Nūr al-Maṣābīḥ
بابُ الْوَلِيمَةِ

The Wedding Feast
Volume 6 · Marriage

ف : واضح ہو کہ ویما س تقرب کو کہتے ہیں جوش زفاف کے بعد شوہر کی طرف سے بطور شکر ان کے منعقد کی جائے۔ اور یہ دعوت امام شافعی کے پاس سفت سے اور تینوں آئتمہ کے پاس مستحب سے اور فقہوی عالمگیری میں کہا ہے کہ و لیما سفت سے اور اس میں اجر ہیم سے اور اس کی تفصیل یہ کہ آدمی نکاح کے بعد جب اپنی بیوی سے صحبت کرے تو اس کو چاہے کہ اپنے پرویون، قر ابتدارول اور وستون کے لئے جانور ذبح کرے اور ان کو لحانے پر محج کرے۔

It is clear that ‘wīma’ refers to the gift or offering made by the husband to his wife after the consummation of marriage as a token of gratitude. This practice is considered sunnah by Imam Shafi'i and mustahabb by the three Imams. In the comprehensive jurisprudence, it is stated that ‘wīla’ is sunnah, and there is reward in it. The details are as follows: After a man has consummated his marriage with his wife, he should slaughter an animal for his relatives, neighbors, and friends, and invite them to partake in the feast.

4370

حضرۃ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے و لیمر کی ایک تقرب

و سلم نے اپنی بیوی میں سے کسی بیوی کا ایسا و لیمر کیا جس کیا حضرت بی بی نینب رضی اللہ عنہا کا کیا آپ نے ان کے نکاح میں ایک بڑی ذبح کر کے و لیمر کیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

دوسرا حدیث

It is narrated from Salmah that she said:

I performed the walima for one of my husbands as the Prophet ﷺ did for Lady Nainab (RA), by slaughtering a large animal for the wedding feast. This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim.

4371

انس رضی اللہ عنه روايت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب بی بی نینب بنیت جس رضی اللہ عنه روايت نکاح کیا (اور تم بستر ہوئے تو) ان کے و لیمر میں لوگوں کو پیتہ جغر کوشت اور روتی کھلا کی۔ اس کی روايت بخاری نے کی ہے۔

انس رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب بی بی نینب بنیت جس رضی اللہ عنہ روایت نکاح کیا (اور تم بستر ہوئے تو) ان کے و لیمر میں لوگوں کو پیتہ جغر کوشت اور روتی کھلا کی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

تیسری حدیث

Third Hadith

4372

انس رضی اللہ عنه روايت سے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (غزوہ بنی قریظہ سے واپسی کے موقع پر) خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان (مقام محجا میں)

انس رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (غزوہ بنی قریظہ سے واپسی کے موقع پر) خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان (مقام محجا میں)

تین رات قیام فرمایا پہلا آپ نے لیلی صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر کے شب باشی فرمائی

(حضرت انس) فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کو آپ کے ویمرکی دعوت دی، اس میں نے تو روئی

تھی اور نگوشت اوراس میں پیتو اک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ دسترخوان پچاپا

جاے تو دسترخوان پچاپا گیا اوراس پر کھور، پیراورگی رکھا گیا۔

اس کی روایت بخاری نے لی ہے۔

اوریہیق نے رزینہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بن

قریظہ اور بنی نظیر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لیلی صفیہ کو (حالہ جنگ میں) قیدی

بنا کر لا کے پہان تک کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ دی، لیلی صفیہ کا اتنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

کے باہو میں تھا، آپ نے ان کو آزاد کیا، نکاح کا پیام دیا اور نکاح فرما اور (چونکہ ان کی آزادی مہر

تحصیل ہے) رزینہ کو ان کی خدمت میں دی دیا۔

اور امام طحاوی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور وہ ہی کہتے ہیں

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے لیلی جو ریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا

کو اس طرح آزاد فرما کر بلا مہر نکاح کیا جس طرح لیلی صفیہ کو آزاد فرما کر بلا مہر نکاح کیا۔ پھر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس روایت کو بیان کر نے کے بعد فرما یا کہ بغیر مہر کے نکاح رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لے جانے تھا جو خصوصیات نبوی ہے۔ نہی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے

بعد اگر کوئی شخص بغیر مہر کے نکاح کر لے تو اس کو ازسر نومہر مقرر کرنا چاہیے۔

چوٹی حدیث

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت

صفیہ سے نکاح کے موقع پر ستہ اور کھور سے ویہم کیا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابو داود اور

ابن ماجہ نے کیا ہے۔

دو سیرہ کو سے کچھ و لیمرہ بوسکتا ہے

Anas (RA) said:

I invited the Muslims to the wedding feast of the Messenger of Allah ﷺ. I was sleeping, and I had a fever and a headache. The Messenger of Allah ﷺ ordered that a dining cloth be spread, so it was spread, and food, dates, and ghee were placed on it. This is reported by Bukhari.

