Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ التَّعْزِيرِ

تاویبی سزاول کا بیان

Discretionary Punishment
Volume 7 · Prescribed Punishments
4920

نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نفرمایا جو شخص کس ایسے جرم میں جس کی سزا حد میں ہے حد کی سزا دے تو وہ زیادتی کرے نوالول

قولہ: باب التعزیر (غیر مقررہ سزاول کا بیان) مقررہ سزاول کے بیان کے بعد غیر مقررہ سزاول کا ذکر

رسے میں تعزیر کے معنی لغت میں تادیب کرنا خواہمارکے ذریعہ کویا کسی اور طریقت سے جسیہو خواہ حد سے کم ہو یا زیادہ

شرائیت میں تعزیر کے مراد کی شرعی ممنوعہ کرت پرتادیبی سزاہے۔

تعزیراور حد میں فرق: نصاب الاحساب اور تا تارخانی میں دونوں کے ماہیں مندرجہ ذیل دس وجوہ سے فرق بتایاگیاہے۔

1- "حد" کی مقدار شریعت میں مقررہ اور تعزیری امام کی رائے کے حوالے ہے۔

2- "حد" شبہ کی وجہ سے درجہ وجاتی ہے جب کہ تعزیر شہب کے ساتھ جسی جاری ہوتی ہے۔

3- "حد" پیچ پر قائم ہیں کی جاتی، تعزیر پیچ پر جسی جاتی ہے۔

4- "حد" ذی پر جسی جاری ہوتی ہے اور اس پر حد کا اطلاق ہوتاہے اور ذی کے ساتھ تادیب کاروانی کو تعزیر نہیں کہا

جا تا بلکہ اس کو عقوبت (سزا) کہا جاتاہے۔

5- "حد" کصرف امام جاری کر سکتاہے تعزیر کو قائم کرنے کی اجازت شوہر، آقا اور ہراس آدمی کوہے جو کسی کو

برائی کرتے ہوئے پائے۔

رجوع کر لینا حد میں اثر انداز ہوتاہے تعزیر میں نہیں ہوتا۔

7- "حد" میں گواہی ول سے پوچھتاچھ کرنے کی مشہور علمی وقید کیا جاسکتاہے تعزیر میں نہیں ہے۔

8- "حد" میں سفارش کرنا جائز نہیں، تعزیر میں جائز ہے۔

طولی عرصہ گزر جانے سے حد ساقط ہوجاتی ہے البتہ تعزیر ساقط نہیں ہوتی۔

10- "حد" کو معاف کرنے کا امام کو اختیار نہیں ہے۔ برخلاف تعزیر کے کر وہ اس کو معاف کر سکتاہے۔

"بحرالانق" میں ہے کرامت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تعزیر کیے گناہ بڑے ہیں ہوتے ہیں جس میں حد مقرر نہیں

ہے اور ہراس آدمی پر ہے جو اسی محصیت کا ارتکاب کرے جس میں مقررہ حد نہیں ہے۔ اور اس کے حاکم کے پاس

ثابت ہو جانے پر اس میں تعزیر واجب ہوتی ہے۔

سر اجیب میں ہے جو کسی شبہ میں وطی کرے تو اس پر تعزیر ہوگی۔ ذہیبہ میں ہے اگر وہ فعل ایسی جنس سے ہے جو

موجب حد ہے مگر کسی وجہ سے حد واجب نہیں ہوتی تو انتہائی درجہ کی تعزیر کی جائے گی اور اگر وہ ایسی جنس سے ہے جو

موجب حد نہیں ہے تو اس پر انتہائی درجہ کی تعزیر جاری نہیں ہوگی بلکہ اس کی تعزیر امام کی رائے کے حوالے رہے گی۔......

