Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ

اس باب میں جِزءِ الوداع کا بیان ہے

The Story of the Farewell Pilgrimage
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

ف: واقع ہو کر جِزءِ الوداع اس کو کہتے ہیں جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رج کی فرضیت

کے بعد سنہ دوس، محرمی میں ادا فرمایا_ ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں رج ادا کرنے کی سعادت حاصل فرمایا_ اس موقع پر حضور

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تاریخی اور معرکہ الارا خطبہ ارشاد فرمایا جس میں امت مرحمہ کو احکام کی

تعلیم دی اور رخصت کی جس کیا اور اس دار فانی سے اپنی رحلت کی خبر کی جس دی اور احکام رسالت کے

پہلو پیانے پر حاضرین کرام کو گواہ بنایا جس میں یہ کہی ارشاد فرمایا کہ حاضر غائب کو دین

پہو چیادے

This is known as Jiz al-Wada', which the Prophet ﷺ performed after the obligation of Hajj in the second year, during the month of Muharram. According to one tradition, one hundred and thirteen thousand noble Companions (RA) had the honor of performing Hajj with him ﷺ. On this occasion, the Prophet ﷺ delivered a historic and monumental sermon, in which he instructed the blessed community on the commandments, bid farewell, informed them of his impending departure from this transient world, and made the noble attendees bear witness to the aspects of the mission of prophethood, saying that the present and absent alike should be informed of the religion.

Chapter

وقول الله عز وجل لقد كان لكم في رسول الله اسوه حسنه اور الل تعالي كا ارشاد سور احزاب ع ايت نمبر مي ا مسلمانو رسول الل صلي الل علي وال وسلم كي حيات طيبه مي ت وار ك ايك عمد نمون موجود تاك تم اس كي روي كرو

وقوله فمن تمتع بالعمره الي الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثه ايام في الحج وسبعه اذا رجعتم اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت نمبر مي جو خص عمر كو رج ك سات ملا كر زياد ثواب كا فايد حاصل كر ر ا و جس تمتع يا قر ان كي نيت س رج كر ر ا و تو اس كو ا ي ك جو قر باني ميسر وا س كو زنج كر اور ا ر صرف عمر كر ل يا صرف رج كيا وتا اس

پر قربانی واجب نہیں ) پھر ( متمتع یا قارن کو بھی غربت قربانی کا جانور ) میسر نہ ہوتا تو ہے ( قربانی کی

جاۓ ) 10 دس روزے اس طرح رکے کہ ایام مج میں تین روزے رکے ( کہ تیرا روزہ نوین

زوال حج کو ادا ہو جائے ) اور بقیہ سات روزے ( وطن ) والے ہوئے پڑ کے لے -

جبہہ الوداع میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناسک کی تفصیل

However, sacrifice is not obligatory. Then, if the animal for sacrifice is not available for a person performing Tamattu‘ or Qaran due to poverty, they should fast for ten days, three of which should be during the days of Tashriq so that their fasts can compensate for the omission of the sacrifice, and the remaining seven days should be observed upon returning home after the Farewell Tawaf, which includes the detailed rituals performed by the Prophet ﷺ.

3563

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ( بجرت کے بعد ) مدینہ منورہ میں نو برس رہے اور اس عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پھر جبرت کے دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سال مج

کا ارادہ رکھے ہیں اس اعلان کوس کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو ق در جو ق مدینہ منورہ آنے لگے اور

ہر ایک کی پیخواہش چھی کر آپ کی اتباع ( میں مناسک نج ادا ) کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کے چھ کی طرح چھ کریں ( راوی کہتا ہیں کہ ) ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نج

کے ارادہ ہے ) نگا اور مقام ذو الحدیفہ پر پہوچے - یہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما کے ہتھ سے

محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ پیا ہوئے - حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواس واقع کی

اطلاع دی اور دریافت کروا یا کہ اب میں اس صورت میں کیا کریں - آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرواور

کسی کچھ کو ( اندا م نہائی پر ) رکھ کر لگتوث باندھواور احرام باندھ لو - تاکر طواف کے سوا اور مناسک

نج ادا ہوئے رہیں ) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ( ذو الحدیفہ ) میں دوگھنہ احرام

اذا فرما ہے اور دو گھنے ادا کرنے کے بعد تلبیہ پڑھیں ) پھر آپ ناق مبارک پرسوار ہوئے ( تو تلبیہ

پڑھیں ) پھر جب او نگی آپ کو لے کر میدان میں پہوچی تو ( راوی کہتا ہیں کہ ) میں نے دیکھا کہ

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنہ میری حد نظر تک لوگ ہی لوگ تھے جن میں سوار بھی تھے اور

پیدل بھی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داہنہ طرف بھی بھی حال تھا اور باعین جانب لوگ ای

طر ح جو ق در جو ق تھا اور پچپچہ کھی کھی حال تھا۔ یہاں کھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلند آوازے اس طرح تلبیہ پڑھا:

لَبِّكَ اللَّهُمَّ لَبِّكَ! لَبِّكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبِّكُ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ! اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے الفاظ میں تلبیہ پڑھنے تھا اور بعض صحابہ کرام ( تلبیہ پڑھنے کے بعد حجرے کے بعض الفاظ کا جواضافہ کر رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اضافے سے صحابہ کرام کو منع نہیں فرمایا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ذکورہ تلبیہ پڑھ رہے تھے ( راوی حدیث ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( ایام جاهلیت میں شہوروں میں ) تمصرف نہ کی نیت کرتے تھے اور عمرہ کو ( نج کے ساتھ ملانے کو ) جانے نہیں تھے۔ اس خیال کی اصلاح کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ اور نج کی ایک ساتھ نیت فرمائی ) پھر جب تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبہ اللہ میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( عمرہ کے مناسک اس طرح ادا فرمائے کہ ) آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور ( طواف شروع فرمایا اور ) سات پھیرے اس طرح فرمائے کہ پہلے تین پھیروں میں آپ نے رمل فرمایا ( لیکن ان تین پھیروں کو دور کے تے ہوئے ا چحل اچحل کر ادا کیا ) اور باقی چار پھیرے ( معمولی رفتارت ) چلتے ہوئے ادا فرمائے۔ پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے اور ایا یت پڑھی: "وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى" ( سورۃ بقرہ، پ:1، ع:15، آیت نمبر:125 ) ( مقام ابراہیم کو تم اپنا مصلی بناؤ ) پھر آپ نے یہاں دو رکعت ( دوگانہ طواف اس طرح ) ادا فرمائے کر آپ کعبہ اللہ اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے تھے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ان دور کے تون میں آپ نے "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" پڑھی ( دوگانہ طواف ادا کرنے کے بعد ) آپ ( زمزہ تشریف پی کر ) پھر حجر اسود کے پاس تشریف لائے

اوراس کو بوس دیا اور (سمی ادافرما نے کے لے )باب الصفات نکل کر صفا پر تشریف لاے جب

آپ صفات قریب ہوئے تو ایا آیت پڑی: " ان الصفا و المروة من شعائر اللہ "(سورۃ

بقرہ،پ:2،ع:19،آیت نمبر:158) (پہلے صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں ہیں) پھر

