(اس باب میں ان دعاوں کا ذکر ہے جن کا مختلف اوقات میں پڑھنا مسنون ہے)
جو اللہ تعالیٰ کو لطرے اور بھیگھ اور کروت لیٹ ہوئے یاد کرتے ہیں -
ف: واح ہو کہ جو اذکار اور اوراد شارع علیہ الصلاۃ والسلام سے مختلف اوقات اور خاص
حالات میں وارد ہیں اتباع نبوی کی حثیت سے ان کو پڑھنا ہرا کے لے مسنون ہے خواہ زندگی بھر
میں ایک بار کیون نہ ہو (مرقات 12)۔
This chapter mentions those invocations which are recommended to be recited at various times. Those who turn to Allah Almighty in need and distress remember Him -
It is stated that the remembrances and invocations prescribed by the blessed Prophet (peace be upon him) for different times and specific situations are recommended to be recited as a means of following his example, whether it be once in a lifetime or repeatedly (Mirqaat 12).
ف وقول الله عز وجل الذين يدعون الله قياما و قعودا و علي جنوبهم اور الل تعالي كا ارشاد سور ال عمران ايت نمبر
پیوی سے صحبت کرنے سے پہلے کی دعا
The Supplication Before Engaging in Intimacy
دُعَاءُ الْكَرْبِ، لِعِنِّي شَدَتْ فَكَرَا وَغَمٍ مِّنْ پُطْسَنَکِ دَعَاءَ
_ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر تم میں کوئی اپنی پیوی سے صحبت کرنا چاہے تو یاد عاء
پڑھے: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنَّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَارَزَقْنَا (نام اللہ کے نام سے
مد و چاشتہ میں یا ابی تم کو شیطان سے محفوظ رکھا اور تو تم کو جودیگا ہماری اولاد اس کو بھی شیطان سے
محفوظ رکھے تو ان دونوں (یعنی میال پیوی سے) اولا مقدر ہے تو اس پر کو شیطان برگز نقصان نہیں
پہو چا یے گا اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ پیوی سے صحبت کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لینے
سے بچہ شیطان کے ضرر سے محفوظ رہتا ہے، علماء نے اس حفاظت کی تفصیل میں کہا ہے کہ شیطان پر کو
کا فرمان کرکے اوراس کا خاتمہ باخیرہوگا ایس کو جنون یا مری کے مرد میں بھلا نہیں کرے گا الخرض پر
شیطان کے تصرف سے محفوظ رہے گا اور یسب اللہ کے ذکر کی برکت میں ہیں۔ (مرقہت 12)-
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If anyone of you intends to approach his wife, let him say: 'In the name of Allah. O Allah, keep Satan away from us and from what You provide us.' If Allah decrees that they should have a child, Satan will never harm it." [Agreed upon]
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ . لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ -
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کرب لعنی شدت فکرا وغم میں اس دعا کو پڑھا کرتے تھے:
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبد نہیں وہ بزرگ اور برتر ہیں اور یم ہیں (کہنا فرامانون سے بدہ
لین میں جلدی نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبد نہیں۔ جوعرش عظیم کے ما کہ ہیں اور اللہ تعالیٰ
کے سوا کوئی معبد نہیں جو آسمانوں اور زمین کے رب ہیں اور عرش کرم کے رب ہیں۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف: واضح ہو کر دعا کربختی اور کرب کے وقت مفید اور مہربہ ہے۔ جس کوئی درد لا حق ہو یا
آگ لگ جائے یا ایکی میں دوبنے گیا کسی اور بلا میں پھنس جائے۔ چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ
نے فرامایا ہے کہ اس حدیث پر توجہ دینی چاہیے اور شدت تکلیف کے وقت اس پر عمل کرنا چاہئے۔ علامہ
طبری نے کہا ہے کہ سلف کا اس پر عمل ہوا اور وہ جیسی اس دعا کو دعا کرب کیتے تھے۔ علامہ ابن بطآل
نے بیان کیا ہے کہ مجھے ابوبکر رازی نے کہا کہ: میں ایک مرتبہ اصحاب کیلئے شکاوت کیمیں پاس
حدیث کہا کرتا تھا اور میں ایک شکر کرتے تھے جن کا نام ابوبکر بن علی تھا اور وہ افیاء کا کام کیا کرتے
تھے۔ باوشاہ وقت کے پاس کی نے ان کی شکایت کی تو باوشاہ نے ان کو قید میں ڈال دیا۔ ابوبکر رازی
نے کہا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت حضرت جبریل علیہ
السلام آپ کے سیدی جانب میں اور مسلسل بغیر تکلیف کے شکر کرہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے مجھے ارشاد فرامایا۔ ابوبکر بن علی سے کہو کہ وہ تحقیق کریں جودعا کرب مروی ہے اس کو
پڑھنے تاکر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت کو دور فرمادے۔ میں نے اس خواب کی اطلاع ابو بکر بن علی کو دی اور
انہوں نے اس دعا کو پڑھنا شروع کیا اور تحوّل دن تک رہے تک قیدے ان کو بازی لگئی۔ پھر
واقعتہ القاری میں ذکر ہے۔ اس واقعتے اس دعا کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
غمز دہی دعا پڑھے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would say during times of distress: "There is no god but Allah, the All-Mighty, the Forbearing. There is no god but Allah, Lord of the Mighty Throne. There is no god but Allah, Lord of the heavens and earth, and Lord of the Noble Throne." [Agreed upon]
(1) The statement "He would say during times of distress" - This supplication indicates that no one can remove distress except Allah. At-Tibi said this is a remembrance that leads to the removal of distress. An-Nawawi said this is a noble hadith that should be given attention and frequently recited during difficulties. At-Tabari said the early scholars would recite it and called it "the supplication of distress." Ibn Battal narrated that Abu Bakr ar-Razi saw the Prophet (ﷺ) in a dream telling him to recite this supplication, and when he did, he was released from prison. As mentioned in Umdat al-Qari.
اللّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ . وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي
كُلَّهُ ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.
