Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْمُنْهِي عَنْهَا مِنَ الْبِيْعِ

Prohibited Sales
Volume 6 · Transactions

(بھیج لیئے خرید و فروخت کی ان قسموں کا بیان جو منع ہیں)

جوتجارت قیاس اور اندازہ پر ہونا جائز ہے

This section discusses those types of buying and selling that are prohibited. Engaging in trade based on speculation and estimation is permissible.

3903

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنه سے منع فرما یہ (مزابنه یعنی) کس کوئی شخص اپنے باغ کے تازہ پھلوں کو خشک کر لے (یا تول لے) اور تازہ پھورول کا اندازہ (جتنے کے معاوضہ میں ان کو پیچانے) ورخت پر کر لے (یعنے جاتنے ہے) اس طرح پھل اگر انگور ہو تو خشک انگور کو تول لے اور ان کو تازہ انگور کو (جو ورخت پر ہو لان کا اندازہ کر لے اور ان کے بد لے) تج دے (پیصورت بھی ناجاتنے ہے)۔

یہی حکم دوسروں پھلوں کے تبادلے کا ہے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Muzabana, selling fresh dates on the tree for dried dates by measure, or selling grapes for raisins by measure. In Muslim’s version: "And if it was crops, he prohibited selling them for measured food." [Agreed upon]

In another narration from both: The Prophet (ﷺ) prohibited Muzabana. He said: "Muzabana is selling what is on the palm trees for a specified measure of dried dates, stipulating: 'If there is more, it is for me, and if less, it is on me.'"

(1) The statement: "selling the fruits of his garden" refers to Muzabana, which is selling fruits on trees for harvested dates estimated by guesswork. This is mentioned in Al-Hidayah. Ibn Battal said: Scholars unanimously agreed that selling dates still on palm trees for harvested dates is invalid because it is Muzabana, which is prohibited. As for selling fresh and dry dates together when harvested and measurable, the majority of scholars do not permit selling any of them for their kind, whether equal or unequal. Abu Yusuf and Muhammad held this view, while Abu Hanifah permitted selling fresh wheat for dry wheat or fresh dates for dry dates in equal measure but not in unequal measure. Ibn Al-Mundhir said he believed Abu Thawr agreed with this.

3904

اور مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگر کسی ہوتا اس کو بھی اس طرح پیچنا کر خشک فل کو ناپیا تول لے اور کسی میں جواناج ہے اس کا اندازہ کر کے تبادلے تج دے (پیصورت بھی ناجاتنے ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرما یہے۔)

And in Muslim, these words are also found: If someone is to be given something, it should be measured as precisely as dry dates are weighed, and if there is any deficiency, it should be estimated and then exchanged. (It is also narrated that the Messenger of Allah ﷺ prohibited this as well.)

3905

اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزابنه سے منع فرما یہ اور مزابنه یعنی کہ (مثلًا) ورختوں کے پھور کو (نہمو دار ہو نے ہے پہلے) میں مقدار خشک پھور کے بدلا اس شرط سے پیچ کر اگر (ورخت کے پھل) زیادہ ہو نے تو وہ میبرے ہیں اور اگر وہ کم نکلن تو تقسیم میبرے ہی ذمہ ہو گا (اس وقت میں تج پھونکہ جو نے سے مما ثلت رکھتے ہے اور تبادلے میں چیزوں کی کیا بیشی کا اختیار ہے اس کے جاتنہیں ہے)۔

مُخَابَرَہ، مَا قَدَامِ مَزْرَابِہ مَنْعٌ ہے!

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever performs Hajj for Allah’s sake and does not engage in obscenity or sin will return (sinless) like the day his mother gave birth to him." [Agreed upon]

3906

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخابره، مَا قَدَامِ مَزْرَابِہ (ان تیون قسم کی تجارت) سے منع فرما یہ مَا قَدَامِ پیہ کر کوئی شخص اپنی کطری کھیچتی ہے فصل کو ایک سوفرق (ایک قسم کا پیانہ) گیہون کے بدلے لے دے۔ اور مزاربنے پیہ کر کوئی شخص کھجور کو جودرخت پرہول ایک سوفرق (پیانہ) کھجور کے بدلے لے دے۔ اور مخابره پیہ کر کوئی شخص اپنی زمین کو پیادوار کے تہائی یا چوتھائی حصہ کے معاوضہ میں بٹائی پر کاشت کے لے دیے۔ (یعنی قسم کی تیج چوکلر قیاس اوراندازہ پر پیں اوران میں جوے سے مماثلت ہوجائے ہے اس لے ممنوع ہے)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

پیادوار کی معمیں مقدار پر بھائی جاتزہ ہے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Mukhabara, Muhaqala, and Muzabana. Muhaqala is when a man sells crops for a hundred Faraq of wheat. Muzabana is selling dates on palm trees for a hundred Faraq. Mukhabara is leasing land for one-third or one-fourth of the produce. [Narrated by Muslim]

The group except Al-Nasa’i narrated from Ibn Umar that the Prophet (ﷺ) made a sharecropping agreement with the people of Khaybar for half of what the land produced in fruits or crops.

(1) The statement: "Mukhabara" – This type of sharecropping is invalid according to Abu Hanifah, making the hadith evidence against it. However, his two companions validated it, and this is the fatwa given due to people’s need for it and based on the narration that the Prophet (ﷺ) contracted with the people of Khaybar for half the produce. This is taken from Al-Maraqi and Al-Hidayah.

