Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ مَا يُقَوْلُ عِندَ الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَالْمَنَامِ

بی باب ان دعاول کے بیان میں بے جونح شام اورسوے وقت پڑھی جائیں

What to Say in the Morning, Evening, and Before Sleeping
Volume 5 · Supplications

دوزخ سے نجات دلانے والی دعاء

The supplication that saves from Hellfire

3336

حارث بن مسلم ترمیزی رحمۃ اللہ علیہ پنے والد مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے

ہیں اور وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان

سے بطور رازداری کے پیارشاد فرمایا کہ جب تم مغرب کی نماز سے فارغ ہو جاؤ اور سلام پھیر دو

(جبیا کر اشعۃ اللمعات میں ذکور ہے۔) تو کسی سے باط کے بغیر سات مرتبہ اللہُمَّ اجْرُنِی مِنَ

النَّارِ - (اے اللہ مجھے دوزخ سے پاچیچے) پڑھ لیا کرو (سات کا عدد اس لیے ارشاد ہوا کہ دوزخ

کے سات دروازے اور درب ہیں) ثم جب اس (دعاء) کو (سات مرتبہ) پڑھو اور اسی رات تتمہارا

انتقال ہو جائے تو تتمہارے لیے دوزخ سے نجات کی جائے گی اور اسی طرح فجر کی نماز کے بعد بھی

(سات مرتبہ اس دعاء کو) پڑھو اور اگر اسی دن تتمہارا انتقال ہو جائے تو تتمہارے لیے دوزخ سے

نجات کی جائے گی۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

صبح اور شام پڑھی جانے والی دعاء

Al-Harith ibn Muslim at-Tamimi narrated from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) confided in him, saying: "When you finish Maghrib prayer, say: 'O Allah, save me from the Fire,' seven times. If you say this and then die that night, it will be recorded as a protection for you from it. And when you pray Fajr, say the same, for if you die that day, it will be recorded as a protection for you from it." [Narrated by Abu Dawud]

3337

عبد الرحمٰن بن الی بکرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں

اپنے والد ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: ابا جان! ہر روز صبح اور شام میں آپ کو پیر دعاء تین

تین مرتبہ پڑھتے ہوئے سنتا ہوں (اس کی کیا وجہ؟) اللہُمَّ عافِنی فِی بَدنی۔ اللہُمَّ عافِنی

فِی سَمْعِی۔ اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی۔ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ اے اللہ! میرے بلد کو عافیت تو رکھی اے اللہ! آپ میری سماعت میں عافیت دیئے ( کہ میں احکام شریعت کو ن کرلنے کے قابل رہون ) اے! مجھے میری بصارت میں عافیت دیئے ( تاکہ میں آپ کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرسکون ) آپ اس دعا کو تین بار صبح اور تین بار شام پڑھا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اے میرے بھی تمیں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ( صبح اور شام ) ان دعاوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو میں آپ کی سنن کی پیروی کرنے بھی حد پسند کرتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف کے آخر میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند کواس دعا کو صبح و شام پانچ دیگی مجدداً یافت کرنے پر فرمایا کہ مجھے سننے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی بھی حد پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے اور اعمال نہیں کے انجام دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع مقصود ہے، نہ کہ کوئی دیوی غرض مشکلوہ۔ امراض اور بلاول سے محفوظ رکھنا اور دعا

Abdur-Rahman ibn Abi Bakra said: I said to my father, "O father, I hear you saying every morning: 'O Allah, grant me well-being in my body. O Allah, grant me well-being in my hearing. O Allah, grant me well-being in my sight. There is no god but You.' You repeat it three times in the morning and three times in the evening." He replied, "O my son, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) supplicating with these words, and I love to follow his Sunnah." [Narrated by Abu Dawud]

3338

ابان بن عثمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو بندہ ہر روز صبح و شام کے ابتدائی حصہ میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْءٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ اس اللہ کے نام سے ( میں نے جس کی اور شام کی ) کس جس کے نام سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی (ہمارے اقوال کو) سنے والے ہے اور (ہمارے احوال کو) جانتا ہے۔

تو کوئی چیز اس کونقصان نہیں پہو چا سکتی (راوی حدیث) حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے (جمہ کے ) ایک حسن پر فارغ کاملہ پوچا تھا تو (حدیث کو سنن والا) شخص آپ کو (تاجبے) دیکھتا تو حضرت ابان نے اس سے فرمایا: تو مجھے کیا دیکھتاہے؟ حدیث اس طرح سے جسے کر میں نے تجویز پیال کی ہے لیکن اس دن میں نے اس دعا کو پڑھنے سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنی تقذیر کو جاری فرمادین۔

اس کی روایت ترجمہ، ابن ماجراور ابو داود نے کی ہے۔

Aban ibn Uthman said: I heard my father say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no servant who says every morning and evening: 'In the name of Allah, with Whose name nothing can harm on earth or in heaven, and He is the All-Hearing, the All-Knowing,' three times, except that nothing will harm him." Aban had suffered a stroke, and a man looked at him (in surprise). Aban said, "Why are you looking at me? By Allah, the Hadith is as I narrated to you, but I did not say it that day so that Allah's decree would take its course." [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and Abu Dawud]

In another narration: "He will not be afflicted by any sudden calamity until morning, and whoever says it in the morning will not be afflicted by any sudden calamity until evening."

3339

اور ابو داود کی روایت میں یہ (اضافہ) ہے جوشام کے وقت اس دعا کو پڑھ تو) اچا کہ مجھ تک اس کو کوئی بلائی پہو چتی اور جواس دعا کو نہ کے وقت پڑھنے تو شام تک اس کو اچا کہ کوئی مصیبت نہیں پہو چتی۔

فوٹ شدہ اوراد، ووٹ آف کا ثواب دلا نے والی آیتیں

And in Abu Dawud's narration, it is added: 'If you recite this supplication during the day, then nothing will harm you until nightfall, and if you recite this supplication at night, then nothing will harm you until morning.' These are the omitted prayers, and verses that give the reward of recitation.

