(عرفات سے مزدلفہ کو اور مزدلفہ سے منی کو واپس کاپائیں)
Return from ‘Arafat to Muzdalifah, and from Muzdalifah to Mina.
وقول الله عز وجل فاذا افضتم من عرفه فاذكروا الله عند المشعر الحرام و اذكروه كما هدانكم وان كنتم من قبله لمن الضالين
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:25، آیت نمبر:198، میں) چھ جب تم (وقف عرفہ کے بعد) عرفات سے واپس ہوئے گلو تو مشعر حرام کے پاس (یعنی مزدلفہ میں آ کر شب کو قیام کرو اور) اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ پر اللہ تعالیٰ کو یاد کرواور حقیقت پیہ کر تم (ذکر کے اس طریقہ میں جمع میں المغرب والعشاء تلبیہ، تہیل اور تکبیر وغیرہ ہے) اس سے پہلے نا وقف تھے۔
واضح ہو کہ جانچ کرام نویں ذوالحج کو میں سے روانہ ہو کر عرفات میں تجمیرتے ہیں، واپسی میں مزدلفہ پر تابہ اس وسوی شب کو مزدلفہ میں گزارتے ہیں، یہاں المغرب اور عشاء دو نوں نمازی عشاء کے وقت اکٹھی پڑتے ہیں اور المغرب وعشاء کا مزدلفہ میں جمع کرنا واجب ہے اور آیت ذکورہ میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا جو حکم واردہ اس میں پیدونوں نمازیں داخل ہیں، پیذکرتواجب ہے اور باقی اذکار مستحب ہیں۔ مشعر حرام ای مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے۔ آیت شریفہ میں مشعر حرام کے پاس قیام اور ذکر کا جو بیان ہے اس سے سارا مزدلفہ مراد ہے جہاں تجانج کرام کو قیام کی اجازت ہے، سواں واوی محرر کے کراس میں قیام جائز نہیں۔12
عرفات سے واپس ہوئے وقت الطمینان اور سکون سے روانہ ہونا چاہیے
And the guidance of Allah Almighty is: (Surah Al-Baqarah, Vol. 2, Pg. 25, Verse No. 198) When you return from Arafat after the stay at Arafat, proceed to the Mash'ar al-Haram (i.e., Muzdalifah) and spend the night there, remembering Allah in the manner He has prescribed. Indeed, before this, you were not accustomed to this method of remembrance, which includes the combined Maghrib and Isha prayers, Tahleel, Takbir, and other such acts. It is clear that the pilgrims set out from Mina on the 9th of Dhu al-Hijjah and gather in Arafat. On their return, they stay overnight in Muzdalifah, where they combine the Maghrib and Isha prayers at the time of Isha. Combining these prayers in Muzdalifah is obligatory, and the command to remember Allah mentioned in the verse includes these prayers, which are obligatory, while other remembrances are recommended. The Mash'ar al-Haram is a mountain in Muzdalifah. The reference in the noble verse to standing and remembering Allah at the Mash'ar al-Haram encompasses the entire area of Muzdalifah, where the pilgrims are permitted to stand. Standing outside the designated area is not permissible.
After returning from Arafat, one should depart with a sense of reassurance and tranquility.
