Nūr al-Maṣābīḥ
بابُ الخِيارِ

Option (in Transactions)
Volume 6 · Transactions

( خرید و فروخت میں خریدار کو اختیار دینے کاپائے )

پنج میں خیار کی صورتیں

ف: واضح ہو کہ خرید و فروخت میں خیار کی کئی قسمیں ہیں، ان میں مشہور چار صورتیں ہیں: (1) خیار

شرط (2) خیار عیب (3) خیار رؤیت (4) خیاریین -

(1) خیار شرط: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے پاس کی معاملہ میں ایجاب و قبول کے بعد تیں قطعی ہوجاتی ہے سوا کے

اس کے کر فریقین کسی مدت کی شرط لگا کیں جس کی زیادہ سے زیادہ مدت تین دن ہے۔ اس عدت میں فریقین کو تج کے

فوخ کرنے یا ثابت رکن کا اختیار ہے۔ اس کو فقہی اصطلاح میں خیار شرط کہتے ہیں۔

(2) خیار عیب: کسی چیز کے خریدنے کے بعد اس میں کوئی عیب نکل آے تو اب خریدار کو اختیار ہے کہ اس چیز کو چھاپہ رکھ

لے یا چاہے واپس کر دے۔ اس اختیار کو خیار عیب کہتے ہیں۔ اور کسی عیب دار چیز کا عیب پچھا کر دھوکہ سے پناہ رام ہے۔

(3) خیار رؤیت: اگر کسی نے کوئی چیز بغیر دیکھے خرید لی تو تین درست ہے۔ مگر اس کو دیکھنے کے بعد وہ چیز پسند نہ

آئے تو اگر چیز کاس میں کوئی عیب نہ ہوتا سکو اختیار ہے کہ اس چیز کو واپس کر دے۔ اس اختیار کو خیار رؤیت کہتے ہیں۔

(4) خیاریین: خریدار دویا میں چیز ون میں سے کسی ایک چیز کو اس شرط پرخریدے کہ ان میں سے کسی ایک چیز

کو تعین کرنے کا اس اختیار کو خیاریین کہتے ہیں۔

خیار کی اور کچھ کئی صورتیں ہیں جو فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں:

وقول اللہ تعالیٰ: " یاَیُّہَا الَّذِینَ اَمَنُوا لا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بَالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن

تَکُونَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ " اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ نساء، پ:5، ع:5، آیت

نمبر:29، میں) " اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناچن (جس کی اجازت نہ ہو) مت کھاؤ (اور نہ

استعمال کرو) البتہ (وہ مال جو جائزہے جیہے) کوئی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے۔ (تو ایہ مال کے

استعمال کرنے میں کوئی مذاقت نہیں)۔

بغیر شرط کے خیار کا اعتبار نہیں

ف: صاحب مرکز فرامایہ کہ اس آیت شریفہ میں خیار کی نہیں ہے اس لے کہ خرید و فروخت کے

ہو جانے کے بعد مال کے استعمال کی اجازت بغیر کسی قید کے دی جارہی ہے۔ واضح ہو کہ خیار کی ایک صورت بعض امتہ کے پاس پیہ کر خرید و فروخت پوری ہو جانے کے بعد جب تک مجلس نہ بدل جائے بغیر کسی شرط کے اس معاملے کو فن کیا جاسکتا ہے برخلاف اس کے احتاف کے پاس خیار مجلس کی تعریف پیہ کر کسی مجلس میں خرید و فروخت بغیر کسی شرط کے کمل ہو جائے تو فریقین کو معاملہ کر نہ کا حق نہیں رہتا جس کی ویل صدر کی آئت سے کہ اس میں بغیر کسی قید کے خرید و فروخت کمل ہو جانے کے بعد مال کے استعمال کی اجازت دی جارہی ہے۔ بالاگر فریقین کو نہیں شرط لگادی تو ایسی صورت میں شرط کے مطا بق نچ فن کے سبق سے بخیر کسی شرط کے نچ کو فن کرنا ضرور آئی پرزیادہ ہے۔ جس کی کونی ویل نہیں جسیا کہ تفسیرات احمدیہ میں ذکور ہے۔

The Right to Choose in Buying and Selling

Five Forms of Choice

F: It is clear that there are several types of choice in buying and selling, four of which are well-known: (1) Choice by Condition (2) Choice due to Defect (3) Choice by Inspection (4) Dual Choice -

(1) Choice by Condition: According to Imam Abu Hanifah (RA), once the offer and acceptance are made, the transaction becomes binding unless both parties agree to a condition allowing a certain period, which can be up to three days at most. During this period, either party has the option to finalize the transaction or to cancel it. This is known in legal terminology as 'Choice by Condition.'

