اس باب میں سُبحانَ اللہ اور الْحَمْدُ للہ اور لا اِلٰہِ اِلَّا اللہ اور اللہ اکبر پڑھنے کے ثواب کا بیان ہے
وقول الل عز وجل وسبحوه بكره واصيا اور الل تعالي كا ارشاد سور احزاب ايت نمبر مي ا مسلمانو تم صبح و شام لي بمبيش الل تعالي كي اكي يان كرت ر و وقول فسبح بحمد ربك اور الل تعالي كا ارشاد سور نصر ايت نمبر مي تم ا ن رورد ار كي تسبيح و تحميد يان كرت ر و وقول وكبروا تكبيرا اور الل تعالي كا ارشاد سور بي اسراييل ايت نمبر مي ا نبي صلي الل علي و ال وسلم ا الل تعالي ك خوب بر ايال يان كي ف ان ايات ذكور معلوم وا ك بمبيش الل تعالي كي تسبيح و تحميد تهليل و تكبير يان كرت ر و لي سبحان الل اور الحمد لل اور لا ال الا الل اور الل اكبر و لا حول و لا قو الا بالل العلي العظيم ت ر نا ا ي جسيا ك تفسير خازن تفسير مدارك اور تفسير حسني مي ذكور
یہ چار کلمات اللہ تعالیٰ کو بہ حد پسند ہیں
These four phrases are extremely pleasing to Allah Almighty.
سمرہ بن جندرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ثواب میں چار کلمے جو قرآن میں موجود ہیں
The Messenger of Allah ﷺ said: 'There are four phrases in the Qur'an that are rewarded by Allah, Exalted is He.'
فضل ہے: سُبْحَانَ اللّٰهِ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ لاَ الہِ اِلاَّ اللّٰہُ اور اللّٰہُ اَکْبَر
چار ہیں: سُبْحَانَ اللّٰهِ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ لاَ الہِ اِلاَّ اللّٰہُ اور اللّٰہُ اکبر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
پیغمبر ارشاد فرمایا کہ تم جس کلمے سے چاہو ابتدا کر سکتے ہو اس میں کوئی مضامین ہے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
تسبيحات کے پڑھنے کا ثواب و نیاو مافیہا سے بڑھتا کرہے
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The best speech is four: 'SubhanAllah' (Glory be to Allah), 'Alhamdulillah' (All praise is due to Allah), 'La ilaha illa Allah' (There is no god but Allah), and 'Allahu Akbar' (Allah is the Greatest)." In another narration: "The most beloved speech to Allah is four: 'SubhanAllah,' 'Alhamdulillah,' 'La ilaha illa Allah,' and 'Allahu Akbar.' It does not matter with which one you begin." [Narrated by Muslim]
(5) His statement: "The best speech..." – Some scholars use this hadith as evidence that if a person swears not to speak for a day and then says "SubhanAllah," "Alhamdulillah," "La ilaha illa Allah," or "Allahu Akbar," he breaks his oath. This is the view of Imam Shafi'i, as these are all forms of speech. However, our scholars (Hanafis) say he does not break his oath, because although these phrases are linguistically speech, they are not considered "speaking" in common usage. Rather, one is called a "reciter" (qari') or "glorifier" (musabbih), not a "speaker" (mutakallim). The principle in oaths is that they are based on common usage unless a specific intention is made. This is supported by hadiths mentioned in Fath al-Qadeer and others. The Shafi'i school bases oaths on linguistic reality, while the Maliki school bases them on Quranic usage. This is summarized from Mirqat al-Mafatih, Fath al-Qadeer, 'Umdat al-Ri'ayah, and Al-Binayah.
وآ لہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مجھے ان چار کلموں لیے سببحان اللہ۔ والحمد للہ۔ ولا اله الا
الله۔ اور واللہ اکبر کا کہنا میرے پاس ان تمام چیزوں سے افضل ہے جن پرسورج طلوع کرتا ہے
( لیے ان کلمات کا پڑھنا و نیا و مافیہا کو خیرات کرنے سے زیادہ ثواب رکتا ہے ) اس حدیث کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
تسبيحات جنت کے پودے ہیں
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Saying 'SubhanAllah,' 'Alhamdulillah,' 'La ilaha illa Allah,' and 'Allahu Akbar' is more beloved to me than everything the sun rises upon." [Narrated by Muslim]
وآ لہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: میں نے معران کی رات حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام سے
( ساتویں آسمان پر ) ملاقات کی تو آپ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپا پی امت کومیرا
سلام پیو نچادتے ( اس حدیث کے پڑھنے اور سننے والے کو چاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
جواباً سلام ان الفاظ میں کہ: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبر کاتہ۔ جسیما کہ مرقات میں
ذکور ہے۔ 12 ) اور ان کو نخبر سادات کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے ( لیے مشک اور زعفران سے بنی
ہوتی ہے۔ اور اس کا پانی نہایت شیر ہیں۔ اور پیچھی فرمادتے کہ وہ چیل میدان سے جود رختوں
سے خالی ہے) اور یہی فرما دتے کہ سببحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا پڑھنا جنت میں پودے لگانے ہے (یعنی جو شخص ان کلمات کو پڑھے گا ان کے ثواب میں ایک ایک پودا اس کی جنت میں لگا دیا جائے گا۔ چونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے پڑھنا بھی اوران کا پڑھنا بھی سہل ہے اس کے انسان کو چپے کہ بر وقت ان کو پڑھتارہے) اس حدیث کی روایت تزدی ن کی ہے۔
تسبيحات پڑھنے والے کے گناہ جمع جاتے ہیں
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "On the night of my Ascension (Isra), I met Ibrahim (Abraham), who said: 'O Muhammad, convey my greetings to your Ummah and inform them that Paradise has pure soil, sweet water, and is a vast plain. Its plants are: "SubhanAllah," "Alhamdulillah," "La ilaha illa Allah," and "Allahu Akbar."'" [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a hasan gharib hadith in its chain.]
