Nūr al-Maṣābīḥ
باب الرِّبا

Riba (Usury/Interest)
Volume 6 · Transactions

(اس باب میں سود کی حرمت کا بیان ہے)

وقول اللہ عزوجل : " الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبْوا لا يَقُومُونَ إِلا كَما يَقُومُ الَّذِي

يتخبَطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِّ، ذلِكَ بَانُهُمْ قَالُوا انَّما الْبَيعُ مِثلُ الرِّبْوا، وَأَحلَّ

اللّهُ الْبَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبْوا" .

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، پ:3، ع:38، آیت نمبر:275، میں) "و لوگ

جو سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن قبروں سے نکل کر) ایسے کھڑے ہوں گے جیسے وہ شخص کہرا

ہوتا ہو جس کو شیطان لپٹ کر خبطہ بنادے (جس سے وہ حیران اور دہوش ہو جائے )پر (مزرا) ان

(سود خواروں) کواس لے ہوگی کہ (سود کے حلال ہونے پر استدلال کرنے کے لے ) کہا کرتے

کہ یہ جی تو مش سود کے ہے (کیونکہ اس میں بھی مقصود نفع حاصل کرنا ہوتا ہے ) حالاکہ اللہ تعالیٰ

نے (جو بندول پر احكام جاری فرما نے والے ہیں) نے کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے-

اسلام کا نظریہ معیشت

ف : صدر کی آیت شریفہ میں ارشاد ہے : " وَأَحلَّ اللّهُ الْبَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبْوا " _ لیعن اللہ تعالیٰ نے نیچ کو

حلال اور ربا (سود) کو حرام قرار دیا ہے _ و اس نے ہو کر نے کے معنی مبارہ مال بالمال کے پین خواہ وہ چیز کی صورت میں

ہو یا نفع کی _ اور ربا کے معنی لغت میں زیادتی کے پین اور شریعت میں ہر ایکی زیادتی جس کے مقابلو میں کوئی بدل نہ

ہو اس کو ربا کہتا ہے و اسے ہو کر اسلام عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ وہ ایک صاح معاشرہ اور ایمان نظام چاہتا ہے جس

میں پاک معیشت حاصل ہو _ پر نظام انسانوں میں لوٹ کھسوٹ کی بجائے، بحالی چارگی اور امداد و تعاون کے جذب کو

فروغ دیتا ہے _ ظاہر ہے کہ اسے نظام میں ہروہ چیز جوسر ماپیداری، چور بازاری اور زاٹی منفعت کے جذب کو پرواں

چڑھاے اسلامی معاشرت کے خلاف ہوگی _ ظہور اسلام سے قبل ایسائی فرسودہ نظام سارے عالم اور خصوصاً کہ

معظماور مدینہ منورہ میں جیسا رانگ تھا جس کی بنیاد نفع خوری اور چور بازاری پر تھی اس لے سود کی حرمت کے ساتھ

ساتھ خرید و فروخت میں بھی احتیاط رکھنی تاکید میں بھی حدثین وارد ہیں جن سے ذخیرہ اندازی اور چور بازاری

کی ممانعت کا ثبوت ملتا ہے۔

سودی کاروبار کرنے والے سب کے لئے ہیں

(This chapter discusses the prohibition of usury)

And Allah, the Exalted and Glorious, says: “Those who consume usury will not stand except as one whom Satan has driven to madness by his touch. That is because they say, ‘Trade is just like usury,’ but Allah has permitted trade and forbidden usury.”

And the guidance of Allah, the Most High, is (in Surah Al-Baqarah, Part 3, Juz 3, Verse number: 275): “And those who consume usury will rise up [on the Day of Resurrection] as one driven to madness by the touch of Satan. That is because they say, ‘Indeed, trade is like usury,’ but Allah has permitted trade and forbidden usury.”

In this verse, it is stated that Allah, the Exalted, has made trade lawful and usury unlawful. The meaning of trade here refers to the exchange of goods for money or other goods, whether in the form of goods or profit. The term usury, in its lexical sense, means excess, and in the context of Islamic law, it refers to any excess without a corresponding equivalent. Usury is not merely a matter of worship in Islam; rather, it is a social and faith-based system that aims to achieve a pure economy. This system promotes recovery, productivity, and mutual aid and cooperation among people, rather than exploitation and selfish gain. It is evident that in this system, anything that promotes exploitation, market manipulation, and personal gain at the expense of others is contrary to Islamic society. Before the advent of Islam, the corrupt economic system prevalent in the world, especially in Makkah and Madinah, was based on exploitation and market manipulation. Therefore, the prohibition of usury came with the aim of rectifying these issues.

There are also hadiths that emphasize the need for caution in buying and selling, which provide evidence against hoarding and market manipulation.

3864

جابر رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم

لین وا لے پر لعن فرما ئی ہے (کہ پیلوں کو قرض دے کر سود لیتے ہیں) اور سود دینے والے پر اور

(سودی و ستا ویز) کہنے والے پر اور کو اہول پر بھی لعن فرما ئی ہے (پر حرام فعل کے ارتکاب پر

اعانت اور امداد کرتے ہیں اور رسول الله صلى الله عليه وسلم پر بھی ارشاد فرما ئی کہ پسب (یعنی سود) کا لین

والا اور دینے والا، گواہی دینے والا اور و ستا ویز کہنے والا گناہ کے ارتکاب میں) بر ابر ہیں۔

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

لین وا لے پر لعن فرما ئی ہے (کہ پیلوں کو قرض دے کر سود لیتے ہیں) اور سود دینے والے پر اور

(سودی و ستا ویز) کہنے والے پر اور کو اہول پر بھی لعن فرما ئی ہے (پر حرام فعل کے ارتکاب پر

اعانت اور امداد کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ارشاد فرما ئی کہ پسب (یعنی سود) کا لین

والا اور دینے والا، گواہی دینے والا اور و ستا ویز کہنے والا گناہ کے ارتکاب میں) بر ابر ہیں۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

دوسرا حدیث

Muslim has narrated this.

