Nūr al-Maṣābīḥ
بابُ الکتابِ الی الكفار و دعائهم الی الاسلام

Writing to the Disbelievers and Inviting Them to Islam
Volume 7 · Jihad

کفار کی طرف خط نہیں اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان

There is no address to the disbelievers, and there is no mention of inviting them to Islam.

5246

(1) آپ ﷺ کا ارشاد سلام علی من اتبع الهدى "(سلامتی پہ اس پر جس نے دايت کی اتباع کی)

(3) امام نووی نے کہاہے کہ محمد فراند کے خبر واحد عمل کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے اس (فرمان مبارک) کو تھا دیہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کے ساتھ روانہ فرمايتا۔

(4) محمد فراند کے پیہ کر کلام (تخریج) کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم "سے کرنا مستحب ہے۔ اگرچہ جس کی طرف مججا گیاہے وہ کافر ہو۔

(5) محمد ان فراند کے ایک یادوآ بنوں اور اس جیسی کسی چیز کے ساتھ دشمن کی زمین کی طرف سفر کرنے میں اور قرآن مجید کو لے کر (دشمن کی زمین کی طرف) سفر کرنے کی ممانعت ممکن ہے۔ ایسی صورت پر جس میں اس کے کافرول کے باٹھوگل جانے کا خطرہ ہو۔

(6) محمد ان فراند کے پیکر غیر قرآن کے ساتھ قرآن مجید کی ایک یا چند چھوٹی آیتوں کو لے جانا ظاہر بات کافر کا چھونا جائز ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سب میں اس بات پر کے تعالو، سے قرآن مجید کے الفاظ مقصود ہیں۔ لیکن ظاہر بات یہ کہ پیل بالمعنی ہے۔ اس سے تلاوت مقصود نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ کہ آیت کے شروط میں جو لفظ "قل"، ہے۔ یہاں حذف کر دیا گیاہے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا۔ اس کو اسلام کی دعوت دینے ہوئے اور اپنا نام مبارک و جیبی کے ذریعہ اس کے

قولہ: کتب الی قیصر الخ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا) صاحب مرقات نے کہاہے کہ امام نووی نے کہا اس فرمان میں بہت سے اصول وقواعد اور طرح طرح کے فائدے پیں مجمل ان کے

اس میں امام شافعی کے ذہب اور ان کے جمہور اصحاب کی دلیل ہے کہ فرکوسلام میں پہلے میں کی جائے گی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ میں اس میں کوئی اختلاف نہیں بھیتا۔

(2) اس میں یہ ہے کہ فرول کو جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینا چاہئے اور ان کو اس کی دعوت دینا ضروری ہے۔ اگر ان کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو تو ان سے اس دعوت سے پہلے جنگ شروع کرنا حرام ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے امت میں ابن حمام نے اسی طرح زکر کیاہے۔ اور انہوں نے کہاہے کہ اگر ان کو دعوت پہنچی ہے تو پھر دعوت دینا ضروری نہیں ہے۔ لیکن پھر کہی دعوت دینا مستحب ہے۔

پاس روان فرمايا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بصری کے گورنر کے حوالے کر دیں تاکہ وہ روم کے حاکم قیصر کو

پہنچادے۔ پس اس میں پیغام:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ کے بندہ اور اس کے رسول محمد (علیہ السلام) کی طرف سے روم کے حاکم ہرقل کی طرف

سلامتی۔ اس پر جواب دايت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول

کر لو تم سلامت رہو۔ اور تم کو اللہ تعالیٰ تمہارا اجر دوگنا دے گا۔ اور اگر منہ مور تو تم پر عذاب کا ذائقہ

ہو گا۔ اور اس کتاب میں ایک بات کی طرف آؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر ہے۔ کہ تم اللہ

کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ لٹھرا لین۔ اور تم سے بعض، بعض کورب

نہ بنائے۔ اللہ کے سوا کسی اگروہ منہ مور تو تم کہہ و کہتم گواہ ہو تم مسلمان ہیں۔ (متفق علیہ)

