(اس باب میں رحمت خداوندی کی وسعت کاپیانے)
In this chapter, the vastness of divine mercy is expounded.
وقول الله عز وجل كتب ربكم علي نفسه الرحمه اور الل تعالي كا ارشاد
ہے (سورۃ انعام، آیت نمبر:54، میں) (جو لوگ شرک سے توہین کر لیں ان کے لئے) اللہ نے
(اپنے فضل و کرم سے) رحمت فرما ناپنے اوپر لازم کر لیاہے-
اللہ تعالی کے رحمت اس کے غضب پر غالب ہے
In (Surah Al-An'am, verse number: 54, it is stated that) Allah has (for those who commit shirk and blasphemy)
Out of His grace and mercy, He has made it incumbent upon Himself to protect us.
The mercy of Allah, the Exalted, is predominant over His wrath.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم ارشاد فرما لے ہیں کہ: جب اللہ تعالی نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرما تو ایک کتاب
(لوح محفوظ) کسی جواں کے پاس عرش پر موجود ہے۔ اور اس میں لکھا ہے کہ میری رحمت میرے
غضب پر غالب ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah decreed creation, He wrote in a Book with Him above the Throne: 'My Mercy prevails over My Wrath.'" In another narration: "My Mercy overcomes My Wrath." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم ارشاد فرما لے ہیں کہ: پیشک اللہ تعالی کی رحمت کے سو حے ہیں ان میں سے صرف ایک حصہ
کو اللہ تعالی نے (زیادہ پر) نازل فرما یہ جو جن اور انس، چوپاپیل اور کیڑے کو طول میں تقسیم
فرما لی گئی ہے۔ جس کی وجہ ہے وہ آپس میں ایک دوسرے سے میل ملا پ رکھتے ہیں اور مہربانی سے
پیش آتے ہیں اور اسی رحمت کی وجہ سے وہی جانور جو اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور اللہ تعالی
نے (بقیہ) رحمت کے ناولے حصوں کو (آخرت کے لئے) اظہار کرنا ہے۔ جن کے ذریعے وہ اپنے
(مومن) بندرول پر قیامت کے دن رحم فرما کیسے گے (اور جنت میں داخل فرما دیں گے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has one hundred mercies, of which He sent down one among the jinn, mankind, animals, and insects. Through it, they show compassion and kindness to one another, and through it, wild animals show tenderness to their young. Allah has reserved ninety-nine mercies with which He will show mercy to His servants on the Day of Resurrection." [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Salman (may Allah be pleased with him), it adds: "On the Day of Resurrection, He will perfect these mercies with that one (additional mercy)."
اور مسلم کی ایک روایت میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے جویس طرح مردی
ہے کہ اللہ تعالیٰ نانوں حصول کی بقید رحمت کی تکمل قیامت کے دن فرما کیسے گے۔
مسلمان کورجاءا ورخوف کے درمیان رہناچاہے۔
Allah, the Exalted, will say on the Day of Resurrection: 'How did you seek the means of obtaining My mercy?' He will say this to the Muslims who are between the Maqam [of Ibrahim] and the Ka'bah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے روایت میں فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما کے ہیں کہ اگر بندہ مومن پیجان لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس (گناہوں کی کس قدر
سمحت) سزاء اور عذاب کے تو کوئی بندہ مومن (اپنے گناہوں کا خیال کرے) جنت کی تمنا کی نہ
کرے، اور بندہ کافر کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر (وسعت) کے تو کوئی کافر جنت (میں جانے) سے نا میں دہو (اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مومن کورجاءا ورخوف کے درمیان
رہناچاہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پرکی ہے۔
جنت اور دوزخ نیک اور بد اعمال سے قریب ہیں
