Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْإِحْصَارِ وَ فَوْتِ الْحَجِّ

Being Prevented (Ihsar) and Missing Hajj
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

(اس باب میں حرم کے جا عمرہ تو روک دیتے جانے پر جو پابندیاں اس پر عائد ہوتی ہیں ان کا بیان ہے اور کسی وجہ سے حج کے وقت ہونے پر جومساکل پیدا ہونے یہ ان کا بھی بیان ہے)

احصار کی تعریف اور اس کے احکام

ف: واضح ہو کہ احصار کا مطلب یہ ہے کہ حرم کو ج کے احرام کے بعد وقوف عرف اور طواف زیارة جوار کان ج پین دونوں سے ایک ساتھ روک دیا جانے اور اگر حرم نے عمرہ کا احرام باندھا تو اس کو طواف سے روک دیا جانے اور ج کا احرام باندھنے کے بعد اگر حرم کو وقوف عرف اور طواف زیارة میں سے کسی ایک رکن کی ادائیگی سے روک دیا جانے تو احصار نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اگر حرم کو صرف وقوف عرف سے روک دیا گیا تو وہ اس شخص کی طرح ہو جائے گا جس کا رج فوت ہو گیا ہوا اور وہ ایسی صورت میں طواف زیارت کے بعد احرام کھول دے گا اور اگر اس نے وقوف عرف کر لیا تو اور طواف زیارت سے روک دیا گیا تو وقوف عرف کی وجہ سے اس کا رج تو ہو گیا اور وہ طواف زیارت ادا کرنے تک احرام نہیں کھول سکتا اور اگر وقوف عرف کے بعد حرم کو روک دیا گیا۔ پھر اس کے ایام تشریق گزر گئے اور اس نے ان ایام کے مناسک ادا نہ کے ہوئے تو اس پر وقوف مزدلف کے زٹک کرنے پر ایک (1) قربانی ری جمار کے نزک کرنے پر ایک (1) قربانی اور حلق اور طواف زیارت کی تاخیر پر ایک قربانی امام عظیم رحمۃ اللہ کے پاس لازم ہو گی۔ اور حرم کی وثمن کے ذریعے ایک قربانی کی وجہ سے روک دیا جانے تو اگر اس نے صرف ج کا احرام باندھا تھا اصرف عمرہ کا احرام باندھا تھا تو وہ کہ مخطہ کو ایک قربانی ادا کی قیمت بھی کر دی اگل قربانی خریدی جانے اور وہی ذنہ کر دی جانے اور اگر اس نے قر ان کی نیت سے احرام باندھا تو احصار کی صورت میں وقوقربانیال روانہ کرنے اور قربانیوال کے ذنہ ہونے تک وہ احرام نہیں کھول سکتا

بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ ایسی صورت میں قربانیوں کو مذہب میں ذبح کرے کی تاریخ اور وقت مقرر کروے، اس لیے کہ اس کا احرام کولنا قربانیوں کے ذبح پر موافق ہے۔ اس لیے اس کو قربانیوں کے ذبح کا وقت معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ پیا احرام کو ذبح کے بعد کول سک اور ایسے شخص پر آتشدہ سال فوت شدہ نے ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر احصاری صورت میں اپنے اندازہ کے مطابق احرام کول دیا اور بعد میں اس کو علم ہوا کہ قربانیان احرام کول کے بعد ذبح کی گئی تو اس پر جنايت میں ایک اور قربانی ضروری ہوگی، اس طرح اگر قربانیان حدود حرم کی بجائے حلیمی حرم کے باہر ذبح کروی گئی تو جسی اس کو جنايت میں ایک اور قربانی ادا کرنی پڑے گی۔ یہ مضمون شرح نقائے ماخوز

ہے۔12

In this chapter, the restrictions that apply when one is prevented from performing Umrah after entering the state of Ihram, and the complications that arise if such issues occur during Hajj, are explained.