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (ﷺ) wrote (3) to Caesar, inviting him to Islam, and sent his letter with Dihyah al-Kalbi, instructing him to deliver it to Caesar. The letter read: "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad, the servant of Allah and His Messenger, to Heraclius, the great leader of the Romans. Peace be upon those who follow guidance. To proceed: I invite you with the call of Islam. Embrace Islam, and you will be safe. Embrace Islam, and Allah will grant you your reward twice over. But if you turn away, the sin of the Arisiyyin (peasants/subjects) will be upon you. ‘O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you, that we will not worship except Allah and not associate anything with Him, and not take one another as lords instead of Allah.’ But if they turn away, then say, ‘Bear witness that we are Muslims’ [Qur’an 3:64]." [Narrated by Bukhari and Muslim]

In a narration by Muslim: It said"From Muhammad, the Messenger of Allah," and "the sin of the Yarisiyyin," and "with the call of Islam."

5247

اور مسلم کی ایک روایت میں مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ " ہے اور " إثْمَ

الْيَرِسِّيِّينَ " اور " بَدَاعِيَةِ الإِسْلاَمِ " ہے۔

(7) مجمع الان فوائد کے لوگوں کے درمیان مراسلت کا سنت طریقہ یہ کہ پہلے اپنے نام سے شروع کریں

مثالاً من زید الی عمرو، (زید کی جانب سے عمرو کی طرف) اور اس میں دو چیزیں برابر ہیں۔ شروع میں اپنا نام پیش کرنا

جانے جسیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمايا: "إِنَّهُ مِنْ سُلَیْمَنَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " (27-سورۃ النمل، آیت

نمبر:30)۔ (سليمان کی طرف سے اور یک میں شروع کرتا ہوئے اللہ کے نام سے جو بطامہ ربان نہایت رحم والا ہے۔

(8) مجمع فوائد کے پیہ کر تعریف و تعظیم میں کیا زیادتی نہ کی جائے۔ اس لے نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے

"الی هرقل عظیم الروم "فرمايا اور "ملك الروم " نہیں فرمايا۔

(9) مجمع فوائد کے بلاغت کا استعمال اور کلام کا اختصار اور عمدہ الفاظ کا انتخاب مستحب ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ

فرمان انتہائی مختصر اور نہایت بلغ اور تجنیس برتر کے ساتھ ساتھ معانی و مطالب کا جامع ہے۔ کیونکہ لفظ تسلیم " میں و نیا

کی رسوائی سے، جنگ سے، قیدی بنانے جانے اور قتل کے جانے، ملك اور مال و دولت کے چلے جانے سے، سلامتی اور

عذاب آخرت سے سلامتی سب شامل ہیں۔

(10) مجمع فوائد کے پیغام ہے کہ جو آدمی دوسروں کے لئے گرائی کا اور بدایت سے رون کا سبب بننے سے تو

اس کا گناہ زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ " (29-سورۃ العکبوت،

آیت نمبر:13)۔ اور وہ ضروران کے اپنے بوچھا گنا میں گے۔ اور ان کے اپنے بوچھے کے ساتھ اور بوچھے اٹھا لیں گے۔

(11) مجمع فوائد کے پیغام ہے کہ تقریر و تحریرات میں "اما بعد" کا استعمال مستحب ہے۔

From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever calls to guidance will have the same reward as those who follow him, without diminishing their rewards in any way. And whoever calls to misguidance will have the same burden of sin as those who follow him, without diminishing their sins in any way." [Narrated by Muslim.

5248

انہیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرمان کسری کی طرف عبد اللہ بن حذافہؓ کی کے ساتھ روانہ فرمايااور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اس کوبرین کے گورز کو بھی پس بحرین کے گورز ناس کو کسری کے پاس لے جاویا۔ جب اس نے (کسری نے) اس کو پڑھا تو اس کو چاک کروا۔ ابن مسیب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لے بدوعا کی کروہ سب پوری طرح چاک کروا۔ جا میں _ (بخاری) _

From the same (may Allah be pleased with them both), he narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent (1) his letter to Kisra with Abdullah ibn Hudhafah as-Sahmi, instructing him to deliver it to the governor of Bahrain, who then delivered it to Kisra. When Kisra read it, he tore it up. Ibn al-Musayyab said: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed against them that they be torn apart completely. [Narrated by Bukhari]