3865

امیر المومنین حضرت علی رضي الله عنه سے روايت ہے کہ آپ نے بی

کریم صلى الله عليه وسلم سے کہا پسود کے لین والے پر، سود کے دینے والے پر اور سودی و ستا ویز کہنے

والے (اور حساب جوڑنے والے پر) اور زکوۃ نہ دینے والے اور زکوۃ دینے والے کو منع کر نے

والے پر لعن فرما ئی ہے اور رسول الله صلى الله عليه وسلم (مرنے والے پر) نوحکر نے (یعنی چھوپکار

کر نے اور بیان کر کے رو نے تے) منع فرما ئے۔ اس کی روايت نسائی نے کی ہے۔

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے بی

کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا پسود کے لین والے پر، سود کے دینے والے پر اور سودی و ستا ویز کہنے

والے (اور حساب جوڑنے والے پر) اور زکوۃ نہ دینے والے اور زکوۃ دینے والے کو منع کر نے

والے پر لعن فرما ئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مرنے والے پر) نوحکر نے (یعنی چھوپکار

کر نے اور بیان کر کے رو نے تے) منع فرما ئے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔

ایک پیش گوئی

A prediction

3866

ابوہریرہ رضي الله عنه سے روايت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما ئی (غفلت

اور لا پرواہی کی وجہ سے) ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا کہ کوئی شخص سود کا نے بخیر نہ رہ سکے گا اگر

وہ سورن کہا تاہوت اس کو کم از کم سور کا اثر ضرور پہو چے گا۔ اس کی روايت امام احمد، البوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ ف : واقع ہو کہ حدیث شریف کی روشنی میں بہت شخص کو تی الامکان سودی کا روا بار کے پہیلا وکی وجہ سے خود کو لے کار روا بارتے چانا چاہیے تا کراس وحیدتے محفوظ رہے سکے۔ سور کہا ناز نا کے گناہ سے بچی بر طہ کرے ہے

It is said that the ark will certainly have some trace of the beast. This has been narrated by Imam Ahmad, Al-Bayhaqi, Nasa'i, and Ibn Majah. It is fitting that, in light of this noble hadith, many people should strive to preserve their uniqueness by avoiding the first cause of repetition, so that they may remain distinct. It is said that it is free from the sin of pride.

3867

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُزَيْمَةَ رضي اللہ عنه سے جن کو فرشتے نے عَنْصَلِ دِیَا تَحَارُوَا يَتْ سے وہ فرما تے پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے سود کا ایک درہ تم جس کو آ دی جان بو جھ کر کہا ہے 36 مرتبہ زنا کرنے (کے گناہ) سے زیادہ برا ہے (اس لے کر سود کہا نا اللہ اور اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنا ہے جوز نا کے گناہ سے بر طہ کرے ہے)۔ اس حديث کی روايت امام احمد اور قطعنی نے کی ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُزَيْمَةَ رضی اللہ عنہ سے جن کو فرشتے نے عَنْصَلِ دِیَا تَحَارُوَا یَتْ سے وہ فرما تے پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے سود کا ایک درہ تم جس کو آ دی جان بو جھ کر کہا ہے 36 مرتبہ زنا کرنے (کے گناہ) سے زیادہ برا ہے (اس لے کر سود کہا نا اللہ اور اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنا ہے جوز نا کے گناہ سے بر طہ کرے ہے)۔ اس حدیث کی روايت امام احمد اور قطعنی نے کی ہے۔

Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) set out on a Thursday during the expedition of Tabuk, and he liked to set out on a Thursday. [Narrated by Bukhari]

3868

اور حبیب نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے اور اس روایت میں یہ الفاظ زا ڈ پیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر جس کا گوش ت مال حرام سے نشو و نما پا ے وہ دوزخ میں کے لا ٹ ہے۔ سود خواری کی ایک شدیدترین وعید

And Habib has also narrated it in the branches of faith, and in this narration these words are added:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever eats what grows from usury is in the Fire of Hell.' This is a severe warning against consuming usury.

3869

ابوہریرہ رضي اللہ عنه سے روايت سے وہ فرما تے پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے پی کر سود خواری کے (گناہ کے) ستر (70) حصے یہ اور ان میں کا ایک اولی (گناہ کا) حصہ یہ ہے کہ وہ سود خوار ا پنی مال سے جماع کر رہا ہے۔ اس کی روايت ابن ماجہ نے کی ہے اور حبیب نے بھی اس کی روايت شعب الايمان میں کی ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرما تے پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے پی کر سود خواری کے (گناہ کے) ستر (70) حصے یہ اور ان میں کا ایک اولی (گناہ کا) حصہ یہ ہے کہ وہ سود خوار ا پنی مال سے جماع کر رہا ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور حبیب نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔

انجام کا رسول خوارخسارہ میں رہتا ہے

The Messenger of Allah ﷺ resides in the abode of Khawarikhisara.

3870

ابن مسعود رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سوداگر چکراسے (مال بظاہر) زیادہ ہوتا کہانی ویتا ہو لیکن انعام کارکی (اور خسارہ وزلت ہے جس میں نہیرو برکت نہیں ہوتی)۔ اس کی روایت ابن ماجہ، امام احمد نے کی ہے اور بہیقی نے کچھ اس کی روایت شعب الایمان میں لی ہے۔

سودخوار اپنے پیٹول میں سانپ پالتے ہیں

It is narrated from Ibn Mas'ud (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'A trader's wealth increases but his reward is lost, and there is no blessing in it. A usurer nurtures a snake in his belly.' This is reported by Ibn Majah, Imam Ahmad, and Baihaqi in Shu'ab al-Iman.

3871

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما کہ جس رات میں معرانج ہوتی میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھرول کے مانند (بہت بڑے) تھے جس کے پیٹول میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ان کے پیٹول کے باہر تے نظر آ رہے تھے۔ میں نے جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا ایکون لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سودخوار ہیں۔ اس کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے لی ہے۔

جن پیٹول میں سود کا شربہ ہو ان کو کچھ چحوڑ و پیاچا پی ہے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "On the Night Journey, I saw people with bellies like houses, filled with visible snakes. I asked, ‘Who are these, O Jibril?’ He replied, ‘They are the consumers of riba.’" [Ahmad, Ibn Majah]

3872

امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ آخری آیت (جو معاملات کے بارے میں) نازل ہوئی وہ سود (کی حرمت) کی آیت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (و نیاہے) پر دہ فرماتے اور (آیت نازول کے محکم اور واضح ہوئے سے مریز) تفصیل نہیں فرماتے، تو تم سود کے ساتھ ساتھ ان پیٹول کو کچھ چحوڑ دوجن میں سود کا شربہ۔ اس کی روایت ابن ماجرا ورداری نے لی ہے۔

ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹ پیٹول میں سودا، چاندی، گیہوں، نمک، کچورا ورچو میں سود کی واضاحت فرمادی اور فقہاے امت نے قیاس سے ان پیٹ پیٹول کے علاوہ اور پیٹول میں کچھ سود کو ثابت کیا ہے اس لے

