درختوں اور کھیتوں میں بٹانی کا بیان
ف : مساقات پیہ کا ایک شخص اپنے درختوں کو دوسرے کے حوالہ کردے تاکروہ ان کی پرورش کرے، جب
پھل نکلنے والے تو اس کو جس ایک حصہ ان پھلوں میں سے ملے اور مزارعہ پیہ کر زمین ایک کی ہووہ دوسرے کے حوالہ
کردے ہو اس میں محنت کرے، بل پھلا گے اور پھل بوئے اور جو پھل پیدا ہو اس میں سے ایک حصہ زمین کا لکیوں
اور ایک حصہ کاشت کار کو پیوے اس زمانے میں اس کو بٹانی کہتے ہیں۔
The description of botany in trees and fields
In the region of Masaqat, a person may entrust his trees to another to tend them, and when the fruit is about to ripen, he receives a share of the fruits. Similarly, if a farmer entrusts his land to another to cultivate it, and the latter works on it, sowing seeds and growing crops, then the produce is divided such that one part goes to the owner of the land and another part to the cultivator. In this era, this arrangement is called 'batai'.
حضرت علي كا ابلي خبرت ب اني ر معامل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ابل خبرتے اس بات پر معاملہ فرمایا کہ وہ پھل یا کچھ کا آدھا حصہ دیا کریں اس کی روایت
بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔
dealt with a camel on the condition that it would give half of its produce, whether dates or something else.
حضرت علیؓ نے ابل خبرتے اس بات پر معاملہ فرمايا کہ کچھ کی پیداوار پر آدھا حصہ دیا کریں۔
اور تحاوی کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ اس طرح مرودی ہے کہ
الفصارا ور مہاجرین میں بٹانی کا معاملہ
the issue of Bataan among the Muhajirun and Ansar is as follows:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ الفصار نے تی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے اور ہمارے (مہاجرین) بجا ٹیول کے درمیان کھجور کے
درخت تقسیم فرما دیئے (یعنی کر) حضرت علی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ مناسب نہیں۔
انہوں (یعنی الفصار) نے عرض کیا تو پھر آپ حضرات یعنی مہاجرین محنت میں ہمارا ساتھ دیں اور ہم
آپ حضرات کو پھلوں میں شریک کریں گے تو انہوں نے عرض کیا تم کو (آپ کا فیصلہ) منتظر
ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
حضرت عمر کا اعلیٰ بیمن سے بثانی کا معاہدہ
Al-Fazar presented his case to the Noble Messenger of Allah ﷺ, saying, 'There are date palm trees between us and our Muhajirin neighbors; could you divide them?' The Messenger of Allah ﷺ replied, 'No, that would not be appropriate.' Al-Fazar then said, 'Then, will you join us in the labor, and we will share the fruits with you?' The Messenger of Allah ﷺ responded, 'We will wait for your decision.' This has been narrated by Bukhari. This pertains to the treaty of Bathan with Umar (RA).
عمر بن عبد العزیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے یعنی بن منبہ کو بیمن روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اعلیٰ بیمن کوارض بیضاء بیجن بھجر زمین اس شرط پر دیئیں کہ آگر بیل (یعنی کچھ میں کام آنے والے جانور) اور چا اور لوہا (یعنی کچھ کے اوزار) حضرت عمر کی طرف سے ہون تو حضرت عمر کو (پیروار کی) دو تہائی اور اعلیٰ بیمن کو ایک تہائی (پیروار کے لگی) اور آگر بیل، چا اور کچھ کے اوزاران (اعلیٰ بیمن) کی طرف سے ہون تو حضرت عمر کو (یعنی حکومت کے بیت المال) کو (پیروار کا) آدھا حصہ اور اعلیٰ بیمن کو آدھا حصہ ملے گا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یعنی بن منبہ کو یہی حکم دیا کہ وہ اعلیٰ بیمن کو مجور کے درخت اور انگور کے باغات جیسے شرط پر دیئیں کہ حضرت عمر کو (ثمرہ کا) دو تہائی حصہ اور اعلیٰ بیمن کو ایک تہائی ملے گا۔
اس کی روایت امام طحاوی نے لکھا ہے۔ کہار صحابہ اور کبارتا بیعن کابثانی کے ساتھ زراعت کرنا قیس بن مسلم رحمۃ اللہ علیہ ابو جعفر یعنی امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے مهاجرین میں سے یعنی بعض پیروار کی تہائی پر یا پوٹھائی پر حسب معابہ پر زراعت کیا کرتے تھے چنانچہ حضرت علی حضرت سعد بن مالک، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عمر بن عبد العزیر، حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت عروہ بن الزبیراور حضرت عمر اور حضرت علی کے ساتھ زادے اور حضرت ابن سیرین (اس طرح بثانی پر) زراعت کیا کرتے تھا اور عبد الرحمٰن ابن اللاسود نے کہا کہ میں عبد الرحمٰن بن زید کے ساتھ زراعت میں شریک رہتا تھا اور
Umar ibn Abdul-Aziz narrated that Umar ibn Al-Khattab sent Ya‘la ibn Umayyah to Yemen, ordering him to give them white land: if cattle, seed, and tools are from Umar, he gets two-thirds, they one-third; if from them, Umar gets half, they half. He ordered giving them palms and vines, with Umar taking two-thirds, they one-third. [Narrated by As-Sahawi]. [From Al-Marqah].