3340

رَّطَیْ : " فَسُبْحَنَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ۚ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِیًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ۚ يُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۗ وَكَذَٔلِکَ تُخْرَجُونَ " ۙ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جوشخص صح کے وقت (سورۃ روم، آیت نمبر: 17/19 کو)

تم اللہ تعالیٰ کی تشیح بیان کرو نے کے وقت اور شام کے وقت کی اور اس کی تعریف ہے آسانول میں اور زمین میں اور نیز سمہ پہر کے وقت اور دو پہر کے وقت کی (اس کی پاکی بیان کرو) وہی زندہ کو مردہ سے نکلتا ہے اور وہی مردہ سے زندہ کونکلتا ہے اور وہی زمین کواس کے مر نے کے بعد زندہ کرتا ہے اور تم (قیامت کے روز قبروں سے) اسی طرح نکلے جا ئے گے۔

تواس کو (الآن آئیوں کے تلاوت کی وجہ سے اس کے دون کے مقصد اوراد و وظائف چھوٹے گئے۔

ہول تو) ان کا ثواب مل جائے گا اور وہ اپنے فوت شدہ اوراد کے ثواب سے محروم نہ ہوگا) اور (اس طرح) جس نے شام کے وقت ان (آئیوں) کی تلاوت کی تواس کو بھی رات کے فوت شدہ (اوراد و وظائف) کا ثواب مل جائے گا۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

وہ کلمات جن کے پڑھنے سے رات اوردن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says in the morning: 'So exalted is Allah when you reach the evening and when you reach the morning. And to Him is [all] praise throughout the heavens and the earth, and [exalted is He] at night and when you are at noon' (Qur'an 30:17-19), he will attain what he missed that day. And whoever says it in the evening will attain what he missed that night." [Narrated by Abu Dawud]

3341

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص صحیح ان (کلمات) کو پڑھے:

اللّٰہُمَّ أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَ نُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَ مَلَائِكَتَكَ وَ جَمِيعَ خَلْقِكَ؛ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّٰهُ، لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَ حُدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَ رَسُوْلُكَ - یا اللہ! تم نے صح کی اس حال میں کہ گواہ کرتے ہیں آپ کو آپ کے حاملین عرش کو اور گواہ کرتے ہیں آپ کے فرشتے کو اور آپ کی ساری مخلوقات کو کہ بیشک آپ کے اللہ ہی آپ کے سوا میں کوئی معبود نہیں آپ کے (ذات، صفات اور افعال) میں کوئی شریک نہیں۔

اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں۔

تو (ان کلمات کی برکت سے) اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ (صغیرہ) کو جواز دوں میں ہو گے۔

ہول نجش دیتے ہیں اور (اس طرح) اگروہ ان (کلمات) کو شام کے وقت پڑھنے تو اس کے وہ گناہ (صغیرہ) جواز رات میں ہو گے۔ ہول اللہ تعالیٰ ان کو بھی نجش دیتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔

وہ دعا جس کے پڑھنے سے رات اوردن کی نغمتوں کا شکر ادا ہوتا ہے

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says in the morning: 'O Allah, we have entered morning bearing witness to You, to the bearers of Your Throne, to Your angels, and to all Your creation that You are Allah, there is no god but You alone, with no partner, and that Muhammad is Your servant and Messenger,' Allah will forgive him whatever sins he commits that day. And if he says it in the evening, Allah will forgive him whatever sins he commits that night." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]

3342

اللّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بَأْحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فِمِنكَ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ. وَ لَكَ الشُّكْرُ".

عبداللہ بن غنام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

یا ایس! (دینی و دنیوی) نعمتیں مجھے یا تمیری مخلوق میں کسی کو میں وہ آپ سے اکیسی طرف سے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں، پس آپ سے کے لیے ہر تم کی تعزیف سے اور آپ سے کے لیے ہر قسم کا شکر ہے۔

تواسے اپنے اس دون کا شکر ادا کرو یا اور اس طرح جو کوئی شام کے وقت پر دعاے پڑے تو اس نے اپنی اس رات کا شکر ادا کرو یا اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

واضح ہو کہ شام کے وقت جب پر دعاے پڑے جائے تو "مَا أَصْبَحَ" کی جگہ "مَا أَمْسَی" پڑے ہیں۔

Abdullah ibn Ghannam (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says in the morning: 'O Allah, whatever blessing I or any of Your creation have received this morning is from You alone, with no partner. To You is all praise and gratitude,' he has fulfilled his gratitude for that day. And whoever says the same in the evening has fulfilled his gratitude for that night." [Narrated by Abu Dawud]

اعتراف نعمت کی شکر ہے

حاشیہ مشکاة میں لمعات کے حوالے سے کہا ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا رب العزت! آپ کی نعمتیں مجھ پر بے شمار ہیں میں کس طرح ان کا شکر ادا کروں، ارشاد ہوا کہ جب تم نے برجان لیا کر ساری نعمتیں میری، یا طرف سے ہیں تو تم نے میرا شکر ادا کرو یا۔12

ایک جامع دعاے جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پابندی سے پڑھتے تھے

3343

اللّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِى الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ . اللّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ

وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي ۔

اللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي ، وَآمِنْ رَوْعَاتِي ۔

اللّٰهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ

فَوْقِي ۔ وَأَعُوذُ بِعِظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي ۔

یا ابی ! میں آپ سے آخرت اور دنیا میں عافیت چاہتا ہوں - یا ابی ! میں آپ سے (اب

گناہوں کی ) معافی اور اپنے دین اور اپنی دنیا اور ابل اور اپنے مال میں سلامتی چاہتا ہوں - یا ابی

! آپ میرے عیسون کو چھپا دیں اور خطارت سے محفوظ رکھیں - یا ابی ! آپ میرے آگے پیچھے،

داہنے باہیں اور اوپر میری حفاظت فرمائیں - اور میں آپ کی عظمت کی پناہ لیتا ہوں؛ اس بات

سے کہ میں اپنے پیچھے بلاک کروں جاون زمین بلاق لے (جیسے زلزلہ وغیرہ ) میری پلاکت نہ

ہو ) اس کی روایت ابوداود نے کی ہے -

حضور کا پنی صاحجزادی کو ایک دعا کا سکھانا

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) never failed to say these words every evening and morning: "O Allah, I ask You for well-being in this world and the Hereafter. O Allah, I ask You for pardon and well-being in my religion, my worldly affairs, my family and my wealth. O Allah, conceal my faults and calm my fears. O Allah, protect me from before me and behind me, from my right and my left, and from above me, and I seek refuge in Your greatness from being swallowed up by the earth." [Narrated by Abu Dawud]

(1) The statement: "And when he woke up" etc. One should wake up remembering Allah and resolving to be pious, avoiding what Allah has forbidden, and intending not to wrong any of Allah's servants. As mentioned in Al-Ghara'ib. This is stated in Al-'Alamgiriyyah.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان (دعاویں) کلمات کو نہ اور شام کے جی نہیں چھوڑا (یعنی نہ و شام پابندی سے پڑھا کرتے تھے):

3344

"سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبَحَمْدِهِ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ . مَا شَاءَ اللّٰهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ

یَکُنْ . أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، وَأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا".

_ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحجزادی سے روایت ہے کہ وہ

کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو سکھانے کے جب تم صح کرو تو یاد عاء پڑھا کرو -

میں اللہ کی بیان کرتی ہوں اس کی تعریف کے ساتھ، اور ( حمد و ثنائیان کرنے کی ) قوت

اللہ تعالیٰ کی ( مدحت ) یہ جو اللہ چاہیں وہ ہوتا ہے اور جو اللہ نہ چاہیں وہ نہیں ہوتا - میرا یقین

ہے کہ اللہ تعالیٰ برچیز پر قادر ہیں اور اللہ تعالیٰ برچیز کو علم سے محروم کر سکتے ہیں -

پس جو شخص ان ( کلمات ) کو صح کے وقت پڑھیا کرے تو وہ ( بلاقل اور خطاط لے ) شام

تک محفوظ رہتا ہے۔ اور (اس طرح) جو خص شام کے وقت ان (کلمات) کو پڑھ تو صح ہے

(بلاول اور خطاط لے تے) محفوظ رہتا ہے۔

اس کی روایت البوداود نے کی ہے۔

دنیا میں جو اللہ تعالیٰ کوراضی کر لے قیامت میں اللہ تعالیٰ اس کوراضی کر لیں گے

It is narrated from a cousin of the noble Prophet ﷺ that he

taught them: When you make wudu, recite the following: 'I bear witness that there is no deity except Allah, with His praise, and I have the power to glorify Him. Whatever Allah wills happens, and whatever He does not will does not happen. I believe that Allah, the Exalted, is capable of all things and can deprive anyone of knowledge.' Whoever recites these words at the time of wudu will remain protected until evening, and whoever recites them in the evening will remain protected until morning. Al-Bukhari has narrated this. Whoever Allah is pleased with in this world, Allah will be pleased with them on the Day of Judgment.

3345

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جومسلمان بندہ نے اورشام (اس دعا کو) تین مرتبہ پڑھا

کرے: رَضِيْتُ بِاللّهِ رَبا وَ بِالاِسْلامِ دِينا وَ بُمُحَّمدٍ نَبِّيا۔

راضی ہوں میں اس بات پر کہ اللہ (میرے) رب ہیں اسلام (میرا) دین ہے اور حضور محمد صلی

اللہ علیہ وسلم (میرے) نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ پر لا زم ہوگا کہ قیامت کے دن اس کو اپنے فضل و کرم

سے (انتہائی ودی کرے) وہ راضی ہو جائے۔

اس کی روایت امام احمد اورترمزدی نے کی ہے۔

پھر تھا کلمہ تو حیدر نے اورشام پڑھنے کی فضیلت

Thawban (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No Muslim servant says three times when evening and morning come: 'I am pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with Muhammad as my Prophet,' except that it becomes Allah's obligation to please him on the Day of Resurrection." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]

3346

حضرت ابو عیاش (زید بن صامت انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو خص صح کے وقت پیکہ:

لاِالہَ الا اللہُ وَحْدَہُ لا شریکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمدُ، وَ ہُوَ عَلی کُلِّ

شَیْءِ قَدِیرُ۔

اللہ کے سوا کوئی معبد نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ باوشنے اس کی ہے اور ہر چیز کی

تعریف کچھ اس کے لئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ تو ایسے شخص کے لئے حضرت اسامعیل علیہ

السلام کی اولاد سے (اگر کوئی غلام بنالیا گیا اور اس کو آزاد کر دیا جائے تو) ایک غلام آزاد کرنے کے

برابر ثواب ملتا ہے اور (اس کے علاوہ) اس کے لئے وسائیال کچھ جانتی ہیں اور دس براتیں دور کی جاتی ہیں اور اس کے دس درج بلند کی جاتی ہیں اور شام ہونے تک وہ شیطان (کے شر) سے حفاظت میں رہتا ہے۔ اور جس نے ان (کلمات) کوشام کے وقت کہا تو وہ بھی (اس اجر وثواب کا مستحق ہوگا اور وہ اللہ کی حفاظت میں) صبح ہونے تک رہے گا۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو وہ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ! ابوعیاش آپ سے (کلمہ توحید پڑھنے والے کی فضیلت میں) کثر اجر وثواب بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ: ابوعیاش نے مجھ کہا ہے (اس کی ایسی فضیلت ہے)- اس حدیث کی روایت البوداووداور ابن ماجہ سے ہے۔ رات دن کے استقبال کی دعاے

Abu Ayyash (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says when morning comes: 'There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and praise, and He has power over all things,' it will equal the reward of freeing a slave from the descendants of Ishmael, ten good deeds will be recorded for him, ten sins will be erased, he will be raised ten degrees, and he will be protected from Satan until evening. If he says it in the evening, he will have the same reward until morning." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

3347

أَمْسِينَا وَ أَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ . وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ، لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَ حَدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ ، وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَقْلَكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَ خَيْرِ مَا فِيهَا . وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَ شَرِّ مَا فِيهَا . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَ الْهَرَمِ ، وَ سُوءِ الْكِبَرِ وَ فِتنَةِ الدُّنْيَا وَ عَذَابِ الْقَبْرِ .

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علیرات کے استقبال میں یول فرماتے:

جبم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے (مجھی) شام کی اورساری تعریف اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبد نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں باشامت اس کی ہے اور تعریف کے

لا ق و ئی بھاور وهہرچیزپرقادرہے۔ یا اللہ! میں آپ سےاس رات کی بجلائی اوراس میں جو بجلائی واقع ہو نےوالی بھوماگتاہوناورآپ کیپناهمیں آتاہوناس رات کیبرائیسےاوراس برائی سےجواس رات میں واقع ہو نےوالی بھے۔ یا اللہ! میں آپ کیحفاظتمیں آتاہونست، برط حا ب پے، بوڑےہپنکیبرائی، دنیاکے فتناورقبرکے عذاب سے۔ اورجب صبح ہوتی تو(صح کے استقبال میں "امسینا"يا"وامسى الملک")کے بجاے)بولفرماتےہیں: "أصبحنا وأصبح الملك"، ہم نےصح کیاورخداکیساریکانات نے(مجھی)صح کیاوراس کے بعدآپ مجھیوعاء آخرتک پڑھتے)

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported that when evening came, the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "We have entered evening and all sovereignty belongs to Allah. Praise be to Allah. There is no god but Allah alone with no partner. To Him belongs the dominion and praise, and He has power over all things. O Allah, I ask You for the good of this night and the good of what it contains, and I seek refuge in You from its evil and the evil it contains. O Allah, I seek refuge in You from laziness, bad old age, the trials of this world, and the punishment of the grave." When morning came, he would say the same, replacing "evening" with "morning." [Narrated by Muslim]

3348

رب انی أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر - اے میرے پروردگار! میں آپ کی امان میں آتاہول دوزخ کے عذاب سےاورقبر کے عذاب سےمجھیاس کیروايتمسلم نہیںہے۔ صح کے وقت اسدعاے کے ان درمیانی الفاظ کواس طرح پڑھے۔ اللہم انی أسئلك من خير هذا اليوم وخیر ما فيه، وأعوذ بك من شر ه وشر ما فيه -

-اورایکروايت میں اتنااوراضافہ:

البضا وسری حدیث

And in one narration, this addition: 'Al-Badaw and Sari reported the hadith'

3349

صلی اللہ عليه وآلہ وسلم جب شام ہوتی تو(رات کے استقبال میں)بولفرما تے: أمسينا وأمسى الملك لله، والحمد لله، لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد ، وهو على كل شيء قدير

رَبَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا ، وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا

فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا

رَبَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوْءِ الْكِبَرِ وَ الْكُفْرِ .

