اگروہ سوار ہیں تو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ کے پاس ان کے اوران کے گھوڑے کے جملہ دو
حسے ہیں اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے پاس اس کے لے تین حصے ہیں ایک حصہ اس کا اور اس کے گھوڑے
کے دو حصے ہیں اور کیہی قول امام شافعی اور امام ماک ک اور امام احمد رحمہ اللہ کا ہے جمہور نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما
کی حدیث اور اس جسی دوسری احادیث سے استدلال کیا ہے۔
لیکن امام اعظم رحمہ اللہ نے مجمح بن جاری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے اب رہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما کی حدیث کا جواب تو اس میں انہول نے پسراحت نیں کی سے کردوہ تقسیم کب ہوتی ہی خبر سے پہلے یا خبر کے
بعد پس جب اس میں پر اختمال ہو کر پی تقسیم خبر سے پہلے ہوتی ہی تویر دلیل نیں بن شک کیونکہ ایسی صورت میں اس میں
رش کا اختمال ہے اور اس میں پی اختمال ہے کر اس وقت مال غنیمت کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راے کے حوالہ
ہو کر آپ حس طرح چاہیں تقسیم کریں اور حس کو چاہیں دیں اور اس میں پی اختمال ہے کر ایک حصہ میں اس کا میں بطور
تفصیل کے دے ہول اس لے اس کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ اور اگر تم اس میں مزید تقسیل چاہتے ہو تو بدل اچھو دکی طرف
رجوع کر کیونکہ اس میں اس بیان کی بہت ہی نفس تقسیل ہے۔
قولہ : وقال الحافظ شمس الدین الخ (حافظ شمس الدین ذہبی لے اپنی کتاب تلخیص میں اس
حدیث شریف کی تخریج کر نے کے بعد کہا ہے کہ) امام ابوداود کے قول میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا گیا ہے لیکن
انہول نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ (بذل الجہود)
کے بعد کہا ہے کہ یہ دیث تھی کہ اور صحابہ جوہرائی نے کہا ہے کہ حاکم نے مستدرک میں اس کی تخریج کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بڑی حدیث ہے۔ اس کی سنن ہے اس میں مجمع بن یعقوب معروف آدمی ہیں۔ اور صحابہ کمال نے کہا ہے کہ امام بنی، یہی، وعاصی، اسامیل بن الی اویس یوس مودب اور ابو عامر عقیدی کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی ان سے روایت کی ہے اور ابن سعد نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہونگی اور ثقة ہیں۔ ابوجا تم اور ابن مجمع نے کہا ہے کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام نساکی نے ان کی روایت کی تخریج کی ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ابن مجمع کی کے بارے میں جب "ليس به باس" کہتے ہیں تو اس سے ان کی توثقیعنی ان کو ثقة قرار دیا ہوتا ہے۔
when the distribution of the spoils of war came to the Messenger of Allah ﷺ, he divided it into eighteen parts and made one part quite large, containing fifteen hundred camels, three hundred of which were cavalry. Then the Messenger of Allah ﷺ gave two parts to each cavalryman and one part to each foot soldier.
And Hafiz Shams al-Din al-Dhahabi has included this noble hadith in his book Talkhīs. ... It is a repetition and now regarding the hadith of Hadhrat 'Awf (RA), when the Prophet (peace be upon him) made a decision to confiscate the property, it must be confined (to that decision). And this hadith of Rā'ib (RA) is in the second chapter of Jumshūd, which Imam Dārī narrated. The Prophet (peace be upon him) said at the time of the Battle of Hunayn: Whoever kills someone by separating them will have their property confiscated. Then Abū Tāhib killed two men and took their property. This hadith clearly states that their killing occurred after the guidance of the Prophet (peace be upon him). Therefore, the absolute must be confined to this context.
The Prophet (peace be upon him) said: 'Give the horseman two shares and the foot soldier one share.' There is a difference among the scholars regarding the amount to which those who are obligated (to fight) are entitled. They can be on foot or mounted. If they are on foot, all agree that they are entitled to one share. If they are mounted, according to Imam Abu Hanifah (RA) and Imam Zufar (RA), both the man and his horse together are entitled to two shares. According to Imam Abu Yusuf (RA) and Imam Muhammad (RA), they are entitled to three shares: one for the man and two for the horse. This is also the view of Imam Shafi'i (RA), Imam Malik (RA), and Imam Ahmad (RA). The majority have argued based on the hadith of Abdullah ibn Umar (RA) and other similar hadiths.
However, Imam Abu Hanifah (RA) argued based on the hadith of Mujahid ibn Jarir. Now, regarding the response to the hadith of Abdullah ibn Umar (RA), he did not provide relaxation until it was known whether the division occurred before or after the news. If it was likely that the division occurred before the news, then there is no doubt because in such a case, there is a possibility of error and certainty. At that time, the division of the spoils of war could be done according to the opinion of the Prophet (peace be upon him), and he could divide and give as he wished, and there is certainty in giving one share. Therefore, there can be no doubt about it. If you seek further clarification, refer to Bida' al-Juhud, as this statement contains a very detailed explanation.
Hafiz Shams al-Din al-Dhahabi, after deriving this noble hadith in his book Talkhīs, said that according to Imam Abu Dawud, this hadith is weak, but he did not provide any argument for it. After that, he said that this hadith is such that the Sahaba Juhari said that Al-Hakim derived it in Al-Mustadrak and said that it is a great hadith. Its chain includes Mujahid ibn Jarir, a well-known person. Sahaba Kamal said that besides Imam Bani, Yahya, Wa'asi, Asamal bin Yawus, Yusuf Mudab, and Abu Amr Aqidi, other companions also narrated from him, and Ibn Sa'd said that he died in Madinah and was trustworthy. Abu Ja'far and Ibn Mujahid said that there is no harm in him, and Imam Nasa'i derived his narration. It is known that when they say 'Laysa bihā bās' about Ibn Mujahid, it means that he is considered trustworthy.
نعمت بن حماد نے روایت کے کہم کوابن مبارک نے حدیث بیان کیا اور وہ عبد اللہ بن عمر نے روایت کرتے ہیں وہ نافح نے روایت کرتے ہیں وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سوار کے لیے وحش اور پیادہ کے لیے ایک حصہ دیا۔ (ابن ابی شیبرہ) تھا ابن حمام نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ نعمت نے اور ابن مبارک زیادہ مضبوط لوگوں میں ہیں۔
پزید بن صرم نے کہا کہ نجرہ حروی نے ابن عیاس نے خط کہا کر پوچھا کہ غلام اور عورت دونوں مال غنیمت کے پاس حاضر تھے۔ کیا ان دونوں کو جی تقسیم میں مال غنیمت دیا جاسکتا ہے؟ تو انہوں نے پزید نے کہا ان کو جواب کہو کہ ان دونوں کے لیے کوئی حصر نہیں ہے کہر پیکران کو (بطوراحسان) پچھو عطا کیا جائے۔ 14۔
قولہ : لیس لهما سهم الا ان يحذيا (ان دونوں کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے مگر پیکران کو (بطور احسان) پچھو عطا کیا جائے۔) ابن حمام نے کہا کہ سی غلام یا کوئی عورت کو حصر نہیں کسی نے کو حصر نہیں اور کسی ذی کو حصر نہیں دیا جائے گا لیکن ان کو (بطوراحسان) پچھو دیا جاسکتا ہے اور پی حصر کے برابر نہ ہو بلکہ اس سے کم ہو اور یہ کی امام کی رائے پر ہے۔ خواہ وہ غلام ایک آتا کی اجازت سے جنگ کرے یا آتا کی اجازت کے بغیر یہ اور پچھرہمارے پاس اس کو مال غنیمت میں پچھو دینا مسکا لے سے پہلے ہے اور امام شافعی اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ اور ایک قول میں خمس کے ہے اور امام احمد کی روایت کے خمس کے چار حصون میں دیا جائے گا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک قول میں خمس کے پانچویں حصہ میں سے اور امام ما کے پاس خمس میں دیا جائے گا پھر یہ کے غلام کو جودیا جائے گا پاس وقت ہے جب کر اس نے جنگ کی ہو ای طرح نے اور ذی کا حکم ہے کیوںکہ وہ جنگ کی قدرت رکھے یں۔ جب یہ کے بارے میں یفرض کیا جائے کہ وہ جنگ کی قدرت رکھتا ہے تو جنگ کے سوا کسی دوسری چیز کو جنگ کے قائم مقام قرار دیا جائے گا برخلاف عورت کے کر اس کو جنگ کی وجہ سے اور شکر والوں کی خدمت کی وجہ سے جبہی دیا جاسکتا ہے اگر پچھی کے وہ جنگ نہ کرے کیوںکہ وہ جنگ کے علاجزہ تو اس کے اس فاند کو جنگ کے قائم مقام کر دیا گیا ہے۔ (مرقات)
Yazid ibn Hurmuz narrated: Najdah al-Haruri wrote to Ibn Abbas asking about slaves and women who attend the spoils, do they receive a share? Ibn Abbas told Yazid: Write to him: “They do not receive a share unless they are given a discretionary portion (radkh).” (1) In another narration: Ibn Abbas wrote: “You asked whether the Messenger of Allah (ﷺ) took women to battle and gave them a share. He did take them to battle; they treated the wounded and were given a discretionary portion from the spoils, but not a fixed share.” [Narrated by Muslim]
اور ایک روایت میں ہے ابن عباسؓ نے ان کو لکھا کر تم جہے دریافت کرے
کے لے کے ہو کر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کو غزوہ میں شریک کے ہیں اور کیا ن کے لے
کوئی حضرتی مقرر کے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غزوہ میں شریک فرمایا ہو پیارول
کا چلا رہ کرتی تھیں اور مال غنیمت میں تے ان کو لمتا تھا بین ان کے لے حضرتی مقرر نہیں تھا۔ (مسلم)
Yazid ibn Hurmuz narrated: Najdah al-Haruri wrote to Ibn Abbas asking about slaves and women who attend the spoils, do they receive a share? Ibn Abbas told Yazid: Write to him: “They do not receive a share unless they are given a discretionary portion (radkh).” (1) In another narration: Ibn Abbas wrote: “You asked whether the Messenger of Allah (ﷺ) took women to battle and gave them a share. He did take them to battle; they treated the wounded and were given a discretionary portion from the spoils, but not a fixed share.” [Narrated by Muslim]
غمیر مولی آپی احمدؓ سے روایت ہے کر میں جگہ خبر میں اپنے مال کون کے ساتھ
حضرہ وا تو نہیں ہول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں گفتگو کی اور بتلا یا کہ میں غلام ہول
حضرتی اللہ علیہ وسلم نے میرے لے حکم فرمایا تو میرے گل میں تلوار دال دی گئی پس میں اس کو تیج ربا تھا
کر حضرتی اللہ علیہ وسلم نے میرے لے پچھا معمولی سمان دین کا حکم فرمایا اور میں آپ کی خدمت میں ایک
رقیہ (دم کرنے کامل) پیس کیا جس کو میں دیوانول پردم کرتا تھا آپ علیہ نے مجھے اس کے بعض حصر کون کال
دینے اور بعض حصر کو کہنا کا حکم فرمایا (ترنمی، ابوداود) مگر ابوداود کی روایت لفظ المتاع پر کتم ہوجاتی ہے۔
I was with my master when he did not speak to the Messenger of Allah ﷺ about me and did not inform him that I was a slave. Then, the Messenger of Allah ﷺ gave a command concerning me, and a sword was placed around my neck. It was sharp and ready to cut. Then, the Messenger of Allah ﷺ commanded that I be given a customary gift, and I served him as a freed man. He ordered me to give some of it to my former master and to keep some for myself. (Reported by Tirmidhi and Abu Dawud, but in Abu Dawud's narration, the word 'gift' is omitted.)
ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے ہمارے غزوات میں ہم کو شہر اور
اگور ملت تو ہم اس کو لحا لیتے تھے اس کو اتحا کرنہیں رکھتے تھے۔ (بخاری)
in our battles, if we were given a city or a village, we would immediately take it; we would not leave it intact.