(2) Choice due to Defect: After purchasing an item, if a defect is discovered, the buyer has the option to keep the item or return it. This option is called 'Choice due to Defect.' Seeking refuge from deceit when dealing with a defective item is commendable.

(3) Choice by Inspection: If someone buys an item without inspecting it, the transaction is valid. However, after inspecting the item, if they do not like it, even if there is no defect, they have the option to return it. This option is known as 'Choice by Inspection.'

(4) Dual Choice: The buyer may purchase one of two items on the condition that they have the right to choose which one to specify. This option is called 'Dual Choice.'

There are other forms of choice that can be found in legal texts:

And Allah, the Exalted, says: "O you who believe! Do not devour each other's wealth unjustly except through trade by mutual consent." And the guidance of Allah, the Exalted, is: (in Surah An-Nisa, Chapter 4, Verse 29) "O believers! Do not consume each other's wealth unjustly, except through trade by mutual consent. (Then there is no harm in using such wealth.)"

The Validity of Choice Without a Condition

F: The central authority stated that there is no validity in choice without a condition, because the choice mentioned in this noble verse pertains to conditions in buying and selling.

After the transaction is completed, the use of the property is permitted without any restriction. It is clear that one form of option (khayar) is available to some members of the community, whereby the purchase and sale are considered complete until the assembly changes, without any condition. This can be classified as a valid transaction. In contrast, if there is a condition (ihitaf), then once the purchase and sale are completed in a particular assembly without any condition, the parties do not have the right to annul the transaction, as indicated by the verse of Surah Al-Baqarah, which states that after the purchase and sale are completed without any restriction, the use of the property is permitted. If the parties do not impose any condition, then in such a case, it is necessary to annul the transaction based on the principles of the condition, as mentioned in the Ahmadiyya commentaries.

وقوله تعالي يا ايها الذين امنوا اوفوا بالعقود اور الل تعالي كا رشاد سور ما ن ع ايت نمبر مي ا ايمان والو تم ار ايمان كا تقاضا ي ا ن عهد كو ورا كرو

ف : عمدہ القاری میں کہا ہے کہ اس آیت شریف میں عہد کو پورا کرنے کی تاکید ہے اور واضح ہو کہ نچ بھی ایک عہد ہے جس کے پورا کرنے کی تاکید ظاہرآئت سے واضح ہے اور اگر دوسرا آتمہ کے مسلک کے لحاظ سے نچ کے عہد کو نچ کرنے کی اجازت دی جائے تو عہد پورا نہیں ہوسکتا جو آئت صدر کے مناسبت ہے۔ بازہ اور مشتری جب معاہدہ پورا کر لیس تو کسی کو بھی نچ کا اختیار نہیں رہتا

In Al-Qari, it is stated that this noble verse emphasizes fulfilling a covenant, and it is clear that a pledge is also a covenant, the fulfillment of which is evident from its explicit nature. If, according to another interpretation, permission is given to revoke a pledge, it cannot be considered fully fulfilled, which is the context of this verse. Once the seller and buyer have completed their agreement, neither has the right to revoke the pledge.

3852

امین عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مال کے پیچ وا لے اوخریدیں وا لے دونوں میں سے ہر ایک کو نچ کے نچ کرنے کا) اختیار ہے جب تک کروہ (اپجاب وقبول کے اعتبار تے) جدا نہ ہو جائیں (یعنی پیچ وا لے نے) کہ دیا کہ میں نے پیچ دیا اوخریدیں وا لے نے کہ دیا کہ میں نے خریدیا تو اب نچ کمل ہو چکی، اس لے کہ اب نچ کو نچ کرنے کا کسی کو اختیار نہیں اگر چہ کروہ مجلس سے جدا نہ ہو گے ہول) البتہ ایسی نچ جس میں (پیچ وا لے اوخریدیں وا لے نے) اختیار (کی شرط) قبول کی ہو (کہ تم اس معاملے کو مجلس سے جدا ہو نے کے بعد بھی نچ کر سکتے ہیں تو اس اختیار کے باقی رہ سکتا ہے) اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر ہے۔

اوراس کی روایت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موٹا میں کی ہے اور بھی کہا ہے کہ ان ای کو

اختیار کرے ہیں اوراس کی تفسیر ہمارے لیے احناف کے پاس

Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “The two parties to a transaction have the option [to cancel] as long as they have not separated, except in a sale involving an explicit option.” [Agreed upon]

Muhammad (may Allah have mercy on him) narrated it in Al-Muwatta’ and said, “We hold this view.” Its interpretation according to us, as reported from Ibrahim An-Nakha‘i, is: “The two parties to a transaction have the option as long as they have not separated.” He said, “As long as they have not verbally concluded the sale, if the seller says, ‘I have sold to you,’ he may retract until the other says, ‘I have bought.’ If the buyer says, ‘I have bought such-and-such,’ he may retract until the seller says, ‘I have sold.’ This is the opinion of Abu Hanifah and the majority of our jurists.” This is supported by the subsequent narrations.

