Nūr al-Maṣābīḥ
باب العمل فی القضاء والخوف منه

The Duty of Judging and the Fear of It
Volume 7 · Governance & Judgeship

منصب قضا کی انجام دی اوراس سے خوف کرنا کا بیان

The administration of justice and instilling fear thereby is a pious duty.

5037

سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سناتا کہ کوئی فیصلہ 1 کرنے والا دوآدمیوں کے درمیان اس وقت برگز فیصلہ نہ کرے جب کوئی غصہ کی حالت میں ہو۔ (متفق علیہ)-

Abu Bakra (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: No judge should rule between two people while he is angry. [Agreed upon]

5038

عبد اللہ بن عمر را اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم نے کوئی فیصلہ کیا اور اس میں (طلب حق کے لئے) کوئی اور بر فیصلہ کیا تو اس کو دوہرا جرمانے کا اور جب اس نے فیصلہ کیا اور اس میں (طلب حق کے لئے) کوئی کوئی کمر 2 خطاء ہوئی تو اس کو ایک اجرمانے کا۔ (متفق علیہ)

Abdullah ibn Amr and Abu Huraira (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If a judge rules and strives to reach the truth and is correct, he will have two rewards. If he rules and strives but errs, he will have one reward. [Agreed upon]

1قولہ: لا يقضین حکم بین اثنین وهو غضبان (دوآدمیوں کے درمیان اس وقت برگز فیصلہ نہ کرے جب کوئی غصہ کی حالت میں ہو) یعنی حاکم کو غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا چاہیے کیونکہ غصہ غم و فکر سے روکتا ہے اس طرح سخت گرمی اورسردی اور بھوک و پیاس اور پیاری کی حالت میں فیصلہ نہ کرے اگر وہ ان حالتوں میں فیصلہ کر جائے تو اس کا بر فیصلہ نافذ ہو جائے گا اور اس کا عمل کروہے۔ (مرقّات، عالمگیری)
2قولہ: اذا حکم الحاکم فاجتهد واخطاء فله اجر واحد (جب اس نے فیصلہ کیا اور اس میں (طلب حق کے لئے) کوئی کوئی کمر خطاء ہوئی تو اس کو ایک اجرمانے کا) امام نووی نے فرمایا علماء کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ کیا بر مجہتد مصیب (ظہیر فیصلہ کرنے والا) ہوتا ہے یا تو فیصلہ کرنے والا ان میں کوئی ایک ہوتا ہے اور پر وہی غلط ہے جس کا فیصلہ حاکم کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور دوسرا یا پر ہوتا ہے اس میں امام شافعی ان کے اصحاب رحمہ اللہ کے باس دراصل مجہتد ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کو ظہیر (خطا کرنے والا) کہا گیا ہے اگر وہ مصیب (صحیح فیصلہ پرتیجھے والا) ہوتا تو اس کو ظہیر نہیں کہا جاتا اور یا کی صورت پہلی صورت یعنی مجہتد مصیب ہوتا ہے کہ مجہتد سے نقص میں خطاء ہو جائے یا کسی چیز میں اجتهاد کرے جس میں اجتها دنہیں ہوتا اور جو حضرات پہلی صورت یعنی مجہتد مصیب ہوتا ہے کی طرف گئے پیوآن کا کہنا یہ کہ ظہیر کے لئے اجر مقرر کیا گیا ہے اور اگر وہ حق پر نہ ہوتا تو اس کے لئے اجر نہیں ہوتا اور اس وقت ہے جب کوہ اجتها دا انہیں ہو اور کین جو آدی فیصلہ کرنے کا انہیں نہ ہوتا اس کو فیصلہ دینا جائز نہیں ہے اور اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا خواہ اس کا فیصلہ حق کے موافق ہو یا نہ ہو کیونکہ اس کا ظہیر فیصلہ اقتا طور پر ہے اور وہ اپنے تمام فیصلوں میں گنہگار ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ذہب یہ ہے کہ ایسے مسائل جس کا بیان کتاب وسنہ میں اور اجماع میں نہیں ہے اور اس کے لئے قیاس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے تو وہ شخص قبل کے لئے تحری کرنے والے کی طرح ہے پس بلاشبہ وہ مصیب ہے اگر چیز وہ ظہیر کرے۔ (مرقّات)
5039