مسلمانول کو چاہے کر احتیاط کو ظر کیے ہوئے فقہا نے جن چیز ول میں سود کو ثابت کیا ہے ان سے محی پچاپ چے - تو ضح: ذیل میں سودی معاملات کے بارے میں چند احادیث آ رہی ہیں ان کو محض کے لے اس تو ضح کو پیش نظر رکھا جائے، ورنہ راسی ب احتیاطی سے محی معاملہ سودی ہو جائے گا۔ ان حدیثوں میں جہاں کہیں ایک جنس کو ای جنس سے بدّل کا ذکر آ رہا ہے وہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ تم جنس اشیاء کی تبدیلی میں 1 کی بیشی نہ کی جائے۔ 2 معاملہ نقد ہو 3 چیزوں کا درست بدرست تبادلہ ہو۔ اور اگر ان تین صورتوں میں سے ایک صورت محی نہ پانی جائے تو معاملہ سودی ہو جائے گا جیسے سونے کو سونے سے یا چاندی کو چاندی سے بدّل کا جہاں ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ سونے کو اثری فی سے اور چاندی کو چاندی کے سکے سے یا سونے کے زیور کو سونے سے یا چاندی کے زیور کو چاندی سے خریدا یا پیچا جاسکتا ہے بشرط کہ ذکورہ بالا تینوں صورتیں (تم وزن ہونا، وست بدرست ہونا اور معاملہ نقد ہونا) پائل جارہی ہو لورنہ معاملہ سودی ہو جائے گا۔ اس طرح اجناس کے تبادلے کا حال ہو گا۔ اس کی تفصیل ذیل کی احادیث میں آرہی ہے۔

It is narrated from Amir al-Mu'minin, Umar ibn al-Khattab (RA),

that the last verse revealed (concerning transactions) was the verse prohibiting usury, and the Messenger of Allah ﷺ would mention usury in his sermons but did not provide detailed explanations until the verse was firmly established and clear. He said, 'O people, usury is in gold, silver, barley, dates, salt, and wheat. If you lend these items, do not take more than what you have given.' This narration is reported by Ibn Majah. It is clear that the Messenger of Allah ﷺ explained usury in gold, silver, barley, dates, salt, and wheat, and the jurists of the community have deduced through analogy that usury also applies to other similar items. Therefore, Muslims should exercise caution in transactions involving these items. The following are some hadiths concerning usurious transactions, which should be kept in mind to avoid falling into usury. In any transaction where one kind of item is exchanged for another of the same kind, it should be ensured that: 1. There is no excess, 2. The transaction is immediate, and 3. The exchange is equal and fair. If any of these conditions are not met, the transaction becomes usurious. For example, when gold is exchanged for gold or silver for silver, it means that gold can be exchanged for gold coins, and silver for silver coins, or gold jewelry for gold, and silver jewelry for silver, provided that the three conditions mentioned above (equal weight, immediate transaction, and fair exchange) are met; otherwise, the transaction becomes usurious. The same applies to the exchange of different kinds of items, as detailed in the following hadiths.

معاملات میں سود سے نکلنے کی صورتوں اور ان کی تفصیل
3873

عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ( کہ کاروبار میں سود سے پچن کے لے تم کو چاپے کر ) سونے کو سونے کے بدّلے، چاندی کو چاندی کے بدّلے، گیہون کو گیہون کے بدّلے، جو کو جو کے بدّلے، کچور کو کچور کے بدّلے اور نمک کو نمک کے بدّلے ( اس طرح سے پیا کرو کہ پی ) ( جنس میں ) ایک ہول اور ( وزن میں ) برابر ہول اور ( معاملہ ) وست بدرست ہو ( ادھار نہ ہو ) البتہ اگر ان میں جنس بدّل جائے ( کیسی چاندی کے بدّلے سونا یا گیہون کے بدّلے جو ) تو تم کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہو خریدو فروخت کر و بشرط کہ ( معاملہ ) وست بدرست ہو ( اور ادھار نہ ہو اور ایسی صورت میں ان کا تم وزن ہونا یا برابر ہو نا ضروری نہیں )۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]

Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."

Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

Exact equivalence in weight/volume for the same genus.

Immediate exchange (no deferment).

3874

اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی

سے اس طرح مرودی بھی کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے چاندی

کو چاندی کے بدلے، گیہون کو گیہون کے بدلے، جوکو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو

نمک کے بدلے پیچانے جانے گمر پیکہ یہ چیزیں برابر برابر ہون، جس ایک ہواور (معاملہ) وست

بدرست ہواور لیکن سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے اور گیہون کو جو کے بدلے اور

جو کو گیہون کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے جسیا چاہوئے سکتا ہو جب کران

میں (معاملہ) وست بدرست ہو۔

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]

Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."

Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

Exact equivalence in weight/volume for the same genus.

Immediate exchange (no deferment).

3875

امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ابوالاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے

اس طرح مرودی بھی کروہ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ کے خطاب کے موقع پر حاضر تھے جس میں حضرت

عبادۃ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم اللہ ﷺ سے پر حدیث اس طرح سننے کے آپ نے ارشاد فرمایا کہ

سونے کو سونے کے بدلے میں پچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہول (اس

طرح) چاندی کو چاندی کے بدلے میں پچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہول

اور گیہون کو گیہون بدلے (اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ ناپ میں برابر ہول اور (اس طرح)

جو کو جو کے بدلے پچنا جانزہ جب کروہ ناپ میں برابر ہول) اس کے برخلاف (مثال) جو کو کھجور

ت پیچ میں کوئی حرج نہیں جب کہ کھجور (وزن میں) زیادہ ہول اور جبکہ یہ معاملہ وست برست

ہور پاہو، اور اگر (ایسا نہ ہو بلکہ) کسی نے (فروخت کے وقت مثالاً) کھجور کو کھجور کے بدلے نمک کو

نمک کے بدلے زیادہ دیا ازیادہ لیا تو اس نے سودی معاملہ کیا اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت

میں بھی اس طرح مرودی بھی۔

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]

Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."

Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

Exact equivalence in weight/volume for the same genus.

Immediate exchange (no deferment).

