پیابہ روزول کے بیان میں
وقول الله عز وجل وما تقدموا لنفسكم من خير تجدوه عند الله هو خيرا واعظم اجرا اور الدعايي كا ارشاد سور مزمل ايت نمبر مي اور جونيك كام ك ا ني بجلاتي ك واسط اخرت كا ذخير بنان ا ن ج دو اس كوالل ك اس و ن كراس س بد ر ج ا ب تر اور ثواب مي ب ا اجر اي حضرت صلي الل علي وال وسلم ماه شعبان مي كثرت س روز رك ا كرت ت
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنها سے روايت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم (کچھ نفل) روزے متوانتر کے جل جاتے تھے یہاں تک کہ تم کہتے
تھے کہ آپ اب (نفل) روزے نہیں چھوڑیں گے، اور ای طرح (کچھ نفل) روزے چھوڑ دیتے
تھے تو تم کہتے تھے کہ اب رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نفل روزے نہیں رکھیں گے (کچھ نفل
روزے رکھنے کی حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص عادت مبارک نہ تھی) اور (حضرت عائشہ رضی
الله عنها وآلہ وسلم کے پورے پہیں
کچھ فرماتی ہیں کہ) میں نے کچھ نہیں دیکھا کہ آپ کی ماه میں بھر رمضان المبارك کے پورے پہیں
کے روزے رکھنے کے بعد، بلال ماه رمضان میں پورے روزے رکھا کرتے تھے اور میں حضرت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ماه شعبان میں جس قدر زا ڈروزے رکھتے دیکھتی کسی اور میں میں اتنے روزے
رکھنے نہیں دیکھتی -
·
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul, a servant does not believe until he loves for his brother what he loves for himself.” [Agreed Upon]
اور ایک اور روايت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنها وآلہ
وسلم ماه شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے، سواے چند دنوں کے -
اس کی روايت بخاری اور مسلم میں متقدم طور پر ہے -
المومنول کا بیان جن میں نفل روزے رکھنا مستحب ہے
ف : اس حديث شريف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآلہ وسلم ماه شعبان کے
پورے روزے رکھا کرے تو خیر اس بارے میں فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شعبان کے
پورے روزے رکھ کر یا ماہ رمضان کے روزولے ان کا اتصال کردے تو بہتر ہے، جتنے روزولے
تزغیب دی گئی ہے ان کی فہمیس یہ ہے:
(1) ماہ حرم میں روزے رکھنا (2) ماہ رجب میں روزے رکھنا (3) ماہ شعبان میں روزے رکھنا
(4) اور یوم عاشوراء کی وسوی حرم کا روزہ۔ لیکن مسنون یہ ہے کہ وسوی حرم کے ساتحفوی حرم کو بھی
روزہ رکھ لیا جائے۔ پر فتاوی عالمگیری میں فتح القدیراور ظہری کے حوالے سے لکھا ہے۔
اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ حضرت امام رضی اللہ عنہ نے حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کر آپ شعبان میں جس قدر زیادہ روزے رکھتے ہیں اتنے کی اور
مہیں میں نہیں رکھتے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کہ مہ شعبان میں بندرولے کے
اعمال اللہ تعالی کے پاس بیش کے جاتے ہیں، اس لے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حالت میں
اللہ تعالی کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔12
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برہمہینہ میں پچھنے پچھلے روزے رکھا کرتے تھے
عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ نے روایت کہ وہ فرما تے ہیں کہ میں نے ام المومنین
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) would fast so much that we would say, ‘He does not break his fast,’ and he would break his fast so much that we would say, ‘He does not fast.’ I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) complete a month of fasting except Ramadan, and I never saw him fast more in any month than in Sha’ban. He would fast all of Sha’ban (1) except a little.” [Agreed upon]
(1) The statement: “He would fast all of Sha’ban.” In Fath al-Qadir, it is said: “Fasting all of Sha’ban and connecting it to Ramadan is good.” The recommended types of fasting are: fasting in Muharram, fasting in Rajab, fasting in Sha’ban, and fasting on the day of Ashura (the 10th of Muharram), according to the majority of scholars and the Companions. This is mentioned in Al-Zahiriyyah and Al-Alamkiriyyah. If someone asks, “Why did the Prophet (ﷺ) specifically fast more in Sha’ban?” The answer is: Because the deeds of people are raised to Allah in Sha’ban. In Al-Nasa’i, it is narrated from Usamah that he said: “O Messenger of Allah, I notice that you fast more in Sha’ban than in any other month.” The Prophet (ﷺ) said: “That is a month in which deeds are raised to the Lord of the worlds, and I love for my deeds to be raised while I am fasting.” This is mentioned by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اے ام المومنین کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (رمضان کے سوا) کسی اور مہینے میں پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے؟ تو (پیس کر) ام
المومنین نے فرما کہ: میں نہیں جانتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے سوا کسی اور مہینے میں
پورے دنوں کے روزے رکھے ہوں لیکن کوئی مہینہ ایسا نہیں ہوتا جس میں آپ بالکل روزے نہ
رکھتے ہوں (لیکن برہمہینہ میں پچھنے پچھلے روزے رکھا کرتے تھے) اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
آخری عمر تک یہی حال رہا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ماہ حرم میں نفل روزے رکھنا فضل ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
Abdullah ibn Shaqiq reported: “I asked Aisha (may Allah be pleased with her), ‘Did the Prophet (ﷺ) fast an entire month?’ She said, ‘I do not know of him fasting an entire month except Ramadan, nor did he break his fast entirely until he would fast some of it, and this continued until he passed away.’” [Narrated by Muslim]
The hadith about the crescent moon has been mentioned in the chapter on sighting the crescent.
