Nūr al-Maṣābīḥ
باب الجزية

The Jizyah (Poll Tax)
Volume 7 · Jihad

جزیکا بیان

Jazakallahu Khairan

5360

زید بن رومان اور عبد اللہ بن اوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو قبیلد کنہ کے ایک شخص اکیدر بن عبد الملک کے پاس روانہ

فرمایا، جو مقام دومہ کا باشندہ تھا اور نصرانی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد سے فرمایا کہ تم

اس کو گاہے کا شکار کرتا ہوا پاؤ گے - پس خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تکل پڑے یہاں تک کہ جب وہ صاف

چاندنی رات میں اس کے قلعے سے اس قد فاصل پر تک کہ جہاں سے آنکھ (قلعہ کا) نظارہ کرسکتی

ہے تو (دیکھا کہ) وہ چھت پر اپنی پیوی کے ساتھ ہے - پس ایک گاہے اپنی سینگون سے محل کے

دروازے کو گرنے ہولی آئی، تو اس سے اس کی پیوی نے کہا کیا تم نے مجھی اس جیسے (شکار) کو دیکھا؟

تو اس نے کہا بخدا نہیں، وہ پولی تو اس جیسے (شکار) کو کون چھوڑتا ہے؟ وہ پولا کونی نہیں - پھر وہ اپنے

گھوڑے (کو تیار کرنے) کا حکم دیا تو اس پرزین کسی گئی، اور اس کے ساتھ افراد خاندان کی ایک

جماعت بھی سوار ہوگئی، جتن میں اس کا ایک بھائی تھا، جس کو حسان نے بلا کر جاتا تھا - چنانچہ وہ سب

اپنی چادرول کولے اس کے تمرہ نکل پڑے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوارول کا ان سے

سامنا ہوا تو انہول نے اس کو پیٹ لیا - اور اس کے بجا کی حسان کو ماردالا - اور اس کے اوپرسون کا کام

کی ہولی ریشم کی ایک چادر تھی تو خالد بن ولید نے اس کواس سے نکال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کی خدمت میں حاضر ہی سے پہلے یہ آپ علیہ السلام کے پاس روانہ کردیا پھر خالد اکیدر کو رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آکر تو آپ علیہ السلام کے خون کو معاف فرمايااور جزیئی ثرط پراس

سے فرمائی اور اس کو باکر دیا تو وہ اپنے گاہے کو واپس لے گیا - (سنن کبری للیہقی)

Yazid ibn Ruman and Abdullah ibn Abi Bakr narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent Khalid ibn al-Walid to Ukaydir ibn Abd al-Malik, a man from Kindah, king of Dumah, who was Christian. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Khalid: “You will find him hunting cattle.” Khalid set out until he was within sight of his fortress on a clear, moonlit night. Ukaydir was on the roof with his wife. Cattle came rubbing their horns against the palace gate. His wife said: “Have you ever seen this before?” He said: “No, by Allah.” She said: “Who would let such a thing go?” He said: “No one.” He descended, ordered his horse saddled, and rode out with a group from his household, including his brother Hassan. The Messenger’s cavalry met them, captured Ukaydir, and killed his brother Hassan, who wore a gold-embroidered silk robe, which Khalid took as spoils and sent to the Messenger of Allah (ﷺ) before arriving. Khalid then brought Ukaydir to the Messenger of Allah (ﷺ), who spared his life, made a treaty for jizyah, and released him to return to his town. [Narrated by Al-Bayhaqi in (As-Sunan al-Kubra); Abu Dawud narrated a shorter version from Anas (may Allah be pleased with him)]

5361

ابوداود میں پر روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متضرم روي ہے-

It is narrated on the authority of Anas (RA) in Abu Dawud:
5362

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مجسيون سے جزیئی بلے یہاں

تک کر عبد الرحمن بن عوف نے پیغواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام بجر کے مجسيون

تے جزری لیا - (احمد، بخاری، ابوداود، ترمذی)

It is narrated from 'Umar (RA) that he said:

I performed the Hajj with the Messenger of Allah ﷺ, and he took the route through Majasion and Jathir until he reached Bajr.