4373

اوریہیق نے رزینہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بن

قریظہ اور بنی نظیر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لیلی صفیہ کو (حالہ جنگ میں) قیدی

بنا کر لا کے پہان تک کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ دی، لیلی صفیہ کا اتنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

کے باہو میں تھا، آپ نے ان کو آزاد کیا، نکاح کا پیام دیا اور نکاح فرما اور (چونکہ ان کی آزادی مہر

تحصیل ہے) رزینہ کو ان کی خدمت میں دی دیا۔

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) stayed between Khaybar and Medina for three nights to consummate his marriage with Safiyyah. I invited the Muslims to his feast, which had neither bread nor meat. He ordered Bilal to spread leather mats, and dates, dried cheese, and clarified butter were placed on them. Narrated by Bukhari.

Al-Bayhaqi narrated from Razinah, who said: On the day of Qurayzah and Nadir, the Messenger of Allah (ﷺ) brought Safiyyah as a captive, leading her until Allah granted him victory, with her arm in his hand. He freed her, proposed to her, married her, and gave her Razinah as a dowry.

Al-Tahawi narrated from Ibn Umar, from the Prophet (ﷺ), that he did with Juwayriyah bint al-Harith as he did with Safiyyah. Then Ibn Umar said after the Prophet (ﷺ) regarding such a ruling: He should renew a dowry for her.

Anas narrated that the Prophet (ﷺ) held a feast for Safiyyah with barley meal and dates. Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah.

(1) The statement: “And gave her as a dowry, etc.”: Meaning, if he frees a slave woman and makes her emancipation her dowry, saying, “I freed you on condition that you marry me for the compensation of emancipation,” and she accepts, the emancipation is valid, and she has the choice to marry him. If she marries him, she is entitled to the dowry of her peers. This is the view of Abu Hanifah, Zufar, and Muhammad. Ash-Shafi‘i and Abu Yusuf, a companion of Abu Hanifah, differed, citing the Hadith: He married Safiyyah and made her emancipation her dowry. We say: The text of Allah’s Book specifies wealth, as after listing the prohibited women, He permitted those beyond them, conditioned on seeking with wealth, as Allah says: “And lawful to you is what is beyond that, that you seek with your wealth” [An-Nisa: 24]. This is supported by Razinah’s Hadith and the narrator’s statement, which is a euphemism for no dowry, meaning he freed her and married her without anything but emancipation. Marriage without a dowry was permissible for the Prophet (ﷺ), not others. At most, the narrator’s wording is ambiguous, so it should be interpreted to avoid conflict with the Book. If she refuses to marry him, we compel her with her value. In essence, this is specific to the Prophet (ﷺ), and others cannot do so, supported by Ibn Umar’s statement in the text. This is the essence of Al-Marqah and Umdat al-Qari.

4374

اور امام طحاوی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور وہ ہی کہتے ہیں

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے لیلی جو ریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا

کو اس طرح آزاد فرما کر بلا مہر نکاح کیا جس طرح لیلی صفیہ کو آزاد فرما کر بلا مہر نکاح کیا۔ پھر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس روایت کو بیان کر نے کے بعد فرما یا کہ بغیر مہر کے نکاح رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لے جانے تھا جو خصوصیات نبوی ہے۔ نہی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے

بعد اگر کوئی شخص بغیر مہر کے نکاح کر لے تو اس کو ازسر نومہر مقرر کرنا چاہیے۔

چوٹی حدیث

Imam Tahawi narrated from Ibn Umar (RA) who said,

The Messenger of Allah ﷺ narrated that he freed Layli, who was Rih bint Harith (RA), and married her without a dowry, just as he freed Safiyyah and married her without a dowry. Then, after narrating this tradition, Ibn Umar (RA) said: 'Marrying without a dowry was for the Messenger of Allah ﷺ, which is a special attribute of prophethood. After the Messenger of Allah ﷺ, if anyone marries without a dowry, they should be required to pay a new dowry.'

4375

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت

صفیہ سے نکاح کے موقع پر ستہ اور کھور سے ویہم کیا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابو داود اور

ابن ماجہ نے کیا ہے۔

دو سیرہ کو سے کچھ و لیمرہ بوسکتا ہے

It is narrated from Anas (RA) that the Noble Prophet ﷺ, on the occasion of his marriage to Safiyyah, partook of dates and milk.

