Nūr al-Maṣābīḥ
باب الاقضیۃ والشهادات

Judgments and Testimonies
Volume 7 · Governance & Judgeship

فصل جات اور گواہیوں کا بیان

The Chapters and Testimonies

اور الدرب العزت كا رشاو واستشهدوا شهيدين من رجالكم فان لم يكونا رجلين فرجل وامراتن ممن ترضون من الش داء ان تضل احدي ما فتذكر احدي ما الاخري ولا ياب الش داء اذا ما دعوا

اور تم اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ کر لیا کرو 1 چھرا اگر دو مردوں میں تو ایک مرد اور دو عورتیں

And take two men as witnesses from among yourselves. If two men are not available, then one man and two women [should be taken as witnesses].

5066

سید نا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرودی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اگر لوگوں کو خض ان کے دعوی کی بناء پردے و یا جائے تو یقیناً پچھلوگ انسان کے خون اور ان مال کا دعوی کرتے ہیں۔ گر فتنہ میں مدعی علیلا زمہ ہے۔ (مسلم)

امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا: اور یہ حق میں سنہ حسن یا تحصیل سے سید نا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرودیا پچھا اضافہ منقول ہے۔ تین گواہی مدعی پر لازم 3 اور فتنہ منکر پر اور امام محمد بن حسن علیہ الرحمہ نے کتاب الاثار میں کہا ہے کہ اور تم اس کو اختیار کرتے ہیں۔

اورہماری دلیل پیہ کر اس حدیث شریف سے ظاہر ہے کہ تم اس پروا جب اور انکار کر کے قسم نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کر وہ یا تو حق دیر یا چاہتا ہے یا اقرار کرنا چاہتا ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو وا جب ذمہ داری کو پورا کر نے کے لئے وہ تم کہا نے میں پیش قدمی کرتا اور مدیحہ حق دین کی وجہ سے اپنی ذات کو جنقصان پیچتا ہے اس کو فخر کرنے کی غرض سے وہ تم کہا تا اورثریعت نے ججوی قسم کہا نے سے نہ کواس پر لازم کیاہے نہ کہ پی قسم کہا نے سے دور رہنے کو پس اس کے انکار کی صورت میں پی پھلو متصور ہو گا۔

(2) اور دومرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مدیحہ کی قسم اور ایک گواہ کی بناء پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفو ع حدیث کے ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا گیا سے استدلال کیا ہے اس کو امام مسلم ابوروا ود نسائی اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور اس حدیث کو حاکم نے قیس بن سعد عن عمر وبن دینار عن ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کیا ہے۔

اور امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کے اس ارشاد و استشهاد کا شہیدین من رجاليکم، فإن لم يكُونَا رجلين فرجل وامرأتين۔ (... الاية) (اور تم اپنے مردوں میں سے دو گواہ طلب کرو پھر اگروہ دومرد نہ ہول تو ایک مرداور دو عورتیں کافی ہیں) سے استدلال کیا ہے اور اس جسیما اسلوب حکم کو اس پر محصر کرنے کے لئے لا یا جاتا ہے۔

اور یا سے لے کر اللہ تعالی کا ارشاد ذلکم اقساط عند اللہ واقوم للشهادة وآذني الا ترتابوا۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 282) (یہ بات بہت ہی قریب ہے اس سے کہ تم شک و شہمیں نہ پڑو) اولی اسم تفضیل سے برہان کر زیادتی کا کوئی اور صیغہ نہیں ہے لیکن یہ بات زیادہ قریب ہے اس کے کر دین (قرض) کی جس، اس کی مقدار، اس کی مدت اور اس کے گواہوں اور اس جسے چیز ون میں تم کسی قسم کا شک مت کرو۔

ذکورہ حدیث کے بارے میں یوداحت کی گئی ہے کر عباس دوروی نے کی بن معمیں سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور امام طحاوی نے اس میں علت پیپان کی ہے کر وہ نہیں جانتے کر قیس، عمر وبن دینار سے حدیث بیان کرتے ہیں؟

امام ترمذی نے کتاب العلل میں کہاہے میں نے محمد (امام بخاری کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کر قیس اس حدیث کو عمر وبن دینار سے نہیں سے بلکہ اور عمر وبن دینار، ابن عباس سے روایت نہیں کے بلکہ اس حدیث میں دو گہر انقطاع کی علت ثابت ہے۔

امام بخاری نے عمر واورابن عباس کے درمیان اور امام طحاوی نے قیس اور عمر وکے درمیان اور بعض محمد ثین نے عمر واورابن عباس کے درمیان طاوس کا واسطہ ذکر کیاہے امام دار قطنی نے اس طرح اس کو بیان کیاہے اور بعض محمد ثین نے جابر بن زید کا واسطہ اضافہ کیاہے پس ابن عبد البر کا یہ ناکر اس حدیث کی سنن میں کسی جد کی کسی کا طعن نہیں ہے، محل نظر ہے۔

اس اختلاف کی وجہ اس حدیث پر عمل متروک ہے اور کتاب اللہ کے ظاہری نص پر عمل برقرار ہے علاوہ از یہ۔

…… نذورہ روایت کے معارض روایت بھی موجود ہے۔ چنانچہ "الاستکار" میں پیہ کے مشتمل نے روایت کی پہ کے مگر نے شمعی سے بیان کیا ہے انہول نے کہا کر اعلی مدینہ ایک گواہ کے اور تم کے ذرائع فیصلہ کر نے حق اور تم اس کے قابل نہیں ہیں اور مصنف بن ابی شیبہ میں ہے تم کو سوپید بن عمر و نے بیان کیا اور انہول نے کہا کر تم کو ابو عوانہ نے حدیث بیان کیا اور وہ مغیرہ سے روایت کر نے پیل اور وہ ابرہیم اور شمعی سے روایت کر نے پیل ایس آدم کے بارے میں جس کے پاس ایک گواہ اس کی قسم کے ساتھ نے تو ان دونوں نے کہا کر پیجا تمہیں ہے سوا نے دوم ردول کی گواہی ایک مرد اور دوم عورتوں کی گواہی کے عامر نے کہا پہ باوجود اس کے کرا اعلی مدینہ ایک گواہ کی گواہی مطالبہ کر نے والے کی قسم کے ساتھ قبول کر نے حق اور اس سنہ کے راوی مسلم کی شرط کے مطابق پیل نہیز انہول نے پیجی کہا ہے کہ تم کو جماد بن خالد نے ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی اور وہ نہری نے روایت کر نے پیل انہول نے کہا کر وہ بدعت ہے سب نے پہلے اس نے فیصلہ کر نے والے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پیل اور بن سنہ بھی مسلم کی شرط کے مطابق نے اور مصنف عبد الرزاق میں ہے کر تم کو معمر نے بتلا پیل نے نہری نے دریافت کیا ایک گواہ کے ساتھ قسم کے بارے میں، انہول نے کہا کر پی ایس چیز ہے جس کو لوگوں نے نکالا ہے (بلکہ) دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور "استکار" میں ہے پیہ بات زیادہ مشہور ہے نہری نے اور کتاب "تمہید" میں ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ آپ کے اصحاب امام ثوری اور امام اوزاعی نے کہا ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بناء پر فیصلہ کیا جائے گا اور پی عطاء حاکم اور فقتہا کی ایک جماعت کا قول ہے اور "استکار" میں امام مکی کا بھی پیہ قول ہے اب نہزم کی کتاب "احکی" میں ہے سب نے پہلے عبد الملک بن مروان نے اس نے فیصلہ کیا ہے اور حکم بن عتیہ نے اس کا انکار کیا ہے اور عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے ذرائع فیصلہ نہ کر نے کی روایت آ لی ہے کیونکہ انہول نے اعلی شام کواس کے خلاف پایا اور ابین شہر مر نے ابھی اس نے منع کیا ہے (انہی) اور کتاب "تمہید" میں ہے کر پیہ بن پیہ نے اندس میں اس کو چھوڑ دیا اور کہا کر انہول نے لیث بن سعد کواس پر فتوی دیتا ہوئے نہیں دیکھا ہے اور وہ اس کو اپنا مذہب نہیں بنایا ہیں؟ اور حیثیں کی حدیث شریف الیمین علی المدعي علیہ (قسم مدعی علیہ کے ذمہ) اور ایک روایت میں البینة علی المدعي والیمین علی من انکر (گواہی مدعی کے ذمہ اور تم اس کے ذمہ نے جوان کار کرے) یہ حدیث اس حدیث کی (الشابد مع ایمین) کا رد کرتی ہے اور اس طرح حیثیں کی حدیث شہاداک اور مینہ" (تیرے دو گواہ ہولنے گے پاس کی قسم ہوگی) قرآن کریم کے ظاہر کلمات کے موافق ہے کیول کے اللہ تعالیٰ نے دوم رد نہوں نے کی صورت میں ضروری قرار دیا ہے ایک مرداور دو عورتوں کی گواہی قبول کرنا اور جب ایک گواہ پایا جائے اور دو عورتیں نہ ہول تو ایس صورت میں اس ایک گواہ کو قسم کے ساتھ قبول کر نے میں آیت کر پید کے معنی کے تقاضہ کی نہیں ہوتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد کی ارشاد فرما یا: ممن ترضون من الشهداء (ان گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو) اور مدعی پسند یہ ایک گواہ کے ساتھ جس چیز کا پینے قول و بیان کے ذرائع دعوی کر رہا ہے اس کا حق نہیں ہوسکتا۔ ……

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated from the Prophet (ﷺ): If people were given based on their claims, some would claim the blood and wealth of others. But the oath is upon the defendant. [Narrated by Muslim]

In al-Nawawi’s commentary, he said: In al-Bayhaqi’s narration with a good or authentic chain, there is an addition from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), raised to the Prophet: But the proof is upon the claimant, and the oath is upon the one who denies. Muhammad ibn al-Hasan said in al-Athar: And we take it as such.

Al-Tirmidhi narrated with a good chain from Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: The proof is upon the claimant, and the oath is upon the defendant.

The Prophet (ﷺ) divided between the two disputants, placing the proof on the claimant and the oath on the one who denies. This division negates partnership. He made the genus of oaths for the deniers, and there is nothing beyond the genus. The hadith: The witness and the oath is strange, while what we narrated is well-known, accepted by the ummah with certainty, reaching the level of tawatur, so it is not opposed. Moreover, Yahya ibn Ma‘in rejected it.

Muhammad ibn al-Hasan narrated in al-Athar from Ibrahim, who said: The proof is upon the claimant, and the oath is upon the defendant, and he did not reject the oath.

Imam Nawawi said in his commentary on Muslim: 'And this is an addition reported from Sayyiduna Ibn Abbas (RA) in the context of a sound or acceptable tradition. Three witnesses are necessary for the claimant, and one for the denier. Imam Muhammad ibn Hasan (may Allah have mercy on him) has stated in his book Al-Athar that you adopt this position.'

And it appears from this noble hadith that when you demand, and they deny without taking an oath, the purpose is either to delay or to avoid admitting the truth. If such were not the case, the claimant would have come forward to fulfill the obligation and would have entangled himself in the matter to assert his right. The purpose of taking an oath is to avoid the necessity of providing further evidence, and in the event of denial, the claimant would be required to take an oath.

(2) And the second issue is that it is not permissible to make a ruling based on a single witness and an oath, and there is a difference of opinion among the scholars regarding this. Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) has argued against this, and he has used the tradition of Ibn Abbas (RA) as evidence, which is reported by Imam Muslim, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah. This hadith is narrated by Qays ibn Sa'd from Umar and Ibn Dinar from Ibn Abbas (RA).

And Imam al-A'zam (may Allah have mercy on him) has argued from the verse: 'And take as witnesses two men from among your men; but if there are not two men, then a man and two women... (Quran 2:282)' and the style of command in this verse does not allow for any other interpretation. Furthermore, from the verse: 'These are fixed terms with Allah, and stand firm in testimony and let not weakness deter you (Quran 2:282),' it is clear that you should not have any doubt about the amount, the duration, the witnesses, or the nature of the transaction.