5363

ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آتش پر ستون کازکر

کیا اور کہا: میں نہیں جانتا کہ ان کے معاملہ میں کس طرح کروں؟ تو عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا میں

گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ میں نے رسول اللہ کو رما تے ہوئے سنابہ کہ تم ان سے اعلیٰ کتاب

کے ساتھ سلوک کی طرح سلوک کرو۔ 3(مسندشافعی)

پر حدیث شریف اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر اعلیٰ کتاب سے نہیں بلیکہ اوراس بات کی

جوہر کہ غیر اعلیٰ کتاب سے جز نہیں لیاجائے گا، اس لئے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) ان (اعلیٰ کتاب) کے

معنی و مفہوم میں ہیں۔

In another narration, it is reported that Sayyiduna Umar (RA) cursed the fire and said:

I do not know how to act in their matter. Then Abdur-Rahman bin Auf (RA) said: I bear witness to the fact that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say while throwing pebbles at Sunabah: 'Act towards them in the manner of the Higher Book.' This noble hadith is evidence that the Prophet (ﷺ) did not take anything from the Higher Book, but rather the essence of it, which is that nothing will be taken except from the Higher Book, because the Prophet (ﷺ) is in the meaning and essence of it.

5364

سنوا بهم سنة اهل الكتاب (تم الان اعلیٰ کتاب کے ساتھ سلوک کی طرح سلوک کرویعنی جزیئی

کے معاملہ میں ) پر حدیث شریف اس بات کی دلیل ہے کہ وہ (مجوس) اعلیٰ کتاب نہیں بلی - اس پرامام عظیم ابوحنیفہ اور

جمہور فقہاء کا اتفاق ہے - اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس جزیری اعلیٰ کتاب کے ساتھ خصوص ہے، اور ان کے پاس مجوس

اعلیٰ کتاب سے نہیں لہذا ایر (مجوس) جزیری کے حکم میں داخل نہیں - نیز امام شافعی سے پردائت ہے کہ اعلیٰ کتاب حق پر

وہ بدلا ہے اور میں کچھ نہیں کہ وہ اس بارے میں اس روایت کو اختیار کہ نہیں جوسید نا علی کرم اللہ وجهہ بطريق

ضعف مرودی ہے - جس کا دار ابوسعید بقال پر ہے - پھر انہوں نے اس حدیث کو ذکر کر کہ کہا: لیکن اکثر اعلیٰ علم اس کا

انکار کرتے ہیں اور اس حدیث کو غیر قرار دیتے ہیں - اور ان حضرات کی جدت ریآیات ہیں -

1 - "ان تقولوا انما انزل الكتاب على طائفتين من قبلنا " يعني اليهود والنصاري۔ تزجهم ثم

کہیں پیکو کہ تم سے پہلے دو جماعت کے پر کتابیں نازل ہوئی تھیں (6 سورۃ الانعام، آیت نمبر: 156) لیجن پیہورو

نصاری -

2 - "ياهل الكتاب لم تحاجون في ابراهيم وما انزلت التوراة والانجيل الا من

بعد" (3 سورۃ آل عمران، آیت نمبر: 65) لیجن اعلیٰ کتاب ابراہیم کے بارے میں تم کیون ججڑتے ہو، حالا نکہ

تورات اور بیبل ان کے بعد نازل ہوئیں -

3 - "قل يا هل الكتاب لستم على شي حتى تقيموا التوراة والانجيل وما انزل اليكم من

ربكم " (5 سورۃ المائدة، آیت نمبر: 68) لیجن اعلیٰ کتاب تم کی راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور بیبل کو

اور اس کے سوا جو پیہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوائے اس کو قائم نہ کرو پھر ان آیات سے معلوم ہوتا

ہے کہ اعلیٰ کتاب، یہود و نصاری ہیں جوال تورات و انجیل ہیں - (ابوعمرانی، رحمۃ اللہ، ثرواح کنز)

Behave with the People of the Book as you would with those who have a higher book (meaning in matters of detail). This noble hadith is evidence that they (the Magians) do not have a higher book. There is consensus on this matter among the great Imam Abu Hanifah and the majority of jurists. According to Imam Shafi (RA), the Magians have a special status with the higher book, but they do not have a higher book. Therefore, the Magians are not included in the ruling of those with a higher book. It is also reported from Imam Shafi (RA) that the higher book is true, and he does not accept the tradition that says otherwise, which is weak and unreliable, narrated by Abu Sa'id Bakkal. Then he mentioned this hadith, saying: However, most scholars deny it and do not consider it reliable. These are the views of the learned scholars:

1 - 'And if they say"Only the Book was sent down upon two groups before us"', meaning the Jews and Christians (Surah Al-An'am, verse 156). So tell them, 'The Book was sent down to the Jews and Christians.'

