Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْمُحْرِمُ يَجْتَنِبُ الصَّيْدَ

The Muhrim’s Avoidance of Game
Volume 5 · Rites of Pilgrimage

(اس باب میں حرم کو شکار کرنے کی ممانعت کاپیانے)

This chapter discusses the prohibition of hunting within the sacred precincts.

وقول الله عز وجل احل لكم صيد البحر وطعامه متاعا لكم وللسيار ه وحرم عليكم صيد البر ما ذمتم حرما اورالل تعالي كا ارشاد سور ما ند ع ايت نمبر مي تتم ار ل حالت احرام مي دريايي اني كا شكار ك نااور اس كا ك انا تتم ار اورمسافرون ك فايد ك ل حلال كيا يا تاك سفر مي اس كوتوش بنايي البته خشكي كا شكار تتم ار ل حرام كروايا يا جب تك ك تم حالت احرام مي ر و ف واضح و ك حرم ك ل حالت احرام مي ايس جانور كا شكار جو اني مي يدا وت و اور اني مي ر ت و جاتن ك بعد خشكي كا شكار كرنا حرم كيل حرام بالا ر كسي غيرمحرم ن شكار كيا و تو حرم اس كوايسي صورت مي ك اسكتا جب ك حرم ن غيرحرم كو شكار كرن مي كسي فضيلت كي مدويا اشار ن ي كيا و اورا ر حرم ن احرام بند ون ل شكار كيا يا كويي جانور زن كيا و تو اس كو جب ي احرام بند ون ك بعد ك اسكتا جب ي نذ ب حقي اورابو رير عطاء مجاحد اورسعيد بن جبير رضي الل عن م كا ب ي ي ي قول جسيا ك تفسيرات احمد مي نذكور

وقوله يا ايها الذين امنوا لا تقتلوا الصيد وانتم حرم ومن قتله منكم متعمدا فجزاء مثل ما قتل من النعم يحضر به ذوا عدل منكم هديا بلغ الكعبه او كفاره طعام مساكين او عدل ذلك صياما ليذوق وبال امره اورالل تعالي كا ارشاد سور ما ند ع ايت نمبر مي ا ايمان والو جب تي شكار كو قتل ن كرو جب ك تم حالت احرام مي و البته حرم محضريا سايب و كا طن والا كتنا اورو درنده جو حمل كر اس كو قتل كر سكتا ليكن حدود حرم مي مطلقا شكار منع خوا شكار كرن والا احرام كي حالت

میں ہو یا نہ ہو) پھر تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر کسی جانور کو قتل کرے گا تو اس پراس فعل کی پاداش

میں اس جانور کے قیمت کے مساوی جرمانہ عائد ہوگا جس کواس نے قتل کیا ہے۔ اس کا فیصلہ دومعتبر

شخص کریں گے جو (دینداری اور تجرہ میں) قابل اعتبار ہوں۔ پھر (اس تخمینے کے بعد اختیار سے کہ کس

خواہ اس قیمت کا کوئی جانور خرید لے جسے اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری خرید لے اور) ان کواللہ کے نام

پڑنے کے لئے کعبۃ اللہ شریف کو لٹھ دیا جائے یا (یہی اختیار سے کر اس تخمینہ قیمت کے برابر) غلہ

بطور کفارہ کے خرید کر مسا کیئن کودے دیا جائے (جسے صدقہ فطرہ مر مسکین کو دیا جاتا ہے) یا (یہی

جانزہ کے) اس قتل کی پاداش میں اس کے برابر روزہ رکے لے جائیں (اس کی صورت یہوگی کہ

مسکین کے حضرے برابر ایک روزہ رکھاجائے) تاکہ اپنے کے کی شامت کامزہ چکے۔ 12

محرم دومسرے کے شکار کیے ہوئے گوشت کو لحاصلتاہے

جب کہ شکار کرنے میں مدود کی ہو

Whether I am present or not, if any person among you intentionally kills an animal, the penalty for this act will be a fine equivalent to the value of the animal that was killed. This valuation will be determined by two reputable individuals who are trustworthy in matters of religion and trade. After this valuation, one may choose either to purchase an animal of equal value, such as a camel, cow, sheep, or goat, and have it sacrificed in the name of Allah at the Holy Kaaba, or one may choose to buy grain equivalent to the valuation and distribute it as alms to the poor (similar to the distribution of Zakat al-Fitr), or one may choose to fast for a number of days equivalent to the value of the fine (such that one fasts for each day corresponding to the value of the fine) so that one may atone for the sin. The meat of game hunted during the prohibited months is forbidden, even if the hunting itself was permissible.

