یہ باب بہترین صدقہ کے بیان میں ہے
پہلی حدیث
The First Hadith
ابوہریرہ اور حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دو نول حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین نذرات وہ ہے جو ضرورت سے زائد مال میں سے دی جائے (کہ نذرات کے بعد بھی مال ابل و عیال کی ضرورت کے لئے باقی رہے)اور خرچ کی ابتدا اعلوگول سے کرو جوتمہارے زبرپروش ہول۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے صرف حکیم بن حزام سے روایت کی ہے۔
دوسری حدیث
Abu Hurairah and Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best charity is that which is given out of sufficiency, and begin with those who are under your care." [Narrated by Bukhari, and Muslim narrated it from Hakim alone]
صلى الله عليه وسلم!
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ کوئی نذرات (ثواب کے اعتبار سے) بہترین ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے کہ (بہترین نذرات یہ ہے) غریب آدمی (محنت اور مشقت کر کے جو مال حاصل کرتا ہے اس میں سے اپنی) وسعت کے لحاظ سے نذرات کرے اور خرچ کی ابتدا اعلوگول سے کرو جوتمہارے زبرپروش ہول۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
تیسری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man asked, "O Messenger of Allah, which charity is the best?" He replied, "The charity given by a poor person, and begin with those who are under your care." [Narrated by Abu Dawud]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ بہترین نذرات یہ ہے کہ تو نہیں جو کو (خواہ وہ مسلمان ہو، یا کافر ہو، یا جانور) پیت بھر کھانا کھلا دے۔ اس کی روایت تیمی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
مال کا بہترین مصرف ابل و عیال اور جہاد میں خرچ کرنا ہے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'The best form of charity is when you do not see the one to whom you give (whether they be Muslim, or non-Muslim, or an animal). This narration is reported by Tirmidhi in Shu'ab al-Iman. The best expenditure of wealth is on camels and family, and in jihad.'
_ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ بہترین دینار (جس کی رقم) وہ دینار ہے جس کو آدمی اپنے ابل و عیال پرخراج کرے اور وہ دینار (جبھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنی جہاد کی سواری پرخراج کرے، اور (اس طرح) وہ دینار (جبھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنے جہاد کرنے والے ساتھیوں پرخراج کرے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
مال کو خرچ کرنے کی ترتیب
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best dinar a man spends is the dinar he spends on his family, the dinar he spends on his riding animal in the way of Allah, and the dinar he spends on his companions in the way of Allah." [Narrated by Muslim]
_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میرے پاس دینار ہیں (ارشاد ہو کہ میں ان کو کیسے خرچ کروں) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما کر (میل) تو اس کو اپنی ذات پرخراج کر اخون نے عرض کیا کر (اس کے بعد مجھی) میرے پاس دینار (باتی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہ (اس کے بعد مجھی) میرے پاس اور دینار (باتی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما کہ تو اس کو اپنی یوی پرخراج کر، اخون نے (پھر) عرض کیا: (اس کے بعد مجھی) میرے پاس اور دینار (باتی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما کہ تم خود بچھدار ہو (اس لے تم جس کو مستحق بھیجتے ہواس کو دیو)۔ اس حدیث کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔ ابل و عیال پرثواب کی نیت سے خرچ کرنا محی نیک ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I have a dinar." He said, "Spend it on yourself." He said, "I have another." He said, "Spend it on your child." He said, "I have another." He said, "Spend it on your wife." He said, "I have another." He said, "Spend it on your servant." He said, "I have another." He said, "You know better (where to spend it)." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i]
_ ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما ہیں کہ جب کوئی مسلمان اپنے ابل و عیال پرثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو اس پراس کو نیرات کا ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
فضل ترین خرچ وہ ہے جوال و عیال پر ہو
Abu Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a Muslim spends on his family with the intention of reward, it is counted as charity for him." [Agreed upon]
وَاللّٰهُمَّ ارْشَدْ فَرْماً يَجِبُ كَرْ (اَنْسَانِ اَنْ مَا لَكَ ئِ طَرْ يَقُولْ تَ خَرْجَ كَرْتَابَ) اَيْ (خَرْجَ تَوْ)
وہ دینار کے جس کو تم راہ خدا (لیئے جہاد، یاتج، یاطب علم) میں خرچ کرتے ہواور ایک دینار وہ ہے جس کو تم مسئلین پرخیرات کرتے ہواور ایک دینار وہ ہے جس کو تم اپنے الہ وعیال پرخرچ کرتے ہو (یون تو ان میں سے تم کو ہرا ایک دینار کے خرچ پر ثواب ملتا ہے لیکن) وہ دینار جس کو تم نے اپنے الہ وعیال پرخرچ کیا ہووہ ثواب کے اعتبار سے سب سے فضل ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اولا د پرخزج کرنے کا ثواب
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A dinar you spend in the way of Allah, a dinar you spend to free a slave, a dinar you give in charity to a poor person, and a dinar you spend on your family, the greatest of these in reward is the one you spend on your family." [Narrated by Muslim]
کیا: یا رَسُوْلَ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَسَلَمْ! اَگَرْ مِنْ اَبْوَسْلَمْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کَ پَچَوْلَ پَرْ جَوْمِیْرَ مِیْطَنْ سَ مِیْ خَرْجَ کَرْوَنْ تَوْ کَیَ مُجَہَّدَ ثَوَابْ مَلْگَا؟ تَوْ حَضُوْرَ صَلَّیَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاَلْمَ وَسَلَمْ اَرْشَادْ فَرْماَنْ کَرْتَمْ اَنْ پَرْخَرْجَ کَرْتَ
جاوتم جوپچھرچ کروگی اس کا ثواب تم کو برابر ملگا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔ صلہ تجی کا ثواب خیرات سے برہکر ہے
پہلی حدیث
Ja'far, if you visit Jowtham and converse with him, you will receive equal reward. This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim. The reward for visiting is distinct from other acts of charity.
اَنْہُوْلَ نَ اَیْ بَانْدِ رَسُوْلَ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَاَلْمَ وَسَلَمْ کَ زَمَانْ مِیْ آَ زَادْ کَیَا پَچَرْ (بَعْدَ مِیْ) حَضُوْرَ صَلَّیَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاَلْمَ وَسَلَمْ سَ اَسْ کَا ذَکَرْ فَرْماَیَا تَوْ حَضُوْرَ صَلَّیَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاَلْمَ وَسَلَمْ اَرْشَادْ فَرْماَنْ کَرْ اَگَرْ تَمْ اَسْ (بَانْدِ) کَوَاَپَنْ مَا مَوْلَ کَوْدَے دِیْتَیْ (جَنْ کَوَاَیْ خَادَمْ کَیْ ضَرُوْرَتَ مَیْ) تَوْ اَسْ کَا ثَوَابْ (آَ زَادْ کَرْنَ تَ) زَیَادَہْ ہَوْتَا (اَسْ سَ مَعْلُوْمْ ہَوْتَا ہَ کَرْ صَلَّیَ کَا ثَوَابْ خَیْرَاتْ کَرْنَ سَےْ بَلَہْ کَرْبَ) اَسْ حَدِیْثَ کَیْ رَوَاَیْتْ بَخَارِیْ اَوْرَ مُسْلِمْ نَ مَتْفَقْ طُوْرْ پَرْکَیْ ہَےْ
دومسری حدیث
Second hadith
سليمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے چین کے (اجنبی) مسکین کو خیرات دینے سے (صرف) ایک خیرات کا ثواب ملتا ہے اور (غیرہ) قرابت دار کو خیرات دینے سے دو برابر ثواب ملتا ہے، ایک تو خیرات کا اور دوسراصل رحمت کا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے کی ہے۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُؤْتُوا الْخَیْرَ
