Nūr al-Maṣābīḥ
باب صلاة الخسوف

The Eclipse Prayer (Salat al-Khusuf)
Volume 3 · Prayer

(اس باب میں سورۃ کہن کی نماز اور چا ندگہن کی نماز کا بیان ہے )

وقول اللہ عزوجل : " وَمَا نُرِسْلُ بَالْآيَتِ إِلَّا تَخوِيفًا " اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

(سورۃ بنی اسرائیل، پ:15، ع:6، آیت نمبر:59، میں )اور تم قدرت کی نشانیوں کو جسے سورۃ

کہن اور چا ندگہن صرف بندول کے ذرا نے کے لئے محججا کرتے ہیں -

سورۃ کہن کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کا بیان

This chapter contains the recitation of Surah Al-Kahf and Surah Al-Qamar in the prayer.

And Allah, the Exalted and Glorious, says: "And We send not the signs except as a warning." [Surah Bani Israel, Part 15, Page 6, Verse Number: 59]

And you take the signs of power, which are Surah Al-Kahf and Surah Al-Qamar, as warnings only for those who fear Allah -

The recitation of Surah Al-Kahf in congregation is prescribed.

2235

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں (ایک بار) جب سورۃ کہن ہوا تو (نماز کے لئے ازلا اور

اقامت نہیں دی گئی بلکہ ) منادی کو حکم دیا گیا کہ وہ " الصلاۃ جامعۃ " (نماز جماعت سے ہور، یہ

ہے ) کہہ کر لوگوں کو (سورۃ کہن کی ) نماز کے لئے بلا ہے _ اس کی روایت بخاری نے کی ہے -

It is narrated from Abdullah bin Umar (RA) that he said:

In the blessed time of the Messenger of Allah ﷺ, when Surah Kahf was recited, the adhan and iqamah were not given for the prayer, but the mu'adhin was commanded to say, 'Al-Salatu Jami'ah' (The prayer is in congregation), to call the people for the prayer of Surah Kahf. This is reported by Bukhari.

2236

اور ابوداود نے بھی اس طرح اس کی روایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ

رضی اللہ عنہا سے کی ہے -

سورج گہن کی نماز کی ہر رکعت میں مثل اور نماز دول کے ایک رکعت اور دوجده ہیں

Abu Dawud also narrated it from Umm al-Mu'minin Lady Aishah, the Truthful (RA),

In every rak'ah of the prayer at the time of solar eclipse, there is one recitation and one prostration, and in the second rak'ah, there are two prostrations.

تمہید

امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام فرا ض، سنن اور نوافل میں کوئی نماز ایسی نہیں ہے

کہ جس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع ہوں، نماز کسوف محجج مجملہ ان نمازوں کے ہے اس کے اس کی

ہر رکعت میں متعدد رکوع کا ہونا ہے نہیں ہے، مثل اور نماز ول کے نماز کسوف میں محجج ہر رکعت میں

ایک ہی رکوع ہونا چاہیے، اسی واسطے :

پہلی حدیث
2237

ابوقلاہ رضی اللہ عنہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نعمان

بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز کی ہر رکعت کو

ایک رکوع اور دو سجدول کے ساتھ ) اسی طرح جس طرح آپ لوگ ( تمام نمازول کی ) ہر رکعت کو

ایک رکوع اور دو سجدول کے ساتھ ادا کرتے ہیں -

اس کی روایت امام طحاوی، ابوداوداورنسائی نے کی ہے

Abu Qalalah (RA) narrates from Nu‘man ibn Bashir (RA) that Nu‘man ibn Bashir (RA) said:

The Noble Prophet ﷺ performed the noon prayer with one bowing and two prostrations in each unit, just as you all perform all the prayers with one bowing and two prostrations in each unit.

دوسرا حدیث
2238

ابوقلاہ رضی اللہ عنه، قبیسہ بنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیسہ بنی

رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں جب سورج گہن

ہوا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز ( ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدول

تے پڑتا کرتے - ) اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے -

Qabisah al-Bajali (may Allah be pleased with him) narrated: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he prayed as you pray." [Narrated by Al-Tahawi]

تیسری حدیث
2239

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج گہن ہوا ( کیا کہون اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پر کس قدر رخوف طاری تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور پیغمبر ہوئے ہیں کہ یسوع عذاب ایسی کا پیش

خیمہ ہے، یا اس کسوف کے ساتھ کی قیامت قائم ہوئے والی ہے ) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جلدی سے گھر ہوئے ایسی خوف کی حالت میں مسجد کی طرف پچلے ( اس وقت حضور پر ایسا خوف

طائی تھا کہ چادر مبارک سنحہ لکی بھی سدہ نہیں) چادر مبارک کو گھسیٹے ہوئے مسجد کی طرف چل

اور آپ کے ساتھ سب صحابہ حضور کے خوف کی حالت و کیا کر خود بھی خوف زدہ ہوکر مسجد میں پہوچ

گئے قربان نیا امی پر کر کسوف شمس سے خوف زدہ ہوکر تمام کو سینکڑوں برس پہلے وہ بات بتلا کے جوآج

ساتھش دوال برہی تحقیق کے بعد کہتے ہیں کر کسوف شمس کے وقت کثش سیارہ گان متاثر ہو نے سے

نظام شمسی کے دراصل برہم ہو نے کا اندیشہ ہوتا ہے کسوف شمس کے وقت و نیابتائی کے کنارے آ جائی

جے نظام شمسی میں اگر ایسے خلل پڑ جائے تو سارے گرے آ پس میں طغرامیں گے اور دنیا ختم

ہوجائے گی، پھر جب کسوف شمس کا اجلاء ہو نے گلہاہے تو کثش سیارگان حال ہوجائی سے اور نظام

شمسی اپنے حال پر قائم ہوجاتا ہے اور دنیابتائی سے نہ جائی سے اس وجہ سے کسوف شمس کے وقت

حضور سے حد خوف زدہ تھے) راوی کہتے ہیں کر اس خوف کی حالت میں نماز کسوف (ہر رکعت میں

ایک رکوع اور دو سجدول کے ساتھ) ایسے اداء فرماتے جیسے تم اور نماز ول کو (ہر رکعت میں ایک

رکوع اور دو سجدول سے) اداء کرتے ہو اس کی روایت امام طحاوی نے کی سے، امام بخاری نے بھی

ایسے طرح روایت کی ہے -

Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when the sun eclipsed. He rushed to the mosque, dragging his cloak in haste, and the people gathered around him. He prayed as you pray." [Narrated by Al-Tahawi]

Bukhari narrated something similar.

In a narration by Ibn Hibban: "He prayed two rak’ahs like your prayer."