2 - 'O People of the Book, why do you argue about Abraham when the Torah and the Gospel were not revealed until after him?' (Surah Al Imran, verse 65). So tell them, 'Why do you argue about Abraham when the Torah and the Gospel were revealed after him?'

3 - 'Say, O People of the Book, you have nothing until you uphold the Torah, the Gospel, and what has been revealed to you from your Lord.' (Surah Al-Ma'idah, verse 68). So tell them, 'You are not on the right path until you uphold the Torah, the Gospel, and what has been revealed to you from your Lord.' From these verses, it is clear that the People of the Book are the Jews and Christians, who have the Torah and the Gospel. (Abu Umarani, may Allah have mercy on him, in Tharwat al-Kanz)

5365

امام زہری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب کے سوا (وگیرہ) مشرکین سے جزیہ رمصاحت فرمایا ہے۔4(مصنف عبد الرزاق)

Ar-Ruhri narrated: The Prophet (ﷺ) made a treaty with idol-worshippers for jizyah, (1) except those among the Arabs. [Narrated by Abdur-Razzaq]

Al-Bayhaqi narrated in this chapter from (As-Sunan al-Kubra) the Hadith of Buraydah: “When you meet your enemy among the polytheists, invite them to one of three options,” including: “If they refuse, invite them to pay jizyah.” Abu Umar said: Az-Zuhri’s Hadith excludes Arab polytheists, stating for them: “Only Islam or the sword,” supported by Allah’s saying: “You will fight them, or they will submit” [Qur’an 48:16].

5366

اور امام زہقی نے اس باب میں سنن کبری سے حضرت بریدہ کی حدیث روایت کی ہے کہ جب تمہارے دونوں مشرکین سے تمہاری مداحیطر ہوجاتے تو ان کو تین باٹون میں ایک کی دعوت دو (الحدیث) اوراس میں پیشی ہے کہ آگروہ انکار کریں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دو ابوعمر نے کہا کرام زہری کی حدیث نے مشرکین عرب کواس حکم سے (جزیہ دینے) مستثنی کیا ہے۔

Ar-Ruhri narrated: The Prophet (ﷺ) made a treaty with idol-worshippers for jizyah, (1) except those among the Arabs. [Narrated by Abdur-Razzaq]

Al-Bayhaqi narrated in this chapter from (As-Sunan al-Kubra) the Hadith of Buraydah: “When you meet your enemy among the polytheists, invite them to one of three options,” including: “If they refuse, invite them to pay jizyah.” Abu Umar said: Az-Zuhri’s Hadith excludes Arab polytheists, stating for them: “Only Islam or the sword,” supported by Allah’s saying: “You will fight them, or they will submit” [Qur’an 48:16].

5367

شخ ابن حمام نے کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رويہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مشرکین عرب سے اسلام یا توار کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس کی تا سیر کرتا ہے۔ ‘‘تُقاتِلوْنُہُمْ أَوْ يَسْلِمُوْنَ’’ (تم ان سے جنگ کروگے یا وہ اسلام لا لیں گے)۔ (سورۃ انفال، پ:26،آیت نمبر:16)۔

Ar-Ruhri narrated: The Prophet (ﷺ) made a treaty with idol-worshippers for jizyah, (1) except those among the Arabs. [Narrated by Abdur-Razzaq]

Al-Bayhaqi narrated in this chapter from (As-Sunan al-Kubra) the Hadith of Buraydah: “When you meet your enemy among the polytheists, invite them to one of three options,” including: “If they refuse, invite them to pay jizyah.” Abu Umar said: Az-Zuhri’s Hadith excludes Arab polytheists, stating for them: “Only Islam or the sword,” supported by Allah’s saying: “You will fight them, or they will submit” [Qur’an 48:16].