اور نصاب الاحساب میں بھی تعزیر حد کی طرح واجب ہے کیونکہ وہ ممنوع فعل کی جزاء ہے لہذا وہ واجب ہوگی۔

برخلاف تادیبی کاروانی کے وہ واجب نہیں بلکہ مباح ہے (عمدة الرعاية)۔

اور مرقات میں بھی ہمارے پاس ان امور میں جن میں تعزیر مشروع ہے اگر امام کی رائے کسی اس میں تعزیر کرنی

ہے تو واجب ہے۔ اور یہ قول امام ماک اور امام احمد کا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس تعزیر میں واجب نہیں ہے

کیونکہ حدیث میں ہے کہ ایک صاحب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں نے ایک عورت کو

دیکھا جس نے سہط کر میری اس کے ساتھ ایک دوسری حرکت سر زدہ ہوگی ہے۔ ترسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

کیا تو ہمارے ساتھ نماز پڑھاتا اس نے عرض کیا ابل تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرآپ نے تلاوت فرمائی انا الحسنات یذهبن

السیئات (11 سورۃ هود، آیت نمبر: 114) ب شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں نیزآپ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار

کے بارے میں ارشاد فرما یہ کہ ان میں جو اتنے ہیں ان کو قول کرواور جو خطاط کر جا یعنی تو تم ان کو درگز رکرو۔ نیا کرم

صلی اللہ علیہ وسلم نے زبر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ان کی زمین کو سیراب کرنے سے متعلق جو فیصلہ فرمایا تھا اس کے

بارے میں دوسرا آدمی نے جب اپنے مقصد کے مطابق فیصلہ نہیں پایا تو کہتا گا آپ کا یہ فیصلہ اس لیے ہے ناکہ

یا آپ کے پچوپچی زاد بجا لی ہے تو آپ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم غصب میں آئے گمراس کو تعزیر نہیں کی۔ لیکن ہماری دلیل یہ کہ جس

تعزیر کے بارے میں نص آیہ ہے مثلًا یہوی کی باندی سے یامشترکہ باندی سے وطی کیا تو اس پر عمل (تعزیر) کرنا ضروری

ہے۔ اور جس تعزیر کے بارے میں نص نہیں ہے گمر امام یہ بھی تاہے کراپنی خواہش نفس سے ہے کر (واقعاً) تعزیر کے

بغیر وہ اس کام سے باز نہیں رہے گا امام پر اللہ کے حق کی خاطر حد کی طرح تعزیر کرنا واجب ہے۔ اور اگر بغیر تعزیر کے وہ

باز آ جائے گا تو تعزیر کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور اس حدیث شریف کو جس میں مردا عورت کے ساتھ نازیا حرکت کر نے

کا ذکر ہے اس کو مول کیا جائے گا اس بات پر کہ اس نے باز آ کر اور نادم ہو کر، یا آپ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ

اس کا ذکر کرنا صرف اس لیے تھا کہ وہ معلوم کرنا چاہتا تھا اس کا کیا حکم ہے تاکہ وہ اس پر عمل کرے۔

اب ربا حضرت زبر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیہ پر تعزیر کو چھوڑ دیا اس

لیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے جو حقی عباد میں سے اور اس کو چھوڑ دیتے کا آپ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق حاصل ہے۔

کتاب رحمۃ الامہ میں (تعزیر کے متعلق) جو پڑھہے اس کا خلاصہ یہ کہ تعزیر ایسی معصیت پر ہوسکتی ہے جس کے لیے

کوئی حداور کوئی کفارہ نہیں ہے۔ اب ربا یکہ جن امور میں تعزیر مشروع ہے تو کیا وہ اللہ کے حق کی طرح واجب ہے یا

واجب نہیں ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس وہ جائزہے واجب نہیں ہے۔ اور امام ابوحنیفہ اور امام ماک رحمۃ اللہ علیہما

کے پاس اگر اس کے ظن غالب میں ہے ان کی اصلاح بغیر ضرب و تعزیر کے نہیں ہوسکتی تو تعزیر واجب ہے اور اگر اس

کے ظن غالب میں ہے کہ بغیر تعزیر کے بھی اصلاح ہو جائے گی تو تعزیر واجب نہیں ہے اور امام احمد نے فرمایا ہے کر اگر اس

کا فعل مستحق تعزیر ہے تو تعزیر واجب ہے۔

میں سے 2_ (سنن نہیں)-

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever applies a prescribed punishment in other than a prescribed punishment is among the transgressors. [Narrated by al-Bayhaqi in his Sunan. Muhammad ibn al-Hasan narrated it in Kitab al-Athar as a mursal narration.]