In a narration by Al-Hakim, similar to Ibn Hibban’s, Al-Hakim said: "It meets the conditions of Bukhari and Muslim, but they did not include it." Al-Dhahabi agreed with him.

2240

اورابن حبان کی ایک روایت میں اور حاکم ایک کی روایت میں سے کسوف کی

نماز حضور دو رکعت پڑھائے - (اور ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدول سے ایسے پڑھائے) جیسے

تم دومسرے نماز ول کی ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدول سے پڑھتے ہواور حاکم نے کہاہے کراپوکرہ

رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگرچہ کہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں

میں اس کی روایت نہیں کی ہے، اور امام ذہبی نے بھی اس کا اعتراض اور اقرار کیا ہے کہ یہ حدیث

بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے -

(اس لے بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح یہ حدیث کی تھے)

Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when the sun eclipsed. He rushed to the mosque, dragging his cloak in haste, and the people gathered around him. He prayed as you pray." [Narrated by Al-Tahawi]

Bukhari narrated something similar.

In a narration by Ibn Hibban: "He prayed two rak’ahs like your prayer."

In a narration by Al-Hakim, similar to Ibn Hibban’s, Al-Hakim said: "It meets the conditions of Bukhari and Muslim, but they did not include it." Al-Dhahabi agreed with him.

پچھوی حدیث
2241

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورح گمن کی نماز آپ لوگوں کی نماز کی طرح برکعت کو ایک رکوع اور دو سجدول کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔ اس کی روايت امام احمد اور نسائی نے کی ہے اور اس کی سنہت ہے۔

It is narrated from Nuʿaym ibn Bashir (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ used to pray the funeral prayer in the same way as the prayer with one bowing and two prostrations. This is narrated by Imam Ahmad and Nasa'i, and it is part of the Sunnah.

2242

اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف الشمس کے وقت جونماز کسوف اداء فرما نے ہیں اس کی برکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے تھے جسے ہماری اور نماز دول کی برکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہوتے ہیں۔

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed during a solar eclipse in a manner similar to your prayer, bowing and prostrating." [Narrated by Ahmad and Nasa’i with an authentic chain]

In a narration by Nasa’i: "The Prophet (ﷺ) prayed when the sun eclipsed in the same way as our prayer, bowing and prostrating."

پانچوی حدیث
2243

ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ جن جن صحابہ اور تابعین سے میں ملاقات کیا ہوں وہ (سورح گمن کے متعلق) فرما کرتے تھے کہ جب سورح گمن ہو جائے تو گمن چھوٹ کر سورح صاف ہو نے تک تم بیشے جیسے دوسروں نماز ون کی (برکعت کو ایک رکوع اور دو سجدول سے) پڑھا کرتے ہو، ایسا کی سورح گمن کی نماز (کی برکعت کو ایک رکوع اور دو سجدول کے ساتھ برکعن کو طولی اداء کر کے) پڑھا کرو۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے تج سنہ کی ہے۔

Ibrahim reported: "They used to say, 'If an eclipse occurs, pray as you normally pray until it clears.'" [Narrated by Ibn Abi Shaybah with an authentic chain]

چھوی حدیث
2244

عطاء رضی اللہ عنه، عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (عبد اللہ بن عمر وفرما کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بر نماز (کی برکعت) میں ایک رکوع ہوا کرتا تھا (متعدد رکوع ہونا ثابت نہیں۔) اس کی روایت ابوداود، نسائی اور حاکم نے کی ہے اور رکعت میں بھی متعدد رکوع ہونا ثابت نہیں۔) اس کی روایت شاکل میں کی ہے اور حاکم نے اس حدیث کی سنہت قرار دیا ہے۔

It is narrated from 'Ata (RA), from 'Abdullah ibn 'Umar and Ibn 'Uays (RA) that

'Abdullah ibn 'Umar used to say that the Prophet ﷺ would perform one ruku' in his fajr prayer (multiple ruku' are not established). This is reported by Abu Dawud, Nasa'i, and Hakim, and it is also reported in the Shu'ab, and Hakim has declared this hadith sahih.

ساتویں حدیث
2245

محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں سورنگ گمن ہوااور اتفاق سے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو لوگوں نے پیغمبر کے پاس آ کر فرماتے سنو! کسی کے مرنے، جینے سے چاندیا سورنگ گمن نہیں ہوتے، بلکہ چاند اور سورنگ خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے دونشانیال ہیں (جس کی روشنی سلب فرما کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ظراً کرتے ہیں کہ اتنی بڑی اور روشن مخلوق کو تم پول سیاہ اور تار کی کرسکتے ہیں، اورتمہارے گناہوں کے سبب سے تم کو جو پچھڑی کر دیا کریں گے) جب سورنگ یا چاند کو گمن گیا ویہوتو خوفزدہ ہوجاؤ (کیا معلوم کہ نظام سمششی ختم ہو کر عذاب ابی آجاے، یا قیامت برپا ہو جائے اس لیے) گہبراہے ہوئے مسجدول میں جا کر پناہ لو (خدا کی طرف متوجہ رہو)۔ یفرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوگے اور جہاں تک ہمارا خیال ہے وہ یہ کہ رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں اگر کتاب کا ایک حصہ پڑھے پھر رکوع کے اور رکوع سے اٹھ کر سیدے کھڑے ہوئے (اور دوبارہ رکوع کے بغیر) سجدہ میں پچلے کے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگے اور تیسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کی طرح (ایک رکوع اور دوسروں سے ادا فرما کر نماز ختم کی۔)

اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے، اوراس کی سنن حسن سے اورتیسے "جمع الزوائد" میں کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی تین کے راوی ہیں -

پہلی حدیث

Mahmud ibn Labid reported: "The sun eclipsed on the day Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ), passed away. People said, 'The sun has eclipsed because of the death of Ibrahim.' The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them (eclipse), rush to the mosques.' Then he stood and recited some of Surah Ibrahim, bowed, (1) stood up, prostrated twice, stood again, and repeated the same in the second rak’ah." [Narrated by Ahmad with a good chain]

Al-Haythami said in Majma’ al-Zawa’id: "Its narrators are those of authentic hadith."

(1) The statement: "Then he bowed." Shaykh Ibn al-Humam said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent. Some narrators reported two bowings, as mentioned earlier, while others reported three." Ali al-Qari said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent, with some reporting two, three, four, or even five bowings. This inconsistency weakens them, so we must rely on the narrations that do not mention multiple bowings."

Ali al-Qari also said: "Al-Shafi’i and Bukhari responded that these narrations cannot be interpreted as indicating permissibility unless the event occurred multiple times, which it did not, as all narrations refer to the same eclipse during the death of Ibrahim. Therefore, we must prioritize the narrations mentioning only two bowings, as they are the most authentic and well-known."

