Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْإِسْتِعَاذَةِ

Seeking Refuge
Volume 5 · Supplications

(اس باب میں ان دعاوں کا بیان ہے جن میں اکثر چیزول سے پناہ ماگنے کا ذکر ہے)

وہ بلا کی جن سے اللہ کی پناہ ماگی جائے

This chapter contains invocations in which seeking refuge from various things is frequently mentioned. These are the evils from which Allah’s protection is sought.

3428

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (دینی اور دنیوی) مصائب کی مشقت سے، بدختی سے، بری تقدیراور (مصیبتون میں گرفتار ہونے پر) وشمنون کے خوش ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ماگلو اس کی روایت بخاری اورمسلم میں متفق طور پرکی ہے۔

وہ پانچ چیزیں جن سے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ ماگی ہے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Seek refuge in Allah from the severity of calamity, the onset of misery, evil decrees, and the gloating of enemies." [Agreed upon]

3429

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان) پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ماگتے تھے:

بزدلی سے، بجل سے اور بڑھاپے کی براثی سے، اور سینہ کے فتنے (لعن وسوسول اور بدعقیدگی)

سے اور قبر کے عذاب سے۔ اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔

لا پچ سے پناہ ماگنے کی تاکید

Umar (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge from five things: "From cowardice, miserliness, reaching old age while sinful, the trials of the heart, and the punishment of the grave." [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa'i]

3430

حضرت معاز رضی اللہ عنہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: تم اللہ تعالیٰ سے اس لا پچ سے پناہ ماگلو جوتم کو میں لعنی (دینی یا دنیوی) زلت تک پہوچا دے۔

اس کی روایت امام احمد نے اور تہذیب نے دعوات الكبیر میں کی ہے)

Mu'adh (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Seek refuge in Allah from greed that leads to wrongdoing." [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]

چاندگین کی برائی سے پناہ ماگی جائے
3431

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) چاند کو دیکھا (جب کراس کوگین لگا ہوتا تھا) تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! تم اللہ تعالیٰ سے اس کی برائی سے پناہ ماگواس لے کہ یہی غاسق لیجن انہیں رے کو پچھیلا نے والاح (جب کراس کوگین لگے جادے)۔ اس کی روایت ترتذی نے کی ہے۔

جادو کے اثر سے محفوظ رہنے کی دعا

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) looked at the moon and said, "O Aisha, seek Allah's protection from the evil of this, for this is the darkening (moon) when it rises." [Narrated by Al-Tirmidhi]

3432

أَعُوذُ بَوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُ هُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِاسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرٍّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ.

حضرت قعقاع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ (میرے اسلام) قبل کر نے سے یہود میں رے دشمن ہیں) اگر میں چند کلمات کونہ پڑھا کرتا تو یہود (جادو کر کے) مجھے گلدہا بنادیتے (لیجن مجھے گلدہ کی طرح بے وقف اور زیل بنادیتے) ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ کلمات کیا ہیں تو انہول نے جواب دیا (وہ کلمات یہ ہیں)

میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی پناہ میں آتا ہوں جو بزرگ و برتر ہے اور جس سے بڑا کر عظمت والا کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات لیجن قرآن کے واسطے (جس کے وعدے اور وعید ثواب اور عذاب سے) کوئی نہیں اور بد خارج نہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں کے واسطے جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو میں نہیں جانتا وہ سارے مخلوقات کی برائی سے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا پچھیلا یا ورموز ول بنایا۔

اس کی روایت امام ماکر رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔

نماز کے بعد پڑھی جانے والی دعاء

Al-Qa'qa' reported that Ka'b al-Ahbar said: "Were it not for certain words I say, the Jews would have turned me into a donkey." When asked what they were, he said: "I seek refuge in the majestic Face of Allah, than which nothing is more majestic, and in the perfect words of Allah which no righteous or wicked can surpass, and in all the beautiful names of Allah that I know and don't know, from the evil of what He has created, originated and brought into being." [Narrated by Malik]

