Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ حُكْمِ الْأُسَارَى

The Ruling on Captives
Volume 7 · Jihad

قیدیوں کے حکم کا بیان

The Explanation of the Ruling on Prisoners

فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم س تم مشركو كو بحالت جن ج ا او ل كرو سور توب ايت نمبر

5284

- ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عناہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللّٰہ داس قوم سے خوش ہوتا ہے جو جنت میں بھٹ پول میں لاٹ جائے۔گئ اورو ہ جنت میں داخل ہون لگے۔

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

Allah is pleased with the people who, when they enter Paradise, slip and fall into the river of Paradise, and then begin to enter it.

5285

جاۓ گا۔(بخاری)

سلم بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا جب کرا پعلوسة سفر مین تھ - پس وهآ بعلويسة کے صحابے کے پاس باٹ کرتے ہوئے پھڑگيا -چهر واپسچلاگيا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفرماياسكو تلاش كرواور اس كوتلل كرو-۲پس مین اسكوتلل کروا-چهرآ بعلويسة نمجحواسكاسلبد(مقتو لكامل)

عطا فر ما یا -3 (متق علیہ)

ہم کہتے ہیں کہ یہ تخفیل (مال عطا کرنا) ایک مرتبہ کا واقعہ ہے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) پاس

شرعاً کوئی لازی عالم حکم نہیں۔

اوراہی سے روایت ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن

سے جنگ کی۔ پس تم چاہتے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرام کر رہے تھے کہ

ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اس کو بھجا دیا۔ اور نظر دوڑا نے لگا۔ اس وقت تم میں کمزوری و ناتوانی

تھی جب کہ تم میں سے بعض پیدل آئے تھے۔ پھر وہ شخص حمل کرنے نکل پڑا اور اپنے اونٹ کے

پاس آکر اس کو برانجیت کیا۔ جس کی وجہ سے اونٹ حمل آور ہوا۔ پھر میں مجھی حمل کرتے ہوئے نکلا

پیشان تک کہ میں نے اس کے اونٹ کی لگام پکڑ کر اسے بھجا دیا۔ پھر میں تلوار نکال کراس آدمی کی

گردان مار دی۔ اور اونٹ کو باکثت ہوئے لے آیا۔ جس پر کجاوا اور تحقیار تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم اور لوگوں نے میرا استقبال کیا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا آدمی کوسے قتل کیا؟ لوگوں نے

...... وہ جاسوسی میں معروف ہوجا نے تو قتل کر دیا جاتے گا ورنہ اس کو تادیبی سزا دی جاتے گی۔

اب رپادار لحرب کے حری کا حکم کر آگروہ بغیر امان کے دارالاسلام میں آ جاتے تو اس کا کیا معاملہ ہوگا، آیاس کو

قتل کیا جاتے گا یا نہیں؟ پس اس میں اتمکا اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ماکفرماتے ہیں کر اس کے بارے میں امام کو

اختیار ہے اور ایسا شخص حری کے حکم میں ہے۔ اور امام اوزاعی و شافعی فرماتے ہیں کہ آگروہ اپنے قاصد ہوئے نکا دعوی

کرے تو اس کو قبول کر لیا جاتے گا اور امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام احمد رحمهم اللہ فرماتے ہیں کر اس کی بات کو قبول

نہیں کیا جاتے گا۔ اور وہ تمام مسلمانوں کے حق میں فیقی (مال غنیمت) ہے۔ اور امام محمد کا قول ہے کر وہ اس کا شخص کا

مملوک ہے جس نے اسے پالیا (عمدۃ القاری)

قولہ: فنفلنی سلبه (پھرا پعلیہ) نے مجھ کواس کا سلب عطا فر ما یا) امام نووی کہتے ہیں کر اس حدیث میں

امام شافعی رحمہ اللہ اور آپ کے مواقین کے ذہب کی واضح ویل ہے کر اس کو قتل کر نے والا اس کے سلب کا حقدار ہے۔

اس کو نس (مال کا پچوال حضر) نہیں دیا جاتے گا۔ اور فتاوی عالمگیری میں ہے کر قتل کر نے والا شخص قتل کی وجہ سے مقتول

کے سلب کا مستحق نہیں ہوسکتا جب تک کر امام قتل سے قبل ہی اس کے لے تخفیل کا اعلان نہ کیا ہو۔ چنانچہ وہ کہے گا۔ میں

قتل قتیلا فله سلبه (جو کوئی کسی کو قتل کرے گا تو اس کے لے اس کا سلب ہوگا۔ اور پیغمبر علیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رحمہ اللہ کا

ذہب ہے۔ اہ

اور جن احادیث کو ثابت بنہمام نے ذکر کیاہے ان میں ہمارے ذہب کے واضح دلالت ہیں۔ آگرآپ ان سے

واثقیت چاہتے ہیں تو اللہ القدیر اور بنایی طرف رجوع کریں۔

کہا ابن اکوع نے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس کا تمام سلب اس کے لئے ہے (متفق علیہ)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

جاۓ گا۔(بخاری)

5286

عطا فر ما یا -3 (متق علیہ)

ہم کہتے ہیں کہ یہ تخفیل (مال عطا کرنا) ایک مرتبہ کا واقعہ ہے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) پاس

شرعاً کوئی لازی عالم حکم نہیں۔

We say that this distribution (of wealth) is a one-time event and the Prophet ﷺ did not establish any perpetual legal obligation for it.

سلم بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا جب کرا پعلوسة سفر مین تھ - پس وهآ بعلويسة کے صحابے کے پاس باٹ کرتے ہوئے پھڑگيا -چهر واپسچلاگيا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفرماياسكو تلاش كرواور اس كوتلل كرو-۲پس مین اسكوتلل کروا-چهرآ بعلويسة نمجحواسكاسلبد(مقتو لكامل)

قولہ : فاقتلوالمشركين (پس تم مشركن قتل كرو) ان عمد القاري يمين بهكمفسرين او رحمدين كالسل بار لمين كوتي اختلاف نييين كسورة براءت كانزول سورهمجد كبعدهوا بهجسس يثابت هوتا بهكالسوره (براءت)مين حوكم ذكوربهوهاسكعلاودوسرسورهمينذكورفديكهحكمكاناتخ به-
قوله :اطلبهواقتلو الخ (نبي اكرم صلى الله عليه وسلم نفرماياسكو تلاشكرواوراسكتلل كرو)اسميين حرليجاسوسكتللكرنينكيويلهاوراسيپراجعىبه البترمعابدهكيهوءاورزينجاسوسكبريمنامام ماكلاوراماماوزاعيرحماللهفرماتېبينكدوهعمدتؤرنوالاقرارپانغالهزاماماگراسكوغلامبناناچايتوغلام بنانلغاوراسكتللكرناجيچاجاتزبهاورجمهوعلمايكپاسبجاستساسكرعبدينلوطقبمربيكسپرجاستي كيزريعمهدكلوطجانكيشرطالكانيغيهوءابرمامسلمانجاسوستواماماعظمبوحنيفعامامشافياوربعضمالكيع كلپاسبكومامي رائيكمطابقتقلكسواكونيتاويسيزاويجاستيهاوراماماكلرحماللهقاتولبهكامام اسمكبريمنغوروخصكرىغالاورقاضيعياضرحماللهنكياهبكربارماكنياسمكتللكرنينكتقلمين توبيجبءاسمكو(تاويسيزا)كونزكرينميختلافبهچنانچمحرضمشونكيتيهيكداغر......
5287