سید نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

مجھے قاضی بن کر مین کوروان فرمایا 3 تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ علیہ آپ مجھے روانہ فرمائے ہیں

حالا نکہ میں نو عمر ہوں اور فیصلہ کر نے کا مجھے علم مجھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ

تمہارے قلب کو بہايت دے گا اور تمہاری زبان کو جماے رکے گا۔ جب دو آدمی تمہارے پاس

فیصلہ کے لئے آ کر تو تم جب تک دوسروں کی بات نہ سنو پہلے کے لئے فیصلہ مت کرو کیونکہ یہ

طریقت زیادہ لااق بے کرتمہارے لئے فیصلہ اچھی طرح ظاہر ہو جائیگا۔ آپ (علیہ) کہتے ہیں کراس

کے بعد میں نے کچھ کسی فیصلہ میں شک نہیں کیا۔ (ترمزی، ابوداود، ابن ماجہ)

Ali (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Yemen as a judge, and I said: O Messenger of Allah, you send me while I am young and have no knowledge of judging. He said: Allah will guide your heart and make your tongue steadfast. When two men bring a case to you, do not rule for the first until you hear from the other, as that is more likely to clarify the judgment. He said: I never doubted a judgment after that. [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

5040

3قوله: "بَعْثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا"الخ (رسول الله صلى الله عليه وسلم

سید نا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا قاضی تین فن میں کے ہیں۔ ایک جنت میں جانے والا اور دوسرا دوزخ میں جانے والا ہے اب رہا

نے مجھے قاضی بن کر مین کوروان فرمایا) صاحب بدایی نے کہا: کسی کو قاضی مقرر کرناس وقت تک درست نہیں جب تک کہ

اس میں جس کو مقرر کیا جارہا ہے شہادت کے شرائط پا گے نہ جا سکیں اور تا وقت تک وہ اجتهاد کی الہیت والانہ ہو۔ اور صاحب

بدایی نے کہا کہ ہمارے (احناف) کے پاس پیاولویت کے شروط میں سے ہے (یعنی۔ہر تھے پیثروط پا گے جا کیں) ورنے

ہے شرط جواز کے لئے نہیں ہے اور یہ کچھ کہا گیا ہے کہ یہ جواز کے لئے شرط ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ اس کو اختیار کہ

ہیں اور شافعی کی کتاب و جہیز میں ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے چند صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔

مرد ہونا 2_آزاد ہونا 3_مجہدر ہونا

صاحب بصیرت ہونا 5_پرہیزگار انصاف کرنے والا ہونا_

اسکے لئے عورت، ناپینا، پیر، فاسق، جائل اور مقلد کا فیصلہ کرنا جائز نہیں (انہی) اور امام محمد رحمۃ اللہ نے کتاب

الاصول میں ذکر کیا ہے: مقلد کا قاضی (نج) بننا جائز نہیں ہے۔ اور امام خصاف رحمۃ اللہ نے اس کے جواز کی بات بتائی

ہے آپ نے فرمایا کر قاضی اگر وہ صاحب رائے ہے تو اپنی ذاتی اجتهاد سے فیصلہ کرنے گا اور اگر وہ صاحب رائے نہ ہو تو

کسی دوسروں فقیہ سے پوچھے لے گا اور اس کے قول کو اختیار کرے گا۔ اور جواز قضاء کے لئے اجتهاد کے شرط نہ ہو نے کی

ویس امام ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ کی تخریج کردہ یہ حدیث ہے:

سید نا علی مرتضی کرم اللہ وجهہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں کا قاضی بن کر روانہ فرمایا تو

میں نے عرض کیا تحیا یارسول اللہ علیہ آپ مجھے روانہ فرمائے ہیں۔ میں کم عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم مجھی نہیں۔

(الحدیث) اور اس کو حاکم نے مجھی مستدرک میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسادت ہے اور شیخین نے اس حدیث

کی تخریج نہیں کی ہے اور سید نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت ابلی اجتهاد میں سے نہیں تھے۔

جنت میں جائے والاتوہ اسیا قاضی ہے جس نے حق کو پچپانا اوراس کے مطابق فیصل کیا اور وہ آدمی جس نے حق کو پچپانا اوراس کے بحر فیصل کر نے میں ظلم کیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ اور وہ آدمی جس نے جہالت کے ساتھ (حق کو نہ جان کر بھی) فیصل کیا پس وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔ 4 (ابوداؤد، ابن ماجہ)

Buraida (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Judges are of three types: one in Paradise and two in the Fire. The one in Paradise is a man who knows the truth and judges by it. A man who knows the truth but deviates in his judgment is in the Fire. And a man who judges for people in ignorance is in the Fire. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

5041

سیدنا معاز بن جبل رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

قولہ: "و رجل قضی للناس علی جهل فہو فی النار" (وہ آدمی جو جہالت کے ساتھ فیصل کیا تو وہ بھی دوزخ میں جائے گا) اور صاحب بداییں کہا جائل کا کیا ہوا فیصل کہی ہمارے پاس تھے امام شافعی رحمۃ اللہ کا اس میں اختلاف ہے۔ اور وہ لیتنی امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے پین قضاء کے منصب کا تقاضہ پیہ کراس پرآدمی کو قدرت ہو اور بخیر علم کے قدرت نہیں آتی۔ اور ہماری دلیل یہ کہ ہوسکتا ہے کوئی دورہ افتیا دے اور پیاس کے مطابق فیصل کرے اوراس کے قضاء کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ اور قضاء کا مقصد یہ کہ حق دار کواس کا حق ویا جائے۔

"فتاوی عالمگیریہ" میں ہے اگر جائل کو مقرر کیا گیا اوراس نے دوسرا کے فتوی کے مطابق فیصل کیا تو جائز ہے۔ "كتاب ملتقط" میں ایسائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود جائل کو فیصل کے لے مقرر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور کتاب "بنایی" میں ہے۔ "اگر تم بیکھو کہ ابودا وداورا بن ماجہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ مرفوًاعا روایت لکی ہے۔ (اور ایسآدمی جو حق سے واقف نہیں ہے اوراس کی ناواقفیت سے اس کے فیصل دیا تو وہ دوزخ میں ہے) تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ حدیث ثریف ایسائی جائل سے متعلق ہے جو پچی جہالت پر عمل کرتا ہے، اور دوسرا کی طرف مستند نہیں رجو ع نہیں کرتا۔ (انتہی)

اور فتاوی عالمگیریہ میں ہے۔ اور قضا (کے منصب کو قبول کرنے) کی پانچ صورتیں ہیں۔

۔ واجب: وہ یہ کہ آدمی اس کے لے متغیر ہو جب کہ کوئی دوسرا اس کی صلاحیت نہیں رکتا ہو۔

۔ مستحب: اس کی صورت یہ کہ اس کی صلاحیت رکھنے والا دوسرا پایا جاتا ہو جس کی شخص اس کے لے زیادہ باصلاحیت اور زیادہ مناسب ہو۔

۔ مکروہ: لیکن منصب قضا کو قبول کرنے میں اس کو اختیار ہے۔ اس کی صورت پیہ کہ دوآدمی اس کی صلاحیت اور اہتمام میں برابر درجہ کے ہوں تو ایسی صورت میں اس کو اختیار ہے۔ اگر چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو قبول نہ کرے۔