This narration is reported by Imam Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah. He would take a little of the sira and some of the lemerah.

4376

صفيه بنت شیبر رضي الله عنها سے روايت ہے و فرماتی ہیں کر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی بعض بیویوں کا و لیمرہ دو سیرہ جوے کیا اس کی روايت بخاری نے کی ہے۔

صفیہ بنت شیبر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے و فرماتی ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کا و لیمرہ دو سیرہ جوے کیا اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

و لیمرہ کی دعوت قبول کرنی چاہئے

And the invitation of Laimarah should be accepted.

4377

عبدالله بن عمر رضي الله عنهما سے روايت ہے کر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمايا کہ تم میں سے کسی کو و لیمرہ کی دعوت دی جائے تو اس کو چاہے کر دعوت میں حاضر ہو اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کسی کو و لیمرہ کی دعوت دی جائے تو اس کو چاہے کر دعوت میں حاضر ہو اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

4378

مسلم کی ایک روايت میں اس طرح ہے کر دعوت شادی کی ہو یا سی طرح کی کوئی اور دعوت ہو اس کو قبول کرنا چاہئے اور داعی کے گھر جانا چاہئے (خواہ کہنا کہا یا نہ کہا)۔

علی وآ لہ وسلم نے فرمایے جس نے دعوت قبول نہیں کی تو اس نے اللہاوراس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اگر روزہ دار ہوتو دعوت قبول کرے، جائے۔ اور دعا کرے۔ اور اگر روزہ دار نہ ہوتو کہنا کہاے۔ اور دعا کرے۔ اور اگر کہا نہ کہاے۔ اور دعوت نہیں قبول نہ کرے تو گناہ کار ہوگا اور جفا کار سمجھا جائے گا اس لے کر اس میں داعی کی توپین سے حا لاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايے۔ اگر مجھے کہ کہا نے کے لے مجھے بلا ایجاے تو میں ابی دعوت کو قبول کروں گا اور رحمۃ اللہت میں کہاے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس مجھے تزیین قول ہے کہ دعوت کا قبول کرنا مستحب ہے۔ اہ حاشیہ مشکوۃ میں لمعات کے حوالے سے کہا ہے کہ چند ایسے اسباب میں جنگلی مجھے دعوت کا قبول کرنا ساقط ہوجاتا ہے جسے و بال شہر کا کہنا ہے یا و بال صرف اغنا یا کی دعوت ہو یا و بال ای لوگ ہول جن کے ساتھ مجہومنا مناسب نہ ہو یا داعی نے اس کواس کی و جاہت و نیوی کی مجہے بلا ایجاے لے دعوت دی ہو کراس سے باطل میں اعانے لی جائے یا و بال غیر شرعی امور ہول جسے رشتم کا فرش ہو یا کا نے جا نے کی محفل ہو۔12 دعوت میں شرکت ضروری البتر کہا نے یا نہ کہا نے کا اختیار

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever is invited and does not respond has disobeyed Allah and His Messenger. Whoever enters without an invitation enters as a thief and leaves as a raider.” Narrated by Abu Dawud.

(3) The statement: “Whoever is invited, etc.”: In essence, he taught his nation noble morals and forbade base traits. Not responding to an invitation without an excuse indicates arrogance, recklessness, and lack of affection. Entering without an invitation suggests greed, low ambition, and humiliation. Noble character is moderation between these blameworthy traits, as in Al-Marqah.

ف: واضح ہو کہ فقہوی عالمگیری میں ترتاشی کے حوالے کہاہے کر دعوت کے قبول کر نے میں علماء کا اختلاف ہے۔

دعوت کے اقسام اور احكام

ف: واضح ہو کہ دعوت کا قبول کرنا عرف عام میں سنت ہے حالاکہ دعوت کا قبول کرنا واجب بھی ہے، سنت بھی ہے، مستحب بھی ہے اور بسا وقت ممنوع بھی ہے؛ جس کی تفصیل یہ ہے:

فقہوی عالمگیری میں بیچی کہاہے کر دعوت قبول کر نے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے پاس واجب ہے جس کے نزک کر نے کی کوئی صورت نہیں، عام علماء کے پاس سنت ہے اور اگر و لیمرہ کی دعوت ہو تو افضل ہے کر قبول کر نے ورنہ اختیار ہے لیکن دعوت کا قبول کرنا افضل ہے اس لے کر اس سے ایک مومین کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور جب دعوت قبول کر لی تو داعی کے گھر جانا چاہئے خواہ کہا یا نہ کہا لیکن افضل یہ ہے کر روزہ دار نہ ہو تو کہا لے اور بناپی میں کہاہے کر دعوت کا قبول کرنا سنت ہے خواہ و لیمرہ ہو یا کوئی اور دعوت اور اختیار میں کہاہے کر و لیمرہ کی دعوت کا قبول کرنا اقتدار میں سنت ہے اگر قبول نہ کر تو گناہ کا اس لے کر رسول اللہ صلی اللہ

