(اس باب میں استسقاء کا بیان ہے جتنے بارش رک گئی تو بارش ہونے کے لیے
دعا کرنا)
This chapter discusses the invocation for rain (istisqa) when rainfall has ceased, and the prayer is made for it to resume.
وقول الله عز وجل استغفروا ربكم انه كان غفارا يرسل السما ء عليكم
مِدْرَارًا “ - اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ نوح، پ:29، ع:1، آیت نمبر:11-10، میں) اپنے
پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو کہ وہ برداشت کرتے والا ہے تمہارے قصور کی معاف کر دے گا اور
گناہوں کی شامت سے جو بارش رک گئی ہے تمہارے استغفار کی وجہ سے تم پر موسل دھار بارش
برسا گی۔
ف: اس آیت سے معلوم ہوا کہ بارش رک گئی تو بارش آنے کے لیے صرف توہا اور استغفار
کافی ہے زیل کی فصل اول کے احادیث اور آثار سے محمل اس کی تائید ہوتی ہے، اس لے امام ابوحنیفہ
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بارش رک گئی تو بارش آنے کے لیے بخیر نماز کے صرف توہا و استغفار
سنن ہے، بعض حدیثوں میں استسقاء کے لیے نماز پڑھنا بھی آیا ہے اگر استسقاء کے لیے نماز پڑھنا
سنن ہوتا تو سب حدیثوں میں نماز پڑھنا کا ذکر ہوتا، اکثر حدیثوں میں اور آیتوں میں نماز پڑھنا کا
ذکر نہیں آیا، بھی استسقاء کے لیے نماز پڑھنا اور بھی ترک کرنا نماز استسقاء کے سنن ہونے پر ولايت
نہیں کرتا، اس وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے نہیں فرمایا ہے کہ استسقاء کے لیے نماز ناجائز ہے بلکہ
وہ صرف یفرما تے ہیں کہ استسقاء کے لیے نماز پڑھنا سنن نہیں ہے بلکہ جائز ہے پڑھنا چاہیں تو پڑھ
سکتے ہیں -(عمدة القاري)-
فصل اول
استسقاء کے لے بغیر نماز کے صرف دعا کر نے کا بیان
پہلی حدیث
Mudraran - The guidance of Allah Ta'ala is: (Surah Nuh, Part 29, Section 1, Verses 10-11) Seek forgiveness from your Lord, for He is Most Forbearing and will forgive your faults, and the rain that has been withheld due to sins will pour down upon you in torrents because of your seeking forgiveness.
It is evident from this verse that if the rain has stopped, then merely prostration (sujood) and seeking forgiveness (istighfar) are sufficient to bring it back. This is confirmed by the hadith and narrations mentioned in the first chapter of the first part of Zail. Imam Abu Hanifah (RA) states that if the rain has stopped, then to bring it back, it is recommended to perform the prostration (tahajjud) and seek forgiveness (istighfar) after the Fajr prayer. In some hadiths, it is mentioned that prayer (salat) should be performed for seeking rain (istisqa). If performing prayer for istisqa were a sunnah, it would have been mentioned in all the hadiths. However, in most hadiths and verses, there is no mention of performing prayer. Even if performing prayer for istisqa is not a sunnah, it does not invalidate the act if one chooses to perform it. Therefore, Imam Abu Hanifah (RA) did not declare that performing prayer for istisqa is impermissible; rather, he stated that performing prayer for istisqa is not a sunnah but is permissible, and if one wishes to perform it, they may do so. - (Umdah al-Qari)
The First Hadith
اللّهُمَّ حَوَا لَيْنَا وَ لاَ عَلَيْنَا ، اللّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَ الْجَبَلِ وَ الظِّرَابِ وَ الأَوْدِيَةِ وَ مَنَابِتِ الشَّجَرِ طَ
ثریک بن عبد اللہ بن الی نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اس بن ماک رضی اللہ عنہ کو یواقع بیان کرتے ہوئے سن ہیں، اس بن ماک فرماتے ہیں کہ (بارش نہ ہونے سے لوگ بہت پریشان ہوائے مویق پر) جمع کے دون ایک صاحب منبر کے سامنے والے دروازے سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے اس وقت حضور منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، یاں واں صاحب حضور کے طرف رخ کر کے کہتے ہوئے اور عرض کرتے : یارسول اللہ (بارش نہ آنے سے جو قحط پڑا ہے اس کی وجہ سے) مویثی بلاک ہوگی (اور اونٹوں کے مرنے کی وجہ سے) آمد و رفت کے ذرا لے کم ہوگی اس لے راستہ بند پڑے ہیں آپ دعا کیے کر اللہ تعالیٰ نہم پر بارش برسا ئے (یہ سنے ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم اپنے مبارک باہوں کو اٹھا کر دعا کرتے :- اللہُمّ اسْقِنَا البی، نہم پر بارش برسا ئے اللہُمّ اسْقِنَا البی، نہم پر بارش برسا ئے اللہُمّ اسْقِنَا البی، نہم پر بارش برسا ئے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم (حضور کے دعا فرما نے سے پہلے) بارش کے کوئی آثار نظر نہ تھے، نتوابرطیراہوا تحاندابر کے طوطے ادحرادر پچھر رہے تھے بلدآ سمان بالکل صاف تھا، کوہ سلع تک تمام نظر پہوچ رہی تھی، تمام سے اور کوہ سلع کے درمیان میں نکوئی مکان نہا اور نہ کوئی عمارت، کوہ سلع اوراس کے پیچے کا حصہ تمام کو صاف نظر آ رہا تھا اور کہیں ابر کا پتہ نہیں تھا
(حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرما تے ہیں) کو سلع کے پچپچے سے ابر کا چھوٹا طر آمشل و حال کے انحا (اور تم کو دہائی دیا، رکشت، ہی دیکھتے تمام آسان پر چیل گیا اور برستا ثرو ع کیا اور خوب بارش ہوئے گیا اور اتنی بارش ہوتی رہی کہ جخدا ایک بھفت کے سورج نظر نآ یا(اس طرح پورا بھفت گزر گیا اور دوبارہ جمع کا دن آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہبر پر کطرے ہوئے جمع کا خطبہ ارشاد فرمارتے تھے کہ ایس میں ایک صحاب ای دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کطرے ہوکر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ (کثرت بارش سے) مویث تباہ ہوگیا اور راستہ بند ہوگیا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیے کہ اب تم پر بارش نہ ہو (جبال ضرورت ہو تو بال بارش ہو) حضرت انس فرما تے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک باتحول کو انحا ے پھر دعا فرما نے لگے:
ا یہمارے آس پاس بارش ہوتمہ پڑنے ہو ابی طیلون، پہاڑ ول، پہاڑیول اور نالول پراور جہال ورخت پیاہوئے میں مقامات پر پانی برسایے۔ حضرت انس فرما تے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یر دعا فرما نا ی تھا کہ ابر پچھت گیا (بارش ختم ہوگی) اور جب تم (مسجد سے واپس ہوئے) تم وصوب پین پچتے ہوئے والپس ہوئے۔ شریک جواس حدیث کے راوی ہیں وہ فرما تے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا کہ یہ بعد میں آنے والے صحاب جو بارش کے بند ہونے کی دعا کروا ی کیا و، ی صحاب تھے جو بارش ہوئے کی دعا کروا ئے تھے؟ تو انس رضی اللہ عنہ فرما تے کہ: مجھ اس کا علم نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
دوسرا حدیث
Due to the lack of rain, people were greatly distressed. A man came to the Prophet (ﷺ) while he was on the pulpit delivering a sermon. The man faced the Prophet (ﷺ) and said, 'O Messenger of Allah, due to the lack of rain causing drought, our livestock are dying, and travel has become difficult as the roads have been blocked. Pray to Allah to send us rain.' Upon hearing this, the Prophet (ﷺ) raised his blessed hands and prayed, 'O Allah, send us rain! O Allah, send us rain! O Allah, send us rain!' Anas (RA) said, 'By Allah, there were no signs of rain before the Prophet (ﷺ) prayed. The sky was completely clear, and one could see Mount Sal clearly. There was no cloud or any sign of rain. But as soon as the Prophet (ﷺ) finished his prayer, a small cloud appeared from behind Mount Sal. It grew larger and spread over the entire sky, and it rained heavily. The rain continued so much that the sun was not visible for a whole month. When the next Friday came, the Prophet (ﷺ) ascended the pulpit and delivered the sermon. A man entered the mosque and stood before the Prophet (ﷺ), saying, 'O Messenger of Allah, the excessive rain has caused damage and blocked the roads. Pray to Allah that it should not rain now, but only when needed.' Anas (RA) said, 'Then the Prophet (ﷺ) raised his blessed hands and prayed, “O Allah, let it rain around us, not on us; on the highlands, mountains, and valleys, and on the places where trees grow.” Anas (RA) said, 'After the Prophet (ﷺ) finished his prayer, the clouds dispersed, and the rain stopped. When we left the mosque, the ground was dry.' The narrators of this hadith said, 'I asked Anas, “Who was the Companion who later prayed for the rain to stop, and who was the one who initially prayed for rain?” Anas (RA) replied, “I do not know.”'
This narration has been reported separately by Bukhari and Muslim. The second hadith
اﷲ عنه کہا: اے کعب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضور میں لوگ موضوع حدیث کے بارے میں آپ بہت احتیاط سے وہ الفاظ استعمال کرنا چاہئے۔ آپ سے پیش، حضرت کعب فرمائے (میں وہی الفاظ استعمال کرتا رہوں جو میں حضرت کے سامنے سنے، ایک دفعہ حضرت کے باشکر گئے تو لوگ بہت پریشان تھے اس لیے موقوف میں) ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیے: یا رسول اللہ باشکر نہ ہونے سے لوگ بہت پریشان ہیں) آپ باشکر آنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے! پس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کے لیے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو اٹھا کر اور پیر دعا فرمائے کہ: اللہمّ اسقنا غيثاً مريعاً طبقاً عاجلاً غير رايثٍ ، نافعاً غير ضارٍ . اے اللہ! تم پر ایسی باشکر برساپی جس سے تم کو فائدہ ہو، کوئی ضرر نہ ہو، ابھی ایسی باشکر برساپی جس سے چوطر فسربرزی، ایسربرزی ہوجائے اور ایسی باشکر ہو (جو حسب ضرورت ہوتی رہے ایسی نہو کہ ضرورت پر پھر دک جائے) اب دین کی جلدی سے باشکر برساپی اس سے زیادہ انظار نہ کرواپیے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنه فرمائے پی کہ (یہ جمع کا اقتداء) حضور دعا کرنے کے بعد لوگ ابھی جمع کی نماز سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ کثرت سے باشکر ہوئی (اور دوسرے جمع کے باشکر ہوتی رہی) پھر لوگ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور کثرت باشکر کی شکایت کرتے ہوئے عرض کیے: حضور (اس کثرت سے باشکر ہوتی ہے کہ) مکانات گرنے لگے پھر حضور دعا کرنے لگے: اللہمّ حوالینا ولاعلینا.