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a believer knew the punishment Allah has, none would hope for His Paradise. And if a disbeliever knew the mercy Allah has, none would despair of His Paradise." [Agreed upon]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے روایت میں فرما تے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما کے ہیں کہ جنت تم میں سے ہر ایک کے اتنے قریب ہے جتنا تم سے تمہاری
جوتوں کا تسمہ قریب ہے اور دوزخ بھی ایسے قریب ہے (اس لے جو شخص جسیا عمل کرے گا اس
کے مطابق جنت یا دوزخ پائے گا، لیکن اگر ایمان ہے اور نیک عمل ہے تو وہ بہشت سے قریب ہے اور
اگر کفر اور گناہ ہیں تو دوزخ سے قریب ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری میں ہے۔
خوف اِلٰہی اور گناہوں کا اقرار مغفرت کا سبب ہے
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Paradise is closer to any of you than the strap of his sandal, and so is the Fire." [Narrated by Bukhari]
اَبُو هریرہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ : ( چھٹی امتون میں سے ) ایک شخص کا واقعہ ہے جو بہت گناہگار تھا کہ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو صیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اس کو جلا دیں اور اس کی راکھ کے آدے حصر کو جنگل میں اڑا دیں اور آدے حصر کو دریا میں بہا دیں ( اس کے ن پیوصیت اس خوف سے کی کہ ) اگر اللہ تعالی کو اس پر قابو حاصل ہو جائے تو ( اس کے گناہوں کی وجہ سے ) اس پر ایا عذاب نازل کریں گے کہ آج تک دنیا میں کسی کو نہ دیا گیا ہوگا ( خوفِ اِلٰہی نے اس کو اس بات سے محی غفل کر دیا کہ اللہ تعالی اس پر کی قادر ہیں کہ اس کے منتشر اجزا کو جمع کر کے اس کا حساب لیس گے ) پس جب اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت پر عمل کیا ( اس کو جلا کر اس کی راکھ کو اڑا دیا گیا اور دریا میں بہا دیا گیا ) پس اللہ تعالی نے دریا کو حکم دیا کہ اس شخص کے اجزا کو جمع کر دے اور اس طرح خشک کہ حکم دیا کہ وہ محی اس کے اجزا کو جمع کر دے ( جب وہ اس طرح اللہ تعالی کے سامنے حاضر ہوا تو ) اللہ تعالی نے اس سے سوال کیا کہ تو نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا خداوندا ! ( میں بہت گناہگار تھا ) تیرے ( عذاب کے ذریعے ایسا کیا ہو ل آپ میری نیت سے ) باختر ہیں تو اللہ تعالی نے ( خوفِ اِلٰہی اور اپنے گناہوں کے اعتراف کی وجہ سے ) اس کو خشن دیا اس کی روايت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔
اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہو نے سے ذرنا جنت میں جانے کا سبب ہے
Being afraid to stand before Allah, the Exalted, is a cause of entering Paradise.
اَبودر داء رضي اللہ عنه سے روايت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو منبر پر بیوعظ فرماتے ہوئے سنا کر آپ نے ( سورۃ رحمٰن، آیت نمبر: 46 ) کی ایآيت سنالی "وَلَمْنْ خَافَ مَقامَ رَبِّهِ جَنتَینِ" ( جواب پچھو ر دگا ر کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہو نے
سے ظرتا ہے تو اس کے لئے دو جنتیں ہوں گی)۔ (پیس کر ابودردا ظہی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کیا پیغوثبری ایسے شخص کے لئے بھی ہے)۔ جس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار پھر بھی آئت پڑھی "وَلَمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَینِ "، میں نے تمیری بار پھر عرض کیا کہ: اگر چک کاس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو _ یارسول اللہ! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (بال وہ جنت میں داخل ہوگا)۔ اگر چک کا بودردا کی ناک خاک آ لو و ہو( لیعن تم کونا گواری ہواور تمہاری ذلت ہو) _ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) reported that he heard the Prophet (ﷺ) reciting on the pulpit: "But for those who feared the standing before their Lord are two gardens." (Ar-Rahman 55:46) I asked"Even if he committed adultery and theft, O Messenger of Allah?" He repeated the verse, and I asked again. He repeated it a third time, and I asked again. He replied"Even if he committed adultery and theft, despite Abu Ad-Darda's dislike." [Narrated by Ahmad]
امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب ظہی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں چند قیدی آئے (جن میں پچھوؤر تین اور پی کچی تھے) ان میں سے ایک عورت ایسی تھی جس کی پچھائی سے دودھ بہتا رہتا تھا (اور وہ اپنے پیکی ملاش میں) ادھر ادھر دودھ ری تھی (تاکہ اس کو دودھ پلانے ) قیدیوں میں سے جب وہ کسی پچکو کی کپڑی تو اس کو اٹھائیتی اور گود میں لے کر اس کو دودھ پلانی (پید کی کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہم سے دریافت کیا کہ: کیا تمہارے خیال میں یہ عورت (جو دوسروں کے پچول پر اٹی مہربان ہے) اپنے پچکو آگے میں ظال دے گی؟ تم نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) اگر وہ آگے میں نہ ذا لے پر قادر ہوتی وہ ہرگز اپنے پچوں کو آگے میں نہ ظال لے گی (پیس کر) آپ نے فرمایا: (سنوا!) اللہ تعالیٰ اپنے بندرے پراس سے زیادہ مہربان ہے جس قدر یہ عورت اپنے پچکو پر مہربان ہے _ (اس حدیث سے ارحم الرحمین کا مطلب یہ ہے میں آتا ہے اور رحمت اللہ کی وسعت کا مجھی اندازہ ہوتا ہے) _
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) reported: "A group of captives was brought to the Prophet (ﷺ), and among them was a woman frantically searching. When she found a baby among the captives, she took him, held him to her chest, and nursed him. The Prophet (ﷺ) asked us, 'Do you think this woman would throw her child into the Fire?' We said, 'No, by Allah, not if she can prevent it.' He said, 'Allah is more merciful to His servants than this woman is to her child.'" [Agreed upon]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: جب ایک غزوہ میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جماعت پر سے
گزر رہے تو ان سے دریافت فرمایا: کہتم کون لوگ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں! ان
میں ایک عورت بائیی کے پیچ آگے جلا رہی تھی اور اس کا پاس کے قریب تھا جب آگ کا شعلہ
بلند ہوتا تو وہ عورت اپنے پیکو (آگ کے پاس سے دور ہٹانے پھروہ عورت اپنے پیکو لے کر) نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی اور دریافت کیا آپ یا اللہ کے رسول ہیں؟
تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بال! اس نے عرض کیا میرے مال بپآپ پرتے فداہوں! کیا
اللہ تعالی ارحم الراحمین نہیں؟ آپ نے فرمایا: کیون نہیں (اللہ تعالی ارحم الراحمین ہیں!) اس نے پھر
عرض کیا: کیا اللہ تعالی اپنے بندر پراس مال سے زیادہ مہربان نہیں ہیں جواب پیچ پول پر بہت
مہربان ہوتی ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیون نہیں (اللہ تعالی اپنے بندر پر زیادہ مہربان
ہیں مال کی نسبت جواب پیچ پول پر مہربان ہوتی ہے) تو اس نے پھر عرض کیا کہ: مال تو اپنے پیکو
آگ میں نہیں دالتی (پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سرمبارک کو جھکا کے اور روئے
گے پھر دیر بعد اپنے سرمبارک کو اوپر اٹھا کر فرمایا (سنوا!) اللہ تعالی اپنے بندر پر عذاب نہیں
کرتے سواے ان کے جوابیان نہ لا کیں اور اللہ تعالی سے مرہی اور بغاوت کرتے ہوں اور لااللہ
الا اللہ کا نکار کرتے ہوں۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کا ایک واقعہ
