Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْحُقُوقِ

The Treatment of Women and the Rights of Each
Volume 6 · Marriage

اس باب میں عورتوں سے محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنا

اور ان میں سے ہر ایک کا حق ادا کرنے کا بیان ہے

وَقَوْلُ اللہِ عَزَّوَجَلَّ : " وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا

شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( سورۃ نساء، پ:4، ع:3، آیت نمبر:19، میں ) اور تم یو یول کے ساتھ اچھا برتاو

کیا کرو ( کھلانے، پہنانے، بات چیت کرنے اور زوجیت کے امور میں ) اور اگر تم کو ( بد طالقی اور صورت ناپسند ہونے

کی وجہ سے ) وہ ناپسند ہو تو ( تم صبر کے کامل و اور جدانتی نہ چاہو ) عجب نہیں کرتے کو ایک چیز ناپسند ہواور اللہ تعالیٰ اس

میں بہت سی نیکی ( اور برکت ) رکھی ہے ( لیکن اس سے بہت سی اولاد ہواور وہ نوبصورت نہ ہوگی گہرے کے انظمام کا خاص سلیقہ

رکھتی ہو ) اہمر منداور مردوں کے لیے کو اپنی اہمرمندی سے بڑھا سکے - )

وَقَوْلُہُ تَعالیٰ : " وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌوَ اللہُ

عَزِیزٌ، حَکِیمٌ

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( سورۃ بقرہ، پ:2، ع:28، آیت نمبر:228، میں ) عورتوں کے حقوق مردوں پر

وستور کے مطابق ویسے ہی مساوی ہیں جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر البته مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالیٰ

غالب ہیں اور حکمت والے ہیں -

میال یوی کے باہمی حقوق :

ف : واضح ہو کہ اس آیت شریف میں یوی اور شوہر دونوں کے حقوق کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے - یوی پر

خاوند کے حقوق میں بیچیزیں داخل ہیں :-

خدمت، اوب، خاوند پر اعتراض نہ کرنا، اس کے سارے احكام جلالا نا اور بہرچیز میں اس کی اطاعت کرنا اور

جب وہ چاہے اس کو تم بستری میں نہ دو کہا بجز لواطت کے اورحض و نفاس کی حالات میں اور ای طرح خاوند پر یوی کے

حقوق میں بیچیزیں داخل ہیں :-

کے مساوی ہیں۔ لیکن مردوں کو اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ مرد خرچ کرتا ہے اور ملک نکاح، طلاق، رجعت اور وارثت بھی تمام امور مردوں کے متعلق ہیں۔ (تفصیلات احمدیہ مکتبہ)

وقولہ تعالیٰ: "وَالَّذِینَ تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَا ضْرِبُوهُنَّ، فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَیْهِنَّ سَبِیلاً، إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیًّا کَرِیماً"۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ نساء، پ:5، ع:6، آیت نمبر:34، میں) اور جتنی عورتوں کی نفرت کا تمہیں اندیشہ ہوتا (پہلی دفعہ) ان کو تجھاوز (اگروہ نہ جحسین) تو ان کو اپنے بستر ول سے جدا کردو (اس پر کچھ وہ نہیں) تو ان کے ساتھ مار پیٹ سے پیش آو (لیکن ضرب شدید نہ ہو) پھر اگروہ تمہاری مانگ لیس تو ان پرزیادتی کرنے کے لئے حیلہ نہ ہوتا تو، بے شک اللہ تعالیٰ غالب ہیں اور زبردست ہیں۔

عورتوں کے اچھا برتاو کے بارے میں حضرت کی وصیت

This chapter discusses living with women in affection and fulfilling the rights of each one of them. Allah, the Exalted and Glorious, says: 'And live with them in kindness. And if you dislike them - perhaps you dislike a thing and Allah has made therein much good.' (Surah An-Nisa, Chapter 4, Verse 19) And Allah’s guidance is: 'And treat them with kindness in terms of food, clothing, conversation, and marital affairs. And if you find them unappealing due to bad temper or unattractive appearance, do not be hasty in divorce, for it is not surprising that something may be unappealing to you, but Allah has placed much good and blessing in it. Perhaps through this, many offspring will come, and they will not be ugly, and there will be a special affinity in deep companionship, which can surpass the charm of women for men.' And His statement, the Exalted, is: 'And they have rights over you, similar to your rights over them, according to what is reasonable, but men have a degree over them, and Allah is Mighty and Wise.' (Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 228) And Allah is All-Powerful and All-Wise.

Mutual Rights of Husband and Wife:

It is clear that in this noble verse, reference is made to the rights of both husband and wife. The rights of the husband over the wife include:

- Service,

- Not objecting to the husband,

- Adhering to all his commands with respect and obedience in every matter,

- Not giving him the bed except in cases of lawful intercourse and during menstruation or postpartum periods.

Thus, the rights of the husband over the wife are as follows:

However, men have been granted excellence because they spend and matters such as marriage, divorce, revocation, and inheritance are all related to them. (Details in Ahmadiyya Maktabah)

And the command of Allah, the Exalted, is: 'And those women from whom you fear rebellion, admonish them and forsake them in bed and strike them. But if they obey you, then do not seek a way against them. Indeed, Allah is ever Exalted and Mighty.' (Surah An-Nisa, Part 5, Section 6, Verse 34) And whenever you fear disobedience from women, first admonish them; if they do not reform, then forsake them in bed; if they still do not reform, then resort to striking them, but not severely. If they obey you, then do not seek to harm them, for indeed, Allah is Exalted and Mighty.

The Blessed Prophet’s (ﷺ) Admonition Regarding Good Conduct Towards Women

4399

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے (کہ میں عورتوں کے بارے میں تم کو وصیت کررہاہوں) تم عورتوں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا میں میری وصیت قبول کروا س لئے کہ عورتیں طریقے پسندی سے پیدا ہوتی ہیں اور پسندیوں میں سب سے زیادہ طریقی اوپروا لی پسندی ہے اور اگرتم اس کو ایک دم سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگے اور اگرتم اس (پسندی) کو اپنی حالتوں میں چھوڑ دو تو اس کا طریقہ پن باقی رہے گا (میں تم کو پیغرتا کیوں کرتا ہوں کہ پسندیوں کے طریقوں کے ساتھ بھلا لی کرنا میں میری وصیت قبول کروا۔

اس کی روایت بناری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔

عورتیں فطرتاً بدمزاج ہوتی ہیں ان کی بدمزاجی کو خوش اخلا قی سے دور کیا جاسکتا ہے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Treat women kindly, for they were created from a rib, and the most crooked part of the rib is its upper part. If you try to straighten it, you will break it, and if you leave it, it will remain crooked. So treat women kindly.” Agreed upon.

4400

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورت کچسلی سے پیرا کی گئی ہے (اور کچسلی طیرصی ہوتی ہے) وہ تیرے لیے بھی بھی سیدہ راستہ پر نہیں چلگی (بلداس میں تلو ن رہے گا) اگر تم اس سے فاگہ اٹھانا چاہتے ہوتا سے کے طیڑ سے پن کی موجودگی میں فانده اٹھاتے رہواورا گرت م اس کو ایک دم سیدہ کرنا چاہوتا س کو توڑ دو گے اوراس کا توڑ نا س کو طلاق دینا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے ف: وا ضح ہو کہ حضرت حواء علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی کچسلی سے پیرا ہو کیں تو عورت کی اصل کچسلی طیرصی ہے اورپسلی کا باکل سیدہا ہونا ممکن نہیں اسی لے عورت کا باکل آراستہ ہونا اوراس کی عادتوں کا بدلنا محال ہے اس لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ حکمت سے برتا کرو، بالکل غافل نہ ہوجاو کہ ناہموار رہے اور نہ ہربات میں موافقت کر کہ زندگی تک ہوجائے۔ غرض یہ کہ عورتوں کی کبر وی اور بدمزاجی پر صبر کرنا ضروری ہے اور ان سے محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہیے۔ یول تو تمام لوگوں سے عمدہ سلک اور اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے تاکہ خاص و عام خوش رہیں اور مرے وقت ہماری تعریف کریں اور دعا دیں اور سن سلک کے زیادہ مستقیم تو ہیوی اور پچی ہیں اوراس کے بعد دومسرے عزیز واقرباء اوردوست واحباب ہیں۔ اور بعض علماء نے اس حدیث کی توجہ میں یول کے حال کے عام طور پر عورتیں ضری اور بہجوی ہیں اور بعض وقت خاوند چاہتا ہے کہ اس کی ضرکودور کر لیکن وہ اورخت ضری ہوجائی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تشیید کے فرمایا کہ یہ طیرصی پسلی سے پیرا ہو کیں ہیں، لیکن طیرصی مزاج کی ہوتی ہیں اگر تم اپنے مزاج کے مطابق کرنا چاہوگے تو نہیں کر پائیں گے اور بلاخر طلاق کی نوبت آجائے گی اور طلاق دینا س کو توڑ دینا ہے۔ اس لے ہرصورت میں عورتوں سے زیادہ پیش آنا چاہئے زیادہ پیش آئے رہو گے تو اس طیرصی چیز سے فانده اٹھاتے رہو گے۔

شہرا پنی پیوی سے بعض اور عداوت نہ رکے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Treat women kindly, for they were created from a rib, and the most crooked part of the rib is its upper part. If you try to straighten it, you will break it, and if you leave it, it will remain crooked. So treat women kindly.” Agreed upon.

