آداب سفر
Etiquettes of Travel
كعب بن ماك رضي اللہ تعالی عز و جل روايت سے کہ کہا کہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوك کے لیے جمعیت کے دونوں طرف پعلیہ جمعیت کے دونوں طرف پسند فرماتے تھے۔ (بخاری)
كعب بن ماک رضی اللہ تعالی عز و جل روايت سے کہ کہا کہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوك کے لیے جمعیت کے دونوں طرف پعلیہ جمعیت کے دونوں طرف پسند فرماتے تھے۔ (بخاری)
Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) set out on a Thursday during the expedition of Tabuk, and he liked to set out on a Thursday. [Narrated by Bukhari]
صخر بن وداع عامی سے روايت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: اے اللہ! تو میری امت کے لئے اس کی صحح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما۔ اور آپ صلاۃ اللہ علیہ جب کوئی چھوٹا یا بڑا شکر روانہ فرما تو اس کودن کے ابتدائی حصر میں روانہ فرما تو اور صخر ایک تاجر تھا جو اپنی تجارت دن کے ابتدائی حضر میں روانہ کرتے تھے چنانچہ وہ مالدار ہوگیا اور ان کا مال بڑھتے ہوگیا۔ (وہ بہت مالدار ہوگیا)۔ (ترمذی، البوداوود، داری)
صخر بن وداع عامی سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کے لئے اس کی صحح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما۔ اور آپ صلاۃ اللہ علیہ جب کوئی چھوٹا یا بڑا شکر روانہ فرما تو اس کودن کے ابتدائی حصر میں روانہ فرما تو اور صخر ایک تاجر تھا جو اپنی تجارت دن کے ابتدائی حضر میں روانہ کرتے تھے چنانچہ وہ مالدار ہوگیا اور ان کا مال بڑھتے ہوگیا۔ (وہ بہت مالدار ہوگیا)۔ (ترمذی، البوداوود، داری)
Sakhr ibn Wada‘ah al-Ghamidi (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "(1) O Allah, bless my nation in their early mornings." Whenever he sent out a detachment or army, he sent them at the beginning of the day. Sakhr was a merchant, and whenever he sent out a trade caravan, he sent it at the beginning of the day, so he prospered and his wealth increased. [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ad-Darimi]
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روايت سے کہ کہا کہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن رواحد کو ایک فوجی دستہ میں روانہ فرمايا اور وہ جمع کا دن تھا، ان کے ساتھی صحح پچلے گئے اور انہوں نے کہا میں پچھڑہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز (جمع) پڑھون گا پھر ان سے جا ملون گا۔ پس جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلاۃ اللہ علیہ نے فرمايا: اگر تم زمین میں جو پڑھو تو سارا خرچ کروتو جو ان کے صحح جانے کی فضیلت کو اپنیس کے۔ (ترمذی)
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت سے کہ کہا کہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن رواحد کو ایک فوجی دستہ میں روانہ فرمایا اور وہ جمع کا دن تھا، ان کے ساتھی صحح پچلے گئے اور انہوں نے کہا میں پچھڑہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز (جمع) پڑھون گا پھر ان سے جا ملون گا۔ پس جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلاۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر تم زمین میں جو پڑھو تو سارا خرچ کروتو جو ان کے صحح جانے کی فضیلت کو اپنیس کے۔ (ترمذی)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (ﷺ) sent Abdullah ibn Rawahah on a detachment, and it happened to be on a Friday. His companions set out in the morning, but he said: "I will stay behind to pray with the Messenger of Allah (ﷺ), then join them." When he prayed with the Messenger of Allah (ﷺ), the Prophet saw him and said: "What prevented you from setting out with your companions?" He said: "I wanted to pray with you, then join them." He said: "If you spent all that is in the earth, you could not attain the virtue of their setting out." [Narrated by Tirmidhi]
انس رضی اللہ تعالی عز و جل روايت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا رات میں جتنے واختیار کرو کیونکہ رات میں زمین پیٹ دی جانے ہے۔ (البوداود)
انس رضی اللہ تعالی عز و جل روايت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات میں جتنے واختیار کرو کیونکہ رات میں زمین پیٹ دی جانے ہے۔ (البوداود)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Keep to traveling by night, for the earth is folded up at night." [Narrated by Abu Dawud]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روايت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا اگر لوگ جان میں اس چیز کو جو تھانی میں جسیا کہ میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ جان میں اس چیز کو جو تھانی میں جسیا کہ میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں
تھا سفرنے کرے گا۔ (بخاری)2
He will undertake a journey. (Bukhari)
قولہ: اللہم بارک لامتی فی بكورها الخ (اے اللہ تو میری امت کے لئے اس کی صحح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور آپ صلاۃ اللہ علیہ کے اس عمل کی بناء پر صحح کے ابتدائی وقت میں سفر کرنا، تحصیل علم کرنا اور معیشت کا کام کرنا وغیرہ کا سنت ہوئی ثابت ہوا۔ (ماخوذ از بلد اللہجوہ، مرقات)
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دوسرے دو شیطان ہیں اور تین سوار، سوار
ہیں۔ (ماکے، ترنڈی، ابوداود، نسائی)
Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "One rider is a devil, two riders are two devils, and three are a traveling party." [Narrated by Malik, Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa’i]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا۔ہترین ساٹھی (سفر کے) چار ہیں اور بہترین سرپیا (چھوٹا فوٹی دستہ) چار سو کا ہے۔بہترین
فوٹی لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد کم ہونے کی بناء پر ہرگز مغلوب نہیں ہوگی۔(ترنڈی،
ابوداود، داری، اورامام ترنڈی نے کہا کہ یہ حدیث غیریب ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The best of companions are four, the best of detachments are four hundred, the best of armies are four thousand, and twelve thousand will not be defeated due to small numbers." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ad-Darimi]
الوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا جب کسی سفر میں دو آدمی ہوں تو ان میں کسی ایک کو وہ امیر بنائیں۔3(ابوداود)
When there are two men on a journey, one of them should be appointed as the leader.