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported: "During a military expedition, the Prophet (ﷺ) passed by some people and asked, 'Who are these?' They replied, 'We are Muslims.' A woman was kindling her oven with her child beside her. When the flames rose, she moved him away. She approached the Prophet (ﷺ) and asked, 'Are you the Messenger of Allah?' He said, 'Yes.' She said, 'By my father and mother, is Allah not the Most Merciful of the merciful?' He said, 'Yes.' She said, 'Is a mother not more merciful to her child than Allah is to His servants?' He said, 'Yes.' She said, 'A mother would never throw her child into the Fire.' The Prophet (ﷺ) bowed his head and wept, then raised it and said, 'Allah only punishes the defiant rebel who rejects Him and refuses to say, "There is no god but Allah."'" [Narrated by Ibn Majah]
عامر تیرا نداز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: (ایک دفعہ) جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کوئی صاحب حاضر ہوئے جو میں اور تھے
ہوئے تھے اور ان کے باٹھ میں کوئی چیز تھی جس کو انہوں نے کملی سے لپیٹ لیا تھا۔ انہوں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ میں درخت کے ایک جھنڈے کے پاس سے گزر رہا تھا کہ مجھے پرندول کے پچول کی
آوازی سنائی دی تو میں نے ان پچول کو پکڑ لیا اور ان کو پچی کملی میں رکھ لیا تو کیا و کیتا ہوئے کر ان کی
مال آگر میرے سر پر منڈلا نے گلی میں ن جب اس کے سامنے پچول کو رکھ دیا تو وہ ان پر آن پڑی
تو پھر میں نے ان سب کو پچی کملی میں لپیٹ لیا پس وہ سب میرے ساتھ ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم ان کو (زیین پر) رکھ دو تو میں نے ان کو (زیین پر) رکھ دیا (اور کملی ہٹالی)
تو ان پچول کی مال (اپنے پچول کے ساتھ گلی رہی اور) پچول سے جدانت ہوئی (پیدا ہوئی) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ: کیا تم لوگ ان پچول کی مال کو اپنے پچول پر شفقت اور رحم
کرتے دیکھ کر تجب کرتے ہو؟ قسم اللہ اس ذات کی جس نے مجھے نہی برحق بناء کر مجھجا بے اللہ تعالی
اپنے بندول پران پچول کی مال سے زیادہ مہربان اور شفق پین (پھر آپ نے ان صحابے فرمایا)
تم ان پچول کو لے جاو اور جہال سے لا گے تو وہی ان کی مال کے ساتھ رکھا و تو وہ صحاب (اس
وقت) ان پچول کو مال سمیت اس جگہ رکھ آئے نے کے لے چل گئے (اس وجہ سے کوہ اپنی جگہ سے
مانوس ہے) اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت اور رحمت انسانوں کے علاوہ
جانورول پر بھی ثابت ہوتی ہے۔ اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
محض تیک عمل بخیر فضل الہی کے باعث نجات نہیں
Amir Ar-Ram (may Allah be pleased with him) reported: "While we were with the Prophet (ﷺ), a man came wearing a cloak, carrying something wrapped in it. He said, 'O Messenger of Allah, I passed by a thicket and heard the chirping of fledglings, so I took them and wrapped them in my cloak. Their mother came fluttering over my head, so I uncovered them, and she settled with them. I wrapped them again, and here they are with me.' The Prophet (ﷺ) said, 'Put them down.' When he did, the mother refused to leave them. The Prophet (ﷺ) said, 'Are you amazed at this mother's mercy for her young? By the One who sent me with the truth, Allah is more merciful to His servants than this mother is to her fledglings. Take them back and return them where you found them, along with their mother.' So he did." [Narrated by Abu Dawud]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے پین کر کی کواس کا محض تیک عمل نجات والا نے کے لے برگز کافی نہیں ہوگا
(جب تک اللہ تعالی کا فضل اس کے شامل حال نہ ہواس لے کر حقیقت میں نجات کا سبب خدا کا
فضل سے اور نیک عمل تو فیق اللہ سے ہوتا ہے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے (پیس کر جیرت سے)
دریافت کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا یر (بات) آپ کے لے کچھ ہے؟ تو حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہ! مگر پیکر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ذہاک کے لے پس تم لوگوں کو
