(اس باب میں احرام باندھنے اور لبیک کہنا کاپیانہ)
ف: واضح ہو کہ ذہب حقی میں احرام کے لئے دو چیزیں شرط ہیں، ایک نیت دوسرا لبیک کہنا
(لبیک یعنی : لَبِّكَ اللَّهُمَّ لَبِّكَ لَبِّكَ لا شَرِیکَ لَكَ لَبِّكَ إِنَّ الْحَمدَ وَالنِّعْمَةَ
لَكَ وَالْمُلْکَ، لا شَرِیکَ لَکْ-12)
اور جب تک احرام باندھنے والا احرام کی نیت نہ کرے اور لبیک زبان سے نہ کہ تو اس کا
احرام صحیح نہ ہو گا۔ اس لئے کہ لبیک بہتر لہجہ ہے تحریک یہ ہے کہ اور جب وہ احرام کی نیت کرے لئے اور زبان
سے لبیک کہ دے تو وہ ثر عاً خرم ہو گیا اور اگر صرف احرام کی نیت کی لئے اور زبان سے لبیک نہ کہ تو وہ
خرم نہیں ہو گا اس لئے حاگی کو چاہئے کہ جب وہ احرام کی نیت کرے احرام باندھنے لئے لبیک کہ
بحران ق، حاشیہ عینی برکنز الدقائق اور اگر محرم تلبیم ما ظور ہیں لبیک کے الفاظ نہیں ادا کرسکتا لہ تو اس کو
چاہئے کہ احرام کی نیت کے ساتھ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا اللَّحْمُدُللهِ يَا لَا الَّهِ اَلا اللهُ يَا اللَّهُ أَکْبُرُ کہے
لئے احرام درست ہو جائے گا اور اگر خرم گونگا لہ تو اپنی زبان کو حرکت دے لئے جسیا کہ عام طریقہ اور
رواختار میں نذور ہے
In this chapter, the procedure for donning the ihram and reciting the talbiyah is discussed.
F: It is clear that in the true religion, two conditions are necessary for the validity of the ihram: one is the intention, and the other is reciting the talbiyah.
(Talbiyah means: لَبِّكَ اللَّهُمَّ لَبِّكَ لَبِّكَ لا شَرِيکَ لَكَ لَبِّكَ إِنَّ الْحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيکَ لَكَ - Labbayka Allahumma Labbayk, Labbayk, la sharika laka Labbayk, innal hamda wan ni'mata laka wal mulk, la sharika lak)
And until the person intending to don the ihram does not make the intention and recite the talbiyah verbally, his ihram will not be valid. The reason for this is that the talbiyah is a better expression, and when he makes the intention for the ihram and recites the talbiyah verbally, he has fulfilled the requirement. If he only makes the intention for the ihram but does not recite the talbiyah verbally, his ihram will not be valid. Therefore, it is incumbent upon the pilgrim that when he intends to don the ihram, he should recite the talbiyah verbally, as mentioned in Q, the marginal notes of Ain al-Barkat, and if the pilgrim cannot pronounce the words of the talbiyah due to a speech impediment, he should recite 'Subhan Allah, ya Alhamdulillah, ya La ilaha illa Allah, ya Allahu Akbar' with the intention of the ihram, and his ihram will be valid. If the pilgrim is mute, he should move his tongue in the usual manner and according to the prescribed method, as is the case with vows
وقول الله عزوجل واذن في الناس بالحج ياتوك رجالا وعلي كل ضامر ياتين من كل فج عميق اور الل تعالي كا ارشاد سور حج ع ايت نمبر مي الل تعالي ن حضرت ابرا يم علي ميا وعلي الصلا والسلام س فرما يا ابراهيم تم لو و مي نج ك فرض و ن كا اعلان كرو اس اعلان س لو تمهارد اس يعني تمهاردي عمارت مقدس ك اس نج ك لي لا يمي ياد نجي اور سوار نجي وبلي او نجو ر جو سفر كي وج س دبلي ويي ول اور يا ن وا ل دوردوراز راستو س و ي
ف: تقسیرات احمد بیگ میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہما وعلیہ الصلاۃ والسلام کو جو کے اعلان کا حکم دیا تو آپ علیہ صلوات اللہ نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد مقام ابراہیم علیہ جبل بوقس پر کھڑے ہوئے اور یہ نداء دی۔ اے لوگو! تمہارے پروردگار نے گھر بنایا ہے اور تم کو جائے کرنا حکم دیا ہے تو تم جائی کرو!
تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اس نداؤ کو ہزار اس بندہ تک پہوچانے جو قیامت تک جس کے مقدر میں جائے کرنا تھا اور ان لوگوں نے اپنے اصلاب یا رحم میں اس نداؤ کو سنادیا اور اس کے جواب میں لبیک کہا اور صاحب بدایی نے باب الاحرام میں تلبیکے بیان کے بعد جو کلمہ کہ لبیک حقیقت میں حضرت ابراہیم علیہما وعلیہ الصلاۃ والسلام کی نداؤ کا جواب ہے اس واقعی طرف اشارہ ہے۔
وقوْلہ تعالیٰ : "وَاَتمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمرَةَ لِلہِ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سورۃ بقرہ، ع: 24، پ: 2، آیت نمبر: 196) جو اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنوایی کے لئے پورا پورا بجا لاو (لیعنی نیت خالص ثواب کی ہواورافعال اورثرات کی پوری پوری ادا کرو)
ف: بدایی میں کہا ہے کہ اس آیت شریف میں قرآن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اس لئے کر اس میں جو اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا جاتا ہے اور جتنے میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھتے ہیں اور عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے، اس کے برخلاف قرآن میں جو اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھتے ہیں اور احرام اس وقت تک نہیں کھولا جاتا جب تک نہ کے پورے مناسک ادا نہ ہون اس وجہ سے نہ کے بقیہ دونوں فسمین لیعنی تمتع اور افراد پر قرآن کی فضیلت
ہے۔
احرام سے قبل لگانی ہوئی خوشبو کا اثرجسم پرباقی رہتا تو حرج نہیں
In Tafsir-e-Ahmed Beg, it is stated that when Allah, the Exalted, commanded Prophet Ibrahim (peace be upon him) to make the announcement, he stood on Mount Safa after the construction of the Ka'bah and proclaimed: 'O people! Your Lord has built a House, and He has commanded you to visit it, so visit it!' Thus, Allah, the Exalted, made this call reach a thousand of His servants who were destined to perform the pilgrimage until the Day of Judgment. These people heard the call while they were in their loins or wombs, and in response, they said, 'Labayk' (Here I am at Your service). The word 'Labayk,' which is recited after the Talbiyah in Bab al-Ihram, is actually a response to the call of Prophet Ibrahim (peace be upon him).
And the Exalted Allah says: 'Complete the Hajj and Umrah for Allah' (Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 196). This means: Perform Hajj and Umrah purely for the pleasure of Allah, with sincere intentions, and fulfill all the rites and rituals completely.
In Bada'i, it is mentioned that this noble verse establishes the excellence of the Quran because it indicates that those who combine the Ihram of Hajj and Umrah should not break their Ihram until they have completed all the rituals. In contrast, those who only perform Umrah from the Miqat and then break their Ihram after completing Umrah are acting against the guidance of the Quran. Therefore, the excellence of the Quran is evident over the other two types of Hajj, namely Tamattu' and Qiran.
If the fragrance applied before entering the state of Ihram remains on the body, there is no harm in it.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام باندھنے سے پہلے جب آپ احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو میں آپ (کے بدن) پر عطر لگانی اور جب آپ (رسوی ذوالحج کو ری جماراور حلق کے بعد) احرام کھول دیتے تو طواف زیارت سے پہلے جسی عطر لگانی اور اس عطر میں مسك ہوتا تھا گویا کہ میں رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ و آ ل و سلسل کی ما نگ میں اس عطر کی چکر ڈیپو ری ہول جب کرآ پ حالت احرام میں ہوئے ) لیمن احرام باندھنے سے پہلے لگائے ہوئے عطر کا اثر احرام باندھنے کے بعد کچھ سرمبارک پرباقی رہتا )۔اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پرکی ہے۔ احرام باندھنے سے پہلے ایسی خوشبو والے جس کا اثر کچھ پرباقی رہ ف : درختار میں کہا ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے بدلا پرعطر لگانا جائزہے گمر احرام کے کچھ پرابیاعطرنے لگائے جس کا اثر کچھ پرباقی رہے اور اگر بدلا پراعرام باندھنے سے پہلے ایساعطر لگائے جس کا اثر احرام باندھنے کے بعد باقی رہاتوکونی حرنمیں، البتر احرام کی حالت میں جسمیا کچھ پرخوشبو لگانا حرام ہے۔ وا ضحو کہ خوشبو کے استعمال کا حکم صرف مردوں کے لیے ہے۔ اس حدیث ثریف سے یہی معلوم ہوا کہ رضی جماراور حلقدے بعد جب احرام کھول دے تو طواف زیارة سے پہلے خوشبو لگانا مباح ہے اگرچہ کہ طواف زیارة سے پہلے پیوی سے صحبت منع
ہے۔12
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I would perfume the Messenger of Allah (ﷺ) before his Ihram and after exiting Ihram before Tawaf, with a musk-based perfume. I still see the shine of the perfume on his hair part while he was in Ihram." [Agreed upon]
(1) Statement on Perfuming: Ad-Durr al-Mukhtar states: The preferred method is applying perfume to the body (not clothes) with a substance whose traces vanish.
لَبيْكَ الْلَهمَّ لَبيْكَ! لَبيْكَ لا شَرِيْكَ لَكَ لَبيْكَ! إِنَّ الْحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيْكَ لَكَ!
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (احرام باندھنے کے بعد) بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے سناتے اور آپ کے سرمبارک کے بال نچھوئے ٹھاوارآ پاس طرح تلبیہ پڑھ رہے تھے:
اے اللہ ! میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہول، خداوندا! تمیرے دربار میں حاضر ہول! مجھ اقرار سے کرآ پ کا کوئی شریک نہیں! آپ کی سرکار میں حاضر ہول! بے شک ہر قسم کی تعریف اور بهتری آپ کی کوسزاوار ہے، میں پھرا قرار کرتا ہول کرآ پ کا کوئی شریک نہیں۔
رسول اللّ صلی اللّ علیہ وآ لرو سلم (لبیک کے ) ان ذکورہ کلمات پر اضافہ کیا جائے تو اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔ ف: صاحب رداختار نے بہراق کے حوالے سے کلمات کے لبیک کے الفاظ کے درمیان میں اضافہ کیا جائے البتہ لبیک کے ذکورہ پورے کلمات کے بعد اس طرح اضافہ کیا جاسکتا ہے لَبِیْکَ إِلَهَ الْخَلْقِ لَبِيْكَ! غَفَارَ الذُنُوبِ لَبِيْكَ! لَبِيْكَ وَسَعْدِيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدِيْكَ وَالرُغْبَاءُ إِلَيْكُ!. اے خلقوالت کے ماک !میں حاضر ہون !اے گناہوں کے بخش واے حاضر ہون !میں تمیری بارگاہ میں حاضر ہون، حاضر ہون !میری اس حاضری کومبارک بنادے، اس لے کہ هرتم کی بجلائی آپ میں قبول میں ہے، میرا مقصد تمیری عی ذات پاک ہے۔ تلبیہ بلندآ واز سے پڑھنا چاہئے
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) recite Talbiyah loudly while his hair was matted (with resin):
'Labbayk Allahumma Labbayk, Labbayka La Sharika Laka Labbayk, Innal-Hamda Wan-Ni’mata Laka Wal-Mulk, La Sharika Lak.'
