حکومت اور فیصلہ جات کا بیان
الل بزر و برتر كا رشاد ياي ا الذين امنوا اطيعوا الل واطيعوا الرسول واولي الامر منكم فان تنازعتم في شيء فردو الي الل والرسول ان كنتم تومنون بالل واليوم الااخر ذلك خير واحسن تاويلا
اے ایمان والو! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول (علیہ السلام) کی اور تم میں تو اولوالامر کی اگرتم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اس کو اللہاور رسول کی طرف رجوع کروا گرتم ایمان رکھتے ہو اللہ تعالی اورآخرت کے دون پر۔ یہہترین ہے اور زیادہ اچھا ہے انعام کے اعتبار سے۔ (سورۃ نساء،4،آیت نمبر:59)
O believers! Obey Allah and obey the Messenger (peace be upon him) and those in authority among you. If you differ over any matter, refer it to Allah and the Messenger, if you truly believe in Allah and the Last Day. This is the best and most commendable course in terms of reward. (Surah An-Nisa, 4, Verse Number: 59)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمايا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ہے اور جس نے میری نافرمائی کی اس نے اللہ کی نافرمائی کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی اور
پی خطاب ان کی اطاعت کے لئے عام لوگوں سے ہے اور پھر اختلاف کے وقت اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ تو اس سے تم بیات معلوم ہوتی ہے کہ ان کی اطاعت جب تک وہ حق پر رہیں واجب ہے اور جب وہ حق کے خلاف کریں تو ان کی اطاعت نہیں ہوگی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے لا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِی مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، (خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی)۔ پس اگر کہا جائے کہ پیغمبر کے ذہب کے خلاف ہے کیونکہ اس میں پیہ کے ظالم باشہا کو برداشت کرنا جائز ہے اور اس کے خلاف بغاوت کرنا درست نہیں ہے اور امیرت اور زیادتی کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس اخر مسئلہ میں اختلاف ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس وقت درست ہے جب کہ حق کے ساتھ اس کے لئے فیصلہ مکن ہوگین جب ایسا مکن نہ ہوتو درست نہیں۔ اور اس کے سوا کیا کہ ہم حق کا فیصلہ کرنے کی صورت میں اس کے لئے ہوئے کا جو حکم لگے ہیں وہ اس لئے کہ فسق و فجور اور ظلم و زیادتی، خلافاء راشدین کے بعد اتمہ اور امراء میں چھیل گئی۔ تھی۔ اور سلف ان کی اطاعت کرتے تھے اور جمع و عیدیں کی نمازیں ان کی اجازت سے قائم کرتے اور ان کے خلاف خروج کی راہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے احکام کو جبالا تے باوجود اس کے حق سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ان کے دور میں تھا۔ اور تا لبعین تجارج کے احکام کی تقليد کرتے باوجود اس کے کہ وہ ظالم باشہا تھا جسیا کہ بدایی میں صراحت ہے کہ حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ علیہ جومروی ہے کر فسق سے وہ معزول ہوجائے گا لیکن علماء شافعی کی کتابوں میں یکساں ہوا ہے کر فسق کی وجہ سے امیر معزول نہیں ہوگا کیونکہ اس کے معزول ہونے اور دوسرے کو قائم کرنے میں فتنہ کو بڑھانا ہے کیونکہ امیر کو قوت حاصل رہتی ہے۔ برخلاف قاضی کے کہ وہ ان کے پاس فسق کی وجہ سے معزول ہوجائے گا کیونکہ اس کو کوئی طاقت نہیں ہوتی جسیا کہ ثریح عقل کہ میں اس کی وضاحت ہے اور حق بات یہ ہے کہ اولاً امر سے مراد وہ سب اشخاص ہیں جن کو تابع اور متبع کے حسب مرتبہ حکومت حاصل ہے چاہے امام ہو یا امیر، سلطان ہو یا حاکم، عالم ہو یا مجتہد، قاضی ہو یا مفتی، کیونکہ نص مطلق ہے تخصیص کی ویل کے بغیر اس کو مقید نہیں کیا جاسکتا۔ اور بیات جاننا چاہیے کہ خلافت کامل سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ علیہ پر ختم ہوئی۔ حضور علیہ والصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق الخلافة بعدی ثلاثون سنة ثم يصير ملكا عضوضا، (خلافت میں بعد تیس سال ہوگی پھر کات کہاں والی حکومت ہوگی)۔ برخلاف خلافت ناقص کے، کہ وہ خلافاء عباسی میں بھی رہی ہے لیکن امام معدوم ہے اب ہمارے زمانے میں اس کی شرط کا فقدان ہے کیونکہ اس کی ادنیٰ شرط یہ ہے کہ امام اعلیٰ قریش سے ہو اور اکثر مقامات میں وہ اب معدوم ہے لیکن سلطنت اور امارت باقی ہے اور ہم پران کی اتباع اس زمانے میں بھی واجب ہے کیونکہ وہ اولاً امر ہیں اور اولاً امر کی اتباع نقص کے مطلق ہوئے کی بناء پر واجب ہے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ وہ اتمہ اور خلافاء میں۔
جو سے امیر کی نافرمانی کی اس سے میری نافرمانی کی - یقیناً امام ظہال بے جس کے پچھے تے
جانگ کی جائے ہے - اوراس کے ذریعہ فاظت کی جائے ہے - پس اگروہ امام اللہ کے تقوا کا حکم دے
اور عدل کے کام لے تو اس کواس کی وجہ سے اجرہ اور اگراس کے سوا کوئی اور بات کے تو اس پراس
کا و بال بے - (متفق علیہ)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever obeys me has obeyed Allah, and whoever disobeys me has disobeyed Allah. And whoever obeys me...'