وآ لہ وسلم (چھے الوداع کے موقع پر نویں ذو الحجر کو عرفات میں قیام کرنے کے بعد مزدلفہ کے لے)
عرفتے روانہ ہوئے اور آپ الطمینان اور وقار کے ساتھ چلے اور (اونٹ پر) آپ کے پیچھے حضرت
اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم لوگوں کو (جب کہ وہ اپنی سوار یول کو تیز
باکر رہے تھے) خطاط کرے ارشاد فرمائے اے لوگو! وقار اور الطمینان کے ساتھ چلو، اس لے کہ
(تمیز دورا نے کے لے) گھوڑوں اور اونٹوں کو مارنا نہیں ہے۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ف: واضح ہوگی صدر کی حدیث اور بعد میں آنے والی حدیثوں میں عرفات سے واپسی پر
الطمینان اور وقار کے ساتھ روایت کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی پر الطمینان اور وقار کے ساتھ
روایت کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی میں راستے کشاوہ ہواور بجوم کم ہو تو بغیر کسی تکلیف
پہنچاۓ تمیز سواری کو تمیزی سے چلانا درست ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں چونکہ ایزا
رسائی کے گناہ سے پنج کا خیال، یہ نہیں رہاہے، اس لے سوار یول کو تمیز دورا نا جس سے لازماً لوگوں کو
تکلیف پہوچتی ہے ممنوع ہے۔ رواختا ر
دوسری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) departed from Arafah with calm dignity, with Usamah riding behind him. He said: 'O people, maintain tranquility, for righteousness is not achieved by rushing your camels.'" [Narrated by Abu Dawud]
وآ لہ وسلم کے ساتھ (عرفات سے مزدلفہ کو) روانہ ہوئے (اس موقع پر) حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم
نے اپنے پیچھے (جانورول کو) تمیز باکلنے اور اونٹوں کو تیزے مارنے کا شور سنا تو آپ نے اپنے
چاک کو چکرت دے کر اشارہ کیا اور (لوگوں کو خطاط کر کے) فرمایا لے لوگو! تم پر الطمینان اور سکون
سے چلنے واجب ہے اور تمیز دورا نے (کے لے جانورول کو مارنا) نہیں نہیں ہے۔ اس کی روایت
بخاری نے کیا ہے۔
وادی محشر سے تیز گزر نے کا بیان
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that he departed from Arafah with the Prophet (ﷺ), who heard loud shouting and camel drivers beating their animals behind them. The Prophet (ﷺ) gestured to them with his whip and said: "O people! Be calm, for righteousness is not achieved through haste." [Narrated by Bukhari]
آلم و سلیم مزدلفہ (جب منی کے لئے) روانہ ہوئے تو آپ وقارا ور مثانے سے پہلے اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ جھیل سکون اور اطمینان سے چلیں البتہ (جب آپ وادی محشر میں جہاں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا تو) وادی محشر سے تیزی سے گذریں اور (جب منی میں پہوچے تو) لوگوں کو حکم دیا کہ پیچ برابر کنگریول سے ریکریا اور آپ پیچ پیچ ارشاد فرمایا (مناسک نے کو پچھی طرح سمجھ لواور دریافت کرلو) شاکدر آسندہ سال میں تم کون دکیہ سکون اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے۔
وسوی ذوالحج کو پیچ کنگریمار نے تک لپیک کہتے رہنا پچائے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) departed from Muzdalifah with calm dignity, instructing the people to remain calm. However, he hastened through the valley of Muhassir and instructed them to stone the Jamrah with pebbles the size of chickpeas. He said: 'Perhaps I will not see you after this year.'" The author of Mishkat said: "I did not find this hadith in the Sahihayn except in Jami' al-Tirmidhi with some rearrangement of wording."