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یمین (سمی کو صفاتے) شروع کرتا ہوئے اس لے کر اللہ

تعالی نے اس آیت میں صفا کا ذکر پہلے کیا ہے آپ نے سمی اس طرح شروع فرمائی کہ آپ صفا پر

چڑھ گئے اور وہاں سے کعبہ اللہ پر نظر رواں اور کعبہ اللہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالی کی وحدانیت

اس طرح بیان فرمائے کہ آپ نے لاالہ الا اللہ اور اللہ أکبر فرما یے پھر آپ نے کلمات ادا

فرما نے لاالہ الا اللہ و حدة لا شریک لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل

شیء قدیر۔ لاالہ الا اللہ و حدة،انجز وعدہ، و نصر عبده، و هزم الاحزاب

و خداہ اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور ان پورے کلمات کو تین مرتبہ دہرا یا، پھر صفا سے اتر

پڑے اور مروہ پہاڑی کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپ وادی کے درمیان میں حصہ میں

(جس کو میلین اخضرین کہتے ہیں) پھو پچواس شیبی حصے میں دور کرگزرے اور (جب وادی کا شیب

حصہ ختم ہوگیا تو) آپ معمولی رفتار سے مروہ تک پہوچے اور مروہ کے اوپر چڑھ گئے اور مروہ پر آپ

ن وہی کیا جو صفا پر کیا تھا (یعنی کعبہ اللہ کی طرف رخ کر کے کلمہ تو حید جس کا جس کی اوپر زکر ہوا، اس

کو پڑھا اور دعا فرمائی (اور اس طرح آپ نے یعنی صفات مروہ اور مروہ سے صفا تک سات

پچھرے کے )یہاں تک کہ آپ جب آخری پہر ختم کرنے کے لے مروہ پر پہوچے تو آپ نے

لوگوں کو اور دی اور اس وقت آپ مروہ پہاڑی پر تھا اور سب لوگ (پہاڑی کے ) پیچ کھڑے تھے

آپ نے ارشاد فرما کہ اگر ابتدا ئے وہی سے میں ط کر لیتا کہ مجھ عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیتا ہے

تو میں اپنے ساتھ ہڑی میں قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ میں ادا کرتا (اور احرام کھول دیتا، اور چونکہ

بھذ ی میرے ساتھ ہے اس لے میں ج قرآن ادا کر رہا ہوں احرام نہیں کھولنا) البند تم میں جس

کے پاس بھذ ی نہ ہو تو وہ اپنا احرام کھول دے اور اس طواف اور سعی کو عمرے (کے مناسک) سے

(پین کر) سراقو بن ما ک بن جعشم رضی اللہ عنہ کہ رہے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (شہور نج

میں عمرہ ادا کرنے کی اجازت) کیا صرف اس سال کے لے کے؟ یا، میش کے لے؟ (تم تو زمانہ

جا بلیت میں شہور نج میں عمرہ ادا کرنے کو بر اجا نے تھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک

بات ہی کی انگلیان دوسروں باہو کی انگلیوں میں ذوالیس، اور ارشاد فرمایا (سنو!) نج (کے مہینوں) میں عمرہ

اوا کرنا جائزہ، ای بات کو آپ نے دوبارہ ادا فرمایا اور (یہی ارشاد فرمایا حکم صرف اس سال کے

لے نہیں ہے) بلکہ میش، میش کے لے کے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ (جواس زمانہ میں تمس کے حاکم

تھے) میں سے نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لے (قر بانی کے واسطے) اونٹ لا لے تو حضور صلی

اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم نے جب نج کا احرام باندھا تو کیا نہیں کی

تھی تو حضرت علی نے فرمایا میں اس طرح کی کر اے اللہ! آپ کے نہیں جس فتنہ کے نج کا احرام

باندھا ہے۔ میں کہی وہی احرام باندھتا ہوں (اس سے معلوم ہوا کہ اگر یوں احرام باندھ کر یا اللہ!

میرا احرام وہی ہے جوف لاش خفض کا احرام سے تو پیرجا تنزہ۔۔۔12 مرقات) (پین کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا چونکہ میرے ساتھ بھذ ی ہے (اس لے میں نے احرام نہیں کھولا ہے اور چول

کہ تہیار کے ساتھ بھذ ی ہے) اس لے تم کہی احرام نہ کھولو راوی فرماتے ہیں کہ وہ اونٹ جن کو

حضرت علی میں سے لا لے تھا اور وہ اونٹ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لا لے تھا ان

سب کی تعداد ایک سو تھی۔ راوی فرماتے ہیں کہ سب لوگوں نے جن کے پاس بھذ ی نہیں تھی) احرام

کھول دیا اور اپنے بال کتر دا لے (اور اپنا عمرہ پورا کر لیا) بجز نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور

الاصحاب کے جن کے پاس بھذ ی تھی (انہوں نے احرام نہیں کھولا) جب یوم ترویہ آ گھویں ذو الحجج

ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منی کے لئے روانہ ہوئے اور جس صحابی نے (عمرہ کرے احرام کہول

دیاتھا) انہوں نے رج کا احرام (کعبۃ اللہ تعالیٰ) باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (طوع

آفتاب کے بعد) اونچی پرسوار ہوئے (اور منی پہڑ اور مسجد خفیف میں) آپ پر نمازی ظہر،

عصر، مغرب، عشاء اور فجر اپنے اپنے اوقات میں ادا فرما کیں اور (نویں ذو الحجہ کو نماز فجر کے

بعد) آپ تحویزی دریاقام فرماپیہال تک کے سورج نکل آیا اور آپ پر نے حکم دیا کر (میدان عرفہ کی

(وادی نمرہ میں آپ پر کے لئے خیمہ کھڑا کیا جاتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منی سے

عرفات کے لئے) روانہ ہوئے اور قریش کواس باٹ کا لقین حقا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

بھی (عرفات کی بجاے مزدلفہ میں) مشعر حرام کے پاس وقوف فرما کیں گے جسیا کر ایام جابلیت

میں قریش کیا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مزدلفہ سے) آگے بڑھ ہے گے اور

عرفات (کے میدان میں) پہو چ گے اور وادی نمرہ میں جہال آپ پر کے لئے خیمہ نصب کیا گیا۔ اس

میں اتر گے اوراس میں قیام فرماپیہال تک کے سورج نکل گیا تو آپ اپنی اونچی قصواء کو تیار کر کے کا

حکم دیاجب اونچی حاضر کی گئی (اور زین کس ویا گیا تو آپ علیہ صلاۃ اللہ اس پرسوار ہوئے اور راوی نمرہ میں

تشریف لا گے اور صحابہ کرام کو (جہال آنج مسجد نمرہ سے اس میں) خطبہ ارشاد فرماپیا (حضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے متجمل اوراس کے پیارشا د فرماپیا: لوگو! آگاہ ہو جاؤ) تمہارے خون اور تمہارے مال

(ایک دوسرے پراس طرح) حرام ہیں جیسے تم آنج کے دن (نویں ذو الحجہ) کو اور ماہ ذو الحجہ کو اوراس

