Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ البُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ

اس باب میں بیان ہے کہ میت پر کس طرح رونا جائز ہے اور کس طرح کا رونا نا جائز ہے۔12

Weeping Over the Deceased
Volume 4 · Funerals

وقول الله عز وجل وبشر الصبرين الذين اذا اصابتهم مصيبه قالوا انا لله وانا اليه راجعون اوليك عليهم صلوات من ربهم ورحمه واوليك هم المهتدون الل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت نمبر مي ا يغير صلي الل علي وال وسلم ا ايس صابرين كو بشارت سنا ديت ي ك ان ر جب كويي مصيبت تي جب كويي مر جاتا تو و نوح بن كرت اور رثاي لت ن ي بلك بتقا ضا بشريت ان كي انك و س انسو جاري وت ي اور و دل س محكرمي ك ت ي ك تم تو مع مال و اولاد حقيقتا الل تعالي كي ملك ي ما ك حقيقي كواين ملك مي ر طرح ك تصرف كا اختيار حاصل اور تم سب دنيا س الل تعالي ك اس جان وال ي سو ال ك نقصان كا بدلا و بال جا كر ل ا اور جو مضمون بشارت كا ان كوسنا ياجات ي و ي ك ان لو ول ر جداجدا خاص خاص رحمتين محي ان ك رورد ار كي طرف س مبذول وتي ي اور سب ر بالاشترك عام رحمت محي وتي اور ي ي لو ي جن كي حقيقت حال تك رسايي وتي ك حق تعالي كو ما كر اور نقصان كا تدارك كرن والا محجم وقوله تعالي واستعينوا بالصبر والصلاه وانها لكبيره الا علي الخاشعين الذين يظنون انهم ملاقو ربهم وانهم اليه راجعون اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر ع ايت نمبر مي مسلمانو جب تم ر كويي مصيبت اي جب كويي مر جاتا تو نوح بن كرت اور رثاي لان س كيا فايد بلك ايسي مصيبت كي برداشت ك لي صبر اور نماز كا س ارا لو يعني صبر كر اور نماز شروع كرو ك اس مصيبت ك برداشت كرن مي مدد ملتي ا ر جنماز جا ن خودوشوار م ر ان لو ول ر دشوار ن ي جن ك دلون مي الل كا ذري اور يو لو ي جواس با ت كا خيال ركتا ي ك

میں) اے یغیر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسے صابرین کو بشارت سنا دیتے ہیں کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے (جب کوئی مر جاتا ہے تو وہ نوحہ بن کرتے اور رثائے چلتے نہیں بلکہ بتقا ضاے بشریت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور وہ (دل سے محکرمیں) کہتے ہیں کہ تم تو (مع مال و اولاد) حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں، (ما کہ حقیقی کوائن ملک میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل ہے) اور تم سب (دنیا سے) اللہ تعالیٰ کے پاس جانے والے ہیں (سوہال کے نقصان کا بدلا و بال جا کر لگا اور جو مضمون بشارت کا ان کوسنا یاجاتے ہیں) وہ یہ ہے کہ ان لوگول پر (جداجدا) خاص خاص رحمتین محی ان کے پروردگار کی طرف سے (مبذول) ہوتی ہیں (اور سب پر بالاشترک) عام رحمت محی ہوتی۔ اور یہی لوگ ہیں جن کی حقیقت حال تک رسائی ہوتی، (کہ حق تعالیٰ کو ما کر اور نقصان کا تدارک کرنے والا محجم گہے۔)

وَقَوْلُہُ تَعَالَی: "وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۖ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ .

الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (سورۃ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:45، میں) (مسلمانو! جب تم پر کوئی مصیبت آئے جب کوئی مر جاتا ہے تو نوحہ بن کرتے اور رثائے چلانے سے کیا فائدہ بلکہ ایسی مصیبت کی برداشت کے لیے) صبر اور نماز کا سہارا لو، (یعنی صبر کر اور نماز شروع کرو کے اس مصیبت کے برداشت کرنے میں مدد ملتی ہے) اگر جنماز جا نے خودوشوار ہے مگر ان لوگول پر دشوار نہیں ہے جن کے دلون میں اللہ کا ذریہ اور پیوہ لوگ ہیں جواس با ت کا خیال رکتا ہیں کہ

شکّ تھا کہ اپنے رب سے ملنے والے جس اور (مرتے کے بعد) اس کی طرف تہ کولوٹ کر جانا ہے

(اسی لئے وہ بہرصیبت پر صبر کرتے جس اور نماز سے مد دیتے ہیں۔)

غم کی حالت میں بھی نو حاور آہ وزاری کے اگر نسو جاری ہو جائے تو جائز ہے

پہلی حدیث

O Umar (RA), the Messenger of Allah (ﷺ) gives glad tidings to such patient ones that when any calamity befalls them (when someone dies, they do not wail or recite elegies but rather, with the patience of humanity, tears flow from their eyes and they say in their hearts: 'Truly, you (with wealth and children) belong to Allah, the Exalted, (who has the right to dispose of all things as He wills) and you all shall return to Allah, the Exalted, from this world (so seek recompense for your loss there and let this be the glad tiding they seek). This is that they receive specific mercies from their Lord (bestowed upon them individually) and a general mercy (shared by all). These are the people whose true state is known (that they recognize Allah and seek to make up for their losses through Him). And His statement, Exalted is He: 'And seek help through patience and prayer. Indeed, it is difficult except for the humble (those who believe that they will meet their Lord and that they will return to Him). [Quran, Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 45] And the guidance of Allah, the Exalted, is (for Muslims! When any calamity befalls you, when someone dies, what benefit is there in wailing and reciting elegies? Rather, seek support through patience and prayer (meaning, be patient and start praying, for this helps in bearing the calamity). Although it is heavy, it is not difficult for those whose hearts are filled with the remembrance of Allah and who are pious, for they think that...'}

There was doubt about meeting one’s Lord and turning towards Him (after death). (Therefore, they remain patient in adversity and seek solace in prayer.) If sighs and groans continue even in a state of grief, it is permissible.

The First Hadith

2554

اے رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: (ایک دن کا واقعہ ہے) کہ

حضرت ابراہیم کی دعا کے شوق رہتے، حضور دعا کے گھر پہوچ کر اپنے فرزند حضرت ابراہیم کو (گود

میں) لے آنے کے اور سوگے (پھر واپس ہو گے) چند روز کے بعد تم (دوبارہ) رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دعا کے گھر گئے۔ اس وقت حضرت ابراہیم سکرات کی حالت میں تھے

(پھر کی پی حالت و بیل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گے، حضور کو

روتے ہوئے دیکھ کر) حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ پھلی روتے

ہیں؟ حضور فرماتے: اے ابن عوف (نو حاور آہ وزاری کرنا منع ہے اور آنکھوں سے) آنسو کا جاری

ہونا پر حمت کی نشانی ہے (اور جائز ہے)۔ اس کے بعد آنکھوں میں آنسو لاکر فرماتے، آنکھوں تی ہے

اور دل غم لینے ہے اور تم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہے اور تم اے ابراہیم! تمہاری جدالی

سے غم لینے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر کی ہے۔

دومسری حدیث

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "We entered with the Messenger of Allah (ﷺ) to visit Abu Sayf Al-Qayn, who was the blacksmith of Ibrahim (the Prophet’s son). The Prophet (ﷺ) took Ibrahim, kissed him, and smelled him. Later, we entered again, and Ibrahim was in his final moments. The eyes of the Messenger of Allah (ﷺ) filled with tears. Abdur Rahman ibn Awf said, 'Even you, O Messenger of Allah?' He replied, 'O Ibn Awf, this is mercy.' Then he added, 'The eyes shed tears, and the heart grieves, but we do not say except what pleases our Lord. Indeed, we are saddened by your separation, O Ibrahim.'" [Agreed upon]

2555

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضور کی صاحجزادی حضرت نینب رضی اللہ عنہا

نے خدمت اقدس میں کسی شخص سے پوچھا کہ جس کا سکرات کی حالت میں ہے آپ زرا

تشریف لا یے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ تم واپس جا کر ان کو میرا سلام پہوچاوا اور پوچھ کر

جو پچھا اللہ تعالیٰ لیتا ہے وہ اس کا ہے اور جو پچھا وہ دیتا ہے وہ مجھی اس کا ہے اور اس کے پاس بھرچیز کا

ایک وقت مقرب ہے (وہ وقت طل نہیں سکتا) تم کو چاہیے کہ ثواب کی نیت سے صبر اختیار کریں، حضرت

نینب پھر دوبارہ کو بھیج اور تم دے کر عرض کہ: آپ ضرور تشریف لا ئیے، یہ سن کر حضور کہتے