Regarding this hadith, it has been mentioned by Daru al-Qutni that this hadith is weak, and Imam Tahawi has pointed out its defects, as he does not know whether Qays, Umar, and Ibn Dinar narrated this hadith. Imam Tirmidhi has stated in his book Al-Ilal that when I asked Muhammad (about Imam Bukhari), he said that Qays did not narrate this hadith from Umar and Ibn Dinar, but there are two breaks in the chain of narration. Imam Bukhari has mentioned a gap between Umar and Ibn Abbas, and Imam Tahawi has mentioned a gap between Qays and Umar, while some of Muhammad's students have mentioned Ta'us as an intermediary between Umar and Ibn Abbas. Imam Daru al-Qutni has presented it in this manner, and some of Muhammad's students have added Jabir ibn Zayd as an intermediary. Thus, Ibn Abd al-Barr has stated that there is no flaw in the chain of this hadith, and it is noteworthy.

Due to these differences, acting upon this hadith is abandoned, and adherence to the explicit text of the Quran remains. Additionally, there are opposing narrations. For instance, in 'Al-Istikhar,' it is reported from Shami that Al-A'la of Madinah said, 'It is not permissible to make a ruling based on a single witness and an oath.' In the Musannaf of Ibn Abi Shaybah, it is reported from Sufyan bin Umar that Abu Ubaynah narrated from Mugirah, who narrated from Ibrahim and Shami, that if someone has a single witness and an oath, they both said, 'It is up to you to provide the second witness, otherwise, the testimony of one man and two women will suffice.' Amer said that despite this, Al-A'la of Madinah held that a single witness and an oath are sufficient, and this is in accordance with the conditions set by Muslim. It is also reported from Jamil bin Khalid through Ibn Abi Zayd that it is an innovation, and previously, it was decided by the Companion Muawiyah (RA) and Ibn Sunnah, in accordance with the conditions set by Muslim. In the Musannaf of Abd al-Razzaq, it is reported from Ma'mar that Nuh inquired about a single witness and an oath, and he said, 'This is something that people have abandoned, and two witnesses are necessary.' In 'Al-Istikhar,' it is more commonly known that Nuh held this view. In the book 'Tahdhib,' it is reported that Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) and his companions, Imam Thawri, and Imam Awza'i held that a ruling can be made based on a single witness and an oath. This is the opinion of Ata al-Hakam and a group of jurists, and in 'Al-Istikhar,' it is also the opinion of Imam Makki. In the book 'Ahkam,' it is reported that Abdul Malik ibn Marwan made a ruling based on this, and Hakim ibn Uthayyah rejected it. It is also reported that Umar ibn Abdul Aziz (may Allah have mercy on him) did not rule based on this, as he found it contrary to the practice in Sham. When Ibn Shahr died, he prohibited it. In the book 'Tahdhib,' it is reported that Nuh abandoned this in Andalus and said that Layth ibn Sa'd did not issue fatwas based on this and did not adopt it as his religion. The noble hadith 'Al-shahadatu ala al-mudda'i wa al-yamin ala man ukhrij' (the burden of proof is on the claimant, and the oath is on the denier) and another narration 'Al-bayyinatu ala al-mudda'i wa al-yamin ala man ukhrij' (the burden of proof is on the claimant, and the oath is on the denier) contradict the hadith 'Al-shahadatu ma'a al-yamin' (testimony with an oath). The hadith 'Tashhadani thubayya' (you will have two witnesses) is in accordance with the clear words of the Quran, where Allah has made it obligatory to accept the testimony of one man and two women if two men are not available. When a single witness is found and two women are not available, the verse does not require accepting the single witness with an oath. Moreover, Allah has said, 'From those whom you are satisfied as witnesses' (Quran 2:282), and the claimant cannot prefer a single witness for the thing he claims.'

3قولہ: البينة علی المدعي واليمين علی من انكر (گواہی مدعی (دعویدار) پر لازم ہے اور فتنہ مدعی علیہ (جس کے خلاف دعوی کیا گیا) پر) اس حدیث شریف میں بہت سے فوائد ہیں ان میں سے (1) پہلا فائدہ یہ ہے کہ مدعی محض دعوی کرنے سے حق دار نہیں بنتا۔ (2) قول تو منکر (مدعی علیہ) کا بھی معترف ہوگا۔ (3) ویل اور گواہ مدعی کی جانب سے ہول گے۔ (4) فتنہ مدعی علیہ کی جانب سے ہوگی۔ (5) مقدر محض انکار کرنے سے ختم نہیں ہوگا۔ (6) فتنہ مدعی علیہ کے ذمہ ہوگی۔ (7) مدعی کی جانب سے ایک گواہ اور فتنہ کی بناء پر فیصلہ دینا جائز نہیں ہوگا۔ (8) مکمل مطلق میں قبضہ دار کے گواہوں کو قبول نہ کیا جائے گا۔ اور دو مسلول میں حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے (1) مدعی علیہ فتنہ کہانے سے انکار کرنے کی صورت میں ہمارے پاس اس کے انکار کرنے کی وجہ سے احساس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا اور اس پر دعوی ثابت ہو جائے گا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس اس کی وجہ یہ (یعنی مدعی علیہ کے فتنہ کے انکار کی وجہ سے) فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ فتنہ مدعی کی طرف لوٹائی جائے گی۔ اگر مدعی فتنہ کہا لے تو وہ مال حاصل کر لے گا اور پی مدعی فتنہ کہانے سے انکار کر لے تو دونوں کے درمیان مقدرہ فتنہ ہو جائے گا (مقدر مختار نہ ہو جائے گا)۔ کیونکہ انکار محولی فتنہ سے نہیں کے لئے کی وہ ہوسکتا ہے اور یہ کی ہوسکتا ہے کہ پی فتنہ سے دور رہے۔
5067

پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (گوائی اور تم کی) فریقین کے درمیان تقسیم فرامادی 4 ہے - جنا تھی گوائی کو مدیع کے ذمہ اور تم کو مدیع علیہ کے ذمہ قرار دیا اور تقسیم، ثم کرتی ہی ضرر (منافی) ہے - اورس تقسیم کی جنس کو منقرین کے ذمہ فرامادینے سے اب تم کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی - اور الشاہد والیمین " کے الفاظ والی حديث غریب ہے اور جس حدیث کو تم نے روايت کیا ہے و مشہور ہے - اورامت کے پاس اس قدر مقبول ہے کہ تو اتر کے درج میں بھی اس کی جیبن میں کے اس کورد کردینے سے وہ حديث غریب اس حدیث کے معارض نہیں ہوسکتی -

حضرت عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (دحویدار) پر لازم ہے اور تم مدیع علیہ (جس کے خلاف دعوی کیا گیا پر) تنزیہ اساوجیر)

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated from the Prophet (ﷺ): If people were given based on their claims, some would claim the blood and wealth of others. But the oath is upon the defendant. [Narrated by Muslim]

In al-Nawawi’s commentary, he said: In al-Bayhaqi’s narration with a good or authentic chain, there is an addition from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), raised to the Prophet: But the proof is upon the claimant, and the oath is upon the one who denies. Muhammad ibn al-Hasan said in al-Athar: And we take it as such.

Al-Tirmidhi narrated with a good chain from Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: The proof is upon the claimant, and the oath is upon the defendant.

The Prophet (ﷺ) divided between the two disputants, placing the proof on the claimant and the oath on the one who denies. This division negates partnership. He made the genus of oaths for the deniers, and there is nothing beyond the genus. The hadith: The witness and the oath is strange, while what we narrated is well-known, accepted by the ummah with certainty, reaching the level of tawatur, so it is not opposed. Moreover, Yahya ibn Ma‘in rejected it.

Muhammad ibn al-Hasan narrated in al-Athar from Ibrahim, who said: The proof is upon the claimant, and the oath is upon the defendant, and he did not reject the oath.

5068

اور حضرت امام محمد بن حسن نے کتاب الآثار میں ابراہیم نے روایت کیا ہے آپ علیہ صلی اللہ نے فرمایا گوائمدی کے ذمہ اور تم مدیع علیہ کے ذمہ اورآپ تم کو (مدیع پر) نہیں لوٹاتے تھے

It is narrated from Imam Muhammad bin Hasan in his book Al-Athar that Ibrahim reported:

May Allah’s peace be upon him, he said: 'I would entrust to Medaydi, and you would entrust to Medayi, and you would not return to Medayi.'

5069

4 قولاہ: فقسم النبی صلى الله علیه وسلم بین الخصمین الخ اس کی وضاحت یہہ کہ پعلیصہ نے لفظ " ایمین " الف لام کے ساتھ ذکر فرمايا ہے اور الف لام اس میں جسی ہے کیون کہ یہال الف لام عہدی نہیں ہوسکتا اور یکھا جاتے گا کہ آپ علیصہ نے دلیل و گواہ کو جنس مدیع کی جحت قرار دیا اور تین (قتسم) کو جنس منقرین کی جحت قرار دیا پس تمام تمیین منقرین کے ذمہ پیں گی اور جن حضرات کے تم کو مدیع پر لوطا یہے تمام تمیین منقرین کے ذمہ پیں رکھی پیں اور اس سے حدیث مشہور کا لازم آ یے گا اور پیغ نہخبر واحد سے جائزہ اور نہی قیاس سے جائزہ (بنایی )

عمران بن حسین نے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا میری امت (قالیین کیمیں نے) یکھاکہ مدیع کی تم دعووتوں کے قائم مقام ہے تو ایکی صورت میں اگر مدیع زمیں واور ایک گواہ کو قائم کرے تو اس کی تم قبول نکرنا او اجب ہے جسیا کر دوعورتن زمیں ہو نے کی صورت میں ہوتا ہے (عقودا لجوابر المذیفہ ) اور الکو کب الدری " میں ہے مطلب یہہ کہ مدیع کے ایک گواہ کا اعتبار نہیں کیا جاتے گا بلکہ انکار کرنے والے کی تم سے فیصلہ کیا جاتے گا - اور حدیث کے الفاظ کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ تم کے ذریعہ فیصلہ دیا ہے " سے میں مراد ہے کہ صرف ایک گواہ کی موجودگی میں شہادت کا نصاب پورا نہ ہو نے کی وجہ سے تم لے کر فیصلہ دیا ہے (انہی) اور اس کے حاشیہ میں ہے کہ یحضورعلی الصلاوۃ والسلام کا فعل مبارک سے جوول کے بر ابرنیس ہوسکتا خاص طور پر جب کہ اس قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تا نید قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے هوتی ہے " وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ " (اورتم اپنے میں سے دومردون کو گواہ کر لیا کرو) اور امام بخاری علیہ الرحمہ نے اس مستند کے متعلق حنفی کی تا نید میں تفصیل سے خوب بیان کیا ہے (تم اس کی طرف مراجعت کر سکتے ہو ) -

میں سب سے بہتر میرے زمانے والے ہیں پھر وہ لوگ ہیں جو ان کی بعد متصل ہیں۔ عمران نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے اپنے قرن کے بعد دو قرن ذکر فرمائے یا تین قرن ذکر فرمائے۔ پھر ان کے بعد ایسی قوم ہوگی کہ وہ گواہی دیے گے حالاکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ اوروہ خیانت کریں گے امانت داری نہیں کریں گے اور منت ما نہیں گے۔ اور منت پوری نہیں کریں گے اور ان میں موت پا (روغن کی رغبت) غالب رہے گا) (متفق علیہ)

Imran ibn Husayn narrated from the Prophet (ﷺ): The best of my ummah are my generation, then those who follow them, then those who follow them. Imran said: I do not know if he mentioned two or three generations after his. Then after you will come people who testify without being asked, betray and are not trusted, vow and do not fulfill, and obesity will appear among them. [Agreed upon]

In a narration by Ahmad and Muslim from Abu Huraira (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of my ummah is the generation in which I was sent, then those who follow them, Allah knows best, whether he mentioned the third or not. He said: Then people will swear and testify before being asked.

Muslim narrated from Zayd ibn Khalid (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Shall I not inform you of the best of witnesses? The one who gives his testimony before being asked.

