صلح کا بیان
Peace be upon you
الله بر وبرتر كا رشاد صلي الله عليه وسلم وان جنحوا للسلم فاجنح لها وتو ل علي الله ترجم اور ا يغير ا ر يو صلح كي طرف مايل ون تو تم ب ي اس كي طرف مايل وجاو اور الل ر حجر وسر رك و سور انفال ايت نمبر
اور شخ ابن همام نے کہا: آیت اگر چک مطلق ہے لیکن فقہاء ایک دوسری آیت کی بناء پراس میں مسلماون کے فائدے کے نظر آنے کی صورت کے ساتھ اس کو مقید کرنے پرتفق ہیں۔ وہ (آیت) الل تعالیٰ کا (پی) فرمان ہے: "فَلاَ تَهْنوَا وَتَدْعُوا الَّى السُّلم، وَأَنتُمُ الاْعلُوْنَ"۔ ترجمہ: "پس (اے مسلماو) تم ممت نہ بارواور (تشن کو) صلح کی طرف مت بلاو اور تم ہی غالب رہوگے صلح میں کوئی مصلحت نہ ہوتی ہے بالاجماع جائز نہیں ہے۔ (47 سورۃ محمد، آیت نمبر:35) البته جب سے جانورو کو قتل کے ذوالاور اشعار کے 1/5374 نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حد بیبی کے موقع پراپنے ایک بزار ست پچھز اندصاہب کے ساتھ دروانہ ہوگے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذو التحلیفم پچھو قربانی کے جانورو کو قتل کے ذوالاور اشعار کے 1 اورو پبل سے عمرہ کا احرام باندھے اور چلے، جہاں تک کہ جب آپ علیہ السلام وادی ثنیہ میں پہنچے جہاں سے ان کے باس پہنچا جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولی آپ کو لے کر پیٹ گئی تو لوگوں نے اس کو (انجا نے کے لئے) "صلح" کہا، قصواء اثر کیے تو نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: نقصواء اثر کیے اور نہی پاس کی شان ہے، لیکن باقی کورو کن وا لئے اس کورو کے دیائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا فرمايا: "تمہیں اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ مجھے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جس میں وہ اللہ کے حرمات کی تعظیم کرتے ہوں، مگر پیکر میں ان کو وہ عطا کروں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
قولہ: واشعر...... الخ (اور آپ اشعار کے کوبان کوزی کر کے خون کانشان لگے اور ای پرامام شافعی رحم اللہ کا نہسب ہے اور وہ امام اعظم ابوحنیفہ رحم اللہ کے پاس کروہے اور صحیبین کے پاس مستحسن ہے اور فتوی ان دونوں کے قول پر ہے اور امام طحاوی رحم اللہ نے کہا: امام ابوحنیفہ نے صرف اس کے ايجاد کروہ اشعار کو کروہ کہا ہے جس کو ان کے زمانے کے عوام الناس اور بدوي بلطو مبالغ کیا کرتے تھے، اور جس سے موت کے واقع ہوئے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ آپ نے مطلق اشعار کو کروہ نہیں کہا۔ اور صحاب غایہ البیان نے اس کو اختیار کیا ہے اور تحقیق قرار دیا ہے اور القدری میں ہے کہ کہی بات او لی ہے۔ (خصوصاً بداری و البحر الرائق)۔
اس کو بنا کر تمیزی سے کرتی ہوتی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم وبال سے بھٹ گئے۔ یہاں تک کہ کا پصلی اللہ علیہ وسلم حدیثی کے کنارے کم پانی وا لے ایک ایچشمہ کے پاس انتر جس کا این لوگ تحوز اتحوز الے رہے چ، پھر لوگ ظہیر بنی یہاں تک کہ اس کو خالی کردیہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشکیل کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ترکش سے ایک تیر نکالے پھران کو حکم فرمایا کروہ اس کواس میں ذوال دین، پس اللہ کی قسم وہ (چشمہ کا پانی) ان کے لے خوب سیرابی کے ساتھ ابلتا رہاپہال تک کر وہ اس سے سیراب ہوکر واپس ہوئے، پس وہ اس حالت بر طرح کارتے میں بدیل بن ورقاء خزا عی قبلہ خزا عی ایک جماعت کے ساتھ آیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عروہ بن مسعود حاضر ہوئے۔ اور امام بخاری نے طولی حدیث کو بیان کیا، یہاں تک کہ انہوں نے کہا: جس وقت سمیل بن عمرو آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو پی معابدہے جس پر محمد رسول اللہ نے حکی