(1) The statement "the Jews would have turned me into a donkey" means they would have made me foolish and humiliated. The meaning is that they were sorcerers who were angered by my Islam. Were it not for my seeking refuge with these words, they would have overpowered me, subdued me, and made me foolish and humiliated like a donkey - which is a metaphor for humiliation. It does not mean they actually transformed him, as transforming realities is only in Allah's power, as He says: "Be as apes, despised" (2:65), and "It seemed to him from their magic that their ropes and staffs were moving" (20:66). This shows the extent of their magic, which was the pinnacle of what sorcerers could achieve in Pharaoh's time while seeking his wealth and status. If they could have done more, they would have done so against Moses. If they couldn't do it against Moses, how could they do it against the best of creation who manifested truth? As Al-Bayhawi said: Magic refers to what is achieved through seeking help from Satan in matters beyond human capability. If Satan cannot transform himself into a donkey, let alone others, how could those who seek his help transform realities?

As for the statement in Al-Madarik: "Magic has reality according to Ahl al-Sunnah (may Allah increase them) and is illusion according to Mu'tazilah (may Allah disgrace them)", it means magic is real and occurs, not that it is false illusion like seeing one thing as two or hallucinations from brain disorders. This is evidenced by the Quran and Sunnah, including the verses: "They teach people magic" (2:102), "And from the evil of those who blow on knots" (113:4), which refers to the famous Jewish magic. The consensus of Ahl al-Sunnah and Mu'tazilah against actual transformation, along with reason and the absence of such occurrences in creation, proves its impossibility. Claims of witnessing such are false tales told in coffee shops and believed by foolish women and weak-minded men.

3433

اللّہمّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَ الْفَقْرِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ۔

ترجمہ: یا اللہ! میں کفر سے فقر سے اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں راوی کا بیان یہ ہے کہ (والد کی اتباع میں) میں جس ان کلمات کو پڑھا کرتا تھا تو (میرے والدن) کہا: اے میرے بیٹے! تو نے یہ (دعائے) کس سے سیکھی؟ میں نے جواب دیا: آپ تو! تو (پیس کران کے والد نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کلمات کو پڑھنماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روايت ترندي اور نسائي نے کی ہے۔ البتر نسائی نے دُبُر الصلاۃ کے الفاظ کو بیان کیا اور امام احمد نے صرف الفاظ حديث (جس میں صرف دعا) کی روایت کی ہے (اور باب پڑھ کے درمیان مکمل کو بیان کیا) اور احمد کے پاس فی دُبُر کُلّ صلاۃ (جس میں پڑھنماز کے بعد) کے الفاظ مروی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اور دعائے

Muslim ibn Abi Bakrah (may Allah be pleased with him) said: My father used to say after prayer: "O Allah, I seek refuge in You from disbelief, poverty, and the punishment of the grave," so I said it too. My father asked: "My son, from whom did you learn this?" I said: "From you." He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to say this after prayer." [Narrated by Al-Tirmidhi and An-Nasa'i, though they didn't mention "after prayer." Ahmad's version adds: "after every prayer."]

3434

اللّہمّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَكَّلْتُ، وَالَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَا صَمْتُ۔ اللّہمّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِعِزَّتِکَ لاَ اللہِ الاَّ اَنْتَ اَنْتَ تُصِلَّنِیْ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذی لاَ یَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْاِنْسُ یَمُوْتُوْنَ۔

یا اللہ! میں تیرا فرمان بردار بن گیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر جھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوااور تیری (مد) سے (رشمنون سے) لزا اے پروردگار! میں آپ کی عزت کی پناہ میں آتا ہوں۔ آپ کے سوا کوئی (برحق) معبد نہیں اس بات سے کہ آپ پ مجھے (بدائت کے بعد) گمراہ کر دیا آپ کی وہ زندہ جاوید میں جس کوموت نہیں آتی، اور جس وانس کوموت آتی ہے اور وہ تو مرتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