The address is to the common people for their obedience, and then at the time of disagreement, they are commanded to refer to Allah and His Messenger, peace be upon him. From this, it is evident that their obedience is obligatory as long as they remain on the truth, but if they deviate from the truth, their obedience is not required. This is because the Messenger of Allah, peace be upon him, has said: 'There is no obedience to a creature in disobedience to the Creator.' Therefore, if it is said that this contradicts the Prophetic tradition, as it allows bearing with tyrant rulers and rebellion against them is not permissible, and they will not be deposed due to tyranny and excess, Imam Shafi'i, may Allah have mercy on him, has differences in this latter issue. I say that it is permissible when a decision can be made in favor of the truth; if such a decision cannot be made, it is not permissible. And apart from this, what can we do when, in making a decision about the truth, the commands that have been issued are due to the prevalence of sin, transgression, and tyranny among the caliphs and rulers after the Rightly Guided Caliphs? The early scholars used to obey them, establish congregational and Friday prayers with their permission, and did not take the path of rebellion against them, as the Companions, may Allah be pleased with them, followed their commands despite the tyranny during the time of Sayyiduna Ali, may Allah be pleased with him, and adhered to the commands of the rulers despite their tyranny, as is explicitly stated that Imam Shafi'i, may Allah be pleased with him, holds the view that a ruler will be deposed due to sin, but in the books of Shafi'i scholars, it is consistent that a ruler will not be deposed due to sin because deposing him and appointing another would increase discord, as the ruler retains power. In contrast, a judge will be deposed due to sin because he does not have such power, as is clear from sound reasoning, which I have explained. The correct position is that, first, the term 'ruler' refers to all individuals who hold authority over followers and subjects, whether they are an Imam, a governor, a sultan, a ruler, a scholar, a mujtahid, a judge, or a mufti, because the absolute text cannot be restricted without specific indication. It should be known that the perfect caliphate ended with Sayyiduna Ali, may Allah be pleased with him, according to the guidance of the Prophet, peace be upon him: 'The caliphate will last for thirty years, then it will become a hereditary kingship.' In contrast to the imperfect caliphate, which remained even among the Abbasid caliphs, but now in our time, the condition of the caliphate is absent because one of its essential conditions is that the Imam must be from the Quraysh, and this is mostly absent today. However, sovereignty and governance remain, and following the ancients is obligatory in this time as well, because they are the primary authorities, and following the primary authorities is obligatory based on the absence of any deficiency. This is not in the context of the caliphs and the perfect caliphate. If a ruler commands according to the command of Allah and acts justly, then there is reward for him, and if he does anything other than that, then there is no reward for him. (Agreed upon)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرما یا: (امیر کی بات) سننا اوراس کی اطاعت کرنا مسلمان آدی پر ضروری ہے اس چیز میں جس کو
وہ پسند کرے اوراس چیز میں جس کو وہ ناپسند کرے جب تک کہ اس کو سی معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو
پس جب اس کو معصیت کا حکم دیا جائے تو زاس کی بات سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے - (بخاری
مسلم)
Listen to the ruler and obey him in what you like and in what you dislike, as long as he does not command you to commit a sin. If he commands you to commit a sin, then do not listen to him or obey him.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرما یا: کسی گناہ میں کوئی اطاعت نہیں یقیناً اطاعت صرف معروف (نیک کے کام) میں ہوتی
ہے - (بخاری و مسلم)
There is no obedience in sin; indeed, obedience is only in what is right (good deeds).
نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں - (شرح السنامام
بغوی)
There is no obedience to the creation in disobedience to the Creator.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے کہ تم نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سمجھ اطاعت (امیر کی بات سننا اور فرما برداری کرنے) پر بیعت کی، تقدستی
اور فراخدستی میں، خوشی اور ناخوشی میں اور تم پر کسی دورسر کو ترچہ دینے کی صورت میں بھی اوراس
بات پر جس کہ تم صاحب اقتدار کے اقتدار کے بارے میں جھگڑا نہ کریں اوراس بات پر جس کہ تم
جہالت کیسے رہی حق کی بات کیسے اور اللہ کے معاولے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کے
خوف نہ کیا تمس -
you took the pledge of allegiance from the Messenger of Allah ﷺ to listen and obey (to hear and comply with the commands of the leader), in prosperity and adversity, in pleasure and displeasure, and even if someone far away is appointed over you, and on the matter that you will not dispute with the one in authority over his authority, and on the matter that you will remain in ignorance as long as the truth remains clear, and you will not fear the blame of any blamer in the cause of Allah.
ایک روایت میں ہے اوراس پر جس کہ صاحب اقتدار کے اقتدار کے بارے
میں اختلاف نہ کریں گر پیغمبر ﷺ اپنا کلا کفر دیتا ہے جس میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف
In a narration, do not differ regarding the authority of the one in authority, even if the Messenger of Allah ﷺ declares something as major disbelief which you consider to be from Allah, the Exalted.
آپ علیہم صلی اللہ نے فرمايا: نہیں جب تک کروہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں، جب تک کروہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ یا ورکو جس آدمی پر کوئی حاکم مقرر کر دیا جائے اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کوئی چیز دیکھے تو وہ ناپسند کرے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کو جس وہ کر رہا اور ہرگز اطاعت سے باٹھنا چاہے لے۔ (مسلم)
سید ناعوف بن ماک اشجع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے امام وہ جن کوتم چاہتے ہواور جوتم کو چاہتے نہیں اورتم ان کے لئے دعا کرتے ہواور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بعض رکعت ہواور وہ تم سے بعض رکعت ہیں اورتم ان پر لعن کرتے ہواور وہ تم پر لعن کرتے ہیں۔
Awf ibn Malik al-Ashja'i reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The best of your leaders are those you love and who love you, whom you pray for and who pray for you. The worst of your leaders are those you hate and who hate you, whom you curse and who curse you." They said: "O Messenger of God, should we not oppose them in that case?" He said: "No, as long as they establish prayer among you. No, as long as they establish prayer among you. Whoever is under a leader and sees him committing a sin against God should dislike the sin, but not withdraw from obedience." [Narrated by Muslim]
سید ناام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر ایسے امراء (حاکمان) ہوں گے جن میں تم معروف و منکر کو دیکھو گے پس جو شخص انکار کرے تو وہ بری الزمہ ہوگیا اور جونا پسند کرے تو وہ محفوظ رہا البتہ جوراضی رہا اور موافقت کر لیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا تم ان سے جنگ زکری؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ نہیں جو آدمی اپنے دل سے ناپسند کرے اور دل سے انکار کرے۔ (مسلم)
اور مصانع کے بعض نسخوں میں یعنی من کرہ بقلبه و انکر بلسانہ۔ (یعنی جودل سے نا پسند کرے اور زبان سے انکار کرے)۔
Umm Salama, may God be pleased with her, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "You will have leaders, some of whose actions you will approve and some you will disapprove. Whoever dislikes them is absolved, and whoever denounces them is safe, but whoever approves and follows them [is not]." They said: "O Messenger of God, should we not fight them?" He said: "No, as long as they pray." Meaning, whoever dislikes and denounces with their heart. [Narrated by Muslim]
In some versions of al-Masabih, it means whoever dislikes with their heart and denounces with their tongue.
سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے فرمایا تم لوگ میرے بعد تر جیات (حق تلفظ) اور ایسے امور جن کوتم منکر جانے ہو دیکھو گے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ علیہم صلی اللہ فرمایا تم ان کو ان کا حق دواور اللہ تعالیٰ سے اپنا حفظ کرو۔ (متفق علیہ)
Abdullah ibn Mas'ud, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said to us: "You will see after me favoritism and things you disapprove of." They said: "What do you command us, O Messenger of God?" He said: "Give them their rights and ask God for your rights." [Agreed upon]
سید نا واصل بن جبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرودی ہے کہ سلمہ بن یزید جعفری نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے کہ ایا نبی اللہ علیہ صلی اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اگر
ہم پر ایسے مراع قائم ہوجائیں جو انہم سے اپنا حق ماگیں اور انہم سے ہمارا حق رک دی تو آپ کیا حکم
فرماتے ہیں۔ آپ علیہ صلی اللہ نے فرمايان کی با تین سنواوراطاعت کرو اس کے سوانیں کر ان پروہ پیز
واجب ہے جس کی ذمہ داری وہ اٹھا لے ہیں اور تم پروہ واجب ہے جس کی تم نے ذمہ داری اٹھالی
Wail ibn Hujr said: Salamah ibn Yazid al-Ju'fi asked the Messenger of God, peace and blessings be upon him: "O Prophet of God, what if leaders are appointed over us who demand their rights but deny us ours? What do you command us?" He said: "Listen and obey, for they are responsible for what they are tasked with, and you are responsible for what you are tasked with." [Narrated by Muslim]
سیرنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمايان کی اسرائیل پران کے انبیاء صلی اللہ علیہم السلام حکومت کیا کرتے تھے جب کوئی نبی انتقال
کر جاتے تو دورے نبی ان کے جا نشین ہوجاتے اور بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے بلکہ عقیقیب
خلفاء ہو گے پس وہ بکثرت ہو گے صحابہ نے عرض کیا آپ علیہ صلی اللہ علیہ کیا حکم فرما تے ہیں؟ آپ علیہ صلی اللہ
نے فرماپس تم پہلے جس سے بیعت 3 کے ہواس کو پورا کرو وی پہلا خلیفہ مستحق ہے اور ان کو ان کا حق
دیو پس بلا شبہ اللہ تعالی ان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس میں وہ ان کو حاکم بنایا۔
(متفق علیہ)
Abu Huraira, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "The Children of Israel were governed by prophets. Whenever a prophet died, another succeeded him. There will be no prophet after me, but there will be caliphs, and they will be many." They said: "What do you command us?" He said: "Fulfill the pledge to the first, then the first, and give them their rights, for God will hold them accountable for what they were entrusted with." [Agreed upon]
(1) Regarding the saying: "Fulfill the pledge to the first, then the first," etc.: This means that if a caliph is pledged allegiance after another, the pledge to the first is valid and must be fulfilled, while the pledge to the second is invalid and fulfilling it is prohibited. Scholars agree that it is not permissible to appoint two caliphs at the same time, whether the Muslim lands are vast or not, as stated by al-Nawawi in Sharh Aqa'id al-Nasafi.