Al-Hidayah mentions that Ash-Shafi‘i (may Allah have mercy on him) affirmed the option of session for both parties. However, our position is that rescission nullifies the other’s right, so it is impermissible. The hadith is interpreted as referring to the option of acceptance, indicated by the wording, as they are considered transacting parties during negotiation, not after.

First view: Separation refers to verbal conclusion (Ibrahim An-Nakha‘i, Sufyan Ath-Thawri, Malik, Abu Hanifah, and Muhammad (may Allah have mercy on them)). Once the seller says, “I have sold,” and the buyer says, “I have bought,” the transaction is binding, and neither retains an option except in cases of inspection, defect, or stipulated option.

Second view: Separation refers to physical departure (Ash-Shafi‘i, Ahmad, and Zahiris). The sale is not binding without it.

Third view: Separation means physical departure but not as understood by the second group. ‘Isa ibn Aban said it means the buyer may accept until they part.

3853

حضرت ابراہیم نخی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق یہ کہ بالع اورمشتری

جب تک جدانہ ہوجائیں ان کو (نچ کے فنخ کرنے کا) اختیار ہے۔ اس کی وضاحت میں حضرت

ابراہیم نخی نے فرمایا ہے کہ جب تک فریقین خریدو فروخت میں اپنے قول لیجن ایجاب وقبول ہے

جدانہ ہوجائیں۔ (اس وقت تک ان کو فنخ کرنے کا اختیار ہے لیجن) پیچ والاجب (خریدارت)

کہہ دے کر میں نے نچ دیا تو خریدار کے میں نے نچ دیلیا، کہہ تک اس کو اپنے قول کے واپس

لینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس طرح جب خریدار نے کہہ دیا کر میں نے اس چیز کو اتنی رقم کے بدلے

خرید لیا تو بالع کے میں نے نچ دیا، کہہ تک خریدار کو اپنے قول کے واپس لینے کا اختیار ہے

( لیجن بالع نے جب کہہ دیا کر میں نے نچ دیا اور خریدار نے کہہ دیا کہ میں نے نچ دیلیا، تو اس

طرح ایجاب وقبول کے کامل ہونے کے بعد دونوں میں سے کسی کو نچ کے فنخ کرنے کا اختیار

نہیں ) چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور عامہ فقہا حنفیہ رحمۃ اللہ علیہم کا اس بارے میں یہ قول

ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت یہاں ختم ہوتی۔ حضرت ابراہیم نخی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی

تأویل میں جواحادیث آرائی ہیں ان سے نہوی ہوتی ہے۔

خیار قبول اور خیار مجلس کا فرق

ف : اس حدیث شریف میں ارشاد کے المتبائعان کل واحد منہما بالخیار علی صاحبہ، ویعنی بالع

اور مشتری دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے قول کے (قبول کرنے یا نکرنے کا) اختیار ہے۔ اس کی توضیح یہ

ہے کہ فریقین میں سے ایک نے اپنی چیز کو پیچ کے لے کہہ دیا کر میں نے نچ دیا تو خریدار کو اس بات کا اختیار حاصل

ہے کہ اس معاملے قبول کرنے یا نہ کرنے اور اس طرح بالع کو بھی خریدار کے قبول کرنے سے پہلے اس بات کا حق حاصل

ہے کہ اپنے قول کو واپس لے لے۔ توحیث شریف میں جس خیار کی اجازت دی جارہی ہے وہ خیار قبول ہے۔

