1 _ اللہ بزرگ و برتر کا ارشاد ہے: "فَاْقْتُلُوا الْمُشْرِکِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوْہُمْ".
(9_سورۃ التوبہ، آیت نمبر:5) (پس تم مشرکوں کو قتل کرو۔ جس جگہ جسی تم ان کو پاؤ۔)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَکُوْنَ الدِّيْنُ
کُلُّهُ لِلّٰہِ"۔ اور تم ان سے لڑتے رہو، پیہال تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے۔
(8_سورۃ انفال، آیت نمبر:39)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ کُرْہٌ لَّكُمْ۔ (2_سورۃ
بقرہ، آیت نمبر:216) (اور تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اگر چر وہ تم پر گرال ہو گا)۔
4 _ "وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِيْنَ كَآفَةً کَمَا يُقَاتِلُوْنَکُمْ كَآفَةً"۔
(اور تم سب مشرکوں سے لڑو جس طرح (وہ) تم سب سے لڑتے ہیں) (9_سورۃ توبہ، آیت
نمبر:36)
5 _ "لاَیَسْتَوِی الْقَعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُوْنَ فِی
سَبِیلِ اللہِ بَاْمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، فَضَّلَ اللہُ الْمُجَہِدِيْنَ بَاْمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَی
الْقَعِدِيْنَ دَرَجَۃً، وَکُلًا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنَیْ، وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجَہِدِيْنَ عَلَی الْقَعِدِيْنَ
قولہ: فاقتلوا المشرکین (پس تم مشرکوں کو قتل کرو) ایسے تم اس بات کو جانا کہ جہاد فرض کیا ہے۔ اب
ر باس کا فرض ہونا ہے ان آیات سے ثابت ہے۔ کیا اس کا علی الکفا ہی ہونا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد لا یستوی القاعدون
سے حیما تم آیت کی بناء پر ہے۔ پھر یاس وقت ہے جب کر عام کوچ کرنے کا اعلان نہ ہو۔ اور اگر اس ہے کو ہو
و ثم مسلمانوں کے کسی ملک پر حملہ کروئی تو فرض میں میں ہوجاتا ہے خواہ اعلان کرنے والا پرتیزگار ہو یا فاسق ہو۔ اس
شہر کے تمام لوگوں پر کوچ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اگر وہ شہر والے کافی نہیں ہو ہے۔ جیسے یا ستی کر رہے ہیں یا خلاف
ورزی کر رہے ہیں تو ان لوگوں پر جی فرض ہوجاتا ہے۔ جوان کے قریب ہیں۔ اور اس طرح پیہال تک کر مشرق و مغرب
کے تمام مسلمانوں پر فرض ہوجاتا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا گیا ہے۔
انفر وا خفافا وثقا لا.................(ماخوذ از مرقات)
1. The guidance of Allah, the Most High and Supreme, is: "So kill the polytheists wherever you find them." (Surah At-Tawbah, Verse 5) (Therefore, kill the polytheists wherever you find them.)
2. And the guidance of Allah, the Exalted, is: "And fight against them until there is no more fitnah and religion is solely for Allah." (Surah Al-Anfal, Verse 39) (And continue to fight them until there is no more sedition and all religion is for Allah.)
3. And the guidance of Allah, the Exalted, is: "Fighting has been prescribed for you, and it is hateful to you." (Surah Al-Baqarah, Verse 216) (And fighting has been made obligatory for you, though it may be hateful to you.)
4. "And fight against the polytheists collectively as they fight against you collectively." (Surah At-Tawbah, Verse 36) (And fight against the polytheists all together as they fight against you all together.)
5. "Not equal are those believers who sit [at home], except those who are disabled, and those who strive in the cause of Allah with their wealth and their lives. Allah has preferred those who strive with their wealth and their lives over those who sit [at home] by degrees. And to each, Allah has promised the best [reward], but Allah has preferred those who strive over those who sit [at home]."
اجرا عظيما درجت منه ومغفره ورحمه وكان الله غفورا رحيما
(4_سورة نساء، آيت نمبر:96/95)
ترجمه: وہ مسلمان جو (جہاد کے لیے رہے یا حالاکہ وہ کوئی عذر نہیں رکھتا ہرگز ان مسلمان کے برادرین کو سکتے جواپنی جان اور مال کے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں جولگاپنی جان و مال کے جہاد کرتے ہیں ان کو بھی رہے واقون پر اللہ نے مرتبہ میں فضیلت بخشی ہے اور (پول تو) اللہ نے سب کی سے بجلائی کا وعدہ کر رکھا ہے البنت بھی رہے واقون کے مقابلے میں جہاد کرنے والوں کو اللہ نے اجر عظیم میں فضیلت بخشی ہے (یعنی) اس کی طرف سے (بلند) درجہ ہیں اوراس کی رحمت اور خفافا و رتقلا۔ (9_سورة التوبة، آيت نمبر:41) (مسلمانوں کرول 6_ "انفرووا خفافا و رتقلا"۔ (9_سورة التوبة، آيت نمبر:41) (مسلمانوں کرول سے کوئی کرو (چاپے ساز و سامان سے) ملک ہو یا پوچل _
7_ "ان اللہ اشتری مِنَ المومنینَ انفسهم وَاموالهم بان لہم الجنة"۔ (بلاشبہ اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اوران کے مالوں کو (اس قیمت پر) خریدیا ہے کر ان کے لیے جنت ہے (9_سورہ توبہ، آیت نمبر:111)
8_ "وصابروا و رابطو"ا۔ (اور اپنے دوسروں کو صبر کی ترغیب دو اور مقابلوں کے لیے مستعد رہو (3_سورة آل عمران، آيت نمبر:200)
And those Muslims who remain behind, even though they have no excuse, are not equal to those who strive with their lives and wealth in the cause of Allah. Allah has granted a higher degree of virtue to those who strive with their lives and wealth than to those who remain behind. And He has promised all of them a great reward. Indeed, He has conferred a high rank upon those who strive compared to those who remain behind, as well as His mercy, forgiveness, and approval. (9:41) 'Go forth, light and heavy alike.' (9:41) From among the Muslims, some will go forth equipped with armor and others will go forth lightly armed. (9:111) 'Indeed, Allah has purchased from the believers their lives and their wealth [in exchange] for Paradise.' (Undoubtedly, Allah has bought from the believers their lives and their wealth, and in return, He has promised them Paradise.) (3:200) 'And be patient, and establish [your presence in] the ranks.' (And encourage one another to patience and steadfastness in the face of challenges and battles.)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدی اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لا لے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزہ رکے تو اللہ کے ذمہ ہے کر اس کو جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے 2 اپنی اس سر زمین میں بھی جارہ جس میں وہ پیڑا ہوا ہے تو انہوں نے (صحابہ نے) عرض کیا کیا تم لوگوں کو اس
کی خوشخبری نے سنا کیا - آپ علیہ السلام نے فرمایا: یقیناً جنت میں سودربہ میں جن کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار رکھا ہے - (اس کے) دو درجہوں کے درمیان آسمان و زمین کے درمیان کے جسیا (فاصلہ) ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ مانگتواس سے فردوس مانگو کیون کہ وہ بہترین جنت اور علیٰ جنت سے اوراس کے اوپر جمن کا عرش ہے اوراس سے جنت کی نهریں پھوٹی جیں - (بخاری)
Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever believes in Allah and His Messenger, establishes prayer, and fasts Ramadan, it is incumbent upon Allah to admit him to Paradise, whether he strives in Allah’s way or remains in the land where he was born. They said: O Messenger of Allah, shall we not give glad tidings to the people? He said: In Paradise, there are one hundred levels prepared by Allah for those who strive in His way, the distance between two levels being like that between heaven and earth. When you ask Allah, ask for al-Firdaws, for it is the middle and highest of Paradise, above it is the Throne of the Most Merciful, and from it spring the rivers of Paradise. [Narrated by al-Bukhari]
قولہ: جاہد فی سبیل اللہ او جلس فی ارضہ التی ولد فيها (وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے یا اس سر زمین میں بھی رہے جس میں وہ پیڑا ہوا ہے) لیکن وہ جہاد کرے اور پیو جوب تجرت کے منافی نہیں ہے اوراس میں دو چیزوں میں جواب ری کہ کیا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاد فرض کفاہی ہے (ماخوذ از لمعات و مرقات) اور صاحب رحمۃ اللہ نے کہا ہے کر امت اس بات پر متفق ہے کہ جہاد فرض کفاہی ہے اور جب مسلمانوں میں سے پچھاپی لوگ اس کا اہتمام کریں جواس کے لیے کافی ہیں تو باقی لوگوں سے گناہ ساقط ہو جائے گا۔
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوآ دی اللہ تعالیٰ اس کے رب ہوئے نے کے اعتبار سے راضی ہواوراسلام سے دین ہوئے نے کے اعتبار سے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے رسول ہوئے نے کے اعتبار سے راضی ہوتواس کے لیے جنت واجب ہوگی - ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس پر تجب ہوااور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ آپ اس کو دوبارہ ارشاد فرما کیس توآ پعلیہ نے اس کوان کے لیے دوبارہ فرمایا پھر فرمایا اور ایک دوسرا بات 3ہے جس سے اللہ تعالیٰ بندرے کو سودر بہ بلند کرتا ہے ہر دو درجہوں کے درمیان (فاصلہ) ایسا ہے جسیا آسمان و زمین کے درمیان سے - تو انہوں نے عرض کیا اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وہ (دوسری بات) کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد میں، اللہ کے راستے میں جہاد میں - (مسلم)
Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever is content with Allah as Lord, Islam as religion, and Muhammad as Prophet, Paradise is guaranteed for him. Abu Sa‘id marveled at it and said: Repeat it to me, O Messenger of Allah. He repeated it, then said: And another thing by which a servant is raised one hundred levels in Paradise, the distance between each two levels like that between heaven and earth. He asked: What is it, O Messenger of Allah? He said: Jihad in the way of Allah, jihad in the way of Allah, jihad in the way of Allah. [Narrated by Muslim]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دون فرمایا فتح کے بعد تجرت نہیں 4اور نہیں جہاد اور نہیں
قولہ: و آخری (اور ایک دوسری بات) ان اس میں اس بات کا شاہد ہے کہ جہاد فرض کفایہ اس حیثیت سے کہ اس کا عطف (والات التزامی کے) بطور لاوازم اسلام پر ہوا ہے کیون کہ عطف کلام میں مغایرت کو جاہت نہیں ہے (مرقات)
قولہ: لا هجرة بعد الفتح الخ (فتح کے بعد تجرت نہیں) صاحب عرف شنزی نے کہا ہے کہ دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف تجرت کا مسئلہ متاخرین میں مختلف فیروں میں مسئلہ کتب احناف میں سے - البہت علماء شافعیہ اس سے بچتے ہیں - اور حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ پنکی رسالہ میں تجرت کے مستحب ہوئے کی بات کی سے اور قول مختار ہیں ہے اور بعض علماء اس کے وجوب کے قائل ہیں - اور آیات کریمہ و احادیث ثریفہ اس کے استحباب پر دلالت کرتے ہیں - مجمل ان کے وہ حدیث ثریفہ ہے جس کو امام ترمذی نے صفحہ 195 پر ذکر کیا ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے لما فيه انہم يكونون کاعراب المسلمین يجرى عليهم ان اور انہوں نے کہا کہ تجرت اہل کہ پروا جب کچھ اور بعض حالات میں کچھ واجب ہوئے ہے -
ہے اور جب تم سے کوئی کرنا کے لئے کہا جائے تو تم نقل پڑو - (متفق علیہ)
After the conquest, there will be no more trade, no more jihad, and no more [such activities]. And when you are commanded to do something, then recite [the relevant verses or traditions].