الحمد لله. سببحان اللہ. لا اله الا الله اور الله اكبر کہنے سے بنده کے گناہ اس طرح جمع جاتے ہیں۔ جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔
کسی درخت کے پاس سے گزر رہے تھے جس کے پتے خشک ہو آ رہے تھے۔ اس کی طرف نظر کرتے تو اس کے پتے گرنے کے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
اس حدیث کی روایت تزدی ن کی ہے۔
فرشتون کی نج کیا ہے
While passing by a tree whose leaves were drying up, the Prophet ﷺ looked at it and its leaves began to fall. He ﷺ said: 'The angels have been kept away from it.'
سبحان الله وبحمده، کہنا ہے۔ اس کی روايت مسلم نے کی ہے۔
ابو زرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اذکار میں کون سا ذکر ثواب میں فضل ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہی ذکر جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے اور وہ "سبحان
سبحان اللہ وبحمده پڑھنے کی فضیلت
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked, "Which speech is the best?" He replied, "That which Allah has chosen for His angels: 'SubhanAllahi wa bihamdihi' (Glory be to Allah and praise Him)." [Narrated by Muslim]
فرما ہے ہیں کہ جو شخص دن میں سومرتہ "سبحان الله وبحمده" پڑھتا ہے تو اس کے گناہ گرا ہے
جاۓ پھر اگر چوہد ریا کے جھاگل کے برابرتول -
اس کی روایت بخاری،مسلم نے متفرق طور پرکی ہے-
الیضا وسری حدیث
If he returns and finds the camel entangled in the thicket - This has been narrated by Bukhari and Muslim separately.
وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص صبح کے وقت اورشام کے وقت سومرتہ سجان اللہ وتعالیٰ
پڑھے تو قیامت کے دن اس شخص کے بٹھکرافضل عمل والاکونینہیں البتر وشخص جواس کے ماں دیا
اس سے زائد پڑھتارہاہو۔اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پرکی ہے-
وہدو کل جواللہ تعالی کوبحد محبوپ ہیں
These two are the most beloved to Allah, the Exalted.
وآ لہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ دو کلم ایے ہیں جوزبان پر ملک (اور کہنے میں آسان ہیں) اور اعمال
کی نئازو میں (ثواب کے لحاظ میں) بہاری ہیں۔اور حسن کے پاس بحد پیارے ہیں وہی ہیں-
سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم 0(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پڑھنا واللاالله
تعلی کے پاس بحد محبوپ ہے)-
اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پرکی ہے-
تشہیر کے پڑھنے سے چھور کادرخت جنت میں لگادیا جاتا ہے
It is planted in the trees of Paradise when the call to prayer is abandoned.
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو کوئی سببحان الله العظیم وبحمدہ پڑھے تو اس (کے لے) ہر دفعہ تشہیر
پڑھنے) پر جنت میں ایک چھور کادرخت لگادیا جاتا ہے-
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-
ہرن فرشتن داء دیتا ہے کہ نچ کیا کرو
Every angel brings a command, saying: What should I do?
زیر رضی اللہ علیہ روایت سے کہ وہ فرما تے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما لے جیس کہ: ہر روز جب بندے نچ کرتے پین تو ایک فرشت پین داء دیتا ہے (کہ
اپنے بندگان خدا) تم پلازمہ کرتے پائے شہنشاہ کی پانی اوڑ برگی بیان کیا کرو (لعنی سببحان
الملک القدوس۔ یا: سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح یا سببحان اللہ وبحمده۔
یا: سببحان اللہ العظیم وبحمده یا: سببحان اللہ العظیم وبحمده پڑھا کرو (جبیا کم
مرقات میں نکورہ 12)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ایسے چار کے جواب زکر پر بهاری پین
Every day when a servant drinks water, an angel gives him a drink (saying: 'O servants of Allah, you drink the water of the King of Kings, so what should I recite?') Recite: 'Subhanal-Malik al-Quddus' (Glorified is the Sovereign, the Most Holy), or: 'Subhan Allah wa bihamdihi' (Glorified is Allah and by His praise), or: 'Subhan Allah al-Azim wa bihamdihi' (Glorified is Allah, the Mighty, and by His praise), or: 'Subhan Allah al-Azim wa bihamdihi' (Glorified is Allah, the Mighty, and by His praise) (in each of the seven heavens, 12 times).