وآلہ وسلم ارشاد فرما کہ جب کہ رمضان کے (روزولے کے بعد) جتنے روزولے کی برہی فضیلت ہے وہ مہ
حرم الحرام کے روزے میں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نمازولے کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ
رات کی نماز کی تجدہ۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد کے فرض نمازولے کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ
رات کی نماز کی تجدہ ہے، اس بارے میں "جوہرہ اور نورالایضاح" میں لکھا ہے کہ دان کی نفل
نمازول سے تجہد فضل ہے، اس لئے کئی آیات اور احادیث میں تجہد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
وارد ہے جسیا کہ "تج" میں ذکور ہے - رواختا ریم بھی ایاہی نذور ہے
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best fasting after Ramadan is fasting in the month of Allah, Muharram, and the best prayer after the obligatory prayers is the night prayer.” (2) [Narrated by Muslim]
(2) The statement: “The night prayer.” I say: It is better than the daytime prayer, as mentioned in Al-Jawharah and Nur al-Idah. The Qur’an and hadiths clearly emphasize its virtue and encourage it. In Al-Bahr, it is said: “Among them is what is in Sahih Muslim, where it is narrated: ‘The best prayer after the obligatory prayers is the night prayer.’” This is mentioned in Rad al-Muhtar.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورا کے سوا کسی اور دن کو فضل جائے ہوگے اس میں روزہ
رکھا ہو، اور اس مہینہ میں رمضان کے علاوہ (کسی اور مہینے کو فضل جائے ہوگے) اس میں روزے
رکھے ہوں - (اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے) -
ف: شخ ابن امام نے فرمايہ کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے گر شرط یہ ہے کہ اس کو
واجب نہ قرار دیا جائے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمايہ کہ ابتداء اسلام میں جب رمضان کے
روزے فرض نہیں ہوئے تھے یوم عاشوراء کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو
عاشوراء کا روزہ مستحب ہوگیا - مرقات اور عمدۃ القاری
دوسری حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: “I never saw the Prophet (ﷺ) prioritize fasting any day over others except the day of Ashura (1) and the month of Ramadan.” [Agreed upon]
(1) The statement: “The day of Ashura.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Ashura is recommended, as long as it is not mistaken for an obligation.” This is mentioned in Al-Mirqat. There is a difference of opinion regarding its ruling in early Islam. Abu Hanifah said: “It was obligatory, but when the fasting of Ramadan was prescribed, it became recommended.” This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
مہینہ منورہ تشریف لاے تو آپ نے عاشوراء کے دن یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، آپ نے
ان سے دریافت کیا کہ (تمہارے نزدیک یہ) کیسا ہے۔ جس میں تم روزہ رکھتے ہو تو یہودیوں نے
جواب دیا کہ (ہمارے پاس) یہ براعظمت والا دن ہے، اسی روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ
السلام اور ان کی قوم کونجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
بطور شکر انہ کے روزہ رکھتا تھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں (یعنی کہ) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر ہم تم سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ بدرجہ اولی حضرت موسیٰ
علیہ السلام کی اتباع کریں - پس آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس
دان روزہ رکھنا حکم دیا - اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -
عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے
Observing the fast of Ashura is recommended.
جابر بن سمرة رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے کویوم عاشوراء کا روزہ رکھنا کا حکم دیتا اوراس کی ترغیب والاتے اور (عاشوراء کا دن قریب آجاتے پر) ہماری خبرگیری فرماتے (کہ ہم اس کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں)۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ نے نتوہتم کو (عاشوراء کا روزہ رکھنا کا) حکم دیا اور اس سے منع فرمااور اس کے بارے میں ہماری خبرگیری فرماتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ یوم عاشوراء کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی روزہ رکھنا مستحب ہے۔
He ﷺ would command the observance of the fast of Ashura and encourage it, and when the day of Ashura approached, He would inform us (whether we were observing it or not). Then, when the fasts of Ramadan became obligatory, He commanded Nutoohim to observe the fast of Ashura and prohibited him from it, and He would inform us about it. This is narrated by Muslim. It is recommended to fast the day before or the day after Ashura along with the day of Ashura.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نے کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ) عاشوراء کا روزہ رکھواور عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ رکھی رکھواور (صرف عاشوراء کا روزہ رکھ کر) یہود سے مشابہت پیدا نہ کرو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
عرفے کے دن حا جی اور غیر حا جی کے روزہ رکھنا کا حکم
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said about fasting the day of Ashura: “Fast it, and fast a day before it (2) or a day after it, and do not resemble the Jews.” [Narrated by Al-Tahawi]
(2) The statement: “Fast a day before it...” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting the day of Ashura is recommended, and it is recommended to fast a day before it or a day after it. If one fasts it alone, it is disliked due to resembling the Jews.” Ahmad narrated: “Fast the day of Ashura, differ from the Jews, and fast a day before it and a day after it.” The apparent meaning is that “and” means “or,” as indicated by this hadith, because differing from the Jews is achieved by either. Al-Shafi’i took the apparent meaning of Ahmad’s narration, so they combine all three. This is taken from Al-Mirqat.