شہر میں مکہ کر مہ میں (قتل و غارت گری کو) حرام ہے ہو (تمہیں تمہارے اور اپنے دوسرے کا ناحق

خون کرنا اور ناحق ایک دوسرے کا مال لینا بر جلد اور بمیش بمیش کے لئے حرام ہے) خبردار! ایام

جابلیت کی بڑچیز (تمہیں ہر رسم اور ہر طریقت) میرے دونوں قدموں کے پیچے ہے (تمہیں وہ پامال ہے

اور اب اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں!) (پیچی سے لو! کے) زمانہ جابلیت میں کے گے تمام خون

معاف کر دینے گئے (اب ان کا نتو قصاص ہوگا، نہ خون بھااور نہ کفارہ) اور پہلاخون اپنے خاندان کا جس کو میں معاف کرتا ہوں، وہ ایاس بن ربعۃ ابن الحارث کا خون ہے (جبیا کے مرقات میں ذکور ہے) کروہ قبیلہ بنوسعد میں شیرخوار تھے (بنوسعداور بذیل کی اولاد میں بذیل کا ایک بچہ ران کولگا اس طرح) پذیل نے ان کو پلاک کرواور زمانہ جابلیت کا سودمعاف کرواگیا اور اپنے خاندان کے سود میں پہلاسود جس کو میں معاف کرتا ہوں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ہے، اب اس کومعاف کرواگیا (اس کا اب دعویٰ ناجائز ہے بالاصل رقم بطور قرض حسن دے گی جوواپس لی جائے گی) (پھر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید آیہی فرمایا لے لوگو! عورتوں کے حقوق جوتم پر میں ان کو ادا کرتے رہو، اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ذریعت رہو (اگر عورتوں کے حقوق ضائع کروگے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا) اس لے کر تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے (زیادہ اور حسن معاشرت کا) اور تم نے ان کی شرمگاہوں کوالہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے حلال کیا ہے اور عورتوں پرتمہارے حقوق یہ میں کر جتنے تم ناراض ہو، ان کو وہ گھر دول میں نہ آئے دیئی (خواہ وہ مردوہو لیا عورتیں) اگر وہ اس معاملہ میں تمہارا کہنا نہ مانیں (لمجئی ایے لوگوں کو گھر میں آئے دیئی) تو تم ان کو (تاویاً) مار سکتے ہو گر زیادہ نخت مرزا نہ دو، اور عورتوں کے تم پرحقوق یہ میں کر تم ان کو کھانا اور پیارا (اپنی مقدور کے مطابق دیا کرو (اے لوگو!) میں تمہارے پاس ایسی چیز چھوڑ رہاہو لکہ اگر تم اس کومضبوطی سے تحاہے رہوگے (لمجئی اپنا عقیدہ اور عمل اس کے مطابق رکھوگے) تو تم یہی گمراہ نہ ہو لگے اور پہیچیز اللہ کی کتاب لمجئی قرآن مجید ہے۔ (اس کے بعد ارشاد فرمایا لے لوگو!) تم سے (قیامت کے روز) میری بابت سوال کیا جائے گا (کر میں نے تمہیں دین پہوچایا نہیں) تو تم کیا جواب دو گے، حاضری نے عرض کیا تم بے شک اس امر کی شہادت دینے گے کہ آپ نے (احکام دین) تم کہو پچاہے اور امانت تکمیل فرمادی اور ہماری نہیرخواہی فرمائی (پیس

کر ) پھر آپ نے اپنی شہادت کی انگیزے آسان کی طرف اشارہ فرمایا اور لوگوں کی طرف جھکا کر

فرمایا اے! آپ (اس بات پر) گواہ رہے - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلمہ کو تین بار

فرمایا۔ پھر بال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کی اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی حضرت

بال نے پھر دوسری بار اقامت کی تو آپ نے عصر کی نماز پڑھائی اور آپ نے ان دونوں نمازوں

کے درمیان کوئی (سنن یا نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپ اونچی پرسوار ہوئے اور اس مقام تک

تشریف لائے جہاں آپ کو ظہیر نا تھا اور اپنی قصوائے نامی اونچی کارخ (جبل رحمت کے پاس ان پچڑول

کی طرف کیا (جن کا رنگ کالا تھا اور وہ چھوٹے چھوٹے تھے اور پکد نہیں کوئی پنے سامنے کیا اور قبلہ رو

ہوگر (اونچی پر بیٹھ رہے (اور دعا میں مشغول رہے (جان کو چاہے کہ جہاں تک ہو سکے جبل رحمت

کے قریب قیام کریں، اس لیے کہ اس مقام بركتون اور قبولیت دعا کا ہے اس لیے یہاں ظہیر نا فضل

ہے۔) یہاں تک کے سورج غروب ہوئے لگا اور زردی میں پھک کی ہوتی اور پھر آفاق عاتب ہوگیا تو

آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پنچھی (اونچی پر) بھجا یا (اور نماز مغرب پڑھے بلخیر مزدلفع کی

طرف روانہ ہوگئے)۔

Jabir ibn ‘Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) stayed in Madinah for nine years without performing Hajj. Then, in the tenth year, he announced to the people that the Messenger of Allah (ﷺ) would perform Hajj. A large number of people came to Madinah, all seeking to follow the Prophet (ﷺ) and emulate his actions.

We set out with him until we reached Dhul-Hulayfah, where Asma’ bint ‘Umays gave birth to Muhammad ibn Abi Bakr. She sent a message to the Prophet (ﷺ) asking, "What should I do?" He replied, "Perform Ghusl, secure yourself with a cloth, and enter Ihram."

The Prophet (ﷺ) prayed in the mosque, then mounted Al-Qaswa’. When his she-camel stood upright at Al-Bayda’, I looked as far as I could see in front of him, to his right, left, and behind him, riders and pedestrians everywhere, with the Messenger of Allah (ﷺ) among us. The Qur’an was being revealed to him, and he knew its interpretation. Whatever he did, we did the same.

He began the Talbiyah with Tawhid: "Labbayk Allahumma Labbayk, Labbayka La Sharika Laka Labbayk, Inna al-Hamda wa an-Ni‘mata Laka wa al-Mulk, La Sharika Lak." The people also recited this Talbiyah, and the Prophet (ﷺ) did not object. He remained steadfast in his Talbiyah.

Jabir said: "We only intended Hajj and did not know about ‘Umrah." When we reached the House (Ka‘bah) with him, he touched the Corner (Black Stone), performed Ramal (brisk walking) for three rounds, and walked normally for four. Then he proceeded to the Station of Ibrahim and recited: "And take the Station of Ibrahim as a place of prayer." (Al-Baqarah 2:125). He prayed two Rak‘ahs, placing the Station between himself and the Ka‘bah.

In another narration: "He recited Surah Al-Ikhlas and Surah Al-Kafirun in the two Rak‘ahs." Then he returned to the Corner, touched it, exited through the gate to As-Safa, and upon nearing it, recited: "Indeed, As-Safa and Al-Marwah are among the symbols of Allah." (Al-Baqarah 2:158). He said, "I begin with what Allah began." He ascended As-Safa until he saw the Ka‘bah, faced the Qiblah, declared Allah’s Oneness, and said: "La ilaha illa Allah, He fulfilled His promise, supported His servant, and defeated the confederates alone." He supplicated between these phrases three times, then descended to Al-Marwah.