5070

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں مبعوث ہوا۔ ہول پھر وہ لوگ ہیں جو ان سے متصل ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے آیا پعلیہ نے تیرے (زمانہ) کا زکر فرمایا نہیں؟ آپ علیہ نے فرمایا پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ گواہی طلب کی جائے گے پھر گواہی دی گے (احمد و مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں مبعوث ہوا۔ ہول پھر وہ لوگ ہیں جو ان سے متصل ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے آیا پعلیہ نے تیرے (زمانہ) کا زکر فرمایا نہیں؟ آپ علیہ نے فرمایا پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ گواہی طلب کی جائے گے پھر گواہی دی گے (احمد و مسلم)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

5071

سیدنا زید بن خلد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو میں تم کو بہترین گواہ بتا دا ہول وہ وہ ہے جو گواہ پوچھے جائے گے پہلے گواہی دیتے ہیں (مسلم)

سیدنا زید بن خلد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو میں تم کو بہترین گواہ بتا دا ہول وہ وہ ہے جو گواہ پوچھے جائے گے پہلے گواہی دیتے ہیں (مسلم)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

5072

حضرت ثریم بن فاتک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے تھے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدے کہتے تھے کر ارشاد فرماتے جحویلی گواہی اللہ

حضرت ثریم بن فاتک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے تھے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدے کہتے تھے کر ارشاد فرماتے جحویلی گواہی اللہ

قولہ: يشهدون ولا يستشهدون -ہمارے پاس قاعدہ یہ ہے کہ گواہی طلب کے جانے پر، یا دو گواہی دے اور اس سے گواہی طلب کرنے کے بعد گواہی دینا اس پروا جب ہوجاتا ہے اور حدود کے معاملے میں پڑہ پٹی کرنا (گواہی نہ دینا) فضل ہے اور اس حدیث شریف میں ایسے لوگوں کی نذمت وارد ہوئی ہے جو بغیر مطالبہ کے گواہی دیتے ہیں اور زیادہ پیدا خالد کی روایت میں الاخبر کم بخیر الشهداء الذی یاتی بشہادتہ قبل ان یسالہا " کہ بہترین گواہ وہ ہے جو گواہ پوچھے جائے پہلے اتنی گواہی دینے کردے) اس حديث شریف کی دونوں لیسن بیان کے ہیں۔

ایک تو یہ کہ اس حديث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کسی شخص کے حق متعلق گواہی دے اور میں کوئی معلوم کر اس کے پاس گواہی دے تو اس ایسی کام پیہ کہ دیکو اس کی اطلاع دے کر اس کے حق کے لے وہ گواہ ہے۔

اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث شریف حقوق اللہ کے بارے میں ہے جسے زکوۃ، کفارات، رويت بلا، وقف، وصیتیں، اور اس جنسی چیزوں سے متعلق ہے پس اس پرحکم کو اس کی اطلاع دینا واجب ہے اور اس کے علاوہ یہ تاویل بھی کی جاتی ہے کہ یہ گواہی کا مطالبہ کرنے کے بعد گواہی دینے میں مبالغہ کرنے اور جلدی کرنے سے متعلق ہے اور "یشهدون ولا يستشهدون" کی اس کے سوا کچھ تاویلات ہیں۔ اور بعض کہا گیا ہے کہ اس میں کناپیہ ججویلی گواہی دینے سے اور ایسے شخص کی گواہی سے جو گواہی کے لے ابل نہیں ہے لیکن ان لوگوں میں سے ہو جس سے گواہی طلب کی جاسکتی ہے۔ بہر حال پر (آخرتاویل) تكلف سے خالی نہیں ہے۔ (ماخوذ ازمعات)

کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دی گئی ہے۔ تین مرتبہ فرمایا: پھر آپ نے ملاوت فرمائی

"فَاجْتَنَبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ۔ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ "

(پس تم بتون کی پلیدی سے پھوٹا اور جھولی باٹ بولنے سے کچھ پھوٹا اللہ کے لئے کیسوہوکراس کے ساتھ

شرک نہ کرتے ہوئے)(22،سورۃ انعام،آیت نمبر:31/30)(ابوداؤد،ابن ماجہ)

Kharim ibn Fatik (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed the morning prayer, and when he finished, he stood and said: False testimony has been equated with associating partners with Allah, three times. Then he recited: So avoid the uncleanliness of idols and avoid false speech, inclining toward Allah, not associating with Him [Al-Hajj: 30-31]. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah] Ahmad and al-Tirmidhi narrated it from Ayman ibn Kharim, except Ibn Majah did not mention the recitation.

5قولہ: يشهدون ولا يستشهدون -ہمارے پاس قاعدہ یہ ہے کہ گواہی طلب کے جانے پر، یا دو گواہی دے اور اس سے گواہی طلب کرنے کے بعد گواہی دینا اس پروا جب ہوجاتا ہے اور حدود کے معاملے میں پڑہ پٹی کرنا (گواہی نہ دینا) فضل ہے اور اس حدیث شریف میں ایسے لوگوں کی نذمت وارد ہوئی ہے جو بغیر مطالبہ کے گواہی دیتے ہیں اور زیادہ پیدا خالد کی روایت میں الاخبر کم بخیر الشهداء الذی یاتی بشہادتہ قبل ان یسالہا " کہ بہترین گواہ وہ ہے جو گواہ پوچھے جائے پہلے اتنی گواہی دینے کردے) اس حديث شریف کی دونوں لیسن بیان کے ہیں۔

ایک تو یہ کہ اس حديث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کسی شخص کے حق متعلق گواہی دے اور میں کوئی معلوم کر اس کے پاس گواہی دے تو اس ایسی کام پیہ کہ دیکو اس کی اطلاع دے کر اس کے حق کے لے وہ گواہ ہے۔

اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث شریف حقوق اللہ کے بارے میں ہے جسے زکوۃ، کفارات، رويت بلا، وقف، وصیتیں، اور اس جنسی چیزوں سے متعلق ہے پس اس پرحکم کو اس کی اطلاع دینا واجب ہے اور اس کے علاوہ یہ تاویل بھی کی جاتی ہے کہ یہ گواہی کا مطالبہ کرنے کے بعد گواہی دینے میں مبالغہ کرنے اور جلدی کرنے سے متعلق ہے اور "یشهدون ولا يستشهدون" کی اس کے سوا کچھ تاویلات ہیں۔ اور بعض کہا گیا ہے کہ اس میں کناپیہ ججویلی گواہی دینے سے اور ایسے شخص کی گواہی سے جو گواہی کے لے ابل نہیں ہے لیکن ان لوگوں میں سے ہو جس سے گواہی طلب کی جاسکتی ہے۔ بہر حال پر (آخرتاویل) تكلف سے خالی نہیں ہے۔ (ماخوذ ازمعات)

5073

مجھ نے آپ کی قرات (ثم قراء) کا ذکر نہیں کیا۔

I did not mention your recitation (then recitations).

5074

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی .... الخ"، بہترین زمانہ میرا ہے پھروہ لوگ پیچوان کے بعد متصل پیچوڑ

وہ لوگ پیچوان کے بعد متصل پیچوڑ کی قوم آئے گی۔ جن کی گوائی ان کی فتنہ سے پہلے ہوگی اور

جن کی فتنہ ان کی گوائی سے پہلے ہوگی۔ (متفق علیہ)

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of people are my generation, then those who follow them, then those who follow them. Then people will come whose testimony precedes their oath, and their oath precedes their testimony. [Agreed upon]

5075

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قبیلہ کے ایک آدمی اور

قبیلہ حضرموت کا ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میں کی زمین کا ایک مقبرہ پیش

کیا۔ پس حضرتی نے کہا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے لئے کوئی گواہ ہے تو اس سے کہا تمیں سے

اس کے قبضہ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی تیرے لئے تیار ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

کہا تمیں اس کو تم دو لگا کر (وہ تم کہا گے)- خدا کی قسم وہ تمیں جانتا کہ وہ میری زمین سے اور اس کے والد

نے مجھے اس کو غصب کر لیا ہے۔ پس کندی تم کہا نے کے لئے تیار ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: کوئی آدمی (تجویز) قسم کا کرسی کامل نہیں کاٹ لیتا (حاصل کر لیتا ہے)۔ مگر وہ اللہ سے ضرور اس حال

میں ملاقات کرے گا کہ اس کا بات کرنا ہوا ہوگا تو کندی نے کہا وہ اسی (حضرتی) کی زمین ہے۔ (ابوداؤد)

Al-Ash‘ath ibn Qays (may Allah be pleased with him) narrated: A man from Kinda and a man from Hadramawt disputed before the Messenger of Allah (ﷺ) over land in Yemen. The Hadrami said: O Messenger of Allah, my land was usurped by this man’s father, and it is in his hand. He said: Do you have proof? He said: No, but I will make him swear, and by Allah, he knows it is my land his father usurped. The Kindi prepared to swear, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: No one seizes property by an oath except that he meets Allah with his hand severed. The Kindi said: It is his land. [Narrated by Abu Dawud]

5076

علیہ بن واکل رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: قبیلہ حضرموت کا

ایک اور قبیلہ کندہ کے دوآدمی نیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضرتی نے کہا یا

رسول اللہ صلی علیہ وسلم (کندی) میری ایک زمین پر قبضہ کر لیا ہے تو کندی نے کہا وہ میری زمین ہے اور

میرے قبضہ میں ہے۔ اس زمین میں میں اس کا کوئی حق نہیں ہے تو نیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتی

سے فرمایا کیا تیرے لئے گواہ ہے تو اس سے کہا تمیں سے تو آپ پہنے فرمایا تو تیرے لئے اس کی

(کندی کی) قسم ہوگی تو اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسا گناہ گار ہے کہ پرواہ نہیں کرتا وہ کس چیز

پر قسم کے حا ر بہ اور نہ کسی چیز سے پریزگاری اختیار کرتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لے اس کی طرف سے اس کے سوا کوئی صورت نہیں۔ پس وہ قسم کے حا نے کے لے چلا۔ جب وہ پہنچا تو رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگروہ اس کے مال پراس لے قسم کے حا نے کر اس کا مال ظلم سے کھا جا نے تو وہ حقیقًا اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (مسلم)

Alqama ibn Wa’il narrated from his father (may Allah be pleased with him): A man from Hadramawt and a man from Kinda came to the Prophet (ﷺ). The Hadrami said: O Messenger of Allah, this man overpowered me on my land. The Kindi said: It is my land, in my possession, and he has no right to it. The Prophet (ﷺ) said to the Hadrami: Do you have proof? He said: No. He said: Then you have his oath. He said: O Messenger of Allah, the man is immoral, he does not care what he swears to, and he has no scruple about anything. He said: You have nothing from him but that. He went to swear for him, and when he turned away, the Messenger of Allah (ﷺ) said: If he swears to your property to consume it unjustly, he will meet Allah while He turns away from him. [Narrated by Muslim]

5077

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور یہود کے ایک آدمی کے درمیان ایک زمین (مشترکہ) تھی۔ تو وہ مجھے پرانکار کر دیا تو میں نے اس کو نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تیرے لے گواہ ہے؟ تو میں نے کہا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو قسم کہا اور میرا مال لے جا نے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے پرآ یت نازل فرمائی۔ ان الَّذِینَ يَشْتَرُونَ بَعْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہُمْ ثُمَّنَا قَلِیلاً۔ (الآیہ)۔ (یعنی) جو لوگ اللہ کے عہد اور ایمان کے ذریعہ قوتی کی قیمت کی چیز (دنیا) خریدتے ہیں۔ پر ایسے لوگ جس کر ان کے لے آخرت میں کوئی حسنی نہیں ہے۔ (ابوداود ابن ماجہ)

Al-Ash‘ath ibn Qays (may Allah be pleased with him) narrated: There was land between me and a Jew, and he denied me, so I brought him to the Prophet (ﷺ). He said: Do you have proof? I said: No. He said to the Jew: Swear. I said: O Messenger of Allah, then he will swear and take my property. So Allah, Exalted is He, revealed: Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their oaths for a small price [Aal-E-Imran: 77], the verse. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

