Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ حَرَمِ مَكَّةَ - حَرَسَهَا اللہُ تَعَالٰی -

The Sanctity of Makkah
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

(اس باب میں حرم مکہ کی حرمت اور فضیلت کاپیانہ)

– اللہ تعالیٰ اس کو تمام آفتوں سے محفوظ رکھ –

وقول اللہ تعالیٰ: "وَمَنْ دَخَلَهُ گَانَ امنًا" اوراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ آل

عمران،پ:4،ع:10،آیت نمبر:97،میں) جو شخص کعبۃ اللہ کے حدود میں داخل ہو جائے وہ

(شرعاً) امن والا ہوجاتا ہے –

ف: واقع ہو کہ حدود حرم بیت اللہ شریف سے مشرق کی جانب چھ (6) میل،مغرب کی جانب

چونیس (24) میل،شمال کی جانب اتجارہ (18) میل اورجنوب کی جانب چونیس (24) میل ہے اس

لئے ان حدود میں جو شخص داخل ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ اوراس کو ان چیزوں

سے امن حاصل ہو جاتا ہے۔ ایک دوزخ کی آگ سے، دوسرا موؤزی امراض جیسے جذام اور برص

و غیرہ سے اور تیسرے دشمن کے خوف اور قتل و قصاص سے اور اگر کوئی قاتل حدود حرم میں پناہ لے تو

حدود حرم میں اس کا قصاص نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس کا کہنا پایا بندر کرو دیا جائے گا وہ مجبوڑ ہو کر حدود حرم

سے باہر آ جائے اور وہال قصاص لیا جائے۔ ای طرح حدود حرم میں جانوروں کا شکار بھی منع ہے –

تفسیرات احمدیہ

حدود حرم کی حرمت، آداب اور عظمت کا بیان

This chapter discusses the sanctity and virtues of the Holy Sanctuary of Makkah - may Allah Almighty preserve it from all calamities - and the statement of Allah Almighty: 'And whoever enters it is safe' [Surah Al-Imran, Chapter 3, Verse 97]. This means that whoever enters the boundaries of the Sacred Mosque becomes safe by law.

It is established that the boundaries of the Holy Sanctuary of the Ka‘bah extend six (6) miles to the east, twenty-four (24) miles to the west, eighteen (18) miles to the north, and twenty-four (24) miles to the south. Therefore, anyone who enters these boundaries comes under the protection of Allah Almighty and gains safety from several things: from the fire of Hell, from contagious diseases such as leprosy and smallpox, and from the fear of enemies and their persecution or retribution. If a murderer seeks refuge within the boundaries of the Holy Sanctuary, his punishment cannot be carried out within these boundaries; instead, he must be taken outside the boundaries of the Holy Sanctuary, where he will then face the prescribed punishment. Similarly, hunting animals within the boundaries of the Holy Sanctuary is also prohibited.

Ahmadiyya Tafsir

The sanctity, etiquette, and greatness of the boundaries of the Holy Sanctuary.

3754

1_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرما یا (چونکہ مکہ معظّمہ آج سے دارالاسلام بن گیا ہے۔ اور

قیامت تک دارالاسلام رہے گا۔ اس لئے یہاں سے تجرت (اب فرض نہیں) البتہ جہاد کی فرضیت

(قیامت تک) باقی رہے گی اور (ہرمل میں) اخلاص نیت (کی اهمیت، فضیلت اور ثواب) باقی رہے گی۔ اس لئے جب تم کو جہاد کے لئے بلا یاجا لے تو تم نقل پڑو، اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فتح کے دون پہلی ارشاد فرمائی کے اللہ تعالیٰ نے اس مبارک شہر کی حرمت کو آسانول اورز میں کی پیدا کش کے دون سے، ہی قائم فرمادیا ہے اور قیامت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس (مقدس سرزمین) کی حرمت قائم رہے گی اوراس کی اس شرعی حرمت کا حکم قیامت تک باقی رہے گا) اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وہمی فرمایا ہے کہ) اس سرز میں پر قبال کسی کے لئے مجھے پہلے (اور نہ میرے لئے) جائز کیا گیا اور نہیں جائز کیا ایک قبال میرے لئے کچھ اس میں گرا ایک سا عت کے لئے (یعنی فتح کے دون صرف ایک سا عت کے لئے جائز کیا گیا) پھر وہ سا عت (جس میں قبال کی اجازت میں تحقی اظہالی گئی اور) قیامت تک اس (میں قبال) کی حرمت علی حالہ باقی رہے گی (اور نہ کسی صورت میں منسوخ نہیں ہو گی، اس مقدس سرز میں کی حرمت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ) اس سرز میں کا کوئی خاردار جہاز بھی (اگر چہ کہ وہ ایزاء دے) نکالا جا لے اوراسی طرح حرم کے شکار کو نہ بھگا یا جا لے (اور نہ اس کا شکار کیا جا لے)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ اس کی لحاس نکالی جا لے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا گر اذخر کو مستثنیٰ کہا جا لے، اس لئے کہ وہ لوہارول کی ضرورت اور گرول میں استعمال کی چیز ہے تو آپ نے فرمایا بال اذخر کا لی جاسکتی ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس طرح سے کر اس کے درخت نہ کا لی جا سکیں۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said on the day Makkah was conquered:

"There is no Hijrah (migration) after the conquest, but there remains Jihad and sincere intention. And if you are called to fight, then respond."