I say: Rather, we should prioritize the narrations mentioning only one bowing, as it is the original practice, supported by both statements and actions, as previously mentioned. All other narrations are inconsistent and contradictory.

In Tabi’ al-Athar, it is said: "The narrations differing from this, which mention multiple bowings, are not supported by historical evidence of later actions, so we prioritize what aligns with the established practice. Additionally, it is supported by explicit statements."

In Al-Bada’i’, Abu Mansur said: "The differing narrations are interpreted as abrogation rather than choice, as the scholars disagreed. If it were a matter of choice, they would not have differed." This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in Sharh al-Hidayah.

In Al-Mirqat, it is said: "Some of our scholars reconciled the narrations of multiple bowings by suggesting that the Prophet (ﷺ) prolonged the bowing excessively, and those behind him did not hear his voice when he rose, so they remained in bowing. When those behind them saw that he had not risen, they thought he was still bowing and returned to bowing. This led to the narrations of multiple bowings. Similarly, the narrations of three or four bowings may be based on repeated misunderstandings."

نماز کسوف کے بھرکن کوطویل اداء کرنے چاہے
2246

عطاء بن سائب رضی اللہ عنه، ابن والد سائب رضی اللہ عنہ سے روایت

کرتے ہیں کہ سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں (ایک وقت) سورج گھینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کہتے ہوتے ہیں (کیا کہون کیسے نماز چھی کر جب) آپ قیام فرماتے تو

قیام میں (اس قدر طویل قرآن فرماتے تھے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپ رکوع میں کریں

گے، پھر جب آپ رکوع کے تورکوع میں اس قدر درپیک رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور رکوع میں

اب سر مبارک اٹھا کیں گے، یعنی، پھر آپ جب رکوع سے سراٹھا ہے (اور قوم میں) تو قوم میں

اٹھ دیتے رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ آپ سجدہ کو جا کیں گے، یعنی، پھر آپ (دوسرارکوع

کے بعد) سجدہ میں پڑے گے اور اس قدر درپیک سجدہ میں رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ سجدہ سے سر

اٹھا کیں گے، یعنی، پھر جب آپ سجدہ سے سراٹھا ہے اور جلسہ کے تو جلسہ میں اس قدر درپیک

رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرا سجدہ کے اور

دوسرا سجدہ میں بھی اس قدر درپیک رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرا سجدہ سے دوسرا

رکعت کے لئے نہیں اٹھیں گے، پھر آپ سجدہ سے سر مبارک اٹھا کر دوسرا سجدہ کے لئے کہتے

ہوتے اور دوسرا سجدہ کے تبھی بھرکن کو پہلی رکعت کی طرح طویل فرماتے رہے (اور دوسرا سجدہ کے تبھی

کو بھی پہلی رکعت کی طرح ایک بی رکوع سے اداء کے تے) اس حدیث کی روایت ابوداوداورنسائی

نے کی ہے اور ترمذی نے اس کی روایت شاکل میں کی ہے، اور حاکم اورطحاوي نے بھی اس کی روایت

کی ہے، اور اس حدیث کی سنده سے اور حاکم نے کہا ہے کہ حدیث تھی ہے اگر چھکر بخاری اور

مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے لیکن،

Ata’ ibn al-Sa’ib reported from his father, who reported from Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him): "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and almost did not bow, then he bowed and almost did not rise, then he rose and almost did not prostrate, then he prostrated and almost did not rise, then he rose and almost did not prostrate, then he prostrated and almost did not rise. Then he rose and repeated the same in the second rak’ah." [Narrated by Abu Dawud, Nasa’i, Tirmidhi in Al-Shama’il, Al-Hakim, and Al-Tawus with a good chain]

Al-Hakim said: "It is authentic, but Bukhari and Muslim did not include it." Shaykh Imam Ibn al-Humam said: "Bukhari included Ata’ alongside Abu Bishr, and Ayyub said he is trustworthy."

2247

_ امام ابن الہمام نے اپنی تحقیق سے کہا ہے کہ بخاری نے جس طرح اس کی

روایت کی ہے۔

Imam Ibn al-Humam said in his investigation that Bukhari narrated it in the manner of its transmission.

دوسری حدیث
2248

ابوقلاہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قبیسہ بنجبل رضی اللہ عنہ سے روایت

کرتے ہیں کہ قبیسہ بنجبل رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ

میں (ایک دفعہ) سورج گھمن ہوا (اس وقت سورج طلوع کر کے (جبیا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث

سے معلوم ہوتا ہے جو آگے آرہی ہے) (نچالقدیر)12 _) دونیزہ برابر بلند ہوا تھا) رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم سورج گھمن سے بہدخوف زدہ ہے (خوف کی وجہ سے چادر اور ہتکی سدہ ہنگی) چادر

گھسٹی ہوئے مسجد کی طرف چلے، میں بھی اس وقت حضور کے ساتھ تھا اور پیاقدمدینہ منورہ کا ہے،

حضور دور کے ت نماز سورج گھمن کی پڑھائے اس دونوں رکعتوں میں آپ پہت طویل قرآن ت کے، پھر

جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کسوف ختم ہوکر آفتاب روشن ہوگیا تھا (نماز کے بعد) رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے (صاحبوسنو!) سمش وقر اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں ہیں (ان

کی روشنی سلب کر کے) اللہ تعالی اپنے بندول کو راپا کر تے ہیں (کہ اتنی بڑی روشن مخلوق کو، تم پول

تا رکی کردیتے ہیں تو تم کس کنتی میں ہیں، تم چاہیں تو تم پرکہی ایسا، کی عذاب اتار سکتے ہیں) جب تم

سورج یا چاند کو گہرن گلتا ہوا دیکھو تو تم قریب میں جواب دی ابھی نہیں کے فرض کی دور کعتین (پھر کعت ایک

روکے سے پڑھے کے ہوا ایا کی گہرن کی نماز کو یہی دور کعت (پھر کعت ایک رکوع سے) پڑھا کرو اس

کی روایت ابوداود،طحاوی اور نسائی نے کی ہے اور اس حدیث کی سننچ ہے۔

نماز کسوف دورو کر کے چار رکعت یا سے زائد بھی پڑھ سکتے ہیں

Abu Qilabah reported from Qabisah al-Hilali (may Allah be pleased with him):

"The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He rushed out in alarm, dragging his garment, and I was with him in Madinah that day. He prayed two rak’ahs, prolonging the standing in them. When the eclipse ended, he said, 'These are signs by which Allah instills fear. When you see them, pray as you have prayed the most recent obligatory prayer.' (1) [Narrated by Abu Dawud, Al-Tahawi, and Nasa’i with an authentic chain]

(1) The statement: "As you would pray the most recent obligatory prayer." In Jami’ al-Athar, it is said: "This refers to the Fajr prayer, as the eclipse occurred when the sun was two spear-lengths above the horizon." This is mentioned in Fath al-Qadir, which adds "two spear-lengths" based on the hadith of Samurah.