Sulaiman ibn ‘Amir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Charity to the poor is charity, and charity to a relative is two things: charity and maintaining family ties." [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah, and Al-Darimi]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوطرحة رضی اللہ عنه، انصار مدینہ میں کھورول کے اعتبار سے بہت بالدار تھا اور ان کو سب سے زیادہ محبووب وہ باگ تھا جس کو بیٹھنے کے لیے جو مسجد نبوی کے مقابل واقع تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف لے جا کرتے اور اس کا عمارہ (اور شیریں) پانی پیا کرتے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُؤْتُوا مِمَّا تُحِبُّونَ" (تم خیر کامل نہیں حاصل ہوگا جس کو یہاں تک کہ تم اپنی پیاری چیز کو نہیں دینا گے) (سورۃ آل عمران: 92) تو ابوطرحة رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا تھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُؤْتُوا مِمَّا تُحِبُّونَ" اور "بیٹھنے کا (ناحیہ باگ) مجھ کو اپنے مال میں سب سے زیادہ محبووب ہے، اس لیے میں اس کو خدا کے نام پر خیرات کرنا چاہتا ہوں اور اس (کو خیرات کرنے سے) اللہ تعالیٰ کے پاس میں اور ذخیرہ (آخرت) کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے: بَخُ بَخُ (واہ واہ! شباش، شباش)۔ یہ باگ نہایت نفع دینے والا ہے، تم نے جو پچھا کھا میں نے سنا (یعنی مجھے تمہارا مشا معلوم ہو گیا) اب میری راہ میں مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم اس کو اپنے (محتاج) قرابت داروں میں تقسیم کرو۔ (تاکہ صدقہ کا بھی ثواب حاصل ہو، اور صدقہ رحمت کا بھی) ابوطرحة رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اپنے کرول کا اور ابوطرحة رضی اللہ عنہ نے اس باگ کو اپنے قرابت داروں اور پچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Abu Talhah was the wealthiest among the Ansar in Madinah in terms of palm trees, and the dearest of his properties to him was Bayruha’, which was facing the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) used to enter it and drink from its good water. Anas said: When the verse You will not attain righteousness until you spend from what you love (Al-Imran 3:92) was revealed, Abu Talhah went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, Allah says: You will not attain righteousness until you spend from what you love (Al-Imran 3:92), and the dearest of my wealth to me is Bayruha’. It is a charity for Allah, and I hope for its reward and treasure with Allah. Place it, O Messenger of Allah, where Allah shows you." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Well done! That is a profitable wealth. I have heard what you said about it, and I think you should give it to your relatives." Abu Talhah said, "I will do so, O Messenger of Allah." So Abu Talhah distributed it among his relatives and cousins. [Agreed upon]
رابطہ بنت عبد اللہ جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور جو ایک
ہمزمن صحابیہ تھی ان سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنه، پروزگار تھا تو یہ
( اپنے ہنزکی آمدی کوروزانہ ) ان پراوران کی اولاد پرخرچ کیا کرتی تھیں - ( چونکہ حضرت صلی اللہ علیہ
وآل وسلم نے عورتوں کو حکم ( جسیا کہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں ذکور ہے جو نیب زوجہ ابن
مسعود رضی اللہ عنہ سے مرور ہے -12 ) دیا تھا کہ وہ خیرات کیا کریں، پارشاوس کر ) انہوں نے
( اپنے شوہر سے ) کہا خدا کی قسم ! تم نے اورتمہارے پچول نے مجھے خیرات کرنے سے روک رکھا ہے
( کہ میرے ہنزکی پوری آمدی تم پرخرچ ہوجاتی ہے ) جس کی وجہ سے میں پچھلی خیرات نہیں کرسکتی
ہوئی ( پیش کر ) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم پرخرچ کرنے کی وجہ سے تم ثواب
سے محروم ہوئی، تو ہوتا ہے کہ پسند نہیں کرتے تم پرخرچ کرو، تو پیدونوں حضرات ( میان بیوی ) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی خدمت میں ( حاضر ہوئے اور ) رابطہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآل وسلم میں ایک ہمزمن عورت ہوئی اور ( چیزی بنا کر ) فروخت کرتی ہوئی اور ( اس وقت )
میرے نچ اور میرے خاوند کے پاس پچھلی ( مال ) نہیں تھے ( چونکہ میں ان پرخرچ کرتی ہوئی )
اس لے میں خیرات نہیں کرسکتی ہوئی ( حضور علیہ ! ارشاد ہو کر ) میری آمدی جوان پرخرچ ہوری
ہے کیا اس کا مجھے اجر و ثواب مل گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم ارشاد فرماتے کہ جب تم ان پر
خرچ کروگی تم کواس کا ( بر ابر ) ثواب ملتا رہے گا۔ اس لے تم ان پرخرچ کرتی جاو۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