He also said on the day of the conquest:

"This city was made sacred by Allah on the day He created the heavens and the earth. It remains sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Fighting was never permitted in it for anyone before me, nor was it permitted for me except for a brief period of a day. It is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Its thorns may not be cut, nor its game disturbed." [Agreed upon]

Ibn al-Mundhir said: "We have also reported from Umar, Ibn Abbas, Aisha, and Ibn al-Musayyib that the ruling regarding lost property in Makkah is the same as in other lands."

(Al-Hidayah) adds: "If one cuts wild plants or trees in the Haram that are not cultivated, they must pay compensation, except for dried trees, as they are no longer growing. Grazing is also prohibited except for idhkhir (a type of grass). The Shafi‘is permit grazing in the Haram, while Ahmad’s view aligns with ours. If it is argued that the prohibition applies only to cutting, not grazing, the response is that grazing (with teeth) is akin to cutting (with tools). The prohibition is general, so grazing is also forbidden unless one brings fodder from outside the Haram." This is mentioned in (Al-‘Inayah) and (Fath al-Qadir).

3755

اور اب الحمد ربن کہا ہے کہ تم کو حضرت عمر، حضرت ابن عباس، حضرت عاشہ اور حضرت ابن المسیب رضی اللہ عنہم سے یروایت پہو چی ہے کہ حرم مکہ کے لقطہ یعنی گری پڑی چیز کا حکم یہ ہے جو عام مقامات میں گری ہوتی چیز کا حکم ہے۔

دارالکفر سے دارالاسلام کی تجرت کا بیان

ف(1): واقع ہو کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمعظم سے مدینہ منورہ تجرت فرما نے کے بعد ہراس مسلمان پر جو تجرت کرسکتا تھا، کلمعظم سے مدینہ منورہ کو تجرت فرض ہی لیکن جب کلمعظم واقع ہوگیا تو اس تجرت کی فرضیت باقی نہیں رہی۔ البندیں کی حفاظت کے لے دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف تجرت کا حکم بیش کے لے باقی رہگیا۔ جسیا کہ حدیث ثریف کے اس ارشاد ‘ولكن جهاد وَنَّیَہ،’ سے واضح ہے۔

حرم کے درختوں اور خودرو جہاز پول کے احکام

ف(2): واقع ہو کہ حرم کے درخت دو طرح کے ہوتے ہیں اور ان کا حکم بھی مختلف ہے۔ پہلی فصیل ایسے درختوں کی ہے جن کوانسان بوتے اور لگاتے ہیں یا تو ہی عام انسانی ضرورت کے ہوگے یا عام ضرورت کے نہیں ہون لیکن انسان کے ہاتھوں لگائے گے ہوں تو ای تمام درختوں کے کاٹنے یا ان سے نفع اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ایسی صورت میں کوئی تاوان و پنا پڑتا ہے۔ حرم کے درختوں کی دوسری فصیل وہ ہے جن کو خودرو کچے ہیں، یا تو وہ کسی کے ملک میں ہون گے یا کسی کے ملک میں نہ ہو گے ہر دو صورتوں میں ایسے درختوں کا کاٹنا اکثر نااوران سے نفع اٹھانا منع ہے۔ اگر طی سے ایسا کر دیا جائے تو اس کا تاوان ادا کرنے پڑے گا اور ان کی قیمت نہیرات ادا کرنے پڑے گی۔ حرم کی جہانس کا بھی حکم ہے کہ جانوروں کو جی اے چراپانے جائے۔ البند ازخر نامی جہانس اس حکم سے مستثنیٰ ہے اس لے کر وہاں کے باشندوں کی عام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہیں اور اس طرح حرم کے ایسے درخت یہی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو خشک ہو گے ہوں، اور اب ان میں نمو باقی نہ ہوتا ہیں صورت میں ان سے نفع اٹھایا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ماخوذ از: ‘عنایا ورخ القدیر’۔ 12