4379

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ جب تم میں سے کسی کو کہا نے کی دعوت دی جائے تو اس کی دعوت قبول کرنا چاہئے۔ (اور مجلس میں جانا چاہئے۔) اگر اس کی طبیعت چاہے تو کہا نے اور چاہے تو کہنا نہ چکے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If one of you is invited to food, let him respond. If he wishes, he may eat; if he wishes, he may refrain.” Narrated by Muslim.

و لیہم میں فقراء کونہ بلا نے کی و عید

4380

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ و لیہم کا وہ کہنا بدر تین کہا نا ہے جس میں بالدار ول کو بلا ایجا تا ہے اور غریبول کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو شخص دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہاوراس کے رسول (صلی

اللہ تعالیٰ و سلم ) کی نافرمانی کی۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔

ف : واضح ہوکر عادت پیہ کا کثرت شادی کے کھانے میں برادری کے لوگ اور مالدارون کو بلايا جاتا ہے اور

غر بائیس بلايا جاتا اس وجہ سے ایسے کھانے کو برا قرار دیا گیا اگر ایسے موقع پر غرباء کو بھی بلايا جاتے تو پیہر انی دور

ہوجاتی ہے۔ حدیث شریف میں دعوت قبول نہ کرنے کی وعید کی وجہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مرضی یہ ہے کہ

مسلمان آپس میں محبت اور الفت قائم رکھیں، اور دعوت دینا اور دعوت کا قبول کرنا محبت کا اور محبت کے زیادہ ہونے کا

سبب ہے اس لئے جس نے دعوت قبول نہ کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی مرضی چھوڑی۔ اور پی مسلمانوں کے

لئے مناسب نہیں۔ حاشیہ مشکلہ 12

بن بلاے دعوت کہانے پروعید

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The worst food is that of a wedding feast to which the rich are invited and the poor are excluded. Whoever neglects the invitation has disobeyed Allah and His Messenger.” Agreed upon.

(1) The statement: “The worst food, etc.”: Al-Tayyibi and Ibn al-Mubarak said: Among the excuses that waive the obligation or recommendation is if the food involves something dubious, is exclusive to the rich, or includes someone whose presence causes harm, whose company is unsuitable, or is invited to avert harm, gain influence, or assist in falsehood, or involves prohibitions like alcohol or entertainment, or silk furnishings, etc., as in Al-Marqah.

(2) The statement: “Has disobeyed Allah and His Messenger”: This is cited by those who say responding is obligatory. The majority interpreted it as emphasizing recommendation, as in Al-Marqah.

4381

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جس کسی کو دعوت دی گئی اور اس نے دعوت قبول نہ کی تو اس

نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اور جس کسی نے بغیر دعوت کے کسی کے پیہال جا کر دعوت

کھانی وہ چور ہوکر داخل ہوااور لیکر واپس ہوا۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ف : اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو اخلااق عالی کی تعلیم دی ہے اور ان کو

برے اوصاف سے روکا ہے اس لئے کہ معذرت چاہے بغیر دعوت کا قبول نہ کرنا بھی اور رعونت ہے اور محبت اور الفت کی

کی کی نشانی ہے۔ اور بالادعوت پلے جانا ہرص، دناعت اور کمیز پن اور ذلت کا سبب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کر اخلاaq

حسنان میں اعتدال اور توازن کا سبب ہیں۔ 12 (مرقات)-

بغیر دعوت کو کہا نے یا نہ کہا نے کا اختیار دا عی کو ہے

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever is invited and does not respond has disobeyed Allah and His Messenger. Whoever enters without an invitation enters as a thief and leaves as a raider.” Narrated by Abu Dawud.

(3) The statement: “Whoever is invited, etc.”: In essence, he taught his nation noble morals and forbade base traits. Not responding to an invitation without an excuse indicates arrogance, recklessness, and lack of affection. Entering without an invitation suggests greed, low ambition, and humiliation. Noble character is moderation between these blameworthy traits, as in Al-Marqah.

