(اس باب میں مردہ کے دفن کرنے کاپیانہ)
ف: میت کا ذین کرنا فرض کفاہیہ۔ جس طرح میت کو غسل و نماورمیت پر نماز جنازہ پڑھنا
فرض کفاہیہ، اس طرح جب نماز جنازہ سے فارغ ہو جا یں تو میت کو فوراً دفن کرنے کے لے جہاں
قبر کہیں لے جانا چاہئے۔
میت کی قبر کے کم میت کے نصف قد کے برابری اناف سے زیادہی میت کے پورے قد کے
برابر گہری کھودی جائے۔ اور اس گہرائی کا اندازہ ع زمین سے لگایا جائے، چھوٹرے کا لاحاظ نہ کیا جائے۔
اور قبر کی لمبائی میت کے قد کے لاحاظ سے رکھی جائے، بلکہ قبر بنسبت صندوق قبر کے بہتر ہے، بالاگر
زمین بہت نرم ہو کہ بلکہ قبر کے پیچھے جائے کا اندیشہ ہو تو بلکہ قبر نہ کھودی جائے، صندوق قبر میں کھودنا بہتر
ہے، ضرورت کے وقت پیچھی جائے سے کہ میت کو کسی صندوق میں رکھ کر دفن کر دیں، خواہ وہ صندوق
کلری کا ہو، یا پچھر کا یا لوہے کا ہو، مگر باہتر یہ ہے کہ اس صندوق میں مثلاً پچھادی جائے، جب قبر تیار
ہو چکی تو میت کو قبل کی طرف سے قبر میں اتاردیں، اس کی صورت یہ ہے کہ جنازہ قبر سے قبل کی جانب
رکھا جائے۔ اور اتارنے والے قبلہ رو کھڑے ہو کر میت کو اٹھا کر قبر میں رکھ دیں، قبر میں اتارنے والون کا
طاق یا جفت تعداد میں ہونا مسنون نہیں ہے۔ میت کو قبر میں اتارنے والے پر دعا پڑھیں: "بسم
اللہ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللہِ"، ثم اللہ کے نام سے قبر میں اتنا شروع کرتے ہیں (گو کسی قوم کا یہ
طریقت ہو یا نہ ہو) تم اس مردہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کے موافق قبر میں اتارنے
ہیں، میت کو قبر میں رکھ کر داشن پہلو پر کروت کر کے قبلہ رخ کر دیا مسنون ہے، میت کو قبر میں رکھنے
کے بعد وہ گر پیچھن منتشر ہو نے کے لے دی گئی ہیں، ان میں سے سر کی طرف والی اور پیر کی
طرف والی گر پیچھول دی جائے، تاکہ منظر و کیبر کے سوال کے وقت مردہ آسائی سے پیچھے سکے۔ (جسیا
کہ عمدۃ الرعایہ میں ذکور ہے۔12)
میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اگر بلکہ قبر ہو تو پیچھے ایٹول یا پاس سے بند کر دیں، پیچھے ایٹول یا
کلری کے ٹکٹول سے بند کرنا کر وہ ہے، بال جہاں زمین بہت نرم ہو کہ قبر کے پیچھے جائے کا خوف ہو تو
پیچھے ایٹول یا کلری کے تختہ رکھ دیتا یا صندوق میں رکنا چاہئے۔ (اگر صندوق قبر ہو تو اس کے لے
کچھ بنا کر پچھر کے کٹ پول سے بند کر دیا جائے۔) عورت کو قبر میں رکھنے وقت پردہ کر کے رکنا مستحب
ہے اور اگر میت کے بدن کے ظاہر ہو جائے کا خوف ہو تو پچھر پر دہ کرنا واجب ہے۔
مردہ کے ذین کے وقت پردہ نکرنا چاہئے اور اگر پانی برسر پہا ہو یا بر ف گر رہی ہو، یا دصوب
سخت ہو تو چادر مسل ساتھان کے پر سکے پین، جب میت کو قبر میں رکھ چکیس، تو جس قد مثی اس کی قبر
سے نکلی ہو، مثی اس پڑوال لیس، کسی اور جگہ سے مثی لاکرو النا کروہے جب قبر ایک بالشت او پچی ہو
رہی ہو اور اگر بالشت سے کم او پچی ہو تو ایک بالشت او پچی کرنے کے لئے کمیں اور سے مثی لاکرو ال
سکے پین، قبر میں مثی ذا لے وقت مستحب پیہ کمر بان کی طرف سے ابتدا کی جائے اور ہر شخص
این دونوں با تحول میں مثی بجر کرتین و فعر قبر میں ذا لے، پہلی و فعر کہ "منہا خلقنکم" (مثی سے تمام
تم کو پیدا کے )اور دوسرا مرتبہ کہ "وفیها نعیدكم" (اور مرتن کے بعد پہر مثی، میں تم کو لا کمین
گے )اور تیسری مرتبہ "ومنہا نخر جکم تارة اخری" (پہر قیامت میں تم کو مثی، میں سے
انہا کیں گے )فرن کے بعد قبوری وریک قبر کے پاس ظہرنا اور میت کے لئے دعا مغفرت کرنا یا
قرآن مجید پڑھ کراس کا ثواب میت کو پہو نچانا مستحب ہے۔
جب قبر پر مثی ذا ل چکیس تو قبر پر پالی چھکر دینا مستحب ہے، قبر کا مر لح اور سے بنانا کروہے،
مستحب پیہ کر قبر اونٹ کے کو بان کی طرح ابجری ہوئی ہو جس کی بلندی ایک بالشت یا سے پچھ
زیادہ ہوئی جا سے، قبر پر کوئی چیز لطور یادگار کے لئے نا جائز ہے، بثر طیک ضرورت ہو
عالمگیری میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی قبر تیار کروا لے تو کوئی مضالم قمیں،
بلکہ اس پر ثواب ملگا، یہ سب مسائل در مختار، شامی، عالمگیری، البحر الرائق، ملتقی شرح وقایہ اور عدہ
الرعایہ سے ماخوذ ہیں-)12
وقول اللہ عز وجل : "فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا يَبْحُثُ فِی الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَیْفَ
یُوارِی سَوْثَةَ أَخِیهِ"۔ (سورۃ ما ئده، پ:6، ع:5، آیت نمبر:31)
تمہید
مردہ کو فن کرنے کا فطری طریقہ
روح المعاني نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن جریر کے حوالے سے روایت کیا
ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی پیوی حضرت حوا علیہ السلام کو بطن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی
تو آم پیدا ہوئے۔ تھوڑے بعد دوسرا بطن میں ایک طرح ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے، پھر بطن میں
لڑکے کا نکاح دوسرا بطن کی لڑکی سے اور دوسرا بطن کے لڑکے کا نکاح پہلے بطن کی لڑکی سے کیا جاتا
تھا، اور حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت میں اس قسم کا نکاح حسب ضرورت وقت جائز رکھا
گیا تھا اور ایک بیٹن کے لڑکے اور لڑکی میں نکاح جائز نہیں تھا، اس طرح حضرت آدم علیہ الصلاۃ
والسلام کو حضرت علیہ السلام کے (واضح ہو کر ایک وقت میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوتے، ان کی
شریعت میں پیدونوں آپس میں بھائی بہن کہلاتے تھے، اس حساب سے آدم علیہ السلام کو دو بطن سے دو
لڑکے پیدا ہوتے، ایک کا نام باتیل رکھا گیا اور دوسرا کا نام قاتیل اور دونوں کے ساتھ ایک ایک لڑکی
بھی پیدا ہوتی، حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت کے مطابق باتیل کا نکاح قاتیل کی بہن سے
اور قاتیل کا نکاح باتیل کی بہن سے تجویز ہوا، قاتیل کی بہن زیادہ حسنین تھی قاتیل نے اپنی بہن سے
جو اس کے ساتھ ہی پیدا ہوتی تھی، اس سے نکاح کرنا چاہا اور پی حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی
شریعت کے خلاف تھا، حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے قاتیل کو جھما کر جائز نہیں ہے ایسا کرنا
بگر قاتیل نے حضرت آدم کی بات نہ مانی، جو بہن اس کے ساتھ پیدا ہوتی تھی اس سے نکاح کر نے پر
مصر کیا، بالآخر حضرت آدم علیہ السلام نے قطع نجابت کے لئے پیغسل فرما کر دونوں اللہ کے نام کی نذر
کرو۔ جس کی نذر قبول ہوجائے گی وہ عورت اس کی رہ گی، حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو یہ سے
کامل یقین تھا کہ باتیل حق پر ہے اس کی نذر قبول ہوگی اس لئے نذورہ فیصل فرما گیا، تاکہ قاتیل کو
بحث و تکرار کی گنجائش نہ رہے یہ مطلب نہ تھا کہ قاتیل کے لئے وہ عورت حلال ہو جائے گی۔
غرض دونوں نے اپنی نذر حاضر کی، باتیل تو ایک عمدہ ونہ لا اور قاتیل چند خوش کی غلم
کے لا اور کہو دیا، دونوں منتظر تھے کیسے کس کی نذر قبول ہوئی ہے اتنے میں آمانے ایک آگ
آئی اور باتیل کی نذر کو جلا دیا، اور اس وقت نذر قبول ہوئے کی بہی علامت تھی، جب قاتیل اس فیصلہ
میں بھی بارا تو با تیل کی جان کے در پے ہوا، یہاں تک کہ باتیل کو قتل کر دیا، لیکن قاتیل کو پیغسل میں نہ آیا
کہ اس نغش کو کیوں کر پچھاونے تا کہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو اس کی اطلاع نہ ہو، یہاں تک کہ
کوئے کے ذریعے سے باتیل کے ذنب کر نے کا طریقت لایا گیا، اس لئے اللہ تعالیٰ
(سورۃ ما ندہ، پ:6، ع:5، آیت نمبر:31) میں فرما تے ہیں۔
پھر آ خر اللہ تعالیٰ نے ایک کو اور بال جھجا کروہ (جوئے اور پچول سے) زمین کو کودتا تھا اور کہوو کر ایک دوم رے کو لے کو کروہ مراہوا تحاس گزہ میں وطیل کراس پر میں لا تا کروہ کو ا قابل کو سکحا ے کر اپنے بجانی با تیل کی لاش کوس طرح چپادے - (قا تیل نے کو لے سے سیکر با تیل کو اسی طرح فن کر دیا با تیل پہلا مردوہ جوز میں برماہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فن کا طریقہ کو لے کے ذریعہ سکحا یاس سے معلوم ہوا کر انسان کے مر نے کے بعد مردو کوجن جن طریقون سے چپا یاجاتا سے ان طریقون سے زمین میں دفن کر نے کا طریقہ فطری اور اللہ تعالیٰ کا پسند کیا ہواہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے -)
وقولہ تعالیٰ: "فَاقْبَرْهُ" (پ:30،سورۃ عبس،ع1،آیت نمبر:21) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اللہ تعالیٰ انسان کو ایک وقت خاص تک زندہ رک کراس کو مار دیتا ہے) پھراس کو قبر میں لے جاتا ہے۔ بغلی قبر کی فضیلت اور قبر پر شان رکھنا کا جواز
This chapter discusses the procedure for burying the deceased.