اہی! ہمارے آس پاس (جہاں ضرورت ہووبال) بارش ہو(تم کواب ضرورت نہیں رہی ہے
اس لئے اب) تم پبارش نہ ہو
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت یروعا فرماتے ہیں تم دکہرے ہے تو کہ ابر پچھتگیا ہے اور
آباوی کے سید مہجانب یا بین جانب چلا جارہا ہے۔ اس کی روایت ابن مجہن کی ہے۔
O people, if you were to repent, the clouds would turn away, and the rain would go to where it is needed, so now you do not need the rain.
جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ بارش رک گئی
تختی اور بارش نہ ہونے سے لوگ بہت پریشان ہو ایس وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
دیکھا کر آپ اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھا کے ہوئے یادعا فرمارتے تھے۔ (مرقأت میں بھی ایسے، یہ
معنی ذکور ہے۔12) اللہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِيثًا مَرِیعًا مَرِيعًا نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ، عَاجِلاً
غَیْرَ آجِلٍ۔
اے اللہ! تم پراپسی بارش برسائے جو قط دور کرنے میں ہمارے امدادرکے اور جس سے تم کو
فاائدہ ہی فائدہ ہو کوئی ضرر نہ ہو، اہی اہی بارش برسائے جس سے چوطر فسرتبزی ہی سربزی
ہوجائے، اب دیر نہ کیے جلدی سے بارش برسائے اس سے زیادہ انتظار نہ کروا ئے۔
جا بر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یادعا فرماتے ہی تم کیا
دیکھے ہیں کہ ابرا طهااور ہمارے چوطر فچھاگیا۔ اس کی روایت البوداوی نے کی ہے۔
استسقاء میں کچھ ویسے، ہی بات کہ اطہانا چاہے جیہاور دعا قل کے وقت بات کہا ٹھا ہے ہیں
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) supplicating, saying, 'O Allah, send us abundant, nourishing, beneficial, and timely rain that is not harmful.' The sky was filled with clouds, and it rained." [Narrated by Abu Dawud]
عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مقام زوراپا کے قریب
احجار الزیت سے اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہرے ہوئے استسقاء کی دعا فرماتے
ہوئے میں دیکھا ہو لآپ اس طرح دعا فرماتے تھے کہ (حسب عاوت) آپ کے دونوں دست
مبارک سینے کے مقابلے تھے۔ اور دونوں باہوں کی تقلیان حضور کے چہرے کے سامنے تھیں اور
باہوں کی پشت زمین کی طرف تھی اور میں نے بہت غور سے دیکھا کہ آپ کے دونوں دست
مبارک (دعا کے وقت) سرت اونچا لٹھ جوڑے تھیں تھے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے
اور ترمذی اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔
بغیر نماز کے بارش آنے کی ایک اور دعاء
Umayr, the freed slave of Abi al-Lahm, reported: "I saw the Prophet (ﷺ) praying for rain near the stones of Zayt, close to Az-Zawra. He stood supplicating for rain, raising his hands to the level of his face, not above his head." [Narrated by Abu Dawud]
Tirmidhi and Nasa’i narrated something similar.
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے فرما کر (بارش جب رک جاتی تو یہ تو بارش آنے کے لئے) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعا فرما کرتے تھے: اللہُمّ اسقِ عِبادَکَ وبَهِیمَتَکَ وانْشُرْ
رَحْمَتَکَ، وَاْحِي بَلَدَکَ المَیِّتَ۔
ابی آپ کے بندے اور جانور آپ کی رحمت کے منتظر ہیں اس سے زیادہ ان کو انتظار نہ
کرایی آپ کی رحمت کا صدق) ان پر بارش بر سائے (آپ کی رحمت سب پر عام ہے جس کا یہ
متیہ ہو کر چوطر فسر بزرگی ہو جائے۔ (کہیتے ہیں کہرے ہو جا گئیں اور جانورول کو چارہ مل گی
بارش ہے) مردوں شہرول کو زندہ کچھ لیعن چوطر ف زمین جو خشک ہو گئی ہیں ان پر بارش بر سائے جس
سے پیمر سبز ہو کر لہلہا نے گئیں۔
اس کی روایت امام ما لک اور ابوداود نے کی ہے اور ترمذی اور طبرانی نے بھی اس طرح روایت
کی ہے۔
دعا کے استقامة کے لئے شہرت باہر جانا اور بغیر نماز کے دعا کے استقامة کرنے کا بیان
پہلی حدیث
Amr ibn Shu’ayb reported from his father, who reported from his grandfather (may Allah be pleased with him): "When the Prophet (ﷺ) prayed for rain, he would say, 'O Allah, provide water for Your servants and animals, spread Your mercy, and revive Your dead land.'" [Narrated by Malik and Abu Dawud]
Al-Bayhaqi and Al-Tabarani narrated something similar.
عطاء بن ابی مروان اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان
کے والد کہتے ہیں کہ (حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک دفعہ بارش رک کئی دن لوگ پریشان ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارش آنے کے لیے دعا کرنے شہر سے باہر نکلے) تمہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ (یہاں اچھی طرح یادہ کر بارش آنے کے لیے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ (نماز استسقاء نہیں پڑھی ہے) صرف دعا کے استغفار پر اکتفاء فرماتے ہیں۔ اس کی روايت ابن ابي شيبة نے کی ہے اور سعيد بن منصور نے کی اپنی سنن میں جدید سنن کے ساتھ ای طرح اس کی روایت کی ہے۔
Ata’ ibn Abi Marwan al-Aslami reported from his father: "We went out with Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) to pray for rain, and he did nothing more than seek forgiveness." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Sa’id ibn Mansur narrated something similar in his Sunan with a good chain.
ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ واقعہ سنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ (آپ کے زمانے میں ایک وقت بارش رک کئی دن لوگ پریشان ہوئے) پانی آنے کی دعا کرنے کے لیے آپ مغیرہ بن عبد اللہ ثقفی کے ساتھ گئے (شہر سے باہر جنگل میں تشریف لے گئے تو وہاں جا کر) مغیرہ بن عبد اللہ ثقفی نماز استسقاء پڑھنا شروع کیے جب حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہ مغیرہ نماز استسقاء پڑھنا شروع کے تو آپ (نماز میں شریک ہوئے بلکہ اس وجہ سے) واپس ہوئے (کہ پانی آنے کے لیے صرف دعا اور استغفار سنہ ہے، نماز پڑھنا سنہ نہیں ہے، جب مغیرہ سنہ کے خلاف کے تو حضرات ابراہیم نخعی سنہ کے خلاف کرتے ہوئے نہیں دکیے سے اور واپس ہو گئے۔) اس کی روايت ابن ابي شيبة نے کی ہے۔
آبادی میں دعا کے استغفار کے تے چادر اللہ نا ور قبیلہ رہونا مسنون نہیں ہے
Ibrahim reported: "He went out with Al-Mughirah ibn Abdullah al-Thaqafi to pray for rain. Al-Mughirah prayed, but Ibrahim returned when he saw him praying." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (بارش رک جانے سے قط کے آثار ظاہر ہو رہے تھے اس وقت) ایک صاحب حضرت علی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیے: یارسول اللہ بارش رک جانے سے مال بھی نا ونٹ (جسیا کرتا ج
جن پر عرب
12- )جاٰتے ہیں لے مراد بالعموم اونٹ کے مال سے کہ عرب میں نذور سے العروج کے
حضرت بارش کے (حضرور بارش کے تکیف میں ہیں وعیال سخت، انل ہیں ہورے بلاک )دار ومدار کا زندگی کی
فرماے دعاوے حضرور کے آنے بارش کر پیس )میں کچھ دعاے لے
اللہ صلی رسول )وقت کے استسقاء دعا( میں حدیث اس اس حضرت کے جیس کہ راوی
اللہ کے چاروں قبل ا استقبال کر وا معلوم سے کے اس کرنبیں کا لئے چادر او قبل استقبال سلم وآلی علی
کا باطول دونوں اس ان حضرت تو ہوتے سنہ دونوں پیریگا، ہے نہیں سنہ وقت کے استسقاء دعا
استسقاء میں اللہ تعالیٰ فرماتے رحمۃ اللہ علیہ بوحنیف امام لے اس، فرماتے اللہ کے چادر کہ اگر، ہے کرے لئے کا چادر میں استسقاء نیں ثوں حد بعض سے
ہوتا تو سنہ کا ذکر چادر کے اگر، ہے کرے لئے کا چادر میں ثوں حد بعض، تا ذکر کا اس میں ثوں حد سب
استسقاء لیےنی دعا قبل استقبال ربا اب، کرتا نہیں پڑالات سنہ کے لئے چادر میں استسقاء
ہو نیں باوی آستسقاء کے دعا او گر کہ کہا میں القاری عمدہ میں بارے تواس ناہوتو قبل وقت کے
ہیں، اگر پر ثابت متقطر وقت کے استسقاء دعا ونوں اللہا چادر او قبل استقبال توہوتو رہی
سنہ پاس کے صحیحین قبل استقبال اوراللہا چادر توہوتو، استسقاء کے دعا ربا کے آباوی صحرا میں
اور میں صحیحین کر توہوتو قبل صرف کریں رواے نہ کریل طویل مقتدری )12- نذور میں رواختار کر جیسیا(،
