Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ

بَابُ الْاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ

Seeking Forgiveness and Repentance
Volume 5 · Supplications

(اس باب میں گناہول سے مغفرت ماگلن اور توپینی گناہول پر پشیمان ہونے

اور آنتندہ گناہ نہ کرنے پر عہد کرنے کا بیان ہے )

ف : استغفار یہ کر اللہ تعالیٰ سے گناہول کی معافی زبان کے ذریعہ طلب کی جائے۔ اور توبہ

یہ کردنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہول _استغفار اور توبہ ثبوت کے انہم مقاصد ہیں اور

سالگین کے مقامات میں پہلا مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی مغفرت پیہ کروہ اپنے

بندہ کے گناہول کودیا میں دورسول سے پوشیدہ رکے اور آخرت میں اس پرمواخذہ نہ کرے _علامہ

طبری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ: توبہ کے تین شرائط ہیں: ایک پیرکر گناہ کوترک کردیا جائے _اور

دورسرے پیرکر اس پردامت ہواور تیسرے پیرکر آنتندہ گناہ نہ کرنے کاعزم کرے _اور امام نووی رحمۃ

اللہ علیہ نے توبہ کی اور ایک شرط پیہ بیان کی ہے کہ اگروہ گناہ کسی انسان کے حق سے متعلق ہوتا اس کی

متالف کی جائے یا سے معافی ماگلی جائے۔ اور ابن جبر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ: اگروہ حقوق

اللہ ہیں جیسے نماز ون کوقضاء کرنا تو نوافل پران فوت شدہ نماز ون کی قضاء کومقدم رکے اور ان کی قضاء

کر لے اس لئے کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَن لَّم يُتَبْ فَاوْلِئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ"(سورۃ

تجرات،آیت نمبر:11)

جوتوہ بندہ کرے پبس وہی خاطم ہیں _یمضمون مرقات سے ماخوذہ

(This chapter discusses seeking forgiveness from sins and repenting over past sins, as well as making a pledge not to commit future sins.)

F: Istighfar (seeking forgiveness) is to request Allah Almighty for the forgiveness of sins through speech. And Tawbah (repentance) is to return to Allah Almighty. Istighfar and Tawbah are among the most important acts of worship and are the first steps towards piety. They enable a servant to attain Allah Almighty's forgiveness, so that his sins are concealed from the angels and he is not held accountable for them in the Hereafter. Imam Tabari (RA) has stated that there are three conditions for Tawbah: First, to abandon the sin that was committed; second, to feel remorse for it; and third, to resolve not to commit it again. Imam Nawawi (RA) has mentioned another condition for Tawbah, which is that if the sin pertains to the rights of another person, one must make amends or seek their forgiveness. Ibn Jarir (RA) has said that if the sin pertains to the rights of Allah, such as missed prayers, then one should prioritize making up the missed obligatory prayers before the voluntary ones, and complete their Qada (make-up) prayers. This is why Allah Almighty says: 'And whoever does not repent, it is they who are the wrongdoers' (Surah Tawbah, verse 11).

These are the actions that a servant must undertake, and these are the ultimate conclusions. - Excerpted from Mirqat - 12)

وقول الله عزوجل واستغفروا الله ان الله غفور رحيم

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ (سورۃ مزل،آیت نمبر:20، میں) اے مسلمنوں تم اللہ تعالیٰ

سے اپنے گناہول کی معافی ماگلواس لئے کر اللہ تعالیٰ بر امعاف فرما نے والے اور رحم فرما نے

وآ لے بیں۔

وَقَوْلُہُ جَلَّ جَلالُهُ: "وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ

تُفْلِحُونَ"، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ نور، آیت نمبر: 31) اے مسلمانو! تم سب پر

کوتاہیول پر اللہ تعالیٰ کی جانب میں بمیش توپہ کرتے رہو۔ تاکہ تم فلاح پاو اور کامیاب رہو۔

وَقَوْلُہُ عَزَّ شَانُهُ: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا"، اور اللہ تعالیٰ کا

ارشاد ہے کہ (سورۃ تحريم، آیت نمبر: 8، میں) اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے آگے چھ توپہ کرو جس

توپہ میں (اس طرح کامل) ندامت ہو۔ اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پاک عزم ہو۔

وَقَوْلُہُ جَلَّتْ قُدْرَتُهُ: "وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّاتِ"

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃشوری، آیت نمبر: 25، میں) اور اللہ تعالیٰ کی شان عالی اے۔ یہ ہے کہ

وہ اپنے بندرول کی توپہ قبول فرماتا ہے (اور توپہ کی وجہ سے) تمام گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے۔

وَقَوْلُہُ عَزَّ وَعَلا: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ" اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ بقرہ،

آیت نمبر: 222، میں) بے شک اللہ تعالیٰ توپہ کرنے والوں کودوست رکھتے ہیں۔

استغفار کی تاکید اور فضیلت

And Allah, the Exalted, instructs (in Surah Muzammil, verse number: 20) O Muslims, seek forgiveness from Allah, for He is the Most Forgiving and the Most Merciful.

And His Glorious Saying: 'And turn in repentance to Allah all together, O believers, that you may succeed,' is the guidance of Allah Almighty: (Surah An-Nur, Verse 31) O Muslims! All of you should continually turn in repentance to Allah Almighty so that you may attain success and prosperity.

And His Exalted Saying: 'O you who believe, turn in sincere repentance to Allah,' is the guidance of Allah Almighty that (in Surah At-Tahrim, Verse 8) O people of faith! Turn in repentance to Allah with a complete sense of remorse and a pure resolve never to sin again.

And His Majestic Saying: 'And He it is Who accepts repentance from His servants and pardons sins,' is the guidance of Allah Almighty: (Surah Ash-Shura, Verse 25) And the Exalted is Allah, for He accepts the repentance of His servants and forgives all sins due to their repentance.

And His Mighty and High Saying: 'Indeed, Allah loves those who constantly turn in repentance,' is the guidance of Allah Almighty: (Surah Al-Baqarah, Verse 222) Indeed, Allah Almighty loves those who frequently turn in repentance.

The Emphasis and Virtue of Seeking Forgiveness.

3272

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: فتم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں دن میں ستر (70) مرتبہ زاکر اللہ تعالیٰ

سے استغفار کرتا ہول۔ اور اس کی جانب میں توپہ کرتا ہول اس حدیث کی روایت بخاری نے کی

ہے۔

ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توپہ کی ترغیب ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم

معصوم ہو نے کے باوجود دن میں ستر (70) بار زاکر استغفار فرماتین تو تم گنزگارول کو بطریق

اولی استغفارا و تو ب کر تے رہنا چاہیے - چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ

کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے ہوا ایک کوتو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیسہ تم کو چاہے کر دومسر کو

مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں - ایک امن جوانگیا گیاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات

گراہی ہے -اور جوان بن باقی ہے وہ استغفار سے جسیا کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سورۃ انفال، آیت

نمبر:33، میں ) " وَمَا گَانَ اللہُ لِیُعَذِّبُهُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ، وَمَا گَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ

یَسْتَغْفِرُوْنَ " (اللہ تعالیٰ اپنے کریم لے کر (اے نبی !) آپ کے ان میں ہوتے ہوتے ان کو عذاب

میں بتلا کریں اور اپنی نظریں لے کر ان کو عذاب دیاس حالات میں کروہ استغفار کر رہے ہول-

حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرما نے کا جوز کرہ اس بارے میں صاحب

مرقات نے کہا ہے کہ : حضور کا پر استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی

جانب سے بطورے شفاعت کے تھا

الیہا وسری حدیث

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Allah, I seek Allah’s forgiveness and repent to Him more than seventy times a day." [Narrated by Bukhari]

3273

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں سو(100) مرتبہ رَبَّ اغْفِرْ لی وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ أَنتَ التَّوابُ