حضرت عبد اللہرضی اللہ عنہ سےروايت سےکہحضوروں کرتے

(اس کا ترجمہ یہی حدیث میں گذر چکا ہے)

اور جب صبح ہوتی تو (صبح کے استقبال میں) آپ پول فرماتے:

آصُبحُنا وَآصُبحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ(اوراس کے بعد آپ پھر دعا آخر تک پڑھتے)

اس کی روایت ابو واود نے کی ہے۔اورتنزیل کی ای طرح روایت کی ہے۔

It is narrated from Abdullah (RA) that he said:

When it was morning, they would say: 'Our morning and the morning of the kingdom belong to Allah.' And after that, they would continue making supplication until the end.

البَابُ تَمِسرِي حديث
3351

حضرت ابو ما کر ضی اللّٰہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ

وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو اس کو چائے کر (صبح کے استقبال میں)

پیر (وعاء) پڑھے :آصُبحُنا وَآصُبحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَ

ہَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَکَتَهُ وَهُدَاهُ۔ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَمِنْ

شَرِّ مَا بَعْدَهُ۔

تمام نے صبح کی اورساری کتابات نے (مجمل) صبح کی الدرب الحالمین کے لیے، یا اللہ! میں

اس دون کی محلا تی، اس میں (مقاصد پر) کامیابی اور (دشمن پر) غلبہ اور (علم عمل کی) روشی اوراس

کی برکت (معنی حلال روزی) اوراس کی بدایت (معنی خیر پر استقامت) مانگتا ہوں۔اوراس دون

میں جو برائی ہےاوراس کے بعد جوبرائی آنے والی ہے(انتہ) میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

چھر جب وہ شام کرے تو اسی طرح پھر دعا پڑھے (البتہ شام کے وقت جب پردعا پڑھے

توآصُبحُنا وَآصُبحَ الْمُلْکُ کی جگہ آمسِينا وَآمْسَى الْمُلْکُ سے شرو ع کرے اور

ہذا الیوم کی بجائے ہذا اللیل پڑھے )

ایضاً چویسی حدیث

Abu Malik al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any of you enters morning, let him say: 'We have entered morning and all sovereignty belongs to Allah, Lord of the worlds. O Allah, I ask You for the good of this day, its opening, victory, light, blessing and guidance. I seek refuge in You from the evil it contains and the evil that follows it.' Then if he says the same when evening comes, he will have the same reward." [Narrated by Abu Dawud]

3352

أصبحنا و أصبح الملك لله، والحمد لله، والكبرياء و العظمة لله، و الخلق

والامر و الليل و النهار وما سكن فيهما لله.

اللهم اجعل أول هذا النهار صلاحا، و اواسطه نجاحا، و آخره فلاحا. يا أرحم

الراحمين -

حضرت عبد اللہ بن اونی رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ جب صبح ہوتی تو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا برطها کرتے تھے:

بمزگی ذات کی اور برطائی صفات کی اللہ تعالی کو ہے۔ اور خلوقات اور ان پر تصرف، اور رات اور دن کے

ان دونوں میں جو چیزیں واقع ہیں (جیسے سردی اور گرمی) سب اللہ تعالی کی ہیں۔

یا اللہ! اس دن کی ابتدا کو (دینی اور دنیوی) بحالی کا اور اس کے درمیان کو (دارین کے

مقاصد میں) کامیابی اور اس کے آخر کو (حسن خاتمہ) اورنجات کا ذریعہ بنادتے اے رحم کرنے

والوں میں سب سے بلہ کر تم کرنے والے۔

اس (حدیث) کو امام نووی نے ابن اسنی کی روایت سے کتاب الاذكار میں بیان کیا ہے۔

ف: واضح ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے آخر میں "یَا أرحمن

الراحمین" اس لے فرما کر اس سے دعا کے قبول ہوتی ہے۔ مرقات 12

صح کے وقت پڑھنے کی ایک دعا

Abdullah ibn Abi Awfa (may Allah be pleased with him) reported that when morning came, the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "We have entered morning and all sovereignty belongs to Allah. Praise be to Allah. Grandeur and greatness belong to Allah. Creation and command belong to Allah. Night and day and all they contain belong to Allah. O Allah, make the beginning of this day righteousness, its middle success, and its end salvation. O Most Merciful of the merciful." [Mentioned by an-Nawawi in Kitab al-Adhkar]

3353

حضرت عبد الرحمن بن ابری رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ

رسول اللّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت یون فرما کرتے تھے:

" أصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ وَكَلِمَةِ الاِخْلاصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى

اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْراهِيمَ حَنِيفًا، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

تم نے دین فطرت میں اسلام پراور کلمۂ توحید پراور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر

اور اپنے باب حضرت ابراہیم علیہ السلام حنیف کے طریقہ پر صح کی اور حضرت ابرہیم علیہ السلام

سارے ادیان باطل سے بیزاراوردوسی حق پر قائم اور شک کرنے والوں میں نہ تھے-

اس کی روایت امام احمداورداری نے کی ہے-

Abdur-Rahman ibn Abza (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would say when morning came: "We have entered morning upon the natural religion of Islam, upon the word of sincerity, upon the religion of our Prophet Muhammad, and upon the way of our father Ibrahim, who was upright and Muslim, and was not of the polytheists." [Narrated by Ahmad and ad-Darimi]

3354

اور صاحب السلاح نے کہا ہے کہ اس حدیث کی تخریج امام نساوی نے کی

طریقوں سے کی ہے اور ان کی سنن کے راوی ہیں-

صح اور شام پڑھنے کی ایک اور دعا

The owner of the weapon said that Imam Nasa'i has authenticated this hadith through various methods, and the narrators of his Sunan are - a supplication for reading Subh and 'Asr prayers.

3355

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب صحہوتی

تو رسول اللّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یون فرما کرتے تھے:

اللّہم بک أصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا، وَبِکَ نَحْيا وَبِکَ نَمُوتُ، وَالیکَ

المصیبۃ-

یا اللّ! (آپ کی حفاظت میں) تم نے صح کی ہے اور (آپ، می کی حفاظت میں) تم شام

کریں گے، اور (آپ، می کے اسمعی) تم زندہ ہیں اور آپ، می کے (اسمعیت سے) تم مریں گے

اور آپ، می (کے حکم سے) آپ کی طرف لوٹنے والے ہیں-

اور جب شام ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یون فرماتے:

"اللّہم بک أَمْسَیْنَا، وَبِکَ أصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْيا وَبِکَ نَمُوتُ، وَالیکَ

النُّشُوْرُ، -

یا ای! (آپ یہ کی حفاظت میں )، تم نے شام کی اور آپ یہ کی حفاظت میں صبح کریں گے

اور آپ یہ سے تم زندہ ہے اور آپ یہ سے تم مریں گے اور (قیامت کے دن ) آپ یہ کی طرف

اٹھنے والے پیسے کی روایت تزندی اور اپوداوداورا بن ماجبن کی ہے -

صبح، شام اور سوتے وقت پڑھنے کی وعاء

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that when morning came, the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "O Allah, by You we enter morning, by You we enter evening, by You we live, by You we die, and to You is the final return." When evening came, he would say: "O Allah, by You we enter evening, by You we live, by You we die, and to You is the resurrection." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud and Ibn Majah]