کرتے استسقاء دعا میں صحرا کے علیہ اللہ رحمۃ بوحنیف امام اور، رہیں کچھ آمین وقت کے دعا
جاویت روایت کی حدیث اس )ملی ملی نہیں روایت کوئی کے ختمیں جود باو متعلق کے نے توہوتو قبل وقت
پرکی متقطر نے مسلم اور
کیفیت کی لئے چادر وقت کے استسقاء دعا
Sharik ibn Abdullah ibn Abi Namir reported that he heard Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) say: "A man entered through a door facing the pulpit on Friday while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He stood facing the Prophet (ﷺ) and said, 'O Messenger of Allah, the livestock are perishing, and the roads are cut off. Pray to Allah to send us rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands (3) and said, 'O Allah, send us rain. O Allah, send us rain. O Allah, send us rain.' Anas said, 'By Allah, we did not see any cloud or trace of rain in the sky, and there were no houses or buildings between us and Mount Sal’.' Then a cloud appeared like a shield, and when it reached the middle of the sky, it spread and began to rain. By Allah, we did not see the sun for a week. The following Friday, a man entered through the same door while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He stood facing him and said, 'O Messenger of Allah, the wealth is destroyed, and the roads are cut off. Pray to Allah to withhold the rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said, 'O Allah, around us and not upon us. O Allah, upon the hills, mountains, valleys, and places where trees grow.' The rain stopped, and we walked out in the sunshine." Sharik asked Anas, "Was it the same man?" He replied, "I do not know." [Agreed upon]
(3) The statement: "He raised his hands." This indicates that there was no turning of the cloak or facing a specific direction. It is clear evidence for Abu Hanifah that the prayer for rain is based on supplication and seeking forgiveness, not a formal prayer. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
جابر رضی اللہ عنہ روایت کے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
و سلم ( ایک وقت بارش آنے کے لئے دعاے استسقاء فرماے تھے ) اور دعاے استسقاء کے وقت اپنی چادر مبارک اس طرح لکھ تھے ( کراپن دونول باٹھ پیٹ کی طرف لے جاکر چادر مبارک جو پشت پر لگی ہوتی تھی باطیس باٹھ تے چادر کے نیچے کے سپیدے کنارے کو پڑتے اور سیدے ہاتھ سے چادر کے نیچے کے باہمین کنارے کو پڑتے اور چادر کے اوپر کے کناروں کو پیٹ کی طرف سے، نیچے گرا کر نیچے کے کناروں کو اوپر لا لے جس سے چادر کا ہر جزء الٹ گیا، اندر کا حصہ باہر آ گیا اور باہر کا حصہ اندر چلا گیا، سیدے طرف کا حصہ باہمین طرف آ گیا اور باہمین طرف کا حصہ سیدے طرف آ گیا، اور چلا حصہ اوپر آ گیا اور اوپر کا حصہ نیچے آ گیا، پیسارا عمل ایک ہی حرکت میں ادا کیا گیا عملی طور پر یہ تنا مقصود تھا کہ ابی ہماری حالت میں قطعی وجبت ہے۔ انتقال بآگیا ہے جس میں چادر کے ہر جزء کو الٹا ہونا چاہیے، یہ ہماری ہر حالت میں انتقال پیدا کر کے قطع سالی دور فرمایے، خوشحالی پیدا کروتے ) اس حدیث میں چادر ا لئے کی وجہ یہ تلاشی گئی ہے کہ جس طرح چادر کا ہر جزء الٹا گیا ہے اس طرح موجودہ حالت میں انتقال پیدا کر کے خوشحالی آ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چادر التناوعاے استسقاء کے وقت سے اور عبادت نہیں سے بلکہ یہ عرض کرنابہ کہ ابی ہماری حالت میں انتقال پیدا کر کے خوشحالی لا چیے، اس سے محض فال نیک لینا مقصود تھا نہ کہ حضرت کا چادر ا لئے کو سنت اور عبادت بنانے کا ارادہ تھا، اس لئے ہر حدیث میں دعا استسقاء کے وقت چادر ا لئے کا ذکر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دعاے استسقاء کے وقت چادر ا لئے کو سنت ہونا نہیں فرماتے ہیں۔ اس حدیث کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سنن بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اور تھے ہے، اگرچہ ا نہیں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain and turned his cloak, hoping that the drought would turn into abundance." (1) [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak]
Al-Hakim said: "This is a hadith with an authentic chain, but Bukhari and Muslim did not include it."
(1) The statement: "Hoping that the drought would turn." In Al-Hidayah, it is said: "This was an act of optimism." Ibn al-Humam said: "This acknowledges the act but denies its establishment as a Sunnah, as it was done for a reason unrelated to worship. Allah knows best."
In Al-Mirqat, it is said: "The turning of the cloak was an act of optimism, as explicitly mentioned in Al-Mustadrak from the hadith of Jabir, which Al-Hakim declared authentic. He said, 'He turned his cloak so that the drought would turn into abundance.' In Tawalat al-Tabarani, it is narrated from Anas: 'He turned his cloak so that the drought would turn into fertility.'"
-ہشام بن اسحاق بن عبد اللہ بن کنانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
کے والد اسحاق بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا (لوگوں
میں پمشہور ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز استقٰاء کی پڑھائے ہیں) اب آپ بیان
فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استقٰاء کیسی تھی؟ تو حضرت ابن عباس فرما
(سنوا ایک مرتبہ بارش رک گئی قط سالی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
وسلّم (دواء کے لئے) نکل او رعید گاہ کی طرف پچلے (اس وقت آپ کی جو حال تھی کیا کہون بجا ہے
زیانت کے کپڑوں کے بجز و انكساري ظاہر کرنے کے لئے) بہت معمولی پرانے کپڑے پینہوں کے
تواضع کے ساتھ گرگرا تے ہوئے (عیدگاہ میں تشریف لاۓ آتے، ہی) منبر پر بیٹھ گئے، تمہارے
خطبہ کی طرح وہ خطبہ نہیں تھا بلکہ دعا تھی جوآپ نے اس وقت فرمائی (اگر خطبہ ہوتا تو کہترے ہوگئے
خطبہ دیتے اس لئے کہ بیٹھ کر خطبہ دینے کی عادت شریفہ نہیں تھی بلکہ یوداعے تھی جوآپ اس وقت
بہت گرگرا تے ہوئے آہ وزاری کے ساتھ گر رہے تھا اور اللہ أکبر فرماتے جارہے تھا اس کے
بعد آپ دور کے ت نماز عید میں کی نماز کی طرح اداء فرمائے (یہاں نماز عید کے تشبیه صرف دور کے ت
نماز پڑھنے میں بھی تکبیرات عید میں کہنے میں نہیں تھے، اس لئے طبرانی کی روایت میں آیہ صلاۃ
استقٰاء میں صلاۃ عید کی طرح زاں تکبیرات نہیں کہے گئے، اب رہی یہ نماز تو پر استقٰاء نہیں تھی، اگر
نماز استقٰاء ہوتی تو پچلے نماز استقٰاء پڑھی جاتی اور بعد خطبہ یادعا کی جاتی، جسیا کہ صحیحین اور امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ میں سے ایسا کہی مروی ہے، اس حدیث میں پچلے دعا کی گئی ہے اور بعد نماز پڑھی
گئی، اس کی وجہ یہی کہ آپ کی دعا مقبول ہوگئی - دوسروں حد ثبوت سے معلوم ہوا کہ دعا کے ساتھ
ی ابراہیم اور آثار بارش کے شروع ہوگئے تھے، اس کا شکریہ پ دور کے ت پڑھ کر ادا فرمائے، اس
اس حدیث کی روایت نسائی،ترمزی،ابوداووداورابن ماجہ نے کی ہےاورترمزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثبت ہے۔
دعا کے استقاء کے وقت باتوافعال کی کیفیت
پہلی حدیث
Hisham ibn Ishaq ibn Abdullah ibn Kinanah reported from his father: "I asked Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) about the Prophet’s (ﷺ) prayer for rain. He said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out in a humble state, wearing simple clothes, and sat on the pulpit. He did not deliver a sermon like yours, but he continuously supplicated, humbled himself, and said the takbir. He prayed two rak’ahs as he prayed on Eid.'" [Narrated by Nasa’i, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Hadith."
_ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ (یون تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ دعاء کے وقت سینہ کے مقابل اپنے دونوں بازوں کو رکھتے تھے جسی نہیں دیکھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں بازوں کو لابنج کر کے سینے سے اوپر اور چھڑے کے سامنے اس طرح اٹھا لے ہوتے کہ جس سے بغلوں کی سفیدی نظر آئے۔ مگر،استقاء کی دعاء کے وقت (نہایت احتاح وزاری کرتے ہوتے) باجوں کو سینول سے اوپر کر کے چہرے کے مقابل ایسا چھیلا لے تھا کہ مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی) (اور اس وقت چادر مبارک کا نہول سے تمی ہوتی تھی اس واسط حضرت عمير رضی اللہ عنہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ حضور کے باجوں کو کسی دعاء کے وقت سر کے اوپر کرتے ہوتے نہیں دیکھا گیا،صدر کی یہ حدیث جو حضرت انس سے مردی ہے اس میں کچھ بھی بتلا یا گیا ہے کہ باتوں دعاء کے وقت سر کے اوپر نہیں ہوتے تھے بلکہ باجوں کو راز کر کے چھڑے کے مقابل لاکر چھیلا لیتے تھے جس سے بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔) اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم میں متفرق طور پر ہے۔
دوسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) did not raise his hands in any supplication except during the prayer for rain, when he would raise them so high that the whiteness of his armpits could be seen." [Agreed upon]
_ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ (جبیا کے خطاطوی میں اور عام میری کے کتاب اکراہہ میں ذکور
پہ–12) (جب کسی نماز کے حاصل ہونے کے لئے دعا فرما تو اتحميليون کوآسمان کی طرف کرتے اور باتحول کی پیٹھ زمین کی طرف ہوتی تھی اس کی وجہ یہی کہ قاعدہ کے ماگے والا اپنے باتم کو پچملا تاہے اور دین والاس کے باتم میں جودیتاہے ذال دیتاہے، اس طرح کی دعا میں باتم پچملا کرتاحميليان آسمان کی طرف کرتے پیظاهر کیا جاتاہے کراالہی تم فقیر متاحج بین اورآپ غنی ہیں آپ کے سامنے باتم پچملا ہے ہوتے ہیں، ہماری نماز مطلوب کوعطا فرمائیے، عمواأدعا میں ایسا ہے کیا کرتے تھا اور جب کسی بلاء کے درخ ہوتے مثلًا قحط دور ہوتے کے لئے دعا فرما تو باتحول کی پشت آسمان کی طرف ہوتی تھی اور تحميليان زمین کی طرف (اس سے پیظاہر کرنامقصود تھا کہ جس طرح کسی موذی چیز سے پچاو کرتے کے لئے باتحول کی پشت اپنی طرف کرتے ہیں، ایسے ہی دعا کے استقبال میں باتحول کی پشت کو اپنی طرف کرتے پیعرض کرنامقصود تھا کراالہی تم پر مجی پیبلاء اور قحط موذی ہوکر نازل ہوتے ہیں تم کواسے پچاتے۔)
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے–
پہلی فصل میں حضرت امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہ کا ذہب بیان کیا گیا اور آپ کے ذہب کی
اثیر میں جواحدیث آل تشیین ان کا جس زکر کیا گیا وراس فصل ثانی میں صحیحین کا ذہب بیان کیا جائے گا
ہے، صحیحین کے نزدیک استقامة کے لئے نماز اداء کرنا مستون بنے عید کی نماز کی طرح بلا ازال و
اقامت شروع دون میں نماز استقامة کی دور کے بغیر تکبیرات زواند کے جہری قرأت سے عید گاہ یا
صحراء میں آبادی سے باہر جماعت کے ساتھ اداء کی جائے اور مثل نماز عید کے نماز کے بعد رخطبہ
پڑتے ہیں، پھر امام قبلہ روہو کر کرہاہوجائے اور دونول باٹہ اطلاع اللہ تعالیٰ سے پانی برست کی دعا
کرے اور حاضرین آمین کہتے جائیں اورصرف امام اثناء دعا میں اپنی چادر کو نذور الصدر طریقت کے
مطابق الہ لمقتدیول کوچاوراللہ نامیں چائے، عمل متواتر میں روزہ کرتے رہیں پیصاحیبن کا
ذہب سے اورفتوى حقیقت ذہب میں صاحیبن کے قول پر ہے، استقامة کے لئے جب صحراء کی طرف
جا کی تو تمام مسلمان لیکرم اپنے اترکون، بوڑھول اورجانوروں کے پیدل خشوع اور عاجزی کے
ساتھ معنوی لباس میں نکلنے، توہین تبدیکریں، الہ حقوق کے حقوق اداء کریں، گناہوں کو پاک کرے
نادم اورثرمنہ رہیں، جانے سے پہلے نہارت کریں اور نکلنے سے پہلے میں دون روزہ رکین اور چوتھے
روز نماز استقامة کے لئے جنگل کی طرف نکلنے (صدریہ، رداختار، اشعہ الملعامات، کوکب دری۔) اور
اس فصل ثانی میں جواحدیث آل تشیین کی وہ صحیحین کے ذہب کے تاثیر میں ہی ہیں۔
پہلی حدیث
The blessed practice of the Messenger of Allah ﷺ was that when he made supplication for the fulfillment of a prayer, he would turn his face towards the sky and his back towards the ground. The reason for this was that the one who is behind the row turns his back to those in front of him, and the one who is in front turns his back to those behind him. In this manner, by turning his back to the ground, the angels would turn their faces towards the sky, indicating that 'O Allah, we are poor and needy before You, and You are the Rich and Self-Sufficient; our backs are turned towards You.' Thus, he would make his supplication for the acceptance of his prayer, saying: 'O Allah, fulfill our prayer.' And in such a manner, he would make supplication. When he made supplication during a calamity, such as a time of drought, he would turn his back towards the sky and his face towards the ground. The purpose of this was to indicate that just as one turns away from something harmful by turning his back to it, similarly, in the presence of Allah, he would turn his back to indicate that 'O Allah, calamities and drought descend upon us, so we turn away from them.'
This hadith has been narrated by Muslim – In the first section, the opinion of Imam Abu Hanifa (RA) was stated, and in the influence of this hadith, the opinions of the scholars of Al-Tashin were mentioned. In the second section, the opinions of the two Sahihs will be discussed. According to the two Sahihs, performing the prayer of Istiqama is similar to the prayer of Eid, without adhan or iqama, starting with takbirat, reciting the Quran silently, and offering it in congregation at the Eid prayer place or in the desert outside the city. After the prayer, like the prayer of Eid, the sermon is delivered, then the imam turns to face the people and makes dua for rain, and those present say 'Amen.' During the dua, the imam should lift his cloak according to the method of Nidhur as-Sadr, and the people should remain silent. The practice of fasting continuously is based on the opinion of the Companions (RA), and the legal ruling is based on their opinion. For the prayer of Istiqama, when heading towards the desert, all Muslims, including their children, elderly, and sick, should come out in a state of humility and weakness, wearing simple clothing, and perform acts of righteousness, purify themselves of sins, and remain humble and patient. They should have breakfast before leaving and fast for two days before and on the fourth day, go to the forest for the prayer of Istiqama (Suduriya, Radakhatar, Asha' al-Malami, Kawkab Dari). These are the opinions of the two Sahihs influenced by the hadith of Al-Tashin, as mentioned in the second section. First hadith.
_عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ (باش رک
جانے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش آنے کی دعا کرنے کے لئے صحابہ کرام کو
لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے (وہال پہلو پچکر) حضور دو رکعت نماز پڑھائے اور دونول رکعتوں میں
جھری قرآت فرمائے (نماز کے بعد) قبل کی طرف رخ کر کے اپنی چادر مبارک کو (ایک،ی حرکت میں اس طرح ) اٹھا (جبیا کراور بیان کیاگیاہے ) پھر دعاے کے لئے دونون ہاتھوں کواٹھا کر دعاء فرمائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
دوسری حدیث
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out with the people to the prayer ground to pray for rain. He led them in two rak’ahs, reciting aloud in them, faced the qiblah, supplicated, raised his hands, and turned his cloak when he faced the qiblah." [Agreed upon]
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ٥ اَلله هر حال میں سب تعريف آپ ،ی کے لے ہے آپ سارے عالم کے پروش فرمانے والے ہیں (آپ ہمارے لے بارش کو پروش کا ذریعہ بنایے اور بارش برسائے)
الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ٥ (آپ کی شان کیا کہوں) آپ کی رحمت عام ہے اور آپ اپنی مخلوق پر میشہ مہربان ہیں (آپ اپنی رحمت کے صدقے میں تم پرمہربانی فرما ئے اور بارش برسائے)
مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ٥ آپ یوم حساب کے مالک ہیں (سب کے گناہ معاف کرنے والے ہیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بارش رک گئی ہے ہمارے گناہ معاف کیے ہیں پر بارش برسائے)
لا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ٥ آپ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں، آپ ہی ہمارے معبود ہیں (آپ ہی ہمارے پاک والے ہیں، آپ سے نہ مگرین تو پھر کس سے مگریں، اس لے ہے آپ کے سامنے گر گرا کر تم بارش آئے کی دعا کر رہے ہیں-) آپ جو چاہے ہیں کرتے ہیں (آپ کو کوئی روکنے والا نہیں، آپ بارش برسانا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا-
اللَّهُمَّ أَنتَ اللَّهُ لا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ الْغَنِيُّ وَ نَحْنُ الْفُقَرَاءُ۔ اس لے ہم پر بارش برسائے اور تم کو قط سے نجات دلا ئے-
_ام المومنین حضرت عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر باش رک جانے کی شکایت کی (اور اپنی پریشانی کا اظہار کیے) تو آپ نے عیدگاہ میں منبر رکھ کا حکم فرمایا اور حسب الحکم منبر رکھ دیا گیا (یا ایک وقت کا اقتدارہ جوش منسوخ کے ہوگیا، پھر بھی عیدگاہ میں عید کے خطبے کے لئے یا استفتاء کے خطبے کے لئے منبر نمیں رکھا گیا اس وجہ سے جب مردان عید کے خطبے کے لئے عیدگاہ میں منبر بنایا تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ مردان کی سخت مخالفت کے (راوی کہتے ہیں کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مقرر فرمائے اور سب کواس دن عیدگاہ میں حاضر ہوئے کا حکم ہوا، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (جب وہ مقررہ دن آیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آفاتب نکل رباتعا کر عیدگاہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھے گئے اور اللہاکبر فرمائے
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنائیں فرماۓ اس کے بعد ارشاد ہوا، لوگو! تم نے قط سالی اور بارش بر وقت نہ ہونے کی شکایت کی جسے (تم کو یاد نہیں کر) اللہ تعالیٰ جب ضرورت ہوتی وعاذے کرنے کا حکم دے ہیں اور تمہاری دعا عقبول کرنے کا وعدہ فرماۓ ہیں (تو تم سب خدا کی طرف متوجہ ہو کر بھرت عاجزی اور زاری سے بارش آئے کی کردارا کرو عاکرو، وہ کرم ہیں تمہاری دعا عقبول فرما ئیں گے)۔ پھر حضور اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگے:
اسے اللہ آپ، عی اللہ پیآپ پکے سوا کوئی معبوذ نہیں، آپ غفری پی تمختاج پین(اس لے آپ کے سامن باتو پچھلا لے جو بارش کی دعا کر لے پیں۔)
آنزل علینا الغیث واجعل ما انزلت لنا قوة وبلاغا الى حين۔ اے اللہ(اب ویر نہ کچھ)بارش برسبا یہ(گمرائی بارش نہ ہو کہ وہ ہمارے لے باعث ضرر ہو، بلکہ وہ بارش ایسی برسبا یہ جو ہمارے لے رزق کا ذریعہ بنے-)اورتم کو ہماری مقصد مدحت حیات تک نفع پیو نچائی رہے-
پھر(اس کے بعد حضور بیحد الحاح وزاری کرتے ہوئے)اپنے اتحول کو اس پچھرہ کے مقابل اتنے لا بنے کے کہ جس سے آپ کے مبارک بغلون کی سفیدی نظر آ رہی ہو، پھر لوگوں کی طرف پیٹ پلٹ کے اور قبلہ روہو کراپنی چادر مبارک(نذکور الصدر طریقت پر)اللہ کراودہ لے اوراس وقت جس اپنے اتحول کو اس پچھرہ کے اتحا لے ہوئے تھے، آپ قبلہ رو تھے، پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے منبر سے نیچے اتر آ کے اور دور کعت نماز پڑھا لے(اس حدیث میں نماز کے پیلے جودا ئے کی گئی ہے وہ یہ ہوئے دعا کی گئی ہے تو وہ خطہ نہیں تھا، بلکہ صرف دعا گئی اور یہاں نماز سے پیلے دعا ہوتی ہے، حضور کے استسقاء میں مختلف طریقت رہے ہیں، جیسی دعا او رخطہ پیلے اور نماز استسقاء بعد ہوتی ہے اور جی نماز استسقاء پیلے اور خطہ و دعا بعد ہوتی ہے جیگر دعا اور خطہ نماز کے بعد ہونا اور نماز پیلے ہونا حضور کا آخری عمل تھا، اس لے صحابین فرماتے ہیں کہ استسقاء میں پیلے نماز ہونا چاہیے اور خطہ و دعا بعد میں)راوی کہتا ہیں کراتے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ابر کی طرح جوگر جتنا اور چھلتا ہوا آیا اور اللہ کے حکم سے برستا گا، حضور عیدگاہ سے مسجد نبوی تشریف لائے نے پا کے تک نا لے پہن نکل حضور لوگوں کو دیکھ کر لوگ بارش سے پنا کے لے سائی کی طرف بجا گے آرہے ہیں پیدا ہیکر آپ اتنا نفس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آ نے لگے(دعا جلدی قبول ہو نے اور بارش کے
آپ نے کود کیا کر ) حضور فرمائے گے البتہ ! پیشک آپ ایسی عیقدرت والے پین ( بہت جلدی سے
ہماری دعا قبول فرما کر بارش نچج کرتم کو قط سالی ستے پچائے پین )اوریہی میں کہتا ہول کہ میں اللہ کا
بندہ اوراس کا رسول ہمول ( اس لے اللہ تعالی میری وعاءجلد قبول فرماے۔ ) اس حدیث کی روایت
ابوداوڈ نے کی ہے۔
تحویل دعا کا طریقہ
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "People complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about the lack of rain. He ordered a pulpit to be set up for him at the prayer ground and appointed a day for the people to gather. Aisha said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out when the sun’s edge appeared, sat on the pulpit, said the takbir, praised Allah, and then said, "You have complained of drought in your lands and the delay of rain beyond its usual time. Allah has commanded you (2) to supplicate to Him and has promised to respond to you."