4401

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی مسلمان مردا پنی پیوی سے بعض و عداوت نہ رکے (اس لے کہ) اس کی کسی عادت سے ناخوش ہے تو دوسری عادت سے خوش ہو جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں پنی پیوی کی اچھی عادت سے خوش رہنا چاہئے اس لے کہ پیوی میں پچھڑانی ہوتا اس میں پکھہ بحالی بھی ہوتی اس لے بحالی سے اپنے دل کو تسکین و پناچا ہے اور اس سے فانده اٹھاتے رہنا چاہئے اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پیوی کے ذریعے انسان حرام کاری سے پچتار ہوتا ہے۔

نافرمانی کی ابتدا عورت کی خیانت سے ہوتی ہے۔

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A believing man should not hate a believing woman. If he dislikes one of her traits, he will be pleased with another.” Narrated by Muslim.

4402

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر بی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ مرتا اور حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر کی بھی بھی خیانت نہ کرتی۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی)۔

ف: اس حدیث شریف میں دو واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غذا کیے من وسلوی نازل ہوتا تھا۔ میں حلوہ کی طرح ایک شیرین چیز ہوتی تھی اور سلوی تیتر بیری کی طرح ایک چھوٹا پرنده ہوتا تھا۔ بی اسرائیل بغير محنت اور مشقت کے ان کو لحاًتے رہے ان پر یہ پابندی تھی کہ جتنا چاہیں کھا لیں لیکن ذخیرہ نہ کرنا تھا۔ اگر وہ بڑے حرص سے نہیں ہوتے کہ اس کو ذخیرہ کرنا تھا۔

ثروت کی اتوہ سرتے لگا کہ لی حضور وافسیہ نے فرمایا کہ اگر بی اسرائیل ایسے کرتے تو کچھ گوشت نہ مرتا۔

دوسری واقعہ یہ کہ حضرت حواء علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے خیانت کی کہ ان کو درخت کے کھانے پر آمادہ کیا جس سے منح کیا گیا تھا اگر وہ درخت نہ کھا تین اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو منع میں خیانت اور نافرمانی نہ کرتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے بھی خیانت اور نافرمانی نہ کرتی۔ (حاشیہ مشکوۃ)12

چار بہترین چیزوں میں سے ایک خیانت نہ کرنے والی بیوی ہے۔

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Were it not for the Children of Israel, meat would not spoil, and were it not for Hawwa, no woman would betray her husband forever.” Agreed upon.

4403

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کی، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں جس کسی کو دی گئی تو اس کو دنیا اور آخرت کی بجلائی وپیدی گئی۔

(1) نعمتوں پر شکر کرنا و لا دل (2) دکھ سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا و ای زبان (3) ایا بدن (جود نیوی) مصیبتوں پر صبر کرنا و لا ہو (4) اور ایک بیوی جو نے تو اپنے نفس میں خیانت کرے و ای ہواور نہ اپنے شوہر کے مال میں۔

(اس کی روایت بھی قی نے شعب الایمان میں کی ہے)

ف: اس حديث شريف میں ارشاد کے خیانت نہ کر نے والی پیوی شوہر کے لے اللہ تعالی کے طرف سے ایک

نعمت ہے۔

ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں یول ہے کہ پیوی اپنی ہوگہ جوآخرت کے کام میں مدد کرے، عورت کی مدد

آخرت کے کام میں پیہ کردوہ پیوی کی وجہ سے گناہوں اور بد نظری سے پچتہے اور گمر کے تمام کام عورت انعام دے

لیے ہے۔ جس کی وجہ سے مردو عبادت کی فرصت ملتی ہے۔ اگر پیوی نہوتو گمر کے کاموں کی وجہ سے عبادت کی فرصت

کم ملتی ہے۔ بعض عورتیں برہی نیک اور عابدہ ہوتی ہیں ان کی وجہ سے مردو کی زاہداور عابد بن جاتا ہے۔ بعض تو ایسی ہی

ہوتی ہیں کراپے شوہر کو تچڑی نماز کے لے جگانی ہیں۔ (حاشیہ مشکلوہ)

شوہر کسی معقول وجب پر پیوی کو مارے تو مواخذہ نہ ہوگا

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Four things, whoever is given them has been given the best of this world and the Hereafter: a grateful heart, a remembering tongue, a body patient in affliction, and a wife who does not betray him in herself or his wealth.” Narrated by Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman.

4404

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی

اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شوہر اپنی پیوی کو اس کی

خطا و قصور پر مارے تو اس پر مواخذہ نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابوداو داورابن ماجہ نے کی ہے۔)

ف: واضح ہوکہ اس حدیث شریف میں ارشاد کہ پیوی کو شوہر معقول وجب پر مارے تو اس پر مواخذہ نہ

ہوگا معقول وجب میں نماز کانہ پڑھنا، غسل نہ کرنا، شوہر کے لے بناو سنگار نہ کرنا اپلا وجب جماع سے انکار کرنا یا شوہر کی

بلا اجازت باہر جانا وغیرہ۔ (حاشیہ مشکلوہ)

کوئی شخص اپنی پیوی کو غلام کی طرح نہ مارے

Umar (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): “A man will not be asked about why he struck his wife.” Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah.

4405

عبد اللہ بن زمعر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں کوئی اپنی پیوی کو غلام کی طرح نہ پیٹو چھڑون

کے آخری حصر میں اس سے جماع کرے۔

It is narrated from Abdullah bin Zam'ur (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed: 'Do not have intercourse with your wife like a slave; do not have intercourse with her when she is in the last stage of her menstrual period.'

4406

اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تم میں کوئی اس بات کا ارادہ

کرتا ہے کراپنی پیوی کو غلام کی طرح مارے اور پھر شاپ کروہ دون کے آخری حصہ میں اس سے

ہم بستر ہوپھرآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگون کو نصیحت فرمائی جوہوا کے خارج

ہوئے پر مشتے ٹوآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا کام

(جیسے ہوا خارج ہوئے) پر کیون پستاہے جس کو وہ خود کرتا ہے-

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے-)

ف(1): اس حدیث میں یہ میں شوہر کو تا کیہے کہ پیوی کو غلام کی طرح نمارے اس لیکہ وہ سلتاہے کروہ

شام کو پھراس سے محبت کرے -میبات شرعاً اور عقلًا مناسب نہیں کہ جس کو اپنے پاس لٹا کے اس کو ایسی سخت

مارمارے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تی المقدس و پیوی پر اتنہ نہ اتجاوے اور اگر اپنے یہ سخت قصور کرے

تو زبان سے خفاہو یا ساتہو سونا چھوڑ دے، اس پر جی نما نے تو بلکی مارمارے -(حاشیہ مشکوۃ)-

): اس حدیث میں یہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ہوا خارج ہوئے پر مشت و الون کواس لی ستہیر فرمائی کہ انسان

کو ایسے فعل پر جو خود اس سے سرزدہ ہوتاہوئے پنےا چاپے، اس لیکہ دوسروں پر پنےا ادبی سے اور دوسروں کو شرمندہ

کرنے کے اور اخلاق سے بعید بات ہے-

بدزبان پیوی کومارنے کے بجاے وعظ و نصیحت سے کام لیا جائے

Abdullah ibn Zam‘ah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “None of you should whip his wife like whipping a slave, then sleep with her at the end of the day.” Then he admonished them regarding their laughter about flatulence, saying: “Why does one of you laugh at what he himself does?” Agreed upon.

4407

لَقِيْطُ بْنُ صَبْرَةُ رضي الله تعالى عنه روايت ہے، وه فرماتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری پیوی کی زبان میں پچھ (خرابی) ہے

لیکن بدزبان ہے آپ نے فرمایا: اس کو طلاق دیے، میں نے عرض کیا اس سے میری اولاد

ہے اور عرصہ دراز ہے میرے ساتھ ہے (اگر میں اس کو طلاق دوں تو مجھے تکلیف ہوگی) آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو نصیحت کراور سمجھا اس میں اگر بجلائی ہوگی تو وہ

اسے قبول کر لیا - لیکن تم اپنی پیوی کو بندی کی طرح نمارو-

(اس کی روايت ابوداود نے لی ہے-)

لَقِيْطُ بْنُ صَبْرَةُ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری پیوی کی زبان میں پچھ (خرابی) ہے

لیکن بدزبان ہے آپ نے فرمایا: اس کو طلاق دیے، میں نے عرض کیا اس سے میری اولاد

ہے اور عرصہ دراز ہے میرے ساتھ ہے (اگر میں اس کو طلاق دوں تو مجھے تکلیف ہوگی) آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو نصیحت کراور سمجھا اس میں اگر بجلائی ہوگی تو وہ

اسے قبول کر لیا - لیکن تم اپنی پیوی کو بندی کی طرح نمارو-

(اس کی روایت ابوداود نے لی ہے-)

Laqit ibn Sabrah (may Allah be pleased with him) narrated: I said, “O Messenger of Allah, I have a wife, and there is something in her tongue, meaning sharpness.” He said, “Divorce her.” I said, “She has borne me a child, and we have companionship.” He said, “Then admonish her,” meaning advise her. “If there is good in her, she will comply. Do not strike your wife as you would strike your slave girl.” Narrated by Abu Dawud.