اوراہی سے روایت ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن

سے جنگ کی۔ پس تم چاہتے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرام کر رہے تھے کہ

ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اس کو بھجا دیا۔ اور نظر دوڑا نے لگا۔ اس وقت تم میں کمزوری و ناتوانی

تھی جب کہ تم میں سے بعض پیدل آئے تھے۔ پھر وہ شخص حمل کرنے نکل پڑا اور اپنے اونٹ کے

پاس آکر اس کو برانجیت کیا۔ جس کی وجہ سے اونٹ حمل آور ہوا۔ پھر میں مجھی حمل کرتے ہوئے نکلا

پیشان تک کہ میں نے اس کے اونٹ کی لگام پکڑ کر اسے بھجا دیا۔ پھر میں تلوار نکال کراس آدمی کی

گردان مار دی۔ اور اونٹ کو باکثت ہوئے لے آیا۔ جس پر کجاوا اور تحقیار تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم اور لوگوں نے میرا استقبال کیا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا آدمی کوسے قتل کیا؟ لوگوں نے

...... وہ جاسوسی میں معروف ہوجا نے تو قتل کر دیا جاتے گا ورنہ اس کو تادیبی سزا دی جاتے گی۔

اب رپادار لحرب کے حری کا حکم کر آگروہ بغیر امان کے دارالاسلام میں آ جاتے تو اس کا کیا معاملہ ہوگا، آیاس کو

قتل کیا جاتے گا یا نہیں؟ پس اس میں اتمکا اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ماکفرماتے ہیں کر اس کے بارے میں امام کو

اختیار ہے اور ایسا شخص حری کے حکم میں ہے۔ اور امام اوزاعی و شافعی فرماتے ہیں کہ آگروہ اپنے قاصد ہوئے نکا دعوی

کرے تو اس کو قبول کر لیا جاتے گا اور امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام احمد رحمهم اللہ فرماتے ہیں کر اس کی بات کو قبول

نہیں کیا جاتے گا۔ اور وہ تمام مسلمانوں کے حق میں فیقی (مال غنیمت) ہے۔ اور امام محمد کا قول ہے کر وہ اس کا شخص کا

مملوک ہے جس نے اسے پالیا (عمدۃ القاری)

قولہ: فنفلنی سلبه (پھرا پعلیہ) نے مجھ کواس کا سلب عطا فر ما یا) امام نووی کہتے ہیں کر اس حدیث میں

امام شافعی رحمہ اللہ اور آپ کے مواقین کے ذہب کی واضح ویل ہے کر اس کو قتل کر نے والا اس کے سلب کا حقدار ہے۔

اس کو نس (مال کا پچوال حضر) نہیں دیا جاتے گا۔ اور فتاوی عالمگیری میں ہے کر قتل کر نے والا شخص قتل کی وجہ سے مقتول

کے سلب کا مستحق نہیں ہوسکتا جب تک کر امام قتل سے قبل ہی اس کے لے تخفیل کا اعلان نہ کیا ہو۔ چنانچہ وہ کہے گا۔ میں

قتل قتیلا فله سلبه (جو کوئی کسی کو قتل کرے گا تو اس کے لے اس کا سلب ہوگا۔ اور پیغمبر علیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رحمہ اللہ کا

ذہب ہے۔ اہ

اور جن احادیث کو ثابت بنہمام نے ذکر کیاہے ان میں ہمارے ذہب کے واضح دلالت ہیں۔ آگرآپ ان سے

واثقیت چاہتے ہیں تو اللہ القدیر اور بنایی طرف رجوع کریں۔

کہا ابن اکوع نے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس کا تمام سلب اس کے لئے ہے (متفق علیہ)

Salamah ibn al-Akwa‘ (may Allah be pleased with him) narrated: We went with the Messenger of Allah (ﷺ) against Hawazin. While we were eating with the Messenger of Allah (ﷺ), a man came on a red camel, dismounted, and looked around. Among us were weak and soft people at the rear, some on foot. He hurriedly went to his camel, spurred it, and it ran off. I chased him, caught the camel’s reins, made it kneel, drew my sword, and struck the man’s head. I brought the camel, with its saddle and weapons, leading it. The Messenger of Allah (ﷺ) and the people met me, and he said: “Who killed the man?” They said: “Ibn al-Akwa‘.” He said: “All his spoils are for him.” [Narrated by Bukhari and Muslim]

5288

الوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے کہ جب بنو قریظہ سعد بن معاذ

کے فیصلے کے لئے تیار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں) بلا کہیا تو وہ دراز گوش

پر (گدھا) آئے۔ پھر جب وہ قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايتم اپنے سردار

کے لئے کہرے ہو جائیں۔ پس وہ آگے بڑھنے کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايادیحو! یلوگ

تمہارا فیصلہ میں تیار ہیں۔ 5 انہیول نے کہا: پس میں پی فیصلہ کرتا ہوں کہرے نے کے قابل جماعت کو

قولہ: قوموا الی سیدكم الخ (تم اپنے سردار کے لئے کہرے ہو جاؤ) رد اختار میں ہے کہ آنے والے کی

تعظیم کے لئے کہرے ہونا چاہیے، بلکہ مستحب ہے بثر طیب وہ تعظیم کا مستحق ہو کتاب "تقیہ" میں ہے مسجد میں جائے

ہوئے شخص کا اور قرآن کی تلاوت کرنے والے کا، جس آنے والے کے لئے تعظیماً قیام کرنا کروہیں میں ہے جب کروہ قابل

تعظیم ہوئے۔ اور "مشکل الاشار" میں ہے کسی کے لئے قیام کرنا بذات خود کروہیں میں ہے البتہ جس آدمی کے لئے قیام کیا

جارہا ہے اس کا قیام کو پسند کرنا بلاشبہ کروہے ہے۔ لہذا اگر کوئی کی ایسے شخص کے لئے قیام کرنے کے جس کے لئے قیام کیا

جارہا ہے، تو یہ کروہ نہ ہوگا۔ ابن وصبان نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ ہمارے زمانے میں قیام مستحب ہے۔ اس لئے کہ

اس کو ترک کرنے سے کیسے، بعض اور دمشقی پیراہوتی ہے، خصوصاً اس مقام پر جہاں قیام کا روایج پڑگیا ہو اور اس بارے

میں جو عیادتی ہے وہ اس شخص کے حق میں ہے جو اپنے سامنے کہرے رہنے کو پسند کرتا ہے جسیا کہ ترک اور جمی لوگ کیا

کرتے ہیں۔ اہ

میں کہتا ہوں کتاب "عمایی" وغیرہ میں حضرت حکیم ابوالقاسم رحم اللہ تعالیٰ جو عمل ثابت ہے وہ اس قول کی تائید کرتا

ہے کہ ان کے پاس جب کوئی دولت مند آتا تو اس کے لئے کہرے ہوئے اور اس کی تعظیم کرتے لیکن ترک وستولی اور