3731

_ ابوقادہ رضی اللہ عنہ روایت سے کروہ (حدیثی کے سال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عمرہ کے لئے نکل (راستے میں قافلے سے) اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ چلے رہے

گئے جب ان کے ساتھی احرام باندھے ہوئے تھے اور پیاحرام میں نہ تھے، ان کے رفقاء نے (راستے

میں ایک گورخرد بیجا جب کہ ابوقادہ کی نظر اس پر نیس پڑی تھی (چون کہ وہ سب احرام کی حالت میں

تھے اس لئے) اس کو دیکھنے کے باوجود (اس کا شکار نہیں کیا اور) اس کو چھوڑ دیے لیکن ابوقادہ نے

جب اس گورخرد کو دیکھا تو (چونکہ وہ احرام میں نہ تھا اس لئے) اپنے گھوڑے پرسوار ہوئے اور (شکار

کے لئے) اپنے ساتھیوں سے اپنا چاکب مانگا (چون کہ پیلوگ احرام میں تھے اور محرم کو شکار کرنے

میں مدود کرنے چاہتے اس لئے انہوں نے) چاکب دینے سے انکار کر دیا۔ ابوقادہ خود (گھوڑے

سے اترے اور) اپنا چاکب لیا اور گورخر پر حملہ کیا اور اس کا شکار کر لیا اور (شکار کے گوشت کو) خود ہی

کہا ے اور ان کے (محرم) ساتھیوں نے بھی کہا، پھر (اس خیال سے کہ شاید محرم کو شکار کا گوشت بھی نہیں کھانا چاہے) پشیمان ہوئے۔ جب یہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہوچے تو حضور سے پیغمبری فتوی کیا (کہ کیا محرم دوسروں کے شکار کا گوشت کھا سکتا ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دینے کی جگہ جواز بتانے کے لئے ارشاد فرما کے کیا تمہارے پاس اس گوشت میں سے چھوٹی بقیہ ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس کی روان باقی ہے! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولیا اور اسے تناول فرما۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Qudamah (RA) that during the year of the pilgrimage, he set out with the Messenger of Allah ﷺ for the lesser pilgrimage (Umrah), accompanied by some of his companions. When his companions were in a state of Ihram but not yet in Mina, they passed by a place where a gazelle was grazing, and Abu Qudamah's gaze fell upon it. Despite seeing it, he did not hunt it and let it go. However, when Abu Qudamah saw the gazelle, since he was not in a state of Ihram, he mounted his horse and asked his companions for his bow (since they were in a state of Ihram and did not want to assist him in hunting, they refused to give him the bow). Abu Qudamah dismounted, took his bow, attacked the gazelle, and hunted it. He then cut up the meat, and his companions who were in a state of Ihram also partook of it, but later felt remorseful, thinking that perhaps a person in Ihram should not eat the meat of game hunted by others. When they reached the presence of the Messenger of Allah ﷺ, they sought his legal opinion on whether a person in Ihram can eat the meat of game hunted by others. The Messenger of Allah ﷺ, instead of giving a direct answer, asked if there was any small portion of the meat left. They replied that some of it remained. The Messenger of Allah ﷺ then took it and ate it.
3732

اور بخاری اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح نذور ہے کہ جب پی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے (وہ مسلم دریافت کیا) تو حضور نے استفسار فرما کر کیا تم میں سے کسی نے ابوقاذہ سے کہا تھا کہ وہ گورخر پرحمل کریں۔ یا پھر کسی نے ایک اشارہ سے شکار کو کہا یا تھا؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ تم میں سے کسی نے ایک نہیں کیا تو آپ نے ارشاد فرما تو (ایسی صورت میں تم احرام کے باوجود میں) اس کے باقی مانده گوشت کو کھالو۔

In another narration reported by Bukhari and Muslim, it is narrated that when the people came into the presence of the Prophet ﷺ, he inquired,

Have any of you told Abu Qadhama to mount a donkey, or did anyone gesture to the game with a signal? They replied, 'No one among us did that.' Then he said, 'In that case, eat the remaining meat, even though you are in a state of ihram.'