ام المؤمنین حضرت جويریہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے کہ پی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس ست نج کے وقت نماز فجر کے لے نکل اوروہ اس وقت پین مصلی پڑتھی
ہوتی تھیں۔ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاشت کے وقت لعنی چڑھے دن واپس تشریف
لاے تو ام المؤمنین اس وقت جیسے مصلی پڑتھی ہوتی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان
سر دریافت فرما کہ: کیا تم اس وقت سے جبکہ میں تم کو چحوڑ کر باہر گیا ہول اب تم اس حالت پر
(زکرا لی میں) پڑتھی ہوتی ہو؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ: بلال یار سول اللہ (پیس کر) حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما لے: میں تہہارے پاس ست جا کر (نماز فجر پڑتھن کے بعد) پچار کے تین
مرتبہ پڑتے ہیں اگران کے ثواب کا مقابلہ تہہارے اس پورے وقت کے ذکر سے کیا جاے (جس
میں تم اتنی درمشغول رہی ہو) تو ضرور ان چار کلمات کا ثواب (تہہارے سارے وقت کے ذکر کے
ثواب سے) بڑہ جاے گاوہ چار کے پیسے: سببحان اللہ وبحمده عدد خلقہ ورضاء
نَفسِه وَزْنة عَرُشِه وَمَدَاد كَلمَاٰتِه۔
میں اللہ تعالی کی پاک اوراس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں اللہ تعالی کی خلقیات کی تعداد کے برابر
اوراس کی مرتبی کے موافق اوراس کے عرش کے وزن کے بربر اوراس کے کلمات کی سیائی کی مقدار
کے بربر اس کی روایت مسلم نے کی ہے
روزانہ سجان اللہ پر صلاۃ کی فضیلت
Juwayriyah (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (ﷺ) left her in the mosque after Fajr prayer, and when he returned after sunrise, she was still sitting. He asked, "Have you been in the same state since I left you?" She said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "After leaving you, I said four phrases three times, which if weighed against what you have said today, would outweigh them: 'SubhanAllahi wa bihamdihi, 'adada khalqihi, wa ridha nafsihi, wa zinata 'arshihi, wa midada kalimatihi' (Glory be to Allah and praise Him, as much as the number of His creation, as much as pleases Him, as much as the weight of His Throne, and as much as the ink of His words)." [Narrated by Muslim]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (اپ دفعہ) نہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے (نہم سے خطاب ہوکر) فرمایا کہ: کیا تم میں کوئی
شخص ہر روز ایک بڑا رنگیا لٹیس کا سلنا؟ پین کر حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ:
کس طرح ایک شخص ایک بڑا رنگیا لٹیس کا سلنا ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (کیول
نہیں) کہ وہ سومرتہ سبھحان اللہ پر صلاۃ تو اس کے (نامہ اعمال) میں ایک بڑا رنگیا لٹیس جا میں
گی یا س کے ایک بڑا رنگیا لٹیس جا میں گے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے -
Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) reported: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when he asked, "Is any of you unable to earn a thousand good deeds every day?" Someone asked, "How can one earn a thousand good deeds?" He replied, "By saying 'SubhanAllah' one hundred times, for which a thousand good deeds are recorded or a thousand sins are erased." [Narrated by Muslim]
اورحمیدی نے اپنی کتاب میں اس طرح روایت کیاہ روزانہ سبُحَانَ اللہ
پر صلاۃ ایک بڑا رنگیا لٹیس جا میں گی اور ایک بڑا رنگیا لٹیس جا میں گے۔
صح اورشام سومرتہ تیرا کلمہ پر صلاۃ کی فضیلت
The prayer on 'Subhan Allah' is a great embellished lattice that will go, and a great embellished lattice that will go. Its virtue is that it is superior to the prayer on 'Subhan Allah' in the morning and evening.
عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (حضرت عمرو
بن العاص رضی اللہ عنہ سے) روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو کوئی سو (100) بار صح اورسو (100) بارشام سبُحَانَ اللہ پر صلاۃ
اس کو سومرتہ تج کرنے والے کے بربر ثواب مل گا اور جو شخص صح سو (100) مرتبہ اورشام
سو(100) مرتبہ الْحَمْدُ لِلَّہِ پر ہے تو اس کواس شخص کے برادر ثواب ملگا جو خدا کی راہ میں سو مجاهدین کو (جہاد فی سبیل اللہ) کے لئے گھوڑے مہیا کرے اور جو شخص مجھ اور شام سوسمرتبہ لااللہ الااللہ پر ہے تو اس کواتنا ثواب ملگا جتنا ثواب حضرت اسامعیل علیہ السلام کی اولاد سے سو (100) غلامول کو (جس کو ظلماً قیدی بنالیا گیا ہو) آزاد کرنے والے کوثواب ملتاہے اور جو شخص سو مرتبہ اور سو(100) مرتبہ شام اللہُ أَکْبَرْ پر ہے تو کوئی شخص قیامت کے روز اس سے بڑا کر ثواب کا حامل نہ ہوگا مگروہ شخص جس نے پیغمبر کے ائیب پر ہے یا اس سے زائد پر ہے ہول اس کی روایت ترتیب کی ہے۔