The Saying: Chapter on Ta'zir (Discretionary Punishments) - After the exposition of prescribed punishments, the mention of discretionary punishments is made.

In linguistic terms, 'Ta'zir' means to discipline or punish, whether through corporal punishment or any other method, regardless of whether it is less or more than the prescribed limit.

In legal terms, 'Ta'zir' refers to a disciplinary punishment for acts that are prohibited by Sharia but do not have a prescribed punishment (Hadd).

Difference between Ta'zir and Hadd: In 'Nasab al-Ahsab' and 'Tataarikh', the differences between the two are outlined as follows:

1. The amount of 'Hadd' is fixed in Sharia, while 'Ta'zir' is determined by the Imam's discretion.

2. 'Hadd' is not applied if there is doubt, whereas 'Ta'zir' can be applied even with some doubt.

3. 'Hadd' is applied based on clear evidence, while 'Ta'zir' can be applied based on lesser evidence.

4. 'Hadd' is applied to the perpetrator, and its application is called 'Hadd'. Discipline without clear evidence is not called 'Ta'zir' but is referred to as 'Iqaab' (punishment).

5. Only the Imam can impose 'Hadd', while 'Ta'zir' can be imposed by a husband, master, or any person who catches someone committing a wrong.

6. Retraction affects the application of 'Hadd' but not 'Ta'zir'.

7. In 'Hadd', cross-examination of witnesses is allowed, but not in 'Ta'zir'.

8. Intercession is not allowed in 'Hadd' but is permissible in 'Ta'zir'.

9. 'Hadd' becomes invalid after a long period, but 'Ta'zir' does not.

10. The Imam cannot forgive 'Hadd', but he can forgive 'Ta'zir'.

In 'Bahr al-Anq', it is stated that there is consensus that 'Ta'zir' is for major sins that do not have a prescribed 'Hadd', and it applies to anyone who commits such an act where a 'Hadd' is not prescribed. If the act is proven before the judge, 'Ta'zir' becomes obligatory.

In 'Sar Ajib', it is mentioned that if someone commits an act in doubt, they will be subject to 'Ta'zir'. In 'Dahiyah', it is stated that if the act is of a nature that would warrant 'Hadd' but 'Hadd' is not applicable due to some reason, then severe 'Ta'zir' will be applied. If the act is not of a nature that would warrant 'Hadd', then severe 'Ta'zir' will not be applied; instead, the level of 'Ta'zir' will be determined by the Imam's discretion.

In 'Nasab al-Ahsab', it is also stated that 'Ta'zir' is obligatory like 'Hadd' because it is the punishment for a prohibited act, hence it is obligatory. Unlike disciplinary actions, which are not obligatory but permissible ('Umda al-Ra'aya').

In 'Maraqi', it is stated that in matters where 'Ta'zir' is prescribed, if the Imam decides to apply 'Ta'zir', it is obligatory. This is the view of Imam Maq and Imam Ahmad, while Imam Shafi'i (RA) holds that 'Ta'zir' is not obligatory.

In a Hadith, a companion came to the Prophet (SAW) and said, 'I saw a woman who engaged in a suspicious movement with me.' The Prophet (SAW) asked, 'Do you pray with us?' He replied, 'Yes.' The Prophet (SAW) recited, 'Indeed, the good deeds remove the bad deeds' (Surah Hud, verse 114). The Prophet (SAW) also said about the Ansar, 'Those who are among them, advise them, and those who err, guide them.' When a person did not get the decision he wanted regarding the irrigation of land, he accused the Prophet (SAW) of favoritism. The Prophet (SAW) became angry but did not punish him with 'Ta'zir'.