3907

اور جماعت (یعنی اصحاب صحاح) نے سواے نسائی کے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے پرمعاہدہ فرما یا کر کہتی یا چلون کی پیداوار میں سے نصف مقدار بھائی میں لی جائے گی (یعنی نصف حصہ ما لک کا ہوگا اور نصف حصہ پیدا کرے وا لے گا)۔-

معاومدارشیا ممنوع پیں اور عر ایا جاتزہ ہے

Nafi' narrated from Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him): "When sending sacrificial animals from Medina, he would garland and mark them at Dhul-Hulayfah - garlanding before marking, while facing the Qiblah. He garlanded them with two sandals and marked the left side. The animals would proceed with him to Arafah and Mina, where he slaughtered them on Eid morning before haircutting. He slaughtered them himself while they stood, facing the Qiblah, then ate and distributed the meat." [Narrated by Malik]

3908

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قلہ، مزاربنے، مخابره، معاومدارشیا سے منع فرما یا ہے اور عر ایا کی اجازت دی ہے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

(معاومہ پیہ کہ درختوں کے چلون کو نمو دار ہوئے سے پہلے ایک سال، دوسال یا تین سال یا زیادہ مدت کے لے فروخت کر دیا جائے۔ کیونکہ اس میں پراختمال ہے کہ میوہ پیدا کی نہویا

پیدا ہوتا خراب ہوجاتے اور لین والے کا نقصان ہو۔ اور ثنا یہ کرچھل دار درخت کو رچ دیا جاتے اور چھلون کی ایک غیر معین مقدار ثی کر لی جاتے جسے پون کہ کہ میں اس میں سے تحویل پچل لے لون گا اور عز ایا وہ درخت پین جن کو عاریا ما ک ایک معین مد ت کے لے غربا کو چجل کہانے کے لے دیے۔)

عرا پہ بہے اوراس کی هرصورت جاتے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Mukhabara, Muhaqala, and Muzabana. Muhaqala is when a man sells crops for a hundred Faraq of wheat. Muzabana is selling dates on palm trees for a hundred Faraq. Mukhabara is leasing land for one-third or one-fourth of the produce. [Narrated by Muslim]

The group except Al-Nasa’i narrated from Ibn Umar that the Prophet (ﷺ) made a sharecropping agreement with the people of Khaybar for half of what the land produced in fruits or crops.

(1) The statement: "Mukhabara" – This type of sharecropping is invalid according to Abu Hanifah, making the hadith evidence against it. However, his two companions validated it, and this is the fatwa given due to people’s need for it and based on the narration that the Prophet (ﷺ) contracted with the people of Khaybar for half the produce. This is taken from Al-Maraqi and Al-Hidayah.

3909

امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عرایم اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ کچور کا ایک درخت یا دو درخت کسی (غیریب) شخص کو بطور پہی کے (چلاون کے استعمال کیلئے) دے دی جائے پھر وہ شخص ما کو (ضرورت) اندازہ لگا کر پھر کچوروں کے بدلے پیچ دے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے جنہوں نے بی کریم اللہ علیہ وسلم سے عرایم کے بارے میں خبر دفر وخت کی اجازت روایت کی ہے اور پیغمبر کیا کہ عریہ پہ بہے اہم اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی موطا میں کہا ہے کہ ما کو بن انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عریہ پہ کسی شخص کا کچور کا باغ ہواوروہ کسی (غیریب اور مستحق) شخص کو ایک درخت یادو درخت عاریت دیے کہ وہ اس کے کچور استعمال کر لے پھر ما کو باغ پری بات گرانے زریہ کہ وہ باغ میں آتا جاتا رہتا ہے اوراس سے ما کو تکلیف ہوتی ہے (یا آنے والے کو بھی باربار آنے جانے سے تکلیف ہوتی ہے) تو وہ ما کو باغ سے پدرخواست کرتا ہے کہ عریہ پہ جائے وہ اس کو کچور کی فصل کے ختم پر ایک معین مقدار کچور دے دے ایسی صورت جاتے ہے اس کے پیچ نہیں ہے بلکہ ما کو بطور پہہ درخت کے کچور دینا چاہتا تھا اس کے معاوضہ میں کچور کی ایک معین مقدار دے رہا ہے۔

Imam Tahawi (may Allah have mercy on him) said: Zayd ibn Thabit (RA) said:

Permission has been granted for a person to give one or two kachur trees as a gift to another person (who is not poor) for the purpose of using their branches, and then that person should estimate the need and return kachur in exchange. Zayd ibn Thabit (RA) is among those Companions who narrated from the Messenger of Allah ﷺ that it is permissible to lend something for a specific time. And the Prophet ﷺ said that if someone's kachur garden is given to a person (who is poor and deserving), and that person is given one or two kachur trees to use, and if this causes inconvenience to the owner of the garden because the person frequently comes and goes, then the person can request the owner to allow him to take the kachur when it is ready, and in return, he will give a certain amount of kachur. In such a case, there is no usury; rather, the owner of the garden wants to give the kachur from the tree in advance, and the person is giving a certain amount of kachur in return.

3910

اور ترمذی کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کر رسول ﷺ کی تفصیل اس کی اوپر گزر چکی ہے) منع فرمایے کے مقدار میں کروی جائے (اوران کو فروخت کے مستثنی کروی جائے تو) جائزہ ہے -

It is narrated on the authority of Jaber (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

When it comes to the amount in which usury is prohibited, if they are sold with an exception, it is permissible.

3911

اور مسلم کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کر رسول ﷺ نے (اندازہ سے آٹھہ) کی برس تک کے لے (درخونی کچھ کو) پیچے سے منع فرمایے - تا پیر کے بعد کچور کا ثمرہ باقی کا ہوگا

It is narrated from Jabir (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

He prohibited the removal of hair from the back for those who were around eight years old until the hair on the pubic area grows.

3912

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کر رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص تا پیر (تا پیر یعنے کہ زکچور کے درخت کا پھول مادہ کچور کے درخت پر لا جا تا ہے تا کہ پھل زیادہ پیدا ہوں) کے بعد کچور کا باقی چھ دے تو (موجودہ فصل کے پھل پیچے والے کے ہول گے اور اگر خریدار پھل کے بارے میں شرط کر لے (تو پھل خریدار کے ہول گے) اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متفق طور پر کی ہے (پھلون کی پختگی کے بعد خریدو فروخت مناسب ہے -)

It is narrated from Abdullah bin Umar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If someone grafts the flower of the male mastic tree onto the female mastic tree so that more fruit may grow, and then leaves the remaining part of the female mastic tree, the existing fruit will belong to the owner of the tree. If the buyer stipulates the fruit, then the fruit will belong to the buyer.' This has been narrated by Muslim and Bukhari on mutual agreement. (After the fruit has ripened, its sale is permissible.)

