(اس باب میں تجرات پر کگریال مارنے کاپیانے)
وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: " فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمِینِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا اِثْمَ
عَلَیْہِ، لِمَنِ اتَّقَی "، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:25، آیت نمبر:203،
میں) پھر جوشخص (تجرات پر کگریال مارکر دسوی تاریخ کے بعد) دودن میں (کہ معظّم کو واپس
ہونے میں) جلدی کرے۔ اس پر کوئی گناہ نہیں اور جوشخص تاخیر کرے (یعنی کہ معظّم تیرہویں کو
آئے) اس پر بھی (اس تاخیر کا) کوئی گناہ نہیں (یہ بات میں) اس شخص کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ
سے دارتا ہو۔
ف: واضح ہو کہ میں تاج کرام عرفات سے واپسی کے بعد وس، گیارہ اور بارہ ذو الحج کو
کگریال مارنے کے لئے قیام کرتے ہیں۔ آیت صدر میں پہلے دودنوں میں جلدی کرنے کا جو ذکر
ہے اس سے گیارہ اور بارہ ذو الحج کا قیام مراد ہے اور تاخیر کا جو ذکر ہے اس سے مراد تیرہویں ذو الحج کا
قیام ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے دسوی ذو الحج کو صرف پہلے جمرہ پر طوع آفتاب کے بعد سات
کگریال ماری جائی ہیں اور گیارہ اور بارہ ذو الحج کو ذو ال آفتاب کے بعد تینوں جمرول میں سے بر جمرہ
پرسات سات کگریال ماری جائی ہیں اور اگر کوئی شخص تیرہویں ذو الحج کی صبح تک رہ جائے تو اس کو
چائے کہ وہ طوع آفتاب کے بعد تینوں جمرات پرسات سات کگریال مار کر کہ معظّم روانہ ہو۔
دسوی ذو الحج کو جمرہ اولی پرمی کرنے کا بیان
In this chapter, the discussion is about the permissibility of hastening or delaying the slaughter of sacrificial animals during the days of pilgrimage. And Allah, the Exalted and Glorious, says: 'So whoever hastens [his offering] within two days, there is no sin upon him, and whoever delays [it until the third day], there is no sin upon him, for [such] as are righteous' (Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 25, Ayah number: 203). This means that if a person slaughters the sacrificial animal before the tenth day and completes it within two days, there is no sin upon him. And if a person delays it until the thirteenth day, there is also no sin upon him. This applies to those who fear Allah, the Exalted.
It is clear that we stand to perform the stoning of the pillars on the 11th, 12th, and 13th of Dhu al-Hijjah after returning from Arafat. The mention of hastening in the first two days in the verse refers to standing on the 11th and 12th of Dhu al-Hijjah, and the mention of delaying refers to standing on the 13th of Dhu al-Hijjah, which is not sinful. On the 10th of Dhu al-Hijjah, one should stone the first pillar with seven pebbles after the sun has declined. On the 11th and 12th of Dhu al-Hijjah, one should stone all three pillars with seven pebbles each after the sun has declined. If someone remains until the morning of the 13th of Dhu al-Hijjah, it is preferable for them to stone all three pillars with seven pebbles each after the sun has declined and then depart with dignity.
On the 10th of Dhu al-Hijjah, the first Jamrah is to be stoned.
میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قربانی کے دن دسویں ذو الحج کو (تجہرة
جا بر ضی اللہ عنہ روایت ہے و فرما تے ہیں کہ (تجہ الو داع کے موقع پر)
اولی پر) سواری کی حالت میں کنگریان مارنے کے بعد (کنگریان مارنے کے بعد) آپ نے پیغمی ارشاد فرمایا تم لوگ رج کے مناسک میں دیکھ کر سیکھ لو شاہد کر اس رج کے بعد میں پھر رج نہ کرسکون۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
و اضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سواری کی حالت میں جوری فرمائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فعل کو صحابہ رضی اللہ عنہم اور علما کے طریقے کو آپ سے سیکھ لین ظاہر ہے۔ میں پیدل رہی کرنا کو مطلقا مستحب قرار دیاہے اس لئے کہ اس میں تواضح خشوع اور اکساری زیادہ ہوتی ہے جوعبادت میں مقصد ہے اور ظاہر ہے میں پیغمی ذکور ہے کہ اس زمانے میں پیدل رہی کرنا فضل ہے، اس لئے کہ عامتا مسلمین پیدل رہی کرتے ہیں اور سب پیدل رہی کریں تو ایذاء اور تکلیف کا اندیشہ میں رہتا چنانچہ اشتعالمعات میں کچھ بھی کرتے احادیث میں مرودی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف دسویں ذو الحجہ کو بغرض تعالیم سواری پر رہی فرمائی اور بقیہ دنوں میں پیدل رہی فرمائی۔12 رہی کے وقت لوگوں کو ایزاء پہنچانا ممنوع ہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) stoning on the Day of Sacrifice while mounted, saying: 'Learn your rituals from me, for I do not know if I will perform Hajj after this one.'" [Narrated by Muslim]
قدامہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرما تے میں کہ (چیتے الوداع کے موقع پر) دسویں ذو الحجہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سرخ وسفید اونٹی پرسوار جعرہ اولی پر کنگریان مارتے ہوئے دیکھا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے لوگوں کوراستے سے ہٹانے کے لئے) نے تو لوگوں کو کوئی مارد باقعا اور نہ ہمار باقعا اور نہ ہمو پچوکہا جاربا تھا (جبیا کہ عام طور پر امراء اور باشہاہوں کے لئے اہتمام کیا جاتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت امام شافعی، ترمذی، نسائی، ابن ماجراور ابوداود نے کی ہے۔ ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتما عی عبادتوں کے موقع پر کسی فرد کے لئے ایسا اہتمام جس سے اس کی برائی ظاہر ہوتی ہواور لوگوں کو ایزاء پہنچے تو چیتی ہو ممنوع ہے۔12
On the day of the tenth of Dhu al-Hijjah, during the farewell pilgrimage, I saw the Messenger of Allah ﷺ riding a red and white camel, striking its sides with a stick. At that time, there was no one before the Messenger of Allah ﷺ driving away the people, neither a real driver nor a pretended one, as is usually done for rulers and nobles. This hadith has been narrated by Imam Shafi'i, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah, and Abu Dawud. It is understood from this hadith that on the occasion of congregational prayers, it is forbidden to make such arrangements for an individual that would highlight his superiority and inconvenience the people.
جا بر ضی اللہ علیہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پنچ کے دانوں کے برابر چھوٹی کنگر پول سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ف : مرقّات میں لکھا ہے کہ رمی جمار کے موقع پر پنچ کے دانوں کے برابر کنگر پول سے رمی کرنا چاہئے۔ اس سے چھوٹی یا سے بڑی کنگر پول سے رمی کرنا کمزور ہے۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning with pebbles the size of chickpeas." [Narrated by Muslim]
جا بر ضی اللہ علیہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دسویں ذو الحج کو جمرۃ اولی پر چاشت کے وقت لیٹنی دونوں پڑھنے کے بعد کے دنوں میں آپ نے (تینوں جمرات پر) زوال آ فتاب کے بعد رمی فرمائی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ, on the tenth of Dhu al-Hijjah, after reciting both the takbir and the tasbih at the time of the Zuhr prayer, performed the stoning of the first jamrah. He did this on all three days after the sun had declined. This has been narrated by Bukhari and Muslim with mutual agreement.