ہوئے اور سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن لعب اور زید بن ثابت اور دیگر صحابہ کرم حضور کے ساتھ ہوئے۔ جب حضور صاحبزادہ کے مکان پر پہوچے تو حضور کے ساتھ نے کوپچھ کیا گیا۔ اس وقت پچھ سکرات کی حالت میں تھا، پھر کی سانس سینہ میں اضطراب کے ساتھ چل رہی تھی، یہ حالت دکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، حضور کروتے دکھ کر حضرت سعد عرض کیے: یارسول اللہ! کیا آپ پھی روتے ہیں؟ حضور فرماے: سنوسعد! (کسی کی موت پر نوحہ کرنا، چینا چلانا، کرپے پچار لینا اور سر پیٹنا یہ سب حرام اور منع ہے) البتہ آنکھوں سے (بغیر نوحہ کے) آنسو جاری ہونا، بشریت کا تقاضا ہے اور رحمت و نرم دل کی نشانی ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندول کے دونوں میں پیار ماتا ہے (اس لے پیجا تزہے) اور اللہ تعالیٰ کہی اپنے بندول میں سے اہمیس پر رحم فرما تا ہے جورحم دل ہوتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔

Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The daughter of the Prophet (ﷺ) sent a message to him that her son had passed away and asked him to come. He sent his greetings and said, 'To Allah belongs what He takes, and to Him belongs what He gives. Everything has an appointed time with Him. Be patient and seek reward.' She sent another message, insisting that he come. So he went, accompanied by Sa'd ibn Ubadah, Mu'adh ibn Jabal, Ubayy ibn Ka'b, Zayd ibn Thabit, and other men. When the child was brought to the Prophet (ﷺ), his soul was struggling, and the Prophet’s eyes filled with tears. Sa'd said, 'O Messenger of Allah, what is this?' He replied, 'This is mercy that Allah has placed in the hearts of His servants. Indeed, Allah shows mercy only to the merciful among His servants.'" [Agreed upon]

تیسری حدیث
2556

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عورتیں جمع ہوئیں (اور بخیر نوحہ چی و پکار کے آنسوؤل سے) رونے لگیں (حضرت عمر میت پر جسیا کر اشعہ اللمعات میں نذور ہے۔ 12-صرف رونے کو جسی برائے تھاس لے) اٹھاور عورتوں کوروں سے منع کرنے لگا اور (باہر سے آئی ہوئی) عورتوں کو پہلا نے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے: سنو عمر! (نوحہ کرنا اور چی و پکار کر رونامنے ہے۔ آنکھوں سے رونا منع نہیں ہے) پیغمبر کہہوں سے آنسو بہا کر روری ہیں، ان کوان کے حال پر چھوڑ دو، آنکھوں سے جسی کی نہ روئیں جب کہ ان کا دل دکھا ہوا ہے اور مصیبت اکھی اکھی آری ہے۔ اس کی روايت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔ نوحہ کرنے یا نوحہ کی وصیت کرنے کی وعید پہلی حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "A member of the Prophet’s (ﷺ) family died, and the women gathered, weeping over him. Umar stood up to stop them and drive them away. The Prophet (ﷺ) said, 'Let them be, O Umar. The eyes shed tears, the heart grieves, and the loss is recent.'" [Narrated by Ahmad and Al-Nasa’i]

2557

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (ایک دفعہ) پیار ہوئے اور ان کی پیاری بہت سخت تکلیف میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان

کی عیادت کے لئے) تھریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ عبد الرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے جب حضور و بال پہوچ تو ملا حظ فرمائے کہ گھر والوں نے ان کو چاروں طرف گھیر رکھا ہے (جس طرح کہ میت کو گھیر لیتا ہے اور ان پر چادر بھی اڑھا دی گئی ہے) حضور دے ریافت فرمائے کہ کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں حضور، ان کا انتقال نہیں ہوا ہے (پید کی کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روئے دیکھ تو وہ بھی روئے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمائے: سنو صاحبو! اللہ تعالیٰ (کسی کے مرنے کی وجہ سے) آنسو جوں سے آنسو جاری ہوئے اور دل غمزہ ہوئے پر عذاب نہیں دیتا بلکہ بان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمائے کر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب دیتا ہے یا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرماتے ہیں لیکن اگر مصیبت زدوں زبان سے شکوہ شکایت کیا یا زبان سے اللہ سے ناراضی کے الفاظ کہا یا نوح کیا یا چیخ و پکار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو عذاب دیتا ہے۔ بخلاف اس کے اگر وہ مصیبت زدوں زبان سے "انّا للہ و انّا الیہ راجعوْن" کہ کر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور اگر (جاہلیت کی عادت کے مطابق کسی نے وصیت کی کر اس کے مرنے کے بعد اس پر نوح کیا جائے اور ورثاء اس کی وصیت پوری کریں) تو میت کو (اس طرح وصیت کی کر نے کی وجہ سے) عذاب (جسیما کہ مرقات اور رداختار میں ذکور ہے۔12) دیا جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لکھا ہے۔

دوسرا حدیث

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "Sa'd ibn Ubadah fell ill, and the Prophet (ﷺ) visited him, accompanied by Abdur Rahman ibn Awf, Sa'd ibn Abi Waqqas, and Abdullah ibn Mas'ud. When they entered, they found him unconscious. The Prophet (ﷺ) asked, 'Has he passed away?' They replied, 'No, O Messenger of Allah.' The Prophet (ﷺ) wept, and when the people saw him weeping, they also wept. He said, 'Do you not hear? Allah does not punish for the tears of the eyes or the grief of the heart, but He punishes or shows mercy because of this,' and he pointed to his tongue. 'Indeed, the deceased is punished by the wailing of his family over him.'" [Agreed upon] (1)

(1) The statement: "Indeed, the deceased is punished by the wailing of his family over him." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "The deceased is only punished by the wailing of his family if he had instructed them to do so." In Radd Al-Muhtar, it is said: "The interpretation of this Hadith is that people at that time used to instruct others to wail, so the Prophet (ﷺ) said this." This is mentioned in Al-Bahr, quoting Az-Zahirah.

2558

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرمائے سنا ہوں (کہ اگر کوئی شخص جاہلیت کی عادت کے مطابق وصیت کرے کر اس کے مرنے کے بعد اس پر نوح کیا جائے اور ورثاء اس کی وصیت پوری کریں یا اس کے خاندان میں نوح کر نے کی عادت ہو، اور وہ جسی اس کو پیند کرتا تھا اور ان کے اس نوح کرنے راضی تھا، اس کو جسی منع نہیں کیا تھا تو اس کے مرنے کے بعد حسب وصیت اس پراس کے ورثاء نوح کے کے یا حسب روانج اس کے مرنے کے بعد) اس پر نوح کیا گیا تو قیامت کے دن اس طرح نوح کے جانے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لکھا ہے۔

ف : مرقات میں کہا ہے کہ آواز کے ساتھ میت پر رونے کو نوح کیے بین یا میت کے لیے اوصاف بیان کر کے رونا جومیت میں نہیں ہیں، یا میت کے لیے اوصاف بیان کرنا جومیت میں تو ہیں قرآن کو مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے رونا یہ نوح کہلاتا ہے -12 یہی مسلمان کے مرنے پر زمین وآسمان رونے ہیں

Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'Whoever is wailed over will be punished on the Day of Resurrection because of the wailing over him.'" [Agreed upon]

2559

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ (آسمان میں) دودر واں ہیں کہ ایک دروازے سے نیک اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور دوسرا دروازے سے روزی اترتی ہے جب کوئی مسلمان مر جاتا ہے تو جس دروازے سے اس کے نیک اعمال چڑھتے تھے اور دوسرا جس دروازے سے مسلمان کی روزی اترتی تھی، یہ دونول دروازے اس مرنے والے مسلمان بر روے ہیں (اس وجہ سے کہ ان دونول دروازول کواس مسلمان کی وجہ سے جو نہیرو برکات پہوچتے تھے اس کی موت کی وجہ سے بند ہوگئے، بخلاف کافر کے کران دونول دروازول کو کافرتے اس کے شرک کی وجہ سے تکفیر پہوچتے تھی، اس لئے پی دونول دروازے اس کی موت پر نہیں روئے) جسیا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَمَا بَغَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ"۔ (سورۃ دخان، پ:25، ع:1، آیت نمبر:29)

یعنی کفار کے مرنے پر زمین وآسمان نہیں رونے - اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے - نوح کی تفصیل اور اس کی وعید

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'There is no believer except that he has two gates: a gate through which his deeds ascend, and a gate through which his provision descends. When he dies, they weep over him. This is the meaning of Allah’s saying: "So the heavens and the earth did not weep for them." (Quran 44:29).'" [Narrated by Al-Tirmidhi]

2560

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے (بلکہ جہلیت کے طریقہ پر ہے) جو (کسی کے مرنے پر) اپنا منہ پیٹ اور کہرے پچائے (یا شملہ سرتے اتار کر چیچک دے یا دیوار پرس مارتے یا بال نوچے) یا (غم میں) ایسے فاظل کہ جو جہلیت میں رانگ ہے (اور شریعت کے خلاف ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -12 غم کے اظہار کے لئے اپنی بیت بد لئے کی وعید سہلی حدیث

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'He is not one of us who strikes his cheeks, tears his clothes, and calls out with the calls of the days of ignorance.'" [Agreed upon]

2561

عمران بن حصین اور ابو برزہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دو نوں حضرات