شہر پرپیوی کے حقوق
4408

حجیم بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دریافت کیا یارسول اللہ! تم میں سے کسی شہر پراس کی پیوی کا کیا حق ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کہا تو اس کو مجھی کہا او اورجب تم پہنوتو اس کو مجھی پہناو، اورچہرہ پرمت مارو اوراس کو برا بجلامت کرو اور (ضرورت ہوتی) اس سے گھر، یا میں علیہ گی اختیار کرو۔

(اس کی روایت امام احمد، ابو داود، اور ابن ماجہ نے کی ہے)

وہ با تین جن کے انکار پر شہرپیوی کو مار سکتا ہے

ف (1): اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیوی کو چہرہ پرمارنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں فقہوی قاضی خان میں یو ضاحت ہے کہ شہرپیوی کو چار باتوں پرمار سکتا ہے-(1) شہرپیوی سے زیب و زینت کی خواہش کرے تو وہ زیب وزینت نہ کرے (2) پیوی حیض و نفاس سے پاک ہوااور وہ شہرپیوی خواہش پر جماع کے لے آمدہ نہ ہو (3) نماز کے چھوٹے نے پر (4) شوہر کی اجازت کے بغیر پیوی گھر سے نکل پیرقات میں نذور ہے اور تفسیر خازن میں کہا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ پیوی کو مارنے کی اجازت سے لیکن نمارنا فضل ہے

ف (2): واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پرمارنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ چہرہ انسان کے اعضاء میں برتری فضیلت اور عظمت کا عضو ہے اور چہرہ لطف اعضاء اور شریف اجزاء میں آگلو، ناک، کان وغیرہ پر مشتمل ہے-(ماخوذ از مرقات)-

شہر عارضی طور پرتاد پیا پی پیوی سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے

ف (3): اس حدیث شریف میں پیچھی ارشاد ہے کہ (ضرورت ہو) توپیوی سے تاد پیا گھر میں علیحدگی کی

جا کسٹی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سو جب تو شوہر کو پیوی پر کوئی شہر ہو جائے تو وہ پیوی کو دوسرے گھر میں منتقل نہ کرے۔

لیکن تین حدیث میں ثابت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المومنین سے بالکلی علیحدگی اختیار فرمائی تھی اور اپنے

بالا خانہ پر تشریف لے گئے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد و اہجروہنّ فی المضاجع (پیوول کو بستر کے

جدا کردو) میں اس بات کی قید نہیں ہے کہ پیوول کو صرف گھر میں جدار کھاجا بلکہ ان کو گھر سے بھی علیحدہ کیا

جا سکتا ہے۔ اس بارے میں تین بات یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے علیحدگی کی صورت میں مختلف ہوتی ہیں اور اس کے

بھی ہوتا ہے کہ پیوی سے گھر میں علیحدگی اختیار کرنا گھر سے منتقل کردنے سے سخت ہوتا ہے اور کچھ اس کے

برخلاف بھی معاملہ ہوتا ہے۔ بلکہ گھر میں علیحدگی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے خصوصاً عورتوں کے لیے اس لیے کہ

عورتیں کمزور طبعیت کی ہوتی ہیں۔ (نیل الاوطار فتح الباری۔12)

زیادہ نفقہ ماگئے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زواج مطہرات سے

ایک ماحی علیحدگی اختیار فرما

Hakim ibn Mu‘awiyah al-Qushayri narrated from his father: I said, “O Messenger of Allah, what is the right of the wife of one of us upon him?” He said: “That you feed her when you eat, clothe her when you clothe yourself or earn, do not strike her face, do not revile her, and do not forsake her except in the house.” Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah.

Bukhari narrated from Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) swore an oath (ila) from his wives for a month, and his foot had been injured, so he stayed in an upper room for twenty-nine nights. Then he came down, and they said, “O Messenger of Allah, you swore for a month?” He said, “The month can be twenty-nine days.”

Muslim narrated from Jabir (may Allah be pleased with him): Abu Bakr came to seek permission to enter upon the Messenger of Allah (ﷺ) and found people sitting at his door, none of whom were permitted to enter. Permission was granted to Abu Bakr, and he entered. Then Umar came, sought permission, and was granted entry. He found the Prophet (ﷺ) sitting, surrounded by his wives, silent and upset. Umar said, “I will say something to make the Prophet laugh.” He said, “O Messenger of Allah, if you had seen the daughter of Kharijah asking me for maintenance, I stood and pushed her neck.” The Messenger of Allah (ﷺ) laughed and said, “They are around me, as you see, asking for maintenance.” Abu Bakr stood and pushed Aishah’s neck, and Umar stood and pushed Hafsah’s neck, both saying, “You ask the Messenger of Allah for what he does not have?” They said, “By Allah, we will never ask the Messenger of Allah for what he does not have.” Then he secluded himself from them for a month or twenty-nine days. Then this verse was revealed to him: “O Prophet, say to your wives…” until “…for the doers of good among you, a great reward” [Al-Ahzab: 28-29]. He began with Aishah, saying, “O Aishah, I want to present a matter to you, and I prefer that you not hasten until you consult your parents.” She said, “What is it, O Messenger of Allah?” He recited the verse to her. She said, “Regarding you, O Messenger of Allah, should I consult my parents? Rather, I choose Allah and His Messenger and the Hereafter. I ask you not to inform any of your wives of what I said.” He said, “If any of them asks me, I will tell her. Allah did not send me to be harsh or difficult, but as a teacher and facilitator.”

(1) The statement: “Do not strike her face, etc.”: In Fatawa Qadikhan, a husband may strike his wife for four reasons: neglecting adornment when he desires it, refusing intimacy when she is pure, neglecting prayer (in some narrations, though Muhammad said he cannot strike her for neglecting prayer, and neglecting purification from major impurity or menstruation is akin to neglecting prayer), and leaving the house without his permission, as in Al-Marqah. Al-Khazn said: Ash-Shafi‘i said striking is permissible, but refraining from it is better.

(2) The statement: “Do not forsake her except in the house”: This means if something displeases him, he forsakes her in bed but does not move to another house. However, it is established in the Sahih that the Prophet (ﷺ) forsook his wives and went to an upper room. Thus, the restriction in “forsake them in bed” [An-Nisa: 34] is not intended, and the restriction in this Hadith is not followed. It is permissible to forsake outside the house, as the Prophet (ﷺ) did. The reality is that this varies by circumstance; sometimes forsaking in the house is more severe, sometimes outside, especially for women due to their sensitive nature, as in Nayl al-Awtar and Fath al-Bari, summarized.

(3) The statement: “The Messenger of Allah swore an oath (ila), etc.”: In Al-Azhar, this is not the well-known ila, as Al-Tayyibi said: Ila in fiqh has specific rulings and is not called ila without them, as in Al-Marqah.

(4) The statement: “Rather, I choose Allah and His Messenger, etc.”: This supports the view of Malik, Ash-Shafi‘i, Abu Hanifah, Ahmad, and the majority of scholars that if a husband gives his wife a choice and she chooses him, it is not divorce, and no separation occurs, as in Al-Marqah.

In this noble hadith, the Messenger of Allah ﷺ has prohibited striking a wife on the face. In Fiqhi Qadhi Khan, there is an explanation that a husband can strike his wife for four reasons: (1) if the wife desires adornment and beauty, then she should not seek it; (2) if the wife is purified from menstruation or postpartum bleeding and the husband does not desire intimacy; (3) during the minor impurity of prayer; (4) if the wife goes out of the house without her husband's permission and makes a vow. It is stated in Tafsir Khazin that Imam Shafi'i (RA) said that it is permissible to strike a wife, but not doing so is virtuous, 12.

(2): It is clear that the Messenger of Allah ﷺ prohibited striking on the face because the face is the most honorable and dignified part of the human body, encompassing noble and beautiful features such as the eyes, nose, ears, etc., (taken from Mirqat).

A husband can temporarily separate from his wife.

(3): This noble hadith indicates that if necessary, a husband can separate from his wife within the house. The meaning of 'ja kisti' is that when a husband has a complaint against his wife, he should not move her to another house.

However, it is established in three hadiths that the Noble Prophet ﷺ completely separated from the Mothers of the Believers and went to his upper chamber.

From this, it is understood that in the divine command 'and go away from them in the bed' (Quran 4:34), there is no restriction that the wife should only be separated within the house; rather, she can also be separated from the house. Regarding this, there are three points: the forms of separation vary according to circumstances, and sometimes separating within the house is more severe than moving out, and vice versa. Separating within the house is often more distressing, especially for women, because women are of a weaker nature. (Nail al-Awtar, Fath al-Bari, 12)

The Messenger of Allah ﷺ and his family often separated from their wives for one month.

چہرہ کی عظمت
4409

_ بخاری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ والہ وسلم نے ازواج مطہرات سے ایک مہینے تک صحبت نہ کرنے کی فتنہ کہانی تھی اور آپ

صلی اللہ علیہ وسلم کے پاول میں (کسی وجہ سے) موت آ گئی تھی۔ آپ صلی اللہ

علیہ وسلم نے بالا خانہ پر انتیس رات قیام فرما چھرا پ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا

صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے تو ایک مہینے کی فتنہ کہانی تھی تو آپ

نے ارشاد فرما: مہینہ انتیس دن کا ہی ہوتا ہے۔

Bukhari narrated from Anas (RA) that

the Messenger of Allah ﷺ mentioned a story about a month-long trial of not having intercourse with the pure wives, and it was as if death had come to him ﷺ. He ﷺ spent the twenty-ninth night standing on the upper chamber. When the thirtieth night came, the Messenger of Allah ﷺ descended, and the Companions said: 'O Messenger of Allah ﷺ! You mentioned a month-long trial, but you have only completed twenty-nine days.' He ﷺ replied: 'A month is thirty days.'

