امن دین کا بیان
The Pillars of Faith
کے موقع بر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہوئے پانی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ کے لے آپ پر پڑھی ہوئی تحسین میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمایا: ام بائی کو خوش آمدید پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمایا: اور آٹھ (8) رکعات نماز پڑھے، 1 ایک گھڑی پڑھی ہوئے 2 گھڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہاپہ کروہ ایک آدمی جسے سمیر ہے فلال
عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخدم أم بنت أبي طالب رضي الله تعالى عنهما - وكانت قد أسلمت - وكان النبي صلى الله عليه وسلم يكرمها ويقول لها : ماذا تريدون؟ فقلت : يا رسول الله ! إن لي حاجة في أم بنت أبي طالب رضي الله تعالى عنها، فقال : وما حاجتك فيها؟ قلت : يا رسول الله ! إني أريد أن تأمرني أن أصوم ثمانية أيام من كل شهر، فأمرني أن أصوم يومين من كل شهر .
اور آٹھ (8) رکعت نماز پڑھے، 1 ایک گھر پیچھے ہوئے 2 چھرا پیشہ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری مال کے بیٹے نے کہاہے کروہ ایک آدمی لیجنہمیرہ کے فلاں
بھی کو جس کو میں پناہ دی بے تم نے اس کو پناہ دی، 3 ام بائی نے کہا: اور پچاشت کا وقت تھا - (متفق علیہ)
نے جس کو پناہ دی بے تم نے اس کو پناہ دی، 3 ام بائی نے کہا: اور پچاشت کا وقت تھا - (متفق علیہ)
He to whom I have granted asylum, you have also granted asylum, Umm Habibah (RA) said: and it was the time of prostration - (Agreed upon)
1قولہ: قام یصلی ثمانی رکعات (کہرے ہوئے اورآٹھ رکعات پڑھے) لہیچا ششت کی نماز اور صاحب درختار نے کہا قول تے کے مطابق چار رکعات یااس سے زائد چاشت کے وقت میں مستحب میں اس کا وقت طلوع سے زوال تک ہے اور اس کا وقت مختار دون کا چوہائی حضرت نے کے بعد ہے اور منی میں سے اس کی کم از کم دو رکعتیں یہ اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں یہ اور ان میں بہتر آٹھ رکعتیں یہ اور میں افضل سے جسیا کہ زخاتراشر فی میں ہے اور یحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے ثابت ہوئے کی بناء پر ہے اور زیادہ جو تعداد ہے وصرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول مبارک کی بناء پر ہے اور یہ سب اس وقت سے جب کروہ اکثر (بارہ رکعات) کو ایک سلام سے پڑھنا چاہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کے قرب وہ عید جوزیادہ ہوافضل سے۔ (شرح البخاری، ابن حجر)
قولہ: ملتحفا فی ثوب (ایک گھڑی پڑھی ہوئے) اس سے معلوم ہوتا ہے کر ایک گھڑی میں نماز پڑھنا جائز عظیم اور امام طحاوی نے فرمایا کہ امام اعظم ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے صاحب عرف شنزی نے کہا ہے کر باب کا خلاصہ یہ جسیا کر امام طحاوی نے فرمایا شارع علیہ السلام کی غرض یہ کہ کچھ الکتا ہوانہ ہو اگر وہ زیادہ چوزا سے تو اس کو لپیٹ لے اور اس کو مخالفہ بین الطرفین "(دونول کنارول کورو مخالف جانب پروا) اور التاف واشتمال کیتے جیں اور وہ کم چوزا ہو تو گردی پرگردی لگائے۔ ورنہ تہیبد باندھ لے پھر احتیاط نے صراحت کی ہے کر اشتمال صماع لیجنی یہودی طرح ایک گھڑی میں (اس طرح لپیٹ لے کہ باٹھ کپڑے سے باہر نکالنا و شوار ہو) کروہے، اور دو کپڑے ہوئے تو اس میں کوئی حرکت نہیں ہے۔
۔ اور ترنڈی کی ایک روایت میں بے انہول نے کہا میں نے اپنے شوہر کے رشتے دارول میں
ست دوآ دیوال کوامن دیاہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جس کوامن دیاہے تم نے اس کوامن دیاے
And in one narration from Tarnidi, Bayanul said: I gave some dates to my husband's relative, then the Messenger of Allah ﷺ said: You have given to whom you have given.
۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ عورت قوم کوامن میں لے سکتی ہے جتنی مسلمانول کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے - (ترنڈی)
اور شاخ ابن همام نے فرمایا: ایسے غلام کا امان وینا جس کو (تصرف سے) روک دیا گیا ہے 4
قولہ: قد اجر نا من اجرت (تم نے جس کوپناہ دی ہے تم نے اس کوپناہ دی) صاحب رحمتار نے کہاہے
کہ تم اس کوقل نہیں کریں گے جس کوکی آزادمردیا آزادعورت نے امن دیاہو، قد اجر نا من اجرت اگرچیکہ وہ
امن دینے والا فاسق ہو یا ناپیما یا بہت، یہ بوڑھا یا وہ پچر یا غلام، یہ کیون نہ ہو اگرچیکہ وہ اس کونہ جانے ہول جب کہ مسلمان اس نے
دی گئی ہے اور ان کا امان دینا کسی زبان میں کچھ کیون نہ ہو اگرچیکہ وہ اس کونہ جانے ہول جب کہ مسلمان اس نے
واقف ہول بشر طیکر وہ مسلمانول نے اس کوستہ ہول پس اگروہ ان نے دوری رہول تو ان کے لے امان نہیں ہے اور
صرتح الفاظ سے کچھ امن درست ہے جسے آمنت (میں نے امان دی) یا لباس علیکم (تم پر کوئی حرج نہیں ہے) اورالفاظ
کناپیے کچھ امان درست ہے جسے تعالی (آؤ) جب کہ وہ اس کوامن سے اورآ سمان کی طرف اگلے سے اشارہ کر کے کچھ ہے
قولہ: لا يصحح امان العبد (ایسے غلام کا امن وینا جس کو (تصرف سے) روک دیا گیا ہے) ان صاحب
مرقات نے کہاہے کر ایسے غلام کا امن وینا جس کوصرف سے روک دیا گیاہے امام اعظم البوحنیفرحم اللہ کے پاس درست نہیں
گمریکہ اس کے ماکے نے اس کو جنگ میں (ثبوت) کی اجازت ہو اور امام محمد رحم اللہ کہتے ہیں کہ درست ہے ہی قول
امام شافعی رحم اللہ کا امام ماکے، امام احمد اور ایک روایت میں امام ابویوسف رحم اللہ کہتے ہیں کہتے ہیں امام اعظم البوحنیفرحم
رحم اللہ کی دلیل اور امام ماکے کی دلیل سے کون نے روایت جوان نے ذکورہ ابن ہمام کی شرح میں تفصیل سے موجودہ آ پ
نے کہا: اور اگر ایسے پچر نے امان دی ہو جو اسلام کونہ تو سمجھتا ہو اور ناس کو بیان کر سکتا ہو، تو اتمہار بھکا اتفاق ہے کریا مان وینا
درست نہیں۔ جس طرح بجنون کا امان وینا درست نہیں۔ اور اگر وہ عقل والا ہے لیکن جنگ سے روک دیا گیا تو اس میں
اختلاف ہے امام اعظم البوحنیفرحم اللہ کے پاس درست نہیں ہے اور امام محمد رحم اللہ کے پاس درست ہے اور امام البوحنیفرحم
رحم اللہ کے قول کے مطابق امام شافعی رحم اللہ نے فرمایاہے اور امام احمد نے کچھ ایک روایت میں کچھ فرمایاہے کیونکہ جسیاس
کا طلاق وینا، غلام کوآزاد کرنا غیر معترف ہے ویسے ایس کا کہنا (لیعنی امان وینا) کچھ غیر معترف ہے اور امام محمد رحم اللہ کے قول کے
مطابق امام ماکے اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایاہے اور اگراس کو جنگ میں شرکت کی اجازت ہے توہمارے تمام اتمہ کے پاس
بالاتفاق جائزہے اور یہ قول امام ماکے اور امام احمد رحمہ اللہ کا ہے۔ اور امان دینے کی تفصیلات کتاب القصاص میں سیدنا علی
رضی اللہ تعالی عنہ سے مرودی حدیث شریف یسےی بذمتهم ادناہم "(مسلمانول کی دی ہولی ذمداری کوان میں کا ادنی
آدمی کچھ پورا کرے گا) کے ضمن میں ذکورہ ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کریں۔ یا سباب کی نفیس بحث ہے۔
امام اعظم البوحنیف رحمہ اللہ کے پاس درست نہیں مگراس کو آقا نے جنگ میں شرکت کی اجازت دی
ہوتی و درست ہے اور امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ (اس کا امن و دینا) درست ہے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: “A woman may grant safety on behalf of the Muslims.” [Narrated by Tirmidhi]
Shaykh Ibn al-Humam said: (4) The safety granted by a restricted slave is invalid per Abu Hanifah unless his master permits him to fight. Muhammad said it is valid.