الغَفُورُ"، پڑھ کر استغفار فرما کر تے اورتمآ پکے اس استغفار کوسنگن لیا کرتے تھے۔ اس کی

روایت امام احمد،ترمزدی،ابوداوداور ابن ماجہ نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے کا جو ذکر ہے وہ

امت کی تعلیم کے لئے تھا۔ ورنآ پکے اگلے اور پچھلے گناہ سب معاف کرنے کے خطا سے لے کر

انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کو تعلیم دینا مقصد تھا کہ

آدمی اپنے ما کے کے سامنے تضرع اور عبادتی نماز کے خوف رہے گا۔ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ

کا جلال اور استغناء بھی ظاہر کرنا منظور تھا کہ بندہ کا کام یہ ہے کہ وہ میشراپنے ما کے آگے اپنی

خطاوال کی معافی مانگتا رہے۔12

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیون استغفار فرما کرتے تھے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "We used to count that the Messenger of Allah (ﷺ) would say in a single sitting: ‘O Lord, forgive me and accept my repentance, for You are the Accepter of Repentance, the Most Merciful,’ a hundred times." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

3274

اغرمز نی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک پیش کہ آپ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے حضوری ربا کرتی تھی بعض وقت امت کی تعلیم اور منصب رسالت کی بجا آوری میں ) آپ کے قلب مبارک پر پچھتابات آتی تھیں (اوراس کیسولی اورحضوري میں پچھفرق آجاتا تھا) تو آپ فرما تے ہیں کہ: میں اس حالت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دن میں سو(100) مرتبہ استغفار کرتا ہوتا۔

اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عظمت، وبدرباستغفار شان کریمی اورعدالت کا بیان

Al-Agharr Al-Muzani (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Sometimes I perceive a veil over my heart, and I seek Allah’s forgiveness a hundred times a day." [Narrated by Muslim]

3275

ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرما ئے جس کہ اللہ تعالیٰ نے فرما ئے : اے میرے بندر! میں نے اپنی ذات پرظلم حرام کرلیا ہے (یعنی میں کسی پرظلم نہیں کرتا) اورظلم کوتمہارے درمیان مجھے حرام قرار دیا ہے اس لئے آپس میں ایک دوسروں پرظلم مت کیا کرو اے میرے بندر! تم سب کے سب گمراہ ہوگمر وہ شخص (گمراہ نہیں) جس کو میں پڑايت دول پس تم مجھے سے پڑايت طلب کیا کرو میں تم کو پڑايت دول کا اے میرے بندر! تم سب کے سب بجوکے گوگمر وہ شخص (بجوکا نہیں) جس کو میں کہلا ول کا پس تم مجھے سے کہنا ماگو میں تم کوکہنا دول کا اے میرے بندر! تم سب کے سب برهمہ ہوگمر وہ شخص (برہمن) نہیں جس کو میں کہرا دول پس تم مجھے سے لباس ماگو میں تم کولباس دول کا اے میرے بندر! تم رات دن گناہول میں بتلا رستہ ہواور میں تمہارے لئے گناہ بخششارہتاہول پس تم مجھے سے (اپنے گناہول کی) معافی ماگو میں تم کوبخش دول کا اے میرے بندرتم (نافرمانی کرکے) میرا پچھا گمار نہیں سکتا اور (تم الطاعت کرکے) مجھے پچھمجھی فاندہ نہیں پہو نچا سکتا بلکہ تمہاری

فرمانبرداری سے تمہیں فوائد ہوں گے۔ اور نافرمانی کرنا تمہیں خودی اپنا لقصان کروگے۔ میری ذات

ان سب سے بے نیاز ہے۔

آج میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جوگزرے چکے ہیں اور (جو موجود ہیں)

اور جو قیامت کے پیارا ہول گے۔ پیتمام اگر (پربھیزگاری اختیار کرے) سب سے زیادہ متقی شخص کے دل کی طرح پاک دل ہوجائیں (تو بہتمہاری پاک دلی) میری مملکت اور باشہبت میں کسی فتنہ کی زیادتی نہیں کرسکتی۔ میرے بندا اگر! تمہارے سب کے سب جن و انس جوگزرے چکے ہیں

(اور جوموجود ہیں) اور جو (قیامت کے) آئے والے ہیں۔ پیتمام اگر (پربھیز کرے) بدترین سیاہ دل واٹے کی طرح سیاہ دل ہوتی (ابلیس کی طرح ہو جائیں تو بہتمہاری (سیاہ دلی) میری مملکت اور باشہبت میں کسی فتنہ کی کی نہیں کرسکتی۔ اب میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جوگزرے چکے ہیں اور آستندہ آئے والے ہیں سب کے سب ایک مقام میں جمع ہو جائیں اور ریسبا پتی مراد ماگیں اور میں بہ شخص کواس کی مراد دے دول تو میرے پاس جوگھی خزاں ہیں ان میں (بخشش کی مجبتے) کسی فتنہ کی کی نہ ہوگی۔ (انتہاجی نہیں جتنا کر ایک سوگی دریا میں ذلال کرنکالی جائے) تو اس کے پانی میں جتنا کمر سکتی ہے (انتہاجی میرے خزانوں میں کی نہیں ہوگی)۔ اب میرے بندو! صرف بہی نہیں کرتہمارے نیک و بدعمال کو میں جانتا ہوں بلکہ ان کا پورا پورا بلد و یتا ہول پس جو شخص نیک عمل ہو تو وہ (اس نیک تو فتح میں) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور جو شخص بد عمل ہو تو وہ خودا پنی ملامت کرے (اس لے کروہا پنے نفس کے شرارت کی وجہ سے غمراہی پر باقی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ایضًا وسری حدیث

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, relaying from Allah the Exalted: "O My servants, I have forbidden injustice for Myself and have made it forbidden among you, so do not wrong one another. O My servants, all of you are astray except those whom I guide, so seek guidance from Me, and I shall guide you. O My servants, all of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for sustenance, and I shall feed you. O My servants, all of you are naked except those whom I clothe, so ask Me for clothing, and I shall clothe you. O My servants, you sin by night and by day, and I forgive all sins, so seek My forgiveness, and I shall forgive you. O My servants, you will never attain harming Me so as to harm Me, nor will you ever attain benefiting Me so as to benefit Me. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as pious as the most pious heart of any one of you, that would not increase My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as wicked as the most wicked heart of any one of you, that would not decrease My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were to stand together in one place and ask of Me, and I were to give each one what he requested, that would not decrease what I possess any more than a needle decreases the sea when dipped into it. O My servants, it is only your deeds that I record for you and then recompense you for, so whoever finds good, let him praise Allah, and whoever finds other than that, let him blame no one but himself." [Narrated by Muslim]

This hadith has been narrated by Muslim. Additionally, it is a variant narration of the same hadith.