He did not add to these words." [Agreed upon]
(1) Statement on "Recite loudly": Al-Hidayah explains: Raising the voice is recommended for Talbiyah as it is a public act of worship, unlike regular supplications which are preferably silent.
(2) Statement on "Matted hair": Ibn al-Malik said: Tabling (matting hair with resin) prevents dust and pests. Shafi’is permit it, while Hanafis require a sacrifice if non-fragrant substances are used (as it resembles head-covering). Al-Mirqat and Fath al-Qadir discuss this.
(3) Statement on "Did not add": This refers to his usual practice. Al-'Alamgiriyyah states: The standard Talbiyah is as narrated, but additions like "Labbayka Ilahal-Khalq" are permissible afterward, not during the core phrases.
خلاد بن سائب اپنے والدحضرت ساتب رضی اللّ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّ صلی اللّ علیہ وآ لرو سلم نے ارشادفرمايا کہ حضرت جبریل علی السلام میرے پاس آکے اور یہ کہا کہ میں اپنے اصحاب کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ بلندآ واز سے کہا کریں۔ اس کی روایت امام ماک،ترمزی،ابوداوود،نسائی، ابن ماجہاوردارمی نے کی ہے۔
Khalad ibn As-Sa’ib narrated from his father (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Jibril came to me and commanded me to order my Companions to raise their voices in Talbiyah." [Narrated by Malik, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i, Ibn Majah, and Darimi]
In Daruqutni’s narration from Aisha (may Allah be pleased with her): "When the Prophet (ﷺ) intended to enter Ihram, he washed his head with lotus leaves and ushnan (soapwort), then oiled it."
Muslim’s narration from Nafi’ cites Ibn Umar (may Allah be pleased with them) with the same Talbiyah, adding that Ibn Umar would append: "Labbayka wa Sa’dayka wal-Khayru bi Yadayka, wal-Raghba’u Ilayka wal-‘Amal."
(1) Statement on Preparation: It is recommended to cleanse oneself before Ihram. Perfume is allowed if its substance dissipates, though its scent may remain. Applying musk or ghaliyah (a fragrant paste) is also permitted. Fatawa Qadi Khan and Al-Bahr ar-Ra'iq confirm this.
قطنی کی روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللّ صلی اللّ علیہ وآ لرو سلم جب احرام (کے لے غسل کا) ارادہ فرماتے تو اپنے سرمبارک کو غطی اوراشنان (کے پانی) سے دھوتے اورسرمبارک میں (غسل کے بعد) کوئی تیل بھی لگاتے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to enter ihram, he would perfume himself with the best perfume he could find, and I would see the glistening of the oil on his head and beard afterward." [Agreed upon]
لَّبِيْكَ اللَّهُمَّ لَبِيْكَ! لَبِيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبِيْكَ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ
لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيْكَ لَكَ!
مسلم کی ایک روایت میں حضرت نافع حضرت عبد اللّ بن عمر رضی اللّ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللّ صلی اللّ علیہ وآ لرو سلم کا تلبیہ یہ تھا
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بعد ان کلمات کا بھی اضافہ فرماتے تھے:
"لَّبِيْكَ! لَّبِيْكَ وَ سَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَّبِيْكَ وَ الرُّغْبَاءُ لَكَ وَ الْعَمَلُ!"
