یعنی باب صدقہ اور خیرات کی فضیلت کے بیان میں
وَقَوْلُ اللہ تعالیٰ : وَيُرِبی الصَّدَقَتِ، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 276، میں) اور وہ لیے اللہ تعالیٰ خیرات کو برطاحت ہیں (یعنی جس مال سے خیرات نکالی گئی ہو اس مال میں ونیا میں برکت عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں اجر و ثواب دینا کردیتا ہیں)۔ (معالم التزیل)۔ وَقَوْلُہُ : وَلِکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اَمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَئِکَةِ وَالْکِتَبِ وَالنَّبِیِّنَ، وَاَتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِی الْقُرْبَى وَالْیَتَامَى وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ، وَالسَّاَئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ، وَاَقَامَ الصَّلَوَۃَ وَاَتَى الزَّکَوَۃَ، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 177، میں) اور کیا کمال نہیں توپیہ کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر روزا خرت پر، فرشتوں پر، آسمانی کتابوں پر اور (اللہ کے) نبوؤوں پر ایمان لائے اور مال کواس کی محبت کے باوجود (اللہ تعالیٰ کی محبت میں) رشتہ داروں، یتیموں، محتجوں اور مساکین اور ماگنے والوں کو اور غلامی وغیرہ کی قید سے لوگوں کی گردانی چھڑانے میں خرچ کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکات بھی ادا کرے۔ فَ تفسیر دار کہا ہے کہ آیت صدر میں "وَاَتَی الْمَالَ" سے مراد صدقات اور خیرات ہے۔ مال میں زکات کے سوا اور کچھ حقوق ہیں
And Allah, the Exalted, says: 'And He causes the charities to grow.' And the guidance of Allah, the Exalted, is: (in Surah Al-Baqarah, verse number: 276) 'And Allah renders the charities fruitful' (meaning that in the wealth from which charities are taken, He bestows blessings and in the Hereafter, He grants rewards and recompense). (Ma'alam al-Tazil). And His statement: 'But righteousness is [in] one who believes in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the Prophets, and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves, and establishes prayer and gives zakah,' and the guidance of Allah, the Exalted, is: (in Surah Al-Baqarah, verse number: 177) 'But [true] righteousness is [in] one who believes in Allah and the Last Day and the angels and the heavenly books and the Prophets, and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves, and establishes prayer and gives zakah.' The interpreter has said that in the beginning of the verse, 'And gives wealth' refers to charities and good deeds. There are other rights in wealth besides zakah.
فاطرہ بنت قیس رضی اللہ عنها سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یقیناً مال میں زکات کے علاوہ اور کچھ حقوق (اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان پر) عائد کیے گئے ہیں (جسے پیکر ساکل اور قرض خواہ کو محرم نہ کرے اور گھر کے متعلقہ ساز و سامان میں سے مثلًا برتیں، دیک وغیرہ کوی مستعار مانگ تو ان کو دینے سے انکار نہ کرے)۔ پھر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (استدلال میں) اس آیت کو تلاوت فرمائی : وَلِیَسَ الْبِرَّ أَن
تُولُوا وَجُوهُكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّينَ، وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِى الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى
وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ، وَالسَّاعِلِينَ وَفِى الرِّقَابِ، وَأَقَامَ الصَّلَوَةَ وَآتَى
الزَّكَاةَ، (آیت شریفہ کا ترجمہ باب فضل الصدقۃ کی ابتداء میں ملاحظہ ہو)-
اس حدیث کی روايت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے-
حلال مال میں سے تحویزی خیرات کی جہت ہے
فاطرہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یقیناً مال میں زکات کے علاوہ اور کچھ حقوق (اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان پر) عائد کیے گئے ہیں (جسے پیکر ساکل اور قرض خواہ کو محرم نہ کرے اور گھر کے متعلقہ ساز و سامان میں سے مثلًا برتیں، دیک وغیرہ کوی مستعار مانگ تو ان کو دینے سے انکار نہ کرے)۔ پھر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (استدلال میں) اس آیت کو تلاوت فرمائی : وَلِیَسَ الْبِرَّ أَن
وَاْمَسکین وَاْبن السّبیل، واْلسّاٌیلین وَفی الرّقاب، وَاْقام الصّلوۃ واْتی الزّکوة،(آیت ثریفہ کا ترجمہ باب فضل الصدقۃ کی ابتداے میں ملاحظہ ہو)-
اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے کی ہے۔ حلال مال میں سے تحویزی خیرات کی جہت ہے۔
Fatimah bint Qays (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is a right in wealth besides Zakat.” Then he recited: “Righteousness is not in turning your faces toward the east or the west...” (Al-Baqarah 2:177). [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Darimi]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ شخص اپنی جائے اورحلال کمائی سے اپنے محجور برادر کی خیرات کرے تو
اللہ تعالیٰ اس کوقبول فرما تے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس خیرات کے بہوے مال کو خیرات کرنے
میں میں سے خیرات کوقبول فرما تے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس خیرات کے بہوے مال کو خیرات کرنے
والے کے لے اس طرح برہانے جاتے ہیں جس طرح تم میں سے کونی شخص اپنے محجور کے
پرورش کرتا ہے یہاں تک وہ خیرات برہانے پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال مال سے تحویزی خیرات کی ثواب میں
اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول اور بحساب ہے اس کے برخلاف اگر حرام مال سے لاکھوں روپیہ کی خیرات
کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کوقبول نہیں فرما تے اور داس کا کوئی ثواب نہیں، اس سے مسلما نوں کوچاہیے کہ
راہ خدا میں خرچ کرتے وقت حلال مال کا خیال رکھیں، تحویز کے بہت کا خیال نہ کریں۔
صدق کے کم کم اور زیادہ سے زیادہ ثواب کا بیان
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever gives charity equal to a date from good earnings, and Allah does not accept except what is good, Allah will accept it with His right hand and nurture it for its owner, just as one of you nurtures his foal, until it becomes like a mountain.” [Agreed upon]
ابو الامامہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرما تے ہیں کہ ابو ظر رضی اللہ عنہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے نبی! مجھے بتائیے کر صدقہ (کا ثواب
اوراس کی فضیلت) کیا ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے کہ اس کا ثواب کیا ثواب
ہے (اوراس زیادہ کی کم کہ مقدار ہر نیک پردس گناہے) بلکہ اس سے بھی کیا گنا زیادہ (اوراس
زیادہ کی ایک مقدار ہر نیک پرسات سوگناہ کے ہے) اوراللہ تعالیٰ کے پاس تو اس سے بھی زیادہ ہے
(اوراللہ تعالیٰ چاہے تو ہر نیک پرسات سوگناہ سے بھی زیادہ ثواب عطا فرما تے ہیں جسیا کر اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے: "وَاللّٰهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ" -
خیرات کرنے، قصور معاف کرنے اور اکسارت کی فضلیت
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that Abu Dharr (may Allah be pleased with him) said: “O Prophet of Allah, what is charity?” He said: “It is multiplied many times over, and with Allah is even more.” [Narrated by Ahmad]
وآ لہ وسلم ارشاد فرما یے جس کہ خیرات کرنے سے مال کم نہیں ہوتا (بلکہ اس میں برکت ہوتی ہے) اور باوجود انفاق کی قدرت رکنے کے) کسی کا قصور معاف کردینے سے اللہ تعالی اس بندہ کی عزت برہا یے جیسے (جس نے کہ قصور معاف کیے) اور جس کسی نے اللہ تعالی کے لئے تواضع اور اکسارت اختیار کی تو اللہ تعالی اس کا رتبہ برہا یے جیسے اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ راہ خدا میں دوہری چیز خرچ کرنے کی فضلیت