'Amr ibn Shu'ayb (from his father, from his grandfather) (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever glorifies Allah one hundred times in the morning and evening is like one who performed Hajj one hundred times. Whoever praises Allah one hundred times in the morning and evening is like one who donated one hundred horses in the path of Allah (or fought one hundred battles). Whoever declares Allah's Oneness one hundred times in the morning and evening is like one who freed one hundred slaves from the descendants of Isma'il. And whoever magnifies Allah one hundred times in the morning and evening, no one will come on that day with anything greater than what he has brought, except someone who said the same or more." [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a hasan gharib hadith.]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ان کلمات لااللہ الااللہ وحدہ، لا شریک لہ، لہ المُلک وَلہ الحمد وہو علی کل شیء قدير کودن میں سو(100) مرتبہ پڑھے تو اس کوسو(100) غلامول کو آزاد کرنے کے برادر ثواب ملگا اور (ناماعمال میں) ایک سو(100) نیاں کسی جائے کی اور اس کے سوگناہ مطاوبہ جائیں گے اور اس دن (صبح سے) شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا اور (قیامت کے دن) کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آے گا مگر جو شخص جو ان کلمات کو اس سے زیادہ پڑھے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever says 'La ilaha illa Allahu wahdahu la sharika lahu, lahu al-mulku wa lahu al-hamdu, wa huwa 'ala kulli shay'in Qadeer' (There is no god but Allah alone, without partner, to Him belongs all sovereignty and praise, and He is over all things competent) one hundred times a day, it will be equal to freeing ten slaves, one hundred good deeds will be recorded for him, one hundred sins will be erased, and it will be a protection from Satan that day until evening. No one will bring anything better except someone who did more." [Agreed upon]
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
لا إله إلا الله کی عظمت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: سب سے افضل ذکر لااللہ الااللہ ہے اور بہترین دعا اللحمد للہ ہے۔
اس کی روایت ترجمہ اور اہم لاحظ کیے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The best remembrance is 'La ilaha illa Allah,' and the best supplication is 'Alhamdulillah.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ: اے میرے پروردگار مجھے کوئی ایسی ذکر بتادیجئے جس کے ذریعے میں آپ کو یاد کروں یادعا کروں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے موسیٰ لا إله إلا اللہ کہا کرو تو حضرت موسیٰ نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یتو سارے بندے پڑھا کرتے ہیں مجھ کوئی ایسی چیز بتائیے کہ جو میرے لیے خصوص ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے موسیٰ تم پراس کی اہمیت واضح نہیں ہے یوہ کلمہ ہے کہ) اگر ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی ساری آبادی میں سوا ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں لا إله إلا اللہ کورکھا جائے تو لا إله إلا اللہ کا پلڑا ان کے مقابلے میں بحاری ہو جائے گا اور جہک جائے گا۔ اس کی روایت بلغوی نے شرح السُّنہ میں کیے۔
ایضاً دوسری حدیث
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Musa (Moses) (peace be upon him) said: 'O Lord, teach me something to remember You with or supplicate You.' Allah said: 'Say, "La ilaha illa Allah."' Musa said: 'O Lord, all Your servants say this. I want something special for me.' Allah said: 'O Musa, if the seven heavens and their inhabitants, and the seven earths, were placed on one side of a scale, and "La ilaha illa Allah" on the other, "La ilaha illa Allah" would outweigh them.'" [Narrated by Al-Baghawi in Sharh as-Sunnah]
(1) His statement: "Would outweigh them" – This hadith clearly establishes that "La ilaha illa Allah" is the best remembrance, with no reward greater than its reward. Mirqat al-Mafatih mentions this.
ف: حاشیہ مشکوۃ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرسوال حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو الہام کیا کہ وہ پوچھیں اور رب العزّت اس کا جواب دیں تاکہ اس کلمہ طیبہ کی عظمت اور اہمیت خواص اور عوام سب پر ظاہر ہو اور سب اس کا ورد ہر وقت اور ہر مقام پر رکھا کریں اس لیے کہ اس کا کہنا آسان ہے اور ثواب بہم ہے۔ 12
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: سب حا ن اللہ کا پڑھنا (نامہ اعمال کی) نصف ترازو کو جھڑ دیتا ہے اور
الحمد للہ کا کہنا رہنا بقیر نصف کو جھڑیتاہے اور لا الہ الا اللہ کا کہنا اس کوالد تعالی کے پہو نچا
دیتاہے اور درمیان میں کوئی پردہ حال نہیں رہتا اس سے معلوم ہوا کہ ( کلمہ لا الہ الا اللہ .
سبحان اللہ اور الحمد للہ سے فضل ہے ) جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے 12 ) اس حدیث کی
روایت تزدی ن کی ہے -
ایضاً تیسری حدیث
Abdullah ibn 'Amr (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Tasbeeh (SubhanAllah) is half of the Scale, 'Alhamdulillah' fills it, and 'La ilaha illa Allah' has no barrier between it and Allah until it reaches Him." [Narrated by Tirmidhi]
(2) His statement: "Has no barrier..." – This clearly indicates that "La ilaha illa Allah" is superior to "SubhanAllah" and "Alhamdulillah." Mirqat al-Mafatih mentions this.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : کوئی بندرے مومن خلوص دلتے ( بغیر دکاوے کے ) لا الہ الا اللہ کہتا
ہے تو اس کے ( اس کلمے کے لئے ) اس کے لئے آسان کے دروازے کھول دیتے ہیں - یہاں