However, if there is a specific text regarding 'Ta'zir', such as intercourse with a slave girl or a shared slave girl, then action (Ta'zir) is necessary. If there is no specific text, and the Imam believes that the person will not refrain from the act without 'Ta'zir', then 'Ta'zir' is obligatory for the sake of Allah's right, similar to 'Hadd'. If the person refrains without 'Ta'zir', then 'Ta'zir' is not necessary. The noble Hadith mentioning the man who engaged in a suspicious movement with a woman is interpreted as him repenting and feeling remorse, or because the Prophet (SAW) wanted to know the ruling to act upon it.

In the Hadith of Zayd ibn Thabit (RA), the Prophet (SAW) did not impose 'Ta'zir' because the Prophet (SAW) has the right to forgive, being one of the true believers.

In 'Rahmat al-Uma', it is summarized that 'Ta'zir' can be applied for major sins that do not have a prescribed 'Hadd' or expiation. Regarding matters where 'Ta'zir' is prescribed, Imam Shafi'i (RA) holds that it is permissible and not obligatory. Imam Abu Hanifah and Imam Maq (RA) hold that if it is believed that the person cannot be reformed without 'Ta'zir', then it is obligatory; otherwise, it is not. Imam Ahmad stated that if the act warrants 'Ta'zir', then it is obligatory.

4921

2قوله: من بلغ حدا فی غیر حد فهو من المعتدين (جو شخص کسی ایک جرم میں جس کی سزا حد میں ہے

حد کی سزا دے تو وہ زیادتی کرے نے والوں میں سے ہے)-

پیحدیث شریف اصل میں تعریب کے حدود سے کم ہونے کے بارے میں اور جب تعریب کو حد کی مقدار تک نہیں

کوڑا کم کردیا اورفرما کہ زیادہ سے زیادہ تعریب (39) کوڑے ہول گے اورمیں باہر درست ہے کیونکہ جو کوئی آزاد کی

حد کا اعتبار کرے گا تو وہ لازماً غلام کی حد کو پچھا جائے گا اور حیث شریف میں بلغ حدا من غیر حد میں لفظ "حد"

جو کہرہ سے اس کو برح حد سے کم ہونا چاہیے اور پیاس کے منافی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے آزاد کے بارے میں

ہمارے میں قول کے مطابق فرمایا اور غلام کے بارے میں (19) کوڑے فرمایا کیونکہ ان کے پاس غلام کی حد (20)

کوڑے سے اورآزاد کی حد (40) کوڑے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ نے تعریب میں آزاد کی حد کو سا میں رکھا راس میں

سے ایک کوڑا کم کیا اورفرما کہ تعریب (79) کوڑے ہوسکتی ہے اور امام زفر کا بھی بھی قول ہے اور قیاس کے بھی مطابق

ہے امام ابویوسف رحمہ اللہ نے ظاہر روایت میں (5) کوڑے کی کی مردوی ہے-

جبیا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مردوی ہے اور جوبات راے (قیاس) سے معلوم نہیں ہوسکتی اس میں صحابی کی

تقیید ضروری ہے لیکن علی رضی اللہ عنہ کی پروايت غیریب ہے اوراس کی پوری بحث یہی میں ہے-

اورحاوي قدی میں ہے کر امام ابویوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام میں تعریب کی زیادہ سے زیادہ مقدار انچا لیس

(39) کوڑے سے اورآزاد کے بارے میں (75) کوڑے ہیں اورتم اس کو اختیار کرتے ہیں۔ بحر میں سے اس سے

معلوم ہوتا ہے کر امام ابویوسف رحمہ اللہ کا قول قابل ترجیح ہے اورصاحب رداختار نے فرمایا کہ وہ ناخذ سے مراد