5078

ذَا رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ لَقَدْ جَاءَكُم بِالْحَقِّ فَأَنَّىٰ تَعْمَلُونَ

فَقَالُوا أَجَعَلْنَا لِشَرِّهِمْ عَلَىٰ أَرْجُلِهِمْ فَيَعْتَدُّونَ

فَإِنَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَفِي الْغُرَابِ الْأَعْمَىٰ

( وَيَوْمَ يُنَادُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا )

سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو کوئی جھوٹی قسم کہا تو جب کہ جانتا ہو کہ وہ اس میں جھوٹا ہے، تاکر اس کے

کسی مسلمان کا مال بڑپ کر لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں لے گا کہ وہ

اس پر غضب ناک ہوگا - چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی "ان اللذین يشترون بعهدِ

الله و ايمانهم ثمنا قليلاً أولئك لا خلاق لهم في الآخرة ولا يكلمهم الله ولا ينظرُ

اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم، ولهم عذاب أليم"، -

( اب شک جولگ اللہ کے عبد اور اپنی قسموں کو تحویل دیسی قیمت کے عوض پچھلے ہیں ہیں وہ

لوگ ہیں جن کا آخرت میں ذکوی حصر ہوگا اور نہ اللہ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ قیامت کے روز

ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا - اور نہ ان کو ( گناہوں سے ) پاک کرے گا - اور ان کے لے

دردن کے عذاب ہوگا - (بخاری،مسلم)

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever swears an oath in which he is immoral, seizing a Muslim’s property with it, and meets Allah on the Day of Resurrection while He is angry with him. So Allah revealed, confirming it: Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their oaths for a small price [Aal-E-Imran: 77], to the end of the verse. [Agreed upon]

6قولہ: قال لليهودی احلف الخ: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مقدمات میں کافر سے بھی مسلمان کی طرح قسم لی جا نے گی۔ (مرقات)

قولہ: من حلف على يمين صبر الخ (جو کوئی جھوٹی قسم کہا نے) میں صبر سے مراد یہ قسم ہے جس میں کسی مسلمان کا مال اثر لینے کی غرض سے آدی عمداً جھوٹ بولتا ہے۔ گویا سے قسم پرخود کو باندھ لیتا ہے۔ میں خود کواس کے لے مقید کر لیتا ہے۔ اور پیہال اس قول "وہو فيها فاجر" (یعنی وہ اس قسم میں جھوٹا ہے) سے میں بات ظاہر اور مراد ہے اور یہ جملہ تکیف میں حال ہے۔ اور اس میں یہ بات رہے کر گوائی میں جھوٹ فنو رکی مجملہ اقسام میں سے ہے۔ اور میں غموس کے معنی میں میں (ماخوذ ازمراقت) اور بزل انجحو و میں سے امن بطال نے کہا کر اس آیت کریہ اور حدیث ثریف سے جہور فقہاء نے میں غموس میں کفارہ کے نے ہو نے پر استدلال کیا ہے۔ کیون کہ حضور علیہ والصلاة والسلام نے اس میں متعلق جو ذکر فرمایا ہے وہ پیہ کر اس میں گناہ ہے اللہ کی نفر مانی ہے۔ سزا اور اثم ہے۔ کر کفارہ کا ذکر میں فرمایا۔ اگر اس میں کفارہ ہوتا تو ضرور اس کا ذکر ہوتا جسیا کر میں منعقدہ میں اس کا ذکر ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا (میں منعقدہ میں) کفارہ دے اور وہ کام کر لے جو بہتر ہے۔ اب منذر نے کہا کر تم ایکوئی حدیث میں جائے جواس میں غموس میں کفارہ واجب قرار دیا و اس لے کے قول پر دلالت کرتی ہو جسیا کر امام شافعی کا قول ہے بلکہ یہ حدیث الن حضرات کے قول پر دلالت کرتی ہے۔ جو کفارہ کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

5079

سید نا عبد اللہ بن انبس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ، اللہ کے ساتھ تھرک کرنا، والدین کی

نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم کرنا ہے۔ جس کسی نے اللہ کی جھوٹی قسم کرتا ہے تو وہ جہنم میں

اوراس میں پچھرے پرے برابر جھوٹ کوشال کر دیا تو اس کے دل میں قیامت تک کے لے ایک

(سیاہ) کلتہ رکھ دیا جاتے گا - (ترمذی شریف)

Abdullah ibn Unays (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Among the greatest of major sins are associating partners with Allah, disobedience to parents, the ghamus oath, and if a swearer swears a deliberate false oath by Allah, even inserting the wing of a mosquito into it, it becomes a blemish in his heart until the Day of Resurrection. [Narrated by al-Tirmidhi]

5080

ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: "جو کوئی شخص اپنی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق اڑا لے تو اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو واجب کر دیتا

ہے اور جنت کو اس برہام فرماتا ہے۔ آپ نے ایک شخص نے عرض کیا: اگر چوہ کوئی معنوی چیز ہو؟ تو

رسول اللہ ! تو آپ عیسے نے فرمایا اگر چوہ پیلو کے درخت کی ایک چھڑی میں کیون نہ ہو - (مسلم)

Abu Umama (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever seizes a Muslim’s right with his oath, Allah has made the Fire obligatory for him and forbidden Paradise to him. A man said to him: Even if it is something minor, O Messenger of Allah? He said: Even if it is a twig from an arak tree. [Narrated by Muslim]

5081

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے

ایک آدمی سے فرمایا، جس کو آپ نے قسم دلانی کرتے وقت کہا و اللہ کے سوا کوئی معبد نہیں

قولہ: احلف باللہ الذی لااله الا هو ...... الخ : لعن اللہ کی قسم میں اللہ تعالیٰ کے اوصاف کے ذکر کے

ذریعہ میں کچھ کی جائے گی - لعن اللہ تعالیٰ کے اوصاف کے ذکر کے میں تاکید پیدا کی جائے گی - اور قسم میں کچھ

کی جائے گی جسے اللہ کی قسم کے جس کے سوا کوئی لااق عبادت نہیں جو غیر اور شہادت کا جائے نہ والہہ برہامہر بان نہایت

رحم والاحہ - پوشیدہ اور علائی کیسال طور پر جائے کہ اس فلال کانہ تیرے اور پاور نہ تیرے پاس وہ چیزہ جس کا اس

کے دعوی کیاہے اور نہ اس میں کوئی چیز - یا س لے کے کوگون کے احوال مختلف ہوتے ہیں بعض لوگ وہ ہوتے ہیں

قسم میں کچھ کی وجہ سے قسم کہانے سے رک جائے ہیں اور نہ تو قسم کے لے کوئی حیلہ کر لیتا ہیں - لہذا اس قسم میں

کچھ کی جائے گی تاکہ وہ اس کی وجہ سے رک جائے - (ماخوذ از زیلی، درختار، رواجتار)

Ibn Abbas narrated that the Prophet (ﷺ) said to a man he made swear: Swear by Allah, the One besides Whom there is no god, that the claimant has nothing with you. [Narrated by Abu Dawud]

5082

کہ تمہارے پاس اس کی لحمی معیت کوئی چیز نہیں ہے۔ (ابوداؤد)

حصین سے روایت ہے کہ اہول نے ابوعطفل مری کو فرماے ہوئے سنکہ

زید بن ثابت اور ابن مطج ایک گھر کے بارے میں جوان دونوں کے درمیان تحامروان بن حم کے پاس مقدرمہ

لے گئے جو میں کا گوز تقوا مردان نے زید بن ثابت کو منبر رشتم کہا نے کافیصل دیا تو زید بن ثابت نے فرمایا

میں اس کے لئے اپنی جلد رشم کہاونے کا تو مردان نے کہا خدا کی قسم (قسم) نہیں (ہوئی چاہیے): مگر حقوق دے

جانے کے مقام پر میں اہول نے کہا کر زید بن ثابت (اپنی جلد پر) رشم کہا نے گہ کران کا حق میں حق ہے اور

منبر پر رشم کہا نے تے انکار کے۔ 9 اہول نے کہا مردان بن حم اس پر تجب کرنے لگا۔

وقولہ: ویابی ان يحلف على المنبر (اور منبر پر رشم کہا نے تے انکار کیا) اس لئے ہمارے پاس مسلمان پر

کسی خاص زمان ومكان میں رشم کہا نے کے لئے نہیں کی جائے کی کیون کہ کسی خاص زمان میں رشم کہا نے کے لئے نہیں

کرنے کے اس زمان اور اس جلد میں رشم کے لئے معی کے حق کوموخر نا الزم آ ے گا کیون کہ تم کے لئے جس مقام کی

تخت کی گئے پاس مقام میں تخت کی تاخیر ہوجائے گی ہوجائے نہیں۔

اور بدایی کی ظاہر عبارت میں تغییر کے واجب ہوئے کی نہیں ہے اس لئے تغییر کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اور

کتاب محیط کی عبارت سے اس کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے بعد کی اس بات کا ذکر ہے کہ کسی خاص جلد کے لئے

تخت کرنا جائز نہیں۔

خلاصہ یہ کہ معی علیہ پرجب رشم کہا نے کی نوبت آئے تو جس مقام میں رشم کہا نا واجب ہے۔ اس جلد رشم کہا نے گا اس

جلد سے اس کو دوسرا طرف نہیں لے جایا جائے گا۔

حنفیا و حنابلہ کا بھی قول ہے اور امام بخاری رحم اللہ میلان کہ ای طرف ہے امام شافعی رحم اللہ کے ایک قول میں کسی خاص

جلد یاز ما نے میں رشم کے لئے تخت کرنا مستحب ہے اور ان کے ایک قول میں خاص جلد اور زمانے میں رشم کے لئے تخت کرنا واجب ہے۔

رشتم کے لئے خاص زمان تو ہو گمعہ کے دن عصر کی بعد ہے اب رہا جلد کے بارے میں تو اگر وہ کہ میں ہے تو تجر

اسودا ور مقام ابراہیم کے درمیان اور میں طیب میں ہے قو نہیں اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر الطہر کے پاس اور اگر بیت المقدس

میں ہے تو تخرہ کے پاس اور اس کے سوا کسی مقام ہے تو جامع مسجد میں اور اگر جامع مسجد نہیں ہے تو دوسرا مساجد میں۔

اور ہماری ریل امام ما کا اور امام بخاری بیکی روایت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک جو مطلق

ہے اس میں الیمین علی من انکر تم اس پر ہے جوان کار کے اس کو سی زمانے یام کان سے خاص کرنا لئے پرزیادتی

ہے اور بیخ ہے۔ اور اگر تم بیکو کہ مالف جماعت نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی علیہ روایت سے استدلال کیا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا جوآ دی میرے اس منبر شریف کے پاس جحوئی رشم کہا نے گا تو ہے دوزخ میں اپنا

ٹھکانا بنالیا۔ اس کا جواب یہ میکہ یہ دیتے نہیں ہے۔ اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہیں ارشاد کے

خلاف ہے۔ جو مطلق ہے۔ لیکن البینة علی المدعی و الیمین علی من انکر اور خبر واحد سے جس کی صحہ معلوم ہے

کسی زمانہ یا جلد کی خصوص کا اضافہ کرنا جائز نہیں۔ (ماخوذ از شروح کنز، عمدہ القاری، بنایی)

Dawud ibn al-Husayn narrated that he heard Abu Ghatafan al-Murri say: Zayd ibn Thabit and Ibn Muti‘ disputed over a house between them before Marwan ibn al-Hakam, who was the governor of Madinah. Marwan ruled that Zayd ibn Thabit must swear on the pulpit. Zayd said: I will swear for him in my place. Marwan said: No, by Allah, only at the place where rights are settled. Zayd began swearing that his right was true but refused to swear on the pulpit. Marwan was amazed at that. [Narrated by Malik]

Al-Bukhari mentioned it in his Sahih as a ta‘liq, saying: The Prophet (ﷺ) said: Your two witnesses or his oath, without specifying one place over another.