When he reached the valley, he hastened until ascending again, then walked to Al-Marwah and repeated the same actions as at As-Safa. At the end of his Sa‘i, he called out from Al-Marwah to the people below: "If I had known beforehand what I know now, I would not have brought the sacrificial animals and would have made it an ‘Umrah. So, whoever among you does not have a sacrificial animal should exit Ihram and make it an ‘Umrah."

Suraqah ibn Malik ibn Ju‘shum stood up and asked, "O Messenger of Allah, is this for this year only or forever?" The Prophet (ﷺ) intertwined his fingers and said, "‘Umrah has been incorporated into Hajj, no, forever, forever!"

‘Ali arrived from Yemen with the Prophet’s sacrificial animals. The Prophet (ﷺ) asked him, "What did you say when you assumed Ihram?" He replied, "I said: O Allah, I assume Ihram as Your Messenger has." The Prophet (ﷺ) said, "I have the sacrificial animals with me, so do not exit Ihram."

Jabir said: The total sacrificial animals brought by ‘Ali from Yemen and those the Prophet (ﷺ) brought were one hundred. All the people exited Ihram and shortened their hair except the Prophet (ﷺ) and those who had sacrificial animals.

On the Day of Tarwiyah, they headed to Mina and assumed Ihram for Hajj. The Prophet (ﷺ) rode and prayed Dhuhr, ‘Asr, Maghrib, ‘Isha, and Fajr there. He stayed briefly until sunrise, then ordered a tent to be pitched for him at Namirah.

The Prophet (ﷺ) proceeded, while the Quraysh thought he would stop at Al-Mash‘ar al-Haram as they did in Jahiliyyah. But he continued until ‘Arafah, where his tent had been set up. He stayed there until midday, then ordered Al-Qaswa’ to be prepared. He rode to the valley and delivered a sermon:

"Your blood and wealth are sacred to one another, like the sanctity of this day, in this month, in this land. Every practice of Jahiliyyah is abolished beneath my feet. The blood feuds of Jahiliyyah are abolished, and the first blood feud I abolish is that of Rabi‘ah ibn al-Harith, who was nursed among Banu Sa‘d and killed by Hudhayl. The usury of Jahiliyyah is abolished, and the first usury I abolish is that of ‘Abbas ibn ‘Abd al-Muttalib, it is all abolished. Fear Allah concerning women, for you have taken them under Allah’s trust and made their intimacy lawful with Allah’s word. They have the right over you to good treatment, and you have the right over them that they do not allow anyone you dislike on your bedding. If they do so, discipline them lightly. They are entitled to their provision and clothing with kindness."

"I have left among you what, if you hold fast to it, you will never go astray: the Book of Allah. You will be asked about me, so what will you say?" They replied, "We bear witness that you have conveyed, fulfilled, and advised." He raised his index finger to the sky and pointed to the people, saying, "O Allah, bear witness. O Allah, bear witness." three times.

Then he gave the Adhan and Iqamah and prayed Dhuhr, then ‘Asr without any voluntary prayers in between. He rode until reaching the standing place at ‘Arafah, positioning his she-camel toward the rocks with the pedestrians in front and facing the Qiblah. He remained standing until sunset, when the yellow light faded and the sun had completely set. He placed Usamah behind him. [Narrated by Muslim]

In another narration from Sa‘id ibn Jubayr: "We departed with Ibn ‘Umar until we reached Muzdalifah, where he led us in Maghrib and ‘Isha with one Iqamah. Then he turned to us and said, ‘This is how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed with us in this place.’"

At-Tirmidhi narrated similarly and said: "This Hadith is Hasan Sahih, and this is the practice of the scholars: they do not pray Maghrib before reaching Muzdalifah. When they arrive, they combine Maghrib and ‘Isha with one Iqamah without voluntary prayers in between. This is the view of Sufyan ath-Thawri and others."

3564

اور مسلم کی ایک روایت میں جوسعید ابن جبیر رحمہ اللہ کی روایت کے اس طرح

ہے کہ جب (عرفات سے غروب آفاق کے بعد) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکل پہلا

تک کہ مزدلفع پہوچے اور آپ نے جب کو (مزدلفع میں) مغرب اور عشاء کی نماز (ایک اذان اور)

ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی۔ پھر وہاں سے واپس ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم نے جب اس مقام (یعنی مزدلفع) میں اس طرح (نماز مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور ایک، ی

اقامت کے ساتھ) جب کو پڑھا یعنی خصوصاً

اور ترنمی نے جب اس طرح روايت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

مزدلہ میں مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک، جو اقامت سے ادا کرنا چاہئے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) combined Maghrib and Isha at Muzdalifah, praying Maghrib as three rak'ahs and Isha as two, with one iqamah." [Narrated by Muslim]

پہلی حدیث
3565

عبد اللہ بن ماکہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (مزدلہ میں ایک جو اقامت سے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشاء کی نماز دور کرتیں (بلور قصر) پڑھیں تو آپ پہ سے (میرے والد) ماکہ بن حارث نے دریافت کیا کہ بیسی نمازی ہیں جو (کہآپ پہ نے ان کو ایک جو اقامت سے ادا فرما) تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام (جہاں مزدلہ میں ان نمازوں کو ایک اذان اور) ایک جو اقامت کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

‘Abdullah ibn Malik ibn al-Harith narrated: "I prayed Maghrib (three Rak‘ahs) and ‘Isha (two Rak‘ahs) with Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with them) with one Iqamah. Malik ibn al-Harith asked him, ‘What is this prayer?’ He replied, ‘I prayed them with the Messenger of Allah (ﷺ) in this place with one Iqamah.’" [Narrated by Abu Dawud]

دوسری حدیث
3566

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک جو اقامت سے ادا فرما لی اور دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نقل نماز نہیں پڑھی۔ اس کی روایت ابن ابی شیبة نے کی ہے۔

Jabir ibn ‘Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Adhan and one Iqamah, without voluntary prayers in between. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

In another narration from Abu Hanifah, from Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him): "The Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Adhan and one Iqamah."

3567

اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت میں البواویب الاصاری رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک جو اقامت سے ادا فرما لی۔

Jabir ibn ‘Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Adhan and one Iqamah, without voluntary prayers in between. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

In another narration from Abu Hanifah, from Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him): "The Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Adhan and one Iqamah."

تیسری حدیث
3568

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے

مزدلفع میں نماز مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک، جا قامت سے ادا فرمائی (اور بھی مذہب حنفی

ہے)۔ اس کی روایت ابو الشيخ نے کی ہے۔

Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Iqamah. [Narrated by Abu ash-Shaykh]

In Jabir’s lengthy Hadith in Muslim: "The Prophet (ﷺ) rested until dawn, then prayed Fajr at clear dawn with one Adhan and Iqamah. He rode Al-Qaswa’ until reaching Al-Mash‘ar al-Haram, faced the Qiblah, supplicated, and remained there until full daylight. He departed before sunrise, placing Al-Fadl ibn ‘Abbas behind him until reaching Muhassir. He hastened slightly, then took the middle road leading to Al-Jamrah al-Kubra, where he stoned it with seven pebbles, saying Takbir with each. He then went to the sacrifice area and slaughtered sixty-three camels with his own hand, giving the rest to ‘Ali to slaughter. He ordered pieces from each camel to be cooked, and they ate from the meat and drank the broth.