3913

اور بخاری کی ایک روایت میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے وہ فرما تے ہیں کر رسول ﷺ کے مبارک زمانہ میں لوگ پھلون کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے (اور کا روبار خوشگواری سے طے پاجاتے تھے) پھر جب لوگوں کی کثرت ہوگئی اور ان میں اغشار پیدا ہوئے لگا اور معاملات پچیدہ ہوئے نے لگے تو خریدار پول کینے کا پھلون کو تو اب کی طرح گیا ہے، اب میں خرابی پیدا ہوئی ہے ان میں بعض پھل خشک ہو گئے پھل غرض اس وقت کے مصائب کے سبب سے احتیاج کرنے لگے چنانچہ رسول ﷺ کی خدمت میں اس وقت کے زراعات کثرت سے پیش ہوئے لگے تو رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ایسی صورت ہوری ہے تو فروخت میں جلدی مت

کرو بلکہ چھلون کی پختگی کے بعد چھلون کی خرید و فر وخت کیا کرو۔ آپ کا یار شاد بطور مشورہ کے طور

تا کر نزاع نہ برہے۔

کاروبار میں کسی کو نقصان آ جائے تو اس کی مدد کرنا چاہئے

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When you meet a Hajj pilgrim, greet him, shake his hand, and ask him to seek forgiveness for you before he enters his home, for he is forgiven." [Narrated by Ahmad]

3914

ابوبعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ایک شخص جو چھلون کی تجارت کیا کرتا تھا (اس کو خسارہ ہوا جس کی وجہ

سے) وہ مقروض ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابت کرام رضی اللہ عنہم سے) ارشاد فرما یا (بطور امراد)

تم اس پر نہیرات کرو صاحب کرام نے (حسب استطاعت نہیرات دی اس کے باوجود اس کا قرض ادا

نہ ہوسکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قرض وہندگان سے ارشاد فرما یا (فی الحال) تم کو جو کچھ ملا ہو

لے لو اس لئے کر اس کے پاس (ادا کرنے کے لئے) پھر اور نہیں ہے (بالا گروہ آپنے خوشحال

ہو جائے تو تم کو بقیہ قرض وصول کرنے کا حق ہے)-

اس کی روایت مسلم نے کی ہے-

منقول مال کو قبضہ میں لے بغیر نہیں پیچاچاہئے

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: A man suffered losses in fruits he had purchased, leaving him in debt. The Prophet (ﷺ) said: "Give him charity." People donated, but it did not cover his debt. The Prophet (ﷺ) told his creditors: "Take what you find; you are entitled only to that." [Narrated by Muslim]

Proponents of compensation cited the Prophet’s (ﷺ) order to waive losses and his saying: "It is unlawful to take your brother’s property unjustly." Opponents argued that if compensation were obligatory, the debtor in this hadith would not have needed charity. They interpreted the order to waive losses as recommendation or applied it only to pre-ripening sales.

Al-Tahawi said: The hadiths cited by opponents are authentic, but we interpret them differently. "Losses" refer to public calamities affecting taxable lands where tax reductions benefit Muslims. For sales, no compensation is owed. The hadith where the Prophet (ﷺ) said: "If you sell fruits to your brother and they are destroyed, you cannot take anything, why take your brother’s wealth unjustly?" refers to undelivered goods still in the seller’s possession. Once delivered, losses are the buyer’s responsibility, like any other sale.

3915

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد

فرما تے ہیں کہ جو کوئی غلط خریدے یا وہ اس کونہیں پیچہوال تک کر (اس کو قبضہ میں لے کر) پورا پورا نہ

تول لے-

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ would advise that whoever buys something defective or wraps it in a bundle should not take it fully without weighing it.

3916

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں اس طرح ہے کہ (اس غلط کو)

توڑ لے (اس کونہیں پیچے)-

اس کی روایت بناری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے-

مسلم اور بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے ( کہ رپیدے ہوئے فلکواس وقت تک نہ پچے ) یہاں تک کر اس کو پچے قبض میں لے لے۔

And according to the narration of Ibn Abbas (RA), it is stated: 'Break this error (by turning its corner back).' This narration is reported by Bukhari and Muslim on mutual agreement. In another narration reported by Muslim and Bukhari, it is stated: 'Until it becomes rapid, do not turn it back until the time of prayer, then take it back in the arrest.'

3917

اورنسائی نے اپنی سنن کبری میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تم ہرگز کسی چیز کو پچوپیہال تک کر اس کو پچے قبض میں نہ کر لو اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔

Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from selling what I did not possess (1). [Narrated by Tirmidhi]

In another version: "A man asks me to buy something I do not have. Should I buy it from the market for him?" The Prophet (ﷺ) said: "Do not sell what you do not own."

3918

اشیاء منقول کو بغیر قبض کے ادہار پچنا جاتے نہیں اس کی علت ف: واضح ہو کہ قبض کے بغیر کسی چیز کی خرید و فروخت سے ممانعت کا جو حکم ہے وہ منقول اشیاء سے متعلق ہے ( جو چیزی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہے ) مثلًا غلم و غیرہ البنت غیر منقول اشیاء جیسے مکان یا زمین کی خرید و فروخت میں قبضہ ثبوت نہیں جسیا کے امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام ما لک رحمۃ اللہ علیہ اس ممانعت کو صرف غلم سے متعلق قرار دیتے ہیں اس ممانعت کی علت یہ کہ منقول چیزو قبض میں لے بغیر خرید و فروخت سے اس کے تلف ہوجانے یا اس میں کی بھیشی کا اندیشہ رہتا ہے اور یہ علت غیر منقول اشیاء میں پانی نہیں جاتی۔ یعنی " تشیع النظام " سے ماخوذ ہے۔

ادہار کو ادہار کے بدلے پچنا جاتے نہیں

Things that can be moved (manqul) cannot be sold without possession. The reason for this is clear: the prohibition on selling something without possession applies to movable items (such as slaves and the like). For example, in the sale of immovable property such as houses or land, possession is not required, as stated by Imam al-Azam (may Allah have mercy on him), and Imam Malik (may Allah have mercy on him) restricts this prohibition to slaves only. The reason for this prohibition is that there is a concern of loss or damage to movable items if they are sold without possession, which is not a concern with immovable property. This is derived from 'Tashī‘ al-Nizām.'