ابوبکرؓ رضی اللہ عنہؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ غمز دول کی دعا یہ ہے:
یا اللہ! میں آپ سے کی رحمت کا امیدوار ہوں، ایک لمحے کے لیے مجھے آپ سے میری نفس کے
سپرد نہ کیجئے اور آپ سے میرے سب کام و رستہ فرامادہ کر آپ کے سوا کوئی معیو نہیں ہے۔ اس کی
روایت ابوداود نے کی ہے۔
حالے اضطراب میں پڑھنے کی ایک دعا
Abu Bakra (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The supplication of the distressed is: 'O Allah, I hope for Your mercy, so don't leave me to myself even for a blink of an eye. Rectify all my affairs. There is no god but You.'" [Narrated by Abu Dawud]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی
چیز سے تکلیف پہوچتی تو وہ فرمایا کرتے تھے: "یَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بَرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ"، اے
زندہ جاوید! اے (ساری کائنات کے) سنچالن والے میں آپ سے کی رحمت سے مدد چاہتا
ہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نام کے وسیلے سے پڑھنے والی ایک دعا
Anas (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) was distressed by something, he would say: "O Ever-Living, O Sustainer, I seek help through Your mercy." [Narrated by Tirmidhi]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کسی کی فکر اور غم برہا جائے تو اس کو چاہیے کہ یہ دعا پڑھے:
اللہم اِنی عَبدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ اَمَتِکَ وَفِی قَبْضِتِکَ، نَاصِبِتی
بِیدَکَ، مَا ضٰ فِی حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِی قَضاوُکَ۔ اَسْاُلُکَ بُکُلِ اِسْمٍ ہو لَکَ
سَمَّیْتَ بہ نَفْسَکَ اَوْ انْزَلْتَہُ فِی کِتاَبِکَ اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَداً مِنْ خَلْقِکَ اَوْ اسْتَأْثَرْتَ بہ
فِی مَکْنُوْنِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ رَبِیْعَ قَلْبِی وَ جِلاَءَ هَمِّی وَ غَمِّی -
یا اِبی! میں تیرا بندہ ہول اور تیرے بندہ کا بھیا ہول اور تیری بندی کا بھیا ہول اور میں تیرے
قبضہ میں ہول، میری پیشانی کے بالآ پ کے باٹھ میں پین، مجھ پر تیرا، ی حکم جاری ہے تیرا فیصلہ
میرے حق میں انصاف ہے، میں تیرے ہراس نام پاک کے وسیلے مانگتا ہول جس کو آپ نے
اپنی ذات کے لے موسوم اور مخصوص کیاہے یا جس نام کو آپ نے اپنی کتاب میں نازل کیا اس نام
کو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھا یاہے یا جس نام کو آپ نے اپنے پردہ غیب میں چھپاہے
رکھاہے، تو قرآن نیم کو میرے دل کی راحت اور میری فکر اور غم کا دور کرنے والا بنادے۔
جب کسی کو تی بندہ اس دعا کو پڑھے تو اللہ تعالی ضرور اس کے غم کو دور فرامادیے گا اور اس کے
غم کو خوشی سے بدل دیے گے۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
قرض اور فکر کو دور کرنے والی دعا ہے
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever is overwhelmed by worries should say: 'O Allah, I am Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant. My forelock is in Your hand. Your command over me is executed. Your decree concerning me is just. I ask You by every name belonging to You with which You have named Yourself, or revealed in Your Book, or taught to any of Your creation, or kept with You in the knowledge of the unseen, to make the Qur'an the spring of my heart, the light of my chest, and the remover of my grief.' No servant says this except that Allah removes his grief and replaces it with relief." [Narrated by Razin]
وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.
یا اللہ! میں فقر اور رنج سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور بھی اور سستی سے آپ کی پناہ میں
آتا ہوں اور بجلی سے اور برزدیلی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں قرض کے بوجھا ور لگون کے ظلم
اور زیادتی سے بھی آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
ان صحابی کا بیان ہے کہ میں اس دعا کو نہ اور شام پر عتارہ تو اللہ تعالیٰ نے میری فقر کو دور کر دیا
اور مجھے میرا قرض ادا کروا دیا۔اس کی روايت ابوداود نے کی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے ہیں کہ ایک صحابی
نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے بہت سی فکریں لاحق ہوگئی ہیں اور قرض (کا بوجھ گیا) برہ گیاہے تو
آپ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا کلام لیتی دعا نہ سکھا ں ل جب تم اس کو پڑھا کرو گے تو اللہ تعالی
تمہاری فکر کو دور کر دے گا اور تمہارے قرض کو ادا کر دے گا۔ راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا:
کیونکہ (آپ ضرور بتائیں!) آپ نے فرمایا کہ تم صبح اور شام اس دعا کو پڑھا کرو:
اللہم اِنی اَعُوْذُ بکَ مِنَ الْهَمِّ وَ الْحُزْنِ، وَ اَعُوْذُ بکَ مِنَ الْعَجْزِ وَ الْکَسَلِ،
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that a man said: "O Messenger of Allah, I am overwhelmed by worries and debts." He said, "Shall I teach you words to say that will remove your worries and pay your debts? Say morning and evening: 'O Allah, I seek refuge in You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, and from being overwhelmed by debt and overpowered by men.'" The man did so, and Allah removed his worries and paid his debts. [Narrated by Abu Dawud]
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ کے پاس ایک
مکاتب (مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس کو ما لک مقررہ رقم ادا کرنے پر آزاد کروں) آیا اور عرض
کیا کہ: میں کتابت (یعنی آزاد ہونے کی مقررہ رقم) ادا کرنے سے عاجز ہو چکا ہوں (اس بارے
میں) آپ میری مد فرمائی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ کلمات نہ بتا دوں
جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھایا ہے۔اگر تمہارے اوپر ایک بڑے پہاڑ کے برابر
بھی قرض ہو تو (ان کلمات کے پڑھنے سے) اللہ تعالیٰ تمہارے قرض کو ادا کر دے گا۔تم (یاد کریں)
پڑھا کرو: اللہُمَّ اکْفِنِی بِحَلالِکَ عَنْ حَرامِکَ، وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
یا اللہ! آپ مجھے حرام سے پاکر حلال روزی سے میری کفالت کر دیں۔اور آپ اپنی مہربانی
سے اپنے سوا دوسرول سے مجھے بہ نیاز کر دیں۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔اور نہیں یہ نے دعوات کیبر میں اس کی روایت کی ہے۔
Ali (may Allah be pleased with him) reported that a slave who was trying to earn his freedom came to him saying he couldn't manage. Ali said, "Shall I teach you words the Messenger of Allah (ﷺ) taught me? If you had a debt like a huge mountain, Allah would pay it for you. Say: 'O Allah, suffice me with what You have made lawful against what You have made unlawful, and make me independent of all besides You.'" [Narrated by Tirmidhi and Bayhaqi]
سليمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم نے کریم صلی
اللہ تعالیٰ وآ لہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے دو شخص ایک دوسرے کو برا بجلا کرہ رہے تھے اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو غصہ کی وجہ سے جس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ بہت برا بجلا کرہ رہا تھا (پید کیہ کر) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا (برکت والا) کلمہ جانتا ہوں اگر وہ شخص اس کو کہے تو اس کا غصہ جاتا رہے (وہ کلمہ یہ ہے): اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں سن رہا ہے؟ تو اس شخص نے جواب دیا میں دیوانہ نہیں ہوں (میں سن رہا ہوں اس پر ضرور عمل کروں گا) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ مرگ کی باگ کے وقت دعا اور گلدہ کی پکار کے وقت تعوُّز پڑھنا چاہیے۔
Sulaiman ibn Surad (may Allah be pleased with him) reported that two men were quarreling in the presence of the Prophet (ﷺ), one cursing the other in anger with a red face. The Prophet (ﷺ) said, "I know a word that if he says it, his anger will go away: 'I seek refuge with Allah from Satan the accursed.'" They told the man, "Don't you hear what the Prophet is saying?" He replied, "I'm not crazy." [Agreed upon]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے میں کہ جب تم مرغ کی باگ سنوتو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگواس لے کر اس نے فرشتے کو دیکھا ہے (اور پیغبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے) اور جب تم گلدہ کی آواز سنوتو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھواس لے کر اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم اور بخاری نے متفق طور پر کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you hear a rooster crow, ask Allah of His bounty, for it has seen an angel. When you hear a donkey bray, seek refuge with Allah from Satan, for it has seen a Satan." [Agreed upon]
(1) The statement "it has seen an angel" indicates the recommendation to supplicate when righteous beings are present, as mercy descends at their mention. As mentioned in Al-Mirqat.