وضاحت مرقات میں ذکور ہے اور بدایی میں کہا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث سے خیار کو ثابت کرتے ہیں اور اپنی تفسیر حدیث کے ان الفاظ سے کرتے ہیں الْمُتَبَائِعَانِ بَالْخِيارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقاً (فریقین کو جدا ہونے سے پہلے نج کے فتح کرنے یا باقی رکن کا اختیار ہے) ہماری ویل یہ کرتے میں ایجاب وقبول کے بعد فریقین میں کسی ایک کو نج کے فتح کرنے کی اجازت دینا دوسرے کے حق کو باطل کرنے کے جواز نہیں ہے اس لحاظ سے حدیث شریف سے خیار قبول ثابت ہوتا ہے نک خیار مجلس - بدایی عبارت ختم ہوتی - باع اور مشتری میں تفرق اور جداگی کے کیامراد ہے ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: "مَا لَمْ يَتَفَرَّقاً" لیکن باع اور مشتری کے جدا ہونے سے پہلے (نج کے فتح کرنے کا) اختیار ہے۔ "فقہاً" امت میں اس کی تفسیر میں اختلاف ہے ایک قول یہ کہ یہاں تفرق سے مراد تفرق بالقول ہے۔ قول حضرت ابراہیم نہی کاہے اور امام سفیان ثوری کے ایک روایت ہی ہے اور امام ما کے، امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ اس کی وضاحت اس طرح فرماتے ہے کہ جب باع کہا "میں نے پچھریا" اور خریدار نے کہہ دیا "میں نے خریدیا" تو دونوں قول کے اعتبار سے جدا ہوگے جس کے بعد دونوں میں کسی کو اب نج کے فتح کرنے کا اختیار باقی نہیں اس لے کر نج اب پوری ہوگی اور خریدار نج کو دو نہیں کرسکتا بلکہ اس صورت میں کر اس نے قبول سے پہلے خیار رويت یا خیار عیب یا خیار شرط کی قید لگائی ہو تو تفرق کے باع میں دوسرا قول یہ کہ تفرق بالا بدان سے کہ باع اور مشتری جب تک اس مجلس سے جدا نہ ہو جا تمیں ان کو نج کے فتح کرنے کا اختیار رہتا ہے اور ان کے جدا ہونے بغیر نج پوری نہیں ہوتی اور تمیل نج کے لے لا زم ہے کہ فریقین و بالے جدا ہو جا تمیں - بقول امام شافعی، امام احمد اور امام ظاہر کا ہے۔ اس قول کے جواب میں شرح معانی الاشاراور تحقیقدریسی کہا ہے کہ قرآن اور حدیث شریف میں تفرق سے بیشتر صورتوں میں تفرق قولي مراد ہے چنانچہ سورۃ البینہ (پ:30، ع:1، آیت نمبر:4، میں) ارشاد ہے: "وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتبَ اَلا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيْنَةُ " -(اور جولوگ ابلی کتاب تحقیق نہیں اس واضح ویل کے آنے کے بعد (یعنی سے) اختلاف کیا (اور کافر ہوگے) اور ای طرح سورۃ نساء (آیت نمبر:130، پ:5، ع:19) کی آیت میں ارشاد ہے: "وَإِنْ يَتَفَرَّقاً یُغْنِ اللہُ کُلًا مِنْ سَعَتِہِ"۔ اگر دونوں (میانہوی) جدا ہو جا تمیں خلع یا طلاق ہو جاے تو کوئی ان میں خواہ مردو یا عورت یول نہیں کے بغیر میرے دوسرے کا کام نہ چلے کا کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسعت اور قدرت سے ہر ایک کو بہ اختیار کردے ہے"

ان دونوں آیتوں میں تفرق سے مراد تفرق قول کے لیے فریقین قول کے اعتبار سے جدا ہوئے ہیں نہ کہ جسم

سے۔ اور ایک حدیث ثریف میں بھی یہ ل ارشاد ہے: افترقت بنو اسرائیل علی اثنین و سبعین فرقة، و

ستفترق امتی علی ثلاث و سبعین فرقة " لیعنی بنی اسرائیل مہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت

مہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔" اس حدیث ثریف میں بھی تفرق سے مراد تفرق قول کے۔ پی بھی تعلیق مہد

سے ماخوذ ہے اور جو تفصیل سے اس بارے میں مباحث سے واقف ہونا چاہے وہ "تعلیق مہد" کا مطالعہ کرے۔

چیج میں خیارِشرط کا جواز

Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “The two parties to a transaction have the option [to cancel] as long as they have not separated, except in a sale involving an explicit option.” [Agreed upon]

Muhammad (may Allah have mercy on him) narrated it in Al-Muwatta’ and said, “We hold this view.” Its interpretation according to us, as reported from Ibrahim An-Nakha‘i, is: “The two parties to a transaction have the option as long as they have not separated.” He said, “As long as they have not verbally concluded the sale, if the seller says, ‘I have sold to you,’ he may retract until the other says, ‘I have bought.’ If the buyer says, ‘I have bought such-and-such,’ he may retract until the seller says, ‘I have sold.’ This is the opinion of Abu Hanifah and the majority of our jurists.” This is supported by the subsequent narrations.

Al-Hidayah mentions that Ash-Shafi‘i (may Allah have mercy on him) affirmed the option of session for both parties. However, our position is that rescission nullifies the other’s right, so it is impermissible. The hadith is interpreted as referring to the option of acceptance, indicated by the wording, as they are considered transacting parties during negotiation, not after.