اور نہیں کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ علیہما سے ایسی طرح مرودی ہے کہ تیرہویں ذو الحج کو (اگر کوئی شخص صبح صادق تک طویل جائے تو) اس کے لیے آ فتاب بلند ہونے کے بعد اس دن کی (تینوں جمرات پر) رمی کرنا درست ہے اور وہ (منی سے) واپس ہوسکتا ہے۔ رمی جمار کا طریقہ اور کنگر پول کی تعداد
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) instructed his wives and weak companions to depart from Muzdalifah at early dawn, but not to stone the Jamrah until after sunrise." [Narrated by al-Tahawi]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ علیہ (عبد الرحمن بن زید) روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ علیہ (دسویں ذو الحج کو) جمرہ کبری پر رمی کے لیے پہوچے تو (رمی کرتے وقت اس طرح کہ رہے ہیں کہ) بیت اللہ شریف آپ کے باعین جانب تھا اور میں سیدہ جانب (اور جمرہ سامنے تھا) پھر آپ نے جمرے پرسات کنگریال ماری اور کنگری کے چھکے وقت آپ اللہ
اکبر فرما رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا (میرا عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں ہے)
کیونکہ آپ نے مجھی اس طرح رہی فرمائی ہے۔ اور یوہی ذات گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیں، جن
پرسوہ بقرہ نازل ہوئی (جس میں مناسک نے تفصیلا ذکور ہیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں
متقطر پر کی ہے۔
ف: واضح ہو کر مرقات میں علم سیوطی کی درمنشور کے حوالے سے یہی کی سنن سے یہ روایت
ذکور ہے کہ سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ہر کمری چیکتے وقت اس طرح دعا فرمائی:
"اللہُ اکْبَرُ، اللہُ اکْبَرُ، اللہُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا، وَ عَمَلًا
مَشْکُورًا"۔ اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ اے اللہ! میرے نج کو قبول فرما اور میرے گناہوں کو خش
دے۔ اور میرے عمل کو قبول فرما۔
حضرت سالم نے فرمایا کران کے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھی ہر کمری چیکتے وقت اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "When he reached the largest Jamrah, he positioned the Ka'bah to his left and Mina to his right. He threw seven pebbles, saying Takbir with each, then said: 'This is how the one upon whom Surah al-Baqarah was revealed stoned.'" [Agreed upon]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
سلام ارشاد فرما ہے جین کرا استخاء کے لئے طاق عدی وصیل لین چاہے اور اسی طرح رہی جمار کی طاق
ہونا چاہیے (یعنی ہر جمرہ پرسات سات گنگریال مارنا چاہیے)۔ اور اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان
دور نا چھی طاق ہے (یعنی سات چکر کرنا چاہیے)۔ اور طواف کعبہ چھی طاق ہے (یعنی بیت اللہ شریف
کے گرد سات مرتبہ چکر لگانا چاہیے اور جب تم میں سے کوئی استخاء کے لئے وصیل لئے اس کو چاہیے
کہ طاق عدی میں لے (یعنی حسب ضرورت تین یا پانچ یا سات لے))۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
رمی جماراورسعی اللہ تعالیٰ یاد کے لئے قائم کے گھے ہیں
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Stoning is an odd number (of pebbles), the millstone of a donkey is an odd number, Sa'i is an odd number, Tawaf is an odd number. When you stone, do so with an odd number." [Narrated by Muslim]
_ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرما رمی جماراورصفاومروہ کے درمیان دورنا اللہ تعالیٰ کی یاد (اوردعاء) کے لئے مقصد کے گھے ہیں (اس لئے ہر کنگری کے چیکنے وقت اللہ اکبر کہنا چاہئے اور ہر سعی کے وقت دعا کرنا چاہئے)- اس کی روایت ترنزی اوردارمی نے کی ہے اورترنذی نے کہاہے کہ یہ حدیث حقیقہ ہے۔ پہلے اوردوسرے جمرہ پر رمی کے بعد ظہیر کردو اکرنا مستحب ہے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) said:
"Stoning and Sa'i were only instituted to establish the remembrance of Allah." [Narrated by al-Tirmidhi and al-Daraqutni. Al-Tirmidhi said: "This is hasan sahih"]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما (دسویں زواجہ کے بعد واپس دونوں میں) جمرہ اولی اور جمرۃ وسطی پر رمی کے بعد بہت دیر تک طویل رہتے اور تکبیر، تسبیح، اور تحمید فرماتے رہتے اور دعا میں مشغول رہتے (انتی دیر تک طویل رہتے دیرسورہ بقرہ پڑتی جاتی ہے اور چونکہ جمرہ عقبہ کے بعد رمی نہیں ہے اس لئے) جمرہ عقبہ پر رمی کے بعد وہ بال نہیں طویل رہتے (اس لئے کہ جس رمی کے بعد رمی نہیں ہے وہ بال طویل نا اوردعا کرنا مستحب نہیں ہے۔ اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔
اور بخاری نے کچھ مرفوًاعاًطرحد روایت کی ہے۔
And Bukhari has narrated some mursal ahadith in this manner.