قولہ: فنا کله و لا نرفعه (تو ہم اس کو لحا لیتے تھے اس کو اتحا کرنہیں رکھتے تھے) درخت اور داختار میں
سے دار الحرب میں عالمین کے لے جانورول کے چارہ اور کہا نے کی چیزول سے تتحیارول اور تیل سے بغیر تقسیم کے
(تقسیم سے پہلے) کچی فانده اتحا نا جاتے ہے اور ان ساری چیزول کو صاحب کنز کی اتباع میں مطلق رکھا گیا ہے اور
صاحب وقایت نے تتحیار کے لے ضرورت کی قید کالی ہے اورتی بات میں ہے اور در منتقی میں ہے اس بات کو
جانو صاحب رخ القدیر نے بیان کیا ہے کہ تتحیار، چوپا یے اور گھوڑے سے فانده اتحا صرف بشر ط ضرورت جاتے ہے۔
اس کی صورت پیہوستی سے کراس کا گھوڑا امرجا نے اس کی تلوار لوٹ جانے تو جاتے ہوگا لیکن اگراس کا ارادہ پیہ کے
اس گھوڑے کو اور اس تلوار کو استعمال کر کے اپنے گھوڑے اور اپنی تلوار کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو پیر نا جاتے ہے اور اگر اسیا
کر کے گا تو کہہگار ہوگا اور اگر تلف ہو جائے تو ضمان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب ربا تتحیار کے سوا اور اس میں چیزیں جس کا ذکر گزر چکا ہے جیسے "کحانا" تو سیر صغیر میں اس کو لینے کے لے کچی
ضرورت کی شرط کالی گئی ہے اور قیاس کچی چیزی چاہتا ہے اور سیر کبیر میں ضرورت کی شرط نہیں ہے اور پیبطور استحسان
سے اور اتنہ ثلا ثہ کچی پی فراماتے ہیں کہ ہر مالدار اور ضرورتمند کے لے اس کو لینا درست ہے۔ (ملخص)
پیخلا صحبہ اور شر نبیالیہ میں اس طرح نذورہ اور پیہال استحسان کو تزیح ہے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے میں کہتا ہو
ل ماتن نے لیکن صاحب ثقی نے اس کو اختیار کیا ہے اور پی حق ہے جسیا کر آپ کو معلوم ہو چکا ہے۔
ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تے روایت کرتے ہیں کہ
آپ علیہ السلام نے حصول کوبینچے جانے سے منع فرماپیہال تک کروہ تقسیم ہوجائے گی۔ -(داری)
he ﷺ forbade going to obtain a share until the property is divided.
ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تے روایت کہ تمام لوگ حاضر ہوئے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے جس وقت آپ علیہ السلام نے خبر کوئے کیا تھا اور آپ علیہ السلام
نے اس میں سے حصر دیا انجمل نے پیکھا کرآ پعلیہ السلام نے تم کواس میں سے عطا فرماپیا اور خیر
میں آپ علیہ السلام کے ساتھ جوشتریکے تھان کے سوا کسی کو بھی جوشتریکے نہیں تھا، اس میں سے پچھلی
تقسیم نہیں فرماپیا سوا کے تمام سفینے والے، جعفراور ان کے ساتھیون کے کران کو بھی ان کے ساتھ عطا
فرماپیا -(ابوراوتر)
اور قاضی نے کہا کہ آپ علیہ السلام نے ان کواس لے حصر عطا فرماپیا 21 وہ لوگ غنیمت جمع
قولہ: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن شراء المغانم حتى تقسم الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال غنیمت کو بینچے سے منع فرماپیہال تک کروہ تقسیم ہوجائے گی) صحاب بدایاورصحاب بنایے
نے کہا: دار الحرب میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت کو پچناجا تنزیں کیونکہ تقسیم سے پہلے ملکیت حاصل نہیں ہوتی اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ان کے پاس اس کا پچناجا تنزیں کیونکہ ان کے پاس ملکیت کا سبب غلب حاصل کر لینے کے اور انہیں قاعدہ بیان کرچکے ہیں کہ غنیمت کی ملکیت اس کودارالاسلام میں محفوظ کرنے سے پہلے ثابت نہیں ہوتی اور ان کے پاس ثابت ہوجاتی ہے-
قولہ: انما اسهم لهم الخ (آپ علیہ السلام نے ان کوحصر عطا فرماپیا) صحاب رحمۃ اللامت نے کہا کے علماء کا اس بات پراتفاق ہے کروہ جب مال غنیمت تقسیم کر دیاوراس کو لے لیس پحرکوئی امادی دست ان سے آکرمل کیا تو اس دست کے لے کوئی حضر نہیں ہے اور آگروہ امادی دست جنگ کہتم ہوئے کے بعد اوردارالاسلام میں مال غنیمت لے جانے سے پہلے پیچھرسب لوگ اس کو لے لین کے بعد تقسیم سے پہلے مل تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرماپیا کہ آگراس کو دارالاسلام میں منتقل کر نے یاس کو تقسیم کرنے سے پہلے وہ آجے ہیں تو ان کوحصر دیاجاسکتاہے -(انتہی)
امام ماکے اوراما ماحمد نے کہا کے ان کو کسی حالت میں بھی حضر نہیں دیاجاتے گا اور امام شافعی سے دوقول مردی ہیں: ایک میں ہے کہ حصر دیاجاتے گا اور دوسرے میں ہے کہ حضر نہیں دیاجاتے گا۔
اور ابین همام نے کہا کہ آگریاما دی فونج دار الحرب میں اس وقت پیچھے جب کرامی مال غنیمت کودارالاسلام میں نہیں لا ہے پیں، تو امادی دست کو بھی حصر دیا جاسکتاہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے اس بارے میں دوقول ہیں اور ہم نے جو پکڑ بیان کیا ہے وہ ہماری تمہید کے مطابق ہے۔ مال غنیمت کودارالاسلام میں منتقل کرنے سے پہلے غنیمن کی .......
اس میں مکھیت قائم نہیں ہوتی پھر جب کوئی دلیل قائم ہوجائے تو امادی وستے کوان کے ساتھ حصر دیا جاسکتا ہے۔
امدادی وستے کا حق تین امور سے قبل ساقط نہیں ہوتا-
دارالاسلام میں مال کو خوف ظہرنا-
دارالحرب میں مال کی تقسیم ہونا
امدادی وستے کے آنے سے پہلے امام کا مال غنیمت کو نچ دینا-
پیغمبری حقیق کے مطا بق حق کے ثابت ہونے اور نہ ہونے پر نہیں ہے-
اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے جس حدیث شریف سے استدلال کیاہے بخاری شریف میں وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے مر وی ہے کہ "حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان کو ایک فوجی وستے میں امیر بنادر کی جانب روانہ فرمایا تو ابان اور ان
کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر میں اس کے فتح ہونے کے بعد پہچا -حدیث کے آخر میں ہے کہ"ان
کومال غنیمت تقسیم نہیں کیاگیا"-
اس حدیث شریف میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ امدادی وستے کا دارالاسلام میں پہنچنا (حصر
میں )ثرکت کا موجب نہیں ہے اور خیبر، اس کی فتحیابی کے ساتھی، دارالاسلام بن گیا تھا _پس ان کی آمد اس وقت ہوتی
جب کہ مالی غنیمت دارالاسلام میں تھا_اب رباحضرت الوموی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کوحضر دینا جسیما کہ صحیح میں
الن سے روایت ہے کہ تم کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کی خبر پہنچی اور اس وقت تم کین میں تھے تو
تم لیجن میرے دو برے بجاگی جن میں میں چھوٹا تھا ایک ابوبرده، دوسرا ابوزہرم میری قوم کے پیاس ہر چند افراد کے
قافلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تجرت کے ارادہ سے نقل اور ایک کشتی میں پیٹھ گے تو وہ کشتی تم کو
نحاشی کے پاس پہنچاوی تو اس کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھی تھے تو حضرت
جعفر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو یہال روانہ فرمایا ہے اور تم کو یہال قیام کا حکم فرمایا تو تم مجیء ہمارے
ساتھ قیام کرو تو تم والے تجرہ گے پھر (یہال) پھر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی جب کہ خیبر فتح ہوا تھا-
آپ صلی اللہ نے ہمارے لئے حضر عطا فرمایا ہماری شی والون کے سوا کسی ایسے کے لئے حضر نہیں عطا فرمایا جو فتح خیبر
سے غائب ربا ہو اب حبال نے اپنی کتاب تصحیح میں کہا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوان کے قلوب کے میلان
کے لئے خمس میں سے عطا فرمایا مال غنیمت میں سے نہیں عطا فرمایا اور یہ بات عمدہ ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ آپ
صلی اللہ نے ان کے کسی بھی دو کو جو خیبر میں شریک نہیں تھے حضر نہیں عطا فرمایا اور بعض شافعی حضرات نے اس کو اپنے
نہیب کے خلاف اس بات پر محول کیا ہے کہ وہ حضرات مال غنیمت مجع ہو نے سے پہلے آئے تھے کیونکہ ان کے پاس
(نہیب شافعی میں) فتح ہو جانے کے بعد مال غنیمت کو مجع کرنے سے پہلے یا بعد آئے میں کوئی فرق نہیں ہے وہ کسی
صورت میں کچھ حقزار نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کا سبب جنگ کے لئے اس مرح دتے اگے بطہ
جانے ہے جودارالاسلام اور دارالحرب میں حد فاصل سے اور امام شافعی رحمۃ اللہ کے پاس جنگ میں شریک رہنا ہے پس
ہمارے پاس مال غنیمت کو مجع کرنے والے اور امدادی وستے دونوں مال غنیمت میں شریک ہیں کیونکہ وہ دونوں اس میں
برابر موجود ہیں-(ماخوذ از: شروح کنز)
Abu Musa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) narrated: We arrived and met the Messenger of Allah (ﷺ) when he conquered Khaybar. He gave us shares, or said: gave us from it. He did not give anything to anyone absent from Khaybar’s conquest except those with him and the people of our ship, Ja‘far and his companions, for whom he gave shares. [Narrated by Abu Dawud]
The Qadi said: (2) He gave them shares because they arrived before the spoils were secured.
And the judge said that the Prophet (peace be upon him) granted them a share. 21 They were collecting the spoils of war. The statement is: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) prohibited the purchase of spoils until they are distributed' (i.e., the Prophet (peace be upon him) forbade the sale of the spoils of war until they were distributed). The Companions (may Allah be pleased with them) said: In the territory of war, the spoils should not be sold before distribution because ownership is not established until after distribution. There is a difference of opinion among Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) regarding this; he holds that they should not be sold because the cause of ownership is not yet established, and he has stated the principle that ownership of the spoils is not established until they are brought to the land of Islam, and it is established once they are brought there.
The statement: 'He (the Prophet (peace be upon him)) granted them a share.' The scholars (may Allah have mercy on them) said that there is consensus on the matter that if the spoils of war are distributed and taken, and then someone comes forward to claim them, there is no share for them. If they come forward after the battle has ended and before the spoils are brought to the land of Islam, or if everyone has already taken their share before distribution, Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) said that if they are brought to the land of Islam or if they are distributed before they arrive, then a share can be given to them.
Imam Muhammad and Imam Muhammad said that in no case will a share be given to them, and there are two opinions from Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him): one is that a share will be given, and the other is that it will not be given.
Abu Humam said that if they come and join the army in the territory of war at a time when the spoils have not yet been brought to the land of Islam, then a share can be given to them. Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) has two opinions on this matter, and what we have adopted is consistent with our principles. Ownership of the spoils is not established until they are brought to the land of Islam. When any right is established, a share can be given to those who come with the army.
The right of those who come with the army is not forfeited before three conditions:
1. The spoils are brought to the land of Islam without fear.
2. The spoils are distributed in the territory of war.
3. The leader distributes the spoils before the arrival of those who come with the army.
This is not based on the actual establishment or non-establishment of the right, but rather on the conditions mentioned.
Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) argued from a noble hadith recorded in Sahih Bukhari, narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), which states that 'the Messenger of Allah (peace be upon him) sent Ubayy in command of a military expedition towards the enemy, and Ubayy and his companions returned to the Messenger of Allah (peace be upon him) with news of their victory. At the end of the hadith, it is stated that 'they were not given a share of the spoils.'