3919

ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ادہار کو ادہار کے بدلے پیچے سے متع فرمایا ہے۔ اس کی روایت دار قطعی نہ ہے۔ ف: ادہار کو ادہار کے بدلے پیچے کی صورت یہ کہ مثلًا زید پر عمر و کا ایک کپڑا ادہار ہے اور بکر کے عمر و پردس ورتم پی تو زید بکر کو پول کہ کر میں نے اپنا کپڑا تیرے باٹھان دس ورتم کے بدلے تج ویا جو عمر و پرتیرے میں اور بکر پول کہ کر میں نے قبول کیا۔ پیچ اس لے نا جاتے ہے کہ یہاں ایک چیز کی خرید و فروخت ہور یہ جس پر قبضہ نہیں ہے۔ جسیا کے لماعت میں نذور ہے۔

تجارت کے چند ضروری احکام و اصول

It is narrated from Ibn Umar (RA) that the Noble Prophet ﷺ engaged in a transaction where he gave a loan in exchange for a pledge from behind.

This narration is not definitively established. An example of giving a loan in exchange for a pledge from behind is as follows: Suppose Zayd has a garment pledged to Umar, and Bakr has a garment pledged to Umar. Zayd says to Bakr, 'I have given my garment to you in exchange for your garment being pledged to me.' Bakr responds, 'I have accepted it.' This is considered a form of taking a pledge because it involves the sale of one item for another that is not in possession, similar to a pledge in a group.

3920

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تم

میں سے کوئی شخص غلم لا نے والے قافلے سے آگے جا کر نہ مل (یعنی شہر میں غلم آ نے سے پہلے، یہ اس کو راستہ میں ارزال (ستا قیمت میں) لینے کی خاطر جا کر نہ ملیے) اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر اپنی بولی نہ لگائے (یعنی دونوں شخصوں کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ ہوں پر تیسرے شخص اس تج کے مقابلے میں اس سے کم دامول پر اس مال میں عیب نکال کر اپنے مال فروخت نہ کرے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خرید و فروخت میں بخشنے منع فرمایہ (بخشنے یہ کے دونوں شخصوں کے درمیان خرید و فروخت کی گفتگو ہوری ہے اور تیسرے شخص اگراس کی تعزیف کرے تا کہ خریدار کو اس کی جانب رغبت زیادہ ہو یا خریدار اس کی قیمت بڑھادے اور خود اس کو وہ چیز خریدنا منظور نہیں جسیا کہ برانج میں دلال کیا کرتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شہری آدمی دیہاتی آدمی کا مال فروخت نہ کرے (یعنی کوئی دیہاتی غلم لا نے تا کہ موجودہ نرخ پر فروخت کرے لیکن شہری اس سے پیکہ کر تو غلم میرے سپرد کر دے میں اس کو زیادہ قیمت پر فروخت کرول اس قسم کی تج میں وقتم کے نقصان پیا ایک تو ما ک کا دور سے ابل شہر کا کر اگر بازار میں مال آ جاتا تو روزمرہ کے نرخ پر چیزیں میں جاتیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ عیسی بن ابان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ مصرۃ کے بارے میں جو حکم ہے اور جو مختلف حکم ہون میں مرودی ہے اس زمانے سے متعلق ہے جب کہ خرید و فروخت میں دوحوکہ ثابت ہو جانے کی صورت میں بطور تاوان کے غلم دیاجاتا تھا (چونکہ اس قسم کی تج بالاتفاق حرام قرار دی گئی ہے اس لے اب مصرۃ (یعنی تاوان میں غلم دینے کا روایت ممنوع ہو نے سے پی) حکم باقی نہیں رہا۔ ف: واضح ہو کہ مصرۃ یہ کہ دودہ دینے والے جانور کو فروخت کرتے وقت ایک یا دودن کا دودہ ان کی کتنول میں باقی رہ کر فروخت کیا جاتا تھا تا کہ ان کی قیمت زیادہ آئے اور ایسی تج کی صورت میں لینے والے کو تج کے

فس کر نے کا اختیار بھی رہتا تھا۔ چونکہ ایسی تح بالاتفاق حرام قرار دی گئی ہے لہذا ایسی صورت میں مصرۃ کا حکم اور خیار

جبی باقی نہیں۔ جبہی امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے جسیا کہ "رحمۃ الامۃ" میں ذکور ہے۔

خرید و فروخت میں دلالی ممنوع ہے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not intercept caravans (to buy their goods) (1), do not outbid each other (2), do not engage in Najash (fake bidding) (3), and do not sell on behalf of a townsman to a Bedouin (4)." [Agreed upon]

Al-Tahawi said: Isa ibn Ayan said: "The ruling on Musarrah (milked animals) in hadiths applied when punishments for sins involved property confiscation."

This hadith has been narrated separately by Bukhari and Muslim, and Imam Tahawi (RA) has stated that Isa bin Aban (RA) said that the ruling concerning Misrat and the different rulings that apply to it pertain to the time when, in the case of two defects being evident in a transaction, it was permissible to give a calf as a gift (since this type of trade has been prohibited, the ruling regarding Misrat, which means giving a calf as a gift, no longer applies). It is clear that Misrat refers to the practice where, when selling a milking animal, one or two days' milk would remain with the seller to increase the price, and in such transactions, the buyer also had the option to annul the sale. Since such a transaction has been prohibited, the ruling and the option to annul in such a situation no longer remain. This is the view of Imam-e-Azam (RA), as mentioned in 'Rahmat-ul-Ummah.' It is prohibited to engage in intermediation in buying and selling.

3921

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انہم (غلے کے)

کاروان کو (شہر میں آنے سے پہلے آگے جاکر) ملا لیتا اور وہیں ان سے غلے خرید لیتا تھا تو رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی خرید و فروخت سے رذکریہال تک کر دیا قافلے غلے کے بازار تک نہ

پہوچ جائیں۔ اس کی روایت مسلم اور طحاوی نے لکی ہے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "We used to intercept caravans to buy food, but the Prophet (ﷺ) prohibited us from selling it until it reached the market." [Narrated by Muslim and Al-Sahawi]

In Muslim’s version from Jabir: The Prophet (ﷺ) said: "Do not sell on behalf of a townsman to a Bedouin. Let people benefit from Allah’s provision."