5368

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم البطلاب کی عیادت کے لے تشریف لے آنے اوران کے پاس قریش کے چند لوگ موجود تھے اوران

کے سرپرست ایک آدمی کی جلد کو - البتہ لے نے اس جگہ کو بھی حا تو انہا اور و بال بینہ گیا اور کہا کہ آپ کا

بحثیا ہمارے معبدول کو برا بجل کہتا ہے تو ابوطالب نے کہا آپ کی قوم کا کیا معاہدہ ہے وہ آپ کی

شکایت کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے ایک کلمہ چاہتا ہوں۔ جس سے سارا

عرب ان کا مطیع ہوجائے گا اور ابلیجم ان کو جزیرہ دیں گے۔ انہوں نے کہا وہ کیا کلمہ ہے؟ آپ علیہ صلی اللہ

فرمايلا اللہ الا اللہ کلمہ کو ای پس و لوگ اٹھ کر ہوئے اور کہنے لگے کیا انہوں نے کی

معبدول کے باجے ایک خدا بنادیا راوی نے کہا: "صَّ وَالْقُرآن ذی الذِّکْر " کی آیت نازل

ہوئی۔ پہلا تک کرآ پعلیسا " ان هذا لشیء " عجائب " تک پیچ پیچ نے سنن میں اس کی

روايت کی ہے اور امام نزدی نے کہی اس طرح روايت کی ہے اور کہا کہ یہ حدیث حق ہے۔

ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث ثبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار شاد و تؤدی

اليهم العجم الجزية" (ان کوالہ جم جزرہ دی گے) ہمارے نذہب کی تائید کرتا ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) visited Abu Talib while Quraysh men were with him, with a man’s seat by his head. When Abu Jahl saw him, he sat there. He said: “Your nephew insults our gods.” Abu Talib said: “What is wrong with your people complaining about you?” The Prophet (ﷺ) said: “O uncle, I want them to accept one word by which the Arabs will submit to them, and the non-Arabs will pay them jizyah.” He said: “What is it?” He said: “The testimony that there is no god but Allah.” They stood, saying: “Do you make the gods one god?” Then “Sad. By the Qur’an, full of reminder” [Qur’an 38:1] was revealed, up to “Indeed, this is a strange thing” [Qur’an 38:5]. [Narrated by Al-Bayhaqi in (As-Sunan)] Tirmidhi narrated similarly, saying: Hasan Sahih. Our scholars said: This supports our view with his saying (ﷺ): “The non-Arabs will pay them jizyah.”

4قولہ: ان النبی ﷺ صالح عبدة الاوثان بالجزيرة الا من كان من العرب (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب کے سوابت پرستون سے جزیہ کی شرط پر مصالحت فرمایا ہے) اتراس بات پرتفق ہیں کہ جزیرہ میں کتاب یہود و نصاری اور موسیوں پر مقرر کیا جاتے گا۔ بت پرستون سے مطلقًا نہیں لیا جاتے گا۔ اتمرکا موسیوں کے بارے میں اختلاف ہے کروہ اعل کتاب میں یا اعل صحائف میں۔ امام بوحنیفہ، امام ماک اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کروہ اعل کتاب میں ہیں بلد اعل صحائف میں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں دوقول منتقل ہیں۔ اور اتمرکا ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے جن کے پاس نکوئی کتاب ہے اور نہ محفوظ جیسے عرب و عجم کے مشرکین ہیں، کیا ان سے جزیہ لیا جاتے گا یا نہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں عجم کے مشرکین سے لیا جاتے گا عرب کے نہیں اور امام ماک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں خاص طور پر مشرکین قریش کے سواہرکا فرے خواہ عربی ہویا یہی جزیہ لیا جاتے گا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ او رانج قول کے مطابق امام احمد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین سے مطلق جزیہ لیا جاتے گا۔ امام شافعی کا قول کہ مشرکین عرب سے ہی جزیہ قبول کیا جاتے گا ان دونوں پرامام زہری وغیرہ کی حدیث پر ہے۔ (ماخذ از: رحمۃ الامة، تفسیرات احمدی)

5369

5 قو له : وضع عمر بن الخطاب في الجزية على رؤوس الرجال الخ (حضرت عمر بن خطاب رضی

اللہ تعالیٰ عند برس عام جزیہ کے بارے میں (مقدار) مقرر فرمائے) جب پیہال جزیہ کی مقدار کا بیان ہوا ہے تو تم جان

لو کر اس میں خفیہ اور شافعی کے ماہین اختلاف ہے۔ پس خفیہ کے پاس جزیہ کی وشمین پیں۔ ایک وہ جزیہ ہے جو آپ س