ف: صاحب مرقۃ نے ابن حجاج ماکی کے حوالے سے کہا ہے کہ تلبیہ تو اتنی بلند آواز سے
پڑھیں کہ حق بیٹھے جائے اور زنا تنا آہستہ کہ سنائی نہ دے بلکہ اوسط آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھنا چاہئے۔
البتہ عورتمیں آہستہ تلبیہ پڑھیں کہ تلبیہ کے الفاظ کو وہ خود سکین تو کافی ہے۔12
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Supplication benefits against what has already occurred and what has not yet occurred, so devote yourselves to supplication, O servants of Allah." [Narrated by Tirmidhi, and Ahmad narrated it from Mu’adh ibn Jabal]
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے تلبیہ پڑھنا اور حضرت جابر نے تلبیہ کے الفاظ وہی بتائے۔ جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے۔
یعنی اور حضرت جابر نے یہی فرمایا کر لوگ (تلبیہ پڑھنے کے بعد) ذالمعارج (اے بلند یول
وآے پروردگار!) اور اس قسم کے اورالفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان
الفاظ کو سن رہے تھے اور ان حضرات کو پچھنیا فرمایا (اس سے معلوم ہوا کہ تلبیہ کے مأثورہ الفاظ کے
بعد اضافہ مباح ہے)۔
اس حدیث کی روایت البوداوی نے کی ہے۔
زمانت جابلیت میں مشرکین کا تلبیہ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ممانعت
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) recited the same Talbiyah as Ibn Umar. People added phrases like 'Dhal-Ma’arij,' and he heard them without objection." [Narrated by Abu Dawud]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (مشرکین زمانۂ
جلیت میں اورت کہتے پہلے مجھے امرہ اور طواف کرتے تو اس طرح تلبیہ کہتے تھے: "لَّبِيْكَ لا
شَرِيْكَ لَكَ الا شَرِيْگَا هُوَ لَكَ تَمْلِكَهُ وَ مَا مَلَكَ"، لیکن میں تیری خدمت میں حاضر
ہول، تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک جو تیری ملک ہے تو اس کا ما لک ہے وہ تیرا ما لک نہیں)
مشرکین جب یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے لَّبِیکَ لا شَرِیکَ لک کہتے تورسول اللہ علیہ وآلہ
سلام ارشاد فرماتے تم پرکس قدرافسوس ہے (کہتم اللہ تعالیٰ کی ذات میں شریک کرتے ہو) تم اپنے
تلبیہ کو بیعنی لا شریک لک پرختم کرو، اس سے آگے اَلا شَرِیکَا ہو لک تملکہ وَ
ما ملک نکہو (اس لے کہ یہ شرک ہے) مشرکین طواف بیت اللہ کے وقت یہ تلبیہ پڑھا کرتے
تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ما ثورہ تلبیہ پڑھنے کے بعد اضافہ مستحب ہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated: "The polytheists would say, 'Labbayka La Sharika Laka.' The Prophet (ﷺ) responded, 'Woe to you! Enough!' They would add, 'Except a partner you own.' They said this while circling the Ka’bah." [Narrated by Muslim]
لَّبِیكَ اللہُمَّ لَّبِیكَ وَسَعْدَیکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدِیکَ لَّبِیكَ وَالرّغاءُ
الیکَ وَالْعَملُ -
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب (مدینہ منورہ سے کہ معظہ تشریف لے جاتے اور) زوالحلفیہ پر (جو ابل مدینہ کی میقات ہے
احرام باندھ کر) دور کےت سنت احرام اوافرماتے اور پچھر (رواگی کے لے) مسجد زوالحلفیہ کے پاس
ناقد مبارک پرسوارہوجاتے اور ناقہ مبارک آپ کو لے کر اٹھ جاتی تو ما ثورہ تلبیہ پورا پڑھتے اور (اس
تلبیہ کے پڑھنے کے بعد) مزید یالفاظ کچھ پڑھتے:
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے البتہ حدیث کے الفاظ مسلم کے میں-
مُحرم کو جاپے کہ دوگانہ احرام کے ساتھ ہی لبیک کہنا شروع کر دے
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: "The Prophet (ﷺ) prayed two Rak’ahs at Dhul-Hulayfah. When his camel stood upright near the mosque, he recited the standard Talbiyah and added: 'Labbayka wa Sa’dayka...'" [Agreed upon]
(1) Statement on "These phrases": This refers to the core Talbiyah. Al-Mirqat clarifies.
(2) Statement on "He added": These were supplementary phrases. Al-Mirqat notes.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن
عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب (نج کا) احرام باندھا
اور آپ نے تلبیہ پڑھا تو آپ کے تلبیہ پڑھنے کے موقع پر (کہ آپ نے کہب تلبیہ پڑھا) اس میں
صحابرضی اللہ عنہم نے جو اختلاف کیاہے اس پر مجھے تجبہ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا(تم تجب کیون کرتے ہو) میں اس بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں (اس لے کراس وقت میں سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تھا اس وجہ سے حقیقت حال سے میں تم کو آگاہ کرو دیتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک،یہ ادافرما اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کی وجہی بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ منورہ سے) نج کے لے نکل اور (مقام ذو الحلیفہ میں احرام باندھنے کے لیے ظہیر گئے) جب آپ مسجد ذو الحلیفہ میں دور کعت تحیۃ الاحرام ادافرما لے تو اسی مجلس میں یہ کی نیت کی اور تحیہ الاحرام کی دور کعتوں کے سلام پچیرنے کے بعد تلبیہ پڑھا تو جولگ و بال موجود تھا انہوں نے اس کوسنا اور خود میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (آپ کے تلبیہ پڑھنے کوسن کر) یا در کلیا پچیر جب (رواگی کے لے) ناقے مبارک پرسوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) تلبیہ پڑھا اور جولگ اس وقت و بال موجود تھا انہوں نے اس کو یاد کلیا۔ اس کی وجہ یہی کہ لوگ جوق در جوق پچآربہ تقوان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تلبیہ پڑھتے سنا جب کہ آپ ناقے مبارک پرسوار تھے تو انہوں نے پر کہما کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناقے مبارک پرسوار ہوئے کے بعد تلبیہ پڑھا تو پچیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے اور میدان کو پار کر کے طیلہ پر پہوچے تو پچیر (یہاں کچھ) آپ نے تلبیہ پڑھا اور اس وقت جولگ یہاں موجود تھے (آپ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر) کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان پار کرنے کے بعد طیلہ پر،ی تلبیہ پڑھا تو لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا کی فتنہ جب آپ علیہ صلی اللہ نے (مسجد ذو الحلیفہ میں احرام باندھنے کے بعد) اپنے مصلی پر جائی نیت باندھی تو اس وقت سے تلبیہ پڑھنا شروع فرمادیا اور پچیر جب ناقے مبارک پرسوار ہوئے تو اس وقت بھی تلبیہ پڑھا اور جب میدان پار کر کے طیلہ پر پہوچے تو و بال بھی تلبیہ پڑھا تو جو حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں تو وہ تحریم الحرام کے بعد اپنے مصلی پر، یا لبیک
پکارتے ہیں۔
اس کی روایت البودا وداور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے
مطابق ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔
جگراور وقت کی تبادیلی کے ساتھ لبیک کی تکرار مستحب ہے
ف: واضح ہو کر امام طحاوی رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلبیہ
پڑھنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواختلاف فرمایا ہے اس کی وجہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
نے صدر کی اس حدیث میں بیان فرمائی ہے اور دور حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ
پڑھنے کی ابتدا دوگانہ احرام کے سلام کے ساتھ، یا فرمائی ہے، اس وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے
فرما یا ہے کہ جو شخص احرام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہے کہ دوگانہ احرام ادا کرنے کے بعد، یا لبیک پکارنا
شروع کر دے اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ اہ
اور مرقات میں ابن ایم کی "زاد المعاد" کے حوالے سے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے دوگانہ احرام کے بعد، یا پنے مصلی پر لبیک کہنا شرع کیا ارچہر ناقا مبارک پرسوارہو نے کے بعد
بھی لبیک فرما یا، اور جب آپ میدان پار کر کے ظلم پر پنے ختاس وقت کی آپ نے لبیک پڑھی، اس
مجہ سے علماء نے فرما یا ہے محرم کے لے مستحب ہے کہ حالات زمانہ اور جگہ کی تبادیلی کے موقفوں پر
لبیک کی تکرار کرتا رہے۔ اور مرقات میں یہی کہا ہے مستحب یہ کہ جب بھی لبیک کہین تو تین بار
لبیک کہین اور درمیان میں باتد کریں۔ اور سبی نہہب حتی ہے۔12
مسلمان کے لبیک کہنے سے پوری کا نات لبیک ہوتا ہے
Sa’id ibn Jubayr said: I asked Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), "Why do the Companions differ about when the Prophet (ﷺ) began Talbiyah?" He replied:
"I know this best. He performed only one Hajj, hence the confusion. After praying two Rak’ahs at Dhul-Hulayfah, he declared Hajj. Some heard him there, others when his camel stood, and others at Al-Bayda’. By Allah, he declared it at all three moments." [Narrated by Abu Dawud and Hakim, who graded it sahih per Muslim’s standards]
(1) Statement on Ibn Abbas’ Explanation: At-Tahawi concluded that the Prophet (ﷺ) initiated Ihram after the two Rak’ahs, which is the Hanafi position. Al-Mirqat adds that Talbiyah is repeated at significant moments.
(2) Statement on Following Ibn Abbas: Hanafis adopt this view. Mirqat al-Mafatih affirms.
This narration is reported by Al-Bukhari and Muslim, and Hakim has stated that this hadith meets the conditions of Muslim, and Imam Tahawi has also narrated it in this manner. The repetition of 'Labbayk' is recommended with changes in time and place. It is clear that Imam Tahawi (RA) has said that the Companions (RA) have differed in their recitation of the Talbiyah of the Prophet (peace be upon him and his family). The reason for this is that Ibn Abbas (RA) has narrated in the beginning of this hadith that the Prophet (peace be upon him and his family) started reciting the Talbiyah after performing two rak'ahs of prayer, or he said so. Therefore, Imam Abu Hanifah (RA) has stated that whoever intends to enter Ihram should start reciting 'Labbayk' either after performing two rak'ahs of prayer or immediately. This is also the opinion of Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad (RA). And in Al-Marghat, it is mentioned from Ibn Umar's 'Zad al-Ma'ad' that the Prophet (peace be upon him and his family) used to say 'Labbayk' after performing two rak'ahs of prayer, or after mounting his mount, and he would also say 'Labbayk' after dismounting. When he crossed the valley and reached the shade, he would recite 'Labbayk.' Scholars have stated that it is recommended for pilgrims to continue repeating 'Labbayk' in different situations according to changes in time and place. And in Al-Marghat, it is stated that it is recommended to say 'Labbayk' three times whenever it is recited, and to pause between each repetition. And this is the end of the matter. The completion of the Talbiyah is achieved by saying 'Labbayk.'