There is no evidence in this noble hadith for their position because the arrival of those who come with the army does not establish a share in the spoils, and Khaibar, along with its conquerors, became part of the land of Islam. Therefore, their arrival was when the spoils were already in the land of Islam. Then, Rabah, the client of Umayyah ibn Al-Ashuri (may Allah be pleased with him), was given a share as reported in Sahih, where it is narrated that news reached them that the Messenger of Allah (peace be upon him) was coming to meet them, and they were in Tumah. They sent two men, one of whom was Abu Bara, and the other was Abu Zuhair, from a group of their people, to meet the Messenger of Allah (peace be upon him) with the intention of trade, and they traveled by boat. The boat took them to Nakhshab, where they met Jafar ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) and his companions. Jafar said, 'The Messenger of Allah (peace be upon him) has sent you and ordered you to stay here,' so they stayed and traded. Later, they met the Messenger of Allah (peace be upon him) after the conquest of Khaibar.
The Prophet (peace be upon him) gave them a share, but did not give a share to anyone who was absent during the conquest of Khaibar. In his book, Tahdhib, it is stated that the Prophet (peace be upon him) gave them a share from the fifth (of the spoils) to reconcile their hearts, not from the spoils themselves. This is a sound statement, as you see that the Prophet (peace be upon him) did not give a share to any of the two who were not present at Khaibar. Some Shafi'i scholars have objected to this, arguing that these individuals arrived before the spoils were gathered, as according to the Nihayah of Shafi'i, it makes no difference whether they arrived before or after the spoils were gathered; they have no valid claim in either case. In summary, the reason for giving a share is participation in the battle, which must be known before the spoils are brought to the land of Islam and the territory of war. According to Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him), both those who gather the spoils and those who come with the army are entitled to a share because they are equally present in the matter.' (Extracted from: Sharh al-Kanz)
کہتے ہیں کہ تم غزوہ میں اونٹ کو لاحظ اوراس کو تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم اپنے مقامات کو واپس ہوتے 17 توہماری تحملیان بحری ہوتی نہیں۔(ابوداود)
قولہ: فلم يؤخذ منهم الخمس الخ (ان سے خمس نہیں لیا گیا) لیعن لشکر نے ان دونوں میں سے جو پچھلے حیا تھا (اس میں خمس نہیں لیا گیا)(مرقات)
اورصاحب بزل اجبو دن کہا سے کہ بوسکتا ہے وہ ضرورت سے زائد مقدار میں نہیں تقابل انہوں نے اس کو وہیں کحالیا اوراس میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی جس میں سے خمس نکلا جاتا اور ماہی کو تقسیم کیا جاتا۔صاحب بدایین کہا سے کہ دار الحرب میں لشکر جانورول کوچارہ کہلا گے اور ان کو جو غلم ملا ہے اس میں سے وہ خود کہا گے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کے موقع پر اشياء خوردی سے متعلق ارشاد ہے کہ تم اس کے اوراس میں سے چارہ ذوالاور اتحا کرمت لے جاو، ونیز اس کی سوائی کچی استعمال کرے اوراس کا تیل استعمال کرے اوراس سے جانورول کو ماش کرے اور جو تحیار میں اس کے ذریعہ جلد کرے تو کوئی حرج نہیں۔اوریہ سب بغیر تقسیم کے کچی جاتے ہے بشطریدا س کی ضرورت ہوگراس میں سے کچی کو پچنا جاتے نہیں ہے اوراس سے تم سرمایکاری نہیں کرو گے اب ربا کچرے اوراستعمال کاساز وسامان تو بغیر ضرورت تقسیم سے پہلے اس سے فائدہ اتحانا جاتے نہیں۔
قولہ: اذا کنا لنرجع الى رحالنا الخ (جب تم اپنے مقامات کو واپس ہوتے) رحال سے جنگ کے سفر میں ان کے مقامات مراد ہیں ابن همام نے کہا سے کہ جب مسلمان دار الحرب سے نکلنے تو ان کے لئے مال غنیمت میں سے چارہ ذو الناجا تزیین سے اوراس میں سے وہ خود کچی نہیں کہا میں گے کیونکہ ضرورت ختم ہوگی اور دار الحرب میں جواجازت ہی وہ باعتبار ضرورت ہی اوراس لئے کہ حقوق ثابت ہو پچے ہیں یہاں تک کہ کموہ اپنے حصر کما لک ہوجائے گے اور دار الحرب سے نکلنے سے پہلے یبات نہیں سے اور جس کے پاس کوئی کچا نہ کی چیز یاچارہ نہ جائے تو اس کومال غنیمت میں لوٹادے جب کہ مال غنیمت کی تقسیم دار الحرب میں اس کے شروط کے ساتھ نہ ہوتی ہو اور اگر اس کوحفوظ کرنے کے بعد تقسیم سے پہلے فائدہ اتحا یا تو اس کی قیمت واپس کرے اور یا ماما لک اور امام احمد کا قول سے اور......
It is said that during the expedition, you would notice the camels but not divide them, to the extent that when you returned to your camps, your mounts were not divided. (Abu Dawud) It is said: 'No fifth was taken from them', meaning that the army did not take a fifth from the two that were left behind. (Merqat) And the owner of Buzayyan said: 'He would not take more than what was necessary from it; they would slaughter it there, and nothing remained from which a fifth could be taken, and the fish would be divided.' The owner of Buzayyan said: 'In the land of war, animals and vehicles are called spoils, and whatever is found with them is considered part of the spoils. Therefore, there is no harm if they say it is so, because there is guidance from the Prophet ﷺ at the time of Khaybar regarding the use of things: 'Take its fodder and its four benefits, and use its skin and its fat, and feed the animals with it, and whatever is prepared from it in the camp is permissible.' And all of this goes without division according to the need of the people, and none of it is divided unless it is necessary, and you will not find any benefit in it. Now, the bones and tools are not to be used before division unless necessary. It is said: 'When we return to our camps', the camps refer to their positions during the journey of war. Ibn Humam said: 'When Muslims leave the land of war, they do not take fodder or adornments from the spoils, and they do not take anything themselves because the need has ended, and in the land of war, only what is necessary is permissible, and the rights have been established. Until they reach their fortresses, they do not take anything, and if someone has nothing left or no fodder or vehicle, then they should be given from the spoils, as the division of the spoils in the land of war does not occur until certain conditions are met. If something is taken for protection before division, they should return its value, or according to the opinion of Ma'mal and Imam Ahmad, and...'
عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے خبر میں یہ چر بی کی ایک یی می 18 تو پس میں اس کو رکھیا اور کہا کہ میں آج اس میں سے کسی کو پچھڑی نہیں دولگا اور میں پلا تو میں دیکھا رسول اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ (مشفق علیہ)
he said: 'I saw a group of monkeys, and I decided to keep one of them and said, “Today, I will not ride any of them.” When I whistled, I saw that the Messenger of Allah ﷺ was looking at me and smiling.'
رویف جن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کونی اللہاورآ خرت کے دون پرامیان رکھتا ہے تو وہ مسلما نول کے مال غنیمت کے کسی کو جانور پرسواری نہ کرے۔ کروہ اس کو دبلا کر کے واپس کرے اور مسلما نول کے مال غنیمت میں سے کونی پڑا انہ پینے کراس کو پرانا کر کے واپس کرے۔ (ابوداؤد)
Whoever keeps a donkey between a mule and a mare should not ride it. He should return it after castrating it, and if a mule is found among the spoils of war, it should be returned after castrating it.
ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے امام شافعی کا ایک قول جس بیہے اور امام شافعی سے پیغم مردوی ہے کہ اس کو والپس نہیں کرے گا اس کو متلصص کی طرح قرار دیاہے۔ "متلصص" سے مراد ایک دوافراد جودار لحرب میں پچلے جا کیسی اور اوپال کی کسی چیز کو لین اور لا لیس تو وہ ایسی کے لئے خاص ہے۔ تمام کتنے جیسا مال ہے جس سے مجاهدین کا حق واجبہ ہو گیاہے۔ اور تخصیص کسی ضرورت کی بناء پر چی جو نتم ہوگی برخلاف "متلصص" کے کروہ میش حقدار ہے خواہ نکال لے آ لئے پچلے ہو کر بعد میں البند تقسیم کے بعد اگروہ مال باقی رہے تو وہ لوگ ایسی وصد ق کر دیں گے۔ اور اگروہ اس کو نچ دے ہیں تو اس کی قیمت صدقہ میں دے دیں گے۔ یصد قہ (کرنا) اس وقت ہے جب کروہ مالدار ہول اور ضرورت لاٹی ہو نے کی بناء پر فانکہ اتحاد ہول اس لئے کروہ مال لقط کے حکم میں ہو گیاہے۔ کیونکہ مجاهدین کے منتشر ہوجانے کی وجہ سے اس کولو تانا رشو ار ہے۔ اور اگروہ اس میں تصرف کر بیٹھے ہول تو ان پر کو نی چیز لا زم نہیں ای بناء پر مال غنیمت جمع ہو نے کے بعد اس سے فانکہ اتحاد یاگیاہو اگر مالدار ہوتاس کی قیمت صدقہ کرے گا اور اگر تقسیم ست ہوتونہیں کرے گا۔ (مرقات)
قولہ: اصببت جرابا من شحم الخ (یعنی چر بی کی ایک یی می ) ابن ملک نے کہا: اس میں جواب معلوم ہوتاہے کہ مجاهدین مال غنیمت کے خورد نی اشياء ( کہا نے پینے کی چیز ول میں سے ) میں سے اپنی ضرورت کے بقدر لے سکتے ہیں۔ اور سابق میں یبات گزر چلی ہے کہ بلد ن میں تعلی کی ماش کر کے فانکہ اتحاد نہ کا حکم اور کہا نے کا حکم ایک سے۔ اور یہ چر بی کی چراغ وغیرہ کے لئے بھی ضرورت ہوتی ہے۔ (مرقات)
قولہ: فلا يركب دابة الخ (وہ مسلما نول کے مال غنیمت کے کسی جانور پرسواری نہ کرے ) پایسی صورت میں ہے جب کہ اس کی ضرورت نہ ہو لیکن جب اس کی ضرورت ہو جسیا کہ اگر اس کا گوز اجنگ میں بلاک ہو جاے تو وہ دشن کا جانور لے اور اس پرسوار ہو کر جنگ کرے ای طرح کپڑے میں کراس کوسر دی ہوری ہوتا اس کے لئے اس کو پہننا جائز ہے۔ اور جب ضرورت ختم ہو جاے تو اس کو مال غنیمت میں واپس کر دے۔ (بذل الجہود)
اموال غنیمت کو بینچے سے منع فرماپیہال تک کروہ تقسیم ہوجائے گی۔ -20(تنزیل)
Regarding a statement of Imam Shafi'i, which is transmitted through him, he said that he will not revoke it, and he likened it to a 'mutalassus.' 'Mutalassus' refers to one who, in a battle, goes ahead and takes something from the front or the back, making it exclusively his. All that is considered as spoils of war, for which the fighters have a rightful claim, should be treated as such. And if something is taken out of necessity, it should be returned after the division of the spoils, provided there is any left. If it is consumed, its value should be paid as charity. This is when the spoils are abundant and the need arises, hence the spoils are treated like found property because the fighters have a right to it due to their efforts. If they make use of it, there is no harm. After the spoils are gathered, if they are divided and the owner of the spoils takes what he needs, he should pay its value as charity. If the spoils are not divided, he should not take anything. (Mirqat)
He said: 'I obtained a leather bag full of fat (i.e., a container of animal fat).' Ibn Malik said: 'This indicates that fighters can take from the spoils of war items necessary for their sustenance, such as drinking vessels, in the amount needed for their immediate requirements. It has been previously mentioned that in a settlement, the ruling of a leader and the ruling of a judge are the same, and there is a need for such items like animal fat for lamps, etc. (Mirqat)
He said: 'Do not ride an animal from the spoils of war' (i.e., do not ride an animal from the spoils of war unless there is a necessity). In a situation where there is no need, one should not ride such an animal. However, if there is a necessity, such as if a soldier's mount is lost in battle, he may take an animal from the spoils and ride it to continue fighting. Similarly, if there is a need for clothing, he may wear it. When the need ceases, he should return it to the spoils. (Bida' al-Jahd)
The spoils of war should not be prevented from being used until they are divided. (Tanzeel)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہوئے لعن جنگ بد ر کے موقع پراورفرمايا کر عثمان، اللہاوراس کے رسول کی حاجت میں گئے ہوئے جس اورپیشک میں ان کے لیے بیعت کرتا ہول _اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصر مقرر فرمايا22اوران کے سوا کسی اور کے لیے جونامطب تقاحصر عطا نہیں فرمایا_ (ابوادود)
Othman went out to fulfill the need of Allah and His Messenger. He pledged allegiance to him in his presence, and the Messenger of Allah ﷺ appointed him as a custodian. And he did not appoint anyone else as a custodian after him.