He then rode to the Ka‘bah and prayed Dhuhr in Makkah. He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib drawing water from Zamzam and said, "Draw, O Banu ‘Abd al-Muttalib! Were it not that people would compete with you, I would draw with you." They handed him a bucket, and he drank from it."

3569

_اور حضرت جابر رضی اللہ عنه، کی طويل حديث مين جس کو مسلم نے روایت کی ہے

(مزدلفع مين حضور صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مغرب اور عشاء کی نماز) اپك اذان اور اپك

اقامت سے ادا فرما ئین اوڑ زکرو دعا مین رات كڑارى (صاحب نهر ن فتوئي ديا ہے کہ مزدلفع مین

قیام کي رات شب قدر تے أفضل بھاس لکھ جاجگ کو جاجپین کر اس رات كوزكر اوڑ دعا مین

گذرار ين حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كي دعا ئين سيئين قبول هوتين -12)

تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تحويذي در) آرام فرما تے اوڑ زکرو دعا مين رات طلوع

هوتي تو آپ پنے تاركي بین ايکا ذان اوڑايكاقامت کے ساته مجبركي نمازاذا فرمائي پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ پچرا پ

اوتي رسوار ہوئے اوڑ مشعر زرام کے باسئشريف لاۓ (جومزدلفعميينايكپهازيتھ) (مزدلفعميينايكپهازيتھ)

مين نماز مجبراول وقت اذاكرنا ندہب حتفي -12) آپ بيهاققبله روہوكركهروء هوئى اوړ دعا ء

كي اوڑاللہ أكبر، لااللہ الاالله، اوړلااللہ الااللہ وحدة لاشریک له، لہ الملک ولة

الحمد يحيى وييميت وهو على كل شيء قادر "كاوردفرماتیربہ، بيها لتکرنحكي

روشن خوب چهلگئیپچراقپآقتاب نيكتےپيلبيها لتروانه ہوئی اوړ بنعباسرضی

اللعنهمكو(سواريپرپچهيبحايااورواديمحسرمينداخلهوئىاورواديمحسرستتميزيتغرزر

گئی-(اس لتكاسي وا ديمناصاببيلبرعذابنازلهوانتحااوروهبلاككروايعگئى)پچراقپآقتاب نيكتەپيلبيها لتروانه هوئىاوړبنعباسرضی

آبقشعکيرا ستت(جوعرفاتكو جاءتوقتاكبراستتسواتحا)مجربكبريقرشريفلاۓ

جہلاناسوقتايكادرختنتحااوراقباواسمجربقرسا تنكلريالمارياؤرهبركنكريقرالداكبر

كمابایكنكريالمأتيتجحوتيتحسينكرمابنوعلقبركلكرشهادتكماليستماراجاسلمانتحا(گوياوه

مر کے دانے کے برابر ہوئے ) آپ نے ان کو لپول کوادی کے نشیبی حصد میں ( کھڑے رکھے ) پچینکا۔

اس کے بعد آپ قربانی کی جگہ تشریف لاۓ اور اپنے دست مبارک سے ( مسجد ایک سواونٹ

کے ) 36 اونٹ کو ( جوآپ کی عمر تشریف کی تعداد میں تھے ) ذبح فرمائے پھر بقیر ( 37 اونٹ ) کو

آپ علیہ الصلاۃ و الحضرت علی رضی اللہ عنہ تے ذبح کروايااورحضرت علی رضی اللہ عنہ کو (قربانی کے ثواب

میں ) شریک فرمایا ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا جس کا ذکر آگے مستقبل باب میں

آرہا ہے - ) پھر آپ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر جانور سے تحویز اساگوشت لے لیا جائے - جناپچھ

گوشت لایاگیااوراس کوباندی میں داخل کرپکایا تو آپ نے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس

گوشت کوتاول فرمایااوراس کاشور پہی پیا ( اس لے کہ پیقربانی شکرانگی ہے ) اس کے بعد رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف افاضہ کے لے کعبہ اللہ کی طرف روانہ ہوئے اور ( بیت اللہ میں

داخل ہوئے اورطواف فرض ادا فرمایااور رج کی واجب سے ادا فرمائی ) پھر نماز ظہر کعبہ اللہ میں ادا

فرمائی پھر حضرت عبدالمطلب کی اولاد کی بنوعباس کے پاس تشریف لاے جولوگول کوزمزم پا رہے

تھے، آپ نے ان سے فرمایا لے بنی عبدالمطلب ( چاہ زمزم سے ) پانی کچھ چو اور لوگول کو پلاو _ اگر

مجھے پیاندیشنہ ہوتا کر لوگ ( میرے پانی کسی کی مجہتے ) تم پرلوط پٹی کے تو میں مجھی تمہارے

ساطع پانی کسی میں شریک ہوجاتا - پھر ان حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی ( سے پھرا

ہوا ) ایک دول دیا آپ نے اس کونوش فرمایا ( پھر فرمایا ( پھر آپ نے اس دول سے تحویز اپانی نوش

فرمایااوردول میں کل کی تو باقی پچھ ہوئے پانی کوال لوگول نے کنویں میں لوڈا دیا - جسیاکر مندامام

احمد میں مرودی ہے ) -

جس حاگی کے ساتھ قربانی کا جانور ہو، وہ قرآن کی نیت سے احرام باندھ

Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Iqamah. [Narrated by Abu ash-Shaykh]

In Jabir’s lengthy Hadith in Muslim: "The Prophet (ﷺ) rested until dawn, then prayed Fajr at clear dawn with one Adhan and Iqamah. He rode Al-Qaswa’ until reaching Al-Mash‘ar al-Haram, faced the Qiblah, supplicated, and remained there until full daylight. He departed before sunrise, placing Al-Fadl ibn ‘Abbas behind him until reaching Muhassir. He hastened slightly, then took the middle road leading to Al-Jamrah al-Kubra, where he stoned it with seven pebbles, saying Takbir with each. He then went to the sacrifice area and slaughtered sixty-three camels with his own hand, giving the rest to ‘Ali to slaughter. He ordered pieces from each camel to be cooked, and they ate from the meat and drank the broth.

He then rode to the Ka‘bah and prayed Dhuhr in Makkah. He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib drawing water from Zamzam and said, "Draw, O Banu ‘Abd al-Muttalib! Were it not that people would compete with you, I would draw with you." They handed him a bucket, and he drank from it."

The person who has an animal for sacrifice should enter into ihram with the intention of the Quran.

3570

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرمائی ہیں کہ ہم جتنے

الوداع کے موقع پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نگلہ تم میں توصرف عمرہ کا احرام بندھا تھا اور بعض نے نج کا احرام بندھا۔

‘A’ishah (may Allah be pleased with her) said: "We set out with the Prophet (ﷺ) for the Farewell Pilgrimage. Some of us assumed Ihram for ‘Umrah, others for Hajj."