پیوی کا پے شوہراوراولا دوزکات دینا جائز نہیں، اس پر دل
ف : اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رابطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کمالی
سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوراپنی اولاد پرخرچ کیا کرتی تھیں -
واضح ہوگا کہ حضرت رابطہ کا ان پرخرچ کرنامہ زکات سے نہیں اس کی ویل شرح معنی الآثار
میں اس طرح نذکور ہے کہ خود حضرت رابطہ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہمزمن عورت ہوئی اوراپنی وستکاری
سے ( روزانہ ) جو پچھلی ہوئی اوراس کی آمدی کو حضرت ابن مسعود پرخرچ کرتی ہوئی - ( اس سے
ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی آمدی کوہر روز خرچ کردیا کرتی تھیں، اس لے مال پرسال کے نذر
گزر نے کی مجھے زکات کے نصاب کا سوال، میں نہیں پیا ہوتا تھا -
موجب ہے یعنی اس سوال سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق ہے۔
نک زکات سے۔
حضرت رابطہ کا خرچہ مدّ زکات سے نہ ہوئے پر شرح معاملہ الّا ثانی میں وسعت دیلی یہ کہ کر
عورت کے لیے پر جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے چوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت
رابطہ جس مال کو اپنے چوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اس مال میں سے اپنے شوہر پر کہی خرچ کیا کرتی
تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو چوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مدّ زکات میں سے نہ تھا۔ اس
سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہ کے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ کہی مدّ زکات سے نہ تھا۔12
Rabitah bint ‘Abdullah, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with them), reported: She was a skilled woman from Sana’a, and ‘Abdullah ibn Mas’ud had no wealth. She used to spend on him and their children from her earnings. She said, "By Allah, you and your children have kept me so busy that I cannot give charity." He said, "I do not like that you should not have a reward for what you do." So she and her family asked the Messenger of Allah (ﷺ). She said, "O Messenger of Allah, I am a skilled woman, and I sell from my work. My children and husband have nothing, and they keep me so busy that I cannot give charity. Do I get a reward for spending on them?" He said, "You will be rewarded for what you spend on them, so spend on them." [Narrated by Al-Tahawi]
(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."
It is not permissible to spend one's own earnings on one’s husband and children as zakaat. Explanation: This noble hadith indicates that Lady Rabiah (RA) used to support her husband, Ibn Mas`ud (RA), and her children with her daily earnings. It is clear that Lady Rabiah did not spend this money as zakaat. The explanation in the commentary of the meanings of the traditions is as follows: Lady Rabiah (RA) herself states that she was a contemporary woman who earned her living and used her daily income to support Ibn Mas`ud (RA). This shows that she spent her daily earnings every day and did not let them accumulate to the point where they would reach the nisab (the minimum amount of wealth required for zakaat). Therefore, the question of paying zakaat on annual savings did not arise for her. This implies that the question pertains to the reward of voluntary charity, not zakaat. Lady Rabiah’s expenditure was not considered zakaat. In the detailed explanation of the issue, it is further clarified that it is not permissible for a woman to spend her zakaat-eligible wealth on her dependents. Since Lady Rabiah used to spend some of her earnings on her husband, it is evident that the wealth she spent on him was not part of her zakaat-eligible wealth. Thus, it is established that the wealth Lady Rabiah used to spend on her husband was not from her zakaat-eligible wealth.