3876

اوردوار قطی اور بزار کی ایک روایت حضرت عبادہ اور حضرت انس رضی اللہ

عنہما سے اس طرح مرودی سے کرنا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ چیزیں جب ایک جنس ہوں اور

ان کو ایک دوم سے ستہ بدلا ہوتا وزن برابر برابر ہونا چاہئے اور ایسی طرح ناپ میں بھی برابر برابر

ہونا چاہئے (اگروہ چیزیں ناپ کرنے کی جائے ہون) البتہ اگر جنس بدلتا ہے تو (خریدان کا تم وزن

یانا پ میں برابر برابر ہونا ضروری نہیں اس لے ایسی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں -

حتی نہ ہے ب میں سودی حرمت کی علت

ف : واضح ہو کہ سودی حرمت کے بارے میں آئتم کرام رحمہ اللہ کے مختلف اقوال میں امام اعظم کے پاس سود

کی حرمت کی علت قدر یعنی وزن یا ناپ) اور جنس (یعنی سونے کے بدل سونا) ہے یعنی وہ دو چیزیں جن کو ایک دوسرے

ستہ بدلا جار باہووہ ناپ تول کی چیز ہوتی ہے ایسی صورت میں اچھی اور کم مقدار چیزوں کی جنس کی رذی اور زیادہ مقدار

میں بدل لینا سودہوگا اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ نہ ہے ب سودی حرمت کے بارے میں جو حدثیں وارد ہیں ان کے

مفہوم سے زیادہ مطالبہ ہے جسیا کے تنسیق النظام میں ذکور ہے -

سودی کا روبار میں لین والا اور دین والا گناہ میں برابر ہیں

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]

Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."

Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

Exact equivalence in weight/volume for the same genus.

Immediate exchange (no deferment).

3877

ابوعید خدری رضی اللہ عنہ روايت به وه فرما تہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

ارشاد فرماتے میں کہ سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہون کو گیہون کے بدلے،

جو کو جو کے بدلے، کچورو کو کچور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے پیچا جا سکتا ہے جب کہ پیساري چیزیں

(ناپ اور تول میں) برابر برابر ہول اور (معاملہ) دست بست ہو (اور ادا کار نہ ہو) تو جس کسی

نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا سود دیا اور لین والا اور دین والا (گناہ میں دونوں) برابر

میں اس کی روایت مسلم نے کی ہے -

سونے اور چاندی کے فروخت کی جاتے صورت میں

Abu Ayyub Al-Khazri (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said

Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, and salt for salt can be exchanged when they are equal in measure and weight and when the transaction is hand-to-hand without any delay. Whoever gives more or takes more has engaged in usury, and both the giver and the taker are equally guilty in this sin. This narration is reported by Muslim.

3878

ابوعید خدری رضی اللہ عنہ روايت به وه فرما تہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

زائد نہو (تو کوئی حرج نہیں اور اس طرح) چاندی کو چاندی کے بدلے چوپالا اگر بر ابر ہواور کسی ایک کا وزن بھی زائد نہ ہواور (تبادلہ میں) غائب کو حاضر کے بدلے چوپالا اگر بر ابر ہواور کسی چیزی موجود ہول اور معاملہ وست بست ہو)۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

Abu Ayyub Al-Khazri (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said:

There is no harm (and it is permissible) to exchange silver for silver with a delay if there is no excess in weight on either side, and (it is permissible) to exchange absent goods for present goods with a delay if there is no excess in the transaction and the matter is settled and clear.

3879

اور ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے چوگر پیکر وہ تمام وزن ہول۔

سونے چاندی اور اجناس کی خرید فروخت کی جاتے صورت میں

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]

Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."

Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

Exact equivalence in weight/volume for the same genus.

Immediate exchange (no deferment).

3880

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سونے کو سونے کے بدلے پیکا اگر دست بست نہ ہوتے سودہ وجاتے گا اور (اس طرح) چاندی کو چاندی کے بدلے پیکا اگر دست بست نہ ہوتے سودہ وجاتے گا اور (اس طرح) چیہول کو چیہول کے بدلے پیکا اگر دست بست نہ ہوتے سودہ وجاتے گا اور (اس طرح) چھور کو چھور کے بدلے پیکا اگر دست بست نہ ہوتے سودہ وجاتے گا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

ف : واضح ہو کر تول اور ناپ کی چیزوں کے بدلے اور پیکے میں دو صورت تیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک جنس کا بدلہ جسے چاندی کو چاندی سے یا چوکو چوکے تو اس میں شرط یہ ہے کہ معاملہ وست بست ہو اور ناپ یا تول میں کی نیشی نہ ہواور اگر ناپ یا تول میں کی نیشی ہوئی یا ایک چیز موجود ہوئی اور دوسرا غائب تو سودہ وجاتے گا، مثلًا سونے کو سونے سے ایک طرح بدلا جائے کہ ایک طرف سونا ہواور بدلے میں سونے کا زیور ہویکن ان کی مقدار برابر نہ ہو تو یہ معاملہ سودی ہوجاتے گا اور اس طرح اجناس میں اس قسم کا تبادلہ جائز نہ ہے۔

دوسری صورت پیہ کر دو مختلف جنس کا باہم تبادلہ جیسے چاندی کا تبادلہ سونے سے یا گھول کا تبادلہ جو سے تو

اس میں جواز کی صورت پیہ کر معاملہ وست برسٹ ہوتا وزن یا مقدار میں کی بیشی بچی ہوتا سود نہیں مثلًا ایک سیر

گھول کا دوسیر جو سے بدلنا ورسٹ ہے بشرطیہ دونوں اجناس موجود ہوں اور معاملہ وحار نہ ہواس کے برخلاف اگر

گھول کو آج دیاجا لے اور بدل میں جو کل لی جا لے تو پیسود ہو جا لے گا جو کسی طرح جائز نہیں۔

دو مختلف جنس کے تبادلہ میں اگر معاملہ وحار ہوتا سودی ہو جا لے گا

Umar (may Allah be pleased with him) reported: "The Prophet (ﷺ) said, ‘Gold for gold is riba unless hand to hand; wheat for wheat is riba unless hand to hand…’" [Agreed upon]

3881

حضرت ابوعید خدری رضي الله عنه ت دریافت کیا کرآ پ تو (دو مختلف جنس کی چیز ول کے ) تبادلم

کو منع فرماتے ہیں حالا کہ حضرت ابن عباس رضي الله عنهما تو اس کا حکم دیتا ہیں۔ یعنی کر حضرت

ابوعید رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس سے ملا اور دریافت کیا کرآ پ (دو مختلف جنس کی

چیز ول کے ) تبادلم (کے جائز ہو نے ) کافتوئی دیا کرتے ہیں کیا سکی صراحت آ پ نے کتاب