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دوخليفہ 4 کے لے کے بیعت کی جائے گی تو ان دونوں میں سے آخری کو قتل
کرو۔ (مسلم)
Abu Sa'id, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "If two caliphs are pledged allegiance, kill the latter of them." [Narrated by Muslim]
(1) Regarding the saying: "If two caliphs are pledged allegiance," etc.: This indicates that it is not permissible to pledge obedience to two caliphs, as agreed upon by consensus, according to al-Nawawi.
سیرنا عرفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا کہ عقیقیب تم میں مسلسل فتنے ہی فتنے رونما ہول گے پس جو شخص امت کے
معالم میں جب کوہ متحده چھوٹے ناچاہے تو تم اس کو توار سے مارو خواہ وہ کوئی ہو۔ (مسلم)
Arfaja, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "There will be defects and flaws. Whoever seeks to divide this nation while it is united, strike him with the sword, whoever he may be." [Narrated by Muslim]
3قوله: فوا بيعة الاول فالاول الخ (پس تم پہلے جس خلیفہ سے بیعت کے ہواس کی بیعت کو پورا کرو وی
پہلا خلیفہ مستحق ہے) اس حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ جب کسی خلیفہ ہوتے ہوئے کسی دوسروں خلیفہ پر بیعت کی
جاے تو پہلی بیعت تھے اوراس کو پورا کرنا ضروری ہے اور دوسرے کی بیعت باطل ہے اوراس کو پورا کرنا حرام ہے
اور علماء کا اتفاق ہے اس بات پر کہ ایک زمانے میں دو خلیفہ کے لے بیعت جائز نہیں خواہدارالاسلام کے حدود دوسیع ہوں یا
نہ ہوں (امام نووی نے بیات کی ہے اور شرح عقائد میں ایساتی ہے)
قوله: اذا بويع لخليفتين الخ (جب دوخليفہ کے لے بیعت کی جائے) اس میں حکم ہے کہ دوخليفہ کے لے اطاعت کا معالم جائز نہیں ہے۔ امام نووی نے فرمایا کہ اس پراجامع منقول ہے۔
انہی (عفہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا کہ تمہارے پاس ایس وقت جب کہ تمہارا معاملہ ایک آدمی پر محکم ہوئی شخص تمہارے اتحاد میں رخمیا تمہاری جماعت میں تفرق ذا لکے لے آئے تو تم اس کو قتل کرو او (مسلم)
From him, may God be pleased with him, he said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "Whoever comes to you while your affairs are united under one man, seeking to break your unity or divide your community, kill him." [Narrated by Muslim]
سر نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی امام سے بیعت کرے، اس کے باٹھ میں اپنا باٹھ دے اور اپنے دل کا پچل (یعنی خلوص) دے تو وہ جس قدر رہوسکے اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی دوسرا اس سے جھڑا کرے (چھین لینا چاہے) تو تم اس دوسرے کی گردان اڑاو (جب کہ وہ اس کے سوا کسی اور طریقت سے باز نہ آئے)۔(مسلم)
Abdullah ibn Amr, may God be pleased with them, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Whoever pledges allegiance to an imam, giving him the clasp of his hand and the fruit of his heart, must obey him as much as he can. If another comes to dispute him, strike the neck of the other." [Narrated by Muslim]
ام الحسین رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم پر ناک کان کلا غلام کو امیر 5 بنادیاجا ے جو اللہ کی کتاب سے تمہاری قیادت کرتا ہے تو تم اس کی بات سنواور اطاعت کرو۔(مسلم)
Umm al-Husayn, may God be pleased with her, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "If a mutilated slave is appointed over you and leads you by the Book of God, listen to him and obey." [Narrated by Muslim]
(1) Regarding the saying: "If a mutilated slave is appointed over you," etc.: This means to listen and obey the leader, even if he is of low lineage, such as a black slave with severed limbs; his obedience is obligatory. A slave may become a leader if appointed by an imam or if he gains control through power and followers. However, appointing a slave as a leader is not permissible by choice, as freedom is a condition, according to al-Nawawi. Thus, it is stated in al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Mukhtar: The authority of a usurper is valid due to necessity to prevent unrest, and as per the saying: "Listen and obey, even if a mutilated Abyssinian slave is appointed over you."