3922

اور مسلم کی ایک اور روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے

ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما یہ کرتے تھے شہری آدمی دیہاتی آدمی کا مال فروخت نہ کرے۔

لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دودتا کر اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعہ رزق دیتا ہے (دیہی و دیہاتی

لوگوں کو چھوڑ دو، ان سے تعارض نہ کرو، وہ باہر سے غلم لا لین اور بازار کے نزدیک پرفروخت کریں

تا کہ شہر میں کافی غلم رہے اور لوگ ارزانی (سامان کے ستہوں) سے فائدہ اٹھا سکیں۔

فریقین میں معاملت ہوجانے کے بعد تیرے شخص کو داخلت نہ کرنا چاہیے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "We used to intercept caravans to buy food, but the Prophet (ﷺ) prohibited us from selling it until it reached the market." [Narrated by Muslim and Al-Sahawi]

In Muslim’s version from Jabir: The Prophet (ﷺ) said: "Do not sell on behalf of a townsman to a Bedouin. Let people benefit from Allah’s provision."

3923

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشاد فرما یہ کرتے شخص اپنے بجاٹی کی تح پراپنامال (کسی دوسرو کو) نہ دیں (دیہی طریقین میں

خرید و فروخت کا معاملہ ط پاجانے کے بعد کسی تیرے شخص کو اپنامال نہ دیں) اور (شاہی کا

معاملہ آپس میں ط ہوجانے کے بعد) کوئی (تیرا) شخص اس جگہ اپنا پیام نہ دیے بلکہ اگراس کو

اس بات کی اجازت دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (ورنہ اس میں مسلمان کی حق تلفہ ہوتی

ہے)۔ اس کی روایت مسلم نے لکی ہے۔

دوسری حدیث

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ instructed

that a person should not give his goods on credit to someone else (in transactions involving both cash and credit sales, one should not give goods on credit after the transaction has been settled in cash), and (in a sale where the price is to be paid later, one should not give the goods before the price is determined) no one should give their pledge in a place (without permission); however, if they are given permission to do so, there is no harm. (Otherwise, it would result in the loss of a Muslim's right). This has been narrated by Muslim.

3924

صلى الله عليه وسلم

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک مسلمان اپنے بجاٹی مسلمان کے مقابلے میں کسی چیز کے دام نہ لگائے (جب کہ دونوں میں معاملہ ہوچکیا ہے ) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف : امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فرقین کے درمیان جب معاملہ طے پاجائے تو کوئی تیسر شخص زاہد قیمت دے کر طے شدہ معاملہ کو خ کرنے کی کوشش نہ کرے اس کے کاس میں ایک مسلمان بجاٹی کی حق تلفظ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص داخلت کر کے زاہد قیمت پر معاملہ طے کر لے تو و منعقد ہوجائے گی لیکن ایسا شخص گناہرہوگا۔ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور دگر اتمر حکم اللہ کاہی قول ہے۔

ممنوع چیج اور ممنوع لباس کا بیان

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not outbid your Muslim brother’s offer." [Narrated by Muslim]

3925

صلى الله عليه وسلم

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت کے لباس اور وطرح کے نج سے منع فرمایا ہے۔ نج میں ملاست پیہ کے پر کو لین والشخص رات یاد میں (کول کر دیکھے بغیر) اتوہ گا دے اور اس کے سوا (مزریع ثقیق کے لیے) الرط پلت نہ کرے اور منابذت سے منع فرمایا ہے (پی دونوں قسم کی نج زمانہ جاہیت میں ران یہ ہے )۔

(1): منابذت یہ کہ نچے والا پرت کو انطا کر خریدار کی طرف پچھک دے اور خریدار اس کو (کول کر) دیکھے بجا لے بغیر انطا کر نچے والے کی طرف پچھک دے خواہ (نج پر فرقین) راضی ہول یا نہ ہول (پی دونوں نج اس لے ممنوع پی کران میں دسو کرے اور پثر طی فاسد ہے کہ عیب نکل پرسی کو نج کا اختیار نہ ہوگا) اور دونوں کے لباس (جن سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے) ان میں ایک اشتمال صمماًء ہے اور اس کا (ایک) طریقت ہے کہ پرت کو (سر سے پیر تک) جسم پراس طرح پیٹ لیں کہ باٹھ پاول اور پچھر نظر نہ آے ) کہ پرت کو کسی ایک کاندے پراس طرح لا جائے (کروہ دومعلوم ہون جسیا کرآ ستین میں پیٹ لگا کرتے ہیں) اور دورا کاندہابخير پرت کے رہ جائے اور دورا لباس (کاطریقه جس سے حضرت ﷺ نے فرمایا ہے وہ) یہ کہ پرت کو جسم پراس طرح پیٹ کر بیچ کر شرم گاہ کھی رہ جائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

اور تین قسم کی بیع کی معانت

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited two types of dress and two types of sales. He prohibited Mulamasah and Munabadhah in sales. Mulamasah is touching another’s garment (day or night) without inspection, making the sale binding. Munabadhah is throwing one’s garment to another to conclude a sale without inspection or mutual agreement. The two prohibited dresses are: Ishtimal Al-Samma’ (wrapping oneself in a garment leaving one side exposed) and sitting with one’s private parts uncovered. [Agreed upon]

3926

عن الحصاة اور بج الغرر من فرمایاہ (پدونوں قسم کی بیع زمانہ جائیت میں رائے ہیں، بج الحصاة

پیہ کہ خریدار پچھوا لے سے پیکہ کہ جب میں تیرے مال پر کہری پچھلون تو بج پختہ ہوجائے

گی پیچھے والاخر پدار سے پول کہ کہ جس چیز پر تیری کہری پڑے وہ تیرے باٹھ بج سے یا تیری

کہری جتنی دور زمین پر جائے وہ تیرے باٹھ فروخت سے اور بج غرر پیہ کہ چیز نہ تو قبضہ میں ہو