2249

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں (ایک دفعہ) سورج گمن ہوا تو حضور سورج گمن کی نماز دو دور کے پڑھائے تھے (ہر دور کے ت کے بعد سلام پھیر کر دوسرو دور کے کونی تکبیر تحریمہ تے ثرو ع کرتے) اور ہر دور کے پڑھائے کے بعد لوگوں سے دریافت فرماتے تھے کیا کسوف ختم ہوگیا؟ لوگ عرض کرتے ابھی کسوف باقی ہے، یا رسول اللہ، ابھی کسوف باقی ہے تو آپ اور دور کے پڑھائے، جب کسوف کا ختم ہونا معلوم ہوتا تو نماز بھی ختم کردیتے تھے۔ ف: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے نماز کسوف کی روایت آئی ہے ابوداود کے دورسرے طریق میں مرودی سے کر حضور دور کےت نماز پڑھ کر کسوف ختم ہونے کے بعد دعا فرماتے تھے، اس روایت میں صرف دور کےت پڑھائے کا ذکر ہے اور حاکم کی روایت میں بھی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مرودی سے کر حضور کسوف کی نماز دور کےت پڑھائے، اور حاکم کی اس روایت میں بھی نماز کسوف صرف دور کےت پڑھائے کا ذکر ہے دور کےت نماز کسوف پڑھائے کی روایت کے حاکم کہتے ہیں کہ صرف دور کےت پڑھائے کی روایت تھے اور بخاری اور مسلم کی ثروط کے موافق ہے، گو بخاری اور مسلم اس کو اپنی کتابوں میں روایت نہیں کرتے پر نسابی کی روایت میں بھی نماز کسوف صرف دور کےت ہونے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ فجر کی نماز کی طرح کسوف تمس کی نماز حضور دور کےت ہی پڑھی ہیں، زیلی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلاۃ کسوف صرف دور کےت ہی پڑھے ہیں، یہ بذل انجو دے لیا گیا ہے، اس کے سوا دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلاۃ کسوف دور کےت ہی پڑھے ہیں، اس لے رواجتار میں ظاہر الرواییت نقل کے ہیں کر صلاۃ کسوف کے دور کےت ہی ہیں اور ظاہر الرواییت کے سوا دوسرے حفظی کتابوں میں ذکور ہے کہ دودور کےت صلاۃ کسوف کے پڑھ کر چا رکعت یا سے زائد پڑہ سکتے ہیں، اس کی تائید صدر کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کا ترجمہ ابھی کیا گیا ہے، لیعن حضور صلاۃ کسوف کو دودور کےت پڑہ جاتے تھے اور کسوف کے ختم ہونے کو دریافت

فرماتے جاتے تھے، اس روایت سے معلوم ہوا کر صلوۃ کسوف دور کے ت سے زیادہ پڑھنا بھی جائز

ہے۔ 12

پہلی حدیث

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He prayed two rak’ahs and inquired about it until the eclipse ended." [Narrated by Abu Dawud]

نماز کسوف میں قرآن کر ن کی کیفیت
2250

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں اور ایک

انصاری لڑکا تیراندازی کی مشق کر رہے تھے یہاں تک کہ جب آفتاب (طلوع کر کے ) دکھن میں

افق میں دویا تین نیزہ کے مقدار بلند ہوا تو آفتاب کو (گہن لگا) ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ تنومہ نامی سیاہ

گھاس کی طرح سیاہ ہوگیا ہے (پیدا ہوگیا) تب نآ پس میں ایک دوسروں سے کہا کہ مسجد چلو، خدا کی

قتہ آفتاب کی پیحالت ہوئے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے کوئی نکولی نہ

احکام آ تین گے (چلو دیکھیں مسجد میں کیا ہور ہے) سمرہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی مسجد میں آئے تو

کیا دیکھے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے باہر تشریف لا کے ہیں اور

آئے بلا ہا کر کسوف کی نماز پڑھارتے ہیں، (پہلی رکعت میں) قیام انتاطولیل فرماتے کر ایاطولیل

قیام، تب نے حضور کو کی نماز میں کرتے تین دیکھا (اور آپ قرآن کرتے تھے)

(جسے دوسری سری نماز ول میں آپ مستقر آت فرما کرتے تھے جس کی وجہ تے ) تب حضور کی قرآن کرتے

ميين سے کے، سمرہ فرماتے ہیں کہ پچھر کو ع فرما کے اور ایاطولیل رکوع فرما کے جو کی نماز میں ایا

طولیل رکوع تميين فرما کے تب اور حضور رکوع میں جو پچھے پڑے ہیں تب تم اس کو تميين سے کے، پچھر حضور

سیدہ فرما کے اور ایاطولیل سیدہ فرما کے جو کی نماز میں ایاطولیل سیدہ تميين فرما کے تب اور حضور سیدہ

میں جو پچھے پڑے ہیں تب تم اس کو تميين سے کے، پچھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت

کے ہر کن کو پہلی رکعت کے ہر کن کی طرح پیدا طولیل اداء فرما کے، سمرہ فرماتے ہیں کہ حضور دوسری

رکعت پڑھ کر قعدہ میں تکبر سورۃ کاگہن ختم ہوگیا۔ اس کی روایت البوداوین کی ہے، اورتنزیل اورنسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے، اوراس کی سننت ہے اورتنزیل نے کہا ہے کہ یہ حیث حسن ہے۔

دوسری حدیث

Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: "While I and a young man from the Ansar were practicing archery, the sun eclipsed when it was about two or three spear-lengths above the horizon. It darkened until it looked like a piece of cloth. One of us said to the other, 'Let us go to the mosque, for by Allah, this eclipse will surely cause the Messenger of Allah (ﷺ) to address his Ummah.' We hurried, and he was already standing in prayer. He led us in the longest standing, bowing, and prostration we had ever experienced in prayer, and we did not hear his voice. (1) He repeated the same in the second rak’ah, and the eclipse ended as he sat in the second rak’ah." [Narrated by Abu Dawud]

Tirmidhi and Nasa’i narrated something similar, and its chain is authentic. Tirmidhi said: "It is a Hasan Sahih Hadith."

(1) The statement: "We did not hear his voice." The narrations mentioning audible recitation are interpreted as referring to his occasional practice of reciting a verse or two aloud in silent prayers for teaching purposes. A distant observer might have assumed the entire recitation was audible and narrated it as such. This is mentioned in Tabi’ al-Athar.

Shaykh Imam Ibn al-Humam said: "When there is a contradiction, the preference is given to the original practice of silent recitation in daytime prayers."