And his statement: 'And he will swear on the pulpit' (and he denied it on the pulpit) indicates that we should not consider it obligatory for a Muslim to swear at a specific time and place, because it is not necessary to swear at a specific time or in this era and this region for the sake of swearing. For you, if a place has been designated for swearing, delaying it in that place would not be permissible. And there is no need to change the apparent meaning of the expression, so it is evident that making changes is permissible. This is also evident from the expression in the book Mahiwt, but after that, it is mentioned that it is not permissible to swear for a specific region. In summary, when the time comes for swearing for Ma'az (RA), wherever it becomes obligatory to swear, he will swear in that region and will not be taken to another place. The Hanafis and Hanbalis also hold this view, and Imam Bukhari (RA) agrees with this. One of Imam Shafi'i's (RA) views is that it is recommended to swear for a specific region or matter, and in another view, it is obligatory to swear for a specific region and time. The specific time for swearing is Friday after Asr prayer. Regarding the specific place, if one is in Makkah, it is between the Black Stone and the Station of Ibrahim, and if one is in Madinah, it is near the pure grave of the Prophet (peace be upon him). If one is in the Al-Aqsa Mosque, it is near the rock, and if it is any other place, it is in the congregational mosque, and if there is no congregational mosque, then in another mosque. Our position follows the tradition of Imam Malik and Imam Bukhari, and the clear guidance of the Prophet (peace be upon him) is that 'the burden of proof is on the claimant, and the oath is on the one who denies.' It is excessive and incorrect to specify a particular time or place for this. If you argue based on the tradition of Jabir (RA) that the Prophet (peace be upon him) said, 'Whoever swears falsely by this honorable pulpit will have his abode in Hellfire,' the response is that this does not apply here. This statement contradicts the clear guidance of the Prophet (peace be upon him), which is that 'the burden of proof is on the claimant, and the oath is on the one who denies.' However, the burden of proof is on the claimant, and the oath is on the one who denies, and it is not permissible to add specificity to a particular time or place from a single report whose authenticity is known. (Extracted from Sharh Kanz, Imdad al-Qari, Bina'i)

5083

امام بخاری نے اپنے صحیح میں تعلیقاً اور (موطا امام مالک) اس کا ذکر کیا ہے۔

اور کہا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘شہدائے اویمینہ‘‘ (تیرے دو گواہیاں کی وفات)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص جگہ مختص نہیں فرمائی۔

Imam Bukhari mentioned this in his Sahih, and it is also mentioned in the Muwatta of Imam Malik.

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Shuhada al-Umrah' (the death of your two witnesses). The Messenger of Allah ﷺ did not specify any particular place.

5084

ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک اونٹ کے بارے میں دعویٰ کیا۔ پس ان دونوں میں سے

قولة: ان رجلين ادعيا الخ - اس مسئلے کی صورت پیش کی ہے کہ جب دو آدمی کسی چیز کے بارے میں

دعویٰ کے تواس وقت وہ چیز کسی تیسرے آدمی کے پاس میں تھی۔ اوران دو نوں کے پاس یا ان دونوں میں سے کسی ایک

کے پاس کوئی ویل نہیں تھی۔ اور تیسرے شخص کے بارے میں یا کہ کسی جاندار کی یا کوئی دو نوں کی ہے یا

تم دونوں کے سوا کسی دوسرے کی بہ نہیں معلوم۔ تو اس کا حکم یہ ہے کہ دونوں میں کوئی درمیان قرآن عزّلاجا بنے گا

اوران دونوں میں سے جس کے لیے مجھی قرآن نکل گا وہ اس (قرعہ) کے ساتھ قسم کھائے گا اور اس کے لیے اس چیز کا

فیصلہ کردیا جائے گا اورسیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہی بات فرمائی ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس تیسرے، یہ

کے پاتھ میں اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس اس کو دو معايں کے درمیان آ دها آدھا کر

دیا جائے گا۔ اور ابن ملک نے کہا کر امام احمد رحمہ اللہ نے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے ایک قول میں سیدنا علی رضی اللہ

عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے اور انہوں نے اپنے ایک دوسرا قول میں کہا ہے جو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مجھی قول ہے

کر اس کو دو معايں کے درمیان ان سے قسم لے کر دو آدھے آدھے تقسیم کردیا جائے گا اور ایک قول میں آپ نے فرمایا

تیسرے کے پاتھ میں اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ (مرقات)

اور صاحب بدایی نے کہا جب دو آدمی کسی ایک چیز کے بارے میں دعویٰ کریں جو کسی اور کے پاتھ میں ہے اور ان

دونوں میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چیز اس کی ہے اور دونوں کسی دلیل قائم کریں تو اس چیزوں دونوں کے لیے

فیصلہ کردیا جائے گا اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے ایک قول میں فرمایا کہ وہ دونوں ساقط ہو جائیں گے۔ اور ان کے ایک

قول میں ہے کہ ان دونوں کے درمیان قرآن عزّلاجا بنے گا۔ اور کتاب کفایہ میں ہے۔ یہ مسئلہ میں ملک متعلق ہے

کیونکہ وہ ملک جو کسی خاص سبب یا تاریخ سے مقید ہوا س میں اختلاف اور تفصیل ہے۔

فقضی بہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للذى فى يده صاحب بدایی نے کہا اور اگر وہ جس کا قبضہ میں ہے

اور وہ جس کے قبضہ میں ہے۔ دونوں میں سے ہر ایک گواہ پیش کرے کہ اس کا نتاج (ماکہ ہے)۔ ہے تو جس کے قبضہ

میں ہے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ اور شرح السنہ میں ہے فقہاء نے کہا ہے کہ جب دو آدمی دعویٰ کریں کسی چوپائی کی

اور چیز کے بارے میں اور وہ ان میں سے ایک کے قبضہ میں ہے تو اس آدمی کی ہے۔ جس کے قبضہ میں ہے۔ اور وہ اس پر

قتہ مجھی کہا یہاں البتہ اگر دو مر اس پر دلیل قائم کر دے تو اس کے لیے اس کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور اگر ان دونوں میں

ہر ایک نے دوگاہوں کوپیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان دونوں کے درمیان آ دعا آدھا تقسیم فرمایا (ابوداود نسائی)

Abu Musa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) narrated that two men claimed a camel during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). Each provided two witnesses, so the Prophet (ﷺ) divided it between them in halves. [Narrated by Abu Dawud]

In a narration by Abu Dawud, al-Nasa’i, and Ibn Majah: Two men claimed a camel, neither having proof, so the Prophet (ﷺ) divided it between them.

Ibn Abi Shayba and Abd al-Razzaq narrated from Tamim ibn Tarafa that two men claimed a camel, each providing proof that it was his, so the Prophet (ﷺ) ruled it be divided between them.

In al-Bayhaqi’s Sunan, from Sa‘id ibn Abi Burda from his father, two men disputed before the Prophet (ﷺ) over an animal, neither having proof, so he divided it between them in halves. The hadith about lots was in early Islam and was later abrogated, as al-Tahawi clarified.

The case is presented as follows: when two individuals make a claim about something that was in the possession of a third person, and neither of the two has any evidence, or one of them does not have any evidence, and it is unknown whether the third person or some living being or someone other than these two has any right to it, then the ruling is that the Quran will be used as a means of arbitration between the two. The one for whom the Quran is drawn will take an oath, and the matter will be decided in his favor. This is what Sayyiduna Ali (RA) has stated. According to Imam Shafi (RA), in the case of the third person, this will be disregarded. According to Imam-e-Azam Abu Hanifa (RA), it will be divided equally between the two. Ibn Malik said that Imam Ahmad (RA) and Imam Shafi (RA) have adopted the view of Sayyiduna Ali (RA) in one of their opinions, and in another opinion, they have said that the matter should be resolved by taking an oath from both and dividing it equally. In one opinion, they have said that it should be left with the third person. (Mirqat)

And the author of Bada'i has said that when two individuals make a claim about something that is in the possession of another, and each claims that it belongs to him, and neither can provide any evidence, then the matter will be decided in favor of the possessor. Imam Shafi (RA) has said in one of his opinions that both will be dismissed, and in another opinion, he has said that the Quran will be used as a means of arbitration between them. This issue is related to ownership because there is a difference and detail in the ownership that is restricted by a specific cause or date.

The Prophet (SAW) ruled in favor of the one who had possession, as stated by the author of Bada'i. If both present witnesses claiming that it is their offspring, then the one who has possession has more right to it. It is mentioned in Sharh al-Sunnah that the jurists have said that when two individuals make a claim about a found object, and it is in the possession of one of them, it belongs to the one who has possession. This is the rule here, but if both present evidence, then the matter will be decided accordingly. If both present two witnesses each, then the Prophet (SAW) divided it equally between them (Abu Dawud, Nasa'i).

5085

اورابن ماجہ کی ایک روایت میں بھ کر دوآ دمیول نے ایک اونٹ کے بارے میں دعوی کیا ان دونوں میں سے کسی کے پاس جوہی گواہی میں چو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (اونٹ) کو دونوں کے درمیان مقرر فرما دیا۔

It is narrated on the authority of Ibn Majah that Dua Dammi made a claim regarding a camel, and neither of the two had a witness, so the Messenger of Allah ﷺ ordered that the camel be placed between them.
5086

ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق نے تھیم بن طرف نے روایت کیاہ کر دوآ دمیول نے ایک اونٹ کے بارے میں دعوی کیا ان میں سے ہر ایک نے دلیل قائم کی کہ وہ اونٹ اس کا ہے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما یا۔

Abu Musa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) narrated that two men claimed a camel during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). Each provided two witnesses, so the Prophet (ﷺ) divided it between them in halves. [Narrated by Abu Dawud]

In a narration by Abu Dawud, al-Nasa’i, and Ibn Majah: Two men claimed a camel, neither having proof, so the Prophet (ﷺ) divided it between them.

Ibn Abi Shayba and Abd al-Razzaq narrated from Tamim ibn Tarafa that two men claimed a camel, each providing proof that it was his, so the Prophet (ﷺ) ruled it be divided between them.

In al-Bayhaqi’s Sunan, from Sa‘id ibn Abi Burda from his father, two men disputed before the Prophet (ﷺ) over an animal, neither having proof, so he divided it between them in halves. The hadith about lots was in early Islam and was later abrogated, as al-Tahawi clarified.

5087

امام طحاوی نے اپنی سنن میں سعید بن الوبدرہ سے ایک روایت نقل کی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ دوآ دی ایک جانور کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدوم لے کر گئے ان میں سے کسی کے پاس جوہی دلیل چوپایی میں چوآ پ نے اس کو ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا کر دیا۔ قرعن ذا لن کی حدیث شریف کا حکم شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا امام طحاوی نے اس کو بیان کیاہ۔

Imam Tirmidhi narrated from Sa'id bin al-Ubaid that he narrated from his father that

a man brought two animals as a gift to the service of the Messenger of Allah ﷺ. One of them had a defect in its heart, and the Prophet ﷺ divided it between the two of them, half and half. The command of the noble verse was in the early days of Islam, then it was abrogated, as Imam Tirmidhi explained.