سیر نا اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (حاکم کی بات) سنواور اطاعت کرو اگر پچیہ تم پر حبشی غلام حاکم بنادیاجا ے 6 جس کا سر
قولہ: ان امر علیکم عبد مجدع الخ (اگر تم پر ناک، کان کلا غلام امیر بنادیاجا ے) یعنی تم امیر کی بات سنواور اس کی اطاعت کرو اگر پچیہ وہ نسب میں کمتر ہو۔ یہاں تک کہ اگر وہ کالا غلام ہوا س کے اعضاء کے ہول تو کچھ اطاعت واجب ہے اور غلام کی حکومت کا اس وقت تصور ہوگا جب کہ بعض امراء اس کو حاکم بنا نہیں ہول یا وہ اپنے اور اپنے پیروکاروں کی قوت و شوکت کی وجہ سے ملک پر غالب آگیا ہو۔ ثروت میں اختیار و قدرت کے ہوتے ہوئے کسی غلام کا حکومت پرآ نا جائز نہیں بلکہ اس کے لیے آزادی شرط ہے۔ (اما م نوی نے یہ بات بتائی ہے) اس لیے درخت ااور رد اختر میں ہے غلبہ کے حاصل کرنے والے کا اقتدار ضرورت کے خاطر درست ہے۔ لیکن فتنہ کو فتح کرنے کے لیے (اس کے اقتدار کو قبول کر لیں گے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ اسمعوا و اطيعوا ولو امر علیکم عبد حبشی اجدع۔ اگر تم پر حبشی ناک کان کلا ہو اغلام امیر بنادیاجا ے تو کچھ تم اس کی بات سنواور اطاعت کرو۔
قولہ: و ان استعمل علیکم عبد حبشی الخ (اگر پچیہ تم پر حبشی غلام حاکم بنادیاجا ے) یعنی اگر حاکم وقت قوم پراس کو گورز بنادے اس کا مطلب نہیں ہے کہ حبشی غلام خلیفہ بن جا ے کیونکہ اتمہ قریش میں سے ہوتے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حاکم وقت (یعنی خليفة، یہ ہے) اور یہ طور فرض و تقدير ہے۔ لیکن مان لو کہ اگر وہ امام بن جا ے، اس میں بطور مبالغہ امیر کی اطاعت کرنے اور اس کی خلافت سے بازر بنہ کا حکم ہے۔ (مرقات)
شمش کے دان جسیا تو _ (بخاری)
زیاد بن کسیب عرویٰ سے روایت بہ کہ میں ابوکبرہ کے ساتھ ابن عامر کے
منبر کے قریب تھا اور وہ خطبہ دے رہا تھا۔ اور اس پر باریک پر لے تھا تو ابو باللٰہ نے کہا ہمارے
امیر کو کیہو فا سقوں کے کپڑے پہنتا ہے تو ابوکبرہ نے فرمایا خاموش رہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا ہے جو آدی زین میں اللہ کے (مقررہ کردہ) سلطان کی اپانت
کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اپانت کرے گا۔ (ترمذی۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب
ہے)
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے فرمایا سب سے فضیلت والا جہاد اس آدمی کا ہے جس نے طالم باشہ کے ساتھ حق بات
کہی۔ (ترمذی، البوداود، ابن ماجہ)
اور امام احمد و نسائی نے طارق بن شہاب سے اس کی روایت کی ہے۔
سیدنا عاشرصد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ بزرگ و برتر کے ساپی کے طرف
سبقت کرنے والے کون ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ نے فرمایا وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق دیا جاتا ہے تو اس کو تبول کرتے ہیں اور
جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے وہی حکم دیتے ہیں جو وہ اپنے
نفس کے لئے حکم دیتے ہیں۔ (امام احمد)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت بہ کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم سے مع وطاعت کی بیعت کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلم سے فرماتے "فیما استطعتم" ان میں
جن کی تم استطاعت رکھتے ہو۔ (متفق علیہ)
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا ان اتمہ کے ساتھ کیسا معاہدہ ہوگا جو میرے بعد ہول گے۔ اس مالی فی میں
اپنے آپ کو ترچی دینے گے تو میں نے عرض کیا آپ پلا ظفر ما کی قسم بہ اس ذات کی جس نے
آپ صلی اللہ کو حق کے ساتھ محجباہ میں اپنے کندہ پر تلوار کھلونگا پھراس سے ضرب کا ول کا پھر
اس سے مارول گا۔ پیہال تک کہ میں آپ علیہ صلٰوۃ سے ملاقات کرول گا تو آپ نے ارشاد فرمایا میں تم کواس سے کچھ بہتر بات نہ بتلا وگ؟ تم صبر کرو پیہال تک کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ (ابوداود)
Anas, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Listen and obey, even if an Abyssinian whose head is like a raisin is appointed over you." [Narrated by al-Bukhari]
(2) Regarding the saying: "Even if an Abyssinian slave whose head is like a raisin," etc.: This refers to an Abyssinian slave appointed by the supreme imam over the people, not as the supreme imam himself, as imams must be from Quraysh. It is said to be an exaggeration to emphasize obedience and prohibit division or opposition, as stated in al-Marqah.
5قولہ: ان امر علیکم عبد مجدع الخ (اگر تم پر ناک، کان کلا غلام امیر بنادیاجا ے) یعنی تم امیر کی بات سنواور اس کی اطاعت کرو اگر پچیہ وہ نسب میں کمتر ہو۔ یہاں تک کہ اگر وہ کالا غلام ہوا س کے اعضاء کے ہول تو کچھ اطاعت واجب ہے اور غلام کی حکومت کا اس وقت تصور ہوگا جب کہ بعض امراء اس کو حاکم بنا نہیں ہول یا وہ اپنے اور اپنے پیروکاروں کی قوت و شوکت کی وجہ سے ملک پر غالب آگیا ہو۔ ثروت میں اختیار و قدرت کے ہوتے ہوئے کسی غلام کا حکومت پرآ نا جائز نہیں بلکہ اس کے لیے آزادی شرط ہے۔ (اما م نوی نے یہ بات بتائی ہے) اس لیے درخت ااور رد اختر میں ہے غلبہ کے حاصل کرنے والے کا اقتدار ضرورت کے خاطر درست ہے۔ لیکن فتنہ کو فتح کرنے کے لیے (اس کے اقتدار کو قبول کر لیں گے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ اسمعوا و اطيعوا ولو امر علیکم عبد حبشی اجدع۔ اگر تم پر حبشی ناک کان کلا ہو اغلام امیر بنادیاجا ے تو کچھ تم اس کی بات سنواور اطاعت کرو۔
قولہ: و ان استعمل علیکم عبد حبشی الخ (اگر پچیہ تم پر حبشی غلام حاکم بنادیاجا ے) یعنی اگر حاکم وقت قوم پراس کو گورز بنادے اس کا مطلب نہیں ہے کہ حبشی غلام خلیفہ بن جا ے کیونکہ اتمہ قریش میں سے ہوتے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حاکم وقت (یعنی خليفة، یہ ہے) اور یہ طور فرض و تقدير ہے۔ لیکن مان لو کہ اگر وہ امام بن جا ے، اس میں بطور مبالغہ امیر کی اطاعت کرنے اور اس کی خلافت سے بازر بنہ کا حکم ہے۔ (مرقات)
زیاد بن کسیب عرویٰ سے روایت بہ کہ میں ابوکبرہ کے ساتھ ابن عامر کے
منبر کے قریب تھا اور وہ خطبہ دے رہا تھا۔ اور اس پر باریک پر لے تھا تو ابو باللٰہ نے کہا ہمارے
امیر کو کیہو فا سقوں کے کپڑے پہنتا ہے تو ابوکبرہ نے فرمایا خاموش رہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتا ہے جو آدی زین میں اللہ کے (مقررہ کردہ) سلطان کی اپانت
کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اپانت کرے گا۔ (ترمذی۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب
ہے)
Ziyad ibn Kusayb al-Adawi said: I was with Abu Bakra under the pulpit of Ibn Amir while he was preaching, wearing thin clothes. Abu Bilal said: "Look at our leader wearing the clothes of the immoral." Abu Bakra said: "Be quiet. I heard the Messenger of God, peace and curses be upon him, say: 'Whoever humiliates God's authority on earth, God will humiliate him.'" [Narrated by al-Tirmidhi, who said: This is a good and rare hadith]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے فرمایا سب سے فضیلت والا جہاد اس آدمی کا ہے جس نے طالم باشہ کے ساتھ حق بات
کہی۔ (ترمذی، البوداود، ابن ماجہ)
Abu Sa'id, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The best jihad is to speak a word of truth before an unjust ruler." [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah, Ahmad, and al-Nasa'i from Tariq ibn Shihab]
اور امام احمد و نسائی نے طارق بن شہاب سے اس کی روایت کی ہے۔
سیدنا عاشرصد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ بزرگ و برتر کے ساپی کے طرف
سبقت کرنے والے کون ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ نے فرمایا وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق دیا جاتا ہے تو اس کو تبول کرتے ہیں اور
جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے وہی حکم دیتے ہیں جو وہ اپنے
نفس کے لئے حکم دیتے ہیں۔ (امام احمد)
Aisha, may God be pleased with her, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Do you know who will be the first to enter the shade of God Almighty on the Day of Resurrection?" They said: "God and His Messenger know best." He said: "Those who accept the truth when it is given to them, give it when asked, and judge others as they judge themselves." [Narrated by Ahmad]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت بہ کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم سے مع وطاعت کی بیعت کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلم سے فرماتے "فیما استطعتم" ان میں
جن کی تم استطاعت رکھتے ہو۔ (متفق علیہ)
Ibn Umar said: When we pledged allegiance to the Messenger of God, peace and blessings be upon him, to listen and obey, he would say to us: "As much as you are able." [Agreed upon]
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا ان اتمہ کے ساتھ کیسا معاہدہ ہوگا جو میرے بعد ہول گے۔ اس مالی فی میں
اپنے آپ کو ترچی دینے گے تو میں نے عرض کیا آپ پلا ظفر ما کی قسم بہ اس ذات کی جس نے
آپ صلی اللہ کو حق کے ساتھ محجباہ میں اپنے کندہ پر تلوار کھلونگا پھراس سے ضرب کا ول کا پھر