3356

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر

رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایک

ایسی دعا کا حکم دیں جس کو میں نے اور شام (بطور وظیفہ) پڑھا کروں (پیسے کر ) آپ نے ارشاد

فرما یتم پروظیفہ پڑھا کرو : "اللہُمَّ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ

کُلِّ شَیْءٍ وَمَلِیکَهُ . أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ أَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ

الشَّیْطَانِ وَشَرِّکَهْ"۔

اے اللہ ! (مخلوق سے جو چیزیں ) پوشیدہ (ہیں ) اور جو (ان پر ) ظاہر ہیں ان سب کا جاننے

والا، بلکہ رسمون کے ) آمانول اور زمین کا پیدا کرنے والا ! اے پرچیز کے رب اور ماکے میں

گوائی دیتا ہو لکر آپ پکے سوا کوئی معبد نہیں میں اپنے نفس کے ثراوت لے شیطان کے وسوسے

سے اوراس کے شرک کروا نے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں -

تم اس دعا کو صبح اور شام اور سوتے وقت (بستر پر ) پڑھا کرو - اس کی روایت تزندی، ابوداود

اور داری نے کی ہے -

سوتے وقت کی سورت کی تلاوت حفاظت کی ضمانت ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: "O Messenger of Allah, tell me something to say when morning and evening come." He said: "Say: 'O Allah, Knower of the unseen and the seen, Creator of the heavens and earth, Lord of everything and its Sovereign, I bear witness that there is no god but You. I seek refuge in You from the evil of my soul and from the evil of Satan and his partners.' Say this when morning comes, when evening comes, and when you go to bed." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud and ad-Darimi]

3357

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول

اللہ تعالیٰ کے کوئی مسلمان (بستر پر) سوت وقت (لیٹ جائے تو) قرآن کی کوئی سورت پڑھتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو (اس کی نگہبانی کے لیے) متعین فرمادیتے ہیں تاکہ کوئی ضرر پہنچانے والی چیز اس کے قریب نہ آئے۔ یہاں تک کہ وہ نیند سے بپیار ہوجائے خواہ وہ (نیندے) جب کہ جی بیدار ہو۔ اس کی روایت ترتذی نہیں ہے۔

سوت وقت پڑھنے کی ایک دعاء

Shaddad ibn Aws (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No Muslim goes to bed reciting a chapter from Allah's Book except that Allah assigns an angel to protect him from all harm until he wakes up." [Narrated by Tirmidhi]

3358

"بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَخْسِءُ شَيْطَانِي، وَفَكَّ رِهَانِي، وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى".

ابو ازهر انماری رضی اللہ عنہ روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات میں بستر پرسونے کے لیے تشریف رکھتے تو یادعا پڑھتے:

میں اللہ تعالیٰ کے نام سے (سوتے ہوئے) اور اسی کے لیے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں۔ یا اللہ! آپ میرے گناہوں کو بخش دیں۔ اور میرے شیطان کو دور کر دیں۔ اور میرے نفس کو حقوق العباد سے آزاد کر دیں۔ اور مجھے آپ ملا دیں۔ میں مقربین میں شامل فرمادیں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

سوت وقت پڑھنے کی ایک اور دعاء

Abu al-Azhar al-Anmari (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) went to bed at night, he would say: "In the name of Allah I lay my side down. O Allah, forgive my sins, drive away my Satan, free me from my obligations, and place me in the highest company." [Narrated by Abu Dawud]

3359

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَأَوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، وَاللَّهِ مَا عَلَى فَافْضَلَ، وَاللَّهِ أَعْطَانِي فَاجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِيكَهُ، وَاللَّهُ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات میں بستر میں سونے کے لیے تشریف رکھتے تو یادعا پڑھتے:

تمام تر لفظ اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو میرے لئے کافی ہوگیا اور جس سے مجھے پناہ دی، مجھے کھلا اور پلا اور جس سے مجھے پراحسان فرمایا اور مجھے حاجت سے بڑا کر دیا اور جس سے مجھے (فتنہ کی نجات) دیا اور کثرت دیا (اس لئے) پرحال میں اللہ تعالیٰ کا شکرہے، اے اللہ!

آپ پر ہر چیز کے پروردگار اور راس کے مالک! اور آپ پر ہر چیز کے معبود! میں دوزخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

ایضاً وسری حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) went to bed at night, he would say: "Praise be to Allah Who has sufficed me, given me shelter, fed me and given me drink. Praise be to Allah Who has favored me and been generous to me. Praise be to Allah in every circumstance. O Allah, Lord of all things and their Sovereign, God of all things, I seek refuge in You from the Fire." [Narrated by Abu Dawud]

3360

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ تے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم (رات میں بستر پر) سوتے وقت یادعا پڑھا کرتے تھے:

اللہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْکَرِیمِ، وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ اخْذُ بنَاصِبِیتِهِ۔ "اللہُمَّ أَنْتَ تَکْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ۔ الْلَّهُمَّ لا يُهْزِمُ جُنْدُکَ، وَلا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ سُبْحَانَکَ وَبَحَمْدِکَ"۔

یا اللہی! میں آپ کی ذات کریم اور آپ کے کامل کلمات میں آپ کے اسماء اور صفات کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہراس چیز کی برائی سے جس کی پیشانی آپ کے قبضہ (اور قدرت) میں ہے۔ یا اللہی!

قرض کو اور گناہ کو آپ، میں دور فراماتے ہیں۔ یا اللہ! آپ کے شکر کو شکست نہیں ہوتی اور آپ کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا اور دولت مندول کواس کی دولت (آپ کے عذاب سے) نہیں پچاسکتی (صرف آپ کا فضل اور رحمت پچاسکتی ہے اس لئے) میں آپ کی تعریف کے ساتھ آپ کی پاک بیان کرتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

سوتے وقت اور جاگتے وقت کی ایک دعا

Ali (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) went to bed, he would say: "O Allah, I seek refuge in Your Noble Face and Your perfect words from the evil of what You take by the forelock. O Allah, You remove sin and debt. O Allah, Your forces are never defeated, Your promise is never broken, and the wealthy cannot do without You. Glory and praise be to You." [Narrated by Abu Dawud]

3361

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں جب (بستر پر) سونے لگے تو اپنا (سیدہا) باتھاپنے (سیدے)

رخسار کے پیچ رکھے پھر یادعا پڑھتے:

اللّہُمَّ باسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا۔

یا اللہی! آپ پ کے نام سے مرتا ہوں اور جیتا ہوں لیجنی سوتا ہوں اور جاگتا ہوں –

اور جب آپ پ نیندے بیارہوئے تو یول فرماتے:

الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَالْیَهُ النُّشُوْرُ۔

لیجنی تمام تعریفِ اللہ تعالیٰ کے لے پین جس نے تم کو مارتے کے بعد جلا یا لیجنی سونے کے بعد

جگا یا اور اس کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے –

Hudhayfa (may Allah be pleased with him) reported that when the Prophet (ﷺ) went to bed at night, he would place his hand under his cheek and say: "O Allah, in Your name I die and live." When he woke up, he would say: "Praise be to Allah Who gave us life after causing us to die, and to Him is the resurrection." [Narrated by Bukhari and Muslim]

(1) The statement: "He would place his hand under his cheek" - In Al-'Alamgiriyyah it is mentioned that it is recommended for a person to sleep in a state of purity, lying on his right side facing the qiblah for a while, then turning to his left side. As mentioned in As-Sirajiyyah.