Definition and Rulings of Ihṣār

It is clear that Ihṣār means being prevented from both performing the prescribed Tawaf and Sa‘y at the Sacred Mosque after entering the state of Ihram. If someone enters the state of Ihram for Umrah and is then prevented from performing Tawaf, it is considered Ihṣār. However, if after entering the state of Ihram, one is prevented from performing either the Wuqūf at ‘Arafat or Tawaf and Sa‘y, it does not constitute Ihṣār. This is because if one is only prevented from performing the Wuqūf at ‘Arafat, they will be in a situation similar to someone whose Hajj has been invalidated, and they can remove their Ihram after performing Tawaf and Sa‘y. If they perform the Wuqūf at ‘Arafat but are then prevented from performing Tawaf and Sa‘y, their Hajj is valid due to the Wuqūf at ‘Arafat, but they cannot remove their Ihram until they complete Tawaf and Sa‘y. If they are prevented after performing the Wuqūf at ‘Arafat and the days of Tashriq pass without them completing the rituals, they must offer one sacrifice for missing the Wuqūf at Muzdalifah, one for missing the stoning of the Jamaraat, and one for delaying the shaving or cutting of hair and Tawaf al-Ziyarah, according to Imam Azam (RA).

If one is prevented by a vow from performing these rites, and if they had only entered the state of Ihram for Hajj or Umrah, they must pay the value of one sacrifice, which can be used to purchase and slaughter the animal. If they entered the state of Ihram with the intention of offering a sacrifice, they must continue to fulfill the obligation of the sacrifice and cannot remove their Ihram until the sacrifice is completed.

Rather, it is incumbent upon him to sacrifice the offerings in such a manner that the time and date are predetermined, so that his assumption of Ihram aligns with the sacrifice of the offerings. Therefore, it is necessary for him to know the time of the sacrifice so that he can assume Ihram after the sacrifice has been performed, and if he fails to do so, he must make up for the missed year by performing the obligatory sacrifice. If, in a state of uncertainty, he assumes Ihram based on his own estimation and later discovers that the offerings were sacrificed after he assumed Ihram, he will be required to offer an additional sacrifice as expiation. Similarly, if the offerings are sacrificed outside the sacred precincts instead of within the boundaries of the Haram, he will also be required to offer an additional sacrifice as expiation. This is the subject of the explanation of the chapter on purification.

This is the twelfth chapter.

وقول الله عز وجل واتموا الحج والعمره لله فان احصرتم فما استيسر من الهدي ولا تحلقوا رءوسكم حتي يبلغ الهدي محله اور الل تعالي كا ارشاد

(سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:196، میں)

نج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنوی کے لیے پورا پورا ادا کرو پھر اگر کسی دشمن کی جانب سے کسی پیاری کے سبب نج اور عمرہ کے پورا کرنے سے رک دیتے جاؤ تو (اس حالت میں بیکم ہے کہ قربانی کا جانور جو پیکھ میسر ہو ذبح کرے (اور احرام کول دے) اور اپنے سرول کواس وقت تک نہ منڈھا، جب تک کہ قربانی کا جانور اپنے مقام (جتنی حدود حرم میں) نہ پہوچ جائے (جتنی احصاری صورت میں یہ ضروری ہے کہ احرام اس وقت کول دیں جب کہ قربانی کا جانور حدود حرم میں پہوچ جائے۔ اور اس کی قربانی دیتے جائیے۔ اس کے بعد پیسر مونث ہاکر احرام کول دے۔12)

احصاری صورت میں حرم قربانی کا جانور ذبح ہونے کے بعد احرام کولے

Perform the rites of Ihram and Umrah in full for the sake of Allah’s pleasure. If you are prevented from completing them due to some beloved person by an enemy, then (in this situation, it is obligatory that if a sacrificial animal is available, it should be sacrificed (and the state of Ihram should be ended). One should not shave their head until the sacrificial animal has reached its place (within the boundaries of the sacred area). It is necessary to end the state of Ihram when the sacrificial animal reaches the boundaries of the sacred area, and the sacrifice should be performed. After that, if the sacrificial animal is male, the state of Ihram should be ended.

In the state of Ihram, the animal for sacrifice is slaughtered after the completion of the rituals.