طالبان علم کے لئے نہیں کہرے ہوئے۔ ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہیول نے کہا دولت مند مجھے تعظیم

کی امید رکھتا ہے۔ پس اگر میں ایسے کرول تو اس کو میں پچھگی اور فقراء اور طلبہ کو صرف سلام کے جواب اور علمی گفتگو کی

خواہش ہو اکرتی ہے۔ (اس کی تمام تفصیل رسالہ الشریعت میں موجود ہے۔)

قولہ: ہؤ لا نزلوا علی حکمک الخ (دیکھو یلوگ تمہارے فصل میں پرآمادہ ہوئے ہیں) اس

حدیث میں مسلمانوں کے اموراوران کے برے برے اہم اہم معاملات میں حکم کو مقرر کرنے کا جوازہ و نیز اس پر جو

علماء کا اجماع ہے اور اس بارے میں سوالے خوارج کے کسی کا اختلاف نہیں کر انہیول نے سیدنا علی کرم اللہ و جہہ کے حکم

بنے پر اعتراض کیا تو سیدنا علی نے ان کے خلاف جہت قائم فرمایا۔ امام نووی نے ایسا کیا ہے۔ (عمدۃ

القاری، بہاپی)

قتل کر دیا جاتے - 6 اور ان کی ذریعت (پچول اور عورتوں) کو قیدی بنالیا جاتے - آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں تم نے ان کے بارے میں فرشتے کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیاے -

Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: When Banu Qurayzah surrendered to the judgment of Sa‘d ibn Mu‘adh, the Messenger of Allah (ﷺ) sent for him. He came on a donkey, and when he approached, the Messenger of Allah (ﷺ) said: “(1) Rise to your leader.” He sat, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: “(2) These people have surrendered to your judgment.” He said: “(3) I rule that their fighters be killed and their women and children be taken captive.” He said: “You have judged them with the judgment of the King.” In another narration: “With the judgment of Allah.” [Narrated by Bukhari and Muslim]

5289

عن عطیہ القرظی رضی اللہ تعالیٰ عنه رواہ کہ میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا۔

·

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

5290

بھی کو نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چیش کیا گیا۔ پس مسلمانوں کی طرف تھا اور جس کو بالا آگے جائے اس کو قتل کر دیا جاتا۔ اور جس کو نہ آگے جاؤں اس کو قتل نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ ان لوگوں نے میرے زیر نظر حصر کو کولا تو اسے بال ناگا ہوا پائے (وہ بال نہیں آئے تھے) اسذا اس کے قیدیوں میں رکھ لیا۔ (ابوداوود، ابن ماجہ، وارمی)

6قولہ: فانی احكم ان تقتل المقاتلة الخ (میں یفیصل کرتا ہوں کہ نے کے قابل جماعت کو قتل کر دیا جائے) "ہدایت" میں ہے اور اس (امام) کو قیدیوں کے بارے میں اختیار ہے کہ اگروہ چاہے تو انہیں قتل کر دے۔ علامہ ابن حمام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ مسلمان نہ ہوئے ہوں، اس لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آله وسلم بعض قیدیوں کے قتل کا حکم فرمایا۔ عقبہ بن الابی معیط وغیرہ کو قتل کیا گیا۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ ان کے قتل کرنے میں ان کی طرف سے ہوئے دوالے فساد کی پوری طرح نہ کی ہے۔ اور اگروہ چاہے تو انہیں غلام بنالے کیونکہ ایسا کرنے میں مسلمانوں کی بہت سی مصلحتوں کے ساتھ ساتھ کفار کے شرکو دفع کرنے کے اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی غازی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بذات خود کسی قیدی کو قتل کرے۔ کیونکہ اس میں رائے کا حق امام کو ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو انہیں مسلمانوں کے لئے کوئی معابہ کرے انبیا آزاد چھوڑ دے جسیما کہ تم بیان کے میں کر سید ناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشرکین عرب اور مرتدوں کے سوادیہا تیول کے سلسلے میں کیا ہے۔ جب وہ قید کر لئے جا کیں تو ان سے جزیئیات لیا جاتے گا اور نہ ان کو غلام بنانا جائز ہے۔ بلکہ اسلام یا قتل۔ پس اگر قیدی قید کے بعد اسلام قبول کر لیں تو ہم ان کو قتل نہیں کریں گے البتہ ان کو غلام بنانا جائز ہے۔ کفر اصلی (سابق) کی بناء پر کیونکہ مسلمان ہونا غلا می کے منافی نہیں ہے۔ اور اس (اسلام) کا وجود سبب ملک کے پایے جانے کے بعد ہوا ہے۔ اور سبب ملک حری پر غلبہ پانے کے جو عرب کا مشترک نہ ہو۔ اس کے برخلاف اگروہ غرقاری سے قبل اسلام لے آئیں تو ان کو غلام نہیں بنایا جاتے گا بلکہ وہ آزاد ہیں گے۔ کیونکہ وہ سبب ملک کے پایے جانے کے پیلے مسلمان ہو گئے۔ (مرقات)

قولہ: من انبیت الشعر قتل (جس کو بالا آگے جائے ہوں اس کو قتل کر دیا جاتا) علامہ توربشتی نے کہا ہے کہ درحقیقت بالا اگے کا اعتبار ان کے حق میں ضرورۃ حق اس لے کر اگر ان سے احتلام یا سبلوغ کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ سجا لیے۔ بیان نہ کے ہوتے۔ کیونکہ اس میں ان کی بلا کت ہی۔ ورنہ زیر ناف بالا اگے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام ابو یوسف کا اختلاف ہے۔ (مرقات، رواختار)

I rule that those capable of fighting should be killed. This is mentioned in 'Hidayah,' and it is within the discretion of the Imam (leader) regarding prisoners that if he wishes, he may have them killed. Imam Ibn Humam states that this means when they are not Muslims, hence the Prophet ﷺ ordered the execution of some prisoners. For example, 'Uqbah ibn Abi Mu'ayt and others were executed. There is no doubt about this because executing them did not result in any significant harm. If he wishes, he may enslave them, as doing so benefits the Muslims and helps to counter the polytheism of the disbelievers. We say that it is not permissible for any conqueror to kill a prisoner on their own, as the right to decide rests with the Imam. If he wishes, he may ransom them and release them, as was done by Sayyiduna 'Umar ibn al-Khattab (RA) in the case of Arab polytheists and apostates. When they are captured, their details will be taken, and it is not permissible to enslave them; rather, they must be given the choice between Islam or death. If a prisoner accepts Islam after being captured, we will not kill them, although enslaving them is permissible based on their original disbelief, as being Muslim does not preclude enslavement. This situation arises after the conquest of a territory, which is common among Arabs. Conversely, if they accept Islam before the conquest, they will not be enslaved but will be set free, as they became Muslims before the conquest. (Murqat)

I rule that poets who incite against Islam should be killed. Imam Turtushi stated that in reality, the consideration of incitement is based on the necessity of justice, so if they are questioned about sedition or rebellion, they should be punished. Otherwise, there is no consideration for incitement. In this matter, there is a difference of opinion between Imam Shafi'i (RA) and one narration of Imam Abu Yusuf. (Murqat, Riwaihat)