And Imam Ibn Humaam said: The verse is absolute in its meaning, but the jurists have agreed to restrict it in light of another verse when the benefit of Muslims is apparent. That (verse) is the command of Allah, the Exalted: 'So do not weaken and call for peace while you are superior.' Translation: 'O Muslims, do not show weakness or call for peace when you are in a position of strength; there is no benefit in peace, and by consensus, it is not permissible. (Surah Muhammad, Verse 35) However, when the Prophet ﷺ was at the place of Al-Hudaybiyah, where he had a meeting with the Quraish, and when he ﷺ performed the ritual of Al-Tahleef (the oath) and proceeded to sacrifice the animals and enter into the state of Ihram for Umrah, and when he ﷺ reached the valley of Thaniyyah, where his camels were brought to him, the people called it 'peace.' When the Quraish acted improperly, the Prophet ﷺ said: 'They have acted improperly, and this is not befitting me, but I will do what they have asked for the sake of the rest.' Then the Prophet ﷺ said: 'By Him in whose hand is my soul, they will not ask me for anything that involves the sanctity of Allah’s prohibitions, but I will grant it to them in my person.' Then the Prophet ﷺ...
She did it with meticulous care. Then, they moved away from the Messenger of Allah ﷺ and the valley. They reached a spring near a Hadith that was scarce in the vicinity of the first station, where people had remained in control. Then, the people of Banu Phalaj emptied it and when a complaint was made to the Messenger of Allah ﷺ about its formation, he took an arrow from his quiver and commanded, 'Put this in it.' By Allah’s oath, it (the spring) remained abundantly flowing for the people of Phalaj, and they returned after being refreshed by it. In this state, Ubayy bin Ka’b came before the Qiblah with a group, and then ‘Urwa bin Mas‘ud came to the Messenger of Allah ﷺ. Imam Bukhari narrated the lengthy Hadith, and they said: When Samil bin ‘Amr came, the noble Prophet ﷺ said, 'Say: I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.'
"انا برئ من كل مسلم بين مشركين"
"میں بری ہوں جومشرکین کے درمیان میں سے"
امام طحاوی رحمہ اللہ نے مسور رضی اللہ عنہ تے روایت کی سے کہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خبرہ 7 حل میں تحاوارآپ کا مصلی حرم میں تحار او تقسیر مدارک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد: "وَسْئَلُوْا مَا انفقتم"۔ (65 سورۃ محجنہ، آیت نمبر :10 ) اور جو پہ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان سے طلب کروا کے بارے میں سے کہ وہ منسوخ ہے، پس مہر کا مطالبہ باقی نہ رہانے تم سے اور ذلان سے اور ہمارے علماء نے کہا: جہاں تک اس صحیح کی بات سے جو (حدیثی کے ) کے قضیہ میں مشترکین کے ساتھ اس بات پر وا قع ہوتی کہ ان کو وہ شخص واقص کردیاجاتے گا جوان کے پاس سے مسلمان ہو کر مسلما نوں کے ملک کو آجا گے تو وہہمارے پاس منسوخ ہے اور اس کی ناطے حدیث ہے:
7 (1) قولہ : خباء ہ فی الحل و مصلاہ فی الحرم الخ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خبرہ حل میں اور آپ کا مصلی حرم میں تحار" اور امام طحاوی نے فرمایا: پس تم نے جوز کر کیا ہے اس سے پی ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر رو کے نیمیں گے تحاوارآپ حرم کے ایک حصہ میں پیچھے گے تحااور کسی مجھی عالم کے قول میں اس شخص کے لے جو حرم کے کسی حصہ میں داخل ہو نے کی قدرت رکتا ہے پیجانز نیمیں کہ وہ اپنے قربانی کے جانور کو حرم کے باہر زنج کرے پس جب اس حدیث سے جس تم نے ذکر کیا پی ثابت ہوگیا کہ حرم کے ایک حصہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہور، پی تھی تو آپ کا قربانی کے جانور کو غیر حرم میں ذبح کرنا محل ہے کیوں کہ جولوگ غیر حرم میں قربانی کے جانور کے ذبح کو جائز قرار دیتے ہیں وہصرف حرم سے روک دیتے جانے کی حالات میں اس کو جائز قرار دیتے ہیں اس میں داخل ہو نے کی قدرت کی حالت میں نیمیں۔ پس تم نے جوبیان کیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہوگی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر قربانی کے جانور کو ذبح کیے اور امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے -
The Messenger of Allah ﷺ reported that he would camp in the open and pray in the Sacred Precincts, and Allah, the Exalted, revealed: 'And ask [them about] what you have spent.' (Surah Mu'minun, verse 10). And what you have spent, ask about it, as it has been abrogated, so that the burden of debt does not remain upon you or the weak. Our scholars have said: Insofar as this correct statement is concerned, which is shared in the issue of the hadith, it is established that the person will recount to the young Muslim who comes to the Muslim lands that it is abrogated, and its related hadith is: (1) He said: 'He camped in the open and prayed in the Sacred Precincts.' It is reported that the Noble Prophet ﷺ would camp outside the Sacred Precincts and pray within a part of the Sacred Precincts. Imam Tahawi said: From this, it is established that the Noble Prophet ﷺ would go to a part of the Sacred Precincts, and according to some scholars, it is permissible for a person to slaughter his sacrificial animal outside the Sacred Precincts if he has the ability to enter a part of the Sacred Precincts. From this hadith, it is established that the Noble Prophet ﷺ would come to a part of the Sacred Precincts, and it is permissible to slaughter the sacrificial animal outside the Sacred Precincts because those who permit the slaughter of the sacrificial animal outside the Sacred Precincts do so under the condition that entry into the Sacred Precincts is possible. Therefore, it is negated that the Noble Prophet ﷺ slaughtered the sacrificial animal outside the Sacred Precincts. This is the view of Imam Abu Hanifah, Imam Abu Yusuf, and Imam Muhammad.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتی کے دون مشرکین سے تین باٹول پرمصالحت فرمائی 8
(1) آپ کے پاس جوہی مشرکین کے پاس سے آئے گا آپ پر صلی اللہ علیہ وسلم اس کوان کی طرف لوطادی گئے۔
(2) اور جومسلمان ان کے پاس پچلے جائے اس کو وہ واپس نہیں کرنے گئے۔
(3) اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اس (کہ) میں آکرده سال داخل ہونے گے اور وہل تین دن قیام فرما میں گے اورآپ پر صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل نہیں ہونے گے مگر تحقیارکو، تلوار کو اور کمان اوراس جیسی چیز ول کو تھلی میں چھپا لے ہوئے داخل ہونے گئے۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس البوجلدل اپنی بیریول میں اڑ کر آتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی طرف واپس کردیا (بخاری ومسلم)۔
Al-Bara ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) made a treaty with the polytheists (1) on the Day of Hudaybiyyah on three terms: to return to them any polytheist who came to him, not to return Muslims who went to them, and to enter Makkah the next year for three days, carrying only sheathed weapons like swords and bows. Abu Jandal came in chains, and he returned him to them. [Agreed upon]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصالحت کی، پس انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشترط لگائی کرتے میں سے جو شخص ہمارے پاس آجا کے تم اسے تم کو واپس نہیں کرنے گے۔ اورتم میں سے جوتمہارے پاس آجا کے تو تم اسے تم کو واپس کرنے گے۔ پس صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا تم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ۔ پہلے تم میں سے جو شخص ہمارے پاس آجا کے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیااور ان میں سے جو شخص ہمارے پاس آجا کے تو عقیدہ اللہ اس کے لیے کشاوگی اور کوئی راہ پیدا کر دیے گا (مسلم)۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Quraysh made a treaty with the Prophet (ﷺ), stipulating: “Whoever comes to us from you, we will not return to you, but whoever comes to you from us, you return to us.” They said: “O Messenger of Allah, shall we write this?” He said: “Yes. Whoever goes from us to them, may Allah keep him far, and whoever comes to us from them, Allah will grant him relief and a way out.” [Narrated by Muslim]