۔ مکروہ: اس کی صورت پیہ کہ پی منصب قضاء کے لے ہے گر دوسرا اس سے زیادہ باصلاحیت ہے۔

۔ حرام: ایسی صورت میں ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں جانتا ہو کہ وہ اس منصب سے عاجز ہے اور انصاف نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اپنے باطن کو جانتا ہے کہ خواہش نفس کے پیچپیچ جائے گا۔ جس کو دوسرا لوگ نہیں جانے تو ایسی صورت میں اس پر حرام ہے۔ (خرزاتہ المفتین)

و سلم نے ان کو جب بیٹھنے کی طرف روانہ فرمایا تو آپ علیہہ السلام نے ان سے فرمایا جب تہمیں کوئی فیصلہ کرنا کی نوبت پیش آ لے تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے۔ 5 تو انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے

Buraida (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Judges are of three types: one in Paradise and two in the Fire. The one in Paradise is a man who knows the truth and judges by it. A man who knows the truth but deviates in his judgment is in the Fire. And a man who judges for people in ignorance is in the Fire. [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

And the author of Badaiyun said, 'What is the ruling regarding the judge? There is a difference of opinion among us regarding this, as Imam Shafi (RA) has stated that the ability to make judicial decisions requires the capacity to discern and does not come with mere knowledge. And our view is that it is possible for someone to give legal opinions and make decisions according to their understanding, thereby fulfilling the purpose of the judgment. The purpose of the judgment is that the rights of the rightful claimant be restored.' In Fatawa Alamgiri, it is mentioned that if a judge is appointed and he makes a decision based on another's legal opinion, it is permissible. This is also stated in Kitab al-Multaqat. However, despite this, it is not appropriate to appoint a judge to make decisions. And in the book Bina, it is mentioned that if you ask whether Abu Dawud and Ibn Majah have narrated from our master Buraydah (RA) that 'a person who is unaware of the truth and makes a decision based on his ignorance will be in Hell,' the response would be that this hadith pertains to a judge who acts based on ignorance and does not seek guidance from others. (End) And in Fatawa Alamgiri, it is mentioned that there are five conditions for accepting the position of a judge: 1. Obligatory: When a person is uniquely qualified for the role and no one else is competent. 2. Recommended: When another competent person is available but the individual is more suitable and appropriate for the role. 3. Disliked: But the person has the choice to accept or decline the position. This applies when two individuals are equally competent and suitable, and the person can choose to accept or decline. 4. Disliked: When another person is more competent for the role. 5. Forbidden: When the person knows himself to be incapable and unable to act justly because he is aware that his inner desires will interfere, even though others may not know this. (Kharazat al-Muftin) When Usama was sent to sit, the Prophet (SAW) asked him, 'When you have to make a decision, how will you decide?' He replied, 'I will decide based on Allah's Book.'

5042

سیدنا اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی منصب قضاء کی خواہش 6 کرے گا اور اس کو طلب کرے گا تو وہ اس کے نفس کے حوالہ کر دیا جائے گا اور جو شخص اس کے لئے مجبر کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ کو اتارے گا جو اس کو ٹھیک کرتا رہے گا۔ (ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever seeks judging and asks for it is left to himself, but whoever is compelled to it, Allah sends an angel to guide him. [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

5043

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی مسلماون کے منصب قضا کو طلب کرے یہاں تک کہ وہ اس کو حاصل کر لے پھر اس کا عدل و انصاف اس کے ظلم پر غالب رہے تو اس کے لئے جنت ہے اور جس آدمی کا ظلم اس کے عدل و انصاف پر غالب رہے تو اس کے لئے دوزخ ہے۔ (ابوداود)

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever seeks to judge Muslims and attains it, if his justice overcomes his injustice, he will have Paradise, but if his injustice overcomes his justice, he will have the Fire. [Narrated by Abu Dawud]

5044

سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیشک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ رہتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے پس جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اگلے ہو جاتا ہے اور شیطان اس کی ساتھ ہو جاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

Abdullah ibn Abi Awqa narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah is with the judge as long as he does not act unjustly. If he acts unjustly, He abandons him, and Satan clings to him. [Narrated by al-Tirmidhi and Ibn Majah] In another narration: If he acts unjustly, He entrusts him to himself.