First view: Separation refers to verbal conclusion (Ibrahim An-Nakha‘i, Sufyan Ath-Thawri, Malik, Abu Hanifah, and Muhammad (may Allah have mercy on them)). Once the seller says, “I have sold,” and the buyer says, “I have bought,” the transaction is binding, and neither retains an option except in cases of inspection, defect, or stipulated option.

Second view: Separation refers to physical departure (Ash-Shafi‘i, Ahmad, and Zahiris). The sale is not binding without it.

Third view: Separation means physical departure but not as understood by the second group. ‘Isa ibn Aban said it means the buyer may accept until they part.

In this noble hadith, it is stated that both parties in a transaction have the option to accept or reject the terms, meaning that both the seller and the buyer have the choice to accept or reject the other's statement. The explanation of this is that if one party says, 'I have taken back my item,' then the buyer has the option to either accept or reject this statement. Similarly, before the buyer accepts, the seller also has the right to retract his statement. Thus, the noble hadith permits the option of acceptance. This is explained in Maraqi, and it is mentioned in Badai that Imam Shafi (RA) uses this hadith to establish the option of acceptance, interpreting the words 'al-mutaba'aini bial-khiyar ma lam yatafarraqa' (the two parties have the option until they separate) as follows: after the offer and acceptance, one party has the right to retract the sale without invalidating the rights of the other. Therefore, the noble hadith establishes the option of acceptance, not the option of retraction.

The term 'tafariq' (separation) in the noble hadith refers to the separation of the seller and the buyer. The hadith states: 'ma lam yatafarraqa' (until they separate), which means that before the seller and the buyer separate, they have the option to retract the sale. There is a difference of opinion among the scholars regarding the interpretation of this. One view is that 'tafariq' means verbal separation, as per the statement of Hazrat Ibrahim Nakh'i and a narration of Imam Sufyan Thawri. Imam Malik, Imam Abu Hanifa, and Imam Muhammad (RA) explain it as follows: when the seller says, 'I have sold it,' and the buyer says, 'I have bought it,' they are considered separated by their statements, after which neither party can retract the sale, making the sale final and the buyer cannot return the item. In another view, 'tafariq' means physical separation, such that the seller and the buyer have the option to retract the sale until they leave the gathering. Without their physical separation, the sale is not complete, and mutual consent is required for the sale to be valid, as per the view of Imam Shafi, Imam Ahmad, and Imam Zahir (RA).

In response to this view, Sharh Ma'ani al-Ashar and Tahqiq al-Daris state that in the Quran and the noble hadith, 'tafariq' often refers to verbal separation. For example, Surah Al-Bayyinah (verse 4) states: 'And those who were given the Book did not differ except after clear evidence had come to them.' And Surah An-Nisa (verse 130) states: 'And if they separate, Allah will provide for each of them from His abundance.' In both verses, 'tafariq' refers to verbal separation, where the parties are considered separated by their statements, not physically. Similarly, in a noble hadith, it is stated: 'The Children of Israel split into seventy-two sects, and my community will split into seventy-three sects.' Here, 'tafariq' also refers to verbal separation, derived from the context of the hadith. For further detailed discussions on this topic, one should refer to 'Taliq Mahd.'

This includes the permissibility of the option of condition.

3854

عمر و بن شعیب رحمۃ اللہ علیہماں والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت

کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا ہے کہ بچچے واں لے اور خریدنے والے میں سے ہر ایک

کو نچ کے قطعی ہوئے تو پہلے چیج کو نچ کرنے کا اختیار ہے مگر یہ (چیج میں) خیارِشرط کی قید گاہی

جا گے (تو ایسی صورت میں چیج قطعی نہ ہوگی اور نچ کرنے کا اختیار باقی رہ گا) اور فریقین میں

سے کسی ایک کو بیبات جائز نہیں کر چیج کی قطعیت کے بعد اس دورتے اپنے بحالی سے جدا ہو جائے

(کہ مال کا تقسیمعلوم ہوئے تو) چیج کا اندیشہ ہو

اس کی روایت ترجمہ یہ، ابوداوداورنسائی نے کہ لی ہے اور ترجمہ یہ کہہ ہے کہ ایک کوفی کے بعض

فقہا اور دیگر علماء نے اس حدیث میں تفرق سے تفرق بالکلام مراد لیا ہے (لیعنی ایجاب وقبول کے

بعد چیج قطعی ہو جائے تو اگر چھڑ کے مجلس نہ بدلے) اور امام ثوری کا بھی یہی قول ہے اور ما کہ بن اس

رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی روایت ہے۔

مال میں عیب رکھ کر چیج کرنے کی مما نعت

ف: اس حدیث ثریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مال میں کچھ عیب رکھ کر پیچنا اور عیب کے ظاہر ہو جانے کے دور