4382

ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک

الانصاری جمن کی کنیت ابوشعیب تھی اپنے غلام سے جوگوشت پیا کرنا تھا فرما یا کر تم میرے لئے کھانا

تیار کرو جو پاتھ آدمیون کے لے کافی ہو جاے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دینا

چاہتا ہو ل ان پا چون میں ایک نی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو ل گے تو اس نے تجوڑا سا کہنا

تیار کیا پھروہ (انصاری) نی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعوت میں

لیجا نے گئے ان کے ساتھ ایک آدمی چلنگا نی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو

شعیب! ایک آدمی (بلا دعوت) ہمارے ساتھ چلا آیا ہے اگر تم چاہو تو اس کو لے چلو اور کہنا کہ لا ق

اور چاہو تو اس کو واپس کرو، ابوشعیب نے کہا نہیں! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں (یہی چلے اور

کہنا کہ آئے)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنے آدمیوں کی دعوت ہوائے، وہی جاویں، زیادہ نہ جاویں اگر کوئی ساتھ چلا

جا ئے تو داعی کو اطلاع کر لے چاہے خواہو ہاں نہ دے یا ناں دے۔ (مرقاب12)

نقش و نگار وا لے مکان میں حضور کا داخل نہ ہو نا

Abu Mas‘ud al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the Ansar, nicknamed Abu Shu‘ayb, had a butcher slave. He came to the Prophet (ﷺ) among his companions and recognized hunger on the Prophet’s face. He went to his butcher slave and said, “Prepare food for five, so I may invite the Prophet as the fifth of five.” He prepared a small meal, then invited him. A man followed them, and the Prophet (ﷺ) said, “O Abu Shu‘ayb, a man has followed us. If you wish, permit him; if you wish, leave him.” He said, “No, I permit him.” Agreed upon.

(1) The statement: “I permit him”: It indicates that no one may join a people’s hospitality without their permission, nor may a guest permit another to join unless explicitly allowed, generally permitted, or known to be pleasing, as in Al-Marqah.

4383

سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی ابن ابی

طالب رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا تو آپ نے اس کے لئے کہنا تیار کروا یا۔ نی نی فاطمہ رضی اللہ

عنہا نے فرمایا کہ کیا اچھا ہوتا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا تے اور آپ ہمارے

ساتھ کہنا تناول فرما تے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا یا، آپ

تشریف لا ئے اور دروازہ کے دونوں بازو کی کلیوں پر باٹھدے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

و کیحا کہ ایک اونی منقش باریک پردہ گھر کے ایک کونے میں لگا ہوا ہے (یہ کیا کر) آپ صلی

اللہ علیہ وسلم واپس ہو گے۔ نی نی فاطمہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ میں کچھ حضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کے چیچے چچے گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اکس چیز نے

آپ کولو طا دیا؟ آپ نے فرما یا کہ مجھے یا کسی نہیں کوسزاوارنہیں کروہا لیے گھر میں داخل ہول جو

(منقش ونگار کر کے ) سجا یا گیاہو۔

(اس کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے)

آراش جو تکبر کو ظاہر کرے ممنوع ہے

ف (1): واضح ہو کر علامہ خطابی نے فرما یا ہے کہ دونوں کے کمرہ کی طرح گھرون کے درود پوار کو منقش ونگار سے

آراستہ کرنا رعونت اور انامیت ہے اور بیمتکبرین کافعل ہے جومسلمان کے لئے زیادہ بین اس لئے ایسی دعوت جس میں

ایسی مغررات ہول تقول نہیں کرنا چاہے۔ پیرقات میں نذور ہے۔

فقوی عامہ بریم فقیہ ابو جعفر کا یقول نقل کیا ہے کہ اگر گھر کی و پوار کو جانور کی منقش کھالوں کو چسپال کیا

جا یے تاکہ سر دی سے حفاظت ہو سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں البتر بلطور زینت ایسا کام کیا جا یے تو کروہ ہوگا خلاصہ

کلام یہ ہے کہ ایسا کام جو تکبر کی وجہ سے کیا جا یے وہ کروہ ہوگا البتر حاجت اور ضرورت کی وجہ سے ایسا کام کیا جا یے تو

کراہت نہیں ہوگی۔ تولی متار کی ہے۔ بغیر ایسی میں نذور ہے۔

ایسی دعوت جس میں اپو ولعب ہوئی بل جانا چاہے

ف (2): حدیث ثریف میں نذور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے

گھر میں منقش پردہ کو دیکھا تو واپس ہو گیا۔ درختار میں کہا ہے کہ و لیمار کی دعوت میں پیہو پیچ کے بعد و کیا گیا

