Nūr al-Maṣābīḥ
باب اعداد آلۃ الجهاد

جہاد کے آلتوں کی تیاری کا بیان

Preparing the Equipment of Jihad
Volume 7 · Jihad

الل تعالي كا رشاد و اعدوا لهم ما استطعتم من قوه ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم سور انفال ار اي نمبر

ترجمہ: اور تم جہال تک ہوسکے ان کے مقابلے کے لیے قوت تیار کرواور گھوڑوں کو باندے رکھو

جس سے تم اللہ کے دشمن کو اور تمہارے دشمن پر دهاک بھلا کے رکھو گے۔

And prepare against them whatever force you can and horses tethered, so that thereby you may terrify the enemy of Allah and your enemy.

5177

عقیہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

منبر پر فرامنے ہوئے سناتا تھا (وَ أَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِّن قُوَّةٍ )اورتم ان (رشمنان

اسلام) کے لیے تم سے جس قدر ہو سکے قوت تیار کرو۔

سنو! بلاشبہ قوت تو تیراندازی (تتحیار چلانا) سے نہیں ہے۔ سنو! بلاشبہ قوت تو تیراندازی سے نہیں ہے۔ سنو!

بلا شبہ قوت تو تیراندازی ہے۔ (مسلم)

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) while he was on the pulpit saying: And prepare against them whatever you are able of power [Al-Anfal: 60]. "Indeed, (1) the power is archery, indeed, the power is archery, indeed, the power is archery." [Narrated by Muslim]

5178

انہیں روایت سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرامنے ہوئے سنا

ہے، عنقریب روم کی حکومت تمہارے لے فتح ہو جائے گی اور اللہ تمہارے لے کافی ہے۔ پس تم میں

سے کوئی عاجز نہ ہو جائے اپنے تیروں سے کھینچ میں۔ (مسلم)

From the same (may Allah be pleased with him), he narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Lands will be opened for you, and Allah will suffice you, so let none of you be incapable of practicing with his arrows." [Narrated by Muslim]

1قولہ: الا ان القوۃ الرمی الخ (سنو! بلاشبہ قوت تو تیراندازی ہے)صاحب مسوعی نے کہا سے

مراد حصر کرنا نہیں ہے بلکہ فرد کامل مراد ہے۔ صاحب نیل الاوطار اور قطبی نے کہا ہے کہ قوت کی تفسیر رمی (تیراندازی)

سے جب کہ قوت جنگ کے دوسرے آلتوں کی تیاری سے بھی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے کیا کچھ کہ کر میں نے دشمن کو سخت

نقصان پہنچانے کے اوراس کا خرچ کم ہے اور میں لگر کے سردار پر تیر چلا یا جاتا ہے اور وہ گھاٹ ل ہوجاتا ہے تو اس کے پیچھے والا

بھی شکست کھا جاتا ہے۔ اوراس (جملہ) کویہی (سنو! بلاشبہ قوت تو تیراندازی ہے) کہر لا یا گیا ہے۔ تاکر اس کو سکینہ

اور اوزار جہاد کی تیاری کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اوراس میں دلیل سے اس بات کی کہ جہاد کے آلتوں کو سیکھنا اوراس

کی مشق کرنا اوراس کی تیاری میں توجہ کرنا یہ سب جاتے ہے۔ تاکر وہ اس سے جہاد کی مشق اور تیاری کرے۔ اور اس پر اعضاء

کواس کے لیے تیار کرے۔

5179

آنہی تیراندازی سے پھراس کو چھوڑ دے تو وہ تم میں سے بھی بنے ہے۔ افرمیاس نے نافرمی کی۔ (مسلم)

If he refrains from archery, then he is among you. Afirmayyas refused.

5180

فرما تے ہوئے سناتے کر بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا،

اس کے بنانے والے کو جوا س کے بنانے میں نہی کی نیت کرے اوراس کو چلا نے والے کو اور تیر انداز کر

دینے والے کو تم تیر چلا او رسواری کرواور پی کر تم تیر چلا وی نہی زیادہ پسندے اس بات سے کرتے سواری

کرو۔ اور ہر وہ چیز جس سے انسان کہیل کو کرتا ہے باطل ہے مگراس کا پی کمان سے تیر چلانا 2اور اپنے

گھوڑے کو سڑحا نا اورا پی پیوی کے ساتھ کہیلنا پس یہ چیزی حق یعنی درست ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

اور ابوداؤدا اورداری نے پر اضافہ کیا ہے اور جوآ دی تیراندازی سکینے کے بعد اس سے بر غبتی کر کے

چھوڑ دے تو یقیناً وہ ایک نعمت ہے جس کواس نے چھوڑ دیا آپ پعاوی سے نے فرمایا۔ اس نے اس کی ناشکری کی۔

From the same (may Allah be pleased with him), he narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Indeed, Allah admits three people into Paradise for a single arrow: the one who makes it seeking good in his craft, the one who shoots it, and the one who hands it. Shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything a Muslim man engages in for amusement is futile except (1) his shooting with his bow, training his horse, and playing with his family, for these are from the truth." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

And Abu Dawud and Ad-Darimi added: "And whoever abandons archery after learning it out of aversion to it, it is a blessing he has forsaken, or he said: he has been ungrateful for it."