5291

ابن مسعود رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عقرب بن ابي معیط کے قتل کا ارادہ فرمایا تو اس نے کہا پھون کا ضامن کون ہوگا؟ آپ علیہ صلی اللہ نے فرمایا آگے - (ابوداود)

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to kill Uqbah ibn Abi Mu‘ayt, he said: “Who will look after my children?” He replied: “The Fire.” [Narrated by Abu Dawud]

5292

آپ علیہ صلی اللہ نے پر دومرتہ فرمايا - (بخاری)

ابن عمر رضی اللہ تعالی عمنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن وليد کو قبیلہ بنو جذیمہ کی طرف روانہ فرمایا تو انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ پھر ان لوگوں نے صاف طور پر اسلام نا (تم نے اسلام قبول کیا) نہیں کہا بلکہ وہ کہنے لگے 'صبا ناصبا'، تم نے دین بدل لیا، تم نے دین بدل لیا)۔ تب خالد رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو قیدی بنانے اور قتل کرنے کے اور تمام میں سے ہرا دی کواس کا قیدی حوالہ کردیا جہاں تک کہ جس دون خالد رضی اللہ عنہ نے بیکم دیا کہ تمام میں کاہر شخص اپنے قیدی کو قتل کردے تو میں نے کہا جخدا میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور میرے ساتھیوں میں سے کوئی بھی شخص اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ تمام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا ذکر کیا تو آپ علیہ صلی اللہ نے اپنے دونوں دست مبارک اٹھالے اور فرمایا لے اللہ میں تیری بارگاہ میں اس سے برائت اظہار کرتا ہوں جو خالد نے کیا۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (ﷺ) sent Khalid ibn al-Walid to Banu Jadhimah, inviting them to Islam. They did not know how to say, “We have submitted,” and instead said, “We have left, we have left.” Khalid began capturing and killing them, assigning each of us a captive. When the day came, Khalid ordered each man to kill his captive. I said: “By Allah, I will not kill my captive, nor will any of my companions kill theirs.” We came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it. He raised his hands and said: “(1) O Allah, I disassociate myself from what Khalid has done,” twice. [Narrated by Bukhari]

5293

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سوار دول کی ایک جماعت کو نجدر کی طرف روانہ فرمایا۔ تو وہ لوگ بنی حنیفہ کے ایک شخص کو لے کر آئے۔ جس کو ثمامہ بن أثال کہا جاتا تھا اور جوانی میامہ کا مردار تھا۔ پھر انہوں نے اس کو سب کے ایک

ستون سے باندھ دیا۔ لیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟ تو اس نے کہا: اے محمد میرے پاس جلالی ہے۔ اگر آپ قتل کریں تو ایک خون وا لے کوئی کریں گے اور اگر آپ انعام کریں تو ایک شکرگزار پرانعام کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو فرما لیں جتنا آپ پاچائیں میں کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ویسے چھوڑ دیا پیحال تک کر دوم را دن آیا۔ پھر آپ علیہ صلواۃ نے اس سے دریافت فرمایا: اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے؟ تو اس نے کہا میرے پاس وہی ہے جو میں نے آپ سے کہا، اگر آپ انعام کریں تو ایک شکرگزار پرانعام کریں گے اور اگر آپ قتل کریں تو ایک خون وا لے کوئی کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو فرما لیں جتنا چاہیں میں کیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ویسے چھوڑ دیا پیحال تک کر تیسرا دن آیا۔ آپ علیہ صلواۃ نے اس سے پھر دریافت فرمایا: اے

قولہ: فربطوہ بساریة من سواری المسجد (پھر انہوں نے اس کو سجد کے ایک ستون سے باندھ دیا) امام نووی نے کہا ہے کہ اس (حدیث) میں قید ہے کو باندھنے اور اس کو قید میں رکھنے اور کافر کو مسجد میں لا نے کا جواز ہے۔ انتہی اور " تنفع المفتی والسائل"، میں لکھا ہے کہ امام ماکے کے پاس کافر مسیح میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جنابت سے خالی نہیں ہوا کرتا ہے۔ اور جب کی کافر میں داخل ہونا جائز نہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا صرف مسیح حرام میں داخل ہونا جائز نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجدا الحرام بعد عامهم هذا۔ ترجمہ: بلاشبہ مشرك ناپاک ہیں، پس اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پا سکتے (9 سورۃ توبہ، آیت نمبر:28)۔ لیکن اس سال کے بعد جس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے امیر بنے تھے۔ اور سیدنا علی کرم اللہ وجهہ نے سورۃ براءت کا اعلان فرمایا، اور وہ تجرت کا نوال سال سے جسیا کے تفسیر معالم النثر لی میں سے۔ اور ہمارے پاس اس کا کسی محی مسیح میں داخل ہونا جائز نہیں جسیا کے بدایی میں سے کیونکہ ان کے اعقاد کی ناپاکی مسجد کو آلو دہ نہیں کر سکتی ہے۔ اور ان کی جنابت (جسم کی ناپاکی) غیر ظاہر ہے۔ اب رہی آیت تشریفات وہ کفار کے غلبے کے ساتھ داخل ہوئے کی ممانعت پر محول ہے۔ یا پی کہ جا سکتا ہے کہ اس میں مسجد حرام میں طواف کے لیے برہنہ داخل ہوئے سے منع کرنا ہے۔ چنانچہ ان کی عادت تھی کہ وہ برہنہ طواف کرتے تھے، مرد، دل میں اور عورت میں رات میں اور وہ لوگ ہی کیے تھے کہ اس لباس میں کیے طواف کریں جس میں تم گناہ کرتے ہیں۔ یا پی کہ جا سکتا ہے کہ اس آیت سے اس سال کے بعد داخل ہوئے کی حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ موسی کو اس بات کی بشارت دینا مقصود ہے کہ وہ لوگ اس میں داخل ہوئے کی قدرت نہ رہی گی۔ (شرح الوقایہ، بدایی)

ثمامہ تیرے پاس کیا ہے؟ تو اس نے کہا میرے پاس وہی ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ انعام کریں تو ایک شکرگزار پرانعام کریں گے اور آگرآپ قتل کریں تو ایک خون وا لے کو قتل کریں گے اور آگر آپ مال چاہتے ہیں تو فرمائیے جتنا چاہیں چیز کیا جائے گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کردو۔ 10 پس انہوں نے مسجد کے قریب بھجور کے ایک