And Shakh Ibn Humam said: The emancipation of a slave who has been restrained (from action) is invalid. The statement: 'I have not granted him protection' (you have not granted protection to the one you have protected) was said by the Lord of Mercy. He said that you will not be held accountable for the one whom a free man or woman has granted protection, 'I have not granted him protection,' even if the one granting protection is a sinner, a minor, or insane, whether old or young, a slave, or anyone else, regardless of their condition, even if they do not know what they are doing, as long as a Muslim has granted it and is aware of it. If they are unaware, then there is no protection, and explicit words indicating protection such as 'I have granted protection' (Amantu) or 'There is no harm upon you' (Laisa alaykum haraj) are valid. Words like 'Come' (Ta'a) are also valid if they indicate protection and point towards safety. The statement: 'The protection of a slave is invalid who has been restrained (from action)', the scholars of Maraqat said that the protection of a slave who has been restrained is invalid according to Imam Abu Hanifah (RA), unless his master has permitted him to fight in war. Imam Muhammad (RA) said that it is valid. According to Imam Shafi (RA), Imam Ahmad, and one narration of Imam Abu Yusuf (RA), it is invalid according to the opinion of Imam Abu Hanifah (RA) and Imam Muhammad (RA). Ibn Humam mentioned in his commentary that if a minor who understands Islam and can express it grants protection, then all scholars agree that this protection is invalid, just as the protection of an insane person is invalid. If he is sane but restrained from fighting, there is a difference of opinion: it is invalid according to Imam Abu Hanifah (RA) and valid according to Imam Muhammad (RA). According to the opinion of Imam Abu Hanifah (RA), Imam Shafi (RA) said, and Imam Ahmad stated in some narrations, because the divorce of a minor is invalid, and similarly, the emancipation of a slave is invalid, and thus, the declaration of protection (i.e., granting protection) is invalid. According to Imam Muhammad (RA), Imam Maqo (RA), and Imam Ahmad (RA), if he is permitted to participate in war, then all scholars agree that it is valid. This is the opinion of Imam Maqo (RA) and Imam Ahmad (RA). The details of granting protection are mentioned in the book Al-Qisas, in the context of the noble hadith from our master Ali (RA): 'The lowest among Muslims shall fulfill the obligations.' You should read this. It is a precious discussion. According to Imam Abu Hanifah (RA), it is invalid unless the master has permitted him to participate in war, in which case it is valid, and Imam Muhammad (RA) said that (his granting of protection) is valid.
عمرو بن شعیب عن ابی عن جدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے
اپنے خطیب میں ارشاد فرمایا جملہ کہ معابد کو پورا کرو۔ 5 کیونکہ وہ بھی اسلام اس میں مضبوطی کا
یہ اضافہ کرتا ہے اور تم اسلام میں نئے معابد کے مذہب کرو۔ (ترمزی)
Complete the mosques, for they also strengthen Islam, and you should build new mosques in Islam.