4410

_ اور مسلم نے (اسی ذکورہ بالا واقعہ کی تفصیل) جابر رضی اللہ عنہ سے

(اس طرح) روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لا کے اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کی خدمت میں) حاضر ہوئے کی اجازت طلب کی آپ نے

لوگول کودروازے پر بیٹھے ہوئے پائااورسی کو (ملقات کی) اجازت نہیں دی جارہی تھی راوی

کاپیانہے کہ حضرت ابوبکر کو اجازت دی گئی اور وہ اندر تشریف لے گئے پھر حضرت عمر تشریف

لاگے اور اجازت طلب کی ان کو کچھ اجازت لی گئی، حضرت عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ

وسلم کو کچھ کہا آپ رخیدہ اور خا موش تشریف فرامایا اور ازوانج مطہرات کی آپ پصلی

اللہ علیہ وسلم کے اطراف موجود ہیں -

راوی کہتا ہے کہ حضرت عمر نے فرما میں ضرورا سی بات کہونا گا جس سے رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وال وسلم (خوش ہو کر) فس پڑی چنا پچ حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم اگر آپ خارج کی جی (یعنی میری جی کو) دیکھتے کہ اگروہ مجھے (میری طاقت سے زیادہ

نفقہ ماگی تو میں کہا ہو کر اس کی گردان مروڑتا (اوراس کی پٹانی کرتا) یعنے کرسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم فس پڑے اورفرما میں یویالا س وقت جومیرے اطراف مجھے ہیں جیسے تم دیکھ

رہے ہو مجھے (میری حثیت سے زیادہ) نا نفقہ طلب کررہی ہیں (پین کر) حضرت ابوبکر

کہتے ہوئے اور حضرت علی تشکی گردان مروڑی اور حضرت عمر کچھ کہتے ہوئے اور حضرت

خصے کی گردان مروڑی اور پیدونوں حضرات کہتے ہے تک کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ تعالی

علیہ وسلم سے وہ چیز ماگتے ہو جو آپ پ کے پاس موجود نہیں (پین کر) تمام ازوانج مطہرات نے

کہا کہ خدا کی قسم! اب تم آتنے ہر سول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسی چیز نہ ماگمین گے جو

آپ کے پاس موجود نہ ہو پھراس کے بعدآپ نے ازوانج مطہرات رضی اللہ عنہم سے

ایک مہیں یا نتیس (29) دن علی کی اختیار فرمائی پھر یا یت نازل ہوئی "یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ

لَا زُوَاجَكَ إِنْ كُنتَ تُرِدُّنَ الْحَیْوَۃَ الدُّنیَا وَزِینَتَهَا فَتَعَالَیْنَ أُمْتَعُکُنَّ وَأُسْرِحُکُنَّ سَرَاحًا

جَمِیلاً۔ وَإِنْ کُنتَ تُرِدُّنَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا

عَظِيمًا۔ (سورۃ احزاب،پ:21،ع:4،آيت نمبر:28/29)"اے نبی (صلی اللہ علیہ

والہ وسلم) اپنی بیوٹ سے آپ فرماوئی کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور آراش جاتی ہوتی آو

میں تخمین پڑھ مال دون اور خوش اسلوبی سے چھوڑ دول - اور اگر تم اللہ اوراس کے رسول اور

دارآخرت چاہتی ہوتی ب شک اللہ تعالیٰ تم میں سے جونیو کا رپی ان کے لے خدا نے برے

برے اجرتیار کرد کے ہیں -

حضرت جابر ضی اللہ علیہ نے کہا کہ (ان آٹول کے اترنے کے بعد) سب سے پہلے آپ

حضرت عاشق کے پاس تشریف لے گئے اور فرمائیا لے عاشق! میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں

اور چاہتا ہوں کہ تم اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ تم اپنے مال باپ سے مشورہ کرو

حضرت عاشق نے فرماوہ کوئی بات ہے یارسول اللہ وصیہ؟ آپ نے ان کے سامنے آئے نذورہ کی

تلاوت فرمائی تو حضرت عاشق نے (فوراً) فرمایا یارسول اللہ! میں آپ کے بارے میں کیا اپنے

والدین سے مشورہ کروں؟ بلکہ میں اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دارآخرت کو پسند کرتی

ہوں اور آپ سے پیرخواست بھی کرتی ہوں کہ میں نے آپ کو جواب دیا، آپ ازواج

مطہرات میں سے کسی ایک کو بھی نہ بتائیے - آپ نے ارشاد فرمایا (ایمانیں) ازواج مطہرات

میں سے جو بھی مجھے پوچھیں گی میں ان کو ضرور بتاؤ لگا - پیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی دعا

والا اور مشقت میں ذا لن والابنا کرنیس بھیجا ہے بلکہ مجھے (احکام) سکھانے والا اورآ سانی کر نے

والابنا کرنیس بھیجا ہے-

ف : اس حدیث تشریف میں ذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے ایک ماہ علیہ

رہنے کے بعد سب سے پہلے حضرت عاشق کے پاس تشریف لاکر فرمایا تم پا ہوتی دنیا اوراس کی زیانت کو اختیار کرو اپا ہو

تو اللہ اوراس کے رسول اور دا ا آخرت کو اختیار کرو تو ام المومنین نے فرمایا میں اللہ اوراس کے رسول اور دا ا آخرت کو

اختیار کرتی ہوں اس سے چاروں مساکے : ماکی، شافعی، حنبلی، جعفری - اور جمعہ علماء کے مسلک پر دلیل ملتی ہے کہ جس کسی

ن اپنی یوی کوزوجیت میں رتن کا اختیار دیااور یوی نے اپنے اختیارتے کہا کر میں تم کواختیار کرتی ہول تو ن طلاق

واتھ ہوگی اور نجدا لی - (یمرقات میں نذورہ -12)

عورتوں کو اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پیش کرناس پرحضرت

عاشرا تجب اوراس کازالہ

Muslim narrated from Jaber (may Allah be pleased with him) that he said:

When Abu Bakr (may Allah be pleased with him) came and sought permission to enter, the Messenger of Allah ﷺ was present. He found people sitting at the door, and permission was not being granted. The narrator said: Permission was given to Abu Bakr, and he entered. Then Umar (may Allah be pleased with him) came and sought permission. Some permission was given to him, and Umar (may Allah be pleased with him) spoke to the Noble Prophet ﷺ, who was calm and composed, and the Pure Wives were present around him. The narrator said: Umar (may Allah be pleased with him) said, 'O Messenger of Allah ﷺ, I have something to say that will please you.' Umar (may Allah be pleased with him) said, 'O Messenger of Allah ﷺ, if you see me, and someone asks me for more than I can give, I would twist his neck and beat him.' The Messenger of Allah ﷺ smiled and said, 'I am in a similar situation; those around me are asking for more than I can give, just as you see. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) twists the neck and beats, and Umar (may Allah be pleased with him) says something, and Khaithama (may Allah be pleased with him) twists the neck and beats, and both of them ask me for what I do not have.' All the Pure Wives said, 'By Allah, we will not ask the Messenger of Allah ﷺ for anything that he does not have.' After this, the Messenger of Allah ﷺ kept Ali (may Allah be pleased with him) under his care for a month or twenty-nine days, and then the following verses were revealed: 'O Prophet, say to your wives: If you desire the life of this world and its adornment, then come, I will provide for you and release you with a gracious release. But if you desire Allah and His Messenger and the home of the Hereafter, then indeed, Allah has prepared for the doers of good among you a great reward.' (Surah Al-Ahzab, 33:28-29) Jaber (may Allah be pleased with him) said: After these verses were revealed, he first went to Aisha (may Allah be pleased with her) and said, 'O Aisha, I have something to tell you, and I want you not to rush until you consult your parents.' Aisha (may Allah be pleased with her) said, 'What is there to consult my parents about, O Messenger of Allah? I prefer Allah, His Messenger, and the Hereafter, and I am eager to answer you. Do not tell any of the Pure Wives.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'Whichever of the Pure Wives asks me, I will certainly tell her. Allah has sent me not to burden you with hardship but to teach you and purify you.'

In this noble hadith, it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ, after staying with his pure wives for a month, first honored the presence of Lady Aishah (RA) and said: 'If you choose this world and its adornments, then you will have them. But if you choose Allah, His Messenger, and the Hereafter, then you will have them.' To this, the Mother of the Believers (RA) replied, 'I choose Allah, His Messenger, and the Hereafter.' This is a point of agreement among the four schools of thought, Maliki, Shafi'i, Hanbali, and Ja'fari, and the majority of scholars, that if a man gives his wife the option to choose in marriage, and she says, 'I choose you,' then the marriage remains intact, and there is no divorce or separation. (See Yamaqat, p. 12) The women presenting themselves to the Messenger of Allah ﷺ was a practice that Lady Aishah (RA) initiated and followed.

4411

"تُرجِی مَنْ تَشَاءُ مِنهُنَّ وَتُؤْوِی إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ

فَلاَ جُناحَ عَلَیْكَ" (اپنی ازواج مطهرات میں سے تم جس کو چاہو (اور حتی دلن چاہو ) اپنے سے اگر کہاو رجس کو چاہو (اور رجب تک چاہو ) اپنے پاس رکھاو رتم نے جن کو (اپنے خاص مدتنے ) اگر کر دیا تھا ن میں کسی کو پھڑاپنے پاس بلاو تو (اس میں کچھ ) تم پر پکڑ گناہ نہیں۔

ام المومنین حضرت عاشرا ضی اللہ تعالیٰ عنبہ سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں ان عورتوں کے اس فعل کومعیوب مجحتی ہی جنهون نے اپنے آپ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زوجیت میں قبول کرنے کیلئے ) بخش دیا تھا ور (میں تجب سے ) یول کہتی ہیں کہ عورت (جوثرم وحياء کا پیرہے ) خود کو کسی کی (یوی کے لئے ) پیش کرتی ہے۔ جب یآ ئت نازل ہوتی تو میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیسے ہول کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار آپ کی خواہش (اور رضا مندی ) کو جلدی قبول فرمائیتا ہے۔ وہ آئت یہ ہے : (سورۃ احزاب، پ:22، ع:6، آیت نمبر:51)

(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متفرق طور پر لی ہے )

It is narrated from Umm al-Mu'minin 'A'ishah, may Allah be pleased with her, that she said:

I find fault with those women who offered themselves to the Messenger of Allah ﷺ in marriage, and I say that a woman who offers herself for marriage is devoid of modesty and shame. When the verse was revealed, I said, 'O Messenger of Allah ﷺ! How is it that your Lord accepts your desire and satisfaction so quickly?' The verse is: (Qur'an 33:51).