سهل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا قوم کا سردار سفر میں ان کا خادم ہے اور خدمت کرنے میں جوان پرسبقت لے جائے تو وہ لوگ
شہادت کے سوا کسی بھی عمل سے اس پر آگئیں گے۔(نہیں شعب الایمان)
Sahl ibn Sa‘d (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The leader of a people on a journey is their servant. Whoever surpasses them in service is not surpassed by them in any deed except martyrdom." [Narrated by Al-Bayhaqi in (Shu‘ab al-Iman)]
الوثعلبہ حشیم سے روایت ہے لوگ جب کسی مقام میں اترتے ہیں اور
وادیوں میں اگر اگل چھیل جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ان گھاٹیوں
اور وادیوں میں اگر اگل ہوجانا شیطان ہی کی طرف سے ہے۔پس اس کے بعد وہ کسی بھی مقام
قولہ: ماسار راکب بلیل وحدہ (کوئی سوار رات میں تھا سفرنے کرے گا) مہلب نے کہا ہے کر نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کا رات میں تھا سفر کرنا سے منع فرمایا۔تھا آدمی پر شیاطین کے اندیشے سے ہے کیونکہ وہ وقت ان کے
پہلینے کا ہے۔اور ان کو گھبراہت میں ذا لے اور وسوے ذا لے اور مختلف شکوں میں ظاہر ہو کر تکلیف پہو چیا نے کے اندیشے
کی وجہ سے ہے۔اس لے لوگوں کو حم دیا ہے کر رات کے اندیہرے میں اپنے چوکور کے لیے اور باوجود اس کے تھا
تکلیف نہیں ہے وہ صرف کروہے ہے۔پس جوآدمی افضل چیزیعنی ساٹھی کو اختیار کرے گا تو وہ بہتر ہے۔اور جو تھا نکل گیا تو
وہ حرام کا نہیں کیا۔اور علمیعنی نے فرمایا اور جب تھا نکلے میں مصلحت ہو جی کسی جاسوس کو یا حالات معلوم کرنے والے
کوروانہ کرنا ہے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔(ماخوذ از عمدۃ القاری)
قولہ: فلیؤمروا احدہم لیجن ان میں کسی ایک کو اپنا امیر بنائیں تاکہ کسی بھگڑے اور اختلاف کے موقع پر
تصفیہ کرنا آسان رہے۔اور یہ حکم استحبابی ہے۔(بزل اجحور)
میں اتنے تو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے یہاں تک کہ کہا جاتا اگر ایک کپڑا
(چادر) ان پر پھیلا دی جائے تو ان سب کو ظہانپ لے گی - (ابوداود)
سہل بن معاز اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ غزوہ میں شریک ٹھلوگون نے منزل میں تگ کر دی اور راستہ بند کر دے تو اللہ کے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایک نداییں وا لے کوروان فرما یا وہ لوگوں میں ندا کرتے تھے کہ جس آدمی نے منزل
کو تگ کیا یا راستہ بند کرو یا تو اس کا کوئی جھا نمین - (ابوداود)
ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ علیہ وسلم کے
سفر میں ہوتے اور رات میں اترتے تو اپنی سیدی کروت پر لیٹ اور جب صح سے پکھ پیل اترتے تو
اپنا دست مبارک کڑا کرتے اور اپنے سرمبارک کو اپنی یلی پر کرتے - (مسلم)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے
فرما افرشتے سفر کے ان ساتحیوں کے ساتح نمیں ہوتے جن میں چی کا چمڑا ہو - (ابوداود)
ابنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرما افرشتے سفر کے
ان ساتحیوں کے ساتح نمیں رہتے جن میں کتا اور گھنٹی ہو - 4 (مسلم)
قو لہ: ولا جرس عالمیری میں سے جانورول میں گھنٹی کے لٹکانے سے متعلق علم کا اختلاف ہے ان میں
بعض نے کہا کہ ہر قسم کے سفر میں کروہے خواہ وہ جنگ ہو یا سکے سوا کوئی دوسرا وسیلہ سفر برابر ہیں اور ان کے پاس
سفر کی طرح حضر میں بھی کروہے اور اسی طرح پچول کے پاول میں گھنٹیاں باندھنا (کروہے) اور امام محمد رحمہ اللہ نے
سیر کبیر میں فرما یا گھنٹیاں باندھنا غازیوں کے لیے دار الحرب میں کروہے اور مہیں ہمارے علم کا نذہب ہے کیونکہ
دار الحرب میں جانورول کو گھنٹیاں باندھنے سے دشمن مسلمانوں کے مقام سے باخیرہ ہوجا تین گے اگر مسلمان کم تعداد
میں ہوں تو ان کی طرف جچپط کران کو قتل کر دیں یے اور اگر مسلمان بری تعداد میں ہوں تو کفاران سے نکن اور کفوظ
ہوئے نے کی کوشش کریں گے، پس اس لیے علم کے کہا قافلہ اگر دارالاسلام میں ایسے مقام میں ہو کہ طیوروں کا اندیشہ ہو تو