3276

_ ابوزر ضی اللہ عنہ روايت به وه فرامات بين ك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل

و سلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرما ہے جس کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا ہے اے بندر! تم سب گمراہ

ہو گمرہ و شر (گمراہ نہیں ہے) جس کو میں بھدايت دول پس تم مجھ سے بھدايت طلب کرو میں تم کو

بھدايت دول گا اور عدالت کا بیان بے انسان کے لے اللہ تعالیٰ کے حضور میں التجاء کے بغیر اس کا کوئی

کا نہیں چل سکتا و نہیں بھدايت، کہنا، کہ انا، کہ ا اور آخرت میں گناہوں کی مغفرت اللہ تعالیٰ کے فضل و

کرم کے بغیر میسر نہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے آگے گر کر انا اور دعا کرنا بندہ کے لے لازم ہے اور

اس ذات عالی کی شان استغناآ کا یعالم ہے کہ اگر سارے انسان یغیر کی طرح متقی ہو جا کیسے تو اللہ

تعالیٰ کی سلطنت میں کسی فتنہ کا اضافہ نہیں ہوتا اور اس کے برخلاف اگر سارے انسان ابو جہیل اور

فرعون کے برابر ہو جا کیسی تو بھی اللہ تعالیٰ کی شان عالی میں کوئی کی نہیں ہوسکتی پھر آخر حیث میں

ا پنی بے حساب عطا کا بیان پول فرما یا کر اگر سارے انسان اپنے سوالات کریں اور اللہ تعالیٰ

سب کو ان کے مطالبات دے دی تو بھی اللہ تعالیٰ کے خزائن میں کسی فتنہ کی کی نہیں ہوسکتی۔ پھر اپنی

عدالت کا بیان فرما یا کر آخرت کا ثواب اور عذاب کا سبب ان دونوں کے اعمال ہیں اللہ تعالیٰ کی

طرف سے کسی پر کوئی ظلم نہیں۔

گنهگاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں کی تاکید

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, relaying from Allah the Exalted: "O My servants, I have forbidden injustice for Myself and have made it forbidden among you, so do not wrong one another. O My servants, all of you are astray except those whom I guide, so seek guidance from Me, and I shall guide you. O My servants, all of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for sustenance, and I shall feed you. O My servants, all of you are naked except those whom I clothe, so ask Me for clothing, and I shall clothe you. O My servants, you sin by night and by day, and I forgive all sins, so seek My forgiveness, and I shall forgive you. O My servants, you will never attain harming Me so as to harm Me, nor will you ever attain benefiting Me so as to benefit Me. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as pious as the most pious heart of any one of you, that would not increase My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as wicked as the most wicked heart of any one of you, that would not decrease My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were to stand together in one place and ask of Me, and I were to give each one what he requested, that would not decrease what I possess any more than a needle decreases the sea when dipped into it. O My servants, it is only your deeds that I record for you and then recompense you for, so whoever finds good, let him praise Allah, and whoever finds other than that, let him blame no one but himself." [Narrated by Muslim]

(حاشیہ مشکلوں)
3277

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرما تی ہیں کہ میں نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یا آیت پڑھتے ہوئے سنائے "یعبادی اللذین آسروا فواعلی

انفسهم لا تقفن طوامن رحمۃ اللہ، ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا"۔ (سورۃ زمر، آیت

نمبر: 53) اے میرے بندر! جنہوں نے گناہ کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت

سے نا امید مت رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے (اس کی تلاوت کے بعد رسول

اللہ تعالیٰ کواس بات کی پرواہ نہیں کہ کافر کفر سے توپہ کرے تو اس

کے پچھلے سارے گناہ معاف فرامائیں گے اور مسلمان خواہ توپہ کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ چاہے تو اس

کے گناہ معاف فرامادیں۔ اس حدیث کی روايت امام احمد، اور ترمذی نے کی ہے۔

مشرک مجھی توپہ کے بعد رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہو

Asma’ bint Yazid (may Allah be pleased with her) said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting: ‘Say, “O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins.”’ (Az-Zumar 39:53) without hesitation." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi, who said: "This is a good and rare hadith." In Sharh As-Sunnah, it is mentioned: "He said" instead of "He recited."]

3278

لا تقنطوامن رحمۃ اللہ“(اس آیت کا ترجمہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے۔ 12)

(تا آخریآیت) سن کر ایک شخص نے عرض کیا (اور واضاحت چاہی): کیا مشرک مجھی اس

میں شامل ہے؟ (پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور (تحوّلی درپی

بعد) پھر ارشاد فرمایا کہ بالمشترک مجھی اس میں داخل ہے (بشرطیہ وہ شرک سے توپہ کرے) حضور نے

اس جملے کو تین بار ارشاد فرمایا۔ اس کی روايت امام احمد نے کی ہے۔

شرک کے سواسارے گناہوں کی معافی کاپیال

اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

The forgiveness of major sins associated with shirk.

3279

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک

پہوچ جائیں۔ پھر تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تجہ بخش دول گا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ

نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ مجھ سے لے اور تو مجھ سے اس حالت میں

مل تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا چاہے تو میں مجھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجہ سے ملوں گا۔

وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک

پہوچ جائیں۔ پھر تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تجہ بخش دول گا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ

نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ مجھ سے لے اور تو مجھ سے اس حالت میں

مل تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا چاہے تو میں مجھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجہ سے ملوں گا۔

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]

3280

اور امام احمد اور دارمی نے اس حدیث کو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

بندرول کو گمراہ کر نے پرشیطان کا قصہ کہانا اور معافی دینے پر اللہ کا قسم کہنا

Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Satan said, ‘By Your might, O Lord, I will continue to mislead Your servants as long as their souls remain in their bodies.’ The Lord replied, ‘By My might and majesty, I will continue to forgive them as long as they seek My forgiveness.’" [Narrated by Ahmad]

3281

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: شیطان نے (اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا: اے میرے رب تیری

عزت کی قسم میں تیرے بندرول کو جب تک ان کی روحیان کے جسمون میں رہیں لیئے ان کی زندگی

بھران کو گمراہ کرتا رہون گا۔ (اس کے جواب میں) رب الحکمت نے فرمایا: میری عزت کی قسم!

میرے عظمت و جلال کی قسم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم میں ان کو بیش خشترہون گا جب تک وہ مجھے

سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ذاتِ خداوندی،یا ذر نے اور مغفرت طلب کرنے کے قابل ہے

Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Satan said, ‘By Your might, O Lord, I will continue to mislead Your servants as long as their souls remain in their bodies.’ The Lord replied, ‘By My might and majesty, I will continue to forgive them as long as they seek My forgiveness.’" [Narrated by Ahmad]

3282

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے یايت تلاوت فرمائی: "ہو اهل التقوی واهل

المغفرۃ" (سورۃ مدثر، آيت نمبر: 56) (اس کی شان قماری توپیتے کہ بندرول کواس سے ظرنا

چاہے اور اس کی شان رحمی پیچ کر) بندرول کے گناہ معاف فرماتے ہیں۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میں اس لاکہوں کملوگ مجھ سے ذریں جو

مجھ سے ذر کا میں اس لاکہوں کراس کو خش دول۔

اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔

گناہ گارالی تائب کے لیے دلاسہ

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) recited: "He is the One worthy of reverence and the One who forgives." (Al-Muddaththir 74:56) and said: "Your Lord says: ‘I am the One deserving of reverence, so whoever fears Me without associating anything with Me, I am the One who forgives him.’" [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and Ad-Darimi]

3283

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے باطن میں میری جان سے اگر تم گناہ

نہ کر وتو اللہ تعالی تم کو لے جاوے گا لیعن نیست و نابود کر دے گا اور (پھر تمہاری جائے) ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے گی۔ تو اللہ تعالی ان کو بخش دیے گے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابل خوف اور زگاران تائب کے لے برادلاس ہے اور اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ گناہ کمت الہی کے خلاف نہیں تاکہ اللہ تعالی کی رحمت اور غفاری کی صفت ظاہر ہو۔ اس کا مطلب یہیس کہ آدی اپنے گناہوں سے نذر ہو جائے کیونکہ پتوصریا کفر ہے۔(مشکاة)

گناہ کرنے کے بعد توبہ کرنے والوں کو مغفرت ملتی ہے

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in whose hand is my soul, if you did not sin, Allah would replace you with people who would sin and then seek His forgiveness, and He would forgive them." [Narrated by Muslim]

3284

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا: اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے اس کو بخش دے کے تو رب العزت نے (فرشتون سے) فرمایا: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اوراس پر مواخذہ کیا کرتا ہے، پس میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر وہ جب تک اللہ نے چاپائے نی ایک مت تک اپنی توبہ پر قائم رہا۔ پھر گناہ کردیا اور عرض کیا: اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے آپ اس کو بخش دے کے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے۔ جو گناہ کو بخشتا ہے اوراس پر مواخذہ کیا کرتا ہے، میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا، اب وہ جو چاپ ہے کرے (لیعن گناہ کے بعد توبہ کرے تو مغفرت ملگی اور گناہ کے بعد توبہ نہ کرے تو مواخذہ ہوگا)

'اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

کسی کو حق نہیں کہ پی کہ کہے: فلان شخص کو اللہ نہیں بخش گا

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A servant committed a sin and said, ‘O Lord, I have sinned, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant.’ Then the servant remained for as long as Allah willed before committing another sin and saying, ‘O Lord, I have sinned again, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant.’ Then the servant remained for as long as Allah willed before committing another sin and saying, ‘O Lord, I have sinned again, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant, let him do as he wills.’" [Agreed upon]

3285

جنہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

پیان فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ: خدا کی قسم اللہ تعالیٰ فلان شخص کو نہیں بخش گا - اور اللہ تعالیٰ نے

فرمایا: وہ کون شخص ہے جو مجھ پر قسم کرتا ہے کہ میں فلان شخص کو نہیں بخش گا - میں تو اس کو بخش

دیا (بچے زیل کرنے کے لئے - اور تیرے تکبر کی وجہ سے) تیرے اعمال ضائع کردے (کرامال

کا ثواب نہیں ملتا) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

عابد گزگار عابد متکبر سے بہتر ہے

Jundub (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) narrated: "A man said, ‘By Allah, Allah will never forgive so-and-so!’ Allah the Exalted said, ‘Who is this who swears by Me that I will not forgive so-and-so? I have forgiven so-and-so and nullified your deeds.’" [Narrated by Muslim]

3286

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں دو شخص آپس میں گھبرا ڈوسے تھے - ان میں

سے ایک عبادت میں مشغول تھا اور دوسرا کشتا کہ میں تو گنزگار ہوں - وہ (عابد گنزگار تھے) کشتا

کہ تو جس گناہ میں بتلا ہے اس کو چھوڑ دے - تو گنزگار کشتا کہ: تو مجھے میرے رب کے حوالہ کردے -

(وہ غفور رحمٰی ہے) پھر ان کے باس عابد نے اس گنزگار کو ایک برآگناہ کرتے پایا تو اس سے کہا کہ

اس گناہ سے باز آ - تو اس (گنزگار) نے پھر وہی کہا: مجھے میرے رب کے حوالہ کردے - کیا تو مجھے پر

دارو نہ بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو اس (عابد) نے جواب دیا کہ: قسم خدا کی اللہ تعالیٰ مجھے بھگز نہیں بخش گا

اور نہ مجھے جنت میں داخل کرے گا - پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس (موت کے) فرشتوں کو

بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روح قبض کر لی - پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ

تعالیٰ نے گنزگار سے کہا: تو میری رحمت کے سبب سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے فرمایا-

کیا تو میرے گنزگار بندہ کو میری رحمت سے محروم کرنے کی طاقت رکتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا:

نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتون سے) فرمایا: اس کو دوزخ کی طرف لے جا

(تا کہ وہ اپنے غور کی سزا بھگے)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کس کو بقین کے ساتھ دوزخ کہنا درست نہیں اس لئے کہ

نچات کا دار خاتمہ پڑے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خاتمہ بالحیرہ ہو۔ (حاشیہ مشکوۃ)

صح وشام سید الاستغفار پڑھنے والے کی ہے

حضرت شراد بن اول رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سید الاستغفار بھی نہترین استغفار یہ کے تو اس طرح

کہہ:

"اللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّى لاَ إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِى وَ أَنَا عَبْدُكَ . وَ أَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَ

وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ . أَعُوذُبِكَ مِنْ شِرِّ مَا صَنَعْتُ . أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَى وَ

أَبُوءُ بِذَنبِى . فَاغْفِرْ لِى فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ"۔

یا اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے میں کو پیدا کیا اور میں تیرا، یہ دھ

ہول اور میں اپنی حسب استطاعت آپ کے عہد میثاق اور وعدہ (آخرت پر) قائم ہول۔ میں اپنے

کے ہولے گناہول کی برائی سے آپ کی پناہ میں آتا ہول آپ کی جوعنتیں مجھ پر ہیں۔ میں ان کا

اقرار کرتا ہول اور میں اپنے گناہول کا مجھی اعتراف کرتا ہول پس آپ مجھے بخش دتے اس وجہ سے

کہ آپ کے سوا گناہول کا کچھ و لا کوئی نہیں۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جواس استغفار کو بقین کے ساتھ دن میں پڑھ

اور شام ہونے سے پہلے مر جانے تو وہ جنتی ہے اور جواس کورات میں بقین کے ساتھ پڑھے اور ہ

ہونے سے پہلے مر جانے تو وہ (جہن) جنتی ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There were two men among the Children of Israel who were brothers, one was devout in worship, and the other was a sinner. The devout one kept saying to the sinner, ‘Stop what you are doing!’ The sinner replied, ‘Leave me alone with my Lord!’ One day, the devout man found the sinner committing a major sin and said, ‘Stop!’ The sinner again said, ‘Leave me alone with my Lord! Were you sent as a watcher over me?’ The devout man said, ‘By Allah, Allah will never forgive you, nor will He admit you to Paradise.’ Allah took their souls, and they were brought before Him. He said to the sinner, ‘Enter Paradise by My mercy.’ Then He said to the devout man, ‘Can you withhold My mercy from My servant?’ The man said, ‘No, O Lord.’ Allah said, ‘Take him to the Fire.’" [Narrated by Ahmad]

From this hadith, it is understood that it is not appropriate to call someone destined for Hell with certainty, because the end of a person's life is uncertain and it is possible that their end may come suddenly. (Hashiya Mushkawat)

The Sayyid al-Istighfar is for those who recite it. It is narrated by Hazrat Shurayh bin Al-Harith (RA) that he said: The Messenger of Allah (SAW) stated that the best form of seeking forgiveness is as follows:

'O Allah, You are my Lord, there is no deity but You. You created me, and I am Your servant. I am committed to Your covenant and promise as much as I can. I seek refuge in You from the evil of what I have done. I acknowledge Your favors upon me and I confess my sins. Forgive me, for none forgives sins except You.'

O Allah, You alone are my Lord; there is no deity worthy of worship except You. You have created me, and I am Your servant. I adhere to Your covenant and promise as much as I can. I seek refuge in You from the evil of my deeds. I acknowledge Your blessings upon me and I confess my sins. Therefore, forgive me, for there is none who forgives sins except You.

The Messenger of Allah (SAW) said: Whoever recites this Istighfar in the morning before encountering anyone and dies before evening will enter Paradise, and whoever recites it in the evening before encountering anyone and dies before morning will enter Paradise. This has been narrated by Bukhari.

3287

گناہ بڑے ہوں معافی دلا نے والا استغفار

Sins are great, but the One who forgives is greater, so seek forgiveness.

3288

حضرت بلال بن پیار بن زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موہی لیجن آزاد کروہ غلام ہیں ان سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے میرے دادا کے روایت کی ہے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناتے کہ جو (صدق دل سے) اس استغفار کو پڑھے: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ۔ میں اللہ تعالیٰ سے (اپنے گناہوں کی) مغفرت چاہتا ہوں، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جوزندہ جاوید ہے اور (ساری کائنات کو) سننے والا ہے اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوتا)۔ تو اس کی خوشش کردی جاتی ہے اگرچہ وہ (میدان) جہاد سے بجاگا ہوا ہو (جو گناہ بڑے ہے)۔

اس کی روایت تنزی اور ابوداود نے کی ہے۔ اور ابوداود کی روایت بلال بن پیار کے بجا کے حلال بن پیارتے ہے۔

Bilal ibn Yasar ibn Zayd, a freed slave of the Prophet (ﷺ), reported that his father narrated from his grandfather that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever says, ‘I seek forgiveness from Allah, besides whom there is no god, the Ever-Living, the Sustainer of existence, and I repent to Him,’ will be forgiven, even if he fled from battle." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]

(Note: In Abu Dawud’s version, it is narrated from Hilal ibn Yasar. Al-Hafiz Al-Mundhiri said: "Its chain is good and connected. Bukhari mentioned in his history that Bilal heard from his father Yasar, who heard from his father Zayd, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ).")