5181

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوظہرہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ

علیہ وسلم کے ساتھ ایک یہ ظہال سے آٹ کر تے تھے۔ اور ابوظہرہ اتنے تیر انداز تھے جب وہ تیر

It is narrated from Anas (RA) that

Abu Dharr would sieve flour with the Prophet ﷺ. And Abu Dharr would shoot arrows as he sieved.

2قولہ: رمیہ بقوسه (اس کا پی کمان سے تیر چلانا)۔ صاحب بزل انجہو دے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

زمانے میں جنگ میں تیر چلانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پس اس میں وہ تمام چیزیں داخل ہو جاتی ہیں بلکہ اس کی جگہ وہ چیزیں ہیں جس

میں بندوق سے گولیاں چلانے جاتی ہیں اور توپیں اور ان کے سوا موجودہ زمانے میں استعمال ہوئے والے جدید آلات سب اس میں

شامل ہیں کیونکہ ان چیزوں کی وجہ سے تیر چلانے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ ان چیزوں سے تیر چلانے کو ختم ہی کر دیا ہے۔ اور امام

نووی نے فرمایا کر ان احادیث شریف میں تیر اندازی، نیزہ بازی وغیرہ کی فضیلت اور جہاد کی نیت سے ان کا اہتمام کر نے، اس طرح

اور ماہقی تهام تحقیار ول کو استعمال کر نے کی اور جسیا کر ذکر کیا جاچکا ہے گھوڑے دوڑ میں مقابلہ وغیرہ کر نے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور

اس سے مراد جنگ کی مشق کرنا اوراس میں مہارت حاصل کرنا اوراعضاء کواس کے استعمال کے قابل بنانا ہے۔

قولہ: یتنرس مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم بترس واحد۔ (ابوظہرہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

کے ساتھ ایک یہ ظہال سے آٹ کر تے تھے)۔ ابن منیر نے فرمایا کر ان احادیث میں اس شہر کا ازالہ کر ان (جنگی)

آلات کو اختیار کرنا تو کل کے خلاف سے اور تقیہ کے اعتیاط تقذر کو رک نہیں سکتی لیکن انسانی طبیعت کے وسوسے کے

دارو کو تگ کر دیتے ہے۔ (ماخوذ از فتح الباری)

5182

چلاے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گردان او پر کر کے ان کے تیرگرے کی جگہ کو دیکھے - (بخاری)

اللہ علیہ وسلم کو فراماتے ہوئے سناہے کر جس نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر پچپیا تو اس کو جنت میں ایک درجہ ہے اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر پچلا یا تو اس کو ایک آزاد کردو ہے غلام کے برابر ثواب ہے - اور جس پر اسلام کی حالت میں برہاپا آیا تو (یعنی ہاپا) اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا - (تیمی شعب الایمان)اور امام ترمذی نے دوسرا اور تیسرا حصر روایت کیا ہے -

Abu Najih as-Sulami (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever delivers an arrow in the path of Allah has a degree in Paradise, whoever shoots an arrow in the path of Allah, it is equivalent to freeing a slave, and whoever grows gray hair in Islam, it will be a light for him on the Day of Resurrection." [Narrated by Al-Bayhaqi in (Shu‘ab al-Iman)]

Abu Dawud narrated the first part, Nasa’i narrated the first and second, and Tirmidhi narrated the second and third, and in their narration: "Whoever grows gray hair in the path of Allah" instead of "in Islam."

5183

اوران دونوں کی روایت میں فی الاسم کی جگہ من شاب شییة فی سبیل اللہ (جس آدمی پر اللہ کے راستے میں برہاپا آیا ہو) ہے -

In both of their narrations, 'fi al-ism' is replaced with 'man shab sha-yin fi sabil Allah' (the person upon whom hardship came in the way of Allah).