تک اس کا کلمہ عرش تک پہو چ جاتا ہے ( جس کو قبول کر لیا جاتا ہے اور اس کی قبولیت ) اس وقت تک
باتی رہتی ہے جب تک کہ وہ کبیرہ گناہوں سے پچار نہتاہے -
اس کی روایت تزدی ن کی ہے -
اللہ تعالی کی زبان سے تعریف بیان کرنے اصل شکر ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whenever a servant sincerely says 'La ilaha illa Allah,' the gates of heaven open for it until it reaches the Throne, as long as he avoids major sins." [Narrated by Tirmidhi]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ ( زبان سے ) اللہ تعالی کی تعریف کرنا شکر خداوندی کی اصل ہے - جس بندرے
نے اللہ تعالی کی تعریف ( زبان سے ) بیان نہیں کی اس نے اللہ تعالی کے شکر ( جلال نے کاش ) ادانہ
کیا - اس کی روایت تزدی ن شعب الایمان میں کی ہے -
حمد اور شکر کا حق
ف : اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حصر ف
زبان سے کی جاتی ہے اور شکر زبان، دل اور تمام اعضاء سے کیا جاتا ہے تو گویا حمد شاخ ہوتی شکر کی -
اوراس حدیث شریف میں حمد و شکر کا سراس لے کہا گیا ہے کہ حمد زبان کا فغل ہے اور زبان سے اللہ کی تعریف خوب بیان کی جاسکتی ہے اور زبان سب اعضاء کی ناطب ہے۔ وہ اعضاء کی ترجمانی کرتی ہے۔ تو گویا حمد یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا مجمل شکر ہوا جو مفصل شکر کا جزء و اعظم ہے اس لے فرمایا گیا کہ جس بندے نے زبان سے اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کو چاہے کر صفائی باطن کے ساتھ ساتھ خاہری کی بھی حفاظت کرے۔ 12
Abdullah ibn 'Amr (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Praise ('Alhamdulillah') is the essence of gratitude. No servant thanks Allah without praising Him." [Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما نے پی کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے (دنیا میں) غم اور خوشی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ہوئی ہو۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The first to be called to Paradise on the Day of Resurrection are those who praised Allah in ease and hardship." [Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
یعنی ہر موقع میں (الحمد للہ کہہ رہے ہوں)۔ اس حدیث کی روایت نہیں نے شعب الایمان میں کی ہے۔ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ جنت کا ایک خزانہ ہے
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) سفر کر رہے تھے (راستے میں) چند اصحاب نے بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنا شروع کیا پیس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: لوگو! اپنی جانوں پر نظر کرو (اور آہستہ آہستہ ذکر کرو)۔ اس لے کہ تم جس ذات عالی کو پکار رہے ہو وہ نتو کم سنے والا ہے اور نہ تم سے غائب ہے بلکہ تم جس تہتی کو پکار رہے ہو وہ تو سمعیع و بصیر خوب سنے والا اور خوب دیکھتا ہے اور وہ بر وقت تمہارے ساتھ ہے (جبیا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور جس کو تم پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تم سے زیادہ قریب ہے (یعنی تمہاری شہرگ سے بھی
زیادہ قریب ہے) حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے چھوٹے سواری پر چلا اور اپنے دل میں لا حول و لا قوۃ الا باللہ پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مجھ سے خطاب ہوئے اور فرمایا: اے عبد اللہ ابن قیس (یعنی حضرت ابوموسی اشعری کا نام ہے)
کیا میں تم کو ایسا خزاں نہ بتاون جو جنت کے خزاںول میں سے ایک ہے؟ میں نے عرض کیا: یارسول
اللہ ضرور بتائیے آپ بھی فرمایا (سنوا) وہ کلمہ لا حول و لا قوۃ الا باللہ
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported: We were traveling with the Messenger of Allah (ﷺ), and people began raising their voices in Takbeer (Allahu Akbar). The Messenger of Allah (ﷺ) said, "O people, be gentle with yourselves. You are not calling someone deaf or absent. You are calling the All-Hearing, the All-Seeing, Who is closer to you than the neck of your mount." Abu Musa said, "I was saying to myself: 'La hawla wa la quwwata illa billah' (There is no power nor strength except with Allah)." The Prophet (ﷺ) said to me, "O Abdullah ibn Qays, shall I guide you to a treasure from the treasures of Paradise?" I said, "Yes, O Messenger of Allah!" He said, "Say: 'La hawla wa la quwwata illa billah.'" [Agreed upon]
(1) His statement: "Raising their voices..." – This clarifies the ruling on loud and quiet remembrance of Allah.
کچول رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ
فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لا حول و لا قوۃ الا باللہ
کہتے ہو پڑھا کرواس لیے کہ پی جنت کا خزاں ہے کچول فرماتے ہیں کہ جو شخص لا حول و لا قوۃ
اًلا باللہ و لا منجاً من اللہ اًلا الیہ۔
(برایہول سے نچنگ کی) طاقت (اور نیپیون کے کرنے کی) قوت اللہ تعالی کی تو فیق سے ہی
ممکن ہے اور اللہ تعالی کے سوا کوئی اور جگہ پناہ کی نہیں ہے) پڑھ تو اللہ تعالی اس کی تکفیف اور
مصیبت کے 70 دروازے بند کر دیتے ہیں اور افلاس اور تندیس سے مصیبت نول میں سے ایک معمولی
ہے۔ (کس کا پڑھنے والا اس جیسی مصیبت نول سے محفوظ رہتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت تز نہیں کی ہے۔