(2) The statement "it has seen a Satan" indicates the descent of wrath and punishment upon disbelievers, so one should seek refuge when passing by them. As mentioned in Al-Mirqat.
ف: اس حديث شريف سے معلوم ہوا کہ گلدہ شیطان کو دیکھ کر پکارتہے اور مرغ فرشتے کو دیکھ کر باگ دیتا ہے۔ گلدہ حماقت اور زیادہ کہانے کے سبب شیطان سے مناسبت رکھتا ہے اور مرغ سخاوت، شجاعت اور کھوالی میں فرشتے سے مناسبت رکھتا ہے۔ فرشتے کے ساتھ دعا کا حکم اس لے دیا گیا کہ فرشتے کی دعا میں شریک ہوجائے۔ اور اس سے یہی معلوم ہوا کہ صالحین کے حضور میں دعا مستحب ہے اور شیطان کے شر سے پچ کے لے استعاذہ مستحب ہے۔ 12 (مرقات) کتوں کے بھجو کے اور گلدہ کے پکار کے پرت تعوُّز پڑھنا چاہیے۔
تو اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، ثم يقول ما شاء الله و يدعو بما شاء من الدعاء
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ تعالیٰ کے حضور میں کوئی شخص جس کو مسافر کہا جائے تو وہ اپنا کام کرے۔ اس کے لیے ایک دعا ہے۔
دیکھتے -
I saw a person in the presence of the Messenger of Allah ﷺ who was doing his work when he was called a traveler. There is a supplication for this.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی شخص کو مسافر کو رخصت کرتے تو اس کے باٹھ کو پکرتے اور (نہایت شفقت اور تواضع اور اظهار محبت میں) اس کا باٹھ نہیں چھوڑتے اور آپ پول دعا دیتے: اسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ۔ میں تمہارے دین کو، تمہاری امانت کو اور تمہارے آخر عمل (یا خاتمہ بالخیر) کو اللہ تعالیٰ کے پرورد کرتا ہوں۔ اس کی روایت تنزیل کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that when the Prophet (ﷺ) bid farewell to someone, he would take his hand and not let go until the man let go first. He would say: "I entrust to Allah your religion, your trust, and your final deeds." In another narration: "and the conclusion of your deeds." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud and Ibn Majah]
اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے بھی اس کے قریب قریب روایت فرمائی ہے۔ ف: واخ ہو کر امانت سے مراد اموال، ابل و عیال اور وہ ذمہ داریاں جو اس کے غیاب میں اس سے متعلق ہیں۔ مرقات۔ 12
And Abu Dawud and Ibn Majah have also narrated something similar. It means: Woe to those who, when they take the measure from others, they take it fully, but when they give the measure or weight to others, they give less. The trust referred to here includes wealth, camels, and dependents, as well as the responsibilities that are related to them during one's absence. [Merqat, 12]
حضرت عبد اللہ بن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب (رشمن کے مقابلے میں) فوج کو رخصت کرتے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا فرماتے: اسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ، وَأَمانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ (میں تمہارے دین تمہاری امانت اور تمہارے انجام کاروائے تعالیٰ کے پرورد کرتا ہوں)۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that when the Prophet (ﷺ) bid farewell to someone, he would take his hand and not let go until the man let go first. He would say: "I entrust to Allah your religion, your trust, and your final deeds." In another narration: "and the conclusion of your deeds." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud and Ibn Majah]
حضرت اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر ایک صحابی نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سفر کا ارادہ رکتا ہو ل آپ مجھے پچھ تو شر دید تے (یعنی دعا فرمائیے کہ میرے سفر میں برکت ہو) تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ تجہ تقوی اور پرتیزگاری نصیب فرمائے (کریا اختت میں بھی کام آؤے گی) انہوں نے عرض کیا: میرے لئے پچھاورد دعا فرمائیے! تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو معاف کرے! انہوں نے پھر درخواست کی اور مزید دعا فرمائیے میرے باب اور میری مال آپ پر فدا ہو جا میں تو آپ نے فرمایا: تو جہاں کچھ جائے اللہ تعالیٰ تیرے لئے (برکام میں) آسائی دے۔ (اور تجہ دین اور دنیا کی بجلائی کی توفیق دے) اس کی روایت ترمذی نے کی
ف: اس حديث شريف سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص بوقت سفر دعا کی درخواست کرے تو اس طرح دعا کی جائے: زَوَّدْکَ اللہُ التَّقْوَى، وَیَسَّرْلَکَ الْخَیْرَ حَیْثُمَا کُنتَ۔ 12
Anas (may Allah be pleased with him) reported that a man came to the Prophet (ﷺ) saying, "O Messenger of Allah, I intend to travel, so supply me." He said, "May Allah supply you with piety." The man said, "Add more." He said, "And forgive your sins." The man said, "Add more, by my father and mother!" He said, "And make good easy for you wherever you are." [Narrated by Tirmidhi]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر کا ارادہ رکتا ہو ل مجھے (پچھ) نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا تقوی لازم کر لوا اور ہر بلند مقام پر (چڑھو تو) اللہُ اکْبَر کہا کرو۔ جب وہ صاحب (حضرت علی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے) رخصت ہوئے تو (غیاب میں) آپ نے پول دعا فرمائی: اللہُمَّ اطْوِلْهُ البُعْدَ، وَهَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ۔ یا اللہ! اس کے لئے (سفر کی) دوری کو کم کر دے اور اس پر سفر میں آسائی فرمائے۔
اس کی روایت تزکیٰ نے کی ہے۔
سفر اور سواری پر جائے اور واپس ہوتے وقت کی دعاے
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that a man said, "O Messenger of Allah, I intend to travel, so advise me." He said, "Hold to taqwa of Allah and say 'Allahu Akbar' on every elevation." When the man turned to leave, he said, "O Allah, shorten the distance for him and make the journey easy." [Narrated by Tirmidhi]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
جب سفر پر روانہ ہونے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ أکبر فرما تے : پھر دعاے
پڑھتے:
"سُبحَنَ اللَّذِی سَخَّرَلَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِینَ . وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا
لَمُنقَلِبُونَ." اللہُمَّ اَنَا نَسْأَلُكَ فِی سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَ التَّقْوَى،وَمِنَ الْعَمَلِ مَا
تَرْضَى. اللہُمَّ ہَوْنَ عَلَیْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِلْنَا بُعْدَهُ. اللہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ
وَالْخَلِيفَةُ فِی الْأَهْلِ. اللہُمَّ إِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ، وَسُؤُءِ
الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْأَهْلِ.
پاک ہے وہ ( ذات عالی ) جس نے اس ( سواری ) کو ہمارے قابو میں کردیا ہے اور ہم تو
( اس قابل ) نہ ہے کہ اس کو اپنے قابو میں کر لیتے اور پیشکہم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا
ہے - یا اللہ ! ہم آپ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور اپنا عمل جو آپ کو خوش
کروے - یا اللہ ! ہم پر یہ ہمارا سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو کم کر دے - یا اللہ ! سفر میں آپ
ہی ہمارے محافظ ہیں اور ابل ( وعیال ) کے آپ ہی نگہبان ہیں - یا اللہ ! میں سفر کی مشقت اور
( وابسی پر ) ابل اور مال میں برے منظر اور نقصان کے ذیکہ سے آپ ہی کی پناہ میں آتا ہوں -
اور حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ( سفرتے واپس ) تشریف لا تے تو انہی کلمات کو پڑھتے
اور ( ان کے ساتھ ) پیالفاظ زیادہ فرما تے : آئبُوْنَ تَأِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ .
( ہم سلامتی کے ساتھ ) واپس ہوں والے، توبہ کرنے والے، اپنے پروردگار کی عبادت
کر نے والے اور تعریف کرنے والے جن اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
سواری پرسوار ہوتے وقت کی دعا کیں
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) mounted his camel for travel, he would say "Allahu Akbar" three times, then say: "Glory to Him Who has subjected this to us, for we could never have done it by ourselves. Indeed, to our Lord we are returning (Qur'an 43:13-14). O Allah, we ask You for righteousness and piety in this journey, and for deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the Companion on the journey and the Successor over the family and wealth. O Allah, I seek refuge in You from the hardships of travel, gloomy scenes, and bad return in wealth and family." When returning, he would say the same and add: "Returning, repenting, worshiping, and praising our Lord." [Narrated by Muslim]
اِمِیر الْمُؤْمِنِين حَضَرَت عَلی رضی اللہ عنه سے روايت ہے کہ آپ کی سواری کے لئے ایک جانور لا گیا جب آپ نے اپنے پیر کو کاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا اور جب آپ پاس کی پیٹ پر بیٹھے گئے تو فرما یا اللحمد للہ پھر (یا ایت پر) - "سُبْحَنَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِینَ . وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ" .
پھر تین مرتبہ الحمد للہ اور تین مرتبہ اللہ أكبر فرما کر (یادعاء) پڑھی سب حانک اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَانَّهُ لَا یُغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنتَ .
میں آپ کی پانی بیان کرتا ہوں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے آپ مجھے بخش دیتے اس لئے کہ گناہوں کو آپ میں ہیں۔
اس دعا کو پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھنے تو آپ سے دریافت کیا گیا : امیر المؤمنین آپ کیوں پڑھے؟ تو آپ نے فرما یا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں ایسے کہتے دیکھا جسیا کہ میں نے کیا پھر آپ پڑھے! تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں پڑھی آپ نے تو آپ نے ارشاد فرما یا کہ تمہارا رب اپنے بندہ سے خوش ہوتا ہے جب کروہی کہیں "آپ میرے رب! میرے گناہوں کو بخش دے"، تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ (بندہ) جانتا ہے کہ میرے سوا گناہوں کا بخش والا کوئی نہیں۔
"اس کی روايت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔"
سفر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کن چیزول سے پناہ ما گئے تو?
I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting it, so I recited it as I saw him do. Then I asked: 'O Messenger of Allah! Why did you recite it?' He replied: 'Your Lord is pleased with His servant when he says, "O my Lord! Forgive my sins." Then Allah, the Exalted, says: (The servant) knows that there is none who forgives sins except Me.' This is narrated by Imam Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawud. When the Prophet ﷺ sought refuge during travel, what did he seek refuge from?
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنه سے روايت ہے آپ فرما تے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہوتے تو سفر کی مشقت، والپسی پرنقصان، بجلائی
کے بعد برائی، منظوم کی بدوعاء اور امل (وعیال) اور مال کی بری حالت و کیفیت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
طلب فرماتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
بلندی پر چڑھنے اور پستی میں اترنے کے وقت کی دعا
Abdullah ibn Sarjis (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) traveled, he would seek refuge from the hardships of travel, gloomy scenes, regression after progress, the supplication of the oppressed, and seeing evil in family and wealth. [Narrated by Muslim]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب،تم (کسی
بلندگہ) چڑھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اور جب اترتے تو سبحان اللہ پڑھا کرتے۔ اس کی
روایت بخاری نے کی ہے۔
سفر میں کسی منزل پر ظہیری توپیدعاے پرحصین
Jabir (may Allah be pleased with him) reported: "When we ascended (a hill), we would say 'Allahu Akbar,' and when we descended, we would say 'SubhanAllah.'" [Narrated by Bukhari]
خوولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ: میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سناتے کہ: جو (حضری اسافر میں) کسی جگہ قیام کرے اور
یہ دعا کرے: اعوذ بكلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔
میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات لعنی اس کے اسماے اور صفات کی پناہ لیتا ہوں مخلوقات کی برائی
سے۔ تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہو چیاسکتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی منزل سے روانہ ہوجاتے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
موذی جانورول سے محفوظ رہنے کی دعا
Khawla bint Hakim (may Allah be pleased with her) reported that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever stops at a place and says, 'I seek refuge in Allah's perfect words from the evil of what He has created,' nothing will harm him until he leaves that place." [Narrated by Muslim]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحبی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہو کر عرض کرتا یارسول اللہ! ایک پچھو کے
کانے سے کل رات مجھے کیا سخت تکلیف پہو چی ہے؟ (میں بتا نہیں سکتا! پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت اعوذ بكلمات اللہ التامات من شر ما خلق پڑھ
مندرجہ بالا ویوہ دعاے ہے جس کے پڑھنے فرشتہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں
ف: واضح ہو کہ ترنذی کی ایک روایت میں یول مرودی سے کر جوکونی نذورہ کلمات کوشام کے
وقت تین بار پڑھے تو کسی جانور کا زهر اس کونقصان نہیں پہو چا سکتا۔ اور ایک روایت میں یول سے کر
جوکونی صبح کے وقت نذورہ دعا کو پڑھے تو وہ دن میں مؤذی چیز ول سے محفوظ رہتا ہے۔ اور حضرت
معقل بن پیار رضی اللہ عنہ سے مرودی سے کر جوخص پیداعاء پڑھتا ہے تو ستہ (70) ہزار فرشتہ اس کی
مغفرت کی دعا کرتے ہیں اگروہ مر جائے تو شہید مرتا ہے۔
(مرقات12)
سفر میں رات کے وقت کی دعاے
A companion came to the Messenger of Allah ﷺ and said, 'O Messenger of Allah! A mouse has been causing me severe distress all night.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'If you recite 'I seek refuge in the perfect words of Allah from the evil of what He has created' in the evening, an angel will pray for your forgiveness.' It is clear that in one narration, if this verse is recited seven times in the evening, no poison of any animal can harm the person. And in another narration, if this supplication is recited in the morning, the person will be protected from harmful things throughout the day. And it is narrated from Ma'qil bin Yasar (RA) that if one recites this verse, seventy thousand angels will pray for his forgiveness, and if he dies, he will die as a martyr.
یَا أَرْضُ رَبِّی وَرَبُّكِ اللَّهُ . أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِیکِ وَشَرِّ
مَا يَدْبُ عَلَیکِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسِدٍ وَأَسُودٍ، وَمِنَ الْحَیَّةِ وَالْعُقْرَبِ، وَمِنْ
شَرِّ سَاکِنِ الْبَلِدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ.