فرما تے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہو گے (اس زمانہ کے روانج کے مطابق اسلامی شعار اور سنت یہی کہ مسلمان قیصون پر چادر اوڑھ کر باہر نکلتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرما نے کہ میت کے قرابتدار (اظہار غم کے لئے) چادرول کو رکھ دیے ہیں اور (جاپلیت کے طریقے کے موافق بغیر چادرول کے صرف) قیصون کے ساتھ جنازہ کے ساتھ چل رہے ہیں (بعد کیکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما نے: (تم کو کیا ہوا ہے باوجود یہ اسلام آچکا ہے پھر بھی) تم جاپلیت کے کام کر رہے ہو (زمانہ جاپلیت میں جس غم کا اظہار کرتے تھے، تم بھی زمانہ جاپلیت کے طریقے کی مشابہت کر کے اپنی چادرول کو پچینک کر غم کا اظہار کر رہے ہو) (یا اللہاوراس کے رسول کی مرضی کے خلاف کر رہے ہو) میرا ارادہ ہوا تھا کہ (جس تم اپنی پہلیت کو بدلا کر غم کے لئے دومسرے بیت اختیار کے ہو) میں بھی تمہارے لئے بدوعاء کروں کر تمہاری انسانی صورت میں مسخ ہوکر (غیر انسانی) صورت میں ہوجائیں (یا عیسی کر میت کے قرابتدار ہو کر گے اور اپنی چادری لے کر اودھ لئے (اور پھر کی کے غم میں اس طرح) بغیر چادرول کے نہیں ٹکے اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔

دومسری حدیث

Imran ibn Husayn and Abu Barzah (may Allah be pleased with them) reported: "We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for a funeral, and he saw some people who had removed their cloaks and were walking in their shirts. He said, 'Are you adopting the practices of ignorance or imitating the ways of ignorance? I was about to supplicate against you in a way that you would return in a different form.' They immediately put on their cloaks and did not repeat it." [Narrated by Ibn Majah]

2562

ابوبدرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کروہ فرماتے ہیں کہ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ (سخت پہار ہوئے اور آپ پر غشی طاری ہوئی، آپ کی زوجہ ام عبد اللہ تیخ مار کر آوازے رونے لگیں پھر جب حضرت ابوموسی کو پیغم روس آیا (انہی آپ کی زوجہ تیخ مار کر روری تھیں زوجہ کی پیحالیت وکیکر) حضرت ابوموسی فرماتے: کیون کی تم کو معلوم نہیں میں تم کو بار بار کہتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ایسے شخص سے پیزار ہوں (اور ناراض ہوں) جو (میت کے غم میں جاپلیت کے طریقے کے موافق) سر منڈھالے اور نوح کرے اور کپڑے پچائے (اس لئے میں بھی ان سب چیزوں کو پسند نہیں کرتا ہوں تم کو جاپلیت کرائی چیزوں سے باز رہا کریں۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔ جاپلیت کی ممنوعیت کے نتیجے میں اور نوح کرنے والی عورت پر عذاب کا بیان

Abu Burdah (may Allah be pleased with him) narrated: "Abu Musa Al-Ash'ari fainted, and his wife, Umm Abdullah, began to wail loudly. When he regained consciousness, he said, 'Did you not know?' He then informed her that the Messenger of Allah (ﷺ) had said, 'I disassociate myself from those who shave their heads, wail loudly, and tear their clothes.'" [Agreed upon, with the wording from Muslim]

2563

ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: چار خصلتیں (زمانہ جاپلیت میں ہوا کرتی تھیں) میری

امت میں کچھ وہ باقی رہیں گی:

(1) اپنے حسب پر فخر کرنا (یعنی اپنے اور اپنے آبائے واجداد کی خوبیوں کو اس طرح بیان کرنا کہ

جس سے دوسروں کی حقارت ہو)

(2) دوسروں کے نسب رطن کرنا (یعنی اپنے نسب کی برائی بیان کر کے دوسروں کے نسب کو

عیب لگانا کے نسب کی تحقیر کرنا)

(3) تیسری بات یہ کہ نجوم (جبیا کے اشعۃ اللمعات میں ذکور ہے۔12) کے قواعد کے

موافق پر اعتقاد رکھنا کہ فلال تارہ فلال منزل میں آنے سے بارش ہوتی ہے (یا اعتقاد ہرام ہے، ہر

مسلمان کو پر اعتقاد رکھنا چاہیے کہ تاروں کے لحاظ سے بارش نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے

بارش ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ چاہیں بارش ہوتی ہے) اور جب اللہ تعالیٰ چاہیں بارش نہیں ہوتی اور

(4) چوتھی بات یہ کہ میت پر نوحہ کرنا، نوحہ کرنے والی عورتوں اگر مرنے سے پہلے تو پہنے

کر لے (تو چونکہ وہ پر لے جھڑتی ہی اور منہ نوچتی ہی) تو اس کے مناسب قیامت میں اس پر یہ

عذاب مسلط کیا جائے گا کہ زمانہ بر کے مش لباس پہنا یا جائے گا (تاکہ دوزخ کی آگ اس پر بہت

زیادہ اثر کرے) اور مش پر اتنے کے ناقابل برداشت طجی اور خارش اس کے تمام جسم پر مسلط کی

جا یے گی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

نوحہ کرنے والے اور سننے والے مرداور عورتوں کی وعید

Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'There are four practices in my Ummah from the days of ignorance that they will not abandon: boasting about lineage, disparaging others' lineage, seeking rain through stars, and wailing (over the dead).' He added, 'The wailing woman, if she does not repent before her death, will be resurrected on the Day of Judgment wearing a garment of tar and a cloak of scabs.'" [Narrated by Muslim]

2564

ابوعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ کرنے والے اور نوحہ سننے والے مردوں (جبیا کے اشعۃ اللمعات میں ذکور

ہے۔12) اور عورتوں پر عنت فرماتے تھے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

نوحہ کرنے کے بارے میں امام سلمہ کا واقعہ

Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the wailing woman and the one who listens to her." [Narrated by Abu Dawud]

2565

امام امین امام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ جب امام سلمہ

کے پیلے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا (اور مجھے نوحہ کے نا جائز ہونے کا علم تھا) تو میں

نے اپنے دول میں کہا کہ ابوسلمہ پر طن تھا کہ اپنا طن چھوڑ کر آئے تھے (یہاں ان کے کولی

قرابت دار بھی تھے، اگر کوئی ان کے قرابت دار ہوتے تو ان پر نوحہ کرتے) میں ان پر ایسا ماتم اور

نوحہ کرنے کی جویادگاریہ اور لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہے، چنانچہ میں نے سیاہ پر پہن کر)

ابوسلٰمہ پر ما تم اور نوح کر نے کی تیاری کی اتنے میں ایک عورت نوح اور ما تم میں میراساٹھ دینے کے لئے آ رہی تھی کر (راستے میں) اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم مل گئے اس کو (ما تمی لباس میں) دکیکر فرمائے کہ کیا تم جاہتی ہو کر (نوح اور ما تم کر کے ) شیطان کواس کہر میں داخل کردو، کہ جس کہر سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو (اسلام لا نے کی وجہ سے) نکال دیا تھا (اس عورت کو منقبہ اور تاکید کر نے کی غرض سے) حضور اس جمل کو دومرتہ فرمائے (حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب مجھ حضور کے اس ارشاد کی خبر میں) تو میں ما تم اور نوح کر نے سے رک گئی اور آہوبا کر نے سے بازآگئی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

نوح کی ممانعت اور رو نے کی اجازت

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "When Abu Salamah died, I said, 'He was a stranger, and he died in a strange land. I will weep for him in a way that will be talked about.' I prepared myself to weep for him, but a woman from the countryside came to console me. The Messenger of Allah (ﷺ) met her and said, 'Do you want to bring Satan into a house from which Allah has expelled him twice?' So I refrained from weeping and did not cry." [Narrated by Muslim]

2566

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عورتیں (جمع ہو کریں اور بغير نوح اور چیوپکار کے آنسوولے) رونے لگیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ (میت پرصرف آنکھوں سے رونے کو جسی برانہیں تھی اس لئے اس کے اور عورتوں کو رونے سے منع کرنے لگے، مگر عورتیں حضرت عمر کے منع کرنے سے نہ رکیں تو حضرت عمر کو یخوف ہوا کہ پیروں ابطحتہ بطحتہ کہیں نوح کے نیہو چی جائے، اس لئے) کوڑے مارنے کے تور سول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم حضرت عمر کو عورتوں کے پاس سے اپنے دست مبارک سے ہٹانے اور ارشاد فرمائے: طمعر و عمر! اتنی سخت مت کرو (ابھی تو عورتیں آنکھوں سے رونے چیز گوتم اس کو برانہیں تھوگری جامزہ، حضرت عمر کو جو خوف تھا کہ کہیں عورتیں رونے رونے نوح کرنا شروع کر دیں، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے (قاعدہ ہے کہ رونا بڑی حتہ بطحتہ نوح کے پہو چی جاتا ہے) تم نوح کی نوبت نہ آئے دو (اس لئے کہ) نوح شیطان کی طرف سے ہے، اس سے پچتر ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آل وسلم (عورتوں سے خطاب ہو کر) ارشاد فرمائے سنو! (کسی کے مرنے پر غم کرنا کئی وقت کا ہوتا ہے بعض جائزہ اور بعض ناجائزہ) جب آنکھوں سے آنسو بہا کر غم کیا جاتا ہے اور دل غمگین رہے تو ی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور رحمت کا باعث ہے (اللہ تعالیٰ اس طرح غم کا اظہار کر نے سے ناراض نہیں ہوتے ہیں) اور جب (غم کا اظہار) باتہ سے ہو (مثالا منہ پینا،