کی رضا مندی اور مصالحت سے مقرر کیا جاتا ہے تو حسب اتفاق اس کی مقدار مقرر کی جاتے گی۔ جسیا کر رسول اکرم صلی

اللہ علیہ وسلم نے المل نجران سے (1200) حلے پر مصالحت فرمائی اور اس وجہ سے جسی کر اس کا موجب آپ س کی

رضامندی ہے اس لے متفرق مقدار سے تجاوز کرنا درست نہیں ہے۔

اور ایک وہ جزیہ ہوتا ہے جب حاکم کفار پر غلب پاتا ہے اور ان کوان کے املک پر برقرار کرتا ہے تو اس جزیہ کو

مقرر کرنا شروع کرتا ہے۔ پس مالدار پرجس کی توگری ظاہر ہے ہرسال (48) درہم وہ مقرر کرے گا اور ہر مہینہ میں ان

سے چار درہم لے گا۔ متوسط حال والے پر (24) درہم ہیں، ہر مہینہ میں دودرہم اور تغلد ست پر جوخدو کے لے گا مکسلتا

سے (12) درہم ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہر بالغ پر ایک دینار یا وہ جو دینار کے مساوی پڑے مقرر کرے گا۔

مالدارا ور تغلد ست دونول اس میں برابر ہیں۔ کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ

عنہ سے مالدارا ور تغلد ست کے درمیان فرق کے بغیر، ہر بالغ سے ایک دینار یا س کے مساوی لیا جاتے گا اور اس میں

مالدارا ور تغلد ست کے درمیان کوئی فرق نہیں اور ہمارا نذہب حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے

منقول ہے۔ اور مہاجرین وانصار میں سے ان پر کسی نے انکار نہیں کیا۔ لہذا اس پراجماع ہوگیا۔ اور اس وجہ سے جسی......

مالدار پر اثر تا لیس (48) درہم، متوسط پر چونیس (24) درہم اور تنگدست پر (12) درہم –6

( ابن ابی شیبہاوربعق )

اوراس کی اسناو کے طرق متعدد ہیں۔ اورشخ ابن حمام نے کہا اس حدیث کے بعض طرق میں

پرالفاظ کی آئے ہیں” تگ و ست پر جو کما نے والا ہے (12) درہم“ جیسے نے اس کی خز تھ کی ہے

اور دینار کی حدیث پر محول ہے۔

Abu Awn Muhammad ibn Ubaydullah ath-Thaqafi narrated: Umar ibn al-Khattab imposed jizyah on men’s heads: (1) 48 dirhams for the rich, 24 for the middle class, and 12 for the poor. (2) [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Al-Bayhaqi with multiple chains] Shaykh Ibn al-Humam said: Some chains specify “the poor who earn,” as narrated by Al-Bayhaqi. The Hadith about a dinar is understood as per a treaty.

5370

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

...... کہ جزیرہ نوالی جماعت کی مد کے لئے واجب ہواہے۔ جان و مال کے ذریعہ ان کی مد کے بد لے میں جزیرو اجب

ہواہے۔ اور ضرت مال کی فراوانی اور قلت کی وجہ سے مختلف ہوتی ہے۔ ای طرح کا حکم اس کے بدل (جزیو) کا ہے۔

اور وہ چیز جس کو امام شافعی رحمۃ اللہ نے روایت کیا ہے وہ اس مال سے متعلق ہے جس پڑ ہوتی ہے کیونکہ اس

میں بالغ (عورت) پر کہی جزیو اجب ہو نے کی دلیل ہے جب کہ ان پر کوئی جزیو نہیں ہے۔ ( ماخذ ازفسیرات احدیث،

بذل اجوود، ثرواح کنز)

قولہ :وعلی الفقیر اثناعشر درهما الخ (اورتنگدست پربارہ درہم) تنگدست سے مراد وہ شخص ہے

جس کا نامور کام کرنے پرقدرت رکتا ہو لیکن تمام پاس وہ شخص جو کام پرقدرت نہ رکتا ہوا س پر کوئی جزیو نہیں ہے

کیوںکہ ابن زنجویہ نے کتاب الاموال میں ابو بکر عبسی صلی بن زفر سے روایت لقل کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے

ایک عمر سیدہ ذی کو بھیجیا مگر دیکھ تو آپ نے اس سے فرمایا تجہ کو کیا ہوا تو اس نے کہا میرے پاس کچھ مال نہیں ہے