حرم کے لقطے کے احکام

ف:(3) واقع ہو کہ حرم کے لقط کیسے کری پڑی چیز کا وہی حکم ہے۔ جوعام مقامات کا حکم ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ لقط کو اٹھانے کے بعد وہ اس پر ایک یا دو عادل گواہ بنائے، اس کونے چھپائے اور غائب کریں کرے، اور لقط کو وہی شخص اٹھائے جواس چیز کے اعلان کی زمداری ایک سال تک کے

چونکہ رج کے موقع پر لوگ مسافرت میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایسی زہرداری اٹھانے کے موقع میں نہیں ہوتے۔ اس لے حجان کو چاپے کروہ گری پڑی چیز ول کون اٹھا میں لقط کو اٹھانے والے شخص پر پیش دری ہے کروہ اس چیز کا اعلان جامع مسجد، میلون اور عام اجتماعات کے مقامات پر کرے۔ تاکہ اس چیز کا ما کو وقف ہو، اور شان و عی کر کے اس چیز کو حاصل کر لے۔ اور اگر مال کے اٹھانے والے نے ایک سال تک اعلان کیا اور ما کو کا پہی نہ چلا تو اس کا حکم یہ ہے کہ لقط اٹھانے والا اگر غنی ہے تو اس مال سے استفادہ نہ کرے بلکہ اس کو خیرات کر دے۔ اور اگر بے دین ما کو آجا ہے تو اس کی قیمت ادا کر دے۔ اور اگر لقط کا اٹھانے والا مات ج ہے تو مدت گذر نے کے بعد اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ اور استعمال کے بعد ما کو آجا ہے تو اس محتاج پر لوٹ نے کی یا قیمت ادا کرنے کی زہرداری نہیں۔

حرم میں گم شدہ چیز کا حکم

It is narrated from 'Umar, Ibn 'Abbas, 'A'ishah, and Ibn al-Musayyib (RA) that

the ruling regarding a lost item in the Sacred Mosque of Makkah is the same as the ruling for a lost item in general places.

The permissibility of trade from Dar al-Kufr to Dar al-Islam

(1): It is established that after the great migration from Makkah to Madinah al-Munawwarah by the Noble Prophet ﷺ, it became obligatory for Muslims who could engage in trade to do so between these two places. However, once the great migration was completed, this obligation ceased. The command to engage in trade from Dar al-Kufr to Dar al-Islam remained in place primarily for the protection of the community, as is evident from the noble hadith, 'But jihad is ongoing.'

The rulings regarding the trees and self-sown plants within the sacred precincts

(2): It is established that the trees within the sacred precincts fall into two categories, each with different rulings. The first category includes trees planted by humans, either for general human needs or for other purposes, even if they are not essential. There is no harm in cutting down these trees or benefiting from them, and no expiation is required in such cases. The second category includes self-sown trees, whether they are on someone's property or not. In both cases, cutting down these trees and benefiting from them is generally prohibited. If this is done intentionally, expiation must be paid, and their value must be compensated. The ruling for grazing animals within the sacred precincts is that animals can graze there. However, the plant known as azkharn (a type of thorny plant) is exempt from this ruling, allowing the local inhabitants to meet their general needs from it. Similarly, dried trees that have stopped growing are exempt from this ruling, and there is no harm in benefiting from them. [Source: 'Anaya wa Rukh al-Qadir', 12]

The rulings regarding lost items within the sacred precincts

(3): It is established that the ruling for lost items found within the sacred precincts is the same as that for lost items found in general areas. The details are as follows: After finding a lost item, one should appoint one or two just witnesses, hide and secure the item, and announce it for a period of one year. This is because during the Hajj season, people are often traveling and may not be present to claim their lost items. Therefore, it is incumbent upon the finder to announce the lost item at the Grand Mosque, markets, and other public gatherings so that the owner can become aware of it and reclaim it with dignity. If the finder has announced the item for a year and the owner does not come forward, the ruling is that if the finder is wealthy, they should not benefit from the item but should give it to charity. If the owner later appears, the finder must pay the value of the item. If the finder is poor, they may use the item after the waiting period, and if the owner later appears, the finder is not obligated to make restitution or pay the value.

فتح القدیر، بدایی، مرقات، بذل المجو و )12
3756

معاذؓ عدوی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے امام المومنین حضرت عمار رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے حرم میں کسی کی ایک گم شدہ چیز ملی ہے اور میں اس کا بر ابرا علان کرتی رہی ہوں لیکن اب تک مجھے اس کا ما کو نہیں ملا تو ام المومنین حضرت عمار رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم اس کو استعمال کر لو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

It is narrated from Mua'adh ibn Jabal (RA) and his companion (RA) that a woman presented her case to the Commander of the Faithful, 'Ammar (RA), saying:

I found a lost item in the Sacred Precinct, and I have been announcing it publicly, but I have not found its owner. So, the Mother of the Believers, 'Ammar (RA), said to her: You may use it. This narration is reported by Imam Tahawi.