دوام استغفار کی برکتیں
3289

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص (گناہ کے بھدیا کی مصیبت میں) استغفار کو پڑھے (یا استغفار پر دعا ومت کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو بہتری سے نجات دی گے۔ اور ہرم سے چھٹکارہ دی گے۔ اور اس کو ایسی جگہ سے حلال روزی دی گے جس کا اس کو مانچی نہ ہو۔ اس کی روايت امام احمد، ابوداوداور ابن ماجہ نے کی ہے۔

اولا د کے استغفار سے والدین کے درجہ بلند ہوتے ہیں

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever consistently seeks forgiveness, Allah will grant him relief from every distress, a way out from every hardship, and provide for him from sources he could never imagine." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah]

3290

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

و سلم نے ارشاد فرمایے کہ ب شگ اللہ بزرگ اور برتر نیک بندہ کے درجے جنت میں بلند فرماتے ہیں تو وہ بندہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میری پروردگار! پیدرجم مجھے کیونکر ملا تو اللہ تعالیٰ فرما ئین گے: تیری اولاد کے تیری لئے استغفار کرنے کی وجہ سے اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔ زندول کا مرد ول کے لئے بہترین تخفی

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted raises the rank of a righteous servant in Paradise, and the servant asks, ‘O Lord, how did I attain this?’ Allah replies, ‘Through your child’s seeking forgiveness for you.’" [Narrated by Ahmad]

3291

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ: مردوں قبر میں دو بن والے فریادی کی طرح ہے جو اپنے باپ، مال، محالیا کی دوستی کی دعاوی کا منظر ہے۔ اور جب پیدا عیس کو پہوچتی ہے تو یہ دعا اس کے پاس دنیا و ما فیها سے زیادہ محبوہ ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بقیاً زمین والوں کی دعاوی کی وجہ سے اب لی قبور کو پہاڑوں جیسا ثواب پہوچاتا ہے جسمنی (بشارحمتیں ان پنازل فرما تا ہے) اور ب شک زندول کا مرد ول کے لئے تخفیف ان کے لئے استغفار کرنا ہے۔ اس کی روایت بیعنی نے شعب الایمان میں کی ہے۔ کثرت استغفار کی بشارت

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The deceased in the grave is like a drowning person, waiting for a supplication to reach him from his father, mother, brother, or friend. When it reaches him, it is dearer to him than the world and all it contains. Indeed, Allah sends down upon the inhabitants of the graves gifts from the supplications of the living like mountains. The best gift the living can give to the dead is to seek forgiveness for them." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab Al-Iman]

3292

حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایے: خوش حالی سے اس شخص کے لئے جواب پنامہ اعمال میں زیادہ استغفار پائے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور نسائی نے اس کی روایت "عمل الیوم والیلة"، میں کی ہے۔ بار بار استغفار کرنے والا گناہوں پراسرار کرنے والا نہیں

Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Blessed is the one who finds abundant seeking of forgiveness in his record." [Narrated by Ibn Majah. An-Nasa’i also narrated it in ‘Amal Al-Yawm wa Al-Laylah.]

3293

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ وہ شخص (گناہ پر) اصرار کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا

جو (گناہ کے بعد) استغفار کرتا ہوا اگر چھ کروہوں میں 70 مرتبہ اسیا کرے۔

اس کی روايت ترنزي اور ابين ماجبر نے کی ہے۔

ف: اس حديث شريف سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں پراصرار کرنے والا وہ شخص ہے جو

استغفار نہ کرے اور اپنی بداعمالیوں پرثرمسارندہو۔ واخ ہوکہ گناہوں پراصرار برانہ کیونکہ گناہ صغیرہ

اصلار کے بیڑہ ہوتاہے اور بیڑہ پراصرار کفر کے پیو نچاویتاہے اس لے ارشاد ہواہے کہ جو کوئی استغفار

کرتا ہو۔ اور ثرمندہ ہوگناہوں پرخواہ گناہ صغیرہ ہو یا بیڑہ ہووہ گناہوں پراصرار کرنے والانیں ہوگا۔

(حاشیہ مشکلوۃ)

نکی پرخوش ہوئے اور گناہ پراستغفار کرنے کی تلقین

Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no sin too great for one who seeks forgiveness, even if he repeats it seventy times a day." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]

3294

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ مجھے

کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پیدا ہوئی فرمایا کرتے تھے):

"اللہم اجعلنی من الذین اذا احسنوا استبشر و اذا اساءوا استغفر و ا"۔

البی مجھے ان لوگوں میں کردو کہ وہ جب نکی کریں تو خوش ہول اور جب کوئی برائی کریں تو

استغفار کریں۔ اس کی روایت ابن ماجبر نے کی ہے اور تہذیب نے نکی دعوات کبیر میں کی ہے۔

توپکی کرمت سنن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, make me among those who, when they do good, rejoice, and when they do wrong, seek forgiveness." [Narrated by Ibn Majah and Al-Bayhaqi in Ad-Da’awat Al-Kabir]

3295

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو! اللہ کی طرف توپکیا کرو میں خود مجھی دن میں سو

(100) بار اللہ کی طرف توپکیا کرتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

سوآ دمیول کے قاتل کی جائش کا ایک واقعہ

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'O people! Praise Allah; I myself praise Allah a hundred times in a day.' This narration is reported by Muslim.

3296

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ صلی

اللہ تعالیٰ وآلم وسلم نے ارشاد فرمایا کر: نبی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے نانوے (99) انسانوں کو قتل کیا تھا پھر (اپنی توبہ کی قبولیت کے نارے میں لوگوں سے) پوچھتا ہوا کہ نکلا - یہاں تک کہ ایک راہب کے پاس پہوچااوراس سے پوچھا کہ: کیا ایسے شخص کی توبہ قبول ہوسکتی ہے (جب نانوے قتل کے بعد) اس نے جواب دیاہیں تو اس شخص نے اس (راہب) کو قتل کر دیاپھر اپنی توبہ کی قبولیت کے بارے میں پوچھنے لگا تو ایک آدمی نے اس سے کہا: تو فلال بستی میں چلا جا (جہاں نئی لوگوں کی کثرت ہے وہ اس بستی کی طرف چل پڑا اور راستے میں) اس کوموت آگیا تو اس نے مرتب وقت اپنے سینے کو اس بستی کی طرف جھکا ا تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس بارے میں مجھ کرنے گیا (ککون اس کی روح کو لے جائے) اور اللہ تعالیٰ نے (اس بستی والی) زمین کو (جس کی طرف وہ جارہا تھا) وہی نازل فرمائی کہ تو قریب ہوجا اور (دوسری بستی کووی فرما لی کرتودور ہوجا (فرشتولے) فرما یا کہ: تم دونوں بستیوں کے فاصلے کو پوتو پیچس میں نیک لوگوں تھا ایک بالشت قرب نئی اوراس کی بخشش کردی گئی اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ گناہ کیوہ کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے - دوسرا یہ کہ جس جگہ گناہ کیا ہووہال سے اجبرت کرنا مستحب ہے - اور تیسرے یہ کہ مذاعا اور مذاعلی کا ردوپدر ورسے ہے - چوتو یہ کہ رحمت ابتک کونی حد تیں ادھر بندہ نے خاص دل سے توبہ کی اور ادھر دریا کے رحمت و مغفرت جوش میں آئی - (حاشیہ مشکات)۔