5045

اور ایک روایت میں ہے کہ جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس کو اس کے نفس کے حوالہ کر دیتا ہے۔

And in one narration it is said that when he oppresses, he refers it to his own self.

5046

سیدنا سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مقدم ہو کر گے پس آپ نے حق یہودی کے لئے دیکھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے اس کا فیصلہ فرمادیا تو آپ نے یہودی نے عرض کیا اللہ کی قسم بلاشبہ آپ نے حق کا فیصلہ فرمایا ہے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دھر لگا اور فرمایا تجھ کو کیا معلوم ہے؟ تو یہودی نے کہا اللہ کی قسم بے شک تم تو رات میں پاتے ہیں کہ جو کوئی قاضی حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اس کے دامین ایک فرشتہ اور با کمین ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کو ٹھیک راستہ دکھاتے ہیں۔ اور حق

کی موافقت رکھے جس جب تک کروہ حق کے ساتھ رہے، جب وہ حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دو فرثہ

(آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ (مالک)-

Sa‘id ibn al-Musayyib narrated: A Muslim and a Jew brought a dispute to Umar, and he saw the right was with the Jew, so Umar ruled in his favor. The Jew said to him: By Allah, you have judged with the truth. Umar struck him with a whip and said: How do you know? The Jew said: By Allah, we find in the Torah that no judge rules with the truth except that an angel is on his right and an angel on his left, guiding and directing him to the truth as long as he upholds it. When he abandons the truth, they ascend and leave him. [Narrated by Malik]

(6)

قولہ: من ابتغی القضاء الخ (جو آدمی منصب قضاء کی خواہش کرے گا) اس لئے درخت اراور رواختار میں ہے منصب قضاء کی دل میں خواہش نہ رکھ اور زبان سے اس کا سوال بھی نہ کرے۔ کتاب "خلاصہ" میں ہے اقتدار کے طلب کا رکو اقتدار نہیں دیا جائے گا۔ لیکن جب کوئی آدمی اس منصب کے لئے متعمین ہو جائے اس طرح کر اس کے سوا کوئی دوسرا منصب قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ایس شخص پر واجب ہے کہ مسلماون کے حقوق کی حفاظت اور طالمون سے ظلم کو دفع کرے۔ لئے اس منصب قضاء کو طلب کرے اور علم عشافعی اور ما کہی کے پاس ایس آدمی کے لئے جو غیر معروف ہے علم کی اشاعت کی خاطر منصب قضاء کو طلب کرنا مستحب ہے۔

5047

7_قو له :من جعل قاضياً بين الناس فقد ذبح بغير سكين لیعن (جس شخص کو لوگوں کے درمیان قاضی

بنادیا جاتے تو وہ بغیر چہری کے ذہن کرواگیا) عالمگیری میں ہے مفت فقیہ خصاف نے ارب القاضی، میں عہدہ قضا کو

قبول کرنے کی کراہت اور خصوصی بابت احادیث ثریفہ کو ذکر کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ صاحبین کی ایک جماعت

نے اس منصب کو اختیار کیا ہے جب کہ صاحبین کی ایک جماعت نے اس سے گریز کیا ہے اور اس کو اختیار نہ کرنا ہی

زیادہ بہتر وسالم تی کا باعث، ورس کام اور دین میں زیادہ مناسب ہے۔

اس مستند علماء کرام کا اختلاف ہے کہ شخص میں قضاء کے جملہ ثرائط مجمعہ وجہان کے بعد آیاس کے کے