3744

صلح حدیبیہ کے سال جب آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام کو عمرہ ادا کرنے سے رک دیا گیا تھا تو آپ نے حدود حرم میں قربانی ذبح فرمائی پھر سے منڈھ حا (اور احرام کول دیا) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہی اپنے کر نے کا حکم دیا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

Al-Miswar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) sacrificed before shaving his head and ordered his companions to do the same. [Narrated by Bukhari]

In another narration from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him), he equated being prevented by illness with being prevented by an enemy. He was asked about a man bitten by a snake during Umrah who couldn't proceed. Ibn Mas'ud said, "He should send a sacrifice, appoint a day for its slaughter, and once it is slaughtered, he may exit ihram. He must perform Umrah the following year."

احصار کی تعریف اور اس کی قضاے کا بیان
3745

اور (موطاء) امام محمد اور امام طحاوی کی ایک روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی

اللہ عنہ اس طرح مروی ہے کہ آپ نے یہاری کی وجہے (نگی عمرہ تے) رک جانے والے کو

ویسے قرار دیا جو دشمن کی وجہے (نگی عمرہ تے) روک دیاجاتے۔ پھر آپ تے ایک ایسے شخص

کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا پھراس کوسانپ نے کات ویا جس کی

وجہے وہ عمرہ کے لے نہ جاسکا تو حضرت ابن مسعود نے فرمایاوه (کہ معظّم) قربانی روان کرے اور

اپنے ساتھیولے اس دون کا وعدہ لے جس میں قربانی کے جانور کواس کی طرف سے ذبح کیا جائے تو

جب اس کی طرف سے وہ جانور زنگ کردیا جائے تو پیراحرام کول دے اوراس (فوتشدہ) عمرہ کے

بدلے میں اس کو ایک عمرہ (بطور قضاء کے) ادا کرنا ہوگا۔

عمرہ کا احرام باندھنے والا احصار کی صورت میں قربانی کے بعد حلق

یا قصر کے بغیر احرام کول سکتا ہے

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے "فَاذَا أَحْرَمْتُمْ" کہ عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد

احصار کی صورت میں ایسا شخص اس وقت احرام کول دے جب اس کی طرف سے حدودحرم میں قربانی

کا جانور زنگ کردیا جائے چونکہ یہاں حلق یا قصر کا ذکر نہیں ہے اس لے ایسے شخص پر واجب نہیں کر وہ

حلق یا قصر کرنے کے بعد، اپنا احرام کولے بلکہ وہ حلق یا قصر کے بغیر، احرام کول سکتا ہے جسیا کہ

امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ پہاپی میں ذکور ہے۔

دوسری حدیث

Al-Miswar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) sacrificed before shaving his head and ordered his companions to do the same. [Narrated by Bukhari]

In another narration from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him), he equated being prevented by illness with being prevented by an enemy. He was asked about a man bitten by a snake during Umrah who couldn't proceed. Ibn Mas'ud said, "He should send a sacrifice, appoint a day for its slaughter, and once it is slaughtered, he may exit ihram. He must perform Umrah the following year."

3746

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تم (حدیثیہ کے سال) رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عمرہ کے لے نکل (اورتم حدیبیہ کے پاس پڑاودا لے) تو کفار

قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو طواف کعبے سے رکے دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حدود حرم میں) اپنی اونٹیوں کو زنگ فرما اور پناہ سکھی منتہائے اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

احصار کے وقت اگر قربانی خارج حرم دی گئی تو قضاء کے وقت دوبارہ قربانی داخل حرم دینا چاہیے

It is narrated from Abdullah bin Umar (RA) that

in the year of the Treaty of Hudaybiyyah, we set out with the Messenger of Allah ﷺ for Umrah. When we reached near Hudaybiyyah, the disbelievers of Quraysh prevented the Messenger of Allah ﷺ and his Companions from performing Tawaf around the Ka'bah. So, the Messenger of Allah ﷺ called his camels to a halt within the boundaries of the sacred territory and took shelter. Bukhari has narrated this tradition. If the sacrifice was made outside the sacred territory during the time of confinement, then it should be repeated inside the sacred territory at the time of making up the missed rites.