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity does not decrease wealth, and Allah increases the honor of the one who forgives. No one humbles himself for Allah except that Allah raises him.” [Narrated by Muslim]
وآ لہ وسلم ارشاد فرما یے جس کہ شخص راہ خدا میں کسی مال کا جوزا دے (مثال دو کپڑے یا دو گھوڑے یا دورو پی) دے تو اس کو جنت کے دروازول سے بلا یاجا یے گا اور جنت کے کئی دروازے جیسے جو شخص نمازی (معنی زیادہ نماز پڑھنے والا) ہوگا تو اس کو جنت کے "بابُ الصلاوة" (نماز کے دروازے) سے بلا یاجا یے گا اور جو کوئی شخص جہا د کرنے والائے راہ خدا میں بہت کچھ نہیں ولا ہوگا تو اس کو "بابُ الْجِہَادُ" (جہاد کے دروازے) سے بلا یاجا یے گا اور جو شخص بہت خیریات کرنے والا ہوگا تو اس کو "بابُ الصدقة" (صدقہ کے دروازے) سے بلا یاجا یے گا اور جو شخص کثرت صلاة، کثرت صوم، کثرت جہاد، کثرت خیرات کی وجہ سے ان کی تعظیم اور تکریم کے لئے ان کو جنت سے روزے رکنے والا ہوگا اس کو "بابُ الرّیَانُ" (پیاس بجا نے والا دروازہ) سے بلا یاجا یے گا۔ سن کر حضرت ابو بر صد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بظاہر تو اس کی ضرورت نہیں کہ سب دروازول سے (بیک وقت) کسی کو بلا یاجا یے (جب کسی کو ایک دروازے سے بلا یاجا چکا ہوا اور وہ جنت میں داخل ہوچکا ہو چکا) پھر بھی کیا کونی ایسا شخص ہوگا جس کو جنت کے ان سارے دروازول سے بلا یا جا یے گا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما یے: بال (بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان کے کثرت
اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لکھے۔
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever gives something as a gift in the way of Allah (such as two garments, two horses, or two dirhams) will be called from the gates of Paradise. If a person is known for praying much, he will be called from the gate of prayer (Bab al-Salat). If a person has not given much in the way of jihad, he will be called from the gate of jihad (Bab al-Jihad). If a person is known for giving much charity, he will be called from the gate of charity (Bab al-Sadaqah). If a person is known for praying much, fasting much, engaging in jihad much, and giving much charity, and is honored and respected for these deeds, he will be called from the gate of Riyan (Bab al-Riyan), which is the gate for those who fasted. Upon hearing this, Abu Barzah (RA) said: 'It seems that there is no need for someone to be called from all the gates at once (since one call is sufficient for entry into Paradise). However, is there anyone who will be called from all these gates?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'Yes, some people will be such that they will be called from all these gates.' This hadith is recorded in Bukhari and Muslim with slight variations.
سالم ارشاد فرما ہیں کہ جو مسلمان راہ خدا میں اپنے مال کے دودو چیزی خرچ کرتے تو جنت کے سارے در بان اس کا استقبال کرتے گے اور ہر در بان اپنے دروازے والی نعمت کی طرف اس شخص کو دعوت دے گا۔ ابوزر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس کی کیا صورت ہوگی، لیکن دودو چیزی کس طرح خرچ کی جائے تو حضور علی الصلاۃ والسلام ارشاد فرما ہیں: اگر اونٹ ہو تو دواونٹ اور گاڑی ہو تو دو گاڑی (راہ خدا میں خیرات کرے)۔
اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔
ان چار اعمال کا بیان جن سے جنت حاصل ہوتی ہے
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No Muslim servant spends a pair from his wealth in the way of Allah except that the gatekeepers of Paradise will call him to what they have.” I asked: “How is that?” He said: “If it is camels, then two camels; if it is cattle, then two cattle.” [Narrated by Nasa’i]
ف(2): اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دریافت فرمائے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنه نے "آنا" (میں) کہا ہے، اس بارے میں صحابہ مرقات اور صاحب اشتعال المعات نے کہا ہے "آنا"، (میں) کہنا روحی قوت سے ہوتا ہے، ایک نذوم (میں برا) دوسرا محمود (میں اچھا) "آنا" کہنا کی نذوم حثیت پیہ کے بطور فرما "آنا" کہا جا نے جیسے اپنے کا قول "آنا خیر منه"، "آنا العالم"، "آنا الزاہد"، وغیرہ اور "آنا" کہنا کی محمود حثیت پیہ کے طلب ثواب کے موقع پر یا بطور (انساری "آنا" کہا جا نے، جیسے: "آنا اوّل المُسلمین"، "آنا سید ولد آدم" "آنا الحقیر"، "آنا العبد" وغیرہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرما ہے کہ تم میں سے کون آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ (لیکن جنازہ کی نماز پڑھی اور جنازہ کے پیچے چلا (اشعۃ اللمعات میں ذکور ہے۔12) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرما یا: تم میں سے آنج کس نے مسکین کو کھانا کھلا یا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ) (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) دریافت فرما یا کہ تم میں سے آنج کس نے پیار کی عیادت کی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ) (پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے کہ جس کسی شخص میں پیر (چار چیزیں ایک دن میں) جمع ہوجائیں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
انا میں میں کہنا اچھا ہے اور برا بھی
تحفہ کتنا، ہی کہم ہواس کو حقیر نہیں بجھنا چاہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) asked: “Who among you is fasting today?” Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: “I am.” He asked: “Who among you has followed a funeral today?” Abu Bakr said: “I have.” He asked: “Who among you has fed a poor person today?” Abu Bakr said: “I have.” He asked: “Who among you has visited a sick person today?” Abu Bakr said: “I have.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “These qualities do not come together in a person except that he enters Paradise.” [Narrated by Muslim]
ف(1): اس حدیث شریف کے اور حدیث 131 کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کمال اور جنت ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عورتوں سے) ارشاد فرماتے: اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کی (حقیرتے حقیر تحفہ پر) حقارت نہ کرے اگر چوہ (تحفہ) بگری کا کہری کی کیول نہ ہو (خواہ وہ تحفہ دیتے والی ہو یا لین والی ہو)-
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے-
ہر نیکی صدقہ ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Muslim women, let no neighbor look down on her neighbor, even if it is a sheep’s hoof.” [Agreed upon]
جا بر اور حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر نیکی (خواہ وہ قولی ہو یا فعلی، جس سے اللہ تعالیٰ کی رضاء مقصود ہو) نہیرات (کا ثواب رشتی) ہے-
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے-
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا تعلق صرف مال سے ہی نہیں بلکہ ہروہ عمل جس سے رضاء اللہ حاصل ہو، صدقہ ہے مثلًا کسی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا وغیرہ اشتعال المعات
کسی نیکی کو حقیر نہ بجھنا چاہے
Jabir and Hudhaifah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every good deed is charity.” [Agreed upon]
ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی نیکی کو حقیر اور معمولی نہ بجھو، اگر چیکہ وہ (نیکی) پیہو کہ تم اپنے