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضرت فضل (جب الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچ پیچ اونٹ پرسوار تھے جب لوگ (وقوف عرفات کے بعد، مزدلفہ جاتے ہوئے) شام کے وقت اور مزدلفہ میں قیام کے بعد صبح (منی کے لئے) روانہ ہوئے گئے (تو تیز دورانے کے لئے سوار یول کومار دے گئے اور آوازی بلند کر دے گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سواری رک دی اور ارشاد فرمایا (تیزی مت کرو) بلکہ سکون اور اطمینان سے چلو، پہلے تک کہ آپ وادی محشر میں داخل ہو گئے اور آپ نے ارشاد فرمایا پیحال سے چھوٹی چھوٹی کنگریال چلن لو تاکہ ان سے جمرہ پری کر سکو راوی کا بیان سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (وسوی ذوالحج کو جمرہ اولی پر پیچی) کنگریمار نے تک لپیک فرماتے رہ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
مسلم کی ایک اور روایت میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح مروی
پہلے حدیث
the first hadith
_ اور بھی کچھ کی روایت میں عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے و فرما تے ہیں کہ میں
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (احرام باندھنے کے بعد) لبیک فرما تے رہے
پیشان تک کر آپ نے جمرۃ عقبہ (یعنی اولی) پر (دوسری زوال نماز کے دن) پھلی کنگری ماری (اور پھلی
کنگری مارنے کے بعد آپ نے لبیک فر مانا بندا کر دیا۔
رمی جمار کے لئے کنگری ان جمع کرنے کا بیان
ف: واضح ہو کر صحاب اشعۃ اللمعات نے کہا ہے کہ مزدور میں قیام کے بعد جب مثی کوروانہ
ہو تو رمی جمار کے لئے مزدور کے یاراستے کے کنگریال لیتے چلیں البتہ پی کنگریال کسی برے پچھر کو توڑ
کر نہ بنانا چاہیے اور مستعمل لیجنی رمی کے ہوئے کنگریوں سے بھی رمی کرنا جائز نہیں ہے اور اگر کنگریوں
کی پانی میں شہر ہوتا ان کو دھو لینا چاہیے۔12
عمرہ ادا کرنے والے جمرہ اسود کو بوس دینے کے لبیک کہتا رہے
پہلی حدیث
I saw the noble Prophet ﷺ, after tying the ihram, continuously saying 'Labbayk' until he reached the station. He then struck the first Jamrah (i.e., the last one) on the day of the second Zuhr prayer, and after striking it, he completed his 'Labbayk'. For the purpose of casting stones, he gathered pebbles. It is clear that the companions have said that after standing at Muzdalifah, when the morning caravan moves, one should gather pebbles for casting stones from the road of Muzdalifah. However, one should not make pebbles by breaking any bad stone, nor should one use pebbles that have already been used for casting. If there is dirt on the pebbles, they should be washed. The one performing Umrah should continue saying 'Labbayk' while kissing the Black Stone.
_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے
روایت فرما تے ہیں کہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھنے والا (احرام باندھنے کے بعد) جمرہ اسود کو بوس
دینے تک لبیک کہتا رہے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Those performing Umrah should continue the Talbiyah until touching the Black Stone." [Narrated by Abu Dawud]
_ عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس
حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمرہ (کا احرام
باندھنے کے بعد طواف) میں جمرہ اسود کو جب بوس دیتے تو تلبیہ کہنا بند فرما دیتے تھے۔ اس کی روایت
ترنمی نے کی ہے۔ اور ترنمی نے کہاہے کہ یہ دیث تھے۔
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک، ایک قامت سے پڑھنا مسنون ہے
Ata' narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) in a marfu' hadith: "He would stop the Talbiyah for Umrah upon touching the Black Stone." [Narrated by al-Tirmidhi who said it is authentic]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (چہے الوداع کے موقع پر) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا فرما یا مغرب کی نماز تین رکعتیں ادا فرما تین اور عشاء کی نماز (بطور قصر) دور کعتین ادا فرما یعنی اور (ان دونوں نمازوں کو ایک اذان اور ایک، ایک قامت سے ادا فرما یا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