ف: ثق ابن الهما م نے کہا ہے کہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور پیغی مستحب ہے کر عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی روزہ رکھنا جائے اور اگر صرف عاشوراء کا روزہ رکھا تو یہود کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے حدیث صدر کواس طرح روایت کیا ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھواور یہود کی مخالفت (اس طرح) کر وکر عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی روزہ رکھو۔ (پیمرقات سے ماخوذ ہے۔)12
ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے (جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) روایت ہے کہ ان کے پاس (عرفات کے میدان میں) چند آدمیوں نے عرفے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزہ دار ہونے سے متتعلق اختلاف کیا کسی نے کہا کہ حضور علیہ روزہ دار ہیں، اور کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ دار نہیں ہیں (پیس کر) میں نے ایک پیالہ دودھ حضور علیہ کی خدمت میں روانہ کیا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات میں اپنے اونٹ پر شریف فرامتے، پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہیں دودھ پی لیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ ف: ثق ابن الهما م رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا اس شخص کے لیے مستحب ہے
جوڑے کی حالت میں نہواور جو خصوص رج کی حالت میں ہو، اورروزہ رکھنے کی وجوہات اس کو کروری لاحق
ہوتی ہواور وقف عرف اوراس دون کی دعاوں میں اس کو کاونٹ ہوتا ایسے شخص کے لئے مستحب ہے
ہے کہ وہ عرف کے دون روزہ نذر کے، اور بعضوں نے کہاہے کہ ج کرنے والے کے لئے عرف کے دون کا
روزہ رکھنا کرورہے لیکن پیکراہبت تنزہیہے کیونکہ روزہ رکھنے کی وجہتوہ اس دون کی اتمترین
چیز دعاوں وغیرہ سے عاجز رہ جاتاہے اوراس دون دعاوں میں مشغول رہنااہتمترین چیز ہے۔
(یہ مرقات میں نذورہ ہے۔)12
حاجی کے لئے یوم عرفہ میں روزہ رکھنے کی ممانعت
Umm Al-Fadl bint Al-Harith (may Allah be pleased with her) narrated: “Some people argued in her presence on the day of Arafah about whether the Messenger of Allah (ﷺ) was fasting. Some said he was fasting, and others said he was not. She sent him a cup of milk while he was standing on his camel, and he drank it.” (1) [Agreed upon]
(1) The statement: “He drank it.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Arafah is recommended for non-pilgrims. For pilgrims, if fasting weakens them from standing and supplicating, it is recommended to break the fast. Some say it is disliked, but this is a dislike of a less preferred action (karahah tanzih), as it may detract from more important acts at that time.” This is mentioned in Al-Mirqat.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ت روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے (حاجیوں کے لئے) عرفات کے میدان میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے منع فرمایا ہے۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ان دونوں کا بیان جتن میں نقل روزے رکھنا مستحب ہے
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on the day of Arafah at Arafah. [Narrated by Abu Dawud]
امام موثقین سیرت ناخفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ چار
چیزیں ایسی ہیں جتن کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے: (1) یوم عاشوراء کی نماز
محرم کا روزہ رکھنا (2) ذو الحجج کے پہلے دن (کے نو) روزہ رکھنا - (3) برہمینہ (ایام بیض لیعنی
پلا لی مہینے کی (13،14،15 اور ) کے تینوں دنوں میں (روزہ رکھنا) اور نماز کے پہلے دو رکعت
(سنہ) کا پڑھنا۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
ف: فتاوی عالمگیری میں السراج الوبانج کے حوالے سے ذکور ہے کہ ذو الحجج کی پہلی تاریخ سے
لے کرنوی تاریخ تک نو (9) روزہ رکھنا مستحب ہے۔
دومسری حدیث
Hafsah (may Allah be pleased with her) narrated: “There were four practices the Prophet (ﷺ) never abandoned: fasting on Ashura, fasting the first ten days of Dhul-Hijjah, (2) fasting three days every month, and praying two rak’ahs before Fajr.” [Narrated by Al-Nasa’i]
(2) The statement: “The first ten days.” In Al-Alamkiriyyah, it is said: “It is recommended to fast the first nine days of Dhul-Hijjah.” This is mentioned in Al-Siraj al-Wahaj.
بعض امہات المومنین رضی اللہ عنهن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ماه ذو الحجج کے نو (9) روزہ (لیعنی پہلے سے نویں) رکھا کرتے تھے اور یوم عاشوراء کا روزہ
اورہرماہ میں تین روزہ رکھا کرتے تھے جن میں پہلا روزہ روشنبہ کا ہوتا اور دو روزہ پچشنبہ کے
ہوتے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اورابوداود نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔
ف: روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وشنہ اور پچشنبہ کا روزہ رکنا مستحب ہے اور نسائی کی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وشنہ اور پچشنبہ کے روزوں کی تفصیل اس طرح ذکور ہے کر وشنہ کے روزے سے مراد پلا ماہ کا نو چندي وشنہ پہلا وشنہ بے اور پچشنبہ کے دوروزوں سے مرادنو چندي وشنہ بے کے بعد والا پہلا اور دوسرا پچشنبہ ہے۔ اور نسائی کی ایک اور روایت میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وشنہ اور پچشنبہ روزوں کی تفصیل اس طرح ذکور ہے کر پچشنبہ کے روزے سے مراد پلا ماہ کا پہلا پچشنبہ ہے اور دوشنبہ کے روزوں سے مراد پہلے پچشنبہ کے بعد والا پہلا اور دوسرا وشنہ بے ہے۔ علامہ سندي نے لکھا ہے: مہیذ کے تین روزے چیراورجمعرات اور اس طرح رکے جا سکیں کر جاہے ایک چیراوردوجمعرات ہول یا ایک جمعرات اور دو چیرآ جا میں۔12 ان تقل روزوں کا بیان جن سے سال بھر کے روزے رکن کا ثواب ملتا ہے اور ان کے پچھلے گناہ معاف ہوتے ہیں
Some of the wives of the Prophet (ﷺ) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to fast nine days of Dhul-Hijjah, the day of Ashura, and three days of every month, specifically Monday and Thursday. (3) [Narrated by Nasa’i] Abu Dawud narrated something similar.