8قولہ: صالح النبی صلی اللہ علیہ وسلم المشرکین یوم الحدیبیہ على ثلاثة اشياء الخ "نبي اكرم صلى الله عليه وسلم نے حضرتی کے دون مشرکین سے تین چیز ول پرمصالحت فرمائی"۔ تشخیبن همام نے کہا: اغر دشن مسلمانوں کا ماصرہ کریں اور مال پرلح کر نے کا مطالبہ کریں کہ جس کو مسلمان انہیں ادا کریں تو امام اس طرح کی سلح نہیں کرے گا، کیونکہ اس میں ایک فتنہ کی ذلت ہے اور موسی کے لئے اپنے آپ کو زیل کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ عزت ایمان کی خاصیت ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:" وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ " (63-سورۃ المنافقون، آیت نمبر:8) مگر جب امام اپنے آپ پر اور مسلمانوں پر بلا کرتا اندیشہ کرے تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(لفظ) رسول اللہ کو میٹ دو، انہوں نے عرض کیا: اللہ کی فتم میں کچھ نہیں میٹول گا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (قلم) لیا اور آپ خوب نہیں کلمت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پیوہ (صلح) ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے رکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں بتھیار لے کر داخل نہیں ہوں لے سوا لے تلوار کے جومیان میں ہو اور یہ کے اس شہر کہ کے باشندوں میں سے اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لے کر نہیں جائیں گے اور یہ کے آپ اپنے صحابہ میں سے کسی کو نہیں روکیں گے اگر وہ اس میں رہنا چاہے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں (کہ میں) داخل ہو اور مدت ختم ہوئی تو وہ لوگ علی رضی اللہ عنه کے پاس آئے اور کہا آپ اپنے صاحب سے کہی کر آپ پہارے پاس سے جل جائیں پس مدت مقصدہ گزر چکی ہے چنانچہ میں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و بال سے واپس تشریف لے گئے۔ (متفق علیہ)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوالقدره میں عمرہ کے لے تشریف لے گئے تو کم والون نے آپ کو کہ میں داخل ہوں نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ نے ان کے ساتھ اس بات پرمصالحت فرما کر آپ پ داخل ہوں لے جیتنی آستندہ سال، و بال تین دون قیام فرما کیں لگے پس جب انہوں نے سے نام کہا تو انہوں نے (اس طرح) تخریج کیا، پیوہ (صلح) ہے جس پر محمد رسول اللہ نے رکی ہے تو انہوں (یعنی کفار) نے کہا: تم اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر تم یقین کرتے اور جانتے کہ آپ اللہ کے رسول پیں تو تم آپ کو روکتے نہیں تھے، لیکن آپ محمد بن عبد اللہ پی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما: میں رسول اللہ ہوں اور میں محمد بن عبد اللہ ہوں - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علي بن ابي طالب رضی اللہ عنہ سے فرما:
Al-Bara ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) performed Umrah in Dhu al-Qa‘dah, but the people of Makkah refused him entry until he made a treaty to stay three days. When they wrote the agreement, they wrote: “This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon.” They said: “We do not acknowledge this. If we knew you were the Messenger of Allah, we would not have prevented you. You are Muhammad ibn Abdullah.” He said: “I am the Messenger of Allah and Muhammad ibn Abdullah.” He told Ali ibn Abi Talib: “Erase ‘Messenger of Allah.’” Ali said: “By Allah, I will never erase it.” The Messenger of Allah (ﷺ), who could not write well, took the document and wrote: “This is what Muhammad ibn Abdullah has agreed upon: not to bring arms into Makkah except sheathed swords, not to take anyone from its people if they wish to follow him, and not to prevent any of his Companions who wish to stay.” When he entered and the term ended, they told Ali: “Tell your companion to leave; the term is over.” The Prophet (ﷺ) left. [Agreed upon]