الله میں پانی ہے یا سبارے میں آ پ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نی حکم سناتے (پین کر ) حضرت

ابن عباس نے (ابوعید خدری ) کو جواب دیا آ پ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مجھے زیادہ قدیم صحابی

میں اور جس قرآن کو آ پ پڑھتے ہیں میں کہی اس کو پڑھتا ہو لیکن حضرت اسامہ بن زید رضي الله

عنہ نے مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پی حديث سناتی کہ (دو مختلف جنس کی چیز ول کے تبادلہ میں ) اس

وقت سودہوگا جب کر معاملہ وحار ہو اس کی روايت امام طحاوی نے کی ہے۔

حضرت ابوعید خدری رضی اللہ عنہ ت دریافت کیا کرآ پ تو (دو مختلف جنس کی چیز ول کے ) تبادلم

کو منع فرماتے ہیں حالا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کا حکم دیتا ہیں۔ یعنی کر حضرت

ابوعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس سے ملا اور دریافت کیا کرآ پ (دو مختلف جنس کی

چیز ول کے ) تبادلم (کے جائز ہو نے ) کافتوئی دیا کرتے ہیں کیا سکی صراحت آ پ نے کتاب

اللہ میں پانی ہے یا سبارے میں آ پ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نی حکم سناتے (پین کر ) حضرت

ابن عباس نے (ابوعید خدری ) کو جواب دیا آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھے زیادہ قدیم صحابی

میں اور جس قرآن کو آ پ پڑھتے ہیں میں کہی اس کو پڑھتا ہو لیکن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ

عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سناتی کہ (دو مختلف جنس کی چیز ول کے تبادلہ میں ) اس

وقت سودہوگا جب کر معاملہ وحار ہو اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) set out on a Thursday during the expedition of Tabuk, and he liked to set out on a Thursday. [Narrated by Bukhari]

3882

اور بخاری اور مسلم کی ایک روايت میں اسامہ بن زید رضي الله عنه اس

بارے میں ای طرح روايت ہے کہ (رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو مختلف جنس کی چیز ول کے

تبادلہ میں اس وقت ) سودہوگا جب کر معاملہ وحار ہو (نقد نہو )

اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اس

بارے میں ای طرح روایت ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو مختلف جنس کی چیز ول کے

تبادلہ میں اس وقت ) سودہوگا جب کر معاملہ وحار ہو (نقد نہو )

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘In my garden, there is a date-palm belonging to so-and-so, and its position bothers me.’ The Prophet (ﷺ) sent for the owner and said, ‘Sell me your date-palm.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then give it to me as a gift.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then sell it to me for a date-palm in Paradise.’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘I have not seen anyone more miserly than you except one who is miserly with the greeting of peace.’” [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

3883

اور امام طحاوی کی ایک روايت میں اس طرح مروی ہے کہ حضرت ابو

سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ( ایسی چیزول کے تبادلے کا جو فتوی دیا کرتے تھے ) اس سے رجوع فرمالیا ( کہ اگر معاملہ ادہار ہوتا جاتے تو وہاں جب کر تبادلے میں اجناس مختلف، یہ کیون نہ ہوں )۔

دو تہم جنس چیزوں کے تبادلے میں ناپ اور تول کا برابربرابر ہونا ضروری ہے

Said (RA) reported: Ibn 'Abbas (RA) gave fatwa regarding the exchange of such things, but he later retracted (saying):

If the transaction were to be deferred, then in the exchange, the species would have to be different, even if they were not. In the exchange of similar species, the measure and weight must be equal.

3884

اَلْوَسِعِيْدَاوْرَاْبُوْهِرِيْهِرَضِىْاللّٰهُعَنْهُمَاْتَرَوَائِتْسَهْكَرْرَسُوْلِاللّٰهِصَلَّىاللّٰهُعَلَيْهِوَاَلِيْمِحَاضِرْهُوْتَوْحَضْوْعَلَيْسَةْنَءَاْرْشَاْدْفَرْمَاْيَاْكَرْكِيَاْخِيْبِرْكِسَبْكَحْجُوْرِيْاْلِيْهُوْتِيْهِيْتَوْاْنْهُوْلْنَجَوَابْدِيَاْنْبِيْسْيَاْرْسُوْلِاللّٰهِصَلَّىاللّٰهُعَلَيْهِوَاَلِيْمِخِيْبِرْكِبَرْكَحْجُوْرَاْلِيْنْبِيْسْهُوْتِ)بَلْدْبَمْكِيْدُوْصَعْمَعْمُوْلِفَتْسَمْكِكَحْجُوْرْوْلْكَبَدْلَاْيْصَاعْاْچِيْفَتْسَمْكِكَحْجُوْرِيْاْوْرَبِحْمِتْيِنْصَاعْمَعْمُوْلِفَتْسَمْكِكَحْجُوْرْوْلْكَبَدْلْدُوْصَعْاْچِيْفَتْسَمْكِكَحْجُوْرِيْلَيْلَتْهِيْ(رِيْنْکَرْ)حَضْوْعَلَيْسَةْنَفَرْمَاْاَيْبَانَكِيَاْکَرْوْ(اْسَلَکَرْپِيْسُوْدْکِاْیْشُکْلْبَهْ)بَلْدْسَارِیْفَتْسَمْکِکَحْجُوْرْوْلْکَوْ(جَنْمِلْاْتَحْنَاْوْرَخْرَابْکَحْجُوْرْشَاْلْبَهْوْلْ)اْنْکَوْدْرْبَمْکَمَعاْوْدْمِلْنَؤَاْوْرَاْنْوْرْبَمُوْلْسَتْاْچِيْفَتْسَمْکِکَحْجُوْرِیْخَرْیِدْلَوْ(تَاْکَسُوْدْسَتْنَاْسَکَوْ)اْوْرَحَضْوْعَلَيْسَةْنَرِيْحِيْاْرْشَاْدْفَرْمَاْیَاْکَرْ(جَسْطَرْحْدْوْبَمْجَنْسْچِیْزْوْلْکَاْ)تَوْلْمِلْبِحْمِیْبَرَاْبْرَبْرَاْبْرَہُوْنَاْضْرُوْرِیْبَهْاْسَطَرْحْدْوْبَمْجَنْسْچِیْزْوْلْکَاْ)تَوْلْمِلْبِحْمِیْبَرَاْبْرَبْرَاْبْرَہُوْنَاْضْرُوْرِیْبَهْ)۔

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

دو تہم جنس چیزوں کے تبادلے کی جائز صورت

This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim on mutual agreement. The permissible form of exchange of two similar items.