3362

اور مسلم نے اس کی روایت حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کی ہے –

سوتے وقت کی ایک اور دعاے

Muslim narrated from Bara' (RA) that

another supplication at the time of sleeping is

3363

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے (سیدے) باتھا کو اپنے سر کے پیچ رکھے پھر یادعا (دعاے)

پڑھتے:اللّہُمَّ قِنِیَ عَذَابَکَ، یَومَ تَجْمَعُ عِباَدَکَ (“تَجْمَعُ” کی جگہ “تَبْعَثُ”)(جس

دون آپ اپنے بندرول کو انہا نیں گے)۔ جس آیہ ہے –

یا اللہی! آپ پ مجھے (اس دون کے) عذاب سے پچائے جس دون آپ اپنے بندرول کو جمع کریں

گے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے –

Hudhayfa (may Allah be pleased with him) reported that when the Prophet (ﷺ) wanted to sleep, he would place his hand under his head and say: "O Allah, protect me from Your punishment on the Day You gather or resurrect Your servants." [Narrated by Tirmidhi]

3364

اور امام احمد نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے –

ایضاً و مرسی حدیث

Imam Ahmad narrated from Bara (RA) -

A similar and mursal hadith

3365

ام المومنین حضرت خفصة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآ لہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سیدہ بائیں کو اپنے رخسار کے پیچ رکھے پھریے

دو عبادتین (3) بار پڑھتے: اللہم قنی عذابک یوم تبعت عبادک۔

یا ایبی! آپ مجھے (اس دن کے) عذاب سے پچائے جس دن آپ اپنے بندول کو انہا کیں

گے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

سوت وقت پر استغفار پڑھنے کی فضیلت

Hafsa (may Allah be pleased with her) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to sleep, he would place his right hand under his cheek and say: "O Allah, protect me from Your punishment on the Day You resurrect Your servants," three times. [Narrated by Abu Dawud]

3366

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص سوت وقت اپنے بستر پریہ (استغفار) تین بار پڑھے:

استغفر اللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القيوم، واتوب الیہ۔

میں اللہ تعالیٰ سے (اپنے گناہوں کی) بخشش ماگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبد نہیں وہی زندہ

جاویداوروہی (کارخانہ عالم کا) سنگا لنے والا ہے اور میں اس کی طرف رجوع ہوں۔

تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں اگر چہ وہ گناہ سمندر کے جھاگل کے

برابر یا عاجز جنگل کی ریت کی گنتی برابر یا درختوں کے پتے یا دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر

ہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

بے خوابی کو دور کرنے کی ایک دعا

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says when going to bed: 'I seek forgiveness from Allah besides Whom there is no god, the Ever-Living, the Sustainer, and I repent to Him,' three times, Allah will forgive his sins, even if they are as much as the foam of the sea, or as numerous as the grains of sand, or as many as the leaves of trees, or as the days of this world." [Narrated by Tirmidhi]

3367

الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ . كُنْ لَّيْجَارًا مِّنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا ؛ أَن يَفْرُطَ عَلَّى

أَحَدٍ مِّنْهُمْ ، أَوْ أَن يَبْغَى عَلَّى . عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَناوُكَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ ، وَلا إِلَهَ

إِلاَّ أَنتَ " .

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن

الولید رضی اللہ عنہ نے (اپنے بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے شکایت کی اور عرض کیا

:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بے خوابی کی وجہ سے رات میں سوینے سکتا ہوں تو حضرت نبی کریم

صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم بستر پرسوں کے لیے جائو تو پیر دعاے پڑھا کرو:

اللہم رب السموات السبع وما اظللت، ورب الأرضین وما اقللت۔ ورب

"یا ابی! اے ساتول آساتول اور ان چیزول کے رب جس پر (آسان) ساپی کے ہونے

میں اور زمینول کے اور ان چیزول کے رب جن کو (زمین) اتحار، میں اور اے شیطانول کے اور

ان کے رب جن کو (شیطانول نے) گمراہ کیا ہے۔ آپ اپنی تمام مخلوقات کی برائی سے میرے لئے

پناہ دیں وا لے بن جائیں۔ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی یا ظلم کرے۔ جو تیری پناہ میں ہووہ

غالب ہے اور آپ کی تعریف بلندوبالا ہے آپ کے سوا کوئی معبوذ نہیں اور معبود (حقیقی) تو آپ ہی

ہیں۔"اس کی روایت تنزی نے کی ہے۔

Burayda (may Allah be pleased with him) reported that Khalid ibn al-Walid complained to the Prophet (ﷺ), saying: "O Messenger of Allah, I cannot sleep at night due to restlessness." The Prophet (ﷺ) said: "When you go to bed, say: 'O Allah, Lord of the seven heavens and what they contain, Lord of the earths and what they contain, Lord of the devils and whom they misguide, be my protector from the evil of all Your creatures lest any of them transgress against me or oppress me. Mighty is Your protection, and great is Your praise. There is no god but You. There is no god but You.'" [Narrated by Tirmidhi]

3368

اور حسن میں ہے کہ طبرانی نے اس کی روایت مجھم اوسط میں کی ہے اور ابن البلی

شیخ نے مجھی اس طرح روایت کی ہے گمران کی روایت میں "وَجَلَّ ثَناوُكَ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ

" کے جا میں "تَبَارَکَ اسْمُكَ " ہے۔

And in the narration of Hasan, it is reported that Tabarani narrated it in a similar manner, and Ibn al-Bali Sheikh narrated it thus: in the narration of Ghamran, instead of 'and exalted is Your praise, there is no deity but You,' it says 'blessed is Your name.'

3369

حضرت میرک نے فرمایا کہ امام طبرانی نے اس مجھم کی بیان میں مجھی روایت کیا ہے

اور اس میں یالفاظ ہیں: عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَناوُكَ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ۔

سوں سے پہلے بستر جھککے کی تاکید

It is narrated on the authority of Mirq (RA) that Imam Tabarani has transmitted this tradition in his collection, and it reads as follows:

Exalted is Your Supporter, and Glorious is Your Praise, and there is no deity other than You. Before sleeping, one should emphasize turning to the right side.