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ جو کوئی مسلمان (احرام بندہ کے بعد) لبیک پکارتا ہوتا اس
کے دا میں اور با کسی جانب کاہر پچھر، درخت اور ذہیلہ اس کے ساتھ لبیک کہتے ہیں اور ان چیزوں
کے لبیک کہا کریں سلسلہ) اس کے دو میں اور باقی جانب سے زمین کے آخری کنارول کے پہو چے
جا تا ہے (تمام پوری کا نات لبیک کہتے ہے)۔ اس کی روایت ترتیزی اور اب ملجب نے کی ہے۔
تلبیہ کے بعد دعا کرنا اور درود پڑھنا مستحب ہے
Sahl ibn Sa’d narrated: The Prophet (ﷺ) said, "No Muslim recites Talbiyah without every stone, tree, and clod on his right and left echoing it until the earth ends." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
عمارت بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جب تلبیہ کہتے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے (اس نے اور عمرہ کی قبولیت کا) سوال کرتے اور
اللہ تعالیٰ کی خوشنوودی اور جنت طلب فرماتے اور اس کی رحمت کے ذریعہ دوزخ سے نجات کا سوال
جواب کرتے۔ اس کی روایت امام شافعی نے کی ہے۔
قطعنی اور بیہقی کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم تلبیہ پڑھنے کے بعد اپنی ذات مبارک پر درود پڑھتے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever would like Allah to respond to him during hardships should supplicate abundantly during times of ease." [Narrated by Tirmidhi]
اور ابوداوداوردار قطعنی نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ قاسم بن
محمد نے فرمایا کہ محرم کے لے مستحب یہ ہے کر وہ تلبیہ پڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
پر درود پڑھے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever would like Allah to respond to him during hardships should supplicate abundantly during times of ease." [Narrated by Tirmidhi]
ف : صاحب اشعة اللمعات نے کہا ہے کہ حدیث شریف میں تلبیہ پڑھنے کے بعد جودعاے
ذکور کے مستحب یہ ہے کہ اس کو تلبیہ کے بعد پڑھا کریں۔ 12
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب قرآن تلا
پہلی حدیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (تجبۃ الوداع کے موقع
پر) میں حضرت ابوظہرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ) پکار پکار کر جاور عمرہ کا تلبیہ پڑھ رہے تھے ( لیکن قرآن کی نبوت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے جاوافرما )۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
On the occasion of the Farewell Pilgrimage, I was sitting behind Abu Dharr (RA) on his mount, and the noble Companions (RA) were loudly reciting the talbiyah for Ja'far al-Umrah (but the Prophet ﷺ and the Companions had already performed the ja'far). This hadith has been narrated by Bukhari.
عبد العزیز، حمید اور عیس بن ابی اسحاق رحمہم اللہ سے روایت ہے یہ تیول حضرات نے انس رضی اللہ عنہ کو پیکھتے ہوئے ساکر حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ( جہت الوداع کے موقع پر ) جاور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے سناتے ہیں۔ ( لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جہت قر انتحا )۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
‘Abdul-Aziz, Humaid, and Yahya ibn Abi Ishaq narrated from Anas (may Allah be pleased with him): "I heard the Prophet (ﷺ) proclaim both: 'Labbayka ‘Umratan wa Hajjan.'" [Narrated by Muslim]
Abu Dawud’s version states: "He recited: 'Labbayka ‘Umratan wa Hajjan, Labbayka ‘Umratan wa Hajjan.'" At-Tahawi and Abu Yusuf reported similarly. Nasa’i added: "He proclaimed Hajj and ‘Umrah at Dhuhr."
(1) Statement on Anas’ Age: Ibn al-Jawzi claimed Anas was too young to understand, but this was refuted in At-Tanqih: He was about 20, thus a reliable witness. Al-Binayah cites this.
اور ابوداود نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ( جہت الوداع کے موقع پر ) جاور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے سناتے کہ آپ اس طرح فرماتے تھے: لَبِّکَ عُمرَةٌ وَحَجَّا! لَبِّكَ عُمرَةٌ وَحَجَّا ( لیکن عمرہ اور حج کے لے حاضر ہون )۔ اور امام طحاوی اور امام ابویوسف نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔
Salman (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Your Lord is Ever-Living and Generous; He is too shy to let His servant return empty-handed when he raises his hands to Him." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Bayhaqi in al-Da’awat al-Kabir]
اور نسائی نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( جہت الوداع کے موقع پر جب زواحلیفم میں ) ظہر کی نماز ادافرمایا تو جاور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ کر لبیک فرمایا۔ اور برزار نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے۔
the Messenger of Allah ﷺ, upon bidding farewell, performed the Zuhr prayer at Zawalifm, then he tied the ihram for Umrah and said, 'Labbayk.' Burayd has also narrated this from Anas (RA) in this manner.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ وآلم وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ وآلم وسلم پر عامل بن اکرم روانہ فرما یا تھا تو میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت برائے رضی اللہ تعالیٰ نے پوچھی حیثیان فرما لی اور پیغمبر فرما یا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ ( جس نے جہنم الوداع کے موقع پر ) حضور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہوئے تو حضور نے آپ سے دریافت فرما تم نے کونسا احرام باندھا ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ میں نے اپنی نیکریم صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کے احرام کی طرح ( قرآن کا ) احرام باندھا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے پیغمبر فرما یا کہ میں نے قربانی کے جانور لائے ہیں اور قرآن کی نیت کی ہے ...... الی آخر الحديث۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔ اور جوہرتی میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سنن چہ اور حاکم نے اس کی تخریج مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے پیغمبر کہا ہے کہ اس حدیث کی سنن چہ اور ان کی سنن میں ایک راوی داود بن عبد الرحمن عطار ہیں اور وہ ثقہ ہیں اور بخاری اور مسلم اور بقیہ چارول اصحاب صحاح لیکن ابوداود نسائی ابن ماجہ اور ترمذی نے جبہی داود بن عبد الرحمن سے اپنی اپنی کتابوں میں حدیثوں کی تخریج کی ہے۔
Al-Bara’ ibn ‘Azib (may Allah be pleased with him) narrated: I was with ‘Ali (may Allah be pleased with him) when the Messenger of Allah (ﷺ) appointed him as governor of Yemen. The hadith continues until he mentioned in it: He (‘Ali) said: I came to the Prophet (ﷺ), meaning ‘Ali, and he asked me, “What have you done?” I replied, “I have entered into the state of ihram with the same intention as the Prophet (ﷺ).” He said, “Indeed, I have driven the sacrificial animal and combined the rites (Qiran).” The hadith. [Narrated by Abu Dawud]
It is mentioned in Al-Jawhar al-Naqi: Its chain is authentic. Al-Hakim recorded it in his Mustadrak and said: “Its chain is authentic.” In its chain is Dawud ibn ‘Abd al-Rahman al-‘Attar, and he is trustworthy, with narrations in the Sahihayn (Bukhari and Muslim) and the remaining six books. In a narration by Ahmad from the hadith of Suraqah with a fully trustworthy chain, it states: “The Messenger of Allah (ﷺ) combined Hajj and Umrah (Qiran) during the Farewell Pilgrimage.”