مسافر کو مزدلفہ میں نماز عشاء قصر کرنا چاہئے
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) combined Maghrib and Isha at Muzdalifah, praying Maghrib as three rak'ahs and Isha as two, with one iqamah." [Narrated by Muslim]
ابن شہاب رحمہ اللہ، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ عبید اللہ نے ابن شہاب سے بیان کیا کہ ان کے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرما یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (چہے الوداع کے موقع پر) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ (اس طرح ادا فرما یعنی کہ ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشاء کی نماز (مسافر ہونے کی وجہ سے قصر کر کے) دور کعتیں ادا فرما یعنی تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہی (اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) مزدلفہ میں ایسا ہی (دونوں نمازوں کو ایک ساتھ) پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جائے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
مزدلفہ میں نماز تجریح صادق ہوتی ہے۔ اول وقت پڑھنا چاہئے
Ibn Shihab narrated that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported from his father: "The Messenger of Allah (ﷺ) combined Maghrib and Isha at Muzdalifah without any voluntary prayer between them. He prayed Maghrib as three rak'ahs and Isha as two. Abdullah (ibn Umar) continued praying this way at Muzdalifah until he passed away." [Narrated by Muslim]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز اس کے مقررہ وقت پرادافرما تے تھے خواہ سفر ہو یا حضر اس لیے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ پڑہ نماز اس کے وقت پرادافرما تے تھے سواتے
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے، (آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا فرما لے پیش اور مغرب کو
عشاء کے وقت میں پڑھا لے) اور (مزدلفہ میں جب آپ نے آپ کو دیکھا کہ) آپ نے نماز مغرب
(وقت شروع ہوتے ہی اندھیرے میں) ادا فرما لی اور پیش پا کے روزمرہ کے معمول کے وقت سے
پہلے تجا (جب آپ روزانہ فجر کی نماز اسفاٰر بھی روشنی ہونے کے بعد ادا فرما تے تھے) اس روز
اندھیرے میں فجر کا وقت شروع ہوتے ہی ادا فرما یا)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray any prayer outside its proper time except two: he combined Maghrib and Isha at Muzdalifah, and prayed Fajr earlier than its usual time that day." [Agreed upon]
In Muslim's version: "He prayed Fajr before its time when it was still dark." Both Sahihayn record that he prayed both prayers together at Muzdalifah and prayed Fajr at dawn.
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ پیش نماز فجر اندھیرے میں اس کے
معمولًا وقت (جب اسفاٰر) سے پہلے ادا فرما لی ہے۔
And in a narration from Muslim, it is mentioned that he used to perform the pre-dawn prayer in the darkness before its usual time (when the dawn breaks).
اور بخاری اور مسلم میں بالا تفاق پیکھی روایت کی سے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ
مسلم نے مزدلفہ میں پیدونوں نمازیں (جب مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا فرما لی پیش اور نماز فجر کو بھی
صادق شروع ہوتے ہی (اندھیرے میں) ادا فرما یا ہے۔
مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کو جماعت کے ساتھ ملا کر پڑھنا مسنون ہے
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray any prayer outside its proper time except two: he combined Maghrib and Isha at Muzdalifah, and prayed Fajr earlier than its usual time that day." [Agreed upon]
In Muslim's version: "He prayed Fajr before its time when it was still dark." Both Sahihayn record that he prayed both prayers together at Muzdalifah and prayed Fajr at dawn.