(3) The statement: "Monday..." In Rad al-Muhtar, it is said: "Among the recommended acts is fasting on Mondays and Thursdays."
"رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، نَعُوْدُ بِاللّٰهِ مِنْ غَضَبِ اللّٰهِ وَغَضَبِ رَسُوْلِهِ"
وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سوال کیا کر آپ کس طرح روزہ رکتے ہیں؟ اس شخص کے طرح سوال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا ( کیونکہ اس کوسوالا اس طرح کرنا چاہتا ہے تھا کہ میں روزہ کس طرح رکھوں۔ نہ پیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح روزہ رکتے ہیں، اس لیے کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اعمال، اسرار اور مصالح پر مشتمل ہیں جن کی امت میں تاب نہیں ) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو پی کہنا شروع کیا:
تهم اس بات سے راضی ہیں کہ اللہ تعالیٰ پروردگار ہے۔ اور اس بات سے کہی راضی ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اور راضی ہیں اس بات سے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں، تب اللہ تعالیٰ غضب ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے رہے پہلے تک کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ جاتا رہا۔ جب
حضرت عمرؓ نے پر دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غضب ظاہر ہوگیا ہے۔ تو خود حضرت عمرؓ نے (روزہ رکن کے بارے میں سوال کے آداب اور احترام کو ملاحظہ کیے ہوئے) اس طرح سوال کرنا شروع کیا کہ یارسول اللہ اس شخص کا کیا حال ہے جو بروزہ رکتا ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ایس شخص نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ افطار کیا (یعنی روزہ نہ رکھا اس لیے کہ بیش روزہ رکھنے سے وہ روزہ کا عادی ہوجاتا ہے اور بیش روزہ رکھنے کی وجہ سے روزہ کی مشقت باقی نہیں رہتی، اور عبادت نامہ عادت کو توڑنے کا) حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا: (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکے اور ایک دن روزہ چھوڑ دے: تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (پین کر) فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا: کر اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکے اور ایک دن روزہ نہ رکے تو اس کا کیا حال ہے۔ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو اور چھیمبر علیہ السلام کا روزہ ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کر اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکے اور دو دن روزہ چھوڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: میں دل سے چاہتا ہوں) کر مجھے اس کی طاقت میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور خود مستحب روزول کی تفصیل اس طرح ارشاد فرمائی کہ) بر مہینہ میں تین روزے (رکھنا) خواہو ایام بیض میں ہوں یا وشنہ اور پنجشنہ کے روزے ہوں) اور رمضان کے روزے (رکھ وا لے کا حکم) اس شخص کا ہے جس اس نے سال بھر کے روزے رکے اس لے کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "من جا ء بالحسنة فله عشر امثالها" جو ایک نیک کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس طرح بر مہینہ کے تین روزے گویا ثواب میں تمس روزول کے برابر ہیں، اس کے بعد حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ) عرف کے دن روزہ رکھنے میں امید ہے کر اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کو اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے اور عاشوراء کے دن روزہ رکھنے میں امید ہے کر اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے سال کے گناہوں کا کفارہ بنادیں گے (عرف کے روزہ کی فضیلت عاشوراء کے روزہ پراس لے ہے کر عرف کاروزہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مستحب قرار دیا گیا اور عاشوراء کاروزہ شریعت موسوی (علی صاحبہ السلام) میں تھا جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جسی بطور مستحب کے باقی رکھا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked, "How do you fast?" The Messenger of Allah (ﷺ) became angry at his question. When Umar (may Allah be pleased with him) saw his anger, he said, "We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Prophet. We seek refuge in Allah from the anger of Allah and His Messenger." Umar kept repeating these words until the Prophet’s anger subsided. Then Umar said, "O Messenger of Allah, what about someone who fasts every day of the year?" The Prophet (ﷺ) said, "He has not fasted nor broken his fast," (4) or he said, "He did not fast nor break his fast." Umar asked, "What about someone who fasts two days and breaks his fast on the third day?" The Prophet (ﷺ) said, "Can anyone do that?" Umar asked, "What about someone who fasts one day and breaks his fast the next day?" The Prophet (ﷺ) said, "That is the fast of Dawud." Umar asked, "What about someone who fasts one day and breaks his fast for two days?" The Prophet (ﷺ) said, "I wish I were given the strength to do that." Then the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Fasting three days of every month and Ramadan to Ramadan is like fasting the entire year. Fasting the day of Arafah, I hope Allah will expiate the sins of the previous year and the coming year. Fasting the day of Ashura, I hope Allah will expiate the sins of the previous year." [Narrated by Muslim]
(4) The statement: "He has not fasted nor broken his fast." Shaykh Ibn al-Humam said: "Fasting the entire year is disliked because it weakens a person or becomes a habit, and worship is based on going against one’s habits." This is mentioned in Al-Mirqah.