کرو بالکمل کو گا نا جانا ہور پا ہے اگر کام کہ میں ہور ہے ہول اور دسترخوان پر ہول تو نہیں اس لئے کہ اللہ

تعالیٰ نے فرما یا ہے۔ "فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ" (سورۃ انعام، پ:7، ع:8، آیت

نمبر:68)۔ (نصیحت کے بعد ظالم قوم کے ساتھ نہیں)۔

ایسی موقوعات پرفقہاء نے دوطریقون کو بیان کیا ہے۔ ایک یہ کہ اگر عام آدمی کے توقع کرے اور اگر منتع

کرسکتا ہو تو صبر کرے اور اگر قوم کا پیشواہو اور منتع کچھ نکر سکتا ہو تو و بالے نکل جا یے اور نہیں اس لئے کر ایے آدمی

کے پیچھے دین کی اہانت ہوئی ہے۔ اور اگر پہلے اس بات کا علم ہو کہ دعوت میں مغررات ہیں تو عام آدمی کا

پیشواہے قوم کسی کو بھی ایسی دعوت میں نہیں جانا چاہے۔ 12

پروسبیون کی دعوت قبول کر نے کا بیان

It is narrated from Sufyan (RA) that a person became a guest of Ali ibn Abi Talib (RA), so he ordered that food be prepared for him. Nafisa bint Fatima (RA) said, 'Would it not be better if you invite the Messenger of Allah ﷺ to join us for the meal?' So he invited the Messenger of Allah ﷺ, who came and leaned against the door's two hinges. The Messenger of Allah ﷺ said, 'There is a finely embroidered curtain hanging in one corner of the house (what is it for)?' He then returned. Nafisa bint Fatima (RA) said, 'I went to the Messenger of Allah ﷺ and said, 'O Messenger of Allah ﷺ! Did something offend you?' He replied, 'No, I did not get angry with anyone, but I entered the house and found it decorated (with fine embroidery).'

f (1): It is clear that Alama Khattabi has stated that adorning the doors and walls of houses like the chambers of kings with engravings and paintings is extravagance and vanity, and it is the act of the arrogant, which is more forbidden for Muslims. Therefore, one should not make such invitations that contain such vanities. There is a pledge in this regard. The opinion of the general public and the jurist Abu Ja'far is narrated that if animal skins with engravings are used to cover the walls and doors of a house to protect them from rain, there is no harm in it. However, if it is done for adornment, it will be disliked. In summary, any action done out of arrogance is disliked, but if it is done out of necessity or need, there is no harm in it. This is the opinion of the majority. There is a pledge in this matter. Such invitations that contain frivolous things should not be accepted.

f (2): In the noble hadith, it is narrated that the Messenger of Allah ﷺ saw a decorated curtain in the house of Fatima (RA) and turned away. It is mentioned in the commentary that after the invitation was made, it was completely rejected, and it is said that if the action is in itself frivolous, it is disliked, but if it is on the dining mat, it is not. This is because Allah, the Exalted, has said, 'So do not sit with them after the remembrance [of Me] until they enter into a conversation other than it.' (Surah Al-An'am, Chapter 6, Verse 68). (Do not sit with the unjust people after advice.)

The scholars have explained two ways regarding such situations. One is that if a common person anticipates and can avoid it, he should be patient. If he is a leader of the community and cannot avoid it, he should leave. This is because staying behind would result in the humiliation of religion. And if it is known beforehand that the invitation contains vanities, then even a common person, let alone a leader of the community, should not accept such an invitation.

4384

ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دینے کے لئے (تمہارے پاس) آئیں تو ان دونوں میں سے دروازہ کے اغتبار سے جو قریب ہواس کی دعوت قبول کرو اور ان دونوں میں سے کسی نے پہلے کر لی تواس کی دعوت قبول کرلو (اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے)

و لیہ واجب ہے سنت ہے اور ریاء کی ہے

A man from the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If two inviters coincide, respond to the one closest in door, as the closest in door is the closest in neighborliness. If one precedes, respond to the one who preceded.” Narrated by Ahmad and Abu Dawud.