4412

اور جابر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی (طولی ) حدیث میں ارشاد سے عورتوں کے حق ) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ذریعتہ رہاو رپحدیث قصہ جہاوداع کے باب میں زرچکی ہے۔ (بجا طوالرت پہالصرف اس کاحوالہ دیاگیاہے تاکہ پوری حدیث کو بال دکیلیاجائے )

ف: واقع ہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں سورۃ احزاب کی آیت "تُرْجِحُ مَنْ تَشَا" " کا ذکر ہے۔ اس بارے میں ابورزین اور ابن زید نے کہا ہے کہ اس آیت کا شان نزل یہ کہ امہات المومنین میں سے بعض نے رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو غیرت والی اور بعض نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نفقہ طلب کیا تو رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام امہات المومنین سے ایک ماہ تک عیادگی اختیار فرمائی یہاں تک کہ آیت نازول ہو گئی۔ جس کو آیت تَخْیِر کہتی ہیں نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کواس بات کا اختیار دیا کہ ونیا کو اختیار کریں یا آخرت کو اور ان میں سے جود نیا کو اختیار کریں ان کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کریں اور وہ امہات المومنین برقرار رہیں گے اور ان سے چھرو کو نہاچ نہیں کر سکتا اور پیکر رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امہات المومنین میں سے جتن کو چاپیں حتی دن چاپیں اپنے پاس رکسکیں لیے اور جتن کو حتی دن چاپیں اگے رکے سکیں لیے اس پرامہات المومنین نے رضا مندی ظاہر فرمائی خواہ آپ باری مقرر فرمائیں یا نہیں یا آپ باری میں بعض کو ترچی دی اس طرح آپ نفقہ میں بھی بعض کو زیادہ عطا فرمائیں بہرحال اس میں بھی حضور کو بالکلی اختیار دیا گیا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خصوصیات میں شامل ہے اور ان ساری باتوں کو امہات المومنین نے پسند فرمائا کر آپ کو اختیار فرمائی۔" معالم التنزیل " کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جسیا کہ حدیث نمبر (4410) کے فاندہ میں بیان کیا گیا کہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بالکلی اختیار ملنے کے باوجود آپ کامل النصف پیتا کر آپ نے تمام امہات المومنین میں باری مقرر فرمائی اور نفقہ میں بھی مساوات قائم فرمائی۔

پیوی کومار پیٹ کرنے والے لوگ اتنے نہیں

It is narrated from Jabir, may Allah be pleased with him, in a lengthy hadith regarding the rights of women, which is mentioned in the chapter on divorce in Zujajat al-Masabih. (Only a reference is given here so that the entire hadith can be reviewed.)

It is mentioned in the hadith of Aishah, may Allah be pleased with her, concerning the verse in Surah Al-Ahzab, 'You may incline towards one.' Regarding this, Abu Razin and Ibn Zaid said that the context of the revelation of this verse was that some of the Mothers of the Believers felt jealous towards the Prophet ﷺ, and some asked for more maintenance from him. Therefore, the Prophet ﷺ refrained from visiting all the Mothers of the Believers for one month until the verse was revealed, known as the verse of choice. In this verse, Allah gave the Mothers of the Believers the choice to select the world or the Hereafter. Those who chose the world were to be divorced, and those who chose Allah and His Messenger would remain with him, and no one could harm the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ could keep with him as many of the Mothers of the Believers as he wished, and he could send away as many as he wished. The Mothers of the Believers expressed their satisfaction, whether he assigned them turns or not, or if he gave preference to some over others in maintenance. In any case, complete choice was given to the Prophet ﷺ, and this is among his special qualities. The Mothers of the Believers accepted these conditions and allowed him to make the choice. As mentioned in Ma'alim al-Tanzil, it is noteworthy that despite having complete choice, the Prophet ﷺ maintained perfect fairness by assigning turns to all the Mothers of the Believers and ensuring equality in maintenance.

آیت تَخْيِير کی تفصیل
4413

ایاس بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی بندیوں (یعنی پیووں) کونہ مارو، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمات اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرتے (آپ کے اس ارشاد سے) عورتیں اپنے شوہرول پردہ لی رہوگی ہیں (یعن کر) آپ نے

(شوہرول کو) اجازت دی کر (وہتاوپیاپنیپیوپولکو)مارکٹہیں(یحكمسنکرمدولنےعورتن

کوخوبماراپیا)توہہتسیعورتمیںاپنشوہرولکیشکائیتکرنےکے لئےازواجمطلباتکے

پاسجمعہوتاہے(اورحضرتصلی اللہعلیہ وسلم کیخدمتاقدس میںشکایتپیشکی)تورسول اللہصلی

اللہتعالی علیہ وسلم نےارشاوفرماياکرازوانجمطلباتکے پاسبہتساریعورتمیںاپنشوہرول

(کے مارنے پر)شکایتکرنےکیلئےجمعہوتاہے(آگاهہوجاو)تممیںایسلوگاپچھینیبھی

(جوپیپیوپولکومارتےپیتهیں)-

(اسکیروايتابوداود، ابن ماجعاوردارمی نےکیہے)-

پیوپولکیبداخلاتیپرصبروحلسےکاملیناچاہیے

ف: واضحہوکہاسحدیثثریفمیںذکورہےکرسول اللہصلی اللہتعالی علیہ وسلم نےشوہرول

کوپیوپولکومارتسرکا، غالباًحضرتصلی اللہتعالی علیہ وسلم کیمعناعت(سورۃنساء، پ:5، آیتنمبر:34،

ع:6)کیآیتبسمیں"وَا ضْرِبُوهُنَّ"، ذکورہاسکےنزولسےپہلےکاواقعہ، حضرتصلی اللہعلیہ وسلم

کیمعناعتسےعورتمیںدیرہوگئیتوحضرتصلی اللہعلیہ وسلم نےمارنےکیاجازتدیدیاورپھرقرآنمیںبھی

بھیحكمنازلہواليکنشوہرولنےجبمارپیٹمیںشدتکیاورحضرتصلی اللہتعالی علیواللہ وسلم کواسکی

اطلاعملیتوآبپنفرمايااگرپچکہپیوپولکوانکیبداخلاتیکیوجهسمارپیٹکیاجازتہےگمرانکی

بداخلاتیپرصبراورحلفضلاوراحسنہے۔تفصیلحضرتامامشفیرحضرۃ اللہعلیہمنقولہےجومرقاتمیں

ذکورہے-

بہترآدمیوہہےجوکیوتكلفندے

Iyas ibn Abdullah narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not strike the maidservants of Allah.” Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, “Women have become bold with their husbands.” So he permitted striking them. Many women then surrounded the household of the Messenger of Allah (ﷺ), complaining about their husbands. The Prophet (ﷺ) said, “Many women have surrounded the household of Muhammad, complaining about their husbands. Those are not the best among you.” Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ad-Darimi.

(1) The statement: “Women have become bold, etc.”: The Sunnah’s alignment with the Quran on striking suggests the Prophet (ﷺ) prohibited striking before the verse’s revelation. When women became bold, he permitted it, and the Quran confirmed it. When they exceeded in striking, he clarified that while striking is permissible for bad conduct, patience and refraining from striking are better and more virtuous. This meaning is attributed to Ash-Shafi‘i, as in Al-Marqah.

4415

- اور ابن ماجہ نے اس کی روايت حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بعض حدیث کی موجود ف : واقع ہو کر اس حدیث میں " صاحبکم " کا ظاہر فرق ماگیا ہے اس کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پول فرما رہے ہیں جب میرا اصل ہوتا میرے بعد میرے اعلی بیت میرے صحابا اور میری امت کو تکلیف دے کر مجھے نستاہو ( مرقات 12 )

کامل ایمان والشخص وہ ہے جو پنی پیوی سے اچھا سلوک کرے

Ibn Majah narrated from Ibn Abbas (RA) that

the Prophet ﷺ was asked about the meaning of 'your companion' in this hadith, and he replied while asking: 'When I am gone, my elevated house, my companions, and my community will cause distress to me.' The complete believer is the one who behaves better than his spouse.

4416

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ ایمان والون میں کمال ایمان کے اعتبار سے سب سے بہتر وہ مومین ہے جس کے اخلاق و عادات سب سے اچھے ہول اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو پنی پیوی کے ساتھ اچھا آتے ہیں۔

(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ثقہ ہے اس کی روایت البوداوی نے لفظ خلقات کی ہے)

کامل الایمان وہ شخص ہے جوعامة الناس اورگر والول پرمہربان ہو

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The most complete of believers in faith are those with the best character, and the best of you are the best to their women in character.” Narrated by Tirmidhi, who said: This is a good, authentic Hadith. Abu Dawud narrated it up to “character.”

4417

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقة رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت سے وہ فرما تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ ایمان والون میں کمال ایمان کے اعتبار سے سب سے بہتر وہ مومین ہے جس کے اخلاق اور عادات عموماً سب سے لعمی عامۃ الناس سے حسن سلوک میں اچھے ہول اور خصوصاً اپنی پیوی پر زیادہ مہربان ہو

(اس کی روایت ترجمہ نہ کیا ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضرت علیہما بھی کہا کہ میری ملت

گزرا لٹیلے پر منع نہ فرامانا

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indeed, among the most complete of believers in faith are those with the best character and the kindest to their families.” Narrated by Tirmidhi.