امام ابویوسف سے مردوی پہلی روایت کے مقابل میں دومسری روایت کا قابل ترجیح ہونا ہے کیونکہ پیدومسری روایت ان

کی ظاہر روایت سے اس سے طرفین (امام اعظم اور امام محمد) کے قول پر جو تمام متوان میں ہے اور امام قاسم نے اتمہ

نذاہب سے اس کی وجہ نقل کی ہے امام ابویوسف کے قول کی ترجیح لازم نہیں آتی اس لے شارح علیہ الرحمة نے بحرائق

میں نذکورہ قول کی طرف اعتماد نہیں فرمایا اور امام ابویوسف علیہ الرحمة سے مردوی ہے کہ بہتر کواس کی جنس سے قریب کیا

جاے گا مثلًا مس وقبل حد زنا سے اور شادی شدہ یا غیر شادی شدہ پر تہمت لگانے کو زنا سے بہتر کرحد قذف سے بہرحال

بہرا کی کواس کی نوع کی طرف بہتر ہے اس کے تم جنس سے قریب کیا جائے گا اوران سے پیچھی مردوی ہے کہ

تعریب میں جرم کے چھوٹے بڑے ہوئے کا اعتبار کیا جائے گا (زیلی)

اور جبیا کہ قد وری میں ہے کہ از کم تعریب تین کوڑے ہیں گویا ان کی راے میں تین سے کم میں تعریب نہیں ہوتی لیکن بات

ایک نہیں ہے بلکہ اشخاص کے اختلاف سے اس میں اختلاف ہوسکتا ہے اگر تین سے کم میں بھی مقصد......

حاصل ہوسکتا ہے تو تعداد مقرر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس لئے پرتاضی کی راوے کے حوالے میں وہ بقدر مصلحت جاری کرسکتا

ہے جسیا کہ تماس کی تفصیل ذیل میں بیان کررہے ہیں اور ہمارے مشاہدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کا بھی نہہب ہے۔ (زیلی، بدایی)

صاحب فقہ القدرت کہاہے کہ اس (حاکم) کی راوے میں ایک کوٹہ سے وہ بازآجا سکتا ہے تو اسی پر

اکتفا کیا جاے گا۔ خلاصہ میں اس کی صراحت سے کر آگراس کی راوے پیہم کر انچاپیس (39) سے کم میں وہ باز نہیں

آسکتا تو اسی صورت میں پر اکثر مقدار واوجب ہوجاے گی۔ آگراس کی راوے پیہوکر اس کو بازرکنے کے لئے اکثر مقدار

سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے تو اکثر مقدار میں اضافہ کرانے کے بجاے دوسری نویبیت کی سزا مثلًا قید وغیرہ سے اس کو

بدل دیا جاے گا۔ اور عمدہ الرعايت میں سے کرتماس بات کو جانوکر تعزیر کے کئی اقسام ہیں:

(1) کچھ گلدی پر تعظیم کرنا، (2) کان مروڑنا، (3) تاخی کا اس کو خت نگاہے دیکھنا (4) تہمت لگا کے بغیر اس

کو خت ست کرنا، (5) گرفتار کرنا، (6) جلاوطن کرنا (7) قوت توڑ دینا، (8) قتل کرنا، (9) اور مار پیٹ وغیرہ کرنا۔

اور آگر تاضی کی راوے میں فی الحقيقة ضرب وزدن کرنے کی ضرورت سے تو اس بات کا خاظر کہا جاے گا کہ سب سے

کم سزا جوثرابی کی حد (40) کوٹہ سے اس سے کم ہونا چاہیے۔ صاحب فقہ القدرت نے اس کو حق قرار دیاہے۔

اب ربا تعزیر میں کسی کو قتل کرنا تو علماء کی ایک جماعت نے کہاہے کر اس کے چند مواقع میں جس میں سیاسی