خوش اخلاقي اور مسلمان کی تحویز کی خدمت کچھ صدقہ ہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every good deed is charity. Among the good deeds is meeting your brother with a cheerful face and pouring water from your bucket into your brother’s vessel.” [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
و سلم ارشاد فرما یے ہیں کہ ہرنیک کام (پر) نہیرات (کا ثواب ملتا) ہے اور یکا م کچھ یقیناً نیک میں شامل ہے کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور پیچھی (نیک میں شامل ہے) کہ تم اپنے دولت سے اپنے (مسلمان) بھائی کے برتن میں پانی بھردو۔ اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔ جن اعمال پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے ان کی تفصیل
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every good deed is charity. Among the good deeds is meeting your brother with a cheerful face and pouring water from your bucket into your brother’s vessel.” [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
و آر و سلم ارشاد فرما یے ہیں کہ تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی سے مسکراتے ہوئے (ملنا) صدقہ ہے (یعنی اس پر ثواب ملتا ہے) اور تمہارا نیک کام مول کی تلقین کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا برائی سے منع کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا کسی راہ بھولے ہوئے شخص کو راہ دکھانا (بھی) تمہارے لے صدقہ ہے اور تمہارا کسی ناپینا یا کمزور پینالی والے شخص کی رہبری کرنا (بھی) تمہارے لے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، بڑی (اور ایسی چیز کی تکلیف دہ چیز ون) کا ہٹادینا (بھی) تمہارے لے صدقہ ہے اور اپنے دولت سے اپنے (مسلمان) بھائی کے دولت میں پانی بھر دینا (بھی) تمہارے لے صدقہ ہے (یعنی ان تمام کام مول پر صدقہ کے جسیا ثواب ملتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Your smile at your brother is charity. Enjoining good and forbidding evil is charity. Guiding a man in a land of misguidance is charity. Helping a man with poor eyesight is charity. Removing a stone, thorn, or bone from the road is charity. Pouring water from your bucket into your brother’s bucket is charity.” [Narrated by Tirmidhi]
ابو جعفر علی بن سلمہ رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرما یے ہیں کہ (جب) میں مدینہ منورہ آیا تو ایک حضرت کو دیکھا کہ لوگ ان کی راہ پر چلتے ہیں وہ جو پیچھے فرما یے ہیں ان (کے بہتر) کی پوری تعریف کرتے ہیں۔ میں نے (لوگوں سے) دریافت کیا پیکون حضرت ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں! تو میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) کہا: علیک السلام، یار رسول اللہ! اور میں نے دوم رتبہ پیا فاظل کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشا د فرما ے : علیک السلام ن کہر ! ( کیونکہ ) علیک السلام ( کہنا ) مردو کا سلام ہے ( اس لئے ) تم " السلام علیک " کہا کرو ( پھر ) میں نے عرض کیا : کیا آپ، ی اللہ کے رسول پیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا : بال ! میں اس اللہ کا رسول ہوں کر اگر تم پر کوئی مصیبت آن پڑے اور تم ( میرے وسیلے سے جسیا کر مرقات اور اشعة اللمعات میں نذور ہے -12 ) اللہ دعا کرو تو توہ تمہاری اس مصیبت کو دور کرو یی گے اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو وہ تمہاری سواری تمہاری پاس واپس لٹھ دی گے ( صاحب اشعۃ اللمعات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یقین مانا کر میں اس اللہ کا رسول ہوں جس میں یصفات ہیں، اس سے یہ تلا نقصود سے کہ میری بعثت وسیلہ رحمت اور اس اللہ تعالیٰ سے خبر و برکات کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور واسطہ سے جوحا جتو کا پورا کر نے والا اور مشکلات کا دور کرنے والا ہے ) جابر بن سلیم ( راوی ) کہتے ہیں کہ میں ( بیس کر ) عرض کیا : حضرت ! مجھے پکھ نصیحت فرمائیے ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما ے کہ تم کسی کو گالی نہ دیا کرو ! جابر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نقو کسی آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ گبری کو گالی دی ( اس کے بعد ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما ے کہ تم کسی نکی کو بھی حقیر نہ کیو ( یہاں تک کہ ) اگر تو اپنے کسی ( مسلمان ) بھائی سے خنہ پیشانی اور خوش اخلا قی سے ملتا تو پیچھے چلی ہے ( اور تو اپنے ازار ( جیسے تہہ بندا اور پاجامہ ) کو پیچھے نصف پیچلی تک اونچا رکھے، اگر اتنا او نچا چھے پسند نہ ہو تو کم سے کم چھونول سے اونچا رکھ اور ازار کو ( چھونول سے ) یہ چار کھتے چھے، اس لئے کہ یہ بڑی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کہبر کو پسند نہیں فرماتے اور اگر کوئی شخص چھے گالی دے اور تھہ کو تیرے ایسے عیب سے جوازہ معلوم ہے عار ( جیسے ثرم ) دلا ے تو تو ( اس کے جواب میں ) اس کواس کے اس عیب سے جس سے تو واقف ہے عار نہ دلا، اس لئے کہ اس کا و بال اس پر ہوگا _ اس کی روایت ابو داود نے کی ہے اور تر نذی نے صرف سلام کی حد تک کے واقعی روایت کی ہے -
Abu Jurayy Jabir ibn Sulaym (may Allah be pleased with him) narrated: “I came to Madinah and saw a man whose opinion people followed. He did not say anything except that people acted upon it. I asked: ‘Who is this?’ They said: ‘This is the Messenger of Allah.’ I said: ‘Peace be upon you, O Messenger of Allah,’ twice. He said: ‘Do not say: “Peace be upon you,” for that is the greeting of the dead. Say: “Peace be upon you.”’ I said: ‘Are you the Messenger of Allah?’ He said: ‘I am the Messenger of Allah. If harm befalls you and you call upon Him, He will remove it. If a year of drought befalls you and you call upon Him, He will make it grow for you. If you are in a barren land and your mount strays, and you call upon Him, He will return it to you.’ I said: ‘Advise me.’ He said: ‘Do not curse anyone.’ After that, I did not curse any free person, slave, camel, or sheep. He said: ‘Do not belittle any good deed, even if it is speaking to your brother with a cheerful face. That is a good deed. Raise your garment to mid-calf, and if you refuse, then to the ankles. Beware of letting your garment drag, for it is a sign of arrogance, and Allah does not love arrogance. If someone insults you and shames you with what he knows about you, do not shame him with what you know about him, for the burden of that will be on him.’” [Narrated by Abu Dawud, and Tirmidhi narrated the part about the greeting]
اور تر نذی کی ایک روایت میں یول ہے کر ( حضور علی الصلاۃ والسلام ) ارشاد فرما ے ہیں کہ کسی شخص کے تجہ کو عار دلانے پر ) تیری خاموشی کا ثواب چھے لیگا اور اس ( عار
دلانے) کا اپنے اس شخص پر توگا۔
ف: اس حديث شريف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلم کو علی السلا م کہنے
سے منع فرما یہ، اس بارے میں مرق ات اوراشتع اللمعات میں کہا ہے کہ زمانہ جاهلیت میں عربوں کی
عادت تھی کہ جب وہ کسی قبر پر سلام کرتے تو "علیک السلام" کہتے، اسی عام عادت کی بناء پر
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلم کو زندول پر علی السلا م کہنے سے منع فرما یا اور ان کو یعنی
کہ جب وہ کسی کو سلام کرتے تو "السلام علیک" کہا کریں، ویلے تو مر دول پر "السلام
علیکم" کہنا اور احادیث سے ثابت ہے۔12
خبرات کا وجوب اور ان کا مول کی تفصیل جن سے خبرات کا ثواب ملتا ہے
If someone curses you and you remain silent, the reward for your silence will be six hundred, and the sin of the curse will be upon the one who cursed you.