4385

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ و لیہ میں پہلے دون کا کہنا حق ہے اور دوسرا دون کا کہنا سنت ہے اور تیسرے دون کا کہنا شہرت ہے اور دکھاوا ہے اور جو کوئی شہرت کے لئے کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ریاء اور دکھاوا کے کولوگوں پر ظاہر کر دے گا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بدل انجحو و میں کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیوضاحت اس لئے فرمایا کہ عربوں میں ایساردانج تھا۔

ہر ایسی دعوت جس کا مقصد دکھاوا ہے کہ روہے ف : علا مرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو سی نعمت سے مرفراز فرما تے ہیں تو اس بندہ پر ضروری ہے کہ شکر انہ ادا کرے اس لئے شکرانہ میں کہنا کہ لا نا پہلے دون واجب ہے اور اگر پہلے دون دعوت کا انظام نہ ہو سکے تو دوسرا دون اس لئے مستحب ہے کہ پہلے دون کے نقصان کی تلافی ہو جائے کیونکہ سنت واجب کی تکمل کا سبب ہے اب ربا تیسرے دون دعوت کرنا وہ صرف ریاء اور دکھاوا ہے اس لئے شخص کے لئے پہلے دون کی دعوت کا قبول کرنا واجب ہے دوسرا دون کی دعوت کا قبول کرنا مستحب ہے اور

تمبرے دون کی دعوت کا قبول کرنا کروہ بلکہ رام ہے۔ یہ باری اور مرقات میں نذور کے البتہ قاضیان نے

کہا ہے کہ تین دون تک بگیر کراہت کے دعوت دی جاسکتی ہے اور تین دون کے بعد شادی اور ویہد کی دعوت منقطع

ہو جائے گی جس سے جسیا کے عالمگیری اور مجمع البرکات میں نذور ہے۔

اب رہا تمبرے دون کی دعوت کو جوری اے اور دکھاوا فرما یاگیا ہے وہ اس وجہ سے کہ عربون میں ایسائی روانج

تحاور نہ ہرا میں دعوت جس کا مقصد ریاء اور دکھاوا ہو کر وہ ہے۔

یہ ذل انجحو داور رداختار سے ماخوذ ہے۔12

آپس میں دومقابلہ کرنے والون کی دعوت قبول کرنا منع ہے

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The food of the first day is a duty, the food of the second day is a Sunnah, and the food of the third day is for show. Whoever seeks fame, Allah will expose him.” Narrated by Tirmidhi.

In Bazl al-Majhud, it is said: This is because that was their custom.

(1) The statement: “The food of the third day is for show, etc.”: The Shafi‘is and Hanbalis acted on its apparent meaning. Al-Tayyibi said: When Allah grants a servant a blessing, it is his right to express gratitude, and it is recommended on the second day to compensate for any shortfall on the first, as the Sunnah completes the duty. The third day is only for show and fame. The invited must respond on the first day, it is recommended on the second, and disliked or prohibited on the third. Malik said the feast is recommended for seven days. Summarized from Fath al-Bari and Al-Marqah. In Qadikhan: It is permissible without dislike to invite for three days, then the wedding and feast cease, as in Al-‘Alamgiriyyah and Majma‘ al-Barakat. The statement: “The food of the third day is for show” is understood by us as their custom. Eating at an invitation intended for show and fame is disliked, taken from Bazl al-Majhud and Radd al-Muhtar.

4386

_ عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نہی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دومقابلہ کرنے والون کی دعوت قبول کرنے اور کہانے

منع فرما یا ہے۔

اس کی روایت البوداود نے کی ہے۔

ف : رداختار میں کہا ہے کہ ہرا میں دعوت جس میں رائے کا مقصد اپنی برانی کا ظہار ہواور وہ اپنی تعریف کا

خوابا لہ قبول کرنے چاہے خصوصاً ابلی علم اس میں شرکی نہ ہول۔12

دوسری حدیث

It is narrated from 'Ikrimah, may Allah have mercy on him, and Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with both of them, that

the Prophet ﷺ did not accept invitations to debate or to speak in such a way as to prevent it. Al-Buwayd has narrated this. In Radhakhtar, it is stated that in every invitation where the purpose is to display one's own evil and to seek acceptance of one's own praise, especially when there is no benefit in knowledge, participation should be avoided.

4387

_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے میں کہ رسول صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے جس کر دومقابلہ کرنے والون کی دعوت قبول نہ کی جائے اور نہ ان

کا کہنا کہا یا جائے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا

منشاء مبارک یہ کہ ایہ دودعوت میں مقابلہ کرنے والے جوضیافت نظر اور دکھاوے کے

لے کرتے ہیں ( جیہن ایک پیر چاہتا ہو کہ میں دوسروں سے زیادہ لوگوں کو دعوت

دول اور دوسرا پیر چاہتا ہے کہ میں اس سے بڑا ہوں)۔

فاسق کی دعوت قبول کرنا منع ہے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Those who compete in boasting are not to be responded to, nor is their food to be eaten.” Imam Ahmad said: It means those who vie in hospitality for pride or show.

3309: ‘Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade responding to the food of the openly disobedient.