چاہے کر (اللہ کے فضل پر بھروسر کر کے اپنے اعمال کو) درست کرتے رہیں اور (افراط و تفریط سے
بچ کر اعمال میں) میانہ روی اختیار کریں اور نج و شام اور پچھڑات اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور یاد) میں
ربا کریں اور دین اور دنیا کے کاموں میں) میانہ روی اختیار کریں (اور اگر اپنے اعمال اور اخلاق کو
درست کرتے رہیں گے) تو اپنے مقصد کو حاصل کر لیں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی
ہے۔
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت خداوندی اور فضل اللہ جب بندہ کوشش کر
حال ہوتی ہے تو بندہ کو نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور بندہ نیک عمل کرتا ہے اور نجات حاصل کرتا ہے ورنہ
مخصوص نیک عمل بطور وجوب باعث نجات نہیں، اگر فضل اللہ شامل حال نہ ہو، اس لے کر اللہ تعالیٰ پر کسی
بندہ کا پچھڑ زور نہیں ہے، اور نہ اس کے حکم کے سامنے کسی کو چون و چرا کی مجال ہے اور اس کی قدرت
بھی حد و حساب سے کسی کی کیا طاقت کہ خود کو جنت کا مستحق خیال کرے اور بندہ کے عمل کا پیچال
ہے کہ خواہ وہ کیسا کی اعلیٰ ہو تقص اور کوتاہی سے خالی نہیں ہوتا ہے اس لے کوئی اپنے نیک عمل پر نہ
اتزاء اور نہ بھروسر کرے۔
اب را حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے آپ کواس میں شامل فرما لینا ایک عمومی خطاب کے
طور پر ہے جس میں جواب دینے والا اپنے آپ کوشال کر کے جواب دیتا ہے تاکہ مستدل اچھی طرح
زہمنشین ہوجائے۔
پی بات کچھ خوب واضح رہے کہ اس حدیث کا مرکز یہ مطلب نہیں کہ عمل کو تک کردیا جائے اور
اس سے پہلو تی کی جائے بلکہ یواضح کرنا مقصود ہے کہ عمل اس وقت کامل اور مقبول ہو گا جب کہ اللہ
تعالیٰ کا فضل اس میں شامل ہو ای لے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اعتدال اور
میان دوری سے نیک عمل کرے جا کہ تا کہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکو
( ماخوذ از مرقات اوراشعة اللمعات - )12
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you will be saved by his deeds alone." They asked, "Not even you, O Messenger of Allah?" He replied, "Not even me, unless Allah covers me with His mercy. Strive for righteousness, be moderate, worship in the early and late hours, and take some rest at night. Steadfastness, steadfastness! You will attain your goal." [Agreed upon]
From this noble hadith, it is established that when a servant makes an effort, divine mercy and Allah's favor come into play, granting the servant the ability to perform good deeds, thereby achieving salvation. However, a specific good deed is not a guaranteed means of salvation if Allah's favor is not present. Therefore, no servant has any precedence over Allah, the Exalted, nor does anyone have any room for complaint before His command. Moreover, no one has the power to consider themselves deserving of Paradise beyond the bounds of Allah's will. The flaw in a servant's actions is that, regardless of their excellence, they are never free from shortcomings and deficiencies. Hence, one should neither be complacent nor overly confident about their good deeds. Now, the inclusion of the Prophet (peace be upon him and his family) in this context is a general address where the responder, by exerting effort, provides the answer so that the matter is thoroughly resolved. It should be clear that the essence of this hadith is not to undermine or neglect action, but rather to emphasize that a deed will be perfect and acceptable only when Allah's favor is included in it. Thus, the Prophet (peace be upon him and his family) has advised: Perform good deeds with moderation and balance so that you may achieve your goal. (Extracted from Mirqaat and Ash'at al-Lama'at)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا نیک عمل جنت میں داخل نہیں کرسکتا اور نہ