F: Washing and shrouding the deceased is a collective obligation (fard kifayah). Just as washing and praying the funeral prayer over the deceased is a collective obligation, similarly, after the funeral prayer is completed, the deceased should be taken immediately to the place where they will be buried.
The grave should be dug to a depth of at least half the height of the deceased, but it is preferable to dig it to the full height of the deceased. The depth should be measured from the ground level; the smaller measurement should not be considered. The length of the grave should be according to the height of the deceased. However, it is better to make the grave like a coffin. If the ground is very soft or there is a concern about the back of the grave collapsing, it is better to dig the grave in the shape of a coffin. In case of necessity, the deceased can be placed in a coffin and buried, whether the coffin is made of wood, stone, or metal. However, it is better to place the deceased in a wooden coffin when the grave is ready. The deceased should be lowered into the grave facing the qiblah. This means that the body should be placed in front of the grave, and those lowering the body should stand facing the qiblah, lift the body, and place it in the grave. There is no specific number of people required to lower the body into the grave. Those lowering the body should recite: 'In the name of Allah, and according to the way of the Messenger of Allah (peace be upon him and his family).' Thus, you begin by placing the deceased in the grave in the name of Allah, and you are placing them in the grave according to the teachings of the Prophet Muhammad (peace be upon him and his family).
After placing the deceased in the grave, it is recommended to lay them on their right side facing the qiblah. After placing the deceased in the grave, the supports at the head and foot of the grave should be removed so that the deceased can easily sit up during the questioning by Munkar and Nakir. (As mentioned in 'Umdah al-Ra'ayah'.)
If the grave is dug, it should be sealed at the back with stones or bricks. Sealing the back of the grave with stones or bricks is recommended, especially if the ground is very soft and there is a risk of the back of the grave collapsing. In such cases, a wooden board or a coffin should be used. If the grave is in the shape of a coffin, it should be sealed with a wooden board or a similar material. When placing a woman in the grave, it is recommended to cover her with a veil, and if there is a risk of her body being exposed, it is obligatory to cover her with a cloth.
During the burial of the deceased, the body should be covered, and if water is falling or dripping, or if there is any disturbance, appropriate measures should be taken.
If it is hard, then spread the mat on the ground, and when the deceased has been placed in the grave, let the one who is equal in height to the deceased stand next to the grave. The one who is shorter should stand at another place to level the ground. When the grave is filled with earth up to a handspan, if it is less than a handspan, then take more soil from elsewhere to fill it up to a handspan. It is recommended to start placing the soil in the grave from the right side of the deceased’s waist, and each person should place a handful of soil while saying the following: the first time, 'Minha khalkum' (From this We created you), the second time, 'Wa fiha na'eedukum' (And into it We will return you), and the third time, 'Wamina nukhrijukum tara akhirah' (And from it We will bring you forth again). After that, the attendees should gather near the grave and pray for the forgiveness of the deceased or recite the Quran and send its reward to the deceased. Once the soil has been placed in the grave, it is recommended to smooth the surface of the grave. The grave should be built higher than the ground, and it is recommended to shape it like a camel's hump, with a height of at least a handspan. Placing any object on the grave as a memorial is not permissible. In Alamgiri, it is written that if someone prepares their own grave during their lifetime, there is no sin in it, rather they will receive a reward. All these matters are derived from Makhariq, Shami, Alamgiri, Bahar-e-Raiq, Multaqi Sharh Waza, and Edah Al-Raayah.
And the word of Allah, Glorious and Exalted, is: 'Then Allah sent a crow which scratched the earth to show him how to hide the corpse of his brother.' (Surah Al-Ma'idah, Vol. 6, Part 5, Verse 31)
According to Ruh al-Ma'ani, Ibn Masud (RA) narrated from Ibn Jarir that Adam (peace be upon him) had twins, a boy and a girl, born from his wife Eve (peace be upon her). After some time, another set of twins, a boy and a girl, were born. The son from the first set was married to the daughter from the second set, and the son from the second set was married to the daughter from the first set. In Adam’s (peace be upon him) law, such marriages were permitted out of necessity, but marriage between siblings from the same womb was forbidden. Thus, Adam (peace be upon him) would have one son and one daughter at a time, and according to his law, they were considered brother and sister. From two sets of twins, two sons were born; one was named Batile and the other Qatile, each with a twin sister. According to Adam’s (peace be upon him) law, Batile was to marry Qatile’s sister, and Qatile was to marry Batile’s sister. Qatile’s sister was more beautiful, and Qatile desired to marry her, which was against Adam’s (peace be upon him) law. Adam (peace be upon him) told Qatile that it was not permissible, but Qatile did not accept this and insisted on marrying his own twin sister. Finally, Adam (peace be upon him) decided to seek divine judgment by making a vow to God. Whose vow was accepted, that woman would be his. Adam (peace be upon him) was certain that Batile was on the right path and his vow would be accepted, so he made the decision to settle the matter, leaving no room for further argument, though it did not mean that the woman would become lawful for Qatile. Both made their vows; Batile offered a fine gift, while Qatile offered a few worthless things. As they waited to see whose vow would be accepted, a fire appeared and consumed Batile’s offering, indicating that his vow was accepted. Despite this, Qatile, in his anger, killed Batile. However, Qatile did not want to be caught, so he tried to hide his deed by burying Batile in a ditch. Therefore, Allah (Exalted is He) says in Surah Ma'idah (Chapter 5, Verse 31):
Then, Allah the Exalted caused one to be thrown into the ground with a spade (made of wood and reed), and he was instructed to take another and do the same. Thus, he was taught to bury the dead in a deep grave. The first person to be buried in this manner was a man who had died, and it was through this method that the way of burying the dead in the earth was made known to humanity. This method of burial, which is natural and pleasing to Allah the Exalted, was revealed by His command.