ابن شہاب رحمہ اللہ نے روایت سے وہ کہتے ہیں کہ سالم بن عبد اللہ بن عمر
رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ابن یوسف نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
دریافت کیا کہ (نومیں ذو الحجہ کو) عرفہ کے دونوں تہم وقوف عرفات کے موقع پر (ظہر اور عصر کو) کس
طرح ادا کریں، پیاس سال کا واقعہ ہے۔ جس سال جب ابن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو
شہید کیا تجا (اس وقت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر کے ساتھ تھے) سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (پی
سے کر جب ابن حضرت سے) میں نے کہا اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن پر عمل کرنا چاہتا ہے تو عرفہ کے
دونوں ظہر اور عصر کو (زوال کے بعد) اول وقت ملا کر ادا کر (حضرت سالم کے اس جواب کو سن کر ان
کے والد ) حضرت ابن عمرؓ فرمایا سالمؓ نے چچ کہا ہے (اور جان جیسے خالق کے روبرو کہہ رہے ہیں کر
اس کے ظلم سے نج و سالم ربا اور اس کی مال نے اس کا نام جوسالم رکھاوہ درست ہے ) کہ صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں ظہر اور عصر کو (باجماعت عرفات میں ) ملا کر
ادا کرتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں (پیش کر ) میں نے حضرت سالمؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل تھا (کہ آپ پیہال ظہر اور عصر کو ملا کر ادا فرما تے ہیں؟) تو حضرت سالم
رضی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی کرتے ہیں
(اور ایسی اتباع نبوی میں عرفات میں ظہر اور عصر کو باجماعت ایک ساتھ اول وقت ایک اذان اور دو
اقامت کے ساتھ ادا کرتے تھے )۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنے کی وجہ اور اس کی تفصیل
ف (1): واضح ہو کہ عرفات میں عرفہ کے دون ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنا اس دون کی خصوصیت
ہے اور یہ جمع بین ظہر و العصر مسافرت کی وجہ سے نہیں ہے جسیا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
حضرت ابن عمر اور ان کے صاحبزادہ حضرت سالم رضی اللہ عنہما اور مقیم ہونے کے باوجود انہوں نے
عرفات میں عرفہ کے دون ظہر اور عصر کو جان کے ساتھ ملا کر ادا فرما یے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جمع
بین الصلا تین جمع نسلیہ لیکن محمد مناسک نے کی ہے، جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے۔ 12
عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنے کے شرائط
ف (2): واضح ہو کہ عرفہ کے دون عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا کرنے کے کئی شرائط ہیں۔-
(1) ایک یکر خلیفہ وقت یا خلیفہ کا نائب امامت کرے ورنہ سارے جان اپنی جگہ ظہر اور
عصر کو اس کے وقت پر ادا کریں اس لیے کہ پورے میدان عرفات میں سواے وادی عرفہ کے کہیں نا
درست ہے۔ اور اگر کوئی شخص تھا ظہر پڑھنے تو وہ عصر کی نماز ادا کرے۔-
(2) دوسرا شرط یہ ہے کہ دونوں نماز ون کی ادائیگی کے وقت نچلے کا حرام ہو۔-
(3) تیسری شرط یہ ہے کہ عرفہ کا دن ہو، اور عرفات کا میدان ہو۔-
(4) چوٹی شرط پیہ کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ہو۔ جس کا امام خلیفہ یا س کا نام ہو
(5) پانچویں شرط پیہ کر زوال کے بعد پہلے ظہر پڑتی جائے اور چھر نماز عصر درختار فراونی
عامتگیری اور راہت کریں نذور پہ کر آج کل نذورہ نثر ان طمسید نفرہ میں ہوتی ہیں
عذر ہوتا مزدلفہ سے رات میں روانہ ہوسکتا ہے
Ibn Shihab narrated that Salim reported: "When al-Hajjaj ibn Yusuf besieged Ibn al-Zubayr, he asked Abdullah (ibn Umar): 'What do you do when standing at Arafah?' Salim said: 'If you want to follow the Sunnah, pray Zuhr early on the day of Arafah.' Abdullah ibn Umar said: 'He speaks truthfully. They used to combine Zuhr and Asr according to the Sunnah.' I asked Salim: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) do this?' He replied: 'Do you follow anything in this matter except his Sunnah?'" [Narrated by Bukhari]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا
کہ جن کو نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات اپنے اہل بیت کے ضمیع لوگوں لیئے