عاشر رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی بنابر ان کا امتیاز لیتے تھے:
"یَا یُّها النَّبِیُّ إِذا جَآئَکَ الْمُؤْمِنتُ یُبايِعْنَکَ "۔
"اے پیغمبر! جب تہمارے پاس ایمان والی عورتیں اس غرض سے آئیں کہ وہ تم سے بیعت کریں"۔ (65 سورۃ ممتحنة، آیت نمبر:12)
پس ان میں سے جو کوئی اس شرط کا اقرار کرتی تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے کہ میں تم سے بیعت لے لیا، وہ کلام کے ذریعہ ہوتا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرما تے، خدا کی فتم آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک بیعت میں کسی کسی عورت کے باٹھ کومس نہیں ہوا۔ (بخاری ومسلم)۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated regarding the women’s pledge: The Messenger of Allah (ﷺ) tested them with the verse: “O Prophet, when believing women come to you pledging…” [Qur’an 60:12]. Whoever accepted the condition, he said: “I have accepted your pledge,” speaking to her. By Allah, his hand never touched a woman’s in the pledge. [Agreed upon]
امیرہ بنت رقیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے چند عورتوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ان چیزول میں پی جن کی تم استطاعت اور طاقت رکھتی ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول، تم پر ہمارے اپنے جانول پر مہربان ہوئے۔ زیادہ مہربان ہیں۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ آپ تم سے بیعت لیجیئے، لیکن آپ تم سے مصافحہ کیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماکر میری سوعورتوں کے لیے وہی بات کہ جوابی عورت کے لیے کہا۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، امام ماکے نے اس کوموطا میں روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا: حدیث حسن صحیح)۔
Umaymah bint Ruqayqah (may Allah be pleased with her) narrated: I pledged allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) among women. He said: “In what you can and are able.” I said: “Allah and His Messenger are more merciful to us than we are to ourselves.” I said: “O Messenger of Allah, pledge us,” meaning shake our hands. He said: “My word to a hundred women is like my word to one.” [Narrated by Tirmidhi, Nasa’i, Ibn Majah, and Malik in (Al-Muwatta); Tirmidhi said: Hasan Sahih]
مسور رضی اللہ عنہ تعالی عنہ اور مردو ان سے روایت سے کہ انہوں نے (لعن کفار نے) دس سال تک جنگ نہ کرنے کی صلح کی 9 جس میں لوگ امن سے رہنے کے اور اس شرط پر کہ یہ ہمارے درمیان بندرصد وق کی طرح محفوظ معابد ہے اور پیکر تلوار ب نیام کی جائے گی اور نہ زره بکثر پینی جائے گی۔ (ابوداود)۔
Al-Miswar and Marwan narrated: They agreed to cease war for ten years, (1) ensuring people’s safety, with a sealed covenant between them, and no theft or treachery. [Narrated by Abu Dawud]
Al-Bayhaqi narrated in (Dala’il an-Nubuwwah) in the chapters on Hudaybiyyah from Urwah ibn az-Zubayr and Musa ibn Uqbah, mursal, mentioning the story, concluding: The treaty between the Messenger of Allah (ﷺ) and Quraysh lasted two years. In (‘Inayah), the reported ten-year duration is among estimates allowing increase or decrease, as the treaty’s duration depends on benefit, which may vary.