ایسی صورت میں کچی جانورول کو گھنٹیاں لکانا کروہے تاکہ چوران سے باخیرہ ہو جا تین اور ان کو قتل کر نے اور مال
لوٹ کی تیاری نہ کریں۔ تم نے جو جواب گھنٹی سے متعلق ذکر کیا ہے وی جواب پاول میں چھوٹی گھنٹیاں باندھنے کا بھی
ہے امام محمد رحمہ اہلِ کتاب سیر میں فرما تے ہیں اب ربا یکہ جوآ دمی دارالاسلام میں ہواوراس میں سوار کے لیے فائدہ ہو
تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Abu Tha‘labah al-Khushani (may Allah be pleased with him) narrated: When people stopped at a place, they would disperse into the ravines and valleys. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Your dispersing into these ravines and valleys is only from the devil." After that, whenever they stopped at a place, they would gather close together, to the point that it was said: If a cloth were spread over them, it would cover them all. [Narrated by Abu Dawud]
2قولہ: ماسار راکب بلیل وحدہ (کوئی سوار رات میں تھا سفرنے کرے گا) مہلب نے کہا ہے کر نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کا رات میں تھا سفر کرنا سے منع فرمایا۔تھا آدمی پر شیاطین کے اندیشے سے ہے کیونکہ وہ وقت ان کے
پہلینے کا ہے۔اور ان کو گھبراہت میں ذا لے اور وسوے ذا لے اور مختلف شکوں میں ظاہر ہو کر تکلیف پہو چیا نے کے اندیشے
کی وجہ سے ہے۔اس لے لوگوں کو حم دیا ہے کر رات کے اندیہرے میں اپنے چوکور کے لیے اور باوجود اس کے تھا
تکلیف نہیں ہے وہ صرف کروہے ہے۔پس جوآدمی افضل چیزیعنی ساٹھی کو اختیار کرے گا تو وہ بہتر ہے۔اور جو تھا نکل گیا تو
وہ حرام کا نہیں کیا۔اور علمیعنی نے فرمایا اور جب تھا نکلے میں مصلحت ہو جی کسی جاسوس کو یا حالات معلوم کرنے والے
کوروانہ کرنا ہے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔(ماخوذ از عمدۃ القاری)
قولہ: فلیؤمروا احدہم لیجن ان میں کسی ایک کو اپنا امیر بنائیں تاکہ کسی بھگڑے اور اختلاف کے موقع پر
تصفیہ کرنا آسان رہے۔اور یہ حکم استحبابی ہے۔(بزل اجحور)
سہل بن معاز اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ غزوہ میں شریک ٹھلوگون نے منزل میں تگ کر دی اور راستہ بند کر دے تو اللہ کے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایک نداییں وا لے کوروان فرما یا وہ لوگوں میں ندا کرتے تھے کہ جس آدمی نے منزل
کو تگ کیا یا راستہ بند کرو یا تو اس کا کوئی جھا نمین - (ابوداود)
Sahl ibn Mu‘adh, from his father (may Allah be pleased with him), narrated: We went on an expedition with the Prophet (ﷺ), and the people crowded the stopping places and blocked the path. The Prophet of Allah (ﷺ) sent a caller to announce among the people: "Whoever crowds a stopping place or blocks a path has no jihad." [Narrated by Abu Dawud]
ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ علیہ وسلم کے
سفر میں ہوتے اور رات میں اترتے تو اپنی سیدی کروت پر لیٹ اور جب صح سے پکھ پیل اترتے تو
اپنا دست مبارک کڑا کرتے اور اپنے سرمبارک کو اپنی یلی پر کرتے - (مسلم)
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) “when he rested at night, would lie (1) on his right side, and when he rested shortly before dawn, he would prop up his arm and place his head on his palm.” [Narrated in Sharh as-Sunnah]
(1) His statement: “lie on his right side”: It is said in Al-Alamgiriyyah: “Lying on the right side is the lying of the believer, while lying on the face is the lying of the disbelievers.”
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے
فرما افرشتے سفر کے ان ساتحیوں کے ساتح نمیں ہوتے جن میں چی کا چمڑا ہو - (ابوداود)
Angels do not accompany seven types of travelers, including those who wear the skin of a female donkey.
ابنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرما افرشتے سفر کے
ان ساتحیوں کے ساتح نمیں رہتے جن میں کتا اور گھنٹی ہو - 4 (مسلم)
From the same (may Allah be pleased with him), he narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "(2) The angels do not accompany a group with dogs or bells." [Narrated by Muslim]
4 قو لہ: ولا جرس عالمیری میں سے جانورول میں گھنٹی کے لٹکانے سے متعلق علم کا اختلاف ہے ان میں
بعض نے کہا کہ ہر قسم کے سفر میں کروہے خواہ وہ جنگ ہو یا سکے سوا کوئی دوسرا وسیلہ سفر برابر ہیں اور ان کے پاس
سفر کی طرح حضر میں بھی کروہے اور اسی طرح پچول کے پاول میں گھنٹیاں باندھنا (کروہے) اور امام محمد رحمہ اللہ نے
سیر کبیر میں فرما یا گھنٹیاں باندھنا غازیوں کے لیے دار الحرب میں کروہے اور مہیں ہمارے علم کا نذہب ہے کیونکہ
دار الحرب میں جانورول کو گھنٹیاں باندھنے سے دشمن مسلمانوں کے مقام سے باخیرہ ہوجا تین گے اگر مسلمان کم تعداد
میں ہوں تو ان کی طرف جچپط کران کو قتل کر دیں یے اور اگر مسلمان بری تعداد میں ہوں تو کفاران سے نکن اور کفوظ
ہوئے نے کی کوشش کریں گے، پس اس لیے علم کے کہا قافلہ اگر دارالاسلام میں ایسے مقام میں ہو کہ طیوروں کا اندیشہ ہو تو
ایسی صورت میں کچی جانورول کو گھنٹیاں لکانا کروہے تاکہ چوران سے باخیرہ ہو جا تین اور ان کو قتل کر نے اور مال
لوٹ کی تیاری نہ کریں۔ تم نے جو جواب گھنٹی سے متعلق ذکر کیا ہے وی جواب پاول میں چھوٹی گھنٹیاں باندھنے کا بھی
ہے امام محمد رحمہ اہلِ کتاب سیر میں فرما تے ہیں اب ربا یکہ جوآ دمی دارالاسلام میں ہواوراس میں سوار کے لیے فائدہ ہو
تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
الن،ی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہنئی شیطان
کے باچ ہیں - (مسلم )
There are children of the devil.
ابوبشیر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ
کے ساتھ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو روانہ کیا کہ باقی نہ رکھا جائے کسی بھی
اونٹ کے گل میں تانت کا اپاریا کوئی بھی بارگروہ کاٹ دیاجائے - 5 (متفق علیہ )
when the Messenger of Allah ﷺ sent a messenger to ensure that no part of any date cluster left on any camel should remain, and that any remaining clusters should be cut off.
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا جب تم ہریالی کی زمین میں سفر کر وتو اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حقر دو
اور جب تم سفر کر وقط زدہ زمین میں تو اس پر جلدی سفر کر واور جب تم رات میں
اتزوتو راستے پر کو کیوں کر وہ رات میں جانوروں کے راستے اور کیڑے کوٹوں کے
طے کا نہ ہیں -
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you travel in fertile land, give the camels their share of the earth. When you travel in barren land, hasten their pace. And when you camp at night, avoid the path, for it is the way of animals and the abode of creatures at night." In another narration: "Or when you travel in barren land, hasten to preserve their strength." [Narrated by Muslim]
اور ایک روایت میں ہے جب تم وقط زده زمین میں سفر کر وتو تم ان کو جلدی
لے چلو ان کا گر نکل آ نے سے پہلے - (مسلم )
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you travel in fertile land, give the camels their share of the earth. When you travel in barren land, hasten their pace. And when you camp at night, avoid the path, for it is the way of animals and the abode of creatures at night." In another narration: "Or when you travel in barren land, hasten to preserve their strength." [Narrated by Muslim]
الن،ی سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے
......اور انہول نے کہا کہ گہنئی لڑکا نے میں بہت فانک دے ہیں -
جوآدمی قافلے سے بھٹک جانے تو وہ گہنئی کی آواز سے ان سے ل جانے گا -
گہنئی کی آواز رات کے موؤی جانوروں کو جیسے بھیطریا وغیرہ میں قافلے سے بھگا دیتے ہے -
اور پیکر گہنئی کی آواز جانوروں میں نشاط پیدا کرتی ہے۔بس وہ حدی خوانی کی طرح ہے -(میط )
امام نووی وغیرہ نے کہا ہے کہ جمہور علماء کے پاس بیکر وہ تنزہی ہے اور اس کو کر وہ تحریکی بھی کہا گیا ہے اور یہی
کہا گیا ہے کہ پیہ بضرورت منع ہے اور ضرورت کے وقت جائز ہے۔اور امام ماکر رحم اللہ کر وہ نے کو تانت کے
ذریعہ قلاوہ ذاکرے خاص کرتے ہیں۔اور اس کے سواجب کر نظر بکودنے کرنا مقصود نہوتو جائز ہے -(عمدۃ القاری )
قو لہ : لا تبقین فی رقبة بعير قلادة من وتر الخ ( باقی نہ رکھا جائے کسی بھی اونٹ کے گل میں تانت کا
کوئی بار ) امام نووی نے کہا کہ امام محمد بن الحسن اور ان کے سوا وسرول نے بھی کہا ہے کر اس کے معنی یہی کہ تم ریشم کے