اور امام احمد نے اپنی ایک روایت میں سراقت رضی اللہ تعالیٰ نے پیغمبر فرما یا کہ حضرت علیہ وآلم وسلم نے جہنم الوداع کے موقع پر جزیرہ ان ادا فرما تھا۔
پیغمبر حیثیت
The Messenger of Allah ﷺ recited Jazirah in Dua at the occasion of the final farewell to Hell.
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ نے روایت کہ کہ انہوں نے مطرف رحم اللہ سے فرما یا کہ میں تم کو ایک حیثیت سنا ہوں، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ تم کو اس سے فائدہ پہوچا یے گا ( کہ تم خوداس طریقہ کرو گے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دو گے وہ حیثیت یہ ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے ( جہنم الوداع کے موقع پر ) نے اور عمرہ کو جمع فرما یا ( لیکن جہنم قرآن
ادا فرمایا) پھر آپ نے دنیا سے پردہ فرما نے تک اس سے کسی کو نہیں روکا اور قرآن میں کچھ اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی (یعنی عق قرآن کا حکم آخرتک باقی رہا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
‘Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) said to Mutarrif: “Let me narrate a hadith to you, may Allah benefit you with it, the Messenger of Allah (ﷺ) combined Hajj and Umrah, and he did not prohibit it until he passed away, nor was any Quranic verse revealed to forbid it.” [Narrated by Muslim]
عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا تو حضرت عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور عمرہ کا ایک ساتھ (قرآن کی نیت سے) تلبیہ پڑھتے ہوئے سناتے مروان نے کہا امیر المومنین (آپ تو سب کو قرآن سے روکتے ہیں) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہا (قرآن سے) نہیں روکتے ہیں (جب کروں قرآن کی نیت سے تلبیہ پڑھتے ہیں) میں کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرما یا جھیک بے لکین میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ج اور عمرہ کا تلبیہ جمع فرما تے ہوئے سناتے تمہارے سے کہنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فعل مبارک کو کسی چھوٹے سکتا ہوں؟ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Marwan ibn al-Hakam narrated: I was sitting with ‘Uthman (may Allah be pleased with him) when he heard ‘Ali (may Allah be pleased with him) making the Talbiyah for Hajj and Umrah together. ‘Uthman said, “Did you not used to forbid this?” ‘Ali replied, “Yes, but I heard the Messenger of Allah (ﷺ) making the Talbiyah for both together, so I would not abandon the practice of the Messenger of Allah (ﷺ) for your opinion.” [Narrated by Nasa’i] A similar narration is found in the Mutaffaqun ‘alayh (Bukhari and Muslim).
رضی اللہ عنہ نے فرما کہ میں نے (جہت الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے سناتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ (نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف نہ کا تلبیہ پڑھا پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوتی تو میں نے ان کو حضرت ابن عمر کا قول
سناپتو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ( تجربہ کر پر ) تمہیں کوئی بھی نہیں ہو ( کہ تم اتنی بات کچھ کر کر
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد میں رکھ لیتے ) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
لَّبِّكَ حَجَّاً وَ عُمْرَةً ( میں نے اور عمرہ کے لیے حاضر ہوں ! ) فرماتے سن ہے -
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -
ساتویں حدیث
Bakr ibn ‘Abdullah al-Muzani narrated from Anas (may Allah be pleased with him): “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) making Talbiyah for Hajj and Umrah together.” Bakr said: “I mentioned this to Ibn ‘Umar, who said, ‘Make Talbiyah for Hajj alone.’ Later, I met Anas and told him Ibn ‘Umar’s response. Anas said, ‘Do you consider us as children? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Labbayka ‘Umratan wa Hajjan (Here I am for Umrah and Hajj together).’” [Agreed upon]
مجابرحمہ اللہ سے روایت سے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا
گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی عمر میں ادا فرما لے تو انہوں نے جواب دیا کہ ( رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) دو عمر میں ادا فرما لے ہیں تو ( پیس کر ) ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہما نے فرما کہ ابن عمر خوب جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین عمر میں ( نج
سے پہلے ) ادا فرما لے ہیں اور ( چوتھا ) عمرہ وہ ہے جس کو آپ نے ( جنہا الوداع کے موقع پر ) نج کے
ساتھ ملا کر ( قران کی نیت سے ) ادا فرما ( اس طرح جملہ چار عمر میں ہو گے ) اس کی روایت ابو داود
نے کی ہے - اور بخاری اور عبد الرزاق نے کچھ اس طرح روایت کی ہے اور اجوہر انتی میں کہا ہے کہ
ابوداود کی حدیث کی سنن میں اور اعلی معیار کی ہے اور بخاری کی شرط کے مطابق ہے -
( اس حدیث سے کچھ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قران کی نیت سے
نے ادا فرما یتھا ) -
آٹھویں حدیث
Mujahid narrated: Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with them) was asked, “How many times did the Messenger of Allah (ﷺ) perform ‘Umrah?” He replied, “Twice.” ‘A’ishah (may Allah be pleased with her) said, “Ibn ‘Umar knows that the Messenger of Allah (ﷺ) performed ‘Umrah three times apart from the one combined with his Hajj.” [Narrated by Abu Dawud]
A similar narration is recorded by Bukhari and ‘Abd al-Razzaq. Al-Jawhar al-Naqi states: “The chain of Abu Dawud’s hadith is authentic and meets Bukhari’s standards.”