3885

اَلْوَسِعِيْدْخَدْرِيْرَضِىْاللّٰهُعَنْهُمَاْتَرَوَائِتْسَهْوَهْفَرْمَاْتَہِيْنَکَرْحَضْرْتْبَلَلْرَضِىْاللّٰهُعَنْحَضْوْعَلَيْسَةْکَیْخَدْمَتْمِلْبَرْنِکَحْجُوْرْ(جَوْکَحْجُوْرْکِاْیْعَمْدْہَتْسَمْبَهْ)لَکَرْحَاضْرْہُوْتْ

حضرت علیؓ نے آپؓ سے دریافت کیا تم یہ گھوڑ کہاں سے لائے؟ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس معمولی قسم کی گھوڑی تھی جس ان میں سے میں نے دوسائے کے بدلے ایک صاع یر (برنی) گھوڑی خرید لیا۔ پیس کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آہ! ایتو قطعی سودہ ہے قطعی سودہ۔ ایسے کرو بلکہ تم جب کچھ اچھی چیز کے بدلے اس جنس کی چیز خریدنا چاہو تو (پہلے اپنے پاس کی) معمولی گھوڑوں کو دو اور چھراس کی قیمت سے (اچھی گھوڑی) خرید لو۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔

جانورول کے تبادلے میں جائز اور ناجائزصورتین

It is narrated from Ali (RA) that he asked him (the Prophet ﷺ),

Where did you get this horse? He replied, 'We had a regular horse, and I traded it for a fine horse for a sa' (measure) of barley. Upon hearing this, the Messenger of Allah ﷺ said, 'Ah! This is a definite profit, a definite profit. Do this, for when you want to buy something good of the same kind, give your regular horses and buy the good one at the price of a foal.'

3886

جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہوا اور تجرت کی بیعت کر لیا اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ غلام ہے۔ پھر (پھر عرصہ کے بعد) اس کا ماکس کی ملاش کرتا ہوا آیا (اور اس کی واپسی کا مطالعہ کیا)۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مناسب نہ بجا کر اس کی تجرت باطل ہوجائے اس کے) آپ نے اس کے ماکے سے فرمايتم اس کو مجھے نہ دو (چنانچہ وہ صاحب اس پر راضی ہو گیا) تو آپ نے دوسیاه رگ کے غلام کے بدلے ان کو خرید لیا اور اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک آپ اس سے دریافت نہ فرما لیس کہ وہ غلام میں آزاد اس کی روایت مسلم میں ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) bought a slave for two black slaves after discovering the seller was enslaved. He then ensured future transactions verified freedom status. [Muslim]

3887

اورترزندی، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور کو ادھار پیچے منع فرمايے۔ اورترزندی نے کہاہے کہ یہ دیث حسن ہے۔

It is narrated on the authority of Samurah bin Jundub (RA) that the Noble Prophet ﷺ prohibited giving an animal as a loan in exchange for another animal.

And At-Tirrazandi said: This hadith is hasan.

3888

اور برز ار نے اس کی روایت اپنی سنن میں کی ہے۔ اور یہی کہاہے کہ اس بار میں جتنی حدیثیں مروری ہیں ان میں اس سے مہتر سنن والی حدیث کو نہیں۔

And Burz al-Na has narrated it in his Sunan. And this is what is said: in this instance, among the traditions that are transmitted, there is none more exalted in Sunan than this one.

3889

اور ابن ماجہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کر سول اللہ علیہ صلی اللہ فرمایا ہے کر ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کو خریدنے یا پچھی میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ ہم جنس ہوں یا نہ ہوں۔ جب کر معاملہ دست بہ دست ہو (جسیا کر اشعۃ المعاملہ میں نہ ہو تو) البتہ حضرت علی علیہ صلی اللہ نے (جانور کے بدلے جانور کی خرید و فروخت میں) ادہار معاملہ میں فرمایا ہے۔ اس حدیث کی سنہ میں ایک راوی تجاح بن ارتاہ میں ان کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ صدوق ہیں ان کی حدیثوں کی روایت درست ہے۔

It is narrated by Ibn Majah from Jaber (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

There is no harm in exchanging one animal for two animals, whether they are of the same species or different, as long as the transaction is immediate (and not deferred, such as in a loan transaction). However, Ali (RA) stated that there is no harm in a deferred transaction in the exchange of animals for animals.

3890

اورترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کر سول اللہ علیہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کر ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کی خرید و فروخت ادہار درست نہیں۔ بالوستہ بدستہ ہوتا کوئی حرج نہیں۔ اورترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

The exchange of one animal for two animals is not permissible. There is no harm if the animal is weighed down.

3891

اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسنہ میں مرسلاً عبد الکریم جزری سے روایت کی ہے کر زیادہ بن الی مریم جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں انہوں نے عبد الکریم کو پیر وا قمر سنا یا کہ بی کریم اللہ علیہ صلی اللہ نے اپنے عالم کو (زکوۃ کی وصولی کیلئے) بھیجا تو وہ بڑی عمر کے اونٹ لے آئے۔ رسول اللہ علیہ صلی اللہ نے جب ان کو دیکھا تو (عالم زکوۃ سے) ارشاد فرمایا تم خود جسی بلاک ہوئے اور بلاک جسی کیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں نے دویا تین کم عمر اونٹوں کے بدلہ بڑا اونٹ دست بدست لیا ہے! اس لیے کہ مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ آپ کو بڑے برے اونٹوں کی ضرورت ہے۔ پس کر رسول اللہ علیہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا اگر پیصورت ہے تو پھر طیب ہے۔

Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) narrated in his Musannaf from Abd al-Karim al-Jazri, who heard it from Zayd ibn al-Yam, who was a freed slave of Uthman (RA), who said: 'Abd al-Karim heard from Bishr ibn Karim (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah ﷺ sent his treasurer to collect zakah, and he brought back an old camel. When the Messenger of Allah ﷺ saw it, he instructed the treasurer, 'You have taken what you dislike and disliked what you took.' The treasurer replied, 'O Messenger of Allah! I have exchanged young camels for an old one, because I did not know that you needed good camels.' The Messenger of Allah ﷺ then said, 'If it is so, then it is good.'
3892

اور عبد الرزاق نے سعید بن مسیب کے واسطے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کیا اونٹ کے بدلہ دو اونٹ ادہار لینے کو کہروہ بھیجا تھا۔ اور ابن الی شہری نے جسی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث کی تخریج کی ہے۔

Abd al-Razzaq narrated on the authority of Sa'id ibn Musayyib from Ali (RA) that

Ali (RA) sent a camel as a pledge for two camels on loan.