5184

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کر اللہ کے رسول اللہ علیہ وسلم قبیلہ سلم کی ایک قوم کی طرف گئے جو بازار میں آ پس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فراما یا لے بن اسامعیل تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارے جد علی تیر انداز تھا اور میں فلال جماعت کے ساتھ ہول تو انہوں نے (دوسری جماعت والوں نے) اپنے باہوں کو روک لیا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم فراما یا تم کو کیا ہوگیا ہے؟ تو انہوں نے کہا تم کیے تیر اندازی کرین جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فلال جماعت کے ساتھ ہیں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم فراما یا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہول - (بخاری) -

Salamah ibn al-Akwa‘ (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) came upon a group from Aslam practicing archery in the market and said: "Shoot, O sons of Isma‘il, for your father was an archer, and I am with the clan of so-and-so," referring to one of the two teams. They held back their hands, and he said: "What is wrong with them?" They said: "How can we shoot when you are with the clan of so-and-so?" He said: "Shoot, and I am with all of you." [Narrated by Bukhari]

5185

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کر رسول اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ مقابلہ کھائیا کے نقل کی - پس ہمارے پچھدان گزر ہے یہاں تک کہ جب میرا گوشت برہا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور رکی اور آپ آگے برہا گیا اور فراما یا اور وہ دونوں برابر ہو گئے (احمد، ابو داود)

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) raced me, and I outran him. We stayed for a while until I gained weight, then he raced me again and outran me, and he said: "This is for that." [Narrated by Ahmad and Abu Dawud]

5186

اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کر رسول اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹی تھی اس کا نام عضبا ئر کھاگیا تھا وہ کسی سے پچھی نہیں ہوتی تھی - ایک دیہاتی اپنی سواری پر آیا اور اس سے آگے برہا گیا - مسلمانوں پر بیبات سخت گزری تورسول اللہ علیہ وسلم نے فراما یا پیشک اللہ پر یہ تھے کر دنیا کی کوئی چیز کہی بلند ہوتی ہے تو وہ اس کو پست کر دیتا ہے - (بخاری)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) had a she-camel named Al-Adba’ that was never outrun. A Bedouin came on his young camel and outran her. This was hard on the Muslims, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is a right upon Allah that nothing is raised in this world except that He lowers it." [Narrated by Bukhari]

5187

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت ہے کر رسول اللہ علیہ وسلم

نے ان گھوڑوں کے درمیان جس کو سرہا یا گیا تھا مقابلہ کروایا 4 مقام خیاءے اس کی انتہائے ثنیہ

الوداع تک سے اوران دونول کے درمیان چھ میل کا فاصلہ سے اورآپ علیسے نے مقابلہ کروایا ان

گھوڑوں کے درمیان جوسد حاے نہیں کے تے ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک اوران دونول کے

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) held races (1) between horses that were trained, from Al-Hafya’ to Thaniyyat al-Wada‘, a distance of six miles, and between horses that were not trained, from Al-Qaniyyah to the mosque of Banu Zurayq, a distance of one mile. [Narrated by Bukhari and Muslim]

And Al-Baghawi narrated in (Sharh as-Sunnah) from Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever enters a horse between two horses, if he is certain it will win, there is no good in it, but if he is not certain it will win, there is no harm in it."

And in Abu Dawud’s narration, he said: "Whoever enters a horse between two horses, meaning he is not certain it will win, it is not gambling, but whoever enters a horse between two horses and is certain it will win, it is gambling."

5188

اورامام بخویٰ نے کتاب تشریح السنن میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت

کی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دوگھوڑوں کے درمیان کوئی گھوڑا داخل

کرے اور وہ یقین رکتا ہے کروہ سبقت لے جائے گا تو اس میں کوئی بجلائی نہیں اور اگر وہ یقین نہیں

رکتا کروہ سبقت لے جائے گا تو کوئی حریج نہیں ہے۔

صلی اللہ علیہ وسلم

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) held races (1) between horses that were trained, from Al-Hafya’ to Thaniyyat al-Wada‘, a distance of six miles, and between horses that were not trained, from Al-Qaniyyah to the mosque of Banu Zurayq, a distance of one mile. [Narrated by Bukhari and Muslim]

And Al-Baghawi narrated in (Sharh as-Sunnah) from Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever enters a horse between two horses, if he is certain it will win, there is no good in it, but if he is not certain it will win, there is no harm in it."

And in Abu Dawud’s narration, he said: "Whoever enters a horse between two horses, meaning he is not certain it will win, it is not gambling, but whoever enters a horse between two horses and is certain it will win, it is gambling."