اور مجھے سے جزیو لیا جاتا ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تم تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ تم تیری جوانی کو

کہا گیہ پڑ تھی سے جزیو لیا لے رہے ہیں۔ پھرآپ نے اپنے علمین کو برے بولا ہے سے جزیو نہ لیں کے لئے دیا

اس میں وجد مناسبت یہ کہ اسی زمین سے زمین کا خراج نہیں لیا جاتا جس میں اس کی طاقت نہ ہو پس بھی حکم جان کے

خرانج کا ہے۔ ( لیکن جس آدمی میں خراج ادا کرنے کی طاقت نہ ہوا سے نہیں لیا جائے گا) اوراس پر بیبات کی شاہد

ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عثمان بن عفیف کوساودعراق کی طرف روانہ فرمایے تو انہوں نے جزیصرف

استطاعت والے پر مقرر کیا اور بیبات ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے اس شخص پر جزیو مقرر کیا ہے جو کسب نہ کر سکتا ہوا امام

شافعی رحمۃ اللہ فراماتے ہیں کہ کسب نہ کر سکنے والے کے ذمہ جزیو ہے کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث مطلق

ہے اور وہ یہ کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر بالغ مرداور بالغ عورت سے جزیو“ تم کہتے ہیں کہ ہر بالغ

مردو عورت پر جزیو مقرر کرنے کی حدیث سے متعلق گزر چکا کہ وہ صحیح محول ہے اس کی دلیل یہ کہ اس میں بالغ عورت

کا ذکر ہے۔ اس بناء پر جس طرح ناپیانا اوراس جیے (معذور) کواسے خاص کیا گیا ہے۔ کسب نہ کر سکنے والے فقیر کو بھی

خاص کیا جائے گا۔ (ماخذ ازعمدة الرعاية، مرقات، فتح القدير)

ایک زمین میں دو قبلہ درست نہیں 7 اورمسلمان پرجزیہ بھی -8(احمد، البوداور)

قوله: لا تصلح قبلتان فی ارض واحدة الخ (ایک زمین میں دوقبلہ درست نہیں ہے) حاشیہ میں لخ

س منقول سے ظاہربات پیہ کہ ریگی جمعی خصیصہ اورمومن کوسز مین کفر میں قیام پذیرہوئے منع کرنامقصود ہے یا حکام

کواسبات سے منع کرناسے کروہ ذمیون کومسلمانوں کے ملک میں شعار کفر ظاہر کرنے کی قدرت دی -(بذلا کہو ر)

صاحب مرقات نے کہاہے۔ تو رپشتی رحم اللہ نے کہا کراکی زمین میں دوویں غلباؤربرابری کے ساتحقاق تمثیل

رسکے _ البتہ مسلمان کے لے کافرون کے درمیان سکونت اختیار کرنا درست نہیں ہے کیونکہ مسلمان آگر اپیا کرے تو گویا

اس نے اپنآ پکوان کے درمیان اس مقام پر لاکطرآ کیاہے جوہمارے درمیان ذی کامقام ہے-

اوراس (مسلمان) کے لے مناسب نہیں کراپنی طرف ذات کو چٹخ لائے اوران لوگول کی علامت اختیار کرے

جن پرجزیہ مقرر کیاگیاہے اوراس کے لے ذات وحقارت کیوکرہوسکتی ہے ججب کرعزت تو اللہ تعالی اوراس کے رسول

کے لے اورمومنون کے لے ہی ہے-

البتہ جس کا نہیب دین اسلام کے خلاف ہوتو اس کوجزیہ کی ادائیگی کے ذریعےءی دارالاسلام میں قیام کی

گنجائش دی جاسکتی ہے پھر جی اس کوالے نہیب کی نثر واشا عت کی اجازت نہیں دی جائے گی _ اور کہاگیا کراس حدیث

شریف میں یہود ونصاری کوجزیہ عرب سے تکال دین کی طرف اشارہ ہے-

ابن الملک رحم اللہ نے کہاہے یعنی مسلمان اور کافر کا جزیرہ العرب کے کسی ایک شہر میں بودو باش اختیار کرنا

درست نہیں ہے _اور کہم جزیہ عرب کے سات حق مخصوص ہے-

قوله : وليس على المسلم جزية الخ (اورمسلمان پرجزیہ نہیں ہے) لیکن جس شخص پرجزیہ مقرر ہے اگر