اے زمین! میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں تیرے شر سے (جس
زلزلہ) سے اور اس چیز کے شر سے جو تہی میں ہے (جیسے خسف)۔ سے اور اس چیز کے شر سے جو تہی میں
پیدا ہے۔ اور ان چیزوں کے شر سے جو تہی پر چلتے ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں شیر سے،
سیاہ سانپ سے اور دومسرے سانپوں اور چیوں سے اور شہروں میں رہنے والوں کے شر سے اور اس کی
فُرْیَت کے شر سے۔ اس کی روايت ابوداود نے کی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر تشریف لے جاتے اور رات آجاتی تو پیدعا پڑھتے:
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) traveled and night fell, he would say: "O earth, my Lord and your Lord is Allah. I seek refuge in Allah from lions, black snakes, scorpions, the evil of inhabitants, and from parent and child." [Narrated by Abu Dawud]
سَمعَ سامعٌ بحمد الله، وَحُسنٍ بَلاءِه عَلينَا، رَبَّنا صاحبنا وَأفضلُ عَلينَا عَائذا باللهِ مِنَ النَّارِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر ہوتے اور سحر کا وقت ہوتا تو یول فرماتے:
سنہ والے نے میرے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے اوراس کی نغمتوں کے اقراراوراعتراف کو سن لیا۔ اے ہمارے رب! ہماری نگہبانی فرمااورتم پراحسان فرما۔ (پیدعا) تم دوزخ سے اللہ پناہ میں آئے ہوئے (کہتے ہیں)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
سفر میں والپسی کے دوران کی ایک دعا
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that when the Prophet (ﷺ) was traveling and reached dawn, he would say: "A listener has heard our praise of Allah and His excellent favor upon us. Our Lord, accompany us and bestow favor upon us. I seek refuge in Allah from the Fire." [Narrated by Muslim]
لا إله إلا الله وَحدَه لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. آمنون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون. صدق الله وعدة، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحدة.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کچھ کسی غزوہ یا جنگ سے واپس ہوتے تو (دوران سفر) زمین کی ہر بلندی پر تین مرتبہ "اللہ اکبر" فرماتے پھر یاد عبارت ہے:
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبد نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی باشانت ہے اور تمام تعریف کچھ اس کے لئے ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تم (اپنے وطن کی طرف) لوٹے ہوئے (اللہ کی طرف) رجوع ہوتے ہیں۔ تم اس کی عبادت کرتے ہیں اوراس کے سامنے سجدہ رز ہیں اور اپنے رب کی یی تعریف بیان کرتے ہیں (دین کو غالب کر کے) اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو
پھر دکھا یا اور اس پے بندہ (جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی) مد فرمائی (جبیا کہ غزوہ خندق میں) اللہ تعالیٰ نے سارے قبائل کو تھا شگفت دی۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
غزوہ احزاب کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدعاء
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) returned from a battle or Hajj or Umrah, he would say Takbir (Allahu Akbar) three times at every elevated place on the way, then say: "There is no god but Allah alone, Who has no partner. His is the dominion and His is the praise, and He is Able to do all things. We are returning, repenting, worshipping, prostrating to our Lord, and praising Him. Allah has fulfilled His promise, granted victory to His servant, and alone defeated the allied clans." [Agreed upon]
یول فرما یا: اللہُمَّ مُنِزَلُ الکتابِ سریعَ الحسابِ، اللہُمَّ اہْزمِ الاحزابَ، اللہُمَّ اہْزمُہُمْ وَ زَلْزِلُہُمْ۔
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاحزاب جبین غزوہ خندق کے روز مشروکون پر بدعاء کی اور
اے اللہ! قرآن کے نازل کرنے والے، اے حساب کے جلد لین والے۔ یا اللہ! کفار کے لشکر کو شگفت دے اے اللہ (میں پھر دعا کرتا ہوں کہ) ان کو شگفت دے اور ان کو منشثر کر دے۔ اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے۔
جب کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء
Abdullah bin Abi Awfa (may Allah be pleased with him) narrated: Allah's Messenger (ﷺ) invoked Allah against the pagans on the Day of the Clans, saying: "O Allah, Revealer of the Book, Swift in taking account! O Allah, defeat the clans! O Allah, defeat them and shake them." [Agreed upon]
اللہُمَّ آنتَ عَضُدی وَ نَصِیری۔ بکَ أَحوَلُ، وَ بکَ أَصُولُ، وَ بکَ أُقاتِلُ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جہاد فرماتے تو یہ دعا فرماتے:
یا اللہ! تو ہی میرا معین و مدگار ہے۔ آپ (جو کی مدد سے شمنول کے خلاف) میں تدبر کرتا ہوتا اور (ان پر) آپ ہی کی قوت سے جمل کرتا ہوتا اور (آپ ہی کی مدد سے ان سے) لڑتا ہوتا۔ اس کی روایت ترمذی اور ابو داود نے کی ہے۔
غزوہ خندق میں کامیابی کارازیدعاےہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to battle, he would say: "O Allah, You are my support and my helper. By You I move, by You I attack, and by You I fight." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم استر عوراتنا، وآمن روعاتنا۔
یا اللہ! ہمارے عیب کو چھپا دے اور ہمارے خوف اور دہشت کو امن سے بدل دے۔
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کوئی ایسی دعا ہے کہ ہم اس کو پڑھیں (اس لئے کہ خوف ودہشت کی وجہ سے) کلی مومن کو آگے نہ جائے تو آپ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابوسعیدخدری نے فرمایا کہ (ہم نے پر دعاے پڑھی اور اس کا اثر یہ ہوا کہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے چہروں کو تیز ہوا سے مارا اور اس آندھی سے ان کو شگفت دی اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ف: واضح ہو کہ غزوہ خندق جس کو احزاب کہتے ہیں اس کا ذکر سورہ احزاب میں ذکور ہے۔ پہلے مختصر ایک کیا جاتا ہے۔
ہجرت کے چوتھے سال یہود بن نضیر جن کو مدینہ سے نکالا گیا تھا اس وقت میں قبریش، فزارہ، غطفان اور بنی قریظہ کے بارہ ہزار آدمیوں کو مجتمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کیا مسلمان صرف تین ہزار تھے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھودانی۔ ایک مہیں تک مشرکین نے محاصرہ کیا لیکن حمل میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ نے ایک آندھی بھیجی جس کی وجہ سے (دشمنوں کے خیمے اکثر گئے، آگ بجلی، گھوڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لشکر بر باہر ہوگیا۔ ناچار سارے قبائل واپس ہو گئے۔ حاشیہ مشکاة۔ 12)
حالت خوف میں پڑھنے کی دعا
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: On the Day of the Trench we said: "O Messenger of Allah, is there anything we should say as our hearts have reached our throats (out of fear)?" He said: "Yes. Say: 'O Allah, cover our weaknesses and calm our fears.'" He said: So Allah struck the faces of their enemies with wind, and Allah defeated them with the wind. [Narrated by Ahmad]
اَللّٰهُمَّ اَنا نَجْعَلُكَ فِی نُحُوْرِہِمْ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِہِمْ۔
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بی کریم صلی اللہ علیہ و
یا ابی! ہم آپ کو (شمنون) کے مقابل کرتے ہیں اور ان کے شرّتے آپ کی پناہ میں آتے ہیں۔
اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔
ف: واضح ہو کہ مرقات میں حسن حسین کے خوالد کے لحاظ کردن وغیرہ سے خوف کے موقع پرسورہ لايلاف قریش کا پڑھنا اور اس خوف سے سلامتی کے لیے یہی مجربہ۔
مہمان کی دعا میزبان کے لیے
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) used to say when he feared a people: "O Allah, we make You their adversary, and we seek refuge in You from their evils." [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]
(1) The statement: "when he feared a people" - In Al-Hisn it is mentioned: "If one fears an enemy or others, reciting Surah Quraysh is protection from every evil - this has been tried." As mentioned in Al-Maraqi.