ابن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام رباح کے ساتھ روانہ فرمايااور میں ان کے ساتھ چلااورجب،تم صبح کے تو اجا کے عبد الرحمٰن فزاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لڑحمل کر دیا تو میں ایک طیلہ پر کھڑا ہوگیااورمدینہ منورہ کی طرف رخ کیااور تین مرتبہ آواز دیا"حملہ ہوگیا"، -پھراس میں قوم کے پیچھے تک پڑاان پر تیر بر ساتا جاتااور رجز پڑتے ہوئے کہتا جاتا تھا۔
قوله: فضرب له رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسهم الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصر مقرر فرمايا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جنگ بد ر میں حصر عطا فرمايااس سے امام ابوحنیفرحمۃ اللہ نے استدلال کیاہے کہ امام ان کو کہی حصر عطا کرے گا جن کو وہ اپنی کسی ضرورت کی تکمل کے کے روانہ کیاہے-( ماخذ از : ثبل الاوطار)
اور امام طحاوي نے کہاہے کہ اس طرح ہروہ شخص کوجس کو امام نے مسلمانوں کی کسی ضرورت میں مشغول کروا ہو اور اس کی وجہ سے وہ اصل حرب کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ میں موجودہ نہ رہ سکے مثلًا یکہ امام ان کو دار الحرب میں کسی دوسری جانب دوسری قوم سے جنگ کے لیے روانہ کرے اور اس شخص کے جانے کے بعد امام کو مال غنیمت مل جائے یا دار الحرب میں امام کے ساتھ جولگے تھان میں سے کسی کو دار الاسلام کو بلال سے امدادرستیاہتیجار لا نے کے لیے روانہ کرے، اوروہ حاکم کے مال غنیمت مجع کرنے تک واپس نہ ہو سکے تو اس میں شریک رہ گا اوریا دی اس آدمی کی طرح ہے جو جنگ میں شریک رہا ہو اس طرح ہو شخص جو جنگ کا ارادہ کیا ہو لیکن امام اس کو مسلمانوں کے کسی کام میں مصرف کر کے والپس کر دے تو یہ شخص محض اس آدمی کی طرح ہے جو جنگ میں شریک رہا ہو اب رہی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث تو وہہمارے پاس، واللہ علم، یہہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبری کی طرف نکل کی تیاری سے پہلے نہبد کی جانب ابان کوروانہ فرمایا تھا تو ابالاس طرف روانہ ہوگیا تھا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خبری کی طرف نکل کا واقعہ تھا آیا س لے ابان جوخبر میں شریک نہیں رہ توپران کے خبر میں ارادہ کر نے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کی کام میں خبری حاضری سے مشغول کردیا ہو، ایسا نہیں ہے کر وہ اس میں حاضر ہو نے والوں کی طرح سے ہو جا یں اس لے وہ اس میں حاضر ہو نے والوں کی طرح نہیں ہیں
میں ابن اکوعہ کو اور آنج کاون (مال کا) دودھ پینے والوں کا ہے۔ پس میں مسلسل ان پر تیرچلا تار پا اور ان کا راستہ کا تار پا یہاں تک کہسول اللہ علیہ وسلم کی سواری کے اوپر لکو، جن کواللہ نے پیدا کیا، میں نے ان کوا پی پینے کے پیچھے کرلیا پھر میں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا، ان پرتیر چلاتے ہوئے یہاں تک کہوہ تمیں زاکد چادری اور میں نیزے، اپنا بو جہ بلا کر لینے ہوئے چجور دے اوروہ نہیں چجوڑے تے کوئی پیچھے گمر میں اس پر پھڑ کے نشان رکودیتا تاکر رسول اللہ علیہ وسلم اورآ پعلویس کے صحابہ اس کو پچپان لیس۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کے سوارول کو دیکھا اور ابوقادہ جوسول اللہ علیہ وسلم کے گھوڑا سوار تھے عبد الرحمن کے پاس پچھے گئے اور اس کو قتل کروا لا رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنج بمارے بہترین گھوڑے سوار ابوقادہ میں اورہماری پیدل فوج میں بہترین سلمہ میں پھر رسول اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوحص عطا فرامے گھوڑے سوار کا ایک حصراور پیدل فوج کا ایک حصہ23 پس آپ ان دونوں کومیرے لے جمع کے پھر رسول اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو واپس ہوتے عضبا ءا ونی پرنے اپنے پیچھے پہنچایے۔(مسلم)
Salamah ibn al-Akwa‘ (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent his camels with Rabah, his slave, and I was with him. At dawn, Abdur-Rahman al-Fazari raided the camels. I stood on a hill, faced Madinah, and shouted three times: “Ya Sabahah!” I pursued the raiders, shooting arrows and reciting: “I am Ibn al-Akwa‘, today is the day of infants.” I kept shooting and hamstrung their camels, recovering all the Prophet’s camels. They dropped over thirty cloaks and thirty spears to lighten their load. I marked each with stones for the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions to recognize. The Prophet’s horsemen arrived, and Abu Qatadah, his horseman, caught and killed Abdur-Rahman. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Our best horseman today is Abu Qatadah, and our best foot soldier is Salamah.” (1) He gave me two shares, a horseman’s and a foot soldier’s, combined for me. Then he let me ride behind him on Al-Adhba’ returning to Madinah. [Narrated by Muslim]
Ibn Hibban narrated: Salamah was a foot soldier in that campaign, and he was given from the Prophet’s fifth, not the Muslims’ shares.
His statement: 'So the Messenger of Allah ﷺ allotted him a share' (The Messenger of Allah ﷺ allocated a share for him) refers to the fact that the Messenger of Allah ﷺ granted a share to Uthman (RA) in the Battle of Badr. From this, Imam Abu Hanifa (may Allah have mercy on him) deduced that the Imam should allocate a share to those whom he sends on some necessity, even if they do not participate in the actual battle. (Source: Tuhfat al-Awatar)
And Imam Tahawi said that in this way, anyone whom the Imam has engaged in some necessity for the Muslims and who, as a result, could not be present with the Muslim army in the actual battle, such as if the Imam sends them to fight another tribe in the land of war, or if the Imam sends someone from the Muslim army to bring provisions from Dar al-Islam to Dar al-Harb, and this person does not return until the spoils of war are distributed, then he will still be entitled to a share, just like one who participated in the battle. Similarly, if someone intends to join the battle but the Imam assigns them to some other task and sends them back, then this person will be treated like one who participated in the battle.
As for the hadith of Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), it is known, and Allah knows best, that before the Prophet ﷺ set out on an expedition, he sent Ibn Uqayh and others to pasture their camels. After they left, the Prophet ﷺ set out on the expedition. Since Ibn Uqayh did not participate in the expedition, after he intended to join the expedition, the Prophet ﷺ assigned him to a different task. Therefore, he is not considered like those who were present in the expedition.
I was among those who pastured the camels. I continuously shot arrows at them and drove them towards the mount where the Prophet ﷺ was riding. I made them drink water and then pursued them, shooting arrows at them until I reached the summit. I was wearing a cloak and carrying my bow. I aimed my arrow but did not shoot it, and I did not leave any trace behind that the Prophet ﷺ and his Companions could follow. When I reached the summit, I saw the mount of the Prophet ﷺ, and Abu Qadah, who was riding the horse of the Prophet ﷺ, went to Abdur Rahman. He was killed, and the Prophet ﷺ said, 'Abu Qadah is the best rider among the sick, and Salama is the best among our foot soldiers.' Then the Prophet ﷺ gave me two shares, one for the rider and one for the foot soldier. He combined both shares for me, and when we returned to Medina, he sent the prisoners to follow us.
اورابن حبان نے اس کی روایت کی اور کہا تے کر سلمہ بن اکوعہ اس جنگ میں پیدل تھا۔ پعلویس نے انبیاء پچھس میں سے عطاء فرمایا نے کر مسلمانوں کے سہمیین میں سے۔
in this battle, he was on foot. Paulus gave him as one of the fifty prophets among the Muslims.
ابو جوبریہ جبری نے روایت کے معاویہ کی امارت کے زمانے میں مجھے روم کی سرز میں میں ایک مرخ گھرا ملا جس میں اشرفیال خصین۔ اور رسول اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے قبیلہ بنی سیم کے ایک صاحب ہمارے امیر تھے۔ ان کومعن بن یزید کہا جاتا تھے میں اس کو
ان کے پاس لے کر آیتو انہوں نے اس کو مسلماں کے درمیان تقسیم کردیااور نمجھی اس کے برابر
دیاجوآپ نے ان میں سے کسی آدمی کودیا تو حا پچرا نہوں نے کہااگر میرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سے سنادہوتا کر نفل نمیں بهگمنس نکلنے کے بعد،24 تو تم کوضرو ردویتا (ابوداؤد)
Abu al-Juwayriyah al-Jarmi narrated: In the land of the Romans, during Mu‘awiyah’s leadership, I found a red jar containing dinars. Our commander was a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) from Banu Sulaym, named Ma‘n ibn Yazid. I brought it to him, and he divided it among the Muslims, giving me the same as each man. Then he said: “Had I not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, ‘No tanfil except after the fifth,’ I would have given you more.” [Narrated by Abu Dawud]
قولہ: ثم أعطاني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سهمين؛ سهم الفارس وسهم الرجل اللّٰخ (رسول اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوحص عطا فرامے گھوڑے سوار کا ایک حصراور پیدل فوج کا ایک حصہ) لیعن رسول اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیدل فوج کے حصر کے ساتھ گھوڑے سوار کا بھی حصہ عطا فرما یوں کہ اس مال غنیمت کا بردا حصہ سلمہ کی وجہ سے حاصل ہوا تھا، اور امام کو اختیار تھا کہ جہا دمیں جس کی کوشش زیادہ ہے اس کواس کے حصے سے پگھڑ زاپچس میں سے دس سکتا تھا اور مسلمانوں کے حصول میں سے نیمن دے گا۔ اور رسول اللہ علیہ وسلم نے ان کو جو سارا مال نہیں دیاوہ اس لے کر آ پعلویس نے جنگ سے پیلے تنظیل کا اعلان نہیں فرمایا تھا اور جنگ کے بعد زاکد مال دینے کی جوابدادیث میں وہ ہمارے پاس پچس میں سے دینے پر محمل ہیں۔ علامہ مرقی نے اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ( ماخوذ از: مرقات، فتح القدير، ردالمختار )
قولہ: لانفل الا بعد الخمس (نفل نمیں بهگمنس نکلنے کے بعد) اس کلام سے ظاہر ہیبات
معلوم ہوتی کہ کا نہوں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لا نفل الا بعد الخمس ""کوسنکی وجہ ابواجوبریہ
کو جووینار لے تجا س میں سے خود ابواجوبریکو بطور نفل پچھمین دیا کیونکہ یہ نفل سے اوراس کی وجہ پیہ کرنفل چار
اخما س میں سے دیا جاتہ جوعا نمیں کاحق بے جسیا کرسابل حدیث سے معلوم ہوااور پیہی ہوسکتاہے شاپدوریا جحن
کوہ پائے تھے کے شمار میں ہوئی اس لے اس میں سے نفل نمیں دیا گیا (مرقات)
اور بدایۃ اجتہد میں کہ کام کا اموال غنیمت میں سے جس کو چاہے نفل دینا، اس سے میری مراد یہ کہ اس
کے حصر سے زانکو دینا تو اس مسلم میں اس کے جا نہوں پر علم کا اتفاق ہے البتر نفل کس حصر میں سے دیا جاتے گا
اس میں اختلاف ہے ایک جماعت کا کہناہے کرنفل اس خمس میں سے دیا جاتے گا جومسلماں کے بیت المال کے لے
و اجب ہے پیہی قولا مام ما کر رحم اللہ کہ اور ایک جماعت نے کہاہے کرنفل خمس کا خمس لیجن خمس جوامام کا حصر ہے،
اس کاصرف پاچویں حصہ سے دیا جاتے گا اور امام شافعی رحم اللہ کا متار قول ہے اور ایک جماعت نے کہا کہ نفل جملہ
مال غنیمت میں سے دیا جاتے گا اور پیہی امام احمد رحم اللہ کا قول ہے اور ثققدری میں ہے تنفیل کامل ہمارے پاس چار
پاچویں حصہ میں سے بے اس کو دارالاسلام میں جمع کرنے سے پبل تک اوردارالاسلام میں اس کو جمع کرنے کے بعد
سوالے خمس میں کے کسی میں پیہی و رست نمیں اس بناء پر اگر جنگ دارالاسلام میں ہوتی ہو، اس طرح کر دشمن نے حملہ
کروا تو حاکم کو اسی صورت میں خمس کے سوا کسی میں سے پیہی نفل دینا جاز نمیں کیونکہ پیہال مال کا حاصل ہو جانا ہے
دارالاسلام میں محفوظ کر دہ مال کی طرح ہے۔
It is evident from the statement 'No voluntary charity (nfl) except after the fifth' that the reason for this guidance by the Messenger of Allah ﷺ was to ensure that Abu Ayyub al-Ansari (RA) did not give anything as voluntary charity until after the fifth part of the spoils had been taken. This is because the voluntary charity was given from the fifth part of the spoils, and it was not given from the first four parts. This is understood from the hadith, and it is possible that there were some spoils found on the mountain, which were included in this, and thus voluntary charity was not given from them. In the beginning of ijtihad, it is stated that any wealth from the spoils that one wishes to give as voluntary charity, my intention is that it should be given from the fifth part of the spoils. There is consensus among the Muslims that it should be given from the fifth part, but there is disagreement about which fifth part it should be given from. One group says it should be given from the fifth part that goes to the Muslim treasury. Another group, as stated by Qulama, says it should be given from the fifth part of the fifth, which is the portion of the Imam, and this is the opinion of Imam Shafi'i (RA). Another group says it should be given from the entire spoils, and this is the opinion of Imam Ahmad (RA). It is also mentioned that the complete voluntary charity should be given from the fourth fifth part before it is collected in the land of Islam, and after it is collected in the land of Islam, it should be given from the fifth part. Therefore, if the war takes place in the land of Islam, or if the enemy attacks, the ruler should not give any voluntary charity from any part other than the fifth, because the wealth must be preserved in the land of Islam, just like the wealth is protected.