3757

اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں ( کہ کہر مہ ) کی گھاس نہ اکھائی جائے۔ تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! "اذخر" ( جو ایک وسم کی گھاس ہے ) کی اجازت عطا فرمائیے، چونکہ وہ کناروں کے پاس اور گھرون میں کام آتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے کاٹنے کی اجازت ہے۔

Mu‘adhah al-‘Adawiyyah narrated that a woman asked Aisha (may Allah be pleased with her): "I found a lost item in the Haram and announced it but found no claimant." Aisha replied: "Use it for your needs." [Narrated by Tahawi]

In another narration: "Its greenery may not be uprooted." Al-Abbas said: "O Messenger of Allah, except idhkhir, for it is used by goldsmiths and for homes." The Prophet (ﷺ) said: "Except idhkhir."

In Abu Hurairah’s narration: "Its trees may not be cut."

3758

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: حضرور

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں "کلمہ" کا درجت نہ کیا جائے۔

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'The word should not be elevated here.'

حرم میں قتل اور قصاص جائز نہیں
3759

ابوشرتح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر و بن سعید (جو عبد الملک بن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لئے) کہ معظّم کو شکر بجا کرتا تھا (اوراس کا عمل کہ معظّم کی حرمت کے خلاف تھا اس موقع پر) حضرت ابوشرتح نے عمر و بن سعید سے فرمایا اے امیر! تم نے اجازت دو کہ میں تمہیں اس بارے میں ایک حدیث سناوں۔ جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ میں ارشاد فرمایا جس کومیرے ان کانول نے سناہے اوردل نے محفوظ رکھاہے اورمیری آنکھوں نے جودیکھاہے یہہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما نے کررہے ہوئے تو اللہ تعالی کی حمد و ثنائیں فرما تی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ کہ معظّم کو عظمت اور برزگی اللہ تعالی نے عطا فرما تی ہے اور لوگوں نے اس کو بی عظمت نہیں دی ہے۔ اس شخص کو جو اللہ تعالی پراورآ خرت کے دون پر ایمان رکتا ہو۔ پیچاڑز نہیں تمیہ اس میں (یعنی حدود حرم میں) خوزیزی کرے اور نہ اس کو پیچاڑزہے کر وہ حرم کے درختوں کو کا لے (اس کے بعد حضرت ابوشرتح رضی اللہ عنہ نے فرمایا) کہ فتح مکہ کے موقع پرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوقال فرمایا تھا اس کونظر بناء کر کوئی خود کو قتل کو جا نہزے کہ تو اس کا جواب ہے تمیہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کواس کی اجازت دی ہے اورتم کو اجازت نہیں دی ہے (چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ) اللہ تعالی نے مجھ کو آنج کے دون کی ایک ساعت میں رتنے کی اجازت دی اوراس کی عظمت و حرمت کو حسب وستور بحال کر دیا گیا یعنی آنج اس کی وہی حرمت سے جو کل تھی تو جو آنج یہاں اس وقت حاضر ہیں۔ الان پریلازم ہے کہ میرا یہ کہم ان کو پہوچیادیں جو یہاں حاضر نہیں۔

اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔

Abu Shurayh (may Allah be pleased with him) said to Amr ibn Sa‘id, who was sending troops to Makkah:

"O leader, let me tell you what the Messenger of Allah (ﷺ) said the day after the conquest, my ears heard it, my heart memorized it, and my eyes saw him speak. He praised Allah and said:

'Makkah was made sacred by Allah, not by people. It is not lawful for anyone who believes in Allah and the Last Day to shed blood or cut trees here. If anyone justifies fighting in it, say: Allah permitted His Messenger but not you. He only permitted me for a brief time, and its sanctity has returned as before. Let the witness inform the absent.'" [Narrated by Nasa’i]

The author of (Al-Madarik) mentioned that Umar (may Allah be pleased with him) said: "If I found the killer of Al-Khattab in the Haram, I would not touch him until he left."

3760

اور صاحب مدارک نے بیان کیا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھے حرم میں (میرے والد) خطاب کا قاتل مجھے مل جائے تو (قصاص میں قتل کرنا تو کچا) اس کو چھوونے کا مجھے نہیں، یہاں تک کہوہ حرم کے باہر تکل جائے۔

ف: (1) اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ شخص کو اللہ اور آخرت کے دونوں پر ایمان ہے اس کو جانتے نہیں کہ کہ معظّم میں خون پہاگے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس ارشاد نہوی سے استدلال فرمایا کہ شخص حرم کے باہر قتل کر کے حرم میں پناہ لے اس کو تل نکال جائے، جسیا کہ عمدہ القاری میں ذکور ہے۔ 12