5189

اور ابوداود کی روایت میں ہے آپ علیہ نے فرمایا جو آدمی کسی گھوڑے کو دو

گھوڑوں کے درمیان داخل کرے لیتن وہ یقین نہیں رکتا ہے کروہ (گھوڑا) سبقت کر جائے گا تو یہ

جو نہیں ہے۔ اور جو آدمی داخل کرے کسی گھوڑے کو دوگھوڑوں کے درمیان اور اس کو یقین سے کروہ

سبقت کر جائے گا تو یہ جواب ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Da'ud that the Prophet (ﷺ) said:

Whoever places a horse between two horses, if it does not feel secure, it will not race ahead. And whoever places a horse between two horses and it races ahead with confidence, then this is the answer.

5190

عمران بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے فرمایا نے گھوڑے کو پچپچے سے آواز کر کے آنے بڑھانا 5 اور نہ دور آتے ہوئے گھوڑے کے بازو

دوسرے گھوڑے ارکانہے اور کی نے اپنی حدیث میں "فی الرہان" (گھوڑے دوز میں) کا اضافہ کیا ہے۔ (ابوداود، نسائی)

اور امام ترمذی نے اس کو باب الغصب میں تحویلے اضافہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "No urging (1) and no spare mount." Yahya added in his narration: "in betting." [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i, and Tirmidhi narrated it with an addition in the chapter of usurpation]

5191

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مقابلہ نہیں ہے گر نیزہ بازی یا خف وا لے جانور (اونٹ) یا گھوڑے لے جانور (گھوڑے) میں۔ ترمذی، ابوداود، نسائی)

لیتن مقابلا کے ذریعے مال کالینا حل ل نہیں ہے سواے ان میں سے کسی ایک میں۔ 6

اور ہمارے فقہاء نے اس کے ساتھ پیلے دور کے کچھ شاہ کیا ہے - کیون کہ وہ کچھ جہاد

کے اسباب میں سے ہے -

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no prize (1) except in arrows, hooves, or feet." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Nasa’i] That is, taking money in a race is not permissible except in one of these, and our jurists included racing on foot with them because it is a means of jihad.

(5)

قولہ: لا جلب ولا جنب (نے گھوڑے کو پچپچے سے آواز کر کے آنے بڑھانا اور نہ دور آتے ہوئے گھوڑے

کے بازو دوسرا گھوڑا ارکنا) کتاب نہایہ میں ہے جلب گھوڑے کے مقابلہ میں یہ کہ آدمی اپنے گھوڑے کے پچپچے

آدمی کولگادے تاکروہ اس کو دورا نے اور بجاگنے کے لیے پچپچے سے باکے اورآوازی کر کے ابجارے تہ۔

اور جنب یہ کہ آدمی اپنے اس گھوڑے کہ بازو دوسرا گھوڑا ار کہ جمس کو مقابلہ میں دورا رہاہے تاکہ جب وہ

گھوڑا اکثر پڑ جائے تو بازو دوالے گھوڑے پرسوارہوجائے۔ (مرقات)

قولہ: ای لا یحل اخذ المال بالمساقبة الا فی احدہا الخ (لیتن مقابلا کے ذریعے مال کالینا

حلال نہیں ہے سواے ان میں سے کسی ایک میں) اب رہا بخیر مال لے مقابلہ کرنا ہراس کہیل و کرتب میں درست ہے

جم سے سپہ گیری کی تعلیم دی جاتی ہے اور جہاد پر مدحت ہے کیون کہ مقابلہ میں مال کالینا حدیث سے ثابت ہے نکہ

قیاس سے اس لئے اس کے سواتمام مقابلہ بخیر مال لے جاتے ہوئے گے غور کرو۔ (درمتار، رواختار)

(6)

قولہ: ای لا یحل اخذ المال بالمساقبة الا فی احدہا الخ (لیتن مقابلا کے ذریعے مال کالینا

حلال نہیں ہے سواے ان میں سے کسی ایک میں) اب رہا بخیر مال لے مقابلہ کرنا ہراس کہیل و کرتب میں درست ہے

جم سے سپہ گیری کی تعلیم دی جاتی ہے اور جہاد پر مدحت ہے کیون کہ مقابلہ میں مال کالینا حدیث سے ثابت ہے نکہ

قیاس سے اس لئے اس کے سواتمام مقابلہ بخیر مال لے جاتے ہوئے گے غور کرو۔ (درمتار، رواختار)

5192

برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے - (متفق علیہ)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Blessing is in the forelocks of horses." [Narrated by Bukhari and Muslim]

5193

اللہ تعالیٰ و سلم کو دیکھا ہے کہ گھوڑے کی پیشانی (کے بال) اپنی آگشت مبارک سے لپیٹے ہوئے