And His Exalted Saying: 'So bury him' (Sūrah ‘Abasa, Chapter 80, Verse 21) is the Divine Guidance that Allah, the Most High, keeps man alive for a specific period and then causes him to die, after which he is taken to his grave. This verse highlights the virtue of the grave and the propriety of maintaining its dignity.
عن ابن سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سعد بن الی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے مریض الموت میں کہا تھا کہ میرے لیے بغلی قبر کو کودنا اور میری قبر پر (نشانی کے وا سط) چھ ایتیس رکو دیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زار مبارک کو بغلی کودا گیا تھا اور قبر شریف پر چھ ایتیس جمانی کی چھین۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ صندوقی قبر کودنے کا بیان سملی حدیث
Sa'd ibn al-Yaqdha and Waaqas (RA) said in his last illness: 'Make a camel leap over my grave and place sixty-three stones on it, just as a camel was made to leap over the blessed grave of the Messenger of Allah ﷺ and sixty-three precious stones were placed on the noble grave.' This narration is reported by Muslim. The practice of making a camel leap over the grave is part of this tradition.
عن وهبن زبر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب حضور علی الصلاۃ والسلام کی وفات ہوئی تو لوگوں نے آپس میں کہا کہ مدینہ میں دو شخص قبر کودنے ہیں ایک صاحب بغلی قبر کودنے ہیں اور دوم رے صاحب صندوقی (دونوں کو بلاو) ان میں سے جو پیلے آجاتے ہیں، ی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف (اپنے طریقہ کے موافق) تیار
کہے، الغرض دونوں کو اطلاع کی گئی، اتفاق سے بغلی قبر تیار کرنے والے صاحب پہلے آگے اور آپ کے لیے بغلی قبر تیار کی گئی۔ اس کی روایت امام بخوي نے شرح السنن میں کی ہے۔
دوسرا حدیث
Urwah ibn Az-Zubayr reported: "There were two men in Madinah: one who made niches (Lahd) in graves, and the other who did not. They said, 'Whichever of them comes first will do his work.' The one who made niches came first and made a niche for the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated in Sharh As-Sunnah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کرہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (ہمارے مدینہ کی زمین بہت سخت ہے بغلی قبر کے قابل نہیں، اس لیے) تعمیریں والوں (جسیا کے اشعة اللمعات اور عرف شنزی میں ذکور ہے۔ 12) کے لیے (اور جہال کیسی کی زمین سخت ہو، ان کے لیے) بغلی قبر کی مناسب ہے اور ہمارے مدینہ کے سوا (جہال کی زمین نرم ہے جسے مدد کی یا ورجگد کی ان کے لیے) صندوقی قبر کی مناسب ہے۔ اس کی روایت تزندی، ابوداوود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
(Our land in Madinah is very hard and not suitable for brick graves, therefore) it is suitable for the people of buildings (such as those mentioned in Ash'at Al-Lama'at and 'Arf Shinzi, 12) and for those whose land is hard, brick graves are suitable, and for our land in Madinah, except for those whose land is soft (which can be helped or prepared), wooden coffins are suitable. This is narrated by Tzandi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah.
اور امام احمد نے جریر بن عبد اللہ اس کی روایت کی ہے۔ اور تزندی نے کہا ہے کہ:
قبر میں میت کے پیچھے چادر وغیرہ پچھانا کروہ تحریک ہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The niche (Lahd) is for us, and the trench (Shaqq) is for others." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
Ahmad also narrated it from Jarir ibn Abdullah. Al-Tirmidhi said: "It has been reported from Ibn Abbas that he disliked placing anything under the deceased in the grave." (1)
(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرولی سے کہ حضرت ابن عباس قبر میں میت کے پیچھے (چادریا) کوئی (اور) چیز پچھانے کو کروہ تحریک ہے (اس لے درختار میں کہا ہے کہ مردہ زمین پر رہنا چاہے، قبر میں مردہ کے پیچھے چادر وغیرہ پچھانا کروہ تحریک ہے، اپنی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے مشہور ہے کہ قبر تشریف میں چادر پچھالی گئی تھی، یہ حضور کا خاص ہے، حضور چونکہ حیات انبیا ہیں، حضور کے پیچھے قبر تشریف میں چادر پچھالے جانے سے دوسروں کی قبر میں چادر پچھانے پر دل نہیں لی جاسکتی۔)
قبر کو بان نما بنانے کا بیان پہلی حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The niche (Lahd) is for us, and the trench (Shaqq) is for others." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
Ahmad also narrated it from Jarir ibn Abdullah. Al-Tirmidhi said: "It has been reported from Ibn Abbas that he disliked placing anything under the deceased in the grave." (1)
(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
سفیان التمار رضی اللہ عنہ نے روایت کرہے، انہوں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر تشریف (ایک بالشت اوپچی) کو بان نما ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
دومسری حدیث
Sufyan An-Namar reported that he saw the grave of the Prophet (ﷺ) raised in a dome shape. [Narrated by Al-Bukhari]
سفیان التمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ)
اس قبرہ شریف میں داخل ہوا کر جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف ہے میں نے
دیکھا کہ (قبرہ شریف میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف اور حضرت ابوبکر اور حضرت
عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں تینوں کی تیون (ایک بالشت اور دو) کو بان نما ہیں۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے۔
قبر کو پختہ بنانا اور اس پر عمارت بنانے کا بیان اور قبر پر بیٹھنے کی ممانعت
It is also reported from him: "I entered the house where the grave of the Prophet (ﷺ) is located, and I saw the graves of the Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar raised in a dome shape." [Narrated by Ibn Abi Shaybah in his Musannaf]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (بضرورت) قبر کو پختے سے پختہ کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں۔ (اگر کوئی ایسی ضرورت ہو مشاہدہ
کرسی سے قبر کے مسار کرنے کا خوف ہو، تو قبر کو پختے سے پختہ بنانے ہیں، اس کی ویل وہ حدیث ہے
جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرودی ہے، (مار آہ المُسلمین حسنًا فہو عند اللہ
حسن ) جس فغل کو صاحبین مسلمان اچھا بچیس، وہ الد تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، ضرورت کی
وجہ سے قبر کو پختے کرنا صاحبین مسلمان پسند کیا ہیں، اس لے چکی قبر بنانا الد تعالیٰ کے پاس بھی
پسندیدہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر عمارت بنانے سے بھی منع فرماتے ہیں۔ (اگر
عمارت سے مراد یہ کہ عین قبر پر، کوئی عمارت بنا سکی جسے بعض کفار قبر پر لاٹ بناتے ہیں تو ایسی
عمارت بنانا اس حدیث سے ممنوع ہے، اور اگر قبر پر عمارت بنانے سے مراد یہ کہ قبر کے اطراف
کوئی عمارت مشکنبد کے بنائی جانے اور وہ بضرورت ہوتی یہی جائز نہیں ہے اور اگر گنبد وغیرہ
کسی ضرورت سے بنائی جانے جسے صاحبین مشاہد، علماء اور سادات کے مزار پراس غرض سے بنائی
جائی ہے کہ جو لوگ ان کے مزار پر زیارت کے لے آتے ہیں، وہ دھوپ سے اور بارش سے محفوظ
رہیں اور اطمینان سے بیٹھ کر ان سے فیض لیا کریں تو یہ جائز ہے، اس لے کہ صاحبین مسلمان اس کو
اچھا سمجھتے ہیں، اس لے الد تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر
بیٹھنے سے بھی منع فرماتے ہیں، اس لے کہ اس میں مردہ کی ابانت اور زلت ہوتی ہے اور مردہ کی
ابانت جتنی کامیاب ہوتی ہے وہ سب منع فرماتے ہیں۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited plastering graves, building over them, or sitting on them. [Narrated by Muslim] (2)
(2) The statement: "And building over them." The prohibition regarding building is disliked if it is on one's own property and forbidden in public cemeteries. Some of our scholars explained that it is also due to the waste of wealth. However, the early scholars permitted building over the graves of renowned scholars and teachers so that people could visit them and find comfort in sitting there. This is mentioned in Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چھگاری پر بیٹھ جائے اور اس سے اس کے کپڑے جل کراس کی کحال تک آگ پہوچ جائے تو اس کا مضرہ بہت زیادہ ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے لکھی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ said: 'If a person sits on a fire and the fire reaches his clothes up to the kohl of his eyes, it will cause him great harm.' This is reported by Muslim.