پر بے محارث نا اور بال نوچنا) یازبان سے ہو (جسے چلا نا اور بیان کر کے رونا) اور ایسے الفاظ کہ کر رونا جسے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں) یہ بے شیطان کے بھکانے کی وجہ سے ہے (شیطان اس سے خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں-) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔ جنازہ کے ساتھ اگر عورتیں ہول تو کیا کریں

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "When Zainab, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), died, the women wept. Umar began to strike them with his whip, but the Messenger of Allah (ﷺ) stopped him with his hand and said, 'Gently, O Umar.' Then he said, 'Beware of the shrieks of Satan.' He added, 'Whatever comes from the eyes and the heart is from Allah, the Almighty, and is a mercy. But whatever comes from the hands and tongue is from Satan.'" [Narrated by Ahmad]

2567

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (جنازہ کے ساتھ جانا تو سنت ہے) مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے جنازہ کے ساتھ چلے سے منع فرماتے ہیں جس کے ساتھ پکار کر رونے والی اور نوح کرنے والی عورتیں ہول۔ اس حدیث کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ ف: در مختار میں کہا ہے کہ عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا کمرودہ تحریم ہے، خاص کر نوح کرنے والی اور پکار کر رونے والی عورتوں کوئی سے رونے دیا جائے اور مرد کو جنازہ کے پیچے چلنے چاہیے، اگر عورتیں جنازہ کے ساتھ ہول تو مردوں کو عورتوں کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ چلنے زک نہیں کرنا چاہیے بلکہ جنازہ کے آگے چلنے چاہیے۔

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited following a funeral accompanied by wailing." [Narrated by Ahmad and Ibn Majah] (1)

(1) The statement: "Prohibited following." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "It is disliked (Makruh Tahrimi) for women to go out (to funerals), and the wailing woman should be reprimanded. However, the funeral should not be abandoned because of her." In Radd Al-Muhtar, it is said, quoting Abu As-Su'ud: "The apparent meaning is that following her refers to walking with her in general, not specifically walking behind her. Rather, one should avoid walking behind her if she is wailing, as mentioned in Al-Ikhtiyar. This reconciles the matter."

قبر پر نوح کرنے کی ممانعت اور صبر کی فضلیت
2568

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک بار) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عورت کی طرف سے گزر رہے جو ایک قبر کے پاس (بیٹھی) آواز سے رونے ہی، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ارشاد فرماتے کہ (تو آواز سے رونے یہ اور نوح کرنے یہ پینا جائز نہیں) خدا سے ذر (اور اس طرح کا نوح چھوڑ دے) اور صبر کر (تاکہ تجہ اس صبر کا ثواب ملے) اس عورت نے جواب دیا، جا ئے صاحب اپنا کام کرو (آپ کو میری مصیبت کی کیا خبر آپ میری جیسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئے ہیں (یہ عورت جب پی کہ رہی تھی تو اس وقت اس کو معلوم نہیں تھا کہ پیشیت فرماتے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، حضرت جب وہالے تشریف لے گئے تو پھراس عورت سے کہا گیا کہ تجہ پچھر کہیں ہے پیشیت فرماتے والے کون تھے؟

سنو! پیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو تہمین نصیحت فرماتے تھے (وہ عورت بہت نادم ہوئی)

اور وہ بالے اٹھا تو سیدہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دولت خانے پر پہوچی، وہ سمجھ رہی تھی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر دربان ہول گے، جسے باشاول کے دروازے پر

ہوتے ہیں، یہاں آکر اس نے جو کچھ تو معلوم ہوا کہ یہاں نہ تو دربان ہیں اور نہ تو کوئی تکلیف

ہے (گھر کے اندر گئی) اور عرض کی: یا رسول اللہ میں آپ کو پچانی نہیں (میرا قصور معاف کیجئے)

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ صبر کا ثواب تو ابتدا مصیبت کے وقت ہی ملتا ہے (اور

آخر میں تو خود ہیو دصبر آ جاتا ہے لیکن دراصل صبر وہ ہے جوصد میں کے شروع وقت کیا جائے، ورنہ بعد

میں تو ہر ایک کو صبر خود ہیو دآئی جاتا ہے، لہذا اثر وع مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہئے کیونکہ اس پر

ثواب ملتا ہے-) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے-

ابتدا مصیبت، یعنی صبر کر نے اجر ملتا ہے

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) passed by a woman weeping at a grave and said, 'Fear Allah and be patient.' She replied, 'Leave me, for you have not suffered my loss and did not know him.' She was told, 'This is the Prophet (ﷺ).' She then went to the Prophet’s door but found no doorkeepers. She said, 'I did not recognize you.' He replied, 'Patience is only at the first shock.'" [Agreed upon]

2569

ابو عامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بی کریم صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم فرماتے ہیں کر اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کر ابن آدم (جب تجھ پر کوئی مصیبت آئے

مثل کوئی مر جائے یا ناقابل برداشت رنج کی خبر پہنچ تو) مصیبت آئے ہی ابتدا مصیبت کے

وقت ثواب کی نیت سے اگر تو صبر کرے (اور انا للہ وانا الیہ راجعون") کہ اور رونا پینا اختیار

نہ کرے اور نہ کوئی ایسی حرکات کرے کہ جس سے صبر کا ظہار ہواور نہ زبان سے ایسے الفاظ

کہ جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہوں تو اس طرح ابتدا مصیبت کے وقت صبر کرنے کے بدلے

تجھ کو جنت میں عطا کر لگا- (اگر تو ابتدا مصیبت کے وقت رویا، پیا اور بحد کو صبر کیا تو اس کا پچھا

فا نہ ہیں، کیونکہ روئے پیئے کے بعد تو صبر آئی جاتا ہے بالصرف آ کہ سے آنسو پینے تو پچھا

مضا نہ ہیں-) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے-

پچول کے مر نے پر صبر کرنے کا اجر

پہلی حدیث

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said, 'Allah, the Blessed and Exalted, says: "O son of Adam, if you are patient and seek reward at the first shock, I will not be pleased with any reward for you less than Paradise."'" [Narrated by Ibn Majah]

2570

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ اگر کسی مسلمان کے تین پی مر جا ئیں تو وہ جہنم میں ہرگز داخل

نہیں ہوگا، البتہ قسم پوری ہونے کے لئے (دوزخ پر سے بجلی کی طرح فوری گزر جائے گا۔)

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔

ف: جس آیت میں دوزخ پر سے گزر نہ کاز کرہے وہ آیت یہ ہے: "وَانْ مِّنْكُمْ إِلَّا

وَارِدُهَا ۚ گَافَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتَّمَا مَقْضِيًّا"۔

(سورۃ مریم، پ:16، ع:5، آیت نمبر:71) اور اے اولادآدم! تم میں سے کوئی بھراپیا

نہیں جو جنت میں پرے ہو کر نہ گزرے، لیکن بر انسان پل صراط پرے جودوزخ پر کہی کی سے ضرور گزرے

گا، پر ایک قطعی اور فصیل شدہ وعدہ ہے جس کا پورا کرنے تہیارے پروردگار نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے،

اس آیت کا عطف) اس سے پہلے کی آیت "فَوَ رَبِّکَ لَنَحْشُرَنْہُمْ " (سورۃ مریم، پ:16،

ع:5، آیت نمبر:68) پرے، اس لئے یا آیت کہی پہلے کی آیت کے قرآن کے تحت میں سے گویا اس

آیت کے پہلے قسم کے الفاظ "فَوَ رَبِّکَ " محذوف ہیں، اس لئے یا آیت کہی قسم کی آیت ہے۔

(مرقات)12

دوسری حدیث

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said, the Messenger of Allah ﷺ instructed that

if three nights pass for a Muslim, he will never enter Hell, but he will pass over it as quickly as lightning. This hadith is reported in Bukhari and Muslim separately. The verse which states that everyone must pass over Hell is: 'And there is none of you except he will come to it. That is easy for your Lord to decree.' (Surah Maryam, Chapter 19, Verse 71) And O children of Adam! There is not one among you who will enter Paradise without passing over it, but every human being will surely pass over the bridge of Sirat and over Hell. However, it is a definite and decisive promise that your Lord has made binding upon Himself. The conjunction of this verse is with the previous verse, 'By your Lord, We will surely gather them' (Surah Maryam, Chapter 19, Verse 68), so it is as if the words 'By your Lord' are omitted before this verse, making it a verse of oath.