تھے) اور فرماتے تھے بجلائی (اجر و غنیمت) قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانیوں سے باندھو

دی گئی ہے -7 (مسلم)

Jarir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) twisting the forelock of a horse with his finger, saying: "Horses (2) have goodness tied to their forelocks until the Day of Resurrection: reward and spoils." [Narrated by Muslim]

5194

و سلم کو یقیناً تے ہوئے سنابہ کہ تم گھوڑوں کے پیشانی کے اور گردن کے بال اور دم کو مرت کا تو

کیون کر ان کے دم ان کے کچھ کودور کرنے کے آ لے (مورچل) یہ اوران کے گردن کے بال

ان کو گرم رکھنے کا زر پیار (کمل ہے) اور ان کی پیشانیوں میں بجلائی بنڈی ہوئی ہے - (ابوداود)

Utbah ibn Abd as-Sulami (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Do not cut the forelocks, manes, or tails of horses, for their tails are their flyswatters, their manes are their warmth, and their forelocks have goodness tied to them." [Narrated by Abu Dawud]

5195

و سلم نے فرمایا: گھوڑوں کو پالا کرو اور ان کی پیشانیوں پراوران کی دم پر ہاتھ چھیرا کرو آپ علیہ صلاۃ اللہ

نے یقیناً کی سرینوں پراوران کو بار پہنیا کرو اتو رتانت کا بارمت ذو الوع -8 (ابوداود، نسائی)

Certainly, apply the bar on the ears of the worshippers and the bar of the one with the covenant.

5196

آدمی گھوڑے کو پالے اللہ کے راستے میں اللہ پر ایمان کے تقاضہ کی بناء پراس کے وعدہ کی تصدیق

کرتے ہوئے تو اس کا کہنا، اس کا پینا، اس کی لیڑاوراس کا پیشاب قیامت کے دن اس کے میزان

میں ہوگا - (بخاری)

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever keeps a horse in the path of Allah out of faith in Allah and belief in His promise, its fullness, drink, dung, and urine will be in his scale on the Day of Resurrection." [Narrated by Bukhari]

7قولہ: الخيل معقود بنواصيها الخير الى يوم القيامة الخ (بجلائی (اجر و غنیمت) قیامت تک کے

لئے گھوڑوں کی پیشانیوں سے باندھ دی گئی ہے) شرح السنن میں ہے اس حدیث میں جہاد کے لئے گھوڑے رکھنے کی

ترغیب ہے اور بیبات کچھ کر جہاد میں نہیں ہوگا - (مرقات)

8قولہ: ولا تقلدوها الاوتار (اوران کو تانت کا بارمت ذو الوع) ابن جوزی نے کہا: "اوتار" سے مراد کیا ہے

اس سے متعلق تین اقوال ہیں:

5197

پاس عورتوں کے بعد گھوڑوں سے بڑا کر کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔ (نسائی)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Nothing was dearer to the Messenger of Allah (ﷺ) after women than horses. [Narrated by Nasa’i]

5198

صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے گھوڑوں میں شکال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روایت سے کہ گھوڑوں میں شکال پیہ کے گھوڑے کے سیدے پاؤں اور باقی ہاتھوں میں سفیدی ہو یا سیدے پائے کا اور باقی پاؤں میں سفیدی ہو۔ (مسلم)

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) disliked the shikal among horses. (1) The shikal is when a horse has whiteness on its right leg and left hand, or on its right hand and left leg. [Narrated by Muslim]

1- وہ اونٹوں کو ریشم کے تاروں الگ کرتے تھے ان کا یخیال تھا کہ اس سے نظریں لگتی ان کو توڑ دیں کا حکم ہے۔

بتانے کے لیے ویاگیا کہ یہ نتیجہ اللہ کی تقدیر کو رونمایی کر سکتا۔ پی حضرت امام ما لك رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس تانت کے ذا لے سے اس لے منع کیا گیا ہے کہ تمیز دور کرتے وقت کہیں جانورول کو گلم گھٹ نہ جائے۔ اور پیقول حضرت امام اعظم کے شاگرد محمد بن حسن سے منقول ہے۔ اور اس بارے میں ابو عبید کے کلام سے کچھ اس بات کو ترجیح حاصل ہوتی ہے کیون کہ انہول نے کہا کہ اس سے منع کرنے کی وجہ یہ کہ اس میں جانورول کو تکلیف ہوتی ہے اور ان کا دم گھٹنا ہے اور چارہ چرنا کچھ مشکل ہوجاتا ہے اور اگر کسی وقت وہ (تانت) کسی درخت میں اٹک جائے تو گلم گھٹ جاتے یا س (جانور) کے لے پچنے میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔

تیسری بات پیشانی گیہ کے لوگ ان تانتوں میں گھنٹیاں باندھتے تھے خطا لی نے اس کو بیان کیا ہے امام نووی اور دیگر حضرات کہتے ہیں کہ جمہور علماء کے پاس یہ ممانعت بلطور کراہت ہے اور کراہت تنزیہی ہے۔ اور اس کو کراہت تحریمی کہی کہا گیا ہے اور یہی قول ہے کہ ضرورت نہ ہوتی منع ہے اور ضرورت کے وقت یہ جائز ہے۔ اور امام ما لك رحمۃ اللہ کے پاس بارکی پی کراہت تانت کے ساتھ ہے اور تانت کے علاوہ کسی دوسری چیز سے جائز ہے، جب کہ نظر بدودور کرنے کا اس میں تصور ہے۔ اور یہ سب ایسی تعویزی وغیرہ گل میں لگانے سے متعلق ہے جس میں قرآنی اس جیسی چیز نہ ہو اور اب ربا جس میں اللہ کا ذکر ہوتا اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے کیون کہ اس کو حض تبرک کے لے اور اللہ تعالی کے اسماء الحسنی اور اس کے ذکر کی پناہ لینے کے لے بنایا جاتا ہے اور اس طرح جو چیز زینت کے لے لاکانی جانی ہے وہ کچھ جائز ہے جب تک کہ وہ تکبر اور فضول نہ چی کی حد تک نہ پہو چے۔ (بذل الجحو د)

قولہ: یکره الشکال فی الخیل (گھوڑوں میں شکال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے)

اس کا دار تجرہ پرہ پی تشریح حکم یا خبر نہیں ہے (عرف شنزی)

اور صحاب لمعات نے کہاہے کہ شکال کی کراہت کی مجشارع کے علم کے حوالے لے اور صحاب نہایی نے کہا

ہے کہ شارع نے اس کو کروہ قرار دیا کیون کہ پیصورتاً مشکول (جس کے باٹہ پیر مخالف جانب سے باندھے گے ہوں)

کی طرح ہے۔ جس کو ناپسند کیا جاتا ہے اور پی کچھ مغلس نے کہ اس جس کا تجرہ کیا تو اس میں نجابت نہ پانی گئی ہو اور پی کچھ کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ اگر وہ اخر کچھ ہویعنی اس کی پیشانی میں سفیدی ہوتا اس کی کراہت ختم ہو جاتے گی کیون کہ اس میں شکال سے مشابہت باقی نہیں رہتی۔

5199

ابوقادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ بہترین گھوڑا 10 وہ ہے جس کا رنگ کالا، پیشانی سفید اور ناک سفید ہو۔ چھروہ جس کی پیشانی سفید اور جس کے باٹھ پاؤں سفید ہول اور سید حاپاول خالی ہو۔ اور اگر وہ کالا نہ ہو تو سرخ رنگ ہواور کی صفات والا ہو۔ (ترمذی،دارمی)

Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: "The best (1) horses are the black with a blaze and white markings, with a white upper lip, then the one with a blaze and white markings, free of whiteness on the right foreleg, but if it is not black, then a reddish-brown with these characteristics." [Narrated by Tirmidhi and Ad-Darimi]

5200

ابو وہب رضی اللہ تعالیٰ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہسرخ گھوڑے کو اختیار کرو جو سفید پیشانی والااور چھ کلیان ہو۔ یاصرف سرخ رنگ والا اور سفید پیشانی والااور چھ کلیان ہو۔ یا کالا، سفید پیشانی والا چھ کلیان ہو۔ (ابوداود،نسائی)

Abu Wahb al-Jushami (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Keep to every reddish-brown horse with a blaze and white markings, or chestnut with a blaze and white markings, or black with a blaze and white markings." [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i]

5201

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کا مبارک ہونا صاف سرخ رنگ میں ہے۔ (ترمذی،ابوداود)

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The good fortune of horses is in the chestnut ones." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]

5202

ابی سے (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے) روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما مور بنے تھا آپ علیہ صلاۃ اللہ نے دوسروں سے نہ کوسا کے تین باتوں کے کسی بات میں خاص نہیں کیا۔

انہم کو حکم دیا کہ انہم وضو کو کامل طور پر کیا کریں۔

اور انکے انہم صدقہ نکالیں۔

پیر کے انہم گھوڑے پر گھوون کو نہ چھوڑیں۔ (ترمذی،نسائی)