تصوری کے کہنے کی اور قبر پہت اور پی بنانے کی ممانعت
ابوالحیاج اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے سنوا ابوا الحیاج مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کام کے لیے کچھ نہیں، میں اس کام کے لیے تم کو مجھی کچینا چاہتاہوں اور وہ کام یہ ہے کہ جہاں کوئی تم کسی جاندار کی تصویر دیکھو (خواہ وہ مجسمہ ہو یا پاتھے سے پنچی ہوئی ہو، یا فلوٹو جسیا کر مجوع البجار میں نذور ہے۔ 12 - ہو ) اس کو توڑ دو، مطاور (اور باقی نہ رہنے دو) اسائے جہاں تم دیکھو کر قبر (حد سے زیادہ) اوپی بنائی گئی ہے تو اس کو پست کر کے ایک بالشت کے موافق بلند رہنے دو۔ اس کی روایت مسلم نے لکھی ہے۔
Abu Al-Hayyaj Al-Asadi reported: Ali (may Allah be pleased with him) said to me, "Shall I not send you on the same mission that the Messenger of Allah (ﷺ) sent me on? Do not leave any statue without erasing it, nor any elevated grave without leveling it." [Narrated by Muslim] (1)
(1) The statement: "Nor any elevated grave, etc." Ibn Al-Humam said: "This Hadith refers to what they used to do by raising graves with high structures. Our intention is not to prohibit raising the grave slightly to distinguish it from the ground." This is mentioned in Al-Marqah. It also states: "There is no indication in it for flattening the grave, as Ibn Hajar said, nor for raising it, as others said. Rather, it emphasizes the prohibition of building excessively. However, it is not permissible to level it completely with the ground, as the Sunnah is to mark the grave and raise it slightly, as [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih."
قبرول پر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (قضاء حاجت کے لیے) قبرول پر مت بیٹھو (اس لیے کہ یہ کروہ (جسیا کر دا اختار میں نذور ہے۔ 12) تحریم ہے، اگر قضاء حاجت کے لیے نہیں بلکہ یول ی قبرول پر بیٹھنا یا قبرول کو ہدنا ہوا چلا) تو یہی نہیں کرنا چاہیے۔ (اس لیے کہ اسیا کرنا کروہ تزہیب ہے۔ جسیا کر مرقات میں نذور ہے۔ 12 - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبرول کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (اس لیے کہ یکروہ تحریم ہے۔)
قبر گھری گھودو نے کا بیان اور ضرورت پراکی قبر میں کئی مردون کو دفن نے کا جواز
Abu Marthad Al-Ghanawi (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not sit on graves, nor pray facing them." [Narrated by Muslim]
اس حدیث کی روایت مسلم نے لکھی ہے۔
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، وہ فرماتے ہیں کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ احد کے ختم ہونے کے بعد (جب شہیدول کو دفن کر رہے تھے اس وقت) ارشاد فرماتے قبریں گھودو اور کشادہ گھودو اور گبری گھودو (کم سے کم قبر کر کے برابر گبری ہو، جتنا زیادہ گبری گھودو گے بہت اچھا ہے، چاہے سینہ (جسیا کے مرقات میں نذور ہے) تک ہو یاقد کے برابر ہو) اور قبر کو پاک و صاف بناؤ (کہ زمین ہموار رہے، مٹی اور کوئی چیز اس میں نہ رہے)۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایک قبر میں ایک، یا مردوں دفن ایا جائے، اگر ضرورت ہوتی) ایک قبر میں دو، دو، تین تین بھی دفن کرو (گر دومردون کے نچ میں مٹی یا ایکول سے آخر بنائی جائے) (روا کتا ر 12) (جب کئی مردون کو ایک قبر میں دفن کرنا پڑے تو ان میں سب سے زیادہ جس کا علم و عمل تھا اسی کو قبر میں پہلے اتاریں اور اس کو قبل کی طرف پیلے رکھیں (پہراس سے کم جس کو قرآن زیادہ یاد ہو، اس کو پیلے قبر میں اتار کر (قبل کی طرف پیلے) رکھیں (پہراس سے کم جس کو قرآن یاد ہو، اس کے بعد اس کو رکھیں، ایسے ہی ترتیب وار مردون کو ایک قبر میں ضرورت رکھ سکتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداوداورنسائی نے کی ہے اور ایک لاجب نہیں کہی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔ 12 مردون کو دفن کے لے دوسرو مقامات پر منتقل کر نے کی ممانعت پہلی حدیث
Hisham ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of Uhud, the Prophet (ﷺ) said, "Dig the graves, make them wide and deep, and do it well. Bury two or three in a single grave, and place the one who knew the most Quran first." [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
Ibn Majah narrated it up to the words: "And do it well."
جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوہ احد میں میرے والد شہید ہو گے اور ابھی دفن نہیں کیا گیا تھا کہ) میری پھوپھی میرے والد کو پال کے منتقل کر کے ہمارے قبرستان میں دفن کر نے کے لے آئی، اتنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے نداوی کہ شہیدول کوان کے شہید ہو نے کی جگہ والپس لے جاو (تاکران کو پیں دفن کرو یا جائے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداود، نسائی اور داری نے کی ہے۔
ف: اس حدیث ثریف سے معلوم ہوا کہ میت کو جہاں مرا ہو، اس مقام کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے، دوسرو مقام میں اس کو منتقل نہیں کرنا چاہیے، اگر منتقل کے کچھ تو ایک دومیل کے کم فاصلہ میں منتقل کرنا چاہیے یہی خلاف اولی ہے اور ایک دومیل سے زائد دور دفن کے لے جانا
کروہے، اس لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کو جہالی یشہید
ہوئے تھے، وہیں فرن کر نے کا حکم دے اور فرن کے بعد قبر کو گود کر میت کو ایک مقام سے دوسرا مقام
پر لے جانا ہر حال ت میں نا جائز ہے، بلال اگر کسی آدمی کی حق تلفی ہوتی ہو تو البتہ میت کا فرن کے بعد نکالنا
جانزہے، مثلًا وہ زمین حس میں اس کو دفن کیا گیا ہے وہ دوسرا کی ملک ہوا ور وہ اس کے ذن پر راضی
نہ ہو (یہ مضمون عام ہی ہے اور دا ختارے لیا گیا ہے۔)12
دوسری حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "On the day of Uhud, my aunt brought my father to bury him in our cemetery. Then the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) announced, 'Return the martyrs to their places of death.'" [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Al-Darimi, with the wording from Al-Tirmidhi] (2)
(2) The statement: "Return the martyrs to their places of death." It is recommended to bury the martyr or deceased in the place where they died, in the cemeteries of those people. However, if they are transported before burial for a distance of one or two miles, there is no harm in it. This is based on the report that Sa'd ibn Abi Waqqas died in a village four Farsakhs (about 12 miles) from Madinah and was carried on the shoulders of men to Madinah. This is the summary of what is mentioned in Sharh Al-Munyah and Fath Al-Qadeer.