2251

سمرہ بن جندب رضي الله عنه سے روايت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے میسورنچ گہن کی نماز پڑھا یے (تو آپ قرآن ایی آہستہ پڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے) تم کو آپ کی قرآن سناتی نہیں دے رہی تھی۔ اس کی روايت تنزیل، البوداوین، نسائی اورابن ماجہ نے کی ہے۔

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میسورنچ گہن کی نماز پڑھا یے (تو آپ قرآن ایی آہستہ پڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے) تم کو آپ کی قرآن سناتی نہیں دے رہی تھی۔ اس کی روایت تنزیل، البوداوین، نسائی اورابن ماجہ نے کی ہے۔

تیسری حدیث

The third hadith

2252

ابن عباس رضي الله عنهما سے روايت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سمن سورنچ گہن ہوا تھا (اورحضور صلى الله عليه وآله وسلم سورنچ گہن کی نماز پڑھارہے تھے) تو میں بھی حضور کے پہلو میں کھڑا ہوا نماز کسوف پڑھ رہا تھا (حضرورقرآن ایی پڑھ رہے تھے جس سے یہ نمازول میں پڑھا کرتے تھے) اس لے میں حضرت کی قرآن کونیں سن سکا۔ اس کی روايت طبرانی اورنہجقی نے کی ہے، اوراس حدیث کی سنن ہے اورامام احمد، ابویعلی اورابوعیم نے اس طرح روايت کی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سمن سورنچ گہن ہوا تھا (اورحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورنچ گہن کی نماز پڑھارہے تھے) تو میں بھی حضور کے پہلو میں کھڑا ہوا نماز کسوف پڑھ رہا تھا (حضرورقرآن ایی پڑھ رہے تھے جس سے یہ نمازول میں پڑھا کرتے تھے) اس لے میں حضرت کی قرآن کونیں سن سکا۔ اس کی روایت طبرانی اورنہجقی نے کی ہے، اوراس حدیث کی سنن ہے اورامام احمد، ابویعلی اورابوعیم نے اس طرح روایت کی ہے۔

ف: واضح ہوگا ان ذکور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف سے کی نماز مشتری نمازول کے آہستہ قرآن کے پڑھنے پر، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی نماز کسوف میں سری قرآن کے قابل پیغم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے کہ ام المومنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف سے کی جونماز پڑھا یے تو جہری نمازول کی طرح کسوف کی نماز میں جہرے قرآن ادا فرماتے، حضرت ام المومنین کی اس حدیث کی وجہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کسوف کی نماز مشتری نمازول کے جہری قرآن کے پڑھنا چاہئے اس

سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں دو قول ہیں، ایک قول میں آپ کے قرآن کے اور دوسروں کے قول میں

جہری قرآن کے آیات ہیں۔

رواہتا راور دوسروں کے فقہی کتابوں میں ایسا ہے۔

سورنگ یا چاند کی کمرنے یا پیادہ ہونے سے گہری شبیہ ہوتی

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں (ایک دفعہ) سورنگ گہری ہوا تھا (کسوف شمس ہونے سے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر کہرے ہوگئے، اپنا معلوم ہوتا تھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمبر ہے ہیں، (کہ کسوف شمس کی وجہ تے نظام کی ختم ہو کر مملکت ہے) کہ قیامت قائم

ہوجائے، اس طرح گہرائے ہوئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز کسوف کے لئے کہرے ہوگئے

اور اتنے طویل قیام، طویل رکوع اور طویل سجدول سے نماز پڑھائے کر اتنے طویل قیام، طویل رکوع

اور طویل سجدول سے آپ کونماز پڑھائے میں نے کہی نہیں دیکھا (نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ کسوف

شمس کا اجلاء ہوگیا تھا اس وقت خطبہ کے طور پر نہیں فرمائے، اس لئے کر اگر خطبہ کے طور پر تقریر ہوتی

تو کسوف کی حالت میں ہوتی، اب کسوف اجلاء کے بعد ارشاد فرمائے ہیں، ان لوگوں کی عقائد کی

اصلاح کے لئے جو پیغمبر ہے تھا کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے کسوف شمس ہوا

ہے اس لئے حضور فرمائے لوگوں نے! (تم جو پیغمبر ہے ہو کہ کسوف حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا

ہے اپنی نہیں ہے۔) اس طرح اعتقاد کرنا بلکہ یہ کسوف شمس و قمر قدرت الہی کی نشانیاں ہیں ان کو

اللہ تعالیٰ ظاہر کرتے ہیں یہ کی کمرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے بندرؤں کو

ذرا نے کے لئے بھیجا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی مخلوق کو تم سیاہ کردے ہیں تم کس کتنے میں ہو، اگر تم

چاہیں تو تم پر ہی عذاب بھیج سکتے ہیں اس لئے) جب تم سورنگ گہری یا چاند گہری ہوتا ہوا دیکھو تم بہت

ی خوف زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو، اور اس سے دعا کریں۔ ( کہ ابی تم کو اپنے عذاب سے بچائیں اور اس کسوف کو ہمارے عذاب کا ذریعہ نہ بنائے ) اور اپنے گناہوں کی اللہ کی سے مغفرت مانگو ( گناہوں کی مغفرت مانگنے سے اللہ کا غضب رحمت سے بدل جاتا ہے ) اس حدیث کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

It is known that there are actually two opinions: one opinion is based on the Quran, and the other opinion contains verses from the Jari Quran. This is found in the books of traditions and in the legal works of others. The night becomes very dark when the moon is crescent or when it sets.

ف: واضح ہوگا ان ذکور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف سے کی نماز مشتری نمازول کے آہستہ قرآن کے پڑھنے پر، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی نماز کسوف میں سری قرآن کے قابل پیغم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے کہ ام المومنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف سے کی جونماز پڑھا یے تو جہری نمازول کی طرح کسوف کی نماز میں جہرے قرآن ادا فرماتے، حضرت ام المومنین کی اس حدیث کی وجہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کسوف کی نماز مشتری نمازول کے جہری قرآن کے پڑھنا چاہئے اس

2253

_ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں (ایک دفعہ) سورنگ گہری ہوا تھا (کسوف شمس ہونے سے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر کہرے ہوگئے، اپنا معلوم ہوتا تھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمبر ہے ہیں، (کہ کسوف شمس کی وجہ تے نظام کی ختم ہو کر مملکت ہے) کہ قیامت قائم

ہوجائے، اس طرح گہرائے ہوئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز کسوف کے لئے کہرے ہوگئے

اور اتنے طویل قیام، طویل رکوع اور طویل سجدول سے نماز پڑھائے کر اتنے طویل قیام، طویل رکوع