ابوموسی الاشعري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اللہ تعالی کی کونا گون نغمتوں کے شکریہ) بر مسلمان پر
صدقہ (یعنی خیرات) واجب ہے۔ صحابہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) اگر کسی کے (پاس صدقہ دینے
کے لئے) کچھ کچھ نہ ہو (تو کیا کرے؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کر اپنے ہاتھوں
سے کوئی کسب کرے (اور مال حاصل کرے کہ) خود کی فائدہ حاصل کرے اور خیرات کچھ کرے،
پھر صحابہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کسی میں اس کی کچھ قوت نہ ہو یا ایسا نہ کر سکے (تو وہ کیا
کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ وہ عمکین حاجت مند اور داغو اہ کی (کسی
طرح کچھ) مدد کرے۔ صحابہ نے (پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا کچھ نہ کر سکے (تو وہ کیا کرے؟) تو
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ وہ (لوگوں کو) نیکی کا حکم کرے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے
(پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی کچھ نہ کر سکے (تو پھر کیا کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرماتے (کہ اگر کسی سے یہ سب کچھ نہ ہو سکے تو کم از کم) وہ اپنے آپ کو برائی سے پچائے رکھ اور
جب اس کے حق میں خیرات ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
انسان کے ہر جوڑ پراس کے کارآمد ہو نے کے شکر انہیں صدقہ واجب ہے
Abu Musa Al-Ash’ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every Muslim must give charity.” They said: “What if he cannot?” He said: “Let him work with his hands, benefit himself, and give charity.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him help someone in need.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him enjoin good.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him refrain from evil, for that is charity.” [Agreed upon]
ابومہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر روز جبکہ دن نکلتا ہے انسان پراس کے بدن میں جتنے جوڑ ہیں، ان
میں سے ہر ایک کے لئے صدقہ دینا واجب ہے۔ اگر کسی نے دوآ دیوال کے درمیان انصاف کیا تو یہ
(کچھ) صدقہ ہے اور اگر کسی نے کسی آدمی کو اس کی سواری پرسوار ہو نے میں مدد دی، اور اس کو سواری
پرسوار کر دیا، یا س کا سامان سواری پر اٹھا کر رکھ دیا۔ (جس) اس کے لئے خیرات ہے، اور (ہر)
اچھی بات کرنا (یا ساکل) کونزی سے جواب دینا ہے) اس کے لئے صدقہ ہے اور ہر قدم جونماز کے
لئے (مسجد کی طرف) جانے میں وہ اٹھاتا ہے وہ (جس) صدقہ ہے اور راستے تکلیف دہ چیز کو
ہشادے تو پر (جس) صدقہ ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ان اعمال کی صراحت جن کی وجہ سے دوزخ سے برائےت حاصل ہوتی ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every joint of a person must give charity every day the sun rises. Acting justly between two people is charity. Helping a man mount his animal or lifting his belongings onto it is charity. A good word is charity. Every step you take toward prayer is charity. Removing harm from the road is charity.” [Agreed upon]
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما نے میں کہ ہر انسان کو تین سوساٹھو جوڑول سے پیدا کیا
گیا ہے (جبکہ ہر انسان کے جسم میں تین سوساٹھو جوڑول میں اور پی ضروی ہے کہ ہر جوڑ کے کارآمد
ہوئے نے کے شگریمیں انسان ہر روز پچھنے کے خیرات کرے) تو جو کوئی "اللہ أكبر" کہے، الحمد
للہ" کہے، "لا الہ الا اللہ" پڑھا کرے "سبحان اللہ" کہے، اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے
اور لوگول کے راستے پچھریا کانگا یابدی دور کر دے یا کسی کو نکی بات بتائے یا برائی سے روکے، اور
رہ سب چیزیں (جسم دن) تین سوساٹھو جوڑا میں تو (چونکہ اس نے ہر جوڑ کے بد میں ایک ایک
نیکری بنے اس لئے) اس روز وہ (گناہول سے باک و صاف ہوکر) ایسا چل کا کر گویا اس نے
اپنے آپ کو دوزخ سے پچالیاہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اشعۃ اللمعات میں کہا ہے مسلمان ہر دن ان اعمال کو انجام دیتارہ تاکہ وہ دوزخ سے
اس کی برائےت ہر روز کچھ جایا کرے۔ 12
راستے تکلیف دہ چیز کے هشادے کا ثواب
پہلی حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every human being is created with three hundred and sixty joints. Whoever glorifies Allah, praises Allah, declares Allah’s oneness, and removes a stone, thorn, or bone from the road, or enjoins good or forbids evil, to the number of those joints, he will walk on the Day of Resurrection having distanced himself from the Fire.” [Narrated by Muslim]
ابوبهریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما نے میں کرا کی شخص ایک درخت کی شاخ پر گنز را، جو بلاہ کر درمیان راہ آگئی تو
اس نے کہا: میں ضرور اس شاخ کو مسلما نول کے راستے دور کر دول گا تاکہ یہ ان کو تکلیف نہ
دے۔ پس وہ شخص اس (کارخیر) کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا گیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
دومری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man passed by a branch of a tree on the road and said: ‘I will remove this from the path of the Muslims so it does not harm them.’ He was admitted to Paradise because of it.” [Agreed upon]
ابوبریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ وہال سیر کرتا چھڑ رہا تھا
(کیونکہ) اس نے (دنیا میں ایک کار خیر کیا تھا کہ) (لوگوں کے) راستے ایک درخت کو کٹ
دیا تھا جو لوگوں کو (راستے میں ہونے کی وجہ سے) تکلیف دیا کرتا تھا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
تیسری حدیث
I saw a person in Paradise who was walking freely, because he had cut down a tree on the road that caused inconvenience to people.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! مجھ کو نی ایسی چیز بتائیے جس سے مجھے فائدہ حاصل ہو
و حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادیا
کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ان چیزوں کا بیان جتن پر صدق کا ثواب ملتا ہے
Abu Barzah (may Allah be pleased with him) narrated: “I said: ‘O Prophet of Allah, teach me something I can benefit from.’ He said: ‘Remove harm from the path of the Muslims.’” [Narrated by Muslim]
ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر دفعہ "سبحان الله"، کہہ پراور ہر دفعہ "الله اکبر"، کہہ پر، اور
ہر دفعہ "لا الہ الا اللہ" کہہ پراور ہرنیک کام کے بتانے پراور ہر برے کام سے روکنے پر نیرات کا
ثواب ملتا ہے اور (یہاں تک کہ) تم میں سے کوئی شخص اپنی یوی سے تم بستری کرے تو اس پر
(بھی) نیک کا ثواب ملتا ہے (پرس کر جیرت سے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم! کہ تم میں سے ایک شخص اپنی خواہش نفس کی تکمیل کرتا ہوا اور اس پر بھی اس کو ثواب ملتا
ہو! (یہ بات کیسے ممکن ہے؟) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: ویہو! اگروہ حرام (یعنی
ناجائز) طریقہ پر اپنی خواہش نفسانی کی تکمیل کرتا تو کیا اس کو عذاب نہ ہوتا؟ چونکہ اس نے (حرام
طریقت سے) چھڑ کر) حال طریقت سے اپنی خواہش پوری کی ہے (اور اپنی یوی کا حق ادا کیا ہے) اس
لئے اس کو (اس پر نیرات کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ نفس جماع نتو صدق ہے اور نہ عبادت، البتہ کوئی شخص
جماع کے ذریعہ رام سے اپنے نفس کی مجبھد اشت کرتا ہے اور اپنی پوی کا حق بھی ادا کرتا ہے اور نک
اولاد پیدا ہونے کی نیت کرتا ہے، اس لے اس طرح اپنی پوی سے جماع کرنے پر مسلمان کو ثواب ملتا
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every glorification of Allah is charity. Every declaration of His greatness is charity. Every praise of Him is charity. Every declaration of His oneness is charity. Enjoining good is charity. Forbidding evil is charity. And in the sexual act of one of you is charity.” They said: “O Messenger of Allah, does one of us fulfill his desire and receive reward for it?” He said: “Do you not see that if he had done it unlawfully, he would have sinned? Similarly, if he does it lawfully, he is rewarded.” [Narrated by Muslim]
بُهَیْسَةُ رضي الله عنها اپنے والد سے دریافت کرتی ہیں کر ان کے والد نے
حضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ) عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ لوگ چیز ہے جس سے ( کسی کو )
روکنا درست نہیں ؟ حضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے : وہ پانی ہے ، انہوں نے پھر دریافت کیا
کہ اے اللہ کے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم ( پانی کے بعد ) وہ کوئی چیز ہے جس کو دینے سے انکار کرنا
منع ہے ؟ حضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے : وہ نمک ہے _ انہوں نے پھر دریافت کیا : اے
اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ! وہ کوئی چیز ہے جس کا انکار کرنا درست نہیں ؟ حضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرما یے کہ جس قدر نیک کام تم سے ہوسکے تمہارے لے لے بہتر ہے _
اس کی روايت البوداود نے کی ہے _
پحلی حدیث
پحلی حدیث کے نقصان پر صبر کرنے سے ثیرات کا ثواب ملتا ہے
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said, 'Allah, the Blessed and Exalted, says: "O son of Adam, if you are patient and seek reward at the first shock, I will not be pleased with any reward for you less than Paradise."'" [Narrated by Ibn Majah]
انس رضي الله عنه روايت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ جو مسلمان کوئی درخت لگا یا کچھ بویے ، اور اس میں سے کوئی انسان یا
پرندہ یا جانور پکڑ کھا لے تو ( اس کواس نقصان پر صبر کرنے کی وجہ ) ثیرات کا ثواب ملتا ہے _
اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے _
انس رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ جو مسلمان کوئی درخت لگا یا کچھ بویے، اور اس میں سے کوئی انسان یا
پرندہ یا جانور پکڑ کھا لے تو ( اس کواس نقصان پر صبر کرنے کی وجہ ) ثیرات کا ثواب ملتا ہے _
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے _
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No Muslim plants a tree or sows a crop, and a bird, human, or animal eats from it, except that it is charity for him.” [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Jabir: “And whatever is stolen from it is charity for him.”
اور مسلم کی روايت میں جابر رضي الله عنه سے اس طرح مرودی ہے کہ اگر اس
کے ( پحلی حديث سے ) پچھے چوری ہوجائے تو اس پر کی اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے _
دوسری حدیث
Another hadith
جابر رضي الله عنه روايت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ کسی نے بھجر زمین کو آباد کیا ( جیسی اقتادہ زمین میں کچھ کی ) تو اس میں کچھ
اس کے لے ثواب ہے اور کچھ کا کسی وجہ سے نقصان ہوجائے ( جیسے سیلاب آجائے یا جانور
جابر رضی اللہ عنہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ کسی نے بھجر زمین کو آباد کیا ( جیسی اقتادہ زمین میں کچھ کی ) تو اس میں کچھ
اس کے لے ثواب ہے اور کچھ کا کسی وجہ سے نقصان ہوجائے ( جیسے سیلاب آجائے یا جانور
کہا جاتے ہیں انسان لے جاتے اور اس پر وہ صبر کرتے ہیں تو اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی روايت نسائي اور دارمي نے کی ہے۔
دودھ والے جانور کو مستعار دینا کچھ بڑا ثواب ہے
It is said that if a person takes something and bears patience over it, they will receive the reward of charity. It is narrated by Nasa'i and Darimi that giving a milk-producing animal on loan is a great reward.