دوڑنے سے پچا سکتا ہے اور نہ مجھے بھی (جب تک کہ) اللہ تعالیٰ (کا فضل) اوراس کی رحمت شائل
حال نہ ہو (اس لئے کہ دخول جنت اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے البتہ جنت کے درجات اعمال
سے ملتے ہیں) (جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے 12)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اہل اسلام کونجات کی خوشخبری
Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one's deeds will admit them to Paradise or save them from the Fire, not even me, except by the mercy of Allah." [Narrated by Muslim]
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
سے اس آیت (سورۃ فاطر، آیت نمبر: 32/33)
"ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا، فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ،
وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ، وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ، ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
. جَنَّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا .... " الخ
پھر، ہم نے کتاب لعنی قرآن ان لوگوں (یعنی اہل اسلام) کے باہوں میں پہوچایا جس کو
ہم نے (ایمان کے اعتبار سے) تمام دنیا جہاں کے بندول میں سے پسند فرما یا، پھران میں بعض (تو
پھر گناہ کرے) اپنی جانو پر لم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ رو ہیں (جو تو گناہ کرتے ہیں اور نہ
عبادت کے زیادتی کرتے ہیں) اور بعض ان میں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تو فیق سے نکیوں میں ترقی
کرتے جاتے ہیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ان نذکورہ تمیون قسم کے مسلمانوں کے باہوں میں پہو چپا دینا) جتن میں پیلوگ راکل ہول گے وہ ایسے باغات میں جتن میں پیہمیشہر میں گے اللہ تعالیٰ کا بردا فضل ہے کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ تمیون قسم کے لوگ (جتن کا ذکر آیت صدر میں ہے) جنتی ہیں اس کی روایت نہیں ہے۔ کتاب البعث والشور، میں کی ہے۔ ف: صاحب مرقات نے اس آیت کی توضیح میں کئی اقوال ذکر کے ہیں مجمل ان اقوال کے ایک قول امام مجفر صادق رضی اللہ عنہ کا ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریف میں مسلما نوں کی تین وصیاتیں بیان فرما کیں اور تمیون کو عبادنا (تمارے بندے) فرما لیجن تمیون کی نسبت اپنی طرف کی، اور تمیون کے مرتبہ میں تقوا ت کے باوجود تمیون کو منتبہ اور پسند پیدہ قرار دیا اور تمیون کے لیے جنت کی خوشخبری دی اور یخوشخبری کلمہ اخلاص لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کی بدلت اعلی سلام کو دی گئی ہے۔
Usama ibn Zayd (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said regarding Allah's words: "Then some are wrongdoers to themselves, some are moderate, and some are foremost in good deeds by Allah's permission." (Fatir 35:32) "All of them will be in Paradise." [Narrated by Al-Bayhaqi in Al-Ba'th wa An-Nushur]
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب بندہ اسلام قبول کرے اور اس کا اسلام اچھا ہو (یعنی اس کا ظاہر اور باطن اچھا ہو) تو اللہ تعالیٰ (ایمان لائے کی وجہ سے اس کے قبل ایمان کے) تمام گناہ معاف فرمادیتے ہیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد ہر کسی کا بدلہ اس کو (کم از کم) دس گنا متاہے پیہال تک کر اس کے کمال اخلاص کے اعتبار سے اس کو ایک نیکی کا اجر دیتی ) سات سوگنا تک نیکی متاہے بلکہ (اللہ تعالیٰ چاہے تو) اس سے بھی زیادہ (اس کو اجر عطا فرماتے ہیں) لیکن ایک گناہ کا بدلہ ایک ہی دیا جاتے ہیں (اس میں زیادہ نہیں ہوتی) اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اس گناہ کو معاف بھی فرمادیتے ہیں اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اپنی کاپڑے دس، سات سو بکھاس سے زیادہ بھی ملتا ہے