2571

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ مردولوگ آپ کے احادیث کو

آپ سے سن کر یاد کرتے جارہے ہیں، تم عورتوں کے لئے کچھ ایک دن مقرر فرما دیتے کر آپ کی

خدمت میں حاضر ہو کر ان دین معلومات کو حاصل کریں جتنیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرایا ہے،

حضور ارشاد فرما کر فلال وان، فلال وقت، فلال جگہ جمع ہو جائیا کرو (حسب ارشاد) عورتوں والے

جمع ہو کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لا کر اور انہیں ان چیزوں کی تعلیم

فرماتی جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرایا، پھر حضور ارشاد فرما کہ جس عورت کے تین سے اس

کی زندگی میں مر جائیں تو پیچے اس عورت کے لئے آتش دوزخ سے آزربین جائیں گے (لیکن یہ

نہیں اس کو دوزخ میں جائے گی پیچے جائے گی)۔ یعنے کر ایک عورت نے عرض کیا: یارسول اللہ اگر کسی

کے دونوں مرے ہوں تو (اس کا کیا حکم ہے، حضور کیے انظار میں پھر رتوقف فرما لے تھے)

اتنہ میں وہ عورت اس جملے کو دوبارہ دہرانی، حضور ارشاد فرما کہ: بال بال اگر کسی کے دونوں پھر

مریں ہوں تو اس کا کچھ بھی حکم نہیں ہے اس جملے کو حضور دومرتہ دہرانے، اس طرح (تین دفعہ فرما کے

سے اچھی طرح تاکید ہوگی اور سنن والوں کو کوئی شک باقی نہ رہے۔)

اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔

پھول کے مرنے پر خواہ وہ باگہ ہو لیا نا باگ صبر کرنے کا اجر

Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated: "A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, 'O Messenger of Allah, the men have taken your teachings, so appoint a day for us to come to you, and teach us what Allah has taught you.' He said, 'Gather on such-and-such a day in such-and-such a place.' They gathered, and the Messenger of Allah (ﷺ) came to them and taught them what Allah had taught him. Then he said, 'No woman among you loses three of her children except that they will be a shield for her from the Fire.' A woman among them asked, 'What about two?' He repeated it twice, then said, 'And two, and two, and two.'" [Narrated by Al-Bukhari]

2572

ابوبهریہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (اتفاق تے) انصار

کی چند عورتیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں حاضر تھیں) ان سے حضور

ارشا دفرما ہے: تم عورتوں میں سے کسی عورت کے تین پچ مرجا کیں (باگہ ہو لیا نا باگ) اور وہ

عورت (ثواب ملنے کے لئے ان کی موت پر) صبر کی تو وہ ضرور جنت میں جائے گی، ان میں سے

ایک عورت نے عرض کیا: یارسول اللہ اگر سی کے دونے پچ مرجا کیں (تواس کا کیا حکم ہے؟ حضور ارشاد

فرما ہے: بالا اگر سی کے دونے پچ مرجا کیں تواس کا کیا حکم ہے۔

اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said to some women of the Ansar, 'No woman among you loses three of her children and seeks reward for it except that she will enter Paradise.' A woman among them asked, 'What about two?' He said, 'And two.'" [Narrated by Muslim]

In another narration by both: "Three who did not reach the age of accountability."

2573

اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ اگر وہ پچ جو

مرے پیں نا باگہ ہو لےوان کا کیا حکم ہے۔

(اس روایت میں نا باگ کی قید ضروری نہیں ہے بلکہ س روایت میں حضور نے عورتوں تے پی

فرما یا تھا کہ جس عورت کے تین نا باگ پچ فوت ہو جا کیں وہ جنت میں داخل ہو گی، اس وقت و بالا

ایسی عورتیں موجود تھیں کہ جن کے نا باگ پچ فوت ہو گئے تو حضور نے ان کی تسکین اور تسلی

کے لئے نا باگ کا ذکر فرما یا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ نا باگ کی قید ضروری نہیں بلکہ اتفاق ہے، اس

لئے فوت شدہ پچ باگہ ہو لیا نا باگ سب کا کیا حکم ہے۔ (مرقات)12

ایک پھول کے مرنے پر کہی صبر کرنے کا اجر

پہلی حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said to some women of the Ansar, 'No woman among you loses three of her children and seeks reward for it except that she will enter Paradise.' A woman among them asked, 'What about two?' He said, 'And two.'" [Narrated by Muslim]

In another narration by both: "Three who did not reach the age of accountability."

2574

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں: جس شخص کے تین نا بالغ پچاس کی زندگی میں فوت ہوئے تو مرقات میں الیاء کے لحاظ سے، اگر بالغ تین پچھلی فوت ہوئے ہوئی تو–مرقات میں الیاء کے لحاظ سے–12–اس کا بھی حکم ہے) توپینے اس کودوزخ سے ضروربچا میں گے (پیس کر) حضرت ابوذر عرض کے : یا رسول اللہ! میرے دونے پچھلی فوت ہوئے ہیں (اس کا کیا حکم ہے؟) حضور ارشاد فرماے: جس کے دونے پچھلی فوت ہوئے ہوئی تو اس کے دونے کے حکم ضروراس کودوزخ سے بچا کیسے گے، پھر حضرت ابی بن کعب ابوالمنذر رسید القراءے نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا تو ایک پچھلی فوت ہوا ہے (اس کا کیا حکم ہے) حضور ارشاد فرماے: جس کا ایک پچھلی فوت ہوا ہوئی تو اس کا ایک پچھلی ضروراس کودوزخ سے بچا کے گا۔

اس کی روایت ترجمہ اورابن ماجہ نے کی ہے–12

دومسری حدیث

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'Whoever loses three children who did not reach the age of accountability, they will be a strong fortress for him against the Fire.' Abu Dharr said, 'What about two?' He said, 'And two.' Ubayy ibn Ka'b, the master of the reciters, said, 'What about one?' He said, 'And one.'" [Narrated by Al-Tirmidhi and Ibn Majah while Al-Tirmidhi said: "This is a Gharib Hadith"]

2575

معاز بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ جس مسلمان والبابپ کے تین پچھلے (بالغ ہوئی یا نا بالغ) مرجا ہیں (اور ثواب کی نیت سے وہ صبر کریں) تو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے ان دونوں کو جنت میں داخل کریں گے، صحابہ عرض کے : یا رسول اللہ! اگر کسی کے دونے پچھلی مرجا ہیں (تو اس کا کیا حکم ہے؟) تو حضور ارشاد فرماے کہ: اگر دونے پچھلی مرجا ہیں تو بھی (اس کا بھی حکم ہے) صحابہ پھر عرض کے: یا رسول اللہ! اگر ایک پچھلی مرجا ہے تو اس کا بھی حکم ہے پھر حضور ارشاد فرماے: (تم بار بار سوال کر کے تین، دو اور ایک پچھلے مرے کا ثواب دریافت کے پتو کا لپچون کے مرے نے کا ثواب پہ کے ان کے والباب پر ضرور جنت میں داخل ہوئی گے) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر کسی کا عمل گرجا یے اور اس کو نقص پچھلی پیرا ہو (اور جملہ رجحان پر وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو پی) نقص پچھلی اپنی وال کو اپنی آنول کے ذریعہ (جملہ ری کے کام دے گی) کہیں پھر ہوا جنت میں داخل کرے گا۔) نیں ایسا نقص پچھلی اپنی وال کو ضرور جنت میں داخل کرے گا۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابین ماجہ نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔

حمل گرنے سے جو پیپراہو ایانا قص پچھی اپچ

مال بابپ کو جنت میں داخل کرے گا

Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'No two Muslims lose three children except that Allah will admit them to Paradise by His mercy.' They asked, 'What about two?' He said, 'And two.' They asked, 'What about one?' He said, 'And one.' Then he said, 'By the One in whose hand is my soul, even a miscarried fetus will drag its mother by its umbilical cord to Paradise if she seeks reward for it.'" [Narrated by Ahmad]

Ibn Majah narrated from his statement: "By the One in whose hand is my soul."

2576

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے پین کہ اگر کسی کا حمل گر جائے تو اوراس کو نقص پچھ پیرا ہو (اور قیامت

کے دن جب اللہ تعالیٰ اس پر کے مال بابپ کو وزر میں داخل کرے نہ کا ارادہ فرما ئیں گے تو پیر پچھ

(اپنے مال بابپ کو وزر سے پچانے کے لے جہت کوشش کرے گا اور) اثر جائے گا تو اللہ تعالیٰ

فرما ئیں گے: اے آٹے نے والے پیر (تم کو تیری خاطر منظور ہے) اچھا پچھ مال بابپ کو جنت میں

لے جا تو پیر پچھ اپنے مال بابپ کو پچی آنول کے ذریعہ (جوش رستی کے کام دے گی) کچھ پچھا ہوا جنت

میں داخل کرے گا۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ 12

حضرت علی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدانت کا صدر مذہبی امت کے لے جہت کوشش کا سبب ہے

It is narrated from Ali (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If someone's burden becomes heavy and they become deficient, and on the Day of Resurrection, when Allah, the Exalted, does not intend to place their parents' debt upon them, then they will try to ransom their parents with their own debt, and if it has any effect, Allah, the Exalted, will say: O son of Adam, is it for your sake that you wish to ransom your parents? Take them to Paradise through your ransom, and by means of your effort (in striving), some of them will enter Paradise.' This is narrated by Ibn Majah. The precedence of Ali (RA) is the cause of the religious community's efforts to ransom others.