عمرو بن حمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ علیہ
وسلم کو فرماتے ہوئے سنایا، جس شخص کی آدمی کو اپنی طرف سے امان دی پھراس کو قتل کر دیا تو
قیامت کے دن اس کو دھوکہ دی کا جزاء اور یاجا لے گا۔ (شرح السنن)
Amr ibn al-Himaq (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever grants safety to a man over his life and then kills him will be given the banner of treachery on the Day of Resurrection.” [Narrated in (Sharh as-Sunnah)]
سليم بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ اور رومیوں کے
درمیان معابد ہووا تھا اور وہ ان کے ملک کی طرف جارہے تھا کہ معابد ختم ہوئے ای ان برحمہ
کرو ای تو ایک صاحب گھوڑے پر یاتر کی گھوڑے پرسوار ہوکر آ گے اور وہ کہہ رہے تھے اللہ اکبر!
اللہ اکبر! ایف اء عہد کرنا وصو کہ نہیں دینا، لوگوں نے دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ تھا اور جب معاویہ نے
اس سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنایا کہ جس شخص کا اپنا اورسی قوم کے درمیان معابدہ ہوتی ہے معاہدہ کو برگز نہ توڑنے اورنہ
اس کو باندھے پیحال تک کر اس کی مدت ختم ہوجائے یا نہ کے ساتھ اس کو برائی پرتم کر دیاجائے
تو انہوں نے لیجن راوی نے کہا پس معاویہ لوگوں کو والپس بلالیا (ترمزی، البوداود)
Sulaym ibn Amir narrated: There was a treaty between Mu‘awiyah and the Romans. He marched toward their land, intending to attack them when the treaty expired. A man on a horse or mule came, saying: “Allah is Greater, Allah is Greater, fulfillment, not treachery.” (2) They looked and saw it was Amr ibn Abasah. Mu‘awiyah asked him about it, and he said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever has a treaty with a people must not dissolve or tighten it until its term expires or he renounces it openly.’ Mu‘awiyah returned with the people.” [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
5قولہ: اوفوا بحلف الجاهلية (جاپیت کے معابد کو پورا کرو) اس سے مراد وہ معابد ہیں جو
اسلام کے موافق ہوں، مختلف نہیں اور اس کے لے حضرت علی والاصلاۃ والسلام کا ارشاد فانہ لا يزيده الا شدة
(اسلام اس کی مضبوطی کو اور زیادہ کردیتا ہے) دیلے ہے اور جس کی نہی کی گئی ہے وہ، وہ معابد ہیں جو اصول اسلام
کے خلاف ہیں۔ یا یک آ پا عیسی کے ارشاد لا تحدثوا، (نئے معابد کے مذہب کرو) میں جومعانے سے اس معنی میں
ہے کہ ان (نئے معابد کو) کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام بھیگر کی معابد کے کچھ مسلماں کے درمیان ایک
دورسرے کی مدد کو اجب قرار دیتا ہے۔ (کوکب دری) اور کتاب نہایت میں ہے کہ حلف دراصل ایک دورسرے کی مدد اور
تعاون کا معابد ہے۔ اور حضرت علی علیہ وسلم نے اپنے ارشاد لا حلف فی الاسلام، (اسلام میں معابد نہیں
ہیں) کے ذریعہ جاپیت کے ان معابد کو منع فرمایا ہے جو (قبائل کے درمیان) فتنوں اور جنگ و جدال کرنے کے
لیے کے جاتے تھا اور جاپیت کے وہ معابد کے جو مظالم کی مدد اور صلح تھی و غیرہ جیسے ہوتے تھا وان کے بارے میں
حضرت علی علیہ وسلم کا ارشاد ہے جاپیت میں جو کوئی معابد تھا اسلام اس کی مضبوطی کو اور زیادہ کردیتا ہے۔ (مرقات)
قولہ: وفاء لا غدر (ایف اء عہد کرنا، وصو کہ نہیں دینا) عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس کو ناپسند کیا تو اس کی وجہ یہ کہ جب ان
سے ایک مدت کے لے آدمی اپنے مقام میں رہے کرے تو اس مقررہ مدت کے دوران دشمن کی طرف چلانا کچھ اس مدت کے ختم میں شارکیا
جانے کا جس میں جنگ نہ کرنے کی شرط ہے۔ پس اس روح کی مدت میں جب ان کی طرف پیش قدمی کرے گا تو جس مدت کے لے
انہوں نے دشمن کی طرف جانے کرنا متصور تو گا اس لے کو غم و رضی اللہ نے وصو کا شارکیا لیکن سے کر نے والے اگر سے کو توڑ دیں