اور طویل سجدول سے آپ کونماز پڑھائے میں نے کہی نہیں دیکھا (نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ کسوف

شمس کا اجلاء ہوگیا تھا اس وقت خطبہ کے طور پر نہیں فرمائے، اس لئے کر اگر خطبہ کے طور پر تقریر ہوتی

تو کسوف کی حالت میں ہوتی، اب کسوف اجلاء کے بعد ارشاد فرمائے ہیں، ان لوگوں کی عقائد کی

اصلاح کے لئے جو پیغمبر ہے تھا کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے کسوف شمس ہوا

ہے اس لئے حضور فرمائے لوگوں نے! (تم جو پیغمبر ہے ہو کہ کسوف حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا

ہے اپنی نہیں ہے۔) اس طرح اعتقاد کرنا بلکہ یہ کسوف شمس و قمر قدرت الہی کی نشانیاں ہیں ان کو

اللہ تعالیٰ ظاہر کرتے ہیں یہ کی کمرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے بندرؤں کو

ذرا نے کے لئے بھیجا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی مخلوق کو تم سیاہ کردے ہیں تم کس کتنے میں ہو، اگر تم

چاہیں تو تم پر ہی عذاب بھیج سکتے ہیں اس لئے) جب تم سورنگ گہری یا چاند گہری ہوتا ہوا دیکھو تم بہت

ی خوف زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو، اور اس سے دعا کریں۔ ( کہ ابی تم کو اپنے عذاب سے بچائیں اور اس کسوف کو ہمارے عذاب کا ذریعہ نہ بنائے ) اور اپنے گناہوں کی اللہ کی سے مغفرت مانگو ( گناہوں کی مغفرت مانگنے سے اللہ کا غضب رحمت سے بدل جاتا ہے ) اس حدیث کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He rushed out in alarm, fearing it might be the Hour, until he reached the mosque. He led us in prayer with the longest standing, bowing, and prostration I had ever seen him perform. Then he said, 'These are signs that Allah sends to instill fear in His servants. When you see them, rush to remember Allah, supplicate, and seek His forgiveness.'" [Narrated by Al-Tahawi]

Bukhari and Muslim narrated something similar.

In a narration by them: Aisha (may Allah be pleased with her) said, "I never performed a bowing or prostration as long as that."

In another narration by them from Aisha: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them, remember Allah, (1) say the takbir, pray, and give charity.'"

In another narration by them from Abdullah ibn Abbas: "The eclipse ended (2) as he finished the prayer. He said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them, remember Allah.' They said, 'O Messenger of Allah, we saw you reach for something during the prayer, then we saw you step back.' He said, 'I saw Paradise and reached for a cluster of grapes. If I had taken it, you would have eaten from it as long as the world exists. I also saw Hell, and I have never seen a more terrifying sight. Most of its inhabitants are women.' They asked, 'Why, O Messenger of Allah?' He said, 'Because of their ingratitude.' It was said, 'Do they disbelieve in Allah?' He said, 'They are ungrateful to their husbands and ungrateful for kindness. If you were to do good to one of them for a lifetime, then she saw something from you (she disliked), she would say, "I have never seen any good from you."'"

In another narration by them from Aisha: "He said, 'O Ummah of Muhammad, by Allah, no one is more jealous than Allah when His servant or maidservant commits adultery. O Ummah of Muhammad, if you knew what I know, you would laugh little and weep much.'"

In a narration by Nasa’i: "The Prophet (ﷺ) rushed to the mosque one day when the sun eclipsed. He prayed until the eclipse ended, then said, 'The people of ignorance used to say that the sun and moon do not eclipse except for the death of a great person. But the sun and moon are two creations among Allah’s creations. They do not eclipse for the death or life of anyone. When either of them eclipses, pray until it clears or Allah decrees something else.'"

(1) The statement: "Remember Allah." Abu Hanifah, Malik, and Ahmad said: "There is no sermon for the eclipse prayer." They argued that the Prophet (ﷺ) commanded prayer, takbir, and charity but did not command a sermon. If it were a Sunnah, he would have commanded it. Additionally, it is a prayer that individuals perform at home, so a sermon is not prescribed. The Prophet (ﷺ) delivered a sermon after the prayer to teach its ruling, which seems specific to that occasion. It is also said that he delivered the sermon to refute the claim that the sun eclipsed because of Ibrahim’s death, as mentioned in the hadith. This is stated in ‘Umdat al-Qari.

(2) The statement: "The eclipse ended." In Al-Bahr, it is said: "The sermon he delivered on the day his son Ibrahim died and the sun eclipsed was to refute those who said the eclipse occurred because of his death, not because it was a prescribed practice. Therefore, he delivered the sermon after the eclipse ended. If it were a Sunnah, he would have delivered it before, like the prayer and supplication." This is mentioned in Rad al-Muhtar.

2254

اور بخاری اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ایک دفعہ سورج گہری ہوا تھی حضور سورج گہری کی نماز ایسی طویل اداء فرما یے کر ( میں کچھ ایسی طویل نماز جس کا روع بیش طویل ہو، اور سجدہ بیش طویل ہو، نہ خود پڑھی اور نہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کچھ پڑھی، جسے کسوف کی نماز کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل رکوع اور طویل سجدول سے پڑھائے ہیں۔

It is narrated on the authority of Umm al-Mu'minin 'A'ishah (RA) that she said:

During the blessed time of the Messenger of Allah ﷺ, once there was a solar eclipse. The Messenger of Allah ﷺ performed the prayer for the solar eclipse so long that I did not pray it myself, nor did I pray with the Messenger of Allah ﷺ, because it was such a long prayer with a prolonged bowing and a prolonged prostration, as the Messenger of Allah ﷺ used to perform the prayer for the solar eclipse with a prolonged bowing and a prolonged prostration.

2255

بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہری کی نماز سے فارغ ہوئے اور اس وقت کسوف شمس کا انجلاع ہوگیا تھا تو مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمائے مسلمانو! سنو، چاند اور سورج خدا کی قدرت کے نشاۃیون میں سے دونوں نہایات میں، یعنی ( نیک انسان کے مردنے یا کسی ( برے ) شخص کے پیدا ہونے سے گہری نہیں ہوتی، جب تمہیں وتر کو گہری ہوتا ہوا دیکھو تو اللہ کی طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو ( اور سب حا ن اللہ، الْحَمدُ لِلّٰهِ، لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اُولَلّٰہُ اَکْبَرُ ) کہا کرو، اور کسوف کی نماز پڑھا کرو اور خیرات کرو ( کہ خیرات روا بلا ہوتی ہے۔ )

Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He rushed out in alarm, fearing it might be the Hour, until he reached the mosque. He led us in prayer with the longest standing, bowing, and prostration I had ever seen him perform. Then he said, 'These are signs that Allah sends to instill fear in His servants. When you see them, rush to remember Allah, supplicate, and seek His forgiveness.'" [Narrated by Al-Tahawi]

Bukhari and Muslim narrated something similar.