3قولہ: و آخری (اور ایک دوسری بات) ان اس میں اس بات کا شاہد ہے کہ جہاد فرض کفایہ اس حیثیت سے کہ اس کا عطف (والات التزامی کے) بطور لاوازم اسلام پر ہوا ہے کیون کہ عطف کلام میں مغایرت کو جاہت نہیں ہے (مرقات)
قولہ: لا هجرة بعد الفتح الخ (فتح کے بعد تجرت نہیں) صاحب عرف شنزی نے کہا ہے کہ دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف تجرت کا مسئلہ متاخرین میں مختلف فیروں میں مسئلہ کتب احناف میں سے - البہت علماء شافعیہ اس سے بچتے ہیں - اور حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ پنکی رسالہ میں تجرت کے مستحب ہوئے کی بات کی سے اور قول مختار ہیں ہے اور بعض علماء اس کے وجوب کے قائل ہیں - اور آیات کریمہ و احادیث ثریفہ اس کے استحباب پر دلالت کرتے ہیں - مجمل ان کے وہ حدیث ثریفہ ہے جس کو امام ترمذی نے صفحہ 195 پر ذکر کیا ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے لما فيه انہم يكونون کاعراب المسلمین يجرى عليهم ان اور انہوں نے کہا کہ تجرت اہل کہ پروا جب کچھ اور بعض حالات میں کچھ واجب ہوئے ہے -
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماشتم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان بھاگر مسلمانوں میں پچھے لوگ ایسے نہ ہوتے جن کے نفوس کو مجھے پیچھے رہ جانا اچھا نہیں لگتا ہوتا جب کہ میں ان کے لئے سواری دے نہیں سکتا ہوں تو میں کسی بھی نہ میریے جو اللہ کے راستے میں جنگ کر رہے ہیں پیچھے نہ رکتا اور تم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان بھاگر میری ضرورت نہ ہوشہ ہے کہ اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤن پچھر زندہ کیا جاؤں پچھر قتل کیا جاؤن پچھر زندہ کیا جاؤں 6 پچھر قتل کیا جاؤن - (متفق علیہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul, were it not that some believing men dislike staying behind me, and I lack the means to provide for them, I would not stay behind any expedition in Allah’s way. By the One in Whose Hand is my soul, I wish to be killed in Allah’s way, then revived, then killed, then revived, then killed, then revived, then killed. [Agreed upon]
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماشمس ہے کوئی جنت میں داخل ہو نے والا پسند کرتا ہوا سبات کو کہ وہ نیا کو واپس آئے اور اس کو زمین میں جو چیز ہی میں جا سوا شہید کے وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ کر آئے اور دس مرتبہ شہید ہوا سعظمت کی وجہ سے جس کو وہ کچھ نہیں - (متفق علیہ)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one enters Paradise and wishes to return to the world, even with all it contains, except the martyr, who wishes to return and be killed ten times for the honor he sees. [Agreed upon]
سیدنا عبد الرحمٰن بن الی عبیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماشمس کہ مسلمان جس کی روح کو اس کا رہب قرض کرتا ہے تو وہ پسند نہیں کرتا کہ تمہارے پاس لوٹ کر آئے اور اس دنیا کو مافیا میں جا سوا شہید کے ابن الی عبیرہ نے کہا رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماشمس کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں پیچھے اس
بات سے زیادہ پسندہ کہ میرے لے تمام کاول واے اور شہر واے لے (معلوم) ہو جا میں - (نسائی)
Abdul Rahman ibn Abi Amirah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: No Muslim soul taken by its Lord wishes to return to you, even with the world and all it contains, except the martyr. Ibn Abi Amirah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Being killed in Allah’s way is dearer to me than having the people of tents and cities. [Narrated by al-Nasa’i]
5- قولہ: اذا استنفرتم فانفروا (جب تم سے نقل کے لئے کہا جائے تو تم نقل پڑو) امام نووی نے فرماشمس: اس میں دلیل ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ فرض کفاہی ہے اور جب اس کو کوئی ایسے افراد کریں جوان کے لئے کافی ہوجاتے ہیں تو دیگر حضرات سے اس کا گناہ ساقط ہوجاتے گا اور اگر وہ سب اس کو چھوڑ دیں تو تمام کے تمام گناہ کا رہوجا میں گے۔
قولہ: ان اقتل فی سبیل اللہ ثم احيي الخ (میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پچھر زندہ کیا جاؤں) اس میں جہاد اور شہادت کی فضلیت اور شہادت و خیر کی اور ایسے نیک کاموں کی تمنا کرنے کی فضلیت ہے۔ جوعاوتا مکن نہیں ہیں نیز اس میں یہ کہ جہاد فرض کفاہی ہے فرض عین نہیں اور عمدہ القاری میں علم رہنے نے یہ کہ اضافہ فرماشمس کہ اس میں پبات کی ہے کرامم (حاکم) اور عالم دونوں کے لئے کسی ایسے امر طاعت کو جس کو اس کے ساتھی اور اس کے خیر خواہ اس طرح کر نے کی طاقت نہیں رکھے جس طرح یکساں ہے تو ایسے کام کو ان میں اس کی طاقت آنے تک چھوڑ دیں اجازت ہے اور یہ دوسرے کے کریمان اخلاق و آداب سے ہے۔
مسروق رضی اللہ عنہ روایت کے انہوں نے کہا، تم عبد اللہ بن مسعود سے اس آیت کے بارے میں پوچھو و لا تحسبن الّذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا، بل احياء عند ربهم یرزقون، (اور تم ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں شہید ہوئے ہیں مردہ مت ہو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پائے ہیں (الایت) (3 سورۃ آل عمران، آيت نمبر:169) وہ کہتے ہیں: یہ کے اس کے متعلق دریافت کیا تو آب نے فرمایا: ان کی روشنی سبز پرندول کے اندر (قالب) میں ہیں 7 ان کے لے عرش سے تک ہوتی قند میں ہیں وہ جنت میں جہاں چاہے جائی
قولہ: ارواحهم فی اجوف طیر خضر (الکی روشنی سبز پرندول کے اندر (قالب) میں ہیں) یہ بات کی گئی ہے کر ان (کی روحوں) کو ان پرندول کے قالب میں رکھنا ایسا ہے جیسے موتی کواس کی عظمت و ثراوت کے لے صندوقوں میں رکھتے ہیں۔ اور ان کواس طرح کی صورت میں جنت میں داخل کرنا جس کا تعلق دنیا کے اس بدن سے نہیں ہے مگر وہ جس طرح دنیا کے بدن میں تدبر کرتے ہیں اس طرح تدبر کرتے ہیں کیون کہ وہ جنت میں بسرا کرتے ہیں اور وہاں کی پاکیزہ خوشبو (ہوا نیس) پانی ہیں اور جوہریں اوار پیں اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور تناخ (آواگون) کے قائمین کے شہب کو دفع کیا گیا ہے۔ اور جولوگ پیکتے ہیں کر ان کوانسانی جسم سے نکال کر حیوانی جسم میں داخل کیا گیا ہے۔ پر ان کی شان کو گھٹانا ہے ان کے اس وہتم کو جسی و فکر ناہے اس کو اچھی طرح سمجھلو۔ اور اس سلسہ میں بیات کی بتانی گئی ہے کہ شہدا کی روحن جب مرتہ کمال پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سبز پرندول کی شکل میں اختیار کر لیں اور ان کو وہ شکل حاصل ہوئی جسیا کہ فرشتہ انسانی شکل کو اختیار کرتا ہے۔ پس پی بدن وہ نہیں جس سے روحن متعلق ہوتی ہیں اور جن میں تدبر کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ بذات خود ان روحوں کی صورت میں ہیں جویں شکل اختیار کر لی ہیں۔ اس کو اچھی طرح سمجھلو۔ اور میں پی کہتا ہوں کہ پی کہی ہوسکتا ہے کہ وہ جسم انسانی جسموں کے صفات لے ہوئے ہوتا اگر چیک سبز پرندول کی صورتوں میں ہوتا اور در حقیقت پرندول کی صفات پر نہ ہوتا کیون کہ صورتوں اور شکلون کا کوئی شارنیبی ہوتا بلکہ بیات بعید نہیں کہ ان کو پرنڈے جو کہا گیا ہے اس لے کر وہ ایک مکان سے دوسرے مکان میں آدمیوں کی طرح پاؤں سے چل کر نہیں بلکہ پرندول کی طرح اڑ کر فتنقل ہوتے ہیں۔ پچل ان کی تنقیص شان کا جو وہم کیا گیا تھا وہ اس معتن کی وجہ سے لازم نہیں آ لے گا۔ پیس اگر تم بی کہو کہ ان کا اللہ تعالیٰ سوال کر نے کا کیا فائدہ کر ان کی روحوں کوان کے جسموں میں دوبارہ لوثا یا جائے پیہاں تک کر وہ اللہ کے راستے میں دوبارہ شہید کر دیے جا سکیں جب کر ان کو پچراس میں وہی چیز حاصل ہوگی جو حاصل ہے تو اس کے جواب میں کہا گیا ہے، اس کلام سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ نے جتن نعمتوں نے ان کو سفر از کیا ہے اس کی شکرگزاری کا ظہار کرنا ہے۔ اور اگر تم بی کہو کہ اللہ تعالیٰ کا دیار تو سب سے برتری نہمت ہے تو وہ اس کا مطالبہ کیون کمیں کرے تو اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا دیار اس کے لاق کامل صلاحیت پر موقوف ہے۔ جو قیامت کے دن حاصل ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں کامل استعداد پیا ہو نے کے وقت تک کے لے ان کے دلون کواس کی طلب سے رک دیا (ثرح ابن ملك، لمعات سے بالاختصار)
جواب دے بغیر) چھوڑا نہیں جائے گا تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار، تم چاہتے ہیں کہ ہماری روحین ہمارے جسمون میں لوطادی جائے میں تاکہ تم دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہمید ہو جائے میں پس جب وہ (پروردگار) دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا (پوچھا نہیں جائے گا)۔
Masruq narrated: We asked Abdullah ibn Mas‘ud about this verse: And do not think those killed in Allah’s way are dead; rather, they are alive with their Lord, provided for [Aal-E-Imran: 169]. He said: We asked about that, and he said: Their souls are in the bellies of green birds, with lanterns hanging from the Throne, roaming Paradise wherever they wish, then returning to those lanterns. Their Lord looked upon them and said: Do you desire anything? They said: What could we desire when we roam Paradise wherever we wish? He did this thrice. When they saw they would not be left without being asked, they said: O Lord, we wish You to return our souls to our bodies to be killed in Your way again. Seeing they had no further need, they were left. [Narrated by Muslim]
This is said about them (their souls) being placed in the form of green birds, just as pearls are kept in boxes for their grandeur and value. And admitting them into Paradise in this form, which has no connection with the worldly body, but they contemplate in it as they used to contemplate in the worldly body, because they reside in Paradise and experience its purity and fragrance, and observe its jewels and drink from its springs, and derive pleasure from it, and the evil whisperers have been repelled. And it is said that these are drunk, having been extracted from human bodies and placed into animal forms. But diminishing their status by considering this transformation as a mere thought or imagination is not correct; understand this well. And it is narrated in this context that when the souls of the martyrs reach the highest perfection, by the command of Allah Almighty, they assume the form of green birds, acquiring a form similar to how angels assume human form. Thus, they are not bodies to which souls are related and in which contemplation takes place, but rather, they are themselves the forms of these souls, which have assumed these shapes. Understand this well. And I say that it can be said that this body, though in the form of green birds, retains the qualities of human bodies, and in reality, it does not possess the characteristics of birds, because there is no contradiction in forms and shapes. It is not far-fetched to say that these birds, which are mentioned, do not move from one place to another like humans on foot, but rather fly like birds. The misconception that diminishes their status will not necessarily arise due to this. If you ask why Allah Almighty would question them, causing their souls to return to their bodies or to be martyred again in His path, when they will obtain the same thing they already have, the answer is that the purpose is to express gratitude for the blessings Allah has bestowed upon them during their journey. And if you ask why, since Allah's abode is the highest excellence, He would require anything, the answer is that Allah's abode is contingent upon perfect merit, which will be achieved on the Day of Judgment. Until then, Allah has withheld their hearts from desiring it until they achieve complete merit (as summarized from Ibn Malik, Lum‘at). If it is not left unanswered, they will say: 'O our Lord, You want our souls to return to our bodies so that we may be martyred again in Your path.' Then, when He sees that they have no need, He will leave them (without questioning them).'
سیر نا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کر جب تمہارے بجاٹی جنگ احمد میں شہید ہو گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحول کو سبر پرندول کے قالب میں رکھا جو جنت کی نہرول پر آتی ہیں اس کے چجل کھانی ہیں اور بسیرا کرتی ہیں سونے کی قند یلون میں جوعش کے سا پیتے ہیں پس جب وہ اپنے کھانے پینے اور آرام کرنے کی لذت پائے تو کہیں گے کون ہے جو ہمارے بجاٹی میں ہماری طرف سے یہ بات پوچھا دے کہ بلاشبہ تم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت (کو حاصل کرنے) سے برہمنت نہ ہول اور جنگ سے پچھے نہ طیس۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمايتہاری طرف سے ان کو یہ بات میں پوچھا دول نگا اور پی آیت نازل فرمائی: "وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا، بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید ہو گے پس تم ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں......۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to his companions: When your brothers were struck at Uhud, Allah placed their souls in the bellies of green birds that drink from Paradise’s rivers, eat its fruits, and return to golden lanterns hanging in the shade of the Throne. When they found the delight of their food, drink, and resting place, they said: Who will inform our brothers that we are alive in Paradise, provided for, so they do not disdain jihad or falter in war? Allah, Exalted is He, said: I will inform them about you. So Allah revealed: And do not think those killed in Allah’s way are dead; rather, they are alive [Aal-E-Imran: 169], to the end of the verses. [Narrated by Abu Dawud]
سیر نا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہید کے لے اللہ کے پاس (6) چھلیتین (خصوصیات) ہیں۔
شرو ع میں ایس کی مغفرت ہو جائے ہے۔
وہ جنت میں اپنا طحا ناد کیہ لیتا ہے۔ اور عذاب قبر سے محفوظ کر دیا جائے ہے۔
برہی کہبراہت (حشر کی ہولنا کی) سے امن میں رہتا ہے۔
اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے ہے۔ جس کا ایک یاقوت دنیا اور دنیا کی تمام چیزول سے بہتر ہے۔
برہی برہی آ کھول والی (72)۔ہتر حورول سے اس کی شادی کی جائے ہے-
اپنے ستر (70) رشتہ دارول کے بارے میں وہ سفارش کرے گا (تزہدی، بن ماجح)
Al-Miqdam ibn Ma‘di Yakrib narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The martyr has six qualities with Allah: He is forgiven at the first instance, shown his place in Paradise, protected from the torment of the grave, secured from the greatest terror, adorned with a crown of dignity whose ruby is better than the world and all it contains, married to seventy-two wives from the houris, and intercedes for seventy of his relatives. [Narrated by al-Tirmidhi and Ibn Majah]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید قتل ہونے کی تکفیف کوئی پاتا گر جسیا کہ تم میں کا کوئی چیزی کا کچھ کی تکفیف کو پاتا ہے- (تزہدی، نسائی، دارمی) (اور امام تزہدی نے اس حدیث شریف کو حسن غریب فرمایا ہے)-
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The martyr feels no pain in being killed except like the pain one of you feels from a pinch. [Narrated by al-Tirmidhi, al-Nasa’i, and al-Darimi; al-Tirmidhi said: This is a good, unique hadith]
عتبہ بن عبدلا کی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل ہونے والے تین قسم کے ہیں-
ایسے مومن جوا پنی جان، اپنے مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا جب وہ میں سے مدحیطر ہوتی تو لڑا پیہال تک کر شہید ہوگیا- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا یہ شہید ہے جس کا امتیان لیا گیا عرش کے پیچ اللہ کے خیبر میں، اور انگیا علیہم السلام اس سے صرف درجہ نبوت میں برطے ہوئے ہوئے گے-