ابن ابی ملکیہ رضی اللہ عنہ (جو مشہیر تابعین سے ہیں) ان سے روایت ہے،
وہ فرماتے ہیں کہ حبشی کہ کر میں کے اطراف کے مواضعات میں سے ایک موضع ہے، یہاں عبد الرحمن
بن ابی بکر رضی اللہ عنہما تھا اور اسی موضع میں ان کا انتقال ہو گیا، تو ان کا جنازہ مقام حبشی سے کہ معظّم
لا یاگیا اور وہ کہ معظّم میں فرن کے گئے، جب امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (رح کے لے)
کہ معظّم آ میں تو اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر کی زیارت کے لے ان کی قبر پر تشریف لا میں اور
(بہت دور کے ساتھ) یا شعار پڑھیں۔
فلما تفرقنا کانی ومالگا
و کنا کندمانی جذيمة حقبة
من الدهر حتی قيل لن يتصدعا
لطول اجتماع لم نبت ليلة معا
جذيمه (تفصیل اشعار المعنات میں ذکور ہے۔12) عراق اور عرب کا با در شاہ تحساس کے دو
وزیر تھے، ایک کا نام ماک اور دوم رے کا نام عقیل تھا، جذیمہ کے پیرو وزیر جا پیس سال تک ایک
دوم رے کے ساتھ رہے، ان کی آپس میں مدت و راز تک، تم نشین اور خلوصی محبت کی وجہ سے لوگ کہتے
تھے کہ اب پیہرگز جدا نہ ہو لگے، لیکن نعمان نے ان کو قتل کروا، اس واقعہ کو تمیم بن نویرہ شاعر نے
اپنے بھائی ماک بن نویرہ کے مرثیہ میں تشبیہاً اس طرح بیان کیا ہے کہ طرح جذیمہ با در شاہ کے دو
وزیر جا پیس سال تک ایک دوم رے کے ساتھ رہے، اس طرح تم جذیمہ آپس میں ان دو وزیر ول کی
طرح تم نشین اور محبت رکھنے والے تھے، ایک دوم رے سے جدا نہ ہو تے تھے، حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں خالد بن و لید رضی اللہ عنہ نے ماک بن نویرہ کو قتل کروا، تمیم بن نویرہ
شاعر کہتا ہے کر اے ماک تم باوجود ایک مدت و راز تک ساتھ رہنے کے تیرے قتل کی وجہ تے ایا
معلوم ہوتا ہے کر وہ مدت و راز ایک خواب تھا اور تم اس طرح جدا ہو گے کہ تم ایک ساتھ نہ رہے
تھے، اب اس واقعہ کو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حسب حال پاکراپنے بھائی کے
فراق میں نذورہ دو شعر پڑھیں کہ: اے بھائی! تم اور تم جذبیہ باوشاہ کے تمام شبن و زپول کی طرح
تم اور آپس میں ایک مدت دراز تک اس طرح رہ کر لوگ کیے تم کر اب پیجدا نہ ہول گے، لیکن
جب جدائی کا وقت آیا تو باوجود اتنی طولی مدت تک ساتھ رہنے کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کویا تم ایک
رات بھی ساتھ نہیں رہے۔
اب اشعار کے پڑھنے کے بعد حضرت امام المومنین فرماتے ہیں کہ خدا کی فتحاگر میں تمہاری موت
کے وقت تمہارے باس موجود ہوتی تو تمہیں اس مقام حبسی میں دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوتی
تھی) (اس لے جوئے جہاں انتقال کرے اس کو ہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مسنون ہے۔) اس
کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ علیہا نے پیغی فرمایا کہ عام عورتوں کی عدت ان کے شوہرول کی وفات
کے بعد (4) ماه دس دن ہے، اس لے وہ عدت گزر نے کے بعد کی سے بھی نکاح کر سکتے ہیں،
خلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کی عدت ان کے وفات تک ہے
کہ امہات المومنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تاحیات کی سے نکاح کرنا جائز نہیں
ہے (اس لے اپنے بھائی سے حضرت عاشر فرماتی ہیں کہ میں عدت (جبیا کہ مرقات اور اشعة
المعدات میں نذورہ ہے۔12) میں ہول، اگر میں تمہارے انتقال کے وقت تمہارے جنازہ میں
شریک رہتی تو دوبارہ تمہاری زیارت کے لے نآئی، کیونکہ زمانہ عدت میں بلاضرورت شدید کے
کہیں جانی سکتے، بال ایسے کوئی خاص ضرورت ہوتی جاسکتے ہیں، چون کہ میں تمہارے انتقال
کے وقت (تمہارے دیار سے محروم رہی) اس لے اب زیارت کے لے آگئی ہول (تاکہ یہ
آخری دیار کے قائم مقام ہوجائے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
میت کو قبر میں قبل کی جانب سے اتنا اور قبر میں قبل درخ لانا مسنون ہے
Ibn Abi Mulaikah reported: "When Abdur Rahman ibn Abi Bakr died in Al-Hubshi (a place), he was carried to Makkah and buried there. When Aisha (may Allah be pleased with her) arrived, she visited the grave of Abdur Rahman ibn Abi Bakr and said:
'We were like the two companions of Jadhimah for a period of time,
Until it was said they would never part. When we separated, it was as if I and Malik,
Due to our long companionship, had never spent a night together.'
Then she said, 'By Allah, if I had been present, you would not have been buried except where you died. If I had witnessed your death, I would not have visited you.'" [Narrated by Al-Tirmidhi] (1)
(1) The statement: "If I had witnessed your death, I would not have visited you." Its explanation is in the chapter on visiting graves, so refer to it.
This hadith has been narrated by Tirmidhi. It is recommended to place the deceased in the grave facing towards the qiblah and to align the grave with the qiblah direction.
ابوبعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل کی جانب سے قبر میں اتا کر رکھا گیا، اس طرح کر قبر کے قبل کی جانب جنازہ
رکھا گیا اور جنازہ کو لے کر قبر میں رکھنے والوں کا رخ بھی قبل کی طرف تھا (پہر قبر میں) اب پکوسیدھی
کرو تکر کے قبل درخ لایا گیا۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
میت کو قبلہ کی جانب سے قبر میں اتارنا مسنون ہے
Abu Sa'id reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) was taken from the direction of the Qiblah and was placed facing it." [Narrated by Ibn Majah]
ا بن بریدہ رضی اللہ عنہ ا پن والد بریدہ رضی اللہ عنہ ت روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لے بغیر قبر تیار کی گئی تھی اور حضور علی الصلاۃ والسلام کو قبر تشریف میں اتارتے وقت قبلہ کی جانب سے اتارا گیا تھا اور قبر تشریف پر پی اعظم جمالی گئے تھین۔ اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔
Ibn Buraidah reported from his father: "A niche (Lahd) was made for the Prophet (ﷺ), and he was taken from the direction of the Qiblah, and bricks were placed firmly over him." [Narrated by our Imam Abu Hanifah]
ا برہیم نخی رضی اللہ عنہ ت روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر تشریف میں اتارتے وقت قبلہ کی جانب سے اتارا گیا تھا اور قبر تشریف کے پاس تین جنازہ کو رکھ کر قبر میں سر کے جانب سے نہیں اتارا گیا ہے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اس کی روایت مرسل میں کی ہے۔ 12
Abu Sa'id reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) was taken from the direction of the Qiblah and was placed facing it." [Narrated by Ibn Majah]
ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (جب عبد اللہ ذو البجاوین) رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفّہ میں سے تھے ان کا انتقال ہوا تو ان کورات میں دونوں کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرن کرتے کے لے قبر میں اترے (دونوں میں سے ولت کے لے) آپ کے واسطے چراغ روش کیا گیا اور حضور علی الصلاۃ والسلام (میت کو قبر میں) قبل کی جانب سے اتارتے اور فرماتے (عبد اللہ!) اللہ تعالی تم پر رحمت نازل فرمائے، تم بڑے نزم دل اور خوف خدا تے۔ بہت رونے والے اور قرآن تشریف کی بہت زیادہ تلاوت کرنے والے تھے اور جب حضور علی الصلاۃ والسلام ان کی نماز جنازہ پڑھ کے تھوڑا چار تکبیرات کے ساتھ نماز اداء فرمائے تھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) entered a grave at night, and a lamp was lit for him. He took the deceased from the direction of the Qiblah and said, 'May Allah have mercy on you. Indeed, you were someone who frequently recited the Quran.' Then he said Takbir four times." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Hadith"] (2)
(2) The statement: "This is a Hasan Hadith." In Fath Al-Qadeer, it is said: "In its chain are Al-Hajjaj ibn Artah and Minhal ibn Khalifah, and there is disagreement about them. This lowers the Hadith from the level of Sahih to Hasan."
ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما (یہ سب حضرات) میت کو قبر میں اتارتے وقت قبل کی جانب سے اتارا کرتے تھے۔ اس کی روایت طبرانی نے الکبری میں لکھے۔ 12
It is also reported from him: "The Prophet (ﷺ), Abu Bakr, and Umar used to place the deceased in the grave from the direction of the Qiblah." [Narrated by Al-Tabarani in Al-Kabir] In its chain is Abdullah ibn Khirash, whom Ibn Hibban trusted.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ جب زید بن امکفف کو قبر میں اتارنے جا تو قبل کی جانب سے اتارنے گئے۔ اس کی روايت عبد الرزاق اور ابن الی شیبہ نے لکھی ہے۔ اور ابن حزم نے لکھا میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "Yazid ibn Al-Mukaffaf was placed in the grave from the direction of the Qiblah." [Narrated by Abdur Razzaq and Ibn Abi Shaybah, and authenticated by Ibn Hazm in Al-Muhalla]
ابن احنفیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ پڑھانے اور دفن کرنے کے لیے ابن احنفیہ رضی اللہ عنہ کا جب انتخاب ہوا تو حضرت ابن احنفیہ حضرت ابن عباس کی نماز جنازہ چار تکبیرات کے ساتھ اداء فرما کے اور ان کو قبل کی جانب سے قبر میں اتارنے۔ اس کی روایت ابن الی شیبہ نے لکھی ہے۔ 12
میت کو قبر میں اتارنے وقت پیداپڑھنامسنون ہے
Ibn Al-Hanafiyyah reported: "He led the funeral of Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), said Takbir four times, and placed him in the grave from the direction of the Qiblah." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی یہ یہی کہ جب میت کو قبر میں اتارا جاتا تو آپ پیداپڑھتے "بسم اللہ وعَلی ملّۃ رسوُل اللہ" (بھم اللہ کے نام سے اس میت کو قبر میں اتارنا شروع کرتے ہیں)۔ اللہ پیتہا آپ کے پاس آ رہا ہے اس لیے تم اس کو آپ کی پناہ میں دے رہے ہیں آپ اس کی بھرگلمدد فرما یے (اس نے اپنی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے موافق برکی ہے، اس لیے اب) تم اس کو رسول اللہ کے دین کے موافق ہی دفن کر رہے ہیں۔
اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
قبر میں مٹی دالنے، قبر پر پانی چھڑ کرنے اور قبر کا نشان رکھنا پیال
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Prophet (ﷺ) placed the deceased in the grave, he would say, 'In the name of Allah, and by Allah, and according to the religion of the Messenger of Allah.'" [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah]
امام جعفر صادق رضی اللہ عنه، اپنے والد امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے
مرسل روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سرپائے کی طرف سے) اپنے دونوں
وست مبارک کو ملا کر دونوں ہاتھوں سے تین پسومی (اگر بغلی قبر ہوتا ہیں تو سے بندر کرنے کے بعد اور
اگر قبر صندوقی ہوتا کریال رکھنے کے بعد) قبر میں دال لیں۔ (امام احمد کی روایت سے ثابت ہے
کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دفعہ پسومی مٹی دالنے وقت منہا خلقنکم، (مٹی سے بھی تمتم
کو پیدا کے) پڑھا اور دوسرا دفعہ پسومی مٹی دالنے وقت فرما، وفیها نعیدکم، (اور مرتنے
کے بعد دوبارہ تم کو تم مٹی، میں لے جائیں گے) اور تیسری دفعہ پسومی مٹی دالنے وقت
فرما، ومنہا نخر جکم تارة أخرى، (پھر قیامت میں تم تم کو مٹی، میں لے اٹھائیں گے)
اور راوی کہتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کا جب انتقال
ہوا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابراہیم (کے دفن کے بعد ان) کی قبر پر (اپنے دست
مبارک سے) پانی چھڑ کے اور قبر پر اپنے دست مبارک سے کنگریال جمادی (تاکر جسیا کے
مرقات میں لکھا ہے۔12 نشانی رہے۔)
اس کی روایت ثرہ السند میں کی ہے اور امام شافعی نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔
سرپائے کی جانب سے مٹی دالنامسنون ہے
Ja'far ibn Muhammad reported from his father in a Mursal narration: "The Prophet (ﷺ) placed three handfuls of soil on the deceased with both hands together. He also sprinkled water on the grave of his son Ibrahim and placed pebbles over it." [Narrated in Sharh As-Sunnah]
Ash-Shafi'i narrated from his statement: "He sprinkled."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما، نبی کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کی نماز پڑھائے، پھر میت کے ساتھ قبر تک تشریف لے لگے اور میت کو قبر
میں رکھ دیا گیا اور جب مٹی دالنے کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرپائے کی جانب
سے تین پسومی قبر میں دال لی۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ (پس) دونوں ہاتھوں سے بھر
کر کسی چیز کو اٹھانا پسومی لا تا ہے۔
قبر پر پانی چھڑ کرنے کا طریقہ
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed over a funeral, then went to the grave and placed three handfuls of soil from the direction of the head." [Narrated by Ibn Majah]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما، نبی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ ل و سلم کی قبر شریف پر فن کے بعد پانی چھڑ کا گیا تھا اور پانی چھڑ کے والے بلال بن رباح رضی اللہ عنہ پی انہول نے اس طرح چھڑ کا وشرو ع کیا کہ سرمبارک کی طرف سے شرو ع کر کے دونوں قد مول تک چھڑ کا وختم کیا۔
اس کی روایت ترتیب نے داکل النبو ة میں کی ہے۔ قبرول کو پختہ بنانے اوران پر کتبہ لگانے کا ذکراور قبرول پر چلنے کی ممانعت
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The grave of the Prophet (ﷺ) was sprinkled with water. The one who sprinkled the water on his grave was Bilal ibn Rabah (may Allah be pleased with him) using a water skin, starting from the direction of the head until he reached the feet." [Narrated by Al-Bayhaqi in Dala'il An-Nubuwwah]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم قبرول کو گھے سے پختہ کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں اور حضرت صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم قبرول پر کچھ سے بھی منع فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم قبرول پر چلنے سے بھی منع فرماتے
پی - اس کی روایت ترتیب نے کی ہے۔ قبرول کو پختہ بنانے اوران پر کتبہ لگانے کی صراحت
ف : یہ حدیث اس زمانے کی ہے کہ جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم قبرول کی زیارت کرنے سے منع فرماتے تھے جب زیارت قبور سے منع فرمایا گیا تو قبرول کو گھے کرنے سے بھی منع فرمایا گیا تھا اس لئے کہ جب زیارت قبور میں جائزت نہیں تو قبرول کو گھے کرنے کی پختہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور جب قبرول کی زیارت کرنے کی ممانعت منسوخ ہوگی تو حدیث کے دونوں حکم کے قبرول پر گھے نہ کی جائے اور قبرول پر کہانے جانے بھی منسوخ ہوگے ( جسیا کہ مرقات میں حاکم کے حوالے سے کہتا ہے۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم کا ارشاد ہے : ( فرورؤها ) یعنی قبرول کی زیارت کروواسے قبرول کو گھے کرنے کی پختہ کرنے کی اجازت بھی مل گئی اور قبرول پر کچھ اور کچھ لگانے کی بھی اجازت ہوگی۔ اس لئے کہ چھی قبر چند روز میں زمین کے برابر ہو جائے گی۔ اوراس کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، اس سے لازم آتا ہے کہ قبرول کو گھے سے پختہ کریں اور او پر حسنیا کتب لگا میں تاکہ زیارت کی جاسکے۔ پقول مبارک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم کا آپ کے اس فغل سے بھی ویل ملتی ہے، قبرول کو گھے سے پختہ کرنے کی اس لئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآ ل و سلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک برہا پتھر رکھا کہا حکم دیے اور حسنیا اس کو اٹھانے سے تو حضور خود اٹھا کر قبر ( یہ حدیث ابوداود میں ذکور ہے جو آگے آرہی ہے۔ -12 ) پر کہ دیے تاکہ قبر یادگار رہے اور اس کی زیارت کر سکیں، اس سے بھی معلوم ہوا کہ قبرول کو گھے سے پختہ کیا جائے تاکہ لوگ زیارت کر سکیں۔ حدیث ذکور کے پی دونوں حکم منسوخ ہوئے کی بھی ایک دلیل ہے کہ سارے عالم اسلام میں مشرق سے مغرب تک سلف ( جسیا کہ رواجتار
میں ذکور ہے ) سے خلف تک قبرول کوگے سے پختہ کیا جاتا رہا اور قبرول پر لحا جاتا رہا ہے یا ان پر کتب کہ کرسر بانے لگے جاتے رہے یعنی اس کی ویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یحدیث شریف ہے : " مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَناً فَهُوَ عِندَ اللّٰہِ حَسَنٌ " جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ چونکہ صالحین مسلمان قبرول کوگے سے پختہ کرنے اور قبرول پر کہنے اور کتنے یا کتنا لگانے کو پسند کرتے ہیں، اس لیے قبرول کوگے سے پختہ بنانا اور قبرول پر کہنا یا کتنے اور کتنے لگانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ (جسیا کہ مرقات اور ردالمختار میں ذکور ہے -12) ہے۔
حدیث نذور کا تیرا اجزء کہ قبر کوروندا نہ جائے منسوخ نہیں ہے۔ اس لیے قبرول پر چلنے اور قبرول کوروندنا جائزہے
It is also reported from him: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited plastering graves, writing on them, or walking over them." [Narrated by Al-Tirmidhi] (1)
(1) The statement: "Writing on them." In Al-Muhit, it is said: "If there is a need for writing to preserve the grave's mark and prevent disrespect, there is no harm in it. However, writing without a valid reason is not permissible. It is disliked to write Quranic verses, poetry, or praise on graves." This is summarized in Al-Hilyah and mentioned in Radd Al-Muhtar.