3747

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ کے سال جب کفرار قریش نے عمرہ ادا کرنے سے رکے دیا تو خارج حرم اپنی اونٹیوں کو زنگ کروایا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ کو حکم دیا کہ ان جانوروں کے بدلا میں (جو خارج حرم ذبح کے گئے تھے) عمرہ القضاء کے موقع پر اور جانور ذبح کروائیں۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔

ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن حضرات کے پاس احصار کی وجہ سے قربانی دینا واجب ہے ان کا قول ہے کہ دم احصار حدود حرم میں دیا جائے اس وجہ سے عمرہ القضاء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے وقت جن صحابہ نے خارج حرم قربانی دی تھی ان کو بدلا میں داخل حرم قربانی دینے کا حکم دیا اور اس حدیث سے یہی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو صحابہ آپ کے قریب تھے انہوں نے داخل حرم قربانی دی تھی اس لے ان حضرات نے اس موقع پر کر قربانی نہیں دی اور یہی نہیب حقی ہے۔12 احصار کی صورت میں آ کندہ سال نے ا عمرہ کی قضاء واجب ہوگی

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) ordered his companions to replace the sacrifices they had made during the Treaty of Hudaybiyah when they performed the compensatory Umrah the following year. [Narrated by Abu Dawud]

3748

تجانج بن عمر و انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر (کس شخص کے نجی عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد) اس کا چیروٹ جائے یا نکڑا ہو جائے تو (اس کو چاہے کہ کہ معظّم ہدی روانہ کر کے قربانی کے بعد) احرام

کہول دے اور آتنده سال اس (عمره) کی قضاء واجب ہوگی - حضرت عکرم (راوی حدیث)

فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا تو

ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ جانبن عمر و انصاری نے تج روایت کی ہے۔ اس کی روایت ابوداود،

ترمزی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔

Al-Hajjaj bin Amr Al-Ansari (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Whoever breaks a bone or becomes lame may exit ihram but must perform Hajj the following year." Ikrimah said he asked Ibn Abbas and Abu Hurairah about this, and they confirmed its authenticity. [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah, and Ad-Darimi]

3749

اور ابوداود کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ کوئی شخص (احرام

باندھنے کے بعد) بماری کی وجہ سے یہی (نجی عمرہ سے) رک جانے تو اس کا بھی بیا حکم ہے (کروہ

حدی نہیں کر احرام کہول دے اور آتنده سال قضاء کرے) اور ترمزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن

ہے۔ اور دوسرا مخزجن نے کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

اور حاکم نے مستدرک میں اور ذہبی نے اپنی تلخیص میں کہا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری کی

شرائط کے مطابق حدیث ہے۔

احصار کے اسباب اور محصر حدی روانہ کے بغیر احرام نہیں کہول سکتا

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احصار لیجنی نجی عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد رک جانا،

وہ سنایی بماری یا عدم نفقہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور احصار کی صورت میں ضروری ہے کہ محصر کہ معظم کو قربانی

روانہ کرے کر وہ حدود حرم میں ذبح کی جائے اور جس شخص کے ذریعہ قربانی ذبحی جاری ہو، اس سے

قربانی کا وقت مقرر کر لے تا کہ اندازہ کے مطابق جب حرم میں قربانی دی جائے تو پیا احرام کہول سکے

اور آتنده سال اس نجی قضاء کرے اور اگر حدی کا روانہ کرنا ممکن نہ ہو تو وہ احرام نہیں کہول سکتا۔

اگر چہ کہ احرام میں رہنے کے اس پر کئی جنايات واجب ہو جائیں۔ یعنے فشنی سے ماخوذ ہے۔12