اٰمَاْلْمُؤْمِنِيْنْ حَضَرَتْ عَالْثَرْصَدْ يَقْمَرْضِيْ اْللَّهْ عَنْهَاْ سَتْ رَوَائِتْ بَهْ كَآْ پَنْ
رَسُوْلْ اْللَّهْ صَلَّى اْللَّهْ عَلَيْهِ وَاْلْمْ وَسَلَّمْ سَتْ دَرِيَافْتْ كَيَاْ كَرْ يَاْرْسُوْلْ اْللَّهْ! مِيْرَ دَوْ پَرْطَوِيْ مِيْنْ، مِيْلْ اْنْ دَوْ
مِيْ كَسْ كَوْتَحْفَ دَوْلْ؟ تَوْ حَضْوَرْ اْرْشَادْ فَرْمَاْتَ كَرْ جَسْ كَاْ دَرْوَاْزْهْ تَمْهَارَ (دَرْوَاْزَ سَ) سَتْ قَرْيِبْ تَهْوْ
(اس کے پاس تخفیج ہو)۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ف: اس حدیث تعریف میں پرتوی کا ذکر ہے، پرتوی کے تعین میں اتمہ کے اقوال حسب ذیل
ہیں: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ پرتوی وہ ہے کہ جس کا گھر تمہارے گھر سے ملا ہوا ہو اور
صاحبین کا قول یہ ہے کہ وہ شخص جو تمہارے محل میں رہتا ہو اور محل کی مسیکا مصلی ہووہ پرتوی ہے اور
امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ پرتوس کا شمار اپنے گھر کے پڑجانب سے چاپس گھر تک ہوتا ہے۔
درستی میں کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس کی صراحت علماء قاسم
نے کہی کی ہے اور قیاس کہی کی ہے کہ پرتوی وہ ہے جس کا گھر تمہارے گھر سے متصل ہو۔
(در منتقی کی عبارت یہاں ختم ہوئی)۔
پرتوی کے تعین کے بعد پرتوی سے متعلق حقوق یہ ہیں کہ اگر پرتوی ناوار ہو تو اس کے کہانے،
کہرے اوراس کی امداد سے غفلت ہو اور اگر پرتوی کی مصیبت اور پریشانی میں بتلا ہو جائے تو اس
کے دکھ و ردو میں شریک رہ اور اگر گھر میں کہانے وغیرہ کا اہتمام ہو تو اس میں اپنے پرتوی کو کہی شریک
کر لے اور اگر اپیانہ کر سے تو کم از کم اپنے گھر پر پاوان وغیرہ کے انظمامات کو نماپلنے کرے تا کہ وہ
رنجیدہ نہ ہو۔ جسیا کہ تفسیرات احمد پی، درختارا ور رداختاری "كتاب الوصايا" میں نذکور ہے12
پروپیول سے سلوک کرنے کی تاکید
‘Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: "O Messenger of Allah, I have two neighbors. To which of them should I give a gift?" He said, "To the one whose door is closer to you." [Narrated by Bukhari]
(1) The statement: "The one whose door is closer to you" refers to the neighbor whose house is adjacent to yours, according to the opinion of Abu Hanifah. Others said: "The one who lives in your neighborhood and shares the same mosque with you." This is considered the most appropriate view. Al-Shafi’i said: "The neighbor includes up to forty houses in every direction." The correct opinion is that of the Imam, as mentioned in Al-Durr al-Muntaqa, and clarified by Al-‘Allamah Qasim. This is the analogy. Among the rights of a neighbor is not to forget them in food, drink, and clothing, and to assist them in every difficulty. If one can feed them, they should do so; otherwise, they should not let the effects of cooking, such as smoke, be seen, as it may cause them distress. This is the summary of what is mentioned in Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah and Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar in the book of Wills. This is why ‘Ali al-Qari said in Al-Mirqat: "Perhaps the reason is that they are more connected and more aware, making them more deserving of good companionship and visible kindness." Allah says: And do good to parents, relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the distant neighbor, the companion at your side (Al-Nisa 4:36). This indicates that the closer neighbor is more deserving of kindness, but it does not mean that giving is restricted to the closest neighbor, as is apparent from the hadith.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما نے کہ جب تم (گوشت کا) شورہ پکاو تو اس میں پانی زیادہ کروتا کر (تم اس کے ذرائعے) اپنے پروپیول کی مد کر سکو اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
بہترین آدی اور بدترین آدی کون ہے؟