وہ مومن ہے وہ جوا پنی زندگی میں اتنے عمل کو اور دوسروں عمل کو ملا دیا ہے- اور اپنی جان اور مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا جب وہ میں سے مدحیطر ہوتی تو لڑا پیہال تک کر وہ شہید ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پاک کرنے والی ہے جواس کے گناہوں اور کوتا ہیوں کو مطاوی- بے شک تلوار گناہوں کو مٹانے والی ہے- اور یہ داخل کیا جاتے گا جنت کے جس دروازے سے وہ چائے گا-
اور منافق ہے جوا پنی جان اور مال سے جہاد کیا جب اس کی وہ میں سے مدحیطر ہوتی تو لڑا پیہال تک کر وہ قتل ہوگیا- پس پر دوزخ میں ہے کیون کہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی- (دارمی)
Utbah ibn Abd al-Sulami narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The slain are three: A believer who strives with his life and wealth in Allah’s way, meeting the enemy and fighting until killed. The Prophet (ﷺ) said of him: That is the tested martyr under Allah’s tent, beneath His Throne; the prophets surpass him only by the degree of prophethood. A believer who mixed righteous and evil deeds, striving with his life and wealth in Allah’s way, meeting the enemy and fighting until killed. The Prophet (ﷺ) said of him: His washing wipes away his sins and errors; the sword erases errors, and he enters Paradise through any gate he wishes. A hypocrite who strives with his life and wealth, meeting the enemy and fighting until killed, is in the Fire, for the sword does not erase hypocrisy. [Narrated by al-Darimi]
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے عمر بن خطاب کویہ کہتا ہوئے سنایہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناتا کہ شہدا ئے چار قسم کے ہیں-
وہ مرد مومن ہے جو بہترین ایمان والا ہے- وہ میں سے اس کی مدحیطر ہوتی تو اس سے اللہ کو پیچ کر دلحايا (خوب لڑا) پیہال تک کر وہ شہید ہوگیا پس پر وہ شہید ہے کر قیامت کے دن لوگ اس کی طرف اس طرح اتی آ کہ کسی اٹھا کر دیکھیں گے اور آپ پسے اپنے سر کو اٹھا پیہال تک کرانے لی تو پی گر پڑی- پس میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر کی تو پی گری یا ان کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو پی
ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايااور ایک وہ مرد موسی مضر بوط ایمان والاہے جس کی دشمن
سے مدح حیرہوئی تو وہ کہتمتی کی وجہ یہ (ایساتحا) گویا کہ کیسے کے درخت کے کا نطول سے اسکی جلد کو
مارا گیا ایک نامعلوم تیراس کولگا اوروہ شہید ہوگیا تو پیدومسرے درجنیں ہے۔
اور ایک وہ مرد موسی جو (زنگی) میں اٹھکا اور برے عمل ملا دیاہے جب دشمن سے اس کی
مدح حیرہوئی تو اللہ تعالیٰ کو (عہدر بانی) پچکر دعا کر (خوب لڑا) یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا پس ہے
تیرے درجنیں ہے۔
وہ مرد موسی کے جواب پچھس پرزیادتی کیا (گناہگار ہے) وشمن سے اس کی مدح حیرہوئی
تو اللہ تعالیٰ کو (عہدر بانی) پچکر دعا کر یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا تو یہ پچھتے درجنیں ہے۔
(تنزیل) (اور امام تنزیل نے فرما کہ یہ حدیث حسن غریب ہے)
Fadalh ibn Abd narrated: I heard Umar ibn al-Khattab say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The martyrs are four: A man of strong faith who meets the enemy, is true to Allah, and is killed; that is the one to whom people will raise their eyes on the Day of Resurrection like this, Umar raised his head until his cap fell, and I do not know if he meant his cap or the Prophet’s (ﷺ). A man of strong faith who meets the enemy, feels as if his skin is struck with talh thorns from cowardice, but a stray arrow kills him; he is in the second degree. A believer who mixed righteous and evil deeds, meets the enemy, is true to Allah, and is killed; he is in the third degree. A believer who transgressed against himself, meets the enemy, is true to Allah, and is killed; he is in the fourth degree. [Narrated by al-Tirmidhi, who said: This is a good, unique hadith]
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ رنج بن تبراء، جو حارث بن سرا ق کی
والدہ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ علیہ وسلم کیا
آپ مجھے حارث کے بارے میں کیا کہیں فرمائیں گے؟ وہ جنگ بدربہ میں شہید ہوئے ہے۔ ایک
نا معلوم تیران کولگا تھا پس اگروہ جنت میں ہے تو میں صبر کر ونگی اور اگراس کے سواہے تو میں ان پر
رو میں کوشش کر ونگی (خوب رونگی) تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارث حقیقًا جنت میں
بہت باغات ہیں اور تمہارا بھی فردوس علی میں پچھاہے۔ (بخاری)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Umm al-Rubayy‘ bint al-Bara’, the mother of Haritha ibn Suraqa, came to the Prophet (ﷺ) and said: O Messenger of Allah, will you not tell me about Haritha, who was killed at Badr by a stray arrow? If he is in Paradise, I will be patient; if not, I will weep intensely for him. He said: O mother of Haritha, there are gardens in Paradise, and your son has attained al-Firdaws, the highest. [Narrated by al-Bukhari]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ کرسول اللہ علیہ وسلم نے
فرما یا مجھ پرتین فتن کے آدمی جو پہلے جنت میں داخل ہوئے گے پیش کے گے۔
شہید 2- حرام سے نکلن والا (پرہیزگار) اور نمازگاں والا
وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کی اچھی طرح عبادت کی اور اپنے آقاوال کی خیر خواہی کی۔
(تنزیل)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The first three to enter Paradise shown to me are: A martyr, a chaste person who restrains himself, and a slave who perfects worship of Allah and is sincere to his masters. [Narrated by al-Tirmidhi]
حسناء بنت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کہ انہوں نے کہا: نہم کو
میرے پچھا نے بیان کیا کہ انہوں نے کہا میں عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جنت میں کون
ہے تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا
نبی جنت میں ہیں - 2- اور شہید جنت میں ہے -
مولود (چھوٹا بچہ جو انقلاب کرگیاہے) جنت میں ہے - 8
وہ جس کو زندہ درگور کیا گیا ہے وہ جنت میں ہے - (ابوداؤد)
Hasna’ bint Mu‘awiya narrated: My uncle told me: I asked the Prophet (ﷺ): Who is in Paradise? He said: The prophet is in Paradise, the martyr is in Paradise, the newborn is in Paradise, and the buried alive is in Paradise. [Narrated by Abu Dawud]
سیرنا اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ علیہ السلام کے صحابہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ کے مشرکین سے پیل بدر میں پڑنے کے پھر مشرکین آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اطہوجنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کی طرح ہے عبیر بن حمام نے کہا! واه، واه۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہمارے وہ وہ کہنے کی کیا چیز سب بھی تو انہوں نے کہا! خدا کی قسم یارسول اللہ اس امید کے سوا پڑہ نہیں کہ میں جنت والول میں سے ہو جاؤں تو آپ پعلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جنت والول میں سے ہے انہوں نے (یعنی راوی نے) کہا میں اپنی ترکش سے چند کھجور یی نکال کر ان کو لاحا نے
قولة: المولود في الجنة (چھوٹا بچہ جو انقلاب کرگیاہے) جنت میں ہے)
مولود سے مسلمانوں کا چھوٹا بچہ مراد ہے ابن حمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس (حدیث) کی موافقت میں کہا ہے کے مشرکین کے پچون سے سوال اور ان کے جنت یادوزخ میں داخل ہوئے کے بارے میں اختلاف کیا گیاہے ان سے متعلق امام ابو حنیفہ اور دیگر امام نے نظر دوفر مایہ اور حقیقت کر ان کے بارے میں کی متعارض حدیثیں واردہوئی میں پبل اس کاراستہ یہ کہ ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیاجاتے ہے امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جان لو اللہ تعالیٰ کسی کو بلغیر گناہ کے عذاب نہیں دیتا۔ اور آپ کے شاگرد ابن الی شریف نے اس کی شرح میں فرمایا۔ میقیاً قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر جو کبارہا بعین سے جین اور ان کے علاوہ دیگر علماء سے آخرت میں ان کے حکم سے متعلق گفتگو سے رک رہنے کا حکم منقول ہے اور ابوبکرات نسفی نے امام ابوحنیفہ سے توقف کی روایت کو ضعیف قرار دیاہے اور فرمایاہے آپ سے تھی روایت پہ کہوہ صحیح حدیث کے ظاہری مفہوم کی بناء پر مشہیت میں پی اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے جو پچھوہ عمل کرنے والے تھے امام نووی نے ان کے بارے میں تین نذاہب کا ذکر فرمایاہے۔
اکثر اس بات پر ہیں کرودوزخ میں ہیں -2- توقف
جس کو انہوں نے تھی قرار دیا کہ وہ جنت میں ہیں -
اس حدیث کی بناء پر کہہ مولود فطرت پرامام محمد بن حسن رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہوا نذکورہ قول اس (تیسرے نذہب) کے میل کہا تاہے اور ان کے بارے میں دیگر ضعیف اقوال بھی موجود ہیں - (رداختار میں ایساہی ہے)
کہا پھر انہوں نے کہا اگر میں میرے ان جھورون کو لحا نے تک زندہ رہول تو پیٹویل زندگی ہے۔ اس
نے لیجن راوی نے کہا انہوں نے اپنے ساتھ جو جھور تھا ان کو پچینک دیا پھر ان (کفار) سے جنگ
کیے یہاں تک کہوہ شہید ہو گے۔ (مسلم)
Anas narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) and his companions set out, preempting the polytheists to Badr, and the polytheists came. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Rise to a Paradise as wide as the heavens and the earth. Umayr ibn al-Humam said: Excellent, excellent! The Messenger of Allah (ﷺ) said: What prompts you to say ‘excellent, excellent’? He said: By Allah, O Messenger of Allah, only hope that I be among its people. He said: You are among its people. Umayr took dates from his quiver and began eating them, then said: If I live to finish these dates, that is a long life. He threw the dates he had, fought them, and was killed. [Narrated by Muslim]
The saying: 'The child who died in infancy is in Paradise' (referring to a child who died before reaching the age of accountability) means that the Muslim child who dies in infancy is in Paradise. Ibn Humam (RA) has stated in agreement with this hadith that there is a difference of opinion regarding the questioning and entry into Paradise or Hell of the children of polytheists. Imam Abu Hanifah and other Imams have presented two views and conflicting hadiths about them. The general stance is to leave their case to Allah Almighty. Imam Muhammad bin Hasan (RA) said that know that Allah Almighty does not punish anyone without sin. His student, Ibn al-Shirif, explained in his commentary that it is reported from Qasim bin Muhammad and Urwah bin Zubair, who often heard from Aisha (RA) and other scholars, that they were commanded to refrain from discussing the fate of such children in the Hereafter. Abu Bakr Nisfi considered the tradition of abstention from Imam Abu Hanifah to be weak and said that the correct view is based on the apparent meaning of the authentic hadith, which states that Allah knows best. Those who died in infancy were righteous in their actions, and Imam Nuwwi mentioned that they are in Paradise.
1- Most of them are in Hell - 2- Abstention
3- Those whom he has placed in Paradise -
Based on this hadith, it is said that the child who dies in infancy is in Paradise. This statement, as narrated from Imam Muhammad bin Hasan (RA), aligns with the third view, and there are other weak opinions about them - (this is the preferred view).
He then said, if I had lived until my children reached maturity, it would have been a long life. The narrator said that he gave his children to the enemy and fought until he was martyred. (Muslim)
سیدنا ابوموسی رضی اللہ تعالی عزمنے روایت ہے انہوں نے کہا فرما یارسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کے دروازے تلواروں کی چھاول کے پیچ میں تو ایک صاحب جن
کی حالت معقول نہیں اے اور انہوں نے کہا اے ابوموسی آپ نے اس حدیث کورسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سناتے تو انہوں نے کہا بال تو وہ صاحب اپنے ساتھیوں کی طرف گے اور
کہہ میں تم کو سلام کرتا ہوں پھرا پنی تلوار کی نیام کو توڑ کراس کو پچینک دیا پھرا پنی تلوار لے کر دشمن کی
طرف چل اس سے ضرب لگا یے یہاں تک کہوہ شہید ہو گے۔ (مسلم)
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The gates of Paradise are under the shadows of swords. A man of shabby appearance stood and said: O Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say this? He said: Yes. The man returned to his companions, said: I convey peace to you, broke his sword’s sheath, cast it away, and walked with his sword to the enemy, striking until he was killed. [Narrated by Muslim]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عزمنے روایت ہے انہوں نے کہا فرما یارسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثل روزے رکنے والے قیام کرنے
والے اللہ تعالی کی آیت روزقرآن ملاوت کرنے والے کی طرح ہے جو نہ روزے میں پستی دکھاتا
ہے اور نہ نماز میں یہاں تک کہوہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا والپس آے۔ (متق علیہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The example of the one who strives in Allah’s way is like one who fasts, prays, and recites Allah’s verses, not ceasing from fasting or prayer until the striver in Allah’s way returns. [Agreed upon]
انہی سے (ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عزمنے) روایت ہے انہوں نے کہا فرما یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی نے قبول کیا ہے اوراس آدمی کے لے جواس کے راستے میں
نکلتا ہے اوراس کوسوا ہے جہا پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے کونی اور چیز نہیں نکلتی ہے تو
میں اس کو اجر و ثواب مالی غنیمت کے واپس بھیجتے ہیں جس کو وہ حاصل کیا ہے 9 اور یک میں اس کو
جنت میں داخل کرول گا۔ (متق علیہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has undertaken for whoever goes out in His way, driven only by faith in Me and belief in My messengers, that I will either return him with reward or spoil, or admit him to Paradise. [Agreed upon]
انہی سے (لیجن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عزمنے) روایت ہے کر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ان دوآدمیوں پر بسم فرماتا ہے جن میں ایک اس کے دوسروں کو قتل کر دیتا ہے اور وہ دونوں جنت میں جاتے ہیں۔ پر تو اللہ کے راستے میں ہوتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے پھراس کے قاتل پر اللہ تعالی رحم فرماتا ہے پس وہ مسلمان ہوجاتا ہے۔ (شفق علیہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah laughs at two men, one killing the other, both entering Paradise. This one fights in Allah’s way and is killed, then Allah accepts the killer’s repentance, and he is martyred. [Agreed upon]
وقولہ: ان ارجعہ بما نال من اجر او غنیمة وادخله الجنة (اس کواس اجر یا غنیمت کے ساتھ جس کو
وہ حاصل کیا ہے واپس کرول گا اور یک جنت میں داخل کرول گا) طبی نے کہا کرآ پکارشاو او غنیمة کا عطف اجر پر
ہے اور ادخل کا عطف ارجعہ پر ہے۔ پس وہ 'ان' کاصلہ اباس کا مفہوم اس طرح ہوگا کر اللہ تعالی نے قبول کیا
ہے اس کے راستے میں نکلنے والے کے لے یاتواس کواس کے گھر کو مالی غنیمت کے بغیر ثواب کے ساتھ یاثواب اور مالی
غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور یا وہ شہید ہوگا تو اس کو جنت میں داخل کر لے گا۔ (مرقات)
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فراور کا فراور کا قاتل دوزخ میں جسی جمع نہیں ہوئے گے۔ (مسلم)
Allah's Messenger ﷺ said: 'The killer of Al-Husayn will not gather with any people in Paradise.'
نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ میں وہ آدمی نہیں جائے گا جو اللہ کی خشیت سے روا تا کر دوزخ نہیں واپس آ جائے اور کسی بندر پر اللہ کے راستے میں نکل کا غبارا ور دوزخ کا دھوال جمع نہیں ہوگا۔ (ترمذی) اور امام نسائی نے ایک دوسری روایت میں فی منخری مسلم ابدا (مسلمان کے نتھون میں بھی بھی) کا اضافہ ہے۔
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A man who weeps from fear of Allah does not enter the Fire until milk returns to the udder, nor do dust in Allah’s way and the smoke of Hell meet in a servant’s nostrils. [Narrated by al-Tirmidhi] Al-Nasa’i added in another narration: In a Muslim’s nostrils forever. In another: In a servant’s belly forever, nor do greed and faith meet in a servant’s heart forever.
اوران میں کی ایک دوسری روایت میں پیہ کسی بندر کے پیٹ میں بھی بھی (جمع نہیں ہوتے) اور شہ (نفس کی حرص) اور ایمان کسی بندر کے دل میں بھی بھی جمع نہیں ہوتے۔ (نسائی)
And in another narration: Wine does not accumulate in the belly of a monkey, nor does desire (of the self) and faith accumulate in the heart of a monkey. (Nasai)
اللہ علیہ نے فرمایا کسی بندر کے دونوں قدموں اللہ کے راستے میں غبارا لودنیس ہوتے پھراس کو آگے چلو سے۔ (بخاری)
Allah has said: 'The dust on both feet of a monkey will be in Allah's path, so let him walk forward.' (Bukhari)
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں کوئی زنی نہیں ہوتا اور اللہ مجتر جانتا ہے اس شخص کو جواس کے راستے میں زنی ہوتا ہے۔ مگر قیامت کے دن اس حالت میں آنے والے کا اس کے زخم سے خون بہتا ہوگا۔ رنگ تو خون کا رنگ ہوگا اور (اس کی) خوشبو مشک کی ہوگی۔ (شفق علیہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one wounded in Allah’s way, and Allah knows best who is wounded in His way, but comes on the Day of Resurrection with his wound bleeding, its color that of blood, its scent that of musk. [Agreed upon]
صلی اللہ علیہ وسلم کو یفرما تے ہوئے سنا کہ جوآدمی اللہ کے راستے میں اوٹی کے خشن سے دودوں کے کے درمیان کے وقف بحر (یعنی تحوطی دیر) کے لے مجھی قبال کیا تو اس کے لے جنت واجب ہوگی اور جوآدمی اللہ کے راستے میں تحوط ا مجھی زنی ہوایا تحوطی سے مجھی تکلیف (مصیبت) پچی تو وہ قیامت کے
دن اس طرح آئے گا کہ وہ زخم جس حالت میں وہ تھا اس سے زیادہ تازہ رہے گا اس کارنگے زعفران کا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی ہوگی اور جس آدمی کو اللہ کے راستے میں کوئی پھوٹا نکلا تو اس پر شہیدول کی مہر ہوگی - (ترمزی، ابوداود، نسائی)
Mu‘adh ibn Jabal narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever fights in Allah’s way for the time it takes to milk a camel, Paradise is guaranteed for him. Whoever is wounded or afflicted in Allah’s way, it comes on the Day of Resurrection as vivid as ever, its color saffron, its scent musk. Whoever has an abscess in Allah’s way bears the seal of the martyrs. [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Nasa’i]
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں تشریف فرماے اور ان سے (صحابہ سے) ذکر فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاداور اللہ پر ایمان لا نا اعمال میں سب سے افضل ہے تو ایک صحابی کہرہ ہموں کے اور عرض کیا: یارسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو جاؤں تو میرے خطاط کا کفارہ ہو جائے گا؟ تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اللہ کے راستے میں شہید ہو جائے تو صبر کرنے والا ہوتا تو اب کی نیت رکھ آگے برہمن والا نہ ہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اس آدمی سے) تو نے کس طرح کہا تو انہوں نے عرض کیا: آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو جاؤں تو کیا میرے خطاط کا کفارہ ہو جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابل جب کہ تو صبر کرنے والا ہوتا تو اب کی نیت رکھ آگے برہمن والا نہ ہو، پھر سواے قرض کے (وہ زمرہ ہے) 10 پس بلاشبہ جبریل نے مجھے یہ کہا ہے - (مسلم)
Abu Qatada (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among them and reminded them that jihad in Allah’s way and faith in Allah are the best deeds. A man stood and said: O Messenger of Allah, if I am killed in Allah’s way, will my sins be forgiven? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes, if you are patient, seeking reward, advancing, not retreating, except for debt; Gabriel told me this. [Narrated by Muslim]
سیدنا عبد اللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے اللہ کے راستے میں شہید ہوناسواے قرض کے بھرچیز کا کفارہ ہو جاتا ہے - (مسلم)
Abdullah ibn Amr ibn al-As narrated: The Prophet (ﷺ) said: Being killed in Allah’s way atones for everything except debt. [Narrated by Muslim]
10قولہ: اَللّٰہُمَّ (سواے قرض کے) یفرض کفاہی میں بھی اس لیے کتاب رحمۃ اللہ میں سے کہ اتمہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس آدمی پر جہاد فرض میں نہ ہو وہ مال باپ کی اجازت کے بغیر نہ کہ جب کہ مال باپ مسلمان ہوں اور جس کے ذمہ قرض ہے وہ قرض خواہ کی اجازت کے بغیر نہ کہ کرے۔ ور مختار اور رواختار میں ہے جہاد ابتدا فرض کفاہی میں اگر چند حضرات اس کا اجتمام کریں تو سارے لوگوں کی طرف سے ساقط ہو جائے گا ورنہ اس کوڑ کر نے کی وجہ ہے وہ سب کہنگا رہول گے وہ جہاد فرض میں بھی پھر، غلام پر، عورت پر اور قر ضدار پر قرض خواہ کی اجازت کے بغیر، اور وہ جہاد فرض میں سے اگر دشمن حملہ کر دے پس وہ سارے لوگ نکلین گے لیکن نہ کوہ سارے لوگ عورت، غلام، قرض دار وغیرہ اگر چیکہ اجازت نہ لی گئی ہو اور شوہراور اس جیسے دورسرے آگروہ منع کریں گے تو کہنگا رہول گے۔ (کتاب ذخیرہ) اور کنز الدقائق کی شروح میں اس طرح ہے کیونکہ ان کے حقوق فرض میں کا مول پر غالب نہیں آتے جیسے نماز، روزہ (حقوق کے باوجود ان کو ادا کرنا ضروری ہے) برخلاف عام اعلان سے پہلے (یعنی جب کہ وہ فرض میں نہ ہو) اس لیے کہ دورسرے لوگوں سے فرض (کفاہی) قائم ہوسکتا ہے تو ان کے حقوق کو باطل کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہی (عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما) سے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جہا د کر نے کی اجازت طلب کی تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں - اس نے کہا بال - آ پ علیہ وسلم نے فرما تو ان دونوں میں رہ کر جہا د کر 11 (تفق علیہ)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and sought his permission to participate in jihad. He asked: Are your parents alive? The man said: Yes. He said: Then strive in their service. [Agreed upon]
In another narration: Return to your parents and keep their company well.
اور ایک روایت میں یہ: اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہ (اچھا سلوک کر) (تفق علیہ)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and sought his permission to participate in jihad. He asked: Are your parents alive? The man said: Yes. He said: Then strive in their service. [Agreed upon]
In another narration: Return to your parents and keep their company well.
سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک مرتبہ نہ میں نکلنا یا شام میں نکلنا و نیا ہے اور جو پچھا س میں ہے تمام سے بہتر ہے - (تفق علیہ)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A morning or an evening spent in the way of Allah is better than the world and all it contains. [Agreed upon]
سیدنا سحل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن اللہ کے راستے میں پاسبانی کرنا دنیا اور جو پچھا س میں سے باس سے بہتر ہے 12 - (تفق علیہ)
Sahl ibn Sa‘d narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A day of guarding the frontier in the way of Allah is better than the world and all it contains. [Agreed upon]
11قولہ: ففيهما فجاهد (پس تو ان دونوں میں رہ کر جہا د کر) شرح السنن میں ہے: یا س صورت میں ہے جب کہ جہا د ہوتا آدمی مال باب کی اجازت کے بغیر نہ نگل جب کروہ دونوں مسلمان ہول - اور اگر جہا د فرض میں ہو جائے تو ان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور کروہ دونوں اس سے منع کریں تو ان کی باٹ نہ مانے اور (جہا د کے لیے) نگل اور اگر وہ دونوں کافر ہوئے تو ان کی اجازت کے بغیر، یا جہا د کے لیے نگل خواہ جہا د فرض ہو یا نفل ہواور ای طرح حکم ہے دگر نفل عبادتوں کے بارے میں جیسے (نفل) نج، عمرہ اور زیارت ثریف - جب والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بھی مسلمان ہول اور ناپسند کر رہے ہول تو نہ نگل اور نفل روزہ بھی نہ رکے - ابن حمام نے فرمایا: یا س لے ہے کہ مال باب میں سے ہرا ایک کی اطاعت کرناس پفرض ہے اور جہا د اس پفرض عین نہیں ہے (مرقات)
قولہ: رباط يوم في سبيل اللہ الخ (اللہ کے راستے میں ایک دن پاسبانی کرنا) صاحب درختار نے کہا: جہا د سے متعلق امور میں سے رباط ہے اور رباط ایسے مقام پر ہے جہاں (پاسبانی کے لیے) جس سے آگے اسلام میں سے اور کوئی معنی مختار ہے اور تج حدیث میں ہے کہ رحد کی پاسبانی کرنے والے کی نماز پانچ سودرہ اور اس کا ایک درجہ سات سو گنا زیادہ ہے اور اگر اس میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس کا عمل اس کا رزق اس پر جاری کر دیا جاتا ہے اور وہ فتنہ میں ذا لے والی چیز وں (عذاب قبر و غیرہ) سے محفوظ رہتا ہے اور شہید کی حثیت سے (قیامت میں) اٹھا یا جائے گا جو فرز ع اکبر (حشر کی ہولنا کی) سے محفوظ رہے گا - (اس کی تفصیل فتح میں ہے)
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک دن پاسبانی کرنا اس کے سواگروہ میں رات کے بھاردن سے بہتر ہے (ترمزدی،نسائی)
Uthman narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: A day of guarding the frontier in the way of Allah is better than a thousand days elsewhere. [Narrated by al-Tirmidhi and al-Nasa’i]
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا ہول: اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات مرعد پر حفاظت کرتے ہوئے ظہیر نا ایک مہینہ بحر روزے رکھنے اور اس میں عبادت کے لیے کہرے ہونے سے بہتر ہے اور اگراس کا (اس میں) انتقال ہو جائے تو اس پراس کا وہ عمل جس کو وہ کرتا تھا جاری رہے گا اور اس کا رزق جاری کردیا جائے گا اور وہ فتنہ میں ذا لے نہ والی چیز (عذاب قبر و غیرہ) سے محفوظ رہے گا۔
Salman al-Farisi narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A day and night of guarding the frontier in the way of Allah is better than fasting and praying for a month. If he dies, his deeds continue as they were, his sustenance is provided, and he is safe from the trial of the grave. [Narrated by Muslim]
سیدنا فضالم بن عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مرے والے کے عمل پر مہر لگادی جائے یہ سواے اس آدمی کے جو اللہ کے راستے میں پاسبانی کرتے ہوئے مرے کیونکہ اس کے عمل (ثواب) میں قیامت تک اس کے لیے اضافہ کیا جاتا ہے اور وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ (ترمزدی،ابوداود)
Fadalh ibn Ubayd narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Every deceased person’s deeds are sealed except one who dies guarding the frontier in the way of Allah; his deeds increase until the Day of Resurrection, and he is safe from the trial of the grave. [Narrated by al-Tirmidhi and Abu Dawud; al-Darimi narrated it from Uqba ibn Amir]
اورداری نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی روایت کی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوآ کسی ایسی پیس جن کو (دوڑنے کی) آگ نہیں چھو سکی ایک وہ آگ کہ جو اللہ کی خشیت سے روئے اور ایک وہ آگ کہ جو اللہ کے راستے میں حفاظت کرتے ہوئے رات گزرے۔ (ترمزدی)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Two eyes will not be touched by the Fire: an eye that weeps from fear of Allah and an eye that stays awake guarding in the way of Allah. [Narrated by al-Tirmidhi]
سیدنا ابن عا نز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے جنازے میں تھے، جب جنازہ رکھا گیا تو عمر بن خطابؓ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس پر نماز مت پڑائی کیونکہ پیغنه کا را دی سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس کو اسلام کے کام پر دیکھتا ہے؟ تو ایک صاحبؓ نے کہا بالیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات وہ اللہ کے راستے میں پاسبانی کیا سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز (نماز جنازہ) پڑائی اور پسو سے مٹی بھی ذا لے اور فرمایا تیرے ساتھی پیغنه میں کرتو ابل دوزخ میں سے بھگر میں گوائی دیتا ہو ل کر تو ابل جنت میں سے ہے اور فرمایا اے عمر! تم سے لوگوں کے اعمال سے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا لیکن تم سے فطرت (اسلام) سے متعلق سوال کیا جائے گا (اما م نہیں نے کتاب 'شعب الایمان' میں اس کی روایت کی ہے)