جہاں فوت ہو نے کی صورت میں عمرہ کر کے احرام کہول دے قربانی دینے

کی ضرورت نہیں

And in another narration by Abu Dawud, these additional words are found: 'If a person, after putting on the ihram, stops due to illness, then his ruling is also that he should not perform the hajj or umrah, but rather take off his ihram and make up for it in the coming year.' And Tirmidhi said that this hadith is hasan. And another Makhzumi said that this hadith is weak. And Hakim mentioned in his Mustadrak, and Dhahabi in his Talqin, that this hadith meets the conditions of Imam Bukhari. It is not permissible to enter into ihram without a sacrificial animal when one is in a state of istisqat (being held back). From this hadith, it is understood that being held back (istisqat) after putting on the ihram for a private umrah occurs due to illness or lack of funds. In the case of being held back, it is necessary for the person who is held back to send a sacrificial animal to be slaughtered within the boundaries of the Haram, and the person through whom the sacrifice is made should set a time for the sacrifice so that approximately when the sacrifice is performed in the Haram, he can take off his ihram and make up for it in the coming year. If it is not possible to send the sacrificial animal, then he should not enter into ihram, even though several sins may become obligatory upon him while in ihram. This is derived from the practice of the Prophet (ﷺ). In the case of death, if one performs umrah and takes off the ihram, there is no need to give a sacrifice.

3750

و سلم نے ارشاد فرمایے کہ جو شخص عرفات میں (کم از کم) رات میں (تحوّلی دیر کے لیے) نماز کے جائے تو اس کو نہ مل گیا (اگر چیک وقوف عرفہ کا وقت نویں زوال کے زوال سے لے کر دسویں زوال حج کی نہ جرتے پہلے تک ہے) اور جس کسی کورات میں بھی وقوف عرفات کا موقع نہ مل تو اس کا نہ فوت ہو گیا، تو اس کو چاہئے کہ (نہ کے بقیہ مناسک چھوڑ دے (اور صرف) عمرہ کے افعال ادا کرے (یعنی طواف اور سعی بین الصفا والمروة کے بعد سر مونظہوا کر) احرام کول دے اور (اس فوت شدہ نہ کی) آٹھہ سال قضاء کرے۔ (اور اس پر محصر کی طرح قربانی ادا کرنا واجب نہیں ہے)۔

اس کو دار قطع نہ اپنی سنن میں اور ابتدائی عدی نہ اکمل میں روایت کیا ہے۔

It is narrated from Salmah (RA) that he said:

Whoever goes to Arafat at night (for a brief stay) and does not find it (since the time for staying at Arafat is from the afternoon of the ninth day until the dawn of the tenth day of Dhu al-Hijjah), and whoever does not find the opportunity to stay at Arafat during the night, it is not lost for him. He should perform the rites of Umrah (i.e., circumambulate the Ka'bah and walk between Safa and Marwah, then shorten his hair) and exit Ihram, and make up for the missed day in the following eight years. (There is no obligation for him to offer a sacrifice as a penalty).

3751

اور امام محمد رحمۃ اللہ کی ایک روایت میں اسود بن یزید رحمۃ اللہ علیہ اس طرح مرودی ہے، اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جس شخص کا نہ فوت ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا وہ عمرہ ادا کرے احرام کول دے اور اس پر آٹھہ سال (فوت شدہ) نہ کی قضاء واجب ہوگی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کا ذکر نہیں فرمایا (یعنی نہ کے فوت ہو نے کی صورت میں حرم پر قربانی ویا واجب نہیں۔ جسیا کہ احصار کی صورت میں قربانی ویا واجب ہے) اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے یہی مستند حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو حضرت زید بن ثابت نے یہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیا۔ (چنانچہ ہداپی میں کہا ہے کہ جو نہ کا احرام باندھے اور اس سے وقوف عرفہ فوت ہو جائے تو اس کا نہ فوت ہو گیا، تو اس کو چاہئے کہ طواف کرے، سعی کرے اور احرام کول دے آٹھہ سال فوت شدہ نہ کی قضاء کرے اور اس پر قربانی ویا واجب نہیں ہے اور یہی نہ ہے حقی ہے)۔