This is a narration that has been arranged in sequence. It explicitly mentions making the grave solid and placing a marker on it.
This hadith pertains to the time when the Messenger of Allah ﷺ prohibited visiting graves. When visiting graves was prohibited, making the graves solid and placing markers on them was also prohibited. This was because if visiting graves was not permissible, there was no need to make the graves solid or place markers on them. And when the prohibition on visiting graves was abrogated, both commands in the hadith, neither to make the graves solid nor to place markers on them, were also abrogated (as mentioned in Maraqi from Hakim). The guidance of the Messenger of Allah ﷺ is: 'Visit them,' meaning visit the graves, and the permission to make the graves solid and to place markers on them was also granted. This is because within a few days, the grave will become level with the ground, and no sign of it will remain. Therefore, it is necessary to make the grave solid with stones and to place beautiful inscriptions on it so that it can be visited. The blessed statement of the Messenger of Allah ﷺ also indicates this, as he made the grave of Uthman bin Mazun (RA) solid with a flat stone and gave instructions for it, and when it was to be removed, he himself lifted it and placed it on the grave (this hadith is mentioned in Abu Dawud, which will come later -12) so that the grave would remain a memorial and could be visited. This further indicates that graves should be made solid with stones so that people can visit them.
There is also a reason for the abrogation of both commands mentioned in the hadith, which is that throughout the Islamic world, from east to west, from the early generations (as mentioned in the prevalent tradition) to the later ones, graves have been made solid with stones and visited, or inscriptions have been placed on them. This is in accordance with the noble hadith of the Messenger of Allah ﷺ: 'What the Muslims consider good is good in the sight of Allah.' Whatever good deeds the righteous Muslims approve of are also pleasing to Allah Almighty. Since the righteous Muslims approve of making graves solid with stones and placing inscriptions or other things on them, making graves solid with stones and placing inscriptions or other things on them is also pleasing to Allah Almighty (as mentioned in Maraqi and Radd al-Mukhtar -12).
The third part of the hadith, which prohibits walking on graves, has not been abrogated. Therefore, walking on graves and rubbing against them is permissible -12.
مطلب بن وداع رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جاکر (بقعہ میں) قبر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحابی کو حکم دے کر ایک بڑا چتر اٹھالاو (تاکہ قبر کے سرپانے کی طرف رکھا جائے) یہ معلوم ہو نے کے لئے کہ عثمان بن مظعون کی قبر ہے) وہ چتر (اس قدربڑا تھا کہ صحابی اس کو اٹھا کر نہ لا سکے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چتر کے لانے کا ارادہ فرماتے اور اپنے دونوں آستینوں کو چتر حاکر اس چتر کے پاس پہنچے، راوی کہتے ہیں کہ جو صحاب۔ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہیں وہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس چتر کے لانے کے لئے اپنے آستین چطر حاکے ہیں تو حضور کے بازوں کی سفیدی اس وقت بھی جود کہانی دی اب تک یاد ہے، چتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چتر کو اٹھا کر عثمان بن مظعون کی قبر پر سرپانے کی طرف جما ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے (کہ مرور زمانے سے قبر متکرز میں کے بر ابر ہو جانی ہے اور لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ قبر کہاں ہے اس لے کے ) میں (اس چتر کو سرپانے کی طرف رکھ کر) لوگوں کو معلوم کروا نا چاہتا ہوں کہ (یہاں میرے رضا علیہجا نی) عثمان بن مظعون کی قبر ہے (میں پرشانی اس وجہ سے کہی رکھ ربا ہوں کہ) ان کے بعد میرے گرانے میں سے جو کسی وفات پائے گے انبیا یہاں دفن کروں گا۔ (اس سے ہر واژ قائم کرنے کا ثبوت ملتا ہے) جسیا کہ مرقات میں نذور ہے -12) (اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
میت کے ساتھ قبر تک جانا اور دونوں تک بیٹھنا مسنون ہے
Al-Muttalib ibn Abi Wada'ah (may Allah be pleased with him) narrated: "When Uthman ibn Maz'un (may Allah be pleased with him) died, his funeral was taken out and buried. The Prophet (ﷺ) ordered a man to bring a stone, but he could not carry it. The Messenger of Allah (ﷺ) then rolled up his sleeves and carried it. Al-Muttalib said: 'The one who informed me about the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is as if I can still see the whiteness of the arms of the Messenger of Allah (ﷺ) when he rolled up his sleeves.' He then placed the stone at the head of the grave and said, 'I am marking the grave of my brother and will bury my family members near him.'" [Narrated by Abu Dawud] (1)
(1) The statement: "I am marking it." In Qadikhan, it is said: "There is no harm in placing stones as a marker." This is mentioned by Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "There is no harm in writing." In Radd Al-Muhtar, it is said: "Although the prohibition of writing is established, it is not acted upon. The Imams of the Muslims, from the East to the West, have writing on their graves, and this is a practice inherited from the predecessors. This Hadith strengthens this view, as writing helps identify the grave. However, it appears that this consensus applies when there is a need for it, as indicated in Al-Muhit."
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بمر اہ ایک انصاری کے جنازہ کو لے جوئے قبرستان میں پہو چے والے جا کر کیا دیکھتا ہیں کہ ایک قبر تیار کیا ہوتا ہے (قبر کے تیار ہونے کا انتظار کیاس لے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل کی طرف رخ کر کے بیٹھا گیا اور تم کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضور کے اطراف ) بیٹھے گے _ اس کی روایت البوداوو، نسا ئی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں پر اضافہ ہے کہ تم کچھ حضور کے ساتھ بیٹھ تو اور ( اس وقت مجلس پر حضور کے رعب اور عظمت کی وجہ سے ایسا سکون اور ایک خاموشی طاری کچھ کہ سب بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے تھے ) ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہمارے سروں پر پردہ بیٹھے ہوئے ہیں - ( کہ رکت کرنے ہی اڑ جائیں گے _)
ف : اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کر اس حدیث ثریف سے معلوم ہوتا ہے کر میت کے ساتھ قبرستان تک جانا اور قبر تیار ہونے تک دفن کے انتظار میں بیٹھنا سنّت ہے، اس حدیث ثریف میں ذکور سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ روہوکر بیٹھے گئے، مرقات میں طبرانی کے حوالے سے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ روہوکر بیٹھا جا ے
Al-Bara' ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the funeral of a man from the Ansar. When we reached the grave, which had not yet been prepared, the Prophet (ﷺ) sat facing the Qiblah, and we sat with him." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
At the end of the narration, it is added: "It was as if birds were sitting on our heads."