اس سے مارول گا۔ پیہال تک کہ میں آپ علیہ صلٰوۃ سے ملاقات کرول گا تو آپ نے ارشاد فرمایا میں تم کواس سے کچھ بہتر بات نہ بتلا وگ؟ تم صبر کرو پیہال تک کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ (ابوداود)
What kind of covenant will you have with these people who will come after me? If they whip you with their whips, then I said, 'By the One Who has made you victorious, O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, I will strike this person with my sword on his neck, and then I will strike him again until I meet you in Paradise.' Then he said, 'I did not tell you anything better than this. Be patient until you meet me in Paradise.' (Abu Dawud)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جوآدمی کسی امیر سے ایسی چیز دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی آدمی جماعت سے بالشت بھرا لگہوکرانقال کرے گا تو وہ جاپلیت کی موت مرے گا۔
Ibn Abbas, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Whoever sees something from his leader that he dislikes should be patient, for whoever separates from the community by even a span and dies, dies the death of the pre-Islamic era." [Agreed upon]
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتاہوں۔ جماعت کا، سمع کا، طاعت کا، تجردت اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا اور یقیناً جو کوئی آدمی جماعت سے بالشت بھر کچھ نقل جاے تو وہ اپنی گردان سے اسلام کا پٹھ نکال دیاگر پیکر پھروہ واپس آجاے اور جو آدمی جاپلیت کی پکار کی طرح پکارے تو وہ دوزخ کی جماعت میں سے ہے۔ اگر چیکہ وہ روزہ رکے نماز پڑھے اور دعوی کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ (امام احمد، ترمذی)
Al-Harith al-Ash'ari, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "I command you with five things: the community, listening, obeying, migration, and jihad in the way of God. Whoever separates from the community by a span has removed the noose of Islam from his neck unless he returns. Whoever calls with the call of the pre-Islamic era is among the heaps of Hell, even if he fasts, prays, and claims to be a Muslim." [Narrated by Ahmad and al-Tirmidhi]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنایہ کہ جوآدمی اطاعت سے نقل جاے اور جماعت سے الگ ہو جائے اور انقال کر جاے تو جاپلیت کی موت مرے گا۔ اور جو آدمی کسی اندہہ جھنڈے کے تحت (یعنی جس کا حق ہونا ظاہر نہ ہو) اڑے عصیت کے لیے غصہ ہوئے ہوئے یا عصیت کے لیے بلا تے ہوئے یا عصیت کی بناء پر مد کرتے ہوئے اور وہ مارا جائے تو وہ جاپلیت کے مارے جانے کی طرح ہے۔ جوآدمی میری امت کے خلاف ایک تلوار لے کراس کے اتنے اور برے لوگوں کو مارے اور اس میں سے موسی کی پرواہ نہ کرے اور کسی عہد و امان کے عہد کو پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اور میں اس سے نہیں ہوں۔ (مسلم)
Abu Huraira, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "Whoever abandons obedience and separates from the community and dies, dies the death of the pre-Islamic era. Whoever fights under a blind banner, becoming angry for a faction, calling to a faction, or supporting a faction, and is killed, his killing is of the pre-Islamic era. Whoever rebels against my nation, striking the righteous and the wicked, not sparing its believers, nor fulfilling a covenant with those who have it, is not from me, and I am not from him." [Narrated by Muslim]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنایہ کہ جوآدمی (امیر کی) اطاعت سے اپنا اتحاد الک کرے تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں لے جا کر اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی انقال کر جائے اور اس کے گل میں بیعت نہ ہو (امیر کی) تو اس کی موت جاپلیت کی موت کی طرح
ہے۔ (مسلم)
Abdullah ibn Umar said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "Whoever withdraws his hand from obedience will meet God on the Day of Resurrection with no excuse. Whoever dies without a pledge of allegiance on his neck dies the death of the pre-Islamic era." [Narrated by Muslim]
سیدنا عبد الرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اقتدار کا سوال مت کرو کیونکہ اگر وہ تم کو ما نگہ سے مل جائے تو تم
اس کے حوالے کر دیتے جائیں گے اور اگر وہ تم کو بغایر ما نگہ مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے
گی۔ (متفق علیہ)
Abd al-Rahman ibn Samura said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Do not seek leadership. If you are given it after asking, you will be left to it. If you are given it without asking, you will be helped in it." [Agreed upon]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ بیا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا تم عقیب حکومت اور اقتدار کی حرص کرو گے اور پی قیامت کے دن تمہارے لے کے
شرمندگی ہوگی۔ پس حکومت کتنی اچھی دودھ پلانے والی ہے اور کتنی بری دودھ چھڑانے والی ہے۔
(بخاری)
Abu Huraira, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "You will be eager for leadership, but it will be a source of regret on the Day of Resurrection. It is a good nurturer but a terrible weaner." [Narrated by al-Bukhari]
سیدنا ابو زر رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا
دست (شفقت) میرے موٹے ہاتھ پر مرا پھر فرمایا: اے ابو زر تم کمزور ہواور بے شک پر ایک امانت
ہے اور قیامت کے دن پر ایک رسوائی ہے اور شرمندگی (کاسب) ہے گر وہ آدمی جواس کواس کے حق
کے ساتھ لے اوراس حق کو ادا کرے جواس کے ذمہ اس سے متعلق ہے۔
Abu Dharr, may God be pleased with him, said: I said: "O Messenger of God, will you not appoint me?" He struck my shoulder with his hand and said: "O Abu Dharr, you are weak, and it is a trust. On the Day of Resurrection, it will be a source of humiliation and regret, except for those who take it rightfully and fulfill its duties." In another narration: "O Abu Dharr, I see you as weak, and I want for you what I want for myself. Do not rule over two people, nor manage an orphan's wealth." [Narrated by Muslim]
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابو زر میں تم کو
ضعیف و کیہر باہوں اور میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جواپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دوآ دمیول
پر ہرگز امیر نہ بننا اور نہ کسی میتم کے مال کے ذمہ دار بننا۔ (مسلم)
Abu Dharr, may God be pleased with him, said: I said: "O Messenger of God, will you not appoint me?" He struck my shoulder with his hand and said: "O Abu Dharr, you are weak, and it is a trust. On the Day of Resurrection, it will be a source of humiliation and regret, except for those who take it rightfully and fulfill its duties." In another narration: "O Abu Dharr, I see you as weak, and I want for you what I want for myself. Do not rule over two people, nor manage an orphan's wealth." [Narrated by Muslim]
سیدنا ابو زر رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم نے چھوڑنے کے فرمایا: اے ابو زر تم اس چیزو یا در کھوجواس کے بعد تم سے کیا جائے گی، پس
جب ساتوال دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم کو اللہ تعالیٰ کے تقوی کی وصیت کرتا ہوں تمہارے
اندر وہی اور علا نی معاملہ میں اور جب تم سے کوئی برائی سرزدہ ہو جائے تو اپنی کام کچھ کرو اور کسی سے
کوئی چیز مت مانلو اگر چیکہ تمہارا چا کب (کوڑا) گر جائے اور کسی کی امانت مت رکھوا اور دوآ دمیول
کے درمیان فیصلہ مت دو۔ (احمد)
From him, he said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said to me: "For six days, then heed what I say to you afterward." On the seventh day, he said: "I advise you to fear God in your private and public affairs. If you do wrong, then do good. Do not ask anyone for anything, even if your whip falls. Do not accept a trust, nor judge between two people." [Narrated by Ahmad]
سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت سے کہ میں اور میرے دو چپازاد
جواس کو ماگے اور نہیں ایسے کو جواس کی حوصلے کے
دوسرے نے مجھی ایسے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم بنادتے اس میں سے کسی چیز پر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ صلاۃ و اقتدار دیا ہے۔ اور
مجھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یا رسول اللہ
I and my two young servants were in a difficult situation, and I asked one of them to go and fetch something. The other one said to me, 'Do you call upon Allah to give you power over this matter for the sake of the Messenger of Allah ﷺ?' So, I went to the noble Prophet ﷺ, and one of them said, 'O Messenger of Allah, ...'