In a narration from Imam Muhammad (may Allah have mercy on him), it is reported from Aswad bin Yazid (may Allah have mercy on him) that he said:

I asked the Commander of the Faithful, Umar bin Al-Khattab (RA), 'What should a person do if his intention (for Hajj) does not materialize?' He replied, 'He should perform Umrah, take off his Ihram, and make up for the missed year of the deceased. And Umar (RA) did not mention sacrifice (meaning that there is no obligation to offer a sacrifice in the Haram if the intention does not materialize, as is required in the case of being prevented by force). Aswad bin Yazid said, 'I asked Zayd bin Thabit (RA) about this, and he gave the same answer as Umar (RA). (As stated in the guidance: If someone puts on Ihram but does not reach Arafat, then his intention has not materialized, so he should perform Tawaf, Sa'i, and take off his Ihram, make up for the missed year of the deceased, and there is no obligation to offer a sacrifice, and this is the correct position.)'

احرام کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز نہیں
3752

سالم رحمۃ اللہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (احرام بند ہوتے وقت احرام کو) کسی شرط سے مشروط کرنا نا جائز ہے۔ اور یون فرماتے کہ یا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنن کافی نہیں کہ حضور احرام کو کسی شرط سے مشروط نہیں فرماتے تھے (اور پیغمبر شاد فرماتے کہ) کوئی چیز کو (احرام بند ہوتے کے بعد) نہ سے رک دے تو (احرام کو لے کا طریقہ پیہ کر) وہ کعبہ اللہ آجے، طواف کرے صفا اور مرودے کے درمیان سے کرے، سر موڑ کر ہاتھ یا بال کتر دالے پھر احرام کول دے اور آستندہ سال اس نچ کی قضاء کرے۔ اس کی روایت نساگی، دار قطعی نے کی ہے اور ترنذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ترنذی نے کہا کہ علم کی ایک جماعت نے نچ میں احرام کو مشروط کرنا درست قرار دیا دیا اور تابعین کی ایک جماعت اور امام ماک کی بھی بھی رائے ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا کہ نچ میں احرام بند ہوتے وقت کوئی شرط کا نادرست نہیں ہے۔

Salim reported from his father (Ibn Umar) that he disapproved of stipulating conditions in Hajj, saying, "Is the Sunnah of your Prophet not enough for you? He never stipulated. If something prevents you, go to the Kaaba, perform Tawaf and Sa'i, then shave or shorten your hair. You must perform Hajj the following year." [Narrated by Nasa'i and Ad-Daraqutni]

نچ کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ ہے

3753

عبد الرحمٰن بن مہر ویلی رحمۃ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیر شاد فرماتے سن کہ کچھ عرفہ (یعنی نچ کا سب سے بڑا رکن نویں ذوالحج کوزوالے سے لے کر دسویں کی نجر سے پہلے تک عرفات میں ظہر نامہ جوفرض ہے) تو جو کوئی مزدلفر بین دسویں ذوالحج کی رات عرفات (میں قیام) کو پالی تو گویا اس نے نچ کو پالیا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغمبر فرمایا کہ) منی میں (قیام کے) تین دن ہیں: (گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذوالحج)۔ تو جو کوئی (پہلے دو دن میں گیارہویں اور بارہویں کو) کنگریال مار کر روایت ہو نے میں عجلت کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور کوئی شخص تیرہویں تک ظہر کرتا خیر کرے (اور

تیرہویں کو کلکر یاں مارکر روانہ ہو) تو اس پر کچھ غناہ نہیں - اس کی روايت ترمندي، ابوداود، نسائي، ابن ماجرا ورداري نے کی ہے اور ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن تھی ہے -

Abdur-Rahman bin Ya'mar Ad-Daili reported that he heard the Prophet (ﷺ) say, "Hajj is Arafah. Whoever catches the night at Muzdalifah before dawn has caught Hajj. The days of Mina are three, but whoever hastens in two days, there is no sin, and whoever delays, there is no sin." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, Ibn Majah, and Ad-Daraqutni and Tirmidhi graded it Hasan Sahih]