اور ناس پرقدرت حاصل ہواوراس کوفر وخت کردی جائے جیہ دریا کی محجلیال اور ہوا میں اثر نے

عن الحصاة اور بج الغرر من فرمایاہ (پدونوں قسم کی بیع زمانہ جائیت میں رائے ہیں، بج الحصاة

پیہ کہ خریدار پچھوا لے سے پیکہ کہ جب میں تیرے مال پر کہری پچھلون تو بج پختہ ہوجائے

گی پیچھے والاخر پدار سے پول کہ کہ جس چیز پر تیری کہری پڑے وہ تیرے باٹھ بج سے یا تیری

کہری جتنی دور زمین پر جائے وہ تیرے باٹھ فروخت سے اور بج غرر پیہ کہ چیز نہ تو قبضہ میں ہو

اور ناس پرقدرت حاصل ہواوراس کوفر وخت کردی جائے جیہ دریا کی محجلیال اور ہوا میں اثر نے

والے پرنے پیجا گا ہواغلام وغیرہ )۔

اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

The master will call out to his slaves and others.

3927

روايت سے کرسول اللہ علیہ صلاۃ نے بج المحضر اور بج الغرر من فرمایاہ (بج الغرر کی تعريف

حدیث نمبر 3789/119 میں گذرچکی سے اور بج محضر پیہ کہ کونی شخص )جراءورتگ کر کے کسی

کی چیز خریدے یا ضرورت میں مجبور ہو کر کونی چیز پچنا پاچے اور خریدار ست دامول خریدے لے

–( ایسی صورت میں پیچھے وا لے کی مدد کرنی چاہئے نکاسے ناجائز فاکده اتحادے )۔

زمانہ جائیت کی ایک بیج جوممنوع ہے

A single seed of zimana is prohibited.

3928

حاصل جانور کے حمل کی خرید فروخت سے منع فرمایاہ – اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور

پر کی سے ابوعبیدہ نے کہاہے کر اس کی تو بج پیہ کر ایک شخص حاملہ اوہی کواس شرط پرخزیدا تھا کر

جب اس کے پیٹ سے پھ پیدا ہوگا تو اس وقت اس اوہی کی قیمت ادا کی جائے گی (پيزماہ)

جاپلیت کی ایک بیجھی، یرنج اس لے منع بے کر اس مین مدتبہول بے اور ینہیں کہا جاسلتا کر

پیٹ کا پڑزہوگا یاماده اس لے یدهوکر کی تجارتبہوگی)-

جانور کوگا یہ کروانت کی اجرت لینامنع بے

A mixed, yellowish substance that comes out before the semen is not a reason for ghusl. It is said that it will be a discharge from the stomach or due to some experiment with animals. It is prohibited to take payment for doing this.

3929

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

نزو ماده پرچھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمايہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی بے-

پثالی کی ایک ناجائزصورت

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ prohibited taking a fee for abandoning one's property. This is reported by Bukhari as an example of an impermissible practice.

3930

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت بے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

اونٹ کو اوٹی پر( گاہہ کرنے کے لئے ) چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمايہے اور زمین اور پائلی

کو پثالی پردینے سے بھی منع فرمايہے (اس کی صورت پیہ کر ایک شخص اپنی زمین اور زمین سے

قربی پانی کسی کودے دے اور دوسرا شخص سے پیکہ کر نچ اور کہیں کرنا تیرے ذمہ ہوگا اور

پیداوار میں میرا کچھ حصہ ہوگا۔ اس قسم کا معاملہ ناجائز ہوگا)-

جانور کے گاہہ کرنے کے انعام کی ناجائزصورت

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling camel stud services, selling water (1), and sharecropping land for cultivation. [Narrated by Muslim]

3931

انس رضی اللہ عنہ سے روایت بے کر قبیلہ کلا ب کے ایک شخص نے نزو ماده پر

( گاہہ کرنے کے لئے ) چھوڑنے کی اجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے (اجرت لینے

کے لئے ) منع فرمايہے اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزاونٹول کو مادہ پر چھوڑنے کے لئے

عاریتاً دیتے ہیں پھر وہ لوگ (جانور واپس کرتے وقت بلطور انعام ) کچھ دیتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی (انعام لینے کے جواز کی صورت پیہ کر یعادت نہ بن جائے

ورنہ مشروط کے حکم میں ہوگی)- (جبیا کے کتاب دری میں ذکورہے)-

اس کی روایت نزدیکی بے

زاںد پانی کے فروخت کرنے کے بارے میں احکام

It is narrated from Anas (RA) that

a man from the Banu Kalb asked about the reward for leaving a she-camel for milking. The Prophet ﷺ prohibited taking a reward for this. The man then said, 'O Messenger of Allah ﷺ, they give the she-camel for milking as a gift, and then when they return the animal, they give something as a gift.' The Prophet ﷺ allowed this, provided that it does not become a regular practice, otherwise it would fall under the ruling of a conditional agreement. This is mentioned in the book of Jabiya on gifts. This narration is related to the rulings concerning the sale of water and the use of nearby wells.

3932

بَابُ ضَرُورَةِ اِسْتِخْرَاجِ الْمَاءِ مِنَ الْعَيْنِ

پانی کی فروخت سے منع فرماپیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا میں لکھا ہے کہ حس کا کوئی کنوہ ہوتا وہ اپنے کنوی کا پانی انسانول اور مویشیون کے لئے نردو کے البتہ کسی دوسروے شخص کی زراعت یا خستان کی سیرابی پراس پانی کی اجارت لے سکتا ہے۔

دوسری حدیث

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling excess water (1). [Narrated by Muslim]

3933

بَابُ اِسْتِخْرَاجِ الْمَاءِ مِنَ الْعَيْنِ

ارشاد فرماپیا کہ ( کوئی شخص اپنے کنوی کا ) زاںد پانی نہ پیپا س خیال سے کہ اس کے ذریعہ پیدا ہونے والی گھاس فروخت کرے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر کی ہے۔

کاروبار میں وضو و پیما مسلمان کا شعار ہیں

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not withhold excess water to sell pasture." [Agreed upon]