( جسے زندہ کوپچھا ایزا دی جا ے تو وہ متاثر ہوتا ہے اور اس کو تکلیف ہوتی ہے، ایے، ی مردو کو اگر ایزا دی جا ے تو وہ بھی متاثر ہوتا ہے _ ( اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کی ہے -12 ) اور اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے اس کے _)
مردو کو بھی زندہ کی طرح ایزا پہو چتی ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کسی مردو کے ( اعضاء درست کرنے کے لیے ) اس کی بڑی تواڈی جا ے (تواس سے اس کو اسی طرح تکلیف ہوتی ہے ) جسے کسی زندہ کی بڑی ( اس کی زندگی میں ) تواڈے سے اس کو تکلیف پہو چتی ہے _
اس کی روایت امام ما لک، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے _
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کر زندہ کو ایزد اعبہ و نجاح نے جسیاگناہ ہوتاہ و لے، مردو کومرن کے بعد ایزد اوبینے گناہ ہوتاہ، اس سے پہلی معلوم ہوا کر جسی آرام دہ کام سے زندہ کوآ رام اور لذت ملتی ہے، ایساہی کسی مردو کے ساتھ کچھ آرام دہ کام کیا جائے تو مردو کوآ رام اور لذت ملتی ہے اس سے ثابت ہوا کر جسی زندگی میں زندہ کی تعظیم کی جاتی ہے، ایہی مردن کے بعد مردو کی بھی تعظیم کی جاتی ہے، اس لے کہ اس سے مردو کو راحت اور لذت ملتی ہے۔ مرقات، اشعتہ
قبر کو ثیکالگا کر بیٹھنے کی ممانعت اس لے کہ کراس سے صاحب قبر کو تکلیف ہوتی ہے
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'Breaking the bone of a deceased person is like breaking it while they are alive.'" [Narrated by Malik, Abu Dawud, and Ibn Majah]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرمائے کہ میں اپنی قبر سے طیک لگا ہے ہوئے مجھے (ایک دفعہ)
ارشا دفرما (کرتہمارے قبر کو ثیکالگا کر بیٹھنے سے صاحب قبر کو تکلیف ہورہی ہے، اس طرح بیٹھ کر صاحب قبر کو تکلیف نہ دو (کیونکہ اس میں میت کی ایانت کی ہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
نا محرم مرد ضرورت پرا جنبی زنانی میت کودفناسکتے ہیں
Sitting on a grave and causing discomfort to the inhabitant of the grave is disliked; do not sit in a way that causes discomfort to the inhabitant of the grave (as it involves disrespect to the deceased). A non-mahram man can shroud a female corpse out of necessity.
وآلہ وسلم کی صاحجزادی کا (جوحضرت عثمان رضی اللہ عنه کی پیوی تشییع انقال ہوگیا، تم ان کے دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا اوراس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے تشریف فرما تھے، حضرت انس فرماتے میں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر دومبارک آتمحوط سے آنسوجاری تھے، اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما کر کیا تم میں سے کوئی ایساہے کہ جس نے آخر رات اپنی پیوی سے جماع نہیں کیا ہے، ابوطلح رضی اللہ عنه فرما: ایسا میں ہوں، یارسول اللہ! اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما کہ (دونوں کر کے لے) ان کی قبر میں تم ہی اترو، حسب احكم ابوطلح رضی اللہ عنه حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحجزادی کو دونوں کر کے لے قبر میں اترے۔ اس کی روايت بخاری نے کی ہے۔
ف: اس حدیث تشریف میں ذکور ہے کہ ابوطلح رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحجزادی کو دونوں کر کے لے قبر میں اترے اور حضرت ابوطلح رضی اللہ عنه، حضرت ابوطلح کو قبر میں اترنے کا جو حکم دیا گیا، اس سے ابن اہمام نے بیمسائل اخذ کے میں کر عورتوں کو قبر میں اتارنے کے
لہٰیاگسی ضرورت پر قبر سے نکلنے کے لئے مرد، جی قبر میں انترین، اگر چھک مرداجنبی ہول عورتمیں قبر
میں نا اتریں، اس لئے کہ ضرورت پراجنبی مردو عورت کو جس طرح زندگی میں کپڑے وغیرہ کو حائل
کر کے باتد کا سکتا ہے، ایسے مردنے کے بعد بھی کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے باتد کا سکتا ہے اور کفن
جو حائل ہوجاتا ہے، اگر کسی عورت کی وفات ہوجائے اوراس کے ساتھ اس کے حرم رشتے دار موجود نہ
ہول تو ایسی صورت میں اس کے پردوس کے سن رسیدہ نکی اورصاف لوگ اس کو فن کرسکتے ہیں اوراگر یہ
بھی نہ ہول تو نوجوان نکی اورصاف لوگ اس کو فن کرسکتے ہیں۔ بی مضمون مرقات سے ماخوذ
عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ سے مرودی سے کہ جب ان کو سکرات ثرو ع ہولی تو
وہ اپنے فرزندے ارشاد فرماے (سنوبیطا!) جب میں مرجا ول تو میرے جنازہ کے ساتھ نوحہ کرنے
والی عورتوں کونہ رکنا اور نہ میرے جنازہ کے ساتھ آگے لے چلنا (پیزمانتہ جابلیت کے رواج ہیں
اسلام میں ان کو برآمجھا گیا ہے) حضرت عمر وبن عاص پھر فرماے کہ جب تم میرے ذفن کا ارادہ کرو
تو بسهولت قبر میں مٹی والواوردون کے بعد میری قبر کے اطراف تم لوگ (تلقین لیجنے زکر کریے اور
قرآن پڑھتے ہوئے) اتق دریتک ظہر رہو جتنی دیر میں ایک اونٹ کزنے کر کے اس کا کوشت تقسیم
کیا جاسکتا کر میں (اس عرصے میں تم لوگوں کو قبر پرتلقین زکر کریے اور قرآن پڑھتے ہوئے کہتے
ہوئے نے) اس اوراطمینان حاصل کرسکون اورتمہارتے تلقین کی وجہ سے وہ جواب دیتے یادآجاۓ
جونے اپنے پروردگار کی طرف سے کچھ ہوئے فرشتوں کو دینا ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
تجہیز و تکفین میں دیرینہ کرنا اور تدفین کے بعد قبر پرتہی جانے والی آیتون کا بیان
Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) said to his son while he was on his deathbed: "When I die, do not let any wailing woman or fire accompany me. When you bury me, throw the soil over me firmly, then stay around my grave for the time it takes to slaughter a camel and distribute its meat, so that I may find comfort in your presence and know how to respond to the messengers of my Lord." [Narrated by Muslim]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماے ہیں کہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشاد فرماے سنا ہول کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجهیز
و تکفیر میں دریافت کرو، (جہاں تک بھوسکاسکے فرن کا جلد انظام کرو) اور قبر تک جنازہ جلد جلد لے چلو (گمر جنازہ لے کر اپنا جسی جلد نہ چلو کہ جس سے مردو کو حرکت اور اضطراب ہونے گی)اور فرن کے بعد میت کے سربانے سورۃ بقرہ کی ابتدا لی آئین "الم سے ہم المفلحون" تک اور میت کے پاس تین سورۃ بقرہ کی آخری آئین "آمن الرسل سے الکافرین" تک پڑھیں۔ اس کی روایت بھی ہے نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Prophet (ﷺ) say, 'When one of you dies, do not delay his burial. Hasten to take him to his grave, and recite Surah Al-Fatihah at his head and the concluding verses of Surah Al-Baqarah at his feet.'" [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman, who said: 'The correct view is that it is Mawquf (attributed to Ibn Umar).' Abu Talhah said, 'I will do it.' The Prophet (ﷺ) said, 'Then descend into her grave,' so he descended into her grave." [Narrated by Al-Bukhari] (1)
(1) The statement: "He descended." Sheikh Ibn Al-Humam said: "No woman should enter the grave, and only men should handle the burial, even if they are non-mahrams. Touching a non-mahram woman through a barrier in cases of necessity is permissible during her life, and the same applies after her death. If a woman dies and has no mahram, righteous neighbors should bury her. If there are no neighbors, then righteous young men should do so. However, if she has a mahram, even through breastfeeding or marriage, he should descend and prepare her grave."