حاکموں کے ذمہ سے مولت فراہم کر نے کا بیان
The provision of wealth is the responsibility of rulers.
سیدنا ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ایسے صحابیوں سے کسی کو اپنے کسی کام بررواند فرامانے تو ارشاد فرامانے خوشخبری دیا کر ونفرت مت پیدا
کروآ سانی فراہم کروانی مت کرو (متفق علیہ)
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) sent one of his companions on a mission, he would say: Give glad tidings and do not repel, and make things easy and do not make them difficult. [Agreed upon]
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرمایا: آسانی پیدا کرواور تگی میں مت والوراحت پیدا کرو نفرت مت پیدا کرو (متفق علیہ)
Anas narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Make things easy and do not make them difficult, and calm people and do not repel them. [Agreed upon]
ابن ابی برده رحمۃ اللہ علیہ سے روایت سے کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ان کے دادا ابوموسی کو اور معاذ کو مین کی طرف روانہ فرمايااور ارشاد فرمايا تم دونوں آسانیال فراہم
کرواور تگی میں مت والوخوشخبری دیا کرو نفرت مت پیدا کرو ایک دوسروں سے موافقت کرو باہم
اخلاف مت کرو (متفق علیہ)
Ibn Abi Burda (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) sent his grandfather Abu Musa and Muadh to Yemen and said: Make things easy and do not make them difficult, give glad tidings and do not repel, and cooperate and do not differ. [Agreed upon]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
فرمایا: ہر عہد شکن کے لئے اس کی سر بن کے پاس قیامت کے دن ایک جہنم ڈالہوگا
For every covenant-breaker, there will be a hellfire placed on the head of his progeny on the Day of Resurrection.
اور ایک روایت میں سے ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جہنم ڈالہوگا جو
اس کی عہد شکنی کے بقدر اونچا کیا جائے گا۔ آگاہ رہو عوام سے عہد شکنی کرنے والے حاکم سے بڑھو
Abu Sa'id narrated from the Prophet (ﷺ): Every betrayer will have a banner at his rear on the Day of Resurrection. In another narration: Every betrayer will have a banner on the Day of Resurrection raised according to the extent of his betrayal. Indeed, no betrayer is greater in betrayal than a public leader. [Narrated by Muslim]
1قوله: الا ولا غادر اعظم غدرا من امير عامة (آگاہ رہو عوام سے عہد شکنی کرنے والے حاکم سے
برطہ کرو کی عہد شکن نہیں ہے) امام نووی نے فرمایا س میں عہد شکنی کی سخت حرمت کا بیان سے خاص طور پر عوام کے صاحب
اقترار کے لئے کیونکہ اس کی عہد شکنی کا نقصان مخلوق کیثر کو پہنچتا ہے۔ مشہور تو یہ ہے کہ پیغمبر کے حیثث شریف عہد شکن کی نذمت
میں وارد ہونی ہے اور اس کی طرف سے اس امانت سے متعلق ہے جس کی رعايت کے حق میں اس سے زمرداری قبول کی ہے
اور اس کی انجام دہی اور حفاظت کو اس سے اپنے اوپر لازم کر لیا پیش جب اس سے ان کے ساتھ خیانت کی ایان پر شفقت
و مہربانی کرنا ترک کیا ہے تو یقیناً اس سے اپنے عہد کو ترک دیا اور اس بات کا کچھ اختیال ہے کہ اس حیثث میں رعايت کو امیر
کے ساتھ عہد شکنی کر نے سے روکا گیا ہوگا وہ اس کی جمعیت کو منتشر نہ کری اور اس کی وجہ سے جس قسم کے واقع ہو نے کا
اندیشہ کیا جارہے وہ اس کے درپیش ہول۔ لیکن قابل ترجیح پہلا مفہوم ہے جسیا کہ مرقات میں ہے۔12
کر کوئی عہد شکن نہیں ہے۔ (مسلم)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا یہاں بن
فال کی عہد شکن کی علامت ہے۔ (متفق علیہ)
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The betrayer will have a banner raised for him on the Day of Resurrection, and it will be said: This is the betrayal of so-and-so, son of so-and-so. [Agreed upon]