ف (2): واضح ہو کہ فتح کے دونوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبال کی جوازت ملتی ہے خصوصیات نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہے جسیا کہ عمدہ القاری میں ذکور ہے۔ 12

حرم میں قصاص کب جائزہے؟

ف (3) واضح ہو کہ ضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرما کہ خطاب کا قاتل مجھے حرم میں مل جائے تو میں اس کو حرم سے باہر ہو نے تک نہیں چھوونگا۔ اس سے احنا ف نے استدلال کیا ہے جو شخص حرم کے باہر کسی کو قتل کر لے اور حرم میں وہ پناہ لے تو حرم میں اس کا قصاص جائز نہیں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس ایسے شخص کا قصاص حرم میں جائز ہے۔ البتہ جوشخص حرم میں کسی کو قتل کر دے تو اس کا قصاص حرم میں بالاتفاق سارے ائمہ کے پاس جائز ہے۔ (ماخوذ از: "تفسيرات احدیث")۔ 12

بلاضرورت حرم میں تہیار کے ساتھ داخل ہونا ممنوع ہے

It is narrated by the author of Madarik that the Commander of the Faithful, Umar (RA), said:

If I were to find the killer of my father in the Sacred Precinct, I would not touch him until he comes out of the Sacred Precinct to the open land.

3761

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا ہے کہ تم میں سے کسی کو پیجا تے نہیں کہ (بلاضرورت) مکہ معظّم میں تہیار باندھ کر داخل ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

I heard the Messenger of Allah ﷺ instructing us, 'Do not enter the Sacred Mosque in Makkah with a prepared intention unless it is for a necessary purpose.' This narration is reported by Muslim.

3762

اور بخاری کی ایک روایت میں براء رضی اللہ عنہ کے اس طرح مردو ہے وہ

فرما تے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (عمرۃ القضاء کے موقع پر) زوال قعدہ میں عمرہ ادا فرما یا (اور تہجیار کے ساتھ ) کہ معظّم میں داخل ہوئے کا ارادہ فرما یا تو ) ابل کہ نے اس طرح داخل ہے منع فرما یا پھر پی طہ وا کہ تہجیار کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں، مگر پی کہ تہجیار بندر ہیں - بغیر احرام کے میقات پرے گذرنا منع ہے

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

"It is not lawful for any of you to carry weapons in Makkah." [Narrated by Muslim]

In Bukhari’s narration from Al-Bara’: "The Prophet (ﷺ) performed ‘Umrah in Dhul-Qa‘dah, but the people of Makkah refused to let him enter until he agreed not to bring weapons except in sheaths."

3763

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جو شخص (پیرون میقات سے داخل حرم ہونا چاہے اوراس کی غرض نہ کی ہو، یا عمرہ کی یا تجارت کی یا سکونت کی ہر حال میں وہ میقات سے بغیر احرام کے نہ گزرے البتہ وہ لوگ جو اندر ون میقات سکونت رکھے ہول اس حکم سے مستثنی رہیں گے )۔ اس حدیث کی روایت ابن ابی شیبر اور طبرانی نے کی ہے۔ ف : واضح ہو کہ میقات پرے احرام کے ساتھ گزر نے کے تفصیلی احکام کتاب المناسک کی حدیث (3526) میں گزر پے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مردی ہے 12

جو کعبۃ اللہ کوتاہ کریں گے وہ خود تاہ ہوجائیں گے

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said:

"One may not pass the Miqat (boundary for Ihram) without entering Ihram." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Tabarani]

3764

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرما تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ (آخری زمانہ میں قیامت کے قریب ) ایک شگر کعبۃ اللہ پر چڑھا نی کریں گا (تا کہ اس کو ظہا دے ) جب وہ (اس ارادے سے ) ایک میدان میں جمع ہو ل گے تو ان (سب کو ) اول سے آخر تک زمین میں وضساویا جائے گا حضرت ام المؤمنین فرما تی ہیں کہ (پیس کر ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ ! اول سے آخر تک انکو کیے زمین میں وضساویا جائے گا جب کران میں پکھ تو بازار والے لوگ ہو ن گے اور بعض ایسے بھی ہو ل گے جو

(عقیدہ کے اعتبار سے) ان کے ہم خیال نہ ہوں گے آپ نے ارشاد فرماياس کے باوجود کہی ان

سب کو جواں لشکر کے ساتھ ہوں گے، زمین میں وضعاویا جا یے گا۔ البتہ (قیامت کے دن) ان کی

نیتوں کے مطابق ان کا حشر ہو گا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ نیکوں پر برول کے ساتھ درجنے سے دنیا میں عذاب

ہوتا ہے۔ لیکن آخرت میں جیسے نیت ہو گی ویا بدلے گی۔12

جب کعب ظحاویا جا یے گا تو قیامت قائم ہو جا یے گی

پہلی حدیث

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

"An army will march towards the Ka'ba. When they reach a desert plain, the first and last of them will be swallowed by the earth."