قولہ: کان ينفل بعض من يبعث من السرايا الخ (بعض فوئی و ستون کوجحن کوآبے عویسه روان
فرماتے تعم شکر کی تقسیم کے سوا خاص ان کے لرنفل عطا فرماتے تے) صاحب سیر کبیر نے کہاہے کراس تنفیل کی
صورت یہ کہ پیہی کہر دیا جاتے کر من قتل قتیلا فله سلبہ ومن اسر اسیرا فہو لہ ""(جوآ دی کسی کو لکر لے گا تو
اس کا سلب اسی کو لے گا اور جو کسی کو گرفتار کر لے گا تو وہ اسی کا ہو گا) جسیا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ندا......
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) (2) would give tanfil to some he sent on expeditions, exclusively for them, beyond the army’s general division. [Narrated by Bukhari and Muslim]
ا نبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہے تو خمس کرے وا لے کو جنگ بردار جنگ حین کے موقع پر حکم فرما تھا جب اس نے اعلان کیا تھا یا کسی سریکو روانہ کرتے تو فرما تے کہ جو پڑھ تم حاصل کرو گے اس میں سے خمس نکال کے بعد ثلث لیجن ایک تہائی تم کو لیگا یاس بات کوآ پ مطلق ارشاد فرما تے تو ایسی صورت میں جو پڑھ جی ملتا تھا خمس نکال نے پہلے خاص ان کو اس میں ثلث عطا فرما تے تھا اور مانقی مال میں جو فونج کے دیگر افراد کے ساتھ خمس نکال نے بعد وہ جی شرکی رہتے اور جب اس زیادتی کے ساتھ مقید اعلان ہوتا یا جو پڑھ جی وہ مال غنیمت مجع کرتے اس میں سے خمس نکالا جاتا اور مانقی مال میں خاص ان کے لے ثلث دیا جاتا پچھروہ دیگر فوجی افراد کے ساتھ مانقی مال میں برابر کے شرکی رہتے ہیں اور اس مسل میں ایک دوسری جگہ انہوں نے کہا تے کہ اگر حاکم دارالاسلام سے کسی دست کو روانہ کرتے اور ان کو خمس کے بعد یا خمس سے پہلے ثلث (تہائی) مال کی تخفیل کرتے تو یہ تخفیل باطل ہے کیونکہ تخفیل میں کسی کو خاص نہیں کیا گیا ہے اور اس تخفیل سے خمس کو باطل کرتے کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ہے اس طرح پیادہ فوجی پرسوار فوجی کی تخفیل کو جی باطل کرتے اور یہ بات جائز نہیں ہے برخلاف اس کے دار الحرب میں مداحیر ہو جاتے تو پہان تخفیل میں ان کے لے خصوصیت پائل جاتی ہے کیونکہ فونج مال غنیمت میں برابر کی شرکی ہے تو تخفیل کا اعلان کرنے میں بعض مال کی اک ساتھ مجع پائل جاتی ہے اور یہ بات درست ہے اور صحاب را ظہار نے کہا تے کہ یہ بات توہ اگر چیک اس میں اسلاب میں سے خمس کا ابطال ہے لیکن اس سے مقصد ابحار نا ہے اور ان کے نے والون کو خاص کرتے ہے پھر ان اسلاب سے خمس کا ابطال تبعا ثابت ہوتا ہے اور جی تبعا وہ با تیس ثابت ہوتی ہیں جو بالا رادہ ثابت نہیں ہوتیں۔
قولہ: نفل الربع فی البدآء والثلث فی الرجعة الخ (شروع میں ایک چوٹی اور واپسی کے موقع پر ایک تہائی بطور نفل عطفر مايہ) فونج کی ایک طری پوری فونج کے پہنچنے پہلے دومن کی ایک طری مقابلہ کرتے تو جو پڑھ وہ مال غنیمت مجع کریں گے اس میں سے چوٹی ایک نے کے لے ہوگا اور مانقی میں چوٹی یول میں دیگر فو چیول کے ساتھ شرکی رہیں گے اور اگر وہ جنگ سے واپس ہوگے تو پھر دومن کی ایک طری کے ساتھ مداحیر ہوگی تو ایسی صورت میں ان کے لے مال غنیمت میں سے ایک تہائی لے کا کیونکہ ان کی مشقت اور ان کے خطوات زیادہ ہیں اور مانقی دو تہائی میں وہ مانقی فونج کے ساتھ شرکی رہیں گے کیونکہ فوجی دست اور پوری فونج شروع میں ایک یہ سمت چل رہے ہیں اور اس کو ان کی مداحیر پچھگی واپسی کی صورت اس کے برخلاف سے (مرقات)
نکلنے کے بعد چوٹیوالی نفل عطفرماتے - 27 (ابوداود)
Habib ibn Maslamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) (2) would give a quarter after the fifth, and a third after the fifth upon return. [Narrated by Abu Dawud]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
جنگ بدر میں اپنی تلوار زوال فقار بطور نفل لی لی ہے۔ (ابن ماجہ)
امام ترمذی کی روایت میں پر اضافہ ہے کہ وہ (تلوار) ہے جس کے بارے میں جنگ احد
کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا۔ اور علامتی نے کہا پس امام اپنی ذات کے لے مال غنیمت
میں سے کوئی چیز نہیں رکھ لے سکتا اور اس پر انفاق ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (ﷺ) took his sword, Dhu al-Faqar, as tanfil on the day of Badr. [Narrated by Ibn Majah] Tirmidhi added: It was the sword he saw in his dream on the day of Uhud.
Al-‘Ayni said: The safiyy (leader’s chosen portion) was abrogated, so the leader does not take anything from the spoils for himself, and this is agreed upon.
جعفر بن معظم سے روایت ہے میں اور عثمان بن عفان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہم نے عرض کیا کہ آپ (علیہ السلام) نے بنی مطلب کو خبر کے خمس میں
سے عطا فرما یا اور انہم کو چھوڑ دیا حالا نہ آپ کی نسبت میں تم ایک درجہ میں ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
فرما یا بنی باشہم اور بنی مطلب ایک ہی پیل جعفر نے کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد مشش اور
بنی نوفل کے لے تقسیم نہیں فرما یا 28 (بخاری)
قولة : کان ينفل الربع بعد الخمس الخ (خمس نکا لے کے بعد چوٹیوالی نفل عطفرماتے) امام لیعنی
حاکم کے لے مستحب ہے کروہ جنگ میں بہتر کیے ہوئے والے کواس کے حصے سے زیادہ دے کراس کو تیار رکے۔ اس
طرح سے کرا علان کرے جو کسی کو قتل کرے گا تو اس کا سلب اس کو لے گا۔ ایسی وسطے سے کچھ کر میں تہبارے لے خمس
نکا لے کے بعد چوٹیوالی نصف یا تہائی مقرر کر دیا ہوئے کیونکہ اس میں جنگ کے لے ابجار نہیں اور مستحب ہے اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے۔ اے نبی آپ موتین کو جنگ کے لے ابجار۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
ہے۔ تو پیر ظاہر ثر ط کے طور پر نہیں ہے کیونکہ اگروہ پورے مال کا چوٹیوالی نفل میں دیے تو کچھ جاتزہ ہے۔ اور بیقید اتفاق
ہے کیا تم نہیں جانتے کراس کے لے سارا مال بطور نفل دینا جاتزہ تو یی صورت بدرج اوّلی جاتزہ ہے۔ (ماخوذ از ثرواح کنز)
قولة : ولم يقسم النبي علیہ وسلم لبنى عبد شمس و بنى نوفل شيئا الخ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے بنی عبد مشش اور بنی نوفل کے لے تقسیم نہیں فرما یا) اصحاب نذاهب اس بات پر متفق نہیں کر کفار سے جو پچھے غلبے کے
ذریعہ یا جاتے گا اس میں پانچ حصے کے جا میں گا ان میں سے چار غنیمت جمع کرنے والے مجاهدین کے لے ہوں گے۔
لیکن پانچویں پانچ حصے کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ پانچوال حصہ چھ حصول میں تقسیم کیا جاتے گا
ایک حصہ اللہ کے لے ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لے۔ آیت کریمہ کے ظاہر عمل کرنے کا قاعدہ ہے۔ اسی
طرح ہے اور اللہ کے حصہ کو عبادت کیا جاتے گا۔ ایابوالعالیہ کے ذہب کے مطالبہ ہے۔ اور یہ کہ کہا گیا ہے کراس کو
بیت المال میں داخل کیا جاتے گا اور نیز کہا گیا ہے کراس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ کے ساتھ ملا دیا جاتے گا۔ اور
جمہور علماء کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ذکر برابر ہے۔ اور اس کا معطوفات کے طریقے کے خلاف پہلے آنا چھوڑ۔
اس پر دلانت کرتا ہے گویا یول ارشاد ہوا کر فان للہ خمسه يصرف الى هؤلاء الا خصيين به (پس اللہ کے
لے اس کا پاچوال حضرت ہے اس کواس کے ان مختص لوگون پرخرچ کیا جاے گا) - پس خمس (پاچوال حصر) کے پانچ حصے
کے جا کین لے رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عمل فرمایا ہے کہن آپ علیہ کی وفات شریف کے بعد اس
کے بارے میں ان میں اختلاف ہے امام شافعی رحم اللہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضر مسلما نوں کی
ضرورتوں میں خرچ کیا جاے گا اور یہی کہا گیا ہے کہ اس کو حاکم پرخرچ کیا جاے گا اور یہی کہا گیا ہے کہ دوسروں چار
قسموں پرخرچ کیا جاے گا اور امام اعظم ابوحنیفہ رحم اللہ کے پاس حضور علیہ والصلاة والسلام کی وفات کے بعد حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ علیہ کے ابل قرابت کا حصر ساقط ہوگیا اور پورا مال ماشی تین قسموں پرخرچ کیا جاے گا-
(1) ایک حضر میںول کے لے (2) اور ایک حضر مسکینوں کے لے (3) اور ایک حضر مسافرین کے لے اور اس
میں ابل قرابت کے ضرورت مند شاہل ہوجا کیں لے اور ان کو مقدم رکھا جاے گا اور ان کے مالداروں کو نہیں دیا جاے گا-
گا اور امام شافعی رحم اللہ نے فرما یاں کے لے خمس کا پاچوال حضر میں لے گا اس میں ان کے مالدارا ور ٹگ دست دولوں
برابر ہیں اور اس کوان کے درمیان "فِلْذَاکِرِ مِثْلُ حَظِّ الْمَثْلِينَ" (سورۃ النساء، آیت نمبر:176) کے مطابق تقسیم
کیا جاے گا اور یہی باشتما ور بنی مطلب کے لے ہوگا وہسرول کے لے نہیں دیا جاے گا کیونکہ اللہ تعالی کے اس سے
متعلق ارشاد و لذی القرآنی "(8، سورۃ الانفال، آیت نمبر:41) میں مالدارا ور ٹگد ست کا کوئی فرق نہیں لیکن
ہماری دلیل یہ کہ چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم نے جسیا کہ تم نے کہا ہے، اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا
ہے اور ان کا نموذہمارے لے کافی ہے چہری کہ تمام صحابہ میں سے کسی نے کہی اس کو جانے کے باوجود اس کا انکار نہیں
کیا پس یاں کا اس پراجماع ہوگیا اور آپ علیہ نے فرما یا: اے بنی باشتم کی جماعت! اللہ تعالی نے تمہارے لے لوگوں
کے غسلار (وضوں) اور ان کے میل کو کروہ قرار دیا ہے (ناپسند کیا ہے) اور اس کے بعد خمس کا پاچوال حضر عطار مایا
ہے اور عوض ان کے حق میں ہوتا ہے جس کے حق میں معوض ثابت ہوتا ہے اور وہ فقراء ہوتے ہیں-
اور نیا کرم صلی اللہ علیہ والرواحم نے ان کونفرت کی بناء پر عطار مایا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضور صلی اللہ علیہ و
الروحام نے اس کی پیوچہ بیان فرما تی کروہ جابلیت میں کہی اور اسلام میں کہی بیمش میرے ساتھ رہے ہیں اور یا پ علیہ
نے اپنی انگیون کے درمیان جال وال کر تلا یا اس میں والات سے کر اس نقص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے یہاں مراد
نصرت کا رشتہ ہے قرابت کا رشتہ نہیں ہے کیوں کہ زی القریبی کا لفظ مشترک ہے صلی رشتہ اور مودت کے رشتے کے
درمیان اور یہاں کہی آ خری رشتہ مراد ہے اس کی خصوصی دلیل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والروحام، ابن عبد اللہ بن
عبدالمطلب بن حاشم بن عبدمناف بن اور عبدمناف کے چار بیٹے ہیں-(1) باشم (2) مطلب (3) عبدشمس (4) نوفل
اور حضرت عثمان بن عفان، عبدشمس کی اولاد سے ہیں اور جبیر بن مطعم، نوفل کی اولاد سے ہیں پس جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ والروحام نے اموال خیبر کو تقسیم فرما تو خمس کا پاچوال حضر بنی باشتم اور بنی مطلب کو عطار مایا اور حضرت عثمان اور
حضرت جبیر رضی اللہ تعالی عنہما کو بالکل نہیں دیا تو ان دونوں نے کہا تم بنی باشتم کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیوں کہ اللہ
تعالی نے آپ علیہ کو ان میں پیدا فرما یا بنی یکا پ علیہ الن میں سے ہیں اور وہ آپ علیہ کے بجا تی ہیں لیکن......