3733

اور مسلم اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (حضرور نے ان لوگوں سے دریافت فرما) کیا تم نے شکار کی طرف اشارہ کیا تھا یا شکار کرنے میں ان کی مدد کی تھی تو ان لوگوں نے جواب دیاہیں! تو آپ نے ارشاد فرما تم (شکار کے) گوشت کو کھالو!۔ محرم کا کیا ہوا شکار مطلقًا سب کے لئے حرام ہے۔

اِس شکار کا گوشت سب کے لئے حرام ہے۔

(2) اگر غیر حرم نے شکار کیا اور حرم کو بطور بدیاس کا گوشت دیا تو حرم اسیا گوشت کھا سکتا ہے۔

(3) حرم اِس شکار کا گوشت کھی کھا سکتا ہے جس کا شکار کی غیر حرم نے اس کے لئے کیا ہو گر

شرط یہ ہے کہ اس نے شکار کرنے میں کسی قسم کی اعانت نہیں دی ہو نے اشارہ کیا ہو، اور نہ شکار کا حکم دیا ہو۔

(ماخوذ از: لمعات -12)

غیر حرم کا شکار حرم کھا سکتا ہے

And in another narration from Muslim and Nasa'i, it is stated that (the Prophet ﷺ asked those people), 'Did you point towards the game or help in hunting it?' They replied, 'No!' Then he said to them, 'Eat the meat of the game!' He said, 'What about the sacred month? Hunting is absolutely forbidden for everyone during the sacred month.' The meat of this game is forbidden for everyone. If a non-sacred person hunts and gives the meat to a sacred person as a gift, the sacred person can eat the meat. A sacred person can eat the meat of game hunted by a non-sacred person if the non-sacred person did not assist in the hunt, did not point towards the game, and did not command the hunt.

ف: واضح ہو کہ محرم کا شکار کرنا یا شکار کر وانا یا شکار کو دھا نا یا شکار کرنے میں مدد کرنا یہ سب حرام ہے اور اگر ان نذور ہے چیزوں میں سے اس نے کوئی ایک کام کیا تو اس پر فریاد زم ہوگا۔ البتہ اس شکار کے گوشت کے کھانے کے بارے میں تفصیلات یہیں:

(1) اگر محرم اپنے لئے کوئی شکار کرے یا کوئی اور محرم اپنے لئے یا کسی اور کے لئے شکار کرے تو

3734

عبد الرحمٰن بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت طلہ بن

عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ حالت احرام میں تھے۔ آپ کے لئے پرنده کا (پکا ہوا) گوشت (غیر

حرم کی طرف سے) بطور بدیآ دیا گیا اس وقت حضرت طلہ آرام فرما رہے تھے تو انہیں میں نے کچھ

وہ گوشت کھا یا اور بعض رکے رہے۔ جب حضرت طلہ بیمار ہوئے تو آپ نے گوشت کھانے والوں

کی تائید کی اور پیچھی فرما یا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں)

ایسے یہ گوشت کھایا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔

ف : عبد القاری میں کہا ہے کہ حضرات عطا ء سعید بن جبیر اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرما یا ہے

کہ ایسا شکار جس کو غیر حرم نے کیا ہو، حرم کے لئے حلال ہے اور کہیں نہ کہیں ہی۔ 12

موڑی جانور ول کوہر مقام اور ہر حال ت میں بلاک کیا جا سکتا ہے

پہلی حدیث

Abdur-Rahman bin Uthman At-Taymi reported that while they were in ihram with Talhah bin Ubaidullah (may Allah be pleased with him), a bird was presented to them. Talhah was asleep, so some ate from it while others abstained. When Talhah woke up, he agreed with those who ate, saying, "We ate it with the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Muslim]

3735

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے

روایت کرتے ہیں کہ پاتھ ایسے جانور پر جن کو حدو د حرم میں حالت احرام میں مار دیا گیا ہو گیا۔

(وہی ہی)(1) چوبہ(2) کوا(3) چیل(4) چیو(5) کات کھانے والا کتّا۔

اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

دوسری حدیث

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he reported from the Noble Prophet ﷺ

that one may eat the meat of an animal that was killed by a hunting animal in the state of ihram within the boundaries of the Haram. These animals include: (1) the porcupine, (2) the hedgehog, (3) the lizard, (4) the chameleon, (5) the carnivorous dog. This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim.