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent cavalry toward Najd, and they brought a man from Banu Hanifah named Thumamah ibn Uthal, the leader of the people of Yamamah. They tied him (2) to a pillar of the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) approached and said: “What do you have, O Thumamah?” He said: “I have good, O Muhammad. If you kill, you kill one with blood ties. If you show favor, you favor one who is grateful. If you want wealth, ask, and you will be given what you wish.” The Messenger of Allah (ﷺ) left him until the next day and asked: “What do you have, O Thumamah?” He replied: “As I told you: if you show favor, you favor one who is grateful; if you kill, you kill one with blood ties; if you want wealth, ask, and you will be given what you wish.” The Messenger of Allah (ﷺ) left him until the following day and asked again: “What do you have, O Thumamah?” He said: “As I told you: if you show favor, you favor one who is grateful; if you kill, you kill one with blood ties; if you want wealth, ask, and you will be given what you wish.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “(3) Release Thumamah.” He went (4) to a palm grove near the mosque, bathed, entered the mosque, and said: “I bear witness that there is no god but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger. O Muhammad, by Allah, no face on earth was more hated to me than yours, but now it is the most beloved. By Allah, no religion was more hated to me than yours, but now it is the most beloved. By Allah, no land was more hated to me than yours, but now it is the most beloved. (5) Your cavalry captured me while I intended Umrah. What do you think?” The Messenger of Allah (ﷺ) gave him glad tidings and ordered him to perform Umrah. When he arrived in Makkah, someone said: “Have you apostatized?” He replied: “No, but I have embraced Islam with the Messenger of Allah (ﷺ). By Allah, not a grain of wheat will come to you from Yamamah until the Messenger of Allah (ﷺ) permits it.” [Narrated by Muslim, summarized by Bukhari]

Al-Allamah al-Ayni said: Releasing captives freely is abrogated in our view. Some said it was specific to our master, the Messenger of Allah (ﷺ). All narrations about Badr captives are abrogated. At-Tahawi said: A disbeliever’s vow, if he embraces Islam, is not obligatory in our view, and we interpret the narration as recommended.

Imam Nawawi has stated that this (hadith) permits binding and keeping someone in custody, as well as bringing a disbeliever into the mosque. In 'Tanfeeh al-Mufti wal-Waseel,' it is written that according to Imam Malik, a disbeliever cannot enter the Masjid al-Haram because they do not become purified from ritual impurity, and thus their entry is not permissible. According to Imam Shafi'i (RA), it is only forbidden for them to enter the Masjid al-Haram. Allah Almighty says: 'Indeed, the polytheists are [the utmost] in defilement, so they must not approach the Sacred Mosque after this year.' Translation: 'Certainly, the polytheists are unclean, so they shall not approach the Sacred Mosque after this year' (Surah Tawbah, verse 28). However, in the year following this, when Sayyiduna Abu Bakr (RA) became the leader of the people, and Sayyiduna Ali (RA) announced Surah Baraat, it was during the farewell pilgrimage of the Prophet (SAW). And we have it from the interpretation of Surah Baraat in 'Ma'alam al-Nathr' that it is not permissible for anyone to enter any mosque in a state of ritual impurity, as their impurity can defile the mosque, and their state of ritual impurity is not apparent. The verse regarding the prohibition of the polytheists entering with their armies can also be interpreted as prohibiting their entry in a state of ritual impurity. Or it could mean that it prohibits their entry into the Sacred Mosque in a state of nakedness for circumambulation, as it was their custom to perform the circumambulation naked, men during the day and women at night, and they would perform the circumambulation in the same clothes in which they committed sins. Or it could mean that the prohibition does not apply to their entry after this year but rather to indicate that they will lose the ability to enter. (Sharh al-Waqayah, Bada'i)

Then Thumama said, 'What do you have with you?' He replied, 'I have what I have already told you. If you grant me a favor, I will be a grateful and obedient servant. If you kill me, you will kill a man who has shed blood. If you want wealth, ask for whatever you wish, and it will be given to you.' Thus, the Messenger of Allah (SAW) ordered that Thumama be set free. Then he sent him near a cluster of dates near the mosque.

8قولہ : اللہم انی ابرأ الیک مما صنع خالد (اے اللہ میں تیری بارگاہ میں اس سے برائت کا اظہار کرتا ہوں جو خالد نے کیا) علامہ ابن بطال نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ قاضی جب ظالمانہ یعلما کے قول کے خلاف فیصلہ دے تو وہ مردو دہے۔ پھر اگر وہ اجتهاد اورتا ویل کی بنیاد پر ہوجیسا کہ خالد رضی اللہ تعالی عمن نے کیا، تو اکثر علماء کے پاس گناہ ساقط اورتا وال لا زم ہوجاتا ہے۔ مگر یک اس کے تاوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ اگر وہ قتل یا زخم کا ہے تو امام ثوری، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور امام اسحاق کا قول ہے کہ اس کو بیت المال کی جانب سے ادا کیا جائے گا۔ اور ایک دوسری جماعت جس میں امام اوزاعی، ابو یوسف، محمد اور شافعی رحمہ اللہ علیہ، کا قول ہے کہ امام یا حاکم کے علاقلہ (پدری رشتہ دار) کے ذمہ ہوگا۔ اور ابن ماجشون نے کہا حاکم پراس کے اپنے مال میں کوئی دیت ہے نا اس کے علاقلہ پر اور نہ بیت المال کے ذمہ ہے۔ (عمدۃ القاری)

5294

حسین بن رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ قبیلہ ثقیف، بنی عقیل کا حليف تھا۔ پس ثقیف کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی دوسائیون کو گرفتار کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنی عقیل کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا پھراس کو باندھ کر مقام حرہ میں ظالماً پیش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ علیہ السلام کو پکارا: اے محمد! اے محمد! مجھے کس وجہ سے پکڑا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام تمہارے حليف ثقیف کے جرم کی وجہ سے، پھر آپ علیہ السلام کو (اسی حالت پر) چھوٹا کر آگے برہے گے۔ لیکن اس نے آپ علیہ السلام کو پھر پکار کر کہا: اے محمد! اے محمد! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس پر تم آپ تو آپ علیہ السلام پلٹ کر آگے (اور) فرمایا تیرا کیا حال ہے؟ اس نے کہا میں مسلمان ہوں۔ تو آپ علیہ السلام اگریبات اس وقت کہتا جب کرتواپنے معاملہ کاما کرتھا تو تو کابل فلاح پاتا۔ راوی کہتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوان دوآ دمیول کے فردیمیں ربا فرمایا جن کو ثقیف نے گرفتار کر لیا تھا۔ 14 (مسلم)

قولہ : ففداح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالرجلین اللذین اسرتهما ثقیف (پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوان دوآ دمیول کے فردیمیں ربا فرمایا جن کو ثقیف نے گرفتار کر لیا تھا ) اور رواختار میں ہے کران (کفار) کوان کوئی بدلتمنی مال کے یا مسلمان قیدی کے بدلاً ربا کرنا حرام ہے۔ پس پہلی صورت مشہور قول میں ناجائز ہے۔ اور سیر کبیر کی روایت کے مطابق وقت ضرورت اس میں کوئی حرج نہیں اور امام محمد نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ (کافر) اس درجہ میں ہو کہ اس نے کی امید نہ ہوجائے کہ فانی ہے۔ (الاختیار) اب رہی دومی صورت تو وہ ان کے پاس ناجائز ہے۔ اور تین کے پاس جائز ہے۔ اور کتاب "الزوال" کے مطابق پہلا قول، جیسے ہے۔ لیکن محیط میں ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق (مسلمان کے فردیمیں کافر کو ربا کرنا) جائز ہے۔ اور اس کی تفصیل قدستانی میں ہے اور زیلی میں بھی سیر کبیر کے نقل کیا ہے کرامام اعظم البوحنیفرحمۃ اللہ کی دو روايتون میں اس روایت میں اس کا جواز ہے۔ اور خالقدیمیں ہے کروہی (جواز) صاحبین اور امام ثلا ثلا کا قول ہے و نیز صاحب مسلم و غیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام نے دو مسلمان آدمیوں کو ایک مشترک کے بدل میں اور پچھو مسلماں کو جو کہ میں گرفتار کرنے کے لیے گئے تھے، ایک عورت کے بدل میں چھوڑالیا۔ میں کہتا ہوں کہ ایسی بناو پر متن کی عبارت "حرم فداؤہم" لیعنی (ان کفار کو ربا کرنا حرام ہے) بلا ضرورت مال کے بدل ربا کرنے کے ساتھ خصوص ہے۔ البتر مال کے بدل وقت ضرورت ربا کرنا ایام مسلمان قیدیوں کے بدل ربا کرنا تو جائز ہے۔ انتہی۔ اور رواختار میں ہے اور اس بارے میں اتمکا اتفاق ہے کہ کافر کو عورتوں، چھو لن گھوڑوں اور تحقیار کے بدل میں ربا نہیں کیا جاتے گا۔ مگر وقت ضرورت جائز ہے اور مسلمان قیدی کے بدل کی ایہ قیدی کو ربا کیا جاتے گا جو (انہی) مسلمان ہوائے گری کے اس کے اسلام پر اطمینان حاصل ہو جائے تو جائز ہے۔