5249

اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری، قیصر، نجاشی اور ہر صحاب اقتداروالدکی طرف بلا تے ہوئے تحریروانہ فرمايی۔ اور ینجاشی وہ نہیں ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہوئی _ (مسلم)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) wrote to Kisra, Caesar, the Negus, and every tyrant, inviting them to Allah. This was not the Negus whom the Prophet (ﷺ) prayed over. [Narrated by Muslim]

5250

ابو واکل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید نے فارس والول کو کلمہ تحقیق اللہ الرحمن الرحیم خالد بن ولید کی طرف بلاتے رہتم اور مہران کفارس کے سردارول میں _ سلامتی سے اس پرجس نے بدایت کی پیروی کی _ اما بعد ! پس، تم تم کواسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں پس اگرتم انکار کرتے ہوتو جزیہ دواپنے ہاتھ سے دراخالیہ تم زیل ہو۔ پس اگرتم انکار کروگے تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کے راستے میں قتل کرنے کو اپنیا پند کرتی ہے جسے اللہ فارس شراب کو پیند کرتے ہیں _ اور سلامتی سے ان پر جو بدایت کی پیروی کریں _ (شرح السنہ)

Abu Wa’il (may Allah be pleased with him) narrated: Khalid ibn al-Walid wrote to the people of Persia: "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Khalid ibn al-Walid to Rustum, Mihran, and the nobles of Persia. Peace be upon those who follow guidance. To proceed: We invite you to Islam. If you refuse, then pay the jizyah in submission while you are humbled. I have with me people who love death in the way of Allah as much as the Persians love wine. Peace be upon those who follow guidance." [Narrated in Sharh as-Sunnah]

2قوله : بعث كتابه الى كسرى مع عبد اللہ بن حذافة الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرمان کسری کی طرف عبد اللہ بن حذافہؓ کی کے ساتھ روانہ فرمايا) عمدة القاري،'باب كتاب اهل العلم بالعلم الى البلدان ""میں ہے کہ حاکم کا خط دوسرے حاکم کی طرف لے جانے کے لے ایک آدمی کافی ہے۔ اس کے لے دو گواہوں کا ہونا شرط نہیں ہے جسیا کرآ نج کل قاضی حضرات کرتے ہیں۔ یہ بات ابتدائی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان (فتحاء) نے دو گواہوں پراس کو مول کیا ہے۔ اس لے کر لوگوں میں فساوداخل ہوگیا ہے تو لوگوں کے خون کی،ثر مرگاہوں کی اوراموال کی حفاظت کے لے دو گواہوں کی شرط لگا کراس میں احتیاط سے کامل یاگیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس فرمان مبارک اور ایک قاضی کی دوسرے قاضی کی طرف تحریر کے درمیان کطافرق ہے کیونکہ کسی قاضی کا قاضی کی طرف تحریر، فصل تو اس کی عمل آوری ضروری ہے۔ اور جس چیز کی عمل آوری ضروری ہے اس میں ثبوت شرط ہے تاکرا س کے ذریعہ اس کی عمل آوری ضروری ہونا معلوم ہو۔ اس کے برخلاف اس فرمان مبارک کی عمل آوری لازمی نہیں ہے اس لے کہ کسری کو اختیار تھا جسیا کر حری کے امن طلب کرنے کی تحریر کیونکہ حاکم کواس میں اختیار ہے چاہے اس کو امن دے یا نہ دے پلس اس میں گواہوں شرط نہیں ہے۔ ( ماخوذ از: بدایۃ و تشویح بدایی )
5251

سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو تشویش پر امیر مقبر فرامانت تو آپ علیہ السلام کو وصیت کرتے کہ وہ خاص طور پر اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا تقوا اختیار کریں اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ نہیں کا معاملہ کریں پھرآپ علیہ السلام فرماتے اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اور لوگوں سے جو اللہ کا انکار کریں، جہاد کرو خیانت مت کرواور دعوت کرومت دواور مثل مت کرو۔ اور کسی نے کوئی مت کرو۔ اورجب تمہارا مقابلہ ہوجائے مرہ کین میں کسی کے ساتھ توتم ان کو تین باٹون کی طرف بلاوے پس وہ ان میں کسی کو مجھی قبول کر لیس تو ان کی طرف سے قبول کرلو۔ اور ان سے (لا ایکو) روک دو۔ پھران کو اسلام کی دعوت دو پس اگر وہ قبول کریں تو ان کی طرف سے قبول کرواور ان سے (لا ایکو) روک دو پھران کو دعوت دو کروہ لوٹ کرا نیا پنگھرون سے مهاجرین کے گھروں کی طرف اور ان کو بتاو کر اگروہ یکام کریں گے تو ان کے لئے وحقوق پیں جومهاجرین کے پیں اور ان پروہی زمرداریال پیں جو مهاجرین پر پیں پس اگروہ ان (گھروں سے) منتقل ہوں۔ نے انکار کریں تو ان کو بتادو کروہ دیہائی مسلمانوں کی طرح پیں ان پر اللہ کا حکم جاری کیا جائے گا جومسلمانوں پر جاری کیا جاتا ہے اور ان کو مال غنیمت اور مال فیئی (دوسری قوم سے مال غنیمت حاصل کرنے دینا) میں سے پھیجی نہیں ملتا 3 گھر پیکروہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں پس اگروہ اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ کا

مطالبہ کرو -4

اگر وہ تم کو (جزیہ دینے کا) جواب دی تو ان سے اس کو قبول کر لوا اور ان سے ثانی رکے دو اگر ان کار

کریں تو تم اللہ تعالیٰ کے مد طلب کرواور ان سے ثانی کرو اور جب تم قلعه والون کا حاصرہ کر لواور وہ چپے

کرتے ان کو اللہ کا ذماراوس کے رسول کا ذمردو تو تم ان کے لئے اللہ کا ذماراوس کے رسول کا ذمرمت

دوم 5۔ لیکن تم ان کو اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمردو کیونکہ تم اگراپنے ذات اور اپنے ساتھیوں کے ذات کو

توڑو گے تو پی بھلا کہ اللہ کے اوراس کے رسول کے ذمارکو توڑنے سے اوراگرم کسی قلعہ والون کا حاصرہ کرلو

اور وہ تم سے چاہیں کہ تم ان کواللہ کے حکم پر اتاریں توتم ان کواللہ کے حکم پرمت اتاو بلکہ تم ان کو اپنے حکم پر

اتارو کیونکہ تم بین جائے کراس کے بارے میں تم اللہ کے حکم کے مطابق تحییہ پہو چچو گے -(مسلم)

قولہ : فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ (توانے جزیہ کامطالبہ کرو ) اس حدیث شرفے ستامام ماکے، امام او زاعی اور

جو حررات (اس میں ) ان کے موافق بن استدل لکرتے ہیں کہ کافرتو جزیہ لیاجاتے گا خواہ وہ عربی ہو یا غیرعربی، کتابی

ہو یا غیر کتابی - اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے کہاہے کصرف اعلی کتاب سے ہی جزیہ قبول کیا جاتے گا خواہ وہ عربی ہو یا

غیرعربی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے کہاہے کہ جزیہ عرب کے مشترکین و مجوس کے سواتمام کفار سے لیا جاتے گا اور اتنہ تمام

رحمۃ اللہ نے کہاہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد "فَسَلْهُمُ الْجِزْیَةَ" تم ان سے جزیہ کامطلبہ کروجب کروہ مرتد اور

عرب کے مشترکین نہ ہول کیونکہ ان سے اسلام یا پھر تلوار اس کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جاتے گی - عنقریب اس کی

وضاحت آتے گی - (ماخوذ از مرقات، نیل الاوطار)

قولہ : فلا تجعل لهم ذمة اللہ الخ (تم ان کے لئے اللہ کے ذماراوس کے رسول کا ذمرمت دو ) امام

نووی نے کہاہے کہ یہی تنزیہی ہے کیونکہ کسی وهآدمی جواس کا حق نہیں پچاپتاوہ اس کو توڑ دیتاہے اور بعض دیہاتی اور

فوہی اس کی حرمت کو پامال کردیتے ہیں اس طرح "فلا تنزل لهم على حكم الله "(تم ان کواللہ کے حکم پرمت اتاو )