3736

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرمائی جس کے حضور میں ارشاد فرمایا تھا کہ پانچ ایسے موڑی جانور جن کو جن کو (ہر حالت میں) بلاک کیا جاسکتا ہے۔ خواہ حدود حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں (خواہ مارتے والے احرام کی حالت میں ہوں یا بغیر احرام کے ہو) وہ جانوریں ہیں۔

(1) سانپ (2) چنگبراکوا (3) چوبا (4) کات کھانے والا کتااور (5) چیل۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

ف: واضح ہو کر خشکی کے شکار کی دو قسمیں ہیں:

(1) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔

(2) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ تو ایسے جانور جن کا گوشت حلال ہے حرم کوال کا شکار کرنا جائز نہیں ہے جیسے ہرن،خرگوش اور ایسے پرندے جوی جن کا گوشت حلال ہے ان کا شکار کی جائز نہیں۔ خواہ وہ خشکی پر رہنے والے ہو یا سمندر پر، اس لے تمام پرندول کا شکار خشکی کے جانورول میں ہوتا ہے اس لے کران کی پیراش خشکی پر ہونی ہے اور وہ صرف غذا کے لے ضرورہ سمندر میں جاتے ہیں۔

ایسے جانور جن کا گوشت حرام ہے ان کی کچھ دو قسمیں ہیں

(1) ایسے جانور جو طبعاً موڑی ہوں جیسے بھیڑیا، شیر وغیرہ تو حرم ان جانورول کو ہر حالات میں، ہر مقام پر بلاک کر سکتا ہے، اس لے کر بھیگر کسی سبب کے ازی کا ونگ کرنا واجب ہے۔ ای وجم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکورہ حدیثول میں ایسے موڑی جانور کو بلاک کرنے کی اجازت دی ہے۔ (2) موڑی جانورول کی ایک قسم وہ ہے جو طبعاً موڑی نہیں ہوتے بلکہ انسان کود کی کر جہاگ جاتے ہیں جیسے لومطی، چوہا وغیرہ تو آئے تشریفہ " لا تقتلوا الصید وانتم حرم " میں

اِس میں جانورول کا شکار ممنوع ہے۔ بدائع، بذل المجہود

طوطے کے مارنے پر کچھ خبرات کردیئا کافی ہے

پہلی حدیث

Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Five creatures are harmful and may be killed inside the sanctuary and outside it: the snake, the speckled crow, the mouse, the rabid dog, and the kite." [Agreed upon]

موڑی جانورول کے اقسام اور ان کے احکام
3737

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوکر عرض کہ امیر المومنین! میں نے احرام کی حالت میں ایک کوڑے سے طوطے کا شکار کیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ (بطور فدیہ) ایک مُطْمِئَّن اناج کی کوثرات کردو۔ اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔

دوسری حدیث

It is narrated from Zayd bin Aslam (RA) that a companion came to Amir al-Mu'minin Umar bin al-Khattab (RA) and said, 'O Amir al-Mu'minin! I have hunted a bird with a stick while in a state of ihram.'

So, Umar (RA) replied, 'As expiation, feed a poor person with a sa' of barley.' This narration is reported by Imam Maqal.

3738

یہی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کہ احرام کی حالت میں اگر کوئی شخص ایک طوطے کو مارنے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت عمر نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ تاکہ تم اس مستند پر حکم لگا سکیں تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا (ایک طوطے کو مارنے کا صدقہ) ایک درہم ہوگا۔ (پیس کر) حضرت عمر نے کعب سے فرمایا تم کورہم ہروقت کہال سے ملیس گے (حقیقت تویہ ہے کر) ایک کھورا کی طوطے مارنے کے معاوضہ میں کافی ہے (یعنی طوطا کی حیثیت کافیہ کہ احرام کی حالت میں مارنے پر درہم خبرات کیا جائے بلکہ ایک کھورا کی طوطے کے معاوضہ میں بہت کافی ہے)۔ اس کی روایت امام ماکے اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔

ف : واضح ہوگا پڑاپی میں کہا ہے کہ احرام کی حالت میں جو کوئی طوطے کو مارنے تو جو چاہے خبرات کردے، اس لے کر اس کا شکار دوسرے جانورول کی طرح نہیں ہے۔ اس لے شکار کے لے کوئی ذکوئی تدبر ضروری ہے۔ اور طوطے کو مارنا ایک طرزا بخیر کی تدبر کے ممکن ہے، اس لے طوطے کا مارنا عام

شکار کی تعریف میں داخل نہیں ہے اس لے احرام کی حالت میں طے کو کمار نے سے پڑھ خبرات کر دیا

کافی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت عطاء بن الی رباح کا بھی قول ہے اور امام

اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ 12

محرم حملہ کرنے والے درندول کو پلاک کر سکتا ہے

Yahya bin Sa'id reported that a man came to Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) asking about locusts he killed while in ihram. Umar called Ka'b, who said"A dirham." Umar replied"You value dirhams highly, a date is better than a locust!" [Narrated by Malik and Ibn Abi Shaybah]

3739

البوعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ محرم ( حالات احرام میں )

حملہ کرنے والے درندول ( جیسے شیر، بھیڑیا، رپچہ و غیرہ ) کو پلاک کر سکتا ہے۔

اس کی روايت تنزي اور ابوداود نے کی ہے۔

محرم کس صورت میں درندہ کو پلاک کر سکتا ہے

ف : درختار میں کچا ہے کہ محرم ایسے درندے کو پلاک کر سکتا ہے جو حملہ آور ہو اور جس کو پلاک

کے بغیر دفع کرنا ممکن نہ ہو۔ اور ایسی صورت میں اس پر کوئی فردی واجب نہیں، البہا یہ حملہ آور درندہ کو

محرم قتل کے بغیر دفع کر سکتا ہے اور اس میں اس کو قتل کر دیا تو ایسی صورت میں اس پر فردی واجب ہوگا۔

اہ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک وفدعی درندہ کو پلاک کر دیا، اور اس کے

فردی میں ایک مینہ حاصل کیا جسیا کو کہب دری میں نذور ہے۔ 12

احرام کی حالت میں بلا ضرورت کو پچلی والے جانور کے

شکار پر فردی واجب ہے۔ پہلی حدیث

Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "A Muhrim may kill a predatory animal." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

3740

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم سے ( احرام کی حالت میں ) پچو کے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی

اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا وہ کہی شکار ہے ( بلا ضرورت اس کو مارا جائے تو اس کے فردی میں )

محرم کو ایک بکرا ذنح کرنا چاہیے۔ اس کی روایت ابوداود، ابن ماجہ اور درامی نے کی ہے۔

دوسری حدیث

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that he asked the Prophet (ﷺ) about the hyena. He said, "It is game, and if a Muhrim kills it, he must sacrifice a ram." [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ad-Daraqutni]

3741

خرزیمر بن جزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا (کے کوشت) کو کہانے کے بارے میں دریافت کیا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جیرت سے ان سے) پوچھا کے پچو (کی طرح کو خیلی والے جانور) کو کیا کہے گا؟ پچر میں نے جہیطریہ (کے کوشت) کو کہانے کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تجب سے پچروپیاسی) فرمایا کیا ایسا شخص جس میں جہلاگی ہو (یعنی حلال وحرام سے واقف ہو) جہیطر کو کہا سکتا ہے؟ اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔

It is narrated from Khuraym ibn Jazil (RA) that he said:

I asked the Messenger of Allah ﷺ about the recitation of the jahyatah (a type of incantation). The Messenger of Allah ﷺ asked me, 'What do you call the one who is very tall?' I replied, 'A pachir (a very tall animal).' Then I asked the Messenger of Allah ﷺ about the recitation of the jahyatah, and he said, 'Can a person who is ignorant (i.e., unaware of what is lawful and unlawful) be called a jahyatah?' This was narrated by Tazandi.

3742

اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ جہیطر کو کون کہانے گا۔

And in Ibn Majah's narration it is stated thus: Who will call Ja'far?

3743

اور مسلم میں اس طرح ہے کہ پچو پچلی والا ورنہ ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہراس درنده کے کوشت کہانے سے منع فرمایا۔ جس کے دانت کو پچلی والے ہیں۔ اور (پچو کے حرام ہوئے کی) ایک ویل زیادہ کی وہ روایت جسی ہے جس کو احول نے مسند امام احمد سے بیان کیا ہے اور اس حدیث کی سنن تو یہ ہے اور اس روایت میں یہی نذور ہے کہ ایک شخص سعید بن المسبیب رضی اللہ عنہ کے سامنے پچو کی حرمت کا فتوی دیا تو حضرت سعید بن المسبیب نے اس پر انکار کیا فرمایا۔

And in Muslim, it is narrated as follows: The Prophet ﷺ prohibited the killing of the hyena, which has tusks. And there is an additional narration regarding the prohibition of killing the hyena, which is found in the Musnad of Imam Ahmad, as reported by Ahwal. The chain of this hadith is as follows: When a person issued a fatwa permitting the killing of the hyena in the presence of Sa'id bin al-Musayyib (RA), Sa'id bin al-Musayyib rejected it.