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you cook a stew, add more water and take care of your neighbors." [Narrated by Muslim]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما نے ہیں کہ کیا میں تم کو سب سے بہتر آدی کا پیٹا نہ دوں؟ سنو! سب سے بہتر آدی وہ ہے جو (بر وقت) اپنے گھوڑے کی لگام تھانے جہاد کے لیے اللہ کے لئے تیار رہتا ہے (پھر آپ ارشاد فرما نے): کیا میں تم کو اس شخص کا پیٹا نہ دوں جو (درجہ میں) اس کے قریب ہے؟ (سنو یہ) وہ شخص ہے جو چند بڑے یوم کے ساتھ گوشت کے تہائی اختیار کر لے اور ان بڑے یوم پر جو اللہ تعالیٰ کا حق بے (لحظہ زکات ہے) اس کو ادا کرتا ہے (پھر آپ ارشاد فرما نے): کیا میں تم کو سب سے برے آدی کی پیٹا نہ دوں؟ (سنویں) وہ شخص ہے جس کے اللہ کے نام کا واسطہ کر سوال کیا جاتے اور (وہ باو جو قدرت رکھے گے) نہ دیتا ہے اس کی روایت ترمذی، نسائی اور دار قطنی نے کی ہے۔
اللہ کے نام کا واسطہ کر سوال کرنے کی اور اپنے سائل کون دینے کی وعید
ف: اس حديث شريف میں ارشاد ہے کے لوگوں میں سب سے بر شخص وہ ہے جس سے سائل اللہ کے نام کا واسطہ دیکر ماںگے اور وہ نہ دے۔ اس بارے میں ابن مبارک کا قول مختار اے اس طرح نذور ہے کہ جو شخص اللہ کا واسطہ کریا اللہ کا حق بتا کر ماںگے، مجھے یہ بات پسند ہے کہ ایسے سائل کو پچھڑا دیا جائے، اس لئے اس نے (دنیوی مال) جس کو اللہ نے حقیر قرار دیا ہے (اس کے حاصل کرنے کے لئے) اس نے اللہ کے نام کو جو عظمت اور شان والا ہے (ایک حقیر پچھڑے کے لئے) استعمال کیا۔
یہ قول اس وقت پر محول ہے جب کہ معلوم ہو کہ سائل حقیقت میں ضرورت مندہ میں ہے۔ اس خصوص میں طبرانی نے قولي سنن کے ساتھ ایک حدیث ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور وہ یہ کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا ہے کہ اس شخص پر لعنہ ہے جو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوا اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس کے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کیا جاتے اور (وہ قدرت رکھے اور سائل کی ضرورت مندہ میں ہے) واقف ہو نے کے
باوجود) سائل کون دے۔ اگر سائل سوال کرتے وقت برا بجل کہ دے تو اسی صورت میں ندیے والا لعنہ کا مستحق ہوگا۔ اور ابوداوداورنسائی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کی ہے جس کو ابن حبان نے تے قرار دیا ہے اور حاکم نے جخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق قرار دیا ہے اور ابن عمر نے اس حدیث کو مرفو ع لعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیو چپا یہ کہ جو شخص اللہ تعالی کے نام کا واسطہ کرنا لگے تم اس کو دیرو۔ صاحب دریختر اور رداختار نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیثول کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ ماگنے والا اور ندیے والا پیدول اس صورت میں لعنہ کے مستحق قرار دیے جا یں گے جب کہ ماگنے والا نہ بہ ضرورت اور اپنے مال کو برطہانے کے لے سوال کرے اور ندیے والا اس وقت ملعون ہوگا جب کہ وہ دین کی قدرت رکن اور سائل کی ضرورت سے واقف ہو نے کے باوجود دے۔12 احسان کا بدل احسان سے دینا چاہیے
Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I inform you of the best of people in status? A man who holds the reins of his horse in the way of Allah. Shall I inform you of the one who follows him? A man who isolates himself with his sheep, fulfilling the rights of Allah regarding them. Shall I inform you of the worst of people? A man who is asked in the name of Allah but does not give." [Narrated by Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, and Al-Darimi]
(1) The statement: "Asked in the name of Allah" in Al-Mukhtarat, it is said: Ibn al-Mubarak said, "If someone asks for the sake of Allah or for the right of Allah, I prefer not to give them anything, as they have elevated what Allah has made insignificant." This is understood to apply when the need is not known. I say: One should consider the prohibition along with what our teacher Al-Jarahi mentioned from Al-Tabarani with a chain of narrators who are reliable, from Abu Musa (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Cursed is the one who asks in the name of Allah, and cursed is the one who is asked in the name of Allah and then refuses, unless the request is inappropriate." This is the summary of what is in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar.