یہی تنزیہی ہے اس میں ان حضرات کی دلیل سے جو یکہ ہیں کہ بر مجہد مصیب نہیں ہے بلکہ مصیب ایک ہی ہوتاہے

اور وہ ہی ہے جو حقیقت میں اللہ کے حکم کے مطابق ہوتاہے -

اور جو یکہ ہیں کہ بر مجہد مصیب ہے تو وہ یکہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد "فَانک لا تدری

اتصیب حکم الله فيهم " لیجن "تم بخوف نہیں ہوسکتا اس امر کے تم نے جوفصل کیاہے اس کے خلاف مجھ پر

کولو وی نازل ہو " جسیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسعید کی حدیث میں بتا قریظ کے بارے میں حضرت سعد بن

معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بنا نے سے متتعلق فرامایہ کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصل کیا اور یہ

بات نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (وصال ) نہیں رہی اب بر مجہد مصیب ہے اور یہی نذہب معزز لکاہے اور بعض

اہل سنہ نہیں اشاعرہ کاہے -(مرقات)

اور انہیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد و لا یکون لهم فی الغنیمة والفيئی

شئی "(ان کے لے مال غنیمت اور مال فی میں سے پچھینیس ہے )پرامام اعظم ابوحنیفر رحمه اللہ کے

پاس منسوخ ہے اور پیغمبر اسلام ابن عباس اور شعیب ابن همام نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا

ارشاد"فسلهم الجزية "تم ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ لیتنی اگر وہ مردنہ بنی اورعرب کے

مشترکین نہیں ہیں ان سے اسلام یا توار کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔

Sulaiman bin Buraidah narrates from his father that the Messenger of Allah ﷺ, when appointing someone as the commander of a funeral procession, would advise him to specifically acquire Allah's Taqwa for himself and not to deal unjustly with his Muslim companions. Then he ﷺ would say: 'Take the name of Allah and fight in the cause of Allah against those who disbelieve in Allah. Do not betray, do not steal, and do not mutilate. And do not kill any child. And when you face the enemy in battle, call them to three things: First, call them to accept the Oneness of Allah. If they accept, then accept it from them and stop. Then call them to emigrate to the houses of the Muhajirun, and inform them that if they do so, they will have the same rights and obligations as the Muhajirun. If they refuse, then inform them that they will be subject to the same command of Allah that is upon the Muslims, and they will not receive a share of the spoils of war or the fay (wealth taken without fighting) from other nations. If they refuse, then call them to join the Muslims in jihad. If they refuse, then demand the jizyah from them. If they pay it, then accept it from them and leave them alone. If they refuse, then seek help from Allah and fight them. And when you besiege a fortified city and they ask for protection by the name of Allah and His Messenger, then grant them protection by the name of Allah and His Messenger. But do not give them protection by your own name or the name of your companions, for if you break your own covenant or that of your companions, it is better to break the covenant of Allah and His Messenger. And if you besiege a fortified city and they ask you to let them go according to the command of Allah, then let them go according to the command of Allah, not according to your own command, for you will be questioned about this matter according to the command of Allah.' (Muslim)

This hadith is honored by all scholars, imams, and jurists, who cite it as evidence that jizyah can be taken from disbelievers, whether they are Arabs or non-Arabs, People of the Book or non-People of the Book. Imam Shafi'i (RA) stated that jizyah will only be accepted from those of higher scripture, whether they are Arabs or non-Arabs. Imam Abu Hanifah (RA) said that jizyah will be taken from all disbelievers, including Arab polytheists and Zoroastrians. He further stated that the guidance of the Prophet (peace be upon him) 'Fasalhum al-jizyah' means you should demand jizyah from them whenever you can, except from apostates and Arab polytheists, because from them, only Islam or the sword will be accepted, nothing else. This will be explained in detail shortly. (Extracted from Mirqat, Nihayat al-Awtar)

The statement: 'Fala taj'al lahum dhimmat Allah al-kh' (Do not make for them the covenant of Allah and His Messenger) - Imam Nawawi said that this is a refutation because no one has the right to annul what Allah has ordained, and some people violate its sanctity. Thus, 'Fala tanazzal lahum 'ala hukm Allah' (Do not submit to their judgment) is a refutation, indicating that there is no harm in adhering to the command of Allah, which is the true judgment.