She said: "I asked: 'O Messenger of Allah, how will they all be swallowed when among them are their markets and people not of them?' He replied: 'They will all be swallowed, then resurrected according to their intentions.'" [Agreed upon]

3765

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایے کہ قیامت کے قریب جب کہ عبادت گزار بندے نہ رہیں گے تو ایک

(ضعیف الخلقت) حبشی آدمی جس کی چھوٹی اور پی پڑ لیاں ہوں گی کعبۃ اللہ شریف کو ظحاوی گا

(اس کے بعد،ی قیامت قائم ہو جا یے گی)۔

اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

دوسری حدیث

Abu Hurairah (RA) reported: He said,

The Messenger of Allah ﷺ said, 'Near the end of time, when there will be no worshippers left, a weak man from the Abyssinians, with short legs and flat feet, will desecrate the Sacred House of Allah. After this, the Hour will be established.' This hadith has been narrated by both Bukhari and Muslim.

3766

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم

نے (اس حبشی آدمی کے بارے میں جو قیامت کے قریب کعبہ ظحاوی گا) ارشاد فرمایا کر گویا میں اس

کو کیہا رہا ہوں گا وہ کا لے رگا کا ہوگا اور اس کے پیر کے پنچ چھوٹے اور سکترے ہوئے ہوں گے اور

ایسیاں پیلی ہوئی ہوں گی اور وہ کعبۃ اللہ شریف کے پنچر کو ایک ایک کر کے نکالتا ہو گا۔

اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

مسلمانوں کی تائی کا سبب حرم کی بھرتی ہوگی

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) who said:

"It is as if I see him now - a black man with bow legs removing its stones one by one." [Narrated by Bukhari]

3767

عیاش بن الی رضی اللہ عنہ روایت ہے و فرما تے ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا تے کہ یا ملت مسلمہ اس وقت تک بجلاتی پر رہے

گی جب تک وہ (کعبۃ اللہ شریف کی) حرم تاور یم پوری طرح کرتی رہے گی، جسیا کر اس کا حق

ہے۔اور پھر جب وہ اس کی تغظیم کو ضائع کر دے گی تو بلاکہ وجاتے گی۔اس کی روایت ابن ماجہ نے

کی ہے۔

ف: واخ ہو کر صدر کی پحدیث شریف کہی حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک روش معجزہ ہے

کہ مسلمان جب تک حریمن شریفین کی تغظیم کرتے رہے پوری دنیا پر غالب رہےاور پیزیدی کے پیلے

تک کا زمانہ ہے لیکن پیزیدی نے جب مدنہ پاک کی بھرتی کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مقام حرہ

میں (جو مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) قتل کیااورمسیح نبوی میں گھوڑے بنےحوائے جو

روضہ الطبر کے قریب لپید کرتے تھےاور عبد الملک بن مروان نے اپنے دوران حکومت میں جانج کے

باٹھون کہ معظم پر حملہ کروا یااورحضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کوشہمید کیا۔اس وقت سے آنج کے

تائیاور خول ریزی کا سلسلہ جاری ہے۔12

حرم میں چور بازاری کی وعید

Ayyash ibn Abi Rabi'ah al-Makhzumi (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

"This Ummah will remain in good as long as they honor this sanctity with its due honor. When they neglect that, they will be destroyed." [Narrated by Ibn Majah]

3768

علی بن امیر رضی اللہ عنہ روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا تے کہ حرم میں غلرو کے رکنا (تا کہ جب وہ کہ وجاتے تو گران نچ کر

زیادہ فاندہ اٹھا تیس) بری بہ دین اور جبروتی کی با ت ہے۔

اس کی روایت ابو داود نے کی ہے۔

ف: واخ ہو کر غلم کا احتکار جتنی غلرو کے رکنا کہ جب وہ کہ وجاتے تو اس کو گران نچ کر زیادہ

سے زیادہ فاندہ اٹھا تیس۔ہر مقام پر نے ہےاور کناہ کا کام ہے گر میں کناہ اور شریاس لے ہو جاتے ہے

کہ سورۃ نج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حرم میں کوئی بھی کام کرے تو وہ عذاب الیم کا مستو

جب ہو جائے۔ اس لئے حرم میں احتکار پرخت وعید ہے جو رمت وظیم حرم کے منافی ہے۔ 12

کہ معظّم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا بیان

Ya'la ibn Umayyah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

"Hoarding food in the Haram is a violation of its sanctity." [Narrated by Abu Dawud]

3769

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جب کہ آپ نے مکہ کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے جارہے تھے)