کو گورزنیس بناتے جواس کو چاہتا تھا۔ (متفق علیہ)
Ghurunis bint Jaws wanted to.
نہ پسند کرتے والے ہو پیہال تک کروہ اس میں بیٹلا ہوجائے۔ (متفق علیہ)
و سلم نے فرما یا لوگوں میں سب سے بہتر تم اس آدمی کو پاؤگے جو ان میں اس اقتدار کو سب سے زیادہ
سیدنا ابو بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم
Do not become so fond of something that you become exhausted by it. (Agreed upon)
And Salama said: O people, the best among you will be the one who has the most authority over himself.
پوچھا جائے گا۔ (متفق علیہ)
جا گے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے پچول پر نہیں بان ہے تو اس کے بارے میں اس کے پوچھا
پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے گھر والوں پر نہیں بان ہے تو اس کے بارے میں پوچھا
پوچھا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال پر نہیں بان ہے اور اس کے بارے میں اس کے پوچھا
جا گے گا سنو تم میں ہر ایک نہیں بان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے بارے میں
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلم وسلم نے فرما یا: سنو! تم میں کاہر آدمی نہیں بان و ذمہ دار ہے اور تم میں کاہر ایک اپنے ماتحت
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو امام لوگوں پر نہیں بان ہے اس کے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا
Abdullah ibn Umar, may God be pleased with them, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Every one of you is a shepherd and is responsible for his flock. The imam over the people is a shepherd and is responsible for his flock. A man is a shepherd over his household and is responsible for his flock. A woman is a shepherd over her husband's household and children and is responsible for them. A man's slave is a shepherd over his master's wealth and is responsible for it. Every one of you is a shepherd and is responsible for his flock." [Agreed upon]
ہیں۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کو فرما تے ہوئے سناتے کہ بدترین حاکم وہ ہیں جو لم کرنے والے
سیدنا عانز بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے
I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'The worst ruler is the one who is a liar.'
حرام کرو گا۔ (متفق علیہ)
اور وہ انتقال کر جائے اس حالت میں کہ وہ ان کو دھوکہ دیتا تھا گر پی کہ ضرور اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو
صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کو فرما تے ہوئے سناتے کہ نہیں ہے کوئی حاکم جو مسلمان رعایا پر حکومت کرتا ہو
سیدنا معقل بن سیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ
Ma'qil ibn Yasar, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "No governor who rules over a Muslim community and dies while deceiving them will enter Paradise." [Agreed upon]
انہیں سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے
ہوئے سنابہ جوکوئی بندہ کے اللہ تعالیٰ نے اس کو سی رعاپر حاکم بنایا تو اوراس نے ان کے ساتھ کامل
خبر خواہی نہیں کی ہے تو وہ جنت کی خوشبو برگزمندین پائے گا۔ (مشفق علیہ)
From him, may God be pleased with him, he said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "No servant whom God entrusts with a community and does not advise them sincerely will smell the fragrance of Paradise." [Agreed upon]
ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ امیر جب لوگوں میں شہبات تلاش کرے گا تو وہ ان کو بغاڑ دے
گا۔ (ان میں فسادوال دے گا)۔ (ابوداؤد)
Abu Umama, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "If a leader seeks suspicion among the people, he corrupts them." [Narrated by Abu Dawud]
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنابہ جب تو لوگوں کے عیوب کی تلاش میں رہے گا تو ان میں
فسادوال دے گا۔ (تہقیق شعب الایمان)
Muawiya, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "If you pursue people's faults, you will corrupt them." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: اے اللہ جوآدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بن جائے اوران پر مشقت وا لے تو
تو کہیں اس پر مشقت والا اور جوآدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بنایا جائے اور وہ ان کے
ساتھ نرمی کرے تو تو کہیں اس کے ساتھ نرمی کرے۔ (مسلم)
Aisha, may God be pleased with her, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "O God, whoever takes charge of any matter of my nation and causes them hardship, cause him hardship. Whoever takes charge of any matter of my nation and is gentle with them, be gentle with him." [Narrated by Muslim]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بندرول میں اللہ کے پاس قیامت کے دن مرتب میں سب سے بلند
کر فضیلت والا، انصاف کرنے والا اور نرمی کرنے والا امام ہے اور قیامت کے دن اللہ کے پاس
لوگوں میں سب سے بدترین درج والا، ظالم اور نکی کرنے والا امام ہے۔ (تہقیق شعب الایمان)
Umar ibn al-Khattab, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The best of God's servants in rank with God on the Day of Resurrection are the just and gentle imam, and the worst of God's servants in rank with God on the Day of Resurrection are the unjust and harsh imam." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انصاف کرنے والے، اللہ کے پاس نور کے منبر پر جسن کے
سید ہے جانب ہول گے اوراس کے دونوں باٹھ سید ہے یہیں۔ یوہ لوگ ہیں جواب پے فصل میں
اور اپنے اہل و عیال اوران چیز ول میں جسن کے وہ حاکم بنایے گے ہیں انصاف کرتے ہیں۔
(مسلم)
Abdullah ibn Amr ibn al-As, may God be pleased with them, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The just will be with God on pulpits of light at the right hand of the Merciful, and both His hands are right, those who are just in their rulings, their families, and what they govern." [Narrated by Muslim]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا نہیں بھیجا اللہ تعالیٰ نے کسی بھی کو اور نہ کسی کو غیفوہ بنایا گر ضرور اس کے لئے دو
اندروں رفیق ہوتے ہیں۔ ایک اس کو بڑا کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر اجبارتا ہے۔ دوسرا اندر ونی رفیق اس کو برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر اجبارتا ہے۔ اور معصوم (گناہ سے محفوظ) وہ ہے جس کو اللہ (تعالیٰ) پچا لے (محفوظ رکے)۔ (بخاری)
Abu Sa'id, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "No prophet was sent by God, nor any caliph appointed, except that he had two confidants: one who commands good and urges it, and one who commands evil and urges it. The protected is the one whom God protects." [Narrated by al-Bukhari]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ حاکم کے ساتھ بجلائی کا ارادہ فرما تا ہے تو اس کے لئے راستہ زوزیر قرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بجلول جا نے تو یاس کو یاد دلاتا اور اگر وہ یاد رکتا ہے تو یاس کی مدد کرتا ہے۔ اور وہ (اللہ تعالیٰ) اس کے ساتھ اس (بجلائی) کے سوا دوسری چیز کا ارادہ فرما تا ہے تو اس کے لئے بڑا وزیر مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بجلول جا نے یاس کو یاد دلاتا اور اگر وہ یاد رکتا ہے تو یاس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابوداود، نسائی)
When Allah intends to send a calamity upon a person, He appoints a minor angel for it. If that person goes through with the calamity, He reminds him of patience; and if he remains patient, He assists him in his patience. And if Allah intends to send something other than a calamity upon a person, He appoints a major angel for it. If that person goes through with it, He reminds him of patience; and if he remains patient, He does not assist him in his patience.