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated: Thaqif were allies of Banu Uqayl. Thaqif captured two of the Prophet’s Companions, and the Prophet’s Companions captured a man from Banu Uqayl, bound him, and threw him in the heat. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by, and he called: “O Muhammad, O Muhammad, why was I taken?” He said: “For the crime of your allies, Thaqif.” He left, and the man called again: “O Muhammad, O Muhammad.” The Messenger of Allah (ﷺ) returned and said: “What is the matter?” He said: “I am a Muslim.” He said: “If you had said that when you were in control of your affair, you would have succeeded completely.” The Messenger of Allah (ﷺ) ransomed (1) him for the two men Thaqif had captured. [Narrated by Muslim]

He said: The Messenger of Allah ﷺ ransomed the two men whom Thaqif had captured. (Then the Messenger of Allah ﷺ ransomed them with two slaves whom Thaqif had taken captive.) In another narration, it is stated that it is forbidden for the disbelievers to ransom with any substitute wealth or a Muslim prisoner. Therefore, the first scenario is impermissible according to the well-known opinion. According to the narration of Sirah Kabir, there is no harm if the need arises, and Imam Muhammad said that there is no harm provided that the disbeliever is in such a state that there is no hope of his survival. (Al-Ikhtiyar) Now, regarding the second scenario, it is impermissible for them, but permissible for the third. According to the book 'Al-Zawal,' the first opinion is as follows. However, in the Muheet, it is stated that according to the apparent narration, it is permissible to ransom a disbeliever with a Muslim's substitute. The details of this are found in Qudstani and also in Zaili, where it is narrated from the great Imam Al-Buhaini (may Allah have mercy on him) that in one of his narrations, this is permissible. And it is established from the Messenger of Allah ﷺ that he ransomed two Muslim men for one commoner and five Muslims who were captured for a woman. I say that the phrase 'it is forbidden to ransom them' specifically refers to ransoming without necessity and with substitute wealth. Ransoming at a time of need with substitute wealth or ransoming Muslim prisoners is permissible. This is the end. And in another narration, it is stated that there is consensus that the disbelievers cannot be ransomed with women, children, horses, or weapons. However, it is permissible in times of need, and a Muslim prisoner can be ransomed if there is assurance of their continued Islam after being freed.

5295

ا م ا م ا ع ظ م البوحنی ف رضی اللہ علیہ اس بات پر استدلال کیا ہے کہ کلمہ غلبہ سے فتح ہوا نہ کہ سجع ہے

( جس کے بعد جب کہ اللہ نے تم کو ان پر قابودے دیا تھا ) لیعن کہ میں میں بعد ان اظفر کم علیہم ”

( اس کے بعد جب کہ اللہ نے تم کو ان پر قابودے دیا تھا ) لیعن تم کواس پر قابو اور غلبہ عطا کرو اتھا

” وَگَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا “ (اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا تھا) - اور (تفسیر)

مدارک میں ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو غلام آئے جو حذیفی کے دونوں سے پہلے پس ان کے آقا و لڑ آپ علیہ صلی اللہ کو خط میں لکھا: اے محمد (علیہ صلی اللہ)! اللہ کی قسم! پیلوگ آپ کے پاس آپ کے دین کی رغبت میں نہیں آئے بلکہ وہ توصرف غلامی سے بھاگ کر آئے۔ میں تب پچھوگون نے کہا: یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) پیلوگ پچھ کہ رہے ہیں، آپ ان (غلاموں) کو انہیں واپس کردیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کرتے ہوئے فرمایا: اے قریش کی جماعت! میں نہیں مجحتا کہ تم باز آؤگے، تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ تم پراس شخص کونہ کہیے جواس پرتمہاری گروں کو مارے۔ اور آپ علیہ صلی اللہ نے ان کو واپس کرنے سے انکارفرما دیا15۔ اور فرمایا اللہ کے آزاد کردو پیں۔ (ابوداؤد)

"وہو اللذی کفّ ایدیہم عنکم "(وہی توہ جس نے تم سے ان کے لیعن کہوالول کے باٹھر دک دے) "وآیدیکم عنہم "(اورتمہارے باٹھران سے لیعن اہل کہے سے روک دے)۔ اس کا مطلب یہ کہ اس نے تمہارے اور ان کے درمیان باہم روک اور آٹھ لگادی، بعد اس کے کر اس نے تم کوان پرقاپاورغلب عطا کروا تھا اور وہ فتح کہے دن ہوا16۔ اور اس سے

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: Slaves came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Hudaybiyyah before the truce. Their masters wrote to him, saying: “O Muhammad, by Allah, they did not come to you desiring your religion but fleeing slavery.” Some said: “They speak the truth, O Messenger of Allah, return them.” The Messenger of Allah (ﷺ) became angry and said: “I see you, O Quraysh, persisting until Allah sends someone to strike your necks for this.” He refused (2) to return them and said: “They are Allah’s freed.” [Narrated by Abu Dawud]

In (Al-Madarik): “It is He who restrained their hands from you and your hands from them”, meaning the people of Makkah, “in the valley of Makkah after He granted you victory over them, and Allah is Seeing of what you do” [Qur’an 48:24]. This refers to the day of (3) the conquest, supporting Abu Hanifah’s view that Makkah was conquered by force, not treaty.