Mak'hool narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Increase in saying: 'La hawla wa la quwwata illa billah,' for it is a treasure from the treasures of Paradise." Mak'hool added: "Whoever says: 'La hawla wa la quwwata illa billah, wa la manja'a min Allah illa ilayh' (There is no power nor strength except with Allah, and there is no refuge from Allah except to Him), seventy doors of hardship will be lifted from him, the least of which is poverty." [Narrated by Tirmidhi]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کیا میں تم کو ایسا کلمہ نہ بتاون جوعش کے پیچے (اترا) ہے اور
جنت کا ایک خزانہ ہے (اور وہ کلمہ ) لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ ہے۔ جس وقت بندہ یہ کہتا ہے تو
اس ( کے جواب میں ) اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ : میرے بندے نے میری اطاعت کی اور اپنے تمام
کام میرے سپرد کر دیے۔ اس کی روایت سمیعی نے دعوات کے میں کی ہے۔
لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ نناوے پہاریول کی دوائے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Shall I guide you to a phrase from beneath the Throne, a treasure of Paradise? 'La hawla wa la quwwata illa billah.' Allah the Exalted says: 'My servant has submitted and surrendered.'" [Narrated by Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]
ابوبهریہ رضی اللہ علیہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ (ظاہری اور باطنی ) نناوے (99) پہار پول کی
دوائے۔ ان میں سے ایک معمولی پہاری ( دین اور دنیا کا ) رنگ و نم ہے جس سے اس کا پڑھنے والا
نچات پا تا ہے۔
اس حدیث کی روایت سمیعی نے دعوات کے میں کی ہے۔
ف : صدر کی حدیثوں میں ارشاد ہے کہ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ جنت کا ایک خزانہ ہے۔
اس بارے میں صحاب مرقات نے کہا ہے کہ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللہ پڑھنے والا اس دن کا نفع
اٹھاوے گا کہ جس دن نمال نفع دے گا اور ناولاد اور حضرت محمد کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس
کے پڑھنے والے کے لے مصائب کے ستر (70) دروازے بندر دے جاتے ہیں جس میں کا ایک
معمولی دروازہ فقر ہے۔ اس بارے میں صحاب مرقات نے کہا ہے کہ اس سے مراد ول کا فقر ہے کہ
جب دولت فقر دور ہوجاتا ہے تو اصل غنا حاصل ہوجاتا ہے جو حاجات سے انسان کو بے نیاز کرتا
ہے اور اگر ظاہری فقر کو بھی اس سے مراد لیا جائے تو کوئی بات بعید نہیں کہ اس کی برکت سے اللہ تعالی
حاجت روايتی محی فرمادیتے ہیں۔12
کلمہ تمجید پڑھنے کی فضیلت
Mak'hool narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Increase in saying: 'La hawla wa la quwwata illa billah,' for it is a treasure from the treasures of Paradise." Mak'hool added: "Whoever says: 'La hawla wa la quwwata illa billah, wa la manja'a min Allah illa ilayh' (There is no power nor strength except with Allah, and there is no refuge from Allah except to Him), seventy doors of hardship will be lifted from him, the least of which is poverty." [Narrated by Tirmidhi]
ابوسعید اور ابوبهریہ رضی اللہ علیہما روایت سے وہ دونوں فرما تے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ : جو شخص لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر کہتا ہے تو
اللہ تعالی اپنے اس بندے کے (قول کی) تصدیق میں یوں ارشاد فرما تے جین کہ لا الہ الا اللہ و حدا لا شریک لہ کہتا ہے تو اللہ تعالی اس کی تصدیق فرماتے جین اور جب بنده لا الہ الا اللہ و حدا لا شریک لہ کہتا ہے تو اللہ تعالی اس تصدیق میں یوں فرماتے جین کہ: لا الہ الا اللہ و آنا و حدی لا شریک لی - میرے سوا کوئی معبوذ نہیں - میں کیا ہول اور میرا کوئی شریک نہیں اور جب بنده لا الہ الا اللہ لہ الملک و لہ الحمد کہتا ہے تو اللہ تعالی اس کی تصدیق میں یوں فرماتے جین: لا الہ الا آنا، لی الملک، ولی الحمد میرے سوا کوئی معبوذ نہیں باشہبت میرے، می لے ہے اور ہر شخص کی تعریف کہی میرے، می لے ہے اور جب بنده لا الہ الا اللہ و لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہتا ہے تو اللہ تعالی اس کی تصدیق میں فرماتے جین لا الہ الا آنا و لا حول ولا قوۃ الا بنی میرے سوا کوئی معبوذ نہیں اور برائیوں سے نجتن کی قوت اور نیکیوں کے کرنے کی طاقت )۔ میری تو فیق ممکن نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے ارشاد فرما جین کہ جو ان کلمات جین لا الہ الا اللہ و اللہ أكبر، لا الہ الا اللہ و حدا لا شریک لہ، لا الہ الا اللہ لہ الملک و لہ الحمد، لا الہ الا اللہ، و لا حول ولا قوۃ الا باللہ کے و رٹے اپنی پیاری میں اور پھر انتقال کر جائے تو ان کلمات کی برکت سے آگے اس کونہ چھوئے گی ( جین دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہے گا) اس کی روایت تزدی اور ابن مجبر نے کی ہے -
البذا وسری حدیث