3370

بِسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَ

إِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی سوئے کے لئے (بسترپر) جائے تو اس کو

چاہے کہ وہ اپنا بستر اپنی ٹھہنڈے کے اندرونی کنارے سے جھککے لے اس لئے کروہیں جائتا ہے کہ اس

کے غیاب میں اس (بستر) پر کیا پڑا ہے (لیٹنے کے بعد) پھر یاد عاے پھر ہے:

اے میرے رب! میں نے آپ کے نام سے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا ہے اور آپ ہی (کے

نام) سے اس کو انخلاول کا اگرا پ (اسی حالت میں) میری جان قبض کردی تو اس پر تم فرمائیے

اور اگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا لیکن زندہ رکھا تو آپ اس کی ایسی حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے

نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں -

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any of you goes to bed, let him dust off his bed with the inside of his garment, for he does not know what has come on it. Then let him say: 'In Your name, my Lord, I lay my side down, and by You I raise it. If You take my soul, have mercy on it, and if You release it, protect it as You protect Your righteous servants.'" [Agreed upon]

(2) The statement: "Then let him lie on his right side" - In Al-'Alamgiriyyah it is recommended that a person sleep in a state of purity, lie on his right side facing the qiblah for a while, then turn to his left side. As mentioned in As-Sirajiyyah.

3371

اکی اور روایت میں یول ہے کہ اپنے سید کروت پر لٹ پھر وہی اوپر

کی دعاے پڑے ہے اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے -

In another version, it is stated that on his master Caruth, the curse of Allah be upon him, lies the invocation of Allah's wrath. This version is reported by Bukhari and Muslim with mutual agreement.

3372

اور اکی روایت میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے بستر کو اپنے کپڑے کے کنارے

سے مین مرتبہ کے اور اکی روایت میں دعا میں "فارحمها" کے جگہ "فاغفرلها" (تو اس کو

بخش دے) آیہ ہے -

سوتے وقت کی اکی دعا جس میں خاتمہ بالخير ہو نے کی بشارت ہے

In one narration, it is stated that he would arrange his bed with the edge of his garment, and in another narration, in the supplication, 'farhamha' (so have mercy on her) is replaced with 'fa-ghfir-la-ha' (so forgive her). There is a good omen in the supplication at the time of sleep which concludes with goodness.

3373

اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِيَ إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ

أَمْرِي إِلَيْكَ، وَالْجَآئُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغَبَةً وَرَهْبَةَ إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلا

مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ . آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي

أَرْسَلْتَ.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم جب بستر پرسونے کو تشریف لے جاتے تو اپنے سید کروت پر لٹ پھر دعاے پڑتے:

یا ایس! میں اپنی ذات کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا رخ (اور خیال) آپ کی طرف کر لیا

اور میں اپنے تمام کام (ظاہری و باطنی) سب آپ کے حوالہ کردیا اور (ثواب کی) امید اور

(عذاب) کے ذریعے میں آپ کی پریہروسر کیا ہے آپ کے سوا کوئی اور پناہ اور نجات کی جگہ

نہیں اور میں آپ کی نازل کردہ کتاب (قرآن) پراورآپ کے کہیہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم) پر ایمان لایاہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو ان کلمات کو

(سوتے وقت) پڑھے اور اسی رات مر جائے تو وہ اسلام پر مرے گا۔

Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) went to bed, he would lie on his right side and say: "O Allah, I submit myself to You, turn my face to You, entrust my affairs to You, and rely completely on You, out of hope in You and fear of You. There is no refuge or escape from You except to You. I believe in Your Book which You have revealed and in Your Prophet whom You have sent." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says these words and then dies that night will die upon the natural faith." [Agreed upon]

(3) The statement: "Perform ablution" - Ibn Battal said that ablution before sleep is recommended and encouraged. As mentioned in 'Umdat al-Qari. And in Ad-Durr al-Mukhtar: "It is Sunnah for sleeping."

3374

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کے فلان شخص جب تم (رات میں سونے

کے لئے) بستر پر جاؤ تو نماز پڑھنے کی طرح وضو کرو چھ راکنی سیدی کرو ت پر لیٹ کر دعا پڑھو:

اللہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْكَ تَأْرَسْلْتُ مَلَیْمِنِ نَذْکُرُ بَالَا پُورِی دَعَاء پَڑَہَی (پُور)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسی رات کو انتقال کر جاؤ تو تم اسلام پر مرے گے اور اگر صح کو

(زندہ) اٹھوگے تو بحالی پائے گے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

سوتے وقت پڑھنے کی ایک اور دعا ہے

The Messenger of Allah ﷺ said to a person:

When you go to your bed at night to sleep, perform wudu as for prayer, recite six rak'ahs of tasbih, lie on your side, and recite: 'Allahumma aslamtu nafsi ilayka ta'raslta malamin nadhkuru bala' (complete the supplication). If you die during the night, you will die upon Islam; and if you wake up in the morning, you will find yourself in a state of well-being.' It is narrated by Bukhari and Muslim with mutual agreement. There is another supplication to be recited when going to sleep.

3375

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(رات میں سونے کے لئے) جب بستر پر تشریف لے جائے تو پیدعا پڑھتے:

الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِی لَہُ

وَلَا مُؤْوِی۔

تمام تریفی اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلا یا اور ہمیں پلا یا اور ہمارے لئے کافی ہو

گیا اور تمیز نہ کرنا دیا لیے کتنے بھی جن کا ذوق کوئی کفیل ہے نہ تمکانہ دین والا اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Anas (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) went to bed, he would say: "Praise be to Allah Who has fed us, given us drink, sufficed us and given us shelter. How many are those who have no one to suffice them or give them shelter." [Narrated by Muslim]

الیہا وسری حدیث
3376

"اللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبَّ الْأَرْضِ وَ رَبَّ كُلِّ شَیْءٍ، فَالَقَ الْحَبِّ وَ الْنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنجِیلِ وَ الْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنتَ اخْذُ بِنَاصِیَتِهِ . أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ، وَ أَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ، وَ أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ، وَ أَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْءٌ، اِقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَ اَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ (رات میں) بستر پرسونے کے لے تشریف لے جاتے ہیں تو وہ دعا پڑھتے:

اے اللہ! اے آسمانوں کے رب! زمین کے رب اے! ہر چیز کے رب! اے دانے! اور کٹلی کے پچائیں واے! اے توراة، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے! ہر شریکی برائی سے جس کی پیشانی کے بال آپ کے اختیار میں ہیں، میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں سب سے پہلے آپ اور آپ سے پہلے کوئی نہیں، اور آپ،یہ سب سے آخر میں اور آپ کے بعد کوئی نہیں اور آپ،یہ ظاہر ہیں اور آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں! اور آپ،یہ پوشیدہ میں اور آپ پ سے بلند کر پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔ آپ میرے قرض (حقوق اللہاور حقوق العباد) کو ادا کروائیں اور مجھے (برتم کے) فقر سے بے نیاز کر دیں۔ اس کی روایت البوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم نے بھی اس کی روایت تحویل اختلاف کے ساتھ کی ہے۔