البذا وسری حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, to You I submit, in You I believe, in You I trust, to You I turn, and by You I dispute. O Allah, I seek refuge in Your might - there is no god but You - from being led astray. You are the Ever-Living who never dies, while jinn and humans die." [Agreed upon]

3435

اللہم انبی اعوذ بک من منکرات الاخلاق والاعمال والاهواء۔

قطب بن ماکر ضی الدعہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیداء (مجی) فرمایا کرتے تھے:

یا اللہ! میں برے اخلاق (جیسے حسد، بغض وغیرہ) سے اور برے اعمال اور بری خواہشات لیعن برے عقیدے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ ترنذی نے اس کی روایت کی ہے۔

البذا تیری حدیث

Qutbah ibn Malik reported: The Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from immoral character, evil actions, and wicked desires." [Narrated by Al-Tirmidhi]

3436

اللہم انبی اعوذ بک من الشقاق والنفاق وسوء الاخلاق۔

حضرت ابوہریرہ ضی الدعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیداء (مجی) فرمایا کرتے تھے:

یا اللہ! میں شقاق (جیسے حق کیخلافت اور باتمی عداوت) سے اور نفاق سے اور برے اخلاق سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوراوداورنسائی نے کی ہے۔

جوک اور خیانت سے پناہ ماگی جائے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from division, hypocrisy, and bad character." [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa'i]

3437

اللّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوْعِ، فَإِنَّهُ بَدْسَ الضَّجِيعُ . وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ

الْخِیَانَةِ ؛ فَإِنَّهَا بَئْسَتِ الْبَطَانَةُ.

حضرت ابوہریرہ ضی الدعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

یا اللہ ! میں مجھے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اس لئے کروہ تکلیف دہ ساتھی سے اور میں

خیانت سے (بچی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں اس لئے کریہ پوشیدہ بری خصلت سے۔

اس کی روایت ابو داود نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

کن چیز ول سے پناہ ما گی جاے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from hunger, for it is a terrible companion, and from betrayal, for it is a terrible inner trait." [Narrated by Abu Dawud, An-Nasa'i, and Ibn Majah]

3438

وَسَلَمْ یَدْعَاءُ (بچی) فَرَمَا کَرَتَ تَحَ: اللّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ . وَأَعُوذُ

بِكَ مِنْ أَنْ أَظُلِمَ أَوْ أُظْلَمَ.

یا اللہ ! میں محتاجی (نکیون میں) کی اور ذلت (جیتن لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے سے)

آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور طالم بنے یا مظلم بنے سے (بچی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس

کی روايت ابو داود اور نسائی نے کی ہے۔

کن پہار پول سے پناہ ما گی جاے

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from poverty, scarcity, and humiliation, and I seek refuge in You from oppressing or being oppressed." [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa'i]

3439

اللّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُوْنِ وَمِنْ سَیِّءِ الْأُسْقَامِ.

یا اللہ ! میں کور، جذام، دپوگی اور (اسی قسم کی دوسری) بری پہار پول سے (بچی) آپ کی پناہ

میں آتا ہوں۔ اس کی روايت ابو داود اور نسائی نے کی ہے۔

کن چیزول سے پناہ ماگی جائے

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from leprosy, insanity, and evil diseases." [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa'i]

3440

اللّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ

وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دعا کی) فرما کر تے تھے:

یا اللہ! میں فقر اور غم، عاجزی اور کستی، بزدلی اور بخل، قرض کے بوجھاورآدمیوں کے غلبے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

کفر، قرض اور فقر سے پناہ ماگی جائے

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from grief, sadness, weakness, laziness, cowardice, miserliness, overwhelming debt, and subjugation by others." [Agreed upon]

3441

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشا دفرما تے سناآپ نے فرما یا: "أعوذ بالله من الكفر والدين" (میں کفر سے اور قرض سے اللہ کی پناہ میں آتاہوں)۔ یعنے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ کیا آپ کفر کو قرض کے مساوی قرار دیتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: بہاں!

Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "I seek refuge in Allah from disbelief and debt." A man asked: "O Messenger of Allah, do you equate debt with disbelief?" He said: "Yes." In another version: "O Allah, I seek refuge in You from disbelief and poverty." A man asked: "Are they equal?" He said: "Yes." [Narrated by An-Nasa'i]

3442

اور ایک روایت میں یوں ہے: آپ نے فرما یا: "اللہُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ" ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں (یعنی کفر اور فقر) برابر ہیں؟ آپ نے جواب دیا: بہاں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔

اللہ کی پناہ میں آنے کی ایک جامع دعا

Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "I seek refuge in Allah from disbelief and debt." A man asked: "O Messenger of Allah, do you equate debt with disbelief?" He said: "Yes." In another version: "O Allah, I seek refuge in You from disbelief and poverty." A man asked: "Are they equal?" He said: "Yes." [Narrated by An-Nasa'i]

3443

اللّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ۔ اللّهُمَّ إِنِّى

أَعُوذُبِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ فِتنَةِ النَّارِ، وَفِتنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتنَةِ

الْغِنى، وَمِنْ شَرِّ فِتنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.

اللّهُمَّ اغْسِلْ خَطايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِى كَمَا يُنقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ

مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دعا کی) فرما کر تے تھے:

یا اللہ! میں (طاعت کی میں) کستی سے، برہاپے سے قرض سے اور گناہول سے آپ کی

پناہ میں آتا ہوں - یا اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور دوزخ کی

آزماش سے، قبر کے فتنے (جسے فرشتوں کے جواب میں پریثانی سے) اور قبر کے عذاب سے اور

مالداری کے فتنے کی برائی (جسے غفلت، غروراور نجل) سے اور افلاس کے فتنے کی برائی (جسے دولت

مندول پر حسداور لاش) سے اور کناود جال کے فتنے کی برائی سے -

یا اللہ! آپ میرے گناہول کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دیں اور میرے دل کو

(براتیول سے) ایسے پاک کیجئے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے اور میرے اور گناہول

کے درمیان اتنی دوری کر دیں جسیا کہ آپ نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کر دی ہے -

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -

غیر طبعی موت کی فتنے میں اور ان سے پناہ ما گئے کا بیان

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from laziness, senility, debt, and sin. O Allah, I seek refuge in You from the punishment of Hell, the trials of Hell, the trials of the grave, and the punishment of the grave. I seek refuge in You from the trial of wealth, the trial of poverty, and the trial of the False Messiah. O Allah, wash away my sins with snow and hail, purify my heart as a white garment is purified from filth, and distance me from my sins as You have distanced the East from the West." [Agreed upon]

3444

اللّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّى، وَمِنَ الْغَرَقِ

وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطْنِى الشَّيْطَانُ عِندَ الْمَوْتِ. وَأَعُوذُ بِكَ

مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِى سَبِيلِكَ مُدْبِراً، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغاً.

حضرت ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و

آلہ وسلم بیدعا (بھی) فرمایا کرتے تھے:

یا ابی (مکان کے بھٹ پر) گرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں (بلند جگہ سے پڑا) گرنے سے، اور (پانی میں) ڈوب جانے سے، اور (آگ و غیرہ میں) جل جانے سے اور برہاب پر (کی برائی جس عقل میں فتوہ و غیرہ) سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور موت کے وقت شیطان کے مجھ مخبوط احواس بنادیں لیجنی پر پشان کرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور آپ کی راہ (معنی جہاں) میں پیچ پلا کر بھاگنے کی موت سے (مجھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور میں (سات پچھو و غیرہ کے) کاش کے سب سے مر جانے سے (مجھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداوداورسالی نے کی ہے۔