Abu Sa'id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever says: 'La ilaha illa Allah, wa Allahu Akbar' (There is no god but Allah, and Allah is the Greatest), his Lord affirms him, saying: 'There is no god but Me, and I am the Greatest.' When he says: 'La ilaha illa Allahu wahdahu la sharika lahu' (There is no god but Allah alone, without partner), Allah says: 'There is no god but Me alone, without partner.' When he says: 'La ilaha illa Allah, lahu al-mulku wa lahu al-hamd' (There is no god but Allah, to Him belongs all sovereignty and praise), Allah says: 'There is no god but Me, to Me belongs all sovereignty and praise.' When he says: 'La ilaha illa Allah, wa la hawla wa la quwwata illa billah' (There is no god but Allah, and there is no power nor strength except with Allah), Allah says: 'There is no god but Me, and there is no power nor strength except with Me.'" He also said, "Whoever says this during illness and then dies, the Fire will not touch him." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے جین کہ سبحان اللہ ہما تمام مخلوقات کی عبادت ہے (جب تی ساری مخلوقات اس کلمہ کے ذریعہ اللہ تعالی کی پاکی بیان کرتی ہے) اور الحمد للہ کہنا شکر کا کلمہ ہے اور لا الہ الا اللہ کہنا اخلاص (جین دوزخ سے نجات کا کلمہ ہے) اور اللہ اکبر کا کہنا (انتہائی اب رکتا ہے کہ) زیں اورآ سمان کے درمیان جو پھڑے ہے اس کو جھردیتا
بھاورجببندهمومنلاحولولا قوۃ الا باللہ کہتاہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: میرابندہ
فرمانبردار ہوااورخودکومیرے حوالہ کردیا۔
اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
ایک دعا کی تعلیم
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "'SubhanAllah' is the prayer of creation, 'Alhamdulillah' is the phrase of gratitude, 'La ilaha illa Allah' is the phrase of sincerity, and 'Allahu Akbar' fills what is between the heavens and the earth. When a servant says: 'La hawla wa la quwwata illa billah,' Allah says: 'He has submitted and surrendered.'" [Narrated by Razin]
سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر ہوااورعرض کیا کہ: مجھ کو تیسیا ذکر بتادتے ہیں جس کو میں وظیفہ کے طور پر پڑھتارہون تو آپ نے ان کو بی کلمات تعلیم فرمائیا : لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔ اللہ أکبر کبیرا، والحمد للہ كثيرا، وسبحان اللہ رب العالمين، لا حول ولا قوة الا باللہ العزیز الحکیم، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ کلمات تو میرے رب کی ثناء کے لے ہیں - (اس کو تو میں پڑھتارہون گا) اب میرے لئے کوئی دعا بتلا ئیے جس کو میں پڑھوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعا تعلیم فرمائی اللہم اغفر لی وارحم نی واهد نی وارزق نی وعاف نی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ایک جامع تشیح کی تعلیم
Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) reported: A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, "Teach me some words to say." The Prophet (ﷺ) said, "Say: 'La ilaha illa Allahu wahdahu la sharika lahu, Allahu Akbaru kabeera, walhamdulillahi katheera, subhanAllahi Rabbil-'alameen, la hawla wa la quwwata illa billahil-'Azeezil-Hakeem' (There is no god but Allah alone, without partner, Allah is the Greatest, all praise is due to Allah abundantly, glory be to Allah, Lord of the worlds, there is no power nor strength except with Allah, the Almighty, the Wise)." The Bedouin asked, "These are for my Lord, but what is for me?" The Prophet (ﷺ) said, "Say: 'Allahumma-ghfir li warhamni wahdini warzuqni' (O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, and provide for me)." [Narrated by Muslim]
سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کروہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک صحابی کے پاس گئے (جو ان کی قرابت دار تھین ) جواس وقت اپنے ساتھ گھٹیالیاں یا کلریال رک کرتے پڑھ رہے تھے۔ لیجن ان سے کتنی کرتے تھے پیدا کی کران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو تشیح پڑھنا کا ایساطریقہ بتا ہوں جو آسان جس سے اور فضل بھی (تم اس طرح پڑھا کرو): سبحان اللہ عدد ما خلق فی السماء۔ و سبحان اللہ عدد ما خلق فی الارض۔ و سبحان اللہ عدد ما بین ذلك۔ و سبحان
اللّٰہ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقُ
میں اللہ تعالیٰ کی پاک بیان کرتی ہون مخلوقات سماوی کی تعداد کے برابر۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاک
بیان کرتی ہون مخلوقات ارضی کی تعداد کے برابر۔ میں اللہ تعالیٰ کی پاک بیان کرتی ہون مخلوقات
آسمان اور زمین کی درمیانی مخلوق کی تعداد کے برابر میں اللہ تعالیٰ کی پاک بیان کرتی ہون۔ ان
مخلوقات کی تعداد کے برابر جو ابدتک پیدا کی جائے والی ہیں۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا کہ "اللّٰہ أكبر"، کو کسی اس طرح پڑھاجائے
لیعن: اللّٰہ أكبر عَدَدَ مَا خَلق فی السَّماءِ۔ وَاللّٰہ أكبر عَدَدَ مَا خَلق فی الْأَرضِ۔ وَاللّٰہ
أکبر عَدَدَ مَا بَینَ ذلِکَ۔ وَاللّٰہ أكبر عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقُ اور چھر الْحَمدُ للہ کو کسی اس طرح
پڑھاجائے لیعن: الْحَمدُ لله عَدَدَ مَا خَلق فی السَّماءِ۔ وَالْحَمدُ لله عَدَدَ مَا خَلق فی
الْأَرضِ۔ وَالْحَمدُ لله عَدَدَ مَا بَینَ ذلِکَ۔ وَالْحَمدُ للہ لا الہ
الا اللہ کو کسی اس طرح پڑھاجائے لیعن: لا إله إلا اللہ عَدَدَ مَا خَلق فی السَّماءِ، وَلا الہ
الا اللہ عَدَدَ مَا فی خَلق فی الْأَرضِ۔ وَلا الہ الا اللہ عَدَدَ مَا بَینَ ذلِکَ۔ وَلا الہ الا
اللہ عَدَدَ مَا هوَ خَالِقُ اور چھر وَلا حَولَ وَلا قُوَّةَ الا باللہ کو کسی اس طرح پڑھاجائے لیعن وَلا