Ibn A’idh narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) went out for a man’s funeral. When the body was placed, Umar ibn al-Khattab said: Do not pray over him, O Messenger of Allah, for he is a sinful man. The Messenger of Allah (ﷺ) turned to the people and said: Has anyone among you seen him perform an act of Islam? A man said: Yes, O Messenger of Allah, he guarded one night in the way of Allah. So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed over him, threw dust on him, and said: Your companions think you are among the people of the Fire, but I testify you are among the people of Paradise. He said: O Umar, do not ask about people’s deeds but about their innate disposition. [Narrated by al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے اچھی زندگی والا آدمی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے اس کی پیٹ پر بیٹھے ہوئے ہو، جب کہ کسی خوفزدہ افریادس کی آواز کو سنتا ہے تو اس کی طرف شہادت کو طلب کرتے ہوئے اور موت کواس کے مقامات میں طلب کرتے ہوئے اڑ کر پھینچ جاتا ہے۔ یا وہ آدمی ہے جو ان پہاڑوں کی کسی چوٹی میں 13 یا ان واویول میں سے کسی واوی میں بکریوں کارپوز لے کر نماز قائم کرتے ہوئے، زکوۃ دینے ہوئے اور اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے رہتا ہے۔ پیحال تک کے لیقین (موت) آجاتے ہوگوں کے ساتھ سواں نہیں کے کسی چیز میں شریک نہیں رہا۔
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Among the best livelihoods for people is a man holding the reins of his horse in the way of Allah, flying on its back whenever he hears a call or alarm, seeking death or martyrdom where it may be found; or a man with a small flock at the peak of one of these hills or in one of these valleys, establishing prayer, giving zakat, and worshiping his Lord until certainty comes, being among people only in goodness. [Narrated by Muslim]
انہی (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ) سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب کسی غائی سے گزر رہے تھے جس میں میٹھے پانی کا چھوٹا سا چشما تھا، تو وہ ان کو بہت پسند آیا تو انہیوں نے کہا: اگر میں لوگوں سے اللہ توکراس غائی میں رہون (تو میرے لئے بہتر ہے) چنانچہ انہیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے میں کرو کیونکہ تم میں سے کسی کا اللہ کے راستے میں کھڑنا اس کے اپنے گھر میں ستر (70) سال تک نماز پڑھنے سے زیادہ فضیلت والا (کام) ہے۔ کیا تم پسند نہیں کروگے اس بات کو کہ اللہ تعالیٰ تجہاری مغفرت کرے اور تم کو جنت میں داخل کرے۔ تم اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ جو آدمی اپنی کے حق کو چھوڑنے کے بعد (تحوّل لے کے وقت کے لئے) اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا تو اس کے لئے جنت واجب ہے۔ (ترمزی)
Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the Prophet’s companions passed by a valley with a small sweet spring and was pleased with its goodness. He said: If I secluded myself from people and stayed in this valley. He mentioned this to the Messenger of Allah (ﷺ), who said: Do not do so, for one of you staying in the way of Allah is better than his prayer in his house for seventy years. Do you not love that Allah forgives you and admits you to Paradise? Fight in the way of Allah; whoever fights in the way of Allah for the time it takes to milk a camel, Paradise is guaranteed for him. [Narrated by al-Tirmidhi]
13قولہ: او رجل فی غنیمة فی راس شعفة الخ (یاوهآدمی جو چند بکریوں کو لے کر پہاڑ کی کسی چوٹی میں رہتا ہے) نووی نے فرمایا اس حدیث ثریف میں ان حضرات کی ویل سے جو لوگوں میں میل جول پر گوش تشنی (لوگوں سے اللہ تحلل رہے) کو فضیلت دیتے ہیں اور اس بارے میں مشہور اختلاف ہے۔ امام شافعی اور اکثر علماء کرام کا اس بارے میں نظریہ یہ ہے کہ لوگوں میں میل جول کے ساتھ رہنا افضل ہے بشرطیکہ فتنوں سے محفوظ رہنے کی امید ہو۔ اور حضرات زاہدین کی چند جماعتوں کا نظریہ یہ ہے کہ گوش تشنی افضل ہے اور اس حدیث سے وہ استدلال کے ہیں اور جمہور علماء نے اس کے جواب میں یفرمايا کہ یہ حدیث ثریف فتنوں اور جنگوں کے زمانے پرمول سے یا اس آدمی سے متعلق ہے جس سے لوگوں کو امن وسلامتی نہیں ملتی اور وہ لوگوں سے تکلیف پر صبر کر سکتا ہے۔ اور حضرات انمیاء کیم الصلاوات والسلام اور اکثر صحابہ، تابعین، علماء کرام اور زاہدین لوگوں میں میل جول رکھتے تھے۔ جیسے جمع کی نماز، باجماعت نمازی، جنازے کی نماز، پیار کی عیادت اور ذکر کے حلقوں میں (مرقاب) فتاوی عالمگیری میں ہے۔ ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ بیبات کروہے کر لوگ مجعہو کرسی ایک مقام میں لوگوں سے اللہ تحلل رہنے اور پاکیزہ چیزوں سے رکے رہنے اور اس مقام میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہنے اور اپنے آپ کواس کے لئے فارغ کر لینے شہروں میں رہ کر کسب حلال، جمع کا اہتمام اور جماعت سے نماز زیادہ پسند یہ ہے اور اس کو لازم کرنا چاہیے (تا تارخانی) اور اس کے بعد والی روایت میں جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے اس میں حضور علی الصلاۃ والسلام کا ارشاد کہ لا تفعل (تم ایسامت کرو) اس کی تفسیر کرتا ہے۔
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ مہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں نکل تو ایک صحابی ایک غار کے پاس سے گزر رہے جس میں تحوّل اپنی اور پچھے سبرزیال تھیں تو ان کے جی میں آیا کہ وہ یہاں قیام کریں اور دنیا سے اگر تخلیک رہیں۔ جناحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نکلو پہودیت کے ساتھ جیجا گیا ہوں اور نظر انہیت کے ساتھ لیکن میں سیر ہاوسہولت والادین لے کر مبعوث ہوا ہوں اور تم سے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان سے نہ ایک مرتبہ اور شام میں ایک مرتبہ اللہ کے راستے میں نکلنا، دنیا سے اور دنیا میں جو پچھے ان سب سے بہتر ہے اور یقیناً تم میں سے کسی کا صف میں (مجاہدین کی) کھڑے ہونا ساتھ سال کی نماز سے بہتر ہے (احمد)
Abu Umama narrated: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition. A man passed by a cave with some water and thought to himself to stay there and renounce the world. He sought the Prophet’s permission, and the Prophet (ﷺ) said: I was not sent with Judaism or Christianity but with the tolerant Hanifiyya. By the One in Whose Hand is Muhammad’s soul, a morning or evening in the way of Allah is better than the world and all it contains, and one of you standing in the ranks is better than his prayer for sixty years. [Narrated by Ahmad]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر آنا (جہاد کے بعد) جہاد میں رہنے کے جسیما ہے (ابوداؤد)
Abdullah ibn Amr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: A return is like an expedition. [Narrated by Abu Dawud]
انہی (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لئے اس کا ثواب ہے 14 اور جو آدمی اجرت چیش
قولہ: وللجاعل اجره واجر الغازی۔ (جونازی کے لئے جہاد کا سامان فراہم کرنے والے اس کے لئے اس کا اجرہ ہے اور جہاد کرنے والے کا بھی) ابن الملک نے کہا جائل وہ شخص ہے جو کسی کام کے لئے مال دیتا ہے جس کی غازی کو مال دیتے ہے تاکر وہ جنگ کرے اور یہ مارے پاس درست ہے لہذا اغازی کے لئے اس کی محنت کا اجر لے گا اور جائل کے لئے دو اجر ہو لے گے، اللہ کے راستے میں مال عطا کرنے کا اجر اور غازی کے لئے جنگ میں جان کا اسباب بنے کا اجر۔ اور امام شافعی رحم اللہ نے اسے منع کیا ہے اور اگر وہ اس کو لیا ہے تو واپس کر دینا اوجب قرار دیا ہے اور شرح السنن میں ہے اس حدیث تشریف میں جائل کے لئے ترغیب ہے اور جس کو اجرت دی گئی ہے اس کے لئے اجازت ہے اور علماء نے جہاد کے لئے اجرت لینے کے جواز میں اختلاف کیا ہے۔ امام زہری امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب رحمہم اللہ نے اس میں اجازت دی ہے اور دومسرے فقہاء نے اس کو جائز نہیں قرار دیا ہے اور امام شافعی نے کہا ہے کہ اجرت لے کر جہاد کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ لیا ہے تو اس کو واپس کر دینا ہو گا۔
کر نے والوں کے لیے جہاد کا سامان فراہم کرنے والوں کے اس کا اجر بھاور
جہاد کرنے والوں کا بھی اجر ہے۔ (ابوداؤد)
سیدنا ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سن کہ تمہارے لیے ملک فتح ہوتے جا رہے ہیں اور مجھے شکر میں فرما
دستہ اگر کہ جائیں گے تو ایک آدمی فوجی دستے کو ناپسند کرتے گا اور اپنی قوم سے نقل کر قابل میں
جا کے گا اور پیکہ ہوتے اپنے آپ کو ان پر مشترک کرتے گا کہ کوئی ایسے جس کی طرف سے جنگ
دستہ میں جائے کے لیے میں کافی ہو جائیں 15۔ (یعنی کون بھی اجرت دے گا کہ میں اس کی طرف
سے جنگ میں جاؤں)۔ یا ور کہو ہ اپنا آخری قطرہ خون بہانے تک محمل مزدوری رہے گا۔ (ابوداؤد)
سیدنا لعلی بن امیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے جنگ کا اعلان فرما یا اور میں بہت بورزہا تھا، میرے لیے کوئی خادم نہیں تھا میں نے اجرت
پر ایک کام کرنے والے کو تلاش کیا جو میرے لیے کفایت کرے 16۔ تو میں ایک شخص کو پایا اور اس
کے لیے تین (3) دینار مقرر کیا پس جب مال غنیمت آیا تو میں نے چاپا کراس کے لے اس کا حصہ
قولہ: یعرض نفسہ علیہم من اکیفہ بعث کذا الخ (اپنے آپ کو ان پر مشترک کرتے گا کہ کوئی
ایسے جس کی طرف سے جنگ میں جائے کے لیے میں کافی ہو جائیں) صاحب کتاب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: کیا جہاد
میں کسی کی نیابت ہوسکتی ہے یا نہیں تو امام ابوحنیفہ اور امام شافعی و امام احمد رحمہم اللہ نے فرما یا یہ درست نہیں خواہ جنگ کے
لیے مال سے ہو یا اجرت سے یا خوشی سے ہو یا دیگر ہو خواہ وہ جنگ نامہ بنانے والے پرفرض ہو یا فرض نہ ہو اور امام
مالک رحمۃ اللہ نے فرما یا جب وہ مال کے ذریعے ہو اور جہاد نامہ پرفرض نہ ہو جسے غلام اور باندی سے تو درست ہے۔
قولہ: فالتمست اجیرا يكفيني (میں نے اجرت پر ایک کام کرنے والے کو تلاش کیا جو میرے لیے
کفایت کرے) ایک فتاوی عالمگیری میں یہ ہے: اگر اجرت پر کام کرنے والے شکر کے ساتھ ہے تو ایسی صورت میں امام محمد
رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرما یا وہ اپنے صاحب کی خدمت نزک کر دے اور جنگ لڑنے تو حضرت کے حق میں اور اگر خدمت کوئی
چھوڑا تو اس کو پچھمیں ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص جنگ کے لیے داخل ہو جائے وہ حضرت کے حق میں ہو جائے تاکہ خواہ وہ
جنگ کرنے یا نہ کرنے اور جو جنگ کے سوا دوسری چیز کے لیے داخل ہو تو وہ مستحق جنگ لڑنے والے کی حثیت سے ہی
فوذ میں داخل ہو جائے تو وہ جنگ کرنے یا پہاری یا کسی دوسری وجہ سے نہیں لڑ سکا، حضرت کے لیے کا اگر وہ چھوڑا اسوار ہے تو
گھوڑے سوار اور اگر پیدل ہے تو پیدل فوجی کی حثیت رہے گی اور جو شخص پایی کی حثیت سے داخل ہو پھر وہ گرفتار
ہو گیا پھر مال غنیمت کے ذاکر (تقسیم کرنے) سے پہلے چھوٹے گیا تو اس کو اس کا حصر لیگا (السرائج الویاج)
جاری کرول پس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااورآپ سے ذکر کیا تو آپ
نے فرمایا: میں اس کے لئے اس غزوہ کے اندر دنیا و آخرت میں ان دینار کے سوا جوتم نے اس کے
لئے مقرر کیا ہے اور پچھلی پاتا - (ابوداود)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The fighter has his reward, and the one who equips has his reward and the fighter’s reward. [Narrated by Abu Dawud]
قولہ: وللجاعل اجره واجر الغازی۔ (جونازی کے لئے جہاد کا سامان فراہم کرنے والے اس کے لئے اس کا اجرہ ہے اور جہاد کرنے والے کا بھی) ابن الملک نے کہا جائل وہ شخص ہے جو کسی کام کے لئے مال دیتا ہے جس کی غازی کو مال دیتے ہے تاکر وہ جنگ کرے اور یہ مارے پاس درست ہے لہذا اغازی کے لئے اس کی محنت کا اجر لے گا اور جائل کے لئے دو اجر ہو لے گے، اللہ کے راستے میں مال عطا کرنے کا اجر اور غازی کے لئے جنگ میں جان کا اسباب بنے کا اجر۔ اور امام شافعی رحم اللہ نے اسے منع کیا ہے اور اگر وہ اس کو لیا ہے تو واپس کر دینا اوجب قرار دیا ہے اور شرح السنن میں ہے اس حدیث تشریف میں جائل کے لئے ترغیب ہے اور جس کو اجرت دی گئی ہے اس کے لئے اجازت ہے اور علماء نے جہاد کے لئے اجرت لینے کے جواز میں اختلاف کیا ہے۔ امام زہری امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب رحمہم اللہ نے اس میں اجازت دی ہے اور دومسرے فقہاء نے اس کو جائز نہیں قرار دیا ہے اور امام شافعی نے کہا ہے کہ اجرت لے کر جہاد کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ لیا ہے تو اس کو واپس کر دینا ہو گا۔