In another narration: "The Prophet (ﷺ) said, ‘Whoever among you wishes to assume Ihram for Hajj and ‘Umrah, let him do so. Whoever wishes to assume Ihram for Hajj alone, let him do so. Whoever wishes to assume Ihram for ‘Umrah alone, let him do so.’ When we reached Makkah, he said, ‘Whoever assumed Ihram for ‘Umrah and did not bring a sacrificial animal may exit Ihram. Whoever assumed Ihram for ‘Umrah and brought a sacrificial animal should combine it with Hajj and not exit Ihram until completing both.’"

In another narration: "‘He should not exit Ihram until slaughtering his sacrificial animal. Whoever assumed Ihram for Hajj should complete it.’ ‘A’ishah said, ‘I menstruated and could not perform Tawaf or Sa‘i. I remained menstruating until ‘Arafah, having only assumed Ihram for ‘Umrah. The Prophet (ﷺ) ordered me to undo my hair, comb it, assume Ihram for Hajj, and abandon ‘Umrah.’"

In another narration: "‘Leave the ‘Umrah.’ I did so until completing Hajj. Then he sent ‘Abdur-Rahman ibn Abi Bakr with me to perform ‘Umrah from Tan‘im." [Agreed upon]

3571

ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ام المومنین فرمائی ہیں کہ تم (تجہ الوداع کے موقع پر) رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نگلہ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جونج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرنا چاہے تو وہ ایسا ہی (نج قران ادا کرے) اور اگر کوئی صرف نج،یکرنا چاہے تو وہ ایسا،یکرستتاہےاورجوکونی(پبل)صرف عمرہ کرنا چاہے توصرف عمرہ کی نیت کرستتاہے-(امام نووی رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں کراسستے نج کے تینوں اقسام لعنی قران تمتع اور افراد کے جوابزکا ثبوت ملتاہے-12) ام المومنین فرمائی ہیں کہ جب تم کلم میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوعمرہ کا احرام بندہ اوراس کے ساتھ بدی لعنی قربانی کا جانور نہ ہوتا وہ صرف عمرہ کرے احرام کھول دے اور جوعمرہ کا احرام بندہ اوراس کے ساتھ قربانی کا جانور بھی ہوتا وہ نج اور عمرہ کا ایک ساتھ (قران کی نیت سے) احرام بندہ لے (اس سے نج قران کی افضليت ثابت ہوتی ہے-12) اور وہ اس وقت تک احرام نہ کھول لے جب تک کروہ (عمرہ اور نج کے سارے مناسک پورے نہ کر لے اور جب دونوں کے مناسک پورے ہوجا کیں تو) وہ اب دونوں کا احرام کھول سکتا ہے۔

‘A’ishah (may Allah be pleased with her) said: "We set out with the Prophet (ﷺ) for the Farewell Pilgrimage. Some of us assumed Ihram for ‘Umrah, others for Hajj."

In another narration: "The Prophet (ﷺ) said, ‘Whoever among you wishes to assume Ihram for Hajj and ‘Umrah, let him do so. Whoever wishes to assume Ihram for Hajj alone, let him do so. Whoever wishes to assume Ihram for ‘Umrah alone, let him do so.’ When we reached Makkah, he said, ‘Whoever assumed Ihram for ‘Umrah and did not bring a sacrificial animal may exit Ihram. Whoever assumed Ihram for ‘Umrah and brought a sacrificial animal should combine it with Hajj and not exit Ihram until completing both.’"

In another narration: "‘He should not exit Ihram until slaughtering his sacrificial animal. Whoever assumed Ihram for Hajj should complete it.’ ‘A’ishah said, ‘I menstruated and could not perform Tawaf or Sa‘i. I remained menstruating until ‘Arafah, having only assumed Ihram for ‘Umrah. The Prophet (ﷺ) ordered me to undo my hair, comb it, assume Ihram for Hajj, and abandon ‘Umrah.’"

In another narration: "‘Leave the ‘Umrah.’ I did so until completing Hajj. Then he sent ‘Abdur-Rahman ibn Abi Bakr with me to perform ‘Umrah from Tan‘im." [Agreed upon]

3572

اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (ایا محرم جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو) وہ (عمرہ کرے) احرام نہیں کھول سکتا جب تک وہ (وسوی زوالجکو) نج کی قربانی ذبح نہ کرے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو، اس کا نج قران ہوگا اور وہ تمتع کی نیت سے نج ادابین کرستتا اور مہی نہہسب حتی ہے-بنایی، مرقات-12) اور جو خصوصا صرف نج (افراد) کا احرام بندہ ہے تو وہ (برحالت میں اپنا احرام نہ کھول لے یہاں تک کہوہ) اپنا نج پورا کر لے۔

احرام باندھنے کے بعد عورت حاضر ہو جائے تو کیا کرے

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ (میں نے تمتے کی نیت سے عمرہ کا احرام

بندھا تھا لیکن ) میں ابھی (عمرہ کا) طواف نہ کر سکتی تھی اور نہ مرودہ اور صفا کے درمیان سے کی تحقی کر سکتی

حیث آگیا (اس سے معلوم ہوا کہ حاضر کا کعبہ اللہ میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اس وجہ سے

حافظ طواف کعبہ کر سکتی اور چون کہ سے بین الصفا والمرودہ تابع طواف ہے اس لئے ام المومنین

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے طواف کیا اورنے سے ادا کی۔ 12) اور میں حالت حیض میں رہی،

پہال تک کر عرف کا دن آگیا اور میں تو صرف عمرہ کی کا احرام باندھی تو نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نہ مجھے حکم دیا کہ میں (عمرہ کا احرام کول دول لیجن) سرکے بال کول دول اور کچھ کرول (تاکہ

اس سے عمرہ کا احرام ختم ہو جائے۔) اور چ کا احرام باندھ لول اور عمرہ کولتوی کر دول۔ (اس سے

معلوم ہوا کہ امام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما رضی اللہ کا تمتے تھا، اس لئے آپ نے صرف عمرہ

کا احرام باندھا تھا اور حیض آنے کی وجہ سے اور عرف کا دن شروع ہو جانے کے سبب سے آپ نے

عمرہ کا احرام توڑ دیا اور چ کا احرام باندھ لیا۔ اس لئے کر مناسک نے مثلًا وقوف عرفہ، وقوف مزدلفہ،

رمی جمار وغیرہ کی ادائی میں حیض سے کوئی رکاوٹ پیرا نہیں ہوتی۔ البتہ وہ طواف زیارت کو پاک

ہونے کے بعد ادا کر لے، اگر چیکہ بارہویں ذو الحجہ کے بعد، یا کیوں نہ ہو۔

اگر کسی عورت کو جس نے تمتے کی نیت سے احرام باندھا تھا اور حیض یا کسی وجہ سے عمرہ کے

افعال ادا کے بغیر اس نے عمرہ کے احرام کو توڑ دیا تو چون کہ اس نے قصد عمرہ کے احرام کو توڑا، اس

لئے اب کی عورت پر بحد میں عمرہ کی قضاء کے ساتھ احرام توڑنے کی وجہ سے دم کچھ لازم آنے کا اور کچھ