5088

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ دوآ دی ایک چوپایی کے بارے میں دعوی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے گواہ پیش کر کہ وہ اس کی سواری ہے جس کو اس نے جفت کر کے جناپ کے تور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ اس آدی کے حق

میں دیا جس کے قبضہ میں پیرجا نور تھا - (شرح السنن)

Jabir ibn Abdullah narrated that two men disputed over an animal, each providing proof that it was his offspring. The Messenger of Allah (ﷺ) ruled for the one in possession. [Narrated in Sharh al-Sunna]

تے ہر ایک گواہ پیش کر دے تو قبضہ وا لے کے گواہ کو ترچ حاصل رہے گی اور امام اعظم ابوحنیفہ رحم اللہ کے اصحاب کا نہیب یہ کہ قبضہ وا لے کے گواہ کا اعتبار نہیں کیا جاے گا اور وہ غیر قابل کا ہوگا اور اگر پچے کے جزوا نے سے متعلق دعوی ہواور هفریق پر دعوی کر کے کہی جانور میری ملکیت ہے اور میں نے اس کو جنوا کیہ اور اپنے دعوی پر گواہ پیش کرے تو قبضہ وا لے کے حق میں فیصلہ کیا جاے گا اور اگر وہ پیزر دونوں کے قبضہ میں ہے تو دونوں سے مملوا کی جاے گی اور اس پیچ کو ہر ایک کے قبضہ کے مطابق تقسیم کر دیا جاے گا اور اسی طرح (اگر وہ دونوں میں سے کسی کے جوہی قبضہ میں نہ ہواور ہر ایک اس پر دلیل قائم کرے تو (دونوں کے درمیان اس کو تقسیم کر دیا جاے گا)

5089

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرمایا کہ جائزہ بیس 11 گوائی خیانت کرنے والے مرداور خیانت کرنے والی عورت کی اور جائزہ

لا تجوز شہادہ خائن الخ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے مراد لوگوں کی امنتوں میں خیانت

ہواوراس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس سے عام معنی مراد ہونے جس میں جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں خیانت کرنا بھی شامل

ہے اور یہ بہت میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں موجود ہیں - یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَ الرَّسُولَ

وَ تَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ . (سورۃ الانفال،آیت نمبر: 27) (اے ایمان والوالد اور رسول کے ساتھ خیانت مت کرواورا پھی

ا منتوں میں خیانت مت کرو) پس خاص سے مراد فاسق ہے اور ایسی صورت میں محل و اور زانی وغیرہ کا سے بعد ذکر

بطورمثال کے ہے اور ان دونوں کو اس پر عطف کرنا عام پرخاص کے عطف کے قبل سے ہے اور بیان دونوں کی خیانت

برطیہوں کی وجہ سے ہے اور حضور علی الصلاۃ والسلام کا ارشاد و لا مجлюд الخ (اوراس کی گوائی بھی قبول نہیں کی

جاے گی جس کو حد کے بطور کوڑے لگائے گے ہیں) غیر شادی شدہ زانی اور تہمت لگانے والے اور شراب پینے والے

سب کو شامل ہے کیونکہ تہمت کی سزا میں جس کو کوڑے لگائے گے ہیں اس کی گوائی اگر چیک وہ تو برکرے امام اعظم ابوحنیفہ

رحمہ اللہ کے پاس بھی بھی قبول نہیں کی جائے گی - اگر چیک وہ تو برکرے آیت کریم میں ارشاد خداوندی : " وَ لَا تَقْبَلُوا

لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا، وَ أُولَئِكَ هُمُ الْفِسْقُونَ . إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا " کا عطف ارشاد خداوندی ہے " فَاجْلِدُوْهُمْ

ثَمَانِيَنَ جَلْدَةً " (تم ان کو اس کوڑے مارو) پر ہے اوراس میں ان کی گوائی کو قبول نہ کرنا ان کی حد (سزا) کا عمل ہے

اور " إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا " استثناء " الْفِسْقُونَ " سے اس کے برخلاف تہمت کے سوا کسی بھی جرم میں جن پر حد گاہی

گئی ہے جیسے زنا، چوری، شراب نوشی تو ان کی گوائی سے تو برکرے کے بعد ہمارے پاس بھی قبول کی جائے گے - کیونکہ ان

کی گوائی کا رد ہونا فسق کی وجہ سے قطع حد کے تکملہ کے طور پر میں ہے، جسیا کہ تہمت کی حد گئی والے کے متعلق ہے اور

ان کا فسق قبول کی وجہ سے ختم ہو گیا - (لمہذا ان کی تو بر قبول کی جائے گی ) اور دیگر اتمہ کرام اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے

ہیں کہ تہمت لگانا (قدف) بھی مجمل فسق کے ہے اس کا تعلق اقامت حد سے نہیں ہے بلکہ اگر وہ تو برکرے تو اس کی

گوائی بھی دیگر حدود کی طرح قبول کی جائے گی - خواہ اس کو حد لگائی گئی ہو یاحد نہیں لگائی گئی -

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد : ' و لا ذی غمر علی اخيه"، لعن کی رسم نہیں کی گوائی قبول نہیں کی جائے گی -

دشمن سے مراد کسی دشمن کے سب سے دشمن مرادہ اب رباویں کے سب سے جو مخالف ہے تو اس کی گوائی قبول کی جائے

گی کیونکہ پر دشمنی ربنی سب سے ہے برخلاف دینوی دشمنی کے اسس اس کے خلاف ججوی با تین گطر نے کا اس سے

اندیشہ ہے -

اب رباوست کی گوائی دوست کے لے تو اس کو قبول کیا جائے گا - مگر جب وہ دوست اس قدر گہری ہو کہ وہ ایک دوسرے

کے مال میں تصرف کرتے ہیں تو اس وقت قبول نہیں کیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرا می : ولا ءاور شترداری .......

نہیں گوائی ایسے شخص کی جس پر حد (جبھی حد قذف) جاری کی گئی ہو۔ اور جائز نہیں ایسے آدمی کی جو دشمنی رکھتا ہے اپنے بھائی کے خلاف (جس سے وہ دشمنی رکھتا ہے) اور جائز نہیں ہے ایسے آدمی کی جو مہتمم ہے والاء کے بارے میں اور نہ ایسے آدمی کو جو مہتمم ہے رشتہ داری کے بارے میں اور نہ ایسے آدمی کی جو قوانغ ہے (جبھی تابع و خادم ہے) کسی غیر والول کا۔ (تزندی)

It is narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

The testimony of twenty men who commit adultery and the testimony of twenty women who commit adultery is not accepted.

In this, there is a possibility that it refers to betrayal in people's trusts, and there is also a possibility that it refers to the general meaning, which includes betraying Allah’s commands as well. This is evident in Allah’s guidance: “O you who believe! Betray not Allah and His Messenger, nor betray knowingly your trusts.” (Surah Al-Anfal, Verse 27) (O believers, do not betray Allah and His Messenger, nor betray your trusts.) Thus, the specific reference is to the sinner, and in such a case, the mention of theft, adultery, etc., is by way of example. The conjunction of these two is before the general and specific, and the betrayal of both is due to their vices. And the guidance of the Prophet (peace be upon him) states: “And his testimony shall not be accepted if he has been lashed for slander” (and his testimony shall not be accepted if he has been lashed for slander). This includes the unmarried adulterer, the accuser, and the drinker, because the testimony of those who have been lashed for slander is not accepted even according to Imam Abu Hanifah (RA) – if it is verified. The divine guidance in the noble verse: “And do not accept their testimony forever; they are indeed the sinners. Except those who repent” (Quran 24:4) is connected to the divine guidance: “Flog them with eighty lashes” (flog them with eighty lashes). Not accepting their testimony is part of their punishment, and “Except those who repent” is an exception to “the sinners.” This means that after their repentance, their testimony will be accepted in any crime for which they have been punished, such as adultery, theft, or drinking – because the rejection of their testimony is due to their sin, which is a complement to the completion of the punishment, as in the case of those who have been punished for slander, and their sin ends with acceptance. (Therefore, their testimony will be accepted). Other scholars and Imam Shafi (RA) say that accusing someone of adultery (slander) is a major sin and is not related to the implementation of the punishment. If they repent, their testimony will be accepted like other punishments – whether they have been punished or not. And the guidance of the Prophet (peace be upon him): ‘Do not curse your brother,’ means that the testimony of one who curses is not accepted. The term 'enemy' refers to the most hostile enemy, i.e., the one who is most opposed to the religious enemy. Therefore, the testimony of the religious enemy will be accepted because enmity towards the religious enemy is the greatest, and there is no fear of bias or favoritism. The testimony of a friend will be accepted unless the friendship is so deep that they interfere in each other's property. The guidance of the Prophet (peace be upon him) states: ‘Do not accept the testimony of a person who has been lashed for slander.’ It is not permissible to accept the testimony of someone who harbors enmity against his brother (whom he hates), nor is it permissible to accept the testimony of someone who is biased in matters of loyalty or kinship, nor of someone who is a subordinate (a servant or follower) of another person (a non-relative).

5090

عمر و بن شعیب ایسے والد سے اور ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی گوائی درست نہیں ہے۔ اور نہ زنا کار مرد و عورت کی اور نہ اپنے بھائی کے

میں مہتمم کی گوائی قبول نہیں کی جائے گی۔ اس میں ظنین کے معنی مہتمم کے ہیں پیروزن فعلی (صیغہ صفت) اتم مفعول کے معنی میں ہے اور یلفظ ظنین سے اس کے معنی تہمت کے ہیں لیجنی جوآدمی (آزاد کردو غلام) اپنے آقاء کے طرف کر دوسرو کی طرف اپنی نسبت کرے اور کچھ کر میں فلال کا آزاد کردو ہیون اوروہ اپنے اس قول میں ججوطا ہوااوروہ اپنے اس ججوط میں مشہور ہواس طرح کر لوگ اس کے اپنے اس قول میں اس پر تہمت رکھے ہیں اور اس کو ججوطا کہتے ہیں تو اس کی گوائی قبول نہیں کی جائے گی کیوںکہ وہ فاسق ہے کیوںکہ و لا میں ججوط بولنا پچ آزاد کرنے والے آقا کے خود کو کٹ لینے اور جواس کو آزاد کرنے والانیس ہے اس کی طرف خود کو منسوب کرنا ہے اور پیگنا کہ بیرہ ہے (علاء نے ایسائی کہا ہے)۔ اور ایسائی حکم ہے رشتہ داری میں ججوطا دعوی کرنے والے کا اور اس بارے میں لعنت آئی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: والقانع مع اهل البيت (کسی غیر والول کا تابع، خادم) لیجنی جوآدمی خاص مستاجر کا مزدور ہوسالا نہ یاما اپنا اجرت پر کام کرنے والا ہو یا س کا خادم یا س کے ماتحت یا س کا ایسا خاص شاگرد ہواستاز کے ضرر سے اس کو ضرر پہنچا لے اور استاذ کے فزع سے اس کو فزع پہنچا ہوتا ایسا قائل (تابع) کی گوائی باب پاور میں کی گوائی کی طرح ہے اور حضور علیہ والصلات والسلام کا ارشاد: لا شہادة للقانع باهل البيت سے مرادوہ آدی ہے جواپنی معیشت ان سے حاصل کرنے والابہ یلفظ (تابع) قنوع سے ہے قناعت سے نہیں ہے۔ اور اس کا مفاد یہوگا کہ مستاجر کی (مزدور کے کام لین والی کی) اور استاذ کی گوائی اس کے لے قبول کی جائے گی۔ اب رباوہ جوسیدنا ابو بریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ بادی نشین (دیہاتی) کی گوائی آبادی میں ربنے والے کے خلاف جائز نہیں سے تو اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ یہ گوائی مناسب نہیں ہے کیوںکہ دونوں کے درمیان مسافت کی دوری ہووے کی وجہ سے تہمت کا امکان ہے۔ اس لے سواے امام ماک کے اکثر ابل علم نے کہا ہے کہ بدوي (جنگل میں ربنے والے) کی گوائی جواب کر دہ پرتیزگار ہواور تحیک تحیک گوائی دے سکتا ہے تو اس کی گوائی جائز ہے۔ (ماخوذ ازلمعات، ہدايے، درختار، بذل الججوو)

خلاف دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے ایک گھر والوں کے قلع (جمن

تاوع و خادم) کی گواہی کورد کردیا۔ (ابوداود)

Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), narrated that the Prophet (ﷺ) said: The testimony of a treacherous man or woman, an adulterer or adulteress, one with enmity toward his brother is not permissible, and he rejected the testimony of a dependent of the household. [Narrated by Abu Dawud]