اس طرح کرانے خیانت نظارہ ہوئی تو سلطان کوال کی غفلت کے موقع پر ان کی طرف پیش قدمی کر نے کافی حاصل ہے۔
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں روانہ کیا پس جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں
اسلام و الدياگیا پس میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (علیہ) ! خدا کی قسم میں ان کی طرف مجھے نہیں
جاوں گا آپعلیہ نے فرمایا میں عہد شکن نہیں کرتا 7اور قاصد کو نہیں روكتا لیکن یہ تم واپس جانا اور
اگر تمہارے دل میں ہوئی بات ہوگی جواب سے تو تم واپس آنا انہوں نے کہا میں واپس گیا اور پھر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف پر اسلام ہوا (ابوداود)
Abu Rafi‘ (may Allah be pleased with him) narrated: Quraysh sent me to the Messenger of Allah (ﷺ). When I saw him, Islam was inspired in my heart. I said: “O Messenger of Allah, by Allah, I will never return to them.” He said: “(1) I do not break a covenant or detain messengers. Return, and if what is in your heart now remains, come back.” I went, then returned to the Prophet (ﷺ) and embraced Islam. [Narrated by Abu Dawud]
نعمم بن مسعور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ان دو اشخاص سے جو مسلمہ کے پاس سے آئے تھے فرمایا: سنو! خدا کی قسم اگر یہ بات نہ ہوتی کر
قاصدون کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردان مار دیتا۔ 8(احمد، البوداود)
Nu‘aym ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to two men sent by Musaylimah: “(2) By Allah, were it not that messengers are not killed, I would have struck your necks.” [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]
ابن مسعور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے کہ مسلمہ کے دونوں قاصد ابن
نواحم اور ابن اثال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپعلیہ نے ان دونوں
سے کہا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو ان دونوں نے کہا ہم
گواہی دیتے ہیں کہ مسلمہ اللہ کا رسول ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایمان لااللہ پر،
اس کے رسول پر اگر میں کسی سفیر کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔
عبد اللہ نے کہا: پس سنت اس بات پر جاری ہوتی ہے کہ سفیر کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (احمد)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: Ibn an-Nawwahah and Ibn Athal, messengers of Musaylimah, came to the Prophet (ﷺ). He said to them: “Do you bear witness that I am the Messenger of Allah?” They said: “We bear witness that Musaylimah is the Messenger of Allah.” The Prophet (ﷺ) said: “I believe in Allah and His Messengers. If I were to kill messengers, I would have killed you both.” Abdullah said: Thus, it became established that messengers are not killed. [Narrated by Ahmad]
7قولہ: انی لا اخیس بالعهد (میں عہد شکن نہیں کرتا) اس میں یہ بات ہے کہ فرول کے ساتھ مجھی عہد
کی پاسداری ایسے کی جائے کی جسے مسلمانوں کے ساتھ کی جائے۔ (مرقات)
قولہ: لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما (سنو! خدا کی قسم اگر یہ بات نہ ہوتی کر قاصدون کو قتل نہیں
کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردان مار دیتا) شوکا نی نے کہا ہے کر دونوں حدثین والہت کرتی ہیں اس بات پر کفر کی جانب سے
آئے والے سفیر دونوں کو قتل کرنا حرام سے اگر پچھیلے حاکم کے سامنے اور مسلمانوں کے سامنے وہ کفر کی بات بولیں کیونکہ سفارت
کا تقاضہ ہے کہ وہ جواب دیا جائے جوسفیر کے ذریعہ پنچ توگو ایسی مجھی معابدہ کے درجہ میں ہے۔ (بذل الجہود)