Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ

اس باب میں سجدہ شکر کا بیان ہے

The Prostration of Gratitude (Sujud al-Shukr)
Volume 3 · Prayer
About this text. The Urdu here was machine-read (OCR) from the printed volumes and has not yet been proofread: it contains misread words, some of which change the meaning. Please check the printed Nūr al-Maṣābīḥ before quoting it. English beside a hadith is the scholarly Zujājah translation of the matching hadith; English commentary and chapter introductions are unreviewed machine translation.

ف: جس شخص کوئی نعمت میں یا اس کو مال میں یا والد ہو یا اس سے کوئی مصیبت دور ہوئی ہو تو اس طرح کی جب نعمتیں میں تو اس کو چاہے کہ اللہ تعالیٰ کا اس طرح شکریادا کرے کہ بغیر نماز کے صرف ایک، ایک بڑے شکر ادا کرے، اس طرح کا سجدہ شکر ادا کرنا حقی نہیں بلی مستحب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے، نماز اور سجدۃ تلاوت کے جو شرائط ہیں وہ سارے شرائط سجدۃ شکر کے لیے ہی ہیں، لیکن وضو کا ہونا، جگہ کا پاک ہونا، بدن اور کپڑے کا پاک ہونا، ستر عورت کا ہونا، قبل کی طرف رخ کرنا اور نیت کرنا و غیرہ، بال نماز میں تکبیر تحریمہ جس کے لیے کان تک باٹھا اٹھانے جاتے ہیں، وہ سجدہ تلاوت کے لیے بھی نہیں، اور سجدہ شکر کے لیے بھی نہیں بلکہ سجدہ شکر کو باوضو قبلا روہوکرو و قیام اور دو اللہ اکبر کہنا کے بعد میں اداء کرنا چاہیے، لیکن پہلے کطرے روکر تکبیر تحریمہ کے لیے باٹھا اٹھانے بغیر اللہ اکبر کہنا ہوئے سجدہ شکر کے لیے سجدہ میں جاتے اور سجدہ میں کہ ازکم تین بار سبحان ربی الا علی کہ اور اللہ اکبر کہنا کطرہ اہو جاتے، پیش سجدہ شکر اس کے لیے تشهد اور سلام بھی نہیں ہے۔ ترافی الفلاح، نور الایضاح، ططاوی، اور در مختار

سجدہ شکر ادا کرنے کا طریقہ

Machine translation, unreviewed

If someone has been blessed with a favor, or wealth, or a child, or if some calamity has been averted from them, then when such blessings occur, they should express gratitude to Allah Almighty by performing a single, great act of prostration (sujud) without offering prayer. This type of prostration for thanksgiving (sujud al-shukr) is not obligatory but is recommended, and this is the ruling. The conditions required for prayer and prostration during recitation are also applicable to the prostration of thanksgiving. However, these include being in a state of ritual purity (wudu), the place being clean, the body and clothes being clean, covering the private parts, facing the qiblah, and making the intention. The raising of the hands to the ears for the opening takbir (takbir tahrima) that is done in prayer is not required for prostration during recitation, nor for the prostration of thanksgiving. Instead, the prostration of thanksgiving should be performed after standing up with wudu, saying 'Allahu Akbar' twice, and then going into prostration. Before the prostration, one should raise their hands to the ears and say 'Allahu Akbar' before entering the prostration. In the prostration, one should recite 'Subhana Rabbiyal A'la' at least three times, and 'Allahu Akbar' once. There is no tashahhud or salam before the prostration of thanksgiving. [Taraful Falah, Nur al-Idah, Tattawi, and Dur al-Mukhtar - 12]

2260

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی یا کسی سے کوئی خوشخبری آتی (یا کوئی نئی نعمت حاصل ہوتی یا کوئی بلاء ہل جاتی تو اس کا شکر ادا کرنے کے لیے مش سجدۃ تلاوت کے) شکر کا سجدہ (اس طرح) اداء فرماتے (کہ باوضو قبلہ کی طرف رخ کر کے کطرے روکر "اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے اور سجدہ میں حمد و ثناء کر کے پھر "اللہ اکبر" کہتے ہوئے کطرے رو جاتے۔) اس کی روايت البودا و داور

تنزی نے کی ہے۔

کسی مصیبت سے محفوظ رہنے پر بھی شکر کرنا

2261

ابو جعفر لعن حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں، کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کو کہ کر جواب دینا (ناقص الخلق تھا) اس کو دیکھ کر (اس طرح)

آپ سجدہ شکر ادا کرتے تھے۔ کہ بونے کو اس کی خبر نہ مولی اور آپ مستغرما کرتے تھے۔ اللہمدد للہ الذی

عافانی مما ابتلاک به۔ ابی میں آپ کا کیا شکر ادا کر ون کہ جس بلاء میں اس بونے کو بٹلا

کہ یہ میں آپ اس سے پچانے ہیں۔ آپ مستداس لے کہ کتا کرخبر نہو، اور اس طرح کچھ سے

اس کی دل شکنی نہ ہو۔ اس حدیث کی روایت دار قطعی نہ مرسلا کی ہے اور ثریح السنن میں مصائخ