عبداللہ بن بسر ضی اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کے پائل بطور مہمان تشریف لائے، ہم نے آپ کی خدمت میں لحاذا اور ملیدہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کچھ تناول فرما یا پھر آپ کی خدمت میں خشک گھور پیش کے گئے آپ پ کھور کھاتے اور اس کی گھیول کو اپنے دونوں انگیول لیجن شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں جمع فرماتے۔
Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) narrated: Allah's Messenger (ﷺ) stayed at my father's house. We presented some food and a small water-skin to him, and he ate from it. Then dates were brought and he ate them, putting the date pits between his fingers (index and middle). Then he was given a drink which he drank, after which my father took hold of his mount's reins and said: "Pray to Allah for us." So he said: "O Allah, bless for them what You have provided them, forgive them and have mercy on them." [Narrated by Muslim]
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیْمَا رَزَقْتَہُمْ، وَاْغْفِرْ لَہُمْ وَاْرْحَمْہُمْ۔
اور ایک روایت میں یول ہے کہ: آپ گھیول کو (با تیس با تھیکی) شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی پیٹھ پر کھتے جاتے۔ پھر آپ کی خدمت میں پانی حاضر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی نوش فرما یا پھر جب آپ رخصت ہو نے گئے تو) میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام تھانے ہوئے عرض کیا: آپ ہمارے لیے دعا فرما ئیں! تو آپ نے فرما یا۔
یا اللہ! ان کی روزی میں برکت دتے اور ان کو خش و تجہ اور ان کا پر حرم فرمایے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) narrated: Allah's Messenger (ﷺ) stayed at my father's house. We presented some food and a small water-skin to him, and he ate from it. Then dates were brought and he ate them, putting the date pits between his fingers (index and middle). Then he was given a drink which he drank, after which my father took hold of his mount's reins and said: "Pray to Allah for us." So he said: "O Allah, bless for them what You have provided them, forgive them and have mercy on them." [Narrated by Muslim]
اللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمِنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، رَبِّ وَرَبُّكَ اللَّهُ .
طبر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے کر حضرت بی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ
سلم جب بلال دیکھتے توپیدعا فرماتے:
یا اللہ! اس چاند کو آپ ہمارے لئے امن، ایمان سلامتی اور اسلام (پراستکام کا) سبب بنا
دیکھے (اے چاند!) تیرا رب اور میرا رب اللہ ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Talha ibn Ubaidullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) used to say when he saw the new moon: "O Allah, let this moon appear on us with blessing, faith, safety and Islam. My Lord and your Lord is Allah." [Narrated by Tirmidhi who said it is hasan gharib. Also narrated by Darimi and Ibn Hibban with addition: "and with success for what You love and are pleased with."]
اور داری اور ابن حبان کی اس کی روایت کی ہے اور ان دونوں نے اس دعاء
میں پر اضافہ کیا ہے: وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى. اور (تم کو ان کا مول کی) توپیق عطا فرمایے
جو آپ کو پسند ہیں اور آپ جن سے خوش ہیں۔
ایضاً وسری حدیث
And Dari and Ibn Hibban have narrated this, and both have added to this supplication: 'And grant success in what You love and are pleased with.' And (grant him) success in what You love and are pleased with.
هَلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ، هَلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ، هَلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ، آمَنتُ بِاللَّهِ
خَلَقَكَ .
فَرَمَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا.
حضرت قماوہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت سے کران کورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
سلم سے یہ روایت پہوچی ہے کہ آپ جب بلال دیکھتے توپیدعا فرماتے:
پی بجلائی اور بدایت کا چاند ہے۔ پی بجلائی اور بدایت کا چاند ہے۔ پی بجلائی اور بدایت کا چاند
ہے (میں اس ذات پر ایمان لاتا ہوں جس نے تجہ پیدا کیا) اور اس کو مجھی تین بار فرماتے پھر
تمام تعزیس اللہ تعالیٰ نے کے لئے ہیں جواس مہینے کو لگیا اور فلاؤ مہینے لا یا۔
اس کی روایت البودا ود نے کی ہے۔
کسی غر فقاری بلا کو کیا کر پڑھی جائے والی دعاے
When he saw Bilal, he would supplicate: 'O Light of the Lord and the moon of the beginning. O Light of the Lord and the moon of the beginning. O Light of the Lord and the moon of the beginning (I believe in the One who created you), and he would say this to him repeatedly. Then all praises to Allah, the Exalted, are for the month of Muharram, and it is the month of Safar. This narration is reported by Al-Budawud.' What should be recited as a supplication for a poor and destitute person?
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا.
روایت ہے ان دونوں نے بیان کیا تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ: جو شخص کسی کو (دینی، دنیوی یا جسمانی) بلاء میں غر فقاری کیا کر پیدا کے پڑے تو وہ بلاء اور مصیبت اس کونے پہوچے گی خواہ وہ کوئی بلاء ہو (دعا کیے):
تمام تعزیس اللہ تعالیٰ نے کے لئے ہیں جس نے مجھ کو اس بلاء سے محفوظ رکھا ہے جس میں تو غر فقاری اور مجھے بہت ساری مخلوقات پر بری فضیلت دی ہے۔ اس کی روایت ترن دی نے کی ہے۔
Whoever causes someone to fall into distress (whether religious, worldly, or physical), the distress and calamity will reach him, even if it is through supplication. All praise is due to Allah, who has protected me from the distress in which he has caused destitution and has bestowed upon me many favors over His creatures. This was narrated by Tarn.
ف: واضح ہو کہ بلاء عام ہے خواہ بد نی ہو جیسے برس، جذام اور ان دھا پن وغیرہ خواہ بلاتے دنیاوی ہو جیسے مال اور جاہ کا حصول وغیرہ اور خواہ بلاتے دینی ہو جیسے فسق، ظلم، بدعت اور کفر وغیرہ محقر یہ کہ ہر تم کے مبتلا کے بلاء کو کیا کر پیدا کرنا چاہیے البنت علماء نے کہا ہے کہ جو کوئی پیار کو دیکھ تو آہستہ سے پیدا کر پڑے تو تاکر وہ آزر دہ نہ ہو اور اگر گناہ کار کو دیکھ تو پاکر پڑے تو تاکر اس کو عبرت ہو اگر پاکر پڑے تو میں فساد کا اندیشہ ہوتا ایسے موقع پر جس آہستہ سے دعا کرے۔ (حاشیہ مشکاة 12)
بازار میں پڑھنے کی دعا کے اور اس کی فضیلت
It is clear that trials are widespread, whether they are bad, such as plagues, leprosy, and other diseases, or whether they are worldly trials, such as the acquisition of wealth and status, or whether they are religious trials, such as sin, oppression, innovation, and disbelief, etc. It is mentioned that whatever trial a person faces, it should be produced in a certain way. The scholars have said that if one sees something beloved, one should produce it slowly so that it does not become burdensome, and if one sees a sinner, one should produce it quickly so that it serves as a lesson. If it is produced quickly, there is a fear of corruption, so in such a situation, one should pray slowly. (Hasyiah Mishkat 12) This pertains to the prayer to be recited in the market and its virtues.