(1) The statement: “Forbade responding to the food of the openly disobedient”: Meaning, one should not respond to the invitation of an openly disobedient person to show disapproval of their disobedience, as in Al-‘Alamgiriyyah.

4388

عمران بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمايے۔

ف: صاحب اشعة اللمعات نے کہا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے

سے اس لے منع فرمایے کہ پیوگ کہا نے میں احتياطیں کرتے اور حرام کہاتے ہیں اور وہ ظالم ہی ہوتے ہیں اور

ظالم کا کہنا بالا تفاق حرام ہے اور ایسے لوگوں کی دعوت سے مقصد تکبر ہوتا ہے اور ان کا کہنا مشترہ ہوتا ہے اور اکثر و بال

اغنیاء آتے ہیں اور بال رقص وسرود کی محفل ہوتی ہے اس لے ایسی دعوت کا قبول کرنا یساقط ہوجاتا ہے۔

مسلمان بھاپول کے پاس کہاتے، پین میں بدگمانی نہ کرے

It is narrated from Imran ibn Husayn (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ prohibited accepting invitations from sinners. Al-Suyuti said in 'Ashi'at al-Lama'at': The Messenger of Allah ﷺ prohibited accepting invitations from sinners because they indulge in precautionary measures and declare things forbidden, and they are tyrants. The invitation of a tyrant is sinful, and the purpose of such invitations is arrogance, and their gatherings are mixed, and mostly wealthy people attend, and there are gatherings of music and singing. Therefore, accepting such invitations leads to sin. Muslims should advise each other to avoid evil and not to have bad thoughts about one another.

4389

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی

اپنے مسلمان بھائی کے یہاں جانے تو اس کے پاس جوکہا نا ہو وہ کہا لے اور پینہ پوچھے کہ پیجا گزہ ہے اپنا جانزا س لے کر ایسے

حلال ہے یا حرام اور وہ جو پلا لے پی لے اور پینہ پوچھے کہ پیجا گزہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کو حلال ہے

سوال سے اس کو تکلیف پہوچتی ہے اور بظاہر واقع تو یہی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کو حلال ہے

کہا لے گا اور حلال ہے پلا لے گا۔ (یہ تیون حدثیس ہے جس میں شعب الایمان میں روایت کی ہیں)

آمد نی پرحال یا حرام کا حکم غالب مال کے اعتبار سے ہوگا

ف: واضح ہوگا جس شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کے مال کا کثرت حضرام کمالی کا ہے تو ایسے شخص کی

دعوت قبول نہیں جانے بان اگر داعی بتانے کر ایسائی بینہ بلکہ اس کی کمالی حلال سے ہے تو دعوت قبول کی جاسکتی ہے۔

اس کے بر عس جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کی غالب کمالی حلال سے ہے تو ایسے شخص کی دعوت قبول کی

جانے۔

اگر کسی کے سودی کاروبار میں ایسا شخص ہے جو اپنے کردار کے لئے اور اس کی دعوت کے لئے جب تک کوئی نہ بتائے کہ اس نے حلال مال سے قرض لے کر انتظام کیا ہے۔ اور اگر کسی کا غالب مال حلال سے ہوا ہے۔ شخص کا بھی کچھ قبول کیا جائے۔ اور اس کی دعوت کچھ کمالی جائے۔ اس لئے کہ لوگوں کے اموال میں حرام کچھ نہ پچھڑ جائے۔ اس لئے اعتبار غالب مال کا ہوگا۔ اگر غالب مال حلال سے تو حلال کا حکم لگا یا جائے۔ اگر غالب مال حرام ہے تو حرام کا حکم لگا یا جائے۔ یہ فتوی عالمگیریتے ماخوذ ہے۔

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: “If one of you enters upon his Muslim brother, let him eat his food without asking and drink his drink without asking.” Narrated by Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman.

He said: If this is authentic, it is because it is apparent that a Muslim would only offer food or drink that is lawful for him.

(1) The statement: “Let him eat his food without asking, etc.”: Meaning, one should not respond to an invitation from someone whose wealth is predominantly unlawful unless informed it is lawful. Conversely, he responds unless it is evident to him that it is unlawful, as in At-Tamartashi. If a usurer or earner of unlawful wealth gifts or hosts him, and most of his wealth is unlawful, he does not accept or eat unless informed that the wealth’s source is lawful, inherited, or borrowed. If most of his wealth is lawful, there is no harm in accepting his gift or eating from it, as in Al-Mutlaqat. This is because people’s wealth rarely lacks some unlawful portion, so the predominant is considered, as is eating their food, as in Al-Ikhtiyar Sharh al-Mukhtar, cited from Al-‘Alamgiriyyah.