وہ ایک سال کمل ہو نے کے بعد اسلام قبول کرے تو اس سے جزیہ ساقط ہو جاتا ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی

مجے کہ من اسلم فلا جزیة علیہ" جواسلام قبول کرے تو اس پر جزیہ نہیں ہے-

اس کے سوابنیبن کراملام کے باعث غالی ساقط نہیں ہوتی کیونکہ اس (غلامی) سے ایک معنی حق متعلق ہے جواسلام کی وجہ سے

باطلنہیبن ہوتا اس (حکم سقوط) کوجزیہے مخصوص کیاگیا کیونکہ قرض ضر جات،خراج اوراجرت (اسلام کی وجہ سے اورموت کی وجہ سے بالاتفاق

ساقط نہیں ہوتے _اور رامام شافعی رحم اللہ نے کہاہے جزیا اسلام اورموت کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا کیونکہ وہ مجی ایک قرض ہے اورموت کے

بارے میں مجی بات امام ماک رحم اللہ نے مجی کیے اوریاس لے مجی کر (جزیہ) حفاظت کے اوردارالاسلام میں رباس کے بد لے میں

واجب ہواہے اور کافر کوعصمت وسکونت حاصل ہو نے کی وجہ سے وہ پچڑ مل پچکی ہے جس کاعوض جزیہ ہے لہذا اس (کافر) سے مجی عارضی ثے

کی وجہ سے عوض ساقط نہیں ہوتا _اورتماری دول وہ حدیث شریف سے جس کوتم نے ردوایت کیاہے اوراس لے کر جزیہ اس کے قبل کے بد لے

میں ہے _کیونکہ وہ کفر کی سزا کے بطور واجب ہے _یانصرت ومد کے بد لے کے طور پر اورکفر کی سزا اسلام قبول کرنے کے بعد باقی نہیں رہتا اوراس لے مجی کدونیا میں سزا کامقرر کیا جانا توصرف دفع شر کے لے ہوتاہے اور پر (نصرت پر) قادر ہوچکا

ہوچکاہے اوراس لے مجی کریہمارے حق میں نصرت کے بد لے میں واجب ہے _اوروہ اسلام لا نے کے بعد اس پر (نصرت پر) قادر ہوچکا

سہا وعصمت اس کے آدنی ہو نے کی بناء پر ثابت ہوتی ہے _اور ذمی اپنے نفس کاما لکہوکرہتابہ اس لے حفاظت وسکونت کابل واجب

کرنا کوئی معنی نہیں رہتا اوراس کا مطلب پیہ کزمی اپنے رباش کے مقام کوخرید کریا اس کے سوا دوسرے اسباب کے ذریعہ ماکہ بن سکتا

سہا اس لے اس کے مملوکہ مقام میں رباش کابل واجب کرنا جائز نہیں _(ماخذ از۔ شروح کنز، بذل المجہود، عناوی)

ترمزی اور ابوداود نے کہا سفیان ثوری سے اس کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا تو

انہوں نے کہا جب وہ مسلمان ہو جائے تو اس پر جزیہ لیا جائے گا۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Two qiblahs cannot coexist in one land, (1) and no jizyah is on a Muslim.” (2) [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Tirmidhi]

Abu Dawud said: Sufyan ath-Thawri was asked about its interpretation and said: “If he becomes Muslim, no jizyah is upon him.” At-Tabarani narrated in Al-Mu‘jam al-Awsat from Ibn Umar, from the Prophet (ﷺ): “Whoever becomes Muslim has no jizyah upon him.”

5371

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے

ارشاد فرمايا جو خمس مسلمان ہو جائے اس پر جزیہ لیا جائے۔ (مجمع الوسط للطبراني)

زیاد بن جدیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے عمر بن خطاب

رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "عین التمر" کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لئے روانہ فرمايااور مجھے حکم فرمایا کہ میں

مسلمانوں سے ان کے مالوں میں کاچاپیسوال حصر وصول کروں 9جب کہ وہ تجارت کے لئے ان مالوں کو

لاٹے لے جاتے ہوتے اور ان ذمہدار کے اموال سے پیسوال حصر اور حرج پول کے اموال سے دسوال حصر وصول کروں -

اس کی روایت امام محمد بن حسن نے کتاب الثاریب اور محمد عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں کی ہے-