2577

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے پین کہ میری امت میں سے کسی شخص کے دونوں بالغ پچھ اس کی زندگی

میں انتقال کرے گو (اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کیا) تو اللہ تعالیٰ (اس شخص کے صبر کی وجہ

اور ان کی شفاعت کی وجہ سے) اس شخص کو جنت میں داخل کریں گے (پیس کر) حضرت علیؓ

د ریافت کیس: یا رسول اللہ اگر کسی شخص کا ایک نابالغ پیر فوت ہوا ہو (تو اس کا کچھ بھی حکم ہے) حضرت

فرما ئے: بلال جس کا ایک بی (نابالغ) پیر فوت ہوا ہو (تو اس کا کچھ بھی حکم ہے) عاکثر اللہ تعالیٰ

اس سے زیادہ تم کو تفیق دے، تمہارے سوال سے میری امت پر آسانیاں اور زیادہ ہوری، پین

حضرت عاکثر نے دوبارہ دریافت کیا: یا رسول اللہ اگر آپ کی امت کے کسی شخص کا ایک پیر بھی فوت

نہ ہوا تو اس کا کیا حکم ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ئے: سنو عاکثر! پچول کے

مرنے سے ان کے والدین کو پیر جوتو ابل رباہ اس کی وجہ پیہ کے پچول کے مرنے کا مال بابپ کو

بے حد صدمہ ہوتا ہے، اس کے صلے میں جنت ملتی ہے، میرا دنیا کے جانا (امت کے لے) سب

مصیبتون سے بری مصیبت ہے (جسیا میرے دنیا کے جانے کا رنج امت کو ہوگا، اس کے مقابلے

میں اس کو کوئی اور رنج نہیں، میرے جانے کے رنج و مصیبت کے صلے میں اللہ تعالیٰ اس کو جنت عطا

فرماے گا، جسے پھی مال باب پ کے لے "فرط" شفاعت کا ذریعہ ہوتے ہیں اور راحت کا سامان فراہم کرتے ہیں، اس طرح میری امت میں جس کسی کا کوئی پچھوتا نہ ہوا ہوتا ایسے لوگوں کے لے میں فرط رہول گا، ان کے لے راحت کا سامان جمع کرول گا، اور ان کی شفاعت کرول گا۔)

اس کی روایت تنزیل کی ہے۔ (فرط کے معنی قافلہ کے انتظام کے لے قافلہ سے پہلے منزل پر پہوچنے والے کے ہیں۔)

چھوٹے پھے جومرجاتے ہیں وہ مال باب پ کو جنت میں پہلو نچا نے کا سبب ہیں

پہلی حدیث

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If both parents of any person from my ummah pass away during his lifetime (and he endures their loss with patience for the sake of reward), then Allah, the Exalted, will admit him to Paradise because of his patience and their intercession.' Ali (RA) asked: 'O Messenger of Allah, what if a person loses one parent in childhood?' The Prophet ﷺ replied: 'If a person loses one parent in childhood, then Allah, the Exalted, will grant him more patience, and through your question, ease and blessings will increase for my ummah. Then, Aktham (RA) asked again: 'O Messenger of Allah, what if a person from your ummah does not lose even one parent?' The Messenger of Allah ﷺ said: 'Listen, Aktham! The death of a child causes immense grief to the parents, and in this grief lies Paradise. My departure from this world will be the greatest calamity for my ummah (such that no other calamity will compare to it). In the grief caused by my departure, Allah, the Exalted, will grant them Paradise. For those who do not have children, I will be their 'farat' (the one who goes ahead to prepare the way), gathering provisions for their comfort and interceding on their behalf. Thus, in my ummah, whoever does not have children, I will be their 'farat,' preparing their comfort and interceding for them.' This hadith has been transmitted. The term 'farat' refers to one who arrives at the destination before the caravan to make preparations. Small children who die become the means for their parents to enter Paradise, as they prepare the way for their parents to enter Paradise.'

2578

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ میرا ایک پیر مرگیا تو مجھے اس کا بہ حد رنج ہے کیا آپ اپنے دلی دوست حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنہیں جس سے (پچول کے مرنے پر والدین کو جوتو اب ملتا ہے وہ معلوم ہوتا کر ) ہمارا رنج دور ہو اور ہمارے دل کو تسکین ہوجائے، حضرت ابوہریرہ فرماتے: جسیا تم کہہ رہے ہو، میں نے اپیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے چھوٹے پھے جومرجاتے ہیں (وہ جنت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی گرانی میں رہتے ہیں اور) وہ ہر جلد جاتے ہیں (لیکن ان کو کوئی رونے والا نہیں، پھر جب قیامت قائم ہوگی تو سب میدان قیامت میں جمع ہو جائیں گے، چھوٹے پھے مجھی اوران کے والدین کہیں) جب یہ چھوٹے نچے اپنے (مان) باب پ کو دیکھیں گے تو (مان) باب پ کو امن پکڑ کر جنت میں پہلو نچا نے بغیر دم نہیں لین گے۔ اس کی روایت مسلم اور امام احمد نے کی ہے۔

دوسری حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "A man said to him, 'My son died, and I am deeply saddened. Have you heard anything from your beloved (the Prophet (ﷺ)) that could comfort us regarding our deceased?' He replied, 'Yes, I heard him say, "The young children of the believers are the butterflies of Paradise. One of them will meet his father and take hold of his garment, and he will not let go until he admits him to Paradise."'" [Narrated by Muslim and Ahmad, with the wording from Ahmad]

2579

قرۃ العین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (وہ فرماتے ہیں) کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بمیشہ اپنے (ایک کمسن) نے کوساتھ کے کر حاضر ہوا کرتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرماتے: (پچکو تم بمیشہ ساتھ رکھتے ہو) کیا اس پچے تم کو بہت محبت ہے، تو وہ صاحب عرض کرتے: یارسول اللہ کیا کہوں (مجھے اس پچے سے بہ حد محبت ہے، میری محبت اس پچے سے جسی ہے اس کو محجانے کے لے عرض کرتا

ہول ) کر مگر اس پچے ای محبت بے جسے اللہ تعالیٰ کو آپ سے محبت بے اور اللہ تعالیٰ اپنی محبت کو آپ سے اور زیادہ کرے ( جب پیر کا انتقال ہوگیا تو وہ صاحب حضور کی خدمت میں تھا آنے لگ ) ان کو تھا آنے ہوئے دیکھ کر حضور دریافت فرما لے : ان کا پیر کیا ہوا؟ صحاب عرض کے : وہ پیر تو مرگیا یا رسول اللہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر کے والد کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرما لے : ( گوتم کورنگ بے حد ہوا بے مگر اخر وی خوشخبری سن لو ) تمہارا پیر ( کرامت سے ) جنت کے بہر دروازے پر نظر آ لے گا اور تمہارا انتظار کرتا رہے گا، جس دروازے سے تم جا او گے وہ پیر تمہارا استقبال کر کے تم کو جنت میں لے جائے گا ( پین کر ) ایک صحابی عرض کے : یا رسول اللہ پیر خوشخبری صرف اپنی کے لیے خصوصی ہے یا سب مسلمانوں کے لیے ہے، حضور ارشاد فرما لے : پیر خوشخبری ہر ( اس ) مسلمان کے لیے ہے ( جس کا پیر اس کی زندگی میں مرگیا ہے ) اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

Qurrah Al-Muzani (may Allah be pleased with him) narrated: "A man used to come to the Prophet (ﷺ) with his son. The Prophet (ﷺ) asked him, 'Do you love him?' He replied, 'O Messenger of Allah, may Allah love you as I love him.' Later, the Prophet (ﷺ) noticed his absence and asked, 'What happened to so-and-so's son?' They said, 'O Messenger of Allah, he died.' The Prophet (ﷺ) said, 'Would you not love to find him waiting for you at every gate of Paradise?' A man asked, 'Is this specific to him or for all of us?' He replied, 'For all of you.'" [Narrated by Ahmad]

پیر کی موت پر صبر کرنے کا اجر
2580

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما لے ہیں کہ جب کسی مسلمان کا کمسن پچمرجا تاہے تو اللہ تعالیٰ ملك الموت اور ان کے ساتھ کے فرشتوں سے فرما تے ہیں کہ کیا تم میرے بندہ کے پچمروح نکالے، فرثہ عرض کرتے ہیں : جی بلال ! پچر اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ کیا تم اس لخت جگر کو لے لے؟ فرثہ عرض کرتے ہیں : جی بلال ! تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ میرے بندہ سے ( پچر کی موت کی رنج و غم کی حالت میں ) کیا کہا؟ فرثہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے ( اپنے رنج و غم کے باوجود اس مصیبت پراس کو صبر کی جو تو فیق ملی اس پر ) " الْحَمدُ للهِ " کہ کر شکر ادا کیا اور " اَنا للهِ وَاَنا اِلَیْهِ راجعُونَ " کہ کہ کر ( اپنی موت کو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوئے کو یاد کیا اور جزع فر ع اور بقراری نظاب رہنے کیا ) تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ اس نے مصیبت میں صبر اور تسلیم و رضا اختیار کیا ہے اور " الْحَمدُ للهِ " کہا ہے