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ( اپنے اہل بیت کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرماتے سن ہے اے
میرے اہل بیت ! تم عمرہ اور نج کا ایک ساتھ احرام بن دو ( لیکن قران کی نیت سے نج کرو کہ پیا فضل
بہ ) اس کی روايت امام احمد اور امام طحاوي نے کی ہے -
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, ‘O family of Muhammad, declare your intention for ‘Umrah within Hajj.’” [Narrated by Ahmad and Tahawi]
صُبَیٌّ بن معبد تغلبی رحمۃ اللہ علیہ روایت بہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ اورنگ کا ایک ساتھ احرام باندھا (یعنی قرآن کی نیت کی ) یہ کہ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کو اپنے نہیں صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی سنن پر چلنے کی تو فیق ملی ہے ( کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے جہت الوداع کے موقع پر قرآن کی نیت سے احرام باندھا تھا )۔ اس کی روایت ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے -
Al-Subay’ ibn Ma‘bad al-Taghlibi said: “I declared my intention for both (Hajj and ‘Umrah) together. ‘Umar (may Allah be pleased with him) said, ‘You have been guided to the Sunnah of your Prophet (ﷺ).’” [Narrated by Abu Dawud, Nasa’i, and Ibn Majah]
It is narrated through other chains and authenticated by Dar al-Qutni, who said: “The strongest chain is the hadith of Mansur and Al-A‘mash from Abu Wa’il from Al-Subay’ from ‘Umar (may Allah be pleased with him).”
In a narration by Tahawi, he said: “I declared my intention for both together. When I passed by Salman ibn Rabi‘ah and Zayd ibn Sawhan, they criticized me. When I met ‘Umar (may Allah be pleased with him), I mentioned this to him. He said, ‘They were wrong. You have been guided to the Sunnah of your Prophet (ﷺ).’”
اور یہ حدیث کی اور تین طرق سے بھی مرودی ہے اور دارقطنی نے بھی اس حدیث کو قرار دیا ہے۔ اور دارقطنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی تین سنن وہ ہیں جس کی روايت منصور اور عمش نے ابوبکر سے کی ہے اور ابوبکر نے صُبَیٌّ کے واسطے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے -
And this hadith is also narrated through three other chains, and Al-Daraqutni has also authenticated this hadith. Al-Daraqutni said that the three chains are those which Manṣūr and ʿAmsh narrated from Abū Bakr, and Abū Bakr narrated from Ṣubayy through the authority of Umar (RA).
اور طحاوی کی روایت میں صُبَیٌّ بن معبد سے اس طرح مرودی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ اورنگ کا (قرآن کی نیت سے ) ایک ساتھ احرام باندھا اور میرا اگزر سلمان ابن ربعیہ اور زید بن صوحان کے پاس ہوا تو ان دونوں نے میرے اس عمل کو معیوب سمجھا پھر جب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ پر سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا ان کے کہنا ہے تم پھر خیال ذکر وتم کو تو اپنے نہیں صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی سنن پر عمل کر نے کی تو فیق ملی ہے ( اس لے کر حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے کہی رج قرآن ادا فرمایا تھا )۔ احرام کے لے لے غسل مسنون ہے
I performed the umrah and hajj together with the intention of reciting the Qur'an. When I reached Salm ibn Rabi'ah and Zayd ibn Suhan, they both considered my action to be defective. Then, when I was in the presence of Umar (RA), I mentioned this incident to him, and he said: 'They say you did not consider the remembrance and tawaf, but you have acted according to the Sunnah of the Prophet ﷺ, as he performed the raj'ah (return) and recited the Qur'an. It is recommended to take a ritual bath before entering ihram.'
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نہیں کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے احرام باندھنے کے لئے روزمرہ کے کپڑے اتارنے تو عسل فرمايا
(اور پھر احرام باندھا) اس کی روایت ترنزی اورداری نے کی ہے۔
ف: واجہ ہو کہ نذورہ بالا قولي اور فعلي احاديث شریفہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے جہت الوداع کے موقع پر نقر ان ادافرمايتحا سمجھتے نہہب حقی میں قر ان کی
نیت سے نج کرنا فضل ہے۔12
when he took off his regular clothes to wear the ihram, he said, 'O Allah, I have entered the state of ihram.' (And then he put on the ihram.) This is reported by Tarnizi and Dari. It is understood from the noble sayings and actions of the Prophet ﷺ that it is meritorious to perform the tawaf of ifadah with the intention of farewell, as it is truly virtuous to do so.