Jubayr ibn Mut‘im (may Allah be pleased with him) narrated: I and Uthman ibn Affan went to the Prophet (ﷺ) and said, “You gave Banu al-Muttalib from the fifth of Khaybar but left us, though we are of the same status as you.” He said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one.” Jubayr said: (1) The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal. [Narrated by At-Tahawi]
Shafi‘i narrated from him: When the Messenger of Allah (ﷺ) divided the share of the near relatives among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, Uthman ibn Affan and I went to him and said, “O Messenger of Allah, we do not deny the merit of Banu Hashim due to your position among them, but what about our brothers from Banu al-Muttalib? You gave to them and left us, though our kinship is the same.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one,” interlacing his fingers. In a narration by Abu Dawud and An-Nasa’i, he said: “We and Banu al-Muttalib never parted in pre-Islam or Islam; we and they are one,” interlacing his fingers.
Our scholars said: This indicates that “near relatives” in Allah’s saying, “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], refers to closeness in support, not kinship. Since the Prophet (ﷺ) gave to them for their support, not kinship, and that support has ended, the allocation ceases, as a ruling ends with its cause.
Abu Yusuf narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): In the Prophet’s time (ﷺ), the fifth was divided into five shares: one for Allah, one for His Messenger, one for the near relatives, one for orphans, and one for the needy and wayfarers. Then Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) divided it into three shares: one for orphans, one for the needy, and one for wayfarers.
At-Tahawi narrated from Muhammad ibn Ishaq: I asked Abu Ja‘far (Muhammad ibn Ali), “What did Ali ibn Abi Talib do with the share of the near relatives when he governed Iraq and managed people’s affairs?” He said: “By Allah, he followed the way of Abu Bakr and Umar.”
(1) The statement: “The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal”: Scholars of all schools agree that spoils taken by force from disbelievers are divided into five parts, four for the fighters. They differ on the fifth: some say it is divided into six shares, one for Allah, one for the Messenger, and so on, per the verse’s apparent meaning, with Allah’s share for the Ka‘bah (per Abu al-‘Aliyah), the treasury, or combined with the Messenger’s share. The majority hold that Allah’s mention is for blessing, as it precedes the others, so the fifth is divided into five shares, as the Prophet (ﷺ) did. After his death, Shafi‘i says the Messenger’s share goes to Muslim interests, the leader, or the four categories. Per Abu Hanifah, the Messenger’s and near relatives’ shares ceased at his death, with the remainder for orphans, the needy, and wayfarers, including poor relatives, prioritizing them but excluding their rich. Shafi‘i says they get one-fifth of the fifth, equally for rich and poor, divided among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, per “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], without distinction. Hanafis argue the four Rightly Guided Caliphs divided it into three shares, as stated, and their practice is exemplary. No one objected despite the Companions’ knowledge, making it a consensus. The Prophet (ﷺ) said: “O Banu Hashim, Allah dislikes for you people’s filth and impurities, compensating you with one-fifth of the fifth.” Compensation applies to those eligible for the original, i.e., the poor. The Prophet (ﷺ) gave for support, as he said: “They never left me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers, indicating closeness in support, not kinship. The term “near relatives” can mean blood kinship or affection; here, it is the latter, as the Prophet (ﷺ), son of Abdullah ibn Abd al-Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf, had four ancestors: Hashim, al-Muttalib, Abd Shams, and Nawfal. Uthman was from Abd Shams, Jubayr from Nawfal. At Khaybar, the Prophet (ﷺ) gave one-fifth of the fifth to Banu Hashim and Banu al-Muttalib, excluding Uthman and Jubayr, who said: “We do not deny Banu Hashim’s merit due to your position, but we and Banu al-Muttalib are equal.” He replied: “They never parted from me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers. This shows it was for support, not kinship, as Uthman and Jubayr would have received otherwise. Since support ended with his death, the rich among them lose entitlement. The narration of dividing the fifth into five shares is valid, but the issue is whether it was for their poverty or kinship. The Caliphs’ division shows it was for poverty. The Prophet (ﷺ) was strict with spoils, even taking camel hair, saying: “Nothing of your spoils is lawful for me except the fifth, which is returned to you. Return the needle and thread, for misappropriation is a disgrace on its owner on the Day of Resurrection.” He did not favor relatives with the fifth, including all Muslims in: “The fifth is returned to you,” showing their way is like other poor Muslims, given enough for their needs. As in (At-Tafsir al-Ahmadiyyah), (Al-Hidayah), and (Badhl al-Majhud).
امام شافعی رحم اللہ کی اہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اہل قرابت کے حس بن باشم اور بنی مطلب کے درمیان تقسیم فرمائے تو میں اور عثمان بن عفان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ نے آپ کو نہیں میں سے رکھا ہے آپ (علیہ) کیا فرماتے ہیں ہمارے بجائے جو بی مطلب سے ہی آپ نے ان کو عطا فرما اور ہم کو چھوڑ دیا (حالاگہ) ہمارا اور ان کا رشتہ ایک ہی ہے۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیکن بنی باشم اور بنی مطلب توروہ اس طرح سے ایک ہی اور آپ علیہ نے اپنی انگلیوں کے درمیان جال و الک مطلب تو ہوا اس طرح سے ایک ہی اور آپ علیہ نے اپنی انگلیوں کے درمیان جال و الک
Jubayr ibn Mut‘im (may Allah be pleased with him) narrated: I and Uthman ibn Affan went to the Prophet (ﷺ) and said, “You gave Banu al-Muttalib from the fifth of Khaybar but left us, though we are of the same status as you.” He said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one.” Jubayr said: (1) The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal. [Narrated by At-Tahawi]
Shafi‘i narrated from him: When the Messenger of Allah (ﷺ) divided the share of the near relatives among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, Uthman ibn Affan and I went to him and said, “O Messenger of Allah, we do not deny the merit of Banu Hashim due to your position among them, but what about our brothers from Banu al-Muttalib? You gave to them and left us, though our kinship is the same.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one,” interlacing his fingers. In a narration by Abu Dawud and An-Nasa’i, he said: “We and Banu al-Muttalib never parted in pre-Islam or Islam; we and they are one,” interlacing his fingers.
Our scholars said: This indicates that “near relatives” in Allah’s saying, “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], refers to closeness in support, not kinship. Since the Prophet (ﷺ) gave to them for their support, not kinship, and that support has ended, the allocation ceases, as a ruling ends with its cause.
Abu Yusuf narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): In the Prophet’s time (ﷺ), the fifth was divided into five shares: one for Allah, one for His Messenger, one for the near relatives, one for orphans, and one for the needy and wayfarers. Then Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) divided it into three shares: one for orphans, one for the needy, and one for wayfarers.
At-Tahawi narrated from Muhammad ibn Ishaq: I asked Abu Ja‘far (Muhammad ibn Ali), “What did Ali ibn Abi Talib do with the share of the near relatives when he governed Iraq and managed people’s affairs?” He said: “By Allah, he followed the way of Abu Bakr and Umar.”
(1) The statement: “The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal”: Scholars of all schools agree that spoils taken by force from disbelievers are divided into five parts, four for the fighters. They differ on the fifth: some say it is divided into six shares, one for Allah, one for the Messenger, and so on, per the verse’s apparent meaning, with Allah’s share for the Ka‘bah (per Abu al-‘Aliyah), the treasury, or combined with the Messenger’s share. The majority hold that Allah’s mention is for blessing, as it precedes the others, so the fifth is divided into five shares, as the Prophet (ﷺ) did. After his death, Shafi‘i says the Messenger’s share goes to Muslim interests, the leader, or the four categories. Per Abu Hanifah, the Messenger’s and near relatives’ shares ceased at his death, with the remainder for orphans, the needy, and wayfarers, including poor relatives, prioritizing them but excluding their rich. Shafi‘i says they get one-fifth of the fifth, equally for rich and poor, divided among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, per “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], without distinction. Hanafis argue the four Rightly Guided Caliphs divided it into three shares, as stated, and their practice is exemplary. No one objected despite the Companions’ knowledge, making it a consensus. The Prophet (ﷺ) said: “O Banu Hashim, Allah dislikes for you people’s filth and impurities, compensating you with one-fifth of the fifth.” Compensation applies to those eligible for the original, i.e., the poor. The Prophet (ﷺ) gave for support, as he said: “They never left me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers, indicating closeness in support, not kinship. The term “near relatives” can mean blood kinship or affection; here, it is the latter, as the Prophet (ﷺ), son of Abdullah ibn Abd al-Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf, had four ancestors: Hashim, al-Muttalib, Abd Shams, and Nawfal. Uthman was from Abd Shams, Jubayr from Nawfal. At Khaybar, the Prophet (ﷺ) gave one-fifth of the fifth to Banu Hashim and Banu al-Muttalib, excluding Uthman and Jubayr, who said: “We do not deny Banu Hashim’s merit due to your position, but we and Banu al-Muttalib are equal.” He replied: “They never parted from me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers. This shows it was for support, not kinship, as Uthman and Jubayr would have received otherwise. Since support ended with his death, the rich among them lose entitlement. The narration of dividing the fifth into five shares is valid, but the issue is whether it was for their poverty or kinship. The Caliphs’ division shows it was for poverty. The Prophet (ﷺ) was strict with spoils, even taking camel hair, saying: “Nothing of your spoils is lawful for me except the fifth, which is returned to you. Return the needle and thread, for misappropriation is a disgrace on its owner on the Day of Resurrection.” He did not favor relatives with the fifth, including all Muslims in: “The fifth is returned to you,” showing their way is like other poor Muslims, given enough for their needs. As in (At-Tafsir al-Ahmadiyyah), (Al-Hidayah), and (Badhl al-Majhud).