This hadith has been narrated by Muslim.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں: اے ابوذر! جب تم مہینہ کے تین دن کے (نفل) روزے رکھنا چاہو تو (پلا لی ماہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرسویں (تارتگ) کوروزہ رکھ لیا کرو (ان کو ایام بیض کہتے ہیں)-
اس کی روایت تزدی اورسالی نے کی ہے-
نفل عبادات کی اعتدال کی تاکید
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "O Abu Dharr, if you fast three days of the month, then fast the 13th, 14th, and 15th." [Narrated by Tirmidhi and Nasa’i]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک روز) مجھے فرمایا: اے عبد اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم (ہر روز) دن میں روزہ رکھتا ہوااور رات بھر عبادت کرتے ہو، کیا یہ ہے؟ میں نے عرض کیا: جی بال! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (پیس کر) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایاںہ کرو بلکہ روزہ بھی رکھاو اور روزہ ترک بھی کرو، رات کو عبادت بھی کرو، اور سویا بھی کرو۔ اس لے کر تمہارے جسم کا تم پرحت ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پرحت ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پرحت ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پرحت ہے۔ جس نے بیشتر روزہ رکھا، گویا اس نے روزہ کی نذر کیا - ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا (ثواب میں) بیشتر روزے رکھنے کے برابر ہے، تو تم ہر مہینہ صرف تین روزے رکھ لیا کرو، اور ہر مہینہ میں ایک قرآن پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) مجھے اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت نہیں (پیس کر) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: تو تم صوم داودی رکھا کرو جوروزوں میں بہترین روزے میں اور صوم داودی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا ہے اور سات راتوں (یعنی ایک ہفتہ میں) ایک قرآن پڑھا کرو، اور (روزوں کے رکھنے اور قرآن کے پڑھنے میں) اس سے زیادہ مشقت نہ کھاو۔
اس کی روایت بخاری اورمسلم نے مستقیم طور پر کی ہے-
Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him, "O Abdullah, have I not been informed that you fast during the day and stand in prayer at night?" I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Do not do that. Fast and break your fast, stand in prayer and sleep, for your body has a right over you, your eyes have a right over you, your wife has a right over you, and your guest has a right over you. Fasting three days of every month is like fasting the entire year. Fast three days of every month and recite the Quran once every month." (1) I said, "I am capable of more than that." He said, "The best fast is the fast of Dawud: fasting one day and breaking the fast the next. Recite the Quran once every seven nights and do not exceed that." [Agreed upon]
In a narration by Tirmidhi, the Prophet (ﷺ) said, "He has not understood who recites the Quran in less than three days."
(1) The statement: "Three..." In Kanz al-Daqa’iq, it is said: "One should not complete the Quran in less than three days nor exceed forty days." This is mentioned in Al-Urf al-Shadhi.
اورتنزی کی ایک روایت میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، یمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا گویا اس نے قرآن نئیں سمجھا (کنز الدرقاٰع میں لکھا ہے کہ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن میں ایک قرآن ختم کر لینا چاہیے)-
ایام بیض کے روزوں کے بارے میں حضرت کا عمل
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "One who recites the Qur'an in less than three days has not understood it." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Darimi]
In another narration by Abu Dawud, Tirmidhi and Nasa'i: He asked the Messenger of Allah (ﷺ): "In how many days should I recite the Qur'an?" He said: "In forty days," then said: "In a month," then said: "In twenty," then said: "In fifteen," then said: "In seven," and did not go below seven.
In Bukhari's narration: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "Complete the recitation of the Qur'an in one month." I said: "I have more strength than that," until he said: "Recite it in seven days and do not exceed that."
(1) His statement: "And do not exceed that." It was said in Umdat al-Qari: The prohibition against exceeding is not for forbiddance, just as the command in all of this is not for obligation. Its verification is at the beginning of this chapter. It was said in Al-Alamgiriyyah: The best recitation is to reflect on its meaning, to the point that it was said: It is disliked to complete the Qur'an in a single day, and it should not be completed in less than three days, out of reverence for it.
عن ابن عباس رضي الله عنهما سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول الله صلى الله عليه وآ لرو لم ايم بيض کے روزے جھی نمين پجوڑتے تح خواه آپ گرمیں ہول يا سفر پر ہول
عن ابن عباس رضي الله عنهما سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لرو لم ايم بيض کے روزے جھی نمين پجوڑتے تح خواہ آپ گرمیں ہول یا سفر پر ہول
اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
دوشنبہ کے روزو کی فضلیت
The virtues of fasting on Tuesdays
عن ابوقاوه رضي الله عنه سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول الله صلى الله عليه وآ لرو لم سے دریافت کیا گيا کر آپ دوشنبہ کے دون روزو رکھا کرتے ہیں (اس کا کیا سبب ہے؟)
آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں دوشنبہ کو پیرا ہوا ہوتا اور مجھے پردوشنبہ کی سے وقی نازل ہونا ثرو ع ہوتی (اس کے شکرانہ میں میں روزو رکھا کرتا ہوتا ) - (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے-)
چیراور جمعرات کے روزوں پہلی حدیث
He (ﷺ) said: 'I was created on Monday, and my sweat would descend on Tuesday (so as gratitude, I used to fast on those days).' - This hadith is narrated by Muslim.