And those who say that there is no harm in adhering to the command of Allah are correct, as it is the only true judgment. Those who claim that there is harm in adhering to the command of Allah are incorrect, as the Prophet (peace be upon him) said, 'Fanak la tadhri at-tasib hukm Allah fihim' (You cannot know if you have adhered to the command of Allah in their case). This means that you cannot be certain if your decision is in accordance with the command of Allah, and any deviation from it would be a sin, as the Prophet (peace be upon him) said to Abu Sa'id regarding his decision about the Banu Qurayza, when he appointed Sa'd ibn Mu'adh (RA) to judge them, 'You have judged according to the command of Allah.' This principle did not change after the death of the Prophet (peace be upon him), and it remains a respected and emphasized principle among some Ahl al-Sunnah, though not all.

Furthermore, the Prophet (peace be upon him) said, 'Wala yakuuna lahum fi al-ghنيma wal-fai' shay' (They shall have no share in the spoils of war or the fay). According to Imam Abu Hanifah (RA), this is abrogated. However, the Prophet (peace be upon him) also said, 'Fasalhum al-jizyah' (Demand jizyah from them). This applies unless they are apostates or Arab polytheists, from whom only Islam or the sword will be accepted.

3قولہ: ولا يكون لهم في الغنيمة والفئيئي شيء الخ (انکو مال غنیمت اور مال فیئی میں سے پھیجی نہیں لیکا)اس حدیث ثبوت میں کئی فوائد ہیں۔ وہ دیہائی جتن کو اموال زکوۃ دیتے جاتے ہیں اگروہ اپنے مقام سے پلٹ کر نہیں آتے ہیں تو ان کو اموال فیئی اور مال غنیمت دیا نہیں جاتے گا اگر چیکہ وہ فقراء اور مساکین ہول اموال فیئی و اموال غنیمت لیں والوں کو اموال زکوۃ دیتے نہیں جاسکتا اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے بیہی فرمایاہے اور انہول نے اموال فیئی و غنیمت اور اموال زکوۃ کے درمیان فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ دیہائی ول کودوسرے میں لیئے اموال زکوۃ میں حق ہے اور پہلے لیئے اموال فیئی و غنیمت میں کوئی حق نہیں ہے۔ امام ماکو اور امام ابوحنیفرحمۃ اللہ نے ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے اور پیکران دونوں میں سے ہر ایک کودوسرے کے مصرف میں دے سکتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہولا یکون فی الغنیمة والفئيئي شیء،، لیئے مال غنیمت اور فیئی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ منسوخ ہے۔ اور اس کے سوانحیں کہ یابتداء اسلام میں تھا۔ (ماخذ ازم رقات ونبل الاوطار)

5252

عبداللہ بن ابی آؤنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے اپنے بعض الان دونوں میں جمن میں دشمن سے مقابلہ ہوا تھا، انتظار کیا یہاں تک کہ سورج

ذوبنے لگ تو آپ علیہ صلاۃ للہ نے لوگوں میں کہرے ہوکر فرمایا لے لوگو! دشمن سے مقابلہ کی تمنا مت کرو

اور اللہ تعالیٰ عافیت مانگو اور جب تہماری مد بھیڑ ہوجائے تو جہ رہو اور جان لو کہ جنگ تلوارول کی

چھاؤل میں ہے پھر فرمایا: اے اللہ! کتاب کواتار نے وا لے اور بدل کو چلا نے وا لے اور شکرول کو

شکست دینے وا لے، ان کوشکست دیے اور ان کے خلاف ہماری مد فرماء۔ (متفق علیہ)

Abdullah ibn Abi Awfa (may Allah be pleased with him) narrated: On one of the days the Messenger of Allah (ﷺ) faced the enemy, he waited until the sun tilted, then stood among the people and said: "O people, do not wish to meet the enemy and ask Allah for safety. But if you meet them, be patient, and know that Paradise is under the shade of swords." Then he said: "O Allah, Revealer of the Book, Mover of the clouds, Defeater of the confederates, defeat them and grant us victory over them." [Narrated by Bukhari and Muslim]

5253

نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک رہا پس جب آپ علیہ صلاۃ للہ ون کے اول حصہ میں جنگ نہیں کرتے تو