تا نت کا بارمت ذو الوتا کے اس کی گرد ن میں تگ نہ ہوئیں اور اس کا گلانہ گھٹ جائے - ( انتہی ) اور اس سے پہلے گزر چکا
ہے کہ بعض دفعوں جانور کی درخت کو چڑے کا اس سے اپنی گرد ن کو ہجا یے کا تو وہ اس سے اٹک جائے گا -(مرقات )
جانورول کی پیٹ کو منہبر مت بناو - 6 پیشک اللہ نے اس کے سوانحیس کر ان کو تمہارے لے مسخ کیا تاکہ
وہ تم کو اپنے شہرت کے پچھا چس جہال تم جان تو رزمحت کے بغیر نہیں پچھ سکتا اوراس نے تمہارے لے
زمین بنائی ہے پس تم اس پر اپنی ضرورت کو پورا کیا کرو - (ابوداؤد)
O people, I advise you: If a man gets lost from his caravan, he will be guided by the sound of the camel's bell. The sound of the camel's bell drives away nocturnal animals such as hyenas and others from the caravan. And the sound of the camel's bell invigorates the animals. It is like the call of a herald. Imam Nawawi and others have said that the majority of scholars consider it permissible and even praiseworthy, and it is said that it is prohibited out of necessity but allowed in times of need. Imam Makki (RA) used it to praise specific camels through their bells, and making the sound of the bell for the purpose of frightening animals is permissible. (Umdat al-Qari)
He said: 'Do not leave a single camel with a necklace made of odd-numbered strings.' Imam Nawawi said that Imam Muhammad bin al-Hasan and others have also said that its meaning is that you should not let the camel have a necklace made of silk threads so that it does not become entangled around its neck and cause it to lose its collar. (End)
And it has been mentioned before that sometimes when an animal climbs a tree, its neck can get entangled, causing it to get stuck. (Mirqat)
Do not make the animal's belly a burden. Allah has created it for your service so that it may follow you for your fame, and you cannot achieve fame without struggle. And He has made the earth for you, so fulfill your needs on it. (Abu Dawud)
نفل نماز میں نہیں پڑھا کرتے تھا آ کہ سوار یول کو تم کول دیتے - (ابوداؤد)
He used to not recite in the voluntary prayer, for he would say to the rider: 'Recite to them.'
ابوسعید رضی اللہ تعالی عمنے روایت کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ ایک سفر میں تھے کر ایک آدمی ایک سواری پر آیا پس وہ سیدے اور باقی مارنے لگا تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے ساتھ زانکسواری ہوتا اس کو وہ اس آدمی کو دے جس کے
پاس سواری نہیں تھے۔ اور جس کے پاس زانکو شہب تو اس کو وہ اس آدمی کو دے جس کے پاس
تو شہب نہیں تھے۔ انہوں نے کہا آپ پصلی اللہ علیہ وسلم مال کے انواع میں اس ذکر کرتے گے یہ حال
تک کہ تم جو کہ تم میں سے کسی کو زاگر چیز میں کوئی حق نہیں تھے - (مسلم)
Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: While we were traveling with the Messenger of Allah (ﷺ), a man came on his mount, looking right and left. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "(1) Whoever has an extra mount should offer it to one who has none, and whoever has extra provisions should offer them to one who has none." He mentioned various types of wealth, to the point that we thought none of us had a right to anything extra. [Narrated by Muslim]
سعید بن الی بن دا بوعبریہ رضی اللہ تعالی عمنے روایت کرتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچھاونٹ شیطانول کے لے ہوتے ہیں اور پچھاگر شیطانول کے
ہوتے ہیں اب را شیطانول کے اونٹ، میں ان کو کچھا ہول تم میں کا کوئی اپنے ساتھ اپنے اونٹ
لے کر نقل کرے جس کو وہ موٹا کیا ہے پس وہ ان میں سے ایک اونٹ پر نہیں سوار ہوتا اور اپنے کسی ایسے
مجاہد کے پاس سے گزرتا ہے جو عاجز ہوگیا ہے تو وہ اس کو سوار نہیں کرتا۔ اب رباشیط انول کے گھر تو میں اس کو بیجا نہیں ہول۔ سعید کہتے ہیں مجھتا ہول کروہ پی پہجرے میں جس میں لوگ ریشم کے پردے ڈالے ہیں۔ (ابوداود)
The one who asks for a camel from the devils will be given it, and the one who asks for a donkey from the devils will be given it. As for the one who asks for a camel from the devils, I will make them weak, so none of them will ride a fat camel, nor will they ride any such mount. And when they pass by a mujahid who has become weak, they will not let him ride. As for the one who asks for a house from the devils, I will not give it to him. Saeed says: I saw him in the city of Kufa, where people had silk curtains hung.