سوے وقت تسبیحت فاطمی پڑھنے سے تکلن دور ہوتی ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) would say when going to bed: "O Allah, Lord of the heavens and the earth, Lord of all things, Splitter of the seed and the date-stone, Revealer of the Torah, the Gospel and the Qur'an, I seek refuge in You from the evil of every creature that You seize by the forelock. You are the First, nothing is before You. You are the Last, nothing is after You. You are the Manifest, nothing is above You. You are the Hidden, nothing is beyond You. Relieve me of my debt and enrich me from poverty." [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi and Ibn Majah]

3377

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لیلی فاطمہ رضی اللہ

عنہا نے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی مشقت کی شکایت کرنے کے لئے آگئی جوچکی

(پسینے کی وجہ) ان کے باہوں کو پچھلی تھی - (اس لئے کہ) آپ کو یا طلاع ملتی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم کے پاس غلام آنے ہوئے ہیں (چونکہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ تشریف فرما رہے تھے

اس لئے) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آپ پسے ملاقات نہ ہوئی تو آپ پنے امام المومنین حضرت

علی رضی اللہ عنہ کے پیسرا قصہ بیان کردیا (کہ ان کو خادم کی ضرورت تھی)۔ جب حضور تشریف

لاگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کواس قصے کیخبر دی، حضرت علی رضی اللہ

عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاگئے اور (اس وقت) ہم اپنے

پچونون پر لیٹ ہوئے تھے، ہم نے اٹھنا ارادہ کیا آپ نے فرمایا: تم اسی حالت پر رہو آپ میرے

اور لیلی فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں اپنے پیٹ پر آپ کے قدموں مبارک کی تھنڈک

محسوس کی آپ نے فرمایا: کیا میں تم کواس چیز سے مہتر بات نہ بتلاوں جوتم نے ماگئی ہے وہ یہ کہ

جب تم بستر پر (سونے کے لئے) جاؤ تو تینتیس (33) بار سبّحان اللہ تینتیس (33) بار

الحمد للہ چوئیس (34) بار اللہ أکبر پڑھا کرو ای (وظیفہ) تمہارے لئے خادم سے مہتر ہے۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

تسبیحت فاطمیہ نماز کے بعد اور سوے وقت پڑھنا چاہئے

Ali (may Allah be pleased with him) reported that Fatimah came to the Prophet (ﷺ) complaining about the hardship of grinding grain with her hand mill. When she heard that he had received some slaves, she went to see him but didn't find him. She told Aisha about it, and when the Prophet (ﷺ) came, Aisha informed him. He came to us while we had gone to bed. We started to get up, but he said, "Stay where you are." Then he sat between us until I felt the coolness of his feet on my stomach. He said, "Shall I teach you something better than what you asked for? When you go to bed, say 'SubhanAllah' 33 times, 'Alhamdulillah' 33 times, and 'Allahu Akbar' 34 times. This is better for you than having a servant." [Agreed upon]

(1) The statement "he sat between us" indicates that Fatimah and Ali were under one blanket. As mentioned in Al-Mirqat.

3378

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لیلی فاطمہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادم مانگنے کے لئے تشریف لاگئی تو آپ نے ارشاد فرمایا

کہ کیا تم کو میں ایک ایسی چیز (یعنی وظیفہ) نہ بتادوں جو خادم سے مہتر ہے۔ تمہرنماز کے وقت اور

پڑھ لیا کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

وہ تسبيحات جو میں آسان میں گران پر پابندی مشکل ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that Fatimah came to the Prophet (ﷺ) asking for a servant. He said, "Shall I tell you something better than a servant? Say 'SubhanAllah' 33 times, 'Alhamdulillah' 33 times, and 'Allahu Akbar' 34 times after every prayer and before sleeping." [Narrated by Muslim]

3379

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کے وہ فراماتے ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: دو عادتیں ایسی ہیں کہ جو مرد مسلم ان کی حفاظت

کرے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ سن لو پیدونوں (با تین بہت) آسان میں گران پر عمل

کرنے والے کم ہیں (ان میں کی ایک بات یہ) پر نماز کے بعد (10) دس مرتبہ سُبْحَانَ اللہ،

(10) دس مرتبہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اور (10) دس مرتبہ اللہُ أَکْبَرُ پڑھا کرے (راوی نے) فرمایا کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے باٹھ (کی انگلیوں پران تسبيحات) کو شمار کرتے ہوئے

دیکھا ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايی زبان سے (پانچوں نمازوں کے) ویرسو (150)

ہوئے اور (قیامت کے دن وزن میں) میزان میں ایک بزار پانچ سوہون لگے (اور دوسری بات یہ

ہے کہ) جب کوئی (بستر پر) سونے کے لیے جائے تو (33) مرتبہ سُبْحَانَ اللہ (33) مرتبہ

الْحَمْدُ لِلَّہِ اور (34) مرتبہ اللہُ أَکْبَرُ پڑھے (جو) سو (100) بار ہوئے اور یزبان سو (100) ہوئے اور میزان میں ایک بزار ہوئے (اس طرح دن رات میں تہماری ذہائی بزار

نکیاں ہوئیں) تو تم میں کون ہے جو دن اور رات میں دو بزار پانچ سو راپیال کرتا ہوگا صحابت نے

عرض کیا (انتہا سان عمل کی)، تم کس طرح حفاظت نہیں کریں گے؟ آپ نے ارشاد فرما کہ:

شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے اور (تمہارے دل میں) وسوسة پیدا کرتا

ہے کر فلال چیزی اور فلال چیزی ادکر! یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ممکن ہے

کہ وہ ان (تسبيحات) کی حفاظت نہ کر سکے۔ اس طرح (ہوسلتا ہے کہ) وہ (شیطان) اس کے بستر

پر آنے اور اس پر نیند طاری کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ (غفلت میں تسبیحات پڑھے بگیر) سوجاتا ہے۔

اس کی روایت تزندی، ابوداود، اور نسائی نے کی ہے۔

Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are two practices that no Muslim maintains without entering Paradise. They are easy, but few do them: glorify Allah 10 times, praise Him 10 times, and declare His greatness 10 times after every prayer." The Prophet (ﷺ) would count them on his fingers. "That makes 150 with the tongue but 1500 in the scales. And when you go to bed, glorify, praise and declare Allah's greatness 100 times - that's 100 with the tongue but 1000 in the scales. Who among you commits 2500 sins in a day?" They asked, "How can one not maintain them?" He replied, "Satan comes to one of you during prayer and makes him remember things until he becomes distracted, or comes to him in bed and makes him sleep." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud and Nasa'i]

3380

اور ابوداود میں اس مفہوم کی ایک اور روایت مروی ہے جس میں پچھلے لفظی

اختلاف ہے۔

And in Abu Dawud, there is another narration with this meaning, which differs slightly in wording from the previous one.