In this, the meaning of 'ẓannin' is 'muhimm' (significant) and it is used as a verbal noun (ṣighah ṣifah) in the sense of an object. The word 'ẓannin' implies 'tuhmat' (accusation). This refers to a person (a freed slave) who claims to be related to his master and disclaims any relation to others, and who is freed by someone else. In such a case, if he persists in his claim and becomes known for it, people will accuse him of lying, and his statement will not be accepted because he is a fasiq (sinner). This is because in his claim, he is essentially cutting off his own master and attributing himself to someone else, which is a form of lying. Al-ʿAla has said that this is a command regarding those who falsely claim kinship, and a curse has been pronounced upon them. And the guidance of the Prophet (peace be upon him) is: 'There is no testimony for the qana‘i among the people of the household.' This refers to a person who earns his living from them, whether he is a hired laborer, a servant, a subordinate, or a specific disciple, and who causes harm to his employer or brings fear upon him due to the employer's authority. Such a person's statement is like the statement of a follower (qana‘i) and is not accepted. The guidance of the Prophet (peace be upon him) is: 'There is no testimony for the qana‘i among the people of the household.' This means a person who earns his living from them, but the term 'qana‘i' here is derived from 'qana‘ah' (contentment), not from 'qana‘ah' (satisfaction). The implication is that the statement of the employer (the one who hires the laborer) and the master will be accepted. Now, as narrated by Abu Barirah (may Allah be pleased with him), the testimony of a Bedouin (rural dweller) against an urban dweller is not permissible. The meaning of this noble hadith is that this testimony is not appropriate because there is a distance between them, which can lead to suspicion. Therefore, most scholars, except Imam Maq, have said that the testimony of a Bedouin (one who lives in the wilderness) is admissible if he is a reliable and trustworthy witness, and his testimony is valid. (Extracted from Luma‘at, Hidayah, Durar, and Bidayat al-Jujuw)

The testimony of an enemy is valid. And the Prophet (peace be upon him) accepted the testimony of a household's guardian (master and servant). (Abu Dawud)

5091

سیدنا عبد اللہ بن زبر ضی اللہ تعالیٰ عزّتے مردی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصل فرمایا کہ دونوں 12 فریقین کو حاکم کے روبرو بٹھا یاجائے۔ (احمد، ابوداود)

Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the two disputants sit before the judge. [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]

5092

سیدنا ام سلمہ ضی اللہ عنتہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: میں ایک انسان کی ہونا اور پیکہ تم میرے پاس مقدمہ پیش کرتے ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ تم میں

کاکوئی اپنی جگت میں بظاہر دوسروں سے زیادہ وا رح ہواور میں اس سے سماعت کردو بیان کے مطابق

اس کے حق میں فیصل کر دوالوں گا۔ پیں جس کے حق میں اس کے بجاۓ کے تحولے سے بھی حق کا

فیصلہ ہو جائے تو وہ اس کو ہرگز ہرگز نہ لے۔ کیونکہ میں اس کے حق میں صرف آگے کے ایک حصہ کو

اللہ کر پاہول۔ (بخاری، مسلم)

اور حدیث کو جگت بنایا ہے ان حضرات نے جمن کی راہ میں حاکم اپنے علم کی بناء پر فیصلہ نہیں کرسکتا

ہے۔ کہر موجودہ زمانہ میں ہمارے (حنفی) کے پاس جس قاضی کے علم پر عمل کرنے پر، یفتوی ہے۔ 13

قولہ : ان الخصمین يقعدان بين يدى الحاكم۔ اس لے صاحب بداییں کہ اجب وہ دونوں

(فریقین) آجا ئیں تو ان دونوں کے درمیان بٹھنے میں اور متوجہ ہو نے میں برابری رکے۔

قولہ : الفتوى اليوم عندنا على عدم العمل بعلم القاضى فى زماننا (آج فتوی ہمارے زمانے میں اس

بات پر ہے کہ قاضی اس علم پر فیصلہ نہیں دے گا) ہمارے نہہب کے مطالب اصل میں پیجا نہیں ہے اور امام اعظم ابوحذیفہ رحمہ اللہ

کے پاس اس کے جائز ہو نے کے لے شرط ہے کہ وہ (قاضی) اپنے منصب قضاء کے زمانے میں جس شہر میں وہ قاضی ہے۔

و بال حدود کے سوا جو حقوق خاص اللہ تعالیٰ کے میں اس سے واقف ہو جائے جسے قرض یا خرید و فروخت یا غصب یاطلاق یا قتل

عمدا و رحد قد ف و غيرہ۔ پس اگر وہ حقوق العباد کے منصب قضاء سے پہلے واقف ہو جائے پھر وہ اس منصب کا زمدا ر دانا گیا

ہواور وہ واقعہ اس کے سامنے پیش ہوا پیاوہ اس سے منصب قضاء سے پہلے دوسرا شہر میں واقف ہوا ہو پھر وہ اس شہر میں داخل

ہواور اس کے بعد وہ مقدرہ پیش ہوا تو امام کے پاس اس پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اور محدث عبد الرزاق نے ثرتنے سے اس جیسی

روایت کی ہے۔ اور آپ نے پیجی فرمایا کہ اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ اور اس طرح مسلیم کی اختلاف ہے کہ اگر وہ اس

سے واقف ہوا س وقت جب کہ وہ اس کے شہر میں قاضی تھا پھر معزول کیا گیا پھر دوبارہ قاضی بنایا گیا ہو۔

اب رباشراب اور زنا کی حدود کے بارے میں تو بالافق قاضی کا فیصلہ اس کے علم کی بناء پر نافذ نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر)

اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے ان حدود میں جوخاص اللہ تعالیٰ کے لے میں اس میں (قاضی کا اپنے علم پر فیصلہ کرنا)

نافذ نہیں ہوگا۔ جسیا کہ ثرحا اوب القضاء میں اس کی صراح کی گئی ہے اس کی جہیت کی گئی ہے کہ مسلماون میں سے ہر ایک......

Umm Salama (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: I am only human, and you bring disputes to me. Some of you may be more eloquent in argument than others, so I rule for him based on what I hear. Whoever I rule for, taking his brother’s right, let him not take it, for I only assign him a portion of the Fire. [Agreed upon]

This was cited by those who hold that a judge should not rule based on his knowledge. The fatwa today, with us, is not to act on the judge’s knowledge in our time.

Muhammad (may Allah have mercy on him) said in al-Asl: It reached us from Ali (may Allah honor his face) that a man presented proof before him that he married a woman, but she denied it. He ruled for him with the woman. She said: He did not marry me, but since you ruled against me, renew my marriage. He said: I will not renew your marriage; the two witnesses married you. He said: This is what we take, supported by what was narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) about the mutual cursers.

And these scholars have made this hadith a basis for the principle that a judge cannot make a decision based on his own knowledge in matters of punishment. In our time, according to the Hanafi school, it is the opinion that a judge should not rule based on his own knowledge. The statement: 'The two litigants must sit before the judge' implies that when both parties are present, the judge should treat them equally and pay equal attention to both. The statement: 'Today, our opinion is that in our time, a judge should not rule based on his own knowledge' means that the principles of our school do not allow this, and Imam Abu Hanifah (RA) considered it permissible under certain conditions, such as if the judge was aware of the matter while he was serving as a judge in the city where he was appointed. This applies to rights other than those involving specific punishments for crimes like theft, murder, or adultery, which are the rights of Allah (SWT). If the judge becomes aware of these rights before taking up the position of a judge, then he is considered knowledgeable about them, and if the case comes before him, he can rule on it. However, if he became aware of these rights in another city before taking up the position of a judge, and then entered the city and the case came before him, he cannot rule on it. And it is narrated by the scholar Abd al-Razzaq from Thaur that he said the judge should rule on it. Thus, there is a difference of opinion among Muslim scholars, such that if a judge became aware of a matter while he was a judge in a city, was then removed from his position, and later reappointed, he can rule on it. However, in cases involving the punishments for fornication and slander, a judge's decision based on his own knowledge is not valid. (Fath al-Qadir) From this, it is clear that in matters involving the rights of Allah (SWT), a judge cannot rule based on his own knowledge, as explained in Thaur's commentary on the judiciary, which states that every Muslim...

5093

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کرم اللہ و جھے سے تم کو روایت چنی ہے کر

ایک آدمی ان کے پاس اپنی پیوی پر گواہ قائم کیا کر وہ اس سے شادی کیا ہے پس وہ انکار کی ہے تو

آپ نے اس مرد کے لے پیوی ہوئے کا فیصلہ دیا تو وہ (عورت) کی کر وہ مجھے شادی نہیں کیا

ہے اب رہا آپ پر بھی فیصلہ کر رہے ہیں تو میرے نکاح کی تعریف کی کردتے تو آپ نے فرمایا

میں تیرے نکاح کی تعریف نہیں کروں گا دو گواہوں نے تیرا نکاح پڑھایے 14

اس معاملہ میں قاضی کے بر ابرہ اور جو غیر قاضی ہے آراس کواس کا علم ہو جائے تو وہ حد کو قائم نہیں کرسکتا اس طرح قاضی کا کچھ

حال ہے پس فرق اس حد کے بارے میں جو خاص اللہ کے لئے اوراس حد کے بارے میں جواس کے سوابہ یہ کرتی ہیں

صورت میں بالاتفاق فیصلہ نہیں کرسکتا برخلاف دوسری صورت کے کر قاضی اس میں اپنے علم پر فیصلہ کرسکتا ہے متقد مین کا بھی قول

ہے مگر یہ قول مفتی نہیں ہے اور اب مختار اور معتدل علیہ قول یہ کر قاضی اپنے علم پر مطلق فیصلہ نہیں کرسکتا خواہ اس کو قاضی بنے

کے بعد اس کا علم ہوا یا پیلے وہ معاملہ حد کا ہو یا قصاص کا ہو یا ان کے سوا دیگر حقوق العباد سے ہوا اور موجودہ دور کی قید دور حاضر میں

قاضی صاحبان کے فسادات کی وجہ سے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ نے فرمایا اگر برے قاضی صاحبان سے ہوتے تو ضرور میں یکہتا

کر حاکم کو اپنے علم پر فیصلہ کر نے کا حق ہے پھر انبول نے فرمایا اگر قاضی پرہیز گار ہے تو وہ حد و قصاص میں اپنے علم پر فیصلہ نہ

کرے سوا لے اس کے جس کا اس کے سامنے اقرار کیا گیا ہو اور (ماہق حقوق میں) جس کا اس کو پی منصوب قضاء پر فائز ہوئے

سے پہلے علم ہو یا اس کے بعد علم ہوا ہوا پیلے علم پر فیصلہ کرسکتا ہے پس قاضی کے پرہیز گار ہونے کی قیدے اس باٹ کی طرف

اشارہ ہے کچھ مرتبا لے افراد کی قاضی ہوتے ہیں جو پرہیز گار نہیں ہوتے درختار رداختار نہیں الاوطار)

قولہ: الشاہدان زوّجاک (دو گواہوں نے تیرا نکاح پڑھایا ہے) اس میں اس باٹ کی دلیل ہے کم

جو گواہوں کی گواہی سے ظاہر ہو باطن فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے لیکن نفاذ باطن کے لئے دو شرط ہیں

پہلی شرط یہ کہ قاضی کو گواہوں کے جحوت کا علم نہ ہو اور اگر قاضی کوان کے جحوت کا علم ہو تو اس کا فیصلہ

نا فذ نہیں ہوتا

دوسری شرط یہ کہ محل نکاح (عورت) کا اس کے قابل ہونا پس اگر عورت شوہر والی ہو یاعدت میں ہو یا

مرتبہ ہو یا مصاهرت یارضاعت کی وجہ سے حرمت کا رشتہ ہو تو نافذ نہیں ہوگا اوراس بارے میں علماء کا اختلاف ہے

اس مستند میں ایک جماعت نے اس باٹ کو اختیار کیا ہے کہ وہ فیصلہ اگر مال کے بارے میں ہے اور حقیقت معاملہ اس کے

برخلاف ہے جس پر حاکم نے ظاہر اعتماد کیا ہے تو اس شخص کے لئے جس کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے حلال ہو نے کا

سبب نہیں بن سکتا اور اگر یہ فیصلہ نکاح یا طلاق کے بارے میں ہے تو وہ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نافذ ہو جائے گا اور وہ

حضرت امام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث فمن قضیت لہ بشی من حق اخیہ فلا یاخذنه الحدیث (جس کے

لئے کسی چیز کا میں فیصلہ کردون جو جس کے بجائے کے حق میں سے ہے تو وہ اس کو برگز نہ لے کیونکہ میرا فیصلہ اس کے لئے

دو زخ کا ایک طرف اے) اس حدیث کو مال پر مول کے پیس اس کے سوا دوسری چیز ول میں وہ سید نا علی رضی اللہ عنہ

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا ہے کہ اس (حدیث) کو اختیار کرنا ہیں۔ اور اس کی تا تیر وہ روایت کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولت ان کرنے والوں کے بارے میں مروی ہے۔

(کتاب الاصول)

It is narrated from Imam Muhammad, may Allah have mercy on him, that he said:

A man came to him and testified that he had married a woman, but she denied it. So, he ruled in favor of the man regarding the marriage. She then said, 'He did not marry me.' When he was still making a decision, she said, 'If you confirm my marriage, then I will testify that he did not marry me.' He replied, 'I will not confirm your marriage; let two witnesses testify to your marriage.'