3893

اور عبد الرزاق نے معمر سے اور معمر نے ابن طاوس سے اور انہوں نے اپنے والد طاوس سے روایت کی ہے کہ طاوس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا اونٹ کو دواونٹ کے بدلے ایک معین مدت کیلئے لیا جاسکتا ہے؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا (نہیں) یتو کروہے۔

It is narrated from 'Abd al-Razzaq from Ma'mar, and Ma'mar from Ibn Tawus, and he from his father Tawus, that Tawus asked Ibn 'Umar (RA)

Can a camel be taken in exchange for a fixed period? Ibn 'Umar replied: (No,) but it can be leased.

3894

اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک اونٹ کو دواونٹ کے بدلے ایک معین مدت کیلئے لینے سے منع فرماياہے۔

It is narrated from Imam Muhammad, may Allah have mercy on him, that he reported from Ali, may Allah be pleased with him, that

he prohibited taking a camel in exchange for a fixed period of service.

3895

اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم دیا کہ شکر تیار کریں (اس تیاری میں) اونٹ ختم ہوگے تو پھرآپ نے نہیں حکم دیا کہ وہ اس کام کے لیے زکوۃ کی جوان او نیال استعمال کریں تو حضرت عبد اللہ بن عمر و نے ایک اونٹ کے بدلے دواونیال لینا شروع کیا یہاں تک کہ زکوۃ کی اونیال آجا تمیں پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔

ہم حسن اشياء کوباہم پیچے کی ایک ناجائزصورت

Imam Tahawi (may Allah have mercy on him) narrated from Abdullah ibn Umar (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ commanded that camels be prepared, and when the camels were exhausted, he did not command that young or weak camels be used for this purpose. Then, Abdullah ibn Umar (RA) began to take two young camels in place of one camel until the young camels became available, at which point this command was abrogated.

3896

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوروں کے ایک ایسے ذہیر کوجن کا وزن یا مقدار معلوم نہ ہوائے کہ جورول کے بدلے پیچے کوجن کا وزن یا پیاز معلوم ہومنع فرماياہے۔ اس کی روایت مسلما نے کی ہے۔

تجارت میں حسن غالبا کالحافظ ہوگا

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ prohibited giving a measure or weight in exchange for something whose measure or weight is unknown. This narration is reported by Muslim. In trade, goodness is often found with the one who is patient.

3897

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ اسے تلوار کو جس پر چاندی کا کام ہوورہے (یعنی چاندی کے سے) کے بدلے پیچے میں کوئی حرن نہیں تحقیق چجب کرتلوار کی

چاندی کی قیمت اس چاندی کی قیمت سے زیادہ ہو (جس کے بدل میں خریدی جارہی ہو چونکہ

لوار میں لوپاگلب حاس لے اس تج میں و مختلف جنس کی تجارت ہورہی ہے جس میں قیمت کی

کی اورزیادتی سود کا شاہبنیس ہےاورا کی تجارت جائزہ )-

اس حدیث کی روایت طحاوی نے کی ہے -

دوسری حدیث

Al-Hasan (may Allah have mercy on him) saw no issue in selling a silver-plated sword for dirhams exceeding the value of its silver content, considering the silver as silver and the sword as the excess. [Narrated by At-Tahawi]

(1) The statement "He saw no issue in selling a silver-plated sword...": Muslim narrated in his Sahih from Fadalah who said: "I bought a necklace containing gold and beads for twelve dinars at Khaybar. When I separated them, I found they contained more than twelve dinars. I mentioned this to the Prophet (ﷺ), who said: 'Do not sell it until it is separated.'" Abu Dawud also narrated it, and At-Tabarani recorded it in his Mu'jam Al-Kabir through multiple chains.

Ash-Shafi'i, Ahmad, Ishaq and others acted upon the apparent meaning that the sale is not valid until separation. Abu Hanifah, Ath-Thawri and Al-Hasan permitted selling it for more than its gold content but not for equal or less. The Hanafis carefully analyzed the hadith, understanding that the prohibition was due to the potential for riba and uncertainty, as estimating without proper knowledge is invalid, similar to the prohibition of riba due to ambiguity. This is the correct understanding, as indicated by the context of the hadith.

In Al-Kawkab Ad-Durri it is said: "Do not sell" refers to items with potential riba like this until they are properly distinguished, meaning complete differentiation to eliminate any possibility of riba. Those who permitted it were the Hanafis.

At-Tahawi said: "This hadith has been narrated with variations, so no one can argue based on one interpretation without others countering with alternative interpretations. We have previously explained in this chapter how to approach this issue according to the view that gold sold with other items is considered as gold sold for its weight in gold, with the remainder sold for the remaining price. This is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf and Muhammad."

3898

- ابراہیم نخعی سے روایت ہے کروہ چاندی کی مریہوئی تلوار کو (چاندی کے

سل کے بدل ) پچ میں کوئی حرج نہیں ہے تو جب کرتلوار میں جو چاندی ہے اس کی قیمت

چاندی کے سکے (جس کے بدل میں تلوار پچی جارہی ہو ) کم ہے اس کی روایت طحاوی نے کی

ہے -

f : صدر کی دونوں حد ثول میں جس تجارت کا ذکر ہے اس کے جواز کی وجہ یہ کہ لوہ کو جو غا لب عرض ہے

ورتمینی چاندی کے سکے کے بدل پچا جار باہ اگر چکھ چاندی ان دونوں صورتوں میں شاہل ہے لیکن چوکہ وہ جنس

غالبا نہیں ہے اس لے اس میں حکم لوہ اورچاندی کی تجارت کا ہوگا اورا کی صورت میں قیمت کی کی ازیادتی سے سود

نہیں ہوگا -

تا زہاورخشک کھجور کے تبادلمی جاتزاورناجا تزصو رت

Al-Hasan (may Allah have mercy on him) saw no issue in selling a silver-plated sword for dirhams exceeding the value of its silver content, considering the silver as silver and the sword as the excess. [Narrated by At-Tahawi]

(1) The statement "He saw no issue in selling a silver-plated sword...": Muslim narrated in his Sahih from Fadalah who said: "I bought a necklace containing gold and beads for twelve dinars at Khaybar. When I separated them, I found they contained more than twelve dinars. I mentioned this to the Prophet (ﷺ), who said: 'Do not sell it until it is separated.'" Abu Dawud also narrated it, and At-Tabarani recorded it in his Mu'jam Al-Kabir through multiple chains.