اس کے بعد میں)اس کے لگ جنت میں ایک محل بناو اور اس کا نام "بیت الْحَمد "رکھو۔

اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔

کسی عزیزیا مخلص کی موت پر صبر کا صلہ

Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'When the child of a servant dies, Allah says to His angels, "Have you taken the child of My servant?" They reply, "Yes." He asks, "Have you taken the fruit of his heart?" They reply, "Yes." He asks, "What did My servant say?" They reply, "He praised You and said, 'To Allah we belong, and to Him we shall return.'" Allah says, "Build a house for My servant in Paradise and call it the House of Praise."'" [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]

2581

اَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَّما يَعِنْ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس مسلمان کو کسی مسلمان سے دنیوی تعلقات ہوں اور اس کو اس سے محبت ہو (جیسے مال، باب، بیٹا، بہنا، بیوی وغیرہ) اور اس کا انتقال ہو جائے اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو میں اس کے صلیمی اس کو ضرور جنت دوں گا (اور اللہ تعالیٰ کے واسطے میں تعلق ہو اور ان سے اس کو بھی محبت ہے جیسے استاد و مرشد اگر ان کا انتقال ہو جائے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کی جزا کا کیا کہنا جنت اور جنت کے علا مرتبہ اس کو دوں گا۔)

اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

مصیبت پر اور مصیبت کی یاد پر جسی صبر کرنے کے اجر ملتا ہے

It is narrated by Bukhari that

Allah, the Exalted, says: 'If a Muslim has worldly relations with another Muslim (such as wealth, father, son, sister, wife, etc.) and loves them, and if they pass away and he endures patience for their sake with the intention of reward, then I will certainly grant him Paradise. And if there is a connection with Allah, the Exalted, and he also loves those (such as teachers and mentors) and they pass away, and he endures patience for their sake with the intention of reward, then his reward is Paradise, and a higher rank in Paradise will be granted to him.'

2582

حَدَّثَنِي بْنُ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَّما تَ مِنْ كَانِبِ كَسِ مُسْلِمَانِ مَرَّدَيَا مُسْلِمَانِ عَوْرَتْ پَرَ مَصِيبَتْ آَنَے (اُورَاسْ سَوْهُ غَمْلِينِ رَبا اُورَاسْ مَصِيبَتْ پَرَ حَوْرِيْ مَدْتَ گَزَرِيْ يَا زَيَاوَهْ) جَبْ کَجْمِ وَهْ مَصِيبَتْ يَا دَآَنَے اُسْ سَوْ اُسْ کَا غَمْ پَچَرْ تَازْهُ وَگِيَا لَیْ وَقْتْ وَهْ اَنا لَلَّهِ وَاَنا اِلُیْهِ رَجْعُوْنَ ،" پَرَطْهَ کَرَ صَبْرِکِا اوْشَرْوَعْ مَصِيبَتْ مِیْنَ اُسْ کَ صَبْرِکِ وَجْبَتْ اُسْ کَوْجَوْا جَرْ مَلا تَحَا، اُسْ کَوْدَوْبَارَهْ مَصِيبَتْ يَا دَکَرْکَ صَبْرْکَرْنَ پَرَوْلِیْ، اِیْ اَجَرْ لَمْلَگَا (جِیْ اُسْ کَوْپَلِیْ مَرْتَبَہْ صَبْرْکَرْنَ پَرَمَلا تَحَا-) اُسْ حَدِيثْکِ رَوَايِتْ اُمامْ اَحْمَدْ نَکِ ہَ اُوْرَتْہَقْنَ

اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔

چھوٹی مصیبت پر جسی صبر کرنے کے اجر ملتا ہے

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) said, 'Allah, the Blessed and Exalted, says: "O son of Adam, if you are patient and seek reward at the first shock, I will not be pleased with any reward for you less than Paradise."'" [Narrated by Ibn Majah]

2583

اَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَّما تَ مِنْ كَانِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اَرْشَادْ فَرَّما تَ مِنْ كَرْ (جِیْ کَوْلِیْ بَرْیِ مَصِيبَتْ آَنَے تَوَاسْ پَرْ اَنا لَلَّهِ وَاَنا اِلُیْهِ رَجْعُوْنَ ،" پَرَطْهَ کَرْ صَبْرْ کَرْنَ تَوَاسْ پَرَاَجَرْ مَلْتَا ہَ، اِیْ، اِیْ چَھَوْلِیْ سِ چَھَوْلِیْ مَصِيبَتْ ہَوْجِیْ) اَگَرْتَمْ مِیْنَ سَوْ کَسِ کَ نَغْلِینْکَا تَسْمَرْلُوْتْ جَاَنَے تَوْوَهْ اَنا لَلَّهِ وَاَنا اِلُیْهِ رَجْعُوْنَ ،" پَرَطْلِیَا کَرْنَ، اُسْ لَتْ کَرْیَیْ اِکْ مَصِيبَتْ

بہ (اس چھوٹی مصیبت کے وقت کی ویسے، یا جبر میں کا جسیما کر بری مصیبت کے وقت "انا للہ و اننا الیہ راجعو ن" پڑھنے سے ملاتا )اس کی روایت سے شعب الایمان میں کی ہے۔ امت محمدی کو مصیبت پر صبر کرنے سے علم لدی ملتی خوشخبری

In the case of a minor calamity, or even a major calamity, it is recommended to recite 'Inna lillah wa inna ilayhi raji'un' (Indeed, we belong to Allah, and indeed, to Him we will return). This is reported in Shu'ab al-Iman. The Ummah of Muhammad (PBUH) is informed that patience in the face of calamity brings knowledge and good tidings.

2584

ام الدردا رضی اللہ علیہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں ابوالدردارضی اللہ عنہ سے سنی ہوں، ابوالدردارضی کہتے ہیں حضرت ابو القاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے سنا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت علی علیہ السلام کے حضرت علی علیہ نبينا و علیہ الصلاۃ والسلام سے فرما یا: اے علی میں تمہارے بعد ایک ایسی امت پیرا کرول گا کہ جب ان کو کوئی نہمت ملگی تو وہ "الحمد للہ" کہے گا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا اور جب ان پر کوئی (ناقابل برداشت) مصیبت آئے گی جس سے ان کے ہوش وحواس اثر جا مین گے اور بھیج باقی نہ رہے تو باوجود اس کے وہ ثواب کی نیت سے اس (مصیبت) پر صبر کریں گے تو حضرت علی عرض کرتے کہ اے میرے پروردگار (مصیبت کی وجہ سے) جب ان کے ہوش وحواس اثر جا مین اور بھیج باقی نہ رہے تو وہ مصیبت پر کیسے صبر کریں گے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کر (انسانی فطرت کے لحاظ سے مصیبت کی وجہ سے ہوش وحواس اور بھیج نہ رہنے کی طرح) میں اپنے پاس سے ان کو علم لدی اور بھیج دولگا (جس سے ان کو مصیبت پر صبر کرنا آسان ہو جائے گا )اس حدیث کی روایت سے شعب الایمان میں کی ہے۔ نعمت اور مصیبت میں مسلمان کیا کرتا ہے

It is narrated from Umm al-Darda' (RA) that she said: 'I heard from Abu al-Darda' (RA), who said: 'I heard from Allah's Messenger, Abu al-Qasim ﷺ, who said: 'Allah, the Exalted and Glorious, said to Ali (AS): O Ali, I will create after you a community such that when they receive any bounty, they will say, “Alhamdulillah,” and they will give thanks to Allah. And when a calamity befalls them, which will affect their senses and leave them with no strength, they will still endure it with patience, seeking reward. Then Ali (AS) said: O my Lord, when their senses and strength are affected by calamity, how can they endure it? Allah, the Exalted, replied: I will endow them with knowledge and strength from Me, so that enduring the calamity will become easy for them.' This hadith is narrated in Shu'ab al-Iman. It describes what a Muslim does in times of bounty and calamity.'
2585

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ مسلمان کا عجب حال ہے (ہر حال میں وہ اللہ تعالیٰ کا رہتا ہے) اگر اس کو جلالی اور نعمت پہوچتی ہے تو "الحمد للہ" کہے گا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی بلا اور مصیبت پہوچتی ہے تو اس بلاء اور مصیبت کا ثواب اس کے پیش نظر پہوچتا ہے، اس وجہ سے وہ "الحمد للہ" کہتا ہے (یا سکو بیخیال آتا ہے کہ بی بلاء اور مصیبت و نیوی امور میں آنی ہے دین کو میرے اللہ نے پیار کیا ہے اور دین پر کوئی مصیبت نہیں آنی ہے، اس لیے الحمد للہ کہتا ہے یا بیخیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بردا حسان ہے کر مجھ پر مصیبت بھیجا، اس سے کوئی اور بری مصیبت میں نہ جائے بنتلا نہیں کیا، اس لیے الحمد للہ کہتا ہے اور "انا للہ و اننا الیہ راجعو ن" کہے کر صبر کرتا ہے مسلمان کا جو کام ہوتا ہے وہ اللہ کی خوشنو دی اور اس کو راضی کرنے کے لیے ہوتا ہے اس لیے) اس کو ہر کام میں