6قولہ: لا تتخذوا ظہور دوابکم منابر (تم اپنے جانورول کی پیٹ کو منہبر مت بناو) خطابی نے کہا یہ بات
ثابت ہے کر نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر کہتے ہو کر خطبہ فرمایا پس اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ
سوار یول کی پشت پر خطہ نا اگراس کی کوئی ضرورت ہو یا کسی ایسی حاجت کو پورا کرنا ہو جوز میں پارتے نہ سے پوری نہیں
ہوسکتی تو (سواری پر خطہ نا) مباح ہے اس کے سوانحیس کر اس پر خطہ نہ کی یہ ممانعت ایسی صورت میں ہے جب کر اس
کے لے ضروری بات نہ ہو ورنہ سواری کو بلا ضرورت مشقت میں ڈالنا ہے -
قولہ: من کان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له الخ (جس کے ساتھ زانکسواری ہوتا وہ
اس کو اس آدمی کو دے جس کے پاس سواری نہیں تھے) امام نووی نے کہا کر اس میں ساتحیون اور احباب کے ساتھ صدقہ،
ہمدردی اور احسان کر نے اور ان کی مصلحت کو کا خیال رکھا اور ضرورت مند کی ضرورت ان کے بغیر مطالبہ کے داد و دش کے
ذریعہ پورا کر نے کی ترغیب ہے اگرچہ اس کے پاس سواری ہو اور اس پر پڑھ لے ہول اگرچہ وہ اپنے وطن میں مالدار
ہوتا ایسی حالت میں اس کو زکوۃ میں سے بھی دیا جاسکتا ہے - (مرقات)
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں چچہ رہتے اور کمزور کونی کے ساتھ آ کے برہا تے اور پچپی سوار کر لیتے اور ان کے لے دعا کرتے۔ (ابوداود)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would stay back during the journey, urging on the weak, giving a ride to those behind, and praying for them. [Narrated by Abu Dawud]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک طرزاہے 8 وہ تم میں کا ایک ایک کواس کی نیندے اور اس کے پینے سے روکتا ہے اور جب وہا پچی ضرورت اس (سفر) سے پوری کر لے تو وہا پینے گھر والوں کی طرف جلدی لوٹ جاتے۔ (متفق علیہ)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "(1) Travel is a piece of torment; it deprives one of you of sleep, food, and drink. So when one of you has fulfilled the purpose of his journey, let him hasten back to his family." [Narrated by Bukhari and Muslim]
عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفرتے تشریف لا تے تو آپ علیہ صلاۃ اللہ کے خاندان کے پچول کو آپ علیہ صلاۃ اللہ کے ساتھ کیا جاتا۔ جب آپ علیہ صلاۃ اللہ ایک سفرتے تشریف لا لے تو مجھ آپ علیہ صلاۃ اللہ کے ساتمن پر ہا یا گیا آپ علیہ صلاۃ اللہ نے مجھ اپنے ساتمن پر ہا لیا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصا حجز ادول میں سے کسی ایک کو لا یا گیا تو ان کو آپ پچپی پر ہا لیا جب تم میں میں داخل ہوئے تین آدمی ایک سواری پر تے۔ (مسلم)
Abdullah ibn Ja‘far (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) returned from a journey, he would be met by the children of his household. He returned from a journey, and I was brought to him first, so he carried me in front of him. Then one of Fatimah’s sons was brought, and he placed him behind him. He said: "Thus, we entered Madinah, three of us on one mount." [Narrated by Muslim]
8قولہ: السفر قطعة من العذاب الخ (سفر عذاب کا ایک طرزاہے) ثرح السنبلہ کراس میں زانی کو شہر بد رکرنے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یہ۔ "وَلَیْشُهْدُ عَذَابُهُمَا طَائِفَۃً مِّنَ الْمُؤْمِنِنَ" (24 سورۃ النور، آیت نمبر:2) ان کے عذاب کے موقع پر مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے۔ اور تغریب لیجنی شہر بد ر کرنا مجھی کوڑے لگانے کی طرح ایک عذاب ہے۔ یہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس ہے اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ تغریب لیجنی عذاب ہے لیکن امام عظیم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس اس سے مراد یہی ہے یا نہیں؟ اس میں کلام ہے اور اختلاف اس بارے میں ہے کروہ حد کے طور پے یا سیاسی مصلحت کی بناء پر ہے۔ صاحب بدایت کہتا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد "فَاجْلِدُوْہُمْ" ہماری دلیل ہے، حرف "فَا" سے معلوم ہوتا ہے جلدی نی کوڑے لگانا کامل سزاہے یا س با ت سے ساری ذکورہ با ت جلدی کوڑے لگانے کی بی یہ اور اس مسئلہ پر نقل کتاب الحدو میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔
9قولہ: فادخلنا المدينة ثلاثة على دابة الخ (جب تم میں داخل ہوئے تین آدمی ایک سواری پر تے) حدیث تشریف والات کرتے ہے کہ ایک جانور پر تین آدمی بیٹھنا جائز ہے اور پیاس وقت ہے جب کہ اوپی اس کی طاقت رکھتی ہو اور جب اس میں اس کی طاقت نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔ (بذل الجحوو)
اٰنس رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے کہ وہ اور ابوظہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ آ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ کو اپنے ساتھ لے چکے بجا گئے تھے۔ (بخاری)
The noble Prophet ﷺ had gone out with Lady Safiyyah.