اور ابوداود کی روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دسویں زواجہ کو طواف زیارت کے بعد کہ معظّمت سے پھرتی والپس تشریف لاگے اور) میں میں ایام تشریق کے دونوں میں قیام فرماتے اور (گیارہ وبارہ زواجہ کو) آفتاب ظہلنے کے بعد تنیون جمرات پرسات سات کنگریال اس طرح ماریں کہ ہر کنگری کے چیکنے وقت اللہ اکبر فرماتے ٹھااور پہلے اوردوسرے جمرہ پر رمی کے
بعد طہیر جائے اور درپیک طہیر تے اورگرگز اکر دعا ئے فراماتے اور تیسرے جغرہ عقبہ پرمی فراماتے تو رمی
کے بعد و بال نظیر تے (اس لئے کہ پیآ خری جغرہ بھا اوراس کے بعد کوگی رمی نہیں ہے)-
منی مناسک کے ادالی کی جگہ بہ بہال عامرتین نہیں چاہے
Nafi' narrated: "Ibn Umar would stand for a long time at the first two Jamarat, making Takbir, Tasbih, Tahmid, and dua', but not at Jamrat al-Aqabah." [Narrated by Malik. Bukhari narrated something similar as marfu']
Aisha's narration in Abu Dawud adds: "He would return to Mina during the Days of Tashriq, stoning each Jamrah with seven pebbles after zawal, saying Takbir with each. He would stand at the first two for lengthy supplication, but not at the third."
She also reported: "We said: 'O Messenger of Allah, shall we build a shelter for you at Mina?' He replied: 'No, Mina is a resting place for whoever arrives first.'" [Narrated by al-Tirmidhi, Ibn Majah, and al-Darimi]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے آپ فرماتی ہیں کہ میں
نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا منی میں آپ کے قیام کے لئے کوگی ساپیدارعمارت نہ بنادیں تو آپ
نے ارشاد فرمایا منی منی تو (ادالی مناسک کی جگہ بھے اور) اس شخص کے اونٹ بجا نے لیجن قیام
کرنے کی جگہ بہ جویہال پچل پہو چے-
اس کی روایت تزمذی، ابن ماجراوردارمی نے کی ہے-
حرم کی زمین وقف بھاس کا کوگی ماک نہیں
ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالے سے کہتا ہے کہ منی ادالی مناسک لیجن رمی، زنج حلق
و غیرہ عبادتوں کے ادا کرنے کی جگہ بہ اگر بہال عامرتین بنالی جا سکین تو جانج کو ادالی مناسک میں د
شوری ہوگی اور سرگون اور بازاروں کا بھی بھی حکم بہ کروبال ربن کے لئے مکانات نہ بنانے جا سکین
اور امام عظیم رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ حرمس کی زمین وقف بھے اس لئے کوگی شخص اس کا ماک نہیں
ہوسکتا - اور جب کوگی ماک نہیں ہوسکتا تو تعمیر کیے کرسکتا ہے
I said, 'O Messenger of Allah! Should I not build a white pavilion for you to stand at Mina?' He replied, 'Mina, Mina (make it a place for performing the rites of pilgrimage and let the camel of this person be stationed at the place for standing).'