قضاء کو قبول کرنا جائز ہے؟ بعض حضرات نے کہا ہے اس کے لئے قضاء کو قبول کرنا کروہے میں اس طرح ہے

کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرودی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کے جو شخص قضاء میں بتلا کیا جاتے تو

گویا وہ بغیر چہری کے ذہن کرواگیا اور عبد اللہ بن وهب رحمہ اللہ اپنے گھر چلے گئے اور جو کوئی آپ کے گھر، آپ کے

پاس آتا تو اس کے چہرہ کو نوجوانی اور اس کے پیری چھاڑ دیتے پیس صحابہ میں سے ایک بزرگ روشنان دان میں سے

آپ کے اور انہوں نے کہا اے الوعبد اللہ اگر آپ قضاء کو قبول کریں اور انصاف کریں تو زیادہ بہتر ہے تو انہوں نے کہا اے

شخص کیا تیری بہی عقل ہے کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے نہیں سنا، قاضی حضرات باشہاہوں کے

ساتھ اٹھائے جا کیں گے اور حضرات علماء انپیاء کے ساتھ اٹھائے جا کیں گے اور یہ بات مشہور ہے کہ حضرت امام عظیم

الوحدیف رحمہ اللہ تعالیٰ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا تو آپ نے انکار کیا یہاں تک کہ آپ کونود (90) کوڑے لگائے گئے اور

آپ کو پتی جان کا اندیشہ ہوگیا تو اپنے اصحاب سے آپ نے مشورہ کیا تو امام ابو يوسف رحمہ اللہ نے اس کو آپ کے لئے

مناسب قرار دیا کر آگا پ اس کو اختیار فرما کیں تو لوگوں کو آپ نے پیغ پیشا کیسے گے تو امام الوحدیف رحمہ اللہ نے فرما یا: اگر

مجھ کو حکم دیا جاتا کہ میں سمندر کو تیر کر پار کروں تو مجھے پیہوسلتا تھا۔ پس آپ اپنا سر جھکا کے اور اس کے بعد ان کی

طرف نہیں دیکھا۔ اس طرح خزاۃ المفتی میں ہے۔ پھراس کو حضرت امام محمد پر پیش کیا گیا تو آپ بھی انکار کے یہاں

تم کر آپ کو لاکر قید کیا گیا اور مجبور کیا گیا تو آپ نے اس کو قبول کیا۔ (عناہی شرح بدایی) امام کری اور خصاف اور علماء

عراق نے فرما یا اور اس کو صاحب نہ ہب نے اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کے لئے مجبور نہ کیا گیا تو قبول کرنا مناسب

نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے مشاہد (علماء کرام) نے فرما یا شخص کے لئے جو باصلاحیت ہے اور اس پر اعتماد ہو کے

وہ نا انصافی نہیں کرے گا تو اس کو قبول کر نے میں کوئی حرچ نہیں۔ کوئی دورہ اہوت ق خود اس سے دور رہنا بہتر ہے کیوںکہ .......

(احمد،ترمزی،البوداود، ابن ماجہ)

Abu Huraira narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever is made a judge among people has been slaughtered without a knife. [Narrated by Ahmad, al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