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے (بھائی کا) معاملہ سے طریقہ کیا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کی طرف سے نہ جہول تو حضرت عمر کو (پیادوار کا) آواز حصر لگا اور اگر نہ لوگوں کی طرف سے
جو لتو ان لوگوں کو (حسب معاملہ تھانی پیچو تھانی) لے گا -
ف : درخت ار مین کہاہے کہ بھائی کی حسب ذیل تین صورتیں جائز ہیں :-
(1) زمین اور نج ایک کے جول اور جانورا و رمحنت دوسروں کی ہو -
(2) زمین ایک کی اور جانور، نج اور محنت دوسروں کی ہو -
(3) یا محنت ایک کی اور زمین، نج اور جانور دوسروں کے ہول -
مجھول بھائی کے معاملہ سے ممانعت
Regarding the matter of partnership, if I do not reject it from my side, then the voice of the pedestrian will reach me, and if I do not take from the people, I will deal with them according to the situation. - It is said in the book: Regarding the matter of partnership, the following three forms are permissible: (1) The land and capital belong to one person, and the animals and labor belong to another. (2) The land belongs to one person, and the animals, capital, and labor belong to another. (3) Or the labor belongs to one person, and the land, capital, and animals belong to another. - Objection to the matter of partnership.
خطاہ بن قس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،
حضرت رافع نے کہا مجھے میرے دو پچاؤں نےخبر دی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنی زمین اس شرط پر دوسروں کو کرایہ پر دیتے تھے کہ پانی کی نالیوں پر جو پیاز
پیادا ہوگی (وہ ما کہ زمین کی ہوگی اور باقی پیاداوار کرایہ پر لینے والے کی ہوگی) یاما کہ زمین کسی
قطعہ زمین کو (بھائی کے لے) اگ کروا (اس طرح سے کہ زمین کے اس طرف سے پر جو پیاداوار
ہوگی وہ ما کہ زمین کی ہوگی اور فلانی طرف سے پر جو پیادا ہوگا وہ کرایہ دار کا ہوگا) حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے تم کو ایسی بھائی (کے معاملہ) سے منع فرما (اس وجہ سے کہ اس میں یا ند یشہ ہے کہ
ایک کی زمین میں پیاداوار ہواور دوسروں کے حصہ میں پڑا نہ ہوتا یہ مجھول معاملہ ہوا جو محکر سے
اور فساد کا موجب ہوسکتا ہے) راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت رافع سے دریافت کیا کر اگر بھائی کا
معاملہ ور حرم اور دینار کے بدلے میں ہوتا کیا پیداست ہے؟ تو حضرت رافع نے جواب دیا س میں
کوئی حرمت نہیں تو جس معاملہ سے رواگیا ہے وہ ایسا معاملہ ہے کہ حلال اور حرام میں تمیز رکھ
و اس لے اگر اس میں غور کریں تو خطرہ اور اندیشہ ہے (اور جس بھالی میں خطرہ نہ ہو وہ جائزہ ہے)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔
دوسری حدیث
Hanzalah ibn Qays narrated from Rafi‘ ibn Khadij that his uncles said they leased land in the Prophet’s (ﷺ) time for what grows on the channels or what the owner stipulates. The Prophet (ﷺ) forbade this. I asked Rafi‘, “What about dirhams and dinars?” He said, “No harm in that.” The prohibition was for what the knowledgeable in halal and haram would not permit due to risk. [Agreed upon].