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the Children of Israel was a man who killed ninety-nine people. Then he went out seeking repentance and came to a monk, asking, ‘Is there any repentance for me?’ The monk said, ‘No,’ so the man killed him, completing his hundredth murder. He continued searching until a man told him, ‘Go to such-and-such town.’ Death overtook him on the way, so he turned his chest toward the town. The angels of mercy and the angels of punishment disputed over him. Allah commanded the town to draw nearer and the other to move away, then said, ‘Measure the distance between them.’ He was found to be a handspan closer to the town of repentance, so he was forgiven." [Agreed upon]

گناہوں کا اعتراف بخشش کا سبب ہے

3297

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرمائی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ بندہ جب (گناہوں کا) اعتراف کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

اللہ تعالی کو غفرار جانے کا یقین مغفرت کا سبب ہے

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant acknowledges his sin and repents, Allah accepts his repentance." [Agreed upon]

3298

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اس بات کا یقین ہو کہ میں گناہون کو بھٹھ پر قدرت رکھتا ہوں تو میں اس کو بخش دیتا ہوں۔ اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں جب تک کہ وہ میرے ساتھ کسی کوثریکی نہ کرے۔ اس کی روایت امام بخاری نے ثروت حسنہ میں لی ہے۔ گناہ گار توہ بکریتے رہیں تو ان کی مغفرت ہوتی رہے گی

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:

Allah, the Exalted, has informed that He says: 'Whoever is certain that I have power over sins, I will forgive him. And I do not care about anyone as long as they do not commit a transgression against Me.' This narration is recorded by Imam Bukhari in his Sahih. If sinners continue to repent, their forgiveness will continue to be granted.

3299

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ب شب اللہ تعالی رات کے وقت اپنی رحمت کا باٹہ پچھلا دیتے ہیں تاکہ رات کا گناہ گار دن میں توہ بکری لے۔ (جنش کا پیسلہ) سورج کے مغرب سے نکلنے (لعن قیامت) تک جاری رہے گا۔ اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔

ایضًا دوسری حدیث

It is narrated from Abu Musa al-Ash'ari (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Allah, the Exalted, sends down His mercy at the beginning of the night so that the sinner of the night may become pure by the morning. This will continue until the sun rises from the west (the Hour has come).' This is narrated by Muslim.

3300

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص آفاتاب کے مغرب سے نکلنے سے پہلے تک توہ بکری لے تو اللہ تعالی اس کی توہ ببول فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے لی ہے۔ آفاتاب جب مغرب سے طلوع ہوگا تو توہ بکاروازہ بند ہوجائے گا

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever takes a goat before the rising of the sun, Allah will speak to it.' This narration is recorded by Muslim. When the sun rises, the taking of goats will cease.

3301

صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف توپر کا ایک دروازہ بنایا ہے

(جو کہلا توپر ہے) جس کو چوڑا ایک 70 برس کی مسافت ہے اور وہ آفاق کے مغرب سے طلوع ہوتا ہے

تک بنڈیا کیا جاتا ہے۔ اور پیغمبر آفاق کا طلوع ہونا قبول کرتا ہے۔ اور وہ آفاق کے مغرب سے اللہ تعالیٰ کے

اس قول کے مطابق ہے (سورۃ انعام، آیت نمبر:158، میں) "یوم یأتی بعض ایت ربک لا ینفع نفسا ایمانها لم تکن امنت من قبل"، جس دن تمہارے رب کی وہ آیت نازلی آئے

گی کسی شخص کو ایمان لانا نفع نہ دے گا جواس (نثانی کے ظاہر ہو نے سے پہلے ایمان نہ لایا)۔

اس کی روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

مجربت فاندہ نہیں دے گی جب آفاق کے مغرب سے طلوع کرے

Safwan ibn Assal (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted has placed a gate in the west, the width of seventy years’ journey, for repentance. It will not be closed until the sun rises from its direction. That is the meaning of Allah’s words: ‘The day when some of the signs of your Lord will come, no soul will benefit from its faith if it had not believed before.’ (Al-An’am 6:158)" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

3302

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجربت (پیغمبر کے ایمان کی طرف اور دار کفر کے دار الاصلام کی

طرف اور گناہوں سے توپر کی طرف آنا) توپر کے منقطع ہونے تک بنڈیا ہوگی۔ اور توپر کا

دروازہ) بنڈیا ہوگا۔ یہاں تک کہ آفاق کے مغرب سے طلوع کرے۔

اس کی روایت امام احمد، البخاری ودارداری نے کی ہے۔

ف : واضح ہو کہ حدیث شریف میں توپر کے منقطع ہونے سے توپر کا قبول ہونا مراد ہے غرض یہ

ہے کہ جب تک آفاق کے مغرب سے نہیں نکلتا۔ بنڈہ توپر کر کے پاک ہوسکتا ہے اور جب آفاق کے مغرب

سے نکل تو پھر یہ موقع باقی نہ رہے گیا۔ (از حاشیہ مشکوۃ12)

موت کے غرغراہ سے پہلے توپر قبول ہوتی ہے

Mu’awiya (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Migration (Hijrah) will not cease until repentance ceases, and repentance will not cease until the sun rises from the west." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ad-Darimi]

(1) The statement: "Migration will not cease..." In At-Tafsirat Al-Ahmadiyyah, it is said: "In the early days of Islam, migration was obligatory, whether one could practice his religion or not. There is no doubt that this was later abrogated. In this era, if one cannot practice his religion due to oppression or disbelief, migration becomes obligatory, and this is the correct view."

3303

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ بندہ کی توپر قبول فرماتے ہیں یہاں تک کہ

اس کو (موت کا) غرغره نے لگا۔ اس کی روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

ثبوت مغفرت کے لئے جواب ہے

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah accepts the repentance of a servant as long as the death rattle has not reached his throat." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

(2) The statement: "As long as the death rattle has not reached his throat..." In Al-Bazaziyyah, it is said: "It is said that the repentance of despair (with a ‘ya’), meaning when hope is lost and death is certain, is accepted, but not the faith of despair. Another view says it is not accepted, as Allah equates those who repent at the time of death with the disbelievers in His words: ‘But repentance is not [accepted] of those who [continue to] do evil deeds...’ (An-Nisa 4:18), as mentioned in Al-Kashshaf, Al-Baydawi, and Al-Qurtubi.

In Al-Kabir by Ar-Razi, the scholars said: "The approach of death does not prevent the acceptance of repentance, but witnessing the horrors of death leads to certainty, removing free will. Thus, the Hanafis, Malikis, Shafi’is, Mu’tazila, Sunnis, and Ash’aris agree that the repentance of despair is not accepted like the faith of despair, due to the lack of free will and the inability to firmly resolve not to return to sin, which is a condition of repentance."

Some fatwas state that the repentance of hardship (with a ‘ba’) is accepted. If hardship refers to witnessing death’s horrors, the same objection applies. If it refers to nearing death, then it is acceptable. However, the apparent meaning is that hardship refers to witnessing death’s terrors.

The evidence for its acceptance is Allah’s words: "And He is the One who accepts repentance from His servants." (Ash-Shura 42:25). The apparent meaning supports this. The Maturidis, as mentioned by Shaykh Abdus-Salam in his commentary on his father’s An-Naqani’s poem, hold this view. The Ash’aris, however, say it is not accepted at the time of the death rattle, as stated by An-Nawawi.

Mulla Ali Al-Qari supported the second view, citing the hadith: "Allah accepts the repentance of a servant as long as the death rattle has not reached his throat," narrated by Abu Dawud, which includes both believers and disbelievers.

The objection that some Hanafi scholars and Shafi’is like As-Subki and Al-Balqini preferred the first view requires evidence. The matter is speculative, but the faith of despair is unanimously rejected."