بریدہ رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے اس اثناء میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ ایک صاحب آ گیا ان کے ساتھ ایک گڑھا تھا اور انہوں نے عرض کیا یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سوار ہو جائیں اور وہ پیچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تمہیں تم اپنی سواری کے ساتھ کے حصہ پر بھٹنے کے زیادہ حقدار ہو 10 گجر پیکہ تم اس کو میرے
لیے کر دو تو اس کے کہا میں اس کو آپ کے لیے کر دیا تو آپ سوار ہو گئے۔ (ترمذی، ابوداود)
Buraydah (may Allah be pleased with him) narrated: While the Messenger of Allah (ﷺ) was walking, a man came with a donkey and said: "O Messenger of Allah, ride." The man stepped back, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: "(1) No, you are more entitled to the front of your animal unless you assign it to me." He said: "I assign it to you." So he rode. [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے تم جنگ بدر کے دن ہر
تمین آدمی ایک اونٹ پر تھے ابولبابہ اور علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آئی تو ان دونوں نے کہا کہ آپ علیہ کی طرف سے ہم
دونوں چلتے ہیں تو آپ علیہ نے ارشاد فرما یا تم دونوں مجھے زیادہ قوت والے نہیں ہیں 11 نہیں
تم سے بلاہ کر ثواب سے بے نیاز ہوں۔ (شرح السنہ)
Abdullah ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of Badr, every three of us shared one camel. Abu Lubabah and Ali ibn Abi Talib were the riding companions of the Messenger of Allah (ﷺ). When it was the Prophet’s turn to walk, they said: "We will walk for you." He said: "(1) You are not stronger than me, and I am not less in need of reward than you." [Narrated in Sharh as-Sunnah]
اٰنس رضی اللہ تعالی عمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے
پاس (سفرت) رات میں نہیں آتے تھے 12 اور آپ علیہ نے یا شام کے وقت پہنچے تھے۔ (متفق علیہ)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would not (1) arrive at his family’s home at night, and he would only enter in the morning or evening. [Narrated by Bukhari and Muslim]
10قولہ: لا انت احق بصدر دابتک الخ (تمہیں تم اپنی سواری کے ساتھ کے حصہ پر بھٹنے کے زیادہ حق دار
ہو) اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف اور آپ علیہ کی توادع اور تلخ حقیقت کا ظہار ہے کہ پیچھے بھٹنے کو
پسند فرما یا اور ان کے خا لب رضا براعت مدن فرما یا۔ (مرقات)
صاحب بزل انجحو و نے کہا ہے کہ آپ علیہ کا فرمانا باوجود پیکر انہوں نے اپنی سواری کے ساتھ کا حصہ آپ
کے لیے کر دیا تھا مستلہ پرتعبیر کرنے کے لیے تھا۔
قولہ: قال ما انتما باقوی منی، و ما انا باغنى عن الاجر منکما الخ (تم دونوں مجھے زیادہ
قوت والے نہیں ہیں نہیں تم سے بلاہ کر ثواب سے بے نیاز ہوں) علامہ طیبی نے کہا اس میں آپ علیہ کا انتہائی ظہار
توادع اور ساتھیوں کے ساتھ بہترودی اور اللہ تعالی کی طرف اپنی احتیاج کا ظہار ہے۔ (مرقات)
قولہ: لا يطرق اهلہ ليلا الخ (اپنے گھر والوں کے پاس (سفرت) رات میں نہیں آتے تھے) امام نووی نے
کہا ہے کہ جو شخص طویل سفر کیا ہوا س کے لیے رات کے وقت آنا کروہے اور لیکن حس نے قربی سفر کیا ہوا راس کے رات میں
آجانے کی توافع ہواور اسی طرح جس کا سفر طویل ربا لیکن اس کے آنے کی اطلاع مشہور ہواور اس کی پیوی کو جی اس کا آنا معلوم ہو تو
ایسے آدی کے لیے رات میں آنا کروہیں بلے کیوکر اس کا (اس کی کراہت کا) جو سب تھا وہ ختم ہو گیا کیوں کہ مقصد (عورت کا اس
کے لیے) تیار ہونا ہے وہ حاصل ہو گیا میں کہتا ہوں کہ (اس کے لیے پیچھے کے بعد) دروازہ کھل کر اتنا اور جواب کا انتظار کرنا ضروری
ہے اور ان کا اس کو کروہ کہ نہایت شرعی تواعد کے تقاضہ کی بناء پر میں ہے بلکہ فلسفي حکم کے کلام کے مطابق ہے۔ (مرقات)
جا بر رضی اللہ تعالی عمنہ روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں کوئی طویل مدت تک غائب رہے تو اپنے گھر والون میں رات میں نہ آجائے۔ (متفق علیہ)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you has been absent for a long time, he should not arrive at his family’s home at night." [Narrated by Bukhari and Muslim]
Abu Dawud narrated from him that the Prophet (ﷺ) said: "(2) The best time for a man to enter upon his family when returning from a journey is at the beginning of the night."
امام ابوداود نے انہیں سے تخریج کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب سفر سے آکر توانے گھر والون میں آنے کا سب سے بہتر وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you has been absent for a long time, he should not arrive at his family’s home at night." [Narrated by Bukhari and Muslim]
Abu Dawud narrated from him that the Prophet (ﷺ) said: "(2) The best time for a man to enter upon his family when returning from a journey is at the beginning of the night."
انہیں سے روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم راستے میں آؤ تو اپنے گھر والون میں مت آ قیہال تک کے عورت جس کا شوہر غائب تھا بال صاف کر لے اور جو پر اگنده بال تھی صاف کر لے۔
From the same (may Allah be pleased with him), he narrated that the Prophet (ﷺ) said: "If you enter at night, do not come to your family until (3) the one who has been absent prepares herself and the disheveled one combs her hair." [Narrated by Bukhari and Muslim]
کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے نہیں آتے تھے گردون میں چاشت کے وقت تشریف لا تے اور جب تشریف لا تے تو مسجد سے ابتداء فرما تے پس اس میں دور کے نماز پڑھتے پھر لوگوں کے لیے اس میں تشریف فرما جاتے۔
the Noble Prophet ﷺ would not return from a journey except at the time of the Asr prayer, and when he would return, he would begin with the mosque, then pray the missed Asr prayer, and thereafter visit the people.