اجر و ثواب ملتا ہے (مثالاً) اگر وہ اپنی پیوی کے منہ میں نوائے (اور دیت وقت پینیت کرے کراس کا حق جومیرے ذمہ ہے۔ اس کی ادائیگی کے لئے دے رہا ہوں، اگر چرکاس میں اس کو حظ نفس حاصل ہو رہا ہے تو نہ زنا کے ذریعہ حظ نفس حاصل نہ کر کے حلال ذریعہ تے اللہ کی خوشنوودی کے لئے اپنی پیوی کے منہ میں نوائے دے کر حظ نفس حاصل کر رہا ہے، اس لئے اس کو اپنی پیوی کے منہ میں نوائے دینے سے بھی اجر ملتا ہے۔) اس حدیث کی روایت سے نے شعب الایمان میں کیا ہے۔

پہلی حدیث

Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The believer is amazing. If he is given good, he praises Allah and is grateful, and if he is afflicted with a calamity, he praises Allah and is patient. The believer is rewarded in every matter, even in the morsel he raises to his wife's mouth.'" [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

مسلمان کو برسم دین کا ثواب ملتا ہے
2586

صلى الله عليه وآله وسلم ارشاد فرما نے پین کری مسلمان پر کوئی مصیبت آ پڑے (کسی کے مر نے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہے دوسرا مسلمان اس کے پاس جا کر یا خط کرے) اس کو تسلی دیا اور صبر کی تلقین کیا (جس سے اس کا غم غلط ہو) تو اس تسلی دینے والے کو بھی اتنائی اجر ملتا جتنا کر مصیبت زدہ کو ملتا ہے۔ اس حدیث کی روايت ترنزی اور ابین ملجبن کی ہے۔

دوسری حدیث

2587

وآله وسلم فرما نے پین کری عورت کا پیچہ مرگیا اور وہ بہت ای غم زده ہے جو مسلمان اس کی تعریت کرے اور دلاسہ دے تو تعریت دینے والے کو (اعزاز کے طور پر) جنت میں جنتی خلعت پہنا ی جائے گی۔ اس کی روايت ترنزی نے کی ہے۔

نوحہ کی ممانعت اور پرسے کے بارے میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل

Regarding the prevention of elegies and the matter of weeping, it is reported about the Messenger of Allah ﷺ and his practice.

2588

پین کر رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم (اتفاق-مرقات میں ایسا،ی ذکور ہے۔12-سے مسیب میں) تشریف فرما تے کر آپ کے پاس زید بن حارثہ، جعفر بن الی طالب اور عبد اللہ بن رواحد رضی اللہ عنہم کے شہید ہونے کی خبر آئی، اس خبر کے سے نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کے چہرہ مبارک برغم کے آثار طاهر ہوئے، ام المؤمنین فرمائی پین کر میں دروازہ کے دراز سے دیکھ رہی تھی کر آئی شخص

نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ حضرت جعفر کے گھر کی عورتیں (نوح کر کے اور چیخ و پکار کر کے)

رو رہی ہیں، آپ اس شخص سے فرمائے کہ تم جاواوران کو (نوح اور چیخ اور پکار کر نے سے) منع کرو،

وہ شخص چلا گیا اور دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا کہ وہ عورتیں میری بات نہیں مانتیں ہیں (اور نوح کر کے

برابر روزی ہیں، حضور دوبارہ اس شخص کو فرمائے کہ جاواوران کونوح کر کے ) رونے سے منع کرو تو (وہ

شخص چلا گیا اور تیسری بار حاضر ہو کر ) عرض کیا کہ حضور ! یہاں ای عورتیں ہمارے قابو سے باہر ہوگئی ہیں

(اور نوح کر کے رونے سے باز نہیں آرہی ہیں) ام المومنین فرمائی ہیں کہ مجھے خیال پرتا ہے کہ حضور

نے اس وقت اس شخص سے فرما ئا کہ جاکر ان کے منہ میں مٹی دال دو (اس سے حضورا پنی ناراضی کا

اظہار فرما ئے) پھر حضرت عائشہ اپنے آپ سے فرما ئے (یعنی شخص سے) خدا اس کو زیل کرے

نہ تو حضور کے حرم کی تعمیل کر کے عورتوں کونوح کر نے سے روک سکا اور رسول اللہ علیہ وسلم کو

بار بار عرض کر کے تکلیف دیا جس نے ججوڑا اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے –

پرسے لینے کا انتظام کرنا کر وہ ہے

ف : اس حدیث شریف میں ذکور ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتفاق سے مسبیل

شریف فرما ئے، جب کر حضرت جعفر و غیرہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی، اس لے رداختار میں

ذکور ہے کر اگر کوئی شخص کسی کے انتقال پر قصد امسجد میں یا گھر میں جیہے تاکر لوگ اس کی تعزیت

کریں تو پیکر وہ ہے، بلکہ لوگ جب وفن سے فارغ ہو جا ئیں تو صاحب میت کے گھر جمع نہ ہوں بلکہ

این اپنے گھر ول کو پیچلے جا ئیں اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جا ئیں اور میت کے ورثاء کسی

این گھر پیچلے جا ئیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جا ئیں –12

اہل میت کے گھر کہا نا جیخ کا جواز

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the news of the deaths of Harithah, Ja'far, and Ibn Rawahah reached the Prophet (ﷺ), he sat down, visibly sad. I was watching from a crack in the door. A man came and said, 'The women of Ja'far are weeping.' The Prophet (ﷺ) ordered him to stop them. He went but returned, saying they did not obey. The Prophet (ﷺ) said, 'Stop them.' He went a third time and said, 'By Allah, they have overwhelmed us, O Messenger of Allah.' It is said that the Prophet (ﷺ) then said, 'Throw dust in their mouths.' I said, 'May Allah humiliate you! You neither obeyed the Messenger of Allah (ﷺ) nor spared him the trouble.'" [Agreed upon] (1)

(1) The statement: "He sat down, visibly sad." Al-Baqali said: "There is no harm in sitting for condolences for three days in a house or mosque. The Prophet (ﷺ) sat when Ja'far and Zayd ibn Harithah were killed, and people came to console him. Offering condolences on the first day is best. Sitting in the mosque for three days for condolences is disliked, but in other places, it is permissible for men for three days, though avoiding it is better. It is disliked for the consoler to offer condolences a second time." This is mentioned in Al-Bahr Ar-Ra'iq. In Al-Alamgiriyyah, it is said: "There is no harm for the bereaved to sit in their house or mosque for three days, and people come to console them. However, sitting at the door of the house or spreading carpets and standing at crossroads, as done in non-Arab lands, is among the worst practices." This is mentioned in Az-Zahirah and Al-Binayah. Ali Al-Qari said: "The apparent meaning of the Hadith is that his sitting in the mosque was for condolences, but Ibn Al-Humam said: 'It is permissible to sit for a calamity for three days, though it is disliked in the mosque.' This may be understood as specific to him, to show its permissibility, or his sitting in the mosque was coincidental." In Radd Al-Muhtar, quoting Al-Imdad: "Many of our later scholars said: 'It is disliked to gather at the bereaved's house, and it is disliked for him to sit in his house until people come to console him. Rather, after the burial, people should disperse and attend to their affairs, and the bereaved should attend to his.'"

2589

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرما ئے ہیں کر جب

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے شہادت کی خبر پیچلی تو

حضور نے (اپنے گھر والول) سے فرما ئے تم جعفر کے گھر والول کے لے کہا نا تیار کر کے ججوڑیوں کر

جعفر کی موت سے ان پرا لی مصیبت آئی ہے جس کی وجہ سے ان کو کہا نا تیار کر نے کا موقع نہیں

ہے – اس کی روایت ترمذی، ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے –12

Abdullah ibn Ja'far (may Allah be pleased with him) narrated: "When the news of Ja'far's death came, the Prophet (ﷺ) said, 'Prepare food for the family of Ja'far, for something has happened that has preoccupied them.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

قبر پرسوگ مناسک کی ممانعت اور سوگ کا ایک نادر واقعہ
2590

امام بخاری سے تعلیقاً روایت کی گئی ہے، جب حسن ثقی ابن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیوی آپ کی قبر کے پاس ایک سال تک دُریہ لگا کر بیٹھی رہنے میں کو فرن کرنے کے بعد ابل میت کو اپنے اتنے کا مول میں مشغول ہوجانا چاہے، حضرت حسن ثقی کی بیوی اپنا کر کے ایک سال تک قبر کے پاس بیٹھی رہنے تو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، چونکہ پیخاندان نبوت سے تعلق رکھتی تھی، اس لے اللہ تعالیٰ نے ان کو متزہب کردیا اور اتف غیبی کے ذریعہ ان کا پیکام نا پسند ہونا ظاہر فرمادیا) ایک سال کے بعد جب انہوں نے دُریہ اٹھا کر تو ایک اتف غیبی نے پیندا دی کہ حسن ثقی کی بیوی ان کی قبر کے پاس ایک سال تک جویشی رہنے تو کیا حسن ثقی پھران کول گی؟ دوسرا اتف غیبی نے اس کا جواب اس طرح دیا (حسن ثقی ان کو پھرانے میں تو نہیں)۔ پیخود تحقیک کر ماپس پے نہیں۔

Al-Bukhari mentioned in a suspended (Mu'allaq) narration: "When Al-Hasan ibn Al-Hasan ibn Ali (may Allah be pleased with him) died, his wife set up a tent over his grave for a year, then removed it. They heard Salih say, 'Have they found what they lost?' Another replied, 'No, they have despaired and returned.'"