3304

حضرت ابوذر رضي الله عنه روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ کب شک اللہ تعالیٰ اپنے بنده (کے گناہوں) کو بخش دیتا ہے جب تک (بنده اور اللہ تعالیٰ کے درمیان) جواب واقع نہ ہوسکا۔ نے عرض کیا: یا رسول الله صلى الله عليه وسلم جواب کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمايا: (جواب یہ ہے کہ) آدی اس حالت میں مرے کروہ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کب شک اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (کے گناہوں) کو بخش دیتا ہے جب تک (بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان) جواب واقع نہ ہوسکا۔ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: (جواب یہ ہے کہ) آدی اس حالت میں مرے کروہ

مشترک تھا۔

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور تہذیب نے اس کی روایت "كتاب البعث والنشور" میں کی ہے۔

ثبوت کے سوابق لے لے برداگناہ لاک بخشش ہے

It is shared. Imam Ahmad narrated it, and Tuhfah narrated it in 'Kitab al-Ba'th wa al-Nashr.' To overlook the faults of the narrators is a great favor.

3305

حضرت ابوذر غفاری رضي الله عنه روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو کر وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو برا برہینہ قرار دیتا تھا۔ باوجود یہ اس پر پہاڑ ول جیسے گناہ تھے۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے گناہوں کو بخش دیتے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو کر وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو برا برہینہ قرار دیتا تھا۔ باوجود یہ اس پر پہاڑ ول جیسے گناہ تھے۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے گناہوں کو بخش دیتے۔

اس کی روایت تہذیب نے "كتاب البعث والنشور" میں کی ہے۔

بندہ کی توبہ اللہ تعالیٰ کی خوشی کی ایک مثل

Tahdhib has narrated this in 'Kitab al-Ba'th wa al-Nashr'. An example of Allah's pleasure at a servant's repentance.

3306

حضرت انس رضي الله عنه روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ حقیقاً اللہ تعالیٰ اپنے بنده کی توبہ جس وقت وہ توبہ کرتا ہے۔ اس شخص کی خوشی سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ جس کی سواری ایک بآب و گیاه جنگل میں بھاگ کی۔

لیعنہ کہ ہوگی۔ اور اس پراس کا کہنا تھا اور پانی تھاوہ اپنی سواری کو تلاش کر کے تھک کر ماپوس

ہوگیا (سواری کے ملنے سے نامید ہوگر) وہ ایک درخت کے پاس آیا جو کہ تابہ کر وہ سواری اس

کے ساتھ کٹری ہے اور اس نے اس مہار پر لی پھر (اس کی زبان سے فرط مسرت میں پرالفاظ نکل

پڑے اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب حالاکہ اس کو پی کہنا چاہتے تھا اے اللہ میں تیرا بندہ

ہول اور تو میرا رب ہے۔ جس طرح گم شدہ سواری ملنے سے اس شخص کو خوشی ہوتی تھی اس طرح

گناہگار بندہ کے اللہ تعالیٰ سے پچھڑ کر ملنے سے اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم

نے کی ہے۔

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah is more delighted with the repentance of His servant than a man who loses his camel in a barren desert, carrying his food and drink. He despairs of finding it, lies down in the shade of a tree, and suddenly sees it standing beside him. He grabs its reins and exclaims in joy, ‘O Allah, You are my servant, and I am Your Lord!’, mistaking out of extreme joy." [Narrated by Muslim]

ایضًا دوسری حدیث
3307

حارت بن سویر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ ابن مسعود

رضی اللہ عنہ نے (توہے کے بارے میں) دو حدیثیں بیان کی ہیں، ایک حدیث (مرفوع ہے) جس کی

سنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہوچتی ہے۔

It is narrated from Hārith ibn Sawayr, may Allah have mercy on him, that he said: 'Abdullah ibn Mas'ud (RA) has narrated two hadiths concerning Tawḥīd, one of which is marfū‘, reaching back to the Messenger of Allah ﷺ.
3308

اور دوسری حدیث مرقوم ہے) جس کی روايت خود حضرت ابن مسعود رضی

اللہ عنہ سے ہے اور (اس حدیث مرقوم میں) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (بندہ

مومن اپنے گناہوں سے بہت دور تاہے چنانچہ) مومن اپنے گناہوں کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا وہ ایک

پہاڑ ہے جس کے نیچے وہ بیٹھا ہوا ہے اور دور رہنے کے (نہ معلوم کر) وہ پہاڑ کب اس پر گر پڑے اور

(اس کے برخلاف) فاجر و فاسق اپنے گناہوں کو (انتہائی) سمجھتا ہے کہ جیسے کچھ کر وہ اس کی ناک پر

جیتنے اور وہ اس کو بات کے اشارے سے اظہار کرتا (لیکن وہ گناہوں سے بے پروار ہوتا ہے اور توہین کرتا

ہے) پھراس کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (مرفوع حدیث سانی) اور فرما کر:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندے مومن توہے

بہت خوش ہوئے پیس شخص (کی خوشی) سے جس زیادہ خوش ہوئے پیس جو (سفر میں) ایک لق ودق صحرا میں جہال بلا کرتا اندیشہ واٹر پڑا اوراس کے ساتھ اس کی سواری سے جس پراس کا کہنا اور پانی سے پس وہ ایک جگہ (پڑا ورلا) اور سوگیا جب نیند سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ اس کی سواری عاہب سے وہ سواری کی تلاش میں نکلا اور گرمی اور بھوک پیاس کی شدت اور نغم میں گرفتار ہوگیا جو اللہ تعالی کو منظور تحسین (کافی تلاش کے بعد) اس نے کہا کہ: ای جگہ واپس لیٹ جا تین جہال میں اتراہول اور بالا اپنے بازو پرس رک کر موت کے انتظار میں سوگیا پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہے کر اس کی سواری اس کے سامنے کہری سے جس پراس کا کہنا اور پانی جسی موجودہ تو اس شخص کو (ایسی حالت میں) اپنے گم شدہ سواری اور ترش کے واپس طے کی جو خوشی ہوگی اللہ تعالی کو اپنے بندہ مومن کی توپرے اس سے جس زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔

وہ گزگار بہتر پیس جو توپہ کرتے رہتے ہیں

Al-Harith ibn Suwayd (may Allah be pleased with him) reported that Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated two sayings, one from the Prophet (ﷺ) and one from himself: "A believer sees his sins as if he were sitting beneath a mountain, fearing it may collapse on him, while a wicked person sees his sins like a fly passing by his nose, which he shoos away." Then he said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Allah is more pleased with the repentance of His believing servant than a man who camps in a lifeless desert with his camel carrying his food and drink. He sleeps and wakes to find it gone. After exhausting himself in search, he says, ‘I will return to my spot and sleep until death takes me.’ As he lays his head to sleep, he suddenly finds his camel standing beside him with his provisions. Allah’s joy over a believer’s repentance is greater than this man’s joy over his camel and supplies.’" [Narrated by Muslim for the prophetic part and by Bukhari for Ibn Mas’ud’s statement]

3309

اںس رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرما تے پی کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما تے پی کہ: تمام پی آدم خطا کار ہیں (یعنی برانسان سے پچھونے پچھو گناہ ہوتا ہے) اور گزگارول میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو توپہ کرتے والے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔

ایضاً وسری حدیث

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "All the children of Adam are sinners, and the best of sinners are those who repent." [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and Ad-Darimi]

3310

ا میر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرما تے پی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما تے پی: اللہ تعالی اس بندہ مومن کو (توپہ کرتے رہنے کی وجہ سے) بہت دوست رکھے ہیں جو گناہوں میں بھتلا رہتا ہے اور توپہ کرتا رہتا ہے۔

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

گناہ کبائر سے نچے والوں کے صغائر معاف ہوجاتے ہیں

Ali (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah loves the believing servant who is tested yet repentant." [Narrated by Ahmad]

3311

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: اللہ تعالیٰ کے پیارشاد (سورۃ حم،

آیت نمبر: 32) "الذین یجتنبون كبیر الاثم والفواحش الا اللّمَّ" (وہ لوگ جو بڑے

گناہوں سے اور بڑی بدیاں کی باٹول سے پچھے رہتے ہیں مگر بڑے کان سے چھوٹے چھوٹے گناہ جو کچھ

کھارہوجاتے ہیں کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (امیّہ ابن ابی الصلت کا

شعر بطور مثال لے پر آہا)

ان تغفر اللہم تغفر جمَا

و آئ عبید لک لا الّمَا

اے اللہ اگر آپ بخشا چاہیں تو برے برے گناہوں کو بخش دیں

اور آپ کا وہ کونسا بندہ ہے جس نے چھوٹے گناہ بھی نہ کے ہوں

اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔

تو پر اور استغفار کرنے والوں پر زگگ آ جاتا ہے

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) commented on Allah’s words "except for minor faults" (An-Najm 53:32) by narrating that the Prophet (ﷺ) said:

"O Allah, if You forgive, You forgive abundantly,

And which of Your servants has no faults?"

[Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a good, authentic, and rare hadith."]

3312

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ وصیب آ جاتا ہے یہ

جب وہ (اپنے گناہوں سے) توبہ اور استغفار کرتا ہے تو (وہ وصیب دل جاتا ہے اور) اس کا دل

صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ گناہوں پر اصرار کرتا رہے (اور توبہ نہ کرے) تو یہ وصیب بڑھتا جائے جاتا

ہے پھر اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور یہی وہ زگگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ

مطففین، آیت نمبر: 14، میں) فرمایا ہے: "گَلا بَلْ، رَانَ عَلی قُلُوبِہُمْ مَا گَانُوا

یُکْسِبُوْنَ" (ایاں میں ہے بلکہ اصل وجوہ یہ ہے ان کے دلوں پرانی بداعتیوں کی وجوہ سے جن کو

اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

صدق دل سے توہین والا ایسے جسیا کرنا سے گناہ ہے۔ جسے کہ

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a believer sins, a black spot appears on his heart. If he repents, stops, and seeks forgiveness, his heart is polished clean. But if he persists, the spot grows, that is the ‘stain’ Allah mentioned: ‘No! Rather, their hearts have been stained by what they used to earn.’ (Al-Mutaffifin 83:14)" [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah. Tirmidhi said: "This is a good and authentic hadith."]

3313

عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ: رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے یہ کہ: جو شخص (صدق دل سے) توہین لیتا ہے تو وہ اس شخص کی

طرح پاک و صاف کر دیا جاتا ہے جس سے کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے

تاہب پر کوئی معاخذہ نہیں ہوتا)۔

اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور طبرانی نے اس کی روایت کبیر میں کی ہے۔

ملا علی قاری فرما تے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقة ہیں، ابن حجر نے اس حدیث کے

شواہد کی بنیاد پر اس کو حدیث حسن کا درج دیا ہے اور سہیہت نے کہی اس کی روایت شعب الایمان میں

کر نے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں نظر انی مجوہل راوی ہیں لیکن ابن حجر فرما تے

ہیں کہ راوی کے مجھول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لے کر فضائل کے بیان میں ضعیف حدیث

قابل عمل ہے۔

Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The repentant is like one who has no sin." [Narrated by Ibn Majah and At-Tabarani in Al-Kabir]

Ali Al-Qari said: "Its narrators are trustworthy." Ibn Hajar deemed it good due to supporting evidence. Al-Bayhaqi narrated it in Shu’ab Al-Iman and said: "It is uniquely narrated by An-Nahrani, who is unknown." Ibn Hajar said: "This does not harm its validity, as weak hadiths are acted upon in virtues."

Similar narrations are reported from Anas (by Al-Qushayri in Ar-Risalah and Ibn An-Najjar), Abu Sa’id (by Al-Hakim), and Ibn Abbas (by Ibn Asakir). Sharh As-Sunnah cites Ibn Mas’ud’s statement: "Regret is repentance, and the repentant is like one who has no sin."

(1) The statement: "Regret is repentance..." In Al-Mirqat, it is said: "Regret is the greatest pillar of repentance, as it leads to leaving the sin, resolving not to return, and rectifying wrongs when possible."

3314

اور اسی بیان میں امام قشيری نے اپنی کتاب رسالہ میں انس رضی اللہ عنہ سے

اور ایک واں نجار نے جسی روایت لی کی ہے۔

In this narration, Imam Qushayri in his book Risalah reports from Anas (RA), and one Najjar has taken this version of the narration.
3315

اور حاکم نے ابوسعید سے

And Hakim narrated from Abu Sa‘id (RA) that
3316

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عساکر نے روایت کی ہے۔

It is narrated from Ibn Abbas (RA) through Ibn Asakir.
3317

ثرہ السنن میں ابن مسعود سے موقوفاً مروی ہے کہ: ندامت توہین کے اور گناہ

سے توہین کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

گناہوں پرندامت، یا توپہے

Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The repentant is like one who has no sin." [Narrated by Ibn Majah and At-Tabarani in Al-Kabir]

Ali Al-Qari said: "Its narrators are trustworthy." Ibn Hajar deemed it good due to supporting evidence. Al-Bayhaqi narrated it in Shu’ab Al-Iman and said: "It is uniquely narrated by An-Nahrani, who is unknown." Ibn Hajar said: "This does not harm its validity, as weak hadiths are acted upon in virtues."

Similar narrations are reported from Anas (by Al-Qushayri in Ar-Risalah and Ibn An-Najjar), Abu Sa’id (by Al-Hakim), and Ibn Abbas (by Ibn Asakir). Sharh As-Sunnah cites Ibn Mas’ud’s statement: "Regret is repentance, and the repentant is like one who has no sin."

(1) The statement: "Regret is repentance..." In Al-Mirqat, it is said: "Regret is the greatest pillar of repentance, as it leads to leaving the sin, resolving not to return, and rectifying wrongs when possible."

3318

عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اپنے والد کے

ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے حضرت ابن

مسعود سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یارشاد فرماتے سن ہے کہ

(گناہوں پر) ندامت، یا توپہے تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ بلال میں نے رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کو ایسا یارشاد فرماتے سن ہے (کہ ندامت، یا توپہے!)۔ (اس حدیث کی روایت امام

طحاوی نے کی ہے)۔

ف: اس حدیث شریف میں یارشاد کے ندامت، یا توپہے اس لئے کہ شخص اپنے گناہوں

پر نادم ہوتا ہے تو توپہ کے دورے کے اجزاء میں گزشتہ گناہوں کو چھوڑ دینا اور آتندہ گناہ نہ کرنا کا عزم

کرنا اور تیسرے پیکر جس کے حقوق تلف ہوئے ہوئے ان کے حقوق کو ادا کرنا ان سب پر آمادہ ہوجاتا

ہے اس لئے یارشاد ہوا کہ ندامت، یا توپہے۔ مرقات 12

Abdullah ibn Mughaffal (may Allah be pleased with him) reported: "I entered with my father upon Abdullah ibn Mas’ud, and my father asked him, ‘Did you hear the Prophet (ﷺ) say, “Regret is repentance”?’ He replied, ‘Yes.’" [Narrated by At-Tahawi]

(1) The statement: "Regret is repentance..." Ibn Abi Imran disliked saying, "I seek Allah’s forgiveness and repent to Him," preferring, "I seek Allah’s forgiveness and ask Him for repentance." At-Tahawi said: "The correct view is that both are permissible."

In Al-‘Alamkiriyyah and Ma’ani Al-Athar, it is stated: "The Prophet (ﷺ) equated regret with repentance, showing that saying, ‘I repent to Allah,’ while feeling remorse is praiseworthy and rewarded."