اور ابوداوداورنسائی کی روایت میں اس طرح سے ہے۔ اوراس میں پیہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا محرم ہم اور بنی مطلب تو برابر ہیں۔ پیکیا بات ہوئی کہ آپ علیہ نے ان کو تو عطا فرما اور ہم آپ علیہ کے ہوگے تو آپ علیہ نے فرما یا ان لوگوں نے جاپیت کے دور میں مجھی مجھی نہیں چھوڑا اور اسلام میں مجھی مجھی نہیں چھوڑا اور آپ نے اپنی مبارک انگلیوں کے درمیان جال بنایا پس اس سے معلوم ہوا کہ یقینا بت مودت سے اس لے کر اگر صلی قرابت ہوتی تو حضرت عثمان اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو مجھی عطا فرما تے جسیا کہ بنی باشم اور بنی مطلب کو عطا فرما نے ہیں۔ پیس جب اس سے مراد قرابت مودت سے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ والد و لم کی وفات شریف کی وجہ توہان سے ختم ہوئی اس لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والد و لم نے ان کی مصاحبتواس کی وجہ فرما یاہے اور وہ باقی نہیں رہی پس آپ کی وفات شریف کے بعد وہ جب کر مالدار ہوں اس کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اور وہ جومروی کے حضور صلی اللہ علیہ والد و لم نے خمس کو پانچ حصوں پر تقسیم فرما اور زوالقریب کو ایک حصہ دیا تو یہ ہیکہ ہے کہ نہیں گفتگو واس میں ہے کہ آپ علیہ نے خاص طور پر ان کو جو عطا فرما یا تو وہ ان کی تنگدستی اور ضرورت کی وجہ سے ہے۔ یا ان کے قرابت کی بناء پر صلی اللہ علیہ نے اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تقسیم سے تم کو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ علیہ نے ان کو ان کی ضرورت اور ان کی تنگی کی وجہ سے عطا فرما یا کے رشتے کی بناء پر نہیں اور اس کی دلیل یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ والد و لم اموال غنیمت کے بارے میں شدت اختیار فرما تے کہ آپ علیہ نے اونٹ کا ایک بال (اون) لے کر فرما یا تمہارے اموال غنیمت میں سے سوا نے خمس کے کوئی چیز مجھی حلال نہیں اور وہ مجھی تم پر، یا وثا دیا جاتا ہے۔ دھاگہ اور سوئی کو مجھی واپس کردو کیون کہ خیانت خانے کے لے قیامت کے دن عیب اور شرم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والد و لم نے خمس میں سے کوئی چیز ابل قرابت کے لے خاص نہیں کر بلکہ آپ علیہ نے اپنے اس ارشادو الخمس مردود فیکم (اور خمس تم میں، یا خرچ کیا جائے گا) کے ذریعہ اس کو تمام مسلمانوں کے لے عام کر دیا پس اس میں اس امر کی دلیل یہ کہ ان کی (ابل قرابت کی) راہ فقراء مسلمین کی راہ کی طرح ہے ان میں سے جو ضرورت مند ہوگا اس کو حسب کفايت دیا جائے گا۔
(مأخوذ از: تفسیرات احمدی، بدایی، بذل المہود)
میں اور بنی مطلب، بھی جابلیت کے دور میں بھی اگر نہیں تو اور اسلام کے دور میں بھی اگر نہیں
ہیں اوراس کے سوا نہیں کہ اور وہ ایک ہی اورآپعلیٰۃ نے اپنی انگلیوں کے درمیان جال ذلاً
تمام علماء نے کہاہے کہ اس میں اس بات کی ویل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد والذی
القربی“(اور قرابت دار کے لئے) سے مراد نفرت کی قرابت سے رشتہ کی قرابت مراد نہیں اور جب
پیثابت ہوگیا کہ نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کونفرت کی بناء پر عطا فرما یہ رشتہ داری کی بناء پر
نہیں اور نفرت ختم ہو جائے گی۔ ہے لہذا عطاء کرنا بھی ختم ہوگیا۔ کیونکہ علت ختم ہو جائے تو حکم بھی ختم ہو جائے گا
Jubayr ibn Mut‘im (may Allah be pleased with him) narrated: I and Uthman ibn Affan went to the Prophet (ﷺ) and said, “You gave Banu al-Muttalib from the fifth of Khaybar but left us, though we are of the same status as you.” He said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one.” Jubayr said: (1) The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal. [Narrated by At-Tahawi]
Shafi‘i narrated from him: When the Messenger of Allah (ﷺ) divided the share of the near relatives among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, Uthman ibn Affan and I went to him and said, “O Messenger of Allah, we do not deny the merit of Banu Hashim due to your position among them, but what about our brothers from Banu al-Muttalib? You gave to them and left us, though our kinship is the same.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Banu Hashim and Banu al-Muttalib are one,” interlacing his fingers. In a narration by Abu Dawud and An-Nasa’i, he said: “We and Banu al-Muttalib never parted in pre-Islam or Islam; we and they are one,” interlacing his fingers.
Our scholars said: This indicates that “near relatives” in Allah’s saying, “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], refers to closeness in support, not kinship. Since the Prophet (ﷺ) gave to them for their support, not kinship, and that support has ended, the allocation ceases, as a ruling ends with its cause.
Abu Yusuf narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): In the Prophet’s time (ﷺ), the fifth was divided into five shares: one for Allah, one for His Messenger, one for the near relatives, one for orphans, and one for the needy and wayfarers. Then Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali (may Allah be pleased with them) divided it into three shares: one for orphans, one for the needy, and one for wayfarers.
At-Tahawi narrated from Muhammad ibn Ishaq: I asked Abu Ja‘far (Muhammad ibn Ali), “What did Ali ibn Abi Talib do with the share of the near relatives when he governed Iraq and managed people’s affairs?” He said: “By Allah, he followed the way of Abu Bakr and Umar.”
(1) The statement: “The Prophet (ﷺ) did not give anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal”: Scholars of all schools agree that spoils taken by force from disbelievers are divided into five parts, four for the fighters. They differ on the fifth: some say it is divided into six shares, one for Allah, one for the Messenger, and so on, per the verse’s apparent meaning, with Allah’s share for the Ka‘bah (per Abu al-‘Aliyah), the treasury, or combined with the Messenger’s share. The majority hold that Allah’s mention is for blessing, as it precedes the others, so the fifth is divided into five shares, as the Prophet (ﷺ) did. After his death, Shafi‘i says the Messenger’s share goes to Muslim interests, the leader, or the four categories. Per Abu Hanifah, the Messenger’s and near relatives’ shares ceased at his death, with the remainder for orphans, the needy, and wayfarers, including poor relatives, prioritizing them but excluding their rich. Shafi‘i says they get one-fifth of the fifth, equally for rich and poor, divided among Banu Hashim and Banu al-Muttalib, per “and for the near relatives” [Qur’an 8:41], without distinction. Hanafis argue the four Rightly Guided Caliphs divided it into three shares, as stated, and their practice is exemplary. No one objected despite the Companions’ knowledge, making it a consensus. The Prophet (ﷺ) said: “O Banu Hashim, Allah dislikes for you people’s filth and impurities, compensating you with one-fifth of the fifth.” Compensation applies to those eligible for the original, i.e., the poor. The Prophet (ﷺ) gave for support, as he said: “They never left me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers, indicating closeness in support, not kinship. The term “near relatives” can mean blood kinship or affection; here, it is the latter, as the Prophet (ﷺ), son of Abdullah ibn Abd al-Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf, had four ancestors: Hashim, al-Muttalib, Abd Shams, and Nawfal. Uthman was from Abd Shams, Jubayr from Nawfal. At Khaybar, the Prophet (ﷺ) gave one-fifth of the fifth to Banu Hashim and Banu al-Muttalib, excluding Uthman and Jubayr, who said: “We do not deny Banu Hashim’s merit due to your position, but we and Banu al-Muttalib are equal.” He replied: “They never parted from me in pre-Islam or Islam,” interlacing his fingers. This shows it was for support, not kinship, as Uthman and Jubayr would have received otherwise. Since support ended with his death, the rich among them lose entitlement. The narration of dividing the fifth into five shares is valid, but the issue is whether it was for their poverty or kinship. The Caliphs’ division shows it was for poverty. The Prophet (ﷺ) was strict with spoils, even taking camel hair, saying: “Nothing of your spoils is lawful for me except the fifth, which is returned to you. Return the needle and thread, for misappropriation is a disgrace on its owner on the Day of Resurrection.” He did not favor relatives with the fifth, including all Muslims in: “The fifth is returned to you,” showing their way is like other poor Muslims, given enough for their needs. As in (At-Tafsir al-Ahmadiyyah), (Al-Hidayah), and (Badhl al-Majhud).
All scholars have stated that this verse implies that the term 'ذِي الْقُرْبَى' (those with nearness) does not refer to kinship based on blood relations but rather to those who are close due to their piety. It has been established that the Prophet ﷺ did not grant favors based on enmity, nor did he grant them based on kinship. When enmity ceases, the granting of favors will also cease, because when the cause is eliminated, the effect will also be eliminated.
اور امام ابو يوسف رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی
ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خمس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا-
(1) اللہ اور رسول اللہ کے لئے ایک حصہ، (2) قرابت دارول کے لئے ایک حصہ، (3)
تمیمون کے لئے ایک حصہ، (4) مساکین کے لئے ایک حصہ اور (5) مسافرون کے لئے ایک حصہ
چھڑا ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا-
(1) تمیمون کے لئے ایک حصہ (2) مساکین کے لئے ایک حصہ
اور (3) مسافرون کے لئے ایک حصہ
that during the time of the Messenger of Allah ﷺ, the fifth (khums) was divided into five parts: (1) one part for Allah and His Messenger, (2) one part for the Prophet's relatives, (3) one part for the poor, (4) one part for the wayfarers. Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali, may Allah be pleased with all of them, divided it into three parts: (1) one part for the poor, (2) one part for the wayfarers, and (3) one part for the poor.
امام طاووس کی ایک روایت میں ہے محمد بن انتقہ سے مرويہ نے کہا
میں ابو جعفر سے لعنی محمد بن علی سے دریافت کیا کہ آپ کیا فرما تے ہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ
تعالیٰ عنہ جس وقت عراق کے والی ہوئے اور لوگوں کے معاملات کے ذمہ دار ہوئے تو ذوی القریب
کے حصر میں کیا عمل کیا۔ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم وہ اس معاملہ میں ابو بکر اور عمر کے طریقہ پر چلے
جاؤن۔
I asked Abu Ja'far, Muhammad bin Ali, what he said about Ali bin Abi Talib (RA) when he became the governor of Iraq and was responsible for the affairs of the people: 'What did he do with the people of Quraysh?' He replied, 'By Allah, he followed the way of Abu Bakr and Umar in this matter.'
عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب تشریف لاے اور اس کی کوہان سے ایک بال لے کر فرما یا:
اے لوگو! اس مال کی میں سے میرے لئے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ اور اپنی اگشت مبارک کو بلند
کیا سواے خمس کے اور خمس بھی تم پر، یہ خراج کیا جاتا ہے پس تم دعا کر اور سوئی بھی ہوتا ادا کردو پس
ایک صحابی تھا۔ ان کے باٹھ میں بالوں کا ایک چھاٹا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کو اس
عبدالمطلب کا ہے تو وہ تیرے لئے ہے انہوں نے کہا جب اس کا معاملہ اس درجہ میں پہنچ گیا ہے جو میں دکھر پاہون تو مجھے اس کی ضرورت نہیں اوراس کو چھوڑ دیا۔ (ابوداود)
Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), narrated: The Prophet (ﷺ) approached a camel, took a hair from its hump, and said: “O people, I have no right to this fay’ except the fifth, and the fifth is returned to you. So return the needle and thread.” A man stood with a tuft of hair, saying: “I took this to mend my saddle.” The Prophet (ﷺ) said: “What is mine and Banu Abd al-Muttalib’s is yours.” The man said: “If it has reached this point, I have no need for it,” and discarded it. [Narrated by Abu Dawud]
In another narration by Abu Dawud from Amr ibn Abasah: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed toward a camel from the spoils. After finishing, he took a hair from its side and said: “Even this much of your spoils is not lawful for me except the fifth, and the fifth is returned to you.”
Shaykh Ibn al-Humam said: The Prophet (ﷺ) did not favor relatives with any of the fifth, including all Muslims in: “The fifth is returned to you,” showing their way is like other poor Muslims, given enough for their needs.
علیٰ وسلم مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف نماز پڑھانے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھرا تو اونٹ کے پہلو میں سے ایک بال نکال کر فرمایا تمہارے اموال غنیمت میں سے اس کے مثل بھی سوا میں خمس کے میں لے حلال نہیں اور خمس بھی تمہارے طرف، یا پس کیا جائے گا ورش ابن همام نے فرمایا کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے قرابت دارول کے لئے پچھری میں نہیں کیا اور اس ارشاد "والخمس مردود فيكم" کے ذریعہ تمام مسلمانوں کوشامل فرمایا پس اس سے یہ بتا معلوم ہوتا کہ ان کا طریقت بھی دوسروں حاجت مند مسلمانوں کی طرح ہے ان میں جو بھی ضرورت مند ہیں ان کو بطور کفايت عطاء کیا جائے گا۔
Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), narrated: The Prophet (ﷺ) approached a camel, took a hair from its hump, and said: “O people, I have no right to this fay’ except the fifth, and the fifth is returned to you. So return the needle and thread.” A man stood with a tuft of hair, saying: “I took this to mend my saddle.” The Prophet (ﷺ) said: “What is mine and Banu Abd al-Muttalib’s is yours.” The man said: “If it has reached this point, I have no need for it,” and discarded it. [Narrated by Abu Dawud]
In another narration by Abu Dawud from Amr ibn Abasah: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed toward a camel from the spoils. After finishing, he took a hair from its side and said: “Even this much of your spoils is not lawful for me except the fifth, and the fifth is returned to you.”
Shaykh Ibn al-Humam said: The Prophet (ﷺ) did not favor relatives with any of the fifth, including all Muslims in: “The fifth is returned to you,” showing their way is like other poor Muslims, given enough for their needs.
ایک جماعت کو عطا فرمایا میں مجھے ہوا تھا تو رسول اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا۔ میں بہت پسند تھا میں اس کا او رعرض کیا کر فلان کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ نے ان کو میں عطا فرمایا خدا کی قسم میں ان کوموسیمجھتا ہوں 30۔ تو رسول اللہ علیہ وسلم نے
علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان! سعد نے تین مرتباس کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح جواب دیا پھر فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہون جب کس کے سوا وسر انگھاس سے زیادہ پسند پیرہ ہوتا ہے اس اندیشہ کی وجہ تے کروہ اپنے پڑھو کے بل دوزخ میں ججوک ویاجا بے گا - (متفق علیہ)
اور ملا علی قاری نے کہا ہے کر اسلام اور ایمان باعتبار لغت دو الگ الگ ہیں اور پر اعتبار شریعت دونوں ایک ہیں -
Sa‘d ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) gave to a group while I was present, (1) but left out a man who impressed me most. I stood and said: “What about so-and-so? By Allah, I see him as a believer.” (2) The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Or a Muslim?” Sa‘d repeated this three times, and each time he replied similarly, then said: “I give to a man while another is dearer to me, fearing he be thrown into the Fire on his face.” [Narrated by Bukhari and Muslim]
Ali al-Qari said: Islam and faith differ linguistically but are united in Shariah.
29قولہ: فترك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منهم رجل هو اعجبهم الى الخ (تورسول اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا جو مگر ان سب میں بہت پسند تھا) علامہ عینی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ امام اموال کو مسلیمانوں کے مصالح میں خرج کرنا چاہیے اس میں جو اہتمام ہے پھر وہ جواب ہے، صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے کہ اس لئے صاحب رحمتار نے کہا ہے کہ خمس باقی رہے گا اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا مثیم کے کے، مساکین کے لئے، مسافر کے لئے، اور اس میں سے کسی ایک کی قسم پرخراج کرنا چاہیے۔
قولہ: لأراه مومنا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او مسلما الخ (میں ان کوموسیمجھتا ہوں تورسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان) ابل علم کا اس بات اختلاف ہے کراسلام اور ایمان باہم مغاير ہیں یا دونوں متحد ہیں۔ ملا علی قاری نے کہا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ اختلاف لفظی ہے کیونکہ میلی صورت باعتبار اخت کے ہے اور دوسری صورت کا مدار ثبوت پر ہے اور یہی کہا گیا ہے کہ حقیقی بات یہ ہے کہ وہ باعتبار مغزوم مختلف ہیں اور مصداق دونوں کا ایک ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی بستی میں تم جاؤ اوراس میں قیام کروا س میں تمہارا حصرہ -31اور جوہنتی کہی اللداور اس کے رسول کی خلاف ورزی کر تو اس کا نفس اللد اوراس کے رسول کے لئے ہے پھرتا وہ تمہارتے لئے ہے -(مسلم)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Any town you enter and stay in, your share is in it. (3) Any town that disobeys Allah and His Messenger, its fifth is for Allah and His Messenger, then it is for you.” [Narrated by Muslim]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ دشن جس پیزر قبضہ کر لے اور مسلمان ان سے اس کو پچھرا لیں اور اگراس کا ما کے تقسیم سے پہلے اس کو پا لے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر تقسیم کے بعد وہ اس کو پانا چاہتا ہے تو تقسیت
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: (1) “Regarding what the enemy secured and Muslims recovered, if the owner finds it before division, he has the right to it. If it has been divided, he may take it by paying its price.” [Narrated by Ad-Daraqutni and Al-Bayhaqi in their Sunan] At-Tabarani narrated similarly in Al-Mu‘jam al-Awsat.
At-Tahawi narrated from Qubaysah ibn Dhuwayb that Umar ibn al-Khattab said about what polytheists secured and Muslims took: If the owner recognizes it before division, it is his; if shares are assigned, he gets nothing.
31قولہ: فسهمكم فيها الخ (اس میں تمہارا حضرہ )اس میں بات ہے کہ مال فی میں ہمارے پاس نمس نمیں ہے لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ مال غنیمت کی طرح اس میں کچھ نہیں ہے اور یہ دیث ان پرجت ہے - صاحب مرقات نے کہا ہے کہ کتاب رواجتار او ر کتاب رحمۃ اللامتے میں معلوم ہوتا ہے - امام نووی کی شرح مسلم میں ہے قاضی نے کہا ہے کہ پہلی (لبستی ) سے مراد وہ مال فی میں ہے جس پر مسلمانول نے اپنے گھوڑے اور سواریال نمیں دورا ہے بلکہ وہان کے باشندے اس کو خالی کردے ہیں اس پر سح کر لے تو اس میں ان مسلمانول کا حضرہ ہے کا لیکن اس میں مال فی کے مصرف کی طرح عطا یادے جائیں گے اور دوسری (لبستی ) سے مراد وہ ہے جس کو غلبہ کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے تو وہ مال غنیمت ہوگا اس میں نمس نکالا جائے گا اور ما لی غنیمت مجع کرنے والے (مجاہدین ) کے لئے ہوگا حضرور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ثم ہی لکم کا مطلب یہی ہے لیکن ما لی تم کو لی کا اور جنهون نے مال فی میں نمس کو وا جب نمیں کیا ہے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے فی میں نمس کو وا جب کیا ہے جسیا کہ تمام اتمر نے مال غنیمت میں نمس کو وا جب کیا ہے اور سوا نے ان کے (امام شافعی رحمۃ اللہ کے ) تمام علماء نے کہا ہے کہ فی میں نمس نمیں ہوتا اور اب منذر نے کہا کہ وہ نمیں جائے گا امام شافعی رحمۃ اللہ سے پہلے کسی امام نے فی میں نمس قرار دیا ہو -
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مال سے متعلق جس پر مشرکین قبضہ کرتے تھے کہ عمر بن خطاب کر لیس اور اس کا ما ک اس کو پچپان لے فرمایا، اگر وہ تقسیم کے پیل اس کو لے تو وہ اس کا ہو جائے گا۔ اور اگراس میں حج جاری ہو جا کیسے تو اس کے لے کوئی چیز نہیں۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: (1) “Regarding what the enemy secured and Muslims recovered, if the owner finds it before division, he has the right to it. If it has been divided, he may take it by paying its price.” [Narrated by Ad-Daraqutni and Al-Bayhaqi in their Sunan] At-Tabarani narrated similarly in Al-Mu‘jam al-Awsat.
At-Tahawi narrated from Qubaysah ibn Dhuwayb that Umar ibn al-Khattab said about what polytheists secured and Muslims took: If the owner recognizes it before division, it is his; if shares are assigned, he gets nothing.
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا سات بکریوں کو خریدو میرے ذمہ ایک اونٹی ہے اور وہ دور زکل گئی ہے پس آپ علیہ السلام نے فرمایا سات بکریاں خریدی لو۔ اور انہوں نے (امام طحاوی نے) کہا کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث شریف میں سات بکریوں کو ایک اونٹی کے برابر قرار دیا جو ایک آدی کے لے کافی ہوتی ہے۔ اور اس اونٹی کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ اور ابل علم نے کہا ہے کہ دس بکریوں کے برابر والی حدیث شریف منسوخ ہے۔
نے بیان فرمایا ہے جسیا کہ امام زیلی علیہ وغیرہ نے امام شافعی رحم اللہ اس کو نقش کیا ہے اس کے پیچھے نہیں۔ بہ سختی گرہمارا کہنا ہیہ کہ یہ بات درست نہیں کیونکہ کثرت طرق سے ضعف کی تلافی ہو جاتی ہے علاوہ ازیں یہ کہ ان سے کسی حکم کو ثابت کرنا نہیں ہے کہ ضعف مضر ہو کیونکہ حکم قرآن کے اشارے انص سے ثابت ہے اس سے غرض فاس کی تائید اور تقویت ہے ایسی صورت میں ان کی سنن دوں کا ضعف مضر نہیں ہوتا اور اس بات میں نہیں اور ان کے علاوہ دیگر محمد ثیرن کی ابواب رج میں تخریج کردہ حدیث کافی ہے جو ہمارے ذکرہ قول کے لے مفید ہے کیونکہ اس سے پیثابت ہوتا ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ علیہ السلام کے صحابہ کم سے باجر ت کے لے تو عقیل بن الابی طالب جواس وقت کافر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مکاتب کو تھوڑے سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھوڑے کو جائز قرار دیا ہے جب کرآپ علیہ نے فرمایا: ‘‘هل ترك لنا عقيل منزلا’’۔ کیا عقیل نے ہمارے لے کوئی گھر چھوڑا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی کہ مسلمان کفار پرفوج کشی کریں اور مسلمانوں کے مال ان سے حاصل کر لیں اور یہم تے پیل اس کا ما ک آجا لے تو وہ اس کو بغایر کسی عوض کے لے لیگا۔ اور اگر وہ تقسیم کے بعد آ لے تو اس کو قیمت دے کر لیگا لفظ احرار میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ کفار کا مطلق قبضہ کر لینا اس سے ان کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی جب تک دار الحرب میں احرار نہ ہوئیں دار الحرب میں اس کو محفوظ نہ کر لیں۔
(ماخوذ از: شرح وقایی، وعمدة الرعاية، عمدۃ القاری، شرح معاني الاثار، مرقات)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), “I bought seven sheep, but I owe a camel that has gone missing.” He said: “Buy seven sheep.” [Narrated by At-Tahawi] He said: “Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) equated it to seven sheep, each sufficient for one person, not ten sheep?” Scholars said: The Hadith equating it to ten sheep is abrogated.