عن امام متنین عاشعصد يقد رضي الله عنهما سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول الله صلى الله عليه وآ لرو لم (مجی) چیراور جمعرات کا روزو رکھا کرتے تھے
عن امام متنین عاشعصد يقد رضی اللہ عنہما سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لرو لم (مجی) چیراور جمعرات کا روزو رکھا کرتے تھے
(اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے-)
دومسری حدیث
This hadith is narrated by at-Tirmidhi and an-Nasa'i.
عن ابوبهریه رضي الله عنه سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول الله صلى الله عليه وآ لرو لم ارشاد فرما نے ہیں کر (بندول کے) اعمال (الله تعالی کے دربار میں) چیراور جمعرات کو پچیس کے جابتے ہیں، اس لے میں جاہتا ہوتا کہ میرا عمل اس حالت میں پچیس ہوتا میں روزو ہے رہوتا
عن ابوبهریه رضی اللہ عنہ سمع روايت به وه فرما ت هين كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لرو لم ارشاد فرما نے ہیں کر (بندول کے) اعمال (اللہ تعالی کے دربار میں) چیراور جمعرات کو پچیس کے جابتے ہیں، اس لے میں جاہتا ہوتا کہ میرا عمل اس حالت میں پچیس ہوتا میں روزو ہے رہوتا
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ آپ میں قطع تعلق کی وعید
It is narrated by at-Tirmidhi: He promised a definite connection with Him.
عن ابوبهریه رضي الله عنه سمع روايت به کر رسول الله صلى الله عليه وآ لرو لم چیراور جمعرات کو روزو رکھا کرتے تھے تو آپ نے ارشاد فرمايا: (بال!) اس لے کہ چیراور جمعرات ایسے (فضلیت والے) دون ہیں کر ان
میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان (کے گناہوں) کو بخشنے کی جواب دینے والے فرشتے کر لیس (اور اللہ تعالیٰ مغفرت کا سوال کرنے والے فرشتے) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو ججوڑ دوتا و قتیگری آپس میں مصالحت کر لیس۔ اس کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Allah, the Exalted, says to the angel who forgives the sins of Muslims and the angel who asks for forgiveness: 'Let these two reconcile and make peace with each other.' This is reported by Imam Ahmad and Ibn Majah.
ابو الیوب الانصاري رضی اللہ عنہ نے روایت کر رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھ اور شوال کے مہینے میں مرید چھ (نفل) روزے رکھ تو گویا سے پورے سال بھر کے روزے رکھ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: واخ ہو کہ ستہ شوال رمضان سے متصل متواتر رکھ سکتے ہیں، یا پورے مہینے میں متفرق چھ روزے رکھ سکتے ہیں۔12
پہلی حدیث
Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts Ramadan and then follows it with six days of Shawwal, (1) it is as if he fasted the entire year." [Narrated by Muslim]
(1) The statement: "Then follows it..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting six days of Shawwal is disliked according to Abu Hanifah, whether done consecutively or separately. According to Abu Yusuf, it is disliked if done consecutively but not if done separately. However, most later scholars saw no issue with it." This is mentioned in Bahr al-Raiq. The correct view is that there is no harm in it. This is mentioned in Muhit al-Sarakhsi.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کر رسل اللہ صلی اللہ علیہ وآلم نے عیدالفطر اور عیداضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمايے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on the days of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Ziyad ibn Jubayr, it is reported that a man came to Ibn Umar and said, "I vowed to fast a day, (2) and it coincided with Eid al-Adha or Eid al-Fitr." Ibn Umar said, "Allah has commanded the fulfillment of vows, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on this day." [Agreed upon]
(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.
اور مسلم کی ایک اور روایت میں زیادہ بن جبرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور وہ دن اتفاق سے عید کے دن لیعن عیدقربانی یاعید فطر کے دن آگیا ہے (مجھے کیا کرنا چاہئے؟)
تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پورا کرنے کا حکم دیا (اللہزامم اور کی دن اس کی قضا کرلو، اس لیے کر) رسل اللہ صلی اللہ علیہ وآلم نے اس دن لیعن عیدالفطر اور عیداضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمايے۔
دوسری حدیث
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on the days of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Ziyad ibn Jubayr, it is reported that a man came to Ibn Umar and said, "I vowed to fast a day, (2) and it coincided with Eid al-Adha or Eid al-Fitr." Ibn Umar said, "Allah has commanded the fulfillment of vows, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on this day." [Agreed upon]
(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کر رسل اللہ صلی اللہ علیہ وآلم نے ارشاد فرمایا کہ میں کہ دو دنوں میں لیعن عیدالفطر اور عیداضحی میں روزہ رکھنا جائز نہیں
ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلموں متفق طور پر کی جے۔
ایام تشریق میں روزو لگی معانت
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on the days of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Ziyad ibn Jubayr, it is reported that a man came to Ibn Umar and said, "I vowed to fast a day, (2) and it coincided with Eid al-Adha or Eid al-Fitr." Ibn Umar said, "Allah has commanded the fulfillment of vows, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on this day." [Agreed upon]
(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.