Then he said, "All praise is due to Allah, the Lord of the worlds, the Most Merciful, the Especially Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah, who does what He wills. O Allah, You are Allah; there is no god but You. You are the Rich, and we are the poor. Send down rain upon us and make what You send down a strength and provision for us until a time." He raised his hands and kept them raised until the whiteness of his armpits became visible. Then he turned his back to the people and turned his cloak while they raised their hands.
He then faced the people, descended, and prayed two rak’ahs. Allah created a cloud that thundered and flashed with lightning, then it rained by Allah’s permission. Before he reached the mosque, the valleys were flowing with water. When he saw how quickly they ran for shelter, he smiled until his molars became visible and said, "I bear witness that Allah has power over all things, and I am His servant and Messenger."'" [Narrated by Abu Dawud]
Shaykh Ibn al-Humam said: "It is a Gharib Hadith with a Hasan chain."
(2) The statement: "Allah has commanded you." Shaykh Ibn al-Humam said: "This speech is what is meant by the sermon, as some have said. Perhaps Imam Ahmad considered it Gharib or Mudtarib, as the sermon is mentioned before the prayer in the earlier narration of Abu Hurairah and after it in others." In Tabi’ al-Athar, it is said: "What is narrated about the sermon is metaphorically interpreted as supplication and remembrance."
In this hadith, the first part of the prayer has been mentioned. It is said that when the prayer was performed, it was not a sermon but merely a supplication, and here the supplication takes place before the prayer. In the Prophet’s (ﷺ) method of invoking rain (istisqa), there were different approaches: some involved a supplication and sermon before the prayer for rain, while others involved the prayer for rain first followed by the sermon and supplication. The fact that the supplication and sermon took place after the prayer, and the prayer for rain was performed first, was the final practice of the Prophet (ﷺ). Therefore, the Companions (RA) would say that in invoking rain, the prayer should be performed first, followed by the sermon and supplication. The narrator says that during the performance, Allah the Exalted sent a cloud that approached like a swift camel, moving swiftly and undulating, and it began to rain by Allah's command. The Prophet (ﷺ) returned from the prayer ground to the Prophet's Mosque without taking off his shoes. When he saw the people, they were running towards the high ground to seek shelter from the rain. The Prophet (ﷺ) was so moved that his blessed teeth became visible (due to his smile at the quick acceptance of the supplication and the onset of rain). He said, 'Indeed! Before I could mount my mount, our supplication was accepted, and the rain began to fall, and it will continue to pour until the land is thoroughly saturated.' And he also said, 'I am the servant of Allah and His Messenger, and because of this, Allah has quickly accepted my supplication.' This hadith is narrated by Abu Dawud. The method of performing the supplication is as follows:
_عبداللہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے پین کر (باش رک
جانستے بارش آنے کی دعا کرنے کے لئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( ایک دفعہ ) عیدگاہ
تشریف لے گے وبل جا کر جب بارش آنے کے لئے دعا کرنے کا ارادہ فرماے تو اس وقت اپنی
چادر مبارک کو ( اس طرح اٹھ ) کراپے دونون باٹھ پیٹ کی طرف لے جا کر چادر مبارک جو پشت پر
لطیفہوی تقی با نیں باٹھتے چادر کے پیچے سے سیدے کنارے کو پڑتے، سیدے باٹھتے چادر
کے پیچے کے با نیں کنارے کو پڑتے اور چادر کے اوپر کے کناروں کو پیٹ کے طرف سے پیچے
گرا کر پیچے کے کناروں کو اوپر لاۓ، جس سے چادر کا هرجزالت گیا اندر کا حصہ باہر آگیا اور باہر کا
حصہ اندر چلا گیا، سیدے طرف کا حصہ با نیں طرف آگیا اور با نیں طرف کا حصہ سیدے طرف
آگیا، خلا حصہ اوپر آگیا اور اوپر کا حصہ پیچے آگیا، پیسارا عمل ایک ہی حرکت میں ادا کیا گیا اس
کے بعد اللہ تعالی سے بارش آنے کی دعا فرماے _ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
تحویل دعا کا دوسرا طریقہ
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the prayer ground to pray for rain. He turned his cloak when he faced the qiblah, placing the right side over his left shoulder and the left side over his right shoulder, then supplicated to Allah." [Narrated by Abu Dawud]
_عبداللہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے پین کر (اپک دفعہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرتجیعنی چوکنی سیاہ حاشیہ دار چادر اور ٹھہوے بارش آنے کے
لئے دعا فرماہے تھے ( اثناء دعا ئے پین ) آپ نے قصد فرمایا کر ( نذور الصدر طریقے کے موافق )
چادر کو الٹ کر رچپے کے کنارے کو اوپر لا لئے مگر جب آپ کواس میں پھڑ دشاری معلوم ہونی (اور اسی طرح پلا کر
الٹ سکتو صرف) چادر کے اس کنارے کو جوسیدے کندے پرتا پشت کی طرف سے ہی پلا کر
باہم کندے پر لائے اور چادر کا جو کنارہ باہم کندے پرتا اس کو بھی اس طرح پلا کر سیدے
کندے پر لائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ دعا استقامة کے وقت چادر کے اس کا بھی ایک طریقہ
ہے)- اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے-
استسقاء کے لئے نکلنے کی حالت
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the prayer ground to pray for rain. He turned his cloak when he faced the qiblah, placing the right side over his left shoulder and the left side over his right shoulder, then supplicated to Allah." [Narrated by Abu Dawud]
عن ابن عباس رضي الله عنهما سمع روايت به، وه فرما ت هين كه (ايك دفعه بارش رک کی تھی) بارش آ نے کی دعا کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ کی طرف) چل کیا کہول اس وقت آ پ کی کیا حال ت تھی (مجرو افساری ظاہر کرنے کے لئے) معمولی پرانے کپڑے پہن ہو نے تھے، ظاہری حال ت آ پ کی ایسی تھی کہ جس سے آ پ کا اختیارج ظاہر ہور با تھا اور باطن میں دل کی جھی وہی خشوع و خضوع کی حال ت تھی اور زبان مبارک سے گرگرا ت ہوئے اللہ تعالیٰ کے مبارک نام کو لے رہے تھے اس کی روايت تر نذی، ابودا ود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما سمع روايت به، وه فرما ت هين كه (ايك دفعه بارش رک کی تھی) بارش آ نے کی دعا کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ کی طرف) چل کیا کہول اس وقت آ پ کی کیا حال ت تھی (مجرو افساری ظاہر کرنے کے لئے) معمولی پرانے کپڑے پہن ہو نے تھے، ظاہری حال ت آ پ کی ایسی تھی کہ جس سے آ پ کا اختیارج ظاہر ہور با تھا اور باطن میں دل کی جھی وہی خشوع و خضوع کی حال ت تھی اور زبان مبارک سے گرگرا ت ہوئے اللہ تعالیٰ کے مبارک نام کو لے رہے تھے اس کی روایت تر نذی، ابودا ود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
استسقاء کا ایک واقعہ
Abdullah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out with the people to the prayer ground to pray for rain. He led them in two rak’ahs, reciting aloud in them, faced the qiblah, supplicated, raised his hands, and turned his cloak when he faced the qiblah." [Agreed upon]
عن ابوہریرہ رضي اللہ عنه سمع روايت ہے، وه فرما ت هین کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہوئے سناہ کہ أنبیاء میں سے ایک نبی نے (یعنی حضرت سليمان عليه الصلاة والسلام کے زمانے میں ایک مرتبہ بارش رک کی تھی تو حضرت سليمان عليه الصلاة والسلام) لوگوں کو لے کر بارش آ نے کی دعا کرنے کے لئے جنگل کی طرف نکل (اثنان راه) ایک چیونی پر آ پ کی نظر پڑی، آ پ دیکھ کر وہ اپنے سامنے کے دونوں پاتھوں کو آ سمان کی طرف انخلا کے ہوئے (بارش آ نے کے لئے) دعا کر رہی ہے اور کہ رہی ہے ابی! آ پ کے تمام مخلوقات میں تمہیں ایک مخلوق ہیں (بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے آ پ بارش کو رک دے ہیں، اس وجہ سے تم کچھ بلا کے ہور ہے ہیں، ہمارے لئے بارش نچچ دتے اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے تم کو بلا کے
عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سمع روایت ہے، وہ فرما ت هین کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے ہوئے سناہ کہ أنبیاء میں سے ایک نبی نے (یعنی حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں ایک مرتبہ بارش رک کی تھی تو حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام) لوگوں کو لے کر بارش آ نے کی دعا کرنے کے لئے جنگل کی طرف نکل (اثنان راہ) ایک چیونی پر آ پ کی نظر پڑی، آ پ دیکھ کر وہ اپنے سامنے کے دونوں پاتھوں کو آ سمان کی طرف انخلا کے ہوئے (بارش آ نے کے لئے) دعا کر رہی ہے اور کہ رہی ہے ابی! آ پ کے تمام مخلوقات میں تمہیں ایک مخلوق ہیں (بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے آ پ بارش کو رک دے ہیں، اس وجہ سے تم کچھ بلا کے ہور ہے ہیں، ہمارے لئے بارش نچچ دتے اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے تم کو بلا کے
مت کچھ) تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے فرمایا: والپس چلو، تمہارے لئے مجھے اس چیونی کی وجہ سے بارش آنے کی دعا کے قبول ہوگی۔ اس کی روایت دار طرف نے کیا۔ استقبال میں بارش آنے کے بعد کی دعا