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو بازار میں داخل ہواور پیر (کلمہ) پڑھے:
لا الہ الا اللہ و احدۃ لا شریک لہ، لہ المُلک و لہ الحمد یُحیی و یمیت،
و ہو حی لا یموت، بیدہ الخیر، و ہو علی کُل شئ قدير۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں - باشہت اس کی ہے کہ
اس کے لئے تعریف ہے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ جاویدہ اور موت اس کے
لئے نہیں - بجلائی اس کے باٹھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے -
تو اللہ تعالیٰ اس کے (نامے اعمال میں) دس لاکھ نیماں کہ دیتے ہیں اور اس کے دس لاکھ گناہ
(نامے اعمال میں) مطابق ہیں اور اس کے دس لاکھ درب بلند کرتے ہیں اور اس کے لئے جنت
میں ایک گھر بنادیتے ہیں - اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے -
اور شرح السنن میں "من داخل السوق" کے بجاے "من قال في السوق جامع يبا ع فيه"
(یعنی جواس کلمہ کو صدر بازار میں پڑے ہے جہاں بڑے پیمانے پر خریدا و فروخت ہوتی ہے) مروی ہے -
خرید و فروخت کے وقت نقصان سے پچھ کی دعا
Umar (may Allah be pleased with him) narrated that Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever enters the marketplace and says: 'There is no god but Allah alone, without partner. His is the dominion and His is the praise. He gives life and causes death, and He is Living and does not die. In His Hand is all good, and He has power over all things,' then Allah will record for him a million good deeds, erase a million bad deeds, raise him a million levels, and build for him a house in Paradise." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. In Sharh as-Sunnah: "Whoever says this in a major marketplace where buying and selling occurs" instead of "whoever enters the marketplace."]
حضرت برہید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بازار میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:
"بسم الله، اللهم إني أسألك خير هذه السوق وخير ما فيها. و أعيوذ بك
من شرها وشر ما فيها. اللهم إني أعوذ بك أن أصيب فيها صفقة خاسرة".
میں اللہ کے نام پاک کے ساتھ (داخل ہوا) یا ابی! میں آپ سے اس بازار کی بجلائی اور
بازار والوں کو بجلائی مانگتا ہوں اور اس بازار کی برائی سے اور بازار والوں کی برائی سے آپ کی پناہ
میں آتا ہوں - یا ابی! میں اس بازار میں نقصان کی تجارت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں - میں کی
روایت جمعی نے دعوات الكبیر میں کی ہے۔
دعاؤں کے بارے میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعالیم
Buraydah (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) entered the marketplace, he would say: "In the name of Allah. O Allah, I ask You for the good of this marketplace and the good of what is in it. I seek refuge in You from its evil and the evil of what is in it. O Allah, I seek refuge in You from making a bad deal in it." [Narrated by Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور
نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا فرماتے سنا:
اللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ.
(یا اللہ! میں آپ سے نعمت تمام مانگتا ہوں) تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے
دراافت کیا تمام نعمت کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا کروہ ایسی دعا ہے جس سے میں امید کرتا ہوں
کہ مجھے مال کثرت مل جائے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ نعمت تمام تو دخولِ جنت اور دوزخ سے نجات ہے!
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک (دوسرے) شخص کو ذا الجلال والاکرام (اے برگی
اور جخش کے ما لک) کہتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرما یا: تیرے پیغمات قبول ہو گے (یعنی اللہ
تعالی تیری طرف متوجہ ہیں) اب (تچہ جوما لگنا ہے) ماگے لے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ایک اور (تیسرے) شخص کو یہ دعا کرتے سنا: اللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ (یا اللہ میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا تو نے اللہ تعالی سے مصیبت ماگے لی
ہے! تو اللہ تعالی سے عافیت ماگے لے! اس کی روایت ترنڈی نے کی ہے-
ف: حدیث شریف میں یہ ذکور ہے کہ ایک شخص دنیا کو نعمت تمام مانگ کراس کے حصول کی دعا
ماگے ربا تھا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا کر دنیا کی نعمت فانی ہے اور نعمت تمام کی حقیقت تو
دخولِ جنت اور دوزخ سے نجات ہے اور دوسرا شخص نے صبر مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:
عافیت ماگے اس لیے کہ صبر تو بلاے کے بعد مانگنا چاہیے اور بلاے سے پہلے عافیت مانگنا چاہیے -
مرقات 12
مجلس کی کوئی بھی پیش کرنا والی دعا ہے
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) heard a man supplicating: "O Allah, I ask You for the perfection of blessing," so he asked: "What is the perfection of blessing?" The man replied: "A supplication through which I hope for good." The Prophet said: "The perfection of blessing includes entering Paradise and being saved from Hell." He also heard a man saying: "O Possessor of Majesty and Honor," and said: "Your supplication has been answered, so ask." And he heard another man saying: "O Allah, I ask You for patience," so he said: "You have asked Allah for trial, so rather ask Him for well-being." [Narrated by Tirmidhi who said it is hasan. Mirqat transmitted it.]
(1) The statement "so rather ask Him for well-being" applies before trials occur. After trials begin, there is no prohibition in asking for patience - rather it is recommended, as in Allah's saying: "Pour upon us patience" (Quran 2:250). As mentioned in Al-Maraqi.
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں لغواور بے فائدہ باتیں جہت ہول اوروہوبالے سے اکھڑتے پڑے ہیں ( کلمات ) پڑھے :
یا اللہ ! میں آپ کی پاکی اور تقریف بیان کرتا ہول گوای دیتا ہول کہ آپ کے سوا کوئی مجبوہ نہیں ہے آپ سے ( گناہوں کی ) بخشش کا طالب ہول اور ( اس مجلس میں جو کوئی پیالہ ہوتا ہے ) ان سے توہین کرتا ہول - تو اس مجلس میں اس سے جو کوئی پیالہ ہوتا ہے ان کو معاف کرو ایا جاتا ہے اس کی روایت تزکیہ اور بہتری نے دعوات کبیر میں کی ہے - مجلس کے اختتام پر دعا کرنا ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever sits in a gathering where there is much idle talk, then says before getting up: 'Glory be to You, O Allah, and praise be to You. I bear witness that there is no god but You. I seek Your forgiveness and repent to You,' will be forgiven for what occurred in that gathering." [Narrated by Tirmidhi and Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
امام مثنی حضرت عاشرصد یقد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں تشریف رکھتے یا نماز پڑھتے تو چند کلمات پڑھتے ( امام مثنی فرماتے ہیں کہ ) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کلمات ( کافانہ ) دریافت کی تو آپ نے فرمایا : اگر بجلائی کی بات ( کے ختم ) پران کلمات کو پڑھا گیا تو قیامت کے ان پر مہر ہو جائے گی ( لیکن وہ بجلائی بیش کے لیے محفوظ ہو گی ) اور اگر ان کلمات کو بری بات ( کے ختم ) پر پڑھا گیا تو یہ کلمات اس ( برائی ) کا فارہ ہو جائیں گے - ( وہ کلمات یہیں ) سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبَحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ .
(ترجمہ اورگز رچکہے دکہ لیس)اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔۔
گھرتے باہر نکلے وقت کی دعاے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: Allah's Messenger (ﷺ) used to say certain words whenever he sat in a gathering or finished praying. Aisha asked him about these words, and he said: "If one speaks good words, they will be a seal on them until the Day of Judgment. If one speaks evil words, they will be an expiation: 'Glory be to You, O Allah, and praise be to You. There is no god but You. I seek Your forgiveness and repent to You.'" [Narrated by Nasa'i]
بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظِلَمَ
أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجُهلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا .
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کہ حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھرتے باہر نکلتے تو یادعاے پڑھتے:
(میں) اللہ تعالیٰ کے نام سے (نکلتا ہول اور سارے کامول میں) میں نے اللہ تعالیٰ سے پر
بھروسر کیا ! یا اللہ ! تم لغرشول سے یا گمراہ ہوجانے سے، (یا کسی پر) ظلم کرنے سے یا کسی سے ظلم کے
جانے سے یا جہالت کرنے سے یا تم پر جہالت کے جانے سے تم آپ کی پناہ میں آتے
میں۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن
صحیح ہے اور
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) used to say when leaving his house: "In the name of Allah, I place my trust in Allah. O Allah, we seek refuge in You from slipping or being led astray, from oppressing or being oppressed, from acting ignorantly or being treated ignorantly." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi and Nasa'i. Tirmidhi said it is hasan sahih. In Abu Dawud and Ibn Majah's version: "The Prophet (ﷺ) never left my house without raising his eyes to the sky and saying: 'O Allah, I seek refuge in You from leading astray or being led astray, from oppressing or being oppressed, from acting ignorantly or being treated ignorantly.'"]
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ
عَلَيَّ -
ابوداوداورابن ماجہ کی روایت میں اس طرح سے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ
رضی اللہ عنہا نے فرما کر جب کہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھرتے نکلے تو ضرور
آ سمان کی طرف اپنی نگاہ مبارک کو انہاتے اور یول دعاے فرما تے:
ایضا و مسی حدیث
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) used to say when leaving his house: "In the name of Allah, I place my trust in Allah. O Allah, we seek refuge in You from slipping or being led astray, from oppressing or being oppressed, from acting ignorantly or being treated ignorantly." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi and Nasa'i. Tirmidhi said it is hasan sahih. In Abu Dawud and Ibn Majah's version: "The Prophet (ﷺ) never left my house without raising his eyes to the sky and saying: 'O Allah, I seek refuge in You from leading astray or being led astray, from oppressing or being oppressed, from acting ignorantly or being treated ignorantly.'"]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھرتے باہر نکلتے تو یادعاے پڑھے:
بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
میں اللہ تعالیٰ (کے نام سے) نقلہ ہون، میں نے اللہ تعالیٰ کی پر جھروس کیا ہے (گناہوں
سے پاکی) طاقت اور (عبادت کرنے کی) قوت اللہ تعالیٰ کی (تو فیق سے) ہے۔
تو اس وقت (فرشتہ کی طرف سے پول) ندا پیرا ہوتی ہے کہ سیدہ راستہ دکھادیا گیا اور
(سارے کاموں میں) تیری کفايت کی گئی اور شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے اور دوسرا شیطان اس
سے کہتا ہے تو اس آدمی پر کسے قابو پاسکتا ہے جس کو ہدایت دی گئی، کفايت کی گئی، اور اس کو پچالیا
گیا۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور ترمذی نے "لہ الشیطان" (کے الفاظ) تک روایت کی
ہے۔
گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that Allah's Messenger (ﷺ) said: "When a man leaves his house and says: 'In the name of Allah, I place my trust in Allah. There is no power nor strength except with Allah,' it will be said to him: 'You have been guided, protected and guarded.' Then the devils will move away from him, and another devil will say: 'How can you approach a man who has been guided, protected and guarded?'" [Narrated by Abu Dawud. Tirmidhi narrated it up to: "the devils will move away from him."]
اللہُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بَاسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَخَرَجْنَا
وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا۔
"السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ.
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ تے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتا اس کو چاہیے کہ
پیدا ے پڑے:
اللہُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بَاسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَخَرَجْنَا
وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا۔
یا اللہ! میں آپ سے داخل ہونے اور باہر نکلنے کی بحالی مانگتا ہوں! اللہ تعالیٰ، میں کے نام سے
تم داخل ہوئے اور (اس کے نام سے) تم باہر نکل گئے اور اللہ تعالیٰ، میں پر جوہمارا رب ہے، تم نے
پھروس کیا ہے۔
پھر اپنے گھر والوں پر سلام کرے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
ف: واضح ہو کہ جب انسان اپنے گھر میں داخل ہوتا گھر والوں پر پہلے سلام کرے پھر بات
کہے اور اگر کوئی کوئی نہ ہوتا تو پول کیے :-
تم پراور اللہ تعالیٰ کے نیک بندرول لیے فرشتوں پر سلام ہے۔ (رواہا راور عالمگیری 12)
Abu Malik al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated that Allah's Messenger (ﷺ) said: "When a man enters his house, he should say: 'O Allah, I ask You for the good of this entrance and exit. In the name of Allah we enter, and in the name of Allah we leave, and upon our Lord we rely.' Then he should greet his family." [Narrated by Abu Dawud]
(1) The statement "then he should greet his family" - In Fusul al-'Alami: "When entering upon his family, he should greet them first before speaking." As mentioned in Radd al-Muhtar. And in Al-'Alamgiriyyah: "When a man enters his house, he should greet his family. If no one is present, he should say: 'Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah.' As in Al-Muhit."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی نماز کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مبارک باد دیتا اور پول دعا فرما تے : بارک اللہ لک، وبارک علیکما وجمع بینکما فی خیر۔ اللہ تعالیٰ (پیغمبر) تجہ مبارک کرے اور تم دونوں کو (ہرشم کی برکت دے اور تم دونوں کو ہرشم کی بجلائی پرتق رکے۔ اس کی روایت امام احمد،ترمزی،ابوداوداور ابن ماجہ نے کی ہے۔ شاہی کرے یاجانور یاسواری خریدے تو پیدا پڑے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that when the Prophet (ﷺ) congratulated someone on marriage, he would say: "May Allah bless you, and may He bless for you, and may He unite you both in goodness." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud and Ibn Majah]
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت کرے ہیں اور وہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرما تے ہیں کہ پنے ارشاد فرما یا کہ: تم میں جب کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا غلام باندی خریدے تو وہ اس طرح دعا کرے : اللہم انتی آسلک خیرہا و خیر ما جبلتها علیہ، واعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها علیہ۔ یا ای! میں آپ سے اس کی بجلائی اور اس کے اخلاق کو ماگنا ہون جس پر آپ نے اس کو پیار کیاہے اور اس کی برائی سے اس کے برے اخلاق سے جس پر آپ نے اس کو پیارا کیاہے۔ آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
اور جب کوئی اونٹ (یا جانور سواری کو) خریدے تو اس کے کوہان کو پکڑ کر اسی طرح دعا کرے۔
Amr ibn Shu'ayb from his father from his grandfather (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "When any of you marries a woman or buys a servant, he should say: 'O Allah, I ask You for her good and the good of her nature, and I seek refuge in You from her evil and the evil of her nature.' When buying a camel, he should take hold of the top of its hump and say the same. In another version: For the woman and servant, then he should take hold of her forelock and supplicate for blessing." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
اس کی پیشانی کے بال پکڑ لے اور برکت کی دعا کرے۔
اس کی روایت ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔
Take hold of his forehead hair and make a supplication for blessings.