حَولَ وَلا قُوَّةَ الا باللہ عَدَدَ ماخَلق فی السَّماءِ۔ وَلا حَولَ وَلا قُوَّةَ الا باللہ عَدَدَ ما
خَلق فی الْأَرضِ۔ وَلا حَولَ وَلا قُوَّةَ الا باللہ عَدَدَ مَا بَینَ ذلِکَ۔ وَلا حَولَ وَلا قُوَّة
الا باللہ عَدَدَ مَا هوَ خَالِقُ۔ اس حدیث کی روایت ترنڈی اور ابوداود نے کی ہے۔
تسبیحات سے غفلت کی وعید
We went to visit a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, who was his relative, and at that time he was reading some verses or chapters while holding a small board. The Messenger of Allah ﷺ said to him: 'I will teach you a way to recite tasbih that is easy and also has great reward (if you recite it this way): Subhan Allāh equal to the number of what He has created in the heavens; Subhan Allāh equal to the number of what He has created on the earth; Subhan Allāh equal to the number of what is between them; Subhan Allāh equal to the number of all that He creates until the end of time. And the Messenger of Allah ﷺ also instructed that 'Allāhu Akbar' should be recited in this manner: Allāhu Akbar equal to the number of what He has created in the heavens; Allāhu Akbar equal to the number of what He has created on the earth; Allāhu Akbar equal to the number of what is between them; Allāhu Akbar equal to the number of all that He creates until the end of time. And 'Al-ḥamdulillah' should be recited in this manner: Al-ḥamdulillah equal to the number of what He has created in the heavens; Al-ḥamdulillah equal to the number of what He has created on the earth; Al-ḥamdulillah equal to the number of what is between them; Al-ḥamdulillah equal to the number of all that He creates until the end of time. And 'Lā ilāha illa Allāh' should be recited in this manner: Lā ilāha illa Allāh equal to the number of what He has created in the heavens; Lā ilāha illa Allāh equal to the number of what He has created on the earth; Lā ilāha illa Allāh equal to the number of what is between them; Lā ilāha illa Allāh equal to the number of all that He creates until the end of time. And 'Lā ḥawla wala quwwata illa billāh' should be recited in this manner: Lā ḥawla wala quwwata illa billāh equal to the number of what He has created in the heavens; Lā ḥawla wala quwwata illa billāh equal to the number of what He has created on the earth; Lā ḥawla wala quwwata illa billāh equal to the number of what is between them; Lā ḥawla wala quwwata illa billāh equal to the number of all that He creates until the end of time. This hadith has been narrated by Tirmidhi and Abu Dāwud.
بسیرۃ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جومہا جصحابیات سے میں تحسین وہ فرمانی
ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی ایک جماعت کو خطاب کر کے فرمایا کہ: تم تسبیح
لیعنی سُبْحانَ اللہ پر حض کو تحلیل لیعنی لا الہ الا اللہ پر حض کو تقدیس لیعنی سُبْحانَ الْمَلِکِ
الْقُدُوس پر حض کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ اور انگیون کے پورول پران کوشمار کیا کرو کیونکہ (اوراعضاء
کی طرح) انگیون سے بھی قیامت میں سوال ہوگا اور ان سے گواہی لی جائے گی اور (پیجواب دین
گی)۔ اس لئے تم (ازکاراو راوراد کے پڑھنے میں) غفلت نہ برلو۔ ورنہ رحمت خداوندی تم سے دور
کر دی جائے گی۔ (اورتم محروم ہوجاؤ گی)۔
اس کی روايت تنزي اور ابوداود نے کی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ addressed a group of women and said: 'Engage in the recitation of Subhan Allah (Glory be to Allah), La ilaha illa Allah (There is no deity but Allah), and Subhan al-Malik al-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy). Make these recitations obligatory upon yourselves. And take care of your fingers, for they will be questioned and give testimony on the Day of Resurrection, just as other limbs will. Therefore, do not neglect the recitation of these invocations and the performance of these acts. Otherwise, the mercy of Allah will be taken away from you, and you will be deprived.' This is narrated by Tirmidhi and Abu Dawud.
ف: نذکورہ بالاصدر کی دو حدیثوں میں ایک میں تسپیحات کوشمار کرنے کے لیے کہا گیا اور
گنجیلون کا ذکر نہیں آیا۔ اور دوسرا حدیث میں انگیون کے پورول پرتسبیحات کوشمار کرنے کا ارشاد ہے۔
اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ: ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تشیح کہنا
جانزہ خواہ تشیح کے دانے کسی ذوری میں مسلک ہونے یا عکس ہو کر ہو لے اس وجہ سے جو لوگ تشیح
رکھنے کو بدعت قرار دے دیتے ہیں ان کی یہ باط نذکورہ حدیثوں کی روشنی میں قابل اعتبار نہیں چنانچہ
علماء کرام اور مشاہیر عظام نے تشیح کو شیطان کے لیے کوز اقرار دیا ہے۔
اس وجہ سے درختار میں کجاہے کہ اغریاء کاری کا شانہہ نہوتو اس کے استعمال میں کوئی
مضاضہ نہیں ہے۔ اور حرراق میں بھی ایسا نذکورہ ہے۔
مرقات میں پیغی نذکورہ کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ذووری تشیح جس میں
بہت ساری گرہیں پڑی ہوئی تشیح جس سے تسپیحات کے شارکا کاملیا کرتے تھے۔ اس سے تشیح رکھنے
کا جواز اور استحباب ثابت ہوتا ہے۔ 12