Ash-Shafi'i, Ahmad, Ishaq and others acted upon the apparent meaning that the sale is not valid until separation. Abu Hanifah, Ath-Thawri and Al-Hasan permitted selling it for more than its gold content but not for equal or less. The Hanafis carefully analyzed the hadith, understanding that the prohibition was due to the potential for riba and uncertainty, as estimating without proper knowledge is invalid, similar to the prohibition of riba due to ambiguity. This is the correct understanding, as indicated by the context of the hadith.

In Al-Kawkab Ad-Durri it is said: "Do not sell" refers to items with potential riba like this until they are properly distinguished, meaning complete differentiation to eliminate any possibility of riba. Those who permitted it were the Hanafis.

At-Tahawi said: "This hadith has been narrated with variations, so no one can argue based on one interpretation without others countering with alternative interpretations. We have previously explained in this chapter how to approach this issue according to the view that gold sold with other items is considered as gold sold for its weight in gold, with the remainder sold for the remaining price. This is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf and Muhammad."

3899

صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کرسول اللہ

علیہ وسلم نے تازہ کھجور کو (تعم وزن خشک ) کھجور کے معاوضہ میں ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (اس

لے کرادا کار معاملہ کی وجہ سے یسودہوجاتاہے، البترمعاملدست بدست ہوتاہے موزنتازہ کھور کی

فروخت خشک کھجور کے بدل درست ہےاورہی اماماعظم رحمۃ اللہعلیہ کا قول ہے)

Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited selling fresh dates for dried dates on credit. [Narrated by Abu Dawud, Ad-Daraqutni, Al-Hakim and As-Sahawi in Sharh Ma'ani Al-Athar]

(1) The statement "on credit": Ash-Shafi'i said: "It is not permissible to sell dried dates for fresh dates, whether with excess or equally, whether hand-to-hand or on credit. As for dried dates for dried dates or fresh dates for fresh dates, it is permissible if equal and hand-to-hand, not on credit." Abu Yusuf and Muhammad ibn Al-Hasan held this view. There is a difference with Abu Hanifah who permitted selling dried dates for fresh dates equally if hand-to-hand, interpreting the hadith in At-Tirmidhi and others as referring to credit sales only.

قرض لین والے کسی قسم کا نفع حاصل کرناورست نہیں
3900

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص کسی کو قرض دے اور (قرض لین والا) اس کے پاس کوئی ہدیہ بھیجے یا سواری کے لیے کوئی جانور دے تو وہ (یعنی قرض دینے والا) نتواس سواری پر بیٹھے اور نہ بدپیقبول کرے بالائی صورت میں جب کر قرض دینے والے اور لینے والے کے درمیان اس قسم کے تعلقات رہے ہیں (تو جائزہے )۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اورہیہی نے شعب الاپمان میں اس کی روایت کی ہے۔

دوسری حدیث

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you gives a loan and is offered a gift or is given a ride, he should not accept it unless such was customary between them before." [Narrated by Ibn Majah and Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

(1) The statement "is offered a gift...": Muhammad (may Allah have mercy on him) said: "There is no harm in accepting an invitation from someone who owes him debt." Shaykh Al-Islam said: "This is the legal ruling, but the preferable course is to abstain if he knows it is because of the debt or if he is uncertain about its permissibility."

Shams Al-A'imma Al-Hulwani said regarding doubtful situations: "One should abstain if the person used to invite him every twenty days before the loan, then after the loan starts inviting every ten days or increases the quality of food. But if he continues inviting every twenty days without increasing the quality, then he need not abstain unless it is explicitly stated that the invitation is due to the debt."

In Al-Mirqat it is mentioned: "Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) demonstrated extreme caution in this matter. Once he went to his debtor's house to collect his debt during intense heat. There was shade by the wall of the house, but he stood in the sun until the debtor came out after a long delay, enduring the heat and not availing of the shade so as not to receive any comfort from his debtor."

3901

نس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیہ نے ارشادفرمايا کرا ایک شخص جب دوسروں شخص کو قرض دے تو پھراس ست کوئی ہدیہ قبول نہ کرے۔ اس کی روایت بخاری نے اپنی تارتیب کی ہے۔ پیشہی میں نذکور ہے۔

تیسری حدیث

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said: "When a man gives another a loan, he should not accept his gift." [Narrated by Al-Bukhari in his Tarikh, as mentioned in Al-Muntaqa]

3902

ابوبرده ابن الیموسى رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو آپ نے فرمایا کہ تم ایسے سرز میں میں ہو جہاں سود کا روانج عام ہے (یاد رکھو) اگرتمہارا کسی پر قرض ہے اور وہ تمہارے پاس بلطور بدپیچجوس کا یا جو کا ایک تحفیلہ یا غناں س کا گڑھا بھیجے تو تم اس کو برگز نہ لو پیچی سود کا حکم رکتا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

ف : قرض دارت فانہ ناطانے کے بارے میں امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مثل واقعہ پر قات

میں امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ جواب پڑ زمانے میں ورع ( لعنہ پہیزگاری ) میں کچھ امام تھا پ کے بارے میں کہا ہے

کہ ایک مرتبہ امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ قرض کے تقاض کے لئے شخص کے گھر پہوچا اوراس وقت سخت گرمی تھی اس

کے باوجود مجھے اس شخص کے گھر کی دیوار کے سائے میں ظہر نماپندہ تھی فرما اوراس شخص کے گھر سے نکلنے تک دھوپ میں

میں ظہر رہے اس لئے کر اس شخص کے گھر کی دیوار کے سائے میں ظہر نماجھی ایک وقت کی منافعت حاصل کرنا تھا جس کو

آپ نے جان کر نہیں کہجا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرض دار کی طرح کی منافعت حاصل کرنا جائز نہیں ہے چرچا کے

کر سور لینا و غیرہ۔

Abu Burdah ibn Abi Musa said: "I came to Medina and met Abdullah ibn Salam who told me: 'You are in a land where riba is widespread. If someone owes you a debt and offers you a load of hay, barley or qat, do not accept it, for it is riba.'" [Narrated by Al-Bukhari]

ف : ان حدیثوں سے معلوم ہواہے کہ اگر قرض سے پہلے آپس میں میل جول اور تخفیفتاائف کی راه ورسمت تو اب پھی اس کا قبول کرنا درست ہے اگر قرض سے پہلے ایسی راہ ورسم نہ ہی تو یقیناً اس کا سبب قرض ہی ہے اورہماری شریعت غراء میں قرض دے کر نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