4418

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ

فرماتی ہیں کہ میں نہیں کریں مصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پاس (جس آپ کے گھر میں) گزریون تو

کہیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ چند سہمیاں بھی کہیلا کرتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

جب (گھر میں) تشریف لا تے تو سہمیا آ پ تے (ثمر ما کر) باہر چلی جا تین تو آپ ان کومیرے

پاس نہیں اوروہ میرے ساتھ کہیتی ہیں۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے)-

دوسری حدیث

It is narrated from Umm al-Mu'minin Lady Aishah Siddiqah (RA) that she said:

When I would pass by the house of Allah's Messenger ﷺ, I would sing, and some of my companions would also sing with me. When the Messenger of Allah ﷺ would come home, the companions would go outside, and he would not sit with them; instead, he would sit with me.

4419

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی

ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم غزوہ تبوك یاغزوہ حنین سے واپس تشریف لا گئے

تو (آپ نے ملاحظہ فرمایا کر) حضرت عائشہ کے گھر کے (ایک گوشہ میں) محراب پر پڑھ

پڑا ہوا تھا (جس میں کحلوں نے اور گریال تھیں) جب ہوا چلی تو ہوا نے طاق کے پردہ کے ایک

کنارہ سے حضرت عائشہ کے کحلوں نے اور گریال کو طاہر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ

وسلم نے دریافت فرمایا عا نظر! کیا ہے؟ آپ نے کہا پیغمبری گزرا لیان میں اور آپ نے ان

گزریون کے درمیان ایک گھوڑا ایکجا جس کے دونوں پر لے کے پر ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ

و آلیہ و سلم نے پھر دریافت فرمايواہ کیا چیز ہے جس کو میں ان (گزریون) کے درمیان دکھر ہا

ہول؟ ام المومنین نے جواب دیا یہ گھوڑا ہے! آپ نے پھر دریافت فرمایا (کیا) گھوڑے کے

جس دورہوئے پین تو ام المومنین ﷺ نے جواب دیا کیا آپ پے نہیں سنا کر سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑے تھے جن کو پرتھے، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا کر (پسن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والرواحم نفس پرتے پیہان تک کرآپ کی کو نجلیون کو میں نے دیکھ لیا۔

(اس کی روایت البوداوونے کی ہے)-

ف: واضح ہو کر اس حد یثثریف میں گز پول کے کہیں کا ذکر ہے گز یال کپرے کی مورتیال ہوتی ہیں جن کوار کیال بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں پچول کا کہیل بہاوران میں پوری مورت نہیں ہوتی اس لیے ان پرتصور کا حکم نہیں اور طریقون کوان کا کہیلنا درست رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والرواحم کامل اخلاق تھا کرآپ پچول پرشفقت فرماتے اور کہیل کو دے ان کومتع نہ فرماتے ہیں وجہ ہے کرآپ نے حضرت عائشہ گز یال کہیں، ان کی تمجویل گز کیون کے آنے سے اور کہیں سے نہیں روكا۔ امام نووی رحمۃ اللہعلیہ فرمایاہے کر اس کہیل سے گز کیون کی تربیت ہوتی ہے۔ اس بارے میں ایک قول یہ کہ شاید کر گز پول کاقصہ تصویرول کے حرام ہونے سے پہلے کاہواور پحر جو تصویری حرام ہوگئی لتو وہ بھی حرام ہوگئی - (حاشیہ مشکاة)12

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلرواحم کا حضرت عائشہ سے خوش طبعی کا ایک واقعہ 22/4420 ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت سے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والرواحم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں (خوش طبعی کے طور پر) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والرواحم دورہ نے لگا کر تم دونوں میں کون آگے برہجا تاہے؟ ام المومنین فرماتی ہیں کر میں دورہ تے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والرواحم سے آگے نقل گئی۔ جب میرا بدن بجاری ہوگیا تو (دورہ سموقعہ پر) میں حضور کے ساتھ دورہ گائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والرواحم مجھے آگے نقل گئے اس پراپ نے (مجھے) فرمایا کہ پیاس دورہ کے بدلمیں ہے (جس میں تم مجھے آگے نقل کرنے تھیں)- (اس کی روایت البوداوونے کی ہے)-

کن چیزول میں مقابلہ جائزہے

ف : واضح ہوگراس حدیث شریف کی روشنی میں علامہ قاضی خان نے لکھاہے کہ جاڑچیزوں میں ایک دورسرے

سے مقابلہ کی اجازت ہے (1) اونٹ کی دورپر (2) گھوڑے کی دورپر (3) تیر اندازی میں اور (4) آدمیول کی آپس

میں دورلگانے پراوراس میں کی طرف شرط جائزہے چنانچہ قول کہ کاگرمیں تم سے سبقت لجاول تو مجھے اتنا لے گا

اوراگرت مجبہ پرسبقت لے لجاوتو تمہیں پچھینیس لے گا اگر دونول طرف سے شرط لگائی جائے تو حرام ہے، اس لے کہ یہ

جوہے، البتہ طرفین ایک تیر سے شخص کوثری کر لیساکی کہ کروا مجھہ پرسبقت کرے تو تجہ انتا لے گا اوراگرمیں

سبقت کرول تو مجھے انتا لے گا اوراگرتیسرا شخص سبقت کرے تو اتسے پچھینیس لے گا اس طرح کی شرط جائزہے اور

جو انعام لے گاوہحلال ہے۔

اس سلسہ میں قابل ذکر چیز یہہے کہ نذکورہ بالاشرط جواکی طرفہوجاتنبہ سے مراد یہہے کہ بیچیز درست

ہے نہیکہ کیطر فشرط تسے وبدلا کا مستحق ہوجاتاہے اسی طرح بعض امراء کسی دو شخصوں کے بارے میں قول کہتے کہتم

دونول میں جو مجھی سبقت کرے اسکوانتا لے گا نذکورہ بالاچیزوں میں مقابلہ کی اجازت اس لیے جائزہے کہ اس کا ذکر

آثاراورروایاتول میں موجود ہے - (پیرقات سے ماخوذہ )12-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حضرت عاشرہ خاطرداری کا ایک اورواقعہ

ام المؤمنین حضرت عاشرہ ضی اللہ تعالی علیہا سے روایت ہے وهفرماتی ہیں

اللہ کی فتنہ ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کودیکھاہے کہ آپ پیمبرے مجھرے کے دروازہ

پر کھڑے ہیں اور حبشی مسیح (کے صحن ) میں چچولی برچچیوں سے کھیل رہے ہیں (یعنی جنگی کرتب

وکحارہ ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ محہ پرانی چادر مبارک سے پردہ فرمابرے تھا کہ میں اک

کھیل کوآپ پکے کان اورمونڈ ہے پرتے دیکھون پھرآپ پیمبری خاطر کہرے رہے یہاں تک کہ

میں خورد (اکتا کروبال سے ) بہت غیظ - (حضرت عاشرہ فرماتی ہیں ) اس سے تم اندازہ کروکہ کم

عمارت کی جو کھیل کودی شائق ہووہ کتنی دریتک کہری رہی ہوگی (اورحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیمبری

خاطر آخرتک کہرے رہے ) -

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

ف : واقع ہو کہ عورتوں کا جھپی مردون کو پیناس بارے میں تفصیل بجث اس کتاب کے حدیث نمبر 37 کے

فاصلہ میں زرچکی سے ملاحظہ کرنے جائے۔12

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر حضور کا ختم

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) returned from the expedition of Tabuk or Hunayn, and there was a curtain in her alcove. A wind blew, lifting a corner of the curtain, revealing Aishah’s dolls. He said, “What is this, O Aishah?” She said, “My dolls.” He saw among them a horse with wings made of cloth and said, “What is this in their midst?” She said, “A horse.” He said, “What is this on it?” She said, “Wings.” He said, “A horse with wings?” She said, “Have you not heard that Sulayman had horses with wings?” She said: He laughed until I saw his molars. Narrated by Abu Dawud.

It is clear that in this hadith, there is mention of dolls. Dolls are made of cloth and women get married to them. However, in the case of dolls, their complete form is not present, which is why the ruling of images does not apply to them, and the prohibition of making dolls has been relaxed. Besides, Lady Aisha (RA) was young, and the Prophet (peace be upon him and his family) showed perfect character by being cautious about dolls and did not provide them to her. The reason is that he did not want to prevent Lady Aisha from playing with dolls, as it would have stopped her from enjoying them. Imam Nawawi (may Allah have mercy on him) said that through these dolls, girls are trained. One opinion is that perhaps the story of playing with dolls predates the prohibition of images, and when images became prohibited, they too became prohibited - (Hashiya Mishkat)12.

An incident of the Prophet's (peace be upon him and his family) good humor with Lady Aisha (RA) is narrated: Lady Aisha (RA) reported that she was traveling with the Prophet (peace be upon him and his family) and he said, 'Let’s see who can run faster between us.' Lady Aisha (RA) said, 'I ran ahead of the Prophet (peace be upon him and his family).' When I became heavier, I ran with the Prophet (peace be upon him and his family), and he ran ahead of me. Then he said, 'The race is for thirst' (meaning he wanted to run ahead again) - (This is narrated by Al-Bukhari and Muslim).

In what competitions is it permissible?