چوں اور عورتوں کو میں روانہ فرمادیا تھا۔ تاکہ پی حضرات سورج نکلنے کے بعد، میں اول وقت رمی جمار
سے فارغ ہوجائیں اور اثر دہام سے محفوظ رہیں۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لکھے۔
بغیر عذر کے رات میں مزدلفہ سے روانہ ہونا تو دم لازم آئے گا
ف: فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر مناسک میں کوئی واجب عذر کی بناء پرتکہ ہو جائے تو
اس سے دم لازم نہیں آتا جبیا کہ صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے رات میں چوں اور عورتوں کو میں روانہ فرمادیا اور ان پر دم نہیں واجب کیا۔ البتہ بغیر عذر کے
کوئی رات میں مزدلفہ سے روانہ ہو جائے تو اس پر دم لازم آئے گا۔ اس لیے کہ وقت مزدلفہ کا وقت
صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب تک ہے
رمی جمار طلوع آفتاب کے بعد کرنا چاہئے۔ چہل حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "I was among those whom the Prophet (ﷺ) sent ahead from Muzdalifah among the weak members of his family." [Agreed upon]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
(تجہ الوداع کے موقع پر) حکم دیا تھا کہ عورتوں اور سا مان کو مزدلفہ سے صبح صادق کے ساتھ ہی تار کی
میں روانہ کر دیا جائے لیکن وہ رمی جمار طلوع آفتاب کے بعد ہی کریں۔
اس کی روایت طحاوی نے لکھے۔
دوسرا حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) instructed his wives and weak companions to depart from Muzdalifah at early dawn, but not to stone the Jamrah until after sunrise." [Narrated by al-Tahawi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (وہ کہتے ہیں کہ جب الودارع کے موقع
پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفعی رات بنوعبر المطلب کے پچون کو پہلے روانہ کر دیاور
بھیگرسون پرسوار تھاس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ازراه شفققت) ہماری رانول پر
بات کمارتے تھوے فرمایا لے میرے پچو! سورن نکلنے سے پہلے جمرہ پر کنگریال نمارو اس کی روایت
ابرواتود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
تیسری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent us (the young boys of Banu Abdul-Muttalib) ahead from Muzdalifah at night on donkeys. He patted our thighs and said: 'O my young ones! Do not stone the Jamrah until the sun rises.'" [Narrated by Abu Dawud, al-Nasa'i, and Ibn Majah]
Disliked: From Fajr until sunrise
Recommended: From sunrise until zawal (midday)
Permissible: From zawal until sunset
Strongly disliked: At night (Muhit al-Sarakhsi)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اپنے ال بیت کے ضعیف لوگوں کو (جن میں یہ اور عورتیں تھیں) الودارع کے موقع
پر مزدلفعے میں کو) انہیں لے میں روانہ فرما دیئے اور ان کو حکم دیا کہ سورن نکلنے تک جمرات پر
کنگریال نماری اس کی روایت ابوداوداوراصحاب سنن نے کی ہے اور بخاری نے بھی ایسی یی
روایت کی ہے۔
ریجہمار کے اوقات
ف: واضح ہو کر فتاوی عالمگیری میں کہا ہے کہ دوسیل ذوالجعری کے چار اوقات ہیں:
(1) کروہ
(2) مسنون
(3) مباح
(4) ممنوع
صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک کنگریال مارنا کروہ ہے، اور طلوع آفتاب کے بعد
سے زوال تک مسنون ہے اور زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مباح لیکن جائزہ اور اگر
کسی نے رات میں صبح صادق سے پہلے کنگریال ماری تو درست نہیں اس کودن میں لوطانا پڑے گا۔
اب رہاگیارہ اور بارہ ذو الجعر، توری کے اوقات تین ہیں:
(1) مسنون (2) کروہ (3) ممنوع –
(1) زوال کے بعد سے غروب آ فتاب تک مسنون ہے –
(2) غروب آ فتاب سے صبح صادق تک کروہ ہے –
(3) طلوع آ فتاب سے زوال تک ممنوع ہے –
پیشہ و اخیرہ کے دوسویں زوال کو صرف جمعۃ کبری پرسات سات منگریال مارنا واجب ہے
اور باقیہ دودنوں لیعن کیارہ اور بارہ زوال کو تینوں جمرات پر منگریال مارنا واجب ہے –
جہاں عرفہ اور مزدلفہ کا قیام ضروری ہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated:
"The Messenger of Allah (ﷺ) would send his weak family members before dawn and instruct them not to stone until sunrise." [Narrated by Abu Dawud and the authors of Sunan. Bukhari narrated something similar]