سیدنا ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سن کہ تمہارے لیے ملک فتح ہوتے جا رہے ہیں اور مجھے شکر میں فرما
دستہ اگر کہ جائیں گے تو ایک آدمی فوجی دستے کو ناپسند کرتے گا اور اپنی قوم سے نقل کر قابل میں
جا کے گا اور پیکہ ہوتے اپنے آپ کو ان پر مشترک کرتے گا کہ کوئی ایسے جس کی طرف سے جنگ
دستہ میں جائے کے لیے میں کافی ہو جائیں 15۔ (یعنی کون بھی اجرت دے گا کہ میں اس کی طرف
سے جنگ میں جاؤں)۔ یا ور کہو ہ اپنا آخری قطرہ خون بہانے تک محمل مزدوری رہے گا۔ (ابوداؤد)
Abu Ayyub narrated that the Prophet (ﷺ) said: Cities will be opened for you, and there will be mobilized armies with assigned expeditions. A man among you may dislike his assignment, abandon his people, and roam the tribes, offering himself: ‘Who will take my place for such-and-such?’ That man is a hireling to the last drop of his blood. [Narrated by Abu Dawud]
سیدنا لعلی بن امیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے جنگ کا اعلان فرما یا اور میں بہت بورزہا تھا، میرے لیے کوئی خادم نہیں تھا میں نے اجرت
پر ایک کام کرنے والے کو تلاش کیا جو میرے لیے کفایت کرے 16۔ تو میں ایک شخص کو پایا اور اس
کے لیے تین (3) دینار مقرر کیا پس جب مال غنیمت آیا تو میں نے چاپا کراس کے لے اس کا حصہ
جاری کرول پس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااورآپ سے ذکر کیا تو آپ
نے فرمایا: میں اس کے لئے اس غزوہ کے اندر دنیا و آخرت میں ان دینار کے سوا جوتم نے اس کے
لئے مقرر کیا ہے اور پچھلی پاتا - (ابوداود)
Ya‘la ibn Umayya (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) announced an expedition, and I was an elderly man with no servant. I sought a hireling to take my place and found a man. I offered him three dinars. When his share of the spoils was due, I wanted to give him his share but remembered the dinars. I came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. He said: I find no reward for him in this expedition, in this world or the Hereafter, except the dinars he was promised. [Narrated by Abu Dawud]
15قولہ: یعرض نفسہ علیہم من اکیفہ بعث کذا الخ (اپنے آپ کو ان پر مشترک کرتے گا کہ کوئی
ایسے جس کی طرف سے جنگ میں جائے کے لیے میں کافی ہو جائیں) صاحب کتاب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: کیا جہاد
میں کسی کی نیابت ہوسکتی ہے یا نہیں تو امام ابوحنیفہ اور امام شافعی و امام احمد رحمہم اللہ نے فرما یا یہ درست نہیں خواہ جنگ کے
لیے مال سے ہو یا اجرت سے یا خوشی سے ہو یا دیگر ہو خواہ وہ جنگ نامہ بنانے والے پرفرض ہو یا فرض نہ ہو اور امام
مالک رحمۃ اللہ نے فرما یا جب وہ مال کے ذریعے ہو اور جہاد نامہ پرفرض نہ ہو جسے غلام اور باندی سے تو درست ہے۔
قولہ: فالتمست اجیرا يكفيني (میں نے اجرت پر ایک کام کرنے والے کو تلاش کیا جو میرے لیے
کفایت کرے) ایک فتاوی عالمگیری میں یہ ہے: اگر اجرت پر کام کرنے والے شکر کے ساتھ ہے تو ایسی صورت میں امام محمد
رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرما یا وہ اپنے صاحب کی خدمت نزک کر دے اور جنگ لڑنے تو حضرت کے حق میں اور اگر خدمت کوئی
چھوڑا تو اس کو پچھمیں ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص جنگ کے لیے داخل ہو جائے وہ حضرت کے حق میں ہو جائے تاکہ خواہ وہ
جنگ کرنے یا نہ کرنے اور جو جنگ کے سوا دوسری چیز کے لیے داخل ہو تو وہ مستحق جنگ لڑنے والے کی حثیت سے ہی
فوذ میں داخل ہو جائے تو وہ جنگ کرنے یا پہاری یا کسی دوسری وجہ سے نہیں لڑ سکا، حضرت کے لیے کا اگر وہ چھوڑا اسوار ہے تو
گھوڑے سوار اور اگر پیدل ہے تو پیدل فوجی کی حثیت رہے گی اور جو شخص پایی کی حثیت سے داخل ہو پھر وہ گرفتار
ہو گیا پھر مال غنیمت کے ذاکر (تقسیم کرنے) سے پہلے چھوٹے گیا تو اس کو اس کا حصر لیگا (السرائج الویاج)
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں کسی غازی (جنگ لڑنے والا) کا بندوبست 17 کرے تو
یقیناً اس نے کسی جہاد کیا اور جو شخص کسی غازی کے اہل و عیال میں اس کا (احچا) نامہ بنار پا تو اس
نے کسی جہاد کیا - (متفق علیہ)
Zayd ibn Khalid narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever equips a fighter in the way of Allah has fought, and whoever looks after a fighter’s family with goodness has fought. [Agreed upon]
ابو عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جو شخص جہاد میں کسی اور کسی غازی کا بندوبست کری نہ کرے کسی غازی کے اہل و عیال میں خیر
و بحلاتیت کے ساتھ جا کسی نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو روز قیامت سے پہلے کسی مصیبت میں مبتلا
کر دیتا ہے - (ابوداود)
Abu Umama narrated that the Prophet (ﷺ) said: Whoever does not fight, equip a fighter, or look after a fighter’s family with goodness, Allah will afflict him with a calamity before the Day of Resurrection. [Narrated by Abu Dawud]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ایک جنگی وسٹ کو قبیلہ نزیل کی شاخ بنی لحیان کی طرف روانہ کیا تو فرمایا: چاہیے کہ ہر دو آدمیول
میں سے ایک (جہاد کے لئے) نکل پڑے اور اجردونوں کے درمیان (برابر) ہوگا - (مسلم)
Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition to Banu Lihyan from Hudhayl and said: Let one of every two men go out, and the reward is shared between them. [Narrated by Muslim]
سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جہاد میں نہ جا کر بھی رہنے والوں پر مجاردین کی خواہتین کے اختیار کا خیال رکھنا ایسا ہی ضروری
ہے جیسے ان کی ماول کا اختیار ضروری ہے اور جہاد میں نہ جا کر بھی رہنے والوں میں سے جو کوئی
آدمی مجاردین میں سے کسی کے اہل و عیال میں اس کا جا نشین ہو کراس کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو اس
کو قیامت کے دن مجاردین کے لئے کطر اکیا جائے گا اور وہ اس کے عمل میں سے جس قدر چاہے لے
لیگا - تو تمہارا کیا خیال ہے -
Burayda (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The sanctity of the mujahids’ wives for those who stay behind is like the sanctity of their mothers. No man who stays behind and looks after a mujahid’s family, then betrays him, but will be halted on the Day of Resurrection, and the mujahid will take from his deeds what he wishes. What do you think? [Narrated by Muslim]
سیدنا نس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: تم مشرکین سے اپنے مال، اپنی جانوں اوراپنی زبانوں سے جہاد کرو18۔ (ابوداوود، نسائی، داری)
Anas narrated that the Prophet (ﷺ) said: Strive against the polytheists with your wealth, lives, and tongues. [Narrated by Abu Dawud, al-Nasa’i, and al-Darimi]
17قولہ: من جهز غازیا...... الخ (جوآدمی کسی کا بندوبست کرے) صاحب درمتار نے کہا: اب کمال نے
جہاد کی تعریف یوں کی ہے کہ حسب استطاعت اللہ کے راستے میں براہ راست یا مال دے کر یا لے پیش کر کے یا مجاردین
کی تعداد بڑھا کر یا لے، کسی شکل میں اترنے کا نام جہاد ہے -
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مومین دنیا میں تمیں حصول میں (تین طرح کے) ہیں، وہ حضرات جو اللہ اوراس کے
رسول پر ایمان لائے پھروہ شک میں نہیں پڑے اوراپنے مال اوراپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں
جہاد کے اوروہ لوگ جیں جسن سے لوگ اپنے مال اورجانوں سے متعلق امن میں رہیں پھروہ ہیں جو
حرص پر جہاں کاوراللہ بزرگ وبرتر کے لئے اس کو چھوڑ دیا (احمد)
قولہ: جاهدوا المشرکین الخ (تم جہاد کرو مشرکین سے) یحدیث ثریف اپنے ظاہری معنی میں
حدود حرم، حرمت وا لے میں اور جنگ میں پہل واقدام کرنے کوشالے ہے ابن عام نے کہا جنگ کرنا ان کافرون
سے جوعرب کے مشرکین میں سے اسلام قبول نہیں کے ہیں یعرب کے سوا دومرے ان کافرول سے کچھ جنگ کرنا جون
اسلام قبول کے ہیں اور نہ جزیہ دیتے ہیں، واجب ہے اگر چیکہ وہ تم سے جنگ کا آغاز نہ کے ہوں کیون کہ جنگ کو
واجبا کرنے والے جودلال پی تو اس میں جنگ کے واجب ہونے کے لئے کافرول کی طرف سے جنگ کے اقدام کی
قیثیمین (مرقات)۔اورورمختار میں ہے اوراب رباللہ تعالیٰ کا ارشاد فان قتلوكم فاقتلوهم“(سورۃ البقرۃ،آیت
نمبر:191) (اگروہ تم سے جنگ کریں تو تم ان سے لڑو)،اوراشہر حرام میں جنگ کی حرمت پیر(دونوں با تمیں) منسوخ
ہے دومسری آیتوں سے جوعام پیں ہے فاقتلوالمشرکین حیث و جدتموہم“(9 سورۃ التوبہ،آیت
نمبر:5) (تم مشرکین کو جہاں کچھ پاؤ قتل کرو) (آتی)اوررداخمار میں ہے پھرتم اس بات کوجانا کر قتال (جنگ و جہاد) کا
حکم بالترتیب نازل ہواہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوشر وع میں تبلیغ کرنے اوران سے رودگرانی کا حکم آیا فاصدع
بما توّمر و اعرض عن المشرکین“(سورۃ التجر،آیت نمبر:94) (پی آپ کے طور پر بیان کردیتے ہیں کا حکم آیا
آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے رودگرانی کچھ) اس کے بعد ان سے اتنہ انداز میں مجادله و بحث کرنے کا حکم آیا
و ادع الی سبیل ربک بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی ہی احسن“(سورۃ انحل،آیت
نمبر:125) (آپ اپنے رب کی طرف حکمت وموعظت سے دعوت دیتے اوران سے ایہ طریقے سے مجادلہ کیے ہو
سب سے اچھا ہے) پھران لوگوں کو جس سے جنگ کی جارہی ہے، جنگ کی اجازت وی گئی اذن للذین یقتلون
بانہم ظلمو“(سورۃ انحل،آیت نمبر:39) (کروہ کچھ جنگ کریں کیون کہ ان پر لم کیا گیا ہے پھر جنگ کا حکم دیا
گیا جب کروہ ان سے جنگ کریں فان قتلوكم فاقتلوهم“(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر:191) (پی آگروہ تم سے
جنگ کریں تو تم ان قتل کرو) پھراس کے بعد حرمت وا لے میں گزر جانے کی شرط کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا فیاذا
انسلخ الاشهر الحرم فاقتلوالمشرکین“(سورۃ التوبہ،آیت نمبر:5) (پی جب حرمت وا لے میں گزر
جاپس تو تم مشرکین قتل کرو) پھراس کے بعد جنگ کا مطلق حکم دیا گیا وقاتلوا فی سبیل اللہ“(سورۃ البقرۃ،آیت
نمبر:244) (اورتم اللہ کے راستے میں جنگ کرو)اور جنگ کا معاملہ میش کے لئے اس پر قائم ہوگیا (تخصیص از: مرسي)
Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The believers in this world are in three categories: those who believe in Allah and His Messenger without doubt and strive with their wealth and lives in the way of Allah; those whom people trust with their wealth and lives; and those who, when tempted, abandon it for Allah, Exalted and Glorious. [Narrated by Ahmad]
His statement: 'Jahidoo al-mushrikoon' (Fight against the polytheists) - this hadith is explicit in its meaning regarding the boundaries of the sacred area, those who are inviolable, and those who are capable of initiating combat. Ibn Abbas said that fighting is against those disbelievers among the Arab polytheists who have not accepted Islam. As for other disbelievers outside of Arabia, there is no obligation to fight them if they accept Islam or pay the jizyah. It is obligatory even if they do not initiate war against you, because the one who makes it obligatory is Allah, and the evidence for the necessity of war is the action of the disbelievers. This is mentioned in the Merqat. And in the Quran, Allah says, 'And if they fight you, then kill them' (Surah Al-Baqarah, verse 191). The sanctity of fighting in the Sacred City has been abrogated by other verses, such as, 'Kill the polytheists wherever you find them' (Surah At-Tawbah, verse 5). In Dakhmar, it is stated that the command to fight was revealed in stages to the Prophet ﷺ during his mission to propagate and call people to repentance: 'So announce what you are commanded and turn away from the polytheists' (Surah Al-Hijr, verse 94). After this, he was commanded to debate with them in a gentle manner: 'Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best' (Surah An-Nahl, verse 125). Then permission to fight those who were already at war was granted: 'Permission [to fight] has been given to those who are being fought because they were wronged' (Surah An-Nahl, verse 39). Subsequently, the command to fight was given when they initiated war: 'And if they fight you, then kill them' (Surah Al-Baqarah, verse 191). After this, the command to fight was given with the condition of passing through the sacred months: 'So when the sacred months have passed, then kill the polytheists' (Surah At-Tawbah, verse 5). Finally, the absolute command to fight was given: 'And fight in the way of Allah' (Surah Al-Baqarah, verse 244). The issue of war became established for the Muslims on this basis.