مصلحت کی بناء پر کسی سزا دینے کا امام کو حق حاصل ہے۔

۔ متعدد مرتبہ چوری کرنا 2۔ متعدد مرتبہ کسی کا گلادبانا

۔ جادوگر جب کروہ متعدد مرتبہ جادو کا ارتکاب کرے۔

۔ بدین

۔ لواط کا عادی

۔ جو کوئی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عظمت میں ناز پر الفاظ بولے۔

۔ ذم کو اگر وہ حضور علیہ والصلوۃ والسلام کی شان میں ایک سے زائد مرتبہ غستانت کرے۔

اور فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کوئی اپنی پیوی کے ساتھ کسی کوزنا کرتے ہوئے پائے تو وہ اس کو قتل کر سکتا ہے

۔ اس جیسے اور بہت سے مواقع ہیں۔

خلاصہ اور ظہیریہ صراحت سے کر تعزیر مال لے کر یاگر کو جلا دینے وغیرہ کے ذریعے سے کچھ دی جاسکتی ہے۔

ہمارے اصحاب (حنفیہ) اور اصحاب شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ابو برده بن نیار کی حدیث شریف کے دس

کوٹول سے زائد نہ مارے جائیں منسوخ ہے۔ اس کے خلاف کی دلیل پیہ کہ صحابہ علیہم الرضوان اس کے خلاف عمل کے

پیں اور اس میں کسی نے انکار نہیں کیاہے۔ اور اس بات سے کچھ استدلال کہ پیں کر پی ثابت ہے کہ صحابہ کرام دس

کوٹول سے کچھ زیادہ مارے ہیں۔ اور بعض متاخرین نے ابو برده کی دس کوٹول سے کم کی حدیث پر محول کیاہے کہ یہ کم

حکام کے سوادوسرول کے لئے ہے مثلًا آقا پنے غلام کو، شوہرا پنی پیوی کو، بابا پنے بیٹے کو اگر تاویب کرنا چاہے جب

کر اس کا تعلق معصیت سے نہیں ہے جیسے والدا پنے چھوٹے بیٹے کو تربیت دیتاہے تو اسی صورت میں پیدا کوٹول سے

زائد نہیں ماریے گے۔ (مرقات، بدایی، ردالمختار، عمدة الرعايت، نبل الاوطار، عمدة القاری)

Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever applies a prescribed punishment in other than a prescribed punishment is among the transgressors. [Narrated by al-Bayhaqi in his Sunan. Muhammad ibn al-Hasan narrated it in Kitab al-Athar as a mursal narration.]

The noble hadith in its original context discusses the limits of tarib (whipping) when it is less than the prescribed limit. The Prophet (peace be upon him) reduced the number of lashes and said that the maximum number of lashes for tarib would be thirty-nine, and this is correct because if one considers the limit for a free person, the limit for a slave must necessarily be considered as well. In the noble hadith, 'Baligha hada min ghayr had' (reached the limit without reaching the prescribed limit), the word 'had' implies that it should be less than the prescribed limit, which contradicts the view of those who argue otherwise. Imam Shafi (may Allah have mercy on him) stated regarding a free person according to our view, and regarding a slave, he mentioned nineteen lashes, because in his opinion, the limit for a slave was twenty lashes and for a free person, forty lashes. Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on him) maintained the limit for a free person at seventy-nine lashes by reducing one lash from the head, and this is also the view of Imam Zafar and is consistent with analogy (qiyas). Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on him) stated in the apparent tradition that five lashes constitute a minor offense, especially since it is narrated from Sayyiduna Ali (may Allah be pleased with him) and cannot be determined by analogy alone; thus, the restriction of a Companion is necessary. However, the practice of Ali (may Allah be pleased with him) is lenient, and the entire discussion revolves around this point.