امام تیفی نے دالل النبوۃ میں ابواب قصۃ الحد پیپی میں عروہ بن زبیر اور موسیٰ بن عقبہ سے مرسلا روایت کی ہے اور انہوں نے اس قصہ کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک بیعت میں کسی کسی عورت کے باٹھ کومس نہیں ہوا۔ (بخاری ومسلم)۔
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان دوسال کے لے کچھ اورصاحب عناپی نے کہا بیان کردوہ مدت جودس سال بہان مقروہ چیزول میں سے بہ جوزیادتی اورنقصان کے لے ما نع نہیں - کیونکہ صلح کی مدت مصلحت کے ساتھ چلتی بہاوروہ کچھ زیادہ ہوتی بہاور کچھ کم ہوتی بہ -
Al-Miswar and Marwan narrated: They agreed to cease war for ten years, (1) ensuring people’s safety, with a sealed covenant between them, and no theft or treachery. [Narrated by Abu Dawud]
Al-Bayhaqi narrated in (Dala’il an-Nubuwwah) in the chapters on Hudaybiyyah from Urwah ibn az-Zubayr and Musa ibn Uqbah, mursal, mentioning the story, concluding: The treaty between the Messenger of Allah (ﷺ) and Quraysh lasted two years. In (‘Inayah), the reported ten-year duration is among estimates allowing increase or decrease, as the treaty’s duration depends on benefit, which may vary.
9 (1) قولة: انہم اصطلحوا علی وضع الحرب عشر سنين "انہوں نے دس سال تک جنگ نہ کرنے پر مصالحت کی"۔ تحقیق ابن حمام نے کہا: صلح کی مدت کا جواز ذکورہ مدت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اور وہ مدت دس سال کی ہے، کیونکہ جس چیزواس کے جواز کی علت قر ار دیا گیا ہے وہ مسلما نو ل کی ضرورت ہے یا ن کی مصلحت کا پایا جانا ہے، کیونکہ بسا وقت وہ اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ برخلاف اس صورت کے کہ جب مصالحت کرنا ایس میں بیان کردہ مدت مسلما نو ل کے حق میں بہتر نہ ہوتا وہ جائز نہیں ہے اس لے کر اس میں صورت معاً جہاد کو تزک کر دینا ہے اور اس کو صرف اس بناء پر جائز رکھا گیا ہے کہ ایک اعتبار سے جہاد کے اور وہ صرف اس وقت جائز ہوگی جب وہ مسلما نو ل کے حق میں بہتر ہوور نہیں صورت مامور بکوچھوڑ دینے کی ہے۔ اب اس سے وہ (اعتراض) دفع ہو جاتا ہے جو بعض علماء سے منقول ہے کہ پیغ دس سال سے زیادہ ہوتا منع ہے، اگرچہ کرام کی کوئی پشت پناہی نہ ہو اور یا امام شافعی کا قول ہے اور اس لے ہم پیکہ میں کے اس کی کوئی حد نہیں ہے اور اس کی مدت کو مقرر کرنا امام کی رائے اور مقتضی حال کے حوالے ہے۔ (مرقاة)۔
صفوان بن سلیم، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صاحجز اول سے اور وہ اپنے آباء سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: خبردار جو کسی معابد (جس سے معابد کیا گیا ہو) پر نماز کرے یا سکی بے عزتی کرے یا سکی طاقت سے زیادہ اس سے کام لے یا بھیغ نخوشدری لے اس سے کوئی چیز لے تو میں قیامت کے دن اس کا دعویٰ کرار ہول (ابوداود) -
Safwan ibn Sulaym narrated from several sons of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), from their fathers (may Allah be pleased with them all), from the Messenger of Allah (ﷺ) who said: “Whoever wrongs a person under a covenant, diminishes his rights, burdens him beyond his capacity, or takes something from him without his consent, I will be his adversary on the Day of Resurrection.” [Narrated by Abu Dawud]