اور سالی کی ایک دوسری روایت میں غم سے بھی پناہ ماگنے کا ذکر ہے۔

ف: واضح ہو کر اس حدیث شریف میں ناگہانی موت سے دب کر یا اوپر ستگگ کر مر جانے یا زہر پیلے جانور کے دست و غیرہ سے پناہ ماگنے کی بے حالاکہ ناگہانی اموات سے شہادت کا درجہ ملتا ہے۔ صاحب مرقات نے کہاہے کر ناگہانی اموات میں بہ انہیا اور شریف تکلیف ہوتی ہے اس لے انہیثر لگارہتناہیکہ مر نے والابہ صبری کے عالم میں کفری کلمات کہدے اور نیچتا خا تمہ بر اہوجاے۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناگہانی اموات سے پناہ ماگنے کی امت کو تعلیم دی ہے۔12

Abu al-Yusr reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate: "O Allah, I seek refuge in You from being crushed, I seek refuge in You from falling, from drowning, burning, and senility. I seek refuge in You from Satan confusing me at death, from dying while retreating in Your cause, and from dying of a scorpion's sting." [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa'i, with an addition in another narration: "and from grief."]

ایک اور جامع و عاء
3445

اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ. اللّهُمَّ آتِنِفْسِى تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا. اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَها.

حضرت زید بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عاء (مجھی) فرمایا کرتے تھے:

یا اللہ! میں (طاعت کی اور عبادت میں) معذوری سے اور ستی سے اور بزدلی سے اور جعل سے اور برہائے (کی سزاے سے) اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں - یا اللہ! میرے نفس کو پر میزگار بنادے اور تو اس کو پا کی عطا فرماؤ پر، یہ سب میں بہتر پا کر نے والے ہیں آپ کے کار ساز اور ما کے ہیں - یا اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایس علم سے جو فائدہ نہ دے، اور ایسے دل سے جس میں آپ کا ور نہ ہو، اور ایسے نفس سے جس میں سیری نہ ہو اور ایسے دعا سے جو قبول نہ ہو اس کی روایت مسلم نے کی ہے -

Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from weakness, laziness, cowardice, miserliness, senility, and the punishment of the grave. O Allah, grant my soul piety, purify it - You are the best to purify it - You are its Guardian and Protector. O Allah, I seek refuge in You from knowledge that doesn't benefit, a heart that doesn't humble, a soul that isn't satisfied, and a supplication that isn't answered." [Narrated by Muslim]

3446

اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لا يُسْمَعُ.

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کوہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:

ترجمہ: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں چار چیزوں سے: بے فائدہ علم سے، بے خوف دل سے، نہ سیر ہونے والے نفس سے، نہ سی جانے والی دعا سے۔ اس کی روايت امام احمد، اور ابو داود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from four things: knowledge that doesn't benefit, a heart that doesn't humble, a soul that isn't satisfied, and a supplication that isn't heard." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah. Al-Tirmidhi and An-Nasa'i also narrated it from Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them).]

3447

اور امام ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ روایت کی ہے۔ ایسے تیری حدیث

Imam al-Tirmidhi narrated from Abdullah ibn Umar (RA) that he said:

Such is your hadith.

3448

اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَ تَحَوُّلِ غَضْبِكَ، وَ فُجَاءَةِ

نِقْمَتِكَ وَ جَمِيعِ سَخَطِكَ.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (دعاوں میں سے) ایک دعا یہ تھی:

یا ای! میں آپ کی (براس) نعمت کے زوال سے (جس کا کوئی بدلہ نہ ہو) اور عافیت

کے (مصیبت میں) بدل جانے سے اور آپ کے اچاکہ آنے والے عذاب سے اور آپ کے بھٹکنے

کی ناراضگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

شیطان کے وسوسے سے محفوظ رہنے کی دعا

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported that among the supplications of the Messenger of Allah (ﷺ) was: "O Allah, I seek refuge in You from the removal of Your blessing, the change of Your protection, the suddenness of Your punishment, and all Your displeasure." [Narrated by Muslim]

3449

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے روایت

کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم میں سے جب کوئی نیند میں

دور جائے تو اس کو چاہے کہی کلمات پڑھ لے:

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَ عِقَابِهِ وَ شَرِّ عِبَادِهِ، وَ مِنْ هَمَزَاتِ

الشَّيَاطِينِ وَ أَنْ يَحْضُرُونَ.

میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات میں قرآن کے واسطے اس کے غضب سے، اس کے عذاب

سے، اس کے بندول کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسے سے اور ان کے مجھ پر حاضر ہونے سے میں

مسلط ہوں۔ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

(تو) شیطین اس کو (ظاہراً اور باطنًا) نقصان نہیں پہوچا سکے۔

اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے پچوں میں سے جو بالغ ہوتے نذورہ بالا دعا

سکھاتے تھے اور ان میں جونابالغ ہوتے اس دعا کو کاغذ کے ایک پرچم پر لکھ کر اس کے گل میں

لٹکاتے تھے۔

اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے اور اس حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں۔

ف: واقع ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اکو کا غذ کے پرچم پر لکھ کر پچول کے گے

میں لکاتے تھے۔ پیغمبر تعویز کے جواز کی ویل ہے۔ اور روضہ میں لکھا ہے کہ دم کر نے یا کسی پردعا کے

پڑنے میں کوئی قیاحت نہیں بشرطیہ اس میں شرک کے الفاظ نہ ہون اور جن حیثیت میں تعویز منع ہے

وہ اس بات پر محول ہے کہ اس میں شرک کے مضامین ہون اس پر مجروح کرنا کے اللہ تعالیٰ سے عافی

ہوجائے۔ تعویز کے مختلف طریقہ سلف سے مرودی ہیں پانی پر دم کر کے مریض کو پلانا یہ حضرت عائشہ

رضی اللہ عنہا سے مرودی ہے۔ اور حضرت مجاهد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ قرآن کی آیتوں کو کسی برتن پر

کلمہ کر پیار کو دھوکر پلاوی تو اس میں کوئی قیاحت نہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے درود زہ میں

آیتوں کو دھوکر پلانے کا حکم دیا ہے اور حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نے آیتوں کو لکھ کر عورتول یا

پچول کے گلوں میں لکاتے میں قیاحت نہیں بتائی بشرطیہ اس کو جاندی یا پچول میں بند کر دیا جائے۔

ایک مختصر اور جامع دعا

Amr ibn Shu'ayb reported from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any of you is frightened in sleep, let him say: 'I seek refuge in the perfect words of Allah from His anger, His punishment, the evil of His servants, from the whisperings of devils and their presence,' for they will not harm him." Abdullah ibn Amr used to teach this to his children who had reached puberty, and for those who hadn't, he would write it on a piece of paper and hang it around their necks. [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi with this wording.]

(1) The statement "from the whisperings of devils" indicates that fright in dreams comes from Satan. As mentioned in Al-Mirqat.

(2) The statement "he would hang it around their necks" establishes the permissibility of wearing amulets containing Allah's names. As stated in Al-Mirqat. Some people confuse amulets (ta'wiz) with talismans (tamimah), but they are different. Talismans are beads, while amulets are permissible if they contain Quran or Allah's names. Al-Zayla'i said: Some people confuse ruqya (healing recitations) with talismans, which were strings tied around necks or arms in pre-Islamic times to supposedly ward off harm - this is prohibited and considered disbelief. In Al-Mujtaba: There are differences regarding healing with Quran - whether by reciting over the sick, writing and hanging it, or washing the writing and drinking it. The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for himself, and people today follow this practice based on authentic narrations. There is no harm in women or menstruating women wearing amulets on their arms if properly wrapped. In Al-Khaniya: A woman wanted to wear an amulet to make her husband love her - this is prohibited. Writing religious texts during non-Islamic festivals or nailing them to doors is disliked as it disrespects Allah's name. [Summarized from Al-Durr al-Mukhtar]

دم کر نے یا تعویذ باندھنے کی اجازت
3450

اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ.