In the Hawi al-Qadim, Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on him) said: The maximum limit of tarib for a slave is thirty-nine lashes, and for a free person, it is seventy-five lashes, and we adopt this view. From the Bahar, it is evident that the view of Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on him) is preferable, and the author of Radd al-Mukhtar stated that the second tradition is more preferable than the first tradition of Imam Abu Yusuf, because the second tradition is closer to their apparent tradition, which is accepted by both Imam-e-Azam and Imam Muhammad. Imam Qasim cited the reason from Imam-e-Azam's school, but the preference of Imam Abu Yusuf's view is not necessary, and the commentator did not rely on the mentioned view in the Bahar-i-Qaiq. Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on him) stated that it is better to approach the nature of the offense, such as before the limit of zina (fornication) or accusing a married or unmarried person of zina, which is better approached through the limit of qadhf (false accusation of zina). Similarly, the nature of the offense should be considered in tarib, and it is narrated that the severity of the crime will be taken into account.

It is also mentioned in the Quduri that the minimum number of lashes for tarib is three, implying that in their view, tarib does not occur with fewer than three lashes. However, this is not absolute, as differences among individuals can lead to variations. If the purpose can be achieved with fewer than three lashes, specifying a fixed number has no meaning. Therefore, the judge can apply the punishment according to the circumstances, as detailed below, and our observation (may Allah have mercy on us) confirms this. (Zaili, Bada'i)

The author of Fiqh al-Qudrat stated that if the judge can achieve the purpose with one strike, then that will suffice. In summary, if the judge cannot achieve the purpose with fewer than thirty-nine lashes, then the maximum limit will be applied. If the judge needs more than the maximum limit to achieve the purpose, instead of increasing the maximum limit, another form of punishment, such as imprisonment, can be substituted. And in Al-Umda al-Ra'aya, it is mentioned that there are several types of ta'zir (discretionary punishment):

1. Humiliating the person,

2. Piercing the ears,

3. Glaring at the person,

4. Insulting the person without touching them,

5. Arresting the person,

6. Exiling the person,

7. Disabling the person,

8. Killing the person,

9. Beating and other forms of physical punishment.

If the purpose of ta'zir is to apply physical punishment, it is stated that the minimum punishment should be less than the prescribed limit of forty lashes. The author of Fiqh al-Qudrat has validated this view.

Regarding the discretionary killing in ta'zir, a group of scholars has stated that in certain situations, based on political necessity, the imam has the right to impose such a punishment. These situations include:

1. Repeated theft,

2. Repeated public indecency,

3. A sorcerer who repeatedly practices sorcery,

4. Apostasy,

5. Habitual sodomy,

6. Insulting the dignity of the Prophet (peace be upon him) with words,

7. Defaming the Prophet (peace be upon him) more than once.

Scholars have explicitly stated that if someone is caught committing zina with their own spouse, they can be killed. There are many such situations.

In summary, some form of punishment, such as financial penalty or exile, can be applied. Our scholars (Hanafis) and the Shafi scholars (may Allah have mercy on them) have stated that the hadith of Abu Burda bin Niyar, which mentions not exceeding ten lashes, is abrogated. This is supported by the fact that the Companions (may Allah be pleased with them) acted contrary to this and no one objected. Some later scholars have interpreted the hadith of Abu Burda about reducing the number of lashes to less than ten as applicable to private disciplining, such as a master disciplining his slave, a husband his wife, or a father his child, provided it is not related to disobedience, like a father disciplining his young child, in which case more than ten lashes are not to be administered. (Mirqat, Bada'i, Radd al-Mukhtar, Umda al-Ra'aya, Nabil al-Awatar, Umda al-Qari)

4922

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص (گس کو) مارے توچھرہ (کومارنے) سے نہیں۔ (ابوداود)

It is narrated from Sidi Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:

When any one of you kills a game animal, do not kill it with a thorn.

4923

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی شخص کو اپنے یہودی کے 3 توتم اس کو بیس (20) ضرب لگاواور جوآدمی کسی حرم خاتون کے ساتھ (زنا کا) ارتکاب میں ہوتا ہے توتم اس کو بیس (20) ضرب لگاواور اگر اپنے کرے تواس کو لکڑو 4 (تنزیلی) کردو۔ اور یہ زجر کے لیے اور سیاسی مصلحت کے بطور میں۔ اور حکم تواس کا وگیر زانیوں کی طرح ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) said: If a man says to another man, O Jew, strike him twenty times. If he says, O effeminate, strike him twenty times. Whoever has intercourse with a forbidden relative, kill him. [Narrated by al-Tirmidhi.] This is a deterrent and policy, and his ruling is the ruling of other adulterers.