نُبيْشَه هذلي رضي الله عنه روايت سے کر رسول الله علیہ وآلم وسلم
رشاد فرماتے ہیں کہ ایام تشریق (جمنی 12،11اور13 زوالجر) کہاں بنیں اور اللہ کی یاد کے دون
پیس (اس لے ان دونوں میں روزو رکھنا جائز نہیں ہے)- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
معنوء ایام میں روزو لگی نذر درست ہے البتہ اور دونوں میں ان کی قضاء کی جائے
ف: درختار اور رواختار میں کہاتے کہ اگر کوئی شخص آیام منہیّہ (معانی کے ایام) لینی
عید الفطر کے روز اور عید اضحیٰ اور ایام تشریق لینی زواتج کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ان پاتچ
دونوں میں روزو رکھنی نظر کے یاپورے سال بھر کے روزو لگی نذر ماں تو قول اختار پیہ کر لیے
شخص کی پینز رمطلاً تے ہے اس لے کہ نذر مانا طاعت ہے لیکن اس کوچا ہے کہ ان آیام منہیّہ میں
روزو رکھنے وجوب پر پیاز کرتا کروہ معصیت سے نہ جائے اور ان معنوع ایام میں اس نے روزو ل
کی جونزر مانی لی اور حس کی ادائی اس پروا جب ہوچکی ہے ان دونوں کے روزو لکوہ دومسرے دونوں
میں قضاء کر لے،تاکہ نذر ماں کا وجوب اس سے ساقط ہوجائے اور ممنوع ایام میں روزو رکھنے کے گناہ
سے نہ جائے۔
اس لے علماء احناف نے واضاحت کی ہے کہ ان ممنوع ایام میں روزو لگی نذر تو درست
ہے مگران میں روزو رکھنا گناہ ہے۔اور صدر کی نذورہ احادیث سے ذہب خلق کی تائید ہوتی ہے۔12
جمع کے دون منفرد اور وزو رکھنا مستحب ہے
پہلی حدیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فراماتے ہیں کہ میں نے بہت
کہ دیکھا ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم جمع کے دون کا روزو نہ رکہ ہول (جمنی آپاکثر
جمع کا روزو رکھا کرتے تھے)-
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اورترمزی اورنسائی نے کچھ اس طرح روایت کی ہے-
دوسری حدیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت سے وہ فراماتے ہیں کہ میں نے کچھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کو جمع کے دون روزو چھوڑتے ہوئے دیکھا-
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated, "I rarely (1) saw the Messenger of Allah (ﷺ) breaking his fast on a Friday." [Narrated by Ibn Majah] Tirmidhi and Nasa’i narrated something similar. Tirmidhi said, "This hadith is hasan gharib." It was authenticated by Ibn Hibban, Ibn Abd al-Barr, and Ibn Hazm.
(1) The statement: "Rarely..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting on Friday alone is recommended according to the general opinion, like Monday and Thursday." This is mentioned in Bahr al-Raiq. In Al-Urf al-Shadhi, it is said: "Fasting on Friday is recommended as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar. However, the commentators differed on its recommendation. In my opinion, if there is a fear of misunderstanding, one should not fast; otherwise, it is recommended. This reconciles the juristic and hadith narrations."
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے لی ہے۔
This is reported by Ibn Abi Shaybah.
_اور ابن ابی شیبہ کی دوسری روایت میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
ایس طرح مردی ہے-
تیسری حدیث
وآ لہ و لم ارشاد فرما ئے جین کہ جس کسی (مسلمان) نے جمع کے دون کا روزہ رکھا تو الد تعالیٰ اس کے
حق میں (اپی دون کے بدلاے) دس دون کے روزہ کا ثواب ) کہ دیتا ہے اور ان میں سے بردن
آخرت کے دون کے برابر ہوگا (اور آخرت کے دون کی خصوصیات بھی جس کا آخرت کا اپی دون ونیا
کے اپی بردار سال کے برابر ہوتا ہے اور یہ دن) نہایت روشن اور چک دار ہوتا ہے اور (دنیا کے)
دون (تنسی طرح) آخرت کے دون کے مشابہین ہول گے - (جمع کے اپی دون روزہ رکنے سے دس
دونوں کا جو ثواب ملگا ان میں سے بردن نذکورہ بالخصوصيات کا حال ہوگا) اس کی روایت تیہتی
نے شعب الایمان میں کی ہے-
اور کچی نے کہا ہے کہ میں نے امام ماک کو پیر کیتے سنابه وفرما تے تھے کہ میں نے
کسی عالم او رفقیه اور کسی ایس شخص کو جس کی لوگ اقتدا کرتے ہون جمع کے دون روزہ رکنے سے منع
کرتے ہونے نہیں سناء-
اور امام ماک نے پیجی فرمایا کہ جمع کے دون روزہ رکنا مستحب ہے بلکہ میں نے خود ابل علم کو
دیکھا ہے کروہ جمع کے دون روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا اہتمام اور پابندی کیا کرتے تھے-
ف: واخ ہو کہ فتاوی عالمگیری میں نذکور ہے کہ جس طرح دوشنبہ اور پچشنبہ کا روزہ منفرد آرکنا
مستحب ہے، اسی طرح علامے احناف کے پاس جمع کا روزہ بھی منفرد آرکنا مستحب ہے۔ بحرائق میں
بھی ایسا ہی نذکور ہے اور صدر کی نذکور ہے حدیثول نے بھی اس کی تائید ہوتی ہے
عبادت کے لئے کسی ایک رات کو مختص کرنا ممنوع ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts on a Friday, Allah will write for him the reward of ten days, the likes of which are not found in this world." [Narrated by Bayhaqi in Shu’ab al-Iman] Yahya said, "I heard Malik say, 'I have not heard any scholar or jurist whom people follow prohibit fasting on Friday. Fasting on Friday is good, and I have seen some scholars fast on it, and I think they preferred it.'"
_ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ت روایت ہ وفرما ئے جین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ و لم ارشاد فرما ئے جین کر اور راتول کو چھوڑ کرصرف جمع کی رات کو عبادت کے لئے مختص مت کیا
کرو ( بلکہ ہر رات کو شب بیداری رکھاو ر پچھونے پچھو عبادت کیا کرو -
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not single out the night of Friday (2) for standing in prayer among all the nights." [Narrated by Muslim]
(2) The statement: "Do not single out..." In Ahkam al-Ashbah, it is said: "It is disliked to single out its night for standing in prayer."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کر وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد وغیرہ میں)
ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو روزخ (کی راہ) سے ستّ برس (کے فاصلے کے) دور کردین
گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
اللہ کی خوشنوودی کے لئے روزہ رکھنے کی فضیلت
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts a day for the sake of Allah, Allah will keep his face away from the Fire for seventy years." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کر وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس (کسی مسلمان) نے اللہ کی خوشنوودی کے لئے ایک دن روزہ رکھا
تو اللہ تعالیٰ اس کو جتنی میسر قدر فاصلے کے دور کردین گے۔ جتنی دورتک ایک کو اپنے بچوں سے
لے کر مرنے تک اؤتا رہے۔ (کوئی سے تشبیه اس کے ذیلی گئے ہے کہ کوئی سے کی عمر کہا جاتا ہے کہ ایک
ہزار سال کی ہوتی ہے۔ جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے۔12)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
اور جہیق نے اس کی روایت شعب الایمان میں سلم بن قیصر سے کی ہے۔
اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts a day seeking the pleasure of Allah, Allah will keep him away from Hellfire by a distance of seventy years." [Narrated by Ahmad] Bayhaqi narrated in Shu’ab al-Iman from Salamah ibn Qaysar. (1)
(1) The statement: "Salamah ibn Qaysar." What is found in the copies of Mishkat: "Salamah ibn Qays" is a mistake. The correct version is "Salamah ibn Qaysar." This is mentioned in Al-Mirqah.
ابواما مہر رضی اللہ عنہ نے روایت کر وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں یا جا اور غمزہ
کے دوران میں) علم دین سکینے کے زمانے میں پا خالص اللہ کی خوشنوودی کے لئے جسیا کہ مرقات میں
ذکور ہے۔12) ایک دن جسی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اور روزخ کے درمیان اتنا فاصلہ
حاصل فرماتے ہیں جتنا فاصلہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
ہفتہ کے دون منفرد اروزہ رکھنا کر روه ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever fasts one day in the path of Allah (i.e., in Jihad or during times of fear and distress, or during times of peace and security as mentioned in the narrations) will have Allah place a distance between him and his sin as great as the distance between heaven and earth. It is narrated by Tirmidhi. Fasting on the two unique days of the week is recommended.'
عبد اللہ بن بسر اپنی جانب صما ء رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (صرف) ہفتہ کے دون (نفل) روزہ نذر کھا
کرو، سواے اس کے کمتر (ایسے روزہ کی ادائیگی) فرض ہو، اگر تم میں سے کسی کے پاس (کھانے کے لئے) انگور کے درخت کی چھال یا کسی درخت کی کلی کے سواے اور چیز نہ ہو تو اسی کو چلاو (اور بھفتہ کے دون، روزہ نہ رکھتا کہ یہودی سے مشابہت نہ ہو، جو بھفتہ کو مقدس بھی کر اس دون روزہ رکھا کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بھفتہ کے دون منفرد آروزہ رکھنا کر وہ تنزہی بے البتہ بھفتہ کے ساتھ کسی اور دون کوملا کر روزہ رکھنا کر وہ نہیں بے جسیا کر درمتار میں نذور بے 12)۔ اس حدیث کی روايت امام احمد، ابوداود، ترمذی، ابن ماجراورداری نے کی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Fast only on the two days of Monday, except when it is less than that which is obligatory. If any of you does not have anything to eat except the peel of a grapevine or the pod of a tree, then let him eat it (and do not fast on both days of Monday to avoid resembling the Jews, who consider Monday sacred and fast on both days of Monday). This indicates that fasting only on the two days of Monday is disliked, and it is better to combine it with another day. It is also disliked to make a vow to fast for twelve days.' This hadith has been narrated by Imam Ahmad, Abu Dawud, Tirmidhi, Ibn Majah, and Daruqutni.
عمر بن مسعور رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جاٹول کے روزے کھندے غنیمت ہیں (کہ روزہ دار کو موتم سرمائی پیاس اور جھوک کی مشقت کے بغیر اس طرح روزے کا ثواب مل جاتا ہے جس طرح کسی کو لڑائی اور جنگ کے بغیر مال غنیمت حاصل ہوجاتے)۔
عمر بن مسعور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جاٹول کے روزے کھندے غنیمت ہیں (کہ روزہ دار کو موتم سرمائی پیاس اور جھوک کی مشقت کے بغیر اس طرح روزے کا ثواب مل جاتا ہے جس طرح کسی کو لڑائی اور جنگ کے بغیر مال غنیمت حاصل ہوجاتے)۔
اس حدیث کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
This hadith is narrated by Imam Ahmad and Tirmidhi.
ابوہریرہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک زکات ہوتی ہے اور جسم کی زکات روزہ ہے (کہ جس طرح زکات مال پاک ہوتا ہے اس طرح روزہ بدنبدن پاک ہوتا ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک زکات ہوتی ہے اور جسم کی زکات روزہ ہے (کہ جس طرح زکات مال پاک ہوتا ہے اس طرح روزہ بدنبدن پاک ہوتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجر نے کی ہے۔