سے جلد اٹھ جانا جائز نہیں ہے۔ جسیا کہ اشعۃ اللمعات میں ذکور ہے۔

خرید و فروخت کا طریقہ

‘Amr ibn Shu‘ayb reported from his father from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “The two parties to a sale have the option as long as they have not separated, unless it is a sale with an explicit option. It is not permissible for one to separate fearing that the other may rescind.” [Narrated by At-Tirmidhi, Abu Dawud, and An-Nasa’i]

At-Tirmidhi said, “Some scholars, including those from Kufa, held that separation is verbal, as reported from Sufyan Ath-Thawri and Malik ibn Anas.”

3855

اَلْبَوْعِرِيْه رضي الله عنه حضور نبي كرم عليه صلاة الله سے روايت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دو شخص لیٹی خریداراور باع آ پس میں راضی ہو کر جدا ہوں (یعنی ایجاب و قبول کے بعد خریدار چیز لے لے اور باع قیمت وصول کر لے تا کہ معاملہ کیسے ہوجائے)۔ اس حدیث کی روايت ابوداود کی ہے۔

اَلْبَوْعِرِيْه رضی اللہ عنہ حضور نبی کرم علیہ صلاۃ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دو شخص لیٹی خریداراور باع آ پس میں راضی ہو کر جدا ہوں (یعنی ایجاب و قبول کے بعد خریدار چیز لے لے اور باع قیمت وصول کر لے تا کہ معاملہ کیسے ہوجائے)۔ اس حدیث کی روایت ابوداود کی ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘In my garden, there is a date-palm belonging to so-and-so, and its position bothers me.’ The Prophet (ﷺ) sent for the owner and said, ‘Sell me your date-palm.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then give it to me as a gift.’ He said, ‘No.’ The Prophet said, ‘Then sell it to me for a date-palm in Paradise.’ He said, ‘No.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘I have not seen anyone more miserly than you except one who is miserly with the greeting of peace.’” [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

خیار مجلس کی نفعی کا ثبوت
3856

جابر رضي الله عنه سے روايت سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک اعرابی کوئے ہو جاتے ہیں ایجاب و قبول کے بعد خیار (تج کے خ کرنے) اجازت دی تھی۔ اس کی روايت ترتیزی نے کی ہے اور ترتیزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثبت گریب ہے۔ ف : علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث سے واضح طور پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ذہب کی تائید ہوتی ہے کیونکہ ایجاب و قبول کے بعد خیار مجلس کا ثبوت ہوتا تو حدیث ثریف میں جس خیار کی اجازت دی گئی ہے اس کی ضرورت نہیں۔ پیرقات میں ذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تج میں ایجاب و قبول کے بعد تج پوری ہو جاتی ہے اور تمکیل تج کے لے مجلس کا بدلنا ضروری نہیں۔ راست گوئی سے معاملہ میں برکت اور جحوط سے ببرکت ہوتی ہے۔

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کوئے ہو جاتے ہیں ایجاب و قبول کے بعد خیار (تج کے خ کرنے) اجازت دی تھی۔ اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے اور ترتیزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثبت گریب ہے۔ ف : علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث سے واضح طور پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ذہب کی تائید ہوتی ہے کیونکہ ایجاب و قبول کے بعد خیار مجلس کا ثبوت ہوتا تو حدیث ثریف میں جس خیار کی اجازت دی گئی ہے اس کی ضرورت نہیں۔ پیرقات میں ذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تج میں ایجاب و قبول کے بعد تج پوری ہو جاتی ہے اور تمکیل تج کے لے مجلس کا بدلنا ضروری نہیں۔ راست گوئی سے معاملہ میں برکت اور جحوط سے ببرکت ہوتی ہے۔

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a Bedouin the option after a sale. [Narrated by At-Tirmidhi, who said it is hasan sahih gharib]

3857

حکیم بن حزام رضي الله عنه سے روايت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ باع اور مشتری کو ایجاب اور قبول سے پہلے تج کے خ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔ اگر وہ دونوں چہ کہیں اور چیز کی حقیقت بیان کر دینے والے کے معاملہ میں برکت دی جاتی ہے اور اگر وہ چھپا کہیں اور جحوط بولیں تو معاملہ کی برکت اٹھالی جاتی ہے۔ اس کی روايت بخاری اور مسلم متفقہ طور پر کی ہے۔

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ باع اور مشتری کو ایجاب اور قبول سے پہلے تج کے خ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔ اگر وہ دونوں چہ کہیں اور چیز کی حقیقت بیان کر دینے والے کے معاملہ میں برکت دی جاتی ہے اور اگر وہ چھپا کہیں اور جحوط بولیں تو معاملہ کی برکت اٹھالی جاتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم متفقہ طور پر کی ہے۔

خرید و فروخت میں ایک خصوصی اجازت

There is a special permission in buying and selling.