سیدنا علی، ابوہریرہ، ابورداراء البواہمہ، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عمرو، جابر بن عبد اللہاور عمران بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کے راستے میں خرچنگی اور اپنے گھر میں رہتا تو اس کے لئے براکی درہم کے بر لے سات سودرہم ہیں اور جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی ذات کے جہاں کیا وراس کی رضا کے لئے اس کو (مال) خرچ کیا تو اس کو بہادرہم کے بد لے سات (7) لاکھ درہم ہیں پھرآپ پر نے پرآیت تلاوت کی "واللہ یضعیف لمن یشاؤ" (2 سورۃ البقرة، آیت نمبر :261) (اور اللہ جس کے لئے چاہے اضافہ کرتا ہے ) - (ابن ماجہ)
Ali, Abu Hurayra, Abu Darda’, Abu Umama, Abdullah ibn Umar, Abdullah ibn Amr, Jabir ibn Abdullah, and Imran ibn Husayn narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever sends an expenditure in the way of Allah while staying at home, for every dirham he gets seven hundred dirhams. Whoever fights himself in the way of Allah and spends in that cause, for every dirham he gets seven hundred thousand dirhams. Then he recited: And Allah multiplies for whom He wills [Al-Baqarah: 261]. [Narrated by Ibn Majah]
خریم بن فاتک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے راستے میں پڑھنے خرچ کیا تو اس کے لئے سات سودرجا اضافہ کیا جائے۔ - (ترمزدی، نساوی)
Khuraym ibn Fatik narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever spends an expenditure in the way of Allah, it is recorded for him seven hundredfold. [Narrated by al-Tirmidhi and al-Nasa’i]
سیدنا ابومسعود الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر ایک شخص کميل ذو الی هوی ایک اوٹھی لا یا اور کہا: پر اللہ کے راستے میں بے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے اس کے بد لے قیامت کے دون سات سواونڈیال ہول گی وہ سب کمل ذو الی هوی ہول گی - (مسلم)
A man came to him with a camel that had a defect in its leg, and he said: 'O Messenger of Allah ﷺ, I have brought this camel for the sake of Allah.' The Messenger of Allah ﷺ said: 'For you, its bad will be equivalent to seven good deeds on the Day of Resurrection, and all of it will be good despite its defect.'
ابوامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہترین صدق اللہ کے راستے میں ظبر کا سایہ (فرامتم کرنا) اور اللہ کے راستے میں کسی خادم کا عطیہ کرنا اللہ کے راستے میں نز (اونٹ) کی جفت کے قابل اوٹھی چیز کرنا ہے (ترمزدی)
Abu Umama narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The best charity is the shade of a tent in the way of Allah, the gift of a servant in the way of Allah, or a fertile stallion in the way of Allah. [Narrated by al-Tirmidhi]
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کونسا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (نفل نماز ول میں) قیام کوطویل کرنا پھر عرض کیا گیا کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تقدست کی محنت کا صدقہ، عرض کیا گیا کونی مہجرت افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: آدمی کا چھوڑ دینا ان چیزوں کو جس کو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، عرض کیا گیا پس کونسا جہاد افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ آدمی (افضل ہے) جو پن مال اور اپنی جان کے مشترکین کے جہاد کرے، عرض کیا گیا کونی شہادت زیادہ عظمت والی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ شخص جس کا خون پھا گیا پھوواراس کا عمر ہوثر ا بمی زیکر دیا گیا ہو (ابوداود)
I asked the Messenger of Allah ﷺ, 'Which deed is the best?' He replied: 'To stand in voluntary prayer at night.' Then I asked, 'Which charity is the best?' He replied: 'The charity that comes from hard-earned income.' Then I asked, 'Which migration is the best?' He replied: 'To forsake those things which Allah has made unlawful for one's self.' Then I asked, 'Which jihad is the best?' He replied: 'The person who fights against his own desires and wealth in the way of Allah.' Then I asked, 'Which martyrdom is the most honorable?' He replied: 'The person whose blood is shed and whose name is remembered as a martyr.' (Abu Dawud)
نسائی کی روایت میں بھ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عمل فضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ایا ایمان جس میں کسی وقت کا شک نہ ہو اور ایمان جس میں کسی وقت کی (مال غنیمت میں) خیانت نہ ہو اور ایمان جو مقبول ہو، عرض کیا گیا کہ نماز فضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: (جس میں) طول قیام ہو۔ اس کے بعد کے الفاظ میں دونوں (ابوداود، نساٌی) نے اتفاق کیا ہے۔
Is action a virtue? He replied: 'Faith in which there is no doubt at any time, and faith in which there is no betrayal at any time (in the distribution of war booty), and faith that is accepted.' It was then asked: 'Is prayer a virtue?' He replied: '(Prayer in which there is) prolonged standing.' Both (Abu Dawud and Nasa'i) agree on the words that follow.
سیر نا ابو بریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پچھلا اور کہنا کہ لا و (دشمن کی) کھوپڑی پر ضرب لگاو تو تم جنت کے وارث ہوجاؤ گے۔ (ترمزی)
Offer the salutation first and say, 'O (enemy's) head, strike!' Then you will inherit Paradise.
سیر نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوك سے واپس ہونے پس آپ مدینہ کے قریب ہوئے تو فرماے: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی سفر کہا اور کسی وادی کو ط کے ضرور وہ (برجام) تمہارے ساتھ چلتے۔ اور ایک روایت میں آیا ہے "گر ضرور وہ تمهارے ساتھ ثواب میں شریک ہیں" انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ان کے مدینہ میں رہتے ہوئے کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ان کے مدینہ میں رہتے ہوئے کیا، عذر ان کو رک دیا (بخاری)۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) returned from the Tabuk expedition and approached Madinah. He said: In Madinah are people who, for every journey you traveled or valley you crossed, were with you. In another narration: Shared in it with you. They said: O Messenger of Allah, while they are in Madinah? He said: Yes, while they are in Madinah; valid excuses held them back. [Narrated by al-Bukhari; Muslim narrated it from Jabir]
اور امام مسلم نے جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کی روایت کی ہے۔
سیر نا سهل بن حنیف سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا جو شخص سجدا کے ساتھ اللہ تعالی سے شہادت کو طلب کرے گا تو اللہ تعالی اس کو شہداء کے درجہ تک پہنچا دے گا اگر چیکہ وہ باستر پمرے۔ (مسلم)
Sahl ibn Hunayf narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever sincerely asks Allah for martyrdom, Allah will grant him the ranks of martyrs, even if he dies on his bed. [Narrated by Muslim]
سیر نا ابو بریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مرے اور وہ جہاں نکیا ہو اور نہ اپنے نفس سے اس کی (جہاد کرنے کی) بات کی 19 ہوتی وہ شخص نفاق کی ایک شاخ پمرے۔ (مسلم)
Whoever emigrates to me and to a place where there is goodness, but does not strive with his own self (in the cause of Allah), such a person is a branch of hypocrisy.
قولہ: ولم يحدث به نفسه (اس سے اپنے نفس سے اس کی بات نہیں کی) ظاہر ہے کہ یہ بات عام ہے اور واجب ہے ہر مسلمان پر کہ وہ جہاد کی نیت رکے یا فرض کفا ئی کے طور پر یا فرض عین کے طور پر ہو جب کہ (جہاد کے لے) روانہ ہو نے کا حکم عام ہو (مرقات)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا اوراس پر جہاد کرنی نشانہ رتو وہ اللہ تعالیٰ حالت میں ملاقات کرنا گا 20 کراس (کے دین) میں رخہ ہوگا۔ (ترمزی، ابن ماجہ)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever meets Allah without a trace of jihad meets Allah with a flaw. [Narrated by al-Tirmidhi and Ibn Majah]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت کرتے ہیں آپ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے پاس ان وقت کے اوردوشان کے بٹھکرنے پز محبوب نبی کے - 1 _آ نسوہ کا قطرہ اللہ کے خشیت کی وجہ تے - 2 _اور ایک دور راس خون کا قطرہ جواللہ کے راستے میں بہا گیا ہو_اور اپ رہ دونشان : 1 _ ایک وہ نشان جواللہ کے راستے میں لگا ہو - 2 _دور را ایک وہ نشان جواللہ کے فرا ض میں سے کسی فرض (کی ادائی میں ) لگا ہو - (ترمزی)(اور امام ترمزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے)
He was at the house of Aishah (RA) when a drop of sweat from the beloved Prophet ﷺ fell on the ground, and a drop of blood from his head flowed down. He then pointed to both: 1) One mark that had fallen on the ground, 2) and one mark that had fallen within the path of the vein. And he said: 1) One mark that had fallen on the ground, 2) and one mark that had fallen within the path of the vein from some obligatory act (of worship). (Tirmidhi) (And Imam Tirmidhi said that this hadith is hasan gharib.)
سیدنا جابر بن سمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماپیرہ ہمیشہ قائم رہے گا،مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر جنگ کرتی رہے گی یہاں تک قیامت ہوگی -(مسلم)
Jabir ibn Samura narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: This religion will remain standing, with a group of Muslims fighting for it until the Hour is established. [Narrated by Muslim]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماپیرہ امت میں سے ایک ذا ایک جماعت ہمیشہ حق پر جہاد کرتی رہے گی -وہ غالب رہیں گے اور جوان سے دشنی کریں گے ان پر غالبرہیں گے -یہاں تک کہان میں کی آخری جماعت دجال سے جنگ کرنے گی -(ابوداؤد)
Imran ibn Husayn narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group from my nation will continue fighting for the truth, prevailing over their opponents, until the last of them fights the False Messiah. [Narrated by Abu Dawud]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماپتم اپنے میں شہید کس کو بھی ہو_وہ عرض کے یار رسول اللہ جس کے راستے
میں قتل کیا جائے پس وہ شہید ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما ئے کہ میری امت میں شہدا کم نہوں جائیں
گے۔ 21 جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔ اور جو آدمی اللہ کے راستے میں انتقال کر
جائے وہ شہید ہے۔ اور جوآدمی طاعون میں انتقال کر جائے وہ شہید ہے۔ اور جوآدمی پیٹ (کی بیماری)
میں انتقال کر جائے وہ شہید ہے۔ (مسلم)
Abu Hurayra narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who do you consider a martyr among you? They said: O Messenger of Allah, one killed in the way of Allah is a martyr. He said: Then the martyrs of my nation would be few. They said: Who are they, O Messenger of Allah? He said: One killed in the way of Allah is a martyr, one who dies of plague is a martyr, and one who dies of an abdominal disease is a martyr. [Narrated by Muslim]
قولہ: من لقی اللہ بغیر اثر من جہاد الخ لعنی جواللہ سے ملاقات کرنا اوراس پر جہاد کرنی کونی نشا نہ ہوجئے زخم یاراست کا غبار یا بد ن کا تحکم ایمال کا خریج کرنا اسباب جہاد کا مہیا کرنا اورتحصیارفراء تم کرنا تو وہ اللہ تعالیٰ سے لی کا تو اس حال میں کراس (کے دین) میں رخہ یعنی شہادت کی کمال خوش قسمتی اورمجاہد کے جہاد کے مقابلہ میں خلل اور کی ہوگی _اورہوسکتا ہے یہ حدیث ثریف مقید ہواس کے لے جس پر جہاد فرض ہواور وہ اس مقصد کے پیچپا نے والے (جہاد کے) اسباب کی تیاری شروع کے بغیر انتقال کر جائے (ماخوذ ازم رقات)
صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناؤ جو شخص اللہ کے راستے میں گھرتے تھا اور انتقال کرگیا۔ اس کیا گیا
یاس کے گھوڑے یاس کے اوپٹ نے اس کو گرا کر گرن تو ڈی یاس کو ذس لے کوئی زہر یلا جانوریا
وہ بستر پر سی بھی موت سے جو اللہ نے چاپا انتقال کر جائے تو وہ شہید ہے۔ اور یقیناً اس کے لئے
جنت ہے۔ (ابوداود)
Abu Malik al-Ash‘ari narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever sets out in the way of Allah and dies or is killed, or is thrown by his horse or camel, or is stung by a venomous creature, or dies on his bed, or by any fate Allah wills, he is a martyr and for him is Paradise. [Narrated by Abu Dawud]
آپ نے فرما ئے کہ آدمی جس کو سمدر چکر آئے، قطعہ ہوجائے اس کو شہید کا ثواب ہے۔ اور جو غرق ہو
جائے تو اس کو دوشہیدول کا ثواب ہے۔ 22۔ (ابوداود)
Umm Haram narrated that the Prophet (ﷺ) said: One who is seasick in the way of Allah has the reward of a martyr, and one who drowns has the reward of two martyrs. [Narrated by Abu Dawud]
21قولہ: ان شهداء امتی اذا لقليل الخ (الیاہوتو میری امت کے شہداء کم نہوں جائیں گے) صاحب درختار نے کہا پی ساری با تمیں شہید کال سے متعلق پین ورنہ جنگ میں شہید ہوئے والا وہ شخص ہے جس نے جنگ ختم
ہوئے نے کے بعد پچھا کہ ایا پیا ہو یاس کو دوا دی گئی ہو یاس کو نہی حالت میں میرا ن جنگ کے سے منتقل کیا گیا ہو یاس نے کوئی
دنیوی وصیت کی ہو تو پیا آخرت میں شہید میں شمار ہے اس طرح حالت جنا بت میں شہید ہوئے والا، اس جسیا اوروہ شخص
جو سی دشمن کا ارادہ کیا اور انتقال کرگیا اور جو ذوب جائے یا جل جائے اور جو حالات سفر میں انتقال کر جائے اور جو کسی چیز
کے گرنے سے مر جائے اور پیٹ کی بیماری یا طاعون سے انتقال کرے اور جوز چگی میں انتقال کرے یا شب جمعہ انتقال ہو
اور ذات الجنب کی بیماری میں انتقال کرے اور طلب علم کی راہ میں انتقال ہو یہ سب شہید ہیں۔ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے
تقریباً(30) تمیں کے شمار کے ہیں۔
قولہ: والغريق له اجر شهيدين (علاء کا اختلاف ہے کہ سمدر کا شہید را فضل ہے یا کسی کا شہید را فضل
ہے۔ ایک جماعت نے کہا خشکی کا شہید را فضل ہے اور ایک جماعت نے کہا ہے سمدر کا شہید را فضل ہے اور ابو عمرو نے کہا
ابلی علم کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب سمدر میں متلاطم ہو تو کسی کواس وقت اس کا سفر جائز نہیں