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے پاس لوگوں میں سب سے زیادہ محبوپ اور اس سے ان میں سب سے زیادہ قریب مجلس کے اعتبار سے انصاف کرنے والا امام ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند اور ان میں سب سے زیادہ تحت عذاب والا۔
Abu Sa'id, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The most beloved of people to God on the Day of Resurrection and the closest to Him in seating is a just imam, and the most hated of people to God on the Day of Resurrection and the farthest from Him in seating is an unjust imam." [Narrated by al-Tirmidhi, who said: This is a good and rare hadith]
اور ایک روایت میں ہے اور اس سے ان میں سب سے زیادہ دور مجلس کے اعتبار سے ظالم باشہ ہے۔ (ترمزی اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے)۔
And in one narration, it is stated: 'Among them, the one who is farthest from the assembly is the oppressor.' (Tirmidhi, and Imam Tirmidhi said: This hadith is hasan gharib.)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باشہ زمین میں ظلم اللہ (اللہ کی رحمت کا سایہ) ہوتا ہے۔ جس کے پاس اس کے بندول میں سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے۔ پس جب وہ انصاف کے کام لے کر اس کو اجر اور رعایت پر شکر (واجب ہے) اور جب وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ اور رعایت صبر (واجب ہے)۔ (تیہقی شعب الایمان)
Ibn Umar, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "The ruler is a shade on earth to which every oppressed person turns. If he is just, he will have a reward, and the people owe gratitude. If he is unjust, he bears the burden, and the people must be patient." [Narrated by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس افراد کا کوئی امیر نہیں ہے مگر اس کو ضرور قیامت کے دن باندھا ہوا لا یا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کو انصاف چھڑا لے کہ ایس کو ظلم بلا کر لے گا۔ (دارق)
Abu Huraira, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "No leader of ten will be brought on the Day of Resurrection except in chains, until justice frees him or injustice destroys him." [Narrated by al-Darimi]
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس یا سے زائد افراد کے معاملہ کا کوئی بھی والی نہیں ہے مگر ضرور اس کو قیامت کے دن
اللہ بزرگ و برتر اس حالت میں لائے گا کر اس کے باٹھاس کی گردان سے باندھے ہوئے ہول
گے۔ اس کواس کی نیک چہراے گی پاس کواس کا گناہ بلاک کرے گا۔ اس کی (امارت کی) ابتداے
ملامت ہے۔ اس کا درمیانی ندامت ہے اور اس کی انتہائی قیامت کے دن رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت پر تین چیزول کا خوف کرتا ہوں۔ 1 - کارتیول
(سیزن کے نام) سے بارش طلب کرنا 2 - بادشاہ کا ظلم کرنا 3 - تقدر کو جعل کرنا (احمد)
Abu Umama, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "No man who governs ten or more will come to God Almighty on the Day of Resurrection except in chains, with his hand to his neck, until his righteousness frees him or his sin destroys him. Its beginning is blame, its middle is regret, and its end is disgrace on the Day of Resurrection." [Narrated by Ahmad]
سید نا جابر بن سمیرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی
I heard the Messenger of Allah ﷺ
سید نا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: امراء کے لئے بلاکت ہے، سردارول کے لئے بلاکت ہے، امانت رکھنے والوں کے لئے
بلاکت ہے۔ پچھلوگ قیامت کے دن ضرور اس بات کی تمنا کریں گے ان کی پیشانیوں کے بال
کہشال سے لگے ہوئے ہوئے اوروہ زین وآ سمان کے درمیان حرکت کرتے رہے حالانکہ وہ کسی
کام پرمقرربیس کے گے۔ (شرح السنہ)
Abu Huraira said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Woe to the leaders, woe to the chiefs, woe to the trustees. Some people will wish on the Day of Resurrection that their hair was hung from the Pleiades, swaying between heaven and earth, rather than having undertaken any work." [Narrated in Sharh al-Sunnah and by Ahmad, with the addition: "...and that they had not worked on anything]
اور امام احمد نے آپ کی روایت میں پیہ کہ ان کی پیشانی کے بال ثریات
لگے ہوئے ہوئے اوروہ آ سمان وزین کے درمیان حرکت کرتے رہے جب کہ وہ کسی چیز پر عامل
مقرربیس کے گے گے۔
And Imam Ahmad narrated on your authority that he said: 'Their foreheads have locks of hair, and they move between Paradise and its adornments, while they are engaged in some matter or other.'
غالب قطان ایک شخص سے وہ اپنے والدوہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقیناً سرداری حق ہے اور لوگوں کے لئے
چودھریوں کا ہونا ضروری ہے کیونکہ سرداروں زین میں ہیں۔ (ابوداود)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Indeed, leadership is a right, and it is necessary for people to have chieftains, for chieftains are the adornment of people.' (Abu Dawud)
سید نا مقدام بن معد کبرب رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دوشانول پر مارا پھر فرمایا اے قدیم تم کامیاب ہوا گرتم اس حالت
میں انتقال کرو کہ تم نا میرے یہ نکات بھی اور نہ چودھری۔ (ابوداود)
Al-Miqdam ibn Ma'dikarib said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, struck his shoulder and said to him: "You have succeeded, O Qudaym, if you die without being a leader, a scribe, or a chief." [Narrated by Abu Dawud]
سید نا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا اے معاویا گر تم (کسی معاملہ پر) حاکم بنائے جا گیا تو اللہ سے ذو رو اور انصاف کرو،
انہوں نے کہا کہ میں بیش پیکان کرتار پاکر بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیفرمان کی بنابر میں ضرور
اس کام میں بھتلا ہوں و لاہوں پیہان تک کر میں بھتلا ہوگیا۔ (امام احمد، اور دلال النبوہیہ)
Muawiya, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "O Muawiya, if you are given authority, fear God and be just." He said: I continued to believe I would be tested with authority because of the Prophet's words until I was tested. [Narrated by Ahmad and al-Bayhaqi in Dala'il al-Nubuwwa]
سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہم روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوآ دی اپنے بجاٹی کوڑ راتے ہوئے ایک نگاہ 7 کھی دی کیے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دونوں راتے گا۔ (امام نہیں شعب الایمان)
the Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever looks at his wife's private parts while she is sleeping, Allah will make him sleep in both graves of the Hereafter.' (Imam Nihayat Shu'ab al-Iman)
سید نا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ علیہ مرودی ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صاحب کس جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی وہ شخص جولوگون سے عشر (دسوال حصر) لیتا ہے۔ (احمد، ابوداود، داری)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'He who takes a loan from people will not enter Paradise.'