It is narrated that Prophet Solomon (peace be upon him) said to some people: 'Go forth, for your prayer for rain through this cloud will be accepted.' This was reported by [the narrator]. After the rain came, he made supplication.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش رکنے کی وجہ سے صحرا میں جا کر بارش آنے کی دعا فرماتے تھا اور جب دکھتا تھا کہ دعا کے قبول ہوگیا ہے اور بارش آرہی ہے تو فرماتے تھے: "اللہم صَبِّبَا نَافِعًا"، الیہ (آپ کا کیا شکر ادا کریں آپ ہماری دعا کے قبول کے اور بارش بر سارے ہیں) تو بی بارش ہمارے لئے ضرر کا ذریعہ نہ بنے بلکہ اس بارش سے ہم کو نفع، نی نفع پانی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Messenger of Allah (ﷺ) saw rain, he would say, 'O Allah, make it a beneficial downpour.'" [Narrated by Bukhari]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک روز نہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے بارش ہوئی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک اور پشت مبارک پر تکر اہطادے ہیں اور بارش کو پے جسم مبارک پر لینے لگے ہیں، ہم عرض کیے: حضور آپ اس طرح جسم مبارک سے کپڑا اہطا کر بارش کیون اپنا اوپر لے؟ حضور ارشاد فرماتے (کہ بارش عالم قدس سے عالم کثیف پر ہورتی ہے، عالم قدس پر اللہ تعالی کی خاص تجلیات ہوتی رہتی ہیں، پی بارش عالم قدس سے جب تک اللہ تعالی کے نہیر و برکات کی لیت ہوئی نہیں جب پیز میں پرگرتی ہے تو گنہگار ول کی وجہ سے وہ نہیر و برکات ختم ہوجاتی ہیں، زمین پرگرنے سے پھلے عالم قدس سے آنے والی بارش کو) اپنے جسم پراس لے لے رہا ہوں کہ اس سے عالم قدس کے نہیر و برکات مجدداصل ہو جائیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when it rained. He removed his garment so that the rain would fall on him. We asked, 'O Messenger of Allah, why did you do this?' He replied, 'Because it has just come from my Lord.'" [Narrated by Muslim]
(1) عَنْ مَالِكِ الدَّارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَاءَ رَجُلٌ - أَعْنِي بَلالَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَمَا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لِلْبَيْهَقِّي وَابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ لَأَمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا ! فَاتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَقَالَ : أُتِ عُمَرَ فَاقْرِئْهُ السَّلَامَ وَ أَخْبِرْهُ أَنَّهُمْ يُسْقَوْنَ ، وَقُلْ لَهُ : عَلَيْكَ الْكِيسَ الْكِيسَ . فَاتَى الرَّجُلُ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبْكَى عُمَرُ قَالَ : يَا رَبِّ مَا آلُو إِلاَّ مَا عَجَزْتُ عَنْهُ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِّي وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ . وَذَكَرَهُ ابْنُ تَيْمِيَةَ فِي فَتَاوَاهُ وَفِي اقْتِضَاءِ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ وَصَحَّحَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے
عہد میں جب قحط پڑتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنه، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے توسل
سے بارش آنے کی اس طرح دعا کرتے کرائی پہل تو تم آپ سے اپنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے توسل سے بارش آنے کی دعا کرتے تو آپ تم پر بارش بر ساتے تھاب جی آپ پ کے جی
کے توسل سے دعا کرتے گر چونکہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آپ کے جی کے پچا تم
میں موجود ہیں، ہمارے دول میں ان کی عظمت ہے اس وجہ سے) اب تم حضرت عباس بن
عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے توسل سے بارش آنے کی آپ سے دعا کرتے ہیں، آپ تم پر بارش
برسا یے راوی کہتے ہیں کر (حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے توسل سے دعا کرتے ہی ابراہمتا ہا
اور بارش بر ساتی جاتی تھی) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ف: اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے توسل لینا ذکور
ہے، اس سے معلوم ہوا کہ توسل لینا جائز ہے اور ثابت ہے، اب رہی پر بات جسیا کہ بعض لوگوں کو شہب
ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے توسل ذکر کے حضرت عباس رضی
اللہ عنہ سے توسل کے اس سے معلوم ہوا کہ زندول سے توسل کرنا جائز ہے اور جو حضرات دنیا سے پچلے
گئے ہیں ان سے توسل کرنا جائز نہیں، اگر جائز ہوتا تو حضرت عمر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا توسل لیتا جتن لوگوں کو پیشہ ہوا ہے وہ نہیں ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقی نہیں کہ ہیں حقیقی
کرے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اور حدیثوں میں ونیات کے ہونے حضرات سے توسل لینا نہ کورہ، اس لے ذیل میں وہ احادیث بیان کے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ونیات کے ہونے حضرات سے ہر معاملہ میں عام طور پر توسل لینا اور بارش کے لے بھی توسل لینا ثابت ہے اور جائزہ ہے۔
The narrator says: 'When he would pray for rain through the intercession of Abbas (RA), the clouds would gather and it would rain.' This hadith is reported by Bukhari. In this hadith, it is mentioned that Umar (RA) sought intercession through Abbas (RA), which shows that seeking intercession is permissible and established. Now, regarding the issue that some people have raised, they say that since Umar (RA) mentioned the intercession of the Prophet ﷺ before the intercession of Abbas (RA), it indicates that seeking intercession from the living is permissible, while seeking intercession from those who have passed away is not permissible. If it were permissible, Umar (RA) would have sought intercession through the Prophet ﷺ, as many people claim. It is clear that this is not true, and if it were true, it would be known. Furthermore, there are hadiths that indicate that seeking intercession from the righteous is permissible and established, both generally and specifically for seeking rain. Therefore, the following hadiths will be presented to show that seeking intercession from the righteous is permissible and established in all matters, including seeking rain.
(2) عَنْ أَبِى الْجُوْزَاءِ أُوْسِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِىَ اللہُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : قُحِطَ أَهْلُ
الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِىَ اللہُ تَعَالَى عَنْهَا
فَقَالَتْ : أَنْظُرُوَا قَبْرَ النَّبِىِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَاللهِ وَسَلَّمَ فَأَجْعَلُوَا مِنْهُ كُوْىٍ إِلَى السَّمَاءِ
حَتَّى لاَ يَكُوْنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، فَفَعَلُوَا فَمَطَرُوَا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ
وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّىَ : عَامَ الْفَتِقِ.
رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ الْجُوْزِى بِسَنَدِهِ فِي الْبَابِ التَّاسِعِ وَالثَّلاَثِينَ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ بِقَبْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كِتَابِهِ "صَفَةُ الصَّفْوَة"، وَرَوَاهُ أَيْضًا الإِمَامُ تَاجُ الدِّينِ السُّبْكِيُّ فِي "شِفَاءُ السَّقَام".
ما کہ دارضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خازن تھے، کہتے ہیں کہ مدینہ شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیخلافت کے زمانے میں قحط پڑا تو ایک صاحب (جو صحابی تھے) جن کا نام بلال بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف کے پاس آئے اور عرض کیے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لے بارش آئے کی دعا کیئے وہ پلاک ہوئے جائے ہیں تب ان صحاب کے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شریف لا ہے اور فرمائے کہ: عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس جاو اور سلام کہو اور یہ خوشخبری پہوچاوا کہ پانی برے گا، لوگ سیراب ہون گے اور عمر (رضی اللہ عنہ) سے یکھو جیئے تم اب تک ہوشیاری اور دانائی سے سلطنت کر رہے ہو، الیا کہ میش ہوشیاری اور دانائی سے سلطنت کرتے رہو، وہ صحاب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور خواب کا واقعہ بیان کے (پسن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ زارزار
رو نے گے اور دعا کر نے گے ابی جب تک میں عاجز و مجبو ر نہ ہو جا ئے حضور کے ( دانا لی سے
سلطنت کرنے کے ) حکم کی تقبل میں کچھ کو تاہی نہ کرول گا۔ اس کی روایت سے اور ابین ابی شیبہ نے
صحیح سنن کے ساتھ کی ہے اور ابن تمیہ نے کچھ اپنے فتاوی اور اقتضاء الصراط المستقيم میں اس حدیث
کا ذکر کیا ہے اور اس کے تجہ بھونے کا قرار کیا ہے اور اس پرانکار نہیں کیا۔
ف: اس حدیث ثریف سے ثابت ہوا کر توسل، استغاثہ اور عرض دعا کے لے صحاب کرام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مزار اقدس پر حاضر ہوا کرتے تھے، اس لے دنیا سے گے ہوئے
حضرات سے توسل جاتے ہے۔
اس حدیث ثریف میں پیامربھی قابل غور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جن کی شان تھی
"اَشْدُهُمْ فِیْ أَمْرِ اللہِ عُمَرْ" احکام خداوند کی تقبل کرنے اور کارنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ
بہت سخت تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مزار ثریف پر جانا اور توسل لینا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے
دعائے کرنا ممنوع اور شرک اور ناجائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جسے جو احکام کی پابندی کرنے اور
کرنا میں سخت تھا اس کو وہ کب جاتے رکتے توسل لینے کے لے مزار اقدس پر جانے والے صاحب
کو باز پس کرتے اور سخت سزا دیتے، جبکہ اس کے ان کے حکم لا نے کو مان لے۔ اپنے کو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے حکم کے قابل نہ ہیں کر رونے گے، اس سے معلوم ہوا کہ صحاب کا مزار ثریف پر جانا اور
جانے والوں پرانکار نہ کرنا ثابت ہے۔
In the time of Umar's (RA) caliphate in Medina, a drought occurred. A Companion, whose name was Bilaal bin Harith (RA), went to the blessed grave of the Messenger of Allah ﷺ and said: 'O Messenger of Allah ﷺ, pray for rain for your community, for they are in dire need.' Then, in the dream of that Companion, the Messenger of Allah ﷺ appeared and said: 'Go to Umar (RA) and convey my greetings to him, and give him the good news that it will rain, the people will be relieved, and go to Umar (RA) and say: You have been ruling with wisdom and insight until now; continue to rule with wisdom and insight.' The Companion went to Umar (RA) and related the incident of the dream. Umar (RA) wept and prayed, saying, 'As long as I am capable and strong, I will not deviate from the command of the Messenger of Allah ﷺ in ruling with wisdom and insight.' This narration is reported by Abu Ubayd in his 'Sahih Sunan' and Ibn Taymiyyah mentioned this hadith in some of his fatwas and in 'Iqtida' as-Sirat al-Mustaqim,' and he considered it authentic and did not reject it.