کہ معظّم سے خطاب کرتے ہوئے فرما یا: تو کتنا اچھا اور پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھ کس قدر عزیز

ہے! اگر میری قوم - یعنی قریش - مجھے یہاں سے نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار

نہیں کرتا۔

اس کی روایت ترن دی نے کی ہے۔

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Makkah:

"How good you are as a land and how beloved you are to me! Had my people not driven me out from you, I would not have lived anywhere else." [Narrated by Tirmidhi who said: This is a hasan sahih hadith with a rare chain]

Abdur-Razzaq reported in his Musannaf that Umar ibn al-Khattab would walk among the pilgrims after completing their rites with a whip, saying: "O people of Yemen, go back to Yemen! O people of Syria, go back to Syria! O people of Iraq, go back to Iraq! For this preserves the sanctity of your Lord's House in your hearts." The Companions would perform Hajj then return, perform Umrah then return, without settling there.

3770

اور عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا ہے کہ امیر المومنین

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مناسک کے پورے ہوجانے کے بعد حاجیوں میں درہ

لے ہوئے پھرتے اور ( مختلف مقامات میں ان حضرات سے ) پول فرما تے اے کیاں والو! تم

اپنے ملک کو پچلی جا؟ اے شام والو! تم ملک شام کو روانہ ہو جا؟ اور اے عراق والو! تم

اپنے ملک عراق کو واپس ہو جا؟ ( نج سے فراغت کے بعد تمہارا اپنا ملکوں کو روانہ ہو جانا )

تمہارے دولت میں کعبۃ اللہ تشریف کی عظمت کو باقی رکھنا کا سبب ہو گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ( دوسرے ملکوں سے کہ معظّم ) نج کے لئے تشریف لا تے اور پھر

واپس ہو جاتے اور ( درمیان سال میں پھر ) عمرہ کے لئے کہ معظّم آتے پھر یہاں سے واپس

ہو جاتے اور ( کہ معظّم ) میں ( مستقل ) سکونت ( اختیار نہیں کرتے تھے ) تاکہ اشتیاق باقی

رہے جو بقاء عظمت کا سبب ہے ) جسیا کسی شاعر کہا ہے:

جب تک لے نے تو جدائی کا تھا ملال

اب پی ملال ہے کر تنا نقل گئی

ف: واضح ہو کر صدر کی حدیث جس کی روایت ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر قریش کو معظّم سے نہیں نکالے ہوتے تو میں کو معظّم کے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔

اس بارے میں لباب اوراس کی تشریح میں علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے سارے شہروں میں کو معظّم اور مدینہ منورہ کو فضیلت حاصل ہے (اللہ تعالی ان دونوں پاک شہروں کی عظمت کو زائد فرماے) البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ ان دونوں شہروں میں افضیلت کس شہر کو حاصل ہے؟

ایک قول یہ ہے کہ کو معظّم افضل ہے اور پیغمبر اتم کا ذہب ہے، اور بعض صحابہ کرام سے بھی مردوں ہے اور صدر کی حدیث جس کی اس کی ویل ہے۔

دوسرے قول یہ ہے کہ مدینہ منورہ افضل ہے اور پیغمبر افضل اور بعض شافعی حضرات کا قول ہے اور بعض صحابہ کرام سے بھی متفق ہے اور غالبًا کہ معظّم پر مدینہ منورہ کی فضیلت آس زمانہ کی بات ہی جب حضرت بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پاک میں روز افرودز یا مہاجرین رضی اللہ عنہم کے لیے کو معظّم پر مدینہ منورہ کو فضیلت حاصل ہی۔

پیر دا ختار میں نذکور ہے۔

اب رہائی سوال کہ حرم کہ کہ یاحرم میں کی مجاورت یعنی یہاں سکونت کا اختیار کرنا تو اس بارے میں بعض شافعی حضرات کا قول یہ کہ مجاورت حرمين ایسی حضرات کے لیے مستحب ہے جن کواس بات کا پیغام ہو کہ پیغام قیام کے درمیان وہ کسی برائی کے مرتبہ نہیں ہول گے اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا پیغام یہی قول ہے البتہ امام ابوحنیفہ اور امام ما کہ رحمہما اللہ کا قول یہ کہ مجاورت حرمين مطلقاً کروہے پیر مختار میں نذکور ہے۔ اور دا ختار میں پیکھا ہے کہ امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس حرمين میں

سکونت اختیار کرنا اس لئے کروہے کہ مستقل سکونت سے قلت ادب اور بیزارگی کا اندرشراگارہتاہے۔

اوراسکے علاوہ حرم مبارک کے جولوازم میں اس کی پابجا می مستقل رہنے والے پردشوارہوجاتیہے۔