نہ ہیں حیثیت ہے۔ ماخوذ از بذل الاجود۔ 12)

Aisha (may Allah be pleased with her) reported: We set out with the Prophet (ﷺ) only intending Hajj. When we reached Sarif, I began menstruating. The Prophet (ﷺ) entered while I was crying and asked, "What is wrong?" I said, "I have gotten my period." He said, "This is what Allah has decreed for the daughters of Adam. Do everything the pilgrims do, except Tawaf until you are pure." [Agreed upon]

3573

اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد

فرمايكه) تم عمره کو چھوڑ دو تو میں نے اپنا کیا پیہال تک کہ جب میں نے اپنا کچھ پورا کر لیا تو آپ

نے میرے ساتھ (میرے بجاۓ) عبد الرحمن بن الی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور مجھے حکم دیا میں اپنے

فوٹ شدہ عمرہ کی جگہ مقام تعمیم جا کر (عمرہ کا احرام بندھول اور) اس عمرہ کی قضا کر لون (چنانچہ

میں نے اپنا کیا)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔

قارین کے لئے عمرہ اورنگ کا علم علحدہ طواف اور عکدہ علم علحدہ سے واجب ہے

پہلی حدیث

It is narrated on the authority of the Messenger of Allah ﷺ that he said:

Leave off your 'Umrah, so I did as I was commanded until I completed it. Then he sent 'Abd al-Rahman ibn al-'Irbad with me and ordered me to go to the place of my interrupted 'Umrah, put on the ihram for 'Umrah, and complete it. So I did as I was commanded. This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim. For the reciters, the knowledge of performing 'Umrah involves a separate tawaf and sa'i.

3574

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جب الوادع کے موقع پر) دو طواف ادا فرما یے اور دوم رتبہ ادا فرما یے۔ اس

کی روایت دار طی نے لی ہے۔

It is narrated from Imran bin Husain (RA) that he said:

The Noble Prophet ﷺ performed two circumambulations (at the time of al-Wada') and then performed the second rak'ah. This narration is reported by Dar al-Tayyib.

3575

اور ابن الی شیبہ کی ایک روایت میں زیادہ بن ماکے سے اس طرح مرودی ہے

کہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ قارن دو طواف کرے گا اور دوسرا

کرے گا۔ جو بھرتی میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہ کے تمام راوی ثقة ہیں۔

دوسری حدیث

‘Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) performed two Tawafs and two Sa‘is. [Narrated by Ad-Daraqutni]

In another narration from Ibn Abi Shaybah, from Ziyad ibn Malik: "‘Ali and Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with them) said, ‘One performing Qiran does two Tawafs and two Sa‘is.’" Al-Jawhar an-Naqi states: "The narrators are trustworthy."

3576

ابراہیم بن محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ میں

نے (جب کے موقع پر) اپنے والد (محمد بن الحنفیہ) کے ساتھ طواف کیا اور انہول نے نج اور عمرہ

کی ایک ساتھ (یعنی قران کی) نیت کی تو آپ نے مج اور عمرہ کے لئے دو طواف کے اور دوم رتبہ

مجھے سے ادا کی اور پھر مجھے سے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھی اپنا کیا تھا اور حضرت علی

رضی اللہ عنہ نے ان سے پیچھی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھی (جب الوادع کے موقع

پر) اپنا کیا تھا۔

اس کی روایت نسائی نے اپنی سنن کبری میں کی ہے۔

تیسری حدیث

Ibrahim ibn Muhammad ibn al-Hanafiyyah narrated: "I performed Tawaf with my father while he combined Hajj and ‘Umrah. He performed two Tawafs and two Sa‘is for them and told me that ‘Ali (may Allah be pleased with him) did the same, narrating that the Prophet (ﷺ) did so." [Narrated by An-Nasa’i]

3577

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا جب تم نے اور عمر کا

(قرآن کی نیت سے) ایک ساتھ احرام باندھو تو تم دو طواف کرو اور دو مرتبہ سجی بین الصفا والمروہ ادا

کرو (ایک طواف اور ایک سجی عمرہ کی اور ایک طرح دومراطواف رج کا طواف زیارہ اور رج کی سجی)

منصور کہتے ہیں کہ میں جب دست ملا تو (دیکھا کہ) وہ قارن کے لئے ایک طواف کافتوی دے رہے

تھے میں نے ان سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں

اس حدیث کو پہلے سے لیا ہوتا تو (قارن کے لئے) دو طواف کا فتوی دیتا اب (جب کہ مجھے معلوم

ہو چکا ہے اس لئے) آنکہ دے سے (قارن کے لئے) دو طواف اور دو سجی کا فتوی دوں گا۔ اس کی

روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔

‘Ali (may Allah be pleased with him) said: "If you assume Ihram for Hajj and ‘Umrah, perform two Tawafs and two Sa‘is between As-Safa and Al-Marwah." Mansur said: "I met Mujahid, who was issuing Fatwa that Qiran requires only one Tawaf. I mentioned this Hadith to him, and he said, ‘Had I heard it, I would have only issued Fatwa for two.’" [Narrated by Muhammad in Al-Athar]

3578

اور ابو عمر نے التمهید میں اس حدیث کو البونصر کے واسطے حضرت علی رضی

اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور ابو عمر نے پیش کہاہے کہ احش نے اس حدیث کو ابرہیم خیتی سے اور ماک بن حارث نے عبد الرحمن بن ازینہ سے روایت کی ہے اور عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے ایسائی بیان کیا (کہ قارن کو دو طواف اور دو سجی ادا کرنے چاہے) اور پیسند کی جیدہ ہے۔

چوتھی حدیث

‘Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) performed two Tawafs and two Sa‘is. [Narrated by Ad-Daraqutni]

In another narration from Ibn Abi Shaybah, from Ziyad ibn Malik: "‘Ali and Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with them) said, ‘One performing Qiran does two Tawafs and two Sa‘is.’" Al-Jawhar an-Naqi states: "The narrators are trustworthy."

3579

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نے اور عمر کو (قرآن کی نیت

سے) جمع کیا اور دو طواف اور دو سجی ادا کے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے۔

ف: واضح ہو کر ذہب حتمی میں قارن کے لئے چار طواف ہیں:

(1) طواف عمرہ (جو عمرہ ادا کرنے والے کے لئے فرض ہے

(2) طواف قدوم (یعنی طواف قارن اور مفرد کے لئے سنت ہے جب کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں رواج ہوتا تھا)

(3) طواف زیارة، یعنی طواف بہر حاج پر فرض ہے اور اس کا وقت دسویں ذو الحجہ کی فجر سے لے کر بارہویں ذو الحجہ کی مغرب تک ہے

(4) طواف وداع - اس کو طواف رخصت بھی کہا جاتا ہے، یعنی طواف بہر آفاق پر واجب ہے خواہ وہ مفرد ہو یا قارن ہو۔ امتیح اس کا وقت طواف زیارة کے بعد ہے اور کہ معظّم سے رخصت ہونے سے پہلے تک ہے۔