In this noble hadith, it is indicated that the worst person among people is one who, when asked for something in the name of Allah, refuses to give it. Regarding this, Ibn Mubarak’s opinion is that such a vow is made by a person who asks for something in the name of Allah, stating that if his request is not fulfilled, he will do something displeasing. It is my preference that such a petitioner should be turned away, because he has used the name of Allah, which is exalted and glorious, to obtain something trivial that Allah has deemed insignificant. This opinion is valid when it is known that the petitioner is truly in need. In this context, Tabarani has narrated a hadith from Abu Musa (RA) with a sound chain, wherein Abu Musa (RA) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) said that there is a curse upon the person who asks for something in the name of Allah and also upon the person from whom something is asked in the name of Allah, if he has the means and knows of the petitioner’s need but still does not give. If the petitioner curses the one being asked, then the one being asked deserves the curse. And Abu Dawud and Nasa'i have narrated from Ibn Umar (RA) a tradition that Ibn Hibban has authenticated, and Hakim has declared it to meet the criteria of Bukhari and Muslim. According to this hadith, Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) said, 'If someone starts asking in the name of Allah, then delay giving to him.' The scholars of jurisprudence and generosity have stated after narrating the traditions of Abu Musa (RA) and Ibn Umar (RA) that both the petitioner and the one being asked deserve the curse in the following situation: when the petitioner is not in genuine need and is asking to show off his wealth, and the one being asked is cursed when he has the means and is aware of the petitioner’s need but still does not give. Good deeds should be rewarded with good deeds.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص (بطور فریاد کے کسی کے شرطے) اللہ کے نام پرتم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دے دو اور جو شخص تم سے سوال کرتے اور اللہ کے نام پر کوئی چیز مانگے تو تم اس کو دیرو، اور جو شخص کہانے کی دعوت دے تو تم اس کی دعوت کو قبول کرو، اور کوئی شخص تمہارے ساتھ احسان کرتے تو تم کہی اس کے احسان کا بدل دو (یعنی اس کے ساتھ کوئی نیک کرو) اور اگر تم اپیانہ کر سکوتو اس کے لئے دعا کرتے رہو، یہاں تک کہ تم کو یقین ہو جائے کہ تم نے اس (کے احسان) کا بدل چکا دیا۔ اس کی روایت امام احمد، ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔ ف: مرقات اوراشعة اللمعات میں کہا ہے کہ احسان کرنے والے کا بدل احسان سے نہ کسی کو تم ازکم "جزاک اللہ خیرًا" (اللہ تعالی تم کواس کا بہتر بدل دے) کہ دی تو یہ دعا سے احسان کا بدل ہو جائی۔12 اللہ کے نام کا واسطہ دیکر دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگنا چاہیے
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks refuge in Allah, grant him refuge. Whoever asks in the name of Allah, give him. Whoever invites you, respond to him. Whoever does you a favor, repay him. If you cannot repay him, pray for him until you feel you have repaid him." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہی ذات (یا سکے نام کا واسطہ دیکر اللہ سے ناس کے غیرتے) بجز جنت (کے کوئی اور چیز) نہ مانگی جائے۔ (یعنی لوگوں سے اللہ کا واسطہ دے کر دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگنا چاہیے)۔ (مرقات اوراشعة اللمعات۔12) اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
سائے کو خالی باٹھنے لوٹنا اچا ہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Nothing should be asked for in the name of Allah except Paradise." [Narrated by Abu Dawud]
ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گئیں کہ سائے کو (خالی باٹھنے لوٹنا و پچھنے پڑنے ضروری) اگر پچیکہ وہ جلا ہوا کہیں کیول نہ ہو۔
اس کی روایت امام ماک، نسائی نے کی ہے اور ترنذی اور ابوداود نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Umm Yujayd (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Respond to the beggar even if with a burnt hoof." [Narrated by Malik and Al-Nasa’i, and Al-Tirmidhi and Abu Dawud narrated a similar meaning].