4924

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايت کی آدی کوالد کے راستے میں (مال غیمت میں) خیانت کرتے ہوئے پاؤتوتم اس کاسامان جلا دو۔ 5اوراس کو مارو۔ (تنزیلی، ابوداود)۔ امام ترنزی نے کہا کہ امام بخاری نے کہاہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غیمت) میں خیانت کرنے کے بارے میں ایک سے زائد احادیث مریہیں اوران میں آپ علیہ صلی اللہ نے اس کے سامان کو جلا دینے کا حکم نہیں فرمایا۔ اور امام طحاوی نے کہا: ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث درج میں ہوتے یا س وقت کا حکم ہے جب کہ مال کے ذریعہ مزا جات نہیں۔

Umar narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If you find a man who has stolen in the path of Allah, burn his belongings and strike him. [Narrated by al-Tirmidhi and Abu Dawud.]

Al-Tirmidhi said: Al-Bukhari said: In other narrations from the Prophet (ﷺ) about the thief, he did not order burning his belongings. Al-Tahawi said: If the narration is authentic, it may have been when punishment with wealth was applicable.

3قولہ: اذا قال الرجل للرجل يا یہودی فاضربوہ عشرين (کولی آدمی کسی کوالے یہودی کے تواس کو بیس کوڑے مارو)۔ اس حدیث سے حضرت ابوبرده کی حدیث منسوخ ہے۔ کیونکہ اس میں یہ بات ثابت ہوگی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (تنزیلی) دس سے بھی اضافہ کا حکم فرما یہیں۔ (ماخوذ از لمعات) صاحب ورمتار نے کاکہا کر یا مخت یا یہودی کہہ کر کالی دیں والے کو تخریبی سزا دی جائے گی۔ اس میں قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی کسی کو اپنے اختیاری عمل کی طرف منسوخ کرے جوثر عاً حرام ہے اور عرفاً عیب شمار کیا جاتا ہے تو ایسے شخص کو تخریبی سزا دی جائے گی۔ ورنہیں۔ (ابن کمال)

قولہ: من وقع على ذات محرم۔ (جوآدمی کسی حرم خاتون کے ساتھ (زنا کا) ارتکاب کرے تواس کو لکڑو) کہا گیا کر قتل کر نے کا حکم اس شخص کے لیے ہو (زنا کو) علا لیکہ ہوئے اس کا ارتکاب کرے۔ علا مہ مظہر نے فرمایا۔ پیل کا حکم بطور زجر کے بیان کیا گیا ہے، ورنہ اس کا حکم بھی دیگر زانیوں کی طرح ہے کہ اگر وہ شادی شدہ ہوتا رہ ج کیا جائے گا اور غیر شادی شدہ ہوتا کوڑے لگا کے جائیں گے۔ (مرقات)

قولہ: فاحرقوا متاعه: (توتم اس کاسامان جلا دو) صاحب عرف شنزی نے کہا۔ اس باب میں وارد حدیث تو بطور تخریبی سامان جلانے پردلالت کرتی ہے۔ لیکن ہماری عام کتب میں تخریبی بالمال کی نہی وارد ہے، اور اس لے کچھ کہ یہ منسوخ ہے۔ اور تخریبی بالمال کے جواز پر میں نے حاوی قدسی میں حضرت امام ابویوسف کی روایت پانی ہے۔ انتہی۔ صاحب خلاصہ اور فتاوی ظہیری نے تخریبی اور تادبی کا رواٹی کے بطور بال لینے، گر جلانے اوراس جیسی چیزوں کے جواز کی صراحت کی ہے۔