In a narration by them: Aisha (may Allah be pleased with her) said, "I never performed a bowing or prostration as long as that."

In another narration by them from Aisha: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them, remember Allah, (1) say the takbir, pray, and give charity.'"

In another narration by them from Abdullah ibn Abbas: "The eclipse ended (2) as he finished the prayer. He said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them, remember Allah.' They said, 'O Messenger of Allah, we saw you reach for something during the prayer, then we saw you step back.' He said, 'I saw Paradise and reached for a cluster of grapes. If I had taken it, you would have eaten from it as long as the world exists. I also saw Hell, and I have never seen a more terrifying sight. Most of its inhabitants are women.' They asked, 'Why, O Messenger of Allah?' He said, 'Because of their ingratitude.' It was said, 'Do they disbelieve in Allah?' He said, 'They are ungrateful to their husbands and ungrateful for kindness. If you were to do good to one of them for a lifetime, then she saw something from you (she disliked), she would say, "I have never seen any good from you."'"

In another narration by them from Aisha: "He said, 'O Ummah of Muhammad, by Allah, no one is more jealous than Allah when His servant or maidservant commits adultery. O Ummah of Muhammad, if you knew what I know, you would laugh little and weep much.'"

In a narration by Nasa’i: "The Prophet (ﷺ) rushed to the mosque one day when the sun eclipsed. He prayed until the eclipse ended, then said, 'The people of ignorance used to say that the sun and moon do not eclipse except for the death of a great person. But the sun and moon are two creations among Allah’s creations. They do not eclipse for the death or life of anyone. When either of them eclipses, pray until it clears or Allah decrees something else.'"

(1) The statement: "Remember Allah." Abu Hanifah, Malik, and Ahmad said: "There is no sermon for the eclipse prayer." They argued that the Prophet (ﷺ) commanded prayer, takbir, and charity but did not command a sermon. If it were a Sunnah, he would have commanded it. Additionally, it is a prayer that individuals perform at home, so a sermon is not prescribed. The Prophet (ﷺ) delivered a sermon after the prayer to teach its ruling, which seems specific to that occasion. It is also said that he delivered the sermon to refute the claim that the sun eclipsed because of Ibrahim’s death, as mentioned in the hadith. This is stated in ‘Umdat al-Qari.

(2) The statement: "The eclipse ended." In Al-Bahr, it is said: "The sermon he delivered on the day his son Ibrahim died and the sun eclipsed was to refute those who said the eclipse occurred because of his death, not because it was a prescribed practice. Therefore, he delivered the sermon after the eclipse ended. If it were a Sunnah, he would have delivered it before, like the prayer and supplication." This is mentioned in Rad al-Muhtar.

2256

( بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے اے امت

محمدؐ تم کو جس طرح اپنے غلام یا بندی کے زنا کرنے سے نہیں آتے ہیں، (اور خدا کے غضب آتا ہے) اللہ کی فتنہ اس سے بڑھ کر نہیں آتی (اور غصہ) خدا کے تعالیٰ کواس وقت آتا ہے جب اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کے مرتبہ پہول، اے امت محمدی خدا کی فتنہ جو پہلے میں جانتا ہے تو اگر تم اس کو جانے تو تم پہلے کم اور روپے زیادہ۔

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aisha (RA) that she said:

Then the Messenger of Allah ﷺ said to the Ummah of Muhammad: 'O Ummah of Muhammad, you should avoid what you would avoid if one of your slaves or maids committed adultery, for the wrath of Allah does not come with anything greater than this, and the anger of Allah comes at the moment when His servant or maid reaches the stage of adultery. O Ummah of Muhammad, if you know of the trials of Allah that He knows, then if you knew them, you would find them less in number but more severe.'

2257

بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نمازت ایے وقت فارغ ہوتے جب کرکسوفِ شمس کا اجلاء ہوگیا تھا، (تو مسلما نوں کو خاطب کر کے فرماتے (مسلمانو! سنو) چا نداور سورج خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے دونشانیال میں پیکی (نیک) انسان کے مرے نیاکی (برے) شخص کے پیاہو نے سے گمن نہیں ہوتے، جب تم شمس وقمر کو گہن ہوتا ہوا دیکھو تو (اللہ کی طرف رجو ع کرواور) اللہ کو یاد کرو، صحابہ عرض کہ یا رسول اللہ تم (ایک مجیب بات) دیکھے (کہ جب آپ نمازتے فارغ ہو کر نفیحت فرماتے تھے تو اس وقت تم آپ کو دیکھے) کہ آپ ہاتھوں برہما کر کونی چیز لے رہے ہیں پھر تحو ظی دیکے بعد تم آپ کو دیکھے کر آپ (کسی بیپت ناک چیز کو دیکھے کر) پیچھے بٹ رہے ہیں (پیکیا بات تھی تم اس کو پچھے نہیں سکھے سکتے) حضور فرماتے کہ جب تم مجھ کو دیکھے میں ہاتھوں برہما کر پچھے لے ربا ہول تو سنومیرے سامنے اس وقت جنت پیش کی گئی تھی، میں جنت میں سے انگور کا ایک خوشہ لینا چاہ ربا تھا (گر خدا کو منظور نہیں تھا (اس لے میں انگور کا خوشہ میں لے سکا) اگر میں وہ خوشہ لے لیتا جب تک دنیا باقی رہے تم اس میں سے کھاتے رہتے) اور وہ بھی ختم نہ ہوتا (لیکن اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہے کہ تمہارا ایمان بالغیب رہ اور اس سے تمہاری آزمائش ہوتی رہے، جنت میوہ تم دیکھ لیے تو تمہارا ایمان بالشوہ وہو جاتا، پھر تم کو ایمان بالغیب کا اجر نہیں ملتا تھا) اور جب تم مجھے دیکھ کر میں پیچھے بٹ ربا ہول تو اس وقت میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی تھی کیا کہول

(وہ کیسے بیت ناک منظر تھا کر ایسی بیت ناک منظر میں نے۔ جس نہیں و کیا اور دوزخ میں جو جوعذاب

ہوا تو وہ مجھے دکھا لے گی مجھے بڑا افسوس تو اس سے ہوا) کہ دوزخ میں کثرت سے عورتیں تھیں،

صحابہ عرض کیے : عورتیں ایسا کون سا عمل کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، حضور

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائے : عورتیں ناشکری کرتی ہیں کی وجہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، صحابہ عرض