3934

بَابُ اِسْتِخْرَاجِ الْمَاءِ مِنَ الْعَيْنِ

کے ایک ذوہیب کے قریب سے گذرتے ہوئے اس میں اپناوست مبارک داخل فرما تو اس میں آپ کی اٹھت مبارک کو پچھتری محسوس ہوتی تو آپ نے غلم کے ماکے سے ارشاد فرماپیرتی کیے کہ؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پر پیند (باڑش) برس گیا تھا تو آپ نے فرما تو پچھرتے غلم کو تو نے او پر کیون میں رکھا تا کر لوگ اس کو کہیں لیتے (اور وضو کرنے کیا تے یاد رکھو) جو شخص فریب یا وضو کرے وہ مجھے نہیں ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: حدیث ثریف میں ارشاد سے کر وضو کر دینے والا مجھے نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کر وضو کر دینا حرام ہے اس لئے کئی احادیث ثریف میں فلیس منی کے الفاظ وارد ہیں جن سے امت کو ایسے کا مول سے پچانا اور تنبیہ کرنا مقصود ہے۔ جسیا کہ نیل الاوطار اور سبل السلام میں ذکور ہے۔

نچ عربان کی تعریف اوراس کا حکم

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a pile of food and felt moisture. He asked: "What is this?" The owner said: "Rain affected it." The Prophet (ﷺ) said: "Why not place it on top so people can see? Whoever deceives is not of me." (1) [Narrated by Muslim]

3935

عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے نے دادا (رضی اللہ عنہم) سے روایت کرتے ہیں: ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نچ عربان سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت امام ما لک، ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔ ف : نچ عربان کی تفصیل یہ ہے کہ خریدار بچچے واں کوگی مال کی خریداری کے لیے بطور بیعانہ پچھر قم پیشگی دے اور کہ کہ آگر نچ کا معاملہ تمہارے اورمیرے درمیان لگہوگیا تو پیشگی رقم قیمت میں وضحوجا کی اوراگر کسی وجہ سے نچ نہوگی تو پیشگی رقم میں واپس نہ لے سکون گا تیری ہو جائے گی۔ رقم کی پیشگی چونکہ صرتے ظلم اور ناجائز ہے اس لیے خلاف شرع ہے۔ جو پچیر مووجود نہو اس کا فروخت کرنا جائز نہیں

Amr ibn Shu’ayb narrated from his father from his grandfather (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited ‘Urban sales (1). [Narrated by Malik, Abu Dawud, and Ibn Majah]

3936

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چیز کے بچچے سے منع فرمایا ہے جومیرے پاس نہو اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from selling what I did not possess (1). [Narrated by Tirmidhi]

In another version: "A man asks me to buy something I do not have. Should I buy it from the market for him?" The Prophet (ﷺ) said: "Do not sell what you do not own."

3937

اورترمزی، ابوداوداورنسائی کی ایک اورروايت میں یہ الفاظ ہیں: حکیم بن حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز خریدے کا ارادہ کرتا ہے جومیرے پاس نہیں ہوتی۔ میں اس کے لیے بازار سے خریدتا ہوں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا جو پچیر تیرے پاس نہو اس کومت فروخت کر کاروبار میں فراست کا ایک واقعہ ور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اثر

Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from selling what I did not possess (1). [Narrated by Tirmidhi]

In another version: "A man asks me to buy something I do not have. Should I buy it from the market for him?" The Prophet (ﷺ) said: "Do not sell what you do not own."

3938

اورابوداوداورترمزی نے عروہ بن الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار عطا فرمایا جس سے قربانی کے لیے ایک بکریا

بگری خرید لا کس انہول نے اس دینار سے دو بگریال خریدیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار

کے بدلے چھ دیا اور حضرت علیؓ کی خدمت میں ایک دینار اور ایک بگری لے کر حاضر

ہوئے (حضرت علیؓ بے حد خوش ہوئے) ان کے لئے ان کے کاروبار میں برکت کی دعا فرمائی تو

(اس کے بعد حضرت علیؓ کی دعا کی وجہ سے ان کے کاروبار میں ایک برکت ہونی کر) وہ آگر میں جی

خریدے تو اس میں ان کو خاصا نفع ہوتا-

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no day on which Allah frees more people from the Fire than the day of Arafah. Indeed, He draws near and boasts about them to the angels, saying, 'What do these people seek?'" [Narrated by Muslim]

3939

اور ابوداوداورترمزدی نے اس حدیث کو تقریباً نہیں الفاظ سے حکیم بن حزام

سے حکیم روایت کی ہے-

مشروط نج ناجات زہ

Abu Dawud and Tirmidhi have narrated this hadith, not verbatim, from Hakim bin Hazam (RA) -

Conditional debt is invalid.

3940

ابوبیریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ایک معاملہ میں دو قسم کی نج ط کرنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت امام ماک،

ترمزدی، ابوداوداورنسائی نے کی ہے-

ف : اس حدیث شریف میں دو قسم کی نج ایک معاملہ میں ط کرنے کا جواب شاہہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مثلًا

زیر ایک گھوڑا سور و پیہ کے عوض بگر کے باہر اس شرط پر رخت کرے کہ تو پنی کچینس پچاس روپے کے بدلے فروخت

کر دے، دوسرا صورت یہ ہے کہ گھوڑا اس روب پر نقد میں اور پیس روپیا ادا کر میں فروخت کرتا ہوں۔ پر دونوں

صورت میں اس لئے ناجات زہیں کہ پہلی صورت میں فروخت کے ساتھ ساتھ شرط طبیہ ہے جس سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے-

اور دوسرا صورت میں نقد کی قیمت اور پہ اورادہار کی قیمت اور، اس لئے صورت کی ناجات زہ-

ایک معاملہ میں دو نج ناجات زہ

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited two transactions in one sale (1). [Narrated by Malik, Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]

3941

عمر وبن شعیب اپن والد کے واسطے اپنے دادا (رضی اللہ عنہم) سے

روایت کرتے ہیں ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ نے ایک معاملہ میں دو قسم کی نج سے منع

فرمایا ہے۔ اس کی روایت ثرہ السند میں ہے-

Umar ibn Shu'ayb narrates from his grandfather (RA) through his father that his grandfather said:

The Messenger of Allah ﷺ prohibited two types of Najis (impure substances) in a matter. This narration is found in Tharh al-Sind.