It is clear from this noble hadith that Imam Qadi Khan wrote that it is permissible to compete in various activities: (1) camel racing, (2) horse racing, (3) archery, and (4) human races. In these, it is permissible to make a condition. For example, if you say, 'If you win, I will give you this much, and if I win, you will give me this much,' it is permissible. If conditions are set on both sides, it is forbidden, because it involves gambling. However, if one person makes a condition, such as, 'If you win, you will take this much, and if I win, I will take this much, and if a third person wins, they will take this much,' it is permissible, and taking the prize is lawful.

A notable point in this context is that the conditions mentioned above are valid only if the prize is not due to the condition itself but rather as a result of the competition. Similarly, some rulers would say about two people, 'Whoever wins will take the prize.' The permission for these competitions is based on their mention in traditions and reports - (extracted from the Quran)12.

Another incident of the Prophet's (peace be upon him and his family) consideration for Lady Aisha (RA):

Lady Aisha (RA) narrated: 'Allah's trial! I saw the noble Prophet (peace be upon him and his family) standing at my door while the Abyssinians were playing with spears in the mosque (i.e., performing martial arts) and the Prophet (peace be upon him and his family) was covering himself with his blessed old cloak so that I could watch the game. He remained there until I was satisfied, and I was very angry (due to some distress). From this, you can understand how long a young girl who is fond of games can remain engrossed (and the Prophet (peace be upon him and his family) remained there out of consideration for me until the end) - (This is narrated by Bukhari and Muslim).

Regarding the details of women hiding from men, refer to the explanation of hadith number 37 in this book.12

The conclusion of the discussion about Lady Aisha (RA).

4422

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) مجھ سے فرمایا کرجب تم مجھ سے خوش ہوتی ہوتونگھا اس كا علم

هو جاتا ه اوڑ(ای طرح) جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی هوتب مجھ سمجھ معلوم هو جاتا ه مين

عرض كيا كر(يارسواللہ علیہ وسلم ) آپ پیرس پچان لئٹ بن؟ آپ پیرنجواب دیا كرجب تم مجھ سے

خوش هوتي هوتو كرتى هواوراس طرح قسم كها تي هو محمد صلى الله عليه وسلم كر ربكي قسم يبات ايسى نمين

اورجب تم مجھ سے ناخوش هوتي هوواس طرح قسم كها تي هو ابراهميم علي السلام كر ربكي قسم يبات

ايسي نمين ه(پسنكر)مينكها(آپچفرماتي بن)خداكيقسم یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مین توصرف آپكانام، اي نمين ليتي (ليكيندل مين محبت باقي رستي ه)-

(اسکيروايت بخاري اورمسلم نعمتفق طور پركي ہ)-

ف : واقع ہوکراس حدیث شريف مين حضرت عائشة رضی اللہ عنہا كينا خشي كالوجزكرهاس سيگرباركى

معاملات مين دنيوي ناخشي مراد هيذكدنيناخشي جس سياميانميلخلل پيراهواورينا خشي سكونكى وجبرتيهيوقليجوعلرولن فطر يبات هيجز برثر يعتيمگرفتنمين-(مرقات12)

شوهرکيخلاف پيويكوارآقاكيخلاف غلامكو بهكانپروعيد

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “I know when you are pleased with me and when you are angry with me.” I said, “How do you know that?” He said, “When you are pleased with me, you say, ‘No, by the Lord of Muhammad,’ and when you are angry with me, you say, ‘No, by the Lord of Ibrahim.’” I said, “Yes, by Allah, O Messenger of Allah, I only forsake your name.” Agreed upon.

4423

-ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت، وهفرماتېيلكررسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ني ارشادفرماياهكهجوخصكسكيبويكواسكيشوهركيخلافاورسكى

غلام کو اس کے آقا کے خلاف ورغلاے (اور بھٹکائے) وہ ہمارا نہیں ہے۔ (یعنی ہمارے طریقے پر چلنے والانہیں)۔

(اس کی روایت البوداوونے کی ہے)-

پیوی پرفرشتوں کی لعنہ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کیا سبب ہے

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said:

Whoever misguides his master or causes him to go astray is not one of us. (Meaning, only those who follow our way are with us.)

4424

البہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وال وسلم نے ارشادفرمايے کہ جب کوئی آدمی اپنی پیوی کو (صحبت کے لیے اپنے) بستر پر بلاتے اور وہ (کسی شرعی عذر کے بغیر) انکار کرتے اور شوہرات (اس پر) غصہ میں گزردے تو اس (عورت) پرفرشتنے کی لعنہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a man calls his wife to his bed and she refuses, and he spends the night angry with her, the angels curse her until morning.” Agreed upon. In another narration: “By the One in Whose Hand is my soul, no man calls his wife to her bed, and she refuses him, except that the One in the heavens is displeased with her until he is pleased with her.”

4425

اور بخاری و مسلم نے کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وال وسلم نے ارشادفرمايے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو کوئی شخص اپنی پیوی کو (صحبت کیلئے) اپنے بستر پر بلاتے ہیں اور وہ انکار کرتی رہتے تو وہ ذات عالی جو آسمان میں ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس (عورت) پر ناراض رہتے ہیں یہاں تک کہ شوہر اس سے راضی ہوجاتے۔

پیوی کو شوہر کی حاجت فوراً پوری کرنے چاہیے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a man calls his wife to his bed and she refuses, and he spends the night angry with her, the angels curse her until morning.” Agreed upon. In another narration: “By the One in Whose Hand is my soul, no man calls his wife to her bed, and she refuses him, except that the One in the heavens is displeased with her until he is pleased with her.”

4426

طلق بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وال وسلم نے ارشادفرمايے کہ جب آدمی اپنی پیوی کو اپنی ضرورت (یعنی صحبت)

کسی بھی تواس کو فراغت حاضر ہونا چاہئے اگر چہ کہ وہ تنور پر (روٹی پکاری ہو) (جس کے خواہ کتنا ہی

ضروری کام کیون نہ کر رہی ہو)۔ (اس کی روایت قرآنی نہیں ہے)۔

حضرت صفوان کی پیوی کی حضور کی خدمت میں آپ نے شوہر کی شکایت

اور اس پر حضور کا فیصلہ

Talq ibn Ali (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a man calls his wife for his need, let her come to him, even if she is at the oven.” Narrated by Tirmidhi.

4427

الوسعی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں (اپنے شوہر کی شکایت کے لئے) حاضر ہوئی

اور تمہیں وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس عورت نے عرض کیا کہ میرے شوہر صفوان ابن

معطل میں جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں اور میں جب (نفل) روزہ رکھتی ہوں

تو افطار کر واپس ہیں۔ اور (خود) سورنگ نکلنے کے بعد نماز فجر پڑھتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ

(اس وقت اتفاقاً) صفوان بھی حاضر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے لیجنی صفوان

تے ان (کی پیوی کی شکایت کی) کے بارے میں دریافت کیا۔ تو صفوان نے جواب دیا۔ رسول اللہ

اس کا پیچھا کر جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتے ہیں (اس کی وجہ پیچھے کی) وہ (نفل

نماز میں) دو (طولی) سورتیں پڑھتی ہیں اور میں نے اس کواس سے منع کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں

کہ (پیش کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (سورہ فاتحہ کے بعد) ایک بیصورت

پڑھی جائے تو (تہا شخص ہو یا جماعت) سب کے لئے کافی ہو جائے گی۔ (ان کے شوہر صفوان

نے) کہا کہ اس کا پیچھا کر جب میں (نفل) روزہ رکھتی ہو تو وہ افطار کر واپس ہیں۔ اس کی وجہ یہ

کہ وہ مسلسل (نفل) روزہ رکھا کرتی ہیں اور میں جوان آدمی ہوں (چونکہ رات میں کچھ باقی یے

کا مون میں مشغول رہتا ہوں اس لیے دن میں پیوی سے محبت کرنے پر) صبر نہیں کر سکتا۔ (پیش

کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر کوئی عورت ( اپنے شوہر کی موجودگی میں ) اس کی اجازت کے بغیر ( نفل ) روزہ نہ رکھا کرتے اب رہاس کاپی کہنا کر میں سورن نکلنے کے بعد ( نجر کی ) نماز پڑھتاہول اس کی وجہ یہ کہ تم ( کچھ باطی کے ) لوگ پین اور پیچھے معروف ہے ( کہ تم رات بھر پانی سینچے ہیں ) جس کی وجہ سے سورن نکلنے کے اطمینان سکتے ( پین کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صفو ان جب تم نیندے ہو تو نماز پڑھ لیا کرو ( اداہو یاقضاء )۔

اس کی روایت البوداووداورابن ماجہ نے کی ہے )۔ کسی کی طرف ججوٹ منسوب کرنے کی نذمت

Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) while we were with him and said, “My husband, Safwan ibn al-Mu‘attal, strikes me when I pray, makes me break my fast when I fast, and does not pray the dawn prayer until the sun rises.” Safwan was present, and he was asked about what she said. He said, “O Messenger of Allah, as for her saying, ‘He strikes me when I pray,’ she recites two surahs, and I forbade her.” The Prophet (ﷺ) said, “If one surah were sufficient, it would suffice the people.” As for her saying, “He makes me break my fast,” she starts fasting, and I am a young man and cannot be patient. The Messenger of Allah (ﷺ) said that day: “No woman should fast except with her husband’s permission.” As for her saying, “I do not pray until the sun rises,” we are a household known for this; we hardly wake up until the sun rises. He said, “When you wake up, O Safwan, pray.” Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah.