In this case, if a judge becomes aware of a matter and someone who is not a judge also becomes aware of it, the latter cannot enforce the prescribed punishment (ḥadd). This is a particular situation for the judge. There is a difference between the prescribed punishment that is specifically for Allah and the prescribed punishment that they enforce. In such a situation, the judge cannot make a decision by consensus, contrary to other situations where the judge can make a decision based on his knowledge. This is also the view of the early scholars, but this view is not that of a mufti. Now, the chosen and moderate view is that the judge cannot make an absolute decision based on his knowledge, whether he became a judge after acquiring this knowledge or whether the case pertains to a prescribed punishment, retribution (qiṣāṣ), or other rights of people. In the present era, due to the misconduct of judges, Imam Shafi'i (RA) said that if there were good judges, he would certainly unify and give the ruler the right to make decisions based on his knowledge. Then, Anbūl said that if the judge is cautious, he should not make a decision based on his knowledge in matters of prescribed punishments and retribution, except when someone has confessed before him or in matters of rights where he acquired knowledge before or after the judgment was pronounced. Thus, the condition of the judge being cautious points to this aspect. Some individuals become judges who are not cautious and do not adhere to the law.

The statement: 'The two witnesses have married you' (الشاہدان زوّجاک) implies that the inner decision is valid when it is apparent through the testimony of the witnesses. However, for the inner decision to be valid, two conditions must be met:

1. The judge must not be aware of the witnesses' perjury. If the judge knows about their perjury, his decision is still valid.

2. The woman (the subject of the marriage) must be eligible. If the woman is already married, in a waiting period, or has a relationship of prohibition due to fosterage or consent, the decision will not be valid. There is a difference of opinion among scholars regarding this matter.

A group of scholars have adopted the position that if the decision pertains to property and the actual situation is contrary to what the judge has relied upon, it cannot be a cause for the person in whose favor the decision was made to take possession. If the decision pertains to marriage or divorce, it will be valid both outwardly and inwardly in every respect. This is based on the hadith of Lady Aisha (RA): 'Whosoever is given something from the right of his brother, let him not take it, for my decision is one of two wrongs.' (من قضیت له بشی من حق اخیہ فلا یاخذنه الحديث)

This hadith is applied to property taken from its owner. In other matters, Imam Muhammad (RA) said that this hadith should be adopted, and he narrates the tradition concerning those who embezzle wealth. (Kitab al-Usul)

5094

حضرت بن حجیم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک آدمی کو ایک الزام میں قید کیا 15 (ابوداؤد) اور امام کرتے ہیں کہ نیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک الزام میں قید کیا 15 (ابوداؤد) اور امام ترنزی اور امام نسائی کی روایت میں اضافہ ہے کہ پھر آپ علیہ صلواۃ اللہ نے اس کو چھوڑ دیا۔

...... کے قول کے اور دونوں لعان کرنے والوں کے واقعہ کے استدلال کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے لعان کے ذریعہ تفرق ظاہر و باطن دونوں طرح کے نافذ ہوجاتی ہے حالاکہ دونوں میں سے ایک یقیناً گھوٹا ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا بھی قول ہے۔ اور اصل (قاعده) اس میں یہ کہ امام صاحب کے پاس ظاہر میں قاضی کسی بھی چیز کی حرمت اور اس کے حلال ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ باطن میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور دونوں علماء اس مسئلہ میں اس بات کو اختیار کرتے ہیں کہ فیصلہ مال کی تملیک کا ہوا یا ملکیت کو زائل کرنے کا، نکاح کو ثابت کرنے کا یا تفرق کرنے کا ہوا یا سب کچھ کسی اور چیز کا ہوا اگر وہ باطن میں ایسا ہی ہے جسیا وہ ظاہر میں ہے تو حاکم کے فیصلے کے مطابق نافذ ہو جائے گا۔ اور اگر باطن میں حاکم نے جس گواہی وغیرہ پر اعتماد کیا ہے اور وہ باطن میں اس کے خلاف ہے تو یہ فیصلہ ملکیت یا زوال ملکیت یا نکاح یا طلاق وغیرہ کا سبب نہیں بن سکتا۔ بقول امام ابویوسف اور امام محمد کہہ۔ اور یہی قول تیری جماعت اور امام زفر کا ہے کہ ان کے پاس یہ فیصلہ صرف ظاہر میں نافذ ہوگا کیونکہ گھوٹی شہادت باطن میں جحت نہیں ہوتی۔ یہ اس صورت کی طرح ہے جس میں گواہ غلام یا کفارہ ہول۔ اور انہوں نے امام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نذکورہ حدیث کے استدلال کیا ہے۔ شریعت لا یہ میں بر بان سے اس پر فتوی نقل کیا گیا ہے۔ نیز قہستانی میں حقائق سے اس نقل کیا گیا ہے اور حکم ابولا لیث سے اس نقل کیا گیا ہے جس نے انہوں نے کہا ہے کہ اور فتح القدیر میں نکاح سے متعلق بقول امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا ہے اور یہی قول حقیقہ میں کہتا ہو لکہ علم حق اسم نے اپنے رسالہ میں بیان کیا ہے کہ امام اعظم کے قول پر مزید کسی چیز کی نجاٹ نہیں ہے۔ پھراس پر اشکال پیش کرتے امام صاحب کی طرف سے جواب کچھ یاہے اور متن میں کچھ بات ہے اس کی مزید تفصیل مطولہ میں موجود ہیں۔ (ماخوذ از درختار، رواختار، شرواح کنز، نیل الاوطار)

۔ قولة: حبس رجل فی تهمہ۔ (ایک نے ایک آدمی کو ایک الزام میں قید کیا) خطابی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ قید کرنا وجوہ کاہے۔ 1۔ قید کرنا بلطو ر سزا۔

۔ قید کرنا حقیقت حال کو معلوم کرنے کے لیے پس قید سزا توصرف واجب میں ہے۔ اور اب رباوہ جو کسی الزام میں قید کرنا توحقیقت حال معلوم کرنے کے لیے ہے۔ اور اس چیز کے بارے میں حقیقت حال کو جانے کے لیے ہے جواس کے درپدو ہے۔ اور روایت میں آیہ کہ آپ نے الزام میں اس کو دن کے چھوڑ حصہ تک رکے رکھا پھر اس کو چھوڑ دیا۔ (بزل انجور)

Bahz ibn Hakim, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), narrated that the Prophet (ﷺ) detained a man on suspicion. [Narrated by Abu Dawud] Al-Tirmidhi and al-Nasa’i added: Then he released him.

They argue based on the incident of both those who engaged in li'an (mutual accusation of adultery). Do you not see that through li'an, separation is effective both outwardly and inwardly, although one of them is certainly false. This is also the view of Imam Abu Hanifah (RA). The principle (qa'ida) here is that if the judge, in the presence of the Imam, makes a decision regarding the sanctity or permissibility of something, then it is the same inwardly as well. Both scholars agree on this issue that whether the decision pertains to the attribution of property, the termination of ownership, the establishment of marriage, or separation, if it is the same inwardly as it is outwardly, then it will be effective according to the judge's decision. If, however, what the judge relied upon in his decision, such as testimony, is contrary to the truth inwardly, then this decision cannot be the cause of the attribution of property, the termination of ownership, marriage, divorce, etc. According to Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad, this is the view of your group and Imam Zafar, that this decision will only be effective outwardly because false testimony does not hold in reality. This is similar to a situation where the witness is a slave or a fine. They have argued based on the hadith of Imam Salama (RA). A fatwa has been narrated from Bar Ban on this matter. It has also been narrated from Qahistani from the facts, and from Abu Laith, who said that in Fath al-Qadir, regarding marriage, it is the view of Imam Abu Hanifah (RA), and this is the true view, as Imam al-Hakim has stated in his Risala that there is no salvation in anything other than the view of Imam al-Azam. However, objections are raised, and the response from Imam Sahib is as follows, and there is some text in the matn, with further details available in the Matulah. (Extracted from Durkhatar, Rawakhatar, Sharawat al-Kanz, Nil al-Awatar)

15. Statement: Imprisonment of a man due to suspicion. (One imprisoned a man on suspicion.) Khattabi said that this is evidence for the following reasons:

1. Imprisonment is a form of punishment.

2. Imprisonment is for the purpose of uncovering the truth, and punishment is only obligatory after the truth is known. Now, imprisonment on suspicion is for the purpose of uncovering the truth about the matter at hand. It is narrated that he kept him detained until the last part of the day and then released him. (Bazl al-Anwar)

5095

سیرتنا علیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روایت کرنا کر رسول

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ نالپندآدمی وہ ہے جو بہت بھگڑتا لو

اور لڑائی باز ہے۔ (متفق علیہ)

It is narrated on the authority of Ali (RA) that he reported the Messenger of Allah ﷺ said:

The most hateful person to Allah is the one who is very angry and quarrelsome.

5096

ابوزرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے فرماتے ہوئے سنکہ جو آدمی کسی ایسی چیز کا دعوی کرے جواس کی نہیں ہے تو وہ تم میں سے

نہیں ہے اور چاہے کروہ اپنا ظہکانا دوزخ بنالے۔ (مسلم)

Abu Dharr narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever claims what is not his is not of us, and let him reserve his seat in the Fire. [Narrated by Muslim]

5097

عنوف بن ماکر رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

نے دوآدیوں کے درمیان فیصلہ فرما تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے واپس جاتے ہوئے کہتا

(پیٹہ پلٹا کر جاتے ہوئے کہا) حسبی اللہ ونعم الوکیل اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے تو

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما اللہ تعالیٰ غفلت پر ملامت کرتا ہے۔ 16 اور لیکن تم ہوشیاری

لازم کرلو پھر جسی تم پر کوئی امر غالب آ جائے تو اس وقت کہو "حسبی اللہ ونعم الوکیل"، (اللہ

تعالیٰ میرے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔

Awf ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) judged between two men. The one ruled against, as he turned away, said: Allah is sufficient for me, and He is the best Disposer of affairs. The Prophet (ﷺ) said: Allah, Exalted is He, reproves weakness, but you must be prudent. If a matter overcomes you, say: Allah is sufficient for me, and He is the best Disposer of affairs. [Narrated by Abu Dawud]

16 قولة: يلوم عى العجز (اللہ تعالیٰ اس کی غفلت پر ملامت کرتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور

عجرتے مراد وہ جو کسی کی ضربے اور کسی کیتہ بین معاملات میں ہوشیاری اور تدبر و مصلحت اختیار کرنے کو لیجئی تم کو

ایسے معاملات میں بہیارا اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ مدی کو ایسے گواہ قائم کرنے میں اسی تم کو کو تاہی نہیں کرنا چاہیے۔ اور

اس کے باوجود فریق مخالف غالب آ جائے تو "حسبی اللہ ونعم الوکیل" کہو۔ (لمعات)

(کتاب الاقضیة والشهادات ختم)