اسی لئے امام عظیم رحمۃ اللہعلیہ کے علاوہ امت کے خطاط علماء نے حرمین میں مستقل سکونت مطلقاً کروہ

قرار دیاہے، البتہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے جسیا کر او پر بیان کیاگیا۔ یہاں مستقل سکونت کو

مباح قرار دیاہے۔ چنانچہ اس پر لوگوں کا عمل بھی ہے اور علماء فارسی نے بیان کیاہے کراس بارے میں

فتوی صاحبین کے قول پرہے۔ ملتقطات سے ماخوذہے۔12

سرز میں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس محبوپ ترین سرز میں ہے

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Makkah:

"How good you are as a land and how beloved you are to me! Had my people not driven me out from you, I would not have lived anywhere else." [Narrated by Tirmidhi who said: This is a hasan sahih hadith with a rare chain]

Abdur-Razzaq reported in his Musannaf that Umar ibn al-Khattab would walk among the pilgrims after completing their rites with a whip, saying: "O people of Yemen, go back to Yemen! O people of Syria, go back to Syria! O people of Iraq, go back to Iraq! For this preserves the sanctity of your Lord's House in your hearts." The Companions would perform Hajj then return, perform Umrah then return, without settling there.

Regarding this, there is agreement among scholars in Lubb and its explanation that all cities of the world have excellence, but Makkah Mukarramah and Madinah Munawwarah have particular virtue (may Allah the Exalted increase the honor of these two sacred cities). However, there is a difference of opinion regarding which of these two cities has greater virtue.

One view is that Makkah Mukarramah is superior, and it is supported by the testimony of some noble Companions (RA) and a tradition narrated by Sadr, whose chain of transmission is strong.

Another view is that Madinah Munawwarah is superior, and it is supported by some Shafi'i scholars and some noble Companions (RA). It is likely that the virtue of Madinah over Makkah pertains to the time when the Blessed Prophet (SAW) resided in the pure city of Madinah, either during his stay or for the benefit of the Muhajirun (RA).

This is mentioned in Pir Dakhil.

Now, regarding the question of residing near the Haram or within the Haram, some Shafi'i scholars opine that residing near the two Holy Sanctuaries is recommended for those who are assured that they will not engage in any evil during their stay, and this is the view of Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad (RA). However, the view of Imam Abu Hanifah and Imam Malik (RA) is that residing near the two Holy Sanctuaries is absolutely disliked, as mentioned in Pir Mhtar.

It is also mentioned in Da Khatar that Imam al-Azam (RA) considered residing in the Holy Sanctuaries disliked because independent residence can lead to a decrease in good manners and disinterest. Additionally, living independently in the vicinity of the blessed Haram can lead to disrespect.

Therefore, apart from Imam al-Azam (RA), the scholars of the Ummah have declared independent residence in the Holy Sanctuaries absolutely disliked, although Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad (RA) have stated that independent residence is permissible, as mentioned in this context. People act upon this, and Persian scholars have stated that fatwas are based on the views of the companions.

This is derived from Al-Malat.

In summary, the most beloved of all deeds to Allah the Exalted is the performance of obligatory prayers.

حرمين کی فضیلت کا بیان
حرمين میں مستقل سکونت سے قلت ادب کا اختیال ہے
3771

عبد اللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فراماتے ہیں کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام جزورق، پر کٹرے ہوئے (کہ معظیم کی تعظیم میں) یہ

ارشاد فراماتے ہوئے سناہے آپ نے ارشاد فرما یا (اس سرز میں کعبہ) نے دا تو اللہ تعالیٰ کی زمینوں

میں مہترین اور اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ محبوپ سرز میں ہے اگر مجھے تیرے یہاں سے نکالا جاتا تو میں برگز نہ نکلتا۔

اس کی روایت تنزی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔

قبر شریف کی زمین فضیلت میں عرش سے بدہ کرتے ہیں

ف: اس حدیث شریف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کہ معظیم کی عظمت کے

بارے میں ارشاد ہے (اس سرز میں کعبہ) تو اللہ کے زمینوں میں سب سے مہتر سرز میں ہے، اس سے

واضح ہوتاہے کہ کہ معظیم کو مذہبی منزلہ فضیلت حاصل ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔ البتہ وہ بقعہ

مبارک لیجن قبر شریف کا وہ حصہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضاء مبارک سے مس کیا ہواہے کہ

معظیم بلکہ کعبہ اللہ شریف اور عرش سے بھی فضل ہے اور اسی پر سب کا اتفاق ہے۔ مرقات۔12

Abdullah ibn Adi ibn Hamra (may Allah be pleased with him) narrated:

"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing at Hazwara saying: 'By Allah, you are the best of Allah's earth and most beloved to Allah. Had I not been driven out from you, I would not have left.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]