انتظار کرتے یہاں کی ہوا میں چلتیں اور نماز کا وقت آ جاتا۔ (بخاری)

Nu‘man ibn Muqarrin (may Allah be pleased with him) narrated: I witnessed fighting with the Messenger of Allah (ﷺ). If he did not fight at the beginning of the day, he would wait until the breezes blew and the prayer time arrived. [Narrated by Bukhari]

5254

ابی سے روایت سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا۔ اگر

آپ علیہ صلاۃ للہ ون کے ابتدا میں حصہ میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے یہاں تک کہ سورج ظہل جاتا اور

ہوا میں چلتیں اور مدد اتر آتی۔ (ابوداوود)

From the same (may Allah be pleased with him), he narrated: I witnessed with the Messenger of Allah (ﷺ) that if he did not fight at the beginning of the day, he would wait until the sun passed its zenith, the winds blew, and victory descended. [Narrated by Abu Dawud]

5255

قداح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک رہا ہوں پس جب فجر طلوع ہوتی تو آپ علیہ صلاۃ للہ

رک جاتے ہیں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا پس جب سورج طلوع ہوجاتا تو پھر جنگ کرتے پس

جب آدھا دن ہوجاتا تو رک جاتے یہاں تک کہ سورج ظہل جاتا پس جب سورج ظہل جاتا تو پھر

عصر تک جنگ کر تے پھر عصر کی نماز پڑھنے تک رک جائے پھر جنگ کر تے - قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس وقت کہماجاتا تھامددکی ہوا کین تمیز ہوجائی تحسین اورمسلمان اپنی فوجوں کے لئے اپنی نمازوں میں وعا میں کرتے -(ترمزی)

Qatadah narrated from Nu‘man ibn Muqarrin: I went on an expedition with the Prophet (ﷺ). When dawn broke, he would pause (1) until the sun rose. When it rose, he would fight. When midday arrived, he would pause until the sun passed its zenith. When it passed, he would fight until Asr. Then he would pause until he prayed Asr, then fight again. Qatadah said: It was said at that time that the winds of victory would stir, and the believers would pray for their armies in their prayers. [Narrated by Tirmidhi]

(6)

قولہ : فکان اذا طلع الفجر امسک الخ (پس جب فجر طلوع ہوجاتی تو آپ علی اللہ علیہ وسلم رک

جا تے )ہوسکتا ہے یہ صورت میں سے جب کہ آپ علی اللہ علیہ وسلم جنگ کا آغاز کر رہے ہوں اور صلوۃ خوف اس

وقت سے جب کہ کفار کا غلبہ ہو (مرقات)

5256

اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کسی قوم سے جنگ کرتے تو جنگ شروع نہیں کرتے پہلے تک کرچھ ہوجائی اور ان کی طرف دکھتا پس اگراذان کو سنے تو رک جاتے 7اور اگراذان کی آواز نہیں سنے تو ان پرحمل کردیتے -8- انہوں نے کہا پس تم خبری طرف نہک اور ان کے پاس رات میں کنچپس جب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحح کی اوراذان نہیں سنی تو آپ علیہ السلام سوار ہوگئے اور میں مجھی ابلطیر کے پیچپیچ سوار ہوگیا اور یقیناً میرے قدموں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمس مہوبرے تھے انہوں نے کہا پس وہہماری طرف اپنے لوکرے اور پجاوترے لےآئے پس جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا تو کہنے لگے محمد (علیہ السلام ) خدا کی قسم محمد اور فونج -پس وہقلعمیں پناہ لے لے -جب رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر خیبر اجرگیا۔ جب تمام کسی قوم کے میدان

(صحن) میں اترتے ہیں تو جن کوآ گاہ کیا گیا تھا ان کی صبح بری ہو جائی ہے۔ (متفق علیہ)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) went on an expedition against a people, he would not attack until morning, observing them. If he heard (1) the call to prayer, he would refrain from attacking them. If (2) he did not hear the call to prayer, he would raid them. He said: We went to Khaybar and reached them at night. When morning came and he did not hear the call to prayer, he rode, and I rode behind Abu Talhah, my foot touching the Prophet’s foot. They came out to us with their picks and spades. When they saw the Prophet (ﷺ), they said: "Muhammad, by Allah, Muhammad and the army!" They fled to the fortress. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw them, he said: "Allah is Greater, Allah is Greater! Khaybar is ruined. When we descend upon a people’s courtyard, evil is the morning of those warned." [Narrated by Bukhari and Muslim]