3858

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرما تے ہیں کہ ایک صحابی نے بیکرم

صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں دھوکا کھاجا تا ہون تو رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما یا کہ خرید

و فروخت کے وقت تم پیکہ دیا کرو: کیا س میں دھوکہ تو نہیں ہے ( کہ آگر دھوکا ہوگا تو میں معاملہ کو ختم

کر دو لگا ) تو وہ صحابی خرید و فروخت کے وقت اپنا یہ کیا کرتے تھے۔ اس کی روایت بخاری اور

مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔

اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا ان صحابی کو خرید و فروخت میں

نقصان کی صورت میں اختیار دینا ان کے لئے خصوصی حکم تھا اور شارع کواس با ت کا اختیار تھا کہ

جس کو چاہیں جس چیز سے خاص فرما دیں۔ اہ

Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that a man said to the Prophet (ﷺ), “I am deceived in sales.” He replied, “When you engage in a sale, say, ‘No deception,’” and the man did so. [Agreed upon]

Muhammad (may Allah have mercy on him) said, “We consider this specific to that man.”

At-Tirmidhi narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that a man with limited understanding engaged in trade. His family asked the Prophet (ﷺ) to restrain him, but he permitted him to trade while saying, “Take it, no deception.”

Ibn Majah narrated with a hasan chain from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) that a man complained of being deceived. The Prophet (ﷺ) said, “Say, ‘No deception,’ and you have the option for three nights.”

3859

اور ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اس طرح روایت کی

ہے کہ ایک صحابی کا روبار میں کمزور ٹھاس کے باو جودوہ برابر خرید و فروخت کیا کرتے توان کے گھر

و ا لے نی کریم صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدام میں حاضر ہو کر عرض کیا رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (علیہ) ان کو کاروبار

کرنے سے رک دتے حضرت صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ان کو بلا یا اور کاروبار سے منع فرما یا: تو انہوں نے عرض کیا

یارسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مجھے کاروبار کے بغیر چین نہیں پڑتا تو (یعنی کر) رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما یا:

( اپنے تو اپنی صورت میں ) تم خرید و فروخت کے موقع پر یہا کرو: کیا س میں دھوکہ تو نہیں اس کی

روایت چارو لصحاب سنن (یعنی ابوداود ترمذی ابن ماجرا و رنسا لی) نے لی ہے۔

It is narrated by At-Tirmidhi from Anas (RA) that

a Companion would engage in trade by exchanging weak animals for strong ones at the same price. When he came to serve the Prophet ﷺ, he presented this matter to him, and the Messenger of Allah ﷺ forbade him from engaging in such transactions. He said, 'O Messenger of Allah ﷺ, I cannot find peace without engaging in trade.' So, the Messenger of Allah ﷺ instructed him: 'Do your transactions in this way: do not deceive anyone.' This narration is reported by the four Sunan (i.e., Abu Dawud, At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i).

3860

اور ابن ماجہ نے جبیر اور حسن سند کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے

روایت کی ہے:

خیار کی مدت تین دن تک ہے

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہیں کر ایک انصاری کو بی کر دیا۔ وہ اسے لے پیش کیتے کرتے ہوئے سنا

کر ان کو خرید فروخت میں اکثر دھوکہ ہوجائے کرتا ہے تو (پیس کر) حضرت بی کر دیا۔ وہ ارشاد

فرمایا کہ جب تم خرید فروخت کیا کرو تو پول کہا کرو: کیا اس میں دھوکہ تو نہیں پڑے تم کو ہر خرید و

فروخت کے معاملہ میں اختیار تین راتوں تک ہے۔ (اس مدت کے اندر ون جا ہو تو معاملہ کور دکرو)

اس کی روایت تہقیق نے کی ہے اور بخاری نے اس کی روایت اپنی تارتیب میں تحقیق سند سے کی ہے اور

ابن ابی شیبہ، دار قطعی اور عبد الرزاق نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔

ف: واضح ہو کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام زفر رحمہ اللہ کے پاس خیار کی مدت تین دن ہے اور اگر اس

سے زیادہ ہو جائے تو تجارت فاسد ہو جائے گی۔ عمدۃ القاری۔

Ibn Majah narrated from Jabir and Hassan through Ibn Umar (RA) that

the period of option (khiyar) is three days. Ibn Umar (RA) narrated that he gave a dowry to an Ansari woman. When he brought her to him, he heard that she often suffered losses in trade, so he gave her the dowry. He instructed that when you make a transaction, ask: 'Is there any deceit in this? You have the option to annul the transaction for three nights. If you leave it during this period, the matter will be resolved.' This narration has been authenticated, and Bukhari has also narrated it in his Sahih with an authentic chain. Ibn Abi Shaybah, Dar Qutni, and Abd al-Razzaq have also narrated something similar. It is clear that according to Imam Abu Hanifah, Imam Shafi'i, and Imam Zufar (may Allah have mercy on them), the period of option is three days, and if it exceeds this, the transaction becomes invalid. 'Umdat al-Qari.