The noble scholars have differing opinions regarding whether it is permissible for a person to accept a judgment (قضاء) after the completion of the prescribed conditions and circumstances. Some scholars have stated that accepting a judgment in such a situation is undesirable because the Noble Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said about Merudi (صلی اللہ علیہ وسلم): 'Whoever is mentioned in a judgment is as if his mind has been taken without his consent.' Abdullah bin Wahb (رحمه اللہ) went home, and whenever someone came to his house, he would make their face appear youthful and remove their beard. One of the senior and wise Companions (رضی اللہ عنہ) said to him, 'O Abdullah, if you accept the judgment and act justly, it would be better.' He replied, 'O man, do you have any sense? Have you not heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say that judges will be raised with tyrants, and scholars will be raised with prophets? It is well-known that when the position of judge was offered to Imam Abu Hanifah (رحمه اللہ تعالیٰ), he refused it. He was beaten with ninety lashes, and when he feared for his life, he consulted his companions. Imam Abu Yusuf (رحمه اللہ) found it suitable for him, so he accepted it. When asked how he would present himself to people, Imam Abu Hanifah (رحمه اللہ) said, 'If I were commanded to cross the sea by swimming, I would have found it easier.' Then he bowed his head and did not look at anyone. This is recorded in Khazain al-Mufti. When this position was presented to Imam Muhammad (رحمه اللہ), he also refused it initially. He was then arrested and forced to accept it. (This is mentioned in Enaahi Sharh Badai.) Imam Kray, Khosaf, and the scholars of Iraq have stated that it is not appropriate to accept the position unless one is compelled to do so. The noble scholars of our country have said that there is no harm in a person who is qualified and trustworthy, and who will not act unjustly, accepting the position. However, some have opined that it is better to stay away from it. (Ahmad, Tirmidhi, Al-Bukhari, Ibn Majah)

5048

سیرنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی حاکم لوگوں کے درمیان اپنا فصل نافذ کرتا ہے تو وہ قیامت کے

دن اس حال میں آے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی کو پکڑ لے ہو گے ہو گا پھر وہ فرشتہ اپنے سر کو آسمان

کی طرف اٹھا لے گا اور (اللہ تعالیٰ) اس کو (دوڑنے میں) ظالمین کے لئے کہ تو وہ اس کو لے گے

میں دوال دے گا (جس کی گهرانی) چاپیس سال کی ہو گی _ (احمد، ابن ماجہ، ترمزی شعب الایمان)

Abdullah ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: No judge rules among people except that on the Day of Resurrection, an angel seizes him by the nape, raising his head to the sky. If it is said: Cast him, he is cast into an abyss for forty years. [Narrated by Ahmad, Ibn Majah, and al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]

5049

سیرتنا عاشر رضی اللہ عنہ رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں

آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا عادل قاضی کے لئے جس قیامت کے دن ایک ایسا وقت آے گا وہ تم نا کرے گا

کر کاش کسی دو آدمیوں کے درمیان جسی وہ کسی کہ جور کے بارے میں جسی فصل نہ کیا ہوتا _ (احمد،

دارقطنی)

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated from the Messenger of Allah (ﷺ): There will come upon the just judge on the Day of Resurrection a time when he will wish he had never judged between two people even over a single date. [Narrated by Ahmad and al-Daraqutni]

5050

ابن موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیرنا عثمان بن عفان رضی

اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا آپ لوگوں کے درمیان فصل کریں تو انہوں نے کہا اے

امیر المومنین آپ مجھے معاف فرما دیں _ آپ پر فرمايتم کیون اس کو نا پسند کر رہے ہو _ جب کہ

تمہارے والد قضا ء کا کام کیا کرتے تھے _ تو انہوں نے کہا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کو فرما تے ہوئے سناتا ہوں کہ قاضی ہواور عدل کے ساتھ فصل کرے تو وہ لا قط ہے کہ وہ اس کے

........ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اوران کے بعد آنے والے (تابیین) نے بلکہ ابت اس کو قبول کیا ہے _ کروری کی کتاب

" وجیز " میں ایس طرح ہے البتہ وہ شخص اپنے فصل کرنے میں ظلم وزیادتی کا اندیشہ کرتا ہے تو اس کے لئے اس منصب کو

قبول کرنا کر وہ اور جس کواس کا اندیشہ نہ ہواس کے لئے مطلوب کرنا اوراس کا سوال کرنا کسی بھی شخص کے لئے مناسب نہیں _