This noble hadith establishes that the noble Companions used to present themselves at the sacred grave of the Messenger of Allah ﷺ for seeking intercession, invoking assistance, and offering supplications, even after they had left this world. In this noble hadith, it is also noteworthy that it was Hazrat Umar (RA), who was known for his strictness in matters of Allah, as described: 'The most stringent in the affairs of Allah is Umar.' Hazrat Umar (RA) was very strict in adhering to and enforcing the commands of Allah. If visiting the noble grave of the Messenger of Allah ﷺ for intercession and invoking his aid were prohibited, considered shirk, or unlawful, then Hazrat Umar (RA), who was so strict in adhering to and enforcing commands, would have certainly prevented those who went to the sacred grave for intercession and would have severely punished them. However, since he did not do so, it is evident that the Companions' practice of visiting the noble grave and not opposing those who visited it is established.
اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ وَ أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِىِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّى أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ لِتَقْضِىَ حَاجَتِىَ اللّٰهُمَّ فَشَفَعْتُ فِىَ .
اپوا جوز اء او س بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) مدینہ شریف میں بہت بڑا قحط پڑا، جس کی شکایت امام المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوئی، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حکم فرما کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار اقدس اور آسمان کے درمیان ایک روزن کردو کرچھت حال نہ ہو، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت امام المومنین صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم کی تمل کے اور قبر شریف کے عین اور پرچھت میں ایک روزن کردے (جبال سے آسمان نظر آتا تھا، اسی کرتے، ی) خوب بارش ہوتی۔ کرتے سے گھاس اگی اور اونٹ ایس موٹے تازے ہوتے کہ چر بی سے لگے اور چر بی کی وجہ سے پھل پڑتے تھے، اسی واسطے اس سال کا نام عام الفتق رکھا گیا، اس کی روایت علامہ ابن جوزی اپنی کتاب صفة الصفوة کے باب (39) فی الاستسقاء بقبره صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اپنی سنده کی ہے اور امام تاج الدین سبلی نے یہی اس کی روایت شفاء السقام میں کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارش آنے کے لے قبر شریف کے محاذی چھت میں روزن کول کری طابر فرما کر انبیا پ کے نبی کی قبر شریف میں آپ کے نبی کے قبر شریف کا اور آپ کے نبی کا توس لے کر آپ سے بارش آنے کی وعا کرتے میں، تم پر بارش بر سائے، یتوسل لیتے، ہی کرتے سے بارش ہوتی۔ اگر توسل جائز نہ ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ اس طرح کا توسل کر کے توسل نہیں اور صحابہ کرام کچھ آپ کے حکم کی تمل کرتے، صحابہ کرام کا زمانے ایسا زمانہ تھا کہ حضرات کسی خلافی سنت کا مکود کیا کر برداشت نہیں کرتے تھے، اگر امام المومنین کا بتلا یا ہوا یہ عمل ناجائز ہوتا تو صحابہ کرام اس سے ضرو اختلاف کرتے، صحابہ کرام کے
خاموش رہنے اور انکار کرنا سے معلوم ہوا کہ توسل جائزہ اور اگراس طرح کا توسل جائزہ ہوتا تو غضب نازل ہوتا نہ کر رحمت ابی، رحمت ابی اس توسل سے جوش میں آئی اور بارش ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ توسل جائزہ اور صحابہ کرامؓ نیا سے گہرے حضرات سے توسل لے یعنی۔ بیان ذکورہ احادیث کے سوا اور کچھ احادیث میں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ استقعا کی دعا کے وقت دنیا سے گہرے حضرات کا توسل لینا جائزہ اب وہ احادیث بیان کے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر استقعا کے کچھ توسل لینا جائزہ ہے۔ وہ احادیث یعنی:
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک صاحب کو کچھ ضرورت ہوئی وہ پوری نہیں ہورہی تھی وہ صاحب عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے گیا کہ مجھے ایک ضرورت ہے جس کو حضرت عثمان بن عفان سے کہنا چاہتا ہوں مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں، جس سے امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان میری ضرورت پوری کروئی تو عثمان بن حنیف فرماتے کہ میں تم کو ایک ایسی دعا بتاتا ہوں جس دعا کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نامیانا کو بتانے تھا اس دعا کو پڑھنے سے ان کی پینالی واپس آ گئی تھی مجھی وہ دعا پڑھ کر دعا کرو کہ حضرت امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تمہاری ضرورت پوری کروئی وہ دعا یہ:
اہی! میں آپ سے مانگتا ہوں اورآپ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا توسل لے
کر آپ سے دعا کرتا ہوں، وہ نبی اُمّی نبی رحمت ہیں، ان کے توسل سے آپ مجھ پر رحمت نازل
کیے اور میرے مقصد کو پورا کیے۔ یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کو اپنی حاجت پوری ہوئے کے
لیے اللہ تعالیٰ کے ساتویں پیش کرتا ہوں اے میرے نبی آپ میری شفاعت کر کے اللہ تعالیٰ سے میرا
مقصد دلا یے، اے اللہ میں آپ کے جلیل القدر پیغمبر کی شفاعت لارباہوں ان کے توسل سے میرا
مقصد پورا کیے اور میری دعا قبول فرمائے۔
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ان صحاب سے فرماتے کہ اس دعا کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم
پہلے اچھی طرح (سنت اور مستحب کی پابندی کے ساتھ) وضو کرو، اور مسجد میں دور کے نماز ادا کرو،
اس کے بعد نکور الصدر دعاے اللہُمَّ اِنِّی أَسْتَلُكَ سے آخر تک پڑھاو اور یہ دعا پڑھنے کے بعد اپنا
مقصد حاصل ہونے کی دعا کرو، وہ صحاب کہتے ہیں کہ میں اس طرح عمل کیا اور میں اس کا عجیب اثر
پایا کہ میں جب امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو حضرت امیر المومنین
میری طرف خاص توجہ فرماتے اور میری ضرورت پوری کرتے۔ اور یہی فرماتے کہ جب تم کو
ضرورت ہو، میرے پاس آ جا یا کرو۔ طبرانی نے اس کی روایت مجمع کبیر میں کی ہے اور تہذیب نے بھی
اس کی روایت ابن ابی شیبہ سے اس طرح کی ہے اور تہذیب نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہت ہے اور
اس کے راوی ثقہ اور معتمد ہیں۔
ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کیا گیا ہے اور یہ واقعہ حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد و خلافت کا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں
اللہ سے توسل لینا جائز ہے اگر دنیا سے گئے ہوئے حضرات سے توسل لینا جائز نہ ہوتا تو یہ صحاب کرام کا
مبارک زمانہ ہو دنیا سے گئے ہوئے حضرات سے توسل لینا برگز نہ سکتا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ
دنیا سے گئے ہوئے حضرات سے توسل لینا جائز ہے اور محمد شین بھی دنیا سے گئے ہوئے حضرات سے
توسل لین کو جائز سمجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کی روایت کے پیں، اس لے اب بھی جو
صاحب چاپین اپنے مقصد برآری کے لئے اس نذورہ طریقے سے نذور الصدر دعا ئے اپنا مقصد حاصل
ہوئے کے لئے کر سکتے ہیں، چنانچہ اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کو علامہ جزیری رحمۃ اللہ
علیہ نے حصن حسین میں ترنزی، نسائی، ابن ماجراور مستدرک سے اس طرح کی ہے:
"وَمَنْ كَانَتْ لَهُ ضَرُورَةٌ فَلْيَتَوَضَّأْ فِيْحُسْنِ وُضُوءٍ وَ يُصَلِّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَدْعُوْ
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلُكُ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ مُحَمَّدِ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ
بِكَ إِلَى رَبِّي فِيْ حَاجَتِيْ هَذِهِ لِتُقْضَى لِيْ اللَّهُمَّ فَشَفَعْتُهُ فِيْ"۔
حصن حسین کی اس روايت کے ابتدا کی حسکا ترجمہ بقدر ضرورت حسب ذیل ہے:
جس کسی کو کوئی ضرورت پیش آئے اللہ تعالیٰ سے ہویا کسی مخلوق سے، اس کو چاہے کر اچھی
طریح وضو کر کے دور کعت نماز پڑھ کر نذورہ دعاے پڑھے اور اپنے مقصد کی دعا کرے۔
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنه کی سابقہ حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا سے گے ہوئے حضرات کا
توسل عام طور پر جائزہے جس دعاے میں چاپین توسل لے سکتے ہیں اس کی تائید زیل کے واقعہ سے
بھی ہوتی ہے یہ واقعہ سی معقولی شخص کا نہیں ہے بلکہ یامام ابو عیسی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو ایک
جلیل القدر امام حدیث ہیں، اور صاحب سنن ہیں وہ اپنے خواب کا واقعہ اس طرح بيان کرتے ہیں
کہ امام موصوف ایک رات اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھے، اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے یہ
عرض کیا کہ کوئی ایسی دعاے تعليم فرامایے جس سے مرتنے دم تک ایمان کی حفاظت ہواور ایمان
پر، یا خاتمه بالخیر ہو، حق اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمايا کہ فجر کی سنن اور فرض کے درمیان یادعاے پڑھا
کرو:
اللہی بحرمة الحسن و اخيه و جده و بنيه و امه و ابيه نجني من الغم اللذی انا
فيه يا حي يا قيوم ياذا الجلال و الاکرام اسالک ان تحيي قلبی بنور معرفتك يا
اللہ يا اللہ يا اللہ يا ارحام الراحمين۔
البی (میں عاجز و مجبور ہوگیا ہوں) حضرت امام حسن اوران کے بھائی حضرت امام حسین کا ان
کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اوران کے کل معظم اولاد کا ان کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ
اوران کے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہم کا توسل لکر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ جن مصیبتوں
اور مشکلات میں گرفتار ہوں، ان سب حضرات کے توسل اور لیلے ان مشکلات سے نجات
دتے ہیں، اے زندہ سارے عالم کا نظام کرنے والے میرے بھی مشکلات دور کر کے میری بھی راحت
کا نظام کیے) اے اللہ آپ برطی عظمت والے ہیں اور سب پراحسان کرنے والے ہیں (میری
بھی مشکلات دور کر کے) میری پراحسان کیئے، میری پر می آپ کے ان گنت احسان میں
(مشکلات) دور کر کے میرا اور احسان کیے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اپ کی معرفت عطاے
کر کے میرے مرده دل کو زندہ کیے، آپ کی سے مدد لیتا ہوں، اے اللہ میری اس مصیبت اور
پریشانی کے وقت میری مدد کیے، اے اللہ آپ کی رحمت عام ہے آپ سب سے زیادہ رحم کرنے
والے ہیں میری آپ رحم کیے اور میری دعا قبول فرما ئے - (میرے ایمان کو مرتے دم تک
سلامت رکھے اور خاتمہ بالخیر فرما ئے)
امام تر نذی رحمۃ اللہ علیہ نماز نہ جبر کے فرض و سنن کے درمیان بیشتر دعا کا ورد رکھتے تھے اور
اپنے دوستوں کو اس کے عمل کا شوق دلا تے اور شاگردوں کو اس دعا کو پڑھتے رہتے کی تعلیم اور حکم دیا
کرتے تھے اگر دنیا سے گھے ہوئے حضرات کا توسل ممنوع ہوتا تو اتنے بڑے امام اس کا ورد بیش