اور ایک برائی کا ایک، ایکناہ کسجا تا ہے
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a person embraces Islam sincerely, Allah forgives all his past sins. Thereafter, each good deed is rewarded tenfold to seven hundred times, and each bad deed is recorded as one unless Allah pardons it." [Narrated by Bukhari]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے (فرشتون سے لوح محفوظ میں میں ان اعمال کو) کھوا دیا
ہے جس پر (بندہ مومن کو) نییال ملتی ہیں اور ثواب حاصل ہوتا ہے (اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوح
محفوظ ان اعمال کو جس کے خوا دیا ہے جس کے کر نے پر بندہ مومن کو گناہ ہوتا ہے اور سزا ملتی ہے) پس
اگر کوئی بندہ کسی نیک کا پکارادہ کر لیتا ہے اور (کسی عذر) کی وجہ سے اس کو انجام نہ دے سکا تو جس اللہ
تعالیٰ (اس کی نیت کی وجہ سے) اس کو پوری نیک کا ثواب عطا فرماتے ہیں اور جو شخص ارادہ کے ساتھ
ساتھ اس نیک عمل کو کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنے فضل سے) اس کے لئے (نامہ اعمال میں بھی)
دس اور (کہیں) سات سو اور (کہیں) اس سے زائد بھی (اس کے خلوص کے مطابق) نییال
کھوا دیتے ہیں اور اس کے برخلاف جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر لے اور (اللہ تعالیٰ کے ذریعے) اس
کو رو بعمل نہ لائے تو اللہ تعالیٰ (اس کے خوف کی وجہ سے) اس برائی کے معاوضہ میں پوری نیکی کے لئے
دیتے ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کر لے تو ایک برائی کے بدلے ایک بیگناہ (اس
کے نامہ اعمال میں) کے حا جاتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف: صاحب مرقات نے امام نووی سے نقل کیا ہے کہ: سبحان اللہ! اس حدیث شریف میں اللہ
تعالیٰ کی رحمت پہ پایال کا ظہار ہے کہ برائی کے قصد کو نامہ اعمال میں کھوا دیا نہ جانے اور نیکی کے قصد
کو بخیر عمل کے کے ایک نیک کے خوا دی جاتی ہے اور برائی کے کر نے کے بعد ایک، ایک برائی کے خوا نی
جاتے اور ایک نیک کے بدلے میں دس گنا، سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نییال کے خوا نی جاتی ہیں۔ البتہ
کوئی شخص برائی کا قصد کرے اور خوف کے علاوہ خدا کے کسی اور مجبری سے اس برائی کو نہ کر سکے تو ایسے
شخص کے لئے ایک برائی کی نیت کے بعد لے ایک گناہ کے سباق کے لئے کسی نے رات کو اپنے دل میں
یا عزتم کر لیا کر فلاؤ کو قتل کر دونے گا اور ایک رات کو وہ مرگیا تو اس پر قتل کے قصد کی وجہ سے قتل کا گناہ کے سا
جا گا جسیا کر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:36) "إِنَّ السَّمْعَ
وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا "۔ پیش کا ناورآ کہاوردل النسب سے
(قیامت کے دن) پوچھا جائی گا (کہ آ کہا استعمال کہاں کیا، کا ناورآ استعمال کہاں کیا اوردل میں بہ
ویل بات کا کیون خیال جما) اور گہب، کہراور ریاء پر دل کی پیاریان جین اوران پر کہی مو اخذہ ہے-
مضمون مرقات سے ماخوذہ-
نکیول سے سینہ کشاورہ ہوتا ہے اور برا یول سے سینہ تگ ہوتا ہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has decreed good and evil deeds. Whoever intends a good deed but does not perform it, Allah records it as one complete good deed. If he performs it, Allah records it as ten to seven hundred good deeds or more. Whoever intends an evil deed but does not perform it, Allah records it as one complete good deed. If he performs it, Allah records it as a single evil deed." [Agreed upon]