It is narrated from my father (Ibn Abbas (RA)) that

the Messenger of Allah ﷺ did not curse anyone, nor did he specifically do so for any of the following three things: 1. He commanded them to perform ablution completely. 2. He commanded them to pay the zakat. 3. He commanded them not to ride on a donkey's back. (Tirmidhi, Nasa'i)

5203

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرودی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے

امام طحاوی نے کہا کہ 12 پیغمبر از راہ لطف و کرم سے تاکہ جہاد کے آلات کم نہ ہون

وہم نے فرماياس کے سوانحین کریکام وہ لوگ کرتے ہیں جوناواقف ہوتے ہیں - (ابوداوداورنسائی)

گر صون کوگوڑ یول پرچھوڑ یس توہمارے لے اس جسے (نچر) حاصل ہوں گے - تورسول اللہ علیہ

لے ایک نچر کا تحفہ پیش کیاگیا پس آپعلیسے اس پرسوار ہوئے تو سیرنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر تم

It is narrated from Ali (RA) through Merudi that Imam Tahawi said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Twelve prophets were sent out of mercy and kindness so that the tools of jihad would not be lacking. They engaged in agriculture and those who were unaware did not know this.' - (Abu Dawud and Nasa'i). If you let go of the reins, you will obtain a reward (nichr). So, a reward (nichr) was presented to the Messenger of Allah ﷺ. When Ali (RA) saw him mount it, he said, 'If you...'

10 قولة : خیر الخيل الأدہم الخ (بہترین گھوڑا وہ ہے) حضروراکرم صلی اللہ نے نذکورہ صفات کے ساتھ گھوڑے کی جوخو بصورتی وحس بیان فر مالی سے وہ شرعی قانون کے بطور نہیں؛ بلکہ تجربر و مشاہدہ کی نواعت سے ہے۔ (العرف الشزی)

قولة : الابشلا ث الثخ (سواء تین باتوں کے) وضو کو کامل طور پربناا اور گھوڑے پر گھوون کو چھوڑنے کی ممانعت سے متعلق اختصاص کے معالم میں اشكال پایا جاتا ہے کیون کہ پہلی بات (وضو کو کامل طور پربناا) پہرا ایک کیلے مستحب ہے اور دوسری بات (گھوڑے پر گھوون کو چھوڑنا) اس کی ممانعت پہرا ایک کیلے کی گئی ہے۔ بالصدقت کہانے کی حرمت پر اعل بیت کیلے خاص ہے۔ اس کا جواب اس طرح دیا جاتا ہے کہ یہ دو باتیں (اصل بیت کیلے) واجب کی گئی ہیں تو واجب کرنالن کے ساتھ خاص حقاً ابطور مبالغہ اجحار نے کیلے یاس مستند میں تاکید کے لے فرمایا گیا ہے۔ (جواب میں) پہچی کہ اگیا ہے کہ پیسیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کی طرح ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا تھا : الا فی هذه الصحيفة (سواء اس کے جواس صحیفہ میں ہے)۔ اس سے کسی حکم میں اختصاص اور تزجیہ کی نہی کر نامراد ہے کیونکہ پیاشیاءالن کے ساتھ خصوص نہیں ہیں۔ (لمعات)

5204

قولہ: کانت قبیعة سيف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من فضة (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوار کی طوپی چاندی کی تھی) رواختار میں ہے کہ تلوار پر چاندی چٹھا نے کے مستند میں شرط یہ کہ چاندی کے

مقام پر بات کرنا رکھے۔ اور نہائی کے الفاظ میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے میان کا سرا چاندی کا تھا اور

آپ علیہ السلام کی تلوار کی طوپی اور اس کے درمیان کا حصہ چاندی کا تھا۔ اور لفظ "قبیعة" "ق"اور"ب" "پهر"ی"اس کے

بعد "ع" محمد بن اور سفینہ کے وزن پر کے تلوار کے قبضہ پر چاندی یالوہ کا سرا ہوتا ہے۔ (شرح التقایی)

اور عالمگیری میں ہے قبیعة وہ ہے جو تلوار کی نوک یا س کے دست میں چاندی کا سرا ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ

تعالیٰ نے کہا اگر چھری میں چاندی کے مقام کو پیٹنے گا تو بیکروہ ہے ورنہ کروہ میں ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ نے کہا

ہے کہ مطلقاً کروہ ہے اور رواختار میں ہے چجل، قبضہ، لجام میں بات کر کہ کی جگہ سے اجتناب کرے۔ تلوار کا پانی چاندی کا

ہوسکتا ہے سونے کا نیں۔ (رواختار)

عالمگیری میں اور کتاب "سیر" میں ہے کہ تلوار کو سونے کا پانی چٹھا مناسب نہیں ہے اگر چیک جنگ میں ہو