7قوله: فان سمع اذاناً کفّ عنہم الخ (پس اذالسنے تو رک جاتے) خطابی نے کہاہے کاس میں اس بات کاپیانہے کراذان دونی اسلام کاشعارتہ اس کوچھوڑنا جائز نہیں ہے اوراگر کسی شہر والے اس کوچھوڑنے پر اتفاق کر لیں تو باشہ کواس پرانے سے جنگ کرنے کا حق ہے اورہمارے انبہ کرام میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ایسا کہ منقول ہے - (مرقات) اورصاحب عمدۃ القاری نے کہاہے کر علمہتمی نے کہاہے کراذان کی وجہ سے خوزیزی روک دی جاتی ہے اس لے کر اس میں تو حید کی شہادت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار ہے اورپیالوگول کے لے ہے جن کو دعوت پچھی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کو سننے تک الان سے قبال کوروک دیتے تاکر معلوم ہوکہ پیالوگ دعوت کو قبول کرنے والوں میں سے ہیں یا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کروہ آپ علیہ السلام کے دین کو دوسروں تمام ادیان پر غالب کرے گا اورآپ ان کے اسلام کی امید رکھتے تھے اورآپ نے تک دعوت پچھی ہے ان سے اذان کو سننے تک قبال کورو کنا انبہ کے لئے ضروری نہیں کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی سرشٹی معلوم ہوچکی ہے اس لے ان کے بارے میں اس موقع کا فائدہ اٹھانا کی مناسب ہے -
8قوله: وان لم يسمع أذاناً اغار عليهم (اوراگراذان نہیں سنے تو ان پرحمل کردیتے) اس میں اس بات کی ویل ہے کہ جس کو دعوت اسلام کے پیچپیچ ہواس کو دوبارہ دعوت دے بلغراس سے قبال کیا جاسکتا ہے اس حدیث شریف میں اورباب الدعوت فی القتال،، میں جو حدیث شریف گزری ہے دولوں کواس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کدوبارہ دعوت دینا شرط نہیں ہے بلکہ مستحب ہے -(فتح القدیر، نیل الاوطار، بدایی)
5257

عصام مرفن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ہم کو ایک سری میں روانہ فرمایا اور فرمایا کہ جب تم کوئی مسجد دیکھو تو کوئی کوئی مت

کرو۔ (تزکیہ، ابوداود)

وقولہ: اذا رایتم مسجدا او سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا احدا (جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موؤذن کو سنون تو

کسی کو قتل مت کرو) اس میں اس بات کی ویل ہے کہ کسی شہر میں صرف مسجد کا پایا جانا و بال کے باشندگان کے مسلمان

ہونے کی ویل ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ازکن سناگی نہ دے کیونکہ جبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوجی وستون کو حکم دیا کرتے کردو

چیزول میں کسی ایک چیز کی وجہ سے جنگ سے رک جاو۔ 1 -مسجد کا پایا جانا۔ 2 - ازکن کا سناگی و پنا۔ (نیل الاوطار)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

It is narrated from 'Isam al-Muradi (RA) that the Messenger of Allah ﷺ

sent us out in a detachment and said, 'When you see any mosque, perform some prayer in it.' (Tazkiyah, Abu Dawud)

وقولہ: اذا رایتم مسجدا او سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا احدا (جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موؤذن کو سنون تو

کسی کو قتل مت کرو) اس میں اس بات کی ویل ہے کہ کسی شہر میں صرف مسجد کا پایا جانا و بال کے باشندگان کے مسلمان

ہونے کی ویل ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ازکن سناگی نہ دے کیونکہ جبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوجی وستون کو حکم دیا کرتے کردو

چیزول میں کسی ایک چیز کی وجہ سے جنگ سے رک جاو۔ 1 -مسجد کا پایا جانا۔ 2 - ازکن کا سناگی و پنا۔ (نیل الاوطار)