15قولہ: وابی ان یردهم الخ (آپ علیہ صلی اللہ نے ان کو واپس کرنے سے انکارفرما دیا) بدل اچھو دیں ہے امام اعظم البوحنیفر اور ان کے اصحاب کا نہب اس بارے میں وہی سے جس کو صاحب بدایین بیان کیا سے کہ جب کسی حری کا غلام مسلمان ہوکر ہمارے پاس آ جائے یا دار الحرب کے خلاف خروج کرے تو وہ آزاد ہے۔ اور اس طرح جب ان کے غلام مسلمانوں کے لشکر میں لجا کی تقوه اس روایت کی بناو پر آزاد ہیں کر طائف کے پچھو غلام مسلمان ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کے تو آپ علیہ صلی اللہ نے ان کی آزادی کا فیصلہ اور فرمایا کہ وہ اللہ کے آزاد کردو پیں۔

قولہ: وذلک يوم الفتح الخ (اور وہ فتح کہے دن ہوا) فتح کہے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ امام شافعی رحم اللہ کے پاس وہ فتح سے فتح ہوا اور ہمارے پاس وہ غلبے سے فتح ہوا ہے۔ اور ہماری جمعت میں آیت (نذکورہ) سے۔ اور امام اعظم البوحنیفر رحم اللہ کا نہب میں ہے۔ اس لے حنفی مفسرین میں سے صاحب کشف اور حنفی مفسرین میں سے صاحب مدارک نے اس توجیہ کو مقدم رکھ کراس بات کی صراحت کی کر اس باب میں پرامام اعظم البوحنیفر رحم اللہ کی ویل ہے۔ اور صاحب بداییرحم اللہ نے باب العشر و الخراج "میں فرمایا"اور ہروہ زمین جو غلبے فتح کی جائے۔ اور اس کے باشندر کواس پر برقرار رکھا گیا ہوتا وہ خراجی زمین ہے اور پچھر انہوں نے پکھا کے اور کہ کہر میں اس حکم سے مستثنیٰ ہے اس لے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے اس کو غلبے سے فتح کر کے ابل کہے لے چھوڑ دیا اور کوئی خراج مقرر نہیں فرمایا۔ بیان (صاحب بدایی) کے الفاظ فتح اور ایک قول میں کہا گیا کہ یہ زوہ حدیثی۔

5296

ثقادہ رضی اللہ علیہ نے کہا تم سے اس بن مالک نے ابوطرحی روایت بیان کی

کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدرب کے دن سرداران قریش میں سے چوہین آدمیوں کی

کے وقت تحاق کلم کے وقت نہیں - جہاں وہ ہے کہ صاحب بیضاوی رحم اللہ نے اس نہہب کی رعايت میں اس

(قول) کو مقدم کیا اور امام اعظم البوحنی ف رحم اللہ کی توجیہ کواس بناء پر ضعیف قرار دیا کہ یسورة فتح کلمے پیل نازل ہوتی-

اور میں کہتا ہوں اس (آیت) میں (گزشتہ واقعہ کی) کوئی خبر نہیں ہے اس لے کراس میں ماضی کے صیغے-

پیان کردہ تمام احکام امت کے (آتندہ واقعات سے) متعلق خبر ہیں جو ظاہر یغیب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک

مجھزہ ہے، جس کے ان کی کتب میں ثابت ہے- (ملخص از: تفسیرات احمدی)

اور "فتح القدری" میں ہے کہ اراضی (مفتوح) (کلم) کی تقسیم ضروری نہیں ہے اس لے کہ کلم غلبہ سے فتح ہوا

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زمین کو تقسیم نہیں فرمایا-اور اس بناء پرامام ماکر رحم اللہ کا نہہب پیہ کر محض فتح

سے زمین مسلمان کے لے وقف ہو جائی ہے-اور وہ (امام ماکر) اخبار و اثار کی درایت تمام رکھتے تھے-اور ان

(شافعی) کا یہ دعوی کہ کلم کمر مسح سے فتح ہوا، اس پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کی ضد پر دلیل ہے- چنانچہ (کیا آپ

نہیں دیکھتے) کہ تین حضور علی الصلاۃ والسلام کا پیار شاد ثابت ہے "جو ابوسفیان کے گھر داخل ہووہ مامون ہے اور وہ

جوایں دروازے کو اپنے لے بند کر لے وہ مامون ہے"اور اگر وہ سے ہوتا تو وہ سب اس کی وجہ سے امان میں ہو جاتے

اور امان دین کی ضرورت کی نہیں تھی-اور نام بنی رضی اللہ علیہم کواس شخص کو پناہ دینے کی ضرورت بھی آتی جس کو وہ پناہ

دی اور نہ اس کے قبل سے سید نا علی رضی اللہ علیہ نے سید نا علی رضی اللہ علیہ کو ابن خطل کے

(مسجد حرام میں) داخل ہو نے کے بعد اس کو قبل کر نے کا حکم دیا- حالاکہ وہ غلاف کعبے چمٹا ہوا تھا-

اور سب سے واضح دلیل بخاری و مسلم میں ذکور آپ علیہ کا پیار شاد ہے "یقیناً اللہ تعالیٰ نے کلم کواس روز حرم بنايا

جس دن کاس نے آسانول اور زمین کو پیدا فرمایا و بال خون نہیں پھایا جاتے گا- (یطول حدیث ہے جس کے اخیر میں

سے) پس اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قوال سے رخصت (جواز) کون کا لے تو تم اس سے کہ دو کہ اللہ نے اپنے

رسول کو اجازت دی اور تم کو اجازت نہیں دی- پس آپ علیہ کے ارشاد میں "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قوال کا لفظ"،

اس بارے میں صرف ہے-

پابت حکم دیا تو ایس بد رکے ایک نہایت، ہی ناپاک اور گندے کنویں میں پھینک دیا گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رغلم پائے تو ان کے میران میں تم روز قیام فرما تے - چنانچہ جب بدر میں تیراون آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا حکم دیا تو اس پر جوا باندھا گیا - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پیچ پنے لگے پیحال تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے کنارے پر کھڑے کر ان (سرداران قریش) کو ان کے نامول سے اور ان کے آباء کے نامول سے آواز دینے لگے - اے فلان ابن فلان، اے فلان ابن فلان! کیا تم کو بیبات خوش کرتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بھوتے پس بقینا تم نے اس چیزو پالیا جس کا تم سے ہمارے رب سے سجا و عذاب کیا تھا تو کیا تم نے جس اس چیزو پالیا جس کا تمہارے رب نے سجا و عذاب کیا تھا پس عمر ضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا آپ ایسے جسمول سے باٹ نہیں کر رہے ہیں جن کی رویں نہیں ہیں - نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماشتم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! میں جو کہ ربال ہوں اس کو تم ان سے بڑا کر سنگ والے نہیں ہو - 17

Thawban (RA) said: 'Ibn Malik narrated from Abu Tariq:

that the Messenger of Allah ﷺ, on the day of the Battle of Badr, did not recite the takbir until the time of the leaders of Quraysh, who were four men, had arrived.'

Where it is stated that the venerable Baidawi (RA) has given precedence to this (statement) in the context of this narration, and Imam-e-Azam Al-Buhani (RA) has deemed his reasoning weak on this basis, as Surah Fath was revealed after the event, and I say that there is no news of any past event in this (verse); rather, all the commands mentioned in the past tense in this verse pertain to future events of the Ummah, which is one of the miracles of the Prophet (SAW), as established in his books. (Summary from: Tafseer-e-Ahmedi)

And in 'Fath-ul-Qadeeri,' it is mentioned that the division of the conquered lands is not necessary because the word 'fath' (victory) implies dominance, and the noble Prophet (SAW) did not divide the land. Therefore, according to Imam Maqur (RA), the land becomes the property of Muslims solely due to the victory. He retained all the reports and traditions, and there is no evidence for the Shafi'i claim that the land was conquered by the treaty of Hudaybiyah; rather, there is evidence against it. For instance, it is established that the three presences (of the Prophet) were safe when they entered Abu Sufyan's house and secured the doors, thus ensuring their safety. If it were otherwise, they would have been in a state of security due to the treaty, and there would have been no need for security. Similarly, there was no need for the Banu Rabi'ah (RA) to seek refuge for someone whom they had already granted refuge, nor was there a need for Sayyiduna Ali (RA) to execute Ibn Khatal after he had entered the Masjid al-Haram, even though he had clung to the cover of the Ka'bah.