کے الفاظ سے اس کی روایت کی گئی ہے۔

تمهید

گزر شنہ قوم پر جو دنیوی عذاب آیا تھا، مثل کوئی مسخ کے گئے، کوئی غرق کے گئے، کسی کو

زیین میں وضعا گیا، کسی پر پچھڑنیوی عذاب آیا، اور کسی پر پچھڑ، یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم کے پیش نظر تھا، اور یہ کی آپ کو معلوم ہوا کہ کفار داگی طور پر دوزخ میں رہیں گے، آپ سراپا

رحمت تھے، چاہے تھے کہ اپنی امت پر نہ ویسا دنیوی عذاب آے نہ اخروی دوزخ کا داگی عذاب

رہے، میش امت آپ کے پیش نظر رہتی تھی، اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی اور اخروی داگی

عذاب سے پچانے کی فکر رہتی تھی، اس وجہ سے آپ کہی رات رات بھجر دو تے رہے کس طرح میں

اپنی امت کو اس طرح کے دنیوی عذاب اور اخروی داگی عذاب سے پچاول؟

کسی نعمت کے لئے پر بھی شکر کرنا

2262

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک دفعہ کا اقترب کر، تم حضور میں

اللہ تعالیٰ اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہ معلومات کی طرف پہلے جب تم مقام عز و اعز میں پہوچے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ رحمت ابی اس وقت جوش پڑے حضور اس وقت کو غنیمت بھی کر اپنی سواری سے اتنے کر کٹرے ہوگے اور اپنے دونوں ہاتھوں دعاء کے لئے اٹھا کر بہت درپ کے دعا کرتے رہے، پھر سجدہ میں جا کر طویل سجدہ کے اور پھر سجدہ سے اٹھ کرتے ہوئے اور کٹرے رہ کر پھر دعاء کے لئے دونوں ہاتھوں اٹھا کر (بہت درپ کے) دعاء کرتے رہے، پھر قیام سے سجدہ میں گئے اور بہت درپ کے سجدہ میں رہے پھر سجدہ سے اٹھ کرتے ہوئے اور بہت درپ کے دعاء کے لئے ہاتھوں اٹھائے رہے، پھر قیام سے سجدہ میں گئے اور بہت درپ کے سجدہ میں رہے، پھر سجدہ سے اٹھنے کے بعد صاحب نے ارشاد فرمائے میں اس وقت کی مرتبہ کٹرے ہو کر دعاء کیا پھر سجدہ میں گیا، پھر دعاء کے لئے کٹرا ہوا پھر سجدہ میں گیا، اس کی وجہ یہی کہ اس وقت رحمت ابی جوش پڑی، میں چاہا کر اپنی امت کے لئے قدیم آرزو پوری کرنے کے لئے دعاء کروں، میں کٹرے ہو کر دعاء کیا، ابی اور قوم کی طرح میری امت کو نیوی عذاب نہ دینا اور گناہوں کی شامت سے دوزخ میں ذلیل بھی تو میش دوزخ میں نہ رکھنا، سزا بجلی کے بعد دوزخ سے نجات دینا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: میں تہماری تہالی امت کے لئے دعاء قبول کرتا ہوں، آپ کی تہالی امت پر پید نیوی عذاب نہیں آئے گا، گناہوں کی شامت سے دوزخ میں جا نہیں گے میں تو میش دوزخ میں نہیں رہیں گے پیس کر میں سجدہ شکر ادا کیا: پھر کٹرے ہو کر دعاء کیا: ابی! میری باقی امت کو بھی نیوی عذاب سے پاچائے، گناہوں کی شامت سے دوزخ میں میش نہ رکھے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! تہماری امت کے دوسرا تہالی حصہ کو بھی نیوی عذاب سے پاچائے رکون گا، گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں جا نہیں گے میں تو میش دوزخ میں نہیں رہیں گے، دوزخ سے ان کو نجات دوں گا، پیس کر میں پھر سجدہ شکر ادا کیا سے بارہ پھر کٹرے ہو کر عرض کیا: ابی! میری امت کے تیرہ حصر کو بھی

دینوی عذاب سے پچائیے گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں جا کسی کو بھی تو ان کو بیشتر دوزخ میں نہ رکھے ! تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! مجھے تمہاری خاطر منظور ہے، تمہاری امت کے تیسرے حصے کو بھی دینوی عذاب سے پچائے رکھون گا، گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں جا کسی کو بھی تو بیشتر ان کو دوزخ میں نہیں رکھون گا، تمہاری تمام امت دینوی عذاب سے بھی محفوظ رہے گی، اور دوزخ کے بیشتر کے عذاب سے بھی محفوظ رہے گی، کیونکہ اب خوش ہوئے یس کریں تیسرے بار پھر سے درہ شکر ادا کیا۔ اس کی روایت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔

Machine translation, unreviewed

This is narrated by Imam Ahmad and Abu Dawud.