(1) “What grows on the channels…”: They leased land for the worker to sow, with channel crops as rent, or a specific plot’s yield for the lessor, the rest for the lessee. This was forbidden due to risk, the basis for prohibition by those allowing muzara‘ah. [From Al-Luma‘at].
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انہم (انصار)
مدینہ منورہ میں زیادہ کھیت کرتے تھے اور انہم میں سے بعض اپنی زمین کو کرائے پر (اس شرط سے) دیا
کرتے کر زمین کے اس طرف سے کی پیداوار نہیں ملتی اور اس طرف سے کی پیداوار تہماری ہوگی اور اکثر
ایسا ہوا کرتا کہ زمین کے ایک طرف سے میں کہیتی ہوتی اور دوسرا طرف سے میں نہ ہوتی (اس میں ایک
شخص کو تو پورا لجا تا اور دوسرا کو پچھے چھوٹی نہیں ملتا اس خطرہ اور اندیشہ کے پیش نظر) رسول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے (ایسے معاملے) ان لوگوں کو منع فرمادیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔
زمین کو کہیتی کے لئے بلا معاوضہ دینے کی فضیلت
Rafi‘ ibn Khadij narrated: We were the most farming people in Medina. One would lease his land, saying, “This plot is mine, this yours,” but sometimes one yielded and the other did not. The Prophet (ﷺ) forbade this. [Agreed upon].
(2) “Sometimes one yielded…”: Rafi‘ explains the prohibition due to risk, where one plot yields and another does not, benefiting one party fully while the other loses entirely. [From Al-Marqah].
عمر وبن رینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت
طاوس سے کہا کیا اچھا ہوتا کہ آپ مخابرہ لیجن بھالی کے معاملے کو چھوڑ دیتے کیونکہ ابل علم حضرات
کہتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاملے سے منع فرمايے، تو (پیس کر) طاوس نے عمر وبن
وینار سے کہا میں لوگوں کو زمین (بھالی پر) دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں اور (بدینہ کے) سب
تے برے علم لیجن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھالی سے)
نہیں منع فرمایے بلکہ پیون فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھالی کو (کہیتی کرتے نے کے لئے زمین
بطور) عطیہ دے پیہترہ اس بات سے کرو اس (زمین پر) مقصد کے پچھے معاوضہ لے۔ اس
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف : واضح ہو کر شاہ عبد احق محدث دبلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اشتعالمعات میں فرمایے کہ خابر ہیے کر ایک
چیز کے معاوضے میں دوسری چیز لی جائے۔ لیکن ما کہ زمین اپنی زمین کو پچھنقدی لے کر کراپ پردے۔ اس میں انہیثم
پیہ کر اگر بارش نہو یا کچھ کسی وجہ سے خراب ہوجائے تو کراپ دار کا سراسر نقصان ہو جاتا ہے اور پیچیر بعض وقت
جگڑے اور فساکا سب بن جاتی ہے اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے معاملے میں فرمايے۔ اس کے
برخلاف بلغیر معاوضے کے اگر اپنے بجاپی کوز میں دے دی جائے تو ایا حسان کی بات ہے اور بہتر ہے۔
جہاد چھوڑ کر صرف کچھ باری میں مشغول ہو جانے کی وعید
Amr narrated: I said to Tawus, “Abandon mukhabarah, as they claim the Prophet (ﷺ) forbade it.” He said, “O Amr, I give and enrich them. The most knowledgeable, Ibn Abbas, told me the Prophet (ﷺ) did not forbid it but said, ‘For one to grant his brother is better than taking a known rent.’” [Agreed upon].
(3) “Better than a known rent…”: Due to the risk of drought or crop failure, losing the payment. At-Tahawi explains the prohibition via Zaid ibn Thabit: “May Allah forgive Rafi‘ ibn Khadij. I was more knowledgeable of the hadith. Two Ansar men fought and came to the Prophet (ﷺ), who said, ‘If this is your state, do not lease farms.’” Zaid said the Prophet’s (ﷺ) prohibition was not for unlawfulness but to avoid conflict. Ibn Abbas clarified it was for leniency, not prohibition. [From Al-Marqah and Umdat Al-Qari].