مقطع بن مقدام سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھے۔
پڑھتا ہے جس وقت وہ سفر کا ارادہ کرتا ہے۔ (طبرانی)
چھوٹا اکونی جیسی ایسے گھروالوں کے پاس کوئی بھی چیز ان دور کے تون سے فضل جس کو وہ ان کے پاس
He reads when he intends to travel. (Tabarani) A small akuni-like thing, any item of surplus from those days, with any of his household.
13قولہ: اذا قدم من سفر اول الليل (اپنے گھر والون میں آنے کا سب سے بہتر وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔) صاحب لمعات نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اوراس حدیث میں جس میں رات میں آنے سے منع کیا گیا ہے تین اس طرح ہے۔ اس حدیث کو قریبی سفر پر محول کیا جا سکتا ہے امام نووی نے کہا اوراس طرح جب سفر طویل ہو جائے اوراس کے آنے کی خبر کی مشہور ہو جائے تو ایسی صورت میں (رات میں آنے میں) کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ مقصد (عورت کا) تیاری کرنا ہے اور وہ اس سے حاصل ہو گیا ہے۔ اور یہی کہا گیا ہے کہ اپنے گھر والون میں آنے سے مراد جماعت ہے کیونکہ مسافر پر دور رہنے کی وجہ سے شہوت کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ خواہش سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور جب وہ اول رات میں اپنی خواہش پوری کر لے تو اس کا بدن بلکہ اور نفس میں سکون رہے گا اور نئی کہی خوشگوار رہے گی۔ نیز اس میں اظهار محبت اور اظهار شوق اور حقوق کی ادائیگی میں جلدی ہے اور انتظار کی تکلیف کو دور کرنا ہے۔ (مرقات)
قولہ: حتی تستحد المغیبة (یہاں تک کہ جس کا شوہر غائب تھا بال صاف کر لے) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس داد کے مراد زیر ناف کے بال صاف کرنا ہے کیونکہ اس سے عام طور پر عورتوں میں جو عادت ہے بال کو اکثر نا اور "نورہ" چونا و غیرہ کا استعمال کرنا ہے۔ اسٹر کا استعمال مراد نہیں ہے کیونکہ یہ عورتوں کے لیے مستحسن نہیں ہے۔
علی و سلم کے ساتھ تھا۔ جب انہیں پینے کے لیے پانی کی کھائی میں مسجد میں جا او راس میں دور کے ت
جا بر ضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کر میں ایک سفر میں نہیں اکرم صلی اللہ
Ali was with him. When they went to the well in the mosque to drink water, the Messenger of Allah ﷺ removed the dust from his head. In a journey, I did not see him (RA) do this.
ا نہیں سے روایت سے کہ نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف
لا تو آپ علیہ صلی اللہ نے ایک اونٹ یا ایک گاڑی کے ذریعے گی۔16(بخاری)
قولہ: فصل فيه ركعتين (تم مسجد میں جا او راس میں دور کے تونماز پڑھو) صاحب درمتار نے کہا کہ
کے سفر کی دور کعتین اور سفر سے آنے کے وقت کی دور کعتین مستحب ہیں۔اورشامی نے کہا کہ صاحب درمتار کا قول
ركعتا السفر اخ (سفر کی دور کعتین اور واپسی پر دور کعتون سے متعلق) مقطم بن مقدام سے روایت سے انہوں نے کہا کہ
حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: ما خلف احد عند اہله افضل من رکعتین......الخ آدمی جوسفر کا
ارادہ کرتا ہے تو نہیں چھوٹا اسے گھروالوں میں کوئی چیز ان دور کے تون سے فضل جس کو وہ ان کے پاس پڑھتا ہے۔
(طبرانی)
اور کعب بن مالک سے روایت سے رسول اللہ علیہ وسلم سفر سے نہیں آنے تک گرن میں چا شت کے
وقت اور جب آپ علیہ صلی اللہ تشریف لا تو مسجد سے آغاز فراماتے اس میں دور کے تونماز پڑھتے چھراس میں تشریف
رکعت۔(مسلم)
اور شرح منہی میں ہے جس کا خلاصہ یہ کہ سفر کی دور کے ت کو گھر میں پڑھنے اور سفر سے آنے کے بعد کی دور
رکعتین مسیر میں پڑھنے سے خاص ہیں۔اور حضرات شوا فح نے اس کی صراحت کی ہے۔(بذل المجہود)
قولہ: لما قدم المدينة نحر جزورا الخ (جب مدینہ منورہ تشریف لا تو آپ علیہ صلی اللہ نے ایک
اونٹ یا ایک گاڑی کے ذریعے گی۔) ملا علی قاری نے فرمایا سفر سے آنے والے کے لے سنت سے کر وہ اپنی وسعت کے بقدر
مہمانی کا انظام کرے۔(ابن ملک)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ka‘b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) would not return from a journey except during the day, in the forenoon. When he arrived, he would begin at the mosque, pray two rak‘ahs, and then sit there. [Narrated by Bukhari and Muslim]
At-Tabarani narrated from Miqdam ibn Maqdam that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one leaves behind with his family anything better than two rak‘ahs he prays with them when intending to travel."