کیونکہ جنگ میں سونے کا پانی چٹھا نے کوئی فائدہ نہیں ہے اور وہ تو محض زینت کے لیے ہے۔ اور انہوں نے کہا اللہ

تعالیٰ نے معاف کرے جب تلوار میں بیبات ہے تو اس کے پرتل میں بدرجا اولی (مناسب نہیں) ہے (ترمذی)

صاحب قمستانی نے شرح فقایید فقایی قاضی خان سے نقل کرے ہو کہ کہا ہے کہ کر پڑھا اور تحقیق کر تلوار کے پتلون کو

ان (فقہاء) کے قول میں چاندی کا نے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور سونے کا پانی چٹھا نا بعض فقہا کے قول میں کروہ

ہے۔ یہ سب اس وقت ہے جب کر خالص چاندی یا سونا کا اور اگر خالص چاندی یا سونا نہ ہو تو تمام فقہاء کے پاس اس

میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عالمگیری میں ہے کہ تحقیق کو چاندی یا سونے کا پانی چٹھا نے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(سر اجیہ) اور مجمع البرکات میں ہے لیکن پانی چٹھا نا (چاندی، سونے کا) جس میں خالص سونا یا چاندی نہیں ہوتی تو اس

میں کوئی حرج نہیں۔ (مختلف حواشی کا خلاصہ)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The hilt (1) of the sword of the Messenger of Allah (ﷺ) was made of silver. [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i, and Ad-Darimi]

At-Tawrabushti said: The Hadith of Mazidah is not a proof, as it has no reliable chain. The author of (Al-Isti‘ab) mentioned this Hadith and said: Its chain is not strong.

5205

سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عمنہ روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے دونوں زره میں تھا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو ایک دوسرا پر پہنا تھا۔ 14۔ (ابوداود، ابن ماجہ)

As-Sa’ib ibn Yazid narrated: On the day of Uhud, the Prophet (ﷺ) was (1) wearing two coats of mail, one over the other. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

5206

ابن عباس رضی اللہ تعالی عمنہ روایت سے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا (رايت) کا لے رنگ کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لواء لیمن چھوٹا جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The banner of the Prophet of Allah (ﷺ) was black, and his standard was white. [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

5207

موسی بن عبیدہ رضی اللہ تعالی عمنہ جوہد بن قاسم رضی اللہ تعالی عمنہ کے غلام تھا کہا کہ محمد بن قاسم نے مجھے برائے بن عازب رضی اللہ تعالی کے پاس ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رايت (برے جھنڈے) کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے کہا وہ کا لے رنگ کا چوکور دھاری دار کالی چادر کا تھا۔ (احمد، ترمذی، ابوداود)

Musa ibn Ubaydah, the freedman of Muhammad ibn al-Qasim, narrated: Muhammad ibn al-Qasim sent me to Al-Bara’ ibn Azib to ask him about the banner of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was black, square, made of striped cloth. [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawud]

5208

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عمنہ روایت سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں داخل ہوں اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا لواء (چھوٹا جھنڈا) سفید رنگ کا تھا۔ (ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ)

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) entered Makkah, and his standard was white. [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

5209

سید نا علی رضی اللہ تعالی عمنہ روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں عربی کمان تھی۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک آدمی کو کیا کہ اس کے باٹھ میں فارسی کمان تھی تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کیا ہے تم اس کو ال دواوری اس (عربی کمان) کو اور اس جیسی کمانوں کو اور کامل نیزول کو اختیار کرو۔ پھر یقینا اللہ تعالی اس کے ذریعہ تمہارے لئے دین میں مدد کرے گا اور شہرول میں تم کو جمادے گا۔ (ابن ماجہ)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was holding an Arabian bow. He saw a man holding a Persian bow and said: "What is this? Throw it away, and keep to these and their like, and cane spears, for through them Allah will support you in religion and establish you in the lands." [Narrated by Ibn Majah]

14قولہ: کان علیہ يوم احد درعان قد ظاهر بينهما (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ أحد کے دونوں زره میں تھے) اس طرح سے ان دونوں میں سے کو ایک زره دوسرا کے اوپر تھا اور بیلفظ تظاهر " سے اس کے معنی تعاون کرنا اور ایک دوسرا کی مدد کرنا ہے۔ (نہایہ) اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جدو جہد کے اسباب اختیار کر نے میں مبالغہ کرنا چاہئے اور یہ بات تو کل کے منافی ہے اور نہ واقع ہو کر رہے والے امور مقدرہ کو تشیم کر نے کے منافی ہے۔ (مرقات)