ثیج کے ناجائز اقسام اور ان کی تفصیل
3942

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما یہ کہ اس کی ثیج جائز نہیں جو شرط کے ساتھ ہوا اور اس کی ثیج جائز نہیں جس میں دو شرطیں ہول اور اس کا نفع جائز نہیں جس میں (معاملہ دار) نقصان کا زمردار نہ ہو، اور (حضو علیہ وسلم نے پیغمبر ارشاد فرما یا) جو چیز تیرے قبضہ میں نہ ہواس کومت صحت۔ اس کی روایت ترمذی، البوداود، اورنسائی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اس کی ثیج جائز نہیں جو اس حارگی ہوا اور اس کے ساتھ شرط کچھ ہواس کی صورت پیہ کہ مثال کوئی شخص کسی کو اپنا مکان ثیج دے اور پیشہ ط کرے کہ وہ ثیج کے بعد اس میں ایک مہینہ رہے گا۔ یا مثال کسی کو کوئی چیز فروخت کرے اور قرض دے کراس کی قیمت زیادہ لے اے ف : اس حدیث شریف میں یہ ہی ارشاد ہے کہ بگیر نقصان کی زمرداری کے صرف نفع حاصل کر لینا جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میش نفع نقصان کی ضامن پڑھوتا ہے کہ وہ شخص نفع اٹھا نے کا مستحق ہے جونقصان کا بھی ضامن ہو۔ سکم کے تبادلے میں جواز کے شرائط

Amr ibn Shu’ayb narrated from his father from his grandfather (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is unlawful to combine a loan and a sale (1), two conditions in one sale (2), profiting from what you do not guarantee (3), or selling what you do not own." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]

3943

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں مقام ثیج میں اونٹوں کو دینار کے بدلہ فروخت کرتا تھا اور دینار کی جگہ درہم لے لیا کرتا اور درہم کے عوض پیٹا اور درہم کے بجاے دینار لے لیا کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کراس کا ذکر کیا تو حضو علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا س میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تم درہم کا اور دینار کو ای دون کے نزخ پر لے لیا کرتے ہو اور تم دونوں لیمن باع اور مشتری و بال موجود ہول اور (فروخت شدہ) چیز جی تمہارے سامنے ہو (اس لئے کہ سو نے اور چاندی کے سکم کے تبادلے میں معاملہ و ست بستے ہو ناضر و ری ہے)۔

اس حدیث کی روایت ترجمہی، ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔

حضرت علیؓ کا ایک نج نامہ

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "I sold camels in Al-Baqi’ for dinars but accepted dirhams instead, or sold for dirhams and took dinars. I mentioned this to the Prophet (ﷺ), who said: 'There is no harm in taking them at the day’s rate, provided you do not separate with unsettled dues.'" [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Al-Darimi]

(1) The statement: "taking dirhams instead of dinars" – This permits exchanging the sale’s price for another currency at the market rate if settled immediately. Scholars debated whether the exchange rate must match the transaction day’s rate or if delay is permitted.

3944

عداء بن خالد بن صوہ رضی اللہ عنہ سے (جوقبلہ بنور بیع کے ایک فرد تھا

اور غزوہ حنین کے بعد اسلام لاگے) روایت سے کہ انہوں نے ایک تحریر نکالی (جو ایک نج نامہ کی

صورت میں تھی جس کا متن یہ تھا) یہ وہ نج نامہ سے جوعداء بن خالد اور حضرت علیؓ سیدنا محمد رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان لٹ پایا کہ عداء بن خالد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا بندی خریدی

جس میں نتوکوئی پہاری سے نکوئی برائی اور عیب سے اور پی معاملہ اپنے ہی ایک مسلمان

دوسرے مسلمان سے کرتا ہے۔ اس کی روایت ترجمہی نے کی ہے۔

نیلام کے جواز کا بیان

Al-‘Adda’ ibn Khalid ibn Hawdhah narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) wrote for me: 'This is what Al-‘Adda’ bought from Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ): a slave or servant free from disease, deceit, or malice, a Muslim’s sale to a Muslim.'" [Narrated by Tirmidhi, who graded it gharib (rare)]

3945

انس رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک صحابی کا)

طاقت یا کبل اور پیالہ پینا چاہا (جبہان صحابی نے حضرت علیؓ سے پکڑ نہیں راتا تھا، تو حضرت علیؓ نے

فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو تم اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہو! تو

انہوں نے پیرو چیزیں پیش کیں) پھر حضرت علیؓ نے کبل اور پیالہ (کو دکھا کر صحابہ کرام سے)

دریافت کیا ان کو کون خریدتا ہے، ایک صحابی نے فرمایا میں ان کو ایک دراہم میں خریدتا ہوں اس پر نبی

کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ایک دراہم سے زائد پر کون خریدنا چاہتا ہے؟ تو ایک صحابی نے دو

دراہم پیش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں چیزوں کو ان کے باتمہ فروخت کر دیا۔ اس کی روایت

ترجمہی ابوداوداورا بن ماجہ نے کی ہے۔

ف: واضح ہوکہ نج نامہ کی نذورہ صورت کو "بیع من يزيد" لعنی نیلام پیارانج کہتے ہیں۔ صورت اس وجہ سے

جا زتہ کہ فریقین نے معاملہ کو پیلی بولی پر طرفین کیا ہے اس لے قیمت کے اضافے کا جوازہ ہداپیر

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sold a saddle and a cup, asking: "Who will buy this?" A man offered one dirham. The Prophet (ﷺ) said: "Who offers more?" Another gave two dirhams, and he sold it to him. [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

عیب چھپا کر چیز بچنے کی وعید
3946

واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیارشاد فرماتے سنابہ کہ جو شخص کسی عیب دار چیز کو نیچے اوراس کے عیب کو خریدار پر نظر نہ کرے تو ایسا شخص بمیش غضب الہی کا شکار ہوتا ہے یافرشتہ (اس پر بمیش لعنہ کیے رہتے ہیں۔

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)-