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جبرعہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا اٹھوگا جس کے ذریعہ وہ پچپانا جائے گا۔
Anas narrated from the Prophet (ﷺ): Every betrayer will have a banner on the Day of Resurrection by which he will be known. [Agreed upon]
سیدنا اعمروبن مرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے معاونیت کہا میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنایہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی
مقرر فرماتے اور وہ ان کی ضرورت، اور تندستی کو دور کرنے کا موقع ہوتا وہ منزل پہا لیتا ہے تو اللہ
تعالیٰ اس حاکم کی ضرورت و عرضداشت اور تگ دستی سے جواب فرماتا ہے۔ چنانچہ معاونیت لوگوں
کی ضرورتوں پر ایک شخص کو مقرر فرمادیا۔ (ابوداود،ترمذی)
Amr ibn Marra (may Allah be pleased with him) narrated that Muawiya said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever Allah Almighty entrusts with any matter of the Muslims and then secludes himself from their needs, wants, and poverty, Allah will seclude Himself from his needs, wants, and poverty. Muawiya then appointed a man to attend to people’s needs. [Narrated by Abu Dawud and al-Tirmidhi] In a narration by them and Ahmad: Allah will close the gates of heaven against his wants, needs, and poverty.
اورترمزی اوراحمد کی ایک روایت میں اغلق اللہ له ابواب السماء دون
خلته و حاجتے و مسكنے (اللہ تعالیٰ اس کی درخواست، ضرورت و محتاجی کے وقت آسمان کے
دروازے کو بند کر دیتا ہے) کے الفاظ ہیں۔
سیدنا ابوشہرخ ازدی اپنے ایک پچازاد بحالی سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے صحابیوں سے ہیں روایت کرتے ہیں کہ وہ معاونی کے پاس آئے اور ان سے ملاقات کی تو فرمایا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنایہ جب کسی کو لوگوں کے کسی معاملے کا والی
مقرر کیا جائے پھر وہ مسلمانوں کے لئے یامعلوم کے لئے یاضرورتمند کیلئے دروازے کو بند کر دے اللہ
تعالیٰ اس کے لئے اس کی ضرورت اور پیلے سے زیادہ اس کی محتاجی کے موقع پر اپنی رحمت کے
دروازے بند کر دیتا ہے۔ (تیمی شعب الایمان)
Abu Tasmah al-Azdi narrated from his paternal cousin, one of the Prophet’s companions (ﷺ): He came to Muawiya and entered upon him, saying: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever is entrusted with any matter of the people and then closes his door to the poor, the oppressed, or those in need, Allah will close the gates of His mercy to him when he is in need, in poverty, and most in need of it. [Narrated by al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب اپنے حکام کو
روانہ فرما تے تو ان پر شرط لگائے کہ تم عبده سواری پرسوارمت ہواورمیدہ کی روثی مت کھاؤ اور
باریک پڑے مت پہنواور لوگوں کی ضرورتوں کے وقت اپنے دروازول کوبندمت کرواگرتم نے ان
میں سے کوئی چیز کی توتم پرسامقرر ہوچکی پھروہ ان کورخصت 3فرما تے -
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated: When he sent out governors, he stipulated upon them: Do not ride fine mounts, do not eat refined food, do not wear delicate clothing, and do not close your doors to the needs of the people. If you do any of this, punishment will befall you. Then he would see them off. [Narrated by al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman]
2قولہ: فاحتاجب دون حاجتهم الخ (اور وہ ان کی ضرورت، اور تندستی کو دور کرنے کا موقع ہوتا وہ منزل پہا
لیتا ہے) درختار میں ہے: حاکم مسجد میں فیصلہ کرے اور لوگوں کی سہولت کی خاطر وسط شہر کی مسجد کا انتخاب کرے۔ اس
طرح باوشاہ، مفتی اور فقیہ کی، یا پھر اپنے گرمیں (فیصلہ کرے) اور سب کے لئے عام اجازت دے۔
3 قو لہ: ثم يشيعهم (پھروہ ان کورخصت فرما تے ) مرقات میں بہ مشا ئت ( رخصت کرنا ) مستحب ہے -