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہہ الوداع کے مقام پر قران کی نیت سے نجادا فرامیا اور تین طواف ادا فرما لے گئے۔ پہلا طواف آپ پر نعمت کا چوٹی ذو الحج کو ادا فرما یا جب کر آپ کم معظّم میں داخل ہوئے۔ دوسرا طواف آپ پر ندو سویں ذو الحج کو ادا فرما یا جو طواف زیارة تھا۔ اور تمیرا طواف آپ پر چودسویں ذو الحج کو ادا فرما یا جو طواف وداع تھا۔ رابطواف قدوم جو قارن کے لئے سنت ہے وہ طواف عمرہ جس کو آپ پر پہلی دفعہ ادا فرما یا سے میں ادا ہوگیا جسے ایک شخص مسجد میں باوضو داخل ہوا اور نفر اگوئی سنت پڑھ لے تو تحية المسجد کی ادائیگی اس میں وجاتی ہے۔ رہا پیکر صدر کی احادیث شریفہ میں دو طواف ہے اور دوسی کا جو ذکر ہے، ان دو طوافوں سے مراد ایک عمرہ کا مستقل طواف اور دوسرا نج کا فرض طواف اور دوسی سے مراد ایک عمرہ کی مستقبل سے اور دوسرا نج کی مستقبل سے ہے اور ہر دو طواف اور ہر دوسی کا علم ہے علم ہے ادا کرنا قارن کے لئے ضروری ہے اور میں نہ ذہب حتمی ہے۔ ماخوذ از عرف شنزی۔ اور خ القادری میں کہا ہے کہ قارن کے لئے (طواف وداع کے سوا) دو مستقل طواف اور دو مستقل سے کی روایت اکابر صحابہ کے حضرت عمر حضرت علی حضرت ابن مسعود اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ بہر حال قابل تنقیح ہے۔12

ایام تشریق میں روزے رکھنا منع ہے

Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with them) combined Hajj and ‘Umrah, performing two Tawafs and two Sa‘is. He said: "This is how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do it." [Narrated by Ad-Daraqutni]

قَارِئِن کے لئے جملہ چار طواف کا ثبوت اور اس کی تفصیل
3580

قتیبة بن لی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایام تشریق میں گیارہ، بارہ اور تیرہویں ذوالحجہ کے دن پیچ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دونوں پیچ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

It is narrated from Qatadah ibn al-Layth (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'The days of Tashriq are the eleventh, twelfth, and thirteenth of Dhu al-Hijjah, during which one should perform the tawaf and remember Allah, the Exalted.' This is narrated by Muslim.

3581

اور طحاوی کی ایک روایت میں اسماعیل بن محمد بن سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہم اپنے والد کے وسط میں اپنے دادا (حضرت سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں منع کے دونوں پیچ پیر داکرول کہ پیدا کراؤں، پین اور (اپنی بیویوں سے) جماع کرنے کے دونوں پیچ اس لیے کر طواف زیارت کے بعد عورتیں اپنے شوہروں کے لیے حلال ہوجائیں) تو ان دونوں پیچ ایام تشریق میں روزے نہ رکھو (عناپی میں مجھی اس بارے میں ایک روایت اس طرح ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرما یاخبرداران دونوں پیچ ایام تشریق میں روزے نہ رکھو۔

تھا اور پصرف اس سال کے لئے تھا اور حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص تھا۔ اب کوئی شخص جس کا احرام باندھ کر اس کو فتح نہیں کر سکتا۔ ذیل کی حدیثیں اس کی تائید میں آرہی ہیں:

جہت الوداع کے موقع پر عمر رضی اللہ کو فتح کر نے کا حکم صرف اس سال کے لئے خاص

تھا۔ پہلی حدیث

It is narrated on the authority of Isma'il bin Muhammad bin Sa'd bin al-Waqqas (RA) through his father from his grandfather, Sa'd bin al-Waqqas (RA), who said:

The Messenger of Allah ﷺ commanded me to perform the circumambulation of the Ka'bah after the visitation, touching the two corners of the Black Stone and the Yemeni corner, so that women become lawful for their husbands, and not to fast on the days of Tashriq. In another narration, it is stated that the Messenger of Allah ﷺ said: 'Do not fast on the days of Tashriq.' This command was specific for that year, and it was a command from the Messenger of Allah ﷺ. Now, no one who enters into Ihram can break it without completing the rites. The following hadiths confirm this: The command to break the Ihram at the time of farewell was specific for that year.

تہمید

شہور رج میں عمرہ کا جواز ایام جابلیت میں عرب شہور رج میں عمرہ ادا کرنے کو بہت بردا غناہ نہیں تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اللوداع کے اس جابل رسم کو ختم کرنے کے لیے حکم دیا کہ جس شخص نے صرف نج کا احرام باندھا ہے اور وہ اس احرام کو نہ کردے اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے، پھراس کے بعد نج کا احرام باندھ لے۔ یہ حکم زمانۂ جابلیت کے اس عقیدہ کو توڑنے کے لیے دیا گیا

3582

ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے

سے احرام باندھ کر اس کو عمرہ سے فتح کرنا صرف وہی سوارول کے لئے تھا جو (جہت الوداع کے موقع

پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے (تاکہ زمانہ جاهلیت کی رسوم کو متاثریا جائے)۔ اس

کی روایت ابوداود نے کی ہے اور نسائی نے بھی سنن میں کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے۔

دوسری حدیث

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) said: "Converting Hajj to ‘Umrah was only for those who accompanied the Prophet (ﷺ)." [Narrated by Abu Dawud]

3583

بلال بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت

حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول

اللہ صلی اللہ علیہ! مجھ کو عمرہ سے فتح کرنا صرف ہمارے ہی لئے خاص تھا ایر (قیامت تک) سب لوگوں کے

لئے عام رہے گا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یصرف ہمارے ہی لئے خاص تھا

(تاکہ تم کو غلط عقیدے سے باز رکھا جائے، آپ نے دکوئی شخص کو عمرہ سے فتح نہیں کر سکتا)۔

اس کی روایت ابوداوداور نسائی نے کی۔

شهورنج میں عمرہ کے ساتھ فتح کولانا جائزہے

Bilal ibn al-Harith narrated from his father: "I asked, ‘O Messenger of Allah, is converting Hajj to ‘Umrah specific to us or for all people?’ He replied, ‘It is specific to us.’" [Narrated by Abu Dawud]

3584

جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے

روایت کرتے ہیں کہ سراقد بن ماک بن جعشثم مد لی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ یارسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ و سلم ! ہم نے ( اس سال ) ( شہورنچ میں ) جو عمرہ ادا کیا ہے اس کی اجازت کیا صرف اس سال کے لئے ہے یا بمیشہ کے لئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر ( شہورنچ میں عمرہ کرنے کی اجازت ) قیامت تک کے لئے ہے ( اب آپ نے دہ جو شخص چاہے تمتع کی نیت سے پہلے عمرہ کرنے پر رنج ادا کرے )۔

اس کی روايت امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب " الآثار " کے باب التصْدیق بالقدر " میں کی ہے۔

Jabir ibn ‘Abdullah al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that Suraqah ibn Malik asked: "O Messenger of Allah, is this ‘Umrah for this year only or forever?" He replied, "Forever." [Narrated by Muhammad ibn al-Hasan in Al-Athar]