وَا لَوْ سَلَّمْتُ ارْشَادِ فَرْمَا ئِي كَبْهَتَرِينِ صَدَقَ زِيَادَهْ دُوْدُهْ دِيْنِ وَالِي اوْتِي بَهْ جَوْسِي كَوْمِسْتَعَارِدِي
جَا ئِي ( تَا کَرْوَهْ اسْ کَے دُوْدُهْ سَ فَا نْدِهْ حَا صِلْ کَرْنِ کَے بَعْدِ اسْ کَوَا لِپْسْ کَرْدَوَ سَيَا بْهَتَرِينِ
صَدَقِ ) وَهْ زِيَادَهْ دُوْدُهْ دِيْنِ وَالِي بَکْرِي بَهْ جَوْسِي كَوْمِسْتَعَارِدِي جَا ئِي کَرْوَهْ نَحْ کَوْبَرْتِنِ بَهْرْ دُوْدُهْ دِيْ
ہَوْ، اورْ شَامْ کَوْجِمِی بَرْتِنِ بَہْرْ دُوْدُهْ اسْ کِي رَوَا يِتْ بَخَارِي اورْ مُسْلِمْ نِ مَتْفَقْ طُوْرْ پَرْگِي بَہْ
ف : اس حدیث شریف میں "منحة" کا لفظ نذکور ہے اور "منحة" عطیہ کو کہتا ہے اور یہ عموماً اونٹ، گائے اور بکری میں ہوا کرتا تھا عرب میں بی معمول تھا کر صاحب ثروت جس کو اللہ تعالیٰ
تو فیق دے، وہ دودھ والی اونٹی، گائے یا بکری، کسی محتاج کو مستعار دیتا تا کر وہ دودھ استعمال کر نے کے
بعد ما لک کو پچھر واپس کردے، اس کو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت پسند فرمایا اور اس کی تعریف کی
ہے۔ (مرقات، اشعہ اللمعات)
ان اعمال کا بیان جن پر غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best charity is a milking she-camel given as a gift, and a milking sheep given as a gift, which goes out in the morning with a vessel and returns in the evening with another.” [Agreed upon]
(1) The statement: “Given as a gift.” In Al-Bada’i: “If one gives a milking sheep, camel, or cow as a gift and says: ‘This sheep is a gift for you,’ or ‘This camel,’ or ‘This cow,’ it is considered a loan, and it is permissible for the recipient to benefit from its milk. Even though milk is a physical substance, it is considered a benefit by custom and practice, so it is treated as a benefit, as if he has permitted him to drink the milk. Thus, it is permissible for him to benefit from its milk.”
وَا لَوْ سَلَّمْتُ ارْشَادِ فَرْمَا ئِي کِسْ اگْرَکَوْتِیْ خَضْ کِسْیْ کُوْدُوْدُهْ دِيْنِ وَا لَا جَانُوْرْ عَارِيَةْ دِیْ سَيَا پَچْهَرْ قَمْ بَطُوْرْ قَرْضْ دِیْ
یَا کْسِیْ کُوْگَلِیْ کُوْچِ مِیْ رَاهْ بَتَادِیْ ( کَرْوَهْ ا پَتِیْ مَنْزِلْ مَقْصُوْدِتِکْ پَہُوْنِچْ سِگَ ) تَوْا سْ کَوَا يِ غَلا مْ يَا بَنْدِیْ
آ زَادْ کَرْنِ کَےْ بَرَابَرْ ثَوَابْ مَلْگَاْ
اسْ کِيْ رَوَا يِتْ تَرْمِذِيْ نِےْ کِيْ بَہْ
جانور کو پانی پلانے کا ثواب
There is a reward for giving water to an animal.
وَا لَوْ سَلَّمْتُ ارْشَادِ فَرْمَا ئِي کِسْ ایْ کَا يِ بَدْکَا رْعُوْرْتِ کِیْ خَخْشَشْ ( مُخْضِ ) اسْ بَنَاءْ پَرْہَوْگِیْ ( کَرْا سْ نِےْ ایْ
پَیَاتِ سَ کَتْ کَوْپَانِیْ پَلَا یَتْحَا ) جَبْکَرْوَهْ رَا سْتَدِ سَگَزْرِرِ، یَتْحِ تَوْا سْ نِےْ ایْ کَتْ کَوْکَوْیِیْ کَےْ پَا سْ وَیِکْا
جوْ ( پَیَاسْ کِےْ مَارِیْ ) اپْنِ زَبا نْ بَا هَرْ نِکَا لَےْ بَہْوَ سَ تَحَا اورْ قَرْیِبْ تَحَا کَرْوَهْ ( پَیَاسْ کِيْ شَدْتِ کَےْ
مارے) بلاک ہوجائے۔ پس اس نے اپنا موزہ نکالا اور اس کو پھی اور ہی سے باندھ کر کنویں سے پانی کچھ پھا اور کے کو پلا یا اس کام کے صل میں اس عورت کو جخش دیا گیا صحاب رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا جانورول پراحسان کرنے میں بھی تم کو ثواب ملتا ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: بال! ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ جانور کو جھوکا مارنے کا عذاب
A man was blocked by a woman. He then took out his whip and, after extending it, tied it to a tree and pulled the woman by her hair, causing her to fall. The Companions (RA) asked, 'Do you receive reward for showing kindness to animals?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'Yes, there is a reward for showing kindness to every living being.' This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim. There is punishment for striking an animal with a whip.
ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے پر دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو (مختلف) ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کہ جس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا، پھال تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ تو وہ اس کو کھلانی اور نہ گھلا چھوڑتی کہ وہ زیین میں کے جانور (مثالاً چوبہ وغیرہ) کھائی (اور اپنا پیٹ بھری)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ جنت میں لے جانے والے اعمال کا بیان پہلی حدیث
Ibn Umar and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A woman was punished because of a cat she confined until it died of hunger. She did not feed it or let it go to eat from the insects of the earth.” [Agreed upon]
عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لاے تو میں (آپ کی خدمت میں) حاضر ہوا (تاکہ آپ کے حالات معلوم کر کے دعوائے نبوت کی تصدیق کرول اور اسلام لاول)۔ تو جون میں میری نظر حضور علیہ صلی اللہ کے رخ انور پر پرتی تو میں دیکھتا ہیں پچان لیا کر ایسی (نیک) صورت کسی جھوٹے طبع کی نہیں ہوسکتی۔ (مدینہ پاک پہوچنے کے بعد لوگوں کو جمع کر کے) پہلی چیز جو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی وہ یہی کہ اے لوگو! سلام کو روانہ دو (یعنی کثرت سے سلام کیا کرو، اور پکار کر سلام کرو، چاہے وہ اپنا ہو یا پر ایا ہو) اور لوگوں کو کہانا کہ لا واور رشتہ دارول کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو۔ اور رات میں اس وقت نماز پڑھا کر و جبکہ لوگ سوتے ہوں (تاکہ تم کو کیسے نی اور دیجی حاصل ہو) تو تم (ان کاموں کے صل میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائے گے۔ اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور داری نے کی ہے۔
دومسری حدیث
Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) narrated: “When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, I came to him. When I saw his face, I knew it was not the face of a liar. The first thing he said was: ‘O people, spread peace, feed the hungry, maintain family ties, and pray at night while people are asleep. You will enter Paradise in peace.’” [Narrated by Tirmidhi, Ibn Majah, and Al-Darimi]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ اللہ بزرگ و برتر کی جو حسن ہیں عبادت کرو (جس نے اپنی
رحمت سے تم کو تم فرتم کی نعمتین عطا فرمائی ہیں) اور (لوگول کو) کہنا کہ لا و اور سلام کوروانج ور (یعنی
کثرت سے سلام کیا کرو، اور با آواز بلند اپنے اور پڑا لے پرسالم کیا کرو) تو تم (ان کا مول کے صل
میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاو گے۔ اس کی روایت ترنذی اور اب ملجب نے کی ہے۔
صدقہ برے خاتمتے پچاتے ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Worship Allah with His great and exalted beauties (which He has bestowed upon you as blessings through His mercy), and say: La ilaha illallah (there is no deity but Allah) and send abundant salutations (upon me), meaning, send many salutations and do so loudly, both for yourself and for others. Then you will enter Paradise in safety.' This has been narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. It is concluded with a good ending.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ظہردا کرتا ہے اور برے خاتمتے پچاتے ہے۔
اس کی روایت ترنذی نے کی ہے۔
ف: صحاب مرقات اور اشعة اللمعات نے سوء خاتمت کی وصورتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ
انسان موت کے وقت غفلت، وسوے اور جزع عفرع میں بتلا ہو جا گے اور شہادت ایمان پر خاتمت
ہو دومسری صورت یہ کہ موت اچا کے جلنے، ذوبنا اور دب کر مرنے سے واقع ہو تو خیرات کر
سے اللہ تعالی سوء خاتمت کی ان دونوں صورتوں سے پچاتے ہیں اور نیا و آخرت کی سلامتی عطا فرما تے
یعنی
صدقہ قیامت کے دون ساپیکا کام دے گا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity extinguishes the anger of the Lord and prevents a bad death.” [Narrated by Tirmidhi]
ف: صحاب مرقات اور اشعة اللمعات نے سوء خاتمت کی وصورتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ
انسان موت کے وقت غفلت، وسوے اور جزع عفرع میں بتلا ہو جا گے اور شہادت ایمان پر خاتمت
ہو دومسری صورت یہ کہ موت اچا کے جلنے، ذوبنا اور دب کر مرنے سے واقع ہو تو خیرات کر
سے اللہ تعالی سوء خاتمت کی ان دونوں صورتوں سے پچاتے ہیں اور نیا و آخرت کی سلامتی عطا فرما تے
مرثد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھ سے یحدیث بیان فرمائی ہے کہ ان صحابی نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیارشاود فرما تے سنا ہے کہ قیامت کے دون مسلمان کا صدقہ اس کے لے ساپیکا
کام دے گا (یعنی قیامت کی گرمی سے راحت وآرام کا سبب ہو گا)۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
جو پچھا اللہ کی راہ میں دیا جاتا ہے وہ باقی ہے
Martad ibn Abdullah reported that some of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) narrated to him that they heard the Prophet (ﷺ) say: “The shade of the believer on the Day of Resurrection will be his charity.” [Narrated by Ahmad]
ام المومنین عائشہ صدیقرضی اللہ عنہا سے روایت ہے و فرما تی ہیں کہ (حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابل بیت میں سے) کسی نے ایک بگڑی ذنگ کی (اور اس کو فقراء اور
پروسیون میں تقسیم کیا) جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گھر) تشریف لائے تو دریافت فرمائے
(کیا سبگری میں سے تقسیم کے بعد) پھر باقی رہ گیا ہے؟ تو ام المومنین جواب دین کر (صرف)
ایک دست باقی رہ گیا ہے اس میں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (نہیں) پوری سبگری
باقی ہے سوا ے اس دست کے جو (گھر میں) رہ گیا ہے۔ (یعنی جو پچھا اللہ کی راہ میں دیا گیا، اس کا
ثواب اللہ کے پاس باقی ہے اور جو گھر میں نہ گیا وہ فانی ہے)-
اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے-
وہ تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that they slaughtered a sheep, and the Prophet (ﷺ) asked: “What is left of it?” She said: “Only its shoulder is left.” He said: “All of it is left except its shoulder.” [Narrated by Tirmidhi, who authenticated it]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مر فوعاً روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ) تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے
ہیں: ایک وہ شخص جو رات کے وقت (نیندے ہے) اٹھ کر کلام اللہ (کونماز یا غیر نماز میں) پڑھا کرتا ہو،
دوسرے وہ شخص جو اپنے دانش بات کے پچھا کراس طرح خیرات کرے (کر) باقی باقی کواس کی خبر
نہ ہو۔ تیسرے وہ شخص جو کسی جہاد میں شریک ہو، اور اس کے ساتھیوں کے قدام اکثر گئے لیکن وہ (تہما)
دوشمن کے مقابلوں میں ثابت قدم رہے۔ اس کی روایت تزدی نے کی ہے-
وہ تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں
اور تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated in a marfu’ narration: “Three people are loved by Allah: a man who stands at night reciting the Book of Allah, a man who gives charity with his right hand and conceals it from his left hand, and a man who is in a military expedition and his companions flee, but he faces the enemy.” [Narrated by Tirmidhi]
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین شخص ایسے
ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ پس وہ تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں ان
میں سے ایک وہ ہے (جس نے اللہ کے نام پر ماںگنے والے کو صدق دیا) جب راکی سائل ایک جماعت
کے پاس آیا ور اللہ کے نام پر ماںگا اور ان لوگوں سے قرابت کا وسط دے کر نہیں مانگا، ان لوگوں میں
سے کسی نے اس کو پچھا نہیں دیا۔ انجیب میں سے ایک شخص (پچھے سے اٹھ کر) باہر آیا اور اس مانگنے
والے کواس طرح پچھا کر دیا کہ سواے خدا اور اس شخص کے جس کو دیا گیا کسی کو معلوم نہ ہوسکا (یعنی وہ