خیار رويت کا ثبوت
3861

ابو هریرہ رضی اللہ عنه سے روايت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشاد فرماتے ہیں کر کوئی شخص کسی چیزو بگیر دیکھے خریدے لے تو اس کواس چیز کے دیکھنے کے بعد (پیند

نہ ہو نے کی صورت میں تج کے تج کرنے کا) اختیار ہے۔ اس کی روايت دار قطعی اور امام ابوحنیفہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشاد فرماتے ہیں کر کوئی شخص کسی چیزو بگیر دیکھے خریدے لے تو اس کواس چیز کے دیکھنے کے بعد (پیند

نہ ہو نے کی صورت میں تج کے تج کرنے کا) اختیار ہے۔ اس کی روایت دار قطعی اور امام ابوحنیفہ

نے کی ہے۔

It is done.

3862

اور ابن ابی شیبہ اور تہقیق نے بھی اس کے قریب قریب مسلما روایت

کی ہے۔

خیار رويت کا حق خریدار کو ہے نہ کہ بالح کو

And Ibn Abi Shaybah and Tahqiq have also narrated this with a similar chain. The right to revoke the sale belongs to the buyer, not to the seller.

3863

علقہ بن ابی وقاص لیث رضی اللہ عنه سے روايت سے وہ کہتے ہیں حضرت طلحة

بن عبید اللہ رضی اللہ عنه نے امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنه سے پوچھا مال

خریدا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہا گیا کر آپ کواس میں نقصان ہوا ہے (اورآپ نے مال کوارزال نچ دیا ہے) اوروہ مال کوفر میں تھا لیکن (بیچ خرید وفر وخت کے کامل ہو نے کے )وہ اس وقت آل طلح کا مال تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھے خیار کا حق ملنے چاہئے اس لے کر میں نے مال کو (دیکھ بگیر) پچاہے اور حضرت طلح نے فرمایا خیار کا حق مجھے ملنے چاہئے اس لے کے مال میں نے خریدا ہے اور میں نے اس کو کیا نہیں ہے (اس لے مجھے خیار رؤیت کا حق ہے معاملہ کی کیسوتی کے لے )دونول نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو کہم بنا یا تو حضرت جبیر نے فیصل ویا کر خیار (رویت) کا حق حضرت طلح رضی اللہ عنہ کو ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خیار کا حق نہیں ہے _ اس کی روایت امام طحاوی اور تہقیق نے کی ہے _ مال کو دیکھ بگیر نہیں کا جواز ف :ہدا یہ میں کہ حات کا گر خریدار کی چیزو بگیر دیکھ خریدی لے تو ایسی نچ جانے ہے اور خریدار کواس با ت کا حق ہے کر دیکھنے کے بعد ط شدہ پوری قیمت دے کراس چیزو کے لے پانی کو فخ کر دے اور پیچ وا لے کو بگیر دیکھ پیچ کی صورت میں خیار کا حق نہیں ہے _ اہا اور فخ القدر میں یصراحت موجود ہے کر حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ حضرت عثمان اور حضرت طلح رضی اللہ عنہما کے درمیان خیار کا حق حضرت طلح کو دیا اورآپ کا پ فیصل حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے رو بر وہو اورآپ نے خیار رؤیت کا حق خریدار کو دیا نے کہ بالع کو اوراس پر کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا اس لے ثابت ہوتا ہے کہ خیار رؤیت کا حق خریدار کو ہے نکہ بالع کو اوراس پر اجماع صحابہ ہے _

‘Alqamah ibn Waqas al-Layni reported that Talhah ibn ‘Ubaydullah bought property from ‘Uthman ibn ‘Affan. ‘Uthman was told he was deceived. The property was in Kufa (now known as Talhah’s estate). ‘Uthman said, “I have the option, as I sold what I did not see.” Talhah said, “I have the option, as I bought what I did not see.” They appointed Jubayr ibn Mut‘im as arbitrator, who ruled that the option was Talhah’s, not ‘Uthman’s. [Narrated by At-Tahawi and Al-Bayhaqi]