سید نا انس رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ قیس بن سعد نے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا رہتے تھے جس کی امیر کے پاس اس کے احکام جاری کرنے والا رہتا ہے۔ (بخاری)
Anas, may God be pleased with him, said: Qays ibn Sa'd was to the Prophet, peace and blessings be upon him, like the chief of police to a leader. [Narrated by al-Bukhari]
سید نا کعب بن عجرۃ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم کو پیوتو فون کی امارت سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا وہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ علیہ صلاۃ اللہ نے فرمایا عقریب میرے بعد چند امراء ہوئے۔ جوان کے پاس داخل ہوکر ان کے جحوط پران کی تصدیق کرے۔ اور ان کے ظلم پران کی مدد کرے تو وہ مجھے شہید کریں۔ اور میں ان سے نہیں۔ اور وہ ہرگز میرے پاس حوض پروار نہیں ہوئے۔ اور جوان کے پاس داخل نہ ہوں۔ اور دان کے جحوط پران کی تصدیق کریں۔ اور دان کے ظلم پران کی مدد کریں۔ تو وہ مجھے سے میں اور میں ان سے ہواؤروہ لوگ میرے پاس حوض پروار دہوگے۔ (ترمذی، نسائی)
Ka'b ibn Ujra, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said to me: "I seek refuge for you with God from the leadership of fools." I said: "What is that, O Messenger of God?" He said: "Leaders who will come after me. Whoever enters upon them and confirms their lies or assists in their oppression is not from me, and I am not from them, and they will not come to me at the Pool. Whoever does not enter upon them, does not confirm their lies, and does not assist in their oppression, they are from me, and I am from them, and they will come to me at the Pool." [Narrated by al-Tirmidhi and al-Nasa'i]
سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ علیہم روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوآ دی گاول میں ربااس نے ظلم کیا اور جوشکار کے پچپڑا اوہ غافل ربااور جواب دشاہ کے پاس آیا فتنہ میں پڑا۔ (احمد، ترمذی، نسائی)
Whoever gives interest or receives it, or writes it down, or witnesses it, has committed oppression. The one who takes it will come on the Day of Judgment as one who has been oppressed, and the one who gives it will come as one who has been wronged, and the one who writes it down will come as one who has been negligent, and the one who witnesses it will come as one who has been deceived, and they will all fall into tribulation.
7قولہ :من نظر الی اخيه نظرۃ يخيفہ الخ (جوآ دی اپنے بجاٹی کوڑ راتے ہوئے ایک نگاہ کھی دیے) اس باب میں اس حدیث کو لانے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب محض درانے پر قیامت کے دونوں راتا مرتب ہورہی ہے تو اس سے برہکر ظلم کی قسموں کا کیا حال ہوگا۔ اس حدیث شریف کے معنیوم سے پیچھی اخذ کیا جاتا ہے کہ جو کوئی اپنے بجاٹی کو رحمت و شفقت کی نگاہ سے دیکھے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دونوں رات عنايت فرما لے گا۔ (مرقات)
ابوداود کی روایت میں ہے: جو آدمی باوشاہ کو لازم کر لیاوہ فتنہ میں پڑااورجو کوئی بندہ باوشاہ سے قربت میں زیادہ ہوا تو وہ اللہ تعالیٰ سے دوری میں زیادہ ہوگا۔
Ibn Abbas, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "Whoever lives in the desert becomes harsh, whoever follows hunting becomes heedless, and whoever comes to the ruler is tempted." [Narrated by Ahmad, al-Tirmidhi, and al-Nasa'i. In Abu Dawud's narration: "Whoever clings to the ruler is tempted," adding: "The closer a servant gets to the ruler, the further he gets from God."
یہی بن باشم، یوس بن الیاسحاق سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جس تمہیں ہونے گے ویسا، یہ تم پرامیر مقبرہ ہوگا’’ (امام نہیں نے شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)
‘‘Whatever will be, will be; this will be your place of burial.’’ (This is reported by Imam Nisa'i in Shu'ab al-Iman)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرما تا ہے میں اللہ مولی میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں باوشاہ مول کا ما کہ ہول اور باوشاہ مول کا باوشاہ ہول۔ باوشاہ مول کے دل میرے دست قدرت میں ہیں اور پہ شب جب بندہ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے باوشاہ مول کے دول کو ان پر رحمت و شفقت کے ساتھ موثر دیتا ہول اور پہ شب جب بندہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے دول کو ان پر ناراضی اور سزا کے ساتھ موثر دیتا ہول تو وہ ان کو برا عذاب چلا تے ہیں پس تم باوشاہ مول پر بدعا کرنے میں اپنے آپ کو مشغول مت رکھو بلکہ ذکراورگرپوزاری میں اپنے آپ کو مشغول رکھو تاکہ میں تمہارے لیے تمہارے باوشاہ مول کے مقابلے میں ہو جاؤں۔ (ابوعیم نے حیثیت میں اس کی روایت کی)۔
Abu al-Darda, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "God Almighty says: I am God; there is no deity but Me, the King of kings, the Master of kings. The hearts of kings are in My hand. If My servants obey Me, I turn the hearts of their kings toward them with mercy and compassion. If My servants disobey Me, I turn their hearts with anger and resentment, and they afflict them with severe punishment. So do not occupy yourselves with praying against kings, but occupy yourselves with remembering and supplicating to Me, and I will suffice you against your kings." [Narrated by Abu Nu'aym in al-Hilya]
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیبات پہنچ کر ابل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنی باوشاہ بنالیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا وہ تو مہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔ جس نے کسی عورت کو حاکم بنایا ہو۔ (بخاری)۔
Abu Bakra, may God be pleased with him, said: When it reached the Messenger of God, peace and blessings be upon him, that the people of Persia had appointed a daughter of Khosrow over them, he said: "A people who entrust their affairs to a woman will never succeed." [Narrated by al-Bukhari]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ستر کے دونے کے آغاز اور پہ وقوف کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ (احمد)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Abu Huraira, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Seek refuge with God from the beginning of the seventies and the leadership of children." [Narrated by Ahmad]
قولہ: لن یفلح قوم و لو امرهم امراة (وہ قوم مہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا) صاحب درمتار نے کہا کہ امیر کو مقرر کرنا اہم واجبات میں سے ہے اس لیے انہوں نے (صحابہ) صاحب مججزات حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکیرین پراس کو مقدم کیا۔ اور امیر کے لیے شرط ہے کہ وہ مسلمان، آزاد، مردو، عاقل و بالغ صاحب قدرت اور قبیلہ قریش سے ہو، اس کا باشی، علوی اور معصوم ہونا شرط نہیں ہے۔