عروہ بن معرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (چھے الوداع
کے موقع پر) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایسے وقت پہوچا کہ آپ
مزدلفہ میں قیام فرما لے ہوئے تھے (اور نماز کے لئے نقل رہے تھے میں نے عرض کیا کہ دور دراز تے
لیعن طی کی پہاڑیوں سے اس وقت مزدلفہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کیا میرا یہ ہوا یا
نہیں؟) تو آپ نے ارشاد فرما کہ جس نے پہاڑ (مزدلفہ میں) نماز ادا کی اور پچھر ہمارے ساتھ
وقف کیا اور اس سے پہلے (نوبے زوال کے) رات میں یادن میں (زوال کے بعد سے لے کر دوسویں
کی صبح صادق تک) عرفات میں تحوط اسا قیام کیا کر لے تو اس کا نجاح ادا ہو جائے گا –
(اس سے معلوم ہوا کہ وقف عرفہ فرض ہے اور وقف مزدلفہ واجب ہے) اس حدیث کی
روایت نسائی نے اصحاب سے، ابن حبان نے اپنی تحریف میں اور حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم
نے کہا ہے کہ یہ حدیث تمام اتمہ حدیث کے ثبوت کے مطابق تھی ہے –
عرفات اور مزدلفہ سے روایت کے مسنون اوقات
Urwah ibn Mudarris (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing at Muzdalifah. He said: 'Whoever prays this prayer with us here, stays with us, and had already stood at Arafah by night or day - his Hajj is complete.'" [Narrated by al-Nasa'i, the authors of Sunan, Ibn Hibban in his Sahih, and al-Hakim who said: "It is authentic by the standards of all Hadith scholars"]
محمد بن قیس بن مخر مر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتہ) خطبہ میں ارشاد فرما کہ لوگ ایام جاهلیت میں عرفات سے
اس وقت نکلتے تھے جب کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ان کے سروں پر عما مول کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ لیتنی سورج کا پکھا حضرت غروب ہوتا اور پکھا باہر رہتا تھا۔ اور مزدلفہ سے بھی اس وقت روانہ ہوتے جب کہ سورج نکلتا رہتا اور ان کے چہروں پر عما مول کی طرح دکھائی دینے لگتا۔ اس کے بر خلاف تمام عرفات سے اس وقت نکلتے ہیں جب کہ سورج ذوب چکا ہو، اور مزدلفہ سے اس وقت نکلتے ہیں جب کہ سورج نکلا نہ ہو۔ لیتنی نماز ظہر کو اول وقت ادا کرتے، ای نماز کے بعد اسفار میں مزدلفہ سے روانہ ہوتے ہیں۔ اور ہمارا یہ طریقہ بت پرستوں اور مشرکین کے طریقہ کے خلاف ہے۔ اس کی روایت تفصیل نے کی ہے۔
عرفات سے واپسی میں مزدلفہ تک کہیں قیام نہیں کرنا چاہئے۔
Muhammad ibn Qubays ibn Makhramah narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The people of Jahiliyyah would depart from Arafah when the sun looked like turbans on their faces (before sunset), and from Muzdalifah after sunrise when it looked the same. But we depart from Arafah after sunset and from Muzdalifah before sunrise - our way contradicts the way of idol-worshippers.'" [Narrated by al-Bayhaqi]
یعقوب بن عاصم بن عروہ رحمہ اللہ نے روایت کہ انہوں نے ثریہ رضی اللہ عنہ کو یکتہ ہوئے ساکر میں (جب الوداع کے موقع پر عرفات سے مزدلفہ کو واپسی تک) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عرفات سے) مزدلفہ کو سواری کی حالت میں پہوچے اور کہیں بھی آپ پیلے نہیں چلے۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات سے مزدلفہ تک پوری مسافت سواری پر طے فرمائی اور راستے میں کہیں قیام نہیں فرمایا۔ چنانچہ کہ نماز مغرب بھی راستے میں نہیں پڑھی۔ اب رابہ بخاری میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے جومروی سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں ایک گھاٹی میں اتر کر پیشاب کیا اور وضو فرمایا۔ اس حدیث کے معارض نہیں۔ اس لے کہ ضرورت راستے میں کہیں رک جا کیسے کوئی حرج نہیں۔ البتہ کہیں قیام نہ کیا جائے جسیا کہ بزل اچھو دیس نذور ہے۔12
Ya'qub ibn 'Asim ibn Urwah narrated that he heard al-Sharid say: "I departed from Arafah with the Messenger of Allah (ﷺ). His feet didn't touch the ground until he reached Muzdalifah." [Narrated by Abu Dawud]