(1) The statement: “We hardly wake up until the sun rises”: Literally or figuratively, meaning close to sunrise. He said, “When you wake up, O Safwan, pray,” meaning perform or make up the prayer. According to us, Ash-Shafi‘i used this to permit making up missed prayers during prohibited times. I say: Without considering our explanation, it is not necessary to pray immediately upon waking. The most it indicates is that waking is the cause for the obligation to make up, so if he wakes during a prohibited time and delays until it passes, he acts on both this Hadith and the Hadith prohibiting prayer during forbidden times, as in Al-Marqah and Umdat al-Qari.

4428

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میری ایک سوکن ہے اگر میں ( اسے ساتھ ) ہٹاہرکروں کہ میرے خاوند نے مجھے پیچھے دی ہے حالانکہ اس نے نہیں دی ہے تو کیا میرے لیے گناہ کی بات ہوگی - ( پیسن کر ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہٹاہرکروں والا اس چیز کا جس کو وہ نہیں ملی ہے، اس کی مثل اس شخص کی ہے جو ججوٹ اور فریب کے دو پہر پینے ہو ( لیجن مکارا ور دھو کے باز ہے )۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

عورت کو جنت میں داخل کرنے والے اعمال

It is narrated from Aishah, the daughter of Abu Bakr (RA), that

a woman said: 'O Messenger of Allah ﷺ, I have a female slave. If I take her away, my relatives have given her to me, although they have not actually given her to me. Will there be sin upon me?' The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever takes something that has not been given to him is like one who drinks from the cup of deceit and fraud.' This hadith has been narrated by Bukhari and Muslim on agreed-upon authority.

4429

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت پاچھوں وقت کی نماز پڑھتی رہتی ہو اور رمضان

کے روزے رکھتے ہواورا پنی شر مگاہ کی حفاظت کرتے رہی ہواورا پن خاوندکی اطاعت کرتے رہے تو وہ جنت کے جس دروازہ سے چاپہ داخل ہو جاے۔ (اس کی روایت ابوہیم نے حليم میں کی ہے )۔ شوہر کی رضا مندی پیوی کے جنت میں داخل کا سبب

Anas narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a woman prays her five prayers, fasts her month, guards her chastity, and obeys her husband, let her enter Paradise from whichever gate she wishes.” Narrated by Abu Nu‘aym in Al-Hilyah.

4430

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ جو کوئی عورت اس حال میں انتقال کرے کراس کا شوہراس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ (اس کی روایت ترنذی نے کی ہے )۔

بہترین عورت کے صفات

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Any woman who dies while her husband is pleased with her will enter Paradise.” Narrated by Tirmidhi.

4431

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عورتوں میں کوئی عورت بہتر ہے؟ آپ نے ارشاد فرما یا کہ وہ عورت (بہتر ہے ) کہ جب خاونداس کودیکھتے تو وہ اس کو خوش کر دے اور شوہراس کو ی کام کا حکم دے تو وہ اس کو جلا دے اورا پنی جان میں اوراس کے مال میں جو شوہر کی ناراضگی کا سبب ہو خلاف نہ کرے۔

(اس کی روایت نسائی نے اورہیم نے شعب الایمان میں کی ہے -12)

پیوی کے لیے اللہ کے بعد اطاعت میں شوہر کا درجہ ہے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: It was said to the Messenger of Allah (ﷺ), “Which women are the best?” He said, “The one who pleases him when he looks at her, obeys him when he commands, and does not oppose him in herself or his wealth in a way he dislikes.” Narrated by An-Nasa’i and Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman.

4432

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یہ کہ اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا ) کسی اور کے آگے سجدہ کر نے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ اس کی روایت ترنذی نے کی ہے۔

پھر اس پے شوہر کو اور ایک انسان دوسروں انسان کو زندگی میں

اور دمر نے کے بعد قبر کو جدہ کرے

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If I were to command anyone to prostrate to another, I would command the woman to prostrate to her husband.” Narrated by Tirmidhi.

4433

قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنا سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ

میں (جب) حیرہ (جو کوفہ کے قریب ایک قدیم شہر تھا) آیاتو وبال کے لوگوں کو دیکھا کہ اپنے

سردار کو جدہ کرتے ہیں۔ (پردیکھ کراپنے دل میں ) میں نے کہا کہ حقیقت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ

علیہ والہ وسلم اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو جدہ کیا جائے۔ پھر میں (جب مدینہ منتقل ہوگیا تو)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں شہر حیرہ

گیا تھا تو و بال کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو جدہ کرتے ہیں حالاکہ آپ زیادہ حقدار ہیں کہ

آپ کو جدہ کیا جائے۔ (اس لیے کہ آپ مخلوق ہیں سب سے زیادہ برزگ اور موجودات میں سب

تے زیادہ معزز ہیں پیس کر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تا کہ (میرے انقال کے بعد) اگر تم میری قبر

پر سے گزر تو کیا میری قبر کو (یا صحاب قبر کو) سجدہ کروگے تو میں نے عرض کیا کہ نہیں (میں سجدہ نہیں

کروں گا) آپ نے فرمایا کہ تم (میری زندگی میں اور میرے بعد میری قبر کو) سجدہ نہ کرو (پھر آپ

نے فرمایا) کہ اگر کسی کو جدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر دول کو جدہ کریں

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا حق عورتوں پر زیادہ رکھا ہے۔

اس کی روایت ابوداوڈ نے کی ہے۔

Qays ibn Sa‘d (may Allah be pleased with him) narrated: I went to Al-Hirah and saw them prostrating to their governor. I said, “The Messenger of Allah is more deserving of prostration.” I came to the Prophet (ﷺ) and said, “I went to Al-Hirah and saw them prostrating to their governor, and you are more deserving of our prostration.” He said, “Would you prostrate to my grave if you passed by it?” I said, “No.” He said, “Do not do it. If I were to command anyone to prostrate to another, I would command women to prostrate to their husbands due to the right Allah has given them over them.” Narrated by Abu Dawud, and Ahmad narrated it from Mu‘adh ibn Jabal.

4434

اورامام احمد نے اس کی روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔

شوہر اگر بیوی کو سخت ترتیں کا مکمل حکم دے تو وہ اس کو جلالا ٹے

Imam Ahmad narrated it from Mu'adh bin Jabal (RA).

If a husband gives his wife the complete command of severe hardship, then he should not do so.

4435

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

تعالی علیوالہوسلم مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت میں تشریف فرامائے ایک اونٹ آیااورآپ کو

سجدہ کیا آپ کے صحابے نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو چوپاگے اور رخت سجدہ

کرتے ہیں تو ہم زیادہ حقزار ہیں کہ آپ کو بڑہ کریں۔(پسن کر) آپ نے فرمایا کہ (سجدہ عبادت

ہے) تو تم اپنے رب (اللہ) کی عبادت کرواور اپنے (مسلمان) بھائی کی تعظیم کرواور اگر میں کسی کو سی

کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کر وہ اپنے شوہر کو سجدہ کیا کرے۔(اور شوہر کا تنا بر طا

مرتبہ ہے کہ) اگر وہ بیوی کو حکم دے کہ وہ زرد پہاری سے پتھر سیاہ پہاری پر لے جائے اور (پہر) سیاہ پہاری

سے سفید پہاری کی طرف (ليجانے) تو اس کو چاپی کراس کا حکم جلا لے۔(اس کی روایت امام احمد نے

کی ہے۔)

پیوی اگراپنے شوہر کو ستا لے تو جنت میں حور اس کو بڑے عادی ہے

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was among a group of Muhajirun and Ansar when a camel came and prostrated to him. His companions said, “O Messenger of Allah, the beasts and trees prostrate to you, so we are more deserving to prostrate to you.” He said, “Worship your Lord and honor your brother. If I were to command anyone to prostrate to another, I would command the woman to prostrate to her husband. Even if he ordered her to move from a yellow mountain to a black mountain, and from a black mountain to a white mountain, it would be incumbent upon her to do so.” Narrated by Ahmad.

4436

معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ

تعالی علیہ والہوسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر

کو نیا مین تکلیف دیتی ہے تو (جنہ کی) برطی آگے ہون والی حورول میں سے وہ حور جؤاس کی پیوی

بن گی کہتی ہے اللہ تبارک کرے (تو اے مت ستا) وہ تو تیرے پاس (چند دن کے لے)

مہمان ہے اوروہ بہت جلد تچہ چجوڑ کر (جنہ میں) جمارے پاس آئے والا ہے۔(اس سے معلوم

ہوا کہ نیا والو کے اعمال سے ملاءعلی واقف رہتے ہیں)-

اس حدیث کی روایت تنزہی اور ابن ماجہ نے کی ہے-

وہ تین آدمی جس کی نماز قبول نہیں ہوتی

Mu‘adh (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): “No woman harms her husband in this world but that his wife from the Houris says, ‘Do not harm him, may Allah fight you. He is only a guest with you and will soon leave you for us.’” Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. Tirmidhi said: This is a strange Hadith.

4437

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی

علیہ السلام نے ارشاد فرمایا بے کرتین آدی ایے پی جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی

گی (آسان پر) جائے ہے-(1) جہا کا هواغلام یہاں تک کہوہاپچآقاول کی طرف آجا گاور

ان کے ہاتھوں میں اپنا پاتھو دیے (لیعن ان کا فرامبردار بن جا یے)(2) وہ عورت جس پراس

کا شوہرناراض ہو(3) نشم باز؛ یہاں تک کہوہ اپچ نشرے ہوش میں آ یے (اور توہب کر لے)-

(اس کی روایت تہقیق نے شعب الایمان میں کی ہے)-

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Three whose prayers are not accepted, and whose good deeds do not ascend: a runaway slave until he returns to his master and places his hand in theirs, a woman whose husband is displeased with her, and a drunkard until he sobers.” Narrated by Al-Bayhaqi in Shu‘ab al-Iman.