ابوا مامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بل اور کچھ کے آلات
وکیے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما کرتے تھے کہ یہ
چیزیں جس کسی کے گھر میں داخل ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس گھر میں ذلت داخل کرو یے ہیں۔ اس کی
روایت بخاری نے کی ہے۔
ف : حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر میں ذلت داخل کرتے ہیں جس گھر میں کچھ کے آلات
داخل ہوتے ہیں لیکن جو قوم جہاد چھوڑ دیتی ہے اور کچھ باری میں مشغول ہوجاتی ہے تو وہ ذیل اور خوار ہوجاتی ہیں کہ
حاکم ان کو حصول کے واسطے پکڑتا ہے اور ذیل کرتا ہے۔ حدیث شریف میں اس بات کا ارشاد ہے کہ مسلمان جہاد کو
چھوڑنے اور دنیا کے میں مشغول ہونے کے بعد وہ ذیل و خوار ہونے گے اور کافر غالب ہو جائیں گے جس کے اس
زمے میں ہور ہے۔
صاحب مرقات نے کہا ہے کہ حدیث شریف میں زراعت کرنے کی جو عید وارد ہے وہ ایسی قوم سے متعلق
ہے جس کی سرحد میں دشمن سے قریب ہیں اور وہ صرف کچھ باری میں مشغول رہتے ہیں اور جہاد کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس
صورت میں دشمن ان پر غالب آ جاتے گا اور وہ ذیل و خوار ہونے گے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وجہ
سے کچھ صرف زراعت میں مشغول ہو جانے کی وعید ارشاد فرمائی تا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کچھ باری میں گھر ون کی تمہیر
میں مشغول ہو کر جہاد کچھ چیزیں جس کے نتیجہ میں کفار غالب ہو جائیں اس سے برہ کر مسلمان کے لئے اور کیا زلت
ہو سکتی ہے، ورنہ زراعت تو مستحب ہے اس لئے کہ زراعت کرنے میں انسانوں کا نفع ہے۔
حضرت علیؓ کے زمانے میں بثانی کا ایک معاملہ
Abu Umamah narrated: He saw a plow and farming tools and said, “I heard the Prophet (ﷺ) say, ‘This does not enter a people’s house except that Allah brings humiliation.’” [Narrated by Bukhari].
(1) “Brings humiliation…”: Some scholars say this implies farming causes humiliation, but it is recommended for its benefit. It was said to prevent Companions from farming and neglecting jihad, risking defeat. Alternatively, it applies near enemies, where farming over jihad leads to humiliation. [From Al-Marqah].
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت بث کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں چار حضرات نے (کچھ میں) شرکت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ مجھ میرے ہول گے دوسروں نے کہا کہ محنت میری ہوگی تیرے لئے کہا ز میں میری طرف سے ہوگی اور چوتھے نے کہا کچھ کے آلات میرے ہول گے (اس طرح) سب نے زراعت شروع کی اور (کچھ کے تیار ہونے پراس کو) کتا پھر سب حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور تمام تفصیل سنائی) تو آپ نے پیداوار کو مجھ وا لے کوریا اور محنت کرنے والے کے لئے اجرت مقرر فرمائی اور جس نے آلات دیے تھے اس کے لئے روزآں داکی در حم مقرر فرمایا (چونکہ زمین غضب کی ہوئی تھی اس لئے) زمین والے کے حصر کو باطل کردیا۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے جس کی سنہ جدید ہے اور حضرت مجہد نے اس کو مرسلاً روایت کیا ہے اور حضرت مجہد کی مرسل روايتیں جمہور حدیثین کے پاس مقبول ہیں۔
Mujahid narrated: Four men partnered in the Prophet’s (ﷺ) time. One said, “I provide seed,” another, “labor,” another, “land,” and another, “tools.” They farmed, harvested, and came to the Prophet (ﷺ). He gave the crop to the seed provider, a known wage to the laborer, a dirham daily to the tool provider, and disregarded the land. [Narrated by At-Tahawi with a good chain, sent mursal by Mujahid, whose mursal narrations are accepted by most]. [From Al-Marqah].
(2) “Gave the crop to the seed provider…”: Abu Hanifah and others cite this, as the Prophet (ﷺ) invalidated this muzara‘ah and gave the crop to the seed provider, not the landowner. Ahmad says the crop is for the landowner, with the seed provider getting his seed, citing Rafi‘ ibn Khadij. Others say the crop is for the seed provider, with the landowner getting rent from the day of usurpation to clearance. Al-Khattabi said Rafi‘’s hadith is weak, narrated only by Sharik from Abu Ishaq, who did not hear from Rafi‘. Bukhari weakened it, noting Sharik’s errors. If sound, it may mean the crop is unlawful for the usurper as punishment or that it is not his due to usurpation. [From At-Tayyibi and Badhl Al-Majhud].