اور امام طبرانی نے اپنی مجتمع الوسط میں اس کی مرفوعاً روایت کی ہے-

اور ملاعلی قاری رحمہ اللہ الباری نے کہاہے عقیدہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث اُن آبوا أن لا تأخذوا

کرہا فخذوا،(اگروہا نکار کریں زبردستی لینے کے سوا کسی طرح صورت سے تو تم ان سے لو 10

Ziyad ibn Jadir narrated: Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) sent me to Ayn at-Tamr as a collector, ordering me (1) to take from Muslims’ trade wealth a quarter of a tenth, from dhimmis’ wealth half a tenth, and from the enemy’s wealth a full tenth. [Narrated by Muhammad ibn al-Hasan in (Kitab al-Athar) and Abdur-Razzaq in his Musannaf; At-Tabarani narrated similarly in Al-Mu‘jam al-Awsat, attributed to the Prophet]

Ali al-Qari (may Allah have mercy on him) said: The Hadith of Uqbah ibn Amir, “If they refuse, take it by force,” (2) was in early Islam. Taking the specified amount from transferred wealth by force was among punishments abrogated by the obligation of zakat.

5373

9قولہ: فامر نی ان الخذ من المسلمين الخ (اور مجھے حکم فرمایا کہ میں وصول کروں)تجارتنی اموال کے

بارے میں کچھ بات نہ ہے بلکہ مقرر ہے کہ حری کے مال سے دسوال حضر اور ذمی سے پیسوال حضر لیا جائے گا۔اور

مسلمان سے پیسوال حضر لیا جائے گا، ان شرائط کے ساتھ جو کتاب الزکوۃ میں ذکور ہیں۔اور پی تفصیل عمر رضی اللہ عنہ

سے مروی ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کے مجموعہ میں اپنے معامل کو بیان کیا کہ فرمایا تھا پھر جوز کو ةمسلمان سے لی جائے گی وہ

اس کے مصارف میں خرچ کی جائے گی جیسا اور جوز میں سے لی جائے گی وہ زکوۃ نہیں ہے۔اس کو جزیہ وخرجان کے مصرف میں

خرچ کیا جائے گا۔اور حری سے لے جانی والی چیز کا حکم جیسے ایسے ہے۔بلکہ ان دونوں سے حفاظت کی غرض سے لیا جائے گا

جو جیسا کہ پناپی میں ہے۔( ماخوذ از: مرقات وعمدة الرعاية )

قولہ: ان أبوا أن لا تأخذوا کرها فخذوا...... الخ (اگروہا زبردستی لینے کے سوا کسی طرح صورت

سے انکار کریں تو ان سے لو)صاحب مرقات نے کہاہے کہ ابتداء اسلام میں تھا کیوںکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوجون کو

غزو کے لئے روانہ فرما تے، وہ اپنے راستوں میں عرب کے قبیلوں سے گزر رہے تھے اور کوئی بازار نہیں ہوتا کہ اس سے غلم

خریدیں اور نہ ان کے پاس کوئی توشر ہوتا ہے جو اس کی ضیافت کو ان پر واجب قرار دیا تا کہ پیلوگ جنگ سے منقطع نہ

ہو جائیں پس جب اسلام قوی ہوگیا اور لوگوں کے ساتھ مہربانی وشفقت کا غلبہ ہوا تو اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اور جواز و

استحباب باقی رہا۔

پر حکم ابتداء اسلام میں تھا اور جتن لوگوں کے پاس انترے میں ان کے مال میں سے زبردستی مہمانی کی مقدار لینے کا حکم ان عقوبات میں سے تھا جو جوب زکوۃ کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہیں -

Ziyad ibn Jadir narrated: Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) sent me to Ayn at-Tamr as a collector, ordering me (1) to take from Muslims’ trade wealth a quarter of a tenth, from dhimmis’ wealth half a tenth, and from the enemy’s wealth a full tenth. [Narrated by Muhammad ibn al-Hasan in (Kitab al-Athar) and Abdur-Razzaq in his Musannaf; At-Tabarani narrated similarly in Al-Mu‘jam al-Awsat, attributed to the Prophet]

Ali al-Qari (may Allah have mercy on him) said: The Hadith of Uqbah ibn Amir, “If they refuse, take it by force,” (2) was in early Islam. Taking the specified amount from transferred wealth by force was among punishments abrogated by the obligation of zakat.