"یانی " میں ہے کہ اس پر فائز ہو نے کے لئے مطالبہ کرنا اوراس کو اس کو قبول کرو نگا اوراس کواس بات کی حرص ہو کہ یہ بات امام تک

آگرا امام مجھے شہر کے عہدہ قضاء پر فائز کرے تو میں اس کو قبول کرو نگا اوراس کواس بات کی حرص ہو کہ یہ بات امام تک

پہنچ _ تو وہ اس کو عہدہ پر فائز کرے گا اوراس کے لئے یہ سب کرو ہے اور بعض حضرات نے فرمایا جس شخص کوسوال کے

بغیر اس عہدہ پر فائز کیا جائے تو اس کو قبول کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے _ اور جو شخص اس عہدہ کے لئے سوال کرے تو وہ

اس کے لئے کرو ہے _ اور علماء کرام کا عموما نہ ب پیہ کر قضاء کے منصب کو اختیار کرنا رخصت ہے اوراس سے پچنا

عزیمت ہے _ کتاب مر اجیم میں ہے کہ بہی قول مختار ہے (تا تارخانی)

برابر براعبدہ برا ہو پھرآ پ نے اس سے دوبارہ نہیں فرمایا (ترمذی)

Ibn Mawhab narrated: Uthman (may Allah be pleased with him) said to Ibn Umar: Go and judge among people. He said: Will you excuse me, O Commander of the Faithful? He said: Why do you dislike it when your father judged? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever was a judge and judged justly will barely escape it unscathed. He did not argue further. [Narrated by al-Tirmidhi] In a narration by Razin from Nafi‘, Ibn Umar said to Uthman: O Commander of the Faithful, I will not judge between two people. He said: Your father judged. He said: If my father was uncertain about something, he asked the Messenger of Allah (ﷺ), and if the Messenger of Allah (ﷺ) was uncertain, he asked Jibril. I find no one to ask. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever seeks refuge with Allah has sought a great refuge. I seek refuge with Allah from being made a judge. So he excused him and said: Do not tell anyone.

5051

اور زین کی اکی روایت میں نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ ابن عمرؓ

نے عثمانؓ سے کہا: اے امیر المومنین میں کسی دوآ دیون کے درمیان مجھے فیصلہ نہیں کروںگا آپ نے

فرمایا تمہارے والد تو قضاء کا کام کرتے چھوٹو انہوں نے کہا اگر ان کے لئے کوئی مشکل ہوتی تو وہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے تھے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اشکال ہوتا

تو آپ جبریل علیہ السلام سے دریافت فرماتے۔ اور میں تو کسی کو نہیں پاتا جو میں کہ جس سے دریافت

کر سکوں۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا ہوں اللہ کی پناہ ما گے اس

نے بھی ذات کی پناہ ما گی ہے اور میں نے آپ علیہ کو فرماتے ہوئے سناتا ہوں اللہ کی پناہ ما گے تو

تم اس کو پناہ دو اور میں بے شک اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ آپ مجھ کو قاضی مقرر فرما ئیں پس آپ

نے ان کو معاف فرمادیا اور فرما یا کسی کو اس کی اطلاع مت دو

Ibn Mawhab narrated: Uthman (may Allah be pleased with him) said to Ibn Umar: Go and judge among people. He said: Will you excuse me, O Commander of the Faithful? He said: Why do you dislike it when your father judged? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever was a judge and judged justly will barely escape it unscathed. He did not argue further. [Narrated by al-Tirmidhi] In a narration by Razin from Nafi‘, Ibn Umar said to Uthman: O Commander of the Faithful, I will not judge between two people. He said: Your father judged. He said: If my father was uncertain about something, he asked the Messenger of Allah (ﷺ), and if the Messenger of Allah (ﷺ) was uncertain, he asked Jibril. I find no one to ask. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever seeks refuge with Allah has sought a great refuge. I seek refuge with Allah from being made a judge. So he excused him and said: Do not tell anyone.