کیے : حضور ناشکری کرنا ہماری طرح ہیں نذر آیا، کیا عورتیں اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی وجہ سے کثرت سے

دوزخ میں ہوئیں گی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمائے : نہیں بلکہ وہ اپنے شوہرول کی

ناشکری کرتی ہیں اور شوہرول کے احسان کا انکار کرتی ہیں (اس وجہ سے کثرت سے دوزخ میں ہوئی

گی ) کیا تم نہیں دیکھتے کہ مردوں کے ساتھ بیشتر بجلائی کرتا رہے، پھراس کی جانب سے کوئی بات

ناگوار پیش آئے، اور اس کے خلاف مردی ہو، (تو وہ سارے احسانول کو بجول جاتی ہے اور کہتی

ہے کہ میں تم سے کہی کوئی آرام نہیں دیکھی - (پیہ عورت کی ناشکری جودوزخ میں کثرت سے

ہوئے کا سبب بنی ہے۔)

It is narrated on the authority of Abdullah ibn Abbas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ performed the prayer at the time of a solar eclipse and when it was over, he addressed the Muslims (saying): 'Listen! The sun and the moon are among the signs of Allah. They do not suffer eclipse on account of anyone's death or life. So when you see them eclipsed, remember Allah. The Companions said: O Messenger of Allah, what did you see? When you finished the prayer and were praising (Allah), we saw you taking something behind your back. Then when we looked again, we saw you bringing something forward (which we could not see). The Prophet ﷺ said: When you saw me taking something behind my back, Paradise was presented before me at that moment. I wanted to take a bunch of grapes from Paradise (but Allah did not permit it). If I had taken it, you would have eaten from it until the end of the world. And when you saw me bringing something forward, Hell was presented before me. What a terrible sight it was! If you saw what I saw, you would not find any place to stand. There were many women in Hell. The Companions asked: What do women do that causes them to be in Hell in such numbers? The Prophet ﷺ replied: They show ingratitude. The Companions said: Do they show ingratitude like us? Do they show ingratitude to Allah? The Prophet ﷺ said: No, but they show ingratitude to their husbands and deny their favors. Have you not seen that most of the curses are directed against women? And if anything unpleasant happens with a man, and he reacts negatively, she forgets all his favors and says, 'I have never seen any good from you.' This is why women are in Hell in such numbers.'

2258

اور نسائی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

(خوف کی حالات میں ) بہت جلدی جلدی مسجد میں ایس وقت تشریف لا کر سورنگ کوگہن لگ گیا

تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ قتاب روشن ہو نے تک نماز کسوف پڑھتے رہے، (نماز کسوف کے

بعد خطبہ کے طور پر نہیں بلکہ ان لوگوں کی عقائد کی اصلاح کے لیے فرمائے ) جو جابلیت کے زمانے میں

پیش مجا کرتے تھے کہ سورنگ گمن ہو یا چاند گمن، پر وہ زمین کی بری شخصیتول میں سے کسی بھٹے

آدمی کی مرتن کی وجہ سے ہوا کرتا ہے حالاکہ (ایا نہیں ہے بلکہ ) سورنگ گمن ہو یا چاند گمن کی کے

مرتن جنی سے نہیں ہوتے بلکہ سورنگ اور چاند یا دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں

جسیا چاہے تغیر کرتے ہیں، تو چاند یا سورنگ ان میں سے جب کسی کو گمن لگ جائے تو اس وقت گمن ختم

ہوئے تو نماز پڑھا کرو، بآل آگر کوئی ایسی بات ظاہر ہوجائے جس کی وجہ سے نماز میں پڑھنے سے پین

(جبہاں لگا ہوا آفتاب ڈوبنے لگ یا گمن ایس وقت ہو جبہا س وقت نفل نماز پڑھنا جائز نہ ہوتا

اپنے وقت نماز میں پڑھنا چاہئے بلکہ انجلاء تک دعا اور استغفار میں مشغول رہے۔ جسیا کر دا ختار

میں نذور ہے۔)

Mahmud ibn Labid reported: "The sun eclipsed on the day Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ), passed away. People said, 'The sun has eclipsed because of the death of Ibrahim.' The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or life of anyone. When you see them (eclipse), rush to the mosques.' Then he stood and recited some of Surah Ibrahim, bowed, (1) stood up, prostrated twice, stood again, and repeated the same in the second rak’ah." [Narrated by Ahmad with a good chain]

Al-Haythami said in Majma’ al-Zawa’id: "Its narrators are those of authentic hadith."

(1) The statement: "Then he bowed." Shaykh Ibn al-Humam said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent. Some narrators reported two bowings, as mentioned earlier, while others reported three." Ali al-Qari said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent, with some reporting two, three, four, or even five bowings. This inconsistency weakens them, so we must rely on the narrations that do not mention multiple bowings."

Ali al-Qari also said: "Al-Shafi’i and Bukhari responded that these narrations cannot be interpreted as indicating permissibility unless the event occurred multiple times, which it did not, as all narrations refer to the same eclipse during the death of Ibrahim. Therefore, we must prioritize the narrations mentioning only two bowings, as they are the most authentic and well-known."

I say: Rather, we should prioritize the narrations mentioning only one bowing, as it is the original practice, supported by both statements and actions, as previously mentioned. All other narrations are inconsistent and contradictory.

In Tabi’ al-Athar, it is said: "The narrations differing from this, which mention multiple bowings, are not supported by historical evidence of later actions, so we prioritize what aligns with the established practice. Additionally, it is supported by explicit statements."

In Al-Bada’i’, Abu Mansur said: "The differing narrations are interpreted as abrogation rather than choice, as the scholars disagreed. If it were a matter of choice, they would not have differed." This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in Sharh al-Hidayah.

In Al-Mirqat, it is said: "Some of our scholars reconciled the narrations of multiple bowings by suggesting that the Prophet (ﷺ) prolonged the bowing excessively, and those behind him did not hear his voice when he rose, so they remained in bowing. When those behind them saw that he had not risen, they thought he was still bowing and returned to bowing. This led to the narrations of multiple bowings. Similarly, the narrations of three or four bowings may be based on repeated misunderstandings."

کسوف کے وقت نہیرات کرنے کا بیان
2259

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ (جب کسوف

شمس ہوتا کیا معلوم کر لیا عذابِ الہی کا ذریعہ بنے اس لیے) حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دے

پین کے کسوفِ شمس کے وقت باندی یا غلام آ زاوکیا کرو (تاکہ اس کی وجہ سے عذابِ الہی طل جائے۔)

اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

It is narrated from Aishah, the daughter of Abu Bakr (RA), that she said:

When the sun was eclipsed, the Messenger of Allah ﷺ ordered that a slave or a servant be brought forward (so that the divine punishment might be averted due to this act.). This is narrated by Bukhari.