ہے۔ اس کی منجملہ وجہ کے اس کا متلاطم ہونا ہے۔ اور جب حضرات نے فضل ہوئے میں سمدر کے شہید کو نہیں دی
ہے۔ انہوں نے اس حدیث ثبوت سے استدلال کیا ہے۔ (عمدۃ القاری)
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلہ نے حضرت اس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرما تے ہوئے سنایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملیان کے پاس تشریف لا تے اوروہ آپ کے لئے کہانا پیش کرتی تھی جس اور ام حرام، عباوہ بن صامت کی بیوی جس پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے پاس تشریف لا تے تو انہوں نے آپ علیہ صلی اللہ کے لئے کہنا پیش کیا۔ اور آپ علیہ صلی اللہ کے سر مبارک کو غور سے دیکھ لیس۔ آپ علیہ صلی اللہ نے آرام فرما یا پھر مسکرا تے ہوئے بیا رہوئے تو وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علیہ صلی اللہ آپ کی اس خوشی کی کیا وجہ ہے آپ علیہ صلی اللہ نے فرما میری امت کے پچھلوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے یہ پر پیش کے گے۔ اس سمندر کے نچ میں اس طرح سوار ہو کر جسے باوسٹہ تحت شاہی پر بیٹھے ہیں 23 ماہ دشاہول کے جیسے جو تحت شاہی پر بیٹھے ہوئے ہیں (اس عبارت میں)
قولہ: یر کبون ثبخ هذا البحر (اس سمندر کے نچ میں سوار ہو کر) اس میں جہاد کے لئے سمندری سفر کرنے پر دلالت ہے اور سعید بن مسیب فرما تے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سمندر میں کاروبار کے لئے سفر کرتے تھے۔ ان میں سے حضرت طلہ اور سعید بن زید کی ہیں اور جب ہو رعلما ئے کا بی کو ل بے سواے حضرت عمر بن خطاب اور عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہما کے ان دونوں نے سمندر کے سفر سے مطلقًا منع کیا ہے اور ان میں سے بعض نے اس منع کودیا جب کے لئے سمندر میں سفر پر محول کیا ہے آخرت کے لئے منع نہیں ہے۔ اور امام ماک رحمہ اللہ نے عورتوں کے لئے مطلقًا ناپسند کیا ہے۔ کیونکہ وہ خوف کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہ ان کو کیا جائے گا وہ کسی کی عورت کو دکھانے لیس اور بعض علماء نے اس کو چھوٹی کشتیوں کے سفر کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ برہی کشتیوں میں منع نہیں ہے جب کہ حدیث اس کے خلاف ہے اگر چہ کہ امام ابودا و نے ابن عمر کی روایت سے حدیث لی ہے۔ لا یہ کہ البحر الا حاجا او معتمراً او غازیا، فان تحتہ نارا و تحت النار بحرا۔ (سمندر کا سفر سواے حج یا عمرہ کرنے یا جہاد کرنے والے کے سوا وسیرانہ کرے کیونکہ سمندر کے نیچے آگ کے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور خلاف نے اس حدیث کو پنی کتاب العلل میں لیس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ وہ مجہد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے اس کو مرفوع روایت کی ہے تو اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابن معمین نے فرما کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کو جومرفوع کیا گیا ہے۔ یہ مکر ہے۔ (عمدۃ القاری میں اس طرح ہے) اور فقہوی عالمی ری میں ہے جب آدمی تجارت وغیرہ کے لئے سمندر کا سفر کرنا چاہتا تو یاس وقت درست ہے جب کہ اگر کسی ذوبہ نے گل تو وہ بہر مکمل ذریعہ سے اپنے آپ کو ذوبہ نے پچاس کے ہو۔ اور اگر کسی بھی مکمل طریقت سے اپنے آپ کو ذوبہ نے پچاس میں سکتا تو اس کے لئے سمندر کا سفر جائز نہیں۔
اساق راوی کوشک ہواہے تو وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ تعالیٰ سے دعا فرماپی کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے تو رسول اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے (اس کی) دعا فرماپی پھر آرام فرماپا اور اٹھ تو خوشی کا ظہار فرماپہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علیہ آپ کی اس خوشی کی کیا وجہ ہے آپ پنے فرماپیری امت کے پچھوگہ جہ پر پیش کے گے اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہوئے جسیا کرآ پنے چلی مرتبہ فرماپتا تو وہ کہتی ہیں تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علیہ آپ میرے لئے اللہ سے دعا فرما ئیں وہ مجھے ان میں سے کر دے تو آپ پنے فرماپا تم پہلے والوں میں سے ہو پس وہ معاون بن ابی سفیان کے زمانے میں سمندر کا سفر کیس اور جس وقت وہ سمندر سے میں تو پنی سواری سے گزریں اور انتقال کرگئیں۔ (بخاری)۔
He says: 'Yar kabun thabkha hadha al-bahr' (ride upon this sea) indicates undertaking maritime journeys for the sake of jihad. Sa'id bin Musayyib states that the noble companions of the Prophet ﷺ used to travel by sea for trade. Among them were Hadrat Talha and Sa'id bin Zayd. When the scholars were asked about it, except for Hadrat Umar bin al-Khattab and Umar bin Abd al-Aziz (RA), both of whom absolutely prohibited sea travel, some of them prohibited it when it was undertaken for the sake of this world, but not for the Hereafter. Imam Malik (RA) absolutely disapproved of women traveling by sea because he feared what might happen to them, such as being seen by others. Some scholars specified that this prohibition applies to small boats, but there is no prohibition for large ships, although the hadith contradicts this. Imam Abu Dawud narrated a hadith from Ibn Umar (RA): 'La ya yahillu al-bahr illa li'l-hajja wa li'l-umra wa li'l-ghazi, fa-in tahtahu naran wa tahtu al-nar bahran.' (Traveling by sea is not permissible except for Hajj, Umrah, or jihad, for beneath it is fire, and beneath the fire is the sea.) I say that this hadith is weak, and Al-Bukhari has narrated in his book Al-'Illal from the chain of Isma'il from Mujahid from Abdullah bin Umar (RA) that he narrated it as a marfu' hadith. Ibn Ma'in said that this is munkar (rejected). (As stated in 'Umdat al-Qari) In the legal opinion, if a person wants to travel by sea for trade or other purposes, it is correct at that time, provided that if they drown, they do so unintentionally. If someone drowns intentionally, then their drowning is complete. And if anyone drowns completely, then traveling by sea is not permissible for them. The narrator says: 'When I asked the Messenger of Allah ﷺ to pray for me, saying, 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them,' the Messenger of Allah ﷺ prayed for them, then he became calm and got up, showing signs of joy. I asked, 'O Messenger of Allah, what is the reason for your joy?' He replied, 'I see my ummah being presented before Allah, fighting in His path, and being martyred repeatedly.' I said, 'O Messenger of Allah, pray to Allah for me to be among them.' He said, 'You will be among the first ones.' Then he traveled by sea during the time of Muawiyah bin Abi Sufyan, and when he crossed the sea, he passed away. (Bukhari).
اور امام مسلم نے اس کو کیا بن یعیں سے روایت کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماپا: نہیں سے کوئی غزوہ یا سریہ میں جائے والا جنگی دستہ جو جہاد کرے 24 اور مال غنیمت پاے اور سلامت رہے مگراس نے اپنے اجر کا (دنیا میں) دو تہائی حصر حاصل کر لیا اور نہیں سے کوئی غزوہ یا سریہ میں جائے والا جنگی دستہ جو مضطرب ہو جائے اور تکلیف میں بتلا ہو مگر پیکہ وہ اپنا کامل اجر پا میں گے۔ (مسلم)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "No expedition or detachment goes out (1) and gains spoils and returns safely except that they have hastened to take two-thirds of their reward. And no expedition or detachment fails and is afflicted except that their reward is completed." [Narrated by Muslim]
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ایک شخص بال غنیمت کے لئے رہاہے اور ایک شخص اپنے
ذكریمن اپنا چرچ کرنے کے لئے رہ بابہ اور ایک شخص اپنا مقام دکانے کی غرض سے لئے رہ بابہ تو کونسا لرتنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے تو آپ نے فرمایا جوآدمی اس غرض سے لئے رہ بابہ کر اللہ کا کلمہ بلند ہوتا وہ اللہ کے راستے میں ہے 25 (متفق علیہ) -
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: "A man fights for spoils, a man fights for fame, and a man fights to be seen in his position, so who is in the path of Allah?" He said: "(2) Whoever fights so that the word of Allah be the highest, he is in the path of Allah." [Narrated by Bukhari and Muslim]
قولہ: تغزو فتغنم و تسلم الا کانوا قد تعجلوا ثلثی اجورهم الخ (جنگ کرے اور مال غنیمت پاے اور سلامت رہے مگروہ اپنے اجر کا دو تہائی حصر حاصل کر لیا) اس کی تاویل یہ کہ اس کا مقصد صرف جہاد ہے مال غنیمت میں اس کو رغبت نہیں ہے۔ اور اب رہی یصوت کر اس کا بر امقصد تو جہاد ہے اس کے ساتھ مال غنیمت کی بھی رغبت ہے۔ یصوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے پس "لیس علیکم جناح" ان تبتغوا فضلاً مِّن ربکم "(سورہ بقرۃ، آیت نمبر: 197)،" لیں ج کے راستے میں تجارت کر لی جاسکتی ہے اور حس طرح اس کی وجہ ہے کے ثواب میں کی نہیں ہوتی اس طرح جہاد کی ہے اور جو آدی جہاد میں جانا چاہتا ہے اور اس کا مقصد حقیقت میں صرف مال حاصل کرنا ہے تو پیحالت منافقوں کی ہے۔ اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ یا س کا بر امقصد مال حاصل کرنا ہوتا اس جسی صورت کے لئے حضور علیہ والہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرماپا اس آدی کے بارے میں جو جہاد میں دودینار کی مزدوری پر کام کیا تیرے لئے تو دیناروآخرت میں تیرے دودینار کی ہیں۔ (ماخوذ از: رواختار)
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوآدمی اللہ کے راستے میں جنگ لڑتا ہے اور نیت نہیں کیا سواے ایک اونٹ باندھنے کی رتی کے تواس کے لئے وہ جس کی وہ نیت کیا - (نسائی)
Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever fights in the path of Allah intending only a camel’s halter, he will have what he intended." [Narrated by Nasa’i]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ایک آدمی جہاد میں جب اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیا کے سامان میں سے کچھ چاہتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو کوئی اجر 26 نہیں ہے - (ابوداود)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that a man said: "O Messenger of Allah, a man intends jihad in the path of Allah but seeks some worldly gain?" The Prophet (ﷺ) said: "(3) There is no reward for him." [Narrated by Abu Dawud]
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غزوہ (جنگ) دوسرے پر ایک وہ آدمی ہے جو اللہ کی خوشنویزی چاہا اور امام (حاکم) کی اطاعت کیا اور اپنی مہترین چیز خرچ کیا اور دشمن شریک جنگ کو گرفتار کیا اور فساد کے بجا ربا تویقیناً اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب اس کے لئے اجر ہے۔ اور اپر باوہ آدمی جو خرچ کے لئے ریاکاری اور شہرت کے لئے لڑا اور امام (حاکم) کے خلاف کیا اور زمین میں فساد چاپ تویقیناً وہ کفاف (اس کا اجر) لے کر نہیں لوگا - (موطا امام مالک، ابوداود، نسائی) -
Muadh (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Jihad is of two types: As for one who seeks the countenance of Allah, obeys the leader, spends generously, treats his partner kindly, and avoids corruption, then his sleep and wakefulness are entirely rewarded. But as for one who fights for pride, showing off, or reputation, disobeys the leader, and causes corruption in the land, he will not return with sufficiency." [Narrated by Malik, Abu Dawud, and Nasa’i]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے جہاد کے بارے میں بتائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا! اے عبد اللہ بن عمر و اگر تم صبر کے ساتھ (جہڑ کر) اور ثواب کی نیت سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو صابر اور محتسب (ثبوت کر مقابلہ کر نے اور
ثواب کے لیے رتنے والا) انہیں گا۔ اور اگر تم ریا کاری اور برطانی کے لیے ردوگے تو اللہ تعالیٰ تم کو ریا کاری اور فخر کرنے والے کی حالت میں انہیں گا۔ اے عبد اللہ بن عمر وتم جس حالت میں جنگ کروگے یا قتل کے جاپرگے تو اللہ تعالیٰ تم کو اسی حالت میں انہیں گا۔ (ابوداؤد)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated: He said: "O Messenger of Allah, inform me about jihad." He said: "O Abdullah ibn Amr, if you fight patiently, seeking reward, Allah will resurrect you patient and seeking reward. But if you fight showing off and seeking pride, Allah will resurrect you showing off and seeking pride. O Abdullah ibn Amr, in whatever state you fight or are killed, Allah will resurrect you in that state." [Narrated by Abu Dawud]
قولہ: من قاتل لتكون كلمة اللہ هي العليا فهو في سبيل اللہ الخ صاحب فتح القدیر نے کہا جنگ کا مبدا قوت عقلی اور قوت غضبی اور قوت شہوانی ہے ان میں صرف کہیں صورت میں جنگ فی سبل اللہ ہے۔ اور نہیں لاوطار میں کچھ ایسی طرح ہے۔
قولہ : لا اجر له (اس کو کوئی اجر نہیں) یا س وقت ہے جب کروہ اللہ کے لئے جنگ نہ کیا ہو۔ اور جب اللہ کے لئے جنگ کرے اور مال غنیمت کے حصول کا کچھ مقصد ہے تو بھی شک اس کو اجر ملے گا البتہ اس کا اجر اس شخص کے اجر سے کم ہوگا جو اللہ کے لئے جنگ کرے اور مال غنیمت اس کا مقصد نہ ہو۔ (مرقات)
عقیہ بن ماک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات سے عاجز ہوگے ہو کہ جب میں کسی شخص کو ہجچول اوروہ میرا کام جاری نہ کرسکے تو تم اس کی جگہ ایسے شخص کو مقرر کروجو میرے حکم کو جاری کرسکے۔ (ابوداؤد)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلوة والسلام علی سید المرسلین وآلہ الطیبین الطاهرين،
واصحابہ الاکرمین الافضلین، والتابعين لهم باحسان الی یوم الدین اجمعین، اما بعد!
Uqbah ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Have you become incapable when I sent a man from among you and he did not carry out (1) my command, that you should replace him with one who carries out my command?" [Narrated by Abu Dawud]
قولہ: فلم يمض لأمری ان تجعلوا مكانه من يمضی لا مری (اور وہ میرا کام جاری نہ کرسکے تو تم اس کی جگہ ایسے شخص کو مقرر کروجو میرے حکم کو جاری کرسکے) یعنی فاسق کو مقتدا (امیر) بنانا کروہے اور فسق کی وجہ سے وہ معزول کردیا جائے گا سواے اس سے کہ اس سے کوئی فتنہ پیدا ہوجائے تاہو اس سے مراد یہ کہ وہ معزول کیا جائے۔ اس وجہ سے آپ نے نہیں فرمايواہ خود نہ ہو معزول ہے۔ (درمتار، رواختار)