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعا کی فرمایا کرتے تھے:

یا ایبی! میں ان کا مول کی برائی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جن کو میں نے کیا ہے اور ان

کا مول کی برائی سے جس پناہ مانگتا ہوں جن کو میں نے نہیں کیا۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ایک اعضاء کی برائیوں سے محفوظ رہنے کی دعا

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I seek refuge in You from the evil of what I have done and from the evil of what I have not done." [Narrated by Muslim]

3451

اللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي،

وَشَرِّ مَنِيِّي.

شہر بن شکل بن حمید رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے

والد نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مجھے ایک ایسا عمل

یا اللہ! میں اپنے کانوں کے براسطے آنکھوں کے برادیکھنے سے، زبان کے برابولنے سے، دل کی براسیول سے اور ماوه منوی کی برائی (لیعن بد نگاہی اور بد علی فعلی) سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداود، ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔

دنیااورآخرت میں نفع دین والی دعا

Shutayr ibn Shakl ibn Humaid reported from his father (may Allah be pleased with him) that he said: "O Prophet of Allah, teach me words of refuge to recite." The Prophet (ﷺ) said: "Say: 'O Allah, I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my sight, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my desires.'" [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and An-Nasa'i]

3452

اللّهُمَّ الْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعْذِنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي.

یا اللہ! مجھے ہدایت کی توفیق دے تے اور مجھے میرے نفس کے شر سے پاچیے۔

حسین بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد سے (ان کے اسلام لانے سے پہلے) دریافت فرمایا: اے حسین! تم دونوں میں کتنے خداوں کی عبادت کرتے ہو؟ میرے والد نے جواب دیا: سات (خداوں کی عبادت کرتا ہوتا) چھوڑنے والے اور ایک آسمان والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا: تو ان میں سے کس سے (بجلاؤ کی) امید رکھتا ہے اور ذریتا ہے؟ میرے والد نے جواب دیا: میں (امید اور خوف) آسمان والے سے رکھتا ہوتا! (یعنی) آپ نے فرمایا: اے حسین! اگر تو اسلام قبول کر لیتا تو میں تجھ کو دو ایسے کلمے سکھاتا جو تے (دنیااورآخرت میں) فائدہ دیتے حضرت عمران نے فرمایا جب (میرے والد) حسین نے اسلام قبول کیا تو عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ کلمات سکھا یے جن کا آپ نے مجھے وعدہ فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا اول کہا کرو۔

اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔

دو عیس کو تین مرتبہ دعا کاچاہے

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) asked my father: "O Husayn, how many gods do you worship today?" My father replied: "Seven - six on earth and one in heaven." The Prophet asked: "Which one do you turn to for hope and fear?" He said: "The One in heaven." The Prophet said: "O Husayn, if you accept Islam, I will teach you two phrases that will benefit you." When Husayn accepted Islam, he said: "O Messenger of Allah, teach me those two phrases you promised." The Prophet said: "Say: 'O Allah, inspire me with guidance and protect me from the evil within myself.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]

3453

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے روایت کرودہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت طلب کرے تو جنت کی پائے گا۔ اب تو اس کو جنت میں داخل کرو۔ اور جو شخص تین مرتبہ (اللہ تعالیٰ سے) دوزخ کی پناہ مانگے تو دوزخ کی پناہ ہے۔ اب تو اس کو دوزخ سے پناہ دے۔

اس کی روایت تزندی اور نسائی نے کی ہے۔

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever asks Allah for Paradise three times, Paradise will say: 'O Allah, admit him to Paradise.' And whoever seeks refuge from Hell three times, Hell will say: 'O Allah, save him from Hell.'" [Narrated by Al-Tirmidhi and An-Nasa'i]