The author of Mirqat has quoted Imam Nawawi as saying: Glory be to Allah! In this noble hadith, there is a manifestation of Allah's mercy, in that the intention to do evil is erased from the record of deeds, while the intention to do good is recorded as one good deed. After committing an evil act, one evil is recorded, and for a single good deed, tenfold, seven hundredfold, or even more rewards are given. However, if someone intends to commit an evil act but is prevented from doing so by something other than fear of Allah, such as compulsion, then that person will be credited with one sin for the intention of evil. For example, someone who at night resolves in their heart or desires to kill Fulan, and dies that same night, will be held accountable for the sin of intending to kill, as Allah, the Exalted, has revealed (Surah Bani Isra'il, verse 36): 'Indeed, the hearing, the sight, and the heart - all of those will be questioned.' On the Day of Judgment, one will be asked about the use of the ear, the eye, and the heart, and about the evil thoughts harbored in the heart. There will be accountability for hypocrisy, showing off, and pretense. - This is taken from Mirqat. Good intentions cleanse the heart, while evil intentions harden it.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اس (بندہ مومن) کی مثل جو برا یول کے بعد نیاں کرنے
گے اس شخص کے مندہ جس کے جسم پر ایک تگ در عقی جس نے اس (کے جسم) کو بار کھاتا
اس کے نیاں کرنے کی وجہ سے اس (درع) کا ایک ایک حلہ کھلنے لگا یہاں تک کہ پر نیکی کے بدلے
میں اس (کی درع) کے حلہ کھلتے پڑے گے اور وہ (ظہریہ ہو کر) زمین پر گرتی۔ اس کی روایت ثریح
السند میں کی گئی ہے-
ف : اس حدیث ثریف کا حاصل یہ ہے کہ برائی کرنے سے انسان کا سینہ تگ ہوتا ہے اور
وہ اپنے کاموں پر متاثر رہتا ہے اور لوگ اس کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حدیث ثریف میں اس حالت
کو زرع کی تگی سے تشہیر دی گئی ہے اس کے برعکس نیاں کرنے سے سینہ کشاورہ ہوتا ہے اور کام
آسان ہوتے ہیں اور لوگ اس کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور حدیث ثریف میں اس حالت کو درع
کے حلہ سے تشہیر دی گئی ہے۔ مرقات-
عبادتول سے بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ب بناتے ہے
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of one who commits sins but then performs good deeds is like a man wearing a tight coat of armor that chokes him. When he does a good deed, a link loosens. When he does another, another link loosens until it falls off him entirely." [Narrated in Sharh As-Sunnah]
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرما تے ہی آپ نے ارشاد فرمایا کہ: بندہ (مومن مختلف قسم کی عبادتوں کے ذریعہ) اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنووی کی تلاش میں لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرما تے ہیں کہ میرا فلال بندہ میری خوشنووی کی فقر میں لگا ہوا ہے (جبرئیل! تم) سن لو کہ میری رحمت (کامل) اس پر ناز لے پین کر جبرئیل علیہ السلام ندا فرما دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت فلال بندہ پر ہے اور اس (دعا کے کلمہ) کو حا ملین عرش اور ان کے اطراف والے فرشتے کہتے جاتے ہیں یہاں تک کہ کے ساتول آسمان کے فرشتے اس شخص کے حق میں دعا کرتے ہیں پھر (اللہ تعالیٰ کی رحمت) اس شخص کے حق میں زمین والوں تک پہوچتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو پسند فرمایا ہے اور پیاللہ تعالیٰ کا محبوب ب بندہ ہے تو زمین والے بھی اس کو چاہتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said: "A servant may strive to please Allah, and Allah will say to Jibril, 'Indeed, My servant so-and-so seeks to please Me. Behold, My mercy is upon him.' Jibril will announce, 'Allah's mercy is upon so-and-so,' and the bearers of the Throne and those around them will repeat it until all seven heavens echo it. Then it descends to him on earth." [Narrated by Ahmad]