The most clear evidence is found in Bukhari and Muslim, where it is narrated that Allah Almighty made Khaibar a sanctuary on the day when Khaibar created the earth and the mountains, and no blood will be shed there. (The hadith continues, but the relevant part is:) So if anyone takes a concession from the statements of the Prophet (SAW), you should tell them that Allah gave permission to His Messenger, but He did not give you permission. Thus, the command in the hadith pertains specifically to the words of the Prophet (SAW).

If a command is given, then such a vile and extremely impure and dirty act will be thrown into the filthiest of sewers, and when the Prophet (SAW) found it, he would stand against it. For example, when the Battle of Badr approached, the Prophet (SAW) ordered his mount to be prepared, and a rope was tied to it. Then, the Prophet (SAW) mounted it, and his Companions (RA) followed him until he stood beside the sewer and began calling out to the leaders of Quraysh by their names and the names of their ancestors: 'O so-and-so son of so-and-so, O so-and-so son of so-and-so! Does it please you that you disobeyed Allah and His Messenger (SAW)? You have committed acts for which your Lord has promised punishment.' Then, Umar (RA) said, 'O Messenger of Allah! Are you not avoiding these people who have no faces?' The noble Prophet (SAW) replied, 'By the One in whose hand is the soul of Muhammad (SAW)! I am more honorable than to consider them greater than stone.'

5297

جوآب نہیں دیتا ہے۔ (مشق علیہ)

رہی ہو۔ اور اس طرح کی بہت ساری روايتیں کتب حدیث میں موجود ہیں۔

۔ تیری بجث پیہ کر (میت کے) کلام کرنے کی بابت ان حضرات کا قول ان احادیث میں کے خلاف ہے

جو پیش تائی ہیں کہ مردوں، اس کو سلام کرنے والے کے سلام کو ستائے اور سلام کا جواب دیتا ہے اور زندول کے کلام کو مجھتا

ہے اور پیرو ایتین صحیحین اور دیگر کتب صحاح میں ہیں۔

البتہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن بعض احادیث کورد کیا تو جمعہ وصحاباوران کے بعد کے برزگون نے اس کا

اعتبار نہیں کیا۔

ر باللہ تعالی کا ارشاد: "فَانَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمُوْتَى" (30۔ سورۃ الروم، آیت نمبر: 52) کم (آپ مردون کو

نہیں سناتے ہیں) اس میں سانے کا نکارہ نہ کر سکتا کہ علاوہ ازیں ایک درست بات یہ کہ 'الْمَوْتَی'

(مردون) سے مردوں دل لوگ مراد ہیں۔ اور وہ کفار ہیں۔ نہ کر عرفی اموات۔ اور اگر تم اس بجث کی تفصیل چاہتے ہوتے

میرے رسالہ تذکرة الراشد بر د تبصرة الناقد "کو کیہو۔

اور اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہاں کی قدر تفصیل سے بیان کرتا۔ اور جو تو ٹھا اور ٹھا کا خواہشمہد ہے تو

وہ میری تشرح کی بیر کی طرف رجوع کرے۔ مختصر یہ کہ میت کے سامع اوراس کے اوراک وہم اور تکلیف کو پایے کی نہی پر

کتاب وسنن کی کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے۔ بلکہ واضح ہے احادیث ان امور کے اس کے لے ثابت ہوئے کو بتائی ہیں۔

اور حق تو پیہ کہ ہمارے اتمران امور کے انکارے بری ہیں۔ اور انہوں نے یہ کہم کا یہ کہ میت کو مارنے

اس سے گفتگو کرنے اوراس کے پاس داخل ہوئے اوراس جیسی چیز ول کے بارے میں فتنہ کہا۔ اور یہ بہت پائل جا سکتی

تو وہ حائر ہے (قسم توڑنے والا) نہیں ہوگا۔ اس لے کر تم کا مدارعف پرہ اور عرف میں ان امور کے مراد ان کا زندگی کی

حالات میں پایا جانا ہے نہ کہ موت کے بعد پس میت کے کلام کرنا اگر چیکم فی الحقيقہ وہ کلام کے اوراس میں میت کو

سانا اور صحیحانا پایا جاتا ہے کیں عرف میں "لما اكلمک" کے قول کے حالات حیات میں کلام مراد کے اس طرح ایلام

یعنی تکلیف دینے کا مسلک ہے ارچیکم میت کے لے پیچق ہے۔ کیں عرف کا فیصلہ پیہ کر اس کے قول "لا اضریک"،

(میں تجہ کو نہیں ماروں گا) سے مراد حیات کی حالات میں مراد کے مرین کے بعد مارنا مراد نہیں ہے۔ خلاصہ پیہ کر ان

قسموں کو مقید کرنا یعرف کے حکم کی بناء پرہ۔ اس بناء پر نہیں ہے جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ (عمدۃ الرعاية)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

He does not give an answer. (Practice upon it) May it remain so. And there are many such narrations found in the books of hadith.

3. The statement of these venerable scholars regarding speaking to the dead is contrary to the hadiths that have been narrated, which state that the dead person acknowledges the salutation of those who greet him and responds to it, while the sound of the living is muffled. These hadiths are found in the Sahihain (Bukhari and Muslim) and other authentic books of hadith. However, when Sayyiduna Aisha (RA) narrated some hadiths, the scholars of the Friday congregation and the companions who came after them did not accept them. And Allah Almighty says: 'Indeed, you do not make the dead hear' (Surah Ar-Rum, Verse 52). One cannot object to this by saying that 'the dead' refers to the dead in general, as it specifically means the disbelievers, not the dead in the customary sense. If you wish for a detailed explanation of this topic, refer to my treatise 'Tadhkira al-Rashid fi Tabaqat al-Naqqad.' If there were no concern about length, I would have elaborated on this matter in detail. And if one seeks clarity and the truth, they should refer to my commentary. In brief, there is no strong evidence from the Book and Sunnah to support the notion that the dead can hear or that speaking to them brings any benefit or relief. On the contrary, the hadiths clearly indicate that these matters are not substantiated. And indeed, our scholars have rightly rejected such notions. They have warned against speaking to the dead, entering into conversation with them, or engaging in similar actions, considering them to be forms of temptation. If this were widely known, it would not lead to breaking oaths. Therefore, in both customary and literal terms, the intended meaning of these matters should be understood in the context of life, not after death. For instance, if someone says, 'Lama aklimuk' (I will not speak to you), it implies causing distress, which is a metaphor for the dead. Similarly, the statement 'La adrik' (I will not harm you) refers to the context of life, not harming after death. In conclusion, these interpretations are based on customary usage and not on the basis of what has been mentioned. (Umdat al-Riayah) Bismillah al-Rahman al-Rahim