کیون کر کہ اوراس عمل کی تعلیم و امر و شوق کس طرح دلوائے حالا کہ یا امام حديث میں خلق کے
مقتداء، خلاصة الكلام میں خواب کا یو اقداسی طرح ذکور ہے اور علامہ سید طاہر بن محمد باشمش علوي رحمۃ
الله علیہ اپنی کتاب مجمع الاحباب میں سوانح امام تر نذی میں اس خواب کو اس طرح بيان کیا ہے - پی
سب مضمون "عمران القلوب" سے ماخوذہ-
ف: صاحبو! آپ پر یہ خواب سنا، یہ خواب حدیث کے امام، محمد بن کے مقتدا حضرت البو
عسیٰ ترنذی رحمۃ اللہ علیہ کا خواب ہے جسے پیغمبر کے خواب وہی ہوتے ہیں ایے، یہ ان مقدس
حضرات کے خواب الهام ہوتے ہیں، الهام سے کچھ ثابت ہوا کر دیا ہے گہ ہوتے حضرات کا
توسل لینا جائز ہے، قطع نظر اس کے قابل غور بیات ہے کہ اللہ تعالیٰ گہ ہوئے کا توسل لینا
سکتا ہے ہیں، اس لے دنیا ہے گہ ہوؤل سے توسل لین میں کوئی شک باقی نہ رہا، جو صاحب
چاہیں فخر کے سنن اور فرض کے درمیان اس دعا کو پڑھا کریں، اس لے کہ امام ترنذی اس کو پڑھا
کرتے، اور پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔12
A severe famine struck Madinah, and the complaint was brought before the Commander of the Faithful, Ali (RA). Abu Bakr (RA) commanded that there should be no obstruction between the blessed grave of the Messenger of Allah ﷺ and the sky. Consequently, the Companions (RA) complied with the command of the Commander of the Faithful, Abu Bakr (RA), and cleared the area around the blessed grave so that the mountains could be seen from above. As a result, abundant rain fell, grass grew, and the camels became so fat that they would stagger and fall due to their weight. This year came to be known as 'Al-Fatq' (The Year of the Staggering). This narration is recorded by Imam Ibn Jawzi in his book 'Sifat al-Safwa' in the chapter (39) on seeking rain at the grave of the Messenger of Allah ﷺ, and Imam Taj al-Din Subki has also narrated it in his book 'Shifa' al-Siqam'.
In this noble hadith, it is mentioned that when rain was needed, Hazrat Ali (RA) made holes in the roof opposite the blessed grave and took the soil from the blessed grave of the Prophet (PBUH) and used it to invoke rain. He would say, 'O Allah, send us rain through the intercession of Your Prophet (PBUH).' Rain would then fall. If intercession were not permissible, Hazrat Ali (RA) would not have resorted to such intercession, nor would the noble Companions have followed his command. The time of the noble Companions was such that they would not tolerate any innovation in religion. If the action of the Commander of the Faithful (Hazrat Ali) had been impermissible, the noble Companions would have strongly objected. Their silence and lack of objection indicate that intercession is permissible. If such intercession were permissible, it would bring mercy rather than wrath. Mercy descended due to this intercession, and rain fell. This shows that intercession is permissible, and the noble Companions (RA) would seek intercession from the most revered personalities. Besides the aforementioned hadith, there are other hadiths that indicate the permissibility of seeking intercession from the most revered personalities during supplication. These hadiths will be discussed, which show that seeking intercession without direct supplication is also permissible. These hadiths include:
From the narration of Uthman bin Haneef (RA), during the caliphate of Hazrat Uthman bin Affan (RA), a person had a need that was not being fulfilled. He came to Uthman bin Haneef (RA) and said, 'I have a need that I want to convey to Hazrat Uthman bin Affan. Please tell me what to do so that the Commander of the Faithful fulfills my need.' Uthman bin Haneef (RA) replied, 'I will teach you a prayer that the Messenger of Allah (PBUH) taught a blind man, and by reciting this prayer, his sight was restored. Recite this prayer and ask the Commander of the Faithful (Hazrat Uthman bin Affan) to fulfill your need.' The prayer is as follows:
'O Allah, I ask You and seek intercession through Your Prophet Muhammad (PBUH), the Prophet of Mercy. O Muhammad, I seek intercession through you to my Lord for my need to be fulfilled. O Allah, through the intercession of Your noble Prophet, fulfill my need and accept my prayer.'
Uthman bin Haneef (RA) further instructed, 'The method of reciting this prayer is to perform ablution properly, pray two rak'ahs in the mosque, and then recite the prayer starting with 'Allahumma inni astaluka' until the end. After reciting the prayer, make your request.' The Companion said, 'I followed this method and found its wonderful effect. When I went to the Commander of the Faithful (Hazrat Uthman bin Affan), he paid special attention to me and fulfilled my need, saying, 'If you have any need, come to me or write to me.' This narration is recorded in Musnad al-Kabir by Tabarani and by Tuhfat al-Ashraf from Ibn Abi Shaybah, who stated that the chain of narrators is authentic and reliable.
In this hadith, intercession through the Prophet (PBUH) is sought, and this incident occurred during the caliphate of Hazrat Uthman (RA). This shows that it is permissible to seek intercession from those who have passed away. If it were not permissible to seek intercession from those who have passed away, it would not have been possible during the blessed era of the noble Companions. Therefore, it is established that seeking intercession from those who have passed away is permissible. Muhammad Shain, recognizing the permissibility of seeking intercession from those who have passed away, has recorded this hadith in his books. Thus, anyone who wishes to achieve their goal can follow this method and recite the prayer, seeking to fulfill their need. This is supported by the following narration, as recorded by Imam Jaziri (RA) in Hilyat al-Awliya from Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah, and al-Mustadrak:
'Whoever has a need, let them perform ablution properly, pray two rak'ahs, and then recite the prayer: 'O Allah, I seek and turn to You through Muhammad, the Prophet of Mercy. O Muhammad, I turn to my Lord through you for my need to be fulfilled. O Allah, grant me his intercession.'
The beginning of this narration from Hilyat al-Awliya is translated as follows: 'Whoever has a need, whether from Allah or from a creature, should perform ablution properly, pray two rak'ahs, and then recite the prayer and make their request.'
From the previous hadith of Uthman bin Haneef (RA), it is clear that seeking intercession from those who have passed away is generally permissible, and one can seek intercession in their prayers. This is further supported by the following incident, which is not a mere story but an account of Imam Abu Isa al-Tirmidhi (RA), a renowned hadith scholar and author of Sunan. He narrates that one night, he saw Allah in a dream. Seizing this opportunity, he requested Allah to teach him a prayer that would protect his faith until death and ensure a good end. Allah commanded him to recite the following prayer between the sunnah and fard prayers of Fajr:
'O Allah, by the sanctity of Hassan, his brother Hussein, their grandfather Muhammad (PBUH), their descendants, their mother Fatima, and their father Ali (RA), save me from the distress I am in. O Living, O Eternal, O Possessor of Majesty and Honor, I ask You to enliven my heart with the light of Your knowledge, O Allah, O Allah, O Allah, O Most Merciful of the merciful. I am weak and helpless, and I seek intercession through the sanctity of Imam Hassan, Imam Hussein, their grandfather Muhammad (PBUH), their descendants, their mother Fatima, and their father Ali (RA). Save me from all my troubles and difficulties through their intercession. O Sustainer of all creation, remove my troubles and grant me relief. O Allah, You are the Possessor of Greatness and the Bestower of favors. Remove my troubles and grant me Your favors. The greatest favor is to grant me Your knowledge and enliven my dead heart. I seek Your help in this distress and difficulty. O Allah, Your mercy is vast; You are the Most Merciful. Have mercy on me and accept my prayer, preserve my faith until death and grant me a good end.'
Imam Tirmidhi (RA) often recited this prayer between the sunnah and fard prayers of Fajr and encouraged his friends to do so. He also taught this prayer to his students and commanded them to recite it regularly. If seeking intercession from those who have passed away were forbidden, such a great imam would not have made it a regular practice or taught it to others. In fact, the dreams of hadith scholars are considered divine inspiration, and this particular dream is recorded in the lives of Imam Tirmidhi by Imam Sayyid Taher bin Muhammad Bashmesh Alawi (RA) in his book Majma' al-Ahbab, derived from 'Umrān al-Qulūb.'
O Companions! This dream is that of Imam Muhammad bin Isa al-Tirmidhi (RA), whose dreams are like those of prophets, being divine inspirations. From these inspirations, it is established that seeking intercession from the revered ones is permissible. It is clear that one can seek intercession from those who have passed away. Therefore, there is no doubt about the permissibility of seeking intercession from those who have passed away. Anyone who wishes to recite this prayer between the sunnah and fard prayers of Fajr, as Imam Tirmidhi did and commanded, may do so.