سائل کودیے والا شخص ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں۔ دومرا وہ شخص ہے جو سب کورات میں
سوتا چھوڑ کر خدا کی عبادت کرتا ہو، جبکہ لوگ رات میں سفر کر رہے ہوں، پہاڑ تک کہ جب نیند ان پر
غالب آگئی اور وہ سوگے۔ انسان میں سے ایک شخص (سب کو سوتا چھوڑ کر) انہا (اللہ تعالیٰ فرماتے
ہے) اور میرے سامنے گر گر آئے۔ لگا اور میرے کلام کی تلاوت میں مشغول ہوگیا۔ اور (تیرا) وہ
شخص بھی جسے شکر میں (شریک جہاں) تھا اور دشمن سے مقابلہ ہوا، اور اس کے ساتھ ہیول کے قدم
اکثر گئے اور وہ (دشمن کے مقابلے میں) سپردہ تائے ثابت قدم رہا۔ یہاں تک کہاپنی جان دیدی، یا
اس کو نہ حاصل ہوئی (ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ کے پاس محوب ہے) اور وہ تین شخص جن پر اللہ تعالیٰ
غضبناک ہوئے ہیں (وہ یہیں: ایک) زنا کار جوڑہا (دوسرے) تکبر کرنے والا فقیر اور
(تیرے) وہ دولت مند جو ظلم کرتا ہو۔ اس کی روایت ترنزی اور نسائی نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Three are loved by Allah, and three are hated by Allah. Those loved by Allah are: a man who comes to a people and asks them by Allah, not by any kinship between him and them, but they refuse him, so a man stays behind and gives him secretly, so that no one knows of his gift except Allah and the one who gave it; a people who travel at night until sleep becomes dearer to them than anything else, so they stop and rest, and one of them stands and flatters me and recites My verses; and a man who is in a military expedition, and his companions flee, but he faces the enemy until he is killed or victory is achieved. The three hated by Allah are: the old adulterer, the poor show-off, and the oppressive rich man.” [Narrated by Tirmidhi and Nasa’i]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیا کیا تو وہ بلندگی تو (اس کو تھامنے کے لیے)
اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کیے اور پہاڑوں کو زمین پر محکم کیا تو زمین (کا لپنا بنہ ہوگیا اور اس) کو قرار
حاصل ہوگیا تو فرشتے پہاڑوں کی سختی (کود کیا کر اس) سے چیران رہ گئے اور عرض کیے: اے
پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑوں سے بڑا کر کچھ کوئی سخت چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
پال (وہ) لوپاہے (جو پہاڑ سے سخت ہے کہ وہ پچھر کو توڑ دیتا ہے) فرشتے نے (چیرتے ہے) پھر
پوچھا: اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں لوپاہے سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا: پال (وہ) آگے ہے (جولوپاہے سے سخت ہے کہ لوپہ کو زم کر دیتے ہے) فرشتے نے پھر عرض
کیا اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پال
(وہ) پانی ہے (جو آگ کو جسی بجا دیتا ہے) فرشتے نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کی
مخلوق میں پانی سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: پال (وہ) ہوا ہے (جو پانی پر
غالب ہے کہ پانی کو اڑا لے جاتی ہے، تو فرشتے نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کے مخلوق
میں ہوا سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: پال (وہ) انسان ہے (جو سب سے
زیادہ سخت اور قوی ہے) کہ جواب پن سیدہ باہے اس طرح چھیا کر خیرات کرتا ہے کہ اس کے
باہم باہو کو جسی خبر نہیں ہوئی (اس لیے کہ اس نے نفس کوریا اور دکھا ہے اور شیطانی وسوسوں سے
پچاپاوربنی عاوتون کا مقابلہ کیا اور اخلاص سے خیرات کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو جتندا کیا۔ اس حدیث کی روایت ترتیزی نے کی ہے۔
شگ، بجوکے اور پیاسے کی مد کرنے کا جنت میں بدلا
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah created the earth, it began to shake. He created the mountains and placed them on it, and it became stable. The angels were amazed at the strength of the mountains. They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than the mountains?’ He said: ‘Yes, iron.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than iron?’ He said: ‘Yes, fire.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than fire?’ He said: ‘Yes, water.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than water?’ He said: ‘Yes, wind.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than wind?’ He said: ‘Yes, the son of Adam, who gives charity with his right hand and conceals it from his left hand.’” [Narrated by Tirmidhi]
علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جو مسلمان کسی برہمن مسلمان کو کٹرے پہنادے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سپرلاس پہنا دینے گے اور جو مسلمان کسی بجوکے مسلمان کو کھانا کھلا دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پچل کھلا دینے گے اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلا دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی مہرگلی دینے کے ثواب (طہور) پلا دینے گے۔ اس کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے۔
Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Any Muslim who clothes a Muslim in need, Allah will clothe him from the green garments of Paradise. Any Muslim who feeds a Muslim in need, Allah will feed him from the fruits of Paradise. Any Muslim who gives water to a Muslim in need, Allah will give him from the sealed pure drink.” [Narrated by Abu Dawud and Tirmidhi]
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنکہ کس کسی مسلمان کو کوئی کٹرا (جیسے بندر، چاڑروغیرہ) پہنا دے تو اس (پہنا نے والامسلمان) اس وقت تک اللہ کی حفاظت (اورامان) میں رہے گا جب تک کس کٹرے کی ایک دھیکی اس کے (یعنی پینے والے کے جسم) پہاچی رہے گی۔ اس کی روایت امام احمداورترمزی نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No Muslim clothes another Muslim except that he remains under the protection of Allah as long as a thread of that garment remains on him.” [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سعد زینب مریمال کا انتقال ہوگیا تھا (اور میں ان کی روح پر ایصال ثواب کے لیے کچھ خیرات کرنا چاہتا تھا جول ارشاد ہوگا) کوئی خیرات فضل ہے (جس سے ان کو ثواب پہوچے)؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ پانی (بہترین صدقہ ہے، اس لیے تم کنوالا کہو اور تاکہ سبقواس سے فائدہ پہوچے) تو حضرت سعد نے کنوالا کہوادا، اور کہا پیکنوالا ام سعد (پر ایصال ثواب) کے لیے (وقف) ہے۔ اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔
عاشوراء کے دن خرچ کرنے کی برکت
Sa’d ibn Ubadah (may Allah be pleased with him) said: “O Messenger of Allah, my mother has died. What is the best charity I can give on her behalf?” He said: “Water.” So he dug a well and said: “This is for Umm Sa’d.” [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i]
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے پی کہ جو خص عاشوراء کے دون اپنے الہ وعیال پر نفقہ میں ( لیعن کہنا کہتا نے وغیرہ میں ) وسعت کریگا تو اللہ تعالیٰ اس پرسال بھر وسعت کریں گے ( لیعن خیر وبرکت نازل کریں گے ) سفیان ثوری ( جواس حدیث کے رواپول میں ہیں ) فرماے پی کہ تم نے اس کا بارہا تجرہ کیا (اور خوب پی پایا کہ سال بھر وسعت رہی )۔
اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever is generous to his family on the day of Ashura, Allah will be generous to him for the rest of the year.” Sufyan said: “We have tried this and found it to be true.” [Narrated by Razin]
Al-Bayhaqi narrated it in Shu’ab Al-Iman from him, Abu Hurairah, Abu Sa’id, and Jabir, but he weakened it. Al-Iraqi said: “It has chains, some of which are authentic, and some meet the conditions of Muslim